Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏361۔ دن کا آغاز کونسا ہے؟

‏نبی کریم ؐ نے تشریح کی ہے کہ اس آیت 2:238میں جو درمیانی نمازکہا گیا ہے، وہ عصر نماز ہے۔ 

قریبی زمانے سے بعض لوگ دعویٰ کر نے شروع کر دئے ہیں کہ اس کے ذریعے روز کا آغاز دن ہی ہے ۔ 

ان کا دعویٰ یہی ہے۔ 

رات ہی سے اگردن کا آغاز ہے تو مغرب کی نماز ہی پہلی نماز ہوگی۔ اس طرح صبح کی نماز درمیانی نماز ہوگی۔ 

لیکن نبی کریم ؐ اس طرح نہیں کہا،بلکہ عصر نماز ہی کو درمیانی نماز کہا ہے۔ روز کا آغاز صبح ہوگا ہی تو عصر نماز درمیانی نماز ہوگی۔ اس لئے صبح ہی سے ‏دن شروع ہو تا ہے، اس کے لئے درمیانی نماز کو نبی کریمؐ کی وضاحت دلیل ہے ، اس طرح وہ حجت کرتے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے سے آج تک مسلمانوں میں سورج کے ڈھلنے کا وقت ہی دن کا آغاز ہے، یہ کسی اختلاف رائے کے بغیر مانا جاتا ہے۔ اس حالت ‏میں یہ لوگ درمیانی نماز کو نبی کریم ؐ کی تشریح کو سند بنا کرحجت کر رہے ہیں کہ صبح نماز ہی دن کا آغاز ہے۔

آج تک بغیر کسی اختلاف رائے کے مان لئے جانے والی ایک بات کو انکار کر کے ایک نئی رائے کو داخل کر نے کے خواہشمند اپنے دعوے کو بغیرکسی ‏شک کے ثابت کر نے کے لئے بالکل صاف دلیلوں کو پیش کر نا چاہئے۔ 

مندرجہ بالا آیت ان کی رائے کو صاف طور سے نہیں کہہ رہی ہے۔ درمیان کے معنی میں ہم نے وُسْطٰی کو لیا ہے۔ لیکن اس لفظ کو کئی معنوں میں ‏استعمال کیا جا تا ہے۔ 

درمیانی نماز میں درمیان جو ہے وہ صرف ترتیب وار کو ہی نہیں کہتی، بلکہ خصوصاًکے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 

آیت نمبر2:238 میں درمیانی نماز کا لفظ خصوصاً کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔فن حدیث کے ماہر حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی بخاری کی ‏تشریح والی کتاب فتح الباری میں واضح کی ہے۔ 

حافظ ابن حجر کی قول کو قرآن مجید کی آیتیں اورحدیثیں دلیل ہیں۔ وُسْطٰی کے لفظ کے ذریعے نکلنے والے لفظوں کامعنی جیسے ’’ درمیان میں ہے ‏‏‘‘اسی طرح ’’خصوصاً‘‘ کا معنی بھی ہے۔ اس کو تم ان آیتوں 2:143، 68:28 کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔ 

بعض علماء کہتے ہیں کہ رات کی نماز تم پر فرض کی گئی ہے۔ اس طرح فرض کئے جانے کے بعد جو پہلی نماز آئی وہ فجر کی نماز ہے۔ فرض کئے ہوئے ‏ترتیب کے مطابق دیکھا جائے تو عصر ہی درمیانی نماز ہوتی ہے۔ 

یہ دونوں کسی بھی دلیل سے نہ ٹکراتے ہوئے عقل کی مناسبت سے ترکیب پائی ہوئی ہے۔ 

لیکن ان کی نئی تفتیش جو تیسری رائے ہے ، وہ ان واضح دلیلوں کی کثرت کو انکار کرتی ہیں کہ دن کا آغاز مغرب ہی ہے۔ 

نبی کریمؐ کے زمانے میں مانا جاتا تھا کہ مغرب نماز ہی روز کا آغاز ہے، اس کے لئے بہت سی دلیلیں موجود ہیں۔ 

ہم نے مشورہ کیا کہ لیلۃ القدر کے بارے میں نبی کریمؐ سے کون سوال کرے؟یہ رمضان مہینے کی ایکیسویں کا صبح کا وقت تھا۔ میں گیا اور نبی کریم ؐ کے ‏ساتھ مغرب کی نماز میں شامل ہوگیا۔ پھر آپ سے کہا کہ لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھ کر آنے کے لئے بنو سلمہ کی قوم نے مجھے بھیجا ہے۔ نبی کریم ؐ ‏نے پوچھا یہ کونسی رات ہے؟ میں نے کہا یہ بائیسویں رات ہے۔ نبی نے کہا یہی لیلۃ القدر ہے۔ پھر واپس آکر دوسری رات بھی کہہ کر تےئیسویں ‏رات کی طرف اشارہ کیا۔

راوی : عبد اللہ بن انیسؓ 

حدیث ابوداؤد: 1171

یہ حدیث کیاکہتی ہے؟ 

عبداللہ بن اُنیسؓ اکیسویں روزصبح کو نکل کر مغرب میں نبی کریم ؐ سے ملتے ہیں۔ اگردن کا آغاز صبح ہوتا تووہ جس مغرب کو پہنچے اس کو اکیسویں دن کی ‏مغرب کہنا چاہئے تھا۔ لیکن بائیسویں دن کی مغرب کہتے ہیں۔ نبی کریم ؐ بھی اس کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ اس سے ہم کسی شک کے بغیر جان سکتے ہیں کہ ‏مغرب ہی دن کا آغاز ہے۔ 

اکیسویں دن صبح کے بعد آنے والی مغرب کو اگر اکیسویں دن کی مغرب کہا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ صبح سے دن کا آغاز ہو چکا ہے۔ اکیسویں دن صبح ‏کے بعد آنے والی مغرب کواس حدیث میں بائیسویں دن کی مغرب کہنے کی وجہ سے ہمیں ثابت ہو تا ہے کہ مغرب ہی سے تاریخ بدلتی ہے۔ 

ایک اور حدیث کو دیکھئے!

کھجور کے پھل کو پانی میں بھگوکر دوسرے دن اس پانی کو پینا نبی کریم ؐ کی عادت تھی۔ اسکے بارے میں ابن عباسؓ کہتے ہیں:

پیر کی رات کو نبی کریم ؐ کے لئے ہم کھجور کے پھل کوپانی میں بھگوکر رکھتے تھے۔ اسکو پیر کے دن اور منگل کی عصر تک وہ پیتے تھے۔

مسلم: 4083

یہ حدیث کہتی ہے کہ پیر کی رات کو بھگوکر پیر کے دن وہ پیتے تھے۔

یہ واضح دلیل ہے کہ دن کا آغاز صبح نہیں ہے۔ اگر دن کا آغاز صبح ہو تا تو پیر کی رات کے بعد آنے والی صبح کو منگل کا دن کہنا چاہئے تھا۔ اس حدیث ‏میں ویسا نہیں کہا گیا۔ پیر کی رات کے بعد آنے والا دن پیر کا دن ہی اس حدیث میں کہنے کی وجہ سے واضح طور سے معلوم ہو تا ہے کہ صبح آنے پر دن ‏کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ 

مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ مغرب ہی سے دن کا آغاز ہے۔

نبی کریم ؐکورمضان کے مہینے کے درمیان میں دس دن اعتکاف رہنے کی عادت تھی۔اسی عادت کے مطابق وہ ایک سال اعتکاف رہے۔ جب ‏اکیسویں رات آتی تو اس رات کی صبح ہی میں انہیں اعتکاف سے باہرنکلنے کی عادت تھی۔ ’’میرے ساتھ اعتکاف رہنے والے آخری دس دن بھی ‏اعتکاف رہیں۔ وہ رات مجھ کو دکھا کر پھر بھلا دیا گیا۔ اس صبح میں کیچڑ اور پانی میں سجدہ کرتے ہوئے میں نے (خواب) دیکھا۔ اس لئے آخری دس ‏دن میں اس کو تلاش کرو۔ہر طاق دنوں میں اس کی تلاش کرو۔‘‘ اس رات بارش ہوئی۔مسجد کے کوٹھے سے پانی ٹپکنے لگا۔ اکیسویں دن کی صبح میں ‏نبی کریم ؐ کی پیشانی میں کیچڑ اور پانی کو میں نے دیکھا۔ 

بخاری: 2027

اگر صبح ہی سے دن کا آغاز ہو تا ہے کے مطابق اکیسویں رات کی صبح کے بارے میں کہنا ہو تو دوسرے دن کی صبح یا بائیسویں دن کی صنح کہنا چاہئے ‏تھا۔ اس طرح کہنے کے بجائے اس حدیث میں اکیسویں دن کی صبح کہا گیا ہے ۔ اکیسویں دن کے بعد آنے والی صبح کے وقت کو اسی دن کا ہے کہنے کی ‏وجہ سے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کے وقت تاریخ بدلتا نہیں۔ 

اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جب اکیسویں رات آئی تو نبی کریم ؐ نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ۔ آخر میں اس دن رات بارش ہوئی۔ مسجد کے کوٹھے ‏سے پانی آگیا۔کہا گیا ہے کہ اکیسویں دن صبح میں نبی کریم ؐ کی پیشانی میں کیچڑ اور پانی کو میری آنکھوں نے دیکھا۔

یہ جملہ کہتا ہے کہ اس رات کویعنی کہ اکیسویں رات کو بارش ہوئی۔ اس بارش کی وجہ سے اکیسویں صبح کو نبی کی پیشانی میں کیچڑ لگا ہوا تھا۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اکیسویں رات کے بعد آنے والا صبح کا وقت اکیسویں دن ہی رہا ۔یعنی مغرب میں جو تاریخ رہاوہی صبح میں بھی رہا۔ صبح کا ‏وقت آنے کے ساتھ تاریخ نہیں بدلا۔ اس لئے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ دن کا آغاز صبح کا وقت نہیں ہے۔ 

اگر دن کا آغاز صبح ہو تا تو اکیسویں رات کے بعد آنے والی صبح کو بائیسواں دن ہی کہنا چاہئے۔ لیکن صحابئی رسول تو اکیسویں رات کے بعد آنے والی ‏صبح کو اکیسویں صبح ہی کہتے ہیں۔اس سے اچھی طرح واضح ہو تا ہے کہ دن کا آغاز رات ہی ہے۔ 

اس کے بعد یہ جملہ بھی غور طلب ہے کہ نبی کریم ؐ کو صبح ہی میں اعتکاف سے باہر آنے کی عادت تھی۔ اگر صبح ہی سے دن کا آغاز ہوتا توکہنا چاہئے تھا ‏کہ دوسرے دن صبح ہی وہ باہر آئیں گے۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس دن صبح ہی وہ باہر ہوں گے۔ اس دن صبح ہی کہنے کی وجہ سے بغیرکسی شک کے یہ ‏ثابت ہو تا ہے کہ دن کا آغاز رات ہی ہے۔ 

ایک اور حدیث دیکھئے!

ہر جمعرات کی شام جمعہ کے رات کو بنی آدم کے اعمال اللہ کے پاس پیش کیا جائے گا۔ نبی کریم ؐ فرماتے ہیں (اس وقت) رشتہ داروں سے قطع تعلق ‏کر نے والوں کے عمل کواللہ قبول نہیں کرے گا۔ 

راوی: ابو ہریرہؓ 

احادیث: احمد: 9883، الادب المفرد:61، شعب الایمان:7966

یہ حدیث کیا کہتی ہے؟ 

جمعرات کی شام کے بعداگر جمعرات کی رات کہا جا تا توکہہ سکتے ہیں کہ رات میں تاریخ بدلی نہیں ہوئی ، بلکہ صبح کو جو تاریخ تھی وہی جاری ‏ہے۔لیکن اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی شام کے بعد آنے والی رات کے بارے میں کہتے وقت جمعہ کی رات کہاگیا ہے۔ یعنی یہ ایک ‏واضح دلیل ہے کہ مغرب آنے کے ساتھ دوسرا دن شروع ہوجاتاہے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد صحابیوں کے زمانے میں بھی مغرب ہی سے دن کا آغاز ہے۔ اسی اصول پر کئی دلائل موجود ہیں۔ 

میں نے جب ابوبکرؓ کے پاس گئی تھی توانہوں نے پوچھا کہ نبی کریم ؐ کو کتنے کپڑوں میں کفن بنائے تھے؟تو میں نے کہاکہ روئی کے تین سفیدکپڑوں ‏میں کفن بنائے تھے۔ اس میں کرتا یا پگڑی نہیں تھا۔ ابو بکرؓ نے پوچھاکہ نبی کریم ؐ کس دن وفات پائے؟میں نے کہا کہ پیر کے دن! انہوں نے ‏پوچھا کہ آج کیا دن ہے؟ میں نے کہا پیر کا دن۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج رات کے اندر (میری موت) واقع ہوجائیگی۔ ایسا کہنے ‏کے بعد انہوں نے اپنی لباس کو دیکھاجو بیماری کے وقت پہنے ہوئے تھے۔ اس میں زعفران کا داغ لگا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو دھو کر اس کے ‏ساتھ اور دو کپڑوں کو ملا کر اس میں میری کفن بنادو۔ میں نے کہا یہ توپرانی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرنے والوں سے زیادہ زندہ رہنے والے ہی نئے ‏کپڑے پہننے کے مستحق ہیں۔ اور یہ (میت کے) جسم کی زخم ہی کیلئے وقف ہے۔ پھر اس شام تک انہیں موت نہیں آئی۔ منگل کی رات میں وفات ‏پائی۔ صبح نکلنے سے پہلے دفن کر دئے گئے۔ 

راوی: عائشہؓ 

بخاری: 1384

نبی کر یم ؐ نے جو پیر کے دن وفات پائی تھی ، اسی پیر کے دن خود بھی مر نے کے لئے ابوبکرؓ نے خواہش کی۔انہوں نے سوچا کہ آج کی رات آنے سے ‏پہلے مر گئے توپیر کے دن مرنے والے ہوجائیں گے۔ لیکن اس دن کے بجائے انہوں نے رات آنے کے بعد ہی وفات پائی۔ اس رات کوعائشہؓ نے ‏پیر کی رات نہیں کہا، بلکہ اس کو منگل کی رات ہی کہا۔ 

یعنی پیر کے دن کے بعد آنے والی رات کواگر پیرکی رات کہا گیا تو رات میں تاریخ بدلتی نہیں کہہ سکتے ہیں۔ صبح ہی میں تاریخ بدلتی ہے کہہ سکتے ‏ہیں۔ لیکن پیر کے دن کے بعد آنے والی رات کے بارے میں اس کو منگل کی رات ہی حدیث میں کہا گیا ہے۔ یعنی پیر کا دن تو مغرب کے پہلے ہی ‏ختم ہو گیا۔یہ حدیث واضح طور پر کہتی ہے کہ مغرب کے ساتھ منگل شروع ہوجاتا ہے۔

ایک اور حدیث دیکھئے!

عبد اللہ بن مسعودؓ جمعہ کی رات کی جمعرات کی شام ہو تی ہے تواٹھ کرکہا کرتے تھے کہ کلمہ میں بالکل سچا کلمہ اللہ ہی کا کلمہ ہے۔ 

راوی: بلاد بن عصمہ

حدیث: دارمی۔209 

اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کے شام کے بعد جمعہ کی رات آتی ہے۔ یعنی مغرب آنے کے بعد ہی تاریخ بدلتی ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ‏ہیں کہ یہی طریقہ اصحاب رسول کے زمانہ میں چل رہا تھا۔

دیکھئے،عائشہؓ فرماتے ہیں:

اگر تم جمعہ کی رات کو پاگئے تو جمعہ کی نماز کو پڑھے بغیرکہیں باہر(سفر میں) نہ نکلو۔

راوی: مصنف ابن ابی شیبہ: 5114

صبح میں ہی دن کا آغاز ہے کے رائے کے مطابق جمعہ کے رات کے بعد آنے والی صبح کا وقت ہفتہ کا دن ہوگا۔ لیکن جمعہ کے رات کے بعد آنے والا ‏دن بھی جمعہ ہی رہنے کی وجہ سے عائشہؓ تاکید کر تے ہیں کہ جمعہ کی نماز پڑھے بغیر کہیں باہر سفر نہ کریں۔ 

صبح کے وقت میں دن کا آغاز نہیں ہوتا، اس کے لئے یہ خبر سند ثابت ہوتی ہے۔ 

دن کا آغاز مغرب ہی ہے اس کے لئے اور بھی کئی دلائل موجود ہیں۔ 

کئی معنی والے درمیانی نماز کے لفظ کو پیش کر کے روزکے آغاز کوفیصلہ کر نے کے بجائے دن اور تاریخ کے بارے میں کہنے والی مندرجہ بالا ‏حدیثوں کی بنیادپر فیصلہ کر نا ہی ٹھیک ہو گا۔ 

‏360۔حاملہ عورتوں کی عدت

‏اس 2:234 آیت میں کہا گیا ہے کہ شوہرکی موت کے بعد عورت چار مہینے اور دس دن تک دوسری شادی کئے بغیر انتظار کر نا چاہئے۔ (اس کی ‏تشریح حاشیہ نمبر 69 میں دیکھیں!)

شوہر مر تے وقت اگر بیوی حاملہ ہو تو اس پر عائد ہو نے والے عدت کا حکم اس آیت 65:4میں کہا گیا ہے۔یہ آیت کہتی ہے کہ شوہر مرتے وقت ‏اگر بیوی حاملہ ہو تو اس کوتولد ہو نے تک دوسری شادی نہ کر نا ہی حاملہ عورتوں کی عدت ہے۔

شوہر مرتے وقت بیوی اگر حمل کی آخری مرحلہ میں ہواور شوہر مرنے کے ساتھ اسی دن اگراس کو تولد ہوجائے تو اس کو کوئی عدت نہیں۔ 

شوہر مرتے وقت بیوی اگر ایک ماہ کی حمل میں ہو تو اس کو بچہ تولد ہو نے تک دوسری شادی نہ کرنا چاہئے۔ اس کے لئے آٹھ یا نو مہینے لگ سکتے ‏ہیں۔ 

اس آیت سے (65:4)اس حکم کو ہم جان سکتے ہیں۔

عدت کے بارے میں اور زیادہ تفصیل جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 69، 404، 424میں دیکھ سکتے ہیں۔   

‏359۔ کس پر جنگ فرض ہے؟

‏اسلام کے خلاف جو تنقید کیا جا تا ہے اس میں دہشتگردی بہت ہی اہم ہے۔ دشمنوں سے جنگ کرو کہنے کی جوآیتیں ہیں اس کو دکھا کر وہ کہتے ہیں کہ ‏غیر مسلموں کو قتل کر نے کے لئے اسلام حکم دیتا ہے۔ 

دہشتگردی میں مبتلا ہو نے والے بعض مسلمان جنگ کے متعلق نازل ہو نے والی آیتوں کو اپنی کرتوتوں کے لئے سند بنا کر پیش کر کے ان کی اس تنقید ‏کو اور بھی مضبوط بناتے ہیں۔ 

اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جنگ کے متعلق ٹھیک معنی کو جانے نہیں۔ 

قرآن میں کئی احکام ہیں۔ وہ تمام مسلمانوں کے لئے رہنے کے باوجود حاکموں اور حکومت کے تعلق سے بھی احکام بتائے گئے ہیں۔ 

جو حکم حکومت کے لئے ہے اس پر کوئی فرد عمل پیرا نہیں ہو نا چاہئے۔ 

قرآن میں ایسے بھی حکم دئے گئے ہیں کہ چوری کر ے تو ہاتھ کاٹا جائے، زنا کے لئے سو کوڑے برسایا جائے، آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے ‏بدلے دانت۔ ان احکام کو ایک تنہا مسلمان یامسلم جماعت ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ بلکہ اسلامی حکومت ہی اس کو عمل میں لا سکتی ہے۔ 

جنگ کے متعلق آیات بھی حکومت پر فرض ہو نے والے احکام ہی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی فرد پر یا جماعت پر لاگو نہیں ہے۔ اس طرح ہم جو کہہ ‏رہے ہیں اس کے لئے دلائل قرآن مجید ہی میں موجود ہیں۔ 

آیت نمبر 4:75 میں کہا گیا ہے کہ کمزوروں کے لئے تم کیوں نہیں لڑتے؟ 

کمزوروہ لوگ تھے جو مکہ میں اقلیت مسلمان تھے۔ وہ لوگ مکہ میں بے حد تکلیفوں میں مبتلا کئے جاتے تھے۔ بستی چھوڑ کر بھاگ نکلنے کی حد تک ان پر ‏ظلم ڈھایا جاتا تھا۔ 

پھر بھی قرآن نے انہیں مخاطب کر کے جنگ کر نے کے لئے حکم نہیں دیا۔ان کے لئے تم کیوں نہیں لڑتے؟نبی کریم ؐ کی صدارت پر قائم مسلم ‏حکومت کو وہ حکم دیتا ہے۔ 

اگر کمزوراور مظلوم لوگ ہی کارروائی کر نا ہو تو انہیں کوجنگ کر نے کے لئے حکم دیا جاتا ۔ 

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ حکومت ہی پر جنگ فرض ہے، ایک تنہا فرد پر نہیں۔ 

آیت نمبر 8:60 میں مختلف قسم کے جنگی ہتھیار اکٹھا کر نیکو حکم دیا گیا ہے۔ ایک ملک میں کمزور اور اقلیت میں رہنے والا کوئی فرد یا جماعت اس ‏طرح اکٹھا نہیں کر سکتا۔ یہ تو حکومت ہی کر سکتی ہے۔ 

اسلامی حکومت قائم ہوں اور جنگ کرنے کی وجوہات بھی ہوں ، لیکن جنگ کر نے کے لئے فوجی طاقت نہ ہوں تو اس وقت اسلامی حکومت پر بھی ‏جنگ کرنا فرض نہیں ہے۔

یہ آیت 8:65کہتی ہے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ جنگ کر نے کی ضرورت پڑ گئی اور دشمنوں کی فوجی طاقت میں دس میں سے ایک حصہ موجود ہے تو اس ‏وقت جنگ کر سکتے ہیں۔ 

پھر لوگوں کی کمزوری کو دیکھ کراس آیت 8:66کے ذریعے فرمایا گیا کہ دشمنوں کی فوجی طاقت میں سے آدھا حصہ ہو تواسلامی حکومت پر جنگ کر نا ‏فرض ہے، اگر اس سے کم ہوتو جنگ کئے بغیر چھوڑ دینا چاہئے۔

دشمنوں کی فوجی طاقت میں آدھے سے کم ہو تو اسلامی حکومت بھی جنگ نہ کرنا ہے تو اقلیت پر جنگ کر نا کیسے فرض ہوگا؟ 

اس وجہ سے کہ اس قوم پر بہت بڑا نقصان پیدا ہو گا، اسی لئے اللہ نے ان لوگوں پر جنگ کو فرض کئے بغیر صبر فرض کیا ہے۔ 

بنی کریم ؐ نے مکہ میں جن تکالیف کا سامنا کیا وہ کوئی بھی نہیں کیا ہوگا۔ اس وقت نبی کریم ؐنے فوج کو اکٹھا نہیں کیا،صبر ہی سے کام لیا۔ مدینہ میں جا کر ‏حکومت قائم کر نے کے بعد جب جنگ کر نے کی حالت پیدا ہوئی تواس وقت جنگ کیا۔ 

اگر اس کو مسلمان ٹھیک سے سمجھ کر چلے تولوگ اسلام کی طرف اپنی نگاہوں کو پھیریں گے۔ اس کو دھیان میں رکھیں۔ 

جنگ،دہشت گرد ی اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 53، 54، 55، 76، 89، 197، 198، 199، ‏‏203، 359 وغیرہ دیکھیں!  

