Sidebar

28
Sun, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

یہ اللہ کی کتاب ہے

قرآن مجید سے استفادہ حاصل کر نے سے پہلے اس کے بارے میں چند بنیادی باتیں معلوم کر لینا بہت ضروری ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کے ذریعے نبی کریم ؐ پر نازل کیا گیا اور ان کے ذریعے لوگوں تک پہنچا ہے۔ 

قرآن مجید کھلے طور پر اعلان کر تا ہے کہ نبی کریم ؐ کی باتوں میں سے ایک لفظ بھی قرآن مجید میں جگہ نہیں پائی ہے۔

(قرآن کی ان آیتوں کو ملاحظہ کیجئے: 10:15، 10:37-38، 11:13، 11:35، 16:101-103، 69:44-46)

تاہم غیر مسلم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید محمد نبی کالکھا ہوا ہے۔وہ سراسر غلط ہے۔آگے آنے والی دلیلوں کی بنیاد پرغیر مسلم بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم محمد نبی کا قول نہیں ہے۔

اختلاف نہیں ہے

غیر مسلموں کے شک کی بنیاد یہی ہے کہ اس کو نبی کریم ؐ نے خود ہی تصور کرکے اللہ کی بات کہہ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ہوگا۔

قابل قبول اور مناسب وجوہات موجود ہیں کہ اس کو نبی کریم ؐ نے خود ہی بنا کرپیش نہیں کئے ہو ں گے۔

عام طور سے لوگوں کی باتوں میں اختلاف دکھائی دے گا۔ ایک یا دو دن تک بغیر کوئی اختلاف کے بہت ہی احتیاط کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن عرصۂ دراز تک بغیر کسی اختلاف کے کوئی بھی بات نہیں کر سکتا۔ 

کتنے بڑے عالم بھی ہوں ان کی پانچ سالہ باتوں کو اگر تم غور سے دیکھو گے توتم پاؤگے کہ اکثر باتوں میں اس نے اختلافی باتیں کی ہیں۔

* پہلے جو بات کیا تھا اس کو بھول جانا۔

* پہلے جو غلطی سے سمجھاتھا ، اس کو بعد میں ٹھیک سے سمجھنا۔

* غم اور تکلیف کی وجہ سے کافی توجہ سے بات نہ کرنا۔

* جن سے بات کیا جاتا ہے ان کے دل کو برا نہ لگ جائے یا ان کی طرف سے کچھ اغراض حاصل کر نے کے لئے کچھ ٹیڑھا ہو کر بات کر نا۔

* بھاپے کی وجہ سے دماغی حالت میں فتور آجانا۔ 

* انجام اور تنگی سے ڈر کر دوہری شخصیت اختیار کر نا۔ 

اور اسی طرح کے کئی قسم کی کمزوریاں انسانوں کے پاس رہنے کی وجہ سے اختلاف کے بغیر بات کر نے والے کسی شخص کو تم دیکھ نہیں سکتے۔ 

لیکن قرآن کر یم کو نبی کریم ؐ نے 23 سال تک تھوڑا رتھوڑا سالوگوں کو سکھلایا۔ اگر وہ ان کا خاص قیاس ہو تا تو 23 سالہ باتوں میں کئی قسم کے اختلافات ان میں پایا جاتا۔ مگر قرآن مجید میں تو کسی قسم کا اختلاف ذرہ بھر بھی نہیں ہے۔ 

قرآن مجید مندرجہ بالا کسی بھی کمزوریوں سے پاک، الٰہی کی بات رہنے کی وجہ ہی سے وہ کسی طرح کے اختلافات کے بغیر ہوسکتا ہے۔

آیت نمبر 4:82 میں قرآن مجید نے انسانی نسل کوللکار تا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل ہو نے کی وجہ سے وہ اپنے اندر اختلاف نہیں رکھتا ۔

بہت ہی عمدہ خصوصیت

نبی کریم ؐ نے قرآن مجید کو اللہ کا پیغام کہہ کر تعارف کرایا۔ اگر وہ اللہ کا پیغام ہو تو وہ انسانوں کا پیغام سا نہیں ہوسکتا۔وہ ہر طریقے سے سب سے بڑھ کر مقرر ہو نا چاہئے۔

کیا قرآن مجید اس طرح مقرر ہو اہے تو عربی زبان جاننے والے غیر مسلم قرآن مجید کی اگر تحقیق کریں گے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ یہ تو انسان کی پہنچ سے دور بہت ہی اونچے مقام پر قائم ہے۔قرآن کریم گذشتہ چودہ صدیوں سے عربی زبان کی بہت ہی معززوبلند ادب مانا جاتا ہے۔

بڑے بڑے ادبیات میں جھوٹ اور مبالغہ آمیزتعریفیں ضرور حصہ پاتی ہیں۔ لیکن قرآن حکیم میں

* جھوٹ نہیں

* اختلاف نہیں

* فحش نہیں

* مبالغہ آمیز تعریفیں نہیں

* قیاس آرائیاں نہیں

* لغزش اورحیلہ حوالہ نہیں

* بادشاہوں اور سخیوں کو حد سے بڑھ کر تعریف کر نا نہیں

ادب کے لئے مرغوب ان تمام چیزوں کو سراسر ترک کردے کر صرف سچائی کو بالکل اعلیٰ ادبی ذوق کے ساتھ پیش کر نے والا قرآن اس زمانے کے ادبی فاضل لوگوں کو بہت ہی حیرت سے غور کر نے پر مجبور کر دیا۔ آج تک بھی وہ حیرت قائم ہے۔ 

اس انداز کا بلند پایہ ادبی حیثیت رکھنے والی ایک کتاب کو نبی کریمؐ تصنیف کرنا ہوتو وہ ایک بڑے پنڈت ہو نا چاہئے ، عربی زبان میں عبوریت حاصل ہونا چاہئے اور گذشتہ تمام ادبیات کو گھول کر پی جاناچاہئے تھا۔ 

لیکن یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ قرآن مجید کی آیتیں 29:48، 7:157,158، 62:2 کہتی ہیں کہ نبی کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا۔

(نبی کر یم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، کیا یہ بات ان کی قابلیت کو گھٹا سکتی ہے؟ اس کے بارے میں ہم حاشیہ نمبر 312 میں تفصیل کے ساتھ ذکرکئے ہیں۔ )

نبی کریم ؐ نہ عربی زبان کے پنڈت ہیں اور نہ ہی گذشتہ ادبوں کو پڑھ سکتے ہیں، اگر وہ اپنے قیاس سے لکھتے تو وہ جس حیثیت کا ہوگا ، قرآن کریم اس حیثیت کا نہیں ہے۔ اگر عربی زبان کے پنڈت قیاس کرتے تو وہ جس قسم کا ہوگاتو اس قسم کابھی قرآن نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو بہت ہی بلند پایہ کی حیثیت رکھتاہے۔ اس لئے یہ اللہ ہی کا پیغام ہو سکتا ہے۔ 

ان پڑھوں کو بھی سمجھ میں آنے والا واحدادب

عام طور سے ایک کتاب میں جس انداز سے بلند پایہ کا ادب ہوگااسی انداز سے وہ عام لوگوں سے نامانوس ہوجائے گا۔

بہت بلند پایہ کے ادبیات کسی بھی زبان میں ہو اس زبان کے پنڈت ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس زبان میں بات کر نے والے عام انسانوں کو وہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ 

اگر عام انسانوں کوایک کتاب سمجھ میں آجائے تو یقیناً اس کتاب میں بلند پایہ کے ادبی نکات نہیں ہوں گے۔

لیکن صرف عربی زبان بولنے والے انسان کوبھی قرآن مجید سمجھ میں آگیا۔ وہ پنڈتوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔ عربی زبان کے ان گنت ادبی کتابیں آج کے اکثر عرب سمجھ نہیں سکیں گے۔ لیکن عربی زبان بولنے والا ہر شخص قرآن حکیم کو سمجھ لیتا ہے۔

آج بھی سہی، کوئی بھی انسان اس انداز کی ایک کتاب تصنیف ہی نہیں کر سکتا۔ کسی بھی انسان سے ناقابل تصنیف ایسی ایک کتاب کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے نبی کریم ؐ نے دعوٰی کیاتھا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ 

قرآن مجید محمد نبی کا قیاس آرائی نہیں ہے، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے ۔ 

نغمئی خوبی کوئی بھی ادب ہو ، اس میں میٹھی آواز اور نغمئی خوبی اگر حاصل کر نا ہو تو اس کی حسن ترتیب اور باقاعدگی سلیقے سے شامل ہو نا چاہئے۔ اس طرح ہونے ہی کی وجہ سے اس میں ہم نغمئی خوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ 

لیکن قرآن میں باضابطہ کیا ہوا کوئی مصرعہ نہیں ہے۔ بلکہ تحریری انداز ہی سے اس کی آیتیں تشکیل پائی ہیں۔

ان آیتوں میں بھی خاص کر ایک ہی انداز کے الفاظ جگہ نہیں پائی ہیں۔ بلکہ چند آیتوں میں پچاس سے بڑھ کر کلمے، چند آیتوں میں دس ہی کلمے اور چند آیتوں میں پانچ کلمے بھی ہوتے ہیں۔ایک ہی کلمے کی آیت بھی ہے۔

اس طرح تشکیل پائی ہوئی کسی بھی کتاب میں نغمئی خوبی بالکل نہیں ہوگی۔ لیکن جس میں انسان سے نغمئی خوبی لانا ناممکن ہو ، اس انداز میں بھی انسانی دلوں کو پرکشش بنانے والی نغمئی خوبی صرف قرآن حکیم ہی کو ہے۔ 

عربی زبان نہ جاننے والے بھی اس کی نغمئی خوبی کی طرف مائل ہوجا تے ہیں۔  نغمئی خوبی کے خلاف ایک طریقے کو اپنا کر اس میں نغمئی خوبی کو لے آنا ، ایک اور دلیل ہے کہ یہ محمد نبی کی قیاس آرائی نہیں ہے۔ 

زمانے سے یہ اختلاف نہیں

نبی کریم ؐ 570 ؁ء میں پید اہوئے۔

اس زمانے میں لوگ علمی مہارت میں بہت ہی پیچھے رہ گئے تھے۔انہیں یہاں تک بھی علم نہیں تھا کہ دنیا گول ہے۔ 

