Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 1 الفاتحہ : آغاز

کل آیتیں : 7 

ًٍالفاتحہ عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں آغاز، ابتدااور تمہید وغیرہ۔ یہ سورت قرآن کریم میں سب سے پہلے واقع ہونے کی وجہ سے اس نام سے موسوم ہے۔قرآن مجید خود اس سورت کے بارے میں فضیلت بیان کی ہے۔ دیکھئے ،15:87

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہاں کو (پیدا کرکے) پرورش کررہاہے۔

2۔ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

3۔ فیصلے کے دن کا 1مالک ہے۔

4۔ (اس لئے) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

5۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔

6،7۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے فضل کیا، وہ لوگ جن پر تو نے غصہ نہیں کیا اور وہ گمراہ بھی نہیں ہوئے۔26

سورۃ : 2 البقرہ : بیل

کل -آیتیں : 286

قرآن مجید کا سب سے بڑا سورۃ یہی ہے۔اس سورہ میں آیت نمبر 67 سے 71 تک بیل سے تعلق رکھنے والا ایک عجیب واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اسی واقعہ کی بنا پر اس کا نام البقرہ رکھا گیا ہے۔گائے اور سانڈ بھی بقرہ کہلانے کے باوجود 67سے71تک کی ان آیتوں کو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیل ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 

ِبہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ الف لام میم۔2

2۔ یہ کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے (یہ) رہنما ہے۔

3۔ وہ لوگ غیب کی باتیں3 مانیں گے، نماز قائم کریں گے، ہمارے دئے ہوئے میں سے (نیک راہ میں) خرچ کریں گے۔ 

4۔ (اے محمد!) تم پر نازل کی ہوئی اس کتاب کو اور تم سے پہلے نازل کی ہوئی کتا بوں کو 4 وہ مانیں گے ، اور آخرت پر بھی ایمان رکھیں گے۔

5۔ وہی لوگ اپنے پروردگا ر کی طرف سے (حاصل شدہ) سیدھے راستے پر رہنے والے ہیں ، وہی کامیاب لوگ ہیں۔

6۔ (ایک اللہ کے) انکار کرنے والوں کو تم خبردار کرو یا نہ کرو ان کے لحاظ سے سب برابر ہیں، وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

7۔ ان کے دلوں پراور کانوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے، اوران کی نظروں پر پردہ ہے، اور ان کو سخت عذاب بھی ہے۔ 439

8۔ اور لوگوں میں ایسے افراد بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ اورآخرت کو1 مانتے ہیں (لیکن) وہ ایمان لانے والے نہیں۔

9۔ وہ لوگ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ (حقیقت میں) وہ اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہیں۔ لیکن وہ محسوس نہیں کرتے۔

10۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، اللہ بھی ان کے اس مرض کو اور زیادہ کردیا۔ ان کی جھوٹ کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب ہوگا۔

11۔ ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ زمیں میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

12۔ یاد رکھو! وہی لوگ ہیں فساد کرنے والے، لیکن وہ محسوس نہیں کریں گے۔

13۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح یہ لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤتو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی ان بے وقوفوں کی طرح بھروسہ کریں گے؟یاد رکھو!وہی لوگ بے وقوف ہیں، لیکن وہ جانیں گے نہیں۔

14۔ جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاچکے۔جب وہ اپنے شیطانوں سے 5 تنہائی میں رہتے وقت کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو (انہیں )مذاق اڑا رہے تھے۔

15۔ اللہ تو انہیں مذاق اڑاتا ہے، 6 ان کی سرکشی میں انہیں بھٹکنے چھوڑدیتا ہے۔

16۔ وہی لوگ ہیں جو سیدھی راہ کے عوض گمراہی خریدلی۔ اس لئے ان کی تجارت فائدہ نہیں دے گی ، اور وہ ہدایت یافتہ لوگ بھی نہیں۔

17۔ ایک شخص آگ جلاتا ہے، وہ آگ جب اس کے آس پاس کو روشن کراتی ہے تواللہ نے ان کی روشنی کو زائل کردیا اور انہیں ایسے اندھیروں میں 303چھوڑدیا کہ و ہ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔ اسی کی حالت کی طرح (گمراہی خریدنے والوں) کی حالت بھی ہے۔

18۔ (یہ لوگ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لئے یہ لوگ (نیک راہ کی طرف)لوٹیں گے نہیں۔439

19۔ یا (ان لوگوں کی حالت) آسمان سے 507 برستی ہوئی بارش کی طرح ہے۔ اس میں تاریکیاں303، بجلی کی گرج اور چمک ہے۔ بجلی کی کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیتے ہیں ۔منکروں کو اللہ خوب جانتا ہے۔

20۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے۔ جب(وہ) انہیں روشنی دیتی ہے تواس میں وہ چلتے ہیں، جب ان پر اندھیریاں303 چھا جاتی ہیں تو رک جاتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھوں کو زائل کردیتا۔ہر چیز پر اللہ قادر ہے۔ 

21۔ اے لوگو! تم اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں کو بھی پیدا کیا 368 ،اس سے تم (عذاب سے)بچ جاؤگے۔

22۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو بچھونااور آسمان کو507چھت بنایا 288، آسمان سے507پانی اتارا، اس کے ذریعہ تمہارے غذا کے لئے پھلوں کو (زمین سے ) نکالا۔اس لئے تم جانتے ہوئے بھی اللہ کے برابر کسی کو تصور نہ کرو۔ 

23۔ اپنے بندے (محمد) پر ہم نے جو کچھ نازل کیا ہے اس پر تمہیں شک ہو، اور اگر تم اس پر سچے بھی ہو تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ، اللہ کے سوا اپنے دیگر مددگاروں کو بھی بلالو۔

24۔ تم سے ہرگز (یہ) نہ ہو سکے گا، اگر تم نہ کرسکو تو (جہنم کی )آگ سے ڈرو، (برے )لوگ اور پتھر ہی اس کے ایندھن ہیں، (ایک اللہ کے) انکار کرنے والوں ہی کے لئے وہ تیار کی گئی ہے۔ 

25۔ ایمان لاکر نیک عمل کر نے والوں کوجنت کے باغات کا خوشخبری سنادو، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جب بھی انہیں کوئی پھل کھانے کے لئے دیا جائے تو وہ کہیں گے اس سے پہلے یہی پھل تو ہمیں دیا گیا ، اسی مشابہت کا ہی (اس سے پہلے بھی) دیا گیا تھا۔وہاں انہیں پاکیزہ جوڑے بھی ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

26۔ وہ مچھر ہو یا اس سے حقیربھی ہو، مثال دینے کے لئے اللہ شرماتا نہیں۔ جو ایمان والے ہیں وہ جان لیتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے۔لیکن(ایک اللہ کا) انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے اللہ کیا مثال دینا چاہتا ہے۔ اس(مثال) کے ذریعے اللہ بہتوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، اس کے ذریعے بہتوں کو سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔اس کے ذریعہ فاسقوں کے سوائے(دوسروں کو) گمراہی میں نہیں چھوڑتا۔

27۔ وہ لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔ جوڑنے کے لئے اللہ نے جو حکم دیا ہے اس (رشتہ) کوتوڑتے ہیں۔ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں۔ 

28۔ اللہ کوکیسے انکار کرتے ہو؟ جب تم بے جان تھے اس نے تم کو زندہ کیا، پھر وہ تم کوموت دے گا، پھر تم کو زندہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔

29۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزیں پیدا کیں۔ پھر آسمان کی طرف قصدکیااور ان کو سات آسمانوں میں 507 ترتیب دیا۔وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

30۔ جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک نسل پیدا کرنے والا ہوں 46 تو انہوں نے عرض کیا کہ کیا تو وہاں فساد برپا کرکے خون بہانے والوں کو اس میں پیدا کرے گا؟ہم تو تیری حمد و ثنا کرتے ہیں، اور ہم تمہیں بے عیب مانتے ہیں! اس (پروردگار)نے کہاکہ جو تم نہیں جانتے وہ میں جانتا ہوں۔

31۔ (اللہ نے) آدم کو سارے نام سکھائے۔ پھر انہیں فرشتوں کو دکھاکر کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام مجھے بتاؤ۔

32۔ تو انہوں نے کہا: تو پاک ہے 10، جو تو نے ہم کو سکھایا ہے اس کے سوا ہم کو دوسراعلم نہیں۔ تو ہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

33۔ (اللہ نے) کہا:اے آدم! تو اِن کو ان کے نام بتلادو۔جب اس نے انہیں ان کے نام بتلادئے تو اللہ نے کہامیں نے تم سے نہیں کہا تھاکہ میں آسمانوں 507ا ور زمین میں چھپی ہوئی ہرچیز کو جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اورجو چھپائے ہوئے تھے سب میں جانتا ہوں۔ 

34۔ جب ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کی تعظیم کرو تو ابلیس 509کے سوا سب نے تعظیم کی، اس نے انکار کرکے اترانے لگااور(ہمیں) انکار کرنے والوں میں سے ہوگیا۔

35۔ ہم نے کہاکہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں 12 رہو، اس میں تم دونوں جو چاہو آسودگی سے کھاؤ۔ صرف اس درخت13 کے قریب نہ جاؤ۔(قریب ہوئے تو) ظلم ڈھانے والوں میں سے ہوجاؤگے۔ 

36۔ ان دونوں کو شیطان نے وہاں سے ہٹادیا۔ ان کے اس ( اونچے )درجہ سے انہیں نکلوادیا۔ ہم نے یہ بھی کہاکہ اتر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہو۔ تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک ٹہرنے کی جگہ اور سہولت ہے۔ 175

37۔ (توبہ کے) چند الفاظ14 آدم نے اپنے رب سے حاصل کرلئے۔ اس لئے اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ وہی توبہ قبول کرنے والا ، نہایت رحم والا ہے۔ 

38۔ ہم نے کہا، تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔جب میری طرف سے تمہیں سیدھی راہ پہنچے تو جو میری اس سیدھی راہ کی پیروی کریں گے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

39۔(یہ بھی ہم نے کہا کہ) جو (ہمیں ) جھٹلائے اور ہماری آیتوں کو جھوٹ مانا وہی دوزخی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

40 ۔اے اسرائیل کی اولادو! ان نعمتوں کو یاد کرو جو ہم نے تم کو عطا کیں، میرے وعدے کو پورا کرو، میں تمہارے وعدے کو پورا کروں گا۔مجھ ہی سے ڈرو۔

41۔ تمہارے پاس جو (کتاب) ہے اس کو تصدیق کر نے والی ہماری نازل کردہ اس(قرآن)کو مانو۔سب سے پہلے اس کو انکار کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ اورمیری آیتوں کوحقیر داموں میں نہ بیچا کرو۔مجھ ہی سے ڈرو۔

42۔ جانتے ہوئے بھی صحیح کو غلط سے نہ ملاؤ، اور حق کو نہ چھپاؤ۔

43۔ نماز کوقائم کرو، زکوٰۃ دو، رکوع کر نے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

44۔ کتابِ الہٰی کو پڑھتے ہوئے اپنے کو بھول کرکیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو ؟ کئاتم سوچتے نہیں؟

45۔ صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو۔سوا ئے عاجزی کرنے والوں کے یہ(دوسروں کے لئے)بھاری ہی ہوگا۔ 

46۔(عاجزی کرنے والے وہ ہیں) جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں 488 اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

47۔اے اسرائیل کی اولادو!ان نعمتوں کویاد کرو جو ہم نے تم کو عطا کی اور سارے جہاں والوں سے بڑھ کر تمہیں فضیلت دی۔ 16

48۔ اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے گا،(اس دن)کسی سے کسی قسم کی سفارش بھی قبول نہیں کی جائے گی 17۔ کسی کی طر ف سے کوئی فدیہ بھی نہیں لیا جائے گا۔اور وہ مدد بھی نہیں کئے جائیں گے۔ 

49۔ یادکرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں سے بچایا۔انہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا تھا۔تمہارے بیٹوں کو قتل کردیتے اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔

50۔ یاد کرو جب تمہارے لئے سمندر کو چیر کر تمہیں بچایا او ر تمہارے دیکھتے دیکھتے فرعونیوں کو ہم نے غرق کردیا۔

51۔ یاد کرو 18جب ہم نے موسیٰ کو چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا ۔ پھر اس کے پیچھے تم نے ظلم ڈھاکر بچھڑے کو (اپنا معبود) تصور کرلیا 19۔

52۔ تم شکر گذار بننے کے لئے پھر بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا۔

53۔ یاد کرو تم سیدھی راہ پانے کے لئے موسیٰ کو کتاب الٰہی اور (جھوٹ سے سچ کو) الگ کرکے دکھانے والا طریقہ بھی عطا کیا۔ 

54۔یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم نے بچھڑے کو (اپنا معبود) تصور کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا 19۔ پس تم اپنے خالق سے معافی چاہو۔ اپنے آپ کو قتل کردو 20 ۔یہی تمہارے خالق کے ہاں تمہارے لئے بہتر ہے۔ وہ تمہیں معاف کردیا۔وہی توبہ قبول کر نے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

55۔اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ! جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں، ہم تمہارا یقین نہیں کریں گے،تو تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے اسی حالت میں تم کو بجلی کی کڑک نے آلیا۔21

56۔ پھر تم شکر گذار بننے کے لئے تمہاری موت کے بعد تم کو زندہ کیا

57۔ تم پر بادلوں کا سایہ کیا۔تمہارے (کھانے کے) لئے من و سلوٰی 442اتارا۔ (ہم نے کہا)ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے آپ پر ظلم ڈھالیا۔

58۔ یاد کرو جب ہم نے کہا: اس بستی میں چلے جاؤ۔ وہاں جہاں سے چاہو آسودگی سے کھاؤ۔پھاٹک کے راستے سے عاجزی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔کہو کہ معافی۔ہم تمہاری خطاؤں کوبخش دیں گے، نیکی کرنے والوں کواور زیادہ دیں گے۔

59۔ مگر ظالموں نے(انہیں کہی ہوئی باتوں کو چھوڑکر) دوسری ان کہی باتوں سے بدل دیا۔ اس لئے ظلم ڈھا کر گناہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان پر آسمان سے 507 عذاب اتارا۔

60۔ موسیٰ نے جب اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا تمہارے لاٹھی سے اس پتھر پر مارو۔تو یکایک اس میں بارہ چشمے پھوٹ نکلے269۔ہر گروہ نے اپنے اپنے گھاٹ پہچان لیا۔ (ہم نے کہا) اللہ کے دئے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو، زمین میں فساد کرتے ہوئے نہ پھرو۔

61۔ جب تم نے کہا، اے موسیٰ! ایک ہی (قسم کے) کھانے پر ہم صبر نہیں کریں گے، پس ہمارے لئے تمہارے رب سے دعا کیجئے، وہ زمین سے اگنے والی ساگ، ککڑی، لہسن، مسور، پیاز وغیرہ ہمارے لئے ظاہر کرے گا۔تو موسیٰ نے کہا، کیا تم بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو؟ کہیں ایک شہر میں ٹہر جاؤ۔ جو تم مانگوگے وہ تمہیں مل جائے گا 369۔ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی۔ غضبِ الہٰی کے بھی مستحق ہوگئے۔یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ اللہ کی آیتوں کو انکار کر نے والے اور نبیوں کو ناحق قتل کرنے والے تھے۔ یہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ وہ گناہ میں حدسے بڑھے ہوئے تھے۔ 

62۔ ایمان لانے والوں میں، یہودیوں میں، نصاراؤں میں اور صابیوں میں 443 جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور اچھے عمل بھی کئے پس ان کی مزدوری ان کے رب کے پاس ہے ، ان کے لئے کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔

63۔ یاد کرو جب ہم نے کوہِ طورکو تمہارے اوپر اٹھا کر تم سے عہد لیا ، کہ تم اللہ سے ڈرنے والے بنکرجو (کتاب ) ہم نے تمہیں عطا کی ہے اس کو مظبوطی سے پکڑے رہو اور اس میں جو کچھ ہے اس پر غور کرو۔22

64۔ اس کے بعد بھی تم نے جھٹلادیا ، اگر اللہ کا فضل اور کرم تم پر نہ ہوتا تو تم ضرور نقصان اٹھاتے۔ 

65۔ ہفتہ کے دن کی حدود پار کرنے والوں کو تم جانتے ہو۔ ان سے کہہ دو کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔23

66۔ہم نے اِس کو اس زمانے والوں کو اور اس کے بعد کے زمانے میں آنے والوں کو عبرت اور (ہم سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بنادیا۔

67۔ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ نے تمہیں ایک بیل ذبح کر نے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے کہا کیا ہمیں تم مذاق سمجھ رہے ہو؟ موسٰی نے کہا ایسے نادان بننے سے میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔24

68۔ انہوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمیں صاف بتلا دے گاکہ وہ کیسی ہے؟ موسیٰ نے کہا ، وہ کہتا ہے کہ نہ وہ بوڑھی ہے نہ بچہ، دونوں کے درمیانی عمر کی ہے۔چنانچہ تم کو جو حکم ہوا ہے ویسا ہی کرو۔ 

69۔ انہوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمیں وضاحت کر دے گا کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟موسٰی نے کہا ، وہ کہتا ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو خوش کر نے والی گہرے پیلے رنگ کی ہو۔

70۔ انہوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمیں صاف بتلا دے گاکہ وہ کیسی ہے؟وہ بیل ہمیں الجھا دیا ہے۔اللہ اگر چاہے تو ہم راہ پالیں گے۔ 

71۔موسیٰ نے کہا، اللہ فرماتا ہے، وہ بیل زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی دینے والی نہ ہو، صحیح و سالم ہو اور کوئی داغ نہ ہو۔ انہوں نے ، اب تم نے ٹھیک بات بتلائی ہے، کہہ کر نہ کرنے کا ارادہ ہوتے ہوئے بھی (بہت ہی مشکل سے) اس بیل کو ذبح کیا۔ 

72۔ یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کرکے اس کے متعلق بحث کر رہے تھے۔ جو تم چھپا رہے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والاہے۔

73۔ہم نے کہا: اس (بیل) کی ایک حصۃ سے اس (مقتول) کو مارو۔اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ تم سمجھنے کے لئے وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔24

74۔ پھراس کے بعد تمہارے دل پتھر کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سخت منجمد ہوگئے۔کیونکہ چند پتھروں میں سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، چندپتھریں پھٹ کر اس میں سے پانی بھی نکل آتا ہے۔ بعض اللہ کے خوف سے (لڑھک کر) گرنے والے پتھر بھی ہیں۔جو تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔

75۔ کیا تم چاہتے ہو کہ وہ( اسرائیل) تمہیں مان لیں گے؟ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی باتوں کو سن کر اور سمجھ کر پھر اچھی طرح جانتے ہوئے بھی اس کو بدل دیا۔ 

76۔ ایمان والوں سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، جب وہ ایک دوسرے سے تنہائی میں ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ کیا تم ان(مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم کو بتلائی ہیں، تاکہ وہ تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت کریں۔کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

77۔ کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں سب اللہ جابتا ہے؟

78۔ ان میں ان پڑھ بھی ہیں ، وہ جھوٹ کے سوا کتاب الٰہی میں سے کچھ نہیں جانتے۔ وہ صرف گمان ہی کرتے ہیں۔

79۔ پس خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور تھوڑی سی قیمت پر445 بیچنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔خرابی ہے ان ہاتھوں کو جوکچھ لکھا ہے، اور خرابی ہے (اس کے ذریعے)جو کچھ کمایا ہے۔

80۔ وہ کہتے ہیں کہ مقررہ دن کے سوا دوزخ ہمیں نہیں چھوئے گی. پوچھو، کیا تم نے اللہ کے پاس (اس بارے میں) کوئی معاہدہ کیا ہے؟ (اگر ایسا ہو تو) اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ یااللہ کی نسبت ایسی بات جوڑدیتے ہو جو تم نہیں جانتے؟

81۔ ایسا نہیں ہے، جو کوئی بھی گناہ کرے،اور ان کے گناہ نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

82۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جنتی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

83۔ ہم نے اسرائیل کی اولادوں سے عہد لیاتھا کہ اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو، والدین کی، قرابت داروں کی، یتیموں کی اور غریبوں کی مدد کرو، لوگوں سے خوبصورت انداز سے بات کرو، نماز کو قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر تم میں سے چندلوگوں کے سوائے (دوسرے لوگ) جھٹلا کر منہ پھیرلیا۔ 

84۔ جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ، اپنے گھروں سے اپنے (قریبی) لوگوں کو نہ نکالوتو تم ہی اس کے گواہ بن کراقرار کیا۔

85۔ پھر تم نے اپنے ہی (قریبی) لوگوں کو قتل کیا، تمہارے ہی ایک گروہ کو ان کے گھروں سے بھگا دیا۔ اور ان کے خلاف گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے۔تمہارے پاس اگر (کوئی) قیدی آئے تو (تمہاری کتاب کے مطابق) فدیہ حاصل کرلیتے ہو۔(اسی کتاب میں حقداروں کو ان کے گھروں سے ) باہر کردینا منع کیا گیا ہے، کتاب کے ایک حصہ کو مان کر کیا دوسر ے حصہ کا انکار کرتے ہو؟ تم میں سے ایسا کر نے والو ں کو اس دنیوی زندگی میں ذلت کے سوا کوئی اجر نہیں۔ قیامت کے دن ان کو سخت سزا میں مبتلا کیا جائے گا۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبرنہیں۔

86۔ وہی لوگ آخرت کو 1 بیچ کر اس دنیوی زندگی کو خریدنے والے۔ اس لئے انہیں عذاب میں کوئی تخفیف نہیں ہو گی، اور وہ مدد بھی نہیں کئے جائیں گے۔ 

87۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی، اس کے پیچھے پے در پے کئی رسولوں کو بھیجے۔ مریم کے بیٹے عیسٰی کو کھلی نشانیاں دیں۔روح القدس 444 کے ذریعے انہیں قوت عطا کی۔ جب بھی کوئی رسول تمہارے پاس تمہاری خواہش کے خلاف کوئی بات لے کر آیاتو تم نے تکبر کیا ، بعض کو تم نے جھٹلادیا اور بعض کو قتل کرڈالا۔ 

88۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل بند کر دئے گئے ہیں۔ایسا نہیں ہے، (اس کو)انکار کردینے کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کردی ہے 6۔ وہ بہت ہی کم ماننے والے ہیں۔ 

89۔ (ایک اللہ کے) انکار کرنے والوں کے خلاف وہ لوگ اس سے پہلے مدد طلب کرتے تھے۔جو ان کے پاس ہے اس کو سچا ثابت کرنے والی کتاب جب اللہ کے پاس سے آئی، (یعنی) ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے وہ پہچانتے تھے 25، اس کو (ماننے سے) وہ انکار کردئے۔ انکار کر نے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ 6

90۔ اللہ کا نازل کردہ چیز کو انکار کر نے کے بدلے اپنے آپ کو بیچ دینا بہت بری بات ہے۔ اس کی وجہ وہ حسد ہے جو اللہ نے اپنے فضل کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اتاردے۔ چنانچہ غضب پر غضب کے وہ مستحق ہوگئے۔ (ایک اللہ کے) انکار کرنے والوں کو رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

91۔ ۔ جب ان سے کہا جائے کہ اللہ نے جو اتارا ہے اس کو مانو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو اترا ہے اسی کو ہم مانیں گے۔ اس کے سوا جو ہے (یعنی قرآن کو) وہ انکارکرتے ہیں۔حالانکہ وہ حق بھی ہے اور ان کے پاس جو ہے اس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ (اے محمد) کہو، اگر تم ایمان والے ہو تو اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو تم نے کیوں قتل کیا ؟

92۔۔ واضح دلیلوں کے ساتھ موسیٰ تمہارے پاس آئے۔ان کے پیچھے ظلم ڈھاکر تم نے بچھڑے کو (اپنا معبود) تصور کرلیا۔ 19

93۔۔ یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا، کوہ طور کو تمہارے اوپر اونچا کیا 22 ، اور کہا کہ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے اس کو مضبوطی سے تھامواور سنو! انہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور اختلاف کیا۔ (ہمیں) انکار کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت پلادی گئی 19۔ کہو اگر تم (سچا)ایمان رکھتے ہو تو تمہارا ایمان تم کوکیوں براہی حکم دیتا ہے؟

94۔۔ کہہ دو کہ اگر تم اس بات پر سچے ہو کہ آخرت کی زندگی1 جو اللہ کے پاس ہے وہ دوسروں کو چھوڑکر تمہارے لئے ہی مخصوص ہے تو تم مرنے کی آرزو کرو!

95۔۔ وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہرگز اس کی آرزو نہ کریں گے۔ظلم کرنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔

96۔ دوسرے لوگوں سے زیادہ (خاص کر) مشرکوں سے زیادہ انہیں لوگوں کو تم زندہ رہنے کی خواہشمند پاؤگے۔ ان میں سے ایک شخص یہی چاہتا ہے کہ اس کو ایک ہزار سال کی زندگی ملے۔اس طرح اگر زندگی عطا ہو تو وہ اس کو عذاب سے روک نہیں سکتی۔وہ جو بھی کرتے ہیں اللہ دیکھنے والا ہے۔ 488

97۔آپ کہہ دیجئے کہ اگر کوئی جبریل کا مخالف ہو (تووہ غلط ہے) ، کیونکہ اسی نے اللہ کی مرضی سے (اے محمد) اس کوتمہارے دل میں 152 اتارا ہے 492۔ یہ اپنے سے پہلے گذری ہوئی 4 کتاب کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کو ہدایت اور خوشخبری ہے۔

98۔ جو شخص اللہ ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں ، جبریل و میکائیل کا دشمن ہے تو ایسے انکار کرنے والوں کا اللہ دشمن ہے۔

99۔ (اے محمد) ہم نے تم کو واضح نشانیاں عطا کیں، نافرمانوں کے سوا (دوسرے کوئی) اس کو انکار نہیں کریں گے۔ 

100۔ جب بھی انہوں نے عہد کیا ان میں سے ایک فریق کیا اس کو پھینک نہیں دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے

101۔ ان کے پاس جوموجود ہے اس کو تصدیق کرنے والے رسول (محمد) جب اللہ کی جانب سے ان کے پاس آئے تواہل کتاب والوں 27میں سے ایک فریق نے اللہ کی کتاب کو اپنے پیٹھ پیچھے پھینک دیاجیسے کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔

102۔ سلیمان کی حکومت میں شیطان کی باتوں کو یہ لوگ پیروی کرنے لگے۔سلیمان نے (کبھی وحدانیت کا) انکار نہیں کیا۔اور (جبریل اور میکائیل نامی) دونوں فرشتوں کو (جادو) عطا نہیں کیا گیا 28۔شہر بابل میں لوگوں کو جادو سکھلانے والے ہاروت ماروت 357نامی شیاطین ہی 5 5 (وحدانیت کے) منکر تھے۔ وہ کسی کو سکھانے سے پہلے ہی جب تک باقاعدگی سے یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو بطور عبرت ہیں، اس لئے( اس کو سیکھ کراللہ کا) انکار نہ کرنا،کسی کو سکھاتے نہیں تھے۔پس جس کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا ہوتی ہو اسی کو ان دونوں سے وہ لوگ سیکھ لیتے تھے۔ اللہ کی مرضی کے بغیر اس کے ذریعے وہ کسی کو کسی قسم کی ضرر پہنچا نہیں سکتے 495 ۔پھر وہ لوگ خود کو نقصان پہنچانے والی اور نفع نہ دینے والی باتیں سیکھ لیں۔ نیز وہ یقین کے ساتھ جان رکھے تھے کہ جس نے اسے خریدا اس کے لئے آخرت 1 میں کوئی سرخروئی نہیں۔جس کے لئے وہ اپنے آپ کو بیچا تھاوہ بہت برا ہے، کیا وہ جانیں گے نہیں؟

103۔ اگر وہ مومن بن کر (اللہ) سے ڈریں تو اللہ کی جانب سے ملنے والا اجربہت ہی بہتر ہوگا۔ کیا وہ جانیں گے نہیں؟ 

104۔ اے ایمان والو! راعنا مت کہو۔ انظرناکہواور سنو!(ایک اللہ کے)انکار کرنے والوں کودردناک عذاب ہے۔ 29 

105۔ (ایک اللہ کا) انکار کرنے والے اہلِ کتاب 27 اور مشرک تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہونا پسند نہیں کرتے۔اللہ جسے چاہتا ہے اسی کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ اللہ بڑا فضل والا ہے۔ 

106۔ جب کسی آیت کوتبدیل کریں 30 یا اس کو بھلا دیں تو ہم اس سے بہتر یا اس کے برابر دے دیتے ہیں۔کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے؟ 

107۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں 507 اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار؟ 

108۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ایسے سوال کرو جیسے کہ اس سے پہلے موسیٰ سے (سوال) 31کئے گئے تھے؟ ایمان کو (اللہ کے) انکار سے بدلنے والا سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ 

109۔اہلِ کتاب میں 27 سے اکثر یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد تم کو (اللہ کا) انکار کرنے والوں میں بدل دیں۔سچائی ان پر واضح ہو جانے کے بعد محض ان کا ذاتی حسد ہی اس کا سبب ہے۔ اللہ اپنا حکم نافذ کرنے تک (انہیں) اہمیت نہ دیتے ہوئے چھوڑدو۔ ہر چیز پر اللہ قدرت رکھتا ہے۔

110۔ نماز کو قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو۔ اپنے لئے جو بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے اس کو تم اللہ کے پاس پاؤگے۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔488

111۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی کے سوا (دوسرا کوئی) جنت میں داخل نہیں ہو گا۔یہ محض ان کا گمان ہے۔کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔

112۔ ایسا نہیں ہے، جو اپنے چہرے کو اللہ کے لئے جھکا دے اور نیکی بھی کرے تو ان کی مزدوری اللہ کے پاس ہے۔ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور وہ غمگین بھی نہ ہوں گے۔

113۔ کتابِ الہٰی کو پڑھتے ہوئے ہی یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی کسی میں نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی میں نہیں۔ بے علم لوگ بھی انہیں کی طرح کہتے ہیں۔ ان کے اختلافات کا ان کے درمیان قیامت کے دن 1 اللہ فیصلہ کرے گا۔ 

114۔اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا 32جو اللہ کی مسجد میں اللہ کے نام کا ذکر کر نے سے روکے اور ان کو اجاڑنے کی کوشش کرے ؟ ان لوگوں کو سوائے ڈرتے ہوئے ان میں داخل ہونے کا حق نہیں ہے۔انہیں اس دنیا میں ذلت اور آخرت 1میں سخت عذاب ہے۔ 

115۔ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لئے ہے۔تم جدھر بھی منہ پھیروگے وہاں اللہ کا چہرہ ہے 488۔اللہ وسعت والا ، علم والا ہے۔ 

116۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا۔ایسا نہیں ہے، وہ پاک ہے 10۔ آسمانوں 507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ سارے اسی کے فرماں بردار ہیں۔ 

117۔ آسمانوں 507 اور زمین کو (اس نے) بغیر نمونے کے ایجاد کیا۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف ہوجا 506 کہتا ہے توفوراً ہوجاتی ہے۔

118۔ نادان لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس ایک نشانی کیوں نہیں آتی؟ ان سے پہلے لوگ بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ان سب کے دل ایک جیسے ہیں۔مضبوط یقین رکھنے والے لوگوں کو ہم نشانیاں واضح کرتے ہیں۔ 

119۔ (اے محمد!) ہم نے تم کو خوشخبری سنانے والااور ڈرانے والابناکر حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ دوزخیوں کے بارے میں تم سے پوچھ نہیں ہوگی۔

120۔ یہودو نصارٰی کے دین کو جب تک تم پیروی نہیں کروگے وہ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔کہہ دو کہ اللہ کا راستہ ہی (صحیح) راستہ ہے۔ تمہارے پاس وضاحت آنے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کروگے تو اللہ سے تمہیں بچانے والا اور مددگار کوئی نہیں۔

121۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اس کو وہ پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے، وہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں، جو اس کو قبول کر نے سے انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 

122۔ اے اسرائیل کے اولادو! یاد کرو 16 میری ان نعمتوں کو جو ہم نے تم کو عطا کیا تھااور تم کو تمام دنیا والوں سے زیادہ فضیلت دی تھی۔

123۔ اس دن 1 سے ڈرو جب ایک، دوسرے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔(اس دن) کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جائے گا۔ کسی کی کوئی سفارش 17کام نہ آئے گی۔وہ مدد بھی نہیں کئے جائینگے۔ 

124۔جب ابراہیم کو ان کے رب نے کئی احکام کے ذریعے آزمایا484 تووہ سب کو پورا کر دکھایا۔ اللہ نے کہا میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ابراہیم نے کہامیری اولادمیں سے بھی (سردار بنائے گا) اللہ نے کہا: میرا وعدہ (تمہاری اولادمیں) ظالموں کو نہیں پہنچے گا 497۔

125۔ یاد کرو 34 جب ہم نے کعبے 33 کولوگ جمع ہو نے کی جگہ اور امن کا مقام ٹہرایا۔مقامِ ابراہیم کا ایک حصہ کو 35 نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیاتھا کہ طواف کرنے والوں، اعتکاف میں بیٹھنے والوں، رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے تم دونوں میرے کعبے کو پاک و صاف رکھنا۔ 

126۔ جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن کامرکز 34بنادے۔اس شہروالوں میں اللہ اور آخرت1 کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو پھل عطا فرما 497، تو اللہ نے کہا: (مجھے) انکار کرنے والوں کوبھی کچھ عرصے کے لئے سہولت عطا کروں گا۔پھر انہیں جہنم کے عذاب میں جھونک دوں گا۔ وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے. 

127۔جب ابراہیم و اسماعیل اس کعبے کی 33 بنیادکو بلند کیا (اور کہنے لگے) اے ہمارے رب! ہماری جانب سے (اس کام کو) قبول فرما، تو ہی سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

128۔ اے ہمارے رب!ہم کو اپنا فرماں بردار بنااور ہماری نسل کو بھی اپنی فرمانبردار امت بنادے۔ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتلا، ہم کو معاف فرما۔ تو معاف کرنے والا ، نہایت ہی رحم والاہے۔

129۔ اے ہمارے رب! (ہماری نسل میں) انہی میں سے ان کے لئے ایک رسول بھیج دے، جو تیری آیتوں کو سنائے، ان کو کتاب اور حکمت67 کی تعلیم دے، ان کو پاکیزہ بنائے۔ تو ہی زبردست حکمت والا ہے 36۔ 

130۔ ایک احمق کے سوا ابراہیم کے دین کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ہم نے ہی ان کو اس دنیا میں چن لیا ہے، آخرت 1میں وہ نیکوں میں ہوگا۔

131۔ جب اس کے رب نے کہا ، تابع ہوجا تو اس نے کہا، میں نے سارے جہاں کے رب کی تابعداری اختیار کرلی۔

132۔ ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ، اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ پس تم مسلمان 295 ہی بنکرمرنا ۔ 

133۔ یعقوب کے موت کے وقت کیا تم گواہ تھے؟ یعقوب نے جب اپنے بیٹوں سے کہا، میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟ تو (بیٹوں نے) کہا: ہم اسی اللہ کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کرتے آئے ہیں۔اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

134۔ وہ جماعت گذر گئی۔ ان کی کمائی ان کیلئے اور تمہاری کمائی تمہارے لئے۔ان کے اعمال کے متعلق تم سے پوچھا نہ جائیگا۔265

135۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ، ہدایت پاؤگے۔ ایسا نہیں ہے، کہہ دو کہ سچائی کی راہ پر قائم رہنے والے ابراہیم کے دین ہی کی ہم پیروی کریں گے۔ وہ شرک کرنے والوں میں نہیں تھے۔

136۔ کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، ہماری طرف نازل کی ہوئی(کتاب)پر ، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے اولاد پرنازل ہوئی (کتابوں)پر، موسیِٰ اور عیسیٰ کوعطا کۂوئی (کتابوں)پر،باقی کے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ملی ہوئی (کتابوں)ُ پر۔ہم ان (پیغمبروں)میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کریں گے37۔ ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ 

137۔ اگر وہ بھی ایمان لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے ہوتو وہ سیدھی راہ پر آجائیں گے۔ اگر وہ جھٹلائیں گے تو وہ اختلاف میں ہوں گے۔ان کے معاملے میں تم کو اللہ ہی کافی ہے۔وہ سننے والا 488اور جاننے والا ہے۔ 

138۔کہہ دو کہ (ہم) اللہ کے چڑھائے ہوئے رنگ کو38 (اختیار کرنے والے ہیں)۔ اللہ سے زیادہ خوبصورت رنگ چڑھانے والا کون ہے؟ ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

139۔ کہہ دو کہ اللہ کے بارے میں کیا تم ہم سے حجت کرتے ہو؟ وہی ہمارا رب بھی ہے، اورتمہارا رب بھی ۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے، تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ ہم اسی کے لئے اخلاص کے ساتھ چلنے والے ہیں۔

140۔ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے اولاد سب یہودی یا عیسائی تھے؟ کہو کہ تم خوب جانتے ہو یا اللہ؟۔ اللہ کی طرف سے اپنے پاس آئی ہوئی گواہی کو چھپانے والوں سے بڑھ کراور کون ظالم ہوگا؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ 

141۔ وہ قوم گذر چکی ہے۔ان کا کیا ہوا ان کے لئے اور تمہارا کیا ہوا تمہارے لئے۔ان کے کئے ہوئے کے بارے میں تم پوچھے نہیں جاؤگے 265۔

پارہ نمبر ۔ 2

142۔ بے وقوف لوگ کہیں گے کہ (مسلمان) جس قبلہ کی طرف تھے ، اس سے وہ کیوں پھر گئے؟ کہہ دو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔جس کو وہ چاہتا ہے سیدے راستے پر چلا تا ہے۔ 

143۔ اسی لئے ہم نے تم کو میانہ روی امت بنایا تاکہ تم لوگوں کو بتلانے والے بنو اور یہ رسول(محمد) تم کو بتلانے والے بنے۔ الٹے پاؤں پھر جانے والوں میں سے جو اس رسول کی پیروی کرتا ہے ، اس کو دکھلانے کے لئے ہی ہم نے پہلے ہی اس قبلہ کو مقرر کردیاتھا 39 جو تم رخ کر رہے تھے۔ اللہ جس کو سیدھی راہ دکھادیا اس کے سوا (دوسروں کو) یہ بھاری ہی ہوگا۔ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں 498۔ اللہ شفقت والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

144۔ (اے محمد) ہم تمہارا چہرہ بار بار آسمان 507 کی طرف اٹھتے ہوے دیکھ رہے ہیں۔پس تمہاری پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں پھیردیتے ہیں۔ پس تم اپنے چہرے کو مسجد الحرام کی طرف پھیرلیں۔تم جہاں کہیں بھی رہو اپنے چہروں کو اسی کی طرف پھیر لیا کریں 430۔اہل کتاب 27جانتے ہیں کہ یہی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی حق ہے۔ وہ جو کرتے ہیں اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ 

145۔ (اے محمد) اگر تم اہل کتاب 27 کے پاس تمام دلیلیں لے کر آؤگے بھی تووہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں۔ اور خودانہیں میں ایک دوسرے کے قبلہ کو پیروی کرنے والے نہیں ہیں۔تمہارے پاس وضاحت آنے کے بعداگر تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کروگے تو ظلم ڈھانے والے ہوجاؤگے۔ 

146۔ جن کو ہم نے کتاب دی ہے27 وہ اس کو اسی طرح جانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں 25۔ان میں سے ایک گروہ جانتے ہوئے بھی حق کو چھپا رہے ہیں۔ 

147۔ یہ حقیقت تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے، اس لئے تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔

148۔ ہر ایک کو منہ سامنے کر نے کے لئے ایک رخ ہے، اسی کی طرف وہ پھیرے گا۔ پس تم بھلائی کی طرف سبقت کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تم سب کو لے آئے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 

149۔ تم جہاں سے بھی نکلواپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لو۔430 وہی تمہارے رب کی طرف سے ملی ہوئی سچائی ہے۔ جو تم کرتے ہو اس سے اللہ غافل نہیں ہے۔ 

150۔ تم جہاں سے بھی نکلواپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لو۔430 تم جہاں کہیں بھی رہو اپنے چہروں کو اسی رخ کی طرف پھیر لیا کرو۔ اس کی وجہ 40یہ ہے کہ ظالموں کے سوا (دوسرے) لوگوں کے لئے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہ جائے، اور اپنی نعمت کو تم پر پوری کردوں تاکہ تم سیدھی راہ پاسکو۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈرو۔

151۔جس طرح تمہارے درمیان ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا(اسی طرح قبلہ کو بدل کر بھی فضل فرمایا)۔وہ تم کو ہماری آیتیں سنائے گا، اور تمہیں پاکیزہ کرے گا۔ اور تم کو کتاب اور حکمت67 کی تعلیم دے گا۔ وہ چیزیں بھی سکھائے گا جو تم نہیں جانتے تھے۔ 36

152۔ پس تم مجھے یاد کرو، میں بھی تم کو یاد کرتا ہوں6۔میرا شکر ادا کرو، میرا احسان مت بھولو۔ 

153۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

154۔ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں۔لیکن تم محسوس نہیں کروگے۔41

155۔ کسی قدر ڈر سے، بھوک سے، مالوں اور جانوں اورنفع وغیرہ کو نقصان پہنچا کر ہم تم کو ضرور آزمائیں گے484، صبر کر نے والوں کو خوشخبری سنا دو۔ 

156۔ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں،اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 

157۔ انہیں لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اور شفقتیں ہیں، وہی لوگ راہ راست پائے ہوئے ہیں۔ 

158۔ صفا اور مروا اللہ کی نشانیاں ہیں۔اس کعبہ میں33 حج یا عمرہ کرنے والے ان دونوں میں طواف کرنا کوئی گناہ نہیں 400۔ نیکیاں زیادہ کر نے والوں کا اللہ قدرداں 6اور جاننے والا ہے۔ 

159۔ لوگوں کے لئے ہم کتاب میں واضح کرنے کے بعدبھی ہماری طرف سے عطا کی ہوئی کھلی نشانیاں اور ہدایت کو چھپانے والوں پر اللہ لعنت بھیجتا ہے6 اور لعنت کرنے کے مستحق بھی لعنت کرتے ہیں۔ 

160۔ مگر ان لوگوں کے سوائے جو توبہ کرکے (اپنی) اصلاح کر لیں اور (چھپائی ہوئی بات کو) واضح کردیں۔ ان کو میں معاف کردوں گا۔میں توبہ قبول کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہوں۔ 

161۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور اسی حالت میں مر گئے تو ان پر اللہ کی لعنت فرشتوں اورسب نیک لوگوں کی لعنت ہے۔ 

162۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔ اوران کو مہلت بھی نہیں دیا جائے گا۔ 

163۔ تمہارا معبود ایک ہی اللہ ہے، اس کے سوا معبود کوئی نہیں۔ وہ بہت ہی مہربان اور نہایت ہی رحم والا ہے۔

164۔ آسمانوں507 اور زمین کی بناوٹ میں، رات اور دن بدل بدل کر آنے جانے میں، انسانوں کے کام آنے والی چیزوں کو لے کر سمندر میں چلنے والی کشتیوں میں، اللہ آسمان 507سے بر ساتے ہوئے پانی میں، خشک زمین کو اس کے ذریعے تروتازہ کرنے میں، ہر ایک جاندار کو اس میں پھیلانے میں، ہواؤوں کو بدل بدل کر گردش دینے میں، آسمان 507اور زمین کے درمیان زیر حکم کے تابع بادلوں میں سمجھنے والی قوم کو کئی نشانیاں ہیں۔ 

165۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا کئی خداؤوں کا تصور کرکے ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسا اللہ سے رکھنا چاہئے۔ ایمان والے (سب سے زیادہ) اللہ کو چاہنے والے ہیں۔ ظالم لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ 

166۔ وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی جب عذاب دیکھیں گے تو اپنے ان پیشواؤوں سے الگ ہٹ جائیں گے۔ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ جائے گا۔ 

167۔پیروی کرنے والے کہیں گے کہ (دنیا کو) اگرپھر واپس جانے کاہم کو موقع ملا تو ہم بھی انہیں کی طرح ہٹ جائیں گے جیسا کہ انہوں نے ہم سے ہٹ گئے۔ اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو خود انہیں کے لئے حسرت بنا کر دکھا تا ہے۔وہ آگ سے نکلنے والے نہیں۔ 

168۔ اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرو۔وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

169۔ وہ تم کو برائی اور بے حیائی اور ایسی باتیں اللہ پرگھڑنے کے لئے اکسائے گا جس کا تم کو کوئی علم نہیں۔ 

170۔ جب ان سے کہا جائے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔کیا اس صورت میں بھی کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ نسمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ جانتے ہوں؟ 

171۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی شخص صرف آواز اور پکار کو سننے والے جانوروں کو بلانے کے لئے آواز نکالے۔وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ پس وہ کچھ نہیں سمجھیں گے۔ 

172۔ اے ایمان والو! ہم نے تم کو جو پاکیزہ چیزیں دی ہیں ان کو کھاؤ۔اگر تم اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہوں تو اسی کا شکر ادا کرو۔ 

173۔ مُردار ، خون، سور کا گوشت407 اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا42 یہ تمام چیزیں تمہارے لئے منع کیا گیا ہے171۔ جو شخص حد سے بڑھنے والا نہ ہو، خواہشمند نہ ہو اور مجبور ہوتو 431اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ بخشنے والا اور نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

174۔جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاکر اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں445 وہ اپنی پیٹوں میں آگ کے سوا (دوسرا کچھ) نہیں بھرتے۔قیامت کے دن 1اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا، ان کو پاکیزہ بھی نہیں کرے گا۔ان کو دردناک عذاب بھی ہے۔ 

175۔ وہی لوگ ہیں جو ہدایت کے بدلے گمراہی، بخشش کے بدلے عذاب کا سودا کیا۔ جہنم کو برداشت کرنے کی ان کے حوصلہ کو کیا کہنے!

176۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ حق کے ساتھ کتاب اتاری (اس کے باوجود اس کو چھپا دیا)۔ کتاب سے اختلاف کر نے والے (حقیقت سے) بہت دور اختلاف ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

177۔ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلو۔ بلکہ اللہ پر، آخرت پر 1، فرشتوں پر، کتابوں پر، بنیوں پرایمان لانے والے اوررشتہ داروں پر،یتیموں پر، محتاجوں پر، خانہ بدوشوں پر206، مانگنے والوں پراور غلاموں کو رہائی دینے والوں کو دلی خواہش کے ساتھ مال خرچ کرنے والے، نماز کو قائم کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے، جب عہد کریں تواپنا وعدہ پورا کر نے والے، تنگی، بیماری اور جنگ کے میدان میں صبر کر نے والے ، یہی لوگ نیکی کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ سچ کہنے والے ہیں۔ اور یہی لوگ (اللہ سے) ڈرنے والے ہیں۔ 

178۔ اے ایمان والو! (مقتول) آزاد کے لئے (قاتل) آزاد، (مقتول) غلام کے لئے (قاتل) غلام،(مقتول) عورت کے لئے (قاتل) عورت، اس طریقے سے مقتولوں کا قصاص لینا تم پر فرض کیا گیا ہے۔قاتل کو (مقتول کے وارث) اس کے (دینی) بھائی کے ذریعے کچھ معافی مل جائے تواس سے اچھی طرح پیش آنا اور خوبی کے ساتھ اس کو (دیت) ادا کرنا چاہئے401۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے۔اس کے بعد جو بھی زیادتی کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔43

179۔ اے عقل والو! قصاص کے قانون میں تمہارے لئے زندگی ہے۔ تاکہ تم (اس قانون کے ذریعے قتل کر نے سے) بچ جاؤگے۔43

180۔ جب تم میں سے کوئی دولت چھوڑجائے، اوراس کو موت قریب آجائے تو وہ اپنے والدین اورقرابت داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کردینا فرض کیا گیا ہے۔ (اللہ سے ) ڈرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے۔45 

181۔ پھر وہ لوگ (جووصیت کے وقت گواہ تھے) اس کو سننے کے بعد بدل کر بولے تواس کاگناہ اس کے بدل کر بولنے والوں پر ہی ہوگا۔ اللہ سننے والا488 جاننے والا ہے۔ 

182۔ وصیت کرنے والے کے پاس کوئی نا انصافی یا گناہ کا اندیشہ ہو تو ان کے درمیان صلح کر ادینا اس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

183, 184۔ اے ایمان والو! مقررہ دن کے لئے تم پربھی روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم (اللہ سے) ڈرو۔ جو کوئی تم میں بیمار ہویا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اس کی طاقت نہ رکھنے والے 498 ایک غریب کو کھانا کھلانااس کا فدیہ ہے 47۔ جو کوئی مزید نیکی کرے اس کے لئے وہ بہتر ہے۔ اگر تم جانو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے۔26,475 

185۔ یہ قرآن رمضان کے مہینے میں اتارا گیا۔ یہ لوگوں کو سیدھاراستہ دکھاتا ہے، اور سیدھی راہ کو واضح کرتا ہے۔ (حق کو باطل سے) الگ کرکے دکھاتا ہے۔ تم میں سے جو کوئی اس ماہ کو پائے اس میں وہ روزہ رکھے۔بیمار یا سفرمیں رہنے والے دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے44۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا68۔ روزے کی گنتی پوری کر نے کے لئے اللہ نے تم کوراہ بتائی ہے تو تم اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرو (اس لئے کہ اس نے دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کے لئے رعایت دی ہے)۔ 

186۔ جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو کہہ دیں کہ) میں قریب ہوں 49، دعا کرنے والا جب مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کا جواب دیتا ہوں۔ پس وہ مجھ ہی سے دعا کرے، مجھ ہی پر یقین رکھے، تاکہ وہ راہ راست پائیں۔ 

187۔ روزے کی راتوں میں تم اپنی بیویوں سے ملنا جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس465 ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے۔سو اس نے تمہاری توبہ قبول کرکے تمہیں معاف کردیا۔ تو اب تم ان سے ملو50 اللہ نے تمہارے لئے جو(نسل) لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو۔ صبح صادق کا سفید دھاگہ (رات کے) کالے دھاگے سے واضح ہونے تک کھاؤ اور پیو۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔ مسجدوں میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے جماع نہ کرو، یہ اللہ کی حدیں ہیں تو ان کے قریب نہ جاؤ۔ (اپنے سے ) ڈرنے کے لئے اللہ اپنی آیتوں کو اس طرح واضح کرتا ہے۔ 

188۔ تم آپس میں (ایک دوسرے )کے مال کوغلط طریقے سے نہ کھاؤ۔ اچھی طرح جانتے ہوئے بھی لوگوں کے مال کا ایک حصہ غلط طریقے سے کھانے کے لئے حاکموں کے پاس تمہارے مال کو (رشوت کے طور پر) لے کر نہ جاؤ۔ 

189۔ (اے محمد!) وہ تم سے چاند51 کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ لوگوں کے لئے (اور خاص کر) حج کے لئے وقت کا پیمانہ ہے۔ تم گھروں کو اس کے پیچھے کے راستے سے آنا کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ اللہ سے ڈرنا ہی نیکی ہے۔ پس تم گھروں کو اس کے دروازے ہی سے آؤ۔ اللہ سے ڈرو تاکہ کامیاب حاصل ہو۔ 

190۔ تم سے جنگ کر نے والوں سے اللہ کی راہ میں تم بھی لڑو۔حد سے نہ گذرو۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 53

191۔ جب (میدانِ جنگ میں) ملے تو انہیں قتل کر دو۔ تم بھی انہیں نکال دو جیسا کہ انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔فتنہ خونریزی سے زیادہ ظلم ہے۔ مسجد الحرام میں جب تک وہ تم سے جنگ نہ چھیڑیں وہاں ان سے نہ لڑو۔ اگر وہ تم سے لڑنے کو آئیں تو انہیں قتل کر ڈالو۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ 53

192۔ (جنگ سے) وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ، نہایت رحم والا ہے۔ 53

193۔ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اختیار 54 تمام اللہ ہی کا ہوجائے۔اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے  سوا (دوسروں پر) کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ 53

194۔ حرمت والا مہینہ 55(کا مقابل) حرمت والا مہینہ ہی ہے۔حرمتیں دونوں طرف سے برابر ہیں۔ جس نے تم سے زیادتی کی ہے تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اور جان لوکہ(اس سے) ڈرنے والوں کے ساتھ ہی اللہ ہے49۔

195۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اپنے ہی ہاتھوں سے تباہی نہ ڈھونڈو۔نیکی کرو ، نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

196۔ اللہ کے لئے حج اور عمرہ ادا کرو۔ اگر تم روک دئے جاؤ تو جو قربانی کا جانور میسر ہو اسے ذبح کرو۔قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے اپنے سروں کو نہ مونڈو۔ تم میں کوئی بیمار ہو ، یا سر میں کوئی تکلیف ہوتو وہ (پہلے ہی سر مونڈ سکتے ہیں)۔ اس کے فدیہ میں روزہ یا صدقہ یا قربانی ہے۔ جب تم امن کی حالت میں ہو، حج و عمرہ کو تمتع کے طریقے سے ادا کر و تو جو قربانی کا جانور میسر ہو اسے ذبح کردینا ہے۔ اگر وہ میسر نہ آئے تو حج کے دوران تین روزے اور (اپنے گاؤں)پہنچ کر سات روزے رکھنا ہے۔ اس طرح وہ دس پورے ہوجائیں گے۔یہ رعایت اس کے لئے ہے جس کا خاندان مسجد الحرام میں آباد نہ ہوں۔ اللہ سے ڈرو۔ اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔ 

197۔ حج (کا زمانہ) چند معلوم مہینے ہیں 57۔ ان مہینوں میں جو حج (اپنے اوپر) فرض کرلے تو وہ حج کے دوران نہ جماع کرے، نہ گناہ کرے اور نہ جھگڑا کرے ۔ تم جو بھی نیک کام کروگے اللہ اسے جانتا ہے۔ (حج کے لئے) ضروری چیزیں اکٹھا کرلو۔اکٹھا کرنے والی چیزوں میں (اللہ کا) خوف ہی بہترین ہے۔اے عقل والو، مجھ سے ڈرو۔ 

198۔(حج کے دوران تجارت کے ذریعے) تم اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں58۔ عرفات کے میدان سے تم واپس آؤ تومشعر الحرام میں اللہ کو یاد کرو۔ جس طرح اس نے بتلایا ہے اس طرح یاد کرو۔اس سے پہلے تم راہ بھٹکے ہوئے تھے۔ 

199۔ پھر جہاں سے لوگ نکلتے ہیں وہیں سے تم بھی نکلو 59۔ اللہ سے معافی چاہو۔ اللہ معاف کرنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

200۔ جب تم عبادتیں پوری کرچکو تو جس طرح اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہو اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کراللہ کو یاد کرو۔ لوگوں میں اس طرح کہنے والے بھی ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم کو اس دنیا میں بھلائی عطا فرما۔اس کو آخرت 1 میں کوئی فضیلت نہیں۔ 

201۔ لوگوں میں ایسے کہنے والے بھی ہیں : اے ہمارے رب! ہم کواس دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت 1میں بھی بھلائی (دے)۔ اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ 

202۔ انہیں لوگوں کے لئے ان کے محنت کا حصہ ہے، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

203۔ مقررہ دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ پھر دو دن میں جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں، اور تاخیر کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں60،(یہ اللہ سے ) ڈرنے والوں کے لئے ہے، اور تم اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان لوکہ تم اسی کے پاس جمع کئے جاؤگے۔

204۔ لوگوں میں ایسے بھی ہیں کہ اس کی بات دنیا کی زندگی میں تم کو خوش لگے اور وہ شدید بحث کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے۔ 

205۔ جب وہ تمہیں چھوڑکر نکلتا ہے تو زمین پر فساد برپا کرنے، کھیتوں اور جانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوراللہ فسا د پسند نہیں کرتا۔ 

206۔ جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اس کا غرور اس کو گناہ میں ڈبو دیتا ہے۔ اس کے لئے دوزخ ہی کافی ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

207۔ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضامندی چاہتے ہوئے اپنے آپکو قربان کردیتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں پربڑا مہربان ہے۔

208۔ اے ایمان والو! اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ۔ شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ 

209۔ تمہارے پاس واضح دلیلیں آنے کے بعد اگر تم پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ 

210۔ کیا وہ اس بات کا انتطار کرتے ہیں کہ اللہ 61 اور فرشتے153 بادلوں کے جھنڈمیں آئیں اور کام پورا کریں؟سارے معاملے اللہ ہی کے پاس لائے جائیں گے۔ 

211۔ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دی تھیں۔ اللہ کی نعمت اپنے پاس آنے کے بعدبدل دینے والے کو سزا دینے میں اللہ بہت سخت ہے۔ 

212۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو یہ دنیوی زندگی خوشنما بنا دی گئی ہے۔وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔(اللہ سے) ڈرنے والے قیامت کے دن 1ان سے بلند ہوں گے۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔

213۔ لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ خبردار کرنے اور خوشخبری دینے کے لئے اللہ نے نبیوں کو بھیجا۔ جس بات پر لوگ اختلاف کرتے تھے، ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے حق کے ساتھ انہیں کتاب اتارا۔ واضح دلیلیں ان کے پاس آنے کے باوجود اہل کتاب 27نے اس میں اختلاف کیا۔ ان کے درمیان حسد ہی (اس کی) وجہ تھی۔ اللہ نے اپنی مرضی سے ایمان والوں کو حق کی طرف راہ دکھائی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ 

214۔ کیا تم یہ سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں ایسے ہی داخل ہوجاؤگے، حالانکہ تم پر ایسی حالت نہیں گذری جو تمہارے اگلوں پر گذری تھی؟ انہیں مفلسی اور تکلیف بھی آئی۔ یہاں تک کہ انہیں اتنی دکھ پہنچی کہ(اللہ کے) رسول اور ان کے ساتھ ایمان والے بھی بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب ہے۔

215۔ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دو کہ اچھی چیزوں میں سے جو بھی خرچ کرو ، والدین کے لئے، رشتہ داروں کے لئے، یتیموں کے لئے، غریبوں کے لئے اور خانہ بدوشوں206 کے لئے (خرچ کریں)۔ جو بھی بھلائی تم کروگے اللہ اسے جانتا ہے۔ 62

216۔ تم کو اگر نا پسند بھی ہو تو جنگ کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو نا پسند ہو ، وہ تمہارے لئے بھلی ہو، ایک چیز تم پسند کرو، وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔5

217۔ حرمت والے مہینے میں55 جنگ کرنے کے بارے میں وہ تم سے پوچھتے ہیں۔ تم کہہ دو کہ اس میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے۔ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے (دوسروں کو) روکنا ، اللہ کا انکار کرنا، اور اس (مسجد الحرام) کے حقداروں کو وہاں سے نکال دینا اللہ کے ہاں اس سے بڑھ کرہے۔ اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔ ہو سکے تو وہ تمہارے دین سے تمہیں پھیرنے تک تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ تم میں سے اپنے دین سے پھر جانے والے اور (اللہ کا) انکار کرتے ہوئے مرجانے والے کے اعمال اس دنیا میں اور آخرت میں1 برباد ہوجائیں گے، وہ دوزخی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

218۔ وہی لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت460 کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اللہ معاف کرنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

219,220۔ لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔کہہ دو کہ ان دونوں میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں۔ ان دونوں کے فائدے سے بھی ان کی خرابیاں دنیا اور آخرت 1میں بہت زیادہ ہے116۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ کہہ دو کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو۔ تم غور کر نے کیلئے اس طرح اللہ اپنی آیتوں کوتمہیں واضح کرتا ہے۔ وہ تم سے یتیموں کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان کے لئے اچھا انتظام کرنا بہتر ہے۔ اگر تم ان سے مل جل کر رہوتو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اصلاح کرنے والے اور بگاڑ نے والے کو اللہ جانتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ تمہیں تکلیف دے سکتا تھا68۔ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے26 

221۔ مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو۔ مشرک عورت تمہیں جتنی بھی اچھی لگے اس سے زیادہ ایمان والی کنیز بہتر ہے۔ مشرک مردوں کے نکاح میں (اپنی عورتوں کو) مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اگرچہ وہ مشرک تمہیں کتنا ہی اچھا لگے، اس سے ایمان والا غلام بہتر ہے۔ وہ تمہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ اپنی مرضی سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ عبرت حاصل کرنے کے لئے (اللہ) اپنی آیتوں کو لوگوں پر واضح کرتا ہے91 

222۔ لوگ تم سے حیض کے متعلق بھی پوچھتے ہیں48۔ کہہ دو کہ وہ ایک تکلیف ہے۔اس لئے حیض کے دوران تم عورتوں سے ( بغیر جماع کئے ) ہٹ کر رہو۔ جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں تم ان کے قریب نہ جانا۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو اللہ کے حکم کے مطابق ان کے پاس جاؤ۔ توبہ کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ اور پاک رہنے والوں کو بھی پسند کرتا ہے۔ 

223۔ تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں۔ پس اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو جاؤ 63۔ اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو۔ اللہ سے ڈرو۔ جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو 488۔ ایمان والوں کو خوشخبری سنادو۔ 

224۔ نیکی کر نے ، (اللہ سے) ڈرنے ، لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے اپنی قسموں کے ذریعے اللہ کو آڑ نہ بناؤ64۔اللہ سننے والا488 ، جاننے والا ہے۔ 

225۔ تمہارے قسموں میں بیکارقسموں پر اللہ تمہیں سزا نہیں دیگا ۔ تمہارا دل جس بات کا پکا ارادہ کر ے اسی وجہ سے وہ تمہیں سزا دیگا64۔ اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے ۔ 

226۔ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھانے والوں کو چار مہینے کی مہلت ہے65۔ اگر وہ (قسم کو) واپس لے لیں تو اللہ معاف کرنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

227۔ طلاق دینے میں 66 اگر وہ پختہ ارادہ رکھتے ہیں تو اللہ سننے والا 488، جاننے والا ہے۔ 

228۔ طلاق66 یافتہ عورتیں تین حیض کی مدت تک ( بغیر دوسری شادی کے ) انتظار کرلیں69۔ اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کردیا ہے ، اس کو چھپانا ان کے لئے جائز نہیں۔ اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں تو اس (مدت) کے اندر ان کے شوہر انہیں واپس ساتھ لینے کے حقدار ہیں۔ جس طرح عورتوں پر ذمہ داریاں ہیں اسی طرح ان کے حقوق بھی بہترین انداز سے ہیں۔ ان سے زیادہ مردوں کو ایک درجہ بڑھ کر ہے۔ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ 

229۔ اس طرح طلاق دینا 66صرف دو با رہے۔ (اس کے بعد) اچھی طرح سے مل کر جینا ہے یا بھلے طریقے سے چھوڑدینا ہے۔ بیویوں کو جو کچھ تم نے دیا ہے اس میں سے کوئی چیز واپس لینا جائز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اگر یہ اندیشہ ہے کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں کریں گے ۔اگر تم کو اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں کریں گے توعورت( مہر سے )فدیہ دے کر الگ ہوجانا دونوں پر کوئی گناہ نہیں402۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، اس لئے تم اس سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ کی حدود سے تجاوز کر نے والے ہی ظالم ہیں۔

230۔ (دو بار طلاق66 دینے کے بعدمل کر پھر تیسری بار) عورت کو اگر وہ طلاق دے توپھر وہ عورت اس شوہر کے لئے جائز نہیں جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ اگر وہ (دوسرا شوہر) بھی اس کو طلاق دے دے تو پھر وہ (عورت اور پہلا شوہر) دونوں اگر یقین کریں کہ اللہ کی حدود قائم رکھ سکیں گے تو آپس میں (نکاح کے ذریعے) مل جانے میں کوئی گناہ نہیں۔یہ اللہ کی حدیں ہیں۔جاننے والی قوم کے لئے وہ واضح کرتا ہے۔ 

231۔ اگر تم عورتوں کو طلاق66 دو تو وہ اپنی عدت69 پوری کرنے کے پہلے اچھی طریقے سے انہیں جما لو یا بھلے انداز سے چھوڑدو۔ انہیں تکلیف پہنچا کرزیادتی کرنے کے لئے نہ پاس رکھنا۔جو ایسا کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم ڈھالیا۔اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بنالو۔ اور یاد کرو اللہ نے تم پر نعمت عطا کی اور کتاب و حکمت67 کو تم پر اتاری۔ اس کے متعلق وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے ، اللہ سے ڈرو۔ اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔ 

232۔ عورتوں کو طلاق66 دینے کے بعد وہ اپنی عدت 69پوری کرلیں تو ان کو اپنے( پسند کے) شوہروں سے جب وہ بھلے طریقے سے آپس میں راضی ہوجائیں ، نکاح کرنے سے مت روکو۔ تم میں سے اللہ اور آخرت1 پریقین رکھنے والوں کو اس طرح نصیحت کی جاتی ہے۔ یہی تمہارے لئے پاکیزہ ہے، اورستھرا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ 

233۔اس (شوہر) کے لئے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے (طلاق یافتہ) مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال314 دودھ پلانا چاہئے478۔ انہیں اچھے طریقے سے کھانا اور کپڑا پیش کرنا بچہ کے باپ کا ذمہ ہے۔برداشت سے باہر کسی کو تکلیف نہیں دی جائے گی68۔ نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے، نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف نہیں پہنچایا جائے گا68۔ (بچے کاباپ اگرمرجائے تو)اس کا وارث پر یہ ذمہ داری ہے۔ پھر اگر دونوں باہم مشورہ کرکے آپس کی رضامندی کے ساتھ دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اگر تم تمہارے بچوں کو (دوسری عورتوں سے) دودھ پلوانا چاہیں (بچے کی ماں کو) جو کچھ دینا طئے ہوا ہے اس کو اچھے طریقے سے ادا کردو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ اور جان لو کہ جو تم کرتے ہو اس کو اللہ دیکھ رہا ہے488۔ 

234۔ تم میں سے کوئی بیوی کو چھوڑ کر مرجائے تو وہ عورتیں چار مہینے اور دس دن تک (دوسری شادی کئے بغیر) انتظار کرنا چاہئے69۔ اگر وہ عدت پوری ہوجائے تو وہ اپنے بارے میں اچھی طریقے سے فیصلہ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں403۔ تم جو کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

235ْ ۔(انتظار کے دوران) ان سے شادی کر نے کا ارادہ کرنااور اشارے سے نکاح کا پیغام دینا تم پر کوئی گناہ نہیں404۔ اللہ جانتا ہے تم دل سے ان کو چاہتے ہو۔ اچھی بات کہنے کے سوا خفیہ طور پر ان سے کوئی وعدہ نہ کرو۔ عدت پوری ہونے تک نکاح کا فیصلہ نہ کرواور جان لو کہ اللہ کو تمہارے دل کی بات معلوم ہے، اس لئے اللہ سے ڈرو۔ اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے۔ 

236۔ عورتوں کو بغیر چھوئے ، ان کی مہر108مقرر کرنے سے پہلے، انہیں طلاق دے دو تو تم پرکوئی گناہ نہیں66۔ وسعت والے اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق بہترین طریقے سے انہیں سہولتیں مہیا کریں، یہ نیکی کرنے والوں پر فرض ہے74۔ 

237۔ مہر108 کی رقم مقرر کر نے کے بعدانہیں چھونے سے پہلے اگر تم انہیں طلاق دو تو مقررہ مہر کا آدھا (دینا فرض ہے)۔ سوائے اس کے کہ وہ عورتیں یا جس کے اختیار میں نکاح کا معاہدہ ہے وہ شوہرفیاضی سے کام لے۔ تم (مرد لوگوں کا) درگزر کرنا ہی70 پرہیزگاری کے قریب ہے۔ تمہارے درمیان جو (بعض کی) فضیلت ہے اس کونہ بھولو۔ تم جو کرتے ہو اللہ دیکھ رہاہے488۔ 

238۔ نمازوں اور درمیان والی نماز71 کی حفاظت کرو361۔اللہ کے سامنے عاجزی سے کھڑے رہو۔ 

239۔ اگر تم خوف میں ہو تو چلتے ہوئے یا سواری پر (نماز پڑھ لو)۔ پھر جب امن پاؤ تو اللہ کو اس طریقہ پر 72یاد کرو جو اس نے تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے۔

240۔ تم میں سے کوئی بیویوں کو چھوڑ کر مرجائے تو وہ وصیت کر جائے 45کہ ایک سال تک انہیں گھر سے نکالے بغیرسہولیات مہیا کریں۔جب وہ اپنے متعلق اچھے فیصلہ کے ساتھ خود 495ہی نکل جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ 

241۔ طلاق شدہ عورتوں66 کو اچھے طریقے سے سہولتیں مہیا کرنی چاہئے۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کویہ فرض ہے۔74

242۔ تمہیں سمجھانے کے لئے اللہ اپنی آیتوں کو اس طرح واضح کرتا ہے۔

243۔ کیا تم ان لوگوں کو نہیں جانتے جو موت کے ڈر سے اپنے گاؤں سے نکل گئے؟ وہ ہزاروں کے تعداد میں تھے۔ ان سے اللہ نے کہاکہ مرجاؤ20۔ پھر انہیں زندہ کیا۔ لوگوں پر اللہ فضل کرنے والا ہے۔ پھر بھی لوگوں میں اکثر شکر ادا نہیں کرتے۔

244۔ اللہ کی راہ میں جنگ کرو53۔اور جان لو کہ اللہ سننے والا 488جاننے والاہے۔ 

245۔ اللہ کے لئے قرضِ حسنہ75 دینے والا کون؟ اس کو اللہ کئی گنازیادہ بڑھادے گا۔ اللہ تنگی بھی کر دیتا ہے اور کشادگی بھی۔اسی کے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ 

246۔موسیٰ کے بعد اسرائیل کی اولاد میں (پیدا شدہ) ایک قوم کے بارے میں تم نے نہیں جانا؟انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کیجئے، ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں76۔ نبی نے سوال کیا، اگر تم پر جنگ فرض کردی جائے توکیاتم لڑے بغیر رہ سکوگے؟ انہوں نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں، جب کہ ہمیں ہمارے گاؤں اور بچوں سے نکالاگیا ہے؟ جب ان پر جنگ فرض کیا گیا تو ان میں چند لوگوں کے سوا (دوسرے) سب نظرانداز کردئے۔ ظالموں کو اللہ جانتا ہے۔

247۔ ان کے نبی نے ان سے کہاکہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقررکیا ہے76۔ انہوں نے کہاکہ ہم پر ان کی بادشاہت کیسے ہو سکتی ہے؟ ان سے زیادہ حکومت کے حقدار ہم ہی ہیں۔ ان کو زیادہ مالی سہولت بھی نہیں دی گئی ہے! نبی نے کہا: اللہ نے تمہارے مقابلہ میں ان کو چن لیا ہے۔ ان کو علم اور جسم (کی طاقت) زیادہ عطا کی گئی ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے۔ 

248۔ ان کے نبی نے ان سے کہا کہ ان کو حکومت دئے جانے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس سجایا ہوا ایک صندوق آئے گا77۔اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے (تمہیں) تسکین ہے ۔ اس میں موسیٰ اور ہارون کے خاندان والوں کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں سے بچا ہوا ہوگا۔ اس کو فرشتے اٹھا لائیں گے۔ اگر تم ایمان والے ہو تو اس میں تمہارے لئے بڑی دلیل ہے۔ 

249۔ جب طالوت نے لشکروں کو لے کر چلا تو کہا: اللہ تمہیں ایک ندی کے ذریعے آزمانے والا ہے484۔ جس نے اس کا پانی پیا وہ میرا ساتھی نہیں، جس نے، سوائے ایک چلو بھر کے، نہیں پیا وہی میرا ساتھی ہے۔ ان میں چند لوگوں کے سوا (سب نے) اس کو پیا۔ جب وہ اور ان کے ساتھ ایمان والوں نے دریا پار کیا تو وہ کہنے لگے کہ آج جالوت اور اس کے لشکروں سے (جنگ کرنے کی) ہم میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو اللہ سے ملنے کا یقین رکھتے ہیں 488، وہ کہنے لگے کہ کتنی ہی چھوٹی فوجیں اللہ کی مرضی سے بڑی فوجوں پر غالب آئی ہیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 

250۔ جالوت اور اس کے لشکروں سے میدان جنگ میں سامنا ہوا تو وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدموں کو جمادے۔ (تیرے) انکار کرنے والے گروہ کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔

251۔ اللہ کی مرضی کے مطابق (طالوت کے لشکر) انہیں شکست دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا۔ انہیں اللہ نے بادشاہت اور دانائی عطا کی۔ جو چاہا ان کو سکھایا۔اگر لوگوں میں بعض کے ذریعے بعض کو اللہ نے نہ روکا ہوتا تو زمین بگڑ گئی ہوتی۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑامہربان ہے۔

252۔ حقیقت کو اپنے اندر سمائے ہوئے یہ اللہ کی آیتیں ہیں۔ اس کو (اے محمد) ہم تمہیں سنا تے ہیں۔ تم رسولوں میں سے ایک ہو۔ پارہ نمبر ۔ 3

253۔ ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام کیا ہے488۔ ان میں سے بعض کی کئی درجے بلند کیا ہے37۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ کو واضح دلیلیں عطا کیں۔ روح القدس 444کے ذریعے انہیں تقویت دی۔ رسولوں کے بعد آنے والے ان کے پاس واضح دلیلیں آنے کے بعد اگر اللہ چاہتا تو جھگڑا نہ کرتے، پھر بھی انہوں نے اختلاف کیا۔ ان میں ایمان والے بھی ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والے بھی ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ جھگڑا نہ کرتے۔مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

254۔ اے ایمان والو! جس میں نہ تجارت ہو، نہ دوستی اور نہ سفارش 17، اس دن کے آنے سے پہلے ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے(نیک راہ میں) خرچ کرو۔(اللہ کا) انکار کرنے والے ہی ظلم ڈھانے والے۔

255۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ گہری نیند۔آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے۔ سوائے اس کی اجازت کے اس کے پاس کون ہے جو سفارش کرسکے17؟ لوگوں کے آگے اور پیچھے جو کچھ بھی ہے وہ سب جانتا ہے۔ اس کی معلومات سے لوگ کچھ بھی نہیں جان سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں507 اور زمین کو گھیر رکھا ہے۔ ان دونوں کی حفاظت اس پر کوئی دشوار نہیں۔ اور وہ بلند اوربڑی عظمت والا ہے۔ 

256۔ اس دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ گمراہی سے نیک راہ الگ ہوچکی ہے۔ جو شخص بری طاقتوں کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط رسی کو پکڑلیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ اللہ سننے والا488 اور جاننے ولا ہے۔ 

257۔ اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے۔ اندھیروں303 سے انہیں روشنی کی طرف لے جا تا ہے۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو برے طاقت ہی مددگار ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے اندھیروں303 کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ دوزخی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

258۔ کیا تم اس شخص کو نہیں جانتے جو ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں اس لئے حجت کیا کہ اللہ نے اسے حکومت دی؟ جب ابراہیم نے کہا کہ میرارب زندہ کرنے والا اورموت دینے والا ہے تو اس نے کہا، میں بھی زندہ کرتا ہوں اور موت بھی دیتاہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ مشرق سے سورج نکالتا ہے ، اس لئے تم مغرب سے نکال کر دکھاتو (اللہ کا) انکار کر نے والے کا منہ بند ہوگیا۔ ظلم کرنے والے قوم کو اللہ سیدھی راہ دکھاتا نہیں۔ 

259۔ یا (کیاتم جانتے ہو) اس شخص کے بارے میں جو ایک بستی سے گزرا؟وہ بستی پوری طرح سے گری ہوئی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ بستی تباہ ہونے کے بعد اللہ اسے کیسے زندہ کرے گا؟اسی وقت اللہ نے اس پر سو سال تک موت طاری کر دی۔ پھر اس کو زندہ کیا اور پوچھا : تم کتنے دن گزارے ہوں گے؟ اس نے کہا، ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ گزرا ہوگا۔تو اللہ نے کہا: ایسا نہیں ہے۔ تم سو سال گزار چکے ہو۔ تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھوجو اب تک خراب نہیں ہوئی ہے406۔(مرے ہوئے) اپنے گدھے کو بھی دیکھو۔ تم کو لوگوں کے لئے ایک مثال بنانے کے لئے ،(ہم نے ایسا کیا ہے، گدھے کی) ہڈیوں پر غور کرو کہ، ہم اس کوکس طرح جوڑتے ہیں اور اس پر ہم کس طرح گوشت چڑھاتے ہیں ۔ پس جب اس پر واضح ہوگیا تو کہا: اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے79 ۔

260۔ جب ابراہیم نے کہاکہ اے میرے رب! مجھ کو دکھادے کہ تو مردہ کو کس طرح زندہ کرتا ہے تو (اللہ نے) پوچھاکہ کیا تم کویقین نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ میرے دل کو تسکین ہوجائے۔ (اللہ نے) کہاکہ چار پرندوں کوپکڑو، انہیں ٹکڑے ٹکرے کر کے اپنے پاس رکھ لو۔ پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو۔ پھر ان کو بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئینگے، اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ 

261۔ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کی مثال ایک دانہ ہو، وہ سات بالیں اگاتی ہیں ، ہربالی میں سو دانے ہوں۔اللہ جسے چاہتا ہے اور بھی کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔ اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔

262۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، خرچ کر نے کے بعد اس کو ظاہر نہیں کرتے اورکسی کوتکلیف نہیں پہنچاتے ، ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ انہیں کوئی خوف نہیں، وہ غمگین بھی نہیں ہوں گے۔ 

263۔ صدقہ دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی تکلیف دینے کے بجائے اچھی بات کہنااور معاف کردینا بہتر ہے۔ اللہ بے نیاز ہے485 ، تحمل والا ہے۔

264۔ اے ایمان والو! اللہ اور آخرت 1پر ایمان نہ رکھتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لئے اپنے دولت کو خرچ کرنے والے کی طرح احسان جتا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقہ کو برباد نہ کرو۔ اس شخص کی مثال مٹی جمی ہوئی چکنی چٹان کی طرح ہے۔ اس پر بارش برستے ہی اوپر کی طرف بالکل صاف کردیتی ہے۔ وہ لوگ اپنی محنت کی کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے۔ انکار کرنے والی قوم کواللہ سیدھی راہ نہیں دکھائے گا۔ 

265۔ اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے اور اپنے ایمان کی پختگی کے لئے اپنے مال کو (اچھی راہ میں) خرچ کرنے والوں کا مثال ، اونچی جگہ میں واقع ایک باغ کی طرح ہے۔ اس پر زور کا مینھ برسا تو وہ باغ اپنے کھانے کی چیزیں دوگنی دیتا ہے۔اگر تیز بارش نہ بھی ہوتو پھوار( کافی) ہے۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ دیکھ رہا ہے488۔

266۔ ایک شخص کے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہیں، اس کے نیچے نہریں بھی بہہ رہی ہیں۔ اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے بھی ہیں۔ پھر ان کے بچے کمزور ہونے کی حالت میں اس کو بڑھاپن بھی آجاتی ہے۔ اس وقت آگ برسانے والی ایک تیز وتند ہوا چلتی ہے اور اس باغ کوجلا دیتی ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس حالت کو پسند کرے گا؟اسی طرح اللہ تمہارے لئے دلیلیں واضح کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

267۔ اے ایمان والو ! اپنی کمائی میں سے پاکیزہ چیزیں اور جو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے نکالا ہے، اس میں سے (اچھی راہ میں) خرچ کرو۔بغیر آنکھیں بند کئے ہوئے جس طرح تم کسی چیز کو نہیں لیتے اس طرح ردی چیزیں خرچ کر نے کو مت سوچو۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے485، تعریف کے لائق ہے80۔ 

268۔ شیطان تمہیں فقرو فاقہ کے بارے میں ڈراتا ہے۔ بے حیائی کو تم میں اکساتا ہے۔ مگر اللہ اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کر تا ہے۔ اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔ 

269۔ (اللہ) جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے۔ جس کو حکمت دی گئی اس کوبہت زیادہ بھلائی عطا ہوگئی۔ عقلمندوں کے سوا (کوئی) اس پر غور نہیں کرتے۔ 

270۔ تم جو کچھ بھی (اچھی راہ میں) خرچ کرتے ہو یا نذر مانتے ہو اللہ اسے جانتاہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ 

271۔ اگر تم صدقات کو ظاہرکرکے دو تو بھی اچھا ہی ہے۔ لیکن اگراسے(دوسروں سے) چھپا کر غریبوں کو دو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہترہے۔ تمہاری برائیوں کا (اللہ اسے) کفارہ بنادیتا ہے۔ جو تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ 

272۔ انہیں سیدھے راستے پر پہنچانا تمہاری ذمہ داری نہیں81۔ بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ اچھی چیزوں میں سے تم جو بھی خرچ کروگے وہ تمہارے ہی لئے ہے۔ اللہ کی رضا مندی ہی کے لئے تم خرچ کرتے ہو۔اچھی چیزوں میں سے جو بھی خرچ کروگے وہ تمہیں پورا پورا دیاجائے گا۔ تم پر ظلم نہیں کیا جائیگا۔

273۔ (صدقات) ان غریبوں کے لئے ہے جو اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح قربان کرچکے ہیں کہ وہ (مال جمع کرنے کے لئے)زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔(ان کے بارے میں) نہ جاننے والے (ان کی) خودداری کے احساس دیکھ کر انہیں مال دار سمجھ بیٹھیں گے۔ان کی نشانی سے تم انہیں پہچان لوگے۔وہ لوگوں سے گڑگڑاکر نہیں مانگیں گے۔ اچھی چیزوں میں سے جو بھی تم خرچ کرو اللہ اسے جاننے والا ہے82۔ 

274۔ جو اپنے مالوں کو رات اور دن، چھپے اور کھلے(اچھی راہ پر) خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کااجران کے رب کے پاس ہے۔انہیں کوئی ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 

275۔ سود کھانے والے (آخرت میں) شیطان کے چھوئے ہوئے کی طرح دیوانے بن کر اٹھیں گے83۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام ٹہرایا ہے۔ جس شخص کو اپنے رب کی طرف سے نصیحت آنے کے بعد باز آنے والے کو پہلا گزرا ہوا اس کا ہے۔ اس کے بارے میں فیصلہ اللہ کے پاس ہے۔ پھر کرنے والے دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

276۔ اللہ سود کو مٹا تا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ کسی ناشکرے گناہ گار کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

277۔ جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کئے، نماز قائم کئے اور زکوٰۃ بھی ادا کئے، ان کے لئے ان کا اجران کے رب کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے ،اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

278۔ اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو۔ اگر تم ایمان والے ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو84۔ 

279۔ اگر تم ایسا نہیں کروگے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ کا یقین کرلو۔ اگر تم اصلاح کرلو تو تمہارے مال کا اصل سرمایہ تمہارے لئے ہے۔ تم بھی ظلم نہ کرنا ، تم پر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 

280۔ (قرضدار) اگر تنگ دست ہوتو اس کی فراخی تک اس کو مہلت دو۔ اگر تم جاننے والے ہو تو اس کو صدقہ کردینا تمہارے لئے بہتر ہے73۔ 

281۔ اللہ کے پاس تم واپس لائے جانے والے اس دن1 سے ڈرو۔پھر ہر شخص کو اس کی محنت کاپورا عطا کیا جائے گا۔ وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے265۔ 

282۔ اے ایمان والو! ایک مقررہ مدت تک کے لئے جب ایک دوسرے کو قرض دو تو اسے لکھ لیا کرو476۔ لکھنے والے تمہارے درمیان عدل کے ساتھ لکھے۔ لکھنے والا جیسے اللہ نے اس کو سکھایا ہے اس طرح لکھنے سے انکار نہ کرے۔ قرض لینے والا لکھنے کے قابل جملے لکھوائے۔وہ اپنے رب اللہ سے ڈرے۔اس میں کوئی کمی نہ کرے۔ قرضدار اگر نا سمجھ ہویا کمزور ہو یا لکھوانے کے لئے کوئی مناسب الفاظ بول نہ سکتا ہوتو اس کا ذمہ دار انصاف کے ساتھ بولے۔ تمہارے مردوں میں سے دو کو گواہ بناؤ۔اگر دو مرد نہ ہوں تو تمہاری پسند کا ایک مرد اوردو عورتوں کو (گواہ بنالو)۔ ان دو عورتوں میں اگر ایک غلطی سے کہے تو وہ دوسری عورت اس کو یاد دلائے گی85۔ گواہوں کوبلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔ چھوٹا ہو یا بڑا مدت مقرر کرکے اس کو لکھنے میں غفلت نہ برتیں۔ یہی اللہ کے نزدیک انصاف ہے، گواہی کو ثابت کرنے والی بھی ہے۔ ایک دوسرے پر شبہ نہ کر نے کے لئے مناسب بھی ہے۔ تمہارے درمیان دست بدست ہونے والے تجارت کے سوائے، تجارت کو(بغیر قرض کے) نہ لکھ لینا تم پر کوئی گناہ نہیں۔معاہدہ کرتے وقت بھی گواہ مقرر کرلو۔لکھنے والے اور گواہ کو کوئی تکلیف نہ دو۔ اگر ایسا کروگے تو وہ تم پر گناہ ہوگا۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ تمہیں سکھائے گا۔ اللہ سب چیزوں کو جاننے والا ہے۔ 