‏358۔ جنگ بدر کی فتح کے بارے میں پیشنگوئی

‏یہ آیت8:7 کیا کہتی ہے ، اس کو پہلے جان لیں۔

نبی کریم ؐ مدینہ میں حکومت قائم کر نے کے بعد مکہ کے تجارتی قافلہ نبی کریم ؐ کی حکومت کے احاطہ کے حصوں کی راستے سے سفر کیا کر تے تھے۔ 

اپنے ملک کی حفاظت کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سے نبی کریم ؐ نے اپنے ملک کے اندرغیر ملکی داخل ہو نے سے روکنے کے لئے منصوبہ بنایا۔آپ نے ‏سوچا کہ خصوصاً مسلمانوں کے مال و متاع چھین کر شہر چھوڑ کر بھگانے والے مکہ والوں کو اپنے ملک کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہو نے کو روک دیا ‏جائے۔ 

ملک سے واسطہ رکھنے والے کوئی بھی حاکم جس طرح کر تے ہیں اسی طرح اپنے ملک کے اندر حدود پار کر کے داخل ہو نے والوں کو روکنے اوران کی ‏چیزوں کو سلب کر نے حکم نافذکیا۔ 

اس حالت میں مکہ کے ایک مشہور شخصیت ابوسفیان کی رہبری میں ایک تجاریتی قافلہ بہت زیادہ مال و متاع کے ساتھ اپنے ملک کے اندر داخل ہو ‏کر سفر کر نے کی خبر نبی کریم ؐ کو پہنچی۔ 

اس لئے انہیں راستہ روک کر ان لوگوں کے مال کو سلب کر نے کے لئے اپنی رہبری میں نبی کریم ؐ نے فوج لے کر چلے۔ 

نبی کریم ؐ نے تجارتی قافلے کی تجارتی مال کو سلب کر نے کے لئے آنے والی خبر اس قافلے کے سردار ابوسفیان کو جب معلوم پڑا تو انہوں نے فوراً مکہ ‏والوں کو اطلاع بھیجی کہ اپنے اور تجارتی مال کو بچانے کے لئے فوج اکٹھا کر کے لائیں۔ 

اس اطلاع کو سنتے ہی مکہ سے لگ بھگ ایک ہزار سپاہی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ 

اصحاب رسول کو سمجھ میں نہیں آیا کہ تجارتی قافلے کو راستہ روک کر مال سلب کیا جائے ؟ یا آنے والے دشمنوں سے جنگ کیاجائے؟ اکثر لوگوں کی ‏خواہش یہی تھی کہ تجارت کے قافلے کو روکیں تو زیادہ خون بہائے بغیر ان پر غالب آسکتے ہیں اور ان کے مال بھی بانٹ لے سکتے ہیں۔ 

دشمنوں کی فوج میں ایک میں تین حصے کے انداز ہی میں ان کے پاس سپاہی تھے، اس وجہ سے جنگ کر نے کے بجائے تجاری قافلے کو لوٹنے ہی میں ‏وہ آرزورکھتے تھے۔ 

لیکن نبی کریم ؐ نے دشمنوں سے میدان جنگ میں سامنا کر نے ہی کو ترجیح دی۔ بدر کے مقام میں دشمنوں سے سامنا کر کے بہت بڑی فتح پا ئی۔ 

اسی بات کو اس آیت میں کہا گیا ہے۔ اللہ اس آیت میں کہتاہے کہ یاد کرو اللہ کے اس وعدے کو کہ دو جماعتوں میں سے

ایک جماعت پر تم فتح پاؤگے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ نے پہلے ہی وعدہ کر چکا کہ تجارتی قافلہ یا انہیں بچانے کے لئے آئی ہوئی مکہ والوں کی فوج ، ان دونوں میں سے ایک کو تم فتح ‏پاؤگے۔

پہلے ہی اللہ نے جو وعدہ کیا تھااس کو اس آیت میں یاد دلاتا ہے۔ 

اس میں یہ مطلب بھی پایا گیا ہے کہ قرآن کے بغیر ایک اور راستے سے بھی نبی کریم ؐ کو اللہ کی طرف سے حکم آتی تھیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کو تم فتح پاؤگے۔ پوری قرآن میں بھی ڈھونڈو تو اس مطلب کی آیت ‏نہیں ملے گی۔ 

اللہ کہتا ہے کہ وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ وعدہ قرآن مجید میں نہیں ہے۔ صرف حدیثوں میں موجود ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے دل میں قرآن کے سوا ایک اور طریقے سے بھی خبروں کو اللہ پہنچاتا ہے۔ اس کے لئے یہ آیت بھی دلیل ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 352، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏357۔ جادو پر بھروسہ کر نا شرک ٹہراناہے

‏یہ آیتیں 2:102، 5:110، 6:7، 7:109-120، 10:2، 10:76,77، 10:81، 11:7، 15:15، 17:47، ‏‏17:101، 20:63-73، 21:3، 25:8، 26:34,35، 26:45,46، 26:153، 28:36، 28:48، 34:43، ‏‏37:15، 38:4، 43:30، 43:49، 46:7، 51:39، 51:52، 52:15، 54:2، 61:6، 74:24 جادو ٹونے کے بارے میں ‏کہتی ہیں۔

جادو کیا لوگوں کو دھوکا دینے والی چالبازی ہے؟ یا کیا سچ مچ جادو کے ذریعے دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں؟ اس میں عالموں کے درمیان اختلاف ‏رائے پایا جاتا ہے۔ 

اس میں صحیح رائے کیاہوسکتاہے، اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 28،285وغیرہ میں واضح کیا گیا ہے۔ 

چند حدثیں کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ کے دشمن یہودیوں نے نبی کریم ؐپر جادو کیا ، اس سے ان کی دلی کیفیت متاثر ہو گئی ۔اس بنیاد پر اکثر مسلمانوں کا اعتماد ‏ہے کہ جادو سے دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

لیکن بعض حدیث کی کتابوں میں یہ خبرہے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا تھا اور اس کے ذریعے انہوں نے دل کی بیماری میں مبتلا ہو گئے،درج ہو نے کے ‏باوجود وہ قرآن کے خلاف رہنے سے وہ مستند حدیث نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ جھوٹی کہانی ہے۔ 

‏حدیثوں کو پرکھنے کا طریقہ

اس کو جاننے سے پہلے قرآن کے خلاف جو حدیثیں ہیں ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ اس کو کیسے جانچیں۔

معتمد راویوں کے ذریعے روایت کی ہوئی حدیثوں کو ہم دینی دلیل سمجھیں۔ لیکن معتمد لوگوں کے ذریعے روایت کی ہوئی حدیثیں اگرقرآن کے ‏عقیدے کے خلاف ہوں ، اور کسی بھی لحاظ سے قرآن کی مناسبت سے تشریح کئے جانے کے موافق نہ ہوں تو اس کو اختیار نہ کر یں۔ یہی فیصلہ کر نا ‏چاہئے کہ نبی کو اور اس خبر کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے خلاف جو خبریں ہیں اس کو ماننے سے قرآن کو انکار کر نے کی نوبت آجا ئے گی۔ 

مزید یہ کہ یہ آیت 16:44 کہتی ہے کہ قرآن مجید کی وضاحت کے لئے ہی نبی کریم ؐ کو بھیجا گیا۔ 

قرآن کی وضاحت کے لئے بھیجے ہوئے نبی کریم ؐ قرآن مجیدکے خلاف ہر گز نہیں کہیں گے اور نہ عمل کریں گے۔ اگر کوئی خبر ملے کہ اس طرح ‏انہوں نے بات کی یا عمل کی تو وہ کسی بھی کتاب میں درج ہوہمیں فیصلہ کردینا چاہئے کہ وہ ہرگز نبی کریم کا قول نہیں ہوگااور عمل نہیں ہوگا۔

اس کی وجہ یہی ہے کہ نبی کریم ؐ کا قول اور عمل قرآن مجید کا تشریح ہوسکتا ہے ،اس کے سوائے وہ قرآن مجید کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ 

یہ حدیث کا انکار نہیں ۔ اس کو ہم واضح طورپر سمجھ لینا چاہئے۔

کیونکہ اعتماد کے لحاظ سے قرآن اور حدیث برابر نہیں ہیں۔قرآن مجید کے حد تک تمام صحابہ گواہ ہیں کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔

نبی کریم ؐ نے قرآن کی آتیوں کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہ میرے رب کی طرف سے نازل ہو ئی ہے۔ اصحاب رسول تما م اس کے لئے گواہ ہیں کہ ‏انہوں نے ایسا کہا۔قرآن مجید کو تحریری انداز میں بھی لکھ لیا گیا اور بعض لوگوں نے اس کو حفظ بھی کرلیا۔ 

حدیثوں کے حد تک کسی حدیث کو تمام صحابیوں نے روایت نہیں کی۔ گنے چنے چند حدیثیں زیادہ سے زیادہ پچاس صحابیوں کے ذریعے روایت کی گئی ‏ہیں۔ دیگر حدیثیں ایک یا دو یا تین صحابیوں کے ذریعے ہی روایت کی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ قرآن کی طرح حدیثوں کو صحابیوں نے تحریری انداز میں ‏درج نہیں کی۔ 

یعنی ایک یا دو صحابیوں ہی نے گواہ دی ہے کہ نبی کریم ؐ نے اس طرح فرمایا۔

سارا سماج گواہ دینا اور ایک دو اشخاص گواہ دینا برابر نہیں ہوسکتا۔

کتنے بھی معتمد ہوں ان میں سے ایک دو کے خبروں میں کچھ نہ کچھ غلط ہونے کا امکان ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں ہی نہیں بلکہ اس کے بعد کے زمانے میں بھی تمام لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ صحابیوں نے کہا کہ یہی قرآن ہے۔ اس طرح ہر ‏زمانے کے لوگ اسی طرح کہا ہے۔ 

حدیث کے حد تک ایک دو صحابیوں ہی نے کہا ہے۔ ایک دو ہی نے کہا ہے کہ اصحاب رسول نے اس طرح کہا ہے۔ کتاب کی شکل میں مرتب ‏ہونے کے زمانے تک ایک سے ایک کی بنیاد پر ہی حدیث روایت کی گئیں۔ 

اس لئے قرآن کے معاملے میں ذرہ برابر بھی شک پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن احادیث کے حد تک یہ حالت نہیں ہے۔ 

اصحاب رسول کے اعتماد کی بنا ء پر اس کو ہم اختیار کر کے عمل کر رہے ہیں۔ قرآن مجید کے خلاف جب تک وہ جا تی نہیں، ایسی خبروں میں شک نہیں ‏کر نا چاہئے۔ ایک بھی حدیث اگر قرآن کے خلاف ہو جائے تو ہم یہ سمجھتے ہوئے قرآن مجید ہی کو ترجیح دینا چاہئے کہ اس روایت میں کہیں غلطی ہوئی ‏ہے۔

اصحاب رسول نے اس کو نامکمل سنا ہو گا یا غلط سمجھ لیا ہو گا ، اس وجہ سے وہ غلطی سرزد ہوئی ہوگی۔ یااصحاب رسول کی طرف سے سننے والے آئندہ ‏نسل سے وہ غلطی سرزد ہو ئی ہوگی۔یا اس کے بعد کی نسل سے وہ غلطی صادر ہوا ہوگا۔ 

راوی صحیح رہنے کے باوجود قرآن کے خلاف خبروں کوپوری طرح سے جھٹلادینا چاہئے ، اس کو ہم نے خود نہیں کہا، اللہ کے رسول ہی نے فرمایا ‏ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا:

میرے نام سے کسی خبر کو تم سنو گے تو اس خبر کو اگر تمہارا دل قبول کر لے اور تمہارے چمڑے اور بال (یعنی تمہارے جذبات) اس خبر کے تابع ‏ہو جائے ، اور تم سمجھو کہ وہ خبر تم سے قریب ہوگئی ہے تو اس کو (سنانے کے لئے) تم سے زیادہ میں ہی قابل ہوں۔ میرے نام سے کوئی خبر تم ‏سنتے وقت اگر اس خبر کو تمہارا دل ناپسند کرے اورتمہارا چمڑا اور تمہارے بال بھاگ کھڑے ہو جائیں اوراس خبرکو تم اگردور سمجھو گے تو تم سے ‏زیادہ میں اس سے دور ہوں۔ 

راوی: ابو عذیدؓ 

احمد : 15478

نبی کریم ؐ نے تشریح کی ہے کہ ان کے نام سے کہی جانے والی خبروں میں جھوٹی بات بھی شامل ہو سکتی ہے اور اس کوکس طرح جانچ سکتے ہیں۔ 

مناسب وجوہات کے ساتھ جس خبر کو سنتے وقت کسی کو یہ محسوس ہو کہ اس کو نبی کریم ؐ ہی نے کہا ہوگا تو ان جیسے خبروں کو سنانے کے لئے وہی قابل ‏ہیں۔ جس خبر کو سنتے وقت مناسب وجوہات کے ساتھ ایک شخص کا دل اگرانکارکردے تو اس کو نبی کریم ؐ کہا نہیں ہوگا اور عمل نہیں کیا ہوگا۔ نبی ‏کریم ؐ نے واضح کردیا کہ یہی ٹھیک راستہ ہے۔

اس حدیث سے ہم جان سکتے ہیں کہ راویوں کو جانچ کر نا جتنا ضروری ہے اس سے کہیں زیاد ہ حدیث کے مفہوم کو جاننا ۔ 

قرآن تو ان آیتوں 41:40-42کے ذریعے صاف صاف کہا ہے کہ قرآن میں اختلاف بھی پایا نہیں جائے گا اور نہ ہی غلطی۔ 

اس لئے قرآن میں اختلاف اور غلطی ہے، ایسا عقیدہ ہمارے پاس نہیں ہونا چاہئے۔

اگرکوئی حدیث میںآئے کہ قرآن میں غلط ہے تو وہ حدیث نہیں ہوگی۔ہمیں یہی بھروسہ ہو نا چاہئے کہ اس کو نبی کریم ؐ ہر گز نہیں کہے ہوں ‏گے۔اور سمجھنا چاہئے کہ یہ غلطی سے کہہ دیا گیا ہے۔ 

جب ہم یہ کہہ کر انکار کر تے ہیں کہ قرآن کے خلاف جو حدیثیں ہیں وہ حدیثیں نہیں ہیں تووہ ہمیں حدیث کا انکار کر نے والے بنادیتے ہیں۔ ان کا ‏کہنا ہے کہ جب حدیثیں ایک سے ایک اختلاف ہوں تو اس میں جو مضبوط ہے اس کو اٹھا لینا چاہئے اور کمزور کو چھوڑدینا چاہئے۔ 

اس کو ذرا تفصیل سے دیکھیں!

ایک استاد کے پاس سے ایک حدیث کو پانچ شاگرد روایت کرتے ہیں۔ ا س میں تین شخص ایک قسم سے اور دو شخص اس سے مختلف کہے ، اور وہ ‏پانچوں اشخاص اعتماد میں برابر کے ہیں تو اس تینوں کے کہنے کو مان لینا چاہئے۔ وہ دونوں کے کہنے کو انکار کر دینا چاہئے۔ یہ شاط کہلاتا ہے۔ 

اس کو ہم بھی مانتے ہیں۔ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں کے عقیدے والے بھی مانتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس کے راوی اگر معتمد بھی ہوں اس کو ‏دلیل نہ مانا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ تینوں کے کہنے کے خلاف اگر وہ دونوں کہیں تو اس کو جانچ کر جو مظبوط ہے اسی کو مانیں گے۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہزاوں اصحاب ‏رسول کلام اللہ کو ثابت کریں بھی تو اس کے خلاف اگر کوئی ایک شخص بھی کہے تو قرآن کو ایک طرف ہٹادیں گے اور اس کے خلاف جو کہا گیاہے ‏اس کو مان لیں گے۔دیکھئے، شیطان نے ان لوگوں کو کیسا گمراہ بنا کر رکھا ہے!

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کی کتاب کوان کے پاس کوئی قدر ہی نہیں۔ 

چنانچہ قرآن مجید کے خلاف جادو کے متعلق جو حدیثیں ہیں اس کو ہم دلیل نہیں ماننا چاہئے۔ اگر مان لیں گے تو قرآن مجید کے انکار کر نے والے بن ‏جائیں گے۔ 

ان جیسے چند حدیثوں کو مثال کے طور پرپیش کر تے ہیں۔ 

بخاری میں حصہ پانے والی ایک حدیث کو ملاحظہ فرماےئے۔ 

ام شریخ ؓ نے روایت کی ہے: 

اللہ کے رسول ؐ نے حکم دیا کہ چھپکلی کو ماردو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابراھیم ؑ (جب آگ کے گھڑے میں پھینکے گئے اس آگ) کو ان کے خلاف اور ‏بھی پھونک مار رہی تھی۔ 

بخاری: 3359

نبی کریم ؐ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا، اگرصرف اتنا ہی حدیث ہو تا تو نبی کریمؐ کے اس حکم کو ہمیں بجا لا نا ہی چاہئے۔ یہ کسی آیت کے خلاف نہیں ‏ہے۔

اس کی وجہ یہ بتا ئی گئی ہے کہ ابراھیم ؑ کو آگ کے گھڑے میں جھونکتے وقت صرف چھپکلی پھونک مارکراس آگ کو اور بھی بڑھایا۔اس کو ہم نے ‏قرآن کی روشنی میں جانچنا ضروری سمجھا کہ کیا یہ وجہ ٹھیک ہے؟ 

اگر غور سے دیکھا جائے توہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ قرآن مجید کے کئی آیتوں کو اور اسلامی بنیادی عقیدوں کے خلاف پائی گئی ہے۔ 

قرآن میں کہا گیا ہے کہ چند جاندار اللہ کے رسولوں کو مدد کی ہیں، اس جیسے حدیثوں کو ہم مان سکتے ہیں۔ اس آیت 27:20 میں کہا گیا ہے کہ ‏سلیمان نبی کو ہدہد پرندے نے مدد کی۔ 

لیکن کوئی بھی جاندار اللہ کے رسولوں کے خلاف نہیں جا سکتی۔ ان سب کو اللہ کی پابندی اختیار کر نے ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ ان آیتوں ‏‏3:81، 13:15 ، 22:18میں یہی بات کہی گئی ہے۔

ان آیتوں کے خلاف یہ حدیث کہتی ہے کہ چھپکلی نے اللہ کے خلاف عمل کی ہے۔ 

ابراھیم نبی توحید کے عقیدے کو کہا تھا۔ اسی لئے انہیں آگ کے کنویں میں ڈھکیلا گیا۔یہ حدیث کہتی ہے کہ اس سے خوش ہوکر چھپکلی نے ابراھیم ‏نبی کے خلاف آگ کو اور بھی پھونکا۔

اگر اس پر بھروسہ کیا جائے تویہ بھی بھروسہ کر نا پڑے گا کہ جانداروں میں بھی مسلم اور غیرمسلم جاندار ہیں۔ اس طرح کا بھروسہ مندرجہ بالا ‏آیتوں کا انکار ثابت ہوگا۔ 

ایک اور اسلامی بنیاد کے مخالف بھی یہ خبر کہتی ہے۔ 

ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھا سکتا، یہ اسلامی عقیدہ ہے۔ اس کو ان آیتوں میں 6:164، 17:15، 35:18، 39:7، 53:36 سے جان سکتے ‏ہیں۔

ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھا سکتا ، یہی اختلاف اسلام اور عیسائی مذہب کے درمیان ایک اہم عقیدہ ہے۔ 

پہلا انسان آدم گناہ کر نے کی وجہ سے سب انسان گناہگار ہی پیداہو تے ہیں ، یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ آدم نے گناہ کی تو ان کی نسل کیسے اس گناہ کا ‏بوجھ اٹھا سکتے ہیں ؟ ان آیتوں کی بنیاد پر ہم سوال کرتے ہیں۔

ہر انسان گناہگار پیدا ہو تا ہے۔ اس پیدائشی گناہ کا بوجھ اٹھانے کے لئے عیسیٰ نے اپنے آپ کو قربان کر کے لوگوں کو نجات دی، یہ ان کا دوسرا عقیدہ ‏ہے۔ اس عقیدے کے خلاف مندرجہ بالا آیتوں کو دلیل بتا کر ہم سوال کر تے ہیں۔ 

چلو ایک بات کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ابراھیم نبی کے خلاف چھپکلی نے آگ پھونکی۔ 

اگر یہ سچ ہو تو جو چھپکلی آگ پھونکی تھی اسی چھپکلی کو مارنا چاہئے؟ وہ چھپکلی تو مر کر کئی ہزاروں سال گزر گئے۔ پھر بھی اس کی نسلوں کو مارنے کے لئے ‏کیایہ وجہ مناسب ہے؟ 

مزید یہ کہ ابراھیم نبی کو آگ کے گھڑے میں ڈالتے وقت دنیا بھر کی چھپکلیاں اس جگہ پر نہیں آئی ہوں گی۔ اس لئے ان چھپکلیوں کو اور اس کی نسلوں ‏کو کیوں ماریں؟ 

کیاقرآن مجید کے خلاف نبی کریم ؐ نے ایسا کہا ہوگا؟ ایک معمولی انسان بھی ایک شخص کی غلطی کے لئے دوسروں کو سزا نہیں دے گا۔ایسے میں کیا ‏رحمت کے پیکر نبی کریم ؐ اس طرح کہا ہوگا؟ 

چنانچہ چھپکلی کو مارنے کہنے کی وجہ قرآن کے خلاف ہے اور حقیقت کے برعکس ہے، اس لئے ہمیں یہی فیصلہ کر نا چاہئے کہ اس کو نبی کریم ؐ نے کہا ‏نہیں ہوگا۔ 

وہ کسی بھی کتاب میں جگہ پایا ہو ، کتنی ہی کتابوں میں درج ہو، ہمیں اسی فیصلے پر آنا چاہئے۔ اگر ایسا آنے سے انکار کریں توہم نے جو اوپر درج کی ہے ‏ان سب آیتوں کو اور اسلام کی بنیادکو انکار کر نے والے ہونگے۔ کوئی بھی انسان مختلف دو چیزوں کومانیگا نہیں۔

یہی طریقہ احادیث کو سمجھنے کے لئے ٹھیک راستہ ہے۔

ایک اور حدیث کو دیکھئے!

محمد بن زیاد الہانی ؒ نے فرمایا ہے: 

ابوامامہ الباہلی ؒ نے ایک گھر میں ہل جوتنے کی کاشتکار ی آلات کو دیکھا۔ فوراً انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم ؐ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس قوم کے گھر میں ‏جب ایسے آلہ جات داخل ہوتے ہیں تو اس گھر میں اللہ ذلت پہنچائے بغیر نہیں رہتا۔

بخاری: 2321

یہ خبر کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ہل جوتنے کا آلہ جس گھرمیں ہو اس میں ذلت پیدا ہوگی ۔ 

عام طور سے سب اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ کاشتکاری ہی انسانی زندگی کی جان ہے۔اگر ایک ملک میں صرف مسلمان ہی بستے ہوں ، وہ اس خبر پر ‏بھروسہ کر تے ہوئے ہل جوتنے کی چیزوں کو پھینک دیں اور سب لوگ کاشتکاری چھوڑدیں تواس ملک کی حالت کیا ہوگی؟

لوگوں کو مٹا کر تباہ کر نے والی ایک رہنمائی کیا نبی کریم ؐ فرمائے ہوں گے؟ 

درآمد اور برآمدآسان ہوجانے والی اس زمانے میں بھی کاشکاری کو جھٹلا کر ہر غذائی چیزوں کو اگر ایک ملک درآمد کرے تو وہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ ‏درآمد و برآمد مشکل رہنے کے زمانے میں اگر کاشتکاری چھوڑدے تو اس سے زیادہ برے انجام پیدا ہوں گے۔

نبی کریم ؐ روحانی سردار ہی نہیں حکومت چلائے ہوئے حاکم بھی ہیں، کیا انہوں نے کاشتکاری کے خلاف ایسی ایک کارروائی اٹھائے ہوں گے؟ 

قرآن مجید کاشتکاری کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ مثال کے طور پر ان آیتوں کو ملاحظہ فرمائیے: 

‏2:22، 2:164، 6:99، 6:141، 7:57، 12:47، 13:4، 14:24، 14:32،15:19، 16:11، 16:65، 18:32، ‏‏20:53,54، 22:5، 22:63، 23:20، 26:7، 27:60، 29:63، 30:24، 31:10، 32:27، 35:27، 36:36، ‏‏39:21، 41:39، 43:11، 45:5، 48:29، 50:7، 50:9، 56:64، 78:14,15,16، 80:27-32۔ 

ان آیتوں میں اللہ نے کاشتکاری کی فضیلت، ضرورت اور اہمیت کو ایک خوش نصیبی کہا ہے۔ 

اللہ کی کتاب کو واضح کر نے کے لئے جو نبی کریم ؐ بھیجے گئے کیا ان آیتوں کے خلاف کاشتکاری کی چیزوں کو ملامت کریں گے؟ ذرا سوچو تو اچھی طرح ‏سمجھ سکتے ہیں کہ یہ نبی کریم کا قول نہیں ہوسکتا۔

نبی کریم ؐ کی کہی ہوئی کئی حدیثیں موجود ہیں جو کاشتکاری کی فضیلت میں ہے۔ مثال کے طور پر چند حدیثیں ملاحظہ ہوں: 

اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا: 

ایک مسلمان ایک جھاڑ لگا تا ہے یابیج بوکر زراعت کر تاہے اور اس میں ایک پرندہ، یا ایک انسان یا ایک جانور کھائے تو اس کی وجہ سے ایک خیرات کر ‏نے کا معاوضہ اس کو ملے گا۔ 

بخاری: 2320

ابو ہریرہؓ نے فرمایا ہے: 

مدینہ والے یعنی انصار نبی کریم ؐ کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہم میں اور مکہ سے آئے ہوئے مہاجر بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کے درختوں کو ‏تقسیم کردیں۔ نبی کریم ؐ نے نا کہہ دیا۔یہ سن کر انصار صحابیوں نے مہاجروں سے کہا کہ ہمارے باغوں کو ہمارے بدلے تم ہی دیکھ بھال کرتے آؤ۔ ‏ہم تمہارے ساتھ اس کی آمدنی میں حصہ لے لینگے۔ اس کو مہاجروں نے کہا کہ ہم نے سنا اورقبول کیا۔ (بخاری: 2325)

ہل جوتنے کو ملامت کر نے والی حدیث نوع انسانی کو مٹانے کی راہ دکھا تی ہے اور وہ کئی آیتوں کے خلاف واقع ہوئی ہے اور نبی کریم ؐ کی تعلیم کے ‏مخالف ہے، اس وجہ سے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس کو نبی کریم ؐ ہرگز نہیں کہے ہوں گے۔ 

اگر ایسا نہ کریں اور اس حدیث کو مان لیں تو اللہ کی کئی آیتوں کو انکار کرنے کی نوبت آن پڑے گی ۔ کیونکہ دو مختلف چیزوں کو کوئی مان نہیں سکتا۔ 

ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیے:

اللہ کے رسول ؐ نے میرے ہاتھ کو تھام کر فرمایا: عزت و عظمت والے اللہ نے ہفتہ کے دن زمین کو پیدا کیا۔ زمین میں اتوار کے دن پہاڑوں کو پیدا ‏کیا۔ پیر کے دن درختوں کو پیدا کیا۔ منگل کے دن دھاتوں کو پیدا کیا۔ بدھ کے دن روشنی کو پیدا کیا۔ جمعرات کے دن جانداروں کو پھیلایا۔ جمعہ ‏کے دن عصر کے بعد آخری وقت میں عصر اور رات کے درمیان آخری مخلوق آدم کو پیدا کیا۔ 

راوی: ابوہریرہؓ 

مسلم: 5379

مسلم نامی کتاب میںیہ خبر دی گئی ہے کہ ہر ایک دن ہر ایک چیز پیدا کر کے سات دن میں اللہ نے اس دنیا کو پید اکیا ہے۔ 

لیکن قرآن مجید میں ان آیتوں 7:54، 10:3، 11:7، 25:59، 32:4، 50:38، 57:4 میں کہا گیا ہے کہ دنیا چھ دنوں میں پیدا کیا گیا ‏ہے۔

اللہ نے کہا چھ دنوں میں اس دنیا کو پیدا کیا، لیکن یہ حدیث کہتی ہے کہ یہ دنیا سات دنوں میں پیدا کیا گیا۔ 

صرف وہی نہیں بلکہ اس میں جو تفصیل ہے وہ ان آیتوں کے خلاف ہے۔ 

چنانچہ یہ حدیث قرآن مجید سے ٹکرانے کی وجہ سے قرآن کی وضاحت کر نے آئے ہوئے نبی کریم ؐ نے اس طرح فرمائے نہیں ہوں گے۔ یہ مسلم ‏جیسی کتاب میں درج ہو نے کے باوجود ہمیں یہی فیصلہ کر نا چاہئے کہ یہ ایک تراشیدہ جھوٹ ہے۔ 

یہ نہ سمجھنا کہ اس کو صرف ہم کہہ رہے ہیں۔ مشہور و معروف عالم ابن تیمیہ بھی کہا ہے کہ یہ حدیث قابل قبول نہیں ہے۔ 

تخلیق کی ابتداء ہفتہ کا دن اور انتہا جمعہ کادن ہوگا تو سات دنوں میں تخلیق ہوئی ہے۔ یہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ محدثین کا قول ہے کہ ‏اس کے سوا بھی اس حدیث میں ایک لطیف سی نقص بھی پائی جا تی ہے۔ 