اس زمانے میں رہنے والے کتنے بڑے عالم بھی ہوں اپنے زمانے کے علم سے آگے کچھ بھی کہہ نہیں سکتے تھے۔ تقریباً سو سال گذرنے کے بعد ان کی کتاب اگرپڑھی گئی تو اس میں موجود کئی غلطیوں کو دنیا جان لے گی۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ سو سال گذرنے کے بعد کیا ہوگا، اور کیا کیا تحقیقات کی جائے گی ، ان تفصیلات کو سو سال پہلے بسنے والے قیاس بھی نہیں کر سکتے تھے۔ 

اگرکئی عالم مل کر تصنیف کی ہوئی کتاب بھی ہو توسو سال کے بعد اس میں کئی غلطیوں کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ بعض موقعوں پر پوری کتاب ہی زمانے سے بے میل ہو نے کی وجہ سے بے کار ثابت ہو سکتی ہے۔

 لیکن لکھنے پڑھنے نہ جانتے ہوئے ، بالکل پسماندہ قوم میں بسنے والے ایک شخص نے جس کو اللہ کی کتاب کہا اس کتاب میں کسی طرح کی ایک غلطی آج تک بھی کوئی ثابت نہیں کر سکا۔

* قرآن مجید کے حد تک وہ صرف روحانیت کے متعلق ہی بات نہیں کرتا ، ہر شعبہ کے متعلق اس اس جگہ پر ذکر کرتاہے۔

زمین کے متعلق، دوسرے سیاروں کے متعلق اور آسمانی دنیا کے متعلق جب بات کیا جاتاہے تو اس زمانے کے بڑے سے بڑا عالم اور فلکیاتی ماہر اگر بات کر تے تو جس طرح ہوگا کہیں اس سے بھی زیادہ بہترین انداز سے قرآن حکیم بات کر تا ہے۔

 * اسی طرح انسان کے متعلق، دوسرے جانداروں کے متعلق، جاندار پیدا ہونے کے ڈھنگ کے متعلق اور بھی کئی چیزوں کے متعلق قرآن مجید کہتا ہے۔ وہ چودہ صدی کے پہلے بسنے والے انسان کی طرح نہیں کہتا۔بلکہ اس صدی کے ماہر طبیب سے زیادہ بہتر انداز میں کہتا ہے۔

نباتات کے بارے میں بات ہو، پہاڑوں کے بارے میں بات ہو یا سمندروں کے بارے میں بات ہو تو چودہ صدیوں کے پہلے بسنے والے کی طرح قرآن مجیدکی بات نہیں ہوتی۔

 * اتنا ہی نہیں بلکہ گذشتہ صدی کے پہلے تک جو تحقیقات نہیں ہوئی تھی ان تحقیقات کی کئی باتوں کو قرآن مجید اسی زمانے میں کہہ دیا تھا۔ 

(اللہ کی کتاب کے لئے دلیلیں، اس عنوان کے تحت ہم نے اس کو سمجھایا ہے۔)

* کئی شعبوں میں ماہر شخص جس طرح آج بات کر ے گااس سے زیادہ بہتر انداز میں قرآن مجیدکو بات کرتے دیکھتے ہوئے اور نبی کریم ؐ کے زمانے کی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کوئی غور کر ے تو وہ یہی فیصلہ کر ے گا کہ یہ محمد نبی کا کلمہ نہیں ہو سکتابلکہ ہر چیز کے جاننے والے رب ہی کا یہ کلام ہو سکتا ہے۔ 

* سائنس سے تعلق رکھنے والے خیال ہی نہیں ، بلکہ قرآن مجید جوکہتا ہے ان سیاسی قانون،جرمیاتی قانون اور حقوقی قانون کو اگرکوئی تحقیق کر ے تو وہ جان لے گا کہ آج کے زمانے میں موجود سارے قانون سے زیادہ یہی قانون بہتر ہے اور نوع انسانی کے لئے زیادہ فائدہ مندہے۔غیر مسلم بھی قرآن کے اس قانون کو عمل در آمد کر نے کے لئے درخواست کر نے کے حد تک قرآنی قانون معیّن ہے۔ 

* کئی قانون، حسب و نسب اور پراناتجربہ ان سب کو تحقیق کرکے کئی قانون دان جو تشکیل دیتے ہیں اسی قانون کوسالانہ اصلاح کر تے آرہے ہیں۔ لیکن نبی کریم ؐ نے جس قانون کو اللہ کا قانون قرار دیا ہے، وہ بہت سے لوگوں کے ذریعے استقبال کیاجا رہا ہے۔ اس سے بھی یہ دلیل ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید محمد نبی کا کلام نہیں ہو سکتا۔

 * اسی طرح ناقابل تصفیہ دنیوی الجھنوں کوقرآن مجید حیرت انگیز طور پر مناسب طریقے سے فیصلہ کر تا ہے۔ اس سے بھی یہ دلیل ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید محمد نبی کا کلام نہیں ہو سکتا۔

حسب و نسب، خاندان اور ذات پات سے جو چھوت کی کلنک چلی آرہی ہے ، وہ کئی ملکوں میں کئی سالوں سے فیصلہ نہ ہو نے والا مسئلہ ہے۔اس پیچیدہ مسئلہ کو بھی قرآن مجید بہت ہی آسان فیصلہ سناکر اس چھوت کی کلنک کو جڑ سے دفع کیاہے،اس کو بھی ایک مثال پیش کر سکتے ہیں۔ 

مستقبل میں واقع ہو نے والے کئی خبروں کوقرآن مجید نے ظاہر کیاہے۔ اسی مطابق کئی واقعے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔لفظ بہ لفظ تکمیل کو پائے ہوئے ایسے پیشنگوئیاں بہت ہیں۔ 

(اللہ کی کتاب کے لئے دلیلیں، اس عنوان کے تحت ہم نے اس کو سمجھایا ہے۔)

قرآن مجیدمحمد نبی کا خاص کلام ہو ہی نہیں سکتا، یہ سب اس کے لئے دلیلیں ہیں۔ 

اگر تم یہ کہنے پر سچے ہو کہ لکھنے پڑھنے نہ جاننے والے ایک شخص نے اس کو قیاس کیا ہے تو قرآن کریم علانیہ چیلنج کرتا ہے کہ اس جیسے ایک ہی سورت بنا کر لاؤ ۔ قرآن کی ان آیتوں کو ملاحظہ کیجئے: 2:23، 10:38، 11:13، 17:88، اور 52:34۔

اس چیلنج کو چودہ صدیوں سے کوئی بھی سامنا نہیں کیا۔ قرآن مجید 2:23 آیت میں قطعیت سے کہتا ہے کہ کوئی بھی اس کا سامنا نہیں کرسکتا۔

نبی کریم ؐ نے جس قرآن مجید کوتعارف کرایا تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، انہوں نے اس سے کئی گنا زیادہ بات کی ہے۔اپنے آپ کو اللہ کا رسول واقف کرانے بعد انہوں نے 23سال کے عرصے میں جو کچھ کہا تھا سب کچھ حفاظت سے رکھا گیا ہے۔ 

کوئی بھی لسانی ماہران کی باتوں کو اور قرآن مجید کو اگر تحقیق کر نے لگے تو وہ قطعی طور پر کہے گا کہ دونوں باتیں ایک ہی شخص کے ہو نہیں سکتے۔ دونوں کے درمیان ادبی لطافت اور انداز بیان میں بہت سا فرق دیکھے گا۔ 

محمد نبی کی حسب دستور باتوں سے الگ اور اس سے کئی گنا زیادہ بلندو بالاو لطافت سے بھر پوررہنے کی وجہ سے یہ پھر سے ثابت کر تا ہے کہ یہ اللہ ہی کی کتاب ہے ۔

یہ ماننے والے تحقیق کار کہ نبی کریم ؐ ایسا کہہ نہیں سکتے، کہتے ہیں کہ وہ یہودو نصار یٰ کی کتابوں سے سیکھ کر ایسا کہتے ہیں۔ آج بھی بعض عیسائی ایساہی کہتے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے ہی میں قرآن حکیم کی معیار دیکھ کر حیرت سے تبصرہ کر تے تھے کہ ان کو کسی نے سکھایاہے۔ 

کیونکہ نبی کریم ؐ سے پہلے گزرے ہوئے آدم، نوح، موسیٰ، یعقوب، یوسف، داؤد، سلیمان اور عیسیٰ جیسے مختلف رسولوں کے بارے ہیں یہودو نصار یٰ کی کتابیں ذکر کرتی ہیں۔اس لئے ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید بھی ان کے بارے میں بیان کرنے کی وجہ سے نبی کریم ؐ نے گزری ہوئی کتابوں کے ذریعے معلومات حاصل کر کے کہتے ہیں۔

کئی وجوہات سے یہ غلط ہے۔ 

مندرجہ بالا نیک لوگوں کے نام ہی قرآن کہتا ہے، لیکن یہودو نصار یٰ کی کتابوں کی طرح ان کے بارے نہیں کہتا۔ 

ان لوگوں کی کتابیں کہتی ہیں کہ مندرجہ بالا نیک لوگ شرابی، زناکاری اور دھوکہ بازی جیسے برے عادات اپنائے ہوئے تھے۔لیکن قرآن مجید ایسا نہیں کہتا۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ وہ لوگ بالکل پارسا گزرے تھے۔ 

ان کی زندگی میں ہمارے لئے جو عبرت کے قابل ہو صرف ایسے ہی واقعات کو قرآن مجیدبیان کر تاہے۔ وہ بھی دوسری کتابوں کے خلاف ہی وہ کہتا ہے۔ 

یہودو نصار یٰ کی کتابیں’’اِس نے اُس کو جنا، اُس نے اِس کو جنا‘‘جیسے خاندانی نسل کی فہرست پیش کر تا ہے، ویسی باتیں قرآن میں نہیں ہے۔ 

جب حقیقت یہ ہے تو نبی کریم ؐ نے گزری ہوئی کتابوں سے نقل کی ہے کہنا، بے سمجھی کی بات ہے۔ 

یہودو نصار یٰ کی کتابوں میں زیادہ تر تاریخ اور بہت کم انداز میں تعلیمات حصہ پائی ہیں۔ زندگی کی تمام مسئلوں کے لئے ان کتابوں میں کوئی رہنمائی دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے قرآن مجید نے صرف چند ضروری تاریخی نکات پیش کی ہے۔ اور انسان کو پیش آنے والے ہر مسئلے کے لئے مناسب فیصلہ بھی سناتا ہے۔ یہ تمام باتیں یہودو نصاریٰ کی کتابوں میں ذکر نہیں ہوا ہے۔ اس لئے ان کتابوں سے قرآن مجید نے نقل کیا ہے کہنا سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ 

