Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏369۔ قضا نماز

‏اس آیت 19:60 میں جس نے نماز چھوڑی اس کے کفارہ کے بارے میں کہا گیا ہے ۔ 

کئی سالوں سے اور کئی مہینوں سے جس نے نماز چھوڑا وہ اچانک اصلاح پانے کی خواہش کریں گے۔تو کیا وہ سالوں سے جو چھوٹ گئی ان نمازوں کو ادا ‏کر نا ضروری ہے؟ یا وہ دوسرا کیا کریں؟ 

نماز کو جنہوں نے چھوڑا وہ اصلاح پا کر توبہ کرلیں اور آئندہ ٹھیک سے ادا کرتے آئیں، وہی کافی ہے۔اس آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جنت میں ‏داخل ہوں گے۔یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو نماز چھوٹ گئی اس کو قضا کر نا چاہئے۔ نبی کریم ؐ بھی ایسا کوئی حکم دیا نہیں۔ 

اس لئے وہ توبہ کریں اور آئندہ ٹھیک سے چلیں، وہی کافی ہے۔ 

اگر کوئی بیس سال سے نماز نہیں پڑھا،ان بیس سالوں کی نمازوں کو کسی سند کے بغیر ادا کر نے کو کہا جائے تو وہ منہ پھیر کر واپس چلا جانے کو ہم نے ‏دیکھا ہے۔ اس لئے دین میں جو نہیں ہے ایسے فیصلوں کو نہ سنائیں تو اصلاح پانے کی خواہشمندوں کو آسانی ہوگی۔ 

قضا نماز اسلام میں نہیں ہے، اس کو مناسب دلیلوں کے ساتھ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 479دیکھیں!  

‏368۔ انسان بندر سے پیدا نہیں ہوا

‏یہ آیتیں 2:21 ،3:59، 4:1، 5:18، 6:2، 6:98، 7:189، 15:26، 15:28، 16:4، 18:37، 18:51، 19:67، ‏‏21:37، 22:5، 23:12، 25:54، 30:20، 32:7، 35:11، 36:77، 37:11، 38:71، 39:6، 40:57، ‏‏40:67، 49:13، 50:16، 51:56، 53:45، 55:3، 55:14، 70:19، 76:2، 86:5، 87:2، 90:4، 92:3، ‏‏95:4، 96:1 کہتی ہیں کہ انسان ارتقائی نشونما کے ذریعے تبدیل نہیں پایا۔ وہ براہ راست اللہ سے پیدا کیا گیاہے۔ 

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ پہلا انسان مٹی سے پیدا کیا گیا اور دوسرے لوگ منی کے قطرے سے پیدا کئے گئے۔

کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ منی کے قطرے سے انسانی نسل بڑھتی جا رہی ہے۔

لیکن اللہ کا انکار کر نے والوں کا کہنا ہے کہ انسان کی ابتدائی نمود ارتقائی نشو نما کے ذریعے ہوئی ہے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خلیہ کئی ارتقائی منزل سے گزرتے ہوئے بندر بنا۔ اس کے بعد ہی انسان کی ارتقاء ہوئی ۔ وہ اس لئے ایسا دعویٰ کر رہے ہیں ‏کہ اگر مان لیں کہ انسان پیدا ہوا تو اللہ کے انکار کا عقیدہ مٹ جائے گا۔ 

لیکن اس ایک خلیہ کی جان کیسے پیدا ہوئی؟ ا س سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ 

انسان بندر سے پیدا ہوا ، یہ فلسفہ اللہ کے انکار کے لئے مددگار ثابت ہو نے کی وجہ ہی سے اس کو بعض لوگ قابل تعریف سمجھتے ہیں ، اس کے علاوہ وہ ‏سائنسی لحاظ سے ثابت کی ہوئی حقیقت نہیں ہے۔ وہ صرف ایک قیاس ہے۔ 

ڈارونوں کا عقیدہ ہے کہ بعض جاندار زمانے کے دوران ایک اور جاندار میں تبدیل ہو تی گئی۔ کئی کروڑوں سال کے بعد بندر کی ذات میں تبدیل ‏ہوئیں۔اس کے اور کئی کروڑوں سال کے بعدبندر نشو نما پا کر انسانی شکل اختیار کی۔ 