دلیل: ابن تیمیہ کا فتاویٰ 

چھ دنوں میں دنیا کی تخلیق ہوئی ہے ، ان قرآنی آیتوں کو انکار کروگے ہی تو سات دنوں میں دنیا تخلیق ہوئی ہے والی حدیث کو مان سکتے ہو۔ 

اسی لئے ہم انکار کر تے ہیں کہ اس کو نبی کریم ؐ نے ہرگز کہا نہیں ہوگا۔

اسی طرح کا ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیے۔

انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: 

اللہ کے رسول ؐ ام حرام بنت ملحانؓ کے گھر جایا کرتے تھے۔ وہ عبادہ بن صامتؓ کی بیوی تھیں۔ اسی طرح ایک دن نبی کریم ؐ نے امؓ حرام کے گھر گئے تو ‏وہ آپ کو کھانے کے لئے دی اور اس کے بعد آپ کو جوں دیکھنے لگے۔پھر نبی کریم ؐ سوگئے۔ اور پھر آپ نے مسکراکر جاگے۔ 

‏اس حدیث7001 کے بعد 7002کی حدیث میں ام حرامؓ فرماتے ہیں: 

میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں ہنس رہے ہو؟ نبی کریم ؐ نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ اللہ کی راہ میں سمندر کے درمیان سفر ‏کر نے والے مجاہدوں کو مجھے دکھایا گیا۔ وہ لوگ تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ یا بادشاہوں جیسے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی ان ‏میں سے ایک بنانے کے لئے اللہ سے دعا کیجئے۔ تو اللہ کے رسول نے میرے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے سرنیچے رکھ کر سوگئے۔ پھر آپ ‏نے مسکراتے ہوے اٹھے۔ میں نے پوچھا کہ کیوں ہنس رہے ہو؟ نبی کریم ؐ نے پہلے کی طرح ہی فرمایا: میری امت میں بعض لوگ اللہ کی راہ میں ‏مقدس جنگ لڑتے ہوئے مجھے دکھایا گیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی ان میں سے ایک بنانے کے لئے اللہ سے دعا کیجئے۔نبی کریم ؐ ‏نے فرمایا: تم (سمندری سفر کر کے جہاد کے لئے) پہلے جانے والوں میں سے ایک ہوگے۔ نبی کریمؐ کے کہنے کے مطابق ام حرامؓ نے معاویہ بن ‏ابوسفیانؓ کے زمانے میں سمندری سفر اختیار کئے ۔ بعد میں جب سمندر سے نکل پڑے تو اپنی سواری سے نیچے گر کر انتقال کر گئے۔ 

بخاری: 7001, 7002

یہ حدیث کیا خبر دیتی ہے؟ 

یہ خبر سنایا جا تاہے کہ نبی کریم ؐ نے ایک ایسی عورت کے گھر گئے جونہ خونی رشتہ اور نہ ہی قریبی رشتہ دار تھی۔ وہ حدیث یہ بھی کہتی ہے کہ آپ وہاں ‏ہمیشہ جایا کرتے تھے۔ وہی نہیں بلکہ یہ خبر بھی سناتی ہے کہ وہ عورت آپ کو جوں بھی دیکھا، ایک سے ایک قریب بھی رہے اور آپ وہاں سو بھی ‏گئے۔اس خبر سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے آپ یکایک جاگ کر مسکراتے وقت تمام وہ عورت آپ ہی کے قریب بیٹھ کر آپ ہی کو دیکھ رہی تھی۔ 

کیا نبی کریم ؐ اس طرح کئے ہوں گے؟ کئی حدیثوں میں کہا گیا ہے نبی کریم ؐ نے غیر عورتوں کے معاملے میں کتنی احتیاط برتی۔

مردوں کے پاس جب عہد لیتے تھے تو نبی کریم ؐ ان کے ہاتھ پکڑ کر عہد لیا کرتے تھے۔ لیکن عورتوں کے پاس بیعت نامی عہد لیتے وقت عورتوں کا ‏ہاتھ پکڑنے سے گریز کرتے تھے۔ (دیکھئے بخاری: 7214)

کوئی بھی مردغیر عورتوں کے ساتھ تنہائی میں نہ رہیں۔ شوہر کے بھائی جیسے رشتہ داروں کے ساتھ بھی کوئی عورت تنہا نہ رہنا چاہئے۔اس طرح ‏حکم دینے والے نبی کریم ؐ (بخاری : 5232) خود اس حکم کی خلاف ورزی کیسے کر سکتے ہیں؟ 

اس سے یہ رائے بھی پیدا ہوتی ہے کہ قرآن کی سکھائی ہوئی اخلاقی احکام کو نبی خود تجاؤز کر گئے۔ 

اس دین میں جو حکم دیتی ہے کہ غیر عورتوں کے سامنے نگاہوں کو نیچی رکھیں(24:30)، ایک غیر عورت جوں دیکھنے کی حد تک قریب اور ایک ‏غیر عورت کے گھر میں اس عورت ہی کے سامنے کیانبی کریم ؐ سوئے ہوں گے؟ 

نبی کریم ؐ پر الزام لگا کر اسلام کی ترقی کو روکنے کے لئے یہود کئی قسم کی تدبیریں کیں۔ اگر نبی کریم ؐ اس طرح عمل کئے ہو تے تو اسی کو بنیاد بنا کر ‏یہودنبی کریم ؐ کے نام و شہرت کومٹا کر اسلام کی ترقی کوروک دئے ہوں گے۔ 

اسلام کے دشمن کوئی بھی اس کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا۔اس لئے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ سرزد نہیں ہوا ہے۔ 

آپ کی پاکیزہ زندگی کو دیکھ کر ہی اس زمانے کے کئی لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

‏’ان پرپوری طریقے سے اعتماد کر سکتے ہیں‘، اس طرح نبی کریم ؐ پر بھروسہ رہنے کی وجہ ہی سے وہ لوگ اسلام قبول کر تے چلے گئے۔

کوئی بھی انسان اپنی گزشتہ زندگی دکھا کر کہہ نہیں سکتاکہ مجھ پر بھروسہ کرو۔ کیونکہ کسی کی گزشتہ زندگی پوری طرح سے پاک نہیں ہو سکتی۔ ‏لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے بزرگ بھی سہی ان کی آج کی زندگی ہی کی طرف نظرکرنا چاہئے ، گزشتہ زندگی نہیں۔ 

اپنی گزشتہ زندگی کو دکھا کر میں اللہ کا رسول ہوں کہنے کی جرات صرف نبی کریم ؐ ہی کو تھی۔ 

اسی بناء پر قرآن مجید بھی انہیں حکم دیاکہ اللہ کے رسول کا اعلان کرو۔ 

‏(اے محمد!) کہو اگر اللہ چاہتا تو میں اس کو تمہیں نہیں سناتا۔ وہ بھی تمہیں باخبر نہیں کرے گا۔ اس سے پہلے تمہارے ساتھ میں نے کئی سال ‏گزارے ہیں ، کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

قرآن کریم : 10:16

اللہ کا رسول بننے سے پہلے پاکیزہ زندگی گزارنے والے نبی کریم ؐ اللہ کا رسول ہو نے کے بعد اس سے زیادہ پاکیزہ زندگی گزارے تھے۔ 

لیکن وہ حدیث اس بنیاد ہی کو مٹاکر چکنا چور کردیتی ہے۔ 

راوی ٹھیک ہو نے وجہ سے اس حدیث کو حمایت کر نے والے علماء بھی ہیں۔ راوی کو نیک سمجھنے والے اللہ کے رسول کی عظمت کی طرف ذرہ برابر ‏بھی نظر نہیں کی۔ 

اللہ نے اس 68:4 آیت میں سند دیتا ہے کہ تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اس حدیث میں جو با ت کہی گئی ہے کیا وہ اعلیٰ اخلاق ہے؟ 

ان جیسے حدیثوں پر اعتبار کریں توکیا نبی کریم ؐ پر الزام نہیں ہوگا؟ کیا اللہ کے رسول اس طرح عمل کئے ہوں گے؟ 

اگر کوئی حجت کرے کہ یہ بخاری میں درج ہو نے کی وجہ سے اس پر بھروسہ کر نا چاہئے تو وہ اپنی قول میں سچے نہیں ہو سکتے۔ 

نبی کریم ؐ ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں۔ اگر اس معاملے میں ان کی پیروی کر تے ہوئے تمام مسلمان اس طرح غیر عورتوں کے گھر میں ٹہر کر قربت ‏میں رہ سکتے ہیں، کیا کوئی اس طرح فتویٰ دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ 

اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی زبان ہی کہتی ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے، پر ان کے دل انکار ہی کرتے ہیں۔ 

اس کے بعد ایک دوسری حدیث سنئے۔ 

دس بار دودھ پینے سے ہی دودھ کا رشتہ قائم ہو تا ہے ، ایسی ایک آیت (پہلے) قرآن مجید میں نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد دس بار کو بدل کر پانچ بار ‏بنا یا گیا۔ یہ آیت قرآن میں پڑھے جانے کے زمانے میں ہی اللہ کے رسو ل کا وفات ہوا۔ 

راوی: عائشہؓ 

مسلم: 2876

یہ حدیث کہتی ہے کہ عائشہؓ نے فرمایا: نبی کریم ؐ کی وفات تک ایک آیت قرآن میں تھی۔

نبی کریم ؐ کی وفات تک قرآن مجید میں ایسی ایک آیت رہی ہوتی تو وہ آج بھی قرآن میں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ایسی کوئی آیت قرآن میں موجود نہیں ‏ہے۔ 

اس سے کیا معلوم ہو تا ہے؟ نبی کریم ؐ کے زمانے میں پڑھی جانے والی ایک آیت اس کے بعد بدل دیا گیا، اس کا یہی معنی ہوتا ہے۔ 

اگر قرآن میں کسی آیت کو بدلنا ہو تو نبی کریم ؐ کے ذریعے ہی اللہ بدلے گا۔ ان کی وفات کے بعد کسی آیت کو بدل نہیں سکتے۔ 

اب جو قرآن پڑھی جارہی ہے ،کسی بھی قرآن کے نسخہ میں اورمیوزیم میں حفاظت سے رکھی ہوئی عثمانؓ کے قدیم قرآنی نسخہ میں بھی ایسی کوئی آیت ‏نہیں ہے۔ 

اللہ اس 15:9 آیت میں فرمایا ہے کہ ہم ہی اس نصیحت کو اتارا، اور ہم ہی اس کی حفاظت کر یں گے۔ 

جب اللہ نے خود فرمادیا کہ قرآن کے حفاظت کی ہم ذمہ دار ہیں، تو قرآن کو حفاظت نہیں کیا گیا کہنے والی یہ حدیث ایک جھوٹی کہانی ہی ہو سکتی ہے۔ ‏اگر اس خبر کو مانیں توایسا ماننا ہو جائے گا کہ قرآن کی حفاظت نہیں کی گئی ہے۔ 

اس لئے یہ حدیث مسلم میں درج ہو نے کے باوجود یہ معنی دیتا ہے کہ نبی کریم ؐ وفات پاتے وقت قرآن مجید میں رہنے والی ایک آیت کو بعد میں کسی ‏نے تبدیل کردیا ، اس لئے یہ تراشیدہ جھوٹی کہانی ہی ہوسکتی ہے۔

حدیث کو پہچاننے کا یہی صحیح طریقہ ہے۔ 

اس کو اور زیادہ تفصیل سے جاننے کے لئے اس حدیث کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔ 

ابوہریرہؓ نے فرمایا: 

سلیمان نبی نے کہا کہ میں آج کی رات سو بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ان عورتوں میں ہر ایک اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والے ایک بچے کو جنم دے ‏گی۔ اس وقت ان کے پاس ایک فرشتے نے کہا کہ انشاء اللہ یعنی اگر اللہ چاہے تو ملا کر بولو۔ لیکن سلیمان نبی نے انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ اسی طرح ‏سلیمان نبی نے اپنی بیویوں کے پاس گئے۔ ان میں سے ایک بیوی کے سوا دوسری کسی نے بچے کو جنم نہیں دیا۔ اس بیوی نے بھی ایک آدھے آدمی ‏ہی کو جنا۔ 

بخاری: 5242

ایک ہی رات میں سو بیویوں سے ملنے کی طاقت ہو سکتی ہے؟ یہ الگ بات ہے۔ 

یہاں صرف ایمان پر اثر کر نے والی بات کو دیکھیں گے۔ 

اگر یہ سچ ہو تو سلیمان نبی نے ایسی پوشیدہ باتیں کہی ہیں جو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ یہی معانی اس میں موجود ہے۔ 

ایک رات میں وہ مجامعت کر نے والی سو بیویاں بھی حمل سے ہوں گے،

سو بچوں کو جنم دینگے، 

وہ سو بچے بھی لڑکے ہی ہوں گے، 

وہ سو بچے بھی اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے،

اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے تو انہیں جوانی کی عمر تک موت نہیں آئے گی، 

وہ تمام نیک اور صالح ہوں گے، 

اور وہ بہادر بھی ہوں گے،

اس طرح کئی پوشیدہ باتیں کہی گئی ہیں۔ 

اتنی پوشیدہ باتیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ ایسی باتوں کوجو صرف اللہ ہی جان سکتا ہے، معمولی ایمان رکھنے والا شخص بھی کہنے کے لئے ڈرے ‏گا۔ 

آج میں اپنی بیوی سے ملنے جارہاہوں ، وہ ایک لڑکے کو جنم دے گی، وہ لڑکاجوانی کو پہنچ کرنیک اور صالح بنے گا، کیا ایسا ایک مسلمان کہہ سکتا ہے؟ ہر ‏گز ایسا نہیں کہناچاہئے۔ اس کو ہر مسلمان جانتا ہے۔ 

کیا اس معمولی حقیقت کو بھی سلیمان نبی نہ جانتے ہونگے؟ ایمان کو متاثر کر نے والی ایسی بات وہ ہر گز نہیں کہے ہوں گے۔ 

اس وقت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ وہی بارش برساتا ہے، اور جو کچھ رحم میں ہے وہ جانتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ کوئی جاندار یہ ‏نہیں جانتا وہ کہاں مرے گا۔ اللہ جاننے والا باخبر ہے۔ 

قرآن مجید: 31:34

اللہ کے رسول نے فرمایا:

غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کل کیا ہوگا، اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔رحم میں کیا ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں ‏جانتا۔ بارش کب ہوگی، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کوئی بھی جان یہ نہیں جانتی کہ وہ کہاں مرے گی۔اور قیامت کا دن کب آئے گا، یہ بھی اللہ ‏کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 

راوی: ابن عمرؓ  

بخاری: 4697

رحم میں جو ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی جان نہیں سکتا،یہ اسلام کا اعتقاد ہے۔ کیا اس کے خلاف کوئی نبی کہہ سکتا ہے؟

اس خبر کو سلیمان نبی کے نام سے کہنے کے باوجود اس کو سلیمان نبی نہیں کہے ہوں گے، یہی سچے مسلم کا عقیدہ ہو نا چاہئے۔

ایسے بھی ہم سمجھ نہیں سکتے کہ وہ اللہ کے رسول ہو نے کی وجہ سے اللہ نے ان کو سکھلایا ہوگا۔ اگر اللہ نے ان کو سکھلایا ہو گا تو ان کے کہنے کے ‏مطابق سو بیویوں نے بھی ایک ایک لڑکے کو جنم دینا چاہئے تھا۔ لیکن حدیث کہتی ہے کہ ویسا نہیں ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے فرمان کے ‏مطابق انہوں نے نہیں کہا تھا۔ 

اللہ نے ایسا کچھ نہیں کہا تو وہ اس طرح نہیں کہے ہوں گے۔ نبی کریم ؐ نے بھی نہیں کہا ہو گا کہ انہوں نے ایسا کہا۔اس لئے ہمیں یہی فیصلہ کر نا چاہئے ‏کہ یہ بالکل جھوٹی کہا نی ہے۔ 

ایک اور حدیث دیکھئے!

ابوہریرہؓ نے کہا:

روح قبض کر نے والے فرشتے کوموسیٰؑ کے پاس بھیجا گیا۔ موسیٰؑ نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ فرشتے نے فوراً اللہ کے پاس جا کر شکایت کی کہ تو ‏نے مجھے ایک ایسے انسان کے پاس بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ نے کہا: تم ان کے پاس جاکر کہو کہ وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کے پیٹھ پر رکھے۔اور کہو ‏کہ ان کے ہاتھ میں جتنے بال آتے ہیں اس ایک ایک بال کے بدلے ایک سال کی عمر انہیں بڑھا دی جائے گی۔ (جب فرشتے نے اس بات کو موسیٰؑ ‏سے کہا تو) موسیٰ نے اللہ سے پوچھا کہ اے پروردگار! اس کے بعد کیا ہوگا؟ اللہ نے کہا مرناہی ہوگا۔ موسیٰؑ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتو مجھے ابھی موت ‏دیدے۔ اس طرح کہنے کے بعد انہوں نے اللہ سے گذارش کی کہ (بیت المقدس کے) مقدس زمین کے قریب ہی ان کی قبر رہے۔ 

بخاری: 3407

روح قبض کر نے والے فرشتے اپنا فرض ادا کر نے کے لئے آئے ہیں تو کیا موسیٰ نبی ان کو تھپڑ مار ے ہوں گے؟ 

روح قبض کر نے والے فرشتے کواللہ ہی نے بھیجا ہوگا، کیا یہ موسیٰ نبی کو معلوم نہ تھا؟ وہ ایک فرشتے ہیں ، انہیں اللہ ہی نے بھیجا ہے، یہ معلوم ہو نے ‏کے باوجود موسیٰ نبی نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا، اس طرح نبی کریمؐ نے بھی نہیں کہا ہوگا۔ 

یہ بات اچھی طرح واضح ہو تا ہے کہ یہ اللہ کے خلاف جنگ ہے۔ 

اگر موسیٰ نبی مرنا نہیں چاہتے اور چند سال جینے کی تمنا تھی تو وہ فرشتے سے کہتے کہ جاؤ، اللہ سے پوچھ کر آؤ کہ کیا مجھے اور چند دن کی مہلت دے سکتے ‏ہو تو یہ تھوڑامناسب لگتا ہے۔ اس کے بجائے چہرے پر تھپڑ مارکر بھگادیا کہنا کیسے مان سکتے ہیں؟ 

فرشتے کی غیر معمولی طاقت کے سامنے موسیٰ نبی کی طاقت کچھ معنی نہیں رکھتی۔ اس لئے ہمیں غور کر نا چاہئے کہ وہ کیسے تھپڑ مارے ہوں گے؟

اگر موسیٰ نبی تھپڑ بھی ماریں ہوں تو اپنے فرض کو انجام دینے والے فرشتے کیا ناکام لوٹے ہوں گے؟ 

اللہ ان 6:61، 16:50، 21:27، 66:6 آیتوں میں کہاہے کہ فرشتے اپنے پروردگار کے احکام کوپوری طرح انجام دینے والے ہیں اور اس ‏میں کسی طرح کی کمی نہیں کر نے والے اور اللہ کے کسی احکام سے تجاؤز نہیں کر نے والے ہیں۔

ایسی صفت رکھنے والے فرشتے وہی کام کریں گے جو اللہ نے انہیں حکم کیا ہے، اس کے بجائے مار کھا کر واپس نہیں لوٹیں گے، ایسی معمولی سی سمجھ ‏رکھنے والے بھی اس کو نہیں مانیں گے۔ 

اللہ کے حکم کو قبول کر لینا ایک مومن کا فرض ہے۔ اللہ کے فیصلے کو انکار کر تے ہوئے اس کو لانے والے پیامبر کو بھی مارنا رسول کا اخلاق نہیں ہو ‏سکتا۔ ایسا عمل اللہ کے انکار کی طرف لے جائیگی۔

اللہ کے انتظام میں غیر مطمئن ہو کر ناراض ہو نے والے یونس نبی کے واقع کو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

مچھلی والے (یونس) نے برہم ہو کر چلا گیا۔ اور سمجھا کہ اس پر ہم گرفت نہیں کریں گے۔ پھر اس نے اندھیروں میں سے پکارا کہ تیرے سوا کوئی ‏معبود نہیں، تو پاک ہے۔ میں ظلم کر نے والوں میں سے ہوگیا۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی۔ اور اس کو غم سے نجات دی۔ اور اسی طرح ہم ایمان ‏والوں کو نجات دیتے ہیں۔

قرآن : 21:87,88

پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کرواور مچھلی والے کی طرح نہ بن جاؤ۔اس نے غم سے بھرا ہوا (اپنے رب کو) پکارا۔ اگر اس کے رب کی مہربانی نہ ‏شامل ہوتی تو وہ مذموم ہو کر کھلے میدان میں پھینک دیا

گیا ہوتا۔ پھر بھی اس کے رب نے اس کو برگزیدہ کیا، اس کو نیکوکار بنایا۔ 

قرآن: 68:48-50

اللہ نے یونس نبی کی واقعات کو سنانے کے بعد تنبیہ کر تا ہے کہ اے محمد! تم مچھلی کے پیٹ میں رہنے والے کی طرح نہ بن جانا۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اپنی شان کے خلاف کوئی بھی عمل کرے ،اللہ اس کو رسمی طور پر نہیں اٹھاتا۔ 

اللہ کی عظمت کے خلاف جنگ کے انداز سے قرار پائی ہوئی اس خبر کی طرفداری میں بعض لوگ کوشش کر تے ہیں۔ 

وہ لوگ اس طرح بھی بکواس کر تے ہیں کہ اللہ نے اس فرشتے کو اس طرح بھی کہہ کر بھیجا ہو گا کہ تم موسیٰ نبی کے پاس جاؤ، وہ تمہارے چہرے پر ‏تماچہ ماریں گے، وہ لے کر واپس آجاؤ۔ 

اگر ایسا ہوتا تو وہ فوراً اللہ کے پاس جاکر ایسا کہا نہیں ہو گا کہ تو نے مجھے مرنا نہ چاہنے والے ایک بندے کے پاس بھیج دیا۔اس کے بجائے اس نے یہی ‏کہا ہوگا کہ تم نے جیسا کہا اسی طرح اس نے مجھے تھپڑ ماردیا۔ میں بھی تھپڑ لے کر آگیا۔ 

ایک اور حدیث سنئے۔

سہلہ بنت سہیلؓ نے نبی کریم ؐ کے پاس آکر کہا کہ اے اللہ کے رسول! سالم بن معقل میرے گھر کو جب آئے تو میرے شوہر ابو حذیفہ کے چہرے پر ‏ناگواری کو میں نے دیکھا۔ سالمؓ ابو حذیفہؓ کے غلام تھے۔ نبی کریم ؐ نے اس کے جواب میں کہا کہ تم اس (سالم) کو دودھ پلادو۔ سہلہ بنت سہیلؓ نے ‏پوچھا کہ وہ تو جوان آدمی ہیں، میں انہیں کیسے دودھ پلا سکتی ہوں۔ اللہ کے رسول نے مسکراتے ہوئے کہا وہ جوان آدمی ہیں، اس کو میں بھی جانتا ‏ہوں۔ 

راوی: عائشہؓ 

مسلم: 2858

ایک بچے کو جب ایک عورت دودھ پلاتی ہے تو اس بچے کو وہ عورت ماں کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔اس کے بعد وہ بچہ ترقی پا کر جوان بھی ہوجائے ‏تو وہ اپنے دودھ پلانے والی کے ساتھ تنہائی میں بھی رہ سکتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا قانون ہے ماں کی طرح وہ بھی ماں بن جاتی ہے۔

لیکن اس حدیث میں جو کہا گیا ہے کیا وہ اس قانوں کے اندر آسکتا ہے؟ ہر گز نہیں!آئیے وضاحت سے دیکھیں۔

تین سال کے بچے کو اگر کوئی عورت دودھ پلاتی ہے تو وہ اس بچے کی ماں نہیں بن سکتی۔ اس کو ان دلیلوں سے جان لیں۔ 

اس (شوہر)کے لئے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چ ہے مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلانا چاہئے۔ 

قرآن: 2:233

ہم نے انسانوں کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے اس کو دکھ پر دکھ اٹھا کر پیٹ میں رکھا۔وہ دودھ پینے کی عمر دو سال ‏ہے۔ مجھے اور تمہارے والدین کی شکر ادا کرو۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ 

قرآن: 31:14

اس کو( یعنی انسان کو) اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا۔ اور تکلیف کے ساتھ جنا۔اس کا حمل میں رہنا اور دودھ چھڑانا تیس مہینے ‏ہیں۔ 

قرآن: 46:15

اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا: 

دودھ پلانا دو سال کے اندر ہی ہوں۔ 

راوی: ابن عباسؓ ۔ کتاب: دارقطنی 

ان دلائل سے معلوم ہو تا ہے کہ تین سال کے بچے کو دودھ پلانے سے بھی ایک عورت ماں بن نہیں سکتی۔ 

لیکن سالم کے سلسلے کی حدیث میں کہا گیا ہے کہ بلوغت کو پہنچے ہوئے جوان کو دودھ پلانے سے بیٹے کا رشتہ پیدا ہوجا ئے گا۔

اس لحاظ سے یہ قرآن کے خلاف قرار پائی ہے۔ 

اس کے بعد اللہ نے ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ غیر عورتوں کے معاملے میں نگاہوں کو نیچی رکھے۔ 

عورتوں کے پاس مردوں کے لئے بہت ہی جاذب چیز چھاتی ہے۔ ایسے میں ایک جوان مرد کے منہ میں پستان رکھ کر دودھ پلایا جائے اور اس سے ‏وہ جوان مرد بیٹے کے رشتے میں آجائے گا ، اس طرح نبی کریم ؐ کیسے کہے ہوں گے؟ 

اس کو سنتے وقت ہی کراہت محسوس ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول کی عقل اور تہذیب پر الزام دھرنے کی طرح ہے۔ 

اس پر بھروسہ کرنے کو کہنے والے تو زبان تک ہی کہہ رہے ہیں۔ دل سے وہ اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔ 

اگر کوئی مان لے کہ اس کو نبی کریمؐ ہی نے کہاہے تو کیا وہ فتویٰ دے سکتے ہیں کہ چاہنے والے مسلمان اس طرح کر لیں؟ ہر گز وہ ایساکر نے والے ‏نہیں۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس طرح وہ لوگ بھی اس کو مانتے نہیں اور جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ہم اس کو مان رہے ہیں۔ 

