Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏321۔ شعریٰ کا مطلب

‏اس زمانے کے عرب روشنی دینے والی شعریٰ نامی ستارے کو معبود سمجھ کر عبادت کرتے تھے۔ 

وہ معبود نہیں ہے، اس کا بھی اللہ ہی معبود ہے ، اسی بات کو سمجھناکے لئے اس آیت 53:49 میں شعریٰ کا رب کہا گیا ہے۔   

‏320۔ نبی کریم ؐ کو بیٹے؟

‏اس آیت 33:40 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔اس آیت کو بنیاد بنا کر نبی کریم ؐ کو بیٹا پیدا ہو کروفات ‏پانے کی حدیثوں کا انکار کر تے ہیں۔ 

لیکن ان آیاتوں میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کو بیٹے پیدا نہیں ہوئے۔ بلکہ آپ کو جو پید انہیں ہوئے، ان سے جنم نہ لینے والے کسی کو آپ والد ‏نہیں بن سکتے۔ یہی بات یہاں کہی گئی ہے۔ 

تمہارے مردوں میں سے وہ کسی کے باپ نہیں کا مطلب یہی ہے۔ 

نبی کریم ؐ کو پیدا نہیں ہونے والے زید کو آپ کا بیٹا کہنے کو یہ آیت انکار کر تی ہے۔لیکن نہیں کہتی کہ نبی کریم ؐ کو بیٹا پیدا نہیں ہوا۔  

‏319۔ لے پالک بیٹے کی بیوی

‏جس طرح اس آیت میں کہا گیا ہے کہ زید نبی کریم ؐ کے شروع کے لے پالک بیٹے تھے۔اسلام نے کہہ دیا کہ تم جسے پالتے ہو وہ تمہارے بیٹے نہیں ‏ہو سکتے ۔ ا س کے بعد زید کو نبی کریم ؐ کے بیٹے کہنا اصحاب رسول نے چھوڑ دیا۔ 

اس کو حاشیہ نمبر 317میں واضح کر چکے ہیں۔

زید کو نبی کریم ؐ نے اپنے پھوپی کی بیٹی زینب سے نکاح کر دیا تھا۔ ان دونوں میں نباہ نہ ہو سکا، اس لئے زید نے ان کو طلاق دے دی۔یہ آیت ‏‏33:37 کہتی ہے کہ اس کے بعد نبی کریم ؐ کے ساتھ زینب کو اللہ ہی نے نکاح کردیا۔

اس کے لئے دو وجوہات ہیں۔ لے پالک بیٹے کو اپنا خاص بیٹا سمجھ کر بیٹے کے تمام حقوق لے پالک بیٹے کو اس زمانے کے لوگ دیا کرتے تھے۔ 

پلا ہوا شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد پالنے والا اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے ۔ وہ ایسا نہ ہوگا کہ بہو سے نکاح کی ہے۔ اس نکاح کی وجہ یہی ‏ہے کہ اس قانون سے دنیا کو بتانا ہے۔

بعض اسلام کے دشمن اشاعت کررہے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے زینب کو پسند کر کے زید سے کہا تھاکہ زینب کو طلاق دیدے۔ 

نبی کریم ؐ کواگر زینب پر محبت ہو تی تو ان کی جوانی کے عالم ہی میں زینب سے نکاح کر لئے ہوتے۔ کیونکہ اس عورت کے ذمہ دار وہی تھے۔ آپ ہی ‏نے زید کے ساتھ نکاح بھی کر رکھا۔ 

اس لئے یہ شادی اللہ کی مرضی ہی سے واقع ہوئی۔ جوانی میں ان سے شادی نہیں کئے، کئی سال گزرنے کے بعد زید کے ساتھ زندگی بسر کر نے کے ‏بعد ان سے شادی کر نے کو جسمانی انداز کا وجہ بتانا بالکل غلط ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے کئی شادیاں کیوں کیں؟ اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 378 دیکھئے!  