283۔ اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے تو رہن کو حاصل کرلینا چاہئے۔ تم میں سے ایک شخص دوسرے پر بھروسہ کرے تو وہ بھروسہ مند اپنے امانتداری کوپوراکرے۔اپنے رب اللہ سے ڈرے۔ گواہی کو نہ چھپاؤ۔ اس کو چھپانے والے کا دل گنہ گار ہوگا۔ تم جو کرتے ہو اللہ جاننے والا ہے۔

284۔ جو کچھ آسمانوں507 اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤان سے متعلق اللہ تم سے سوال کرے گا۔ وہ جس کو چاہے معاف کرے گا، اور جس کو چاہے سزا دے گا۔اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

285۔ یہ رسول (محمد) اپنے اوپر اللہ کی طرف سے جو کچھ اترا اس پر ایمان لائے، اور سب مومن بھی(اس پر ایمان لائے)۔اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے کتابوں پر، اس کے رسولوں پرسب نے ایمان لائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کریں گے37۔ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش (چاہتے ہیں)، ہم تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ 

286۔ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا68۔ جو نیکی اس نے کی، وہ اس کے لئے۔جو برائی اس نے کی، وہ اس کے لئے265۔ (وہ لوگ کہتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیںیا غلطی کرجائیں اس پر ہمیں سزا نہ دے۔اے ہمارے رب! جیسا بوجھ تو نے ہم سے اگلوں پر ڈالا تھا ہم پر نہ ڈال۔ اے ہمارے رب!ہم جس کی طاقت نہیں رکھتے وہ بوجھ ہم پر نہ ڈال۔ہماری غلطیوں کو درگزر کراور ہمیں معاف فرما۔ ہم پر رحم فرما۔تو ہی ہمارا مالک ہے ۔ (تیرا) انکار کرنے والی قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ 

سورہ نمبر : 3  آل عمران ۔ عمران کا گھرانہ 3

 کل آیتیں: 200 

عمران ،نبی عیسیٰ علیہ السلام کے نانا اور مریم (میری) کے والد ہیں۔ عمران کے گھرانے سے مراد مریم، ان کی والدہ اور عیسیٰ نبی ہیں۔

اس سورت میں37, 36, 35 آیتوں میں عمران کے گھرانے کے متعلق ایک اہم واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سورت کا نام آل عمران رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان اور نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے

1۔ الف لام میم۔2

2۔اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔وہ قائم اور زندہ رہنے والا ہے۔

3،4۔ (اے محمد) حقیقت کو اپنے اندر سمائے ہوئے اِس کتاب کو اس نے تم پر اتارا ہے۔یہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کی4 تصدیق کرتی ہے۔ اس سے پہلے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانے کے لئے اس نے تورات اور انجیل نازل کی491۔ (جھوٹ سے سچ ) الگ کرنے والا طریقہ بھی عطا کیا۔ اللہ کی آیتوں کاا نکار کرنے والوں کو سخت عذاب ہے۔ اللہ زبردست ، سزا دینے والا ہے26۔ 

5۔ آسما ن 507 اور زمین میں کوئی چیز اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ 

6۔ وہی اپنی چاہت سے رحموں میں تمہیں شکل دیتا ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

7۔ (اے محمد!) اسی نے تم پر کتاب نازل کی۔اس میں واضح احکام کی آیتیں بھی ہیں ، وہی اس کتاب کی اصل ہیں۔ اور ذومعنٰی والی86 دوسری آیتیں بھی ہیں ۔ جن کے دلوں میں خرابی ہے وہ فتنہ کی تلاش میں اور ان کی وضاحت چاہتے ہوئے ان میں ذومعنیٰ آیتوں کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ اور راسخ علم والوں کے سوا اس کی وضاحت(اور) کوئی نہیں جانتا۔ وہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے ، سب ہمارے رب ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہے۔ عقل والوں کے سوا (دوسرے) کوئی غور نہیں کرتے۔

8۔ اے میرے رب! ہمیں سیدھا راستہ دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو بھٹکنے نہ دے81۔ ہمیں اپنی رحمت عطا فرما۔ اور تو ہی بڑافیاض ہے۔ 

9۔(وہ لوگ کہیں گے کہ) اے ہمارے رب! تو ہم سب کو ایک ایسے دن 1میں جمع کر نے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں۔اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ 

10۔ (اللہ کا)انکار کرنے والوں کا مال اور اولادانہیں اللہ سے کچھ بھی نہیں بچا سکتے۔وہی لوگ دوزخ کے ایندھن ہیں۔ 

11۔ فرعون کے خاندان اور ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر جو حالت گزری وہی حالات ان پر بھی گزرے گی۔انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب ان کو سزا دی۔اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

12۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں سے کہہ دو کہ تم مغلوب ہو کر دوزخ کی طرف لے جائے جاؤگے۔ وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

13۔ دو گروہوں کا آمنے سامنے ملنے میں87 تمہارے لئے مناسب ثبوت ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا، اور دوسرا گروہ (اللہ کا ) انکار کرنے والاتھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے انہیں اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے466۔ اللہ جسے چاہتا ہے انہیں اپنی مدد سے قوی بنا دیتا ہے۔ عقلمندوں کے لئے اس میں سبق ہے۔ 

14۔ عورتیں، بیٹے، جمع کئے ہوئے سونے چاندی کے ڈھیر، خوبصورت گھوڑے، چوپائے اور کھیت جیسی پسندیدہ چیزوں کو چاہنا لوگوں کے لئے خوشنما بنادیا گیا ہے۔ یہ اس دنیوی زندگی کے سہولتیں ہیں۔ اوراللہ کے پاس خوبصورت ٹھکانا ہے۔ 88

15۔ کہو کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز بتاؤں؟ (اللہ سے) ڈرنے والوں کوان کے رب کے پاس جنت کے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ پاکیزہ جوڑے8 اور اللہ کی رضامندی بھی ہوگی۔ اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ 488

16۔ وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم کو عذابِ جہنم سے بچالے۔

17۔ (وہ) صبر کرنے والے ، سچ بولنے والے، (اللہ کے) فرماں بردار ، (نیک راہ میں) خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصہ میں گناہوں کی بخشش چاہنے والے ہیں۔ 

18۔ اللہ یقین دلا تا ہے کہ اس کے سوا عبادت کے لا ئق کوئی نہیں۔ فرشتے اور عدل کے قائم رکھنے والے اہل علم بھی (یقین دلاتے ہیں)۔اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ (وہ) زبردست، حکمت والا ہے۔ 

19۔ اللہ کے نزدیک دین، اسلام ہی ہے۔ اہل کتاب27 اپنے پاس علم آنے کے بعد آپس کے حسد ہی کی بناء پر اختلاف کیا۔ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں سے اللہ جلد حساب لینے والا۔ 

20۔ اگر وہ تم سے بحث کریں تو کہہ دو کہ میں اپنا چہرہ اللہ کی تابعداری میں دے دیا۔ میری پیروی کر نے والے بھی(اسی طرح کردئے)۔ اہل کتاب 27اور ان پڑھوں سے پوچھئے کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر وہ اسلام قبول کرلئے تو سیدھی راہ پاگئے۔ اگر وہ منہ پھیرلیں تو صرف سنا دینا ہی تمہارا ذمہ ہے81۔ اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ 488

21۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں، نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں، عدل کا حکم دینے والے لوگوں کو بھی مار ڈالتے ہیں ، انہیں خبردار کردوکہ ایک درد ناک عذاب ہے۔ 

22۔ اس دنیا میں اور آخرت میں اعمال ضائع کرنے والے لوگ وہی ہیں۔ان کا مددگار کوئی نہیں۔ 

23۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جنہیں کتاب27 جیسی خوش بختی عطا کی گئی تھی؟ ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتاہے۔ پھر بھی ان میں سے ایک گروہ لاپرواہی سے جھٹلا دیتا ہے۔ 

24۔ اس کا سبب ان کا یہ کہنا ہے کہ مخصوص چند دن کے سوا ہمیں دوزخ نہیں چھوئے گی۔ ان کی من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے معاملے میں انہیں دھوکہ میں ڈال دیا۔ 

25۔ اس دن1 جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ، ہم انہیں جمع کریں تو کیسا ہوگا؟ ہر ایک کو اس کی محنت کا پورا بدلہ دیا جائیگا 265۔ وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

26۔ کہو کہ اے اللہ! سلطنت کے مالک! تو جس کوچاہے حکومت دیتا ہے، جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے۔تو جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلیل کرتا ہے۔ ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

27۔(اور کہو کہ) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ بے جان سے441 جاندارکو نکالتا ہے اور جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور تو جسے چاہتاہے بے حساب دیتا ہے۔

28۔ ایمان والے، ایمان والوں کو چھوڑ کر (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو ذمہ دار نہیں بنانا چاہئے89، بجز اس کے کہ تم ان سے بچنا چاہو۔جو ایسا کرے گا اس کواللہ کی طرف سے (بچاؤ) نہیں ملے گا۔ اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

29۔ تم کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو ، اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جو کچھ آسمانوں میں507ہے اور زمین میں ہے وہ اس کو جابتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

30۔ جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی اوربرائی کو اپنے سامنے موجود پائے گاتو اس دن1 وہ آرزو کرے گا کہ اس کے اور اس کے (برے) کاموں کے درمیان بہت بڑی دوری ہو۔ اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔نیز اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ 

31۔تم کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا۔ اللہ معاف کرنے والا ، نہایت رحم والا ہے۔ 

32۔ کہہ دو کہ اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیرو تو اللہ (اپنے) منکروں سے محبت نہیں کرتا۔ 

33۔اللہ نے آدم ، نوح ، ابراھیم کے خاندان اور عمران کے گھرانے کو سارے عالم سے منتخب کرلیا۔ 

34۔ ان میں سے بعض، بعض کے اولاد ہیں۔ اللہ سننے والا 488، جاننے والا ہے۔

35۔ یاد کرو جب عمران کی بیوی نے کہا، اے میرے پروردگار! میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اسے میں نے تیرے لئے نذر کردیا ہے۔ وہ (تیرے لئے) پوری طرح سے نذر ہے۔ میری طرف سے (اسے) قبول فرما۔ تو ہی سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

36۔ جب ان کے ہاں بچی پیدا ہوئی تو اس نے کہا، اے میرے پروردگار! مجھے تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے!اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا جنا ہے ۔اس نے کہا، لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے373۔ اس کو اور اسکی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ چاہتی ہوں۔ 

37۔ اس (بچی) کو اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا۔اس کی اچھی طرح پرورش کی۔ اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب بھی زکریا ان کے کمرے میں جاتے تو ان کے پاس کھانے کی چیزیں موجود پا کر پوچھتے، اے مریم! یہ تم کو کہاں سے ملتی ہیں؟ تو (مریم) کہتیں، یہ اللہ کے پاس سے ملتی ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ 

38۔ اس وقت ہی زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، اے میرے پروردگار! تو اپنی طرف سے مجھے ایک پاکیزہ اولادعطا فرما۔ تو ہی دعا سننے والا488 ہے۔ 

39۔ جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے تو فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ اللہ تم کو یحیےٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ اللہ کے کلمہ کی90 تصدیق کرنے والا ہوگا۔ اور وہ سردارہوگا، پاکبازہوگا، نبی اور نیکوکار ہوگا۔

40۔ انہوں نے کہا، اے میرے رب! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری بیوی بانجھ ہے، ایسی حالت میں مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ (اللہ نے) کہا،اللہ جو چاہتا ہے اسی طرح کرتا ہے۔

41۔ عرض کیا ، اے میرے پروردگار! میرے لئے ایک نشانی عطا فرما۔ (رب نے) کہا، تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارے کے سوا بات نہ کرسکوگے۔ اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو۔ صبح اور شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ 

42۔ یاد کرو جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا: اے مریم! اللہ نے تمہیں منتخب کیا ، اور تم کو پاک کیا اور ساری دنیا کی عورتوں کے مقابلہ میں تمہیں فضیلت دی۔

43۔ (اور فرشتوں نے یہ بھی کہا:) اے مریم! تم اپنے رب کے لئے عاجزی اختیار کرو، سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ 

44۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ایک ہے۔(اے محمد!) ہم ہی تمہیں اس کی خبر دے رہے ہیں۔جب وہ لوگ اپنے قلم ڈال رہے تھے (یہ فیصلہ کر نے کے لئے) کہ مریم کی سرپرستی کون کرے تو اس وقت تم ان کے ساتھ نہیں تھے۔ اس کے متعلق وہ بحث کرتے وقت بھی ان کے ساتھ تم نہیں تھے۔ 

45۔ یاد کرو جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! اللہ اپنے کلمہ90 کے بارے میں تمہیں خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح 92عیسیٰ بن مریم ہوگا۔اس دنیا میں اور آخرت میں بڑے مرتبے والا اور (اللہ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ 

46۔ اور (یہ بھی کہا کہ) وہ گہوارے میں بھی اور جوانی میں بھی لوگوں سے بات کرے گا415۔ اور وہ صالحین میں سے ہوگا۔ 

47۔ اس نے کہا کہ اے میرے پروردگار! کوئی مرد مجھے چھوا تک نہیں، ایسی حالت میں مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ (اللہ نے) فرمایا: اللہ جو چاپتا ہے ایسا ہی پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا ، وہ فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ 506

48۔ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل491 سکھائے گا۔67 

49۔ بنی اسرائیل کی طرف (عیسیٰ کو) رسول459 بنا کر بھیجا۔ (اس نے کہا: ) تمہارے پروردگار کی طرف سے میں تمہیں نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں پھونک ماروں گا۔ وہ اللہ کی مرضی 269سے پرندہ بن جائے گا۔ اللہ ہی کی مرضی سے مادر زاد اندھے اور جذامی بھی دور کرتا ہوں۔ مُردوں کو زندہ کرتا ہوں، جو کچھ تم کھاتے ہواور جو چیز تمہارے گھروں میں جمع کررکھتے ہو سب تم کو بتاؤں گا۔ اگر تم ایمان والے ہو تواس میں تمہارے لئے مناسب نشانی ہے۔ 

50۔ اور (یہ بھی کہاکہ) تورات491 کی جو مجھ سے پہلے گزرچکی ہے، تصدیق کر نے کے لئے اورجو چیزیں تم پر حرام کردی گئی ہیں، ان میں بعض کو حلال کرنے کے لئے میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرواور میری تابعداری کرو۔ 

51۔ اور (یہ بھی کہاکہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ 

52۔ ان کے پاس جب عیسیٰ نے (اللہ کا) انکار محسوس کیا تو پوچھا، اللہ کے لئے میری مدد کرنے والا کون؟ (ان کے) حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ہم اللہ پر ایمان لائے اور تم ہی گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں295۔

53۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اے ہمارے پروردگار! جو تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے، اس رسول کی پیروی کی۔ پس ہمیں اس کی گواہ دینے والوں میں لکھ لے۔ 

54۔ (عیسٰی کے دشمنوں نے) سازش کی، اللہ نے بھی سازش کی6۔ اللہ سب سے بہتر سازش کر نے والا ہے۔

56, 55۔یاد کرو جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ! میں تمہیں گرفت کر نے والا93 ہوں۔ میری طرف تمہیں اٹھا لینے والا456 ہوں، (میرے) انکار کرنے والوں میں سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں، اور تمہاری پیروی کر نے والوں کو (میرے) انکار کرنے والوں سے زیادہ قیامت کے دن 1تک اونچی مقام پر رکھنے والا ہوں448۔پھر میرے ہی پاس تمہارا لوٹنا ہے، تمہارے درمیان تمہارے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہوں۔ (میرے) انکارکر نے والوں کو اس دنیا میں اور آخرت میں سخت سزا دوں گا۔ انہیں کوئی مددگار نہیں ہوگا۔26 

57۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اللہ ان کا پورا اجر دے گا۔ظلم کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

58۔ (اے محمد!) یہ خبر جو ہم تم کو سنا رہے ہیں، (ہماری) آیتیں اور حکمت بھری نصیحت ہیں۔ 

59۔ اللہ کے ہاں عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے459۔ اس کو مٹی سے بنا کر ہوجا 506کہا تو پس وہ ہوگیا۔ 368

60۔یہ حق بات تیرے رب کی طرف سے ہے۔ پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔ 

61۔ تمہارے پاس وضاحت آنے کے بعد اس کے متعلق کوئی تم سے بحث کریں تو ان سے کہو، آؤ، ہمارے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو، ہماری عورتیں اور تمہاری عورتوں کو بلالیں، ہم بھی آتے ہیں، تم بھی آؤ۔ پھر ہم سب مل کر اللہ سے گڑگڑائیں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ 94&449

62۔ یہی سچی تاریخ ہے۔ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اللہ ہی زبردست ہے ، حکمت والا ہے۔ 

63۔ اگر تم جھٹلاؤگے تو فساد کرنے والوں کو اللہ جانتا ہے۔ 

64۔ کہو اے اہل کتاب27! آؤ ایک ایسے عقیدے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان عام ہے کہ ہم اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کریں ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک تصورنہ کریں۔ اللہ کے سوا ہم میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔اگر وہ جھٹلادیں تو کہہ دو کہ تم ہی گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار ہیں295۔ 

65۔ اے اہل کتاب27! تم ابرہیم کے متعلق کیوں بحث کرتے ہو؟ حالانکہ تورات اور انجیل491 تو ان کے بعد ہی نازل کی گئیں۔ کیا تم نہیں سمجھتے؟

66۔ جس چیز کے متعلق تمہیں علم تھا (اب تک) تم نے بحث کی۔ جس چیز کے بارے میں تمہیں علم نہیں اس سے متعلق کیوں بحث کررہے ہو؟ اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ 

67۔ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی۔ بلکہ وہ سچائی کے راہ میں فرماں بردار295 بندہ تھا۔ وہ شرک کرنے والے بھی نہ تھے۔ ۔ اے اہل کتاب27! تم کیوں سچ کو جھوٹ کے ساتھ ملا رہے ہو؟ جانتے ہوئے بھی کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟

68۔ ابرہیم کے معاملے میں زیادہ حقدار لوگ ان کے پیروی کرنے والے، یہ نبی اور ایمان والے ہی ہیں۔ اور اللہ ہی مومنوں کا حفاظت کرنے والا ہے۔ 

69۔ اہل کتاب27 میں سے ایک گروہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہیں احساس نہیں۔

70۔ اے اہل کتاب27! تم لوگ جانتے ہوئے بھی کیوں اللہ کی آیتوں کاانکار کرتے ہو؟ 

71۔ اے اہل کتاب27! تم کیوں سچ کو جھوٹ کے ساتھ ملا رہے ہو؟ جانتے ہوئے بھی کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟

72۔ اہل کتاب27 میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ ایمان والوں پر جو نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو بھول جاؤ۔ اس وقت ہی (دوسرے لوگ بھی اس دین سے) دور ہوں گے۔ 

73۔ (اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) یہ یقین نہ کرو کہ تمہارے دین کی پیروی کرنے والوں کے سوا (دوسروں کوبھی) تمہاری ہی طرح دیا جائے گا یا تمہارے پروردگار کے پاس وہ تم پر فتح پاجائیں گے۔ کہہ دو کہ سیدھا راستہ تو اللہ ہی کا راستہ ہے۔ کہہ دو کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔ 

74۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کرلیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑا فضل والا ہے۔ 

75۔ اہل کتاب27 میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ان پر بھروسہ سے ایک ڈھیر بھی ان کے حوالے کرو تو وہ تم کو واپس کردیں ۔ اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم ان پر بھروسہ سے ایک سونے کا سکہ بھی دو تو سوائے ان سے باربار اصرار کئے وہ تمہیں واپس نہ دیں ۔ یہ اس سبب سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھ قوم کے معاملے میں ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ جانتے ہوئے بھی وہ اللہ پر جھوٹی باتیں گھڑتے ہیں۔ 

76۔ ایسا نہیں ہے! جو شخص اپنا وعدہ پورا کرلے اور (اللہ سے) ڈرے تو اللہ (اس سے) ڈرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ 

77۔ اللہ سے کئے ہوئے عہد اور اپنی قسموں 64کو حقیر قیمت پر445 بیچنے والوں کو آخرت میں کوئی خوش بختی نہیں۔ قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا488۔ انہیں پاک بھی نہیں کرے گا۔ انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ 

78۔ان میں ایک فرقہ ہے ، وہ کتاب الہٰی پڑھنے کی طرح اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ وہ کتاب پڑھ رہے ہیں ، حالانکہ وہ کتاب میں نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں ۔ جانتے ہوئے بھی وہ اللہ کے نام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ 

79۔ اللہ کسی آدمی کو جب کتاب، حکمت164 اور نبوت دے تو (اس کے بعد) اس آدمی کو لوگوں سے یہ کہنے کا اختیار نہیں کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ بلکہ (نبی نے یہی کہاکہ) تم کتاب الہٰی سکھاتے ہواور اس کو پڑھتے بھی ہو تو اللہ والے ہوجاؤ۔ 

80۔ وہ تمہیں یہ حکم نہیں دے گاکہ فرشتوں اور نبیوں کوتم رب بنالو۔ تم مسلمان 295ہو نے کے بعد کیاوہ تمہیں(اللہ سے) انکارکا حکم دے گا؟ 

81۔ جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا 95کہ میں نے کتاب اور حکمت 67دینے کے بعدجو تمہارے پاس ہے اس کو سچا ثابت کرنے والا رسول تمہارے پاس آئے تو کیا تم اس پر ایمان لاؤگے؟ کیا تم اس کی مدد کروگے؟ اللہ نے جب کہا، کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو؟ اور میرے قوی عہد کو قبول کرتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں۔ اس نے کہا، تم ہی اس کے گواہ رہو، تمہارے ساتھ میں بھی گواہ ہوں۔

82۔ پس جنہوں نے منہ موڑا وہی بدکار ہیں۔ 

83۔ اللہ کے دین کو چھوڑ کرکیا وہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں؟ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہیں خوشی سے یانا خوشی سے اسی کے زیر فرمان ہیں96۔ اسی کے پاس وہ لوٹائے جائیں گے۔ 

84۔ کہہ دوکہ ہم اللہ پر، جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اس پر،جو اتارا گیا ابراہیم، اسماعیل, اسحاق ، یعقوب اور (ان کے)اولاد پر، اور جو دیا گیا ہے اللہ کی طرف سے موسٰی، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں پرہم ایمان لے آئے۔ان میں ہم کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے37۔ ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ 

85۔ جو شخص اسلا م کے سوا کوئی اور دین چاہے گا اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ 

86۔ اپنے پاس واضح دلیلیں آچکی، اور وہ سمجھ چکے کہ یہ رسول (محمد) سچے ہیں، اس پر ایمان لانے کے بعدانکار کرنے والے لوگوں کو اللہ سیدھا راستہ کیسے دکھائے گا؟ ظلم کرنے والوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ 

87۔ ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت، فرشتوں اور تمام (نیک) لوگوں کی لعنت ہو۔ 6

89,88۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی ، ان کے سوا (دوسروں کو) عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔ مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔26

90۔ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد انکار کیا، پھر (اللہ کے) انکار میں بڑھتے ہی گئے ، ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائیگی۔یہی گمراہ لوگ ہیں۔ 

91۔ جن لوگوں نے (اللہ کا)انکار کیااور انکار ہی کی حالت میں مر گئے ،تو وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دیں تو قبول نہیں کیا جائیگا۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، انہیں مددگار کوئی نہیں۔ 

پارہ نمبر ۔ 4

92۔ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے (نیک راہ میں) جب تک خرچ نہ کروگے تم ہرگز نیکی نہیں پاؤگے78۔ جو چیز بھی تم(نیک راہ میں) خرچ کروگے اللہ اس سے باخبر ہے۔

93۔ تورات491 نازل ہونے سے پہلے اسرائیل (یعقوب) نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، اس کے سوا کھانے کی تمام چیزیں اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ (اے محمد!یہودیوں سے ) کہو کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور پڑھ کر سناؤ۔97

94۔ اس کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ہی ظالم ہیں۔

95۔ کہہ دو کہ اللہ سچ ہی کہا ہے۔ پس تم ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔وہ سچائی کی راہ پرقائم تھے، شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔

96۔ساری دنیا کے لئے ہدایت سے بھری، برکت والی اور لوگوں کے لئے بنائی گئی پہلی عبادت گاہ33 بکہ (یعنی مکہ) میں ہے۔

97۔ اس میں واضح دلیلیں438 اور مقامِ ابراہیم35 بھی ہے۔ اس میں داخل ہونیوالا حفاظت پاگیا34۔ اس گھر میں33 اللہ کے لئے حج کرنا،جانے آنے کی طاقت رکھنے والوں پر فرض ہے۔اگر کوئی (اللہ کا) انکار کرے تواللہ تمام دنیاوالوں سے بے نیاز ہے۔485

98۔ کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب27! اللہ کی آ یتوں کو قبول کرنے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے488۔ 

99۔ کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب27! تم ایمان والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو؟ تم جانتے ہوئے بھی اس کو ٹیڑھی (راہ) بناکر پیش کرتے ہو۔تمہارے کاموں سے اللہ بے خبر نہیں ہے۔ 

100۔ اے ایمان والو! اہلِ کتاب27 میں سے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تم ایمان والوں کو(اللہ کا) انکار کرنے والے بنا دیں گے۔ 

101۔ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جارہی ہیں اور اس کے رسول (محمد) بھی تمہارے ساتھ ہیں، اس حالت میں تم (اللہ کا) انکار کیسے کررہے ہو؟ اللہ کو مضبوطی سے تھامنے والا سیدھی راہ پر پہنچایا گیا۔

102۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ مسلم ہی295 کی حالت کے سوا نہ مرو۔ 

103۔تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو98۔جدا نہ ہوجانا۔ تم لوگوں کی دشمنی کے حالت میں اللہ تم پر جو احسان کیااس کو یاد کرو۔ وہ تمہارے دلوں کے درمیان جوڑ پیدا کی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ تم دوزخ کے کنارے پر تھے، اس سے وہ تم کو بچالیا۔ تم سیدھی راہ پانے کے لئے اللہ اسی طرح اپنی دلیلیں واضح کرتا ہے۔ 

104۔ نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور سیدھی راہ کی طرف بلانے کے لئے تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہئے۔ وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

105۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے پاس واضح دلیلیں آنے کے بعد اختلاف کیا اور متفرق ہوگئے۔ ان ہی کے لئے سخت عذاب ہے۔ 

106۔ اس دن چند چہرے سفید ہوں گے، اور چند چہرے سیاہ ہوں گے۔ سیاہ چہرے والوں سے (کہا جائے گاکہ) کیا تم ایمان لانے کے بعد (اللہ کا) انکار کردیا؟ تمہارے انکار کی وجہ سے اس عذاب کو چکھو۔ 

107۔ سفید چہرے والے اللہ کی رحمت میں ہوں گے۔اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

108۔ یہ حقیقت کو سمائے ہوئے اللہ کی آیتیں ہیں۔ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ دنیا والوں پر ظلم ڈھانا اللہ چاہتانہیں ہے۔ 

109۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سارے معاملات اللہ ہی کے پاس لوٹائے جائیں گے۔ 

110۔ تم انسانوں کے لئے منتخب کئے گئے ایک بہترین امت ہو۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو۔ اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب27 بھی ایمان لے آتے تو وہ ان کے لئے بہتر ہوتا۔ان میں ایمان والے بھی ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر بدکار ہیں۔

111۔ وہ تمہیں ستانے کے سوا کوئی بھی نقصان پہنچا نہیں سکتے۔ اگر وہ لوگ تم سے لڑنے آئیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر وہ مددبھی نہیں کئے جائیں گے۔ 

112۔ سوا اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہد ہو، وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں انہیں ذلت مقدر کردی گئی ہے۔ وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ انہیں محتاجی بھی مقدر کردی گئی99۔یہ اس واسطے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو قبول کر نے سے انکار کیا اور نبیوں کو ناحق قتل کیا۔یہ بھی اس واسطے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جا تے تھے۔

113۔ وہ سب یکساں نہیں۔اہل کتاب27میں سیدھے لوگ بھی ہیں۔ رات کے اوقات میں وہ اللہ کی آیتیں پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ 

114۔ وہ اللہ اور آخرت کے دن1 پر ایمان رکھتے ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ نیک کاموں کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہی نیک لوگ ہیں۔

115۔وہ جو بھی نیکی کریں اس کا انکار نہیں کیا جائے گا۔ (اس سے) ڈرنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ 

116۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو ان کی اولاد اور مال اللہ سے انہیں کچھ بھی بچا نہیں سکتی۔ وہ جہنمی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہینگے۔

117دنیا کی اس زندگی میں وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اس کی مثال بالکل ٹھنڈی ہوا کی سی ہے۔ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان لوگوں کی کھیتی پر وہ ہوا چلتی ہے اور اس کو برباد کردیتی ہے۔ اللہ ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ 

118۔ اے ایمان والو!اپنوں کو چھوڑ کر تم غیروں کو دوست نہ بناؤ89۔ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچے۔ ان ہی کے منہ سے ان کی دشمنی ظاہر ہوگئی۔ جو ان کے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے زیادہ ہے۔ اگر تم سمجھنے والے ہوتو (اپنی) آیتوں کو ہم نے واضح کردی ہیں۔ 

119۔ تم تو انہیں چا ہتے ہو۔وہ تمہیں نہیں چاہتے۔ تم سب کتابوں کو مانتے ہو۔ وہ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ جب تنہا ہوتے ہیں تو تمہارے مقابلہ میں غصے کی وجہ سے ناخن کاٹنے لگتے ہیں۔ تم کہہ دو کہ اپنے غصے کے سبب تم مرجاؤ۔ اللہ جانتا ہے جو دلوں میں ہے۔

120۔ تمہیں اگر بھلائی پہنچے تو وہ انہیں رنج ہو تا ہے۔ تمہیں اگر برائی پہنچے تواس سے وہ خوش ہوتے ہیں۔ تم اگر صبر کرو اور (اللہ سے) ڈرو تو ان کی سازش تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ پوری طرح جانتا ہے۔ 

121۔ (اے محمد!) اس وقت کو یاد کرو جب ایمان والوں کو جنگ کی میدان میں کھڑاکرنے کے لئے تم اپنے گھروالوں کو چھوڑکر نکلے تھے۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 53

122۔ تم میں دونوں جماعتوں کو اللہ مدد پہنچانے کی حالت میں وہ دونوں جماعتیں بزدلی دکھانے کا ارادہ کیا196۔ ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔

123۔ جب تم کمزور حالت میں تھے تو اللہ نے بدر کے میدان میں تمہیں مدد پہنچائی۔ پس تم شکر ادا کر نے کے لئے اللہ سے ڈرو۔ 

124۔ (یاد کرو) جب تم ایمان والوں سے کہہ رہے تھے کہ(آسمان سے) اتارے ہوئے تین ہزار فرشتوں کے ذریعے تمہارے رب نے تمہاری مدد کی، کیا تمہیں کافی نہیں؟ 

125۔ اتناہی نہیں،جب تم صبر کے ساتھ (اللہ سے) ڈرو تو اگر وہ اچانک تمہارے پاس (جنگ کے لئے) آجائیں توفنِ جنگ سے واقف پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعے اللہ تمہیں مدد کرے گا۔

126۔ تمہیں خوشخبری سنانے کے لئے اور تمہارے دل اس کے ذریعے مطمئن ہو نے کے لئے ہی اللہ نے یہ اہتمام کیا تھا۔ غالب و حکمت والے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ 

127۔ (اللہ کا) انکارکرنے والوں میں سے ایک گروہ کو مٹانے یا انہیں شکست کے ساتھ واپس کربھیج کر ذلیل کر نے ہی کے لئے(اللہ نے مدد کی)۔ 

128۔ (اے محمد!) تمہارے اختیار میں کچھ نہیں100۔ وہ انہیں معاف کرے یا سزا دے۔ اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ 480

129۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے ، جس کو چاہے سزا دے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

130۔ اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود84 نہ کھاؤ۔ اللہ سے ڈرو۔ اس سے تم کامیاب ہوجاؤگے۔ 

131۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے تیار کی ہوئی جہنم سے ڈرو۔ 

132۔ اللہ اور اس رسول (محمد) کی تابعداری کرو۔تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

133۔ تمہارے رب کی طرف سے ملنے والی بخشش کی طرف اور آسمان507 و زمین کے وسعت والی جنت کی طرف دوڑو۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے وہ تیار کی گئی ہے۔ 

134۔ وہ لوگ خوشحالی اور تنگدستی میں بھی (اچھی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ غصہ کو پی جاتے ہیں۔ لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ نیکو کاروں کو اللہ چاہتا ہے۔ 

135۔ وہ کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنے آپ پر ظلم کریں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں سے معافی چاہتے ہیں۔ اللہ کے سوا گناہوں کو بخشنے والا کون ہے؟ اپنی کرتوتوں کو جانتے ہوئے بھی وہ اڑے نہیں رہتے۔ 

136۔ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش اور جنت کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (اچھے) عمل کرنے والوں کا صلہ بہت اچھا ہے۔

137۔ تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں۔ پس تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لوکہ (سچائی کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا تھا۔ 

138۔ یہ لوگوں کے لئے وضاحت اور ہدایت اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

139۔ ہمت نہ ہارو۔ غم نہ کرو۔ اگر ایمان والے ہو تو تم ہی بلند رہوگے۔

140۔ اگر تمہیں (جنگ میں) ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی طرح زخم لگ چکا ہے۔ہم زمانے کولوگوں میں گھماتے ہیں۔ایمان والوں کی نشاندہی کرنے اور تم میں سے شہیدوں کو بنانے کے لئے ہی (اس طرح تکلیف دیتا ہے)۔ ظلم کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

141۔ اللہ ایمان والوں کو پاک کرنے کے لئے اور انکار کرنے والوں کو مٹانے کے لئے ہی (ایسا کرتا ہے)۔ 

142۔ تم میں قربان کر نے والوں کو اللہ نشاندہی نہیں کیا، صبر کرنے والوں کا پتا نہیں دیا، کیا تم سمجھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤگے؟ 

143۔ (بہادرانہ) موت کا سامنا کر نے سے پہلے تم اس کے آرزومند تھے۔ اب اسے آنکھوں کے سامنے ہی دیکھ لیا۔ 

144۔ محمد ایک رسول کے سواکچھ نہیں۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے101۔ اگر وہ مرجائیں یا قتل کردئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ بگاڑہی نہیں سکتے۔ شکر گذاروں کو اللہ بدلہ دے گا۔ 

145۔اللہ کی مرضی کے بغیرکوئی جان مر نہیں سکتی۔یہ وقت مقرر شدہ قانون ہے۔ جو اس دنیا کا بدلہ چاہتا ہے اسے وہ دیتے ہیں، جو آخرت کا بدلہ چاہتا ہے اسے وہ دیتے ہیں۔ شکر گزاروں کو صلہ دیتے ہیں۔ 

146۔ کتنے ہی نبیوں کے ساتھ مل کر کئی فوجوں نے جنگ کی ہے۔اللہ کی راہ میں جو انہیں( تکلیفیں) پہنچیں نہ وہ پست ہمت ہوئے،نہ کمزورپڑے اور نہ ہی عاجز ہوئے۔ صبر کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

147۔ ان کی دعا بس یہی تھی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو اور ہمارے کاموں میں جو زیادتی ہوئی اس کو معاف کردے۔اور ہمیں ثابت قدم رکھ۔ (تیرا) انکار کرنے والوں کے مقابلے میں ہمیں مدد فرما۔ 

148۔ پس اللہ نے انہیں اس دنیا کا بدلہ اور آخرت کا اچھا صلہ بھی دیا۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

149۔ اے ایمان والو! اگر تم(اللہ کا) انکار کرنے والوں کے تابع ہوگئے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر دیں گے۔اس سے تم نقصان میں پڑ جاؤگے۔ 

150۔ بلکہ اللہ ہی تمہارا والی ہے۔ اور وہی مددگاروں میں بہتر ہے

151۔ اللہ کوئی دلیل عطا نہ کرنے کے باوجود اس کا شریک ٹہراؤگے تو (ہمارے) انکار کرنے والوں کے دلوں میں ہیبت پیدا کردیں گے۔ ان کے پہنچنے کی جگہ دوزخ ہے۔ ظلم کر نے والوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔ 

152۔ جب تم اللہ کی مرضی کے مطابق انہیں قتل کررہے تھے تو وہ اپنا وعدہ تم پر سچ کردکھایا۔ پست ہمتی سے تم نے اس معاملے میں اختلاف کیا۔ تم جو چاہتے تھے وہ تمہیں دکھانے کے بعد بھی (اسکی) نافرمانی کی۔ تم میں اس دنیا کے چاہنے والے بھی تھے اور آخرت کے چاہنے والے بھی تھے۔ تمہیں آزمانے کے لئے484 ان (پر فتح پانے) سے وہ تمہیں پھیر دیا۔اور تمہیں معاف کیا۔ ایمان والوں پر اللہ بڑا فضل والا ہے۔ 

153۔ یاد کرو جب تمہارے پیچھے یہ رسول(محمد) تمہیں پکار رہے تھے تو تم کسی کی طرف مڑکر دیکھے بغیر (پہاڑپر) چڑھے جا رہے تھے۔اس وجہ سے کہ (کامیابی) تمہارے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی ، جس سے جو تکلیف پہنچی اس پر رنجیدہ نہ ہونے کیلئے اس سے زیادہ غم کاوہ تمہیں انعام دیا102۔جو تم کرتے ہواللہ خوب جانتا ہے۔ 

154۔ پھر غم کے بعد تمہیں دلی سکوں دینے کے لئے اونگھ پیدا کی۔تم میں سے ایک گروہ پر وہ طاری تھی۔ دوسرے ایک گروہ کو غم نے تھام لیا۔ وہ اللہ کے بارے میں حقیقت کے خلاف زمانہ جاہلیت کے خیالات رکھتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ کیا ہمیں تھوڑی سی اختیار ملے گی؟ کہہ دو کہ تمام اختیارات اللہ ہی کے لئے ہے۔ جو تم سے ظاہراً نہیں کہا وہ باتیں وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں تھوڑا بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ تم کہہ دو کہ تم اگر تمہارے گھروں میں بھی ہوتے اور تمہارا قتل کیا جانا قسمت میں ہوتا تو وہ اپنے مقتل کی طرف چلے گئے ہوتے۔ تمہارے دلوں میں جو ہے اس کو آزمانے کے لئے484 اورتمہارے دلوں جو ہے اس کو پاک کر نے کے لئے اللہ نے ایسا کیا ہے۔دلوں میں جو ہے اللہ اسے جانتا ہے۔

155۔ جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تم میں سے پھر جانے والوں کو ان کے بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے گمراہ کردیا۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے۔

156۔ اے ایمان والو! تم ان (اللہ کا) انکار کر نے والوں کی طرح نہ ہوجاؤجو سفر میں یا جنگ میں گئے ہوئے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے تھے کہ اگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان کے دلوں میں حسرت پیدا کرنے کے لئے ہی اللہ نے ویسا کیا ہے۔ اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ جو تم کرتے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔ 488

157۔ اللہ کی راہ میں تم مارے جاؤ یا مرجاؤ اللہ کی طرف سے ملنے والی بخشش اور رحمت وہ لوگ جمع کر نے والی چیزوں سے بہتر ہے۔ 

158۔ تم مر جاؤ یا مارے جاؤ اللہ کے پاس ہی جمع کئے جاؤگے۔

159۔ (اے محمد!) اللہ کی رحمت کے باعث ہی تم ان سے نرمی کا سلوک کرتے ہو۔اگر تم سخت مزاج اور سنگ دل ہوتے تو وہ تم سے بھاگ جاتے۔ انہیں درگزر کردو۔ ان کے لئے مغفرت مانگو۔ معاملات میں ان سے مشورہ کرو۔پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

160۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب آنہیں سکتا۔ اگر وہ مدد کرنے سے انکار کردے تو اس کے بعد تمہیں مدد کرنے والا کون ہے؟ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ 

161۔ خیانت کرنا کسی نبی پر مناسب نہیں۔خیانت کرنے والا خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے1 دن لے آئے گا۔ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا دیا جائے گا265۔ وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

162۔ اللہ کی مرضی پایا ہوا شخص کیا اس جیسا ہوگا جو اللہ کے غضب کا مستحق ہو کر دوزخ حاصل کرلیا؟ (وہ) بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

163۔ انہیں اللہ کے پاس بہت سے درجے ہیں۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ دیکھ رہا ہے۔ 488

164۔ ایمان والوں کو انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجنے کے ذریعے اللہ نے ان پر بڑا احسان کیا۔ انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتاہے۔ انہیں پاک کرتاہے۔ انہیں کتاب اور حکمت67 سکھاتا ہے۔ اس کے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔36

165۔ (جنگ بدر میں) اس سے دوگنا (دشمنوں کو) تم پہنچا چکے ہو۔جب (جنگ احد میں) تمہیں تکلیف پہنچی تو پوچھ رہے ہو کہ یہ کیسے ہوا؟ کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی طرف سے ہوا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

167,166۔ جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی اس دن جو تم پر گزری وہ اللہ کی مرضی سے ہوئی۔ ایمان والوں کی نشاندہی کر نے کے لئے اور منافقوں کا پتا دینے کے لئے (واقع ہوئی)۔ ان سے کہا گیا کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا( دشمنوں کو )روکو تو وہ کہنے لگے کہ اگر جنگ کرنا ہمیں معلوم ہوتا توہم ضرورتمہارے پیچھے چلتے۔ اس دن وہ ایمان کی بہ نسبت (اللہ کے) انکارکے بہت قریب تھے۔ جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اسے وہ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے۔ جسے وہ چھپاتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے۔ 26

168۔ جو جنگ میں نہیں گئے وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان کر (جنگ میں ) نہ گئے ہوتے تو مارے نہیں جاتے۔ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو تم سے تمہاری موت کو روک کر دیکھو۔ 

169۔ اللہ کی راہ میں جو مارے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں41 اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔ 

170۔ اللہ کے دئے ہوئے فضل سے وہ خوش ہورہے ہیں۔یہ سوچ کر وہ خوش ہو رہے ہیں کہ جو (اب تک) ان سے ملے نہیں اور پیچھے (شہید ہو کر) آنے والے ہیں، انہیں کوئی خوف ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔

171۔ اللہ کی طرف سے ملی ہوئی خوش نصیبی اور فضل کے بارے میں ، اور اس بات پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں، وہ لوگ خوش ہو رہے ہیں۔ 

172۔ وہ لوگ (جنگ میں) زخم لگنے کے بعد بھی اللہ اور اس رسول کو جواب دیا۔ ان میں نیک کام کرنے والے اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کو بہت بڑا اجر ہے۔ 

173۔ ان کے پاس چندآدمیوں نے کہاکہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہوچکے، پس تم ان سے خوف کھاؤ۔یہ انہیں ایمان میں اضافہ کردیا۔اور وہ کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ وہی بہترین کارساز ہے۔

174۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے۔ انہیں کوئی ضررنہیں پہنچی۔ انہوں نے اللہ کی رضامندی حاصل کرلی۔ اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ 

175۔ اپنے دوستوں کو شیطان (اس طرح) ڈراتا ہے۔ پس اگر تم مومن ہو تو ان سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈرو۔ 

176۔ (اللہ کے) انکار کی طرف بڑھنے والوں کے متعلق تم فکر نہ کرو۔ وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ انہیں آخرت میں کوئی خوش نصیبی نہ ہو۔ ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ 

177۔ ایمان بیچ کر (اللہ کا)انکار خریدنے والے اللہ کا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتے۔ انہیں دردناک عذاب ہے۔ 

178۔ (اللہ کا) انکار کرنے والے یہ نہ خیال کریں کہ ہم انہیں جو چھوڑ رکھا ہے وہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ یہ مہلت اس لئے کہ گناہوں کو وہ اور بڑھا لیں۔ ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ 

179۔ نیک لوگوں سے برے لوگوں کووہ جدا نہ کرکے دکھائے بغیر تم جس طرح (برے لوگوں سے مل کر) رہتے ہو اسی طرح (مل کر رہنے کے لئے) اللہ ایمان والوں کو نہیں چھوڑے گا103۔ اللہ تمہیں غیب کی باتوں سے آگاہ کر نے والا نہیں۔ بلکہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے منتخب کرلیتا ہے104۔ پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اگر تم ایمان لاؤ اور (اللہ سے) ڈرو تو تمہارے لئے بڑا اجر ہے۔ 

180۔ اللہ کی عطا کی ہوئی فضل میں بخل کر نے والے ، یہ نہ خیال کریں کہ وہ ان کے لئے بہتر ہے۔بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے۔ وہ جن چیزوں میں بخل کر رہے تھے اس کے ذریعے قیامت کے دن1 گلا گھونٹا جائے گا۔ آسمانوں507 اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 

182,181۔ اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا485جو کہہ رہے تھے کہ اللہ حاجتمند ہے اور ہم بے نیاز ہیں۔ ہم نے ان کا یہ قول اور انبیاء کو ناحق قتل کرنا سب لکھ لیں گے۔ ہم کہیں گے کہ جلانے والا عذاب چکھو، یہ تمہارے اپنے کئے کا نتیجہ ہے۔اللہ اپنے بندوں پر ظلم کر نے ولا نہیں۔ 26

183۔ انہوں نے کہا ، اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہمارے پاس ایک نذر آئے اور اسے جب تک آگ نہ کھا جائے ہم کسی پیغمبر کو نہ مانیں۔(اے محمد!) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبر واضح دلیلیں اور تمہاری طلب کی چیزیں لے آئے۔ اگر تم سچے ہو تو انہیں کیوں قتل کر ڈالا؟ 

184۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھوٹے سمجھے گئے تھے۔وہ واضح دلیلیں، صحیفے اور منور کتاب لے آئے تھے۔ 105

185۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔قیامت کے دن 1تمہیں پورا اجردیا جائے گا۔جس کو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ دنیا کی یہ زندگی دھوکے کی پونجی کے سواکچھ نہیں۔

186۔ تمہارے مالوں اور جانوں سے تم آزمائے جاؤگے484۔ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی27 ان سے اور مشرکوں سے تم بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے۔ اگر تم صبر کرواور( اللہ )سے ڈروگے تو وہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔ 

187۔ اللہ نے جب اہل کتاب27 سے عہد لیا کہ اسے سب لوگوں کو واضح کروگے اور اسے چھپاؤگے نہیں تو انہوں نے اسے پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ اور اسے حقیر قیمت پر بیچ ڈالا445۔ (اس کے عوض میں) انہوں نے جو خریدا وہ بہت ہی برا ہے۔ 

188۔ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے ناکردہ کاموں پر ان کی تعریف کی جائے، انہیں تم عذاب سے بری نہ سمجھو۔انہیں درد ناک عذاب ہے۔ 

189۔ آسمانوں507 اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادرہے۔ 

190۔ آسمانوں507 اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن بدل بدل کر آنے میں عقل والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔ 

191۔ وہ کھڑے، بیٹھے اور سونے کی حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ آسمانوں507 اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب بے کار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے10۔پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

192۔ (وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! دوزخ میں جا نے والے کو تو نے رسوا کردیا۔ظلم کرنے والے کو کوئی مددگار نہیں۔

193۔ ایمان کی طرف پکار نے والے کی پکار، اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم نے اس کی پکار پر کہا کہ اے ہمارے رب! ہم نے سن لیا، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دے۔نیک لوگوں کے ساتھ ہمیں موت دے۔ 

194۔ اے ہمارے پروردگار! اپنے پیغمبروں کے ذریعے تو ہم سے جو وعدہ کیا تھاوہ ہمیں عطا فرما۔ قیامت کے دن1 ہمیں رسوا نہ کر۔تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

195۔ ان کے رب نے انہیں جواب دیا کہ تم میں مرد ہو یا عورت، میں کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا۔ تم میں بعض ، بعض سے (ہوئے) ہو۔جن لوگوں نے حجرت کی460 ، اپنے دیس سے نکالے گئے، میری راہ میں ستائے گئے، جنہوں نے جنگ کی اور قتل کئے گئے، میں ان کی گناہیں ان سے مٹادوں گا53۔ انہیں جنت کے باغات میں داخل کروں گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ (یہ) اللہ کا اجر ہے، اللہ کے پاس بہترین اجر ہے۔ 

196۔ (اللہ کا) انکار کرنے والے تمام شہروں میں (عیش و آرام سے) چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ 

197۔ یہ ادنیٰ سا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ بہت برا ٹھاکانا ہے۔ 

198۔ البتہ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے لئے جنت کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) اللہ کی مہمانی ہے، جوکچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہتر ہے۔

199۔ اہل کتاب میں27 ایسے بھی ہیں جو اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہوئے اللہ پر، تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اس پر، ان کی طرف جو اتارا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے نہیں445۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

200۔ اے ایمان والو! صبر کرو۔ صبر کرنے میں (دوسروں سے) سبقت لے جاؤ۔ ثابت قدم رہو۔ اللہ3 سے ڈرو۔کامیاب ہوگے۔

سورہ : 4  النساء ۔ عورتیں

کل آیتیں: 176 

اس سورت میں عورتوں کے حقوق ، ازدواجی زندگی اور طلاق وغیرہ کے بارے میں کہا گیا ہے، اسلئے اس کا نام ’عورتیں‘ رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ اے لوگو! تم اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی شخص سے368 پیدا کیا۔ پھر اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ ان دونوں سے504 بہت سے مرو اور عورتیں بڑھاتا چلا گیا368۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے درخواست کرتے ہو۔اور رشتہ داروں کے معاملے میں بھی (ڈرو)۔ اللہ تمہاری نگرانی کررہاہے۔

2۔ یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو۔ (ان کے مال کی) اچھی چیزیں (تمہارے) گھٹیا چیزوں سے بدل نہ ڈالو۔ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ 

3۔ اگر تمہیں ڈر ہے393 کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے تو عورتوں میں جو تمہیں اچھی لگے دو دو یا تین تین یا چار چار سے نکاح کرلو106۔اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ(بیویوں کے درمیان) انصاف نہ کرسکوگے تو ایک ہی سے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی سے 107(اکتفا کرلو)۔ حد سے نہ بڑھنے کے لئے یہی قریبی راستہ ہے۔ 

4۔ عورتوں کو ان کے مہر108ضرور ادا کردو۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑدیں دلی اطمینان اور شوق سے کھاؤ۔ 

5۔ اللہ جس مال پر تمہیں منتظم کیا ہے اس کو اس کے نا سمجھ (حقداروں) کے پاس نہ دو۔اس میں سے انہیں کھلاؤ، پہناؤاور ان سے اچھی بات کہو۔ 

6۔ یتیموں کو جانچ کر دیکھو۔ اگر وہ نکاح کے قابل ہوجائے اور ان میں وہ صلاحیت بھی پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔بے کار خرچ نہ کرو اور ان کے بڑے ہوجانے کے ڈر سے اسے جلد جلد نہ کھا جاؤْ۔جو مالدار ہے وہ (یتیموں کے مال بغیرچھوئے ) خود دار بنا رہے۔ جو غریب ہے وہ (دیکھ بھال کی اجرت کے طور پر) انصاف سے کھاسکتے ہیں۔جب ان کے مال ان کے حوالے کردو تو ان کے معاملے میں گواہ بنالو۔ اللہ نگرانی کے لئے کافی ہے۔ 

7۔ کم ہو یا زیادہ والدین اور رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے۔ والدین اور رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہے۔ یہ تقسیم بالکل فرض ہے۔ 

8۔ تقسیم کرتے وقت رشتہ دار اور یتیم اورغریب آجائیں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دو۔ اور انہیں اچھی بات کہو۔ 

9۔سمجھو کہ وہ اپنے پیچھے کمزور نسل چھوڑ جارہے ہیں تو جس طرح ان کے معاملے میں ڈرتے ہیں اسی طرح (یتیموں کے بارے میں بھی) ڈریں۔ اللہ سے ڈرے اوروہ معقول باتیں ہی کہے۔

10۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاجا تے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی کھا(کے بھر) رہے ہیں۔ دوزخ میں وہ جلیں گے۔ 

11۔ اللہ تمہیں تمہارے اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے109کہ دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے لئے ہے۔ اگر سب عورتیں ہوں (دو یا) دو سے زیادہ بھی ہوں تو(والدین کے) چھوڑے ہوئے مال میں تین میں سے دو حصہ ان کے لئے ہے۔ اگر ایک ہی عورت ہو تواس کے لئے (کل مال میں) آدھا ہے۔ اس کا اگر نسل ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال میں والدین میں ہر ایک کے لئے چھ میں سے ایک حصہ ہے۔ اگر اس کا کوئی نسل نہ ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کے لئے والدین دونوں وارث ہوں گے۔ اس کی ماں کے لئے تین میں سے ایک حصہ ہوگا۔ اس کو اگر بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھ میں سے ایک حصہ ہوگا۔(یہ سب) اس کے وصیت نامہ اور قرض ادا کر نے کے بعد ہی ہوگا۔تم نہیں جانتے کہ تمہارے والدین اور بچوں میں تمہیں زیادہ فائدہ دینے والے کون ہیں۔ (یہ) اللہ کا مقرر کردہ فرض ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

12۔ اگر تمہاری بیویوں کو بچے نہ ہوں تو ان کے چھوڑے ہوئے میں آدھا تمہارا ہے۔ انہیں اگر بچے ہوں تو ان کے چھوڑے ہوئے میں چوتھائی تمہارا ہے۔ ان کے وصیت نامہ اور قرض ادا کرنے کے بعد ہی (حصے تقسیم کرنا ہے)۔ اگر تمہیں بچے نہ ہوں تو تمہارے چھوڑے ہوئے میں چوتھائی حصہ تمہارے بیویوں کے لئے ہے۔ اگر تمہیں بچے ہوں تو تمہارے چھوڑے ہوئے میں آٹھ میں ایک حصہ ان کا ہے۔ تمہارے وصیت نامہ اور قرض ادا کرنے کے بعد ہی (حصے تقسیم کرنا ہے)۔مرنے والے مرد یا عورت اولاد والے110 نہ ہوں اور انہیں ایک بھائی یا بہن ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو چھ میں ایک حصہ ہے۔ اس زیادہ ہوں تو تین میں ایک حصے کے وہ سب شریک ہیں۔کی ہوئی وصیت نامہ اور قرض ادا کرنے کے بعد ہی (حصے تقسیم کرنا ہے)۔(یہ سب اس طرح کرنا ہے111 کہ کسی کو)کچھ نقصان نہ پہنچے۔ یہ اللہ کا حکم ہے،اللہ جاننے والا، بردبار ہے۔ 

13۔ یہ اللہ کی حدود ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ جنت کے باغوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

14۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کے حدوں سے بڑھ جائے( اللہ) اسے دوزخ میں داخل کرے گا۔ اس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ 

15۔ تمہاری عورتیں بے حیائی کا کام کریں تو کہو کہ تم میں چار گواہوں کے ذریعے ثابت کریں112۔اگر وہ گواہی دیں تووہ عورتیں مرنے تک یا ان کے معاملے میں اللہ کوئی دوسرا راستہ دکھا نے تک انہیں گھروں میں روک رکھیں۔ 

16۔ تم میں بے حیائی کرنے والے ان دونوں کو اذیت پہنچاؤ113۔ اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑدو۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

17۔ جو لوگ نادانی سے برا کام کردیتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں، انہیں کے لئے اللہ کے ہاں توبہ ہے۔ انہیں کو اللہ معاف کرتا ہے۔ اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ 

18۔ برائیاں کر نے کے بعد جب موت قریب آتی ہے تو ’’ اب ہم توبہ کرتے ہیں‘‘ کہنے والے ، اور (اللہ کے) انکار ہی کی حالت میں مرنے والے، ایسے لوگوں کی توبہ نہیں ہوتی384۔انہیں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 

19۔ اے ایمان والو! عورتوں پر زبردستی قبضہ کر لینا تمہیں جائز نہیں 403۔ انہیں جو تم نے دیا ہے اس میں سے کچھ چھیننے کے لئے انہیں تنگ مت کرو۔یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر تم انہیں ناپسند کرو، تمہاری ناپسندیدگی میں اللہ کئی بھلائی رکھا ہوگا۔ 

20۔ ایک بیوی کو طلاق66 دینے کے بعد دوسری ایک عورت سے تم نکاح کرنا چاہو تو اسے تم ڈھیر سارا مال دئے بھی ہوں تو اس میں سے تم کچھ بھی نہ چھینو۔ کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہونے کی حالت میں بھی چھین لوگے؟ 

21۔ وہ تم سے پکا عہد لینے کے بعد تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو، اس حالت میں تم کیسے اسے چھین سکتے ہو؟ 

22۔ ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو، سوا اس کے جو پہلے ہی گزر چکا114۔ یہ تو بے حیاہی ، نفرت کے قابل اور برا راستہ ہے۔

23۔تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں، تمہاری بھانجیاں، وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری ساسیں، تم سے صحبت کی ہوئی بیویوں سے (دوسرے شوہر کے ذریعے ) پیدا ہونے والی لڑکیاں جو اب تمہارے ذمہ میں ہیں، یہ سب (نکاح کے لئے) حرام کردی گئی ہیں۔ تم نے اپنی بیویوں سے صحبت نہ کرنے کی حالت ہی میں اگرانہیں طلاق دے دی ہو تو (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنا) تم پر کوئی گناہ نہیں۔ تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی (حرام ہیں)۔ دو بہنوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں نکاح کرنا بھی (حرام ہے)۔ سوا اس کے کہ جو پہلے گزر چکا114۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔  پ

ارہ نمبر ۔ 5

24۔ تمہارے لونڈیوں 107کے سوا شوہر والی عورتیں بھی (نکاح کے لئے حرام ہیں، یہ) تمہارے لئے اللہ کا قانون ہے۔ ان کے سوا دوسری عورتوں سے ، بغیر بدکاری کے، اپنا مال دے کر ان سے نکاح کرنا تمہیں جائز قرار دیا گیا ہے۔ان میں سے (نکاح کے ذریعے) جن سے تم لذت حاصل کرتے ہو ان کا طے شدہ مہر108 ضرور ان کے پاس دے دیا کرو۔ مقرر کر نے کے بعد ایک دوسرے سے اطمینانی حاصل کرلو تو (مہر میں تبدیلی کرلینا) تم پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

25۔مومنہ بے شوہروالی عورتوں سے نکاح کرنے کے لئے تم میں (مال کی)سہولت نہ رکھنے والامومنہ لونڈیوں 107سے (اکتفا) کرلے۔ تمہارے ایمان کو اللہ خوب جانتا ہے۔ تم اور وہ آپس میں ایک ہو۔ انہیں ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو۔ خفیہ آشنائی نہ رکھنے والی، بدکاری نہ کرنے والی اور پاک دامن والی لونڈیوں کو ان کے مہر108 انصاف سے دے دیا کرو۔ نکاح کے بعد اگر وہ بے حیائی کریں تو بے شوہر والیوں کے سزامیں آدھا حصہ ان کے لئے ہے115۔ یہ تم میں بدکاری سے ڈرنے والوں کے لئے ہے۔ضبط سے کام لینا تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

26۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم پر واضح ہوجائے، تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے طریقے تمہیں بتادے اور تمہیں معاف کرے۔ اللہ جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ 

27۔ اللہ تمہیں معاف کرنا چاہتا ہے۔ لیکن خواہشات کے پیروی کرنے والے تو یہی چاہتے ہیں کہ تم پوری طرح سے راہ بدل جاؤ۔

28۔ اللہ تمہارے لئے (قانون) آسان کر نا ہی چاہتا ہے ۔(اس لئے کہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ 68

29۔ اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسر ے کا مال غلط طریقے سے نہ کھاؤ،مگر یہ کہ تمہارے درمیان رضامندی سے تجارت ہو۔ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اللہ تم پر نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

30۔ سرکشی اور ظلم سے ایسا کر نے والے کو پھر ہم دوزخ میں جلا ڈالیں گے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہی ہے۔ 

31۔ تمہیں منع کئے ہوئے بڑی گناہیں چھوڑ کراگر تم باز آجاؤگے توہم تمہاری غلطیوں کو مٹادیں گے۔ اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔ 

32۔ بعض کو بعض پر اللہ نے جو فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ مردوں کے لئے ان کی محنت کا حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی محنت کا حصہ ہے۔ اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

33۔ والدین اور رشتہ دار جو چھوڑ گئے اس میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے وارث بنا دئے ۔ جن سے تم (نکاح کا) معاہدہ کیا ہے انہیں ان کا حصہ دے دو۔ اللہ ہر چیز پر نگہ بان ہے۔ 

34۔ اس لئے کہ اللہ نے ایک دوسر ے پر فضیلت دی ہے اور مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں، مرد عورتوں پر منتظم ہیں۔ جو فرماں بردار ہیں اور اللہ کی حفاظت کے ذریعے چھپی ہوئی چیزوں (عصمت) کی حفاظت کرتی ہیں وہی اچھی عورتیں ہیں۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (بیویوں کے معاملے میں) جھگڑا ہوگا تو انہیں نصیحت کرواور بستروں سے انہیں الگ کرو۔ انہیں مارو۔ اگر وہ تمہارا کہا مان لیں تو ان کے خلاف دوسری راہ مت ڈھونڈو۔ اللہ بڑی بلندی ، بڑائی والا ہے۔66

35۔ اگر ان دونوں کے درمیان جدائی کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مردکی خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کی خاندان میں سے بھیجو۔ اگر وہ دونوں صلح کرانا چاہیں تو اللہ ان کے درمیان ملاپ کرادے گا۔اللہ جاننے والااور باخبر ہے۔ 

36۔ اللہ کی عبادت کرو۔کسی چیزکو اس کے برابر نہ سمجھو۔ والدین کے ساتھ ، رشتہ داروں، یتیموں، غریبوں ، قریبی ہمسایوں، دور کے ہمسایوں، سفر کے ساتھیوں، خانہ بدوشوں206اور تمہارے غلاموں107 کے ساتھ بھی بھلائی کرو۔اترانے والے اور تکبر کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

37۔ جو (خود بھی )بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں، اور اللہ کا عطا کیا ہوا فضل چھپاتے ہیں، ایسے انکار کرنے والوں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

38۔ اللہ اور آخرت 1کے دن پر ایمان نہ رکھتے ہوئے لوگوں سے تعریف سننے کے لئے اپنا مال خرچ کر نیوالے(شیطان کے دوست ہیں)۔جس کادوست شیطان بن جائے وہی برا دوست ہے۔ 

39۔ اللہ اور آخرت1 کے دن پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ کے دئے ہوئے فضل سے (نیک راہ میں) خرچ کرتے تو انہیں کیا( خرابی) ہوجائے گی؟اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے۔ 

40۔ اللہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اگر وہ نیکی ہو تو اسے کئی گنا بڑھا دیگا۔ اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔ 

41۔ (اے محمد!) جب ہم ہر قوم کے لئے گواہ لائیں گے اور تمہیں ان لوگوں کے لئے گواہ بنائیں گے تو (ان کا حال) کیا ہوگا؟ 

42۔ وہ لوگ جو (اللہ کا) انکار کیا اور اس رسول کی نافرمانی کی اس دن1 آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں زمین نگل جاتی! اللہ سے وہ کوئی بات چھپا نہیں سکتے۔ 

43۔ اے ایمان والو! نشے کی حالت میں ، جو تم کہہ رہے ہو جب تک وہ خود تمہیں سمجھ میں نہ آجائے، نماز کے قریب نہ جاؤ116۔ جب تم پر غسل واجب ہو تو جب تک غسل نہ کرلو(نماز کے لئے مسجد میں مت جاؤ۔ مسجد کے راستے سے) راہ گزرنا494 پڑے تو اور بات ہے۔ اگر تم بیمار ہویا حالت سفر میں ہو یا کوئی بیت الخلاء سے آیا ہویا عورتوں کو (صحبت کے ذریعے)چھوا ہو363 اور تمہیں جب تک پانی نہ ملے ، پاک مٹی کو چھو کر تم اپنے چہروں اور ہاتھوں پر پھیر لو117۔ اللہ درگزر کر نے والا، بخشنے والا ہے۔ 

44۔کیا تم انہیں نہیں جانتے جنہیں کتاب جیسی خوش نصیبی عطا کی گئی27 ؟ وہ گمراہی خرید رہے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ تم راہ بھٹک جاؤ۔

45۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ کفالت کے لئے کافی ہے۔ اللہ حمایت کے لئے کافی ہے۔ 

46۔ یہودیوں میں کچھ لوگ کلمات کوان کی اصل جگہوں سے بدل دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نہیں مانا، (ہم جو کہتے ہیں) وہ تمہیں ٹھیک سے سنائی نہ دے، اور راعنا۔ اس دین میں عیب لگانے کے لئے وہ اپنی زبانوں سے (کلمات ) بدل کر کہتے ہیں۔ اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا، اور مان لیا، آپ سنئے، انظرنا (ہم پر توجہ کیجئے) تو وہ ان کے لئے بہتر اور مناسب ہوتا29۔ لیکن (ان کی) انکار کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کردی6۔ ان میں چند لوگوں کے سوا (دوسرے) ایمان نہیں لائیں گے۔ 

47۔ اے اہل کتاب27! اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بگاڑ کر انہیں گردنوں کی طرح بدل دیں، یا اس سے پہلے کہ ہفتے کے دن والوں پر ہم نے جس طرح لعنت6 کی تھی اس طرح تم پر لعنت بھیجیں23، جو کچھ ہم نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ جو تمہارے پاس ہے اس کی وہ تصدیق کرتی ہے۔ اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

48۔ اللہ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا490۔ اس سے کم درجہ کا (گناہ)ہو تو وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک کر نے والا بہت بڑے گناہ کا جھوٹ باندھا۔

49۔کیا اپنے آپ کو پاکباز سمجھنے والوں کو تم نے جانانہیں؟ بلکہ جسے چاہتا ہے اللہ ہی پاک کرتا ہے۔ اور(وہ) ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

50۔ غور کرو کہ وہ اللہ پر کس طرح بہتان باندھتے ہیں۔ صریح گناہ میںیہی (انہیں جہنم میں ڈالنے کے لئے)کافی ہے ۔

51۔ کیا تم نہیں جانتے جنہیں کتاب27 جیسی خوش بختی عطا کی گئی تھی؟ وہ بتوں اور بری طاقتوں کو مانتے ہیں۔ (اللہ کا )انکار کرنے والوں کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں۔

52۔ ان پر ہی اللہ کی لعنت ہے۔جس پر اللہ لعنت کردے6 اس کے مددگار کو تم دیکھ ہی نہیں سکتے۔ 

53۔ کیا انہیں اختیارات میں کوئی حصہ ہے؟اگر ایساہے تو وہ حقیر چیز بھی لوگوں کو نہیں دیں گے۔

54۔ اللہ نے اپنے فضل انہیں دیا ہے توکیا اس لئے وہ حسد کر رہے ہیں؟ ہم نے ابراہیم کے گھرانے کو کتاب اور حکمت67 دی تھی اور انہیں بڑی سلطنت بھی عطا کی تھی۔ 

55۔ان (محمد) پر ایمان رکھنے والے بھی ان میں سے ہیں، ان سے روکنے والے بھی ان میں سے ہیں۔ بھڑکتی ہوی آگ ہی (ان کے لئے) کافی ہے۔ 

56۔ ہماری آیتوں کا انکار کرنے والوں کوہم جہنم میں جلا ئیں گے، جبب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی توانہیں عذاب کا احساس دلانے کے لئے119 انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے۔اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

57۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے انہیں جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان میں ان کے لئے پاکیزہ جوڑے8 بھی ہوں گے ۔ہم انہیں بہترین چھاؤں میں داخل کریں گے۔

58۔اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے حوالے کردواور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔اللہ کی یہ نصیحت تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ اللہ سننے والا488، دیکھنے والا 488ہے۔ 

59۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کا حکم مانو، اس رسول (محمد) کی اور تم میں اقتدار والوں کی اطاعت کرو ۔ اگر کسی چیز میں تمہیں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس رسول کے پاس لے جاؤ۔ یہی بہتر اور اچھی وضاحت ہے 120.

60۔(اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے جو یہ کہتے ہیں کہ تم پرجو اتارا گیا اور تم سے پہلے جو اتارا 4گیا اس پر ان کا ایمان ہے؟ وہ لوگ بری طاقتوں کے پاس فیصلہ کرانا چاہتے ہیں۔ اس سے انکار کر نے کے لئے انہیں حکم دیا گیا تھا۔ شیطان نے انہیں (حقیقت سے) بہت دور گمراہی میں ڈھکیل دینا چاہتا ہے۔

61۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کی طرف اور اس رسول (محمد)کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافقین تمہیں بالکل جھٹلا ئیں گے۔ 

62۔ ان کی کرتوتوں کی وجہ سے اگر انہیں مصیبت آ پڑی تو کیا ہوگا؟ پھر وہ تمہارے پاس آکر اللہ کی قسم کھا تے ہوئے کہیں گے کہ ہم توبھلائی اورباہمی ملاپ ہی چاہتے ہیں۔ 

63۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے۔پس ان سے بے پرواہ ہو جاؤ۔ انہیں نصیحت کرو۔انہیں ایسی معنی خیز بات کہو کہ ان کے دلوں میں اثر کر جائے۔

64۔ اللہ کی مرضی کے مطابق لوگ پابند رہیں ، اس کے علاوہ ہم کسی رسول کو نہیں بھیجتے۔ (اے محمد!) وہ اپنے آپ پر ظلم کر نے کی حالت میں تمہارے پاس آتے ، اللہ سے معافی چاہتے اور ان کے لئے رسول (تم) بھی معافی مانگتے تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور نہایت ہی رحم والا پاتے۔ 121

65۔ (اے محمد!) تیرے رب کی قسم!جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں منصف نہ مانیں، پھر تمہارے فیصلوں پر اپنے اندر اطمینانی نہ محسوس کریں اور پوری طرح سے پابند نہ ہوجائیں تب تک وہ ایماندار نہیں ہوسکتے۔ 234

66۔اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالویا اپنے بستیوں سے نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا (دوسرے) کوئی اسے ادا نہیں کئے ہوں گے۔ اگر وہ نصیحت کے مطابق عمل کئے ہوتے تو وہ ان کے لئے بہتر اور ثابت قدمی کا موجب ہوتا۔ 

67۔ اس وقت ہم انہیں بڑا اجر بھی دئے ہوتے۔ 

68۔ اور انہیں سیدھا راستہ بھی دکھائے ہوتے۔ 

69۔ جو اللہ اور اس رسول (محمد) کی فرماں برداری کر تے ہیں ، وہ اللہ کا انعام پائے ہوئے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہوں گے۔ وہی بہترین رفیق ہیں۔ 

70۔ یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے۔جاننے کے لئے اللہ کافی ہے۔

71۔ اے ایمان والو! احتیاط سے رہو۔ الگ الگ گروہ ہو کر نکلویا سب اکٹھے ہو کر نکلو۔ 

72۔ (جنگ میں گئے بغیر) پیچھے رہ جانے والے بھی تم میں ہیں۔ تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ حصہ نہ لینے کی وجہ سے اللہ نے مجھ پرمہربانی کی۔ 

73۔ اللہ کی طرف سے اگر تمہیں کوئی فضل مل جائے تووہ کہے گا: کاش، میں بھی ان کے ساتھ ہوتا! بڑی کامیابی حاصل کرتا،گویا کہ (اس سے پہلے) تم سے اس کی کوئی دوستی ہی نہ تھی ۔

74۔ اس دنیوی زندگی کو بیچ کر آخرت لینے والے اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ اگر کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہوئے مارا جائے یا فتح پالے توان کے لئے ہم بہت بڑا اجر عطا کریں گے۔ 53

75۔ اے ہمارے رب! ظلم ڈھانے والے لوگوں کی اس بستی سے ہمیں نکال دے۔ ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی ذمہ دار مقرر فرما۔ ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بھی مقرر فرما۔ اس طرح دعا کرنے والے کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لئے359 اللہ کی راہ میں جنگ نہ کرنے تمہیں کیا ہوگیا ہے؟53

76۔ ایمان والے اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔(اللہ کا) انکار کرنے والے بری طاقتوں کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پس تم شیطان کے ساتھیوں کے خلاف جنگ کرو۔ شیطان کی سازش کمزور ہے۔ 

77۔ کیا تم نے انہیں نہیں جانا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رکھو، نما ز قائم کرواور زکوٰۃ دو۔ جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے ایک گروہ اللہ سے ڈرنے کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہم پر جنگ کرنا کیوں فرض کیا؟ اور تھوڑی مدت ہمیں مہلت دیا ہوتا؟ کہہ دو کہ اس دنیا کی سہولت کم ہی ہے۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو آخرت ہی بہتر ہے۔تم ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کئے جاؤگے۔ 

78۔ تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمہیں پالے گی۔ اگرچہ تم مضبوط قلعہ میں بھی رہو۔ انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اگر انہیں کوئی ضرر پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری ہی وجہ سے ہے۔ (اے محمد!) تم کہہ دو کہ سب کچھ اللہ ہی کی جانب سے ہے۔ اس قوم کو کیا ہوا؟ کسی بات کو سمجھنے کی یہ کوشش نہیں کرتے! 

79۔ (اے محمد!) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی برائی پہنچے تو وہ تمہاری اپنی وجہ سے ہے۔ ہم تمہیں تمام نوع انسانی کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے187۔اللہ نگہبانی کے لئے کافی ہے۔ 

80۔ جس نے اس رسول (محمد) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔جو کوئی روگردانی کرے ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ 

81۔وہ کہتے ہیں کہ ہم حکم مانتے ہیں۔ (اے محمد!) تمہارے پاس سے وہ باہر نکلتے ہی ان میں سے ایک گروہ، اپنے کہنے کے خلاف، رات میں سازش کرتا ہے۔ رات میں کئے جا نے والے اس سازش کو اللہ لکھ رہا ہے۔ پس تم ان سے منہ پھیر لو۔اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔ اللہ ذمہ داری کے لئے کافی ہے۔ 

82۔ کیا وہ اس قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے آیا ہوتا تو اس میں بہت سارے اختلافات پاتے۔123

83۔ امن یا خوف کے متعلق کوئی خبر آتی تو وہ اسے پھیلا دیتے124۔ اگراسے وہ رسول (محمد) کے پاس یا ان میں اختیار رکھنے والوں کے پاس لے جاتے تو تحقیق کر نے والے اسے جان لیتے۔ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی اگر تم پر نہ ہوتی تو چند لوگوں کے سوا (دوسرے سب) شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ 

84۔ (اے محمد!) اللہ کی راہ میں جنگ کرو53۔ تم اپنی ذات کے سوا (کسی اور کے) ذمہ دار نہیں ٹہرائے جاؤگے۔ ایمان والوں کو رغبت دلاؤ۔ اللہ (اس کے) انکار کر نے والوں کا حملہ روک دے گا۔ حملہ کر نے میں اللہ زبردست ہے اور سزا دینے میں بھی وہ سخت ہے۔ 

85۔ اچھی سفارش کر نے والوں کو اس میں حصہ ہے۔ بری سفارش کر نے والوں کو اس میں حصہ ہے۔ اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ 

86۔ جب تمیں مبارکبا ددی جائے تم اس سے بہتر طریقے سے یا اسی کلمہ کو لوٹا دو۔ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ 

87۔ اللہ کے سوا بندگی کے لائق کوئی نہیں۔ قیامت کے دن1 جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، وہ تم سب کو جمع کرے گا۔ اللہ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے؟

88۔ منافقوں کے متعلق (فیصلہ کر نے میں) تم کیوں دو گروہ بن گئے؟ ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے انہیں گرادیا۔ اللہ نے جسے گمراہ کردیا کیا تم اس کو سیدھی راہ دکھا نا چاہتے ہو؟ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے ان کے لئے تم کوئی راستہ نہ پاؤگے۔ 

89۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ جس طرح (اللہ کا) انکار کرنے والے بن گئے تم بھی منکر بن جاؤ ، پھر وہ اور تم (عقیدے میں) برابر ہوجائیں۔ پس وہ اللہ کی راہ میں ہجرت460 کر نے تک ان میں سے (کسی کو) حقیقی دوست89 نہ بناؤ۔ اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو۔ انہیں جہاں پاؤ قتل کر ڈالو53۔ان میں کسی کوذمہ دار اور حمایتی نہ بناؤ۔ 

90۔ سوائے ان کے جو معاہدہ کئے ہوئے جماعت سے مل گئے ہوں۔ یا وہ لوگ جو تمہارے خلاف جنگ کرنے یا اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے نہ چاہتے ہوئے تمہارے پا س آگئے ہوں۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا۔ اس وقت وہ تمہارے خلاف جنگ کرتے۔ اگر وہ تمہیں چھوڑدیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تم سے صلح کے لئے آئیں تو ان کے خلاف اللہ نے تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں رکھا۔ 

91۔ تم اور لوگوں کو بھی دیکھوگے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ فساد مچانے جب بھی انہیں بلایا جائے تو اس میں وہ شدت سے شامل ہوجاتے ہیں۔اگر وہ تم سے الگ نہیں ہوئے، اورتمہارے پاس صلح کے لئے نہیں آئے اور اپنے ہاتھوں کو حد میں نہ رکھے تو انہیں پکڑلو، جہاں بھی پاؤ قتل کردو۔ان کے خلاف (لڑنے کیلئے) واضح دلیلیں تیار کی ہیں۔ 53

92۔ ایک مومن دوسرے مومن کا قتل کرنامناسب نہیں سوائے غلطی کے۔ کسی مومن کو غلطی سے اگر کوئی قتل کردے تو ایک مومن غلام آزاد کردینا چاہئے۔ اس (مقتول کے) گھروالوں کو خون بہا پہنچانا چاہئے، سوااس کے کہ وہ لوگ اگر صدقہ کے طور پر چھوڑدیں۔ اگر وہ تمہاری دشمن قوم کا ہواور مومن بھی ہو تو ایک مومن غلام آزاد کرنا چاہئے۔ اگر وہ تم سے معاہدہ کیا ہوا قوم سے ہو تو اس کے گھر والوں کو خون بہا 209بھی ادا کرے اور ایک مومن غلام بھی آزاد کرے۔ (ان میں سے کچھ بھی) اگر میسر نہ آئے تو مسلسل دو مہینے روزے رکھنا چاہئے۔ (یہ) اللہ کی بخشش ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

93۔ایک مومن کو قصداً قتل کر نے ولے کا بدلہ جہنم ہی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب ہے اور اس کی لعنت6 کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔ 

94۔ اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جنگ کرنے) جاؤ تو تحقیق کرلیا کرو۔ تمہیں سلام 159کر نے والے سے دنیوی زندگی کے سامان چھین لینے کے لئے اس سے یہ نہ کہو کہ تم ایمان والے نہیں ہو۔اللہ کے پاس بہت سے مال ہیں۔ اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے۔ اللہ نے تم پر احسان کیا۔ پس تم تحقیق کرلیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔ 

96,95۔ ایمان والوں میں مناسب عذر کے بغیر جنگ میں شامل نہ ہونے والے، اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والے یکساں نہیں ہوسکتے۔ اپنے مال اور جان سے جنگ کر نے والوں کو جنگ نہ کرنے والے سے ایک درجہ زیادہ ہی اللہ نے فضیلت دے رکھی ہے۔ سب کو اللہ نے بھلائی کا ہی وعدہ کیا ہے۔ جنگ میں نہ جانے والوں سے زیادہ جنگ کر نے والوں کو بڑے اجرسے، کئی اونچے درجوں سے، اپنی بخشش اور فضل سے اللہ نے فضیلت دے رکھی ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 26 

97۔ جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ،ان کی جانیں فرشتے قبض 165کرتے وقت پوچھیں گے : تم کس حال میں تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم زمین میں کمزور تھے۔(فرشتے) پوچھیں گے کہ کیا اللہ کی زمین بہت کشادہ نہیں تھی؟ اس میں تم ہجرت 460 کر سکتے تھے؟ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اوروہ برا ٹھکانا ہے۔ 

98۔ مگر جو مرد، عورتیں اور بچے کمزور ہیں، وہ کوئی تدبیر کرنہیں سکتے،اور وہ کوئی راہ بھی نہیں جانتے۔ 

99۔ اللہ ان کی غلطیاں معاف کر دے گا۔ اللہ درگزرکرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ 

100۔ اللہ کی راہ میں ہجرت460 کرنے والا زمین میں بہت سی پناہ گاہیں اور سہولتیں حاصل کر لے گا۔ اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہجرت460 کر کے اپنے گھر سے نکل جانے والے کی اگر موت آجائے اس کا اجر اللہ کے پاس مل جائے گا۔ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

101۔ اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ زمین میں سفر کرتے وقت (اللہ کا) انکار کر نے والے تم پر حملہ کریں گے تو نماز مختصر کر لینا125 تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ 

102۔ (اے محمد!) جب تم ان کے ساتھ (میدانِ جنگ میں) ہو اور تم انہیں نماز پڑھانے لگو 126تو ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ (نماز میں) کھڑے رہیں۔ اپنے ہتھیار بھی ساتھ میں لئے رہیں۔پھر جب سجدہ کر لیں تووہ تمہارے پیچھے چلے جائیں ۔ دوسری جماعت جو نماز نہیں پڑھی ، وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھ لیں۔ احتیاطاًً اپنے ہتھیار بھی ساتھ ہی رکھیں۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے یہی چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامانِ جنگ سے غافل ہوجاؤ اور وہ اچانک تم پر ٹوٹ پڑیں۔ ہاں ، اگر بارش کی وجہ سے یا تم بیمار ہو جانے سے تمہیں تکلیف ہو تو اپنے ہتھیاروں کو نیچے رکھ دینا کوئی گناہ نہیں۔ (ساتھ ہی) احتیاطی ادراک سے رہو۔ اللہ نے (اس کا) انکار کر نے والوں کیلئے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

103۔پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرو۔جب تم امن کی حالت کو پہنچو تو نماز (پوری طرح سے) قائم کرو127۔ مومنوں پر نمازمقررہ وقتوں پرفرض ہے۔ 479

104۔ اس قوم کا پیچھا کر نے سے ہمت نہ ہارو۔ اگر تمہیں تکلیف بھی پہنچے (تو فکر نہ کرو، کیونکہ) تمہاری ہی طرح وہ لوگ بھی دکھ اٹھارہے ہیں۔وہ جس (جنت) کی امیدنہیں رکھتے اس کی تم اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اللہ جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ 

105۔ (اے محمد!) اللہ نے جو کچھ تمہیں بتلایا ہے اس کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے سچائی کو اندر سمائے ہوئے اس کتاب کوہم نے تم پر نازل کی ہے128۔ تم دغابازوں کے مدعی نہ بنو۔

106۔ اللہ سے بخشش مانگو493 اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔9894785415 tabrez

107۔ اپنے آپ سے خیانت کر نے والوں کے لئے تم بحث نہ کرو۔دغاباز گناہگارکو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

108۔ لوگوں سے وہ چھپا سکتے ہیں، لیکن اللہ سے چھپا نہیں سکتے۔ جب وہ لوگ رات میں اللہ کی ناپسندیدہ باتیں کرکے سازش کر رہے تھے تو اس وقت وہ ان کے ساتھ تھا49 ۔وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے پوری طرح جانتا ہے۔

109۔ تم اس دنیا کی زندگی میں ان کے لئے بحث کر رہے ہو۔ قیامت کے دن1 ان کے لئے اللہ سے بحث کر نے والا کون؟ یا ان کے لئے ذمہ دار بنے گا کون؟ 

110۔ اگر کوئی برا کام کرے، یا اپنے آپ پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش چاہے تو وہ اللہ کو بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا پائے گا۔ 

111۔ گناہ کر نے والا اپنے ہی خلاف برا کرتا ہے265۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

112۔ جو شخص کوئی غلطی یا گناہ کرے اوراسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے تو اس نے ایک بہتان اور کھلا ہوا گناہ اپنے سر لے لیا۔ 

113۔ (اے محمد!) اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی اگر تم پر نہ ہوتا تو ان میں سے ایک گروہ تمہیں گمراہ کر نے کی کوشش کرتا۔ دراصل وہ اپنے ہی کو گمراہ کررہے ہیں۔ وہ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ نے تمہیں کتاب اور حکمت67 عطا کی ہے۔ جو تم نہیں جانتے تھے وہ تمہیں سکھایا ہے۔تم پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ 

114۔ صدقہ، نیک کام اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سوائے ان کی اکثر باتوں میں کوئی بھلائی نہیں۔جو اللہ کی رضامندی حاصل کر نے کے لئے یہ کام کر ے توہم انہیں بہت بڑا اجر عطا کریں گے۔

115۔ سیدھی راہ واضح ہو جا نے کے بعدجو اس رسول (محمد) کی خلاف ورزی کرے اور مومنوں کی راہ کے علاوہ (دوسری )راہ کی پیروی کر ے،تو ہم اس کو اسی کے راہ پر چھوڑ دیں گے۔جہنم میں بھی اسے جلائیں گے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

116۔ اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشتا 490 ۔ جو اس سے کم درجہ کا ہو تو وہ جس کو چاہے بخش دیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنیوالے (سچائی سے) بہت دورکی گمراہی میں جا پڑے۔ 

117۔ وہ لوگ اسے چھوڑ کر عورتوں (دیویوں) کو پکارتے ہیں، (حقیقت میں)وہ وحشیانہ پن والے شیطان کے سوا(کسی اور کو) نہیں پکارتے۔ 