دوسری قوم کے لوگوں کی طرح یہودو نصاریٰ بھی نبی کریم ؐ کے زمانے میں زیادہ تعداد میں نبی کریمؐ کو اللہ کا رسول ماناتھا۔ یہ بھی غور کر نے کی بات ہے کہ اپنی کتابوں سے نقل کر کے کہنے والے کو وہ لوگ اپنا رہنما قبول نہیں کئے ہوں گے۔

 (اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 227 ملاحظہ فرائیے۔)

اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نبی کریم ؐ پر نازل شدہ پیغام ہے اور نبی کریم ؐ نے اپنے آپ اس کو تخلیق نہیں کیا۔

کوئی توقعات نہیں

اگر فرض کر لیں کہ نبی کریم ؐ نے قرآن مجید کو خود قیاس کیا ہے تو اللہ کا نام استعمال کر کے قیاس کرنے کی وجہ سے یقیناً کوئی توقع ہو نا چاہئے۔

 خود ہی قیاس کر کے اس کو اللہ کا کلام کہنے کے ذریعے انہوں نے کیا فائدہ حاصل کیا ، اس پر ہمیں غور کر نا چاہئے۔ 

عام طور سے ایک عقیدے کو پیش کر کے نفع حاصل کرنے کا ارادہ رکھنے والے اسی کے مطابق ہی عقیدے کی ترکیب د یں گے۔ اپنی دولت کوکھونے کے لائق کوئی عقیدہ نہیں بنائیں گے۔

 نبی کریم ؐ نے جو عقیدہ لائے تھے وہ کیسا تھا؟ اس زمانے میں جو کچھ برائیاں تھیں انہیں وہ سختی سے منع کیا۔وہ ایسا عقیدہ تھا کہ مجھے اور کسی شخص کو اور کسی چیز کو معبود نہ بنائے۔ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اس دنیا میں آرام کی زندگی بسر کر نے کا تصور چھوڑ کر مر نے کے بعد کی زندگی میں کامیاب پا نا ہی ایک مقصد ہونا چاہئے۔

اگر اس عقیدے کو کہا جائے تو دولت اکٹھا نہیں کر سکتے اور دوسروں کی طرح آسائشی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ الٰہی کے برابر توقیر بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ اس بات کی سند ہے کہ ان کی لائی ہوئی کتاب اور عقیدہ فائدے کے لحاظ سے ان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔

نبی کریم ؐ اپنی پچیسویں عمر میں تاجر تھے اور چالیسویں عمر میں اس بستی ہی میں بڑے مالدار تسلیم کئے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمر ہی میں انہیں اللہ کی طرف سے پیغام پہنچا۔ اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ انہیں اس کے ذریعے دولت اینٹھنے کا مقصدکچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ 

جو ان کے پاس تھی کیا اس دولت کو اور بھی بڑھالینا مقصد تھا تو وہ بھی نہیں تھا۔ 

کیونکہ انہیں اپنے ہی بستی سے ، اپنی تمام دولت کو چھوڑ کر بھاگنے کی نوبت آگئی تھی۔ اگر وہ اپنے کو اللہ کا رسول نہ کہتے اور اپنی تبلیغ سے بھی باز آجاتے تو بستی سے بھگائے جانے سے وہ بچ جاتے۔ 

اس قوم نے ان سے یہی مطالبہ کر رہی تھی۔ تاہم سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ بستی سے نکل گئے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ کئی سالوں سے محنت و مشقت سے جمع کی ہوئی تمام دولت اپنے عقیدے کی خاطر کھونے کی ہمت رکھنے والے کو اپنی معاشی حالت بڑھا لینے کا مقصد نہیں ہوسکتاتھا۔

دولت اکٹھا کر نے کے لئے اللہ کا نام تصور کر نے والے، اپنے خود کی دولت کو کھونے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ 

بستی سے بھگائے جا نے کے بعد مدینہ میں انہوں نے ایک حکومت نافذکی۔اگر نبی کریم ؐ چاہتے تو معاشی حالت کو اپنی مرضی کے مطابق بہت کچھ بڑھا سکتے تھے۔ کیونکہ ان کی حکومت بہت ہی زیادہ ترو تازہ تھا۔

* اس موقع پر بھی انہوں نے دولت اکٹھا نہیں کی۔

* محل میں زندگی بسر نہیں کی۔

* آخر تک کٹیا ہی میں جی کر کٹیا ہی میں جان دی۔

* وہ اور ان کے گھر والے ہر روز پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔

* ایک ماہ کے انداز میں گھر میں چولھا نہیں جلا، بلکہ کھجور اور پانی پی کر زندگی بسر کی۔

نبی کریم ؐ نے چھوٹے چھوٹے دو چادر ہی کواوپری اور نچلی لباس کی طرح استعمال کرتے تھے۔ کچھ مخصوص دنوں میں پہننے کے لئے سلے ہوئے لباس ایک دو اپنے پاس رکھتے تھے۔

 * زندگی بھر ان کے گھر میں چراغ ہی نہیں رہا۔اندھیرے میں ہی وہ رات کا وقت گذارتے تھے۔ 

* اپنی زرہ پوش کوانہوں نے تھوڑا سا گیہوں کے لئے رہن رکھ کر آخر کار اس کو چھڑائے بغیر ہی وفات پا گئے۔

 * صرف ایک زمین، ایک گھوڑا اور چند بکریاں ہی انہوں نے چھوڑ کر گئے تھے۔ اس کے لئے بھی یہ وصیت فرما گئے تھے کہ اس کو حکومت کے خزانے میں جمع کر دیا جائے اور ان کے گھر والے کوئی اس کے وارث نہ بنے۔

نبی کریم ؐ کی اس پاکیزہ سیرت کو جاننے والے یہ ہر گز نہیں سمجھیں گے کہ نبی کریم ؐ نے دولت جمع کر نے کے لئے ہی اللہ کے نام سے قرآن کو قیاس کیا ۔ 

اگر یہ سمجھے کہ لوگوں کے پاس تعریف اور عزت حاصل کر نے کیلئے ہی انہوں نے اللہ کا نام استعمال کیا ہوگا، وہ بھی غلط ہوگا۔ 

کیونکہ اگر کوئی قرآن کریم کو پوری طرح سے پڑھ لے تو بس، اس کا وہ شک دور ہو جائے گا۔ 

تعریف کادلدادہ کوئی شخص اپنی عزت اور وقار کو گزند پہنچانے والے لفظوں کو اللہ کے نام سے قیاس نہیں کر ے گا۔ بلکہ اپنی تعریف اس طرح بڑھا چڑھا کر کہنے ہی کا وہ قیاس کر ے گا کہ لوگ اس کے پیروں میں پڑے رہے۔لیکن قرآن مجید میں نبی کریم ؐ کی غلطیوں کو دکھلایا گیا ہے۔

 یہ قرآنی آیتیں کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ بھی اللہ کے بندے ہی ہیں: 2:23، 8:41، 17:1، 18:1، 25:1، 53:10، 57:9، 72:19، 96:10۔

قرآن کی آیتیں6:50 اور 7:188 کہتی ہیں کہ اللہ کی قدرت میں کوئی بھی چیز نبی کریم ؐ کی نہیں ہیں۔

قرآن کی یہ آیتیں 3:127، 6:50، 7:188، 10:49، 10:107 کہتی ہیں کہ اللہ کے خزانے نبی کریم ؐ کے پاس نہیں ہیں۔ 

قرآن کی یہ آیتیں 6:17، 7:188 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ اپنے پربھی بھلائی نہیں پہنچا سکتے۔

قرآن کی یہ آیت 23:97 کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ بھی شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر یں۔ 

قرآن کی یہ آیتیں 4:106، 9:43،23:118، 48:2 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ کو بھی اللہ بچائے تو ہی ہوگا۔

اللہ اگرنبی کریم ؐ کو سزا دینا چاہے توکوئی انہیں بچا نہیں سکتا۔یہ قرآن کی آیتیں 6:17، 67: 28 کہتی ہیں۔

قرآن کی یہ آیتیں 2:264، 3:8، 6:35، 6:52، 10:99، 17:74، 28:56 کہتی ہیں کہ سیدھی راہ پر شامل کرنا نبی کریمؐ کے اختیار میں نہیں۔

یہ قرآنی آیتیں 3:128، 4:80 کہتی ہیں کہ نبی کریمؐ کو رب کے اختیار میں کو ئی حصہ نہیں ہے۔ 

قرآنی آیت 17:74 کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کا دل بھی اللہ ہی کی پابندی میں ہے۔

قرآن کی یہ آیتیں 3:144، 11;12، 18:110، 4:116 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ بھی ایک انسان ہیں۔

ان باتوں کو لوگوں سے واضح طور پر بیان کر نے کے لئے قرآن مجید نبی کریم ؐ کو حکم دیتی ہے۔ 

تم مجھ سے نہ ڈرتے ہوئے انسانوں سے کیوں ڈرتے ہو کہہ کرنبی کریم ؐ کو ڈانٹنے والی آیت (33:37) بھی قرآن حکیم میں موجود ہے۔ 

ایک نابینا شخص کو جب نبی کریمؐ نے ڈانٹا تواس نابینا شخص کو پتہ نہ ہونے کی حالت میں اللہ نے جو ڈانٹا وہ آیتیں (80:1-10) بھی قرآن میں موجود ہے۔

ہم جیسے معمولی شخص بھی لوگوں کے درمیان اپنی عزت میں کوتاہی ہونا برداشت نہیں کر سکتا۔ نبی کریم ؐ تو اپنی ڈانٹ کو برداشت کرتے ہوئے اپنی عزت کو پامال کر نے والی آیتوں کوپیش کر کے کہا ہے کہ یہ اللہ کا کلام کھا ہے۔

 نبی کریم ؐ اگر یہ کہتے کہ میں ہی الہ ہوں تو اس کو قبول کر نے کی حد تک ان کو چاہنے والے لوگ بہت تھے۔ اس کے باوجود نبی کریم ؐ اپنے کو دوسروں کی طرح بشر ہی اعلان کیا۔

 نبی کریم ؐ نے جس قرآن کوپیش کیااسی میں یہ تمام معلومات دکھائی دیتا ہے کہ یہ اللہ کا پیغام ہے۔

اپنے کو سرزنش کر نے والے،اپنی عزت کو زک پہنچانے والے پیغام کو اپنے ہی خلاف کوئی تصور نہیں کر سکتا۔ اگر اس پر غور کرو تویہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتاہے کہ یہ قرآن نبی کریم ؐ کی قیاس ہر گز نہیں ہو سکتی۔

