Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏332۔ کیا قبر کا عذاب ہے؟

‏بعض لوگ حجت کر رہے ہیں کہ قبرکی زندگی نہیں ہے۔ اس طرح دعویٰ کر نے والے ان آیتوں کو 36:51,52 پیش کر تے ہیں۔

ان آیتوں میں کہا گیا ہے ’’برے لوگ یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے کہ ہمیں ہماری نیند سے کون جگایا؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح جگائے جانے کے ‏بارے میں وہ افسوس کریں گے۔ 

اگر وہ قبر میں عذاب دئے جاتے تو وہ کیسے کہتے کہ ہمیں ہمارے نیند سے جگانے والا کون ہے؟ کسی قسم کا عذاب نہ ہو تا تو ہی وہ اس طرح سوال کر ‏سکتے تھے۔ 

جگائے جا نے کے بارے میں وہ افسوس اور فکر مند ہو ئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ذرہ بھر بھی عذاب نہیں کئے گئے۔ ایسی رائے رکھنے والے دعویٰ ‏کر تے ہیں کہ قبر کی عذاب کے بارے میں حدیثیں رہنے کے باوجود ان آیتوں سے وہ براہ راست ٹکرانے کی وجہ سے اس پر ہم بھروسہ کر نے کی ‏ضرورت نہیں۔

اپنے دعوے کو زور دینے کے لئے وہ ایک اور دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔ 

اللہ کسی کو کسی طرح کا عذاب نہیں دیتا۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قبر کی عذاب پر بھروسہ کر نا وہ اس رائے کو اپنے اندر چھپایا ہوا ہے کہ اللہ ظلم کرتا ‏ہے ۔ 

فرض کرو کہ آدم ؑ کے بیٹوں میں سے ایک اس کی غلطی کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔یہ بھی فرض کرو کہ دنیا فنا ہو نے کے دس دن پہلے ‏مرجانے والے پربھی اسی غلطی کی وجہ سے عذاب دیا جا تا ہے۔

دوسرا جو شخص ہے صرف دس دن ہی قبر کا عذاب چکھتا ہے۔ لیکن آدم ؑ کا بیٹا تو لاکھوں سالوں قبر کی عذاب میں مبتلا ہے۔ 

وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ہی جرم میں مبتلا دواشخاص میں ایک کو دس دن کی سزا اور دوسرے ایک شخص کو کئی سالوں کی سزا ، یہ کیسے انصاف ‏ہوگا؟ اس طرح کی بے انصافی اللہ نہیں کر سکتا۔ 

وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قبر میں عذاب کا ماننا قرآن کا انکار ہوگا اور اللہ کے عدل پر شک جیسے ہوگا۔

آؤ دیکھیں ان کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟

انسانوں کی اس سوال سے کہ ہماری نیند سے ہمیں کس نے جگایا؟ تواس کو اس طرح سمجھ لیناکہ قبر کی زندگی نہیں ہے، بالکل غلط ہے۔ قرآن مجید کو ‏پوری طرح سے تحقیق کئے بغیر صرف ان دونوں آیتوں کو اپنی دلی خواہش کے مطابق سمجھ لینا ہی اس دعوے کی وجہ ہے۔ 

ایک دنیا سے دوسری ایک دنیا میں پہنچنے والے پچھلی دنیا میں جو ہوا تھا اس کو بھول جا ئیں گے۔وہ بالکل بھول جائیں گے کہ ایسا ایک واقعہ ظہور ہوا ‏تھا۔اسی لئے قبر کی عذاب سے دوچار ہو نے والے پھرسے جگاکر دوسری ایک دنیا کو لے جائے جانے کے بعد قبر میں جو ہوا تھا اس کو بالکل بھول ‏جائیں گے۔ 

ایک دنیامیں جو ہوا تھاجب وہ دوسری دنیا کو بدلتے ہیں تو انسان بھول جائیں گے، اس کے لئے قرآن میں سندیں ہیں۔ 