اس سوال سے بچنے کے لئے بعض لوگ عجیب طرح کی تفصیلیں دے رہے ہیں۔ 

؁ؑ یعنی چھاتی میں منہ رکھ کر دودھ پینے کے لئے نہیں کہا، بلکہ وہ دودھ دوہکردئے ہوں گے، یہی اس کی تفصیل ہے۔ 

اس طرح کہنے کے لئے اس حدیث میں یا دوسری کسی روایت میں کہا نہیں گیا ہے۔ 

کم سے کم اس میں تو وہ سچے ہو نا چاہئے تھا، وہ بھی نہیں۔

غیر مردوں کے ساتھ تنہائی میں رہناچاہنے والی ہر عورت چھاتی سے دودھ دوہ کر دینے کے بعدتنہائی میں رہ سکتی ہے ، کوئی بھی مرد کسی بھی عورت ‏کے ساتھ اس طریقے کو اپناکر تنہائی میں رہ سکتے ہیں ، کیا ایسا فتویٰ دے سکتے ہیں؟ ایسا کوئی نہیں دے سکتا۔یعنی اس تفصیل کو وہ خود مانیں گے نہیں ، ‏دوسروں کو ماننے کیلئے کہیں گے۔ 

وہ ایسا فتویٰ نہ بھی دیں ، کیا وہ ایساقانون بنا سکتے ہیں کہ ایک مرد اور عورت تنہائی میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ، اور وہ عورت کہتی ہے کہ میں نے ‏ابھی ابھی اس کو دوھ پلایا ، اس لئے یہ میرا بیٹاہے تو کیا اس کو سزا دئے بغیر چھوڑ دیں؟ 

ان سب سے بچنے کے لئے جانتے ہو انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا؟یہی کہ یہ صرف سالم کے لئے قانون تھا، سب کے لئے نہیں۔ 

کیا اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ یہ صرف سالم کے لئے ہے؟ ہر گزنہیں۔ 

چند مواقع پر چند مخصوص آدمیوں کے لئے عام قانون سے ہٹ کرنبی کریم ؐ نے مستثنا ء دی ہے۔ لیکن وہ فحش اوربے ہودہ بات کے لئے اجازت ‏نہیں دیا گیا۔ 

اگر کوئی کہے کہ صرف ایک شخص کو زناکاری کے لئے نبی کریم ؐ نے اجازت دی تو کوئی مان سکتا ہے؟ صرف ایک شخص کو غیر عورت کی چھاتی کو ‏دیکھنے اور دودھ پینے کی اجازت دینا بھی ایسا ہی ہے۔ الگ قانون بیہودہ چیزوں کے لئے نہیں ہے۔ 

ان جیسوں کے لئے ہی یہ آیت شاید اتاری گئی ہے۔

جب وہ بے حیائی کا کا م کر تے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کر تے ہوئے پایا۔ اللہ ہی نے اس کو ہمیں حکم دیا ہے۔ کہو کہ اللہ ‏کبھی برے کام کا حکم نہیں دیتا۔ جو تم جانتے نہیں ہو کیا اس کو تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو؟ 

قرآن: 7:28

عدل کا، احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا اللہ حکم دیتا ہے۔ بے حیائی سے، برائی سے اور سرکشی سے اللہ تمہیں روکتا ہے۔ تم یاد دہانی حاصل کر ‏نے کے لئے اللہ تم کو نصیحت کر تا ہے۔ 

قرآن : 16:90

ان 2:169، 2:268، 24:21آیتوں میں اللہ فرماتا ہے کہ نفرت انگیز باتوں کو شیطان ہی ترغیب دے گا۔

چنانچہ یہ جھوٹی کہا نی کے سوا اس کو نبی کریم ؐ نے نہیں کہا۔ 

اس کو تفصیل سے ہم اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ جو حدیث کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا ، اسی حدیث کو اہم دلیل بنا کر ثابت کر نے کی کوشش ‏کرتے ہیں کہ جادو کے ذریعے کسی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جب کہ نبی کریم ؐ پر ہی جادو کرکے انہیں دلی مریض بنایا جا سکتا ‏ہے تو دوسروں کو کیوں نہیں کرسکتے۔

لیکن ہم نے اوپر جو انکار کر نے والی جھوٹی حدیثوں کو پیش کی ہے اس سے کہیں زیادہ پیمانے پر اس جادو کی حدیث اسلامی بنیاد ہی کو ہلانے کی کوشش ‏کررہی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہی ہم اس بنیاد کو وضاحت کر رہے ہیں۔

ایسا بھروسہ کر نا کہ جادو کے ذریعے اثر ہو سکتا ہے، اسلام کی کئی بنیادوں کو کیسے مسمار کر تی ہے، اس کو جاننے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نبی ‏کریم ؐ پر جادو کرنے کی حدیثوں میں کیا کیا تفصیلیں درج کی گئی ہیں۔ 

‏’نبی کریم ؐپر جادو کیا گیا ہے‘ کہنے والی چند روایتیں یہ ہیں:

عائشہؓ نے فرمایا:

نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا۔وہ اس انداز سے تھا کہ وہ ایک عمل نہیں کر رہے ہوتے، لیکن انہیںیہی وہم ہوتا رہا کہ اس کام کو انہوں نے کر دیا۔ آخر ایک ‏دن وہ دعا کر تے رہے۔ پھر انہوں نے پوچھا:کیا تم جانتی ہو کہ میری شفا جس میں رہا اس کو اللہ نے مجھے بتا دیا؟ میرے پاس دو شخص آئے، ان میں ‏سے ایک میرے سرہانے بیٹھا، دوسرا میرے پاؤں تلے بیٹھا۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا، ان کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا ‏گیا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ کس نے جادو کیا؟ دوسرے نے جواب دیا کہ لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے۔پہلے نے پوچھا کس چیز میں؟ ‏دوسرے نے کہا: کنگھی ، ان کے بال اور کھجور کے خوشے کے غلاف میں۔ اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟دوسرے نے جواب دیا کہ (بنو سریخ ‏قوم کے باغ میں موجود) دروان نامی کنویں میں ہے۔

‏(وہ اس طرح کہنے کے بعد)نبی کریم ؐ نے اس کنویں کی طرف چلے، پھر واپس آئے۔ واپس آکر مجھ سے کہنے لگے کہ اس کنویں میں موجود کھجور کے ‏درخت شیطانوں کے کھوپڑی جیسے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس کوباہر نکال دیا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، مجھے اللہ نے شفایاب کر دیا۔ ‏مجھے خدشہ ہوا کہ یہ کہیں لوگوں کے درمیان الجھن نہ پیدا کردے۔ پھر اس کنویں کوپاٹ دیا گیا۔ 

بخاری: 3268

اللہ کے رسولؐ اس طرح ہوگئے تھے کہ وہ جو نہیں کیا تھا ، انہیں وہم ہو نے لگا کہ وہ اس کو کررہے تھے۔ 

بخاری کی حدیث 5763 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ کو ایسا وہم ہو نے لگا کہ وہ جو نہیں کئے تھے وہ کر رہے ہیں۔ 

بخاری کی حدیث 5765 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ پر جادو کیا گیا۔اس سے وہ اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کے باوجود انہیں گمان تھا کہ بیوی ‏کے پاس گئے تھے۔

بخاری کی حدیث 5766میں کہا گیا ہے کہ جو وہ نہیں کئے تھے ، ان کو وہم ہو نے لگا کہ وہ اس کو کر رہے ہیں۔ 

بخاری کی حدیث6063 میں کہا گیا ہے کہ ان پر جادو کر دینے کی وجہ سے وہ ایسے ایسے سلوک کر رہے تھے۔ وہ اپنی بیویوں سے ملے بغیر ہی انہیں ‏وہم ہو نے لگا تھا کہ وہ ان سے ملے تھے۔ 

بخاری کی حدیث 6391میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ پر جادو کیا گیا ۔ اس کے بعد انہیں وہم دلایا گیا کہ وہ جو نہیں کئے تھے، اس کو انہوں نے ‏کردیا۔

جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں، ایسے اعتقاد والے اس کو اپنے لئے ایک اہم دلیل پیش کر تے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان حدیثوں میں واضح طور پر ‏کہا گیا ہے کہ جادوسے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ احادیث کہہ رہی ہیں کہ ایک یہودی نے نبی کریم ؐ پر جادو کر نے کی وجہ سے وہ سخت متاثر ہوئے تھے۔ ان حدیثوں میں نبی کریم ؐ کو متاثر کرنے والی ‏جملوں کو ذرا غور سے دیکھئے! 

نبی کریم ؐ پر ایک یہودی نے جادو کیا۔ اس کی وجہ سے انہیں وہم ہو تے رہا کہ جو وہ نہیں کئے تھے، اس کوانہوں نے کیا تھا۔ 

اپنی بیوی سے مجامعت کئے بغیرمجامعت کر نے کا خیال پیداہوتا تھا ۔ اس حد تک اثر پختہ ہو گیاتھا۔

اس میں یہی کہا گیا ہے:

ایک انسان جو نہیں کیا تھا اس کو کردیا کہنا ایک قسم کا دلی مرض ہے۔ مزید یہ کہ بیوی سے ملے بغیر مل گیا کہنا بہت سخت دل کا مرض ہے۔ یہ احادیث ‏کہتی ہیں کہ اس قسم کا دل کا مرض ہی جادو کے ذریعے ان پر کیا گیاتھا۔ 

ہم نے جو پہلے حدیث درج کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ دل کا مرض ہی نہیں جسمانی تکالیف بھی پیدا ہوئی تھی۔اس روایت میں کہا گیا ہے فرشتوں ‏نے گفتگو کی تھی کہ اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ (اصل متن میں تکلیف کہا گیا ہے ، اس کو مترجموں نے بیماری سے تعبیر کیا ہے۔ اس غلطی کو ذہن ‏میں رکھئے!)

اگریہ ایک دن کا مسئلہ ہو تو اس کو دل کا مرض نہیں کہہ سکتے۔ لیکن یہ روایتیں کہتی ہیں کہ ایسا کئی دن چلتا رہا۔ چند مترجم اس رائے کے مطابق ‏ترجمہ نہ کر نے کے باوجود اصل متن میں ’کان‘ کا لفظ موجود ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اسی حال میں وہ کئی عرصہ رہے۔

یہ حال کتنے عرصہ تک رہا ، یہ احمد کی حدیث واضح کرتی ہے:

نبی کریم ؐ کی یہ حالت چھ ماہ تک مستقل رہا۔

احمد: 23211 

وہ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں، یہ حدیثیں کہتی ہیں کہ نبی کریمؐ نے جو کام نہیں کیا اس کو ایسا سمجھنا کہ کردیا،یہ حالت چھ ماہ تک انہیں متاثر کر تا رہا۔ اس ‏لئے جادو سے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ 

اسلامی بنیاد کو جھٹلاتے ہوئے وہ ان حدیثوں کواپنانے کی وجہ ہی سے وہ لوگ اس طرح حجت کر رہے ہیں۔ اسلامی بنیادی عقیدے کی حد سے نہ ‏بڑھتے ہوئے اگرغور کر تے تو وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچتے کہ یہ حدیث تراشیدہ جھوٹ ہے۔ 

کیونکہ جب اعتبار کیا جائے کہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں تواللہ کے ساتھ شرک ٹہرانے کے جرم میں ملوث ہو نے کی نوبت آسکتی ہے۔ 

اس سے قرآن مجید کی کئی آیتوں کو ٹھکرانے کی نوبت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ 

اگر یہ اعتبار کیا جائے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا ہے ، قرآن کی حفاظت سوالیہ نشان بن جا تا ہے۔ 

نبی کریم ؐ کی رسالت شک کے دائرے میں آجا تا ہے۔ 

ہم نے شروعات میں اشارہ کیا تھا کہ قرآن مجید کے اختلاف میں چند حدیثیں موجود ہیں۔ ان حدیثوں سے زیادہ یہ حدیث بے حد اعتراض کے قابل ‏ہے۔ 

اس کے متعلق تفصیل سے جان لیں۔ 

اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا

اس پر بھروسہ کرنا کہ جادو سے اثر ہوتا ہے، وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کا جرم ہوگا۔ وہ کیسے، آئیے دیکھیں!

ہم جان رکھے ہیں کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا نہیں چاہئے۔

بعض لو گ سمجھتے ہیں کہ دو معبودوں میں ایک معبود اللہ ہے یا تین معبودوں میں ایک معبود اللہ ہے ، اس طرح ماننا ہی شریک ٹہرانا ہے۔ یہ بھی ‏شریک ٹہرانا ہی ہے، پھر بھی شریک ٹہرانا کا مطلب اس سے بہت وسیع ہے۔ 

اللہ کے کئی صفات ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک صفت بھی اگر کوئی مانے کہ اللہ کے سوا کسی انسان کو ہے تو اس صفت کے معاملے میں ایسا سمجھا جائے ‏گا کہ اس نے اللہ کی طرح کسی انسان کو مان لیا۔ یعنی اللہ کا شریک ٹہرالیا۔ 

اس کو ان 36:78، 42:11، 112:4 آیتوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔

ان آیتوں کا مطلب ہے کہ اللہ جیسا سننے والاکوئی نہیں، اس جیسا دیکھنے والا کوئی نہیں اور اس جیسا کرنے والا کوئی نہیں۔ 

مثال کے طور پر ہمیں بھی سننے کی طاقت ہے اور اللہ کو بھی سننے کی طاقت ہے۔ لیکن کیا ہم ایسا ایمان لا سکتے ہیں کہ ہمارے سننے کی طاقت اللہ کے ‏سننے کی طاقت جیسی ہی ہے؟ اگر ویسا بھروسہ کرو گے تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا ہوجائے گا۔ 

اللہ کے سننے کی طاقت کی کوئی حد نہیں۔ لیکن ہمارے سننے کی طاقت ایک حد کے اندر ہے۔ 

ایک وقت میں ایک شخص کی بات ہی کو ہم سن سکتے ہیں۔ اگر کوشش کریں تو اور بھی ایک دو خبروں کوبڑھ کر سن سکتے ہیں۔ لیکن دنیا میں بسنے ‏والے کروڑوں لوگ بھی ایک وقت میں کوئی استدعا کریں تو اسی وقت اللہ سب کی سن لیتا ہے۔ 

قبروں کی پرستش کر نے والے جنہیں بڑے بزرگ سمجھتے ہیں انہیں پکارتے ہیں۔ یا ولی! ہمیں یہ عطا فرمائیے کہہ کر کئی شہروں سے ایک ہی وقت ‏میں پکارتے ہیں۔ کیا ان سے ان لوگوں کا استدعا پورا ہو سکتا ہے ، یہ سوال ایک طرف رہنے دو، ان لوگوں کا ایمان ہے کہ سب لوگوں کی گزارش کو ‏وہ بزرگ اسی وقت سنتے ہیں، اسی لئے توہ انہیں پکارتے ہیں۔ اس طرح اس کا مطلب نکلتا ہے کہ وہ بزرگ ایک ہی وقت میں سب لوگوں کی پکار کو ‏سننے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے ہیں۔ 

ایک شخص کی پکار کو سننا ہوتو ان کے اور ہمارے درمیان ایک مخصوص فاصلہ ہو نا چاہئے۔ بہت دور میں رہنے و الے کی بات کو ہم سن نہیں سکتے۔ 

ایک شخص کی بات کو اگر ہم سننا ہو تو اس بات کو پھیلانے والی ہوا چاہئے، یا برقی لہریں چاہئے۔ اس بات کی آواز ایک مخصوص انداز میں ہو نا چاہئے۔ ‏اس سے کم ہو تو ہم سن نہیں سکتے۔ لیکن ایسی کمزوریاں اللہ کو نہیں ہے۔ 

اگر کوئی ایسا ایمان رکھے کہ کہیں سے بھی پکارو، کتنے لوگ بھی پکارو، کتنی آہستگی سے بھی پکاروایک شخص سب کچھ سنتا ہے ، تو اس کی سننے والی طاقت ‏اللہ کی طاقت کے برابر سمجھے جانے کی وجہ سے اس کو ہم شریک ٹہرانا کہتے ہیں۔ 

دیکھنے والی صفت کو اٹھالیں۔ ہمیں بھی دیکھنے کی طاقت ہے،اور اللہ کو بھی دیکھنے کی طاقت ہے۔ لیکن جس طرح اللہ کے دیکھنے کی طاقت ہے اسی ‏طرح انسان کی دیکھنے والی طاقت بھی ہے ، اس طرح مانو گے تو وہ بھی شریک ٹہرانا ہی کہلائے گا۔ 

ایک مخصوص فاصلے پر ہو تو ہی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اور روشنی ہو تو ہی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی رکاوٹ نہ ہو تو ہی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک ‏ہی چیز کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ کے دیکھنے کی صفت کو کوئی انتہا نہیں ہے۔ 

اگر ایسا بھروسہ کرے کہ ایک انسان ہے جو کتنے بھی فاصلہ پر ہو اسے دیکھ لیتاہے، کتنی بھی رکاوٹ ہواس سے بھی پار وہ دیکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ‏ہو جائے گا کہ وہ انسان اللہ جیسا ہے۔ 

مکہ والے جواسلام کو اختیار نہ کئے تھے، وہ اللہ کے سوا کئی چھوٹے چھوٹے معبودوں کی پرستش کر رہے تھے۔ لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر قسم کی ‏قدرت اور اختیار اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ اس کے باوجود اللہ نے انہیں مشرک ہی کہا ۔ 

یہ آیتیں 10:31، 23:84-89، 29:61، 29:63، 31:25، 39:38، 43:9، 43:87 بالکل واضح طور پر کہتی ہیں کہ مکہ والے ‏جو اسلام کوقبول نہیں کئے تھے، اللہ ہی پر بھروسہ کئے ہوئے تھے اور اللہ کی قدرت کو سمجھے ہوئے تھے۔

مکہ کے غیر مسلموں کا بھروسہ یہی تھا کہ ان کے چھوٹے معبود اللہ کے پاس ان کی سفارش کر کے انہیں مدد کریں گے ۔ اسی کو یہ 10:18، 39:3 ‏آیتیں وضاحت کرتی ہیں۔

ایک طرف یہ بھروسہ کر تے ہوئے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کی قوت نہیں ہے، دوسری طرف ایسا بھروسہ کر رہے تھے کہ اللہ کے برابر کی ‏قوت ان چھوٹے معبودوں کو ہے۔ 

کہیں سے بھی پکارو، کتنے لوگ بھی پکارو، کسی بھی وقت پکارو، کسی بھی زبان میں پکاروسب کو ایک ہی وقت میں سمجھنے کی قوت انہیں موجود ہے ، ‏یہی ان کا بھروسہ تھا۔ 

صرف اتنا سمجھنا ہی شرک نہیں ہے کہ دوسرے کوپوری کی پوری اللہ کی قدرت حاصل ہے ، بلکہ اللہ کی صفات میں کوئی ایک صفت بھی اللہ ہی کے ‏جیسے کسی کو ہے سمجھنا بھی شرک ہی ہے۔اگر ایسا مانو کہ کوئی ایک صفت بھی اللہ ہی کی طرح دوسروں کوبھی ہے تو وہ شرک ہی ہے، اس کو ذہن میں ‏رکھتے ہوئے آئیے جادو کے بارے میں تحقیق کریں۔ 

دوسروں کودکھ پہنچانا ، یہ صفت اللہ کو بھی ہے اور انسانوں کو بھی ہے۔ 

فرض کرو کہ اللہ ایک شخص کا پاؤں توڑنا چاہتا ہے۔ایک بہت بڑے درانتی کو لے آکر اس آدمی کے پاؤں کو اللہ کاٹے گا نہیں۔ اس آدمی کو چھوئے ‏بغیر ، کسی قسم کی اوزار استعمال کئے بغیر کہے گا کہ ٹوٹ جائے تو وہ ٹوٹ جائے گا۔ 

لیکن ایک انسان دوسرے ایک انسان کا پاؤں اگر ٹوڑنا چاہے تو وہ درانتی یا ڈنڈے کو لے آکر پاؤں پر ضرب لگا کر توڑدیگا۔

اگر ایک انسان کو اللہ دل کا مریض بنانا چاہے تو کہے گا وہ دل کا مریض بن جائے تو وہ دل کامریض بن جا ئے گا۔ لیکن ایک انسان دوسرے ایک ‏انسان کو دل کا مریض بنانا چاہے تو اس کے مناسب کی گولیاں یا دوائیں دے کر یا دماغی توازن کھونے کی طرح سر پر ضرب لگا کر دل کا مریض بنا سکتا ‏ہے۔ 

اس معاملے میں اللہ اور انسان کے درمیان جو فرق ہے وہ واضح ہے۔ 

یہ آیتیں 2:117، 3:47، 3:59، 6:73، 16:40، 19:35، 36:82، 40:68 کہتی ہیں کہ اللہ کسی چیز کو بنانا چاہے تو وہ کہتا ہے کہ ‏ہوجا، تووہ ہو جاتی ہے۔ 

ہو جا کہہ کر بنانے کی طاقت صرف اللہ ہی کو ہے۔ لیکن یہ اعتبار رکھنے والے کہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں، وہ جادوگر کو کس مقام پر رکھے ہوئے ‏ہیں؟

وہ لوگ ایسا بھروسہ نہیں کر تے کہ جادوگر ڈنڈے سے پاؤں توڑے گا۔ وہ ایسا ہی بھروسہ کر تے ہیں کہ اللہ کی طرح ہوجا کہہ کر حکم دے گا تو متاثر ‏ہو جا ئے گا۔ 

وہ بھروسہ کر تے ہیں کہ جادوگر کسی دوے کو استعمال کئے بغیر ہوجا کہہ کر کسی کو بھی پاگل بنا سکتا ہے۔ 

وہ بھروسہ کر تے ہیں کہ ایک انسان دوسرے ایک انسان کو غمگین بنانے یا ضرر پہنچانے دنیا کی کسی طریقے کو استعمال کئے بغیر جادو ئی قوت سے ایک ‏دوسرے کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ 

مثال کے طور پر ایک آدمی دوسرے ایک آدمی کو چھرا گھونپ سکتا ہے، یا دونوں ہی چھرا گھونپ لے سکتے ہیں۔اس سے ایک کو یا دونوں کو تاثیر ہو ‏سکتا ہے۔ 

اس طرح ایک دوسرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

ایک دوسرے کو گالی دیتا ہے یا الزام لگا تا ہے تو جسے یہ گالی دیتا ہے یا الزام لگا تا ہے اس کو غمزدہ کر سکتا ہے۔ 

ایسے طریقوں سے ایک انسان دوسرے ایک انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی الگ سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کسی کے مقابلے میں ‏کوئی بھی کر سکتا ہے۔ 

دنیا میں انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو متاثر کر نے کے لئے اللہ نے جو طریقہ مقرر کیا ہے اس کے علاوہ باقی تمام طریقے اللہ کا اپنا طریقہ ہوگا۔ 

اس طرح بھروسہ کیا جا تا ہے کہ جادو کر نے والے کے پاس گزارش کرے کہ ایک آدمی پر جادو کر نا ہے تو وہ اسے چھوئے بغیر ، اس کے قریب گئے ‏بغیر، اس کو دیکھے بغیر کہیں دور ایک مقام پر رہتے ہوئے بھی وہ متاثر کر سکتا ہے۔ 

جس پر جادو کر نا ہے اس کی قمیص، پسینہ، قدموں کی مٹی، سرکی بال اور پیشاب وغیرہ منگوا کر اس کو پُتلابنا کر ، جادو کئے جانے والے کا نام اس پر لکھ کر ‏اس پُتلے کے پیٹ پر چبھاؤ گے تو اس کے پیٹ کو وہ متاثر کر ے گا۔ اس پتلے کی آنکھ کو چبھاؤگے تو اس کی آنکھ متاثر ہوگی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی جادو ‏ہے۔ ان لوگوں کا بھروسہ ہے کہ صرف جسم ہی کو نہیں بلکہ دل پر بھی اثر کیا جا سکتا ہے۔ 

ایک شخص کو متاثر کر نے کے لئے اللہ نے جس طریقے کا انتظام کیا ہے اس میں سے کسی کو جادوگر استعمال نہیں کرے گا۔ 

لوگوں کا بھروسہ ہے کہ شوہر بیوی کو جدا کر نے کے لئے پیسہ دوگے تو بس جادوگر اس کو لے کر کہیں دور بیٹھے بیٹھے بھی شوہر بیوی کو جدا کر سکتا ‏ہے۔ 

ایسا بھروسہ کر نے والے کہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں ، وہ جادوگر کوبھی اللہ کی طرح قدرت رکھنے والاہی مانتے ہیں۔ 

اس لئے لبید نامی یہودی اپنی جادوئی طاقت سے نبی کریم ؐ پر جادو کیا سمجھنا ، اس بات کو ثابت کر نا ہے کہ اس کو بھی اللہ کی صفت ہے۔ چنانچہ اس میں ‏کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ؐ کو جادو کے ذریعے متاثر کیا گیا کہنے والی حدیثیں بالکل جھوٹی ہیں۔ 

اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والی قسم کا یہ عقیدہ رہنے کے باوجود اپنی اعتماد کو ثابت کر نے کے لئے وہ لوگ چند دلیلیں پیش کرتے ہیں،چند احتجاج ‏بھی رکھتے ہیں۔ اس پر ذرانظر کریں۔ 

جادوگر اپنی خود کی طاقت سے ایسا نہیں کرتا۔اللہ نے اس کو وہ طاقت دے رکھی ہے، اس لئے وہ کر تا ہے۔ یہ کیسے شریک ٹہرانا ہوسکتا ہے؟ یہ ان ‏کی پہلی دلیل ہے۔ 

اس دلیل کو دیکھنے کے بعد ایسا معلوم ہو تا ہے کی یہ لوگ وحدانیت کا پہلا قاعدہ بھی نہیں پڑھا۔ 

اللہ نے انسانوں کوبہت سی قوت دینے کے باوجود کسی کو اپنی جیسی طاقت عطا نہیں کی ہے۔ اللہ جو کہتا ہے کہ میرے برابر کوئی نہیں،اسی میںیہ بات ‏مضمر ہے۔

اس بات کو قرآن کی یہ آیتیں 17:111، 25:2 واضح طور پر کہتی ہیں۔

جو خاص اس کی صفت ہے اس کو اللہ کسی کو نہیں دیتا، اس بات کو اللہ نے ایک خوبصورت مثال سے واضح کیا ہے، دیکھئے:

تم میں سے بعض کو بعض کے سوا دولت میں اللہ نے فضیلت دی ہے۔ (دولت سے) فضیلت دئے ہوئے لوگ اپنی دولت کو اپنے غلاموں کو دے ‏کر انہیں بھی اپنے ہی جیسا نہیں بناتے۔ کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کر تے ہیں؟ (قرآن: 16:7)

اس آیت سے وہ واضح کرتا ہے کہ جو خاص اسی کی صفات ہیں، ان میں سے اللہ کسی کو نہیں دیتا۔

اس بنیاد کو جس نے سمجھ لیا وہ ہر گز نہیں کہے گا کہ اپنی طاقت کو اللہ نے جادوگر کو دیا ہے۔ 

یہ آدمی بچہ عطا کرتا ہے،لیکن وہ خود نہیں دیتا۔بلکہ اللہ نے جو طاقت دی ہے اسی طاقت کے ذریعے وہ کر تا ہے، اگر اس طرح کہدیں تو کیاوہ شریک ‏ٹہرانا نہیں ہوگا ؟ان لوگوں کواس پر غور کر نا چاہئے۔

ایک آدمی سورج کو پوجتا ہے۔ سورج کو اپنی کوئی طاقت نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اس طرح ملالیا جائے کہ اللہ نے سورج کو یہ طاقت عطا کی ‏ہے تو کیا شریک ٹہرانا نہیں ہوگا؟

مکہ والے جو اسلام قبول نہیں کئے تھے وہ بھی اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی بھی اطاعت کر تے تھے۔ 

اس طرح دوسروں کی پرستش کر تے وقت انہیں یہ عقیدہ نہیں تھا کہ یہ سب معبود ہیں اور ان کو ساری طاقت ہے۔ 

اس لئے وہ لوگ بھی یہی حجت کر رہے تھے کہ یہ شریک ٹہرانا نہیں ہے ۔ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ 

اِن لوگوں کا یہ دعویٰ کہ جادوگر بھی اللہ کی عطاکردہ طاقت ہی سے جادو کر تا ہے ، اور اسلام کو قبول نہ کر نے والے مکہ والوں کا دعویٰ ایک ہی جیسا ‏ہے۔ 

یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کے بعد وہ شریک ٹہرانا نہیں ہے ، یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہوئے بکواس کر رہے ہیں۔ 

قبر کی پرستش کرنے والے مرے ہوئے لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان بزرگوں کو اللہ سمجھا؟ کیاہم نے کہا کہ انہیں خود ‏سے کرامات دکھانے کی طاقت ہے ؟ ہر گز نہیں! ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ اللہ سے حاصل کر کے ہی کرامات دکھا رہے ہیں۔ یہ کیسے اللہ سے ‏شریک ٹہرانا ہوگا؟ وہ بھی اللہ کے بندے ہی ہیں ، اللہ نہیں۔ اس طرح کہہ کر وہ اپنی شرک کے عقیدے کو انصاف دلانا چاہتے ہیں۔ 

قبرکی پرستش کر نے والے اسی دعوے کو جادوگر کے معاملے میں بھی کہہ کر انصاف دلانا چاہتے ہیں۔ 

ہم نے جب کہا کہ یہ قطعی شرک ہے تووہ کہتے ہیں کہ ہمارے عقیدے اور مکہ والوں کے عقیدے میں بہت فرق ہے۔ 

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے عقیدے اور درگاہ پرستوں کے عقیدے میں بہت فرق ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ دونوں میں بہت فرق رہنے کی وجہ سے ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والے نہیں ہیں۔ 

ہم نے جب ان سے پوچھا کہ وہ فرق کیا ہے تووہ کہتے ہیں ، اللہ نے نہیں کہا کہ اولیاء کو کرامات دکھانے کی طاقت ہے ۔ لیکن اللہ نے اس آیت ‏‏2:102میں فرمادیا کہ جادوگرکو الگ طاقت ہے، یہی وہ فرق ہے۔ 

اللہ نے کہہ دیا کہ جادوگر کو طاقت ہے ، اس لئے ہم اس پر بھروسہ کررہے ہیں،لیکن اللہ نے فرمادیا کہ اولیاء کو کرامات دکھانے کی طاقت نہیں دی ‏گئی ہے، اس پر بھی وہ بھروسہ کر رہے ہیں کہ انہیں کرامت دکھانے کی طاقت ہے۔ ان دونوں باتوں کو کیسے موازنہ کر سکتے ہیں، اسی فرق کووہ دکھا ‏رہے ہیں۔ 

اپنے ہی جیسے طاقت کو اللہ اولیاء کو نہیں دے گا۔ رسولوں کو بھی نہیں دے گا۔جادوگروں کو بھی نہیں دے گا۔ اس عام طور کی بنیاد کے برخلاف ‏ہی ان لوگوں کا دعویٰ قائم ہے۔ 

چند آیتوں میں سطحی طور پر دکھائی دیتی ہیں کہ جادوگروں کو طاقت ہے، اسی طرح سطحی طور پر دیکھا جائے تو ظاہر ہونے والی کئی دلیلیں کہ اولیاء کو ‏کرامت کی طاقت ہے، درگاہ پرستوں کے پاس بھی موجود ہیں۔ 

درگاہ پرست کہتے ہیں کہ اسی کو بنیاد بنا کر اولیاء کو اللہ نے کرامت کی طاقت عطا کی ہے ، اس کی دلیل ہمارے پاس موجود رہنے کی وجہ ہی سے ہم ‏بھروسہ کر تے ہیں۔ 

وہ دلیلیں جادوگر کی طرفداری کے لئے جو وہ پیش کر تے ہیں اس سے زیادہ طاقتور ہیں۔ 

مثال کے طور پر، اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا:

اللہ کہتا ہے: جس نے میرے ولی سے دشمنی کی اس سے میں جنگ کا اعلان کر تا ہوں۔ میری پسندیدہ اعمال میں جسے میں نے فرض کیا تھا اس کے سوا ‏کسی دوسرے کے ذریعے میرا بندہ میری قربت کو حاصل نہیں کرتا۔مگر میرا بندہ نفلی عبادتوں کے ذریعے میری طرف قریب آتا جائے گا۔ آخر میں ‏اس کو پسند کروں گا۔ اس طرح جب میں اس کو پسند کر نے لگوں تو اس کے سننے کا کان، اس کے دیکھنے کی آنکھ ، اس کے پکڑنے کا ہاتھ، اس کے چلنے کا ‏پاؤں بن جاؤں گا۔ وہ جو مانگتا ہے اس کو میں ضرور دوں گا۔ میرے پاس جب وہ پناہ مانگے گا تو میں اس کو پناہ دوں گا۔ ایک مومن کی روح قبض کر ‏تے وقت جس طرح پس و پیش کرتا ہوں ، میرے کسی کام میں توقف نہیں کرتا۔ انسان تو موت سے نفرت کر تا ہے۔ میں بھی (موت کے ذریعے) ‏اس کو تکلیف پہنچانے سے نفرت کرتا ہوں۔ 

راوی: ابو ہریرہ

بخاری: 6502

اسی کو دلیل بنا کرقبر پرست کہتے ہیں کہ اولیاء کو اختیار اور کرامت کی طاقت اللہ نے عطا فرمائی ہے۔

درگاہ پرستوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ اولیاء کے ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے، اولیاء کا پاؤں اللہ کا پاؤں ہے، اس لئے وہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ‏ہیں۔ 

جو کہا گیا ہے کہ جادوگر کوطاقت ہے ، اس سے زیادہ زور ان کی دلیل میں موجود ہے۔ 

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ نے خود کہہ دیا کہ اولیاء کو اللہ نے بے حساب طاقت دی ہے، اسی لئے ہم اس پر بھروسہ کر تے ہیں ۔ کیا اس کو جادو پر ‏بھروسہ کر نے والے مان لینگے؟

اس حدیث کو سطحی طور پر دیکھنے سے ایسا معلوم ہو تا ہے۔ مگر پورے قرآن کو دیکھنے لگیں تو اس کی مناسبت سے ہی توحید کے عقیدے کی تفصیل ہی ‏اس کو دینا چاہئے۔ 

درگاہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ آدم کو سجدہ کر نے اللہ نے حکم دینے کی وجہ سے بزرگوں کے پیروں میں گر سکتے ہیں۔ان کے اس دعوے کو سچا ‏ثابت کر نے کے لئے وہ لوگ ان 2:34، 17:61، 7:11، 18:50، 20:116 آیتوں کو دلیل بناتے ہیں۔ہم ان آیتوں کواس طرح ‏سمجھنا چاہئے کہ وہ قرآن کے تعلیم کے خلاف جانے نہ پائے۔اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 11میں سمجھایا ہے۔ 

قبر پرستوں کا دعویٰ ہے کہ نبی کریم ؐ کو غیب کا علم ہے ، اس کے لئے دلیل وہ ان72:26,27، 81:24 آیتوں کو پیش کر تے ہیں۔ قرآن کی ‏تعلیمات کے خلاف ان آیتوں کو سمجھنا نہیں چاہئے، اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 104 میں واضح کی ہے۔ 

جادوگروں کوکوئی طاقت نہیں، یہ ثابت کر نے والی کئی آیتوں کو چھوڑ کر اس کے برخلاف اس آیت 2:102 کو ان کی وضاحت میں اور قبر ‏پرستوں کے دعوے میں ذرہ بھر فرق نہیں۔

کیا یہ آیت 2:102 جادوگر کی تائید میں ہے ، اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 495میں واضح کی ہے۔ 

درگاہوں کو جانے والے بھی مرے ہوئے انسانوں کو اچھے آدمی سمجھ کر کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو کرامت دکھانے کی طاقت عطا کی ہے۔لیکن ایسا ‏سمجھنے والے کہ جادوگروں کو طاقت ہے ، کہتے ہیں کہ اللہ کے انکار کر نے والوں کو اللہ نے یہ طاقت عطا کی ہے۔ یہ تو درگاہ پرستوں کے عقیدے ‏سے بھی زیادہ گمراہ کن عقیدہ ہے۔ 

اس لئے ان لوگوں کے بے معنی دعوے یہ بات ثابت کر نے کے لئے ذرہ بھر مدد نہیں دے گا کہ جادو پر بھروسہ کر نا شریک ٹہرانا نہیں ہے۔

جب ہم کہتے ہیں اس طرح بھروسہ کرنا کہ جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں ، شریک ٹہرانا ہی ہے، تو اس کے انکار میں وہ ایک اور دعوے کوپیش کر ‏تے ہیں۔ 

وہ لوگ ایک ایسی تشریح کر تے ہیں کہ جادوگر خود اس کو نہیں کرتا۔ وہ جنوں کو قبضہ میں رکھ کرکرتا ہے۔ کسی بھی ذریعہ کو استعمال نہیں کر تا ، بلکہ ‏جنوں کوترغیب دلا کر جادو کر تا ہے۔ جنات جو متاثر کرتے ہیں وہ ہماری آنکھوں کو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے لوگوں کو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کی ‏طرح جادوگر نے عمل کیا۔ 

جنوں کو ہم قبضہ نہیں کر سکتے، اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 183 میں واضح کی ہے۔ 

اس دعوے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہوئے جھوٹ بول رہے ہیں۔ 

جادوگر کو طاقت ہے، اس کے لئے انہوں نے کیا دلیل پیش کی؟ 

ٓ ؁ ایک یہودی نے نبی کریم ؐ پرجادو کر کے انہیں متاثر کیا، اس خبر ہی کو انہوں نے دلیل پیش کیا ہے۔ 

یہ کہنے والی حدیث میں کہ نبی کریم ؐ کو جادو کیا گیا ، کیاکہا گیا ہے؟

کنگھی، سر کا بال، کھجور کے خوشے وغیرہ میں لبید نامی یہودی نے جادو کر کے دروان نامی کنویں میں دفن کر دیا تھا، اس کنویں کے پانی کو آبیاری کر ‏کے ان چیزوں کو باہر نکالنے کے بعد ہی کہا جا تا ہے کی نبی کریم ؐ صحتیاب ہوئے۔ 

اگر اس حدیث میں ایسا ہو تا کہ یہودی نے جنات کو اکسا کر وہ جنات نبی کریم ؐ پر حملہ کر نے کی وجہ ہی سے آپ دل کے مرض میں مبتلاہوئے تو اس ‏وقت ہی وہ اس طرح حجت کر سکتے ہیں۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ایک ایسی وجہ جس پر انہیں لوگوں کوبھروسہ نہیں ہے، اس کو نئے طریقے سے قیاس کر کے بتاتے ہیں۔

اگر کوئی نام کا مسلمان جادو کر تا تو وہ جنات کو جاننے کی وجہ سے جنوں کو قبضہ میں لے کر جادو کیاکہنا کچھ نہ کچھ مناسب ہوتا۔ 

ہندو، عیسائی اور بدھ مذہب کے علاوہ اور بھی کئی مذاہب والے کہتے ہیں کہ وہ جادو کرتے ہیں۔اسلام میں رہتے ہوئے بھی جادو کی حمایت کر نے ‏والے اس کو مان لیتے ہیں۔ جو جنوں کو نہیں جانتے وہ کس طرح جنوں کے ذریعے جادو کر سکتے ہیں؟ ان کے لئے تویہ دعویٰ موزوں نہیں ہوگا۔ 

کیا وہ ایسا کہنے والے ہیں کہ مسلم سماج میں رہنے والاکوئی شخص جو جادو کرتا ہے اسی کو ہم مانیں گے۔ جو جنوں کو مانتے نہیں ان غیر مذہبوں کو جنات پر ‏بھروسہ نہ ہو نے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں جادو نہیں ہو سکتا، یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ 

اگر وہ ایسا کہیں تو یہودی نے جادو کیا کے حدیث کو وہ خود انکار کر نے والے ہو جائیں گے۔ 

ا س سے بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ لوگ کتنے جھوٹے ہیں۔ 

جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنات کو اپنے قبضہ میں لے کر انہیں ترغیب دلا کر اس کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں ، اس طرح کہنے والی قرآنی آیتوں کو یا ‏قابل قبول حدیثوں کو بتاتے نہیں۔ 

جادوگر انسانوں کی طرح عمل نہیں کر تا بلکہ اللہ کی طرح عمل کرتا ہے، اس رائے کی وجہ سے ایسا بھروسہ کر ناکہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں ، ہم کہتے ‏ہیں کہ یہ شریک ٹہرانا ہے۔ جادو پر اعتماد رکھنے والے اس کے انکار میں اور بھی چند دلیلیں پیش کر تے ہیں۔

انبیاء معجزات دکھائے ہیں، اس کو تم بھی مانتے ہو اور ہم بھی مانتے ہیں۔ انبیاء کا کوئی معجزہ ا نسان کے عمل کی طرح نہیں تھا۔ اللہ کے عمل کی طرح ہی ‏تھا۔نبیوں کے معجزوں کو جب مانا جا تا ہے، تو اس میں بھی اللہ ہی کی طرح عمل ہونے کی وجہ سے کیا تم کہوگے کہ وہ معجزے بھی شریک ٹہرانا ‏ہوگا؟یہی ان کی حجت ہے۔ 

یہ احمقانہ حجت ہے۔ 

نبیوں کا معجزہ انسان کے عمل کی طرح نہیں تھا، یہ سچ ہے۔کوئی بھی انسان اس طرح نہیں کرسکتا، وہ بھی سچ ہے۔ لیکن نبیوں کے معجزے حقیقت ‏میں ان کا کیا ہوا نہیں ہے۔ 

انبیاء انسان ہی تھے، انہیں اللہ نے رسول منتخب کر لیا۔ لوگ انہیں ماننے کے لئے اللہ نے سند کے طور پر چند معجزات ان کے ہی ذریعے کر دکھایا۔اس ‏کو اور انبیاء کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

اللہ کی اجازت ہی سے کسی بھی معجزے کو ہم دکھا سکتے ہیں ، اس بات کو نبیوں ہی کے ذریعے اللہ نے لوگوں کو سنایا۔ اس کو کئی آیتوں میں اللہ نے ‏واضح کیا بھی ہے۔ 

انبیاء جب معجزہ دکھانا چاہیں ، یا لوگ ان سے جب بھی معجزہ دیکھنا چاہیں ، اس وقت انبیاء معجزہ دکھا نہیں سکتے۔ اللہ جب اجازت دے تو اسی وقت وہ ‏معجزہ دکھا سکتے ہیں۔ معجزہ دکھانے کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے۔ 

یہ آیتیں 13:38، 14:11، 17:90-93، 40:78 واضح طور پر کہتی ہیں کہ اللہ کی اجازت کے بغیر انبیاء کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتے۔ 

معجزہ دکھانے والا صرف اللہ ہی ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے ایک اور زاویہ سے بھی ہمیں سوچنا چاہئے۔ 

ہر انبیاء لوگوں سے کیا کہا؟انہوں نے یہی کہا کہ ہم تمہاری ہی طرح انسان ہیں۔اللہ کی طرف سے حکم آنے پر ہی اللہ ہمارے ذریعے اپنی چاہت کے ‏مطابق معجزہ ظاہر کرے گا۔ اس میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ 

لیکن جادوگر وں کو پیسہ دو تو وہ کسی بھی وقت، کسی پر بھی جادو کر نے کے لئے تیار ہو جائیں گے، یہ جادو پر بھروسہ کر نے والے کہیں گے۔ 

انبیاء خود سے معجزہ نہیں کرتے، اس بات کو ہم نے حاشیہ نمبر 269میں درج کی ہے۔ 

نبیوں کے ذریعے اللہ نے جو معجزات دکھائی ہے ان پر ایمان لانے سے وہ ہرگز شریک ٹہرانا نہیں ہوگا۔ وہ لوگ سمجھ جانا چاہئے کہ جادو سے متاثر کر ‏سکتے ہیں پر بھروسہ کر نا ایسا نہیں ہے۔

اللہ کی طرف سے وحی حاصل کر کے اللہ کی اجازت کے ساتھ کیا جادوگر جادو کرتے ہیں؟ کیایہی جادو پر بھروسہ کر نے والوں کا عقیدہ ہے؟ 

چنانچہ نبیوں کے معجزاؤں کے ساتھ جادو کو موازنہ کرنا کچھ انصاف نہیں ہے۔

موسیٰ نبی کے زمانے میں سامری کے جادو کو پیش کر کے سوال کرتے ہیں کہ اس کا یہ عمل بھی اللہ کے عمل جیسا ہی ہے؟ کیا یہ شرک ٹہرانانہیں ‏ہے؟

یہ کیسے شرک ہو سکتا ہے؟ کیونکہ سامری نے حقیقت میں کوئی معجزہ نہیں کیا۔ 

‏(اس کے بارے میں 19 اور269کے حاشیہ میں واضح طور پر تشریح کیا گیا ہے۔)

جادوگروں کے بارے میں جو اعتماد کیا جاتا ہے کہ انہیں بے حساب طاقت ہے، وہ ایسا نہیں ہے۔ 

جادوگر وہ خود تدبیر کر تا ہے۔ 

وہ منصوبہ بندی کے تمام وقت جادو کر تا ہے۔ 

جتنی بار چاہو تو بھی وہ ایسا کر تا ہے۔ 

یہ قطعاً شریک ٹہرانے کے سوا اورکیا ہے؟

دجال کے عمل کو دکھا کر سوال کرتے ہیں کہ کیادجال کا عمل اللہ کے عمل جیسا نہیں ہے؟ کیا اس کو ماننا بھی شریک ٹہرانا ہے؟ 

ہم بھروسہ کر تے ہیں کہ دجال اس کے بعد آئے گا۔وہ آکر کئی عمل کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے گا۔ اس کے عمل میں مرے ہوئے کو ‏زندہ کرنا بھی ایک ہے۔ ایک شخص کو مار کر پھر اس کو زندہ کرکے دکھائے گا۔ 

وہ لوگ سوال کر تے ہیں کہ اگر ہم بھروسہ کرتے ہیں کہ اللہ کی طرح کوئی عمل کر نہیں سکتا تو دجال کے اس عمل کو ہم کیسے مان سکتے ہیں؟ کیاوہ ‏شریک ٹہرانا نہیں ہے؟ 

دجال چند معجزوں کو دکھا کر خود کو اللہ کہہ کر دعویٰ کرے گا، پھر بھی یہ جادوگرکو طاقت ہے ماننے کی طرح نہیں ہے۔

اس سوال کا جواب بھی ہم نے حاشیہ نمبر 269 میں کہا ہے۔

ابلیس اور اس کے جانشین شیاطین انسانی دلوں میں داخل ہو کر برے خیالات پیدا کر نے کی حد تک قوت حاصل کئے ہوئے ہیں۔وہ لوگ سوال کر ‏تے ہیں کہ اگر ایسا ہو تو کیا ابلیس بھی اللہ کی طرح عمل کر نے والا نہیں تھا؟ کیا تم شیطان کی طاقت کا انکار کرتے ہیں؟

اس سوال کا جواب بھی ہم نے حاشیہ نمبر 269 میں کہا ہے۔

قرآن میں شک پیدا کر دے گا

اسلام کا بہت بڑا معجزہ قرآن ہے۔ہر نبی چند معجزے دکھائیں گے۔ان معجزوں کو دیکھ کر لوگ انہیں اللہ کا رسول مانیں گے۔

نبی کریم ؐ ہی آخری نبی ہونے کی وجہ سے ان کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا۔ 

نبی کریم ؐ ہی اللہ کے رسول ہیں، ان کے زمانے کے بعد آنے والے کس طرح مانیں؟ ان کے لئے بھی ایک معجزہ چاہئے؟

اس کے لئے اسلام نے ایک معجزہ پیش کیا ہے، وہ معجزہ ہی قرآن ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ہر رسول معجزوں کے ساتھ بھیجے گئے ۔ مجھے جو معجزہ دیا گیا وہ قرآن کریم ہے۔

بخاری: 4981، 7274

یہ قرآن اللہ ہی کے طرف سے آیا ہوا ہے، اس کو قرآن خود ثابت کرتاہے۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ قرآن اللہ ہی کے طرف سے آیا ہے تو یہ بھی ‏ثابت ہوجا ئے گا کہ اس کے لانے والے اللہ کے رسول ہی ہیں۔

چودہ سو سال پہلے جو انسان نہیں کہہ سکتا وہ باتیں تمام قرآن کہنے سے وہ ثابت ہو تے جارہا ہے۔ 

قرآن مجیدبحفاظت رکھا ہوا ایک معجزہ ہے، اگر اس پر ہم ایمان لائیں تو قرآن میں شک پیدا کر نے والی کسی بھی خبر کوہم دور پھینک سکتے ہیں۔ 

کیونکہ اللہ نے ان آیتوں 2:2 ،10:37، 32:2 میں نشاندہی کی ہے کہ کچھ بھی شک پایانہ جانا ہی قرآن کریم کی خصوصیت ہے۔ 

اسی رائے میں اور بھی کئی آیتیں ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں کئی غیر مسلموں کو شک ہے۔اس لئے ایسا نہیں کہا گیا کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہوگا۔اس میں شک کر نے کے لئے ‏کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس کے خلاف پیدا ہونے والے کسی بھی شک کے لئے اسلام میں جواب ہے، یہی اس کا مطلب ہے۔ 

انسانوں کو نیک راستہ دکھانے کے لئے قرآن کریم کو اللہ نے نازل کیا ، اس لئے وہ ایسا ہونا چاہئے کہ انسان اس پر بھروسہ کریں۔ اس طرح اگر ہوگا تو ‏ہی اس کو کتاب اللہ مان کر سیدھی راہ کی طرف آئیں گے۔اسی لئے اللہ نے دعوے سے کہتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی شک نہیں ہے ۔

نبی کریم ؐ چھ ماہ تک دل کی مریض بن کر ، جووہ نہیں کئے اس کو کیا کہنے کی حد تک متاثر ہو گئے تو ان چھ مہینوں کی مدت میں انہیں جو نازل کیا گیا تھا ، ‏ان آیتوں میں شک پیدا کر سکتے ہیں۔ 

وہ چھ ماہ کونسی ہیں ، اس کے بارے میں جادو پر بھروسہ کر نے والے کے پاس بھی کوئی سند نہیں ہے۔ اس سے یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ مدینے میں ‏نازل ہو نے والی آیتیں تمام کیا ان چھ ماہ میں نازل ہوئی تھیں؟

قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں ہو سکتی ، اس طرح شک پیدا ہو نے کو اللہ معمولی نہیں سمجھے گا ، اسی لئے وہ للکارتاہے کہ اس قرآن کی طرح ایک ‏دوسرابنا لاؤ۔اس کو ان 2:23، 10:38، 11:13، 17:88، 52:33,34 آیتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

محمد خود قیاس آرائی سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس طرح جب دشمنوں نے تبصرہ کیا تو اللہ نے یہ نہیں کہاکہ تم کچھ بھی تبصرہ کر لو ، مسلمان اگر ‏ایمان لائیں توکافی ہے۔ بلکہ ان شکوک کو دور کر نے کے لئے للکارکر ثابت کیا کہ یہ اللہ ہی کاکلام ہے۔ 

اسی طرح قرآن کے خلاف دشمنوں نے ایک اور شک بھی بلند کیا۔لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے محمد کو یہ باتیں معلوم ہونے کا اتفاق ہی نہیں۔ اس لئے ‏باہر سے کوئی آکر انہیں سکھا جا تا ہے۔ اسی کو محمد کتاب اللہ کہتے ہیں۔ اس طرح تبصرہ کہہ کر قرآن مجید میں شک پید اکر دئے۔ 

اللہ نے ایسا نہیں سمجھا کہ غیر مسلموں کو شک پید اہو تو مجھے کیا؟ اس نے اس شک کو دور کر نے کیلئے مناسب جواب دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی جھوٹی کہانی ہے۔ جس کو اس نے لکھوالیا۔ صبح اور شام یہ اس کو پڑھ کر سنایاجاتا ہے۔ 

قرآن: 25:4-5

اے محمد! تم کہو کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھنے، مسلمانوں کو ہدایت اور خوشخبری سنانے اس کو تمہارے رب کی طرف سے روح ‏القدس(جبرئیل) نے حق کے ساتھ اتارا۔ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی اس کو سکھاتا ہے۔جس کے ساتھ یہ منسوب کر تے ہیں ، ‏ان کی زبان عجمی ہے۔ یہ توصاف عربی ہے۔ 

قرآن: 16:102,103

قرآن مجیدکی اعلیٰ زبان عربی کے انداز کو دکھا کراللہ نے ان کے منہ کو بند ہی کردیا کہ عجمی زبان بولنے والا کس طرح اس کو سکھایا ہوگا؟