‏318۔ اللہ کے رسول کے پاس خوبصورت نمونہ 

‏اس آیت 33:21 میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کریم ؐ ایک خوبصورت نمونہ ہیں۔ 

یہ آیت اسلام کی بہت ہی اہم بنیاد کو سکھاتی ہے۔ 

غلط عقیدے پررہنے والے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم صرف قرآن ہی کی پیروی کریں گے اور نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی حدیثوں کو نہیں مانیں گے۔ وہ ‏اپنے عقیدے کو اس طرح عدل ثابت کر تے ہیں کہ نبی کریم ؐ کا کام ہی قرآن کو ہم تک پہنچانا ہی ہے۔ اس سے ان کا کام ختم ہو جا تا ہے۔

ان کے انکار کے خلاف ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ یہ آیت کہتی کہ صرف قرآن کو پہنچانا ہی نبی کریم ؐ کا کام نہیں۔ بلکہ اس سے آگے بھی ان کا کام ‏ہے۔

ایک شخص کا عمل اور اس کی کارروائی کو دیکھ کر انہیں ایسے ہی پیروی کرنے کا نام ہی اُسوت یعنی نمونہ کہلاتا ہے۔ ایک شخص کی لائی ہوئی کتاب ‏حاصل کر کے اس کو پڑھنے اور اس کتاب میں بولے ہوئے طریقے سے چلنے کو اسوت یا نمونہ کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔

فرض کرو کہ ’’ایک ڈاکیہ ہمارے پاس ایک خط لا کر دیتا ہے، اسے ہم لے کر پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد اس میں جو لکھا گیا ہے اسی طریقے پر عمل کر ‏تے ہیں۔‘‘کیاکوئی کہے گا کہ ہم ڈاکیہ کو ایک نمونہ بنالیا؟‘‘اگر اس طرح کوئی کہے تو ہمیں اس کے عقل پر گمان پیدا ہوگا۔

اس طرح کہنے والے اور حدیثوں کا انکار کر نے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ 

کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو ہم تک پہنچا ناہی نبی کریم ؐ کا کا م ہے، اس کے سوا انہیں دوسرا کوئی کام نہیں ہے۔

اب یہ لوگ قرآن ہی کا انکار کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐکو خوبصورت نمونہ بنا کر نہیں بھیجا گیا ۔

اس طرح کہنے والے کہ نبی کریم ؐ کا نمونہ ہمیں نہیں چاہئے، وہ اللہ اور آخرت کے نہ ماننے والے ہیں۔ایسی سخت تنبیہ اس آیت میں موجود ہے۔ 

یہ آیت بالکل واضح طور سے کہتی ہے کہ اللہ اور آخرت کے ماننے والوں کے لئے نبی کریم ؐ ایک نمونہ ہیں۔

نبی کریم ؐ اپنی کارروائی کے ذریعے مسلمانوں کو ایک نمونہ بنا کر بھیجے گئے ہیں، اللہ کا یہ کہنا کب ممکن ہوگا؟ حدیثوں کو ماننے ہی سے ممکن ہوگا۔ کیونکہ ‏نبی کریمؐ کی زندگی کا نمونہ حدیثوں ہی میں ملے گا۔ 

قرآن مجید کو نبی کریم ؐ کی وضاحت بہت ہی ضروری ہے، اس کے لئے یہ بھی ایک مضبوط دلیل ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏317۔ لے پالک بچے

‏ان 33:4، 58:2آیتوں میں کہا گیا ہے کہ لے پالک بچے تمہارے خاص بچے ہو نہیں سکتے۔

جنہیں بچہ نہیں ہے وہ لوگ محظوظ ہو نے کیلئے کسی دوسرے کے بچے کو لے کر اپنے بچوں کی طرح پالنے کو اسلام منع کر تا ہے۔ کیوں کر تا ہے ، اسکو ‏مناسب وجہ کے ساتھ قرآن واضح کیاہے۔

یہ رشتہ جھوٹا رشتہ ہوگا۔ اسلام تمام جعلی رشتوں کو جھٹلاتا ہے۔ اپنے خاص والد کو جانتے ہوئے بھی دوسرے ایک شخص کو والد کہنے والے بچے ‏موجود ہیں۔ کسی دوسرے کو پیدا ہو نے والے بچے کو اپنا خاص بچہ کہہ کر رشتہ نبھانے والے باپ بھی ہیں۔ 