* انہیں کوئی پالکی نہیں تھی۔

* ان کے لئے کوئی محافظ نہیں تھا۔

 * وہ کسی کو اجازت نہیں دئے کہ وہ ان کے پیروں پر گرے۔

* ان کیلئے کوئی کھڑے ہونے کو انہوں نے روک دیا تھا۔

* انہوں نے تاکید کی تھی کہ جس طرح لوگ عیسیٰ کی تعریف کئے تھے اس طرح حد سے زیادہ میری تعریف نہ کرو۔

بالکل عام انسان جس طرح تعریف کا منتظر رہتا ہے اس حد تک بھی انہوں نے تعریف پسند نہیں کی۔ 

اس لئے یہ بات قابل قبول نہیں کہ لوگوں کے پاس عزت و احترام حاصل کر نے کے لئے وہ خود ہی قیاس آرائیوں سے نہیں کہا ہوگا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔

اس لئے اگران تمام چیزوں پر غور کیا جائے تو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ قرآن مجید محمد نبی کے ذریعے تشکیل نہیں کیا گیااور ان کے دعوے کے مطابق یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

پڑھنے سے پہلے

قرآن پڑھتے وقت تم دیکھوتو یہ دوسری کتابوں سے کئی طریوں سے مختلف نظر آئے گا۔ 

تم دیکھوگے کہ قرآن میں چند احکام بار بار دوہرایا گیاہے۔ کیا ایک بات ایک بار کہنا کافی نہیں ہے؟ ایک ہی بات کو بار بار کیوں کہا گیا ہے؟ ایسے سوالات تم میں اٹھ سکتے ہیں۔

یہ قرآن 23سالوں کے عرصے میں مختلف حالات کی مناسبت سے اللہ کی کہی ہوئی نصیحتوں کا مجموعہ ہے۔ اس طرح کی نصیحتوں کا مجموعہ ایسے ہی ہوتاہے۔

اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔

اچھے اخلاق والا اور ایک دانشمند باپ اپنی اولاد کو مختلف موقعوں پر نصیحت کر تا ہے۔ اس طرح وہ دس سالوں میں جو نصیحت کیا تھا اگر ہم اسے اکھٹا کریں تو وہ کیسا رہے گا؟

* انہوں نے پہلی سال جو نصیحت کی تھی ان میں سے بعض دوسری سال بھی کہے ہوں گے۔

* ایک ہی نصیحت وہ سات آٹھ بار کہے ہوں گے۔

* بعض نصیحت وہ ایک ہی بار کہے ہوں گے۔

خبر کی اہمیت سمجھ کر اس کو بار بار کہے ہوں گے۔ یا بیٹا اسے سن کر ٹھیک طور سے عمل نہیں کیا ہوگا، اس لئے وہ پھر سے کہے ہوں گے۔

اس طرح قرآن 23 سالوں میں کہی ہوئی نصیحتوں کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے قرآن میں بھی کئی باتیں ایک سے زیادہ بار کہی گئیں ہیں۔

کوئی بھی کتاب ہو اس کو عنوان کی ترتیب سے اس کے عنوان کے تحت عنوان کے مناسب خبریں درج ہوئی ہوگی۔ لیکن تم قرآن کو دیکھوگے تو عنوان کے طور پر اس میں خبریں ترتیب نہیں کی گئی ہیں۔بعض لوگوں کو یہ حیرت معلوم ہوگی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن تحریری انداز میں نازل نہیں کیا گیا۔بلکہ تقریری انداز میں نازل ہو کر پھراس کو تحریری شکل دیا گیاہے۔ 

کتاب لکھنے میں ا ور باتوں کو تحریر بنانے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایک انسان کی کئی سالوں کی باتوں کو تحریری شکل بناؤ تو وہ عنوان کے تحت نہیں آسکتی۔

لکھتے وقت ہم آگے پیچھے کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا موقع مل جانے کی وجہ سے اس کو عنوان کے تحت لا سکتے ہیں۔ لیکن بات کرتے وقت ویسا نہیں کر سکتے۔ موقع اور حالات ہی فیصلہ کرتا ہے کہ ہم کب اور کیسے باتیں کریں۔ 

اسے بھی ایک مثال کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔

باپ نے بیٹے کو دس سال کے عرصے میں دئے ہوئے نصیحتوں کو جمع کر کے دیکھیں تو وہ کسی عنوان کے تحت بھی ترتیب وار کہی ہوئی بات نہیں ہوگی۔ 

* پہلے دن بیٹے کو غصہ میں دیکھ کر صبر کے بارے میں بات کرے گا۔

* دوسرے دن اگربیٹے کو امتحان ہوگا تو پڑھنے کی اہمیت کے بارے میں بات کر ے گا۔

* تیسرے دن بیٹا اگر ٹھیک سے نہیں کھایا ہو گا تو کھانے کے بارے میں بات کرے گا۔

* اس کے بعد کے دن بیٹا جب اپنے ماں سے مخالف کر تا ہے تو اس کے بارے میں نصیحت کرے گا۔ یہ نصیحتیں کسی بھی عنوان کے تحت ترتیب وار کہا نہیں ہوگا۔ باپ اپنے بیٹے کو ایسا نہیں کہتا کہ پہلے ایک عنوان کی باتیں کہدیں اور پھر دوسرے عنوان کولے لیں۔ بیٹے کو جتنی بات کہنی ہے اتنی ہی کہناان کا منصوبہ ہوگا۔

بیٹے کو جھوٹ کہتے ہوئے دیکھتا ہے تو باپ ایسا نہیں سوچے گا کہ سیاست کے عنوان پر ہم مشغول رہنے سے جھوٹ کے بارے میں بات کرنا مناسب نہ ہوگا۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ کی زندگی میں کوئی بھی مسئلہ اٹھے تو اس کے فیصلہ کو اللہ نے فوراً نازل کردیا۔ اس طرح قرآن 23 سال کے عرصہ میں کہی ہوئی باتوں کا مجموعہ ہے، اس لئے یہ عنوان کے تحت نہیں ہو سکتا۔

قرآن میں چند آیتیں ایک عمل کی اجازت دیتے ہوئے اور چند آیتیں اس کو روکتے ہوئے تم دیکھوگے۔ 

اس کو تم اختلاف نہ سمجھنا۔ اگر ایک ہی وقت میں کہی ہوئی باتوں میں وہ بات ہو تو تم اس کو اختلاف کہہ سکتے ہو۔ لیکن قرآن تو 23 سال کے عرصہ میں ماحول کے مطابق اتارا گیا ہے۔ ایک موقع پر ایک چیز کی اجازت دیدی ، پھر دوسرے موقع پر اس کو اگر روک دیا گیا تو وہ اختلاف نظر آئے گا، لیکن اصل میں وہ اختلاف نہیں ہے۔ 

پہلے جو قانون اترا وہ تبدیل ہو کر پھر دوسرا ایک قانون لاگو ہوجائے تو وہ اختلاف نہیں کہلائے گا۔ 

اسے بھی ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

ایک چار سال کا بچہ ہے، اس کو اس کا باپ گھر سے باہر نہ جانے کی تاکید کر تا ہے۔ وہی لڑکا جب پندرہ سال کا ہو جا تا ہے توباپ کہے گا کہ تم بھی دوسرے لڑکوں کی طرح باہر جا کر کیوں نہیں کھیلتے! پہلے جو کہا گیا تھا اس سے یہ مختلف رہنے کے باوجود دونوں ہی باتیں حالات کے مدنظر کہی جانے کی وجہ سے اس کو اختلاف نہیں کہہ سکتے۔

اسی طرح قرآن بھی مختلف حالات میں اتاری ہوئی نصیحت رہنے کی وجہ سے دو مختلف حالات میں کہی ہوئی دو مختلف نصیحتیں اختلافی نظر آسکتی ہیں۔ اس کو تم اس طرح سمجھ لینا چاہئے کہ پہلے جو قانون نازل ہوا تھا وہ بعد میں اتاری ہوئی آیت کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔ ایسے مقامات پر ہم نے اس کے مناسب حاشیہ میں تشریح کئے ہیں۔

ہر چیز کا جاننے والا اللہ پہلے جو قانون اتارا تھا اس کو بدلے بغیر ہی ابتدا ہی میں ٹھیک قانون کیوں نہیں اتارا، اس شک کی اگر تم وضاحت چاہو تو ’’چند آیتیں کیوں بدلی گئیں؟‘‘ کے عنوان کے تحت حاشیہ نمبر 30 میں دیکھ لیں۔

قرآن میں ’’وہ لوگ‘‘ کہہ کر غائب کے بارے میں باتیں کر تے ہوئے فوراً ’’تم لوگ‘‘ میں مخاطب انداز سے بدل جا تا ہے۔اس طرح مخاطب سے غائب اور غائب سے مخاطب بدلتے رہنا قرآن میں بہت سی جگہوں میں دکھائی دے گا۔

تحریر میں ہم اس طرح زیادہ نہیں دیکھ سکتے۔لیکن گفتگو میں یہ انداز زیاد ہ پایا جاتا ہے۔ 

کسی بھی صدر کا بیان تم غور سے سن کر دیکھو۔ وہ یہی کہے گا کہ ان کی حکومت ٹھیک نہیں، دھوکہ بازی بڑھ گئی ہے۔ تم کو عہدے سے نکالنا ہی میرا پہلا کام ہو گا۔’ ان کی حکومت ‘کہہ کر غائبانہ مخاطب کر نے والا اچانک’تم کو ‘ کہہ کر رخ بدل دیتا ہے۔ 

’اس کو‘ کہنا اور’ تم کو‘ کہنا ایک ہی شخص کے بارے میں رہنے کے باوجود باتوں میں اس طرح تبدیل ہوجانا دنیا کی ہر زبان میں چلا آرہا ہے۔ 

یہ صرف منچ کے بیان ہی میں نہیں۔ گھر میں ایک شخص اپنے گھر والوں سے بات کرتے وقت بھی اس طریقے کو تم دیکھ سکتے ہو۔

ایک شخص کی طرف مخاطب ہوکر’ تم کو غروری بہت زیادہ ہوگئی ہے‘ کہتے ہوئے اچانک وہ اس طرح کہہ اٹھتے ہیں کہ ’ اس کو گھر سے باہر کر نے کے بعد ہی سکون ملے گا‘۔اس طرح مخاطب سے غائب کی طرف تبدیل ہو جا نا عام طور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ 