پہلا انسان آدم ؑ کو پیدا کر نے کے بعد ان کے ذریعے سے پیدا ہو نے والے نسلوں کو ظاہر کر کے اللہ نے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب ‏نے کہا کہ ہاں۔ اس کو اللہ نے اس آیت 7:172 میں فرمایاہے۔ 

اس طرح اللہ پوچھنے کے ساتھ ہم نے جوکہا ہاں، وہ ہمیں یاد نہیں۔ اللہ نے قرآن کے ذریعے ہمیں اشارہ کرنے کے بعد بھی ہمیں دھیان نہیں آرہا ‏ہے۔ اللہ کہنے کی وجہ سے ہم مانتے ہیں،اس کے سوائے ہمیں خود یا د آکر اس کو ہم نے نہیں مانا۔ 

اس آیت سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک دنیا سے جب دوسری دنیا کو جاتا ہے تو پچھلی دنیا میں جو ہوا تھا ان تمام کو انسان سراسربھول جاتا ہے ۔

قبرکی زندگی الگ ہے۔ پھر سے جگائے جانے کے بعد اللہ کے سامنے جو کھڑا کیا جاتا ہے، وہ دنیا الگ ہے۔اس لئے اس دنیا سے جب دوسری ایک دنیا ‏کو جاتے ہیں توصرف انسان کے اس سوال کو کہ ہماری نیند سے ہمیں کس نے جگایا ، دلیل بنا کر قبر میں عذاب نہیں کہہ کر انکار کرنا جاہلیت ہے۔ 

عام طور سے انسان کوجب سخت جھٹکا لگتا ہے تو وہ پچھلی حالات کو بھول جاتا ہے۔ وہ پھر سے زندہ کئے جانے کے بعد انسان جو دیکھتا ہے وہ بھیانک ‏واقعے اس سے پہلے جو اس نے جھیلا تھا ان تمام عذابوں کو بالکل بھلا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری نیند سے ہمیں جگانے ‏والا کون؟ 

اس کوان آیتوں 22:1,2میں وضاحت سے بتا یاگیا ہے۔

یہ آیت بھیانک حالات کا سامنا کر نے والے کی فرمودات جیسی ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ خوفناک حالات سے دوچار ہونے والااسی طرح آہ و زاری کر ‏ے گا۔ 

مزید یہ کہ آخرت میں اللہ کا انکار کرنے والے حقیقت کے خلاف اور بھی کئی ارشادات کہیں گے۔ ان کی فرمودات کو اللہ دکھانے سے اسی کوحقیقی ‏حال مان نہیں سکتے۔ 

آخرت میں جگائے جانے والے منکر صرف نیند سے جگنے کے بارے میں ہی نہیں کہیں گے۔ بلکہ وہ کہیں گے کہ دنیا میں یا قبر میں ایک گھنٹہ بھی ‏ٹہرے نہیں رہے۔ (30:55) یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ پر قسم کھا کر کہیں گے۔ 

اس کو دلیل بنا کرکیا وہ کہیں گے کہ آدمی مرجا نے کے ایک گھنٹہ میں قیامت آجا ئے گی؟ یا صدمہ کی آہ و زاری کہیں گے؟ 

قرآن میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آخرت میں دئے جانے والے سزا کے علاوہ دوسری سزائیں بھی ہیں، ان لوگوں کا یہ دعویٰ بھی جاہلیت کی اظہار ہی ‏ہے۔ 

‏’’قبر کی عذاب ‘‘کا یہ لفظ قرآن میں کہا نہیں گیا۔ اس طرح کے عذاب کے بارے میں دوسری لفظوں میں کہا گیا ہے۔ اس کو نہ جاننے کی وجہ ہی ‏سے اس طرح حجت کر رہے ہیں۔ 