یہ صرف منہ سے انسان خود قیا س کر لیتا ہے، اس کے سوا ایک کا بچہ کسی وجہ سے دوسرے کسی کا بچہ ہو نہیں سکتا۔ 

ایک شخص خود کو پیدا نہ ہونے والے بچہ کا باپ کسی وجہ سے کہلا نہیں سکتا۔یہ انسان کاخود ساختہ رشتہ ہے، اس طرح کہہ کر اسلام اس کو قطعی طور ‏پر انکار کرتا ہے۔

خونی رشتہ اگر پیدا ہو نا ہوتو حقیقت میں خونی رشتہ ہو نا چاہئے۔ وہی راست بازی ہے، انصاف ہے۔ اسی بات کو یہ آیتیں 33:4,5کہتی ہیں۔

ایک بچہ پیدا ہو نے کے لئے جو باعث تھا وہی اس بچے کا باپ ہوگا۔ پالنے والے کو باپ کہنا باطل ہے۔ 

ایک جانور کو کوئی پالتا ہے تو کیا اس کو اس کا باپ کہہ سکتا ہے؟ ایک جھاڑ کو ایک شخص پالتا ہے تو کیا وہ اس کا باپ ہو سکتا ہے؟ لے کر پالنے والے کو ‏باپ کہنا اسی طرح ہے۔ 

پالنے والے کو ذمہ دار کہہ سکتے ہیں۔ باپ کہنا جھوٹا رشتہ کہلائے گا۔ 

اسلام کے آغاز میں ایک شخص کسی بچے کو لے کر پالتا ہے تو اس کو اس کا باپ سمجھا جانا رواج تھا۔ لے پالک بچہ اس کے پالنے والے کا وارث کہلاتا ‏تھا۔ بعد میں اسلام اس کو منع کردیا۔ 

عبدا للہ بن عمرؓ نے فرمایا:

‏’’لے پالک بچوں کو ان کے خاص والدکے ساتھ ہی پکارو۔ یہی اللہ کے پاس انصاف ہو گا۔‘‘ یہ آیت (33:5) نازل ہونے تک نبی کریم ؐ کے ‏ذریعے سے پالے ہوئے زید بن حارثہؓ کو ہم نے محمد کے بیٹے کہہ کر ہی پکارا کر تے تھے۔(مسلم:4782)

یہ حدیث کہتی ہے کہ نبی کریمؐنے زیدکو لے کر پالا، اس لئے وہ محمد کے بیٹے کہلائے گئے، اورجب یہ اللہ کا حکم آیاکہ پالنے والا خاص باپ نہیں ہوسکتا، ‏تو اس طرح کہا جانا روک دیا گیا۔ 

اسی طرح لے کر پالنے والی عورتیں اس بچے کی ماں نہیں ہوسکتیں۔ 

اس لئے وہ بچہ جب جوانی کو پہنچ جائے تو جس طرح اجنبی کے ساتھ سلوک کیا کر تے ہیں اسی طرح ادب و قاعدے سے پیش آنا چاہئے۔ 

مثال کے طور پر پالا ہوا بچہ جب جوانی کو پہنچ جائے تو ان کے ساتھ تنہائی میں رہنا اور ان کے سامنے بے پردگی سے آنا وغیرہ نہیں ہو نا چاہئے۔ اجنبی ‏مرد ہی کی حیثیت انہیں دینا چاہئے۔ 

اسلام کہتا ہے کہ ایک شخص بچہ نہ ہو نے کی وجہ سے ایک مرد بچے کو لے کر پالتا ہے۔ پھر اس کو اللہ ایک لڑکی عطا کر تا ہے۔ وہ لڑکی جب جوانی کو پہنچ ‏جائے تو ان کے پالے ہوئے لڑکے کے ساتھ اس کو بیا ہ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ لڑکا ان کا اپنا بیٹا نہیں ہے۔ اس لئے ان کی بیٹی کووہ بھائی نہیں ہو سکتا۔ 