کسی بندر کوانسانی شکل میں تبدیل ہو تے ہوئے دیکھ کرکیا کوئی ڈارونسٹ نے اس طرح فیصلہ کیا تو ہرگز نہیں۔

بندر اور انسان کے درمیان شکل میں چند متشابہت پائے جانے کی وجہ سے ڈارونسٹ اس قیاس کواپنایاہوگا۔ 

اس قیاس کو سچ کر دکھانے کے لئے انسان کی ارتقائی منزل کو دکھانے کی تصویریں شائع کر کے اسی کو ارتقائی نشو نما کو دلیل بنا کر پیش کر تے ہیں۔ یہ ‏تمام خیالی تصویریں ہیں۔ یہ ارتقائی عقیدے کو دلیل نہیں ہو سکتا۔

سائنسی علم کم ہو نے کے زمانے میں رہنے والے اگر اس کو مانیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔ آج کے سائنسی دینا میں اس کو ماننا ہی حیرت کی بات ‏ہے۔ 

شکل کے اعتبار سے بندر انسان سے مشابہت رکھ سکتا ہے،لیکن اندرونی ساخت میں انسان بندر سے مختلف ہے۔ 

ایک انسان کے خون کو دوسرے ایک انسان کو چلانے کے زمانے میں ہم جی رہے ہیں۔ 

سائنسدانوں نے تحقیق کی کہ انسانی خون جب مہیا نہیں ہوتاتو دوسرے جانداروں کا خون کیا انسانوں کوچلا سکتے ہیں؟ صرف بندر ہی نہیں بلکہ کسی ‏بھی جانوروں کا خون انسان کے خون سے ملتا نہیں۔ لیکن صرف خنزیرکا خون ہی انسان کے خون سے زیادہ تر میل کھاتاہے۔ 

شاید آئندہ زمانے میں سائنسدان اگر فیصلہ بھی کر یں کہ انسان کو خنزیر کا خون چلا بھی سکتے ہیں اورچلا نہیں بھی سکتے ہیں ، کسی بھی جانداروں کے ‏خون سے زیادہ خنزیر کا خون ہی انسانی خون سے میل رکھتا ہے۔ 

اگر انسان بندر سے ارتقاء پایا ہوتا توبندر کاخون ہی انسان کے خون سے قریب ہونا چاہئے تھا۔ بیل بکری جیسے جانور وں کا خون جس حد تک انسانی ‏خون سے الگ ہے اسی حد تک بند ر کا خون بھی انسانی خون سے الگ ہے۔ 

یہ انکشاف ناقابل انکارکے لئے ایک سند ہے کہ بندر سے انسان پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ فیصلہ کر نے کے بجائے کہ انسان ‏کس سے پیدا ہوا ، یہی بہتر ہے۔کیونکہ یہی عقلمندی ہے۔ 

آج بھی باپ کی شکل میں اگربیٹا ظاہر ہو تو ڈی۔این۔اے۔ کے معائنہ کے ذریعے ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہی اس کا باپ ہے۔ شکل کو حساب میں ‏لیا نہیں جاتا۔ 

ڈارون کے زمانے میں خون کے ذروں کو تقسیم کر نے کی فراست نہ رہنے کی وجہ سے اس کے قیاس کو معاف کر سکتے ہیں۔ علمی شعور بڑھے ہوئے ‏اس زمانے میں بھی اس پر قائم رہنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ 

دل کی آپریشن میں آج انسان بہت ترقی کرچکا ہے۔ اگر دل کام نہیں کر تا تو اس کے بدلے میں مصنوعی دل کو لگا نے کے حد تک ترقی کر چکا ہے۔ 

سائنسدانوں نے تفتیش کی کہ کیا دوسرے جانوروں کا دل انسان کو لگا سکتے ہیں؟ اگر لگا یا جا سکتا تو کئی دل کے مریضوں کو ایک دوسرا جنم مل سکتا ‏ہے۔ 