یہ آیتیں 40:45,46 کہتی ہیں کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے فرعون کی جماعت دوزخ کی آگ کے سامنے صبح اور شام یعنی ہر روز دکھائے جائیں ‏گے۔ اور قیامت کے دن تو اس سے زیادہ عذاب ہوگا۔ 

یہ آیتیں واضح انداز سے کہہ رہی ہیں کہ قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا کر نے سے پہلے صبح اور شام وہ لوگ ہر روز عذاب میں مبتلا کئے جاتے ‏ہیں۔

اسی کی تشریح میں نبی کریم ؐ نے قبر کی عذاب کے بارے میں فرمایاتھا۔ وہ حدیثیں تمام ان آیتوں کی تفصیل ہیں، اختلاف نہیں۔ 

یہ صرف فرعون کی جماعت کی حالت ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کا حالت ہوگا۔

یہ آیتیں 8:50-52 کہتی ہیں کہ ظالموں کی جانوں کو جب فرشتے قبض کر تے ہیں تو انہیں وہ ماریں گے۔ اور کہیں گے کہ جھلسا دینے والا عذاب ‏چکھو۔اس طرح کہنے کے بعد اللہ فرمائے گا کہ فرعون کی جماعت کو جیسے کیا جاتا ہے ایسے ہی انہیں بھی کیا جائے گا۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ‏صرف فرعون کی جماعت ہی کو نہیں بلکہ سب لوگوں کو قبر کا عذاب ہے۔ 

یہ سوال کہ بعض لوگوں کو زیادہ دن اور بعض لوگوں کو کم عذاب دیا جانا کیا انصاف ہے، غلط ہے۔یہ جاننے کے بعد کہ اللہ کا انتظام یہی ہے، اس ‏طرح کا سوال نہیں اٹھنا چاہئے۔ 

اگر ایسا سوال اٹھاؤگے تو اس کے لئے بھی قرآن مجید میں ٹھیک جواب موجود ہے۔ فرض کرو کہ سو سال پہلے ایک شخص کوئی گناہ کر تا ہے ، اسی طرح ‏آج بھی کوئی گناہ کر تا ہے۔

گناہ کے لحاظ سے دونوں ایک ہی جیسے رہنے کے باوجوداس گناہ میں دونوں کے درمیان فرق موجود ہے۔ 

سو سال پہلے گناہ کر نے والا اس کے بعد آنے والے کو اسی طرح گناہ کر نے کی ہمت دلا کر جاتا ہے۔ دوسرا جو ہے اس گناہ کوکرنے میں ایک نمونہ بن ‏جاتا ہے۔ 

سو سال کے بعد جو گناہ کر تا ہے اس کے لئے یہ راہنما بن جاتاہے۔ 

اسی لئے وہ جو گناہ کر تا ہے اس کے لئے بھی سزا بھگتنا ہے اور جو اتنے لوگوں کو گمراہ کیا اس کے لئے بھی اس کو سزا بھگتنا ہے، اس کو قبر کی عذاب ہی ‏سے انصاف دلا سکتے ہیں۔

آدم کا بیٹا جو قتل کیا تھا وہی دنیا کے سارے قتل کو پیش رو تھا۔قاتلوں کا راہنما وہی ہے۔ اس لئے دوسروں سے زیادہ عذاب کا مستحق وہی ہے، یہی ‏ٹھیک انصاف ہوگا۔ 

اگر یہ سوچیں کہ کتنے آدمیوں کو گمراہ کیا تھا تو ایک شخص زیادہ دن اور دوسرا شخص کم دن قبرمیں عذاب ڈھونے کوکوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ یہ ‏ناانصاف ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 166، 349وغیرہ دیکھیں!  