ویسے ہی اگر پالنے والا مرجائے تو جس طرح اس کاخاص بیٹا وارث بنتا ہے ،لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔ خونی رشتے کے ‏بھائی اور بہن جیسے رشتے دار ہو تے ہوئے کسی غیر کو وارث بنانا ان رشتہ داروں کو نفرت پیدا کر دیگی۔ خاص رشتہ داروں سے دشمنی پیدا ہو جائے ‏گی۔ 

لے پالک کو کچھ دینا ہی ہو تو اس طرح وصیت لکھے کہ تین میں ایک حصے سے بڑھ نے نہ پائے۔   

‏316۔ بیویوں کو ماں سے موازنہ کرنا

‏اس 58:2,3آیت میں اس جاہلیت کے زمانے کے لوگوں کے پاس جو باطل عقیدہ تھا اس کو اللہ نے سرزنش کی ہے۔ 

اس زمانے کے عرب لوگ جب انہیں بیوی پسند نہ آئے تو کہہ دیتے کہ ’’میں تمہیں ماں جیسے سمجھ لیا۔‘‘ماں جیسے کہہ دینے کی وجہ سے بیوی کے ‏ساتھ وہ ازدواجی زندگی بسر نہیں کریں گے۔ اس کو اسلام بہت سختی سے تنبیہ کر تی ہے۔ 

اللہ پر قسم کھا کر بھی اس طرح کہہ دئے ہو تے تو تب بھی اس قسم کو توڑ دے کر چار مہینوں کے اندر بیوی سے مل جانا چاہئے۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے اس کفارہ کو بھی کردینا چاہئے، اسلام یہ کہہ کر اس باطل عقیدے کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔   

‏315۔ معراج کا خلائی سفر

‏نبی کریم ؐ نے ایک رات میں مکہ سے یروشیلم اور وہاں سے آسمانی دنیا کو لے جائے گئے، اور اللہ کی بے شمار دلیلوں کو دیکھ کر واپس لوٹے ۔اس کی کئی ‏مستند حدیثیں موجود ہیں۔ اسی سفر کو معراج کہا جاتاہے۔ 

غلط عقیدے رکھنے والے نبی کریم ؐ کی اس معراج والی حدیث کو انکار کر تے ہیں۔ 

اس آیت 17:1 میں نبی کریم ؐ کو مکہ سے یروشیلم تک لے جانے کے بارے میں ہی اللہ فرمایا ہے۔ان لوگوں کے انکار کر نے کاوجہ ہے کہ یروشیلم ‏سے آسمانی دنیا تک لے جانے کے بارے میں جو احادیث ہیں وہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔

اس آیت 17:1 میں یہی کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کو مکہ سے یروشیلم تک لے جائے گئے۔ لیکن معراج اس آیت کے خلاف نہیں ہے اور برعکس بھی ‏نہیں ہے۔ اس آیت میں جو نہیں کہا گیا ہے اس کی مزید خبر ہی اس احادیث میں کہا گیا ہے۔

معراج کی حدیثوں میں نبی کریم ؐ نے موسیٰ نبی سے مل کر گفتگو کر نے کے بارے میں اور راہنمائی کی بنیاد پر پچاس وقت کی نماز وں کو پانچ وقت کی نما ‏زمیں بدلنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

اس ملاقات کو قرآن مجید کی آیت32:23 تصدیق کر تی ہے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی سے ملاقات کے بارے میں شک نہ آنے پائے۔ 

نبی کریم ؐ سے کئی ہزار سالوں کے پہلے موسیٰ نبی وفات پاجانے کی وجہ سے نبی کریم ؐ موسیٰ نبی کو دیکھے نہیں ہوں گے۔ 

مرے ہوئے انسان کو زندہ رہنے والے ہر گز دیکھ نہیں سکتے۔ پھر بھی اللہ نے اپنی قدرت دکھانے کے لئے نبی کریم ؐ کو معراج کی خلائی سفر میں بلا یا ‏۔ 

وہاں وہ موسیٰ نبی سے ملاقات کی۔ دوسروں سے زیادہ ان کے ساتھ زیادہ وقت گذارا۔ اسی ملاقات کو اللہ نے یہاں اشارہ کیا ہے۔ 