ہر جانوروں کے دلوں کو جب تفتیش کیا گیاتومعلوم کیا گیا کہ بندراور کسی بھی جانور کا دل انسانی جسم کے ساتھ موزوں نہیں ہوا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انکشاف کیا گیا ہے، خنزیر کا دل ہی انسان کے دل کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ خنزیر کا دل انسان کے جسم میں میل کھانے کے ‏باوجود ، وہ ممکن نہیں ہے،مگر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دوسرے جانوروں کے دل سے زیادہ خنزیر کا دل ہی انسانی دل کے قریب ہے۔

اگر کہنا ہو کہ انسان اگر کسی جانور سے ارتقاء پایا ہے تو یہی کہنامناسب ہو گا کہ وہ خنزیر سے ارتقاء پایا ہے۔ ڈارون کی بتائی ہوئی جسمانی ساخت سے ‏زیادہ اندرونی اعضاء کا تناسب کو بنیاد بنانا ہی علمی شعور کے مطابق ہوگا۔ 

آج کا انسان خلیہ کی آزمائش میں بھی ترقی پاگیا۔ جین کی راز کو جان لیاہے۔ 

بندر کی جین اور انسان کی جین کو آزما کر دیکھو، اگر وہ دونوں کم و بیش ایک ہی مشابہت سے ہوں یاثابت کیا گیا ہو کہ دوسرے کسی جانورکی جین ‏انسان کی جین سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو ڈارون کے فلسفہ کو ایک حد تک تو مان سکتے ہیں۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 

جین کی تفتیش کے بعد انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ساری نسل ہی ایک افریقی ماں باپ سے نمودار ہوئی ہے۔

ڈارون نے ایسا نہیں کہا کہ ایک ہی بندر کی جوڑی سے انسان ارتقا ء پا کر اس میں سے انسانی نسل بڑھتے ہوئے آئی ہے۔ ڈارون کا فلسفہ ہے کہ ایک ‏مخصوص زمانے میں ایک مخصوص گنتی کے بندر ہی انسان میں ارتقاء پائی ہے۔یہ انکشاف ہو نے کے بعد سارے انسان ایک ہی افریقی ماں کی نسل ‏ہیں تو ڈارون کا وہ عقیدہ چکنا چور ہوگیا۔ 

انسان ایک ماں باپ کے ذریعے ہی پیدا ہوا، یہی حقیقت دنیوی بھائی بندی کو اجاگر کر سکتی ہے اور قوم، نسل اور رنگ کے نام سے اونچ نیچ وغیرہ کو ‏روک سکتی ہے۔ 

ڈارون کے فلسفہ کو تھامنا انسانی نسل کے لئے ضرر پہنچا سکتی ہے۔ 

میراپہلا باپ اور تمہارا پہلاباپ الگ الگ ہیں، یہ کہہ کر آج کے اس ذات پات کے اختلاف کو روا رکھ سکتے ہیں۔ 

اس سے زیادہ ایک اہم بات بھی ہے۔ انسان اپنی جسمانی ساخت سے بڑائی حاصل نہیں کی بلکہ عقل و تمیز کے ذریعے ہی حاصل کیا ہے۔ 

جسمانی نشونما اور جسمانی تبدیلی ہی کے لئے ڈارون وجہ بتاتا ہے۔ عقل و فہم سے عاری جاندار عقل و فہم سے تبدیل ہو نے کا ماحول اور مجبوری کون ‏سی ہے، وہ اس کو نہیں کہہ سکا۔ 

ڈارونسٹ کہتے ہیں کہ ابتدا میں زرافہ کی گردن بہت چھوٹی تھی۔ اس کی غذا اونچی مقام پرتھی، اس کو کھانے کے لئے گردن کواونچا کر نا پڑتا تھا، ایسے ‏ہی اونچا کرتے کرتے کئی کروڑوں سال کے بعد بہت لمبی ہوگئی جیسا اب دیکھ رہے ہیں۔ 