‏331۔ لوگوں کی وجہ سے گھٹنے والی زمین

‏ان آیتوں 50:4 اور 71:17 میں کہا گیا ہے کہ دنیامیں بسنے والے لوگوں کی وجہ سے زمین گھٹ رہی ہے۔ اس میں ایک بڑی سائنسی حقیقت ‏مضمر ہے۔ 

زمین میں کتنے ہی جاندار پیدا ہوں ان کے لائق کا وزن باہر سے نہیں ملتا۔ زمین کا وزن گھٹنے ہی سے وہ انسان، جاندار اور نباتات پیدا ہوتے ہیں۔ 

اسی طرح ایجادہونے والی ہر چیز اپنے وزن کوزمین ہی سے حاصل کر تی ہیں۔ 

کتنے ہی کروڑ لوگ بڑھتے جائیں اس سے زمین کا وزن بڑھے گا نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ملا کر اگر زمین کو تولا جائے تو ابتدا میں جو وزن رہا اسی ‏وزن کا وہ رہے گا۔ 

آدمی زمین ہی سے اپنا وز ن حاصل کر کے بڑھتا ہے۔ اس سائنسی حقیقت کو چودہ سو سال کے پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے، اس لحاظ سے اس میں کوئی شک ‏نہیں کہ یہ کلام اللہ ہی ہے۔ 

اور زیادہ تفصیلات کے حاشیہ نمبر 167دیکھئے!  

‏330۔ شہیدوں کو فوراًجنت

‏اس 36:26آیت میں کہا گیا ہے کہ ایک نیک انسان اللہ کے رسولوں کے لئے سفارش کرنے کے بارے میں کہتے ہوئے اللہ نے اچانک کہا کہ ‏جنت میں جاؤ۔ 

اس کے اندر وہ خبر موجود ہے کہ اس قوم کے لوگوں نے اس آدمی کو مار ڈالا۔ یہ آیت کہتی ہے کہ وہ مرنے کے ساتھ جنت میں چلا گیا۔

ہمیں اعتبار ہے کہ قبر نامی ایک زندگی ہے اور وہاں تحقیقات کی جائے گی۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا :اس میں ان جیسے شہید مستثنیٰ ہیں۔وہ لوگ براہ راست ہی جنت چلے جائیں گے۔ لیکن سبز رنگ کے پرندوں کی شکل میں جنت ‏میں وہ اڑتے پھریں گے۔

‏(دیکھئے، مسلم: 3834)

س کے متعلق اور زیادہ تفصیل جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 41، 332، 349 وغیرہ دیکھئے!  

‏329۔ ایک قوم کے لئے تین پیغمبر

‏اس آیت 36:14میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک قوم کی طرف ایک وقت میں پہلے دو رسول بھیجے گئے ، پھر تیسرا رسول بھی بھیجا گیا۔ 

تین رسولوں کو بھیجنا ایک تاریخی خبر رہنے کے باوجود اس میں ایک اصولی تشریح بھی موجود ہے۔ 

کتاب حاصل کر کے لوگوں تک پہنچانے کے سوا دوسری کوئی ذمہ داری رسولوں کو نہیں ہے ، اس طرح دعویٰ کر کے رسولوں کی رہنمائی کی ‏ضرورت نہیں کہنے والوں کو یہ واقعہ انکار کر تی ہے۔

‏کتاب لے آکر لوگوں کے پاس پہنچانے کے سوا اگر رسولوں کو ئی کام نہیں دیا گیا ہے تو ایک قوم کے لئے ایک دور میں ایک ہی رسول بھیجا جانا چاہئے ‏تھا۔ 

لیکن ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔ 

اگر کتاب لا کر دینے سے رسولوں کا کام ختم ہو جا تا تو ایک ہی رسول کو اللہ بھیجا ہوتا۔ دو رسولوں کو کو بھیجا نہیں ہوتا۔ کتنا بھی تشریح کرو ، جب لوگ ‏قبول نہیں کر تے توایک اور رسول کو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ رسولوں کا کام صرف کتاب لا کر دینا ہی نہیں ہے۔ 

کتاب لا کرصرف لوگوں کو دینا ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی تشریح کر نا اور پرچار کر نا بھی رسولوں کا کام رہنے ہی پر ایک قوم کے لئے ایک دور ‏میں تین رسولوں کو بھیج سکتے ۔