موسیٰ سے ملاقات کے بارے میں تم شک نہ کرو، تم حقیقت میں ان سے ملاقات کی ہے، تم انہیں سے ملاقات کی ہے۔اسی بات کو اللہ نے اس آیت ‏میں بیان کیاہے۔

اس آیت میں (32:23) جو کہا گیا ہے اس کو ہم نے یوں ترجمہ کیا ہے: ان سے ملاقات میں تم شک نہ کرو۔

ان سے کا مطلب ہے موسیٰ نبی۔ نبی کریم ؐ جب آسمانی سفر میں گئے توموسیٰ نبی سے ملاقات کے متعلق یہ آیت کہتی ہے، اسی کو ہم نے کہا ہے۔ 

بعض مترجم نے کہا ہے کہ موسیٰ نبی اللہ سے براہ راست ملنے کے بارے میں ہی یہ آیت کہتی ہے۔ موسیٰ نبی نے جب اللہ سے ملنے کی درخواست کی ‏تو اللہ نے انہیں بے ہوش کر دیا۔ انہوں نے اللہ سے ملاقات نہیں کی۔ اس کے برخلاف ہی ان لوگوں کی تشریح پائی گئی ہے۔ اس کے بارے میں ‏ہم حاشیہ نمبر 21 میں واضح کیا ہے۔ 

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ معراج کے سفر میں اللہ سے ملاقات کے بارے میں یہ آیت کہتی ہے۔ لیکن اس کی کئی دلیلیں موجود ہیں کہ نبی کریم ؐ اللہ ‏کو دیکھا نہیں، اس لئے اس کے خلاف کی یہ رائے قابل قبول نہیں۔ اس کے متعلق کی دلیلیں حاشیہ نمبر 482 میں واضح کیا گیا ہے۔ 

اکثر مترجم کہتے ہیں کہ اس سے ملنے میں تم شک نہ کرو۔یعنی وہ تشریح کر تے ہیں کہ آخرت میں اللہ سے ملنے کو تم شک نہ کرو۔ 

یہ غلط ہے۔ نبی کریم ؐ کے معراج کے واقعہ کو بیان کر تے وقت ہی اس کو پڑھ کرسنایا گیا۔ 

اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا: مجھے ایک رات آسمانی سفرمیں لے جایا گیا تو میں عمران کے بیٹے موسیٰ ؑ سے گزرنا پڑا۔موسیٰ ؑ شنوعہ نسل کے لوگوں کی ‏طرح سانولے رنگ کے، اونچے قد کے اور گھنگھرویالے بال والے تھے۔ مریم کے بیٹے عیسیؑ ٰ کو دیکھا۔ وہ میانہ قد کے سرخ اور سفید ملاوٹ کے ‏معتدل رنگ کے اور کنگھا کئے ہوئے لٹکے ہوئے بالوں والے تھے۔ مزید دوزخ کے داروغہ مالک اور دجال کو بھی مجھے دکھایا گیا۔ یہ سب شہادت ‏اللہ نے مجھے دکھائی ۔ اس طرح کہنے کے بعد اس آیت 32:23 کو کہ’’ تم اس کو ملاقات کر نے میں شک نہیں‘‘پڑھ کر سنایا۔

اس کو ابن عباسؓ نے روایت کی ہے۔ (مسلم: 267)

نبی کریم ؐ نے خود ایک آیت کا معنی کہہ دیا تواس کے خلاف ترجمہ کر نے والوں کی رائے کی طرف ہمیں پھرنے کی ضرورت نہیں۔ 

معراج کا واقعہ حق ہے کے لئے یہ واضح دلیل ہے۔ 

یہ آیتیں 53:13-18ثابت کرتی ہیں کہ معراج کے سفر کی احادیث قرآن مجیدکے خلاف نہیں ہیں۔ 

معراج کے سفر کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 263، 267، 362 وغیر دیکھئے!  