دنیا میں جینے کے لئے لمبی گردن کی ضرورت پر زرافہ کی گردن لمبی ہوگئی ، چلئے،ایک بات کے لئے مان لیتے ہیں۔لیکن زندہ رہنے کے لئے عقل و ‏فہم کی ضرورت کسی بھی زمانے میں نہیں رہی۔ زندہ رہنے کے لئے عقل و فہم کی ضرورت نہیں۔ 

کیا یہ زبردستی کسی زمانے میں تھی کہ عقل نہ رکھنے والی جاندار زندہ نہیں رہ سکتی؟ عقل نہ رکھنے والی جاندار عقل والی جاندار بننے کے لئے کسی بھی ‏زمانے میں کوئی زبردستی نہیں تھی۔ 

جب زندہ رہنے کے لئے عقل کی ضروری نہیں تو ارتقائی نشونما کے ذریعے جسم بدل سکتاہے ، مگر عقل و فہم نہیں آسکتی۔ 

زرافہ کی گردن لمبی ہونے کو جو وجہ ڈارون نے بتائی ہے اس کو ہم مان نہیں سکتے۔ ہاتھی کی سونڈ کیوں لمبی ہوگئی؟ کنگرو کے پیٹ میں تھیلی کیوں ‏آئی؟ کیا وہ کہیں گے کہ ہاتھی اپنی ناک کو لمبا کر نے سے وہ سونڈ بن گئی؟ 

ارتقائی نشونما سے کئی کروڑوں سال کے بعد اگر بندر انسان بنا تو وہ نشونما اب کیوں رک گئی؟

ہر دن چند بندر دنیا کے کسی حصہ میں انسان میں تبدیل ہوتے رہنا چاہئے؟ یا ہر روز چند بندریہ انسانی بچے کو جنم دینا چاہئے۔

وہ سلسلہ کیوں نہیں بڑھا؟ اس کا جواب بھی ڈارونسٹ کے پاس نہیں ہے۔

بندر سے انسان اگر ارتقاء پایا ہوتو بندر بننے سے پہلے وہ ایک نسل ہو نا چاہئے تھا۔ اس کو اور انسان کے درمیان ایک دو فرق تو ہونا چاہئے۔ اب کے ‏بندر اور انسان کے درمیان ہزاروں درمیانی نسلیں ہونی چاہئے تھیں۔ اسی وقت ارتقاء کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ 

اب کے بندر اور انسان کے درمیان ہزاروں فرق جو ہیں وہی ارتقائی نشونما کے ذریعے انسان پیدا نہیں ہوا کے لئے ایک اور دلیل ہے۔ 

انسان نشو نما پا کر کیوں ایک اور اونچے مقام کو حاصل نہیں کیا؟ اس کا بھی جواب نہیں ہے۔

انسان کا خون، دل، جگر اورگردہ وغیرہ کی اندرونی بناوٹ اور جین یہ ثابت کر تی ہیں کہ انسان ایک الگ نسل ہے، کسی دوسری نسل سے وہ نشو نما پایا ‏ہوا نہیں ہوسکتا۔ 

پیدائشی طور پر سب برابر ہیں۔ چال چلن ہی سے وہ ایک دوسرے سے بڑھ سکتا ہے اور اسلام کی بتائی ہوئی مساوات اور بھائی بندی کو جاننے کے ‏لئے ان 11، 32، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 508 حاشیوں کو دیکھئے!  

‏367۔ ڈرنے سے نجات کا راستہ

‏ان آیتوں 28:31,32 میں کہا گیاہے کہ عصا کو سانپ بنانا، ہاتھ سے روشنی کا نکلنا، ڈر کے وقت دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر ڈر سے نجات پانا ‏وغیرہ معجزات کو موسیٰ نبی کو عطا کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں معجزے ہیں۔ تین معجزے کہنے کے بعد کیوں دو معجزے کہا گیا ہے؟اس طرح کہنے میں ایک عظیم ‏نفسیاتی علم موجود ہے۔ 