لوگوں کا سخت ارادہ اور سمجھنے کی طاقت کم رہنے ہی کے وجہ سے ایک رسول سے وہ کام کو پوری طریقے سے ہو نہیں سکتا، اسی صورت میں اللہ کئی ‏رسولوں کو بھیجتا ہے۔ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طریقے سے اگر دیکھا گیا تو کتاب سے زیادہ اللہ نے رسولوں ہی کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ 

اسی طرح ایک اور دور میں موسیٰ نبی کے ساتھ ہارون نبی کو بھی اللہ نے بھیجا تھا۔ اس کو یہ آیتیں 20:29-31، 25:35، کہتی ہیں۔

ایک دور میں ایک قوم کی طرف دو رسولوں کو بھیجنے کے بارے میں یہ آیتیں کہتے ہوئے اس طرح بھیجے جانے کی وجہ بھی بتاتی ہے۔ 

کتاب لا کر دیناہی اگر رسولوں کا کام ہو تا تو صرف موسیٰ نبی ہی اس کام کے لئے کافی تھے۔ کتاب لا کر دینے کے لئے دو رسولوں کی ضرورت نہیں ‏تھی۔ 

موسیٰ نبی نے کہا کہ مجھ کو واضح طور پر تشریح کرنا نہیں آتا اور مجھ سے زیادہ ہارون کوتشریح کر نے کی صلاحیت زیادہ ہے، ان وجوہات کو دکھا کر ‏انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ ہارون کو بھی ان کے ساتھ بھیجیں۔ اللہ نے بھی ان کی بات کو مانتے ہوئے موسیٰ سے زیادہ تشریح کر نے کی ‏صلاحیت والے ہارون نبی کو ساتھ میں بھیجا۔ 

اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ لوگوں کی سمجھ کے مطابق تشریح کر نا اورانہیں جو شک پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرنا ، یہ رسولوں کا کام تھا۔  

‏328۔ آسمان و زمین کے درمیان کشش ثقل

‏اس آیت 35:41 میں کہا گیا ہے کہ آسمان اور زمین ہٹے بغیر رہنے کے لئے پابندی لگائی گئی ہے۔ 

آسمان اور زمین ایک سے ایک کشش ثقل سے جوڑے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کی کشش ثقل جب زیادہ ہوجا تی ہے یا کم ہوجاتی ہے تو وہ بکھر کر ‏تہس نہس ہو جائے گی۔ اسی سائنسی حقیقت کو اس آیت میں پوشیدگی سے کہا گیا ہے۔ 

کشش ثقل کے بارے قرآن کیا کہتا ہے اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 240 ملاحظہ فرمائیں۔   

‏327۔ جنات غیب کا علم نہیں جانتے

‏اس آیت 34:14میں کہا گیا ہے کہ جنوں کی مخلوق غیب کی خبر نہیں جانتے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ جنوں کی مخلوق بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ آنکھ جھپکنے کے اندر ایک ملک میں رہنے والی تخت کو دوسری ایک ملک کو ‏لے آنے کی حد تک طاقت ان میں موجود تھی۔ 

ہوائی جہاز یا راکٹ کے بغیر ہی آسمانی دنیا تک جا کر فرشتوں کی گفتگو کو چھپ کر سننے کی حد تک جنوں کو طاقت ہے۔ 

اتنی طاقت عطا ہونے کے باوجود غائب کی باتوں کو وہ جان نہیں سکتے۔ 

سلیمان نبی سے ڈر کر بیت المقدس کو تعمیر کر نے کے کام میں جنات مشغول ہیں۔یہ آیت 34:14 کہتی ہے کہ سلیمان نبی نے کھڑے کھڑے ہی ‏وفات پا گئے۔پھر بھی عصا کے سہارے وہ کھڑے رہنے کی وجہ سے وہ نیچے گرے بغیر ایسے ہی کھڑے رہے۔ پھر اس عصا کو جب دیمک کھانے ‏لگ گئے تو ان کا جسم نیچے گر پڑا۔ وہ نیچے گرنے کے بعد ہی جنوں کو پتہ چلا کہ سلیمان نبی پہلے ہی انتقال ہوچکے۔ 