قرآن میں جو بھی شک پیدا ہو ان تمام چیزوں کو اللہ نے مناسب جواب دی ہے۔ ایسے میں اپنے ہی رسول کو دل کا مریض بنا کر ، جو انہوں نے نہیں ‏کہا اس کو کہنے رکھ کر کیا اسی نے قرآن مجید میں شک پیدا کر سکتا ہے؟

اگر اس پر غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ نبی کریم ؐ پر جادو کر نے والی کہانی بالکل جھوٹی ہے۔ 

قرآن کریم اللہ ہی کے پاس سے نازل ہواہے، اس میں کسی قسم کاشک پیدا نہ ہو نے پائے ، اس کے لئے اللہ نے جتنی اہمیت دی ہے ، ہم اچھی طرح ‏جان سکتے ہیں کہ اسی لئے انہیں لکھنا پڑھنا نہ جان نے والے رکھا۔ 

لکھنا اور پڑھنا انسان کے لئے بہت ضروری ہے، اس کو اللہ نے واضح کردیا۔ 

اللہ کے پاس سے آنے والی پہلی آیت ہی اسی کے بارے میں کہتی ہے۔ 

اسی نے قلم سے سکھایا، انسان جو جانتا نہیں تھا ،وہ سکھایا۔

قرآن: 96:4,5

قسم ہے قلم کی اور جو وہ لکھتے ہیں۔ 

قرآن: 68:1

اللہ کہتا ہے کہ حرفوں کے ذریعے ہی علم بڑھا سکتے ہیں ، سیکھ سکتے ہیں اور سکھا سکتے ہیں، اس کے باوجوداللہ نے نبی کریم کوا س خوش نصیبی سے محروم ‏رکھا۔

نبی کریم ؐ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، اس کو ہم نے دلیلوں کے ساتھ حاشیہ نمبر 312میں وضاحت کی ہے۔

نبی کریم ؐ کو اللہ نے امی کیوں بنایا؟ اس وجہ کو اللہ نے اس آیت میں فرماتا ہے: 

اسی طرح ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی۔ ہم نے جن کو کتاب عطا کی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (جنہیں کتاب نہیں دی گئی) ان میں بھی اس پر ‏ایمان لانے والے موجود ہیں۔ (ہمیں) انکار کر نے والے کے سوا دوسرا کوئی ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے۔ (اے محمد!) اس سے پہلے کسی ‏کتاب کو تم پڑھنے والے نہیں تھے۔(اس کے بعد بھی) اپنی دائیں ہاتھ سے اس کولکھنے والے بھی نہیں ہو۔ اگر ایسا ہو تا تو باطل پرست شبہ میں ‏پڑجاتے۔ بلکہ یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں۔ علم دئے گئے لوگوں کے دلوں میں موجودہے۔ ظالم لوگوں کے سوا دوسرا کوئی ہماری آیتوں کو انکار نہیں ‏کریں گے۔ 

قرآن: 29:47-49

انسانوں کو تعلیم زیادہ قابلیت بناتی ہے، اس کے باوجود اللہ کے رسول مقرر ہو نے والے نبی کریم ؐ کو پڑھائی نہ ہو نا ہی خصوصیت ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ مجھے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ وہ خبر اعلیٰ درجے کی ادبی لحاظ سے ترکیب پائی تھی۔ اس کی معیار ایسی تھی کہ للکار کر کہہ ‏سکتے تھے کہ اس جیسا کوئی بنا نہیں سکتا۔ 

اگر نبی کریمؐ پڑھے لکھے ہو تے تولوگ سمجھتے کہ یہ ان کی علمی لیاقت سے تصنیف پائی ہے۔اس سے نبی کریم ؐ کی قابلیت ثابت ہو سکتی تھی پر یہ ثابت ‏نہیں ہوسکتا تھاکہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔

نبی کریم ؐ عربی زبان کے ماہر کہلانے سے کئی گنا زیادہ یہ قابلیت ہی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ۔

اگروہ لکھنا پڑھنا جانتے ہو تے تو انہیں براہ راست دیکھنے والے یہ قبول نہیں کئے ہوں گے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا پیغام اللہ کا کلام ‏ہے۔ 

‏’’لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے اتنے اعلیٰ اندازسے پیغام سنا رہے ہیں! یہ ہرگزان کی قابلیت سے کہا نہیں ہوگا۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ اللہ ہی کا ‏پیغام ہو سکتا ہے‘‘۔ اس طرح اس زمانے کے لوگ بھروسہ کر نے کے لئے پہلی وجہ نبی کریمؐکا امی رہنا ہی ہے۔ 

نبی کریم ؐ کو لکھنا پڑھنااگر آتا توقرآن مجیدکو اللہ کا کلام ماننا دشوار ہوجاتا، اسی لئے اللہ نے آپ کواس خوش نصیبی سے محروم رکھا۔

اگر ہم یہ مانیں کہ نبی کریم ؐ کو چھ ماہ تک دل کا مرض لاحق رہا، وہ قرآن مجید میں بہت زیادہ شک کا باعث بن جائے گا۔ اس لئے نبی کریم ؐ پر جادو کیا ‏گیاکہنا بالکل جھوٹ ہے۔ ہم جان سکتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹی کہانی ہے۔ 

اسی لئے قرآن مجیدکہتا ہے کہ قرآن میں کوئی اختلاف نہیں (4:82)،کیا تم غور نہیں کروگے (4:82، 17:41، 21:10، 23:68، ‏‏25:73، 38:29، 47:24)، اس میں کوئی غلطی نہیں (41:42)، یہ حفاظت کی ہوئی کتاب ہے (15:9، 18:1، 39:28، ‏‏41:42، 75:17)۔

یہ سب آیتیں کھلم کھلا کہتی ہیں کہ قرآن میں کوئی شبہ پیدا ہونا نہیں چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ اگر چھ ماہ تک دل کے مرض میں مبتلا ہو تے تو باطل لوگ شبہ کرتے اور اسی بنا پر ان چھ مہینوں میں نازل ہو نے والی آیتوں پربھی شبہ کئے ‏ہوں گے۔ 

دل کے مرض کی اثر سے اللہ نے جوکہا نہیں اس کومحمد نے اللہ نے کہا کہہ سکتے تھے؟ اس طرح دشمنوں کو سوال اٹھانے کا موقع اللہ نہیں دے گا۔ 

دل میں درج کر لینے کی طاقت دوسروں سے زیادہ اللہ نے نبی کریم ؐ کو عطا کیا تھا۔

قرآن کریم کی حفاظت کے لئے جو طاقت نبی کریم ؐ کو دی گئی تھی، وہ کسی انسان کو نہیں دی گئی ۔ اس کو اللہ نے ان آیتوں 75:17-19میں فرمایا ‏ہے۔لیکن وہ خبرجوان پر جادو کیا گیا کہنا ان کے دل کو بالکل ہی کمزورتر بنا کر پیش کر تی ہے۔ 

اللہ نے انہیں قوی دل عطا کیا تھا۔ لیکن جادوپر بھروسہ کرنے والی جماعت یہ ثابت کر تی ہے کہ آپ کو کمزور دل تھا۔ 

نبی کریم ؐ کو کبھی دل کا مرض آ نہیں سکتا۔ 

نبی کریم ؐ کو رسول نہ ماننے والے لوگ انہیں پاگل کہا۔ نبی کریمؐ پر جادو کیا گیا ، اس کی وجہ سے ان کی دل کی حالت بگڑگئی کہنے والے بھی اسی کو ‏دوسری لفظوں میں کہا ہے۔ 

ایک ہی خبر کئی ڈھنگوں سے سنایا جانا رائج ہے۔ نبی کریمؐ کو دل کا مرض لاحق ہوا، اس طرح اس خبر میں یہ لفظ براہ راست نہیں کہا گیا ہے۔ اس کے ‏باوجود اس کے سوا اس کو دوسری رائے نہیں ہے۔ 

اس طرح کہنا کہ نبی کریم ؐ نے چھ ماہ تک اس حالت میں رہے کہ جو انہوں نے نہیں کیا ، اس کو انہوں نے کہاکہ میں نے کیا، اور اس طرح کہنا کہ وہ چھ ‏مہینے تک دل کے مریض رہے تو دونوں ایک ہی ہیں۔ لفظوں کی شکل ہی الگ الگ ہیں۔ 

جب لوگوں نے کہا کہ نبی پاگل ہو گئے ہیں تو اللہ غصہ سے کہتا ہے: 

اس لئے (اے محمد!) نصیحت کرو۔ اپنے رب کے فضل سے تم کاہن بھی نہیں ہو اور نہ مجنون۔

قرآن: 52:29

اللہ نے اس آیت میں واضح طور سے کہدیا کہ نبی کواللہ مجنون نہیں بنائے گا۔ 

قسم ہے قلم کی اور وہ جو لکھتے ہیں۔ (اے محمد) تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو۔ تمہیں ختم نہ ہونے والااجر ہے۔ اور تم اعلیٰ اخلاق پر ‏ہو۔ 

قرآن: 68:2-6

کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو صاف تنمبیہ کر نے والے ہیں۔ 

قرآن : 7:184

ان آیتوں کو غور سے دیکھئے! یہ آیتیں کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ کو جنون نہیں ہوگا۔اور یہ بھی کہ اللہ نے ان پر فضل کیا ہے۔ اگر کسی کو شبہ ہو تو ان پر ‏توجہ کر کے ان کی ہر عمل پر غور کر کے دیکھیں۔وہ جان جائیں گے کہ انہیں کوئی دل کا مرض نہیں ہے۔اس طرح کہہ کر ان آیتوں میں اللہ نے ‏للکارا ہے۔ 

ان لوگوں کو سرزنش کر تے ہوئے اللہ کا فرمان دیکھئے!

کہو کہ تم دو دو بن کر یا تنہا تنہا ہی اللہ کے لئے تھوڑا وقت نکال کر تمہارے ساتھی کو(یعنی مجھے) جنون نہیں ہے ، سخت عذاب سے پہلے وہ تمہیں ‏ڈرانے والے کے سوا دوسرا کچھ نہیں ، اس پر تم غور فرمانے کے لئے ہی میں تم کو نصیحت کر تا ہوں۔ 

قرآن: 34:46

اللہ للکار کر کہتا ہے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کر کے وہ دل کا مریض بن گئے کہنے والو! تنہا تنہا آکر یا دو دو آکر محمد نبی کو آزماکر دیکھو! ان کے پاس کسی بھی ‏قسم کا سوال کر کے دیکھو! جو نہیں کیااسکووہ کہتے ہیں کہ میں نے کیا؟ جو کیا وہ اسکوکہتے ہیں کہ میں نے نہیں کیا؟ کیا وہ دل کے مریض کی طرح بات ‏کر تے ہیں؟ یا دانشمند کی طرح بات کر تے ہیں؟ آزماکر دیکھوتو تم جان جاؤگے کہ انہیں کوئی دل کا مرض نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ پر جادو کرنے کی وجہ سے آپ دل کا مریض بن گئے،اس کے لئے صرف یہی ایک آیت کافی دلیل ہے کہ یہ ایک جھوٹی کہانی ہے۔

یہود نے پکا ارادہ کرچکے تھے کہ کسی طرح اسلام کو پسپا کردے۔ چھوٹے چھوٹے موقعوں کو بھی استعمال کر نے کے لئے وہ تیار بیٹھے تھے۔ 

نبی کریم ؐ چھ ماہ تک دل کے مریض بن کر رہے ، اگر وہ دل کا مرض یہودیوں کی جادو کی طاقت سے سرزد ہوا ہوتو اس موقعے کو وہ ہر گز ہاتھ سے ‏جانے نہیں دیتے۔ 

وہ لوگ تنقید کرے ہوں گے کہ دیکھو! تمہارے نبی کو ہم نے کس طرح کردیا؟ اب بھی تم ان کو اللہ کا رسول مانتے ہو؟ 

اس طرح کسی نے نبی کریم ؐ پر تبصرہ نہیں کیا۔ 

اس طرح جب ہم سوال اٹھاتے ہیں تویہ کہنے والے کہ جادو سے متاثر کرسکتے ہیں ، وہ لوگ جوکسی طرح سے نبی کریم ؐ کو دل کا مریض ثابت کر نے ‏کے لئے دل میں ٹھان لی ہے ،اس کے لئے بھی ایک جواب تیار کر رکھے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کوجو دل کا مرض ہوا تھاوہ صرف آپ کی بیویوں ہی کو معلوم تھا۔ لوگوں میں کسی کو معلوم نہ ہو نے سے کوئی تبصرہ پیدا نہیں ہوسکا۔ 

اس جادوگر یہودی جو جادو کے ذریعے دل کا مریض بنایا تھا ، کیا اس کو بھی معلوم نہیں تھا؟

کیا وہ اپنے ساتھیوں سے مل کر شان نہ اڑایا ہوگا؟ 

اتنا بھی نہ جانے ہوئے بے عقل لوگ اس طرح سوال کررہے ہیں۔

عام طور سے سرداروں کو بہت زیادہ حفاظت دیا جانا دنیا کا دستور ہے۔ لوگ آسانی سے ان کے قریب جا نہیں سکتے۔ اس حالت میں اگر انہیں ‏دیوانگی لاحق ہوگئی توکیا اس کو لوگوں کوبتائے بغیر چھپا سکتے ہیں۔

اس طرح نبی کریم ؐ بھی لوگوں سے ملے بغیر کیا دور دور رہا کرتے تھے؟ ہر گز نہیں۔ 

نبی کریم ؐ تو لوگوں سے مل جل کر رہا کرتے تھے۔ ہر روز نماز کے لئے پانچ وقت بھی وہ مسجد کو آیا کرتے تھے۔ کوئی بھی ان سے باّ آسانی مل سکتا تھا۔ ‏منافقین بھی مسجد آکر ان کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔

ایسی صورت میں اس چھ ماہ کی تبدیلی لوگوں تک ضرور پہنچی ہوگی۔ اس لئے نبی کریم ؐ کو اگر دل کا مرض ہوا ہوگا تو وہ لوگوں کو بھی معلوم ہوا ہوگا۔ 

کیا وہ لوگ خوشی منائے نہیں ہوں گے کہ اس سے پہلے ہم نے کسی دلیل کے بغیر کہہ دیا تھاکہ محمد نبی پاگل ہیں، اب توخود ان کی بیوی ہی کہہ دیا ؟ کیا ‏وہ لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکنے کی کوشش نہیں کیا ہوگا؟ اسلام میں داخل ہو نے والوں میں سے چند لوگ تو پھر اپنی پرانی حالت کو پھر ‏کرگئے نہیں ہوں گے؟ 

اس طرح کوئی بھی خبر کسی بھی کتاب میں درج نہیں ہے۔

اس آیت 15:9 میں اللہ نے کہا ہے کہ قرآن کو ہم ہی نے نازل کی، اور ہم ہی حفاظت کریں گے۔ 

اگر قرآن کی حفاظت کر نا ہو تو نبی کر یم ؐ کے دل کی بھی حفاظت کر نا ضروری ہے۔ اگر ان کا دل بگڑ گیا تو خبریں بھی بکھر جانے کا اندیشہ ہے۔اس ‏سے قرآن اللہ کی حفاظت میں ہے، اس بات میں شک پیدا ہو جائے گا۔

قرآن جو ایک عظیم معجزہ ہے اس پر کسی قسم کابھی شک پیدا کرو مجھے کوئی فکر نہیں، اس حالت میں رہنے والے لوگ ہی بھروسہ کر سکتے ہیں کہ نبی ‏کریم ؐ پر جادوکیا گیا اور اس سے انہیں دل کا مرض پید اہوا۔ 

یہودیوں نے نبی کریم ؐ پر جادو کیا اور انہیں دل کے مرض میں مبتلا کردیا ، اس بات کو جاننے والے غیر مسلمان کیا اسلام قبول کریں گے؟ یا نبی کریم ؐ ‏سے زیادہ طاقت رکھنے والے یہودیوں کے پاس جائیں گے؟ 

فرض کرو کہ ایک باپ اپنی جائداد کو اپنے ایک بیٹے کے نام پر لکھ دیتا ہے۔ اس کے دوسر ے بیٹوں نے ایسا دلیل بتا کر کہ ہمارے والد دیوانگی کی ‏حالت میں ویسا ایک وصیت نامہ لکھا ہے ، عدالت میں مقدمہ دائر کیاتو اس پر بھروسہ کر تے ہوئے عدالت یہ فیصلہ سنا دے گا کہ اس ایک بیٹے پر ‏وصیت نامہ لکھا جانا جائز نہیں ہے۔ 

صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہی قانون ہے۔ مسلم ممالک میں بھی یہی قانون ہے۔ 

اگر کوئی دیوانگی کی حالت کو پہنچتا ہے تو اس کا لین دین مستند قرار نہیں دیا جائے گا۔ 

جائداد کے معاملے میں ہم اس کو صحیح طور پر پہچان لیتے ہیں۔ لیکن دینی معاملے میں ہم اپنی عقل کو بھول کر الٹ پلٹ کر سوچنے لگتے ہیں۔ 

کیا کوئی ایسا کہہ سکتا ہے کہ میں قرآن کو بحفاظت بھی سمجھتا ہوں اوریہ بھی سمجھتا ہوں کہ اس کی حفاظت نہیں کی گئی ہے؟

کیا کوئی عقلمند ایساکہہ سکتا ہے کہ مجھے بھروسہ ہے کہ اللہ کی طرح کسی بھی معاملے میں کوئی عمل نہیں کر سکتا، لیکن یہ بھی بھروسہ ہے کہ صرف ‏جادوگر ایسا کر سکتا ہے؟

قرآن پر بہت زیادہ ایمان رکھنے والا اور نبی کریم ؐ کی بے حد احترام کرنے والا کیسے بھروسہ کر سکتا ہے کہ نبی پر جادو کیاگیا ہے؟

اگر یہ سوال ہم اٹھائیں تو یہ اعتقاد رکھنے والے کہ جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں، جھٹ سے یہ سوال کر تے ہیں۔

نبی کریم ؐ کو بھول کی مرض تھی۔کیا غیر مسلم ایسا سوال نہیں اٹھائیں گے کہ اس بھول کی وجہ سے قرآن کی آیتوں کو کیا وہ بھولے نہیں ہوں گے؟اس ‏وجہ سے کیا تم کہوگے کہ نبی کریمؐ کو بھول نہیں ہوئی؟ 

ایک انسان کی دیوانگی کو اور کسی چیز کو بھول جانے کووہ لوگ یکساں سمجھتے ہیں۔ 

بھول جانا یہ ہے کہ جو ہے اس کو بولے بغیر چھوڑ دینا۔ 

دل کا مرض یہ ہے کہ جو نہیں ہے اس کو ہے کہنا۔ 

جادو کا گروہ یہی کہتا ہے کہ ایسا ہی ایک دل کا مرض نبی کریم ؐ کو ہوا تھا۔ جب وحی نہیں آئی تو انہوں نے کہا ہو گاکہ وحی آئی ، کیااس کو بھول کہا جائے ‏گا؟

نبی کریم ؐ پر نازل ہو نے والے آیتوں میں چند آیتوں کو اگر اللہ بھلادے تو اس سے کوئی مضایقہ نہیں۔ 

اس آیت 2:106میں اللہ نے فرمایا ہے کہ کسی آیت کو اگر ہم بدل دیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر ہم نوازیں گے۔ 

یہ آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ نبی کریمؐ اللہ کے ارادے سے اگر کچھ بھول جائیں تو جوکچھ آپ نے لوگوں کے سامنے پیش کیں وہی قرآن ہے۔ 

آپ نے جو لوگوں کو نہیں کہاوہ قرآن نہیں ہے، اس طرح کہنے میں کوئی الجھن نہیں۔ 

دل کا مرض یہ ہے کہ جو اللہ نے نہیں کہا اس کو ایسا کہنا کہ اللہ نے کہا ہے۔یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ دل کے مرض کے ذریعے اللہ نے جو نہیں کہا اس ‏کو نبی کریم ؐ نے کہا ہوگا کہ اللہ نے کہا۔ 

قرآن مجید کی ہر ایک آیت میں یہ شک پیدا ہوسکتا ہے۔

اگر بھول ہوئی کہا جائے تو قرآن کریم جو اب موجود ہے اس میں کسی آیت میں شک پیدا نہیں ہوسکتا۔ 

چنانچہ نبی کو بھول ہوئی کہناقرآن کریم میں شک پیدا نہیں کرے گا۔ نبی کو دل کا مرض ہوا کہنا شک پیدا کر سکتا ہے ، اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا ‏ضروری ہے۔ 

معجزوں کو بے معنی کر نے والی جادوئی عقیدہ

ایک اور وجہ سے بھی یہ ثابت ہو تا ہے کہ نبی کریم ؐ کو جادو نہیں کیا ہوگا۔ 

کسی کو اللہ کا رسول ثابت کر نے کے لئے اللہ نے کس طرح کا انتظام کیا تھا؟

جس کو اللہ کا رسول بنایاگیااس کو انسانوں ہی سے منتخب کیا گیا۔ ہر قسم سے وہ انسان ہی رہے۔ 

ہر قسم سے اپنے ہی جیسے رہنے والا ایک انسان اپنے آپ کواللہ کا رسول دعویٰ کر نے لگتا ہے تو لوگ اس کو قبول نہیں کرسکے۔ 

اس بات کو اللہ نے ان آیتوں میں 17:94، 21:3، 23:33،23:47، 25:7، 26:154، 26:186، 36:15 واضح طور پر فرمایا ‏ہے۔ 

ہر زمانے میں لوگ یہی سمجھنے لگے کہ انسان جسے رسول مقرر کر تا ہے تو وہ بھی انسان ہی ہوگا ، لیکن اللہ کی طرف سے مقرر کئے جانے والے رسول ‏انسان سے بلند ترین مقام پر ہو نا چاہئے۔ 

انسان کی یہ سوچ بھی صحیح تھا۔ جو اللہ کا رسول کہتا ہے اس کو قبول کر نا ہوتو جھوٹے رسولوں کو بھی قبول کر نا پڑ جائے گا۔

دیگر انسانوں سے کسی بھی طریقے سے اللہ کے رسول مختلف ہو ناچاہئے۔ ان لوگوں کی اس خواہش کو ایک انداز سے اللہ بھی قبول کر تا ہے۔ 

اپنا رسول بنا کراللہ نے جنہیں بھی بھیجتا ہے اس کو ثابت کر نے کے لئے ان کے پاس چند معجزے دے کر بھیجتا ہے۔ 

دوسرے انسان جو نہیں کرسکتے ان معجزوں کو جب دیکھتے ہیں تواس پر ایمان لانے کے لئے کہ وہ اللہ کے رسول ہی ہیں ، راست باز نگاہ والوں کو کوئی ‏توقف پیدا نہیں ہوگی۔ 

اسی وجہ سے قرآن کہتا ہے کہ کسی بھی رسول کوجب بھیجا جاتا ہے تو انہیں معجزہ عطا کئے بغیر نہیں بھیجا جا تا ۔ 

اللہ کا رسول ثابت کر نے کے لئے نبیوں کو اللہ نے معجزہ عطا کی ہے اور معجزہ عطا کئے بغیر کوئی رسول بھیجا نہیں گیا ہے۔اس کو ان 3:184، ‏‏7:101 9:70، 10:13، 10:74، 35:25، 40:22، 40:50، 57:25، 64:6آیتوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔ 

اپنے اس معجزوں کے ذریعے ہی اپنی اس رسالت کو ہر نبی ثابت کر نے کی حالت میں بھیجے جاتے ہیں۔ 

ایسی ایک حالت میں نبی کریم ؐ کو یہودیوں نے جادو کرکے آپ ہی کو جادوئی طاقت سے باندھ دئے ہوں تولوگ اس طرح سمجھ جاتے کہ رسول سے ‏زیادہ یہودیوں کا معجزہ بڑا ہے۔ 

اللہ کی طرف سے منتخب کئے جانے والے رسول ہی کو جادو سے باندھ دئے تو اس وقت کیسا نتیجہ سامنے آیا ہوگا؟ 

ان لوگوں میں اکثر سوچے ہوں گے کہ وہ ہمارے جیسے انسان رہنے کے باوجود ان کی دکھائی ہوئی معجزوں کو دیکھ کر انہیں ہم اللہ کا رسول سمجھے ‏تھے۔ آج تو ان کے دشمن خود ان کی دل کی حالت ہی کو متاثر کر دئے۔ ان سے تو یہود طاقتور ہیں!