119,118۔ اللہ نے اس (شیطان ) پر لعنت بھیج دی6۔ اس نے اللہ سے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ تعداد پر فتح پاؤں گا ، انہیں گمرا ہ کروں گا، انہیں (غلط قسم کے) خواہشات دلاؤں گا، انہیں حکم دوں گا، وہ جانوروں کے کان چیریں گے، (پھر) انہیں حکم دوں گا ، اللہ کی بنائی ہوئی شکل وہ بدل دیں گے۔ اللہ کے سوا جس نے شیطان کو سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔26

120۔وہ ان سے وعدہ کر تا ہے، آرزوئیں دلاتا ہے، شیطان تو انہیں صرف دھوکہ کا وعدہ ہی دیتا ہے۔ 

121۔ ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

122۔ جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں ، انہیں ہم جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ اللہ سے بڑھ کر سچ بات کہنے والا کون ہے؟ 

123۔ (آخرت کا فیصلہ) نہ تمہاری آرزوؤں کے مطابق ہوگااور نہ ہی اہل کتاب 27کی آرزوؤں پر ہوگا۔ جو برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا۔ اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار اور حمایتی نہ پائے گا۔ 

124۔ مرد ہو یا عورت جو ایمان والے ہوں اوروہ نیک کام کریں تو جنت میں داخل ہونگے۔وہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

125۔ جو اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا د�أ،اچھےعملکئےاورسچائیکیراہپرقائمرہنےوالےابراہیمکےدینکیپیرویکرتےہوئے چلے اس سے بہتر دیندار کون ؟اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہر ادوست بنا لیا۔ 

126۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔اللہ ہر چیز کو پوری طرح سے جانتا ہے۔ 

127۔ (اے محمد!) عورتوں کے بارے میں لوگ تم سے شرعی حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان کے بارے میں اللہ تمہیں حکم دیتا ہے۔ اس بارے میں کہ یتیم لڑکیوں کے لئے جو فرض کیا گیا تھا108، اسے دئے بغیر تم انہیں نکاح کرنا چاہتے ہو، اورکمزور بچوں کے بارے میں، اور یتیموں کے ساتھ انصاف کے ساتھ قائم رہنے کے بارے میں اس کتاب میں (پہلے ہی) تمہیں سنایا جا چکا ہے129۔تم جو بھی نیک کام کروگے اللہ اسے جاننے والا ہے۔ 

128۔اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا نظر اندازی کا اندیشہ ہو تو وہ دونوں آپس میں اچھے طریقے سے صلح کر لیں (یاالگ ہوجائیں)تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ صلح کر ناہی بہتر ہے۔ اور بخیلی فطری طور پرلوگوں میں موجود ہے۔ اگر تم( ایک دوسرے کی) مدد کرو اور (اللہ سے) ڈرو تو جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ 

129۔ بیویوں کے درمیان عدل سے چلنا چاہوبھی، تو وہ تم سے نہیں ہوسکتا۔ پس تم پوری طرح سے (ایک طرف) جھک کر دوسری کوخلاء میں لٹکتے ہوئے جیسا نہ چھوڑدو۔ اگر تم اصلاح کرتے ہوئے (اللہ سے) ڈرو تو اللہ بخشنے والا ،نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

130۔ اگر دونوں جدا ہوجائیں تو ان میں سے ہر ایک کو اللہ اپنے فضل سے بے نیاز کردے گا۔ اللہ حکمت والا، وسعت والا ہے۔

131۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ان لوگوں کوجنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی27 اور تمہیں بھی حکم دیا تھا کہ اللہ سے ڈرا کرو۔اگر تم )اللہ کا( انکار کروگے تو جو کچھ آسمانوں507اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ بے نیاز485 ، تعریف کیا گیا ہے۔

132۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔کارسازی کے لئے اللہ کافی ہے۔ 

133۔ اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں مٹا کر دوسری ایک قوم کو لے آئے گا۔ اللہ اس پر قدرت رکھتاہے۔ 

134۔ جو کوئی اس دنیا کا فائدہ چاہتا ہے تواس دنیا کا فائدہ اور آخرت کا فائدہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ سننے والا488، دیکھنے والا488 ہے۔

135۔ اے ایمان والو! تمہارے یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف بھی ہو توتم انصاف قائم کرنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو۔ (مدعی یا مدعاعلیہ)مالدار ہو یا غریب، ان دونوں کے لئے اللہ ہی سرپرست ہے۔انصاف کر نے میں تم نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو۔ تم (گواہی ) الٹ دو یا جھٹلادو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ بخوبی واقف ہے۔ 

136۔ اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسول پر، اور اس کتاب پر جواس نے اپنے رسول پر اتاری ہے، نیز اس کتاب4 پر جو اس نے اس سے پہلے اتاری تھی، ایمان لے آؤ۔ جو شخص اللہ ، اس کے فرشتے، اس کی کتابیں، اس کے رسول اور آخرت کے دن 1کا انکار کیا وہ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا۔ 

137۔ جو لوگ ایمان لائے، پھر (اللہ کا)انکار کئے، پھر ایمان لائے، پھر انکار کئے، پھر(اللہ کے) انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے، اللہ انہیں معاف کرنے والا نہیں490 ۔ انہیں راہ دکھانے والا بھی نہیں۔ 

138۔تنبیہ کردو کہ منافقوں کو درد ناک عذاب ہے۔

139۔وہ لوگ مومنوں کو چھوڑ کر (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو گہرا دوست بنالیا89۔ کیا وہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں؟ عزت تو ساری اللہ ہی کے لئے ہے۔ 

140۔ اللہ کی آیتوں کا انکارکر تے ہوئے ،اس کا وہ مذاق اڑاتے ہوئے سنو توجب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہوجائیں، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (ان کے ساتھ اگر بیٹھو تو) تمہارے لئے اس کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے131 کہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہوجاؤگے۔منافقوں اور (اس کا) انکار کر نے والے سب کو اللہ جہنم میں جما دے گا۔ 

141۔ وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے تمہیں کوئی کامیابی ملے تو وہ کہتے ہیں کہ کیا تمہارے ساتھ ہم نہیں تھے؟ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو کوئی کامیابی ملے تو (ان سے) وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری مدد کر کے مومنوں کو تم پر (فتح پانے سے)نہیں روکا تھا؟ قیامت کے دن1 اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کر ے گا۔ مومنوں کے خلاف (اس کا) انکار کرنے والوں کو اللہ کوئی راستہ نہیں بنایا۔ 

142۔ منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ وہ تو انہیں دھوکا دینے والا ہے6۔ جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو بڑے کاہلی کے ساتھ دوسروں کو دکھانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ کی یاد بہت کم ہی کر تے ہیں۔ 

143۔ اُن کے ساتھ بھی نہیں، اِن کے ساتھ بھی نہیں، وہ درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں۔ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے ان کے لئے تم کوئی راستہ نہ پاؤگے۔ 

144۔ اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو گہرا دوست نہ بناؤ89۔ کیا تم اپنے خلاف اللہ کے لئے واضح دلیلیں مہیا کرناچاہتے ہو؟ 

145۔ منافقین دوزخ کے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مددگار نہ پاؤگے۔

146۔سوا ان کے جو لوگ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں، اللہ کو مضبوطی سے پکڑلیں اور خلوص دل سے اللہ ہی کے لئے عبادت کریں۔وہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے۔ مومنوں کو اللہ بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ 

147۔ اگر تم ایمان لا کر شکر ادا کرو تو اللہ تمہیں کیوں سزا دے گا؟ اللہ شکر ادا کر نے والا6 ، سب کچھ جاننے والا ہے۔  پارہ نمبر 6

148۔ مظلوم کے سوا (دوسرا کوئی) بری باتیں علانیہ کہنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔

149۔ تم بھلائی ظاہر کرو یا چھپاؤاور (دوسروں کی)برائی سے درگزر کرو، اللہ تو معاف کر نے والا،بڑی قدرت والا ہے۔ 

151,150۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں، ہم بعض کو مانیں گے ، بعض کو نہیں مانیں گے، اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق 132کرتے ہیں اور اس میں ایک درمیانی راستہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہی لوگ حقیقت میں (ہمارا) انکار کر نے والے ہیں۔ انکار کر نے والوں کو ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 26

152۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، ان میں کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کئے، عنقریب اللہ انہیں ان کا اجر دے گا۔ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

153۔ (اے محمد!) اہل کتاب27 تم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آسمان سے ان کے لئے کوئی کتاب اتارلاؤ 152۔ اس سے بھی بڑا مطالبہ وہ موسیٰ سے کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اللہ کو ہمارے آنکھوں کے سامنے دکھلاؤ۔ ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر بجلی آپڑی21۔ پھر ان کے پاس واضح دلیلیں آنے کے بعدبچھڑے کو(اپنا معبود) تصور کرلیا 19 ۔پھر انہیں معاف کیا، اور موسیٰ کو واضح دلیلیں عطا کی۔ 

154۔ ان سے عہد لینے کے لئے کوہِ طور ان کے اوپر بلند کیا22۔ اور ان سے کہا کہ عاجزی کے ساتھ دروازہ سے داخل ہوجاؤ۔اور یہ بھی کہا کہ ہفتہ کے دن میں زیادتی نہ کرنا23۔ اور ان سے ہم مضبوط عہد لیا۔

155۔ پھران کے عہد شکنی کی وجہ سے، اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے اور نبیوں کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے، اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل بند ہیں، (اس سے بھی) آگے وہ (اللہ کا) انکار کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔ وہ لوگ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ 

157,156۔ اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے (اللہ کا) انکار کیا، مریم پر بہت بڑا بہتان باندھا، اور کہا کہ اللہ کے رسول مریم کے بیٹے مسیح92 عیسیٰ کو ہم ہی نے قتل کیا(اللہ نے مہر لگا دی)۔حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا ، نہ صلیب پر ہی چڑھایا۔ بلکہ ان کے لئے آدمی بدل دیا گیا تھا456۔ اس میں اختلاف کرنے والے شک ہی میں پڑے ہیں۔ گمان کی پیروی کے سوا انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے اس کو یقیناًقتل نہیں کیا۔ 26

158۔ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 133

159۔ اہل کتاب 27میں ہر ایک ان کے (عیسیٰ، دوبارہ آکر) وفات پانے سے پہلے ان پر ایمان لائے بغیر نہیں رہیں گے134 قیامت کے دن1 وہ ان کے لئے گواہ ہوں گے۔

161,160۔ یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے، اللہ کی راہ سے بہت سے لوگوں کو وہ روکنے کی وجہ سے، سود سے وہ منع کئے جانے کے باوجود سود لینے کی وجہ سے، لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاجانے کی وجہ سے جو پاکیزہ چیزیں ان پر حلال تھیں ان سب کو ہم نے حرام کر دیا۔ ان میں (ہمارا) انکارکرنے والوں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 26

162۔ پھر بھی جو ان میں سے علم میں ماہر ہیں، اور ایمان والے ہیں، (اے محمد۱) جو تم پر اتاری گئی اور تم سے پہلے جو اتاری گئی4 سب پر ایمان لاتے ہیں۔ جو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، اللہ اور آخرت کے دن 1 پر ایمان لائے، انہیں ہم بڑااجر دیں گے۔

163۔ (اے محمد!) جس طرح نوح اور ان کے بعدکے نبیوں کو وحی بھیجی تھی اسی طرح تم پر بھی وحی بھیجی ہے۔ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور( ان کے ) اولاد ، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون، سلیمان کی طرف بھی وحی بھیجی تھی۔ داؤد کو زبور عطا فرمائی۔

164۔ (اے محمد!) اس سے پہلے بعض رسولوں کے واقعات ہم تمہیں بتاچکے ہیں۔ اور بعض رسولوں کے حالات نہیں بتائے۔ اللہ نے موسیٰ سے حقیقت میں کلام کیا۔ 488

165۔ رسولوں کو بھیجنے کے بعد اللہ پر الزام لگانے کے لئے کوئی دلیل نہ ہو، اس لئے خوشخبری دینے اور ڈرانے والے رسولوں کو (اس نے بھیجا)۔اللہ زبر دست، حکمت والا ہے۔

166۔ (اے محمد!) اللہ نے تم پر جو کچھ نازل کیا ہے اس کے لئے وہ خود گواہ ہے۔ اپنی وضاحت کے ساتھ اسے اتارا ہے۔ فرشتے بھی گواہی دے رہے ہیں۔ نگہبانی کے لئے اللہ کافی ہے۔ 

167۔ جو (اللہ کا) انکار کرے اور اللہ کے راستے سے روکے، وہ (حقیقت سے) بہت دور گمراہی میں جا گرے۔ 

169,168۔ جن لوگوں نے (اللہ کا) انکار کیا اور ظلم کیا، انہیں اللہ معاف کر نے والا نہیں490۔ دوزخ کی راہ کے سوا کوئی(دوسری) راہ دکھانے والا بھی نہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔26

170۔ اے لوگو! یہ رسول (محمد) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے سچائی لے کر آئے ہیں۔ پس تم ایمان لے آؤ۔ (وہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم (اللہ کا) انکار کروگے تو آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ 

171۔ اے اہل کتاب 27 اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو۔ اللہ پر بجز حق کے (دوسرا کچھ ) نہ کہو۔مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح92 اللہ کے رسول اور اس کے حکم سے (پیدا ہوئے) ہیں۔ اس حکم کو اس نے مریم میں ڈالا۔ اور اس کی روح تھے90۔ پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ۔ یہ نہ کہو کہ (خدا) تین ہے459۔ باز آجاؤ۔ (وہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ ایک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسکی کوئی اولاد ہو نے سے وہ پاک ہے10۔ آسمانوں 507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ کارسازی کے لئے اللہ کافی ہے۔ 

172۔ مسئح 92 اور مقرب فرشتے اللہ کا غلام بن کر رہنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔459۔اس کے غلام بن کر رہنے سے پیچھے ہٹنے والے متکبر لوگوں کو وہ اپنے پاس جمع کر لے گا۔ 

173۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو (اللہ)انہیں ان کا اجر پورا پورا دے گا۔ اپنے فضل سے مزیدعطا کرے گا۔ (غلامی سے) ہٹ کر تکبر کرنے والوں کو المناک عذاب دے گا۔ اللہ کے سوا وہ اپنے لئے کوئی حمایتی اور سرپرست نہیں پائیں گے۔ 

174۔ اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں ٹھیک دلیل آپہنچی ہے۔ تمہارے پاس واضح روشنی بھی اتار دی ہے۔

175۔ اللہ پر ایمان رکھ کر اسے مضبوطی سے پکڑے رہنے والوں کو وہ اپنی مہربانی اور فضل میں داخل کر لے گا۔ انہیں اپنی طرف سیدھا راستہ بھی دکھا ئے گا۔ 

176۔ (اے محمد!) وہ تم سے کلالہ کے متعلق شرعی فیصلہ پوچھتے ہیں110۔کہہ دو کہ اللہ اس کے متعلق حکم دیتا ہے۔اگر کوئی اولاد نہ رکھنے والا شخص مرجائے ، اس کی ایک بہن ہوتو اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ اس کو ہے۔ (جب وہ مرجائے) اگر اس کی کوئی اوکاد نہ ہو تو(اس کا) بھائی اس کا وارث ہوگا۔ اگر دو بہنیں ہوں تو اس کے چھوڑے ہوئے مال میں تین میں کا دو حصہ ان کے لئے ہے۔ اگرمرد اور عورتیں کئی بھائی بہن ہوں تو دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے لئے برابرکے تناسب سے ملے گا109۔ تم راہ بھٹک نہ جاؤ ، اس لئے اللہ وضاحت کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

سورہ : 5 سوراۃ المائدہ ۔کھانے ک خوان

کل آیتیں:120

عیسیٰ نبی کی قوم نے مطالبہ کیا تھا کہ اللہ ان کے لئے آسمان سے کھانے سے بھرا خوان اتارے۔عیسیٰ نبی کے دعا کرنے کی بنا پر اسی طرح کھانے کا خوان اتارا گیا، 114,113,112وغیرہ آیتوں میں اس واقعہ کا ذکر آنے کی وجہ سے اس سورت کا یہ نام رکھا گیا ہے

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ اے ایمان والو! عہدو پیمان پورا کرو۔نباتات کھانے والے مویشی تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جو (تمہیں ) بعد میں بتلا یا جائے گا۔احرام کی حالت میں شکار کرنا جائز نہ سمجھو۔ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ 

2 ۔ اے ایمان والو! اللہ کی (حرمت والی) نشانیاں، حرمت والے مہینے55، قربانی کے جانور، (قربانی کے جانوروں کے گلے میں نشانی کے لئے ڈالے گئے) پٹّے،اور اپنے پروردگار کے فضل و رضاجوئی کی تلاش میں حرمت والی گھر کی طرف جانے والے33، ان سب حرمتوں کی بے ادبی نہ کرو۔احرام سے فارغ ہوجاؤ تو شکار کرو۔ مسجد الحرام سے تمہیں روکنے والی قوم کی عداوت تمہیں زیادتی کرنے پر نہ ابھارے۔نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

3۔ (خود سے) مرا ہوا، خون، سور کا گوشت407، اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کاٹا ہوا42تم پر حرام کیا گیا ہے171۔ گلا گھونٹا ہوا، چوٹ لگا ہوا، (اونچائی سے) نیچے گرا ہوا، (آپس میں) ٹکرایا ہوا، درندے پھاڑ کھائے ہوئے جانور، ان میں (اگر جان ہوتو) تم ٹھیک سے ذبح کئے ہوئے جانور کے سوا(تم پر حرام کیا گیا ہے)۔ قربان گاہوں میں 135ذبح کیا ہوا اور تیروں کے ذریعے فال نکالنا136بھی(تم پر حرام کیا گیا ہے)۔یہ سب گناہ ہیں۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے تمہارے دین کو (مٹانے کے بارے میں) آج ناامید ہوچکے ہیں۔ پس تم ان سے نہ ڈرو۔مجھ ہی سے ڈرو۔آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا۔ تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ تمہارے لئے اسلا م کو دین ہو نے پر راضی ہوگیا۔ جو شخص گناہ کر نے کی چاہت نہ رکھتے ہوئے بھوک کی شدت سے مجبور431 ہو جائے تو اللہ معاف کر نے والا،نہایت ہی رحم والا ہے۔42

4۔وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کن چیزوں کی اجازت ہے؟ کہہ دو کہ پاکیزہ چیزیں، اور شکاری جانوروں میں جن کو تم نے سکھایا ہو اور اللہ نے جو تمہیں سکھایا ہو وہ ان کو سکھا دیا ہو، اس کا (شکار کیا ہوا) تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے171۔ وہ تمہارے لئے جو پکڑ لائے اسے کھاؤ۔ (اسے بھیجتے وقت ) اس پراللہ کا نام لو۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

5۔ پاکیزہ چیزیں آج تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں۔ اہل کتاب27 کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے137۔اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ ایمان دار بے شوہر والی عورتوں کواور تم سے پہلے کتاب27 دئے گئے بے شوہر والی عورتوں کو داشتہ بنائے بغیر اور بدکاری کئے بغیراور پاکدامنی چھوٹے بغیر ان کے مہر وں106 کو ادا کرکے ان سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے138۔ اپنے ایمان کو (اللہ کے) انکار سے بدلنے والے کا نیک عمل ضائع ہوگیا۔وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ 

6۔ اے ایمان والو!جب تم نماز کے لئے تیار ہوتو اپنے چہروں کو، کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو ٗ ٹخنوں تک اپنے پیروں کودھو لیا کرو۔ اپنے سروں کو (گیلے) ہاتھوں سے پھیر لیا کرو۔اگر تم پر غسل واجب ہوتو (نہا کر) پاک ہوجاؤ۔ اگر تم بیمار ہویا سفر میں ہویا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو یا (صحبت کے ذریعے)عورتوں کو چھوا ہو363 ، پانی نہ ملنے پر پاک مٹی چھو کر اس سے تمہارے چہرے اور ہاتھوں پر پھر لیا کرو117۔ اللہ تمہیں کوئی تنگی دینا نہیں چاہتا68۔ بلکہ تم شکر ادا کر نے کے لئے تمہیں پاک کرنااور اپنی نعمت کو تم پر پورا کرنا چاہتا ہے۔ 

7۔یاد کرو کہ اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا کی اور تم سے جو اس نے معاہدہ کیا تھا، اس وقت تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اللہ سے ڈرو۔ دلوں میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے۔ 

8۔ اے ایمان والو! اللہ کاحکم مان کر انصاف کے گواہی بن جاؤْ ۔کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا انصافی پر نہ ابھار دے۔ انصاف سے چلو۔ وہی پرہیزگاری کے قریب ہے۔ اللہ سے ڈرا کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ 

9۔ اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، انہیں بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

10۔ جنہوں نے( ہمارا) انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلا یاوہی دوزخی ہیں۔ 

11۔ اے ایمان والو!یاد کرو جب ایک قوم نے تمہاری مخالفت میں دست درازی کرنے کا ارادہ کیا تواللہ نے تم پر احسان کیا۔ان کے ہاتھوں کو تم پر سے اس نے روک دیا۔ اللہ سے ڈرا کرو۔ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کر نا چاہئے۔

12۔بنی اسرائیل سے اللہ نے عہد لیا۔ان میں سے بارہ منتخب افراد ہم نے بھیجا۔ اللہ نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگرتم نماز قائم کروگے، زکوٰۃ دوگے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤگے، انہیں مدد کروگے، اللہ کو قرض حسنہ75بھی دوگے تو تمہاری برائیاں تم سے مٹا دوں گا۔ اور تمہیں جنت کے باغات میں داخل کروں گا، جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے بعد بھی اگر تم میں کوئی (میرا) انکار کیاوہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

13۔ پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر ہم نے لعنت کی6۔اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس میں سے ایک حصہ وہ چھوڑ بیٹھے۔ ان میں سے چند لوگوں کے سوا دوسروں سے کوئی نہ کوئی خیانت تم دیکھتے رہوگے۔ پس تم انہیں نظر انداز کرتے ہوئے تغافل برتو۔نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔

14۔ جنہوں نے کہا ہم نصارٰی ہیں ، ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا۔ جن باتوں کی انہیں نصیحت کی گئی تھی ان میں سے ایک حصّۃوہ چھوڑ بیٹھے۔ اس لئے قیامت کے دن1 تک ان کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کردیا99۔ وہ جو کچھ کرتے رہے اس بارے میں اللہ انہیں آگاہ کرے گا۔ 

15۔ اے اہل کتاب27! ہمارے رسول (محمد) تمہارے پاس آچکے۔ کتاب الہٰی میں جو کچھ تم چھپا رہے تھے ان اکثر باتوں کو وہ تمہیں واضح کریں گے97، اوربہت سی باتوں سے تغافل فرمائیں گے۔ اللہ کی طرف سے تمہیں روشنی اور واضح کتاب آچکی۔ 

16۔ اس کی رضامندی طلب کر نے والوں کو اللہ اس کے ذریعے نجات کے راستے دکھاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے انہیں اندھیروں سے303 روشنی میں لے جاتا ہے۔انہیں سیدھا راستہ دکھا تا ہے۔ 

17۔ مریم کے بیٹے مسیح92 ہی کو اللہ ،کہنے والے (اللہ کا) انکارکردیا459۔ پوچھئے کہ مریم کے بیٹے مسیح اور اس کی ماں، اور دنیا کے سارے لوگوں کو اگر اللہ ہلاک کرنا چاہے تواس سے (اس کو روکنے کی)ذرا سی بھی طاقت رکھنے والا کون ہے؟ آسمانوں507، زمین اوران کے درمیان کی ساری حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت والاہے۔ 

18۔ یہودو نصارٰی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔ تم کہو کہ (اگر ایسا ہو تو) تمہارے گناہوں کی وجہ سے وہ تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ بلکہ تم بھی اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں میں سے ہو368۔وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ آسمانوں507، زمین اوران کے درمیان کی ساری حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 

19۔ اے اہل کتاب27! تم یہ نہ کہے کہ ہمیں خوشخبری سنانے والے یا ڈرانے والے ہمارے پاس نہیں آئے ، رسولوں کی آمد بند رہنے والے زمانے میں، ہمارے رسول (محمد) تمہیں واضح کر نے کے لئے تمہارے پاس آگئے۔ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس آگئے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

20۔ یاد دلاؤ کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! اس نے تم میں نبیوں کو بنایا، تمہیں حکمراں کیا،اور وہ تمہیں سب کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا تھا،اس کے ذریعے اللہ نے تم پر جو احسان کیا تھا اسے یاد کرو۔

21۔ (موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ) اے میری قوم! اللہ نے تمہیں جو لکھ دیا ہے، اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ۔ پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ (اگر تم بھاگو گے تو) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤگے۔

22۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! اس میں دباؤ ڈالنے والی قوم ہے۔جب تک و ہ وہاں سے باہر نہ جائیں گے ہم اس میں داخل نہیں ہوں گے۔وہاں سے وہ لوگ باہر چلے جائیں گے تو ہم داخل ہوں گے۔ 

23۔ اللہ کا فضل پائے ہوئے اور (اللہ سے) ڈرنے والے دو آدمیوں نے کہا: تم ان کے مقابلے میں (اس بستی کے) داخلی دروازے سے داخل ہوجاؤ۔ تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی فتح پاؤگے۔ اگر تم مومن ہوتو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ 

24۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں اس میں ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔ پس تم اور تمہارا پروردگار جا کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ 

25۔( موسیٰ نے)کہا: اے میرے رب! اپنے اور اپنے بھائی کے سوا (کسی کو) میں قابو نہیں کرسکتا۔پس تو ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان فیصلہ کردے۔ 

26۔(اللہ نے) فرمایا: یہ شہر ان لوگوں کے لئے چالیس سال تک حرام کردیا گیا۔ وہ لوگ زمیں میں (بے وطن) بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم ان مجرم لوگوں کے لئے غمگین نہ ہوں۔ 

27۔ آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ انہیں سناؤ۔ ان دونوں نے ایک عبادت کی۔ ان میں سے ایک کی عبادت قبول ہوئی۔ دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ (جس کی قبول نہیں ہوئی)اس نے کہا: میں تجھے قتل کردوں گا۔(جس کی قبول ہوئی) اس نے کہا: اللہ تو (اپنے سے) ڈرنے والوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ 

29,28۔ (اس نے یہ بھی کہا) اگر تم مجھے قتل کر نے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھاؤگے تو میں تمہیں قتل کر نے کے لئے تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے والا نہیں۔سارے جہاں کا پروردگار اللہ سے میں ڈرتا ہوں۔ تمہارے گناہ کے ساتھ میرے (قتل کی) گناہ کا بوجھ بھی لادے ہوئے تم دوزخی بننا ہی میں چاہتا ہوں۔یہی ظالموں کا بدلہ 26 ہے۔ 

30۔ (اتنا سب ہو نے کے بعد بھی)اپنے بھائی کے قتل پر ہی اس کے نفس نے ابھارا۔تو اس نے اسے قتل کردیا۔ پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا۔ 

31۔ اس کو یہ دکھانے کے لئے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپایا جائے، اللہ نے ایک کوا بھیجا۔وہ زمین کریدنے لگا۔ اس نے کہا: ہائے افسوس! اس کوے کی طرح ہونا بھی مجھ سے نہ ہوسکا۔ اگر اس جیسا ہو تا تو میں میرے بھائی کی لاش چھپا دیا ہوتا۔ وہ پشیمان ہونے لگا۔

32۔ہم نے اسی وجہ سے بنی اسرائیل کے لئے قانون بنا دیا کہ نہ (ناحق )قتل کے بدلے اور نہ ہی زمین میں فسا د برپا کرنے کے بدلے ، اگرایک دوسرے کو قتل کردے تو گویا وہ سب لوگوں کا قتل کرڈالا۔ اور یہ بھی کہ اگر وہ ایک انسان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندہ رکھا۔ ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے۔ اس کے بعد بھی اکثر لوگ زمین میں زیادتی کرنے والے ہی رہے۔ 

33۔ قتل کردینا یا صلیب پر چڑھادینایا ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جانا، یا جلا وطن کردیا جاناہی اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا ک کر نے کی کو شش کرنے والوں کی سزا ہے۔یہ انہیں اس دنیا میں ہونے والی رسوائی ہے۔انہیں آخرت میں سخت عذاب ہے43۔ 

34۔ سوا ان کے جنہیں تم قید کرنے سے پہلے اصلاح کرلی ہوں۔ جان لو کہ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

35۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ اس کی طرف ایک وسیلہ تلاش کرلو141۔اس کی راہ میں جہاد کرو، کامیاب حاصل کروگے۔ 

36۔ وہ سب کچھ جوساری زمین میں ہے، اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی (اللہ کا) انکار کرنے والے کے پاس ہو، اور وہ اسے قیامت کے دن 1کی عذاب کے بدلے فدیہ میں دیں تو بھی ان سے وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

37۔ وہ لوگ آگ سے نکلنا چاہیں گے۔ (مگر) اس میں سے وہ نکل نہیں سکیں گے۔ انہیں دائمی عذاب ہے۔

38۔ چرانے والا اور چرانے والی دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کئے کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے43۔ 

39۔ظلم کر نے کے بعدمعافی مانگ کر(اپنی) اصلاح کرلینے والے کواللہ معاف کر دیتا ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

40۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں507 اور زمیں کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔وہ جسے چا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہے بخشتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

41۔ صرف منہ سے ہم ایمان لائے کہہ کر، دل سے ایمان نہ لاتے ہوئے (اللہ کے) انکار کی طرف دوڑنے والوں کے بارے میں اور یہودیوں کے بارے میں اے رسول ! تم غمزدہ نہ ہوں۔ وہ صرف جھوٹ ہی زیادہ سنتے ہیں۔ تمہارے پاس نہ آئے ہوئے دوسری قوم کے لئے (تمہاری باتیں) سنتے ہیں۔ کلمات کو ان کی جگہ سے بدل کر بولتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ (سازگاری) تمہیں دی جائے تو اسے لے لو۔ اگر نہ دیا جائے تو اسے ٹال دو۔ اللہ جسے آزمانا 484چاہتا ہے اسے اللہ سے بچانے کے لئے تم کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں کو اللہ پاک کرنا نہیں چاہتا۔ انہیں اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ 

42۔ وہ لوگ جھوٹ ہی زیادہ سنتے ہیں۔ حرام چیز ہی زیادہ کھاتے ہیں۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان تم فیصلہ کرسکتے ہویا انہیں ٹال سکتے ہو۔ اگرتم انہیں بے پروا کردو تو وہ تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ ان کے درمیان اگر تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ انصاف کر نے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

43۔ ان کے پاس تورات ہے491 ۔ اس میں اللہ کا حکم بھی ہے۔ اس کے بعدوہ اسے جھٹلا دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ کیسے تمہیں فیصلہ کر نے والا مانیں گے؟ وہ تو ایمان والے نہیں۔ 

44۔ ہم نے تورات491 نازل کی۔ اس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ (اللہ کے) فرماں بردارانبیاء ، عبادت گذار یہودی اور علماؤں کو اللہ کی کتاب کی حفاظت کے لئے حکم دینے کی وجہ سے اور وہ اس کے گواہ بنے رہنے کی وجہ سے یہودیوں کو اسی کے ذریعے فیصلہ کرتے رہے۔ پس تم لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈرو۔ میری آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر مت بیچو445۔ اللہ کے نازل کردہ بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 (اللہ کا) انکار کرنے والے ہیں۔

45۔ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے بدلے اسی انداز کا زخم لگانا، اس قانوں کو اس (تورات) میں ان کے لئے لکھ دیا تھا۔ اگر (مظلوم) کوئی اسے معاف کردے تووہ ان کے لئے (گناہوں کا) کفارہ ہوگا اللہ کے نازل کردہ بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 ظالم ہیں43۔ 

46۔ اس سے پہلے گزرے ہوئے تورات491 کی تصدیق کر نے کے لئے انہیں کے نقش وقدم پر مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا۔ انہیں انجیل491 بھی عطا فرمائی۔ اس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ اس سے پہلے گزرے ہوئے تورات 491 کی بھی وہ تصدیق کرتی تھی۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے وہ سیدھا راستہ اور نصیحت تھی۔ 

47۔ انجیل والے491 اس میں اللہ کے اتارے ہوئے کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ اللہ کے نازل کردہ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 مجرم ہیں۔ 

48۔ حقیقت کو اپنے اندر سمائے ہوے کتاب تم پر نازل فرمائی ہے۔ وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کتاب4 کی تصدیق اور حفاظت کرتی ہے ۔ پس اللہ کے نازل کردہ کی بنیاد پر ان کے درمیان فیصلہ کریں۔جوسچائی تمہارے پاس آئی ہے اس سے بے پرواہ ہوکر ان کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔تم میں ہر ایک کے لئے ایک دستور حیات اور راہ عمل مقرر کردی ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنادیتا۔ پھر بھی اس نے جوکچھ تمہیں دیا ہے، تمہیں آزمانے کے لئے484 ( ایک نہیں بنایاہے)۔ پس تم نیکیوں کے لئے آگے بڑھو۔ تم سب اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ تمہارے اختلاف کے بارے میں وہ تمہیں بتا دے گا۔ 

49۔ اللہ کے اتارے ہوئے کی بنیاد پر فیصلہ کرو۔ ان کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ہوشیار رہئے کہ اللہ کے اتارے ہوئے میں سے چند چیزوں کو چھوڑ کر وہ تمہیں الجھا دیں گے ۔ اگر وہ جھٹلائیں تو جان لو کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب انہیں سزا دینا ہی اللہ چاہتا ہے۔ لوگوں میں اکثر گناہ کر نے والے ہی ہیں۔ 

50۔ کیا وہ دور جاہلیت کا فیصلہ ڈھونڈتے ہیں؟ یقین رکھنے والی قوم کے لئے اللہ سے بڑھ کر بہتر فیصلہ کر نے والا کون ہے؟234

51۔ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا محافظ نہ بناؤ89۔ ان میں ایک دوسرے کے وہ محافظ ہیں۔ جو انہیں اپنا سرپرست بنا لیا وہ انہیں میں شامل ہوگیا۔ ظلم ڈھانے والے لوگوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔

52۔ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ انہیں کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھو گے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈر رہے ہیں کہ کوئی مصیبت ہم پر نہ آجائے۔اللہ (تمہیں) کامیابی عطا کرے یا اورکوئی ایک چیز ظاہر کرے۔تب وہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے رکھنے کی وجہ سے فکر مند ہوں گے۔

53۔ ان کے نیک اعمال غارت ہوگئے ، وہ گھاٹے میں پڑگئے۔ایما ن والے (آخرت میں حیرت سے ) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ پر بڑے زورکی قسم کھاکر کہتے تھے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ 

54۔ اے ایمان والو! اگر تم میں کوئی اپنے دین کو چھوڑ کر بدل گئے تو پھر اللہ ایک دوسری قوم لے آئے گا۔ جنہیں وہ پسند کرے گا، وہ بھی اس کو پسند کریں گے۔ مومنوں کے ساتھ وہ عاجزی سے اور(اللہ کے) انکار کرنے والوں کے پاس وہ سر اٹھائے ہوے رہیں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ ملامت کر نے والوں کی ملامت سے وہ نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے۔اللہ بڑی وسعت والا ، جاننے والا ہے۔ 

55۔ اللہ اور اس کے رسول ، اوروہ مومن جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں، یہی تمہارے مددگار ہیں۔ 

56۔ اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کو سرپرست بنا نے والی اللہ کی جماعت ہی فتح پانے والی ہے۔ 

57۔ اے ایمان والو! تم سے پہلے کتاب 27دئے گئے لوگوں میں سے، (اللہ کا) انکار کرنے والوں میں سے، تمہارے دین کی مذاق اڑانے والے اور اس کو کھیل تماشہ بنانے والوں میں سے کسی کو اپنا خاص دوست نہ بناؤ89۔اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو۔

58۔ جب تم نماز کے لئے بلاتے ہو تو اسے وہ مذاق اور کھیل تماشہ کی طرح اٹھا لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ناسمجھ قوم ہیں۔ 

59۔کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! ہم نے اللہ پر ، ہم پر جو نازل کیا گیا ہے اس پراور اس سے پہلے جو کچھ اتارا گیا تھا 4اس پر ایمان لانے کی وجہ کے سوا تم ہمیں کس وجہ سے نفرت کر رہے ہو؟ تم میں اکثر لوگ مجرم ہو۔

60۔ کہو کہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی بدتر بدلہ پانے والوں کو کیا میں تمہیں بتاؤں؟ اللہ نے جن پر لعنت کی6، جن پر اس نے غصہ کیا، جن کو اس نے بندراور سور کی شکلوں میں تبدیل 23کردیا اور جس نے بری طاقتوں کی پرستش کی وہی لوگ بدتر جگہ کے قابل ہیں۔ اور سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ 

61۔ جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ وہ لوگ (دل میں اللہ کا) انکارلئے ہوئے آئے تھے، اسی کیساتھ وہ چلے بھی گئے۔ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ خوب جانتاہے.