اس آیت میں تین چیزیں کہی گئی ہیں۔ اس میں دو چیزیں ہی موسیٰ نبی کو عطاہو نے والے معجزے ہیں۔ ڈر لگتے وقت ہاتھوں کو سمیٹ لینا چاہئے، یہ ‏معجزہ صرف موسیٰ نبی ہی کو نہیں عطا ہوئی۔ یہ سب کے لئے عام ہے۔ اسی لئے اس کو کہتے وقت گنتی میں دو معجزے کہا گیا ہے۔ 

ڈر لگتے وقت دل تیزی کے ساتھ دھڑکے گا۔اضطرابی حالت زیادہ ہوگی۔ اس سے بچنے کے لئے سینے کو تانے بغیر پرندوں کی طرح سمیٹ کر ڈھیلا ‏چھوڑدیں تو اس سے دل کو زیادہ جگہ ملتا ہے۔ بغیر دباؤ کے وہ کام کر ے گا۔ اضطراب کم ہوگا اور ڈر دور ہوجائے گا۔

وہی نہیں بلکہ ہاتھوں کو سمیٹ لینے سے ایسا محسوس ہو گا کہ کوئی ہمیں دبوچ لیا ہے، اس سے وہ ہمیں عام حالت کی طرف لے آئے گی۔ 

یہ آیت اسی عظیم سچائی کو کہتی ہے۔   

‏366۔ بانجھ ہوا

‏ان آیتوں 51:41,42 میں کہا گیا ہے کہ بانجھ ہوا کے ذریعے ایک قوم کو مٹایا۔ ہم خیال کر سکتے ہیں کہ ہوا میں کیسے بانجھ ہوسکتا ہے۔ 

ہوا اگر انسان کو فائدہ مند ہو نا ہو تو اس میں آکسیجن ہو نا ضروری ہے۔ہوا میں جو آکسیجن ہے اگر اس کو ہوا سے جدا کر دیا جائے تو ہوا رہنے کے باوجود ‏انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی کو یہ آیت بانجھ ہوا کہتی ہے۔ 

عصر حاضر میں بعض ایٹم بم انکشاف ہوئے ہیں۔اس کو ایک حصہ میں پھینکا گیا تو وہاں کا جو آکسیجن ہے اس کو مٹادیتا ہے۔ تو اس حصے کے جاندار مرجا ‏تے ہیں۔ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس جیسے ہوا ہی کو اللہ نے بانجھ ہوا کہہ کر بھیجا ہوگا۔   

‏365۔ رحموں میں حمل کا بیضہ

‏ان آیتوں میں 22:5، 23:14، 40:67، 75:38، 96:2 انسان کی ابتدائی حالت کو کہتے وقت علق اور علقۃ کاا لفاظ استعمال کیا گیا ہے۔اس ‏لفظ کے کئی معنی ہیں۔

اس کا معنا ہو تاہے کہ خون کا لوتھڑا ، لٹکے ہوئے حالت اور ایک سے ایک شامل ہونا۔

اس جگہ میں خون کا لوتھڑا کہہ نہیں سکتے۔ حمل میں خون کے لوتھڑے کا ایک حالت نہیں ہوتی۔ لٹکا ہوا حالت بھی معنی نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ‏انسان کی اصل کے مطابق وہ ایک چیز ہی ہوسکتی ہے، لٹکنے کی حالت ایک چیز نہیں ہے۔ 

انسان کی تخلیق کے بارے میں اللہ نے جب ترتیب وارکہتا ہے تو پہلے نظفے کی اصل کاذکر کر تا ہے، اس کے بعد علقۃ کی اصل کا ذکر کر تا ہے۔ 

نطفہ مردوں کی منی میں رہنے والے خلیہ ہیں۔انسان کی تخلیق کے لئے صرف مرد کا خلیہ کافی نہیں ہے۔ عورت کے حمل کے بیضہ کے ساتھ مرد ‏کے خلیہ بھی شامل ہو تو ہی حمل ٹہرتا ہے۔ 

مرد کا خلیہ اور عورت کا حمل کا بیضہ ملا ہوا مرکب ہی دوسرا اصل ہے۔ 

اس لحاظ سے ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن میں کہا ہوا علق اسی کی طرف اشارہ کر تا ہے۔ مزید یہ کہ علق کے لفظ کوکئی معنی رہنے کے باوجود ‏ایک کے ساتھ ایک جڑنے کے معنی ہی میں کئی جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