قرآن مجید تحریری انداز میں نہیں اتارا گیا۔ لوگوں کی طرف مخاطبی انداز میں آوازکی شکل ہی میں اتارا گیا ہے۔ اس لئے قرآن مجید میں بھی اس جیسا انداز ہی بہت زیادہ دیکھا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر قرآن کی پہلی سورت کی چار آیتوں پر غور کرو:

سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔(وہی) سارے جہاں کو (پیدا کر کے) پرورش کر نے والا ہے۔ (2) بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے۔ (3) فیصلے کے دن کا مالک ہے۔(4) اس لئے ہم تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

اس میں پہلی تین آیتیں اللہ کے بارے میں غیبی انداز میں مخاطب کیا گیا ہے۔ یعنی ’وہ‘ کہتے ہوئے اچانک چوتھی آیت میں ’تم‘ سے مخاطبی انداز میں بدل جاتا ہے۔

ایسے مقام میں جو ادبی لطافت چھپی ہوئی ہے ، اس کو ادبی مشتاق حضرات جان لیتے ہیں۔

اللہ کے بارے میں نہ جانے ہوئے لوگوں کے پاس جب تعارف کیا جا تا ہے کہ (وہ) سارے جہاں کا پالنے والا ہے تو اللہ کے بارے میں تھوڑا بہت وضاحت مل جا تی ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ہی مہربان ہے تو اور زیادہ واضح ہو جا تا ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ وہ نہایت ہی رحم والا ہے تو اور بھی زیادہ عیاں ہو جا تا ہے۔ جب اس کو فیصلے کے دن کا مالک کہا جا تا ہے تو ہمیں پوری طریقے سے واضح ہو جا تا ہے کہ اللہ کیسا ہے۔ تب اس کو ’تو‘ سے مخاطب ہونے کے حدتک قربت حاصل ہوجا تی ہے۔

اسی لئے پہلی تین آیتوں میں وہ کہتے ہو ئے آکر چوتھی آیت میں تم سے تخاطب کا انداز بدل جاتا ہے۔ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ایسے ہی وجوہات اس میں شامل ہیں ۔

قرآن مجید میں اللہ اپنے بارے میں خود آگاہی کر تے وقت بہت ہی کم مقامات میں وہ ’’میں‘‘ کہا ہے۔ اکثر جگہوں میں وہ ’’ہم‘‘ ہی کہا ہے۔ 

اپنے بارے میں تنہا شخص بھی’’ ہم‘‘ کہنے کا رواج دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی موجود ہے۔

یہ میرا گھر ہے کہنے کے مقام پر ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا گھر ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ اس گھرمیں ہمارا بھی حصہ ہے۔ 

اپنے لڑکے کو جب کسی سے تعارف کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارا لڑکا ہے۔ اس کو کوئی براہ راست معنی میں نہیں کہتے اور نہ ہی کوئی سمجھتے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ’ہم‘ ’ہمیں‘ ’ہمارے پاس‘ وغیرہ الفاظ ’’میں‘‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

اس کتاب کو استعمال کر نے کا طریقہ

* اس کتاب میں موجود عربی لفظوں کی تفصیل ’’فنی الفاظ‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔ 

* اسلامی عقیدے کی نمازاور روزہ وغیرہ کی تفصیل بھی ’’فنی الفاظ‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔ 

* اس ترجمہ میں ایک چھوٹا ساعددی نشان کئی جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہو گا کہ اس کے بارے میں اور بھی زیادہ جان لینے کی تفصیل موجود ہے۔ اس جیسے نشانی اعداد کی تفصیل کو تم اس کتاب کے آخر میں ’’تفصیلات‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔ 

* ایک خاص عنوان کے بارے میںیا اس کے جزوی عنوان کے بارے میں اگر جاننا چاہو تو ’’فہرست مضامین‘‘ کے تحت عنوان کی ترتیب دی گئی ہے، اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

* قرآن کام حوالہ دیتے وقت ہم اس کو عدد کے ساتھ درج کر تے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر24:12 درج کیا جا تا ہے تو 24 اس سورت کا نمبر ہوگا (پارہ کا نہیں)۔ اور 12 آیت کا نمبر ہوگا۔ یعنی ہمیں سمجھ لینی چاہئے کہ یہ چوبیسویں سورت کی بارہویں آیت ہے۔ 

اس ترجمہ کے بارے میں . . .

اس ترجمہ میں ہم جو طریقہ اپنائے ہیں اسے جان لینااس کے پڑھنے والوں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔

* چندعربی لفظوں کو عربی لفظ ہی استعمال کیا گیاہے۔اس لئے کہ اس لفظ کی پوری مدعا کو کوئی دوسرالفظ ادا نہیں کرسکا۔ 

چند آیتیں ہیں جن کو اور زیادہ تفصیل کی ضرورت ہوگی۔

چند آیتوں کا جملہ مقصد کیا ہے، اس میں شک پیدا ہوسکتا ہے۔

مستقبل میں واقع ہو نے والے پیشگوئیاں چند آیتوں میں جگہ پائی ہوگی۔

چند آیتوں میں سائنسی معانی سمائی ہوگی۔

یہ سمجھنے کے باوجود کہ یہ آیت کیا کہتی ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہو گا کہ یہ اس زمانے کے لئے کیسے مناسب ہوسکتا ہے۔

ایک آیت جومعانی ظاہر کر تی ہے اس کے سوا بھی اور زیادہ منشا اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ 

اس طرح کے تمام مقامات پر ہم نے ایک چھوٹاسا نمبر کانشان لگایا ہے۔ معانی کے اوپر اگر12کا ہندسہ دکھائی دے تو سمجھ لو کہ اس کی اور بھی تفصیل موجود ہے۔ تفصیلات کے فہرست میں12 کے ہندسے میں اسے تم دیکھ سکتے ہو۔ 

تفصیلات کو بار بار کہنے سے اجتناب کر نے میں ہم نے بہت غورفرمایاہے۔ 

مثال کے طور پرآسمان یا آسمانوں کے بارے میں قرآن بہت سی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ ان تمام مقامات پر ہم نے ایک خاص نمبر 507ہی درج کیا ہے۔

اس ترجمہ میں ہم بہت ہی مختصرانداز کو اپنایا ہے۔یہ کئی طریقوں سے ترکیب پائی ہے۔ 

ایک آدمی جب ہاتھوں کو، پیروں کو،چہرے کو اور سر کو دھوتا ہے تو اس کو عربی زبان میں اس طرح کہا جائے گا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو، اپنے پیروں کو، اپنے چہروں کو اور اپنے سر کو دھو یا۔ اس طرح کہنا عربی زبان کا بہترین انداز ہوگا۔ وہی انداز اس زبان میں کیا جائے تو وہ بہتر نہیں کہا جائے گا۔ 

اپنے ہاتھوں کو، پیروں کو،چہرے کو اور سر کو دھویا کہنا ہی اس زبان کا بہتر انداز بیان کہلائے گا۔ 

’اپنا‘ کا لفظ عربی متن میں چار جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے۔لیکن اس کو ایک بار استعمال کر ناہی اس زبان کیلئے کافی ہے۔

’اس کا‘ ’اس کی‘ ’ان کا‘ اور ’ان لوگوں کا‘ ایسے الفاظ ایک جملے میں کئی بار استعمال ہو نے کے باوجود اس ترجمہ میں ہم نے اس کو اکثر ایک ہی بار ذکر کیا ہے۔ 

عربی زبان میں’جنہوں نے تمہیں مارا انہیں تم بھی مارو‘ جیسے انداز میں کئی اصطلاحات عام طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ اس زبان میں اچھے انداز کی نشانی ہے۔ لیکن ان جیسی اصطلاحات اس زبان میں بہت ہی کم استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے اس زبان میں اس کو’تمہیں مارنے والوں کو تم بھی مارو‘ کہنا ہی اس زبان کا انداز بیان ہوگا۔

ان کی اصطلاحات میں’جنہوں نے تمہیں دھوکہ دیا وہ‘ ہوگا، لیکن ہماری اصطلاحات میں ’تمہیں دھوکہ دینے والوں کو‘ کہنا ہی کافی ہوگا۔

بہت کم مقامات پر اس انداز بیان سے ایک گہرا مطلب نکلے گا، ویسی جگہوں میں وہی انداز بیان ہم نے بھی اختیا رکی ہے۔ 

جہاں تک ہو سکے بہت کم حروف ہی جگہ پائے، اس انداز سے ہم نے لفظوں کو استعمال کی ہے۔

مثال کے طور پر تین لفظوں میں کہنے والی بات کو ہم نے ایک لفظ میں کہنے کی کوشش کی ہے۔ ]

معمول معنی سے الگ دوسرے معنوں میں استعمال کئے ہوئے چیزوں کو سمجھانے کے لئے یہ نہیں استعمال کیا گیا کہ اعتبار کرنااور اعتبار نہ کر نا ، بلکہ ہم نے اعتبار کرو اور اعتبار نہ کرو کا لفظ استعمال کیا ہے۔ 

’کر نے کے قابل ہیں ، آنے کے قابل ہیں‘ جیسے لفظوں کو اکثر نظر انداز کرکے’ کر نے والے، آنے والے‘ استعمال کیا ہے۔

عربی زبان میں ایک رائے بغیر کسی شک کے پیش کر نا ہو تو ’اِنَّ‘ یا ’اَنَّ‘ کا لفظ استعمال کر تے ہیں۔ اسے بہت سے مترجم ’بے شک‘ کا معانی دیتے ہیں۔ یہ زبان کے انداز سے فضول ہے۔ عربی زبان میں ایک بات کو مثبت انداز میں کہنے کے لئے صرف ’اِنَّ‘ یا ’اَنَّ‘ کا لفظ ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی الفاظ ہیں۔ ’اِنَّ‘ یا ’اَنَّ‘ کا لفظ جیسے ثابت کر نے کے لئے موجود ہے اسی معنے کو وہ بھی دیتے ہیں۔ ایسے لفظوں کو تاکیدی لفظ کہاجاتا ہے۔ ایک جملے میں ایک خبر میں پانچ چھ تاکیدی لفظوں کو بھی عرب والے استعمال کر تے ہیں۔ 

’کل میں شفا خانہ گیا تھا‘ اس جملے کو وہ لوگ ’بے شک میں بے شک کل بے شک شفا خانہ بے شک گیا تھا‘ کہیں گے۔