‏314۔ بچہ دودھ پینے کی عمر کب تک؟ 

‏ان آیتوں 2:233، 31:14 میں کہا گیا ہے کہ دودھ کو چھڑانے کی عمر دو سال ہے۔ 

لیکن اس آیت 46:15میں دودھ پلانے کا زمانہ اور حمل کے زمانے کو ملاکرقرآن جملہ تیس مہینے کہا ہے۔ 

اس میں ، اللہ نے جو دودھ پلانے کا زمانہ دو سال کہا تھا، اس کو (یعنی چوبیس مہینے کو) گھٹاؤ تو حاملے کا زمانہ چھ ماہ ہو تا ہے۔ ایک بچے کا حاملہ کا عرصہ ‏چھ ماہ کسی بھی زمانے میںآج تک کسی نے نہیں کہا۔ جس طرح آج کی دنیا سمجھ رکھی ہے کہ اس کے لئے دس ماہ لگتے ہیں اسی طرح قرآن نازل ‏ہونے کے زمانے میں بھی لوگ سمجھ رکھے تھے۔ 

جب سب لوگ جان رکھے ہیں کہ حاملہ کا عرصہ دس مہینے ہوتے ہیں توقرآن مجید جان بوجھ کر ہی کہا ہے کہ حاملہ کا عرصہ چھ ماہ ہے ۔ اس جگہ ایسا کہنا ‏ہی مناسب ہے۔ 

سب لوگ جو جان رکھے ہیں اس کے خلاف اللہ جان بوجھ کرکہتا ہے تو اس میں ایک گہرا مطلب ہوگا۔ اس پر غور کر کے حمل کی نشو نما کی تحقیق کی ‏گئی توحیرت انگیزطور پر یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔

انسان کو ایک الگ ہی اختلافی شکل ہے۔ دوسری جانداروں کو الگ شکل ہے۔ انسان منی کے قطرے سے بنایا جاتا ہے۔ پھر رحم کی دیوار سے چمٹ کر ‏بڑھتا ہے۔ اس کے بعد گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔ اس عرصہ میں وہ اپنی ذاتی شکل اختیار نہیں کرتا۔ ماں کے رحم میں جس طرح بکری کا بچہ ایک ‏گوشت کا لوتھڑا بن کر رہتا ہے اسی طرح انسان بھی رہتا ہے۔ اس وقت ہاتھ یا پاؤں کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ 

رحم کی تھیلی میں گوشت کے لوتھڑے کو دیکھ کر کہہ نہیں سکتے کہ یہ انسان کا ہے یاکسی جاندار کا ہے۔ 

اس حالت کے بعد ہی انسانی خلیے موزوں مقام پر جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہی آدمی کے لائق خاصیت اور اعضاء کے ساتھ وہ حمل بڑھنے لگتا ہے۔ 

انسان کے لائق خصوصی قابلیت اور انسانی شکل میں حمل میں جو نشونما ہوتا ہے اس کا عرصہ چھ ماہ ہی ہے۔ اس سے پہلے کے عرصہ میں انسان کہنے ‏کے لائق کوئی خاصیت یا نشانی کے بغیر انسان ایک لوتھڑا بن کر رہا تھا۔ 

مندرجہ ذیل کی آیت میں بھی دوسرے الفاظ میں یہ بات کہی گئی ہے:

پھر ہم نے منی کے بوند کو حمل کا بیضہ بنا یا۔ پھر اس حمل کے بیضہ کو گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی بنا کر اس ہڈی پرگوشت ‏چڑھادیا۔ پھر اس کو ایک دوسری تخلیق بنایا۔ 

‏(قرآن مجید 23:14)

پھر اللہ فرماتا ہے کہ اس کو ہم نے ایک دوسری تخلیق دی۔ اس حالت کو پہنچنے تک حمل میں ساری تخلیق ایک ہی ہے۔ اس کے بعد ہی بکری بکری ‏ہوتی ہے، بیل بیل ہوتاہے اور آدمی آدمی ہو تا ہے۔ اسی لئے اللہ نے اس کو دوسری تخلیق کہا ہے۔

اس آیت میں بچہ کو پیٹ میں رکھا کہنے کے بجائے آدمی کو پیٹ میں رکھا کہا گیا ہے، اس پر غور کر نا چاہئے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے 296کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ ‏

More Articles …