مرد کا خلیہ عورت کے حمل کے بیضہ کے ساتھ ایک سے ایک جڑجانے کی وجہ سے اس کو ذکر کرنے کے لئے اس سے مناسب لفظ دوسرا ہو نہیں ‏سکتا۔ 

اسی لئے علق کا لفظ جگہ پانے والے ہر مقام میں حمل کا بیضہ کہہ کر ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کا سیدھا معنی ہے دو چیزیں ایک سے ایک ملناہے۔ اس کا ‏مطلب ہی رحموں میں حمل کا بیضہ۔

‏364۔ عیب لگانے والوں پر بھی مہربانی

‏نبی کریم ؐ کو بہت ہی متاثر کر نے والا واقعہ ان کی بیوی عائشہؓ پر عیب لگانے کا واقعہ ہی ہے۔

اس طرح تہمت لگانے والوں میں مستاح نامی ایک شخص کا اہم کردار ہے۔ ان کو عائشہؓ کے والد ابوبکرؓ ہی مدد کیا کرتے تھے۔ 

عائشہؓ کے خلاف جو کہا گیا تھا وہ تہمت ہی تھا، اس کو اچھی طرح سے جاننے کے بعد ابوبکرؓ نے اللہ پر قسم کھا کر کہنے لگے کہ میں اب مستاح کو کسی قسم ‏کی مدد نہیں کروں گا۔ اپنی بیٹی پر عیب لگانے والے کو مدد کر نے کے لئے ان کا دل نہیں مانا۔ (دیکھئے بخاری: 2661، 4141، 4750، ‏‏6679)

لیکن اس آیت 24:22 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کی بیوی عائشہؓ پرتہمت لگانے والے کو جو مددکیا جاتا تھا اس کو مت روکو۔ اللہ کے نام پر قسم ‏کھانے کے باوجود اس پر عمل نہ کر نے کو کہا گیا ہے۔ 

اگر یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا اور نبی کریم ؐ کا خود کا بنایا ہوا ہوتا تو اپنی بیوی پر تہمت لگا کر ، کئی دنوں تک سکون کو برباد کر کے، دلی اضطراب میں مبتلا کر نے ‏والے ایک شخص کوجومدد کیا جاتا تھا اس کو جاری رکھنے کے لئے ایک آیت کو قیاس نہیں کر سکتے تھے۔ کم از کم ابوبکر نے جو قسم کھائی تھی کہ میں ‏مستاح کو مدد نہیں کروں گا ، نظر انداز کردئے ہوں گے۔ 

قرآن مجید بے شک اللہ ہی کا کلام ہو سکتا ہے، اس کے لئے یہ آیت بھی دعوے کے طور پر دلیل ثابت ہو تی ہے۔   

‏363 ۔کیا عورتوں کو چھونے سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔

‏اس آیت 5:6 میں کہا گیا ہے کہ عورتوں کو چھونے کے بعدپانی نہ ملے تو تیمم کرلیں۔ 

عورتوں کو چھونے کا مطلب ہاتھ لگانا بھی ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی ہے۔ اس لئے علماؤں کے درمیان یہ اختلاف رائے پائی جاتی ہے کہ اس ‏جگہ پر کیا معنی لیاجائے۔ 

چھونے کے معنی لینے والے علماء یہ قانون بنائے ہیں کہ عورت مرد کو چھوئے یا مرد عورت کو چھوئے تو وضو ٹوٹ جائے گا، پھر سے وضو کر نا پڑے ‏گا۔ یہ غلط ہے۔ 

اس آیت میں چھونے کا مطلب صحبت کر نے کے معنی ہی سے استعمال ہو اہے۔ کیونکہ نبی کریمؐ نے وضو کی حالت میں اپنی بیوی کو چھوئے ہیں۔ اس ‏کے لئے پھر سے وضو نہیں کئے۔ 