یہ عربی زبان میں عیب دار نہیں دکھے گا۔ اگر وہی انداز سے ہم لکھیں تو پڑھنے والے قرآن کے انداز بیان کو عیب لگا ئیں گے۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ یہ عربی زبان کا دستور ہے۔ 

ہم اس سے جان لے سکتے ہیں کہ تاکید والے حروف کوعرب والے آرائش کے انداز میں استعمال کر تے ہیں۔ 

اسی لئے ہم نے ’اِنَّ‘ یا ’اَنَّ‘ کے لفظ کااور تاکید والے دوسرے الفاظ کا بھی ترجمہ نہیں کیا۔  بعض مسلمان عالم ہم پر الزام لگا تے ہیں کہ یہ غلط ہے۔

اس طرح الزام لگانے والے اپنے ترجموں میں سارے تاکیدی لفظوں کو ’بے شک‘ سے ترجمہ کر نا چاہئے تھا ۔صرف ’اِنَّ‘ یا ’اَنَّ‘ کے لفظ کو بے شک سے ترجمہ کر دیا اور اسی قسم کے دوسرے لفظوں کا ترجمہ چھوڑ دیا۔ 

اس کے چند مثالیں ہم پیش کر تے ہیں۔ 

بیسویں سورت کی 97 ویں آیت کو لے لیں۔

اس کو ہم نے اس طرح ترجمہ کیا تھا:

موسیٰ نے کہا کہ تو چلا۔ تیری زندگی میں یہ حالت ہو گی کہ تم کہو گے کہ مجھے مت چھونا۔ تبدیل نہ ہو نے والا ، وعدے کے مطابق آنے والا ایک وقت بھی تیرے لئے ہے۔ تم جس کی پرستش کر رہے تھے اس معبود کو دیکھ۔ اسے آگ میں جلا کر پھر اس کو سمندر میں بکھیر دیں گے۔

ہمارے ترجمے کے خلاف آواز اٹھا نے والوں کا ترجمہ اس طرح ہی آنا چاہئے تھا۔

موسیٰ نے کہ تو چلا جا۔ بے شک تیری زندگی میں یہ حالت ہو گی کہ تم کہو گے کہ مجھے مت چھونا۔ بے شک تبدیل نہ ہونے والا ، وعدے کے مطابق آنے والا ایک وقت بے شک تیرے لئے ہے۔ تم جس کی پرستش کر رہے تھے اس معبود کو دیکھ۔اسے بے شک آگ میں بے شک جلا کر پھر بے شک اسے سمندر میں بے شک بکھیر دیں گے۔

بیسویں سورت کی 97 ویں آیت میں سات جگہوں میں بے شک کا معانی دینے والے الفاظ ہیں۔تم دیکھو کہ کسی بھی عالم کے ترجمہ میں اس آیت کے تحت بے شک کا لفظ کیا سات بار استعمال ہوا ہے؟ کوئی بھی مترجم بے شک کے لفظ کوسات بار استعمال نہیں کیا۔ اس سے یہ یقین ہو جا تا ہے کہ وہ لوگ بھی تاکید قسم کے لفظ کو بغیر معنی کے چھوڑد ئے ہیں۔

اسی طرح 3:155 کے آیت کو لے لیجئے۔ اس آیت کو ہم نے اس طرح ترجمہ کیا ہے:

جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تم میں سے پھر جانے والوں کو ان کے بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے گمراہ کردیا۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے۔ 

اس آیت میں تاکید ثابت کر نے والے الفاظ پانچ ہیں۔اِنَّ کا معنا ہم نے نہیں لیا ، اس وجہ سے ہمارے خلاف لڑنے والے لوگ پانچ جگہوں میں بے شک کا لفظ استعمال کر کے اس آیت کو اس طرح ترجمہ کر نا چاہئے تھا۔ یعنی:

جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تم میں بیشک پھر جانے والوں کو ان کے بعض کرتوتوں کی وجہ سے بے شک شیطان نے گمراہ کر دیا۔ بے شک اللہ بے شک انہیں معاف کردیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔

اس طرح بے شک کا لفظ پانچ جگہوں میں ایک عالم بھی اپنے ترجمے میں استعمال نہیں کیا۔ اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ انہوں نے بھی تاکید کے الفاظ کو بغیر معانی کے چھوڑدیاہے۔ 

ذیل کی آیتوں کو دیکھئے۔ہم نے یہ تفصیل پیش کی ہے کہ ان آیتوں میں تاکیدی الفاظ کتنی جگہوں میں آیا ہے ۔ کسی بھی ترجمے کو اٹھا کر دیکھئے ، تم خود جان لوگے کہ وہ لوگ اس گنتی کے موافق بیشک کا لفظ استعمال نہیں کئے ہوں گے۔ 

2:74 اس آیت میں چھ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

2:130 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

5:12 اس آیت میں نو بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

5:32 اس آیت میں چھ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

6:109 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

7:134 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

11:10 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

11:110 اس آیت میں پانچ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

12:32 اس آیت میں سات بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

12:41 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

14:7 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

15:24 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

15:97 اس آیت میں تین بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

16:103 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

23:30 اس آیت میں چار بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

29:3 اس آیت میں چھ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

30:58 اس آیت میں پانچ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

39:65 اس آیت میں چھ بار تاکیدی الفاظ آئے ہیں۔

تم جان لو گے کہ ان آیتوں میں کوئی بھی مترجم بے شک کا لفظ اس گنتی کے مطابق استعمال نہیں کیا ہوگا۔ 

صرف مثال ہی کے لئے ہم نے چند آیتیں پیش کی ہیں۔ اس طرح کے اور بھی کئی آیتیں موجود ہیں۔ 

یقینی اندازکے تاکیدی الفاظ تمام ثابت کر نے میں مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے صرف اِنَّ اور اَنَّ کے لفظ ہی کو بے شک کا معانی پہنا کر باقی الفاظ کو معانی دئے بغیر چھوڑدینا کچھ معانی نہیں رکھتا۔ 

بے شک کا لفظ عربی زبان میں آرائش کے لئے استعمال کیا جا تا ہے اور ہماری زبان میں اس طرح کا انداز بیان نہیں ہے، اس لئے ہم نے اس کو استعمال نہیں کیا۔ لیکن اسی طرح ترجمہ کر نا چاہئے کا عقیدہ رکھنے والے بعض کاترجمہ کر تے ہیں اور بعض کا ترجمہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے لئے کوئی مناسب جواب بھی نہیں ہے۔ 

مخاطب کر نے والے چند آیتوں میں ہم نے اے محمد! کو قوسی نشان کے اندر استعمال کیا ہے۔قرآن میں جواحکامی لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ اکثرعمومی ہے۔ وہ صرف نبی کریم ؐ ہی کے لئے نہ رہنے کے باوجود چند احکامی الفاظ صرف نبی کریم ؐ ہی کے لئے مخصوص ہیں۔ ان جیسی آیتوں میں قوسی نشان کے اندر اے محمد!استعمال کیا گیا ہے۔

بعض لوگ سمجھیں گے کہ اے محمد! سے مخاطب کر نا کیا بے حرمتی نہیں ہے؟ اگر ہم نبی کریمؐ کو اے محمد!سے مخاطب کریں تو وہ بے حرمتی ہو سکتی ہے۔ لیکن سارے جہانوں کا رب، اللہ جب اس طرح مخاطب کرے تو وہ بے حرمتی نہیں ہوسکتی۔ ایسے ہی آیتوں میں ہم نے اے محمد! استعمال کی ہے جس میں اللہ نے نبی کریمؐ سے مخاطب ہو کر کہاہے۔ اس میں کسی طرح کی بے حرمتی نہیں ہے۔ 

اس ترجمے میں ہم نے جہاں تک ہو سکے قوسی نشانی ترک کر نے کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت کم جگہوں میں قوسی نشانی استعمال کیا گیا ہے۔یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ قوسی نشانی کے اندر موجودہے وہ اصل میں نہیں ہے، اس کو مترجم نے شامل کیا ہے۔

جہاں تک ہو سکے ہم نے ترجمہ میں درست اور باضابطگی کو اپنا یا ہے۔

مثال کے طور پرلفظِ ’علیم‘ کا ترجمہ ایک جگہ میں جاننے والا کیا گیا ہے تو وہ لفظ جہاں بھی آئے وہی جاننے والاہی لکھا گیا ہے۔ اس طرح ہر الفاظ کے لئے باقاعدگی کو اپنایا ہے۔ 

چند الفاظ ایک سے زیادہ معانی والا ہوگا۔ وہ جہاں استعمال ہو تا ہے اسی کے مطابق معانی بدل دیا گیا ہے۔ صرف ایسی ہی جگہوں میں ہم نے اس باقاعدگی کو استعمال نہیں کیا۔

حاشیہ کو اسی صفحات میں اگر ہم درج کئے ہو تے توکئی جگہوں میں ایک ہی حاشیہ کو استعمال کر نے کی نوبت آجاتی۔ اس سے صفحات اور بھی بڑھ جاتے۔ اس سے اجتناب کر نے کے لئے ہی ہم نے حاشیہ کو الگ کر کے آخر میں شامل کیاہے۔ 

یہ اللہ کاکلام ہونے کی دلیلیں

1400سالوں کے پہلے انسان جو جانتا نہیں تھا ایسی چیزیں صرف اللہ ہی جان سکتاہے، ایسی بہت سی باتیں قرآن حکیم میں کہا گیا ہے۔ 

راست باز نگاہ والے ہی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ لکھنے اور پڑھنے نہ جاننے والے محمد نبی ایسی باتیں ضرو رنہیں کہے ہوں گے اور اس کو اللہ ہی نے سکھایاہوگا۔ان جیسی آیتوں کو ہم نیچے درج کئے ہیں۔

ان آیتوں کو پڑھ کر دیکھو۔اس کے ساتھ اس آیتوں کے حوالہ نمبر کے ذریعے اس کی تفصیل بھی پڑھوگے توتمہیں بہت کچھ سمجھ میںآجا ئے گا۔

* دوسرے سیاروں کے ذریعے زمین کو آنے والے خطروں کو روکنے کے لئے آسمان موجود ہے: 2:22، 21:32، 40:64، 52:5 (حاشیہ نمبر 288 ملاحظہ فرماےئے )۔ 

* زمین سے اوپر چڑھ کرجانے والوں کو واپس کر دینے کی خاصیت آسمان کو ہے: 86:11 ۔(حاشیہ نمبر 149 دیکھئے)۔