62۔ ان میں سے اکثر لوگوں کو تم گناہ کے لئے، سرکشی کے لئے اور حرام چیزیں کھانے کے لئے دوڑتے ہوئے دیکھوگے۔ وہ جو کرتے ہیں بہت برا ہے۔ 

63۔ ان کے گناہوں کی باتوں سے اورحرام چیزیں کھانے سے عبادت گزارلوگ اور علماء انہیں کیوں نہیں روکتے؟ وہ جو کرتے ہیں بہت برا ہے۔ 

64۔ یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ بلکہ انہیں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہے عطا کر تا ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو اتارا گیا ہے ، ان میں سے اکثر لوگوں میں (اللہ کا) انکار اور سرکشی بڑھا دیا ہے۔ قیامت کے دن1 تک ان کے درمیان عداوت اور بغض پیدا کر دیا ہے99۔ جب بھی وہ جنگ کی (جیسی) آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔ وہ لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ فساد مچانے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

65۔اگر اہل کتاب27 ایمان لاتے اور (اللہ سے) ڈر کر چلے ہوتے تو ان سے ان کے گناہوں کو ہم برطرف کردیتے۔ انہیں مسرت بھری جنت کے باغوں میں داخل کردئے ہوتے۔

66۔ اگر و ہ تورات اور انجیل491 کی اور ان کے رب کی طرف سے جونازل کی گئی اس کی پابند کئے ہوتے تو ان کے (سروں کے) اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے (جو ملاہوتا) وہ کھائے ہوتے۔ ان میں نیک جماعت بھی ہے۔ ان میں اکثر لوگوں کی عمل بہت بری ہے۔ 

67۔ اے رسول! تمہارے رب کی طرف سے جو تم پر نازل ہوا ہے اس کو بیان کردو۔ اگر تم (ایسا) نہ کروگے تو اس کے پیغام کو پہنچانے والے نہیں ہوں گے۔ اللہ تمہیں لوگوں سے بچائے رکھے گا145۔ اللہ ( اس کے) انکار کرنے والی قوم کو راستہ نہیں دکھاتا۔ 

68۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! اگر تورات اور انجیل491 کو اور تمہارے رب کی طرف سے جونازل کی گئی اس کو ، جب تک تم قائم نہیں کروگے تم کسی میں شامل نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جواتاری ہوئی (یہ کتاب)ہے، ان میں سے اکثر لوگوں کو (اللہ کا) انکار اور سرکشی میں بڑھا دیا ہے۔ پس (اللہ کا)انکار کرنے والے لوگوں کے لئے تم فکر نہ کرو۔ 

69۔ مومنوں ، یہودیوں، صابیوں443اور عیسائیوں میں اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا اور وہ غمگین بھی نہیں ہوں گے۔ 

70۔ بنی اسرائیل سے ہم نے عہد لیا تھا22، اوران کے پاس رسولوں کو بھی بھیجا۔ جب بھی کوئی رسول ان کی ناپسند یدگی کو لے آتا تو انہوں نے بعض کی تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔ 

71۔ وہ سمجھ گئے کہ کوئی آزمائش نہیں ہوگی۔ اس لئے وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر بھی اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اس کے بعد بھی ان میں اکثر اندھے اور بہرے بن گئے۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ دیکھ رہا ہے۔ 488

72۔ مریم کا بیٹا مسیح92 ہی اللہ ہے، کہنے والے (اللہ کا) انکار کردیا459۔ مسیح92 نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میرا اور تمہاراپروردگار اللہ کی عبادت کرو۔ اللہ کا شریک ٹہرانے والوں کو اللہ نے جنت حرام کردیا۔ وہ لوگ پہنچنے کی جگہ دوزخ ہے۔ ظلم کرنے والوں کا کوئی مددگار نہیں۔ 

73۔ تین (معبودوں) میں اللہ بھی ایک ہے، کہنے والے (اللہ کا) انکار کرنیوالے ہوگئے459۔ ایک ہی اللہ کے سوا عبادت کے لائق (اور) کوئی نہیں۔اگر وہ اپنے قول سے باز نہیں آئے تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو دردناک عذاب آپہنچے گا۔

74۔ کیاوہ اللہ کی طرف پلٹ کر اس سے توبہ نہیں چاہیں گے؟ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

75۔ مریم کے بیٹے مسیح92 ایک رسول کے سوا کچھ نہیں459۔ ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے101۔ ان کی ماں ایک راست باز تھیں۔ وہ دونوں کھانا کھانے والے تھے۔ ان کے لئے ہم نے کس طرح دلیلیں واضح کیں، غور کریں۔ پھر وہ کس طرح رخ موڑ دئے جاتے ہیں، اس پر بھی غور کرو۔ 

76۔ کہو کہ اللہ کے سوا تمہیں کچھ نیکی یا بدی پہنچانے کی طاقت نہ رکھتا ہو، کیا تم ان کی عبادت کر تے ہو؟ اللہ ہی سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

77۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! تم اپنے دین میں سچائی کے خلاف (کہہ کر) حد پار نہ کرو۔ اس سے پہلے جو خود بھی گمراہ ہوئے ، بہت سے لوگوں کوبھی گمراہ کیا اورسیدھی راہ چھوڑ کر راہ راست سے بھٹک گئے، ان لوگوں کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ 

78۔ داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی زبان سے (اللہ کا) انکار کرنے والے بنی اسرائیل لعنت کئے گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔ 

79۔ وہ جو برے کام کر رہے تھے، اس سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے۔ وہ جو کر رہے تھے بہت برا تھا۔ 

80۔ ان میں اکثر لوگوں کو تم دیکھو گے89 کہ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کووہ اپنا سرپرست بنالیتے ہیں۔ وہ اپنے لئے جو تیار کیا ہے وہ برا ہے۔ ان پر اللہ ناراض ہوا۔ عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

81۔ اگر وہ اللہ پر،اس نبی (محمد) پر اور ان پر جو نازل ہو ا ہے اس پرایمان لائے ہوتے تو وہ ان کو اپنا سرپرست نہ بنائے ہوتے89۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جرم کر نے والے ہیں۔ 

82۔ (اے محمد!) لوگوں میں یہودیوں اور مشرکوں ہی کوتم ایمان والوں کاسخت دشمن پاؤگے۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہم عیسائی ہیں ، ان لوگوں کوتم مومنوں سے سب سے زیادہ قریبی دوست پاؤگے147۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں پادری اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ 

پارہ نمبر 7

83۔ اس رسول (محمد) پر جو کچھ نازل ہو ا ہے جب وہ سنتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو بہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے۔ پس تو ہمیں گواہی دینے والوں میں سے لکھ لے۔

84۔ (وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اللہ پر اور جو سچائی ہمیں پہنچی ہے اس پر ایمان نہ لا نے کے لئے ہمیں کیا (رکاوٹ) ہے؟ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ اللہ ہمیں بھی نیک لوگوں کی رفاقت میں رکھے۔ 

85۔ وہ (اس طرح) کہنے کی وجہ سے اللہ انہیں جنت کے باغات کا انعام عطا کیا۔اس کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔یہی نیک عمل کرنے والوں کا بدلہ ہے۔ 

86۔ جو (ہمیں) انکار کیا اور ہماری آیتوں کا تکذیب کیا وہی جہنمی ہے۔ 

87۔ اے ایمان والو! اللہ جو چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ ٹہراؤ۔ حد سے نہ بڑھو۔ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

88۔اللہ نے تم کو جو حلال اور پاکیزہ چیزیں دی ہیں، وہ کھاؤ۔ جس پر تم نے ایمان لائے ہو، اسی اللہ سے ڈرو۔ 

89۔ تمہاری قسموں میں لغو قسموں کے لئے اللہ تمہیں سزا نہیں دے گا۔ بلکہ منصوبہ بندی سے کئے جانے والے قسموں ہی کے لئے وہ تمہیں سزا دے گا۔ اس کاکفارہ، تم اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے درمیانی درجے کا کھانا دس غریبوں کو کھلانا ہے یا انہیں کپڑے دینا ہے یا ایک غلام آزاد کر نا ہے64۔جس کو(ان میں سے کچھ بھی)میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھنا چاہئے۔ اگر تم قسم کھا(کر توڑد)ئے تواس قسم کا کفارہ یہی ہے۔ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ تم شکر ادا کر نے کے لئے اللہ اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ 

90۔اے ایمان والو! شراب116، جوا، قربان گاہیں135 اور (فال نکالنے کے)پانسے136، سب نفرت انگیزاور شیطان کے کارنامے ہیں۔ پس ان سے الگ ہوجاؤ، کامیاب پاؤگے۔ 

91۔شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور نفرت پیدا کرے، اللہ کی یاد سے اور نماز سے تمہیں روک دے۔ کیا تم باز نہیں آؤگے؟ 

92۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس رسول (محمد) کی بھی اطاعت کرو۔ احتیاط سے رہا کرو۔ اگرتم جھٹلاؤگے توجان لو کہ اسے واضح طور پر سمجھا دینا ہی ہمارے رسول کا ذمہ 81ہے۔ 

93۔ جو (اللہ سے) ڈرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر ڈرے، ایمان لائے پھر بھی ڈرے اور نیک عمل کرے تو (اس سے پہلے جو حرام) چیزیں کھائے ہوں تو ایمان لاکر نیک عمل کر نے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ نیک کام کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

94۔ اے ایمان والو! یہ علامت دکھا نے کے لئے کہ تنہائی میں (اللہ سے) ڈرنے والے کون ، (جب تم احرام کی حالت میں ہو تو) تمہارے ہاتھ اور نیزوں سے قریب کچھ شکاری جانوروں کو دکھا کر اللہ تمہیں آزمائے گا484۔ اس کے بعد حد سے بڑھنے والوں کو دردناک عذاب ہے۔ 

95۔ اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار کو قتل نہ کرو۔ اگر تم میں کوئی جان بوجھ کر اسے قتل کرے تو اس جانور کا ہم پلہ جانور (بکری، بیل اور اونٹ وغیرہ) اس کا کفارہ ہوگا۔ وہ کعبہ کوپہنچنے والا نیاز (کا جانور) یا کفارے کے طور پر غریبوں کو کھاناکھلانا ہے۔ یا اس کے برابر روزے رکھے۔ تم میں دو معتبر عادل اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔ اپنے کام کا انجام پانے کے لئے(یہ ضروری ہے)۔ اس سے پہلے جو ہوچکا اللہ اس کو معاف کردیا۔ پھر کر نے والے کو اللہ سزا دے گا۔ اللہ زبردست ، سزا دینے والا ہے۔ 

96۔ تمہارے لئے اور دوسرے مسافروں کے لئے فائدہ حاصل ہو، سمندر میں شکار کرنا اور اس میں کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے42۔ احرام کی حالت میں ہو تو زمین میں شکار کرنا حرام کر دیا گیا ہے۔اللہ سے ڈرو۔ اسی کے پاس تم جمع کئے جاؤگے۔ 

97۔ حرمت والا گھر کعبہ، حرمت والے مہینے55، قربانی کے جانور، اور(اس کے گلے میں پہنانے والے) پٹے، ان تمام کو لوگوں کے لئے اللہ نے قائم رہنے والا بنادیا34۔ یہ اس لئے( کہا جا رہا ہے کہ) تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور زمین میں ہے ، اللہ جانتاہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ 

98۔ اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے، اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا بھی ہے۔ 

99۔ سمجھانے کے سوا اس رسول پر دوسرا کچھ (ذمہ ) نہیں ہے81۔ تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہواللہ سب جانتا ہے۔ 

100۔ کہہ دو کہ اچھا اوربُرا برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر چہ بُرا تمہیں بہت زیادہ بھی گرویدہ کرے۔اے عقلمندو! اللہ سے ڈرو، کامیابی حاصل کروگے۔

101۔ اے ایمان والو! بعض باتوں کے بارے میں سوال نہ اٹھاؤ۔اگر وہ تم پر ظاہرکیاجائے تو تمہیں ضرر پہنچائے گی۔ قرآن نازل ہوتے وقت ان کے متعلق سوال کروگے تو وہ تمہیں ظاہر کردی جائے گی150۔ ان کو اللہ نے معاف کردیا۔ اللہ بخشنے والا، بردبار ہے۔

102۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے قوم نے ایسے سوال کئے تھے۔ پھر انہوں نے ان کے منکر ہوگئے۔

103۔ اللہ نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کو مقرر نہیں کیا148۔ بلکہ (اللہ کا) انکار کر نے والے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔ 

104۔ جب ان سے کہا جائے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے، اس کی طرف اور اس رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجدا کو ہم جس طریقے میں دیکھا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ کیا ان کے آباؤ اجدا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اورسیدھی راہ نہ پائے ہوں، تب بھی؟ 

105۔ اے ایمان والو! اپنی حفاظت کرلو۔ جب تم سیدھی راہ پر چل رہے ہو تو گمراہ شخص تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔تم سب اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہو۔ جو کچھ تم کر رہے تھے ، اس کے بارے میں وہ تمہیں (اس وقت) بتائے گا۔ 

106۔ اے ایمان والو! تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیت کرے تو تم میں سے دو معتبر آدمی اس کے گواہ رہنا چاہئے45۔ جب تم زمین میں سفر کر رہے ہواور موت کی مصیبت آپہنچے تو غیر لوگوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنا سکتے ہو۔ اگر تم (ان پر) شک کرو تو نماز کے بعد ان دونوں کو روکے رکھو۔ وہ دونوں اللہ کی قسم کھاکر کہنا چاہئے کہ اس (گواہی) کوکسی قیمت پر نہیں بیچیں گے، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار بھی ہوں۔ اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے بھی نہیں۔ اگر چھپائے تو ہم گناہ گار ہوں گے۔ 

107۔ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں (جھوٹی گواہی دے کر) گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو جن لوگوں کے خلاف انہوں نے گواہی دی ہے ان لوگوں میں سے دو ، ان دونوں کے مقام میں کھڑے ہوجائیں اور اللہ کی قسم کھ اکر کہنا چاہئے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچا ہے اور ہم حد سے تجاوز نہیں کئے۔ (اگر ایسا ہو تو) ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔

108۔ ٹھیک طور سے گواہی کہنے یا اپنا قسم (دوسروں سے) انکار کیا جانے سے ڈرنے یہی مناسب راستہ ہے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو! جرم کر نے والے لوگوں کو اللہ سیدھا راستہ نہیں دکھاتا۔ 

109۔ رسولوں کو اللہ جمع کر نے کے دن1 پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں (اس بارے میں) کوئی علم نہیں۔تو ہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔ 

110۔ یاد دلائیے جب اللہ نے (عیسیٰ سے) کہا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!یاد کرو جب میں نے تم پراورتمہاری والدہ پرجونعمت نازل کیا تھا اور روح القدس 444کے ذریعہ تمہیں قوت دی تھی۔ تم نے جھولے میں اور جوانی میں لوگوں سے باتیں کیں۔اور یہ بھی یاد کرو کہ تمہیں کتاب، حکمت67، تورات اور انجیل 491میں نے سکھائی ۔اور یہ بھی یاد کرو کہ تم نے میری مرضی کے مطابق مٹی سے پرندے کی شکل بناتے اور اس میں پھونک مارتے تھے۔ میری مرضی کے مطابق وہ پرندہ بن گیا تھا۔ میری مرضی کے مطابق269 پیدائشی اندھے اور جذامی کو تم نے صحت یاب کردیا تھا۔ اور یہ بھی یاد کرو کہ تم نے مردوں کو میری مرضی کے مطابق 269(زندہ) نکال ظاہرکیا تھا۔اور یہ بھی یاد کرو کہ بنی اسرائیل کے پاس تم نے واضح دلیلیں لے آئے تھے۔ تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں نے کہا تھا کہ یہ صریح جادو کے سوا کچھ نہیں285۔ان سے میں نے ہی تمہیں بچایا تھا۔ 

111۔ جب میں نے (عیسیٰ کے) شاگردوں کو اطلاع دی کہ مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لے آؤتو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اورتم ہی گواہ رہو کہ ہم مسلم295 ہیں۔ 

112۔ جب حواریوں نے کہا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! آسمان سے کھانے کا خوان اتارنے کے لئے کیا تمہارے پروردگار سے ہوسکتاہے؟اس نے کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو۔

113۔ وہ کہنے لگے کہ اس میں سے کھائیں، ہمارے دل مطمئن ہوجائے، ہم یہ جان جائیں کہ تم نے ہم سے سچ ہی کہا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم اس پر گواہ ہوجائیں۔ 

114۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کہ اے اللہ!اے ہمارے پروردگار! آسمان سے ہمیں کھانے کا خوان اتاردے۔ وہ ہم میں سے پہلے آدمی کے لئے اورہم میں سے آخری آدمی کے لئے عید کادن اور تیری طرف سے ایک دلیل ہوجائے۔ ہمیں رزق عطا فرما۔ رزق دینے والوں میں تو ہی سب سے بہتر ہے۔ 

115۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہارے لئے میں اس کو اتاروں گا۔ اس کے بعد اگر کوئی (مجھے) انکار کرے تو میں ایسی سزا دوں گا جو اس دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہوگی۔ 

116۔ (آخرت میں ) جب اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا 459کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے10، جو میرے لائق نہ ہو ایسی باتیں کہنے کا مجھے حق نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کہا ہو گا تو تجھے اس کا علم ہوگا۔ مجھ میں کیا ہے تو جانتا ہے۔ تجھ میں کیا ہے ، میں نہیں جانتا۔ تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ 

118,117۔ (اس نے یہ بھی کہا26کہ) جس طرح تو نے مجھے حکم دیا تھا ، اسی طرح میں نے ان سے کہدیا اس کے سوا دوسرا کچھ بھی نہیں کہا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں جب ان کے ساتھ تھا تو میں ان کا نگران تھا۔ پھر جب تو نے مجھ پر قبضہ کرلیا تو تو ہی ان کا نگہبان رہا۔ تو ہر چیز کا نگہبان ہے151۔ انہیں تو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ اگر تو انہیں معاف کردے تو تو زبردست، حکمت والا ہے۔ 

119۔ اللہ کہے گا کہ یہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ کام آنے کا دن1 ہے۔ ان کے لئے جنت کے باغات ہیں، ان کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا، وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

120۔ آسمانوں507 ، زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

سورہ :6  سورۃ الانعام ۔چوپائے

کل آیتیں:165

اس زمانے کے اہل عرب میں چوپایوں کے متعلق کئی قسم کے باطل عقیدے موجود تھے۔ انہیں اس سورت کے 144,143,139,138,136 وغیرہ آیتوں میں ملامت کیا گیا ہے۔ اسی لئے اس سورت کا نام اس طرح آیاہے۔  بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین کو پیدا کیا۔ اندھیروں303 اور روشنی بنائی۔ پھر بھی (اللہ کا) انکار کر نے والے (دوسروں کو)اپنے پروردگار کا ہمسر ٹہراتے ہیں۔ 

2۔ اسی نے تمہیں مٹی سے503 پیدا کیا368۔ پھر (موت کا) ایک وقت مقرر کیا۔ (پھر زندہ کر نے کے لئے) ایک اور مقررہ وقت اس کے پاس ہے۔ پھر بھی تم شک کر رہے ہو۔ 

3۔ آسمانوں507 اور زمین میں وہی اللہ ہے۔ وہ تمہارا بھید اور ظاہر سب باتوں کو جانتا ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ بھی جانتا ہے۔ 

4۔ ان کے رب کی دلیلوں میں سے کوئی دلیل ان کے پاس آئے تو وہ اسے جھٹلائے بغیر نہیں رہتے۔ 

5۔ جب ان کے پاس سچائی آئی تو وہ اسے جھوٹ سمجھا۔ جس بات کا وہ مذاق اڑا رہے تھے اس کی خبریں عنقریب ان کے پاس پہنچ جائیں گی۔

6۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلوں کو ہلاک کرچکے ہیں؟ جتنی سہولتیں تمہیں نہیں دی گئیں ہم نے انہیں زمین میں عطا کی تھیں۔ آسمان 507سے ان پر موسلادھار بارشیں برسائیں۔ ان کے نیچے نہریں جاری کردیں۔ ان کے گناہوں کے سبب انہیں تباہ کردیا۔ ان کے بعد دوسری نسلوں کو پیدا کیا۔ 

7۔ (اے محمد!) کاغذ پر لکھی ہوئی152 کتاب تم پر نازل کرتے، پھر وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے312، تب بھی (اللہ کا) انکار کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو 357کے سوا کچھ نہیں۔

8۔ وہ کہتے ہیں154 کہ ان کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ اگر ہم فرشتہ بھیجے ہوتے153 تو کام تمام ہوگیا ہوتا۔ پھروہ مہلت نہیں دئے گئے ہوتے۔

9۔ اگر ہم فرشتہ بھی بھیجے ہوتے تو اس کو بھی انسان ہی بنائے ہوتے۔ جس سے یہ الجھے ہوئے تھے اسی الجھن کو (اس وقت پھر سے)پیدا کردئے ہوتے۔ 154

10۔ (اے محمد!) تم سے پہلے کئی پیغمبر مذاق اڑائے گئے تھے۔ جس کا وہ مذاق اڑائے تھے وہی، مذاق اڑانے والوں کو آ گھیرا۔

11۔ کہہ دو کہ زمین میں سفر کر کے غور کر وکہ جھوٹ سمجھنے والوں کا انجام کیسارہا؟

12۔ پوچھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ کہہ دو کہ اللہ ہی کا ہے۔ مہربانی فرماناوہ اپنے اوپرلازم کر لیا ہے۔قیامت کے دن1 وہ تمہیں جمع کرے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالنے والے ایمان نہیں لائیں گے۔ 

13۔دن میں اور رات میں جو جیتے ہیں اسی کے ہیں۔وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

14۔ کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کر نے والے اللہ کے سوا کیا میں دوسراسرپرست بنا لوں گا؟ وہی کھلاتا ہے 463، اس کو کھلایا نہیں جاتا۔اور یہ بھی کہئے کہ فرماں برداروں میں سب سے پہلے رہنے اور شرک کر نے والوں میں سے نہ ہونے کے لئے مجھے حکم دیا گیا ہے۔

15۔ کہہ دو کہ اگر میں میرے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن1 کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

16۔اس دن1 عذاب سے بچالئے جانے والوں ہی کو اس نے فضل فرما یا۔ وہی صریح کامیابی ہے۔ 

17۔ اگر اللہ تمہیں تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے دور کر نے والا کوئی نہیں۔ اگر وہ تم پر بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 

18۔ وہی اپنے بندوں پر حکم چلانے والا ہے۔ وہ حکمت والا، خوب جاننے والا ہے۔

19۔ (اے محمد!) پوچھئے کہ بہت بڑی گواہی کونسی ہے؟ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ ہے۔ اس قرآن کے ذریعے تمہیں اور اسے پانے والوں کو خبردار کر نے کے لئے ہی یہ مجھے وحی کیا گیا ہے187۔ اور کہو کہ کیا تم گواہی دے رہے ہوکہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبودبھی ہیں؟ میں (ایسی) گواہی نہیں دیتا۔ تم یہ بھی کہو کہ عبادت کے لائق وہی ایک ہے۔ تمہارے شرک ٹہرانے سے ہٹ کرمیں بری ہوں۔

20۔ہم جنہیں کتاب عطا کی ہے وہ ان (محمد) کو جانتے ہیں25 جس طرح وہ اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

21۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا سمجھنے والوں سے بڑھ کر ظالم کون ؟ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ 

22۔ ان سب کو جمع کر نے والے اس دن1 ہم شرک ٹہرانے والوں سے پوچھیں گے کہ تم نے جن کا تصور کیا تھا، تمہارے وہ معبود کہاں ہیں؟ 

23۔ ان کا جواب یہ کہنے کے سوا دوسرا کچھ نہ ہوگا کہ ہمارے پروردگار اللہ کی قسم، ہم شرک ٹہرانے والے نہیں تھے۔ 

24۔ غور کرو کہ وہ اپنے خلاف کس طرح جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ان کا تصورکیا ہوا ہر چیز انہیں چھوڑکر غائب ہو جائے گا۔ 

25۔ (اے محمد!) تمہارے پاس (آکر) سننے والے بھی ان میں ہیں۔اس طرح کہ وہ کچھ سمجھ نہ سکیں، ہم نے ان کے دلوں پر پردے اورکانوں میں بہراپن پیدا کردیا ہے۔اگر وہ تمام دلیلیں بھی دیکھ لیں، اس کو وہ نہیں مانیں گے۔ (ہمیں) انکار کرنے والے جب تمہارے پاس آئیں تویہ کہتے ہوئے وہ تم سے بحث کریں گے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصوں کے سواکچھ نہیں۔ 

26۔ وہ لوگ اسے چھوڑ کر خود بھی دور ہوتے ہوئے دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں۔ مگر انہیں احساس نہیں۔  27۔ تم دیکھو گے جب انہیں جہنم کے سامنے کھڑا کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ کاش! ہم پھر واپس بھیج دئے جائیں، اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھوٹ نہ سمجھتے ہوئے ایمان لانے والے ہوجاتے۔ 

28۔ بلکہ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے ، وہ ان پر ظاہر ہوگیا ہے۔پھراگر وہ واپس بھیجے بھی جاتے، جس سے وہ روکے گئے تھے وہی کریں گے۔ وہ جھوٹے ہی ہیں۔ 

29۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کے سوا دوسری زندگی نہیں ہے۔ ہم زندہ کئے جانے والے نہیں۔ 

30۔ اگر تم دیکھو تو جب وہ پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے تو پروردگار پوچھے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں؟ وہ کہیں گے کہ ہاں، ہمارے پروردگار کی قسم(یہ حقیقت ہے)۔ تو (اللہ) فرمائے گا کہ تم (میرا) انکار کرتے رہنے کی وجہ سے عذاب چکھو۔

31۔ اللہ سے ملاقات488 کو جھوٹ سمجھنے والے گھاٹے میں رہے۔ اچانک جب ان پر قیامت کا وقت آجائے گا تو وہ کہیں گے کہ افسوس ، دنیا میں ہم زیادتی کر نے کی وجہ سے یہ آفت آئی ہے۔ اپنی پیٹھوں میں وہ گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے265۔ یاد رکھو ! ان کا وہ بوجھ بہت برا ہے۔ 

32۔ اس دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ کیا تم نہیں سمجھو گے؟ 

33۔ (اے محمد!) ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تمہیں غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ وہ تمہیں جھوٹا نہیں کہتے، بلکہ ظلم کر نے والے اللہ کی آیتوں کا ہی انکار کرتے ہیں۔ 

34۔ (اے محمد!) تم سے پہلے گزرے ہوئے رسول جھوٹے سمجھے گئے تھے۔انہیں جھوٹا سمجھا جانے اور ستائے جانے پر انہوں نے صبر کیا۔ آخر میں انہیں ہماری مدد آپہنچی۔ اللہ کے کلمات کا بدلنے والا کوئی نہیں30۔ رسولوں کے بارے میں خبریں تمہیں (پہلے ہی) پہنچ چکی ہیں۔

35۔ (اے محمد!) ان کی روگردانی تم پر گراں گزرتی ہے تو اگرتم سے ہوسکا تو زمین میں سرنگ بنا کر یا آسمان پر507 سیڑھی لگا کر ان لوگوں کے لئے معجزہ لے کر آؤ۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں سیدھی راہ پر جمع کردیاہوتا81۔ تم نادانوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ 

36۔ سننے والے ہی جواب دے سکتے ہیں۔ مردوں کو اللہ زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف وہ سب لے جائے جائیں گے۔ 

37۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر کوئی معجزہ کیوں اتارانہیں گیا؟ کہہ دو کہ معجزہ کا نازل کرنے کے لئے اللہ ہی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں۔ 

38۔ زمین میں بسنے والے ہر جاندار، اپنے پروں سے اڑنے والے ہر پرندے ، سب تمہارے ہی جیسے سماج ہیں۔ اس کتاب میں ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی157۔ پھر وہ سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ 

39۔ ہماری آیتوں کو جھوٹا سمجھنے والے بہرے ہیں اور گونگے ہیں۔ وہ اندھیروں303 میں ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑدیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلا تاہے۔ 

40۔ پوچھو کہ تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت کا وقت1آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ اگر تم سچے ہو تو جواب دو۔ 

41۔ بلکہ تم اسی کو پکارتے ہو۔ شریک ٹہرانے والوں کو تم بھول جاتے ہو۔ اگر وہ چاہتا تو جس کے لئے تم نے اسے پکارا ہے ، اسے دور کردے گا۔

42۔ (اے محمد!) تم سے پہلے گزرے ہوئے قوموں کے پاس بھی رسولوں کو بھیجا تھا۔ وہ عاجز ہونے کے لئے انہیں تنگدستی اور بیماری سے سزا دی۔ 

43۔ جب ان پر ہمارا عذاب اترا تو وہ عاجزہوجانا تھا۔ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے۔ وہ جو کر رہے تھے ان کاموں کو شیطان نے انہیں آراستہ کر کے دکھادیا۔ 

44۔ انہیں جو نصیحت کی گئی جب اس کو وہ بھول گئے تو ان پر سب چیزوں کے دروازے کھول دئے ۔ ہماری عطا کی ہوئی چیزوں سے جب وہ خوش ہو رہے تھے تو ہم نے انہیں ناگہاں سزا دی۔ جب وہ ناامید ہوگئے۔ 

45۔ پس ظلم ڈھانے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہاں کا پروردگار ہے۔ 

46۔ کہو کہ اس کا جواب دو ، اگر تمہاری سماعت اور بصارت اللہ دور کردے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو کیا اللہ کے سوا کوئی (اور) معبود بھی ہے جو اسے لے آئے؟ غور کرو کہ ہم دلائل کس طرح پیش کرتے ہیں اور پھر وہ انہیں کس طرح جھٹلا تے ہیں۔ 

47۔ کہدو کہ اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ تم پر آپڑے تو کیا ظالم قوم کے سوا (دوسرا) کوئی ہلاک کیا جائے گا، اس کا جواب دو۔ 

48۔بجز اس کے کہ خوشخبری سنائے اورخبردار کرے ، ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے۔ جو ایمان لائے اور اپنی اصلاح کرلے انہیں کوئی ڈرنہیں اور وہ رنجیدہ بھی نہیں ہوں گے۔

49۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے گناہ کرتے رہنے کی وجہ سے عذاب انہیں آ پہنچے گا۔

50۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے خزانے میرے پاس ہیں اور غیب کی باتیں میں جانتا ہوں۔ میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ جس کی مجھے خبر دی جاتی ہے اس کے سوا (کسی چیز کی)میں پیروی نہیں کرتا۔ پوچھو کہ کیا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تم غور نہیں کروگے؟

51۔ اس کے ذریعے انہیں خبردار کرو کہ جو اپنے پروردگار کے حضور جمع کئے جانے سے ڈرتے ہیں، ان کے لئے اس کے سوا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارشی17 ہوگا۔اس سے وہ (اللہ سے)ڈریں۔ 

52۔ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوئے صبح و شام اس سے دعا کر نے والوں کو تم مت بھگاؤ ۔ ان کے متعلق پوچھنے میں تمہارا کوئی ذمہ نہیں۔ تمہارے متعلق پوچھنے میں ان کا کوئی ذمہ نہیں۔ سو اگر تم انہیں بھگاؤگے تو ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے۔ 

53۔ وہ یہ کہنے کے لئے کہ کیا ہم میں سے ان (حقیر) لوگوں پر اللہ فضل کر نا تھا؟اس لئے ہم نے ایک کو دوسرے کے ذریعے اس طرح آزمایا ہے484۔ شکر کر نے والوں کوتو اللہ خوب جانتا ہی ہے۔

54۔ (اے محمد!) ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے تمہارے پاس آئیں تو کہہ دو کہ تم پر سلام ہو159۔ تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ تم میں سے کوئی نادانی کی وجہ سے برا کام کرے اور پھر توبہ کرکے اپنی اصلاح کر لے تو وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

55۔ مجرموں کا راستہ واضح کر نے کے لئے اسی طرح ہم دلیلوں کو وضاحت کرتے ہیں۔ 

56۔ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جسے تم پکار رہے ہو ان کی عبادت کر نے سے میں روکا گیا ہوں۔ یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا۔ (اگر پیروی کیا تو) گمراہ ہوجاؤں گا۔ پھر راہ راست پانے والوں میں سے نہ ہوسکوں گا۔ 

57۔ کہہ دو کہ میں اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی دلیل کے ساتھ ہوں۔ تم اسے جھوٹ سمجھ رہے ہو۔ تمہاری جلد بازی میرے پاس نہیں ہے۔اختیارات اللہ ہی کے سوا (کسی اور کو) نہیں234۔ وہ حق ہی کہتا ہے، فیصلہ کر نے والوں میں وہ بہترین ہے۔ 

58۔ کہہ دو کہ تمہاری جلد بازی اگر میرے پاس ہوتی تو تمہارے اور میرے درمیان معاملہ ختم ہوچکا ہوتا۔ ظلم کرنے والوں کو اللہ جانتا ہے۔ 

59۔ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اس کے سوا کوئی اسے جاننے والا نہیں۔خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ جانتا ہے۔ ایک پتانیچے گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانے بغیر نہیں رہتا۔ زمین کی اندھیروں303 میں کوئی دانہ ہو، تر ہو یا خشک ہو ، کوئی بھی چیز واضح کتاب میں 157درج کئے بغیر نہیں ہے۔ 

60۔ وہی راتوں میں تمہیں قبض کرلیتا ہے۔ دن میں جو کچھ کررہے ہو اسے وہ جانتا ہے۔ مقررہ میعاد پوری کر نے کے لئے دن میں وہ تمہیں جگاتا ہے۔ تمہارا لوٹنا اسی کی طرف ہے۔ تم جو کررہے تھے اس کے بارے میں وہ تمہیں بتلا دے گا۔ 

61۔ وہی اپنے بندوں پر حکومت چلاتا ہے۔وہ تمہیں محافظ160 بھیجتا ہے۔یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو ہمارے فرشتے161 اس کو قبض کر لیتے ہیں165۔ وہ (اس کام میں) کوتاہی نہیں کرتے۔ 

62۔ پھر ان کے حقیقی مالک اللہ کے پاس لے جائے جاتے ہیں۔ یاد رکھو! اختیار اسی کا ہے۔ وہ تیزی سے حساب لینے والا ہے۔ 

63۔پوچھو کہ جب تم عاجزی اور چھپے ہوئے اس سے دعا کرتے ہو کہ وہ ہمیں بچالے تو ہم شکرکر نے والے بن جائیں گے ، تب تمہیں خشکی اور سمندر کی اندھیروں 303سے بچانے والا کون؟ 

64۔ یہ بھی کہو کہ اس میں سے اور ہر مصیبت سے اللہ ہی تمہیں بچاتا ہے۔ پھر بھی تم شرک کر نے لگتے ہو۔

65۔ کہو کہ تمہارے اوپر سے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے تمہیں تکلیف پہنچانے، تمہیں مختلف فرقے بنا کر ایک دوسرے کی ظلم کا مزہ چکھانے پر وہ قدرت رکھتا ہے۔ غور کرو کہ وہ لوگ سمجھنے کے لئے ہم کس طرح دلیلیں واضح کر تے ہیں؟ 

66۔ یہ سچ ہو نے کے باوجود تمہاری قوم جھوٹ سمجھتی ہے۔ کہہ دو کہ میں تم پر ذمہ دار نہیں ہوں۔ 

67۔ ہر ایک خبر واقع ہو نے کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ بعد میں تم سمجھ جاؤگے۔ 

68۔ ہماری آیتوں میں (عیب نکالنے کے لئے)مصروف لوگوں کو دیکھو تو جب تک وہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ، انہیں نظر انداز کردو۔ اگر شیطان تمہیں بھلادے تو یاد آنے کے بعدظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔

69۔ ان کے متعلق دریافت میں (اللہ سے) ڈرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں۔ پھر بھی وہ لوگ (اللہ سے) ڈرنے کے لئے(تم) نصیحت کرنا ہے۔

70۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیااور جنہیں اس دنیا کی زندگی بھی موہ لیا ہو انہیں چھوڑدو۔ اس کے ذریعے نصیحت کرو کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ کے سوا حمایتی اور سفارشی17 انہیں کوئی نہیں۔اگر وہ ہر قسم کا کفارہ بھی ادا کریں تو وہ ان سے نہیں لیا جائے گا۔ وہ جو کچھ کئے تھے اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ (اللہ کا) انکار کرتے رہنے کی وجہ سے انہیں گرم مشروب اور دردناک عذاب دیا جائے گا۔  71 ۔ کہہ دو کہ کیا ہم اللہ کے سواغیر اللہ کوپکاریں گے جو ہمیں نفع یا نقصان پہنچا نہ سکے ؟ جب اللہ نے ہمیں سیدھی راہ دکھا دیا، کیا اس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھرا دئے جائیں گے؟ (اگر ہم پھر گئے تو)اس شخص کی طرح ہوجائیں گے جس کے دوست اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجاؤ، اس کے باوجود اس کو شیطانوں نے زمین میں بھٹکا کر پریشانی میں ڈال دیا۔ یہ بھی کہو کہ اللہ کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ سارے جہانوں کے پروردگار کی فرماں برداربن کر چلیں۔ 

72۔ نماز قائم کرو، اسی سے ڈرو، اسی کے پاس جمع کئے جاؤگے۔ 

73۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین معقول وجہ سے پیدا کیا۔ جب وہ جس دن ہوجا کہیگا وہ ہوجائے گا۔ اسکی بات سچی ہے۔ صور پھونکنے والے دن1میں حکومت اسی کی ہے۔ چھپی اور ظاہر باتیں سب جانتا ہے۔ وہ حکمت والا، خوب جاننے والا ہے۔ 

74۔ یاد دلاؤ جب ابراہیم نے اپنے والد آزر سے کہاتھا کہ کیا تم بتوں کو معبود تصور کرتے ہو؟ میں سمجھتا ہوں تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں پڑے ہو۔ 

75۔ ابراہیم مضبوط یقین والے بننے کے لئے انہیں آسمانوں507 اور زمین کی دلیلیں ہم نے اسی طرح دکھلائیں۔

76۔جب رات ان پر چھاگئی تو وہ ایک ستارے کو دیکھ کر کہا کہ یہی میرارب ہے۔ وہ جب غروب ہوگیا تو کہا کہ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 

77۔جب چاند ابھرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہی میرا رب ہے۔ جب وہ ڈوب گیا تو کہا کہ اگر میرا رب مجھے سیدھا راستہ نہ دکھایا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہوجاؤں گا۔ 

78۔ جب سورج ابھرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہی میرا رب ہے، یہی بہت بڑا ہے۔ جب وہ ڈوب گیا تو کہا کہ اے میری قوم! تم جسے شریک ٹہراتے ہو اس سے میں بری ہوں162۔ 

79۔ (یہ بھی کہا کہ) آسمانوں اور زمین کے پیدا کر نے والے کی طرف رخ کرتے ہوئے ،سچائی کی راہ پر قائم رہتے ہوئے میں نے اپنا منہ اس طرف پھیر لیا۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

80۔ ان کے قوم نے ان سے بحث کر نے لگی۔ اس حالت میں کہ اللہ نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے، کیا تم اس کے بارے مجھ سے بحث کرتے ہو؟تم جسے شرک ٹہراتے ہو اس سے میں نہیں ڈرتا۔ جب تک میرا رب کچھ نہ چاہے (مجھے کچھ نہیں ہوگا)۔ میرا رب اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔کیا تم محسوس نہیں کروگے؟

81۔ (اور یہ بھی کہا کہ)تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہوکہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے جبکہ اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں بھیجی، تمہارے شریک ٹہرانے کی چیزوں کومیں کیسے ڈروں؟ اگر تم جانو تو ان دو جماعتوں میں بے خوف رہنے کا زیادہ حقدار کون ہے؟ 

82۔ ایمان لاتے ہوئے اپنے ایمان کے ساتھ جوظلم نہیں ملاتے انہیں ہی کے لئے امن ہے۔ وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ 

83۔ یہ ہماری دلیل ہے۔ ابراہیم کے قوم کے مقابلے میں یہ انہیں عطا کی تھی۔ ہم جسے چاہتے ہیں ان کے درجے بلند کر دیں گے۔ تمہارا رب حکمت والا، جاننے والا ہے۔ 

86,85,84۔ انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔سب کو سیدھی راہ دکھائی۔اس سے پہلے نوح کواور ان کی نسل سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحیےٰ، عیسیٰ، الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط، ان سب کو بھی سیدھی راہ دکھائی۔ اسی طرح نیک کام کرنے والوں کو جزا دیں گے۔ سب نیک ہیں، سب کو ہم نے دنیا والوں سے زیادہ فضیلت دی26۔ 

87۔ ان کے آباؤاجداد، ان کی نسلیں اور ان کے بھائیوں میں سے (بہتوں کو) منتخب کر کے انہیں سیدھی راہ پر چلایا۔ 

88۔ یہی اللہ کا راستہ ہے۔ جسے وہ چاہتا ہے اس کے ذریعے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔ اگر وہ شرک کرتے تو وہ جو نیک عمل کرتے تھے سب ان سے ضائع ہوجاتے تھے498۔ 

89۔ ہم نے انہیں کتاب، اختیار184 اور نبوت عطا کی۔ اگر وہ اس کا انکار کرتے تو ایک ایسی قوم کواس کا ذمہ دار بنائیں گے جو اس کا انکار نہیں کرے گی۔ 

90۔انہیں لوگوں کو اللہ نے سیدھا راستہ دکھا یا۔ پس انہیں کے راستے کی (اے محمد!) تم بھی پیروی کرو۔ اور کہو کہ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ دنیا والوں کے لئے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔

91۔ انہوں نے کہا کہ کسی انسان کو اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، اس لئے وہ اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہئے تھی ویسی قدر نہیں کی۔ پوچھو جوکتاب نور،اور لوگوں کے لئے ہدایت والی ، موسیٰ لے آئے تھے ، اسے کس نے نازل کیا؟ کہو کہ اللہ نے۔ اس کے متفرق اوراق بنا رکھے ہو، جن کو ظاہر کرتے ہو، بہت کچھ چھپاتے بھی ہو۔ جن کو تم اور تمہارے اگلوں نے نہیں جانا،وہ سب تمہیں بتا دی گئی ہیں۔ پھر جس میں وہ ڈوبے ہوئے کھیل رہے ہیں اسی حالت میں انہیں چھوڑ دو۔ 

92۔ یہ بستیوں کی ماں (مکہ) اوراس کے اطراف کے لوگوں کو خبردار کر نے کے لئے(اے محمد!) ہماری نازل کی ہوئی کتاب ہے281 ۔یہ برکت والی اور اس سے پہلے گزری ہوئی 4کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ آخرت پریقین رکھنے والے اس پرایمان رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنی نمازوں میں محافظت ہیں۔  93۔ جو اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑتا ہے، اس پر (اللہ کی طرف سے) کوئی وحی نہ آنے کے باوجود جو یہ کہتا ہے کہ مجھے وحی آتی ہے اور یہ کہنے والا کہ میں بھی اللہ کی طرح نازل کر سکتا ہوں ، ان سے بڑھ کر بہت بڑاظالم کون ہو سکتا ہے؟ ظالم لوگ جب موت کی سختی سے دوچار ہوں گے تو تم دیکھوگے کہ فرشتے165 ان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائیں گے۔ (وہ کہیں گے) تمہاری جانوں کوتم خود نکالو۔اللہ کے نام سے حقیقت کے خلاف تم کہتے تھے، اس کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اسلئے آج 166تم ذلت بھراعذاب دئے جا رہے ہو۔ 

94۔ (اور کہا جائے گا کہ) جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھاتم اسے پیٹھ پیچھے چھوڑ چکے اور جس طرح ہم نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھاویسے ہی تنہا ہمارے پاس آگئے ہو۔ جسے تم معبود سمجھ رہے تھے ان سفارشیوں17 کو ہم تمہارے ساتھ نہیں دیکھ رہے ہیں! تمہارے درمیان (رشتے) ٹوٹ گئے۔ تم جو تصور کر رہے تھے وہ تمہیں چھوڑ کر غائب ہوگئے۔ 

95۔ اللہ ہی دانے اورگٹھلیوں کو پھاڑ کر اگانے والا ہے۔ بے جان سے 441جاندار کو نکالتا ہے۔ جاندار سے بے جان کو نکالنے والا ہے۔ وہی اللہ ہے۔ تم کیسے رخ پھیرے جا رہے ہو؟ 

96۔ وہی صبح کا وقت انتظام کرنے والا ہے۔رات کو سکون کا ذریعہ بنایا، سورج اور چاند کو وقت کا پیمانہ قائم کیا۔ یہ غالب و علم والے کا انتظام ہے۔ 

97۔ خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں303 راستہ معلوم کرنے تمہارے لئے ستاروں کو اسی نے قائم کیا۔ جاننے والے لوگوں کے لئے دلائل واضح کردئے ہیں۔ 

98۔ اسی نے تمہیں ایک شخص سے پیدا کیا368۔ (تمہارے لئے) ٹہر نے کی جگہ اور سونپے جانے کی جگہ167 ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے دلائل واضح کر دئے ہیں۔

99۔ اسی نے آسمان سے پانی اتارا۔ اس کے ذریعے ہر چیز کی فصل ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں سے سرسبز کھیتیاں نکالتے ہیں۔ تہ بہ تہ جڑے ہوئے دانے اس کھیتی سے نکالتے ہیں۔ کھجوروں کے شگوفوں سے لٹکتے ہوئے گچھے، انگوروں کے باغ، زیتون اور اناربھی (نکالتے ہیں)۔ وہ دونوں (شکل میں) ملتے جلتے ہیں اور (خاصیت میں) مختلف بھی ہیں۔ جب وہ فائدہ دیتا ہے تو اس کے فائدے اوراس کے پھلنے کی طرف غور کرو۔ ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے اس میں کئی دلائل ہیں۔ 

100۔ جنوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا، پھر بھی وہ انہیں اس کا شریک بنا دیا۔ اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے تصور کرلئے۔ وہ تو پاک 10ہے۔ ان کے تصور سے بھی وہ بہت بلندو برتر ہو گیا۔

101۔ (اس نے) آسمانوں507 اور زمین کو کوئی نمونہ کے بغیر ایجاد کیا۔جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں تو اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی نے تمام چیزیں پیدا کیں۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ 

102۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ وہ ہر چیزکو پیداکیا ہے۔پس اسی کی عبادت کرو۔ وہ تمام چیزوں کا ذمہ دار ہے۔ 

103۔ آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں۔وہ آنکھوں کو دیکھتا ہے۔ وہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے21۔ 

104۔ کہہ دو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل تمہارے پاس آچکی ہیں۔اس پر غور کر نے والوں کو بھلائی ہے۔اوراسے نہ دیکھنے والوں کوخرابی ہے۔ میں تمہارا محافظ نہیں ہوں۔ 

105۔ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں ، تم (دوسروں سے) سیکھ کر کہتے ہو، اور جاننے والے لوگوں کو واضح کر نے کے لئے ہم اسی طرح دلائل کی وضاحت کرتے ہیں169۔ 

106۔ (اے محمد!) تمہارے پروردگار کی طرف سے جو حکم دیا جائے اس کی پیروی کرو۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ شرک کر نے والوں کو جھٹلادو۔ 

107۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں ٹہراتے۔ ہم نے تمہیں ان کا محافظ نہیں بنایا۔ اور تم ان کے ذمہ دار بھی نہیں ہو81۔ 

108۔ اللہ کے سوا جن کی یہ عبادت کرتے ہیں انہیں گالی مت دو۔ وہ بھی بے عقلی سے حد سے تجاوز کر تے ہوئے اللہ کو گالیاں170 دیں گے۔اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کو ان کے اعمال خوشنما بنا کر دکھایا ۔ پھر ان کا لوٹنا ان کے رب کے پاس ہی ہے۔ وہ جو کررہے تھے اس کے بارے میں وہ انہیں بتلا دے گا۔ 

109۔ وہ لوگ اللہ پر قسم بڑے زور سے کھا کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اگر کوئی معجزہ آجائے تو ہم اسے مان لیں گے۔ کہہ دو کہ معجزے اللہ ہی کے پاس ہیں269۔ تمہیں کیا معلوم کہ جب وہ واقع بھی ہوجائے وہ لوگ نہیں مانیں گے۔ 

110۔ جس طرح وہ لوگ شروع میں ایمان نہیں لائے تھے ، اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو ہم الٹ دیں گے۔ ان کے سرکشی میں انہیں بھٹکتے رہنے کے لئے ہم چھوڑ دیں گے۔  پارہ نمبر 8