عائشہؓ نے کہاکہ نبی کریم ؐ نماز پڑھتے وقت میں آڑے سوتی تھی۔جب وہ سجدہ کرتے تو میرے پاؤں کواپنی انگلی سے چھوتے تھے۔ میں فوراً میرے ‏پاؤں کو کھینچ لیتی تھی۔ وہ سجدہ سے اٹھتے ہی میں پھر سے پاؤں پھیلا لیتی تھی۔ اس زمانے میں چراغ نہیں ہوتا تھا۔ 

بخاری: 513، 519، 1209

اگر عورتوں کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا تو نماز پڑھتے وقت نبی کریم ؐ اپنی بیوی کی پاؤں کو چھوتے نہیں تھے۔

عائشہؓ نے کہا کہ ایک رات نبی کریمؐ دکھائی نہیں دئے۔ میں اندھیرے میں ٹٹولا تو وہ سجدے میں تھے اور ان کے پاؤں پرمیرا ہاتھ لگا۔

مسلم: 839

اگر اس آیت کا مطلب چھونا ہی ہے تو اس طرح عمل ہو جانے کے بعد نبی کریم ؐ نماز توڑ کر پھر سے وضو کر کے نماز پڑھے ہوتے۔ 

اس لئے اس آیت میں چھونے کا مطلب صحبت ہی کے معنی سے استعمال ہوا ہے۔ اس کو ان حدیثوں کو دلیل بنا کر فیصلہ کرنا ہی ٹھیک ہوگا۔   

‏362۔ معراج کے بارے میں قرآن مجید

‏نبی کریم ؐ ایک رات میں آسمانی دنیا جا کر واپس آئے۔ اس کو معراج کا سفر کہا جاتا ہے۔ اس کے متعلق کئی حدیثیں موجود ہیں۔ 

لیکن اس 17:1آیت میں کہا گیا ہے کہ مکہ سے یروشیلم تک نبی کریم ؐ کو ایک رات میں لے جایا گیا۔ انہیں وہاں سے آسمانی دنیا کو لے جانے کے ‏بارے میں نہیں کہا گیا ۔ اس لئے بعض لوگ حجت کر رہے ہیں کہ معراج کے سفر کو ماننا قرآن کے خلاف ہے۔

یہ غلط رائے ہے، اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 263میں واضح کی ہے۔

یہ آیتیں 53:5-18معراج کی سفر کے بارے میں تصدیق کر تی ہیں۔ 

جبرئیل ؑ نامی فرشتے کونبی کریم ؐنے پہلی بار جہاں ملے تھے اس کے متعلق یہ آیتیں 53:5-12کہتی ہیں۔ نبی کریم ؐ کو پہلا پیغام جب جبرئیل لائے ‏تھے ، ان سے نبی کریم ؐ کی ملاقات کو یہ آیتیں کہتی ہیں۔ 

یہ آیتیں 53:13-18کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ نے جبرئیل کو ایک اور جگہ بھی ملاقات کی تھی، اور وہ جگہ جنت کی سدرۃالمنتہیٰ ہے۔ 

سدرۃ المنتہیٰ کے مقام میں نبی کریم ؐ نے جبرئیل سے ملاقات کی تو نبی کریم ؐ کو آسمانی دنیا میں لے جانے کے بعد ہی ممکن ہے۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے ‏کہ سدرۃ المنتہیٰ جنت کے قریب ہے۔ نبی کریم ؐ کو آسمانی دنیا کو لے جانے ہی سے سدرۃالمنتہیٰ کے قریب جبرئیل سے ملاقات ہوسکتی تھی۔ 

یہ آیت واضح انداز سے کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ سدرۃ المنتہیٰ تک آسمانی دنیاکو لے جائے گئے، اسی بنا پر معراج کے متعلق حدیثیں کہی گئی ہیں۔ اس میں ‏کوئی اختلاف نہیں۔ 

معراج کے بارے میں قرآن نہیں کہتا ہے، اس کو وجہ بنا کر معراج کے واقعہ کو انکار کرنے والوں کو یہ آیتیں انکار کر تی ہیں۔ 

اس کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 263، 267، 315وغیرہ دیکھیں!  

More Articles …