* انسان کے جسم ہی میں درد کو محسوس کر نے والی نسیں ہیں : 4:56۔ (حاشیہ نمبر 119دیکھئے)۔ 

* آسمانی فضائی سفر جب اختیار جا تا ہے توانسان کا دل سکڑ جا تا ہے: 6:125۔ (حاشیہ نمبر 172 دیکھئے)۔ 

* انسان زمین ہی میں جی سکتا ہے:2:36، 7:24,25۔ (حاشیہ نمبر175دیکھئے۔ )۔

* آسمان میں اڑنے والے پرندے زمین سے ٹکرا نہ جائے، اس کی وجہ ہے زمین کی کشش: 16:79، 67:19۔ (حاشیہ نمبر260دیکھئے)۔

* ایک انسان آسمانی فضا میں کتنا بھی دور چلا جائے، وہ زمین کے نیچے ایک پہاڑکی اونچائی تک بھی پہنچ نہیں سکتا:17:37۔ (حاشیہ نمبر 266 دیکھئے)۔ 

* یہ احساس دلانے کے لئے کہ دنیا گول ہے، ذوالقرنین کا سفر:18:90۔ (حاشیہ نمبر 274 دیکھئے)۔

* زمین کو جھولا بنانے کا معجزہ: 20:53، 43:10، 78:6۔ (حاشیہ نمبر 284 دیکھئے)۔

* بڑے دھماکے کے بعد ہی دنیا وجود میں میں آئی۔اس تحقیق کے بارے میں علمی معلومات: 21:30۔ (حاشیہ نمبر 287 دیکھئے)۔

* حمل میں پرورش پانے والا بچہ تین ماہ بعد ہی انسانی روپ دھار تاہے: 23:14۔ (حاشیہ نمبر 296 دیکھئے)۔ 

* زمین کے اندر کا پانی جمع کیا جاتا ہے، دیکھئے: 23:18 ۔ (حاشیہ نمبر 297 ملاحظہ کیجئے)۔

* دریا ایک سے ایک جڑے ہوئے رہنے کے باوجود ان کے درمیان رکاوٹ ہے۔ ان قرآنی آیتوں کو 25:53، 27:61،35;12، 55:19,20دیکھئے۔ (حاشیہ نمبر305 ملاحظہ کیجئے۔ 

* ہوا کی تیزی لگ بھگ کتنی ہوگی ، حیرت ہے کہ ا س کو بھی یہ حساب لگا کر کہتی ہے۔ آیت نمبر 34:12 (اور حاشیہ نمبر 325) کو ملاحظہ کیجئے۔

* یہ قرآنی آیتیں : 35:41، 13:2، 31:10، اور 22:65 کہتی ہیں کہ آسمانوں اورزمین کے درمیان کشش ہے۔ (حاشیہ نمبر 328 ملاحظہ کیجئے۔

* یہ کہنے کی وجہ سے کہ کئی مشرقیں اور کئی مغربیں ہیں ، ثابت ہوجا تی ہے زمین گول ہے۔اس کے لئے ان آیتو ں کو دیکھئے: 37:5،55:17، 70:40۔ (حاشیہ نمبر 335ملاحظہ ہو)

* بڑے دھماکے کے بعد ڈھیر سارے گردو غبار سے سیارے ظہور پذیر ہوئے۔آیت نمبر 41:11 (اور حاشیہ نمبر 353 ) کودیکھئے۔

* صرف انسانی ذات ہی نہیں بلکہ تمام جاندار زمین ہی سے اپنے وزن اٹھا لیتے ہیں۔ان آیتوں کو 6:98، 50:4، 71:7 (حاشیہ نمبر 167 )ملاحظہ فرمائیے۔

* آیت نمبر : 55:33-35 کہتی ہیں کہ آسمانی سفر ممکن ہے۔ (حاشیہ نمبر 304 ملاحظہ ہو)۔

* انگلیوں کی لکیریں انسان کی خاص نشانی ہے۔ آیت نمبر 75:4 (اور حاشیہ نمبر 208) میں ملاحظہ فرمائیے۔

* جان کے پیدا کرنے میں عورتوں کا بھی حصہ ہے۔دیکھئے آیت نمبر 76:2،(اور حاشیہ نمبر 207)۔

* شہد کی مکھیوں کے منہ سے شہد نہیں نکلتا۔شہد کی مکھیوں کے پیٹ ہی سے نکلتا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 16:69، (اور حاشیہ نمبر259)۔

* سمندر کے اوپر ہی نہیں بلکہ سمندر کی گہرائی میں بھی موجیں پیدا ہوتی ہیں۔دیکھئے آیت نمبر 24:40 ، (اور حاشیہ نمبر 303 اور 429)۔

* دوسری چیزوں کو قبول نہ کر نے والی رحم کی تھیلی صرف حمل ہی کو ایک مخصوص دنوں تک قبول کر لیتی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 13:8، (اورحاشیہ نمبر 144)۔

* جھوٹ بولنے والی نس دماغ کے سامنے کی حصہ میں ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 96:15، (اور حاشیہ نمبر 426)۔ 

* ہوا میں موجود آکسیجن کواگر ہٹا دیا جائے تو وہ تمام جانداروں کوہلاک کر دے گی۔دیکھئے آیت نمبر 51:41-42، (اور حاشیہ نمبر 366)۔ 

* یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ ہاتھوں کو پسلیوں کے ساتھ بھینچ لینا خوف کم کردیتاہے۔ دیکھئے آیت نمبر 28:32، (اور حاشیہ نمبر 367)۔

* یہ علمی حقیقت کہ منی کہاں سے نکلتی ہے، دیکھئے آیت نمبر 86:7، (اور حاشیہ نمبر 231)۔

 * آسمانی فضا میں بھی راستے ہیں۔ دیکھئے آیت نمبر 51:7، (اور حاشیہ نمبر 323)۔ 

* زمین کوکشش کی طاقت ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 13:2، 31:10، (اور حاشیہ نمبر 240)۔ 

* سورج اور سیارے دوڑ رہے ہیں۔دیکھئے آیت نمبر: 13:2، 31:29، 35:13، 36:38، 39:5، (اور حاشیہ نمبر 241۔ )

* چاند کے شق ہونے کے بارے میں اور اس کی نشانی چاند میں دکھائی دینے کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 54:1، (اور حاشیہ نمبر 422)۔

* آسمانی سرحدپھیلتے جا رہا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 51:47، (اور حاشیہ نمبر 421)۔

* صرف جاندار ہی میں نہیں، بلکہ ہر چیز میں جوڑی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 13:3، 20:53، 36:36، 43:12، 51:49، (اور حاشیہ نمبر 242)۔ 

* دنیا کی گرمی کی شدت سے برفیلے چٹان گھل کر سمندری سطح بلند ہو کر زمین سکڑ جا ئے گی۔ دیکھئے آیت نمبر 13:41، 21:44، (اور حاشیہ نمبر 243)۔ 

* آسمان میں بارش کس طرح پیدا ہو تا ہے، اس کے بارے میں آج کے سائنسدان کی تحقیق کو اسی انداز سے بیان کر نے کی حیرت انگیز بات۔ دیکھئے آیت نمبر 24:43، (اور حاشیہ نمبر 419)۔

* ایٹمی ہتھیارتیار کیا جاسکتا ہے۔دیکھئے آیت نمبر 105:1-5، 11:82، 15:74، 26:173، 27:58، 51:32، (اور حاشیہ نمبر 412)۔ 

* جمع کے صیغے میں’اندھیریاں‘ کہنے کے ذریعے اس کے اس شرح پر حیرت ہو تی ہے کہ رنگوں کو بھی لہر کی لمبائی ہے اور ہررنگ میں لہر کی لمبائی مختلف ہو تی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 2:17، 2:19، 2:257، 5:16، 6:1، 6:39، 6:59، 6:63، 6:97، 6:122، 13:16، 14:1، 14:5، 21:87، 24:40، 27:63، 33:43، 35:20، 39:6، 57:9، 65:11، (اور حاشیہ نمبر 429)۔ 

* چیزیں خراب نہ ہونے اور ان کی حفاظت کے لئے باریکئی فن کے بارے میں کھوج لگانے کے لئے ترغیب دلانا۔ دیکھئے آیت نمبر 2:259، (اور حاشیہ نمبر 406)۔ 

* چودہ صدیوں کے پہلے ہی کلوننگ کی ممکنات کے بارے میں کہہ کر تحقیقات کے لئے ترغیب دلایا گیا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 19:21، 19:29,30، 21:91، 23:50، (اور حاشیہ نمبر 415)۔

* اونٹ کی عجیب و غریب جسمانی ساخت کے بارے میں تفصیل۔ دیکھئے آیت نمبر 88:17، 36:41,42، (اور حاشیہ نمبر 399)۔ 

* لوہے کو اس زمین میں بنا یا نہیں گیا بلکہ آسمان سے اتارا گیا۔ دیکھئے آیت نمبر 57:25، (اور حاشیہ نمبر 423)۔ 

* بہت ہی تیزی کے ساتھ گردش کر نے والی زمین کو لرزش سے حفاظت کے لئے کھونٹے کی طرح پہاڑ یں موجود ہیں۔ دیکھئے آیت نمبر 15:19، 16:15، 21:31، 27:61، 31:10، 41:10، 50:7، 77:27، 78:7، 79:32، (اور حاشیہ نمبر 248)۔ 

* سائنسدانوں کی اس قول کو کہ زمین تشکیل پا نے کے بعد ہی پہاڑیں ظہور پذیر ہوئیں، اس کی تصدیق کر تی ہے۔دیکھئے آیت نمبر 41:9,10، (اور حاشیہ نمبر 248)۔ 

* نئے آلات اور دار التجربہ نہ ہو نے کے اس زمانے میں بھی دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے، اس کے بارے میں علمی صداقت۔ دیکھئے آیت نمبر 16:66، (اور حاشیہ نمبر 257)۔

* یہ علمی صداقت بھی کہ انسان کو اٹھا کر لے جانے کی حد تک بڑے پرندے بھی دنیا میں موجود تھیں۔ دیکھئے آیت نمبر 22:31، (اور حاشیہ نمبر 416)۔ 

* یہ نفسیاتی نکتہ کہ غم میں مبتلا لوگوں کو غلط خبروں سے اس سے بڑا صدمہ اگر پہنچا دیا جائے تو ان کا وہ غم غائب ہو جائے گا ۔دیکھئے آیت نمبر 3:153، (اور حاشیہ نمبر 102)۔ 