111۔اگر ہم ان کے پاس فرشتے بھی اتارتے، مردے ان سے باتیں بھی کرتے، ہر ایک چیز ان کی نگاہوں کے سامنے ہم جمع بھی کرتے، بجز اللہ کے مرضی کے وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ لیکن ان میں اکثر لوگ نادان ہیں۔ 

112۔ اسی طرح ہم نے آدمیوں اور جنوں میں رہنے والے شیطانوں کو5 ہر نبی کا دشمن بنادیا۔دھوکا دینے کے لئے وہ دلفریب باتوں کو ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔ اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ ان کی افترا پردازیوں کے ساتھ انہیں چھوڑ دو۔ 

113۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل ان باتوں کو سننے کے لئے، اس سے وہ راضی ہوجانے کے لئے اور جو کچھ وہ کررہے تھے اس کو (مسلسل) کر تے رہنے کے لئے (ہم نے ایسا کیا)۔ 

114۔ کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کر نے والے کو میں تلاش کروں گا؟234 اسی نے اس کتاب کو وضاحت کے ساتھ تمہیں عطا کی ہے۔ (اے محمد!) ہم جنہیں یہ کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے سچائی کواندر سمائے ہوئے اتاری گئی ہے۔پس تم شک کر نے والوں میں سے نہ بن جانا۔ 

115۔ تمہارے رب کا کلام سچائی اور عدل سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے احکام155 بدلنے والا کوئی نہیں30۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

116۔ (اے محمد!) زمین میں رہنے والے اکثریت کی اگر تم تا بع رہے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں گے۔ وہ محض گمان ہی کی پیروی کر تے ہیں۔ وہ قیاس کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔

117۔ تمہارا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ اپنی راہ چھوڑکر بے راہ ہو نے والا کون ہے؟سیدھی راہ پانے والوں کو بھی وہ خوب جاننے والا ہے۔

118۔ اگر تم اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اس کا نام لے کر (ذبح کیا ہواجانور) کھاؤ171۔ 

119۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ۔171 تمہاری مجبوری 431کے حالت کے سوا (دوسرے موقعوں پر) تم پر جو حرام کیا گیاتھا واضح کر دیا42 ہے۔ اکثر لوگ بغیر کسی علم کے اپنی خواہشات کے ذریعے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ حد سے نکل جانے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔ 

120۔ گناہوں میں جو ظاہر ہے اور پوشیدہ ہے اسے چھوڑدو۔ جو گناہ کئے تھے ان کے گناہوں کے سبب وہ سزا دئے جائیں گے۔ 

121۔ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ171۔ وہ نافرمانی ہے۔ تم سے بحث کر نے کے لئے شیاطین اپنے دوستوں سے کہہ رہے ہیں۔ اگر تم ان کے تا بع ہوگئے تو تم مشرک ہوگئے۔

122۔ مردہ کو زندہ کیا، وہ لوگوں کے درمیان چلنے کے لئے اس کو روشنی بھی عطا کی گئی تھی ، کیا وہ اندھیروں میں303 پڑے ہوئے،باہر نہ نکلنے والے شخص کی طرح ہوسکتا ہے؟ اسی طرح (ہمیں ) انکار کرنے والوں کو ان کے کرتوت خوشنما کر دئے گئے ہیں۔ 

123۔ اسی طرح ہر بستی میں اس بستی کے بڑے مجرموں کو سازش کرنے والے بنادیا۔ وہ لوگ اپنے ہی خلاف سازش کر رہے ہیں۔ وہ محسوس نہیں کرتے۔ 

124۔ جب ان کے پاس کوئی دلیل آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ جب تک ہمیں بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جیسے اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے، ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اپنا پیغام کہاں رکھنا ہے(کس کے پاس دینا ہے) یہ اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔ جو جرم کر رہے تھے ، ان کی سازش کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ذلت اور سخت عذاب ملے گا۔ 

125۔ اللہ اگر چاہے کہ کسی کو سیدھا راستہ دکھا ئے، اس کے دل کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے۔ اگر اس کو گمراہ کر نا چاہے تو اسکے دل کو آسمان507 پر چڑھنے والے کی طرح تنگ کر دیتا ہے172۔ اسی طرح ایمان نہ لانے والوں پر اللہ عذاب مسلط کردیتا ہے۔ 

126۔ یہی تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے۔غور کر نے والوں کے لئے ہم دلیلیں واضح کر چکے۔ 

127۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے۔ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے وہی ان کا ذمہ دار ہے۔ 

128۔ان سب کو جمع کرنے کے دن1 (وہ کہے گا کہ) اے جنوں کی جماعت! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کردیا۔ انسانوں میں سے ان (جنوں)کے ساتھی کہیں گے کہ اے ہمارے رب!ہم نے ایک دوسرے کے ذریعے فائدہ حاصل کیا تھا۔ اورتم نے ہمارے لئے جو مقرر کیا تھا اس میعادتک بھی ہم پہنچ چکے۔ (وہ کہے گا کہ) جہنم ہی تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہوگے، مگر جو اللہ چاہے173۔ تمہارا پروردگار حکمت والا، علم والا ہے۔ 

129۔ ظلم ڈھانے والوں کے عمل کی وجہ سے ان میں ایک کو دوسرے کا ساتھی ہم اسی طرح بنائیں گے۔

130۔(اللہ کہے گا کہ) اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! تمہیں میری آیتیں سنا کراس دن کی1 ملاقات کے بارے میں خبردار کر نے والے پیغمبر تم ہی میں سے تمہارے پاس نہیں آئے تھے؟وہ کہیں گے کہ ہمارے خلاف ہم خودگواہی دیتے ہیں۔ اس دنیا کی زندگی انہیں فریفتہ کر دیا ۔ اپنے خلاف وہ گواہی دیں گے کہ ہم (اللہ کا) انکار کر نے والے تھے۔ 

131۔ بستی والوں کی غفلت کی حالت میں(ان کے) ظلم کی وجہ سے ان بستی والوں کو تمہارا رب ہلاک نہیں کرتا ، (پیغمبروں کو بھیجنے کی)وجہ یہی ہے۔ 

132۔ ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے کئی درجے ہیں۔ ان کے اعمال سے تمہارا رب بے خبر نہیں ہے۔ 

133۔ تمہارا رب بے نیاز ہے485، رحمت والا ہے۔ دوسری قوم کی نسل سے 46جیسا تمہیں پیدا کیا تھا ، اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہٹا کر تمہارے بعدجس کو چاہے تمہاری جگہ پر لے آئے گا۔ 

134۔ جو تمہیں انتباہ کیا گیا تھا،وہ آکر رہے گی۔ تم کامیاب ہو نے والے نہیں ہو۔

135۔ کہہ دو کہ اے میری قوم! تم تمہارے راستے پر عمل کرو۔ میں بھی (میرے راستے پر) عمل کرتا ہوں۔ پھر تم جان لوگے کہ اس دنیا کا انجام کس کے لئے نافع ہوگا؟ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔ 

136۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں اس کا ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ وہ خود اپنے زعم سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہے، اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے۔ ان کے معبودوں کا حصہ اللہ کو نہیں پہنچے گا۔ جو اللہ کا حصہ ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ سکتاہے۔ ان کا یہ فیصلہ بہت برا ہے۔

137۔ اسی طرح شرک کر نے والوں میں اکثر لوگ اپنی اولاد کے قتل کرنے کوان کے معبودوں نے خوش نما دکھا کر انہیں بھی برباد کردیا اور ان کے دین کو بھی انہیں الجھا دیا۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ اس طرح نہ کرتے۔ انہیں یونہی افتراپردازی کے ساتھ چھوڑدو۔ 

138۔ وہ اپنے ہی زعم میں کہتے ہیں کہ وہ ممنوع کی ہوئی مویشی اور کھیتیاں ہیں۔ ہماری مرضی کے سوا (دوسرا کوئی) اسے کھا نہیں سکتا۔ اللہ پر افترا باندھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ چند جانوروں پر سواری کرنا حرام کردی گئی ہے اور چند جانوروں پر ہم اللہ کا نام نہیں لیں گے۔ وہ افترا کر تے رہنے کی وجہ سے وہ انہیں سزا دے گا۔ 

139۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ ہم میں مردوں کے لئے ہے، ہم میں عورتوں کے لئے وہ حرام ہے۔ اگر وہ مردہ ہی پیدا ہو تو بھی اس میں سب شریک ہیں۔ ان کی اس قول کے لئے اللہ انہیں سزا دے گا۔ وہ حکمت والا، علم والا ہے۔ 

140۔ لاعلمی سے حماقت کی وجہ سے جو اپنی اولاد کو قتل487 کرنے والے اور اللہ کے نام سے افترا باندھ کر جو اللہ انہیں عطا کی ہے اس کو حرام قرار کر نے والے گھاٹے میں پڑگئے، گمراہ ہوگئے اوروہ سیدھی راہ حاصل نہیں کئے۔ 

141۔ پھیلائے گئے اور نہیں پھیلائے گئے باغات، کھجور کے درخت، کھانے کے مختلف اناج، (مشابہت میں) ایک جیسی اور (خاصیت میں) مختلف انداز کے اناراور زیتوں کے درخت سب اسی نے پیدا کیا۔ جب وہ نفع دے تو اس نفع کو کھاؤ۔ اس کی فصل کاٹنے کے دن اس کے مناسب (زکوٰۃ) حق ادا کردو۔اسراف نہ کرو۔ اسراف کرنے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔

142۔ مویشیوں میں بوجھ اٹھانے والے اور بوجھ نہیں اٹھانے والے (اسی نے پیدا کیا)۔ اللہ کے دئے ہوئے سے کھاؤ۔ شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ 

143۔تم کہو کہ (ذبح کئے جانے والے جانور) آٹھ قسم کے ہیں۔بھیڑ میں (نر اور مادہ) دوقسم اور بکری میں دو قسم ہیں۔ (اس میں) کیا (اللہ نے )نر حرام کیا ہے؟ یا مادہ ؟ یا مادہ کے پیٹ میں رہنے والے کو؟ اگر تم سچے ہو تو مجھے دانائی کے ساتھ بتلاؤ۔  144۔ تم کہو کہ اونٹ میں دو اور گائے میں دو قسم ہیں۔ اس میں کیا وہ نر جانور حرام کیا ہے؟ یا مادہ جانور؟یا مادہ کے پیٹ میں رہنے والے کو؟اس طرح اللہ نے جب تم سے کہا تھا تو کیا تم گواہ تھے؟ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے اللہ کے نام سے افترا باندھنے والوں سے زیادہ بہت بڑا ظالم کون ہوگا؟ ظالم لوگوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔ 

145۔ کہہ دو کہ خود سے مرا ہوا، بہتا ہوا خون ، ناپاک خنزیر کا گوشت407اور غیر اللہ کے لئے نامزد 42کیا ہوا ناجائز (کھانے) کے سوادوسرا کچھ انسان کے کھانے کے لئے حرام کیا گیا ہو، مجھے دئے گئے احکام میں ایسا میں نے نہیں دیکھا۔ اگر کوئی حد سے نہ گزرے، طالب نہ ہواور مجبوری کی حالت 431ہو تو تمہارا رب بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

146۔ کھراور ناخن کے درمیان بغیر رخنہ کے ہر ایک جانور یہودیوں کے لئے ہم نے حرام کر دئے تھے۔ گائے اور بکری کی چربیوں میں ان کے پشت یا انتڑیوں میں لگی ہوئی یا ہڈیوں سے ملی ہوئی کے سوا دوسری چیزیں (چربیاں)ان کے لئے حرام کردی تھیں۔ وہ لوگ ظلم ڈھانے کی وجہ سے اس طرح ہم نے سزا دی۔ ہم سچ ہی کہتے ہیں۔ 

147۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب وسیع رحمت والاہے۔ (پھر بھی) مجرم لوگوں پر اس کا عذاب روکا نہ جائے گا۔ 

148۔ شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباواجداد شرک نہ کئے ہوں گے۔ اور کسی چیز کو حرام نہ ٹہرائے ہوں گے۔ اسی طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھوٹ سمجھا تھا۔ آخرکار انہوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ تم کہہ دو کہ کیا تمہارے پاس (اس بارے میں) کوئی تفصیل ہے؟ (اگر ہو تو) وہ ہمیں بتاؤ۔ تم محض گمان ہی کی پیروی کر رہے ہو۔ تم صرف قیاس کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔ 

149۔ کہو کہ پوری دلیل اللہ ہی کا ہے۔اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست دکھا یا ہوتا۔ 

150۔ کہو کہ اپنے گواہوں کو لے آؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اللہ ہی نے اس کو حرام قرار کیا ہے۔ اگر وہ (جھوٹی) گواہی دیں تو تم بھی ان سے مل کر گواہی نہ دو۔ ہماری آیتوں کو جھوٹا سمجھ کر آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دلی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ وہ (دوسروں کو)اپنے رب کا ہمسر ٹہراتے ہیں۔ 

151۔ (اے محمد!) تم کہو کہ آؤ، تمہارا رب تمہارے لئے جو حرام کیا ہے اس کو سناتا ہوں۔ وہ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹہراؤ۔ والدین کی مدد کرو۔ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو487۔ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں463۔ بے حیائی کے کاموں میں علانیہ ہو یا پوشیدہ ، اس کے قریب نہ جاؤ۔ اللہ منع کر نے کی وجہ سے کسی کو(اس کے لئے) سوائے حق ہو نے کے قتل نہ کرو۔ تم سمجھنے کے لئے اسی کو وہ تمہارے لئے تاکید کرتا ہے۔ 

152۔ یتیموں کا مال وہ جوان ہو نے تک بجز بہتر طریقے کے قریب نہ جاؤ۔ ناپ اور تول انصاف سے پوراکرو۔ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے68۔ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوبات کرو تو انصاف ہی سے کرو۔ اللہ کا عہد پورا کرو۔ تم عبرت حاصل کر نے کے لئے وہ اسی کو تمہارے لئے تاکید کرتا ہے۔ 

153۔ یہی میرا سیدھا راستہ ہے۔ پس تم اسی کی پیروی کرو۔کئی راستوں کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہیں اس کی (ایک ہی )راہ سے جدا کر دیں گی۔تم (اللہ سے) ڈرنے کے لئے اسی کو وہ تمہارے لئے تاکید کر تا ہے۔ 

154۔ پھر اپنے رب کی ملاقات پر وہ ایمان لانے کے لئے موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ وہ نیک کام کرنے والوں کی(نیکی) پوری کر نے والی ، ہر ایک چیز واضح کر نے والی ، سیدھی راہ اور رحمت ہے۔

155۔ یہ ہماری طرف سے نازل کردہ برکت والی کتاب ہے۔ پس تم اس کی پیروی کرو۔ (ہم سے) ڈرو، فضل کئے جاؤگے۔ 

157,156۔تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے دو قوم ہی کو کتاب نازل کی گئی ،ہم اسے پڑھنا نہیں جانتے تھے،اور اگر ہم پر کتاب نازل ہوئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راہ راست پر ہوتے(اس لئے ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے)۔ تمہیں تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل ، ہدایت اور رحمت آچکی۔ اللہ کی آیتوں کوجھوٹ سمجھ کر جھٹلانے والوں سے زیادہ ظالم کون ہے؟ ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کو ان کے جھٹلاتے آنے کی وجہ سے ہم سخت سزا دیں گے۔ 26

158۔ (اے محمد!) کیا وہ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پا س فرشتے آئیں153 یا تمہارا رب آئے61 یا تمہارے رب کی چند دلیلیں آئیں؟ جس روز تمہارے رب کی چند دلیلیں آئیں گی ، جو پہلے ہی سے ایمان لائے ہوں اور یقین کے ساتھ نیک کام کئے ہوں ان کے سوا دوسروں کو ان کا ایمان کام نہ آئے گا384۔کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ 

159۔ جو اپنے دین کو جدا کر دیااور کئی فرقے بنالئے ان کے کسی کام میں (اے محمد!) تمہیں کوئی سروکار نہیں۔ان کا معاملہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ پھر جو کچھ وہ کر رہے تھے انہیں وہ بتلا دے گا۔ 

160۔ جو نیک کام کرے اس جیسا دس گناملے گا۔جو برا کام کرے اس برائی کے برابرسزا دی جائے گی۔ وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

161۔ کہہ دو کہ مجھے میرا رب سیدھا راستہ دکھا دیا۔ وہ مستحکم دین ہے۔ حق کی راہ پر قائم رہنے والے ابراہیم کا دین ۔وہ شریک ٹہرانے والوں میں سے نہیں تھے۔ 

163,162۔ کہہ دو کہ میری نماز، میری عبادت، میری زندگی اور میری موت ساری تمام جہانوں کا مالک اللہ ہی کا ہے۔ اس کا ہمسر کوئی نہیں۔ اسی طرح مجھے حکم دیا گیا ہے۔ فرماں برداروں 295میں ، میں پہلا ہوں۔ 

164۔ کہہ دو کہ کیا میں اللہ کے سوا دوسروں کو رب سمجھوں گا؟ وہی سارے چیزوں کا رب ہے۔ (گناہ کر نے والا) ہر کوئی اپنے ہی خلاف کمائی کر تا ہے۔کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا265۔ پھر تمہارے پروردگار کے پا س ہی تمہارا لوٹنا ہے۔ تمہارے اختلاف کے بارے میں وہ تمہیں بتلائے گا۔ 

165۔ وہی تمہیں زمین میں جانشین بنایا46۔ جو کچھ وہ تمہیں عطا کیا ہے تمہیں آزمانے کے لئے484 تم میں بعض کوبعض کے مرتبہ سے بلند کیا۔ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے۔وہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

سورۃ : 7 سورۃ الاعراف ۔ آڈی دیوار

 کل آیتیں : 206

جنت اور دوزخ کے درمیان ایک چوڑی دیوار آڑمیں ہوگی۔ جنت اور دوزخ میں نہ بھیجے جانے والوں میں سے بعض لوگ اس میں ٹہرائے جائیں گے۔ وہ آڑ ی دیوار ہی اعراف کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں اس سورت کے 49,48,47,46 وغیرہ آیتوں میں کہا گیا ہے، اسی لئے اس سورت کا نام الاعراف ہے۔

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ الف،لام، میم، صاد2۔ 

2۔ (یہ) کتابِ الہٰی ایمان والوں کے لئے نصیحت اور اس کے ذریعے (اے محمد!) لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لئے تم پر نازل کی گئی ہے۔ پس تمہارے دل میں کوئی خلش پیدا نہ ہو۔ 

3۔ جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں عطا ہوئی ہے، اسی کی پیروی کرو۔ اس کے سوا (دوسروں کو) سرپرست بنا کر ان کی پیروی نہ کرو۔ تم کم ہی سبق حاصل کر تے ہو۔

4۔ ہم نے کئی بستیاں تباہ کر چکے۔ ان بستیوں میں ہمارا عذاب رات کے وقت یا دوپہر میں جب وہ لوگ سورہے تھے، آ پہنچا۔

5۔ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تویہ کہنے کے سوا کہ ہم نے ظلم کردئے ان کی پکارکچھ نہ تھی ۔

6۔ جن کے پاس ہم پیغمبر بھیجے تھے انہیں بھی دریافت کریں گے اور پیغمبروں سے بھی سوال کریں گے۔

7۔ (ہم) جاننے کی وجہ سے انہیں سمجھائینگے ۔ ہم بے خبر نہیں ہیں۔ 

8۔ اس دن 1تخمینہ کیا جانا حق ہے۔ (نیکی کا) وزن زیادہ رکھنے والے ہی فتحیاب ہوں گے۔ 

9۔ (نیکی کا) وزن ہلکا رکھنے والے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ ہماری آیتوں کے معاملے میں بے انصافی برتنا ہی اس کی وجہ ہے۔ 

10۔ ہم نے تمہیں زمین میں جینے دیا ہے175۔ اس میں تمہیں سہولتوں کا موقع بھی پیدا کیاہے۔ تم بہت کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

11۔ تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری شکل و صورت بنائی، پھرفرشتوں سے کہا کہ آدم کی تعظیم کرو۔ ابلیس کے سوا سب نے تعظیم کی۔ وہ تعظیم کر نے والوں میں سے نہیں تھا۔ 

12۔ (اللہ نے) کہا کہ جب تمہیں حکم دیاگیا تو تعظیم11 کرنے سے تمہیں کس چیزنے روکا؟ اس نے کہا 506کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی 503سے پیدا کیا ہے۔ 

13۔ (اللہ نے) کہا کہ تم یہاں سے اتر جاؤ۔ تم یہاں تکبر کرنا مناسب نہیں ہے۔ پس تم نکل جاؤ۔ تم ذلیل ہو چکے ہو۔ 

14۔ اس نے کہا کہ وہ زندہ کئے جا نے والے دن1 تک مجھے مہلت دے۔ 

15۔ (اللہ نے) کہا کہ تو مہلت دیا جانے والا ہوگیا۔ 

16۔ اس نے کہا کہ تو مجھے گمراہ کر دینے کی وجہ سے ان کے لئے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ جاؤں گا۔ 

17 ۔(وہ یہ بھی کہا کہ) پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے ان کے پاس آؤں گا۔ ان میں سے اکثر کو تم شکر گزار نہ پاؤگے۔ 

18۔(اللہ نے) کہا کہ ذلیل و خوار اور دھتکارا ہوا تو یہاں سے نکل جا۔ان (انسانوں) میں سے اور تم (جنوں) میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے سب لوگوں سے جہنم بھردوں گا۔

19۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو۔ تم دونوں جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت 13کے قریب مت جاؤ۔ (قریب جاؤگے تو) دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔ 

20۔ ان دونوں کو چھپی ہوئی شرم گاہوں کے متعلق پہچان کرانے کے لئے شیطان نے ان دونوں کو برے خیالات پیدا کیا174۔ اس نے کہا کہ تم دونوں فرشتہ نہ بن جائیں اور یہیں ہمیشہ رہنے والے نہ بن جائیں،اسکے سوا اللہ نے اس درخت 13سے تمہیں نہیں روکا ۔

21۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں توتم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ 

22۔ ان دونوں کو فریب دے کر (ان کا درجہ) گھٹا دیا۔ وہ دونوں نے جب اس درخت13 کو چکھا تو ان کی شرم گاہوں کا انہیں احساس ہوا174 ۔ ان دونوں نے جنت کے12 پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانک لینے کی کوشش کی۔اللہ نے انہیں پکار کر کہا کہ کیا میں تمہیں اس درخت13 سے نہیں روکا تھا؟ کیا میں تم سے یہ نہیں کہاتھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے؟ 

23۔ ان دونوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے خود پر ظلم کیا۔ اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ 

24۔ (اللہ نے) کہاکہ (یہاں سے) اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ مدت تک ٹہرنے کی جگہ اور آسائش175 ہیں۔ 

25۔ اور یہ بھی کہا 175کہ اسی میں جیوگے۔ اسی میں مروگے۔ اسی میں سے نکالے جاؤگے۔ 

26۔ اے بنی آدم! 504تمہاری شرم گاہوں کو چھپانے کیلئے لباس اور زینت تمہارے لئے نازل کی ہے۔ (اللہ سے) خوف کا لباس ہی بہتر ہے۔ وہ غور کر نے کے لئے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔

27۔ اے بنی آدم! تمہارے والدین دونوں کو شیطان نے جس طرح جنت 12سے باہر نکالا اسی طرح تمہیں بھی وہ الجھن میں نہ ڈال دے۔ ان کی شرم گاہیں انہیں دکھانے کے لئے اس نے ان کے لباس اتروا دیا174۔ اس طرح کہ تم انہیں دیکھ نہیں سکو، وہ اور اس کا گروہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ہم نے شیطانوں کوایمان نہ رکھنے والوں کا دوست بنادیا۔  28۔ جب وہ بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح پایا ہے۔ اللہ ہی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دے گا۔ کیا تم اللہ پر افترا باندھ کر ایسی باتیں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ 

29۔ کہہ دو کہ میرے رب نے انصاف کاحکم دیا ہے۔ ہر ایک نماز کی جگہ پر تمہارے خیالات یکسو کر لو۔ عبادت کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے اسی سے دعا کرو۔ وہ تمہیں جس طرح پہلی بارپیدا کیا اسی طرح لوٹوگے۔ 

30۔ بعض لوگوں کو اس نے سیدھی راہ دکھائی۔ اور بعض لوگوں پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کرشیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اور یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔ 

31۔ اے بنی آدم!504 ہر ایک نماز کے جگہ میں تم اپنی زینت کرلو۔176 کھاؤ، پیو، بے جا خرچ نہ کرو۔ فضول خرچ کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 

32۔ پوچھو کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جو زینت بخشی ہے اور پاکیزہ غذائیں دی ہیں اس کو حرام کر نے والا ہے کون ؟ اور کہو کہ وہ اس دنیا کی زندگی میں، خصوصاً قیامت کے دن میں ایمان والوں کے لئے ہے۔ جاننے والوں کے لئے ہم اسی طرح دلیلیں بیان کرتے ہیں۔ 

33۔ کہہ دو کہ بے حیائی میں علانیہ اور پوشیدہ باتیں، گناہیں، ناحق کی زیادتی، جس کے لئے اللہ نے کوئی دلیل اتاری نہ ہو، اسے اللہ کے لئے شریک ٹہرانا،جسے تم جانتے نہ ہواس کو اللہ پر افترا باندھنا ، ان تمام چیزیں اللہ نے تم پر حرام کی ہیں۔ 

34۔ ہر قوم کے لئے ایک مدت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجائے تو تھوڑی دیر کے لئے بھی نہ وہ آگے بڑھ سکیں گے اور نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ 

35۔ اے بنی آدم! میری آیتیں تمہیں سنانے کے لئے تم ہی میں سے جب پیغمبر تمہارے پاس آئیں تو (مجھ سے) ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کر نے والوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

36۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر اس کو جھٹلا نے والے ہی جہنمی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

37۔ اللہ پر افترا باندھنے والے سے یا اس کی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے سے زیادہ ظالم کون ہے؟ جوان کا حصہ مقدر میں ہے وہ انہیں ملے گا۔انہیں(کے روح) قبض کر نے کے لئے جب ان کے پاس ہمارے رسول161 آتے ہیں تو165 وہ پوچھیں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم جسے پکار رہے تھے ، وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں چھوڑ کر وہ غائب ہوگئے۔ وہ اپنے ہی خلاف گواہی دیں گے کہ ہم (اللہ کا) انکار کر نے والے تھے۔ 

38۔ (اللہ) فرمائے گا کہ تم سے پہلے جوجنوں اور انسانوں کی قوم گزر چکی ان کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ہر ایک قوم اس میں داخل ہو تے وقت اپنے ساتھی قوم پر لعنت کرے گی۔ آخر جب سب لوگ جہنم میں جمع ہو جائیں گے تو ان میں پچھلے لوگ پہلے لوگوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔پس انہیں جہنم کا عذاب دوگنا کردے۔ (وہ) کہے گا کہ ہر ایک کے لئے دوگنا ہے۔ لیکن تم جانتے نہیں۔ 

39۔ پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ ہم سے زیادہ تمہیں کوئی برتری نہیں۔ پس جو تم کررہے تھے اس کی وجہ سے 265عذاب کا مزہ چکھو۔

40۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلا نے والوں کو آسمان507 کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے177 . جب تک سوئی کے ناکے میں اونٹ نہیں داخل ہوگی ، وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ہم مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ 

41۔ انہیں دوزخ سے بچھونا اور ان کے اوپر (دوزخ سے) اوڑھنا بھی ہے۔ ہم اسی طرح ظالم لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔ 

42۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی جنتی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ہم تکلیف نہیں دیتے۔ 68

43۔ ان کے دلوں کی کدورتوں کو ہم نکال دیں گے۔ان کے نچھلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ایسی راہ دکھائی۔ اگر اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھایا نہ ہوتا تو ہم راہ راست پائے نہ ہوں گے۔ ہمارے پروردگارکے رسول حق ہی لے کر آئے۔ انہیں کہا جائے گا کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہارا جو حق ہے وہ جنت یہی ہے۔

44۔ اہل جنت اہل دوزخ سے پوچھیں گے کہ ہمارے رب نے ہمیں جو وعدہ کیا تھا ہم نے اسے یقین کے ساتھ پالیا۔ تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے یقین کے ساتھ حاصل کرلیا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں۔ جب ان کے درمیان ایک پکارنے والا کہے گا کہ ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت6 ہے۔ 

45۔ انہوں نے اللہ کے راستے سے روک دیا۔اس کو ٹیڑھی راہ بھی سمجھے۔اور آخرت قبول کر نے سے انکار بھی کرتے رہے۔ 

46۔ ان دونوں کے درمیان ایک آڑ (دیواربھی) ہوگی۔اس آڑ ی دیوار پر کچھ لوگ ہوں گے۔ ہر ایک کو ان کی نشانی سے وہ پہچان لیں گے۔ جنتیوں کو بلا کرکہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ اگر وہ (دیواروالے )خواہش بھی کریں تو وہاں داخل نہیں ہونگے۔ 

47۔ ان کی نگاہیں جب دوزخ والوں پر پھیری جائیں گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کردے۔ 

49,48۔ آڑ ی دیوار پر کھڑے ہوئے لوگ (دوزخ میں رہنے والے) کچھ لوگوں کو بلائیں گے۔ ان کی علامتوں سے وہ انہیں پہچان لیں گے۔ وہ کہیں گے کہ افراد کی تعداد اور تمہاری شان و شوکت تمہیں بچا نہیں سکی۔ کیا تم نے ان( جنتیوں) کے بارے میں قسم کھائی تھی کہ ان پر اللہ رحم نہیں فرمائے گا؟ (اس کے بعد، آڑ ی دیوار پر رہنے والوں کی طرف کہا جائے گا کہ) جنت میں داخل ہوجاؤ178۔ تمہارے لئے کوئی خوف نہیں اور تم غم زدہ بھی نہیں ہوں گے26۔

50۔ دوزخی، جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی یا اللہ جو تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ انڈیل دو۔ جنتی کہیں گے کہ (اس کے) انکار کر نے والوں کو وہ دونوں چیزیں اللہ نے حرام کردی ہیں۔ 

51۔انہوں نے اپنے دین کو بے جاکھیل تماشہ بنالیاتھا۔ اس دنیا کی زندگی انہیں فریفتہ کردیاتھا۔ جس طرح وہ آج کے دن 1کی ملاقات کو بھول کر ہماری آیتوں کا انکار کررہے تھے ،آج ہم بھی انہیں بھول گئے۔ 

52۔ ان کے پاس کتاب لے آئے ہیں۔ عقلِ سلیم کے ساتھ اسے ہم واضح کئے ہیں۔ ایمان رکھنے والوں کے لئے وہ ہدایت اور رحمت ہے۔ 

53۔ کیا وہ اس کتاب میں کی گئی تنبیہ کی انتظار میں ہیں؟جس دن وہ تنبیہ پوری ہو گی ، جواس سے پہلے اس دن کو بھولے ہوئے تھے، وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے رب کے پیغمبر حق بات ہی لے کر آئے تھے، ہمارے لئے سفارش کر نے والے کیاکوئی بھی ہمارے لئے سفارش17 نہیں کریں گے؟یا پھر سے ہم (دنیا میں) بھیجے نہیں جائیں گے؟ پہلے ہم جو کر رہے تھے اس کے برخلاف کر یں گے۔ وہ اپنے آپ پر نقصان مہیا کر لیا ہے۔ ان کی افترا پردازی ان سے گم ہوگئی ہے۔ 

54۔ تمہارا پروردگار اللہ ہی آسمانوں507 اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا179۔پھر عرش 488پر بیٹھ گیا۔ رات کو دن سے ڈھانک دیتا ہے۔ دن، رات کو تیزی سے پیچھا کرتا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے حکم سے تابع کیا۔ یاد رکھو! پیدا کرنا اور حکم چلانا اسی کے لئے ہے۔ سارے جہاں کا پروردگاربڑی با برکت والا ہے۔ 

55۔تم اپنے پروردگار سے عاجزی کے ساتھ اور چپکے سے دعا کیا کرو۔ حد سے تجاوز کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 180

56۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں بگاڑ نہ پیدا کرو۔ خوف اور امیدکے ساتھ اس سے دعا کیا کرو۔ اللہ کی رحمت نیک کام کر نے والوں کے قریب ہے۔ 49

57۔ وہی اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری کے طور پر ہواؤں کو بھیجتا ہے۔جب وہ بھاری بادلیں لادتا ہے تو ہم اسے مری ہوئی بستی کی طرف ہانک لے جاتے ہیں۔ پھر اس سے پانی اتار کر اس کے ذریعے سب طرح کے فائدے ظاہر کر تے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو بھی ظاہر کریں گے۔ (اس کے ذریعے) تم عبرت حاصل کر سکتے ہو۔ 

58۔ بناتات اپنے رب کی مرضی سے اچھی زمین سے ظاہر ہوتی ہیں۔ خراب زمین میں ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ شکر گزار لوگوں کے لئے اسی طرح ہم دلیلیں بیان کرتے ہیں۔ 

59۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا معبودکوئی نہیں۔تم پر عظمت والے دن 1کی عذاب سے میں ڈرتا ہوں۔

60۔ ان کی قوم کے سربراہوں نے کہا کہ ہم توتمہیں صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ 

61۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! میرے پاس کوئی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو سارے جہاں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ 

62۔ میرے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچاتا ہوں۔ تمہاری خیر خواہی چاہتا ہوں۔ جو تم نہیں جانتے وہ اللہ کی طرف سے جانتا ہوں۔ 

63۔ (یہ بھی کہا کہ) کیا تم کواس بات پر تعجب ہے کہ تمہیں تنبیہ کر نے کے لئے، تم (اللہ سے) ڈرنے کے لئے اور تم پر رحم فرمانے کے لئے، تمہارے اپنے ہی آدمی پرتمہارے رب کی طرف سے نصیحت آتی ہے۔ 

64۔ پھر بھی ان کو جھوٹا سمجھا۔ اس لئے ان کو اور ان کے ساتھ کشتی میں رہنے والوں کو ہم نے بچا لیا222۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کو ہم نے غرق کردیا۔ وہ جماعت اندے ہی تھے۔

65۔ ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا معبود کوئی نہیں۔ کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈروگے؟

66۔ ان کے قوم میں (اللہ کا) انکار کر نے والے سربراہ کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور جھوٹے بھی سمجھتے ہیں۔

67۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی جہالت نہیں ہے ۔ بلکہ میں سارے جہاں کے رب کا رسول ہوں۔

68۔ میرے رب کے پیغامات میں تمہیں پہنچاتا ہوں۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور امین ہوں۔ 

69۔(انہوں نے یہ بھی کہا کہ) تمہیں تنبیہ کر نے کے لئے تمہارے اپنے ہی آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آتی ہے، کیا تمہیں تعجب لگتا ہے؟ یاد کرو کہ جب نوح کی قوم کے بعد اس نے تمہیں جانشین46 بنایا اور جسمانی ہئیت میں تمہیں زیادہ طاقت عطا فرمائی۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ، تم فلاح پاؤگے۔ 

70۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کررہے تھے اس کو چھوڑ کر ہم صرف اللہ کی عبادت کریں؟ اگر تم سچے ہو تو تم جس کی دھمکی دیتے ہو ، اسے ہمارے پاس لے آؤ۔ 

71۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب تم پر واقع ہوگیا۔ تم اور تمہارے باپ دادا صرف نام رکھ لینے کے بارے میں (فرضی کردار وں کے بارے میں) کیا تم لوگ مجھ سے مباحثہ کر رہے ہو؟ اس کے متعلق اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ انتظار کرو، تمہارے ساتھ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ 

72۔ ان کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو ہماری مہربانی سے بچا لیا۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کی جڑ کاٹ دی۔ وہ ایمان والے نہیں تھے۔ 

73۔ قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا معبود کوئی نہیں۔تمہیں تمہارے رب کی طرف سے دلیل آئی ہے۔ وہ تمہارے لئے نشانی اللہ کی اونٹنی ہے۔ اللہ کی زمین میں اسے چرنے چھوڑ دو۔ اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔ (ایسا کروگے تو) تمہیں دردناک عذاب ہوگا۔ 

74۔ یاد کرو کہ قومِ عاد کے بعد تمہیں جانشین46 بنایا۔ زمین میں وہ تمہیں ٹھکانا دیا۔ اس کے نرم حصوں میں محل تعمیر کرتے ہو۔ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ زمین میں فساد کرتے ہوئے نہ پھرو۔

75۔ ان کی قوم کے متکبر سربراہوں نے ان میں ایمان والے کمزوروں سے (مذاقاًً) پوچھاکہ کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں۔ (ان کمزوروں نے کہا) جو پیغام ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

76۔ متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ 

77۔ پھر اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا۔ اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔ اور کہنے لگے کہ اے صالح! اگر تم پیغمبر ہو تو جس کی تم نے ہمیں دھمکی دی اسے لے آؤ۔ 

78۔ اچانک انہیں زلزلہ نے آپکڑا۔ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں پڑے رہ گئے۔ 

79۔ (پڑے ہوئے ) ان لوگوں کو چھوڑ کر وہ ہٹ گئے۔ اور کہنے لگے کہ اے میری قوم! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تمہیں پہنچا دیا۔ تمہاری میں نے خیر خواہی کی۔ پس تم نے خیر خواہوں کو پسند نہیں کیا۔

80۔ لوط کو بھی (ہم نے رسول بنا کر بھیجا)۔ وہ اپنی قوم سے پوچھا کہ جو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ، کیا تم ایسی بے حیائی کا کام کر تے ہو؟ 

81۔ (وہ یہ بھی کہا کہ) تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جا تے ہو؟ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

82۔ ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ تو پاکیزہ لوگ لگتے ہیں۔ 

83۔ پس ان کے بیوی کے سوا ان کو اور ان کے گھر والوں کو ہم نے بچا لیا۔ وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تھی۔ 

84۔ ان پر شدید بارش برسائی۔ غور کرو کہ مجرموں کا انجام کیسا رہا۔

85۔ شہر مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارامعبود کوئی نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس مناسب دلیل آچکی ہے۔ پس ناپ اور تول پورا کرو۔ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ کرو۔ زمین میں اصلاح ہو جا نے کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

86۔ ہر راستے پر (لوگوں کو) ڈرانے کے لئے مت بیٹھو۔ اللہ کی راہ کو کج روی بنا کر ایمان لانے والوں کو اس سے مت روکو۔ یاد کرو کہ تم تعداد میں کم تھے ، اس نے تمہیں زیادہ کردیا۔ غور کرو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا رہا۔

87۔ ( یہ بھی کہا کہ) جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں ، تم میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ ایمان نہ لایا تو اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر نے تک صبر سے رہو۔ وہ فیصلہ کر نے والوں میں بہت بہتر ہے۔  پارہ نمبر: 9

88۔ ان کی قوم کے متکبر علمانے کہا کہ اے شعیب! تم کو اور تمہارے ساتھ رہنے والے ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے دین میں واپس آجاؤْ !( شعیب) نے کہا کہ کیا ہم (تمہارے دین کو) ناپسند کریں تب بھی؟ 

89۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تمہارے دین سے اللہ نے ہمیں نجات دینے کے بعد اگر ہم اس طرف پھریں تو ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوجا ئیں گے۔ سوائے اللہ کی مرضی کے اس (دین کی) طرف واپس آنا ہم سے یہ نہیں ہوسکتا۔ ہمارا رب اپنے علم سے ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہم اللہ ہی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ تو ہی فیصلہ کر نے والوں میں بہتر ہے۔ 

90۔ ان کی قوم کے (اللہ کا) انکار کرنے والے سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے توتم نقصان اٹھا نے والے ہوجاؤگے۔

91۔ انہیں اچانک زلزلہ نے آ پکڑا۔ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں پڑے ہوئے تھے۔ 

92۔ شعیب کو جھوٹا سمجھنے والے ایسے رہ گئے گویا کہ(وہ اس سے پہلے) وہاں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کو جھوٹا سمجھنے والے ہی نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ 

93۔ (گرے ہوئے) ان لوگوں کو چھوڑ کر وہ ہٹ گئے۔ اور کہنے لگے کہ اے میری قوم! اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیا۔ میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے میں کیوں رنج کروں؟ 

94۔ کسی بھی بستی میں ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس بستی والے عاجزی اختیار کرنے کے لئے انہیں ہم مفلسی اور بیماری میں مبتلا کئے بغیر نہیں رہتے۔ 

95۔ پھر ہم نے برائی کے عوض بھلائی بدل کر دی۔جب و ہ پھیلنے لگے توکہنے لگے کہ (نہ صرف ہمارے لئے)ہمارے آباو اجدادپر بھی غم اور خوشی پہنچی ہے۔ پھر ان کی بے خبری کی حالت میں ہم نے اچانک انہیں سزا دی۔ 

96۔ اس بستی والے ایمان لائے ہوتے اور (ہم سے ) ڈرتے تو ہم آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے برکتیں کھول دئے ہوتے۔ بلکہ انہوں نے جھوٹ سمجھا۔ پس ان کے (برے) عمل کی وجہ 265سے انہیں سزا دی۔ 

97۔ کیا وہ بستی والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ رات میں جب وہ سو رہے ہوں تو ہمارا عذاب ان پر آپڑے؟

98۔ کیا وہ بستی والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ پہلے پہر میں جب وہ کھیل رہے ہوں تو ہمارا عذاب ان پر آپڑے؟ 

99۔ کیا وہ اللہ کی تدبیر6 سے بے خوف ہیں؟ خسارے والے لوگوں کے سوا (دوسرے کوئی) اللہ کی تدبیرسے بے خوف نہیں رہیں گے۔

100۔ اگر ہم چاہتے تو زمین کے حقدار وں سے (وہ تباہ ہو جانے کے بعد) اس پر قبضہ جمانے والوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دیتے، اور بغیر ان کے شنوائی کے ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے۔کیا تمہیں سمجھ میں نہیں آئی؟

101۔ (اے محمد!) ان بستیوں کے متعلق خبریں تمہیں سناتے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ آئے۔ پہلے ہی سے وہ لوگ جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے وہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اسی طرح اللہ (اس کا) انکار کر نے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ 

102۔ ان میں اکثر لوگوں کے پاس عہد کا نباہنا نہیں ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کو ہم نے جرم کرنے والا ہی پایا۔ 

103۔ ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے اسے قبول کر نے سے انکار کردیا۔ غور کرو کہ مفسدوں کا انجام کیسا رہا؟

104۔ موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون! میں سارے جہاں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ 

105۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اللہ پر حق کے سوا (دوسرا کچھ) نہ کہنا مجھ پر فرض ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل تمہارے پاس لے آیا ہوں۔ پس تم میرے ساتھ اسرائیل کے لوگوں کو بھیج دے181۔

106۔ اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہو اور دلیل لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو۔ 