اپنے قریب ہی کھڑے ہوئے سلیمان نبی کیا زندہ ہیں یا مرگئے؟ اس کا پتہ بھی ان جنوں کو معلوم نہیں ہوسکا۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جنات ہی کوجب غیب کی خبر معلوم نہ ہوسکا تو ہمیں اس بات پر بھروسہ نہیں کر نا چاہئے کہ یہ بزرگ کہلانے والے ‏غیب کی باتیں جانتے ہیں یا مرے ہوئے لوگ غیب کی خبر جانتے ہیں ۔

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 298، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

‏326۔ بتوں کو کیااسلام میں اجازت ہے؟ 

‏اس آیت 34:13میں سلیمان نبی کو جنات اور شیا طین نے کئی قسم کے فنکارانہ کاریگری بنا کر دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔کہا جا تا ہے کہ ان ‏میں مجسمہ بھی تھے۔

اس کو بنیاد بنا کر یہ نہ سمجھ لینا کہ اب بھی مجسمہ رکھ سکتے ہیں ، اور تصویروں کو ٹانگ سکتے ہیں۔کیونکہ پچھلی قوموں کو جو اجازت دی گئی تھی اگر وہ اللہ ‏کی طرف سے یااللہ کے پیغمبروں کے ذریعے سے بدل دیا ہوتو ہی ہم اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ 

مجسمہ کے حد تک اس کو نبی کریم ؐ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اس کو بڑا گناہ کہا ہے۔ (دیکھئے بخاری: 2105، 3224، 3225، 3226، ‏‏3322، 4002، 5181، 5949، 5957، 5958، 5961، 7557 )

اس لئے یہ سلیمان نبی ہی کو نہیں بلکہ ایسا سمجھناچاہئے کہ نبی کریم ؐ سے پہلے گزرے ہوئے قوموں ہی کے لئے اجازت شدہ معاملہ ہے۔

پہلے کی قوم کو عطا کیا ہواسارا قانون کیا ہمیں بھی مناسب ہے؟ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 277 دیکھیں!  

‏325۔ قرآن کا بیان کردہ ہوا کی تیزی

‏اس آیت 34:12 میں اللہ فرماتا ہے کہ سلیمان نبی کے لئے ہواکو مسخر کر دیا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس ہوا کی اوسط تیزی بھی اللہ نے ہمیں بتایا ہے۔

ہم پر چلنے والی ہواہمیں چھونے کے بعد زمین کے گرد ایک بار گھوم کر پھر سے ہمیں چھونا ہو تو اس کے لئے کم از کم دو ماہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہوا ‏‏25کلو میٹر اوسط تیزی سے چلتی ہے۔ اس تیزی سے چلنے والی ہوازمین کے گرد گھوم کر آنے کے لئے دو ماہ لگتے ہیں۔ 

یہ نہ سمجھ لینا ہوا ایک ہی انداز سے گھوم کر آتی ہے۔ سلیمان نبی کو اللہ نے خصوصی انداز سے ہوا کو مسخر کیا تواللہ کہتا ہے کہ وہ ہوا دو ماہ میں ایک بار ‏گھوم کر واپس آتی ہے۔ 

سلیمان نبی کی خصوصیت کوکہتے ہوئے ہوا کی اوسط درجہ کی تیزی ، زمین کا دائرہ اور زمین کے گردش کی تیزی کو حساب کر کے قرآن مجید ایسا کہتا ہے ‏جیسے کہ ایک سائنسدان۔

یہ ہر گز ایک انسان کی بولی نہیں ہو سکتی۔یہ بھی ایک سند ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہو سکتا ہے۔  

More Articles …