* شجرۂ نسب پشت در پشت چلتی آئے گی۔دیکھئے آیت نمبر 7:172، (اور حاشیہ نمبر 189)۔ 

* گذشتہ صدی میں دریافت کی گئی نظر اضافیت (relativity)کی جانبدارانہ اصول ۔ دیکھئے آیت نمبر 22:47، 32:5، (اور حاشیہ نمبر 293)۔ 

* انسان بندر سے پیدا نہیں کیا گیا۔ دیکھئے آیت نمبر 3:59، 4:1، 6:2، 6:98، 7:189، 15:26، 15:28، 22:5، 23:12، 30:20، 32:7، 35:11، 37:11، 38:71، 39:6، 40:67، 49:13، 55:14، (اور حاشیہ نمبر 368)۔

* انسانوں کے ناک ہی ٹھیک سے پتہ دیتا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 68:16، (اور حاشیہ نمبر 371)۔

* سنبہ نہ ہو نے کے زمانے ہی میں قرآن نے کہا ہے کہ زمین تہ در تہ کی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 65:12، (اور حاشیہ نمبر 425)۔

* پانی کے اندر زچکی ہو نا ماں اور بچے کے لئے بہترہے۔ دیکھئے آیت نمبر 19:24، (اور حاشیہ نمبر 436)۔ 

* بچے کی جنس کا فیصلہ مردوں کے خلیات ہی کر تے ہیں۔ دیکھئے آیت نمبر 75:39، (اور حاشیہ نمبر 437)۔ 

* دل کی کشیدگی کو دور کرنے والا علاج اس زمانے ہی میں کہہ دیا تھا۔ دیکھئے آیت نمبر 13:28، (اور حاشیہ نمبر 477)۔ 

* شہد کی مکھیوں کا راستہ جاننے کی صلاحیت۔ دیکھئے آیت نمبر 16:68، (اور حاشیہ نمبر 474)۔ 

* لرزشوں کو جاننے کی صلاحیت چیونٹیوں کو ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 27:18، (اور حاشیہ نمبر 470)۔ 

* روزے کی نیکیاں۔ دیکھئے آیت نمبر 2:184، (اور حاشیہ نمبر 475)۔ 

* ماں کا دودھ پلانے کی نیکی۔ دیکھئے آیت نمبر 2:233، (اور حاشیہ نمبر 478)۔

* اس سے پہلے یحیےٰ نامی کوئی شخص نہیں تھا، اس اعلان کے ذریعے یہ ثابت ہو تا ہے یہ کلام الہٰی ہی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 19:7، (اور حاشیہ نمبر 467)۔ 

پیشنگوئیاں 

* پیشنگوئی کی گئی ہے کہ کعبہ کی عبادت گاہ زمانہ زمانہ تک قائم رہے گی۔ دیکھئے آیت نمبر 2:125، 3:97، 5:97، 14:35، 28:57، 29:67، 95:3، 105:1-5، 106:3,4، (اور حاشیہ نمبر 34)۔

* یہ پیشنگوئی کہ مکہ والے بالکل خوشحال زندگی پائیں گے۔دیکھئے آیت نمبر 9:28، (اور حاشیہ نمبر 410)۔ 

*نبی کریم ؐ لوگوں سے مل جل کر رہنے کے باوجود یہ اعلان کیا گیا کہ انہیں کوئی انسان قتل نہیں کر سکتا۔ دیکھئے آیت نمبر 5:67، (اور حاشیہ نمبر 145)۔ 

* صرف گھوڑے اور اونٹ کی سواری جاننے والے لوگوں کے زمانے ہی میں یہ پیشنگوئی کر دی گئی تھی کہ مستقبل میں نئی نئی سواریاں ایجاد ہوں گی۔دیکھئے آیت نمبر 16:8، (اور حاشیہ نمبر 253)۔ 

* مکہ میں مسلمان جب مارے پیٹے جارہے تھے ، اسی زمانے میں یہ پیشنگوئی کی گئی کہ عنقریب اسلامی حکومت قائم ہوگا۔ دیکھئے آیت نمبر 73:20، (اور حاشیہ نمبر 118)۔

* اس زمانے میں جب کہ مسلمان بہت ہی اقلیت میں تھے تو انہیں پیشنگوئی کی گئی تھی کہ دشمنان رسولؐ ناکام کر دئے جائیں گے۔ دیکھئے آیت نمبر 17:76، 54:45، (اور حاشیہ نمبر 268)۔

* نبی کریم ؐ کے زمانے میں فارسیوں کے ذریعے روم کی سلطنت ناکام ہو کر فنا کردئے گئے تھے۔اور ایسی حالت میں کہ تصور بھی نہ کر سکے،یہ پیشنگوئی کی گئی کہ تھی چند سالوں میں روم ، فارسیوں پر فتح پاجا ئیں گے۔دیکھئے آیت نمبر 30:2,3,4، (اور حاشیہ نمبر 313)۔ 

* نبی کریم ؐ نے جان سے ڈر کر مکہ سے نکلے اور جب وہ مہاجر کی حالت میں تھے تو اس وقت یہ پیشنگوئی کی گئی تھی کہ وہ لوگ مکہ پر فتح پائیں گے۔ دیکھئے آیت نمبر 28:85، (اور حاشیہ نمبر 311)۔ 

* مکہ ایک صحرا رہنے کے باوجود یہ پیشنگوئی کی گئی تھی کہ دنیا کے کئی حصوں سے پھل آ پہنچیں گے۔ دیکھئے آیت نمبر 14:37، 28:57، (اور حاشیہ نمبر246)۔

* یہ پیشنگوئی کی گئی کہ ایک پہاڑی غار میں صحیفے پوری طرح سے حفاظت کیا گیا ہے۔دیکھئے آیت نمبر 18:9، (اور حاشیہ نمبر 271)۔

* یہ بھی پیشنگوئی کی گئی کہ محمد نبی کے چاچا ابو لہب اسلام قبول نہیں کر ے گا۔ دیکھئے آیت نمبر 111:1-2، (اور حاشیہ نمبر 356)۔

* کئی ہزار وں سال پہلے ایک بہت بڑا سیلاب آیا، جس میں نوح نبی جہاز میں بچالئے گئے۔ یہ پیشنگوئی کہ ان کا وہ جہاز ایک پہاڑ پر حفاظت کیا گیا ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 11:44، 29:15، 54:15، (اور حاشیہ نمبر 222)۔

* یہ پیشنگوئی کہ مدینے میں حکمرانی کر نے والے منافق بہت جلد نکالے جائیں گے۔ دیکھئے آیت نمبر 33:60، (اور حاشیہ نمبر 185)۔ 

* یہ پیشنگوئی کہ قرآن حکیم آخر زمانے تک حفاظت کیا جائے گا۔ دیکھئے آیت نمبر 15:9، (اور حاشیہ نمبر 143)۔ 

* کئی ہزار سالوں سے بغیر خشک ہوئے تقسیم کر نے والا ضم ضم کا کنواں۔دیکھئے آیت نمبر 3:97، (اور حاشیہ نمبر 438)۔

* اس پیشنگوئی کے مطابق کہ غربت میں مبتلا مکہ والے دولتمند ہو جائیں گے ، اسی طرح وہ لوگ اب خوشحال ہیں۔ دیکھئے آیت نمبر 9:28، (اور حاشیہ نمبر 410)۔ 

منطقی دلائل

* للکارا گیا ہے کہ اس قرآن کی طرح کوئی بھی شخص تصنیف نہیں کر سکتا۔دیکھئے آیت نمبر 2:23,24، 10:38، 11:13، 17:88، 28:49، 52:34، (اور حاشیہ نمبر 7)۔ 

* للکارا گیا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی اختلاف دکھا نہیں سکتے۔دیکھئے آیت نمبر 4:82، 41:42، (اور حاشیہ نمبر 123)۔

* گذری ہوئی کتابوں میں سے مذہبی پیشوا جن چیزوں کو چھپا یا تھا اس کو پڑھنا لکھنا نہ جانے ہوئے نبی کریم ؐ نے قرآن کے ذریعے ظاہر کردیا۔دیکھئے آیت نمبر 3:93، 7:157، 48:29، (اور حاشیہ نمبر 97)۔ 

* حکم الہٰی حاصل کر نے کے لئے غیر مذہبوں کو للکارنے والے نبی کریم ؐ کی روحانی طاقت۔ دیکھئے آیت نمبر 3:61، (اور حاشیہ نمبر 94)۔ 

* فرمایا گیا کہ اللہ کے اختیارات میں نبی کریم ؐ کو کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کہنے کے ذریعے منطقی طور پر ثابت کر دیا گیا کہ قرآن حکیم نبی کریم ؐ کی تصنیف نہیں ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 3:128، (اور حاشیہ نمبر 100)۔ 

* ایک نابیناکو نظر انداز کر نے کی وجہ سے نبی کریم ؐ پر سختی سے سرزنش کر نے والی آیتیں نازل ہوئیں، انہوں نے اس کو بھی پڑھ کر سنانے کی وجہ سے یہ منطقی طور پر ثابت ہو جا تا ہے کہ قرآن نبی کریم ؐ کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ دیکھئے آیت 80:1-8، (اور حاشیہ نمبر 168)۔

* نبی کریم ؐ نے اپنی پاکیزہ زندگی کو اپنے پر اعتمادکی دلیل بناکر یہ ثابت کر دیا کہ ان پر جو نازل ہوئی ہے وہ حق ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 10:16، (اور حاشیہ نمبر212)۔ 

* جب نبی کریمؐ کے دشمنوں نے انہیں پاگل کہا تو انہوں نے للکارا اور یہ کہہ کرانہیں پسپا کرد یا کہ جو چاہے مجھے آزما سکتے ہیں۔ دیکھئے آیت نمبر 7:184، 15:6، 23:70، 34:8، 34:46، 37:36، 44:14، 52:29، 68:2، 68:51، 81:22، (اور حاشیہ نمبر 468)۔ 

* نبی کریم ؐ کی بیوی پر عیب لگانے والے شخص پر انسانی تقاضے جب روک دیا گیا تو ا سکو قرآن نے سرزنش کر نیکے ذریعے منطقی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ یہ قرآن نبی کریم ؐ کا قیاس نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی کاکلام ہے۔ دیکھئے آیت 24:22، (اور حاشیہ 364)۔

ایسی کئی آیتیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ یہ نبی کریم ؐ کا تصور نہیں ہے بلکہ ان کے خالق ہی کا کلام ہے۔ 

More Articles …

Page 1 of 5