107۔ تب انہوں نے اپنا عصا ڈال دیا ، تو وہ یکایک صریح سانپ بن گیا۔ 

108۔ وہ اپنا ہاتھ باہر دکھایا تو وہ دیکھنے والوں کو سفید دکھائی دیا۔ 

110,109۔ فرعون کے قومی سرداروں نے کہا26 کہ یہ توبڑا ماہر جادو گر357 ہے285۔تمہاری سرزمین سے وہ تمہیں باہر کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا حکم دیتے ہو؟ 

112,111۔ انہوں نے (فرعون سے) کہا26 کہ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دو۔( جادو گروں کو) اکٹھا کر لا نے کے لئے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دو۔ وہ ہرماہر جادوگر357 کو تمہارے پاس لے آئیں گے۔ 

113۔ جادوگر357 فرعون کے پاس آئے۔ پوچھنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو کیا ہمیں انعام ملے گا؟ 

114۔ (اس نے) کہا کہ ہاں، تم (میرے) مقرب ہو۔

115۔ انہوں نے پوچھا کہ اے موسیٰ! (شعبدہ) تم ڈال رہے ہو یا ہم ہی ڈالیں؟ 

116۔( موسیٰ نے) کہا کہ تم ہی ڈالو۔ جب وہ لوگ ( اپنا شعبدہ) ڈالے تو لوگوں کے آنکھوں کو نظر بندی کردی285۔ لوگوں کو دہشت زدہ کردیا۔ بہت بڑا جادو 357وہ لے آئے تھے۔ 

117۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا عصا ڈالو۔ تو اچانک وہ ان کے سارے شعبدوں کو نگل گیا۔ 

118۔ حق قائم رہا۔وہ جو کر رہے تھے سب بے کار ہوگیا۔ 285 

119۔ وہاں وہ لوگ ہار گئے، ذلیل ہوگئے۔ 285

120۔ جادو گر سجدے میں گرپڑے۔ 285

122,121۔ کہنے لگے کہ ہم سارے جہاں کے پروردگار موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔ 26

123۔فرعون نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے کیا تم ان پر ایمان لے آگئے؟ اس شہر سے اس کے حقداروں کو باہر کر نے کے لئے یہ تمہاری رچی ہوی سازش ہے۔ (اس کا انجام) عنقریب تم جان لوگے۔ 

124۔ (یہ بھی کہا کہ) میں تمہارے ہا تھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔ 

125۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 

126۔ ہمارے پروردگار کی نشانیاں جب ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے، اسی لئے تم ہمیں سزا دے رہے ہو ۔ (فرعون سے یہ کہنے کے بعد کہا کہ) اے ہمارے پروردگار! ہم کو صبر عطا فرما اور ہمیں حالت اسلام پر 295موت دے۔

127۔ فرعون کے قومی سرداروں نے پوچھا کہ اس سر زمین میں فساد مچانے اورتمہیں اور تمہارے معبودوں کو جھٹلانے، کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے؟ فرعون نے کہا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے۔ ہم تو ان پر غلبہ رکھتے ہیں۔ 

128۔ موسیٰ اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو۔ صبر سے رہو۔ زمین تو اللہ ہی کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے۔ آخری انجام (اللہ سے) ڈرنے والوں کے حق میں ہی ہوگا۔ 

129۔ انہوں نے کہا کہ تم ہمارے پاس آنے سے پہلے اور تم ہمارے پاس آنے کے بعد بھی ہم ستائے جا رہے ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں زمین میں (ان کا )بدل بنا کر46 دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

130۔ عبرت حاصل کر نے کے لئے ہم نے فرعون کی قوم کو کئی طرح کے قحط سالیوں اور پیداوار کی کمی کے ذریعے سزا دی۔

131۔ انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے (ملی) ہے۔ انہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نحوست سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو! جس کو وہ نحوست سمجھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہے۔ لیکن ان میں اکثر یہ نہیں جانتے۔ 132۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسحور کر نے کے لئے تم جو بھی نشانی لاؤ ، ہم تمہیں ماننے والے نہیں۔ 

133۔ پس ہم نے ان کے خلاف سیلاب، ٹڈیاں،جوئیں، مینڈک اور خون جیسے واضح نشانیاں بھیجیں۔ وہ لوگ متکبر ہی رہے اور جرائم پیشہ لوگ ہی رہے۔ 

134۔ان کے خلاف جب بھی کوئی عذاب واقع ہوتا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ! تمہارا رب تمہیں جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق اس سے دعا کرو۔اگر تم ہم سے یہ مصیبت ہٹادیں تو ہم تمہیں مانیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے181۔ 

135۔ وہ پورا کر نے والے مقررہ وقت تک انہیں ہم عذاب سے نجات دینے کے ساتھ وہ اپنا عہد توڑ دیتے ہیں۔ 

136۔ وہ ہماری نشانیوں کو جھوٹ سمجھااور بے پرواہی برتی ، اس لئے ہم نے ان کو سزا دی اور انہیں سمندرمیں غرق کردیا۔ 

137۔ کمزور سمجھے جانے والی قوم کو ہماری برکت والی سر زمین کے مشرق اور مغربی حصوں کا مالک بنا دیا۔بنی اسرائیل صبر کو اپنانے کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا اچھا وعدہ ان کے حق میں پوری طرح سے انجام پایا۔ فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا اور جو اونچا اٹھایا تھاسب تباہ کردیا۔ 

138۔ بنی اسرائیل کو سمندر پار کروایا۔ اپنے بتوں کی پرستش میں لگے ہوئے لوگوں کے پاس وہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ اے موسٰی! ان کے پاس جومعبود ہیں اسی طرح ہمارے لئے بھی معبود کا انتظام کرو۔ اس نے کہا کہ تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ 

139۔ وہ لوگ جس میں ہیں وہ تباہ ہوجا ئے گا۔ وہ جو کررہے تھے سب بے کار ہے۔ 

140۔ (موسٰی نے) کہا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود قرار دوں؟ اسی نے تمہیں سارے جہاں والوں سے فضیلت دی ہے۔ 

141۔ یاد کرو کہ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے، تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے، اس طرح سخت عذاب کا مزہ چکھانے والے فرعون کی قوم سے ہم نے تمہیں بچا لیا۔ تمہارے رب کی طرف سے اس میں سخت آزمائش تھی۔ 

142۔ موسٰی سے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔اسے (اور) دس (راتوں)کے ذریعے پورا کیا۔ اس طرح ان کے پروردگارکی مقرر کی ہوئی مدت چالیس راتیں پوری ہوگئی18۔ موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سے (پہلے ہی) کہا تھا کہ میری قوم کے لئے تم میرے بدلے میں46 رہ کر انہیں اصلاح کرنا۔ فساد کر نے والوں کی راہ پر مت چلنا۔ 

143۔ ہمارے مقرر کردہ جگہ پر موسٰی آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے باتیں کی488 تو کہا کہ اے میرے پروردگار! (تجھے) مجھ کو دکھا دے۔میں تجھے دیکھنا ہے۔ (اللہ نے) فرمایاکہ تم مجھے دیکھ ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر وہ اسی کی جگہ پر قائم رہا تو پھر تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔ان کے رب نے اس پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب انہیں ہوش آیا تو کہنے لگے کہ تو پاک ہے10۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں۔ ایمان لانے والوں میں میں سب سے پہلا ہوں21۔ 

144۔ (اللہ نے) کہا کہ اے موسٰی! میرے پیغام کے ذریعے اور میرے کلام 488کے ذریعے لوگوں کے مقابلے میں تمہیں چن لیا ہے۔ پس جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اسے تھام لو۔ اور شکر گزار بن جاؤ۔ 

145۔ تختیوں میں ان کے لئے ہر ایک بات لکھ دی۔ وہ نصیحت اور ہر بات کے لئے تفصیل تھی184۔(اللہ نے کہا کہ) اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ اسے اچھی طرح سے تھام لینے کے لئے اپنی قوم کو بھی حکم دو۔ نا فرمانوں کا گھر میں تمہیں دکھاؤں گا428۔ 

146۔ ناحق زمین میں تکبر کر نے والوں کو میری نشانیوں سے پھیر دوں گا۔ وہ خواہ کوئی بھی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔اگر وہ سیدھی راہ دیکھیں تو اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے۔ گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے وہ (اپنا) راستہ بنا لیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہماری آیتوں کوجھوٹ سمجھااور اس سے وہ غافل رہے۔ 

147۔ ہماری آیتیں اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھنے والوں کے عمل ضائع ہو جائیں گے۔ ان کے عمل کے سوا کیا دوسری کسی چیز کا اجر دیا جائے گا؟ 

148۔ موسٰی کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کی شکل بنا کر (معبود) تصور کر لیا۔ اس کو بیل کی آواز بھی تھی۔کیا وہ یہ نہیں سمجھ سکتے19 کہ وہ نہ ان سے بات کر سکتا ہے اور نہ انہیں کوئی راستہ دکھا سکتا ہے؟ اس کا تصور کر کے وہ ظالم ہوگئے۔ 

149۔ جب انہیں گمراہی کااحساس ہو گیاتو وہ افسو س کر تے ہوئے کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہ فرماتااور ہمیں معاف نہ کر تا تو ہم نقصان اٹھانے والے ہوجائیں گے۔

150۔ افسوس اور غصے کی حالت میں جب موسٰی اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو کہا کہ میرے بعد جو تم نے کیا تھا بہت برا ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے حکم (سزا) کے لئے جلدی کررہے ہو؟ تختیوں کو ڈال دیا۔ اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔(ان کے بھائی نے) کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے! اس قوم نے مجھے کمزور سمجھ لیا۔ مجھے قتل کر نے کی کوشش بھی کی۔ اس لئے دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع پیدا نہ کرو۔ ظلم کر نے والی قوم میں مجھے بھی شامل نہ کردو۔ 

151۔ (موسٰی نے) کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے۔ ہمیں تیری رحمت میں داخل فرما۔ تو رحم کرنے والوں میں بہت بڑا رحم کرنے والا ہے۔ 

152۔ بچھڑے کو اپنا معبود بنانے والوں کو ان کے رب کی طرف سے ناراضگی اور اس دنیوی زندگی میں ذلت بھی ہوگی۔ جھوٹ گھڑنے والوں کوہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں19۔ 

153۔ جو برے کام کئے ، پھر اصلاح کر کے ایمان لے آئے، اس کے بعد (انہیں) تمہارا پروردگار بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

154۔ جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ تختیوں کو اٹھالیا۔ ان کی تحریر میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے رحمت اور ہدایت ہے۔ 

155۔ ہماری مقرر کی ہوئی جگہ میں موسٰی نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ جب انہیں زلزلہ نے آپکڑا تو (موسٰی ) دعا کر نے لگے392 کہ اے میرے پروردگار! اگر تو چاہتا تو (اس سے) پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کر دیتا۔ ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت کی وجہ سے کیا تو ہمیں ہلاک کر ے گا؟ یہ تیری آزمائش کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ذریعے جس کوتو چاہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، جس کو چاہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ پس تو ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ 

156۔ (یہ بھی دعا کی ) ہمیں اس دنیا میں اورآخرت میں بھلائی لکھ دے۔ ہم تیری طرف رجوع کر لیا ہے۔(اللہ نے) فرمایا کہ میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں دیتاہوں۔ اور میری رحمت ہر چیز کو گھیری ہے۔ جو(مجھ سے )ڈرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ، ان کے لئے لکھ دوں گا۔ 

157۔لکھنے پڑھنے312 نہ جانے ہوئے152 اس رسول کی، اس نبی (محمد) کی وہ پیروی کر تے ہیں۔ ان کے پاس کی تورات اور انجیل491 میں ان کے بارے میں لکھا ہوا 457پاتے ہیں25۔ یہ انہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ پاک چیزوں کوان کے لئے حلال کرتے ہیں، ناپاک چیزوں کو ان کے لئے حرام ٹہراتے ہیں186۔ ان کے بوجھ اور ان پر (جکڑے ہوئے) زنجیروں کووہ دور کرتے ہیں۔ جو لوگ ان پرایمان لاتے ہیں، انہیں عزت کرتے ہیں، انہیں حمایت کرتے ہیں اور ان پر اتاری گئی روشنی کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ 

158۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں187&281۔ اسی کے لئے آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ،یعنی لکھنے پڑھنے312 نہ جاننے والے152 اس نبی پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کی پیروی کرو ، سیدھی راہ پاؤگے۔ 159۔ موسٰی کی قوم میں سچائی کے مطابق راستہ دکھانے والے اور اسی کے مطابق انصاف کر نے والے بھی ہیں۔ 

160۔ اور انہیں بارہ شاخوں والی قوموں میں تقسیم کردیا۔ موسٰی کی قوم ان کے پاس جب پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی سے اس چٹان پر مارو۔ فوراً اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ان پر ابر کا سایہ کیا۔ انہیں من و سلوٰی442 (نامی غذا) اتارا۔ (اورکہا کہ) ہم نے تم کو جو پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں ، انہیں کھاؤ۔ ان لوگوں نے ہمارا کوئی نقصان نہ کیابلکہ اپنا ہی نقصان کر لیا۔ 

161۔ یاد دلاؤ ان لوگوں سے جو کہا گیاتھا کہ تم اس بستی میں بس جاؤ۔ اس میں جو چاہتے ہو کھاؤ۔ اور کہو کہ معافی (چاہتے ہیں)۔ جھکتے ہوئے دروازے سے داخل ہوجاؤ۔ تمہاری گناہوں کو ہم بخش دیں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔

162۔ ان میں جو ظالم لوگ تھے (اوپر کہی گئی باتوں کو) ان سے نہ کہی گئی باتوں سے بدل ڈالا۔ اس لئے کہ انہوں نے ظلم کیا تھا، ان پر آسمان 507سے عذاب اتارا۔

163۔ سمندر کے کنارے واقع بستی کے بارے میں ان سے پوچھو۔ ہفتہ کے دن میں وہ جو حد سے گزر گئے تھے، انہیں یاد دلاؤ۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے سطح پر ان کے سامنے آگئیں۔ہفتہ کے سوا دوسرے دنوں میں وہ ان کے پاس نہیں آتیں ۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے23 اس طرح انہیں آزمایا484۔ 

164۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے پروردگار سے (بازپرس کے وقت) بچنے کے لئے اور وہ لوگ (اللہ سے) ڈرنے والے بننے کے لئے (انہیں ہم نصیحت کر تے ہیں)۔ 

165۔ جب وہ کہی ہوئی ان نصیحتوں کو بھول گئے تو ہم نے (صرف)برائی سے روکنے والے کو بچا لیا۔ جرم کرتے رہنے کی وجہ سے ظلم کر نے والوں کو سخت سزا دی188۔ 

166۔ جس سے منع کیاگیا تھا اس میں وہ حد سے نکل گئے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ23۔

167۔ یاد دلاؤ اس اعلان کو جو تمہارے رب نے کیا تھا کہ قیامت کے دن1 تک انہیں سخت عذاب دینے والوں ہی کو ان کے خلاف مقرر کیا جائے گا۔ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔  168۔ انہیں زمین میں کئی گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں نیک لوگ بھی ہیں اوران میں اس طرح نہ ہونے والے بھی ہیں۔ ان کی اصلاح کے لئے انہیں اچھائیوں اوربرائیوں کے ذریعے ہم نے آزمایا484۔

169۔ ان کے بعد دوسری قوم نے ان کے بدلے46 میں آئی۔ وہ لوگ کتاب کو وراثت میں پائے تھے۔ (اس کے ذریعے) اس حقیر چیز کو حاصل کرلیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے گا۔ اس جیسی حقیرچیز انہیں پھر مل جائے تو وہ اسے بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں (وضاحت کے ساتھ)عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ کے نام سے سچ کے سوا (اور کچھ) نہ کہیں ۔جو اس میں ہے ، کیا انہوں نے نہیں پڑھا؟ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ کیا تم (اسے) سمجھو گے نہیں؟ 

170۔ جو کتاب الٰہی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے نماز بھی قائم کرتے ہیں ، ایسے اصلاح کر نے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ 

171۔ جب ہم نے پہاڑکو ان کے اوپر بادل کی طرح بلند کیا، ان کو گمان ہوا کہ وہ ان پر گر پڑے گا تو (ہم نے) کہا کہ ہم نے تم کو جو دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو، اس میں جو ہے اس کویاد رکھو، (ہم سے) ڈرنے والے بنو گے22۔

173,172۔تمہارے رب نے اولاد آدم کی504 پیٹھوں سے 189ان کی نسل نکالا اور ان کو خود ان کے خلاف گواہ بنایا۔ (اور کہا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! ہم (اس کی) گواہی دیتے ہیں۔ یہ( عہد وقرار) اس لئے لیا گیا تھا کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ اس سے ہم بے خبر تھے یا اس سے پہلے ہمارے باپ دادا نے شرک کیا تھا، ہم اس کے بعد آنے والے نسل تھے، کیا ان غلط کاروں کے فعل پر تو ہمیں ہلاک کرے گا؟ 26

174۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لئے ہم اسی طرح دلیلیں واضح کر تے ہیں۔

175۔ (اے محمد!) انہیں ایک شخص کے بارے میں خبر سنادو۔ اس کو ہماری آیتیں دی تھیں۔ وہ ان سے نکل گیا۔ شیطان نے اس کا پیچھا کیا۔ پس وہ گمراہ ہوگیا۔ 

176۔ اگر ہم چاہتے تو اس کے ذریعے اس کو بلندی عطا کرتے۔ بلکہ اس نے اس دنیوی زندگی کی طرف مائل ہوگیا۔ وہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر نے لگا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہے۔ اگر تم اس پر حملہ کرو بھی تو وہ زبان لٹکائے رہتا ہے، اور اس کو چھوڑ دوبھی تو زبان لٹکائے رہتا ہے۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کی مثال یہی ہے۔ وہ غور کر نے کے لئے ان واقعات کو سناؤ۔ 

177۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر اپنے آپ پر ظلم ڈھانے والے لوگ ہی بری مثال ہیں۔

178۔ اللہ جسے سیدھی راہ چلائے وہی ہدایت یافتہ ہے۔وہ جسے گمراہی میں چھوڑدے وہی نقصان یافتہ ہے۔ 

179۔ جنوں اور انسانوں میں ہم بہتوں کو دوزخ ہی کے لئے پیداکیا ہے۔ ان کے دل ہیں، ان سے وہ سمجھتے نہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں، ان سے وہ دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں، ان سے وہ

سنتے نہیں۔ وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں ۔ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ راہ بھٹکے ہوئے ۔ وہی لوگ غفلت برتنے والے ہیں۔  180۔ اللہ کے خوبصورت نام ہیں۔ ان ہی کے ذریعے اس سے دعا کرو۔ اس کے ناموں میں کجی پیدا کر نے والوں کو چھوڑ دو۔ وہ جو کر رہے تھے اس کے لئے انہیں سزا دی جائے گی190۔ 

181۔ ہم جسے پیدا کئے ہیں ان میں حق کا راستہ دکھانے والی قوم بھی ہے، اسی کے مطابق انصاف کر نے والے بھی ہیں۔ 

182۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کو ان کی بے خبری میں چھوڑ کر پکڑیں گے۔ 

183۔ انہیں مہلت دیا ہوں۔ میرا منصوبہ مضبوط ہے۔ 

184۔ کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی (محمد) کو کوئی جنون نہیں۔ وہ تو صاف تنبیہ کرنے والے ہیں۔ 

185۔ آسمانوں507 اور زمین کی حکومت پر اور اس کی پیدا کی ہوئی دوسری چیزوں پر اور ان کا مقررہ وقت قریب آجانے پر کیا انہوں نے غور نہیں کیا؟اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟

186۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ان کو ان کے سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دے گا۔ 

187۔ (اے محمد!) وہ لوگ تم سے قیامت کے دن1 کے بارے پوچھتے ہیں۔تم کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہی ہے۔ اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی اس کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ آسمانوں 507اور زمین میں وہ بڑا بھاری قائم ہوگا۔ وہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گا۔ وہ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ تم کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ پھر بھی اکثر لوگ جانتے نہیں۔ 

188۔ (اے محمد!) تم کہو کہ اللہ کی مرضی کے سوا میں خود کے لئے بھی بھلائی یا برائی کر نے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر میں غیب کی باتیں جاننے والاہوتا تو بھلائیاں زیادہ حاصل کرلیا ہوتا۔ کوئی بھی تکلیف مجھے پہنچی نہیں ہوتی۔ ایمان لانے والے لوگوں کو میں تو محض تنبیہ کر نے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔  189۔ اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا368۔ ان میں سے504 ان کی بیوی کو، اس کے پاس سے سکون حاصل کر نے کے لئے، پیدا کیا۔ وہ اس کے ساتھ صحبت کیا تو وہ ہلکا سا بوجھ اٹھانے لگی۔ جس کے ساتھ وہ چلتی پھرتی رہی۔اس کا( پیٹ ) جب بوجھل ہوگیا تو ان دونوں نے اپنے پروردگار اللہ کے پاس دعا کرنے لگے کہ (اعضاء میں)بغیر نقص کے تو ہمیں عطا کرے گا تو شکر گزار ہوں گے۔ 

190۔ ان دونوں کو (اعضاء میں) بغیر نقص کے جب اس نے عطا کیا تو انہیں جو اس نے دیا تھا،اس میں سے وہ شریک ٹہرانے لگے۔ ان کے شریک ٹہرانے سے اللہ برترو بالا ہے191۔ 

191۔ جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے کیا اس کو (اللہ کا) شریک ٹہراتے ہیں؟ وہ خود بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔

192۔ اِن کو مدد کر نے کے لئے اُن سے نہیں ہوسکتا۔ وہ خود اپنے لئے بھی مدد نہیں کرسکتے۔

193۔ (کوئی بات) انہیں بتلانے کے لئے انہیں تم بلاؤ تو وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو، تمہارے لئے دونوں برابر ہیں۔ 

194۔ اللہ کے سوا جنہیں تم بلاتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے غلام ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو تم انہیں پکار کر دیکھو۔ وہ تمہیں جواب دیں۔

195۔ کیاان کے پاس چلنے کے لئے پاؤں ہیں؟یا پکڑنے کے لئے ہاتھ ہیں؟ یا دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں؟ یا سننے کے لئے کان ہیں؟کہہ دو کہ تمہارے شریکوں کو بلا کر میرے خلاف سازش کرو۔ مجھے کچھ بھی مہلت نہ دو۔ 

196۔ (اور کہو کہ) اس کتاب کے اتارنے والے اللہ ہی میرا سرپرست ہے۔ وہی نیک بندوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ 

197۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی خود کی بھی مددنہیں  کر سکتے۔ 

198۔ (کوئی بات) بتلانے کے لئے انہیں تم پکارو تو وہ نہیں سنیں گے ۔ وہ تم کو دیکھتے ہوئے تم پاؤگے، (لیکن ) وہ نہیں دیکھتے۔ 

199۔ فیاضی اختیار کرو۔نیکی کا حکم دو۔ جاہلوں کو نظر انداز کردو۔

200۔ شیطان کی اکساہٹ تم پر ہو تو اللہ کے پاس پناہ مانگو۔ وہ سننے والا488، جاننے والاہے۔ 

201۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو شیطان کی اکساہٹ پیدا ہوگا تو وہ فوراً سدھر جاتے ہیں۔ جب وہ جاگ جاتے ہیں۔ 

202۔ وہ (شیطان) اپنے بھائیوں کو گمراہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ پھر (اس میں) کوئی کوتاہی نہیں رکھتے۔

203۔ (اے محمد!) ان کے پاس دلیل نہیں لے جاؤگے تو وہ پوچھتے ہیں کہ کیا تم اسے نہیں لاؤگے؟ تم کہہ دو کہ میرے پروردگار سے مجھے جو اطلاع ملتی ہے میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے روشن، ہدایت اور ایمان لانے والوں کے لئے رحمت ہے۔

204۔ قرآن جب پڑھا جائے تو اس کو سنو۔ منہ بند رکھو۔ تم پر رحم کیا جائے۔ 

205۔ اپنے پروردگار کو صبح و شام دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ ، بغیر اونچی آواز کے یاد کرو۔ غافلوں میں سے نہ بنو192۔ 

206۔ تمہارے رب کے پاس رہنے والے (فرشتے) اس کی غلامی کرنے سے منہ نہیں پھیرتے۔ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اسی کی سجدہ کرتے ہیں396۔ 

سورہ : 8 الانفال ۔ مال غنیمت

کل آیتیں : 75

دشمنوں سے قبضہ کئے گئے مال و اسباب انفال کہا جاتاہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں انفال کا ذکر آنے کی وجہ سے یہی نام اس سورت کا رکھا گیا ہے۔ 

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ....

1۔ (اے محمد!) میدان جنگ میں دشمنوں سے قبضہ کئے گئے مال غنیمت کے بارے میں وہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مال غنیمت (کے بارے میں فیصلہ کر نے کا حق) اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو۔ اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرلو۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو۔ 

2۔ ایمان والے وہ ہوتے ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ جائیں۔ اس کی آیتیں انہیں سنائی جائیں تو وہ انکا ایمان بڑھا دے۔ وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 

3۔ وہ نماز قائم کریں گے۔ انہیں جو کچھ ہم نے دیا ہے (نیک راہ میں) خرچ کریں گے۔

4۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس کئی درجے، مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ 

5۔ (اے محمد!)جیسا کہ تمہارا پروردگار تمہارے گھر سے سچائی کے ساتھ تمہیں باہر (ناگواری سے) نکالا تھا ، اسی طرح مومنوں کی ایک جماعت کو(جنگ) ناگوا رتھا۔

6۔ سچائی واضح ہوجانے کے بعد وہ تم سے احتجاج کرتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ موت کی طرف گھسیٹے جانے والے کی طرح ہیں۔ 

7۔ یاد کرو جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ دشمنوں کے دو گروہوں میں سے ایک تمہارا (موافق) ہوگا358۔ تم چاہتے ہو کہ غیر مسلح(تجارتی) قافلہ تمہارے ہاتھ آجائے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام 155کے ذریعے سچائی قائم کرنااور (اس کے) انکار کرنے والوں کو جڑ سے کاٹ دینا196۔

8۔ وہ چاہتا ہے کہ خواہ مجرموں کو ناگوار گزرے ، سچائی قائم رہے اور باطل مٹ جائے۔ 

9۔ جب تم نے اپنے رب سے مدد مانگا تو اس نے تمہیں جواب دیا کہ تمہارے پیچھے لگاتار ہزار فرشتوں کے ذریعے میں تمہاری مدد کروں گا۔ 

10۔ خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس کے ذریعے مطمئن ہوجائیں ، اسی لئے اللہ نے اس کا انتظام کیا۔ مدد اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

11۔ یاد کرو کہ اس نے تم پر غنودگی طاری کردی۔ وہ اس کی طرف سے ملا ہوا سکون تھا۔ پانی کے ذریعے تمہیں پاک کرنے، تم سے شیطان کی غلاظت دور کر نے، تمہارے دلوں کو مضبوط کرنے اور اس کے ذریعے تمہارے قدموں کو جمائے رکھنے کے لئے ہی ہم نے آسمان 507سے تم پر پانی برسایا۔ 

12۔ (اے محمد!) یاد دلاؤ ، تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو۔ (میرا) انکار کر نے والوں کے دلوں میں ڈر پیدا کروں گا۔ اس لئے تم ان کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ہر ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ۔ 

13۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اوراس کے رسول کی مخالفت کی۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر نے والوں کو اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

14۔ لو، اسے چکھو! (اللہ کے) انکار کر نے والوں کو جہنم کا عذاب ہے۔ 

15۔ اے ایمان والو! آگے بڑھتے ہوئے (اللہ کا) انکار کر نے والوں سے جب تمہارا آمنا سامناہو تو ان سے پیٹھ پھیر کر مت بھاگو۔ 

16۔ اس موقع پر جنگ کے لئے گھات لگا تا ہوا حملہ کرنے والا ہو یا دوسرے گروہوں سے مل جاتا ہو ، اس کے سوا ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جا نے والے اللہ کے غضب ہی سے لوٹتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

17۔ انہیں تم نے قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ ہی نے انہیں قتل کیا۔ (اے محمد!) تم نے جو پھینکا تھا (سچ میں) تم نے نہیں پھینکا، بلکہ اللہ ہی نے پھینکا193۔ مومنوں کو اچھے طریقے سے انعام دینے کے لئے ہی اس نے ایسا کیا۔ اللہ سننے والا488، جاننے والاہے۔ 

18۔ اس کے لئے یہ بھی وجہ تھی کہ (اس کا) انکار کر نے والوں کی سازش کو اللہ کمزور کر نے والا ہے۔ 

19۔ (اللہ کا) انکار کرنے والو! اگر تم فیصلہ تلاش کر نے والے ہو تو لو، فیصلہ تمہارے پاس آگیا۔ اگر تم باز آجاؤ تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم دوبارہ جنگ کر نے آؤگے تو ہم بھی آئیں گے۔ تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، وہ تمہارے لئے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ 

20۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی تابع رہو۔ تم سنتے ہوئے انہیں نہ جھٹلاؤ۔

21۔ ایسے نہ بنو جو سنے بنا کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا۔

22۔ (حق کے)نہ سمجھنے والے بہرے اور گونگے ہی اللہ کے نزدیک بہت بُرے جاندار ہیں۔ 

23۔ اگر اللہ جانتا 194کہ ان کے پاس بھلائی ہے تو وہ انہیں سننے دیا ہوتا۔ اگر انہیں سننے دیا بھی ہوتا تووہ اسے بے پرواہی سے جھٹلا دئے ہوں گے۔ 

24۔ اے ایمان والو! اللہ کو جواب دو۔ تمہیں زندگی بخشنے کے لئے یہ رسول (محمد) تمہیں بلائیں تو انہیں بھی(جواب دو)۔جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان ہوتا ہے اور اسی کے پاس جمع کئے جاؤگے ۔

25۔ ایک آزمائش سے ڈرو۔ایسا نہیں ہے کہ وہ تم میں صرف ظلم ڈھانے والوں ہی کوپکڑے گا 409۔ اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

26۔ یاد کرو کہ تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے، اور تم قلیل تعداد میں تھے اور تم اس زمین میں کمزور بھی تھے۔ اسی نے تم کو پناہ دی۔ اپنی مدد سے تم کو قوت عطا کی۔ تم شکر گزار بننے کے لئے پاکیزہ چیزوں کو کھانے کے لئے دی۔ 

27۔ اے ایمان والو! جانتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ تمہارے پاس رکھی ہوئی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو۔

28۔ اور جان لو کہ تمہاری اولاد اور تمہارا مال آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ 

29۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہیں بصیرت عطا کرے گا۔ تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر کے تمہیں بخش دے گا۔ اللہ بڑا فضل والا ہے۔ 

30۔ (اے محمد!) یاد کرو جب (اللہ کا)انکار کر نے والوں نے سازش کیا تھا کہ تمہیں قید کرلیںیا تمہیں قتل کردیں یا تمہیں وطن سے نکال دیں۔ وہ بھی تدبیر کر رہے ہیں اور اللہ بھی تدبیر کر رہا ہے6۔ تدبیر کر نے والوں میں اللہ بہتر ہے۔ 

31۔ جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کہتے ۔ یہ تو ہمارے اگلوں کی قصے کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔

32۔ یاد کرو جب ان لوگوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! یہ تمہاری طرف سے آئی ہوئی سچائی ہوتو ہم پر آسمان 507سے پتھروں کی بارش برسادے یا درد ناک عذاب دے دے۔ 

33۔ (اے محمد!) جب تم ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہو تو اللہ انہیں سزا دینے والا نہیں۔ اور جب وہ معافی کی طلب گار ہو تے ہیں ، اس وقت بھی اللہ انہیں سزا دینے والا نہیں۔

34۔ حالانکہ جب وہ مسجدحرام کے منتظم (بننے کے لائق) نہ ہونے کی حالت میں (لوگوں کو) اس سے روک رہے ہیں ، اللہ انہیں کیسے سزا دئے بغیر رہ سکتا ہے؟ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے سوا دوسرے کوئی اس کے منتظم نہیں ہوسکتے۔ پھر بھی ان میں اکثر (اس کو) جانتے نہیں۔

35۔ سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا (دوسرا کچھ) اس عبادت گاہ 33میں ان کی نماز نہیں تھی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) تم (اللہ کا) انکار کرتے رہنے کی وجہ سے عذاب چکھو۔ 

36۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ اور بھی خرچ کریں گے۔ وہی ان کے لئے حسرت کا سبب ہوگا۔ پھر وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے دوزخ کی جانب جمع کئے جائیں گے۔

37۔اس لئے(وہ لوگ جمع کئے جائیں گے تا کہ) اچھے لوگوں سے برے لوگوں کو الگ کر کر برے لوگوں میں ایک کو دوسرے پر ڈالکر اور سب کو ایک ڈھیر بنا کردوزخ میں جھونک دیناہے۔ وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 

38۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے اگرباز آ جائیں تو پہلے جو ہوچکا اسے معاف کردیا جائے گا۔ کہہ دو کہ اگر وہ دوبارہ جاری کریں تو اگلے لوگوں ( کے معاملے میں اپنایا ہوا )طریقہ پہلے ہی گذر چکا۔ 

39۔ ان سے اس حد تک لڑو 53کہ فساد باقی نہ رہے اور سارا غلبہ54 اللہ ہی کا ہوجائے۔اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے488۔ 

40۔ اگر وہ جھٹلائیں تو جان لو کہ اللہ تمہاری حفاظت کر نے والا ہے۔ وہ بہترین محافظ ہے اور بہت اچھا مددگار ہے۔  پارہ : 10

41۔ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہوتو جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑکے دن، اس تفریق کے دن اپنے بندے پر ہم نے جو نازل کی(اس پر اگرتمہیں ایمان ہوتو)جان لو کہ مال غنیمت میں پانچواں حصہ195 اللہ اور اس رسول کے لئے، (ان کے) رشتہ داروں کے لئے، یتیموں، مسکینوں اور خانہ بدوشوں 206کے لئے ہے۔اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

42۔ یاد کرو جب کہ (جنگ بدر کے موقع پرمدینہ کے) قریب والی وادی میں تم اور دور والی وادی میں وہ لوگ اور تجارتی قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھے۔ اگر تم (پہلے ہی سے) منصوبہ بناتے تو اس منصوبہ میں اختلاف کرتے196۔ جو ہونے والا امر تھا وہ پوراہونے کے لئے، ہلاک ہونے والے مناسب وجہ سے ہلاک ہو نے کے لئے، زندہ رہنے والے مناسب وجہ سے زندہ رہنے کے لئے (اللہ نے یہ حالت پیدا کی)۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

43۔ (اے محمد!) یاد کرو جب کہ تمہارے خواب میں122 اللہ نے انہیں تعداد میں کم دکھایا۔ اگر اللہ انہیں تعداد میں زیادہ دکھایا ہوتاتو ہمت ہار گئے ہوتے۔ اس معاملہ میں اختلاف کرتے۔ پھر بھی اللہ نے بچالیا۔وہ دلوں کی باتیں جاننے والا ہے۔ 

44۔ یاد کرو جب کہ تم (میدان جنگ میں) ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو تمہاری نظر میں انہیں کم تعداد میں اور ان کی نظر میں تمہیں کم تعداد میں دکھایا تھا۔ جو امر ہوناتھا اسے اللہ پوراکر نے کے لئے(ویسا دکھایا تھا)466۔سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ 

45۔ اے ایمان والو! (میدان جنگ میں) کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔ اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ تم فتح پاؤگے۔ 

46۔ اللہ اور اس کے رسول کے پابند رہو۔ اختلاف نہ کرو۔ (اگر ایسا کروگے تو) بزدل ہوجاؤگے۔ تمہاری طاقت تباہ ہوجائے گی۔ صبر کرو،اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے۔

47۔ اپنے گھروں سے بڑائی کے لئے اورلوگوں کو دکھاوے کے لئے نکلنے والے کی طرح اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے والے کی طرح نہ بنو۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس کو پوری طرح سے جانتا ہے۔ 

48۔ یاد کرو کہ شیطان نے ان کے عمل انہیں خوشنما بنا کر دکھایا۔ اور کہا کہ آج لوگوں میں تمہیں جیتنے والا کوئی نہیں۔ میں تمہارے قریب ہوں۔جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اور کہا کہ میں تم سے بری ہوں۔ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

49۔ یاد کرو جب کہ منافق اور دل میں روگ رکھنے والے( تمہارے بارے میں) کہا تھا کہ انہیں ان کے دین نے دھوکہ دے دیا۔اللہ ہی پر جو بھروسہ کر تے ہیں (وہ کامیاب ہوں گے، کیونکہ) اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

50۔تمہیں دیکھنا چاہئے تھا جب کہ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے چہروں اور پیٹھوں میں مار کرفرشتے ان کی جان قبض کرتے ہیں165 اور کہتے ہیں کہ اس جلنے والا عذاب چکھو۔

51۔ تمہارے کئے ہوئے کام ہی اس کی وجہ ہے۔ بندوں پر اللہ ظلم کر نے والا نہیں۔ 

52۔ فرعون کے آدمیوں کو اور اس کے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جو حال ہوا اسی طرح(ان پر بھی ہوگا)۔ وہ لوگ اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی۔ اللہ قوت والا، سخت سزا دینے والاہے۔ 

53۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قوم اپنے پاس جو ہے اس کو جب تک بدل نہیں دیں گے ، انہیں جو عطا ہوئی ہے اس نعمت کو اللہ بدلتا نہیں۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے196۔ 

54۔ فرعون کے آدمیوں کو اور اس کے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جو حال ہوا اسی طرح(ان پر بھی ہوگا)۔وہ لوگ اپنے رب کی نشانیوں کو جھوٹ سمجھا۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا۔ فرعون کے آدمیوں کو غرق کر ڈالا۔ سب نے ظلم کیا۔ 

55۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے ہی جانداروں میں اللہ کے نزدیک بہت برے ہیں۔وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

56۔ (اے محمد!) ان کے پاس تم نے معاہدہ کیا تھا۔ ہر مرتبہ وہ اپنا معاہدہ توڑ ڈالتے ہیں۔ وہ ڈرتے نہیں۔ 

57۔ پس اگر تم جنگ میں ان پر فتح پالو تو ان کے پیچھے رہنے والوں کے ساتھ انہیں بھی بھگاؤ۔ اسی وقت وہ عبرت حاصل کریں گے۔ 

58۔ اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ کوئی قوم دغابازی کرے گی تو ان سے (جو معاہدہ کیا گیا ہے) اس کے برابری میں تم بھی توڑ دو۔ دغا بازوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

59۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے یہ نہ خیال کریں کہ وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ 

60۔ تم سے ممکن حد تک قوت اور جنگی گھوڑے ان سے مقابلے کے لئے تیار کرلو359۔ جن کے ذریعے اللہ کے دشمنوں کو، تمہارے دشمنوں کو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی تم خوف زدہ کر سکتے ہو197۔ انہیں تم نہیں جانتے53۔ اللہ ہی انہیں جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو بھی تم خرچ کروتو وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا۔ تم ظلم نہیں کئے جاؤگے۔ 

61۔ اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس طرف جھک جاؤ۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ وہی سننے والا488، جاننے والاہے۔ 

62۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں دھوکا دینا چاہیں تو اللہ ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ اسی نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہیں قوی بنایا۔

63۔ ان کے دلوں کو اس نے آپس میں جوڑ دیا۔ اگر تم زمین کی ساری چیزیں بھی خرچ کر ڈالتے، ان کے دلوں کو آپس میں ملانا تم سے نہیں ہوسکتا۔۔ بلکہ اللہ ہی نے ان کے آپس میں جوڑ پیدا کی۔ وہ زبردست، حکمت والاہے۔

64۔ اے نبی! تم کو اور تمہاری پیروی کر نے والے مومنوں کو اللہ ہی کافی ہے۔

65۔ اے نبی! مومنوں کو جہاد کا شوق دلاؤ53۔ تم میں برداشت کر نے والے اگر بیس آدمی ہوں تو وہ دو سو آدمیوں پر فتح پائیں گے۔ تم میں اگر سو آدمی ہوں تو وہ (اللہ کا) انکار کر نے والے ہزار آدمیوں پر فتح پائیں گے359۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں198۔ 

66۔ اب اللہ تمہارے لئے آسان کردیا۔ تمہارے پاس جو کمزوری ہے وہ جانتا ہے۔ پس اگر تم میں صبر کر نے والے سو آدمی ہوں تو وہ دو سو آدمیوں پر فتح پائیں گے۔ اگر تم میں ہزارآدمی ہوں تو اللہ کی مرضی کے مطابق وہ دو ہزار آدمیوں پر فتح پائیں گے359۔ اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے198۔ 

67۔ زمین میں دشمنوں کی جڑ جب تک کاٹ نہ دیں قید کرناکسی نبی کے لئے مناسب نہیں ۔تم اس دنیا کی چیزوں کے طلب گار ہو۔ اللہ تو آخرت چاہتا ہے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے199۔ 

68۔ اگر اللہ کاقانوں پہلے ہی سے موجود نہ ہوتا تم (قیدیوں کو رہا کر نے کے لئے فدیہ) جو حاصل کئے ہو اس پر تمہیں سخت سزا ملی ہوتی۔ 

69۔ مال غنیمت سے جو حلال کیا گیا ہے اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ۔اللہ سے ڈرو۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

70۔ اے نبی! تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان سے کہہ دو کہ تمہارے دلوں میں جو نیکی ہے ، اگر اللہ اسے جانتا 194تو تم سے جو کچھ لیا گیا ہے اس سے بہتر وہ تم کو عطا کرتااور تمہیں معاف کردیتا۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

71۔ اگر وہ تم سے دغابازی کر نا چاہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ بھی بے وفائی کر چکے ہیں6۔ ان کے معاملہ میں وہ (تمہیں) طاقت دی ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

72۔ جو لوگ ایمان لے آئے، ہجرت460 کئے، اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اور پناہ دے کر مدد کرنے والے ، دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں385۔ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت460 نہیں کئے ، جب تک وہ ہجرت460 نہ کریں ، ان سے تمہاری کوئی دوستی نہیں۔ اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد چاہیں تو (ان کی) مدد کرنا تم پر فرض ہے، سوائے اس قوم کے خلاف جس سے تم معاہدہ کئے ہو۔ جو تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے488۔ 

73۔ اگر تم ایسا نہ کروگے تو زمین میں فساد اور بڑا بگاڑ پیدا ہوگا۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔ 

74۔ جو لوگ ایمان لے آئے ، ہجرت460 کی اوراللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اور جو پناہ دے کر مدد کی، یہی سچے مومن ہیں۔ انہیں معافی اور عزت کی روزی ہے۔ 

75۔ اس کے بعد جو لوگ ایمان لے آئے ، ہجرت460 کی اورتمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا، یہی لوگ تمہارے اپنے ہیں۔اللہ کی کتاب کے مطابق خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں385۔اللہ ہر چیز کا جاننے والاہے۔ 

More Articles …