وہ لوگ کہے ہوں گے کہ آپ کا جومعجزہ تھا وہ جادوگرکے کرتوت سے معمولی تھا، اس لئے وہ رسول نہیں ہوسکتے۔ 

آپ نے جو معجزہ دکھایا تھااس سے یہود کا معجزہ بڑا ہے، وہ تو معجزہ دکھا نے والے ہی کو جادو کے زور سے بیکار کردیا، اس طرح کسی نے تبصرہ کر دیا۔ ‏اس وجہ کو دکھا کر ایک شخص بھی اسلام سے منہ موڑا نہیں۔ 

اس سے واضح ہو تا ہے کہ کسی بھی اوزار کو استعمال کئے بغیر صرف کنگھی اور بال کو لے کر اللہ کے رسول کو ناکام کر دیا کہنابالکل جھوٹی کہانی ہے۔ 

اللہ کے رسولوں کے خلاف اس طرح کی کراماتی طاقت کودشمنوں کو دے کر ایماندار لوگوں کو اللہ ہر گز بے راہ نہیں کرسکتا، اس لئے اس میں کوئی ‏شک نہیں کہ نبی کریم ؐ پرکوئی بھی جادونہیں کر سکتا۔ 

جادو کے عمل کو قرآن انکار کر تا ہے

نبی کریم ؐ اور پہلے زمانے کے رسولوں نے جب کہا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو اس کو انکار کر نیوالے دشمنوں نے کیا وجہ بتائی؟

انہوں نے کہا:

تم کھاتے ہو،

پیتے ہو،

ہمارے جیسے انسان ہو،

تم جیوتش ہو،

باکمال شاعر ہو،

تمہیں کوئی جادو کر دینے کی وجہ سے تم اس طرح بے عقلی کی بات کا رہے ہو۔

ان کے دوسرے تبصروں کو تسلیم کر تے ہوئے اللہ نے نبیوں پر جادو کئے جانے اور انہیں جیوتش اورشاعر کہنے کو سخت الفاظ سے تنبیہ کیا ہے۔

اس کے بارے میں تفصیل سے جان لو۔

ان آیتوں17:94، 21:3، 23:33، 23:47، 25:7، 26:154، 26:186، 36:15 میں اللہ فرماتا ہے کہ لوگوں نے کہا ، ‏ہمارے جیسے انسان کو ہم کیسے اللہ کا رسول مانیں گے؟

لوگوں کے ان سوالوں کو اللہ نے انہیں جواب دیتے ہوئے سرزنش نہیں کی کہ تم ان لوگوں کو انسان کیسے کہہ سکتے ہو؟ بلکہ ان 14:11، ‏‏17:93، 21:78آیتوں کے ذریعے یہی کہا کہ وہ انسان ہی ہیں۔ انسان ہی کو ہم رسول بنا کر بھیجیں گے۔

اس بات پرلوگ یقین کرتے تھے کہ جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں۔نبی کریم ؐ جب جنت اور دوزخ کے بارے میں لوگوں سے کہنے لگے تو وہ ‏بات ان کی عقل میں نہ آنے کی وجہ سے کہنے لگے کہ انہیں جنون ہوگیا ہے۔

جب کہا گیا کہ نبیوں پرجادو کیا گیا اورنبیوں کو دل کا مرض پیدا ہوا تو اللہ نے اسے بہت سختی سے انکار کر تا ہے۔ 

ظالموں نے جب کہا کہ تم لوگ ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل رہے ہو تو (اے محمد!) تم سے جب وہ لوگ سنتے ہیں اور کس لئے سنتے ہیں ، اس کو ‏بھی ہم جانتے ہیں۔

قرآن: 17:47

یا اس کے لئے کوئی خزانہ اتارا جانا تھا؟یا اس کے لئے کوئی باغ ہوتا اس میں سے وہ کھاتا؟ ظالموں نے پوچھا تم لوگ ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر ‏رہے ہو۔ 

قرآن: 25:8

نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا ، اس طرح تبصرہ کر نے والوں کو یہ آیتیں ظالم کہہ کر اعلان کر تی ہیں۔ 

اگر یہ بات ہوتی کہ اللہ کے رسولوں پر جادو کر نا معمولی بات ہے،اوراس سے ان کے رسالت کے کاموں میں کوئی اثر نہیں ہوتاتو اس تبصرہ کو اللہ ‏انکار نہیں کرتا۔ 

اللہ کے رسول کھا تے ہیں، پیتے ہیں ، اس طرح جب تبصرہ کیا گیا تو کھانے پینے سے رسالت کے کاموں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا،اس لئے اللہ نے ‏اس کو انکار نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ تمام رسول تو کھایا ہی کریں گے۔ 

لیکن جب یہ کہا گیا کہ نبی کریم ؐ کو جادوکیا گیا تو اللہ انکار کرتا ہے کہ یہ ظالم لوگ اس طرح کہتے ہیں۔ جادو کر نے سے للہ کے رسول اگر متاثر ہوئے تو ‏وہ رسالت کے کاموں میں اثر انگیز ہوگا۔ اسی لئے اللہ اس کو انکار کرتا ہے۔ 

بعض لوگ کہیں گے کہ یہ آیت نازل ہو تے وقت جادو نہ کیا گیا ہو ، اور ممکن ہے اس کے بعد جادو رکھا گیاہو؟ یہ نا قابل قبول ہے۔ 

اس کے بعد اگرجادو کیا گیا ہوتو وہ بے شک اللہ کو معلوم ہوگا۔ کل کو جادو کرنے کے بارے میں جانتے ہوئے اللہ اس کو انکار کر نے سے کوئی فائدہ نہ ‏ہوگا۔ 

مندرجہ بالا دونوں آیتوں کو اور اس کے بعد آنے والی دونوں آیتوں کو اگر غور کریں تو اس طرح کی فلاسفی وہ نہیں کہیں گے۔ 

‏(اے محمد!) غور کرو کہ وہ تمہارے بارے میں کیسی کیسی

مثالیں دے رہے ہیں؟ پس وہ گم راہ ہوگئے۔ پھر وہ سیدھی راہ پا نہیں سکتے۔ (قرآن : 25:9)

غور کرو کہ کیسی کیسی مثالیں وہ تم پر چسپاں کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ گمراہ ہو گئے۔ وہ سیدھی راہ پا نہیں سکتے۔

قرآن: 17:48

اس طرح تبصرہ کر نے والے کہ نبی کریم ؐ سحر زدہ آدمی ہیں ، اللہ نے انہیں گمراہ کہہ کر اعلان کر تا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ لوگ سیدھی راہ نہیں ‏پائیں گے۔ 

جس پر سحر نہیں کرسکتے انہیں سحر زدہ کہے جانے کی وجہ سے اللہ فرماتا ہے کہ دیکھو، تمہیں وہ کیسے تبصرہ کر تے ہیں۔ 

یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن کی صاف صاف فیصلے کے مطابق نبی کریم ؐ کو یا کسی بھی رسول کو کوئی بھی جادو نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے متاثر کر سکتا ‏ہے۔ 

چنانچہ نبی کریم ؐ پرجادو کر نے کی حدیثیں بے شک جھوٹی کہانیاں ہیں۔ 

جادو کا انکار کر نے والے نبی کریمؐ

نبی کریم ؐ نے واضح طور پر کہاہے کہ جادو پر بھروسہ نہ کرو۔ 

نبی کریم ؐ فرمایا:

تقدیر کا انکار کر نے والا، ہمیشہ شراب پینے والا، جادو کو سچ سمجھ کر اس پر ایمان لانے والا اور (والدین کا) نافرمان وغیرہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔  

راوی: ابو درداء 

احمد: 26212

اگر کوئی جادو پریقین کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا،یہ حدیث واضح طور پر کہتی ہے۔ یہ حدیث اتنی وضاحت سے ترکیب پائی ہے کہ اس کو کسی ‏تشریح کی ضرورت نہیں۔

یہ حدیث دوسری کئی راہوں سے آئی ہیں۔ وہ خبریں تمام ضعیف ہیں۔ 

لیکن مسند احمد میں درج ہو نے والی یہ حدیث بہت ہی سند یافتہ ہے۔ 

جادو پر ایمان کا مطلب کیا ہے ، ہمیں سمجھ لینا چاہئے۔جادو کے نام سے ایک فریب کاری ہے ، اس کو ہم بھی مانتے ہیں۔ اس کے بارے میں یہ ‏حدیث نہیں کہتی۔کہ بلکہ جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں، اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

اسی انداز سے ایک اور حدیث کے ذریعے اس کے مطلب کو ہم جان سکتے ہیں۔ 

زید بن خالد الذہنیؓ کہتے ہیں:

اللہ کے رسول حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کا نماز پڑھایا۔اس رات بارش ہوی تھی۔ نماز ختم ہو نے کے ساتھ آپ نے لوگوں کو مخاطب ہو تے ‏ہوئے کہا کہ کیاتم جانتے ہواللہ نے کیا کہا؟ تو لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔جب نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ اللہ نے کہا : میری ‏امت میں مجھ پر ایمان لا نے والے اورمجھے انکار کر نے والے دو گروہ ہیں۔ اللہ کے فضل سے اور اس کی مہربانی ہی سے ہم پر بارش برسائی گئی کہنے ‏والے مجھ پر بھروسہ کر کے ستاروں کے انکار کر نے والے ہیں۔ فلاں فلاں ستاروں کے ذریعے ہی (ہم پر بارش)برس رہی ہے کہنے والے مجھے انکار ‏کر تے ہوئے ستاروں پر بھروسہ کر نے والے ہیں۔ (روایت بخاری: 1038)

اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ ستاروں پر ایمان نہیں رکھنا چاہئے۔ستارہ ہے ، اس پر بھروسہ کر نا غلط نہیں ہے۔ اس کو یہ حدیث بھی انکار نہیں کرتی۔ ‏بلکہ یہ حدیث ان باتوں کو انکار کر تی ہے کہ ستاروں کے ذریعے بارش ہوتی ہے،اور اس کے ذریعے مستقبل کے حالات کو معلوم کر سکتے ہیں اورایسا ‏بھروسہ کر نا کہ اس سے دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

اگر کوئی اس بنیاد سے ستارے پر ایمان رکھے تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس نے اللہ پر ایمان نہیں لایا بلکہ ستاروں پر ایمان رکھا ہے۔ 

اگر جادو پر ا سطرح کوئی یقین رکھے تو وہ جنت جا نہیں سکتا۔

جادو سے متاثر کر سکتے ہیں ، اس طرح کہنے والوں کویہ حدیث ایک بجلی ہے۔ 

جادو سے متاثر کیا جاسکتا ہے ، اس طرح بھروسہ کر نے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ یہ جملہ قرآن مجید کی آیتوں کے مناسبت سے واضح طور پر ‏ترکیب پائی ہے۔ 

اللہ کی نظر میں جادو

جادو، جادوگراور جادو کئے ہوئے لوگ ، ایسے الفاظ قرآن مجید میں کئی جگہوں میں جگہ پائی ہے۔ 

چند مقام میںیہ الفاظ جادو سے متاثر کیا جاسکتا ہے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اور چند جگہوں میں ایسے معنی سے استعمال ہو ا ہے کہ جادو کے ‏ذریعے متاثر نہیں کیا جاسکتااور وہ چالاکی سے دھوکہ دینے کو کہتے ہے۔

جادو کے ذریعے سے متاثر کر سکتے ہیں ، ایسا یقین والے اپنے مطلب کو ثابت کر نے کے لئے ان آیتوں کو جو کہتی ہیں کہ جادو سے متاثر کرسکتے ہیں ، ‏پیش کر تے ہیں۔ 

اختلافی انداز سے اللہ کچھ نہیں کہے گا ، اس اندازپر غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ لوگ قرآن کی آیتوں کو غلطی سے سمجھ بیٹھے ہیں۔ 

اس کے بارے میں ہم نے حاشیہ نمبر 285 میں تفصیل سے بیان کی ہے۔ 

جادو کو حق ثابت کر نے والے دعویٰ کر رہے ہیں کہ 113 اور114 وغیرہ سورتیں نبی کریم ؐ پر جو جادو کیا گیا تھا اس کو نکالنے کے لئے نازل ہوا تھا ‏اور ان سورتوں کی ایک ایک آیت پڑھتے وقت ایک ایک گرہ کھلتے گئے۔

یہ دعویٰ بالکل غلط ہے ، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 499میں دیکھیں!

کیا جادو کو علماء نے انکار نہیں کیا؟ 

معتزلہ نامی ایک جماعت تھی۔وہ لوگ حدیث کو نہیں ماننے والے تھے۔ نبیوں کی معجزات کو بھی نہیں مانتے تھے۔ تاریخ میں وہ لوگ نظر انداز کئے ‏گئے تھے کہ وہ گمراہ جماعت ہے۔ 

ایسی ایک جماعت اس زمانے میں تھی، لیکن اب نہیں ہے۔ اسی جماعت کوعلماؤں نے گمراہی کے لئے ایک مثال سا پیش کیا ہے۔وہ لوگ بھی جادو کا ‏انکار کیا ہے۔ 

جادو کو انکار کرنے والے ہمیں دیکھ کرجادو کی طرفداری کرنے والے الزام لگا رہے ہیں کہ یہ لوگ بھی معتزلہ کے عقیدے والے ہیں۔ معتزلہ ‏جماعت کی طرح یہ لوگ بھی جادو کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اور معتزلہ کی طرح کوئی دوسرا جادو کا انکار نہیں کیا۔

جادو سے متاثر نہیں کر سکتے ،اس عقیدے کو اگر وہ لوگ غلط سمجھیں تو عوام کے سامنے مناسب دلیل کے ساتھ تبلیغ کر نے دو کہ ہمارا دعویٰ ٹھیک ‏نہیں ہے۔ اگر ان کی تبلیغ ناکام ہو نے کا اندیشہ ہو تو مناظرہ کے ذریعے اس کے انجام کو دیکھ لینے کی کوشش کریں۔ 

لیکن ان کے ساتھ رہنے والوں کو اپنے ہی ساتھ ٹہرالینے کے لئے جادو کے انکار کر نے والوں کو معتزلہ کے اعتقاد والے کہہ کر لوگوں کے سوچ پر ‏پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

یہ سچ ہے کہ معتزلہ نامی گمراہ جماعت جادو کا انکارکیا۔جادو کا انکار کر نے ہی کی وجہ سے کیا وہ لوگ گمراہ سمجھے گئے؟ہر گز نہیں۔

معتزلہ کا عقیدہ کیا ہے، انہیں معلوم نہیں۔ 

تبلیغی جماعت کوچھ نمبر ہے، اسی طرح معتزلہ کے لئے ایک خاص بنیادی پانچ عقیدے ہیں۔ 

معتزلہ کے علماؤں میں ایک خاص عالم ابولحسن الخیادنے فرمایا ہے:

توحید، عدل ، الوعد ولوعید، المنزلت بین المنجدین، الامر بالمعروف ونہی عن المنکران پانچ بنیادی عقیدوں کو اگر کوئی نہ بولے تو وہ معتزلہ نہیں کہلا ‏سکتا۔ ایک آدمی کے پاس اگر یہ پانچ بھی ہوں تو ہی وہ معتزلہ کا عقیدہ والا ہوگا۔ 

الانتظار حصہ ایک اور صفحہ 126 میں یہی پانچ عقیدوں کی تفصیل موجود ہے۔ 

ان کا پہلا عقیدہ توحید ہے۔ اللہ ایک ہے، اس کے سوااس کا شریک کوئی نہیں، اس کے جیسا کوئی نہیں۔ یہ عقیدہ سب مسلمانوں کا ہے۔ 

توحید کے لفظ کے ذر یعے ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کا کوئی شکل نہیں۔ اگر کوئی یقین کرے کہ اس کو شکل ہے تو مخلوقات کے ساتھ اللہ کو شریک ‏ٹہرانے کے گناہ میں مبتلا ہوگا۔ 

اس کو ہم نے مانا نہیں۔ یہ ناسمجھی کی حجت ہے۔ اللہ کی مخلوق میں شکل والی بھی ہیں، بغیرشکل کی بھی ہیں۔ اگر کہا جائے کہ اللہ کو شکل نہیں ہے تو ‏بھی بغیر شکل کی ہوا اور برقی طاقت وغیرہ کو اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا ہو گا ، اس لئے ان کے عقیدے کو ہم انکار کر تے ہیں۔ 

اللہ کو شکل ہے۔ لیکن اس کو مثال دینا یاموازنہ کر نا نہیں چاہئے، اسی اعتقاد میں ہم ہیں۔ اس کے بارے میں ہم نے حاشیہ نمبر 488 میں تشریح کی ‏ہے۔ 

معتزلوں کادوسرا عقیدہ عدل ہے۔ اس کا براہ راست معنی انصاف ہے۔ لیکن معتزلوں کے پاس اس کامعنی ہی الگ ہے۔ اللہ انصاف کر نے والا ہے ‏کے خلاف اسکامعنی رہنے کی وجہ سے تقدیر پر بھروسہ نہ کر نا چاہئے، اسی کو انہوں نے عدل کا نام دیا ہے۔

اگر ہر کام تقدیر کے مطابق ہی چل رہی ہے تو مجرموں کو سزا دینا ناانصافی ہوگا۔ اللہ عدل کر نے والا ہے کو یہ خلاف ہے۔ گناہ کر نے والاآدمی اس ‏گناہ کو کر نے کے لئے اللہ ذمہ دار نہیں ہے، یہی معتزلوں کا بحث ہے۔ 

ہم تو تقدیر پر بھروسہ کر نے کے عقیدت مند ہیں۔ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 289 میں ہم نے تشریح کی ہے۔ 

معتزلوں کا تیسرا عقیدہ الوعد ولوعیدہے۔ اس کا برا ہ راست معنی وعدہ اور خبرداری ہے۔ اللہ جو وعدہ کر تا ہے اس کو پورا کرتا ہے، تنبیہ کے مطابق ‏سزا دیتا ہے۔گناہگار زندہ رہتے وقت ہی توبہ کر کے اصلاح نہیں پاتا تو اللہ اس کو معاف نہیں کر ے گا، یہی اس کی تفصیل ہے۔ 

اس بنیاد پر عظیم گناہ کر نے والے اگر توبہ نہیں مانگے تووہ دائمی جہنم میں ہوں گے، یہی معتزلوں کااعتقادہے۔ 

اس عقیدے پر ہم نہیں ہیں۔ ایک شخص اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹہراتے ہوئے کوئی بھی گناہ کرے تو اگر اللہ چاہے تو اس کو معاف کر سکتا ہے۔ ‏یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ اس بات کو یہ آیتیں 4:48، 4:116، 5:18، 5:40، 33:24بالکل واضح طور پر کہتی ہیں۔ 

معتزلوں کا چوتھا عقیدہ یہ ہے کہ المنزلت بین المنزلیتن ہے۔ اس کا براہ راست معنی ہے کہ دونوں حالتوں کے درمیانی حالت ۔

بڑا گناہ کر نے والانہ مومن ہے اور نہ کافر۔ایمان اور انکار کے وہ درمیانی حالت میں ہے۔ یہی اس کا مطلب ہے۔ 

معتزلوں کی اس عقیدے کو ہم انکار کرتے ہیں۔ اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ایک مسلمان گناہ عظیم بھی کرے تووہ مومن ہی رہتا ہے۔ گناہ عظیم کر ‏نے سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ 

معتزلوں کا پانچواں عقیدہ یہ ہے کہ الامر بالمعروف ونہی عن المنکرہے۔ اس کا براہ راست معنی یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ معتزلہ کا ‏کہنا ہے کہ حکومت چلانے والے اگر غلطی کر ے تو ان کے خلاف ہتھیار لے کر ان سے جنگ کر نا ہے۔ 

جہاد کے نام سے مسلمانوں کو قتل عام کر نے والے اس عقیدے کو ہم سختی سے مخالف ہیں۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ معتزلوں کے اس عقیدے ‏کے مطابق عمل پیرا ہو نے والا جماعت ہم ہی کو معتزلہ کہتا ہے۔

معتزلوں کوسختی سے مخالفت کرنے والے اکثرعلماء جادو کا انکار کیا ہے۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اسی وجہ سے وہ معتزلوں کی فہرست میں جگہ ‏نہیں پائی ہے۔

جادو ایک دھوکہ بازی ہے ، اس کو صرف معتزلوں نے نہیں کہا،بلکہ معتزلوں کے خلاف رہنے والے علماء بھی کہا ہے کہ جادو ایک قیاس ہے۔ اس ‏حقیقت کو وہ لوگوں سے چھپا رہے ہیں۔ 

ابن حجر نے اپنی تصنیف فتح الباری میں کہا ہے :

جادو کے معاملے میں اختلاف رائے پائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف قیاس ہے اور حقیقت نہیں ہے۔ شافعی مذہب کے قابل احترام عالم ابو ‏جعفر کی بھی یہی رائے تھی۔حنفی مذہب کے عالم ابو بکر رازی کی بھی یہی رائے تھی۔ ابن حزم کی رائے بھی یہی تھی۔ (اس طرح کہنے والے کہ ‏قرآن اور حدیث کو ایسے ہی قبول کر لینا چاہئے، کسی قسم کی تشریح نہ کرنی چاہئے، ایسی گمراہی کے اس عقیدے کے خلاف ابن حزم نے ایک ڈراؤنا ‏خواب ثابت ہوئے تھے۔) اور ایک جماعت کی رائے بھی یہی ہے۔ جادو کے ذریعے متاثر کر سکتے ہیں ، اسی رائے کو اکثر لوگ اپنائے ہوئے ‏ہیں۔نووی نے فرمایاکہ اسی کو قرآن مجید اور احادیث کہتے ہیں۔(فتح الباری)

چاروں مذہب والے معتزلہ عقیدے کے خلاف تھے، اس حقیقت کو سب جانتے ہیں۔ابن حجر نے کہا کہ شافعی اور حنفی مذہب کے علماء اور ‏معتزلوں کے خلاف بولنے والے ابن حزم سب نے کہا ہے کہ جادو ایک دھوکہ بازی ہے۔ اس طرح کہنے والے علماء کو ابن حجر نے معتزلہ نہیں ‏کہا۔صرف اتنا کہا کہ ایک اکثر لوگوں کی رائے ہے اور دوسری کم لوگوں کی رائے ہے، لیکن معتزلہ نہیں کہا۔ 

اسی طرح حنفی مذہب کے ایک بڑے عالم عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں:

جادو کے متعلق پہلی رائے یہ ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے۔ اس رائے میں کہ جادو ایک حقیقت ہے ، علماؤں میں ابو حنیفہ کے سوائے دوسرے علماء ‏اسی رائے میں ہیں۔ ابو المظفر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ جادو میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ جادو سچ ہے اوراللہ جب چاہے جو ‏چاہے پیدا کرتا ہے ، یہی ہماری رائے ہے۔ معتزلہ اور شافعی مذہب کے ابو اسحاق اصفرائینی اس کے خلاف رائے دیتے ہیں۔ قرطبی نے کہا ہے کہ ‏جادو ایک باطل شکل اور ملمع کی ہوئی چیز ہے۔ (عمدۃ القاری)

کیا امام ابو حنیفہ اور شافعی مذہب کے ابو اسحاق معتزلہ ہیں؟

اسی رائے کو ابن کثیر بھی پیش کر رہے ہیں۔ 

جادو بالکل صحیح ہے، یہ پہلی رائے ہے۔ جادو کو صحیح کہنے والے علماؤں میں ابو حنیفہ کے سوا دوسرے علماء ایک ہی رائے پیش کر تے ہیں۔ ابو المظفر ‏نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ جادو میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔

ابن حجر کی طرح اسی زمانے میں رہنے والوں میں ابن تیمیہ بھی ہیں۔ 

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الفرقان بین اولیاء الشیطان و اولیاء الرحمن میں جو لکھاہے اسے ملاحظہ فرمائیے۔

علماء اس بات میں اختلاف رکھتے ہیں کہ کیا جادو حقیقت ہے؟ کیا جادو کوئی چیز ہے؟ کیا جادو کے ذریعے ایک چیز کو دوسری ایک چیز میں تبدیل ‏کرسکتے ہیں؟ کیا وہ بالکل قیاس آرائی ہے؟ معتزلہ جماعت اور جزاز نام سے مشہور حنفی مذہب کے ابو بکر رازی ، شافعی مذہب کے عالم بغوی ، اور ابو ‏جعفر استربادی نے جادو کے تمام اقسام کوباطل کہا ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ جادو جو ’نہیں‘ ہے اس کو ’ہے‘ کہہ کر پیش کر نے والا ایک باطل چہرہ ‏ہے۔ سحر زدہ آدمی کے اندر زہر یا دھواں داخل کر نے کے سوا جادو سے کچھ نہیں کر سکتے۔ اور کہا گیا ہے کی حنفی مذہب کی رائے یہی ہے۔ یہ علماء ‏کہتے ہیں کہ جادوگر کسی چیز کی ہےئت کو بدلی نہیں کر سکتا۔لاٹھی کو سانپ نہیں بنا سکتا۔ انسان کو گدھا نہیں بنا سکتا ۔ 

اس طرح ابن تیمیہ نے پیش کیا ہے۔ 

اس طرح کہنے والے علماؤں کو ابن تیمیہ نے معتزلہ نہیں کہا۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں وہ بھی عالم ہیں۔ ابن تیمیہ جس بغوی کی طرف اشارہ کیا ہے ، وہ ‏احادیث کو قائم کر نے کے لئے بہت سی محنت کی ہے۔ اس لئے ان کا لقب محی السنہ بن گیا تھا۔ جادو کے متعلق تمام خبروں کو انکار کر نے کی وجہ سے ‏ان کا لقب محی السنہ کوبدل کر کوئی معتزلہ کا لقب نہیں دیا۔

باطل مذہبی علماء کے لئے جادو ایک آمدنی کا ذریعہ ہے، مسجد کے منتظم کو یہ ڈرانے کے لئے کہ میں جادو کر دوں گا، یہ مددگار ثابت ہوتی ہے، اس ‏لئے یہ بات بہت بڑے انداز سے پھیل چکی ہے کہ جادو میں بہت اثر ہے۔ 

ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان وغیرہ کئی ممالک میں حنفی جماعت رہنے کے باوجود وہ لوگ بھی جادو کو مانتے ہیں۔ ابو حنیفہ نے خود کہہ ‏دیا تھا کہ جادو ایک قیاس ہے ، پھر بھی اس کو ماننے کی وجہ یہ ہے کہ یہ باطل عالموں نے اعلان کرچکے ہیں کہ جادو میں بہت اثر ہے۔ 

جادو سے کچھ نہیں کر سکتے ، اس طرح بولنے والوں کو کچھ توقع نہیں رہتا۔ اس لئے یہ رائے بہت کم لوگوں تک پہنچی ہے۔ معتزلوں کے سوائے کوئی ‏دوسرا جادوکا انکار نہیں کیا۔ اب یہ توحید جماعت والے انکار کر رہے ہیں۔ ایسے کہنے والوں کے تمام دعوے مندرجہ بالا دلیلوں سے جھوٹ ثابت ‏ہو چکا۔ 

شافعی اور حنفی مذہب والے جو عربی مدرسے چلاتے ہیں اس میں خطاب پانے والے ساتویں جماعت کے طلباء کو جو نصاب ہے اس میں بیضاوی کی ‏تفسیر تعلیم دی جاتی ہے۔ 

اس تفسیر میں توحید کے خلاف چند باتیں رہنے کے باوجود اس تفسیر میں جادو کے متعلق کیا کہا گیا ہے ، آئیے دیکھیں!

اس آیت 26:46 میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی معجزہ دکھانے کے ساتھ جادوگروں نے سجدہ میں گرگئے۔جس طرح موسیٰ نبی نے کیا اس کو جادو ‏کے ذریعے نہیں کر سکتے ، یہ جاننے کی وجہ ہی سے وہ لوگ سجدے میں گر پڑے۔جادو ایک باطل ہےئت ہے، ملمع کیا ہوا، 

اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے لئے یہ آیت دلیل ہے۔ 

اس طرح لکھنے والے بیضاوی کیا معتزلہ کے عقیدت والے ہیں؟کیا معتزلہ عقیدت والے کی کتاب کو نصاب میں رکھا گیا ہے؟ 

جادوگروں نے جو جادو کیا تھا اس کو دیکھ کر موسیٰ نبی نے کہاکہ تم جو کئے ہو وہ جادو ہے، اس کو اللہ ناکام کر دے گا۔ مفسدوں کے عمل کو اللہ کامیاب ‏ہونے نہیں د ے گا۔ اس کو اللہ نے اس 10:81میں فرمایا ہے۔یہ آیت اس کے لئے دلیل ہے کہ جادو ایک فساد ہے، جو نہیں ہے اس کو موجود ‏کہتا ہے، اور اس میں کسی قسم کی حقیقت نہیں ہے۔ 

تفسیر بیضاوی میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے۔ اس طرح کہنے والے کو کیوں معتزلہ نہیں کہا گیا؟

مولوی کے کورس میں ساتویں سال پڑھنے والے طلباء کو قرآن کی تفسیر اسی کو توپڑھایا جاتاہے ؟ بیضاوی جو بغیر دلیل کے کہا ہے اس کو قبول کر نے ‏والے یہ علماء بیضاوی نے جو دلیل کے ساتھ کہا ہے اس حقیقت کو کیوں انکار کر رہے ہیں؟

اسی طرح شوخانی نے اپنی کتاب فتح القدیر میں جو کہا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیے۔ 

آیت نمبر 7:117 میں جادوگروں کے جادو کے متعلق اللہ کہتے وقت وہاں ےَاْفِکُوْنَ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس لفظ کا معنی ہے جھوٹی قیاس۔ اللہ ‏نے اس لفظ کو اس لئے استعمال کیا ہے کہ جادوگروں کی جادو میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے ، بلکہ جھوٹ ، قیاس اور ملمع کر نا ہے۔ اسی لئے جادوگر ‏ناکام ہوگئے۔ 

اسی ےَاْفِکُوْنَ کے لفظ کی بنیاد پر طبری کا کہنا دیکھئے!

اللہ فرماتا ہے کہ ان کی جھوٹی قیاس کو موسیٰ نبی کا معجزہ نگل گیا۔کیونکہ ان کا کیا ہوا جادوبالکل حقیقت سے عاری اور صرف قیاس ہے۔ اسی لئے ‏جادوگروں نے سجدے میں گر پڑے۔ 

اسی طرح ابن حیان کی تصنیف تفسیر المحیت میں جو لکھا گیا ہے، اس کو بھی ملاحظہ کیجئے۔ 

آیت نمبر 20:66 میں جو ہے کہ لوگوں کی آنکھوں کو گرویدہ کر لیا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ سازش کے ذریعے اور جھوٹی نمود کے ذریعے ‏جو نہیں ہے اس کو موجود دکھایا۔ اسی لئے انہوں نے موسیٰ کوایک خیالی نمود کر دکھایا۔

اسی طرح روح البیان کے مصنف کہتے ہیں: 

آیت نمبر 10:81 ،میں اللہ نے جو فرمایا ہے کہ باطل لوگوں کے اعمال کو درست نہیں کرے گا، یہ دلیل ہے کہ جادو میں کسی قسم کی سچائی نہیں ‏ہے اور وہ جھوٹ اور فریب کاری کے لئے ایک دلیل ہے، اس طرح قاضی نے کہا ہے۔ 

اسی روح البیان کی کتاب میں جو شعرانی نے کہا ہے اس کو وہ پیش کر تے ہیں۔

جادوگروں نے جو سجدے میں گر پڑے تھے ، اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ جادو میں کسی قسم کی سچائی نہیں ہے۔یہ کس طرح دلیل ہو سکتا ہے؟ ‏اگر وہ ایک چیز کو دوسری ایک چیز سے تبدیل کرکے جادو کر تے تو موسیٰ نبی نے جو اپنی عصاکو سانپ میں تبدیل کئے تھے اس کو دیکھ کر تعجب نہیں ‏کرتے۔وہ تو جادو کے ذریعے نہ کئے جانے والی ایک حقیقی تبدیلی ہے ، اس کو وہ لوگ سمجھ جانے کی وجہ سے اپنی ناکامی کو تسلیم کرلیا۔ 

ابن خدامہ نے اپنی کتاب شرح الکبیر میں لکھا ہے:

گرہ ڈالنا، چند لفظوں کو دہرانا، چند جملے کہنایا کچھ کر نا ایسی کئی قسم کے جادو ہیں۔سحر زدہ آدمی کو چھوئے بغیراس کے جسم میں یا دل میں متاثر کیا ‏جاسکتا ہے ، یہ حقیقت ہے۔ جادو کے ذریعے کسی کو مار سکتے ہیں، بیمار کرا سکتے ہیں۔ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی سے ملنے نہ پائے، دونوں ‏کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں۔ دونوں کے درمیان نفرت پیدا کر سکتے ہیں۔ دونوں کے درمیان محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی شافعی امام کی ‏رائے ہے۔ لیکن شافعی مذہب کے بعض علماء کہتے ہیں کہ جادو بالکل صحیح نہیں ہے، اور وہ صرف قیاس ہی ہے۔اللہ نے کہا کہ پھنکارنے کی طرح ‏ایک جھوٹی نمود ہوئی ، وہی اس کے لئے دلیل ہے۔ ایک شخص کے اندر دھواں سا داخل کر نے سے وہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کو استعمال ‏کئے بغیر بیماری میں مبتلا کر نا یا مار دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر ویسا ہو جائے تو نبیوں کے معجزے ناکام ہو جائیں گے۔ غیر نبی بھی مروجہ ناممکنات کے ‏کر نے سے نبیوں کے معجزے بھی بیکار ہو جائیں گے۔ اس طرح ابو حنیفہ کے شاگرد کہتے ہیں۔ 

اس میں بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ موسیٰ نبی کے زمانے کے جادوگر وں کے معاملے میں آنے والی آیتوں کی ہر لفظ کو بالکل باریکی سے غور کر نے ‏کے بعد جادو میں کوئی سچائی نہیں کہنے والوں میں اکثر لوگ 2:102 کے آیت کو تشریح کر تے وقت جو انہوں نے کہا اور جادوگروں کی نسبت ‏میں آئی ہوئی تمام آیتوں کو بھول کر دوسری انداز سے بات کرتے ہیں۔ 

جزاز نام سے مشہور ابو بکر نے بہت سختی سے جادو کا انکار کیا ہے۔ 

ان کی بات بھی سنئے!

جس نے جادوکو سچا مانا اس نے نبوت کے بارے میں نہیں جانا۔ جادو کو اگر مانا تونبیوں کا معجزہ بھی جادو کا ایک قسم ماننا پڑے گا، اس سے، انبیاء بھی ‏جادوگر ہیں ماننے سے ہم بچ نہیں سکتے۔ اس 20:69 آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ جادوگر جادو کر نے سے کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نبی کریمؐ پر جادو کیا ‏گیا۔ اس جادو سے انہیں نقصان پہنچا۔اس حد تک اثر ہواکہ آپ نے جو نہیں کیا ، اس کو آپ نے کہا کہ کیا۔ ایک یہودن نے کنگھی، سر کا بال اور ‏کھجور کے خوشے وغیرہ میں جادو کر کے ایک کنواں میں رکھ دیاتھا۔ جبرئیل کے ذریعے وہ بات نبی کریمؐ کو معلوم ہونے کے بعد کنویں سے ان ‏چیزوں کو نکال باہر کر نے کے بعد ہی جادو کا اثر زائل ہوا، ایسا بے ہودہ عقیدہ بھی بعض لوگوں میں موجود ہے۔ 

لیکن اللہ نے اس 25:8 آیت میں فرماتا ہے کہ ظالموں نے کہاسحر زدہ آدمی ہی کی تم پیروی کر رہے ہو۔ اس کے ذریعے نبی کریم ؐ پر جادو کیاگیاکہنے ‏والوں کو جھوٹا ثابت کیا گیا ہے۔ نبی کریم ؐ پر جادو کر نے کے بارے میں جو خبر ہے وہ اسلام کے دشمنوں کی تراشیدہ جھوٹی کہانی ہے۔ نبیوں کے ‏معجزوں کی خاصیت کو مٹانا ہی ان کا مقصد ہے۔ان کی عقیدت کے مطابق جادو اور نبیوں کے معجزے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کی عقیدت کے ‏مطابق جادو اور معجزہ ایک ہی قسم کے ہیں۔

نبیوں کا معجزہ بھی حق ہے اور جادوگروں کا جادو بھی سچ ہے ، اس طرح کہنے والوں کا بے ربط عقیدہ ہمیں حیرت زدہ کرتی ہے۔ جادو گر جادو کر تے ‏وقت کامیاب نہیں ہوگا، اس طرح کہہ کر اللہ نے جادوگروں کو جھوٹا ثابت کردیا ، لیکن یہ لوگ تو انہیں صادق قرار دے رہے ہیں۔ 

نبیوں کا معجزہ اور جادوگروں کی شعبدہ بازی کے درمیان فرق یہی ہے۔ نبیوں کا معجزہ مکمل حق ہے۔ جیسا وہ باہر دکھائی دیتا ہے اسی طرح اندر بھی ‏ہے۔ نبیوں کے معجزوں میں جس حد تک تم غور کروگے اسی انداز سے اس کی سچائی تم پر ظاہر ہوگی۔ ساری کائنات بھی مل کر اگر کوشش کریں تو ‏اس طرح نہیں کر سکتے۔ جادوگروں کا جادو صرف جھوٹ اور فریب کاری ہے۔ اس کے صحیح حالت کے خلاف ہی اس کا ظاہری حالت ہوگا۔ ‏اگرسوچ کر تحقیق کروگے تو ہم جان سکتے ہیں۔ 

جزاز نے آگے کہا:

جادوگرجو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سے یہ ہوسکتا ہے ، اگروہ سچ ہے ، اوراگر وہ سچے ہوں کہ جادو کے ذریعے اچھا یا برا ہو سکتا ہے، اگر وہ سچے ہوں کہ ‏آسمان پر اڑانے رکھیں گے، غیب کوجانیں گے اور دور دراز مقام کی خبروں کو بھی ہم معلوم کر لیں گے تووہ ان کاموں کو کرنا چاہئے تھا کہ حکومتوں ‏کو برطرف کردیں، خزانوں کو باہر کر دیں، کسی بھی تذبذب کے بغیر بادشاہوں کو قتل کر دیں، دوسروں سے اپنی طرف کوئی نقصان نہ آنے دیں، ، ‏اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے نہ رکھیں۔ ایسا تو نہیں ہے؟ بلکہ انسانوں میں یہی لوگ بری حالت میں ہیں۔ بہت زیادہ حرص و ہوس والے، ‏دوسروں کو دھوکہ دے کر مال ہڑپ کر نے والے، بہت ہی غریبی حالت میں رہنے والے، اور لوگوں سے چاپلوسی سے پیش آنے والے یہی لوگ تو ‏ہیں۔ اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ یہ جو دعویٰ کر تے ہیں اس میں سے کوئی بھی بات ان میں نہیں ہے۔ 

ایسی بات کہنے والے ابو بکر الجزاز کو کسی نے معتزلہ کہا ہے؟

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جوجادو کے گروہ نے کہا کہ معتزلہ کے سوا کسی نے نہیں کہا، حقیقت کے خلاف ہے۔ 

کیا میجک دکھانا شرک ٹہرانا ہے؟

اس کے بعد ایک سوال کیا جا تا ہے۔

جادوکو تم میجک کہتے ہو۔ جادو کو شرک ٹہرانا بھی کہتے ہو۔ تو کیا میجک سیکھنا اور میجک دیکھنا وغیرہ بھی شرک ہی ہے؟

یہ سوال بھی کئی لوگ پوچھتے ہیں۔ 

ظاہر میں دو کام ایک ہی جیساہوگا۔ لیکن اس کے پیچھے جو عقیدہ ہے اس کے لحاظ سے دونوں الگ الگ ہوجائیں گے۔ 

مثال کے طور پر ایک سونے کی چین کو لے لیں۔ اس کو ایک عورت شادی کی نشانی منگل سوتر سمجھ کرگلے میں پہن لیتی ہے اور بعض عورتیں ایک ‏زیور کی طرح بھی پہن لیتی ہیں۔ ظاہر میں وہ ایک سونے کی چین ہے۔ لیکن عقیدے میں دونوں میں فرق ہے۔ 

شادی کی بندھن ہی اس چین ہی میں ہے۔اگر وہ شادی کی چین ٹوٹ گئی تو اس کے پیچھے ایک باطل عقیدہ بھی ہے کہ اس کے شوہر کو کچھ ہو جائے ‏گا۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ وہ ہونا نہیں چاہئے۔ 

لیکن آرائش کے طور پر عورتیں اس کو پہن سکتے ہیں۔ 

سونے کی چین ایک ہی ہے، لیکن وہ ہمارے عقیدے میں کس طرح کا نقصان پہنچاتا ہے، ذرا غور کریں۔ 

کوئی پوجا کر کے ایک کیلا ہمارے پاس دیتا ہے۔ اس کو ہم لے نہیں سکتے۔ 

کوئی دوسرا معمولی سا ایک کیلا ہمیں دیتا ہے تو ہم اس کو لے لیتے ہیں۔ 

دونوں ہی کیلے ہیں۔ لیکن نذر کر نے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ وہ مقدس ہو گیا۔ اس میں وہ جھوٹا عقیدہ رہنے کی وجہ سے ہمارا دین اس کو حرام کہتا ‏ہے۔ 

دوسرے کیلے میں وہ اعتقاد نہ رہنے کی وجہ سے وہ ہمارے لئے حلال ہو جا تا ہے۔ 

اسی طرح میجک بھی جادو کے شکل میں ایک ہی جیسے ظاہرہو نیکے باوجود اسکے پیچھے جو عقیدہ ہے اس سے وہ تبدیل ہو جا تا ہے۔

میجک کر نے والاخالی ہاتھ سے اگر انگوٹھی منگواکر دیتا ہے تو میجک دکھا نے والا بھی یہ نہیں کہتا کہ جو نہیں تھا اس انگوٹھی کومیں نے دکھایا اور لوگ ‏بھی ایسا نہیں مانتے۔ پہلے ہی سے جو انگوٹھی چھپا کر رکھا گیا تھا کسی کی نظر میں آئے بغیر وہ لا کر دکھاتا ہے۔ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس کے لئے وہ چند ‏تدبیریں کی ہیں۔ 

میجک والے کے پاس کوئی نہیں پوچھتا کہ میری بکری کہیں گم ہو گئی ہے، اس کو تلاش کر کے دو۔ میجک والے کے پاس کوئی ایسی گزارش نہیں کر تا ‏کہ شوہر سے بیوی کو جدا کر دو یا دشمن کے ہاتھ پاؤں توڑ دو۔ اگر کوئی پوچھے بھی تو میجک کر نے والا صاف کہہ دے گا کہ ایسا میں نہیں کر سکتا۔ 

لیکن جادوگر کیا کہتا ہے؟ وہ کہے گا کہ میں سچ مچ استدراج کر نے والا ہوں۔ میں یہیں سے کہیں دور رہنے والے کے ہاتھ پاؤں موقوف کر دوں ‏گا۔شوہر سے بیوی کو اور بیوی سے شوہر کو جدا کر دوں گا۔ اس کے لئے لوگ بھی اس کے پاس جائیں گے۔ 

میجک والا تو اعلان کئے ہوئے پروگرام میں پہلے ہی سے انتظام کئے ہوئے چیزوں کو دکھا ئے گا اور بس۔ 

لیکن جادو گر پہلے ہی سے انتظام کئے ہوئے چیزوں ہی کو نہیں بلکہ کہے گاکہ کوئی بھی آئے، کسی کے خلاف بھی آئے، کچھ بھی کر نے کو کہے ان سب ‏کو کرنے کی طاقت ہے ۔ یہی جادو ہے۔ 

ہماری عقل ہی کہہ دیتی ہے کہ ایک میں شرک ہے۔ دوسری چیزکو ہماری عقل فیصلہ کر دیتی ہے کہ وہ ایک تفریحی تدبیر ہے۔ اس فرق کو ہم جان ‏لینا چاہئے۔ 

میجک کر نے والے کہیں گے کہ ہم اس کو مشق کی ذریعے کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہیں گے کہ اگر تمہیں بھی وہ مشق ہو تو تم بھی کر سکتے ہو۔ 

لیکن جادو کر نے والے کہیں گے کہ وہ اپنے جادو کی طاقت سے یہ انہیں حاصل ہوئی ہے۔ 

جادو ہے تو کر دکھا نا چاہئے

غیب کی باتیں اگر اللہ نے کہہ دی تو اس پر ہم ایمان لا نا چاہئے۔

ملائکہ، فرشتے، جنات، شیاطین،جنت، دوزخ، پھر سے اٹھایا جانا وغیرہ کئی باتوں کو اللہ نے فرمایا ہے۔ 

اس کو آزمائش میں ڈالے بغیر سارے مسلمان مانتے ہیں۔ کیونکہ یہ آزماکرجاننے والی چیز نہیں ہے۔ اللہ نے کہہ دیا، بس ہم نے مان لیا۔ 

لیکن آزمانے کے قابل بھی چند چیزیں ہیں۔ اس کو ہم آزما کر ہمیں جانچنا چاہئے کہ کیا یہ سچ یا جھوٹ؟ آنکھ بند کر کے ایسے ہی مان لینا چاہئے۔ 

مثال کے طور پر اگر کوئی کہے کہ گنجے سر پر اس تیل کو لگاؤ تو بال بڑھ جائے گی تو اس کو آزمانے کے بعد ہی اس پر ہمیں بھروسہ کرنا چاہئے۔ 

شریک ٹہرانے کی بات آگئی تو اس کو آزماکر دیکھنے کے بعد ہی جاننا چاہئے۔ 

کہا جائے کہ جادوگر کو طاقت ہے تو اسی وقت اس کو آزماکر دیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ شریک ٹہرانے کے خلاف اللہ نے اسی طریقے کو ہمیں سکھایا ہے۔

کہو کہ اللہ کے سوا جسے تم پکارتے ہو ان شریکوں نے زمین میں کیا بنایا ہے، مجھے دکھاؤ۔یاجواب دو کہ کیا انہیں آسمانوں میں کوئی حصہ ہے؟ یا ہم نے ‏ان کو کوئی کتاب دی ہے اس کی کسی دلیل پر ہیں۔ نہیں، یہ ظالم ایک دوسرے سے دھوکہ دہی کا وعدہ ہی کر رہے ہیں۔ (قرآن : 35:40)

اللہ کے سوا جسے تم پکارتے ہو وہ زمین میں کیا پیدا کیا ، مجھے بتاؤ۔ یا جواب دو کہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ (ائے محمد!) کہو کہ اگر تم سچے ہو تو ‏اس سے پہلے گزری ہوئی کتاب یا کوئی علمی دلیل میرے پاس لے آؤ! (قرآن: 46:4)

اگر یہ مسئلہ اٹھے کہ اللہ کے جیساکسی کو طاقت ہے تو اس کو ثابت کرو کہنا ہی اللہ ہمیں سکھایا ہوا طریقہ ہے۔ 

جادوگر کو اگر طاقت ہے تو اس کو وہ ثابت کرے اورمعلوم ہوجائے کہ وہ ثابت نہ کر سکے گا تو اس کو جھوٹ سمجھنا اسلام کا طریقہ ہے۔ 

جادو کر نے والے ایک شخص کو دکھاؤ۔ہم جو کہتے ہیں اس کو وہ کر نے دو۔ یا جو طاقت وہ کہتا ہے کہ میرے پاس ہے، اس کو کر دکھانے دو۔ ایسے ‏سوال اٹھایا گیا تو کوئی سامنے نہیں آتا۔

اللہ اپنے قرآن میں کہتا ہے:

کسی چیز کو پیدا نہ کرنے والے کو کیا وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے ہیں؟ بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ انہیں وہ کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی ہی مدد بھی ‏نہیں کر سکتے۔ کچھ کہنے کے لئے اگر تم ان کو بلاؤ تو وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو دونوں برابر ہے۔ اللہ کے سوا ‏جنہیں بھی تم پکارو وہ سب تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو انہیں پکار کر دیکھو، وہ جواب تو دینے دو! کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ ‏چلیں؟ کیاان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں؟کیا ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنیں؟ کہو کہ تمہارے ‏شریکوں کو پکارواور میرے خلاف سازش کرو۔ میرے لئے کچھ مہلت نہ دو۔

قرآن: 7:191-195

بتوں کو ہاتھ پیر بنا کروہ کہتے ہیں کہ ان ہاتھوں سے وہ انسانوں کی حاجت پوری کر تے ہیں۔ مزید یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ایمان ہے۔ 

اس کو اللہ نے نہیں مانا۔ بلکہ اللہ نے اس شرک کے خلاف کاروائی کر نے کے لئے ہمیں سکھاتا ہے کہ ان ہاتھوں سے وہ کچھ پکڑنے دو، ان پاؤں سے ‏چل کر دکھانے دو۔

جادوگر کو اگر طاقت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کوکر کے دکھاؤ، ثابت کر کے دکھاؤ۔ اگر کوئی ثابت کر نے کے لئے آگے نہ بڑھے توسمجھ لیں کہ جادو ‏کو کچھ طاقت نہیں ہے۔ قرآن کی رو سے یہی فیصلہ کر نا ٹھیک ہے۔ 

جادو پر بھروسہ کر نے والے جہالت میں رہتے ہوئے عقلمندی سے بات کر نے والوں کو دیکھ کر حقیر سمجھتے ہیں۔ 

اسلام میں بحث کرنے والے عقلمندی سے بات کرنا چاہئے۔ 

ہود نبی کی للکار کو ذرا دیکھئے!

ان کی قوم نے کہا کہ ہم تو یہی کہیں گے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تم پر ضرر پہنچا دی ہے۔ہود نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹہراتا ہوں اور تم ‏بھی گواہ رہو۔ اس کے سوا جن کو تم نے شریک ٹہرایا ہے اس سے میں بری ہو۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو۔ پھر مجھ کوکچھ مہلت ‏نہ دو۔

قرآن: 11:54,55

ہود نبی کی طرح ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ جادوگر کو کوئی طاقت نہیں ہے۔ اگر ہے تو کر کے دکھاؤ، یہ ہماری للکار ہے۔ 

جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو انہیں پکار کر دیکھو، وہ تمہیں جواب دینے دو!

قرآن: 7:194

اگربتوں کو طاقت ہے کہو تو ہمیں کہنا چاہئے کہ ثابت کر کے دکھاؤ۔ اس آیت میں اللہ نے کتنی خوبصورتی سے اس بات کو سکھلایا ہے، ذرا غور ‏کرو۔ 

شریک ٹہرانے کا مسئلہ آگیا تو اس کا حل یہی ہے کہ اس سے کہے کہ ثابت کرے۔ جادو بھی شریک ٹہرانے کی جگہ پر رہنے کی وجہ سے اس کو بھی ‏آزمانا ہی صحیح طریقہ ہے۔ 

نام کے مسلمان بھی جادوگر بنے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں طاقت ہوتی تو وہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو قتل و غارت کئے جا نے کو مقصد بنائے ہوئے ‏لوگوں پر جادو کر کے اس امت کو مدد پہنچانا چاہئے تھا؟ 

غیر مسلموں میں بھی جادو گر ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاستدان انہیں استعمال کر کے جو جیتنے والا ہے اس سردار کو گونگا بنا دیتے تو بس تھا۔ ایسا کچھ ‏واقع نہیں ہوا۔ 

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ جادو سے کچھ نہیں کرسکتے۔ 

جادو کے متعلق اٹھائے جانے والے تمام سوالوں کے جواب جاننا ہو تو حاشیہ نمبر 28، 285، 468، 495، 499 وغیرہ دیکھئے!  

‏356۔ ابو لہب کی بربادی

‏سورہ 111نبی کریم ؐ کے بڑے والد اور نبی کریم ؐ کے خاص دشمن ابو لہب کی بربادی کے بارے میں کہتی ہے۔ 

نبی کریم ؐ ابتداء میں اسلام کی تبلیغ کر تے وقت نبی کریم ؐ پر مٹی اچھال کرابولہب کہنے لگاکہ ’’کیا تم نے اسی لئے ہمیں بلایا تھا؟ تم تباہ ہوجاؤ!‘‘اس کو ‏سرزنش کر تے ہوئے یہ سور ہ نازل ہوا۔ (دیکھئے: بخاری: 1394، 4770، 4801، 4971، 4972، 4973)

نبی کریم ؐ کے زمانے میں ہی ابولہب اور اس کی بیوی اور سارا خاندان پوری طرح سے برباد ہوگیا اورنام و نشان تک نہ رہا۔

اس میں ایک اہم پیشنگوئی بھی مضمر ہے۔ ’یہ سورہ اعلان کرتی ہے کہ ’ابو لہب اسلام قبول نہیں کر یگا، اور جہنم ہی جائے گا‘‘۔ ‏

اسلام کو کسی طرح سے مٹانے کے لئے اور ابولہب اس سور ہ کوباطل قرار دینے کے لئے اس نے اسلام قبول کر نے کی طرح اداکاری کر سکتا۔ اس ‏طرح اداکاری کر کے یہ ثابت کر نے کی کوشش کر سکتاکہ دیکھو، اس سورہ میں کہنے کے مطابق کچھ نہیں ہوا، اس لئے محمد جھوٹے ہیں۔ لیکن یہ ‏قرآن اللہ ہی کا کلام ہونے کے لئے دلیل ہے کہ آخر تک ابولہب نے دشمنی ہی میں مرا۔  

‏355۔ ایٹم بم کے متعلق پیشنگوئی

سورہ 105نبی کریم ؐ پید اہو نے کے پہلے مکہ میں واقع ہونے والی ایک واقعہ کو کہتی ہے۔

اللہ کی عبادت کے لئے دنیا میں پہلے پہل جو عبادت گاہ تعمیرکی گئی وہ کعبہ ہے۔ اس عبادت گاہ میں عبادت کے لئے کثرت سے لوگ آتے جاتے ‏ہوئے دیکھ کر ابرہہ بادشاہ کو حسد پیدا ہوا۔ اس لئے کعبہ کو منہدم کر نے کے لئے ہاتھی کے فوج کے ساتھ آیا۔

ہاتھی کا فوج کعبہ کو مسمار کر نے سے پہلے اللہ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے اس فوج کو مٹادیا۔ 

وہ پرندے گرم اور چھوٹے کنکریوں کو ہاتھی کے فوج پر برسا کر انہیں چبائے ہوئے گھاس کی طرح بنا دیا۔ 

اسی تاریخ کو یہ سورہ سناتی ہے۔ 

یہ واقعہ جب پیش آیا اسی سال ہی نبی کریم ؐ کی ولادت ہوئی۔ ان کے پیدائشی سال ہی میں وہ پیش آنے کی وجہ سے بچپن ہی میں نبی کریم ؐ نے سن رکھا ‏تھا۔ 

مکہ میں رہنے والے ہر ایک کو وہ واقعہ معلوم تھا۔ وہ واقعہ پیش آنے کے بعد سے ہاتھی کا سال کے نام سے لوگ حساب کر نے لگے۔ 

عرب لوگ اور نبی کریم ؐ کو یہ واقعہ اچھی طرح معلوم ہو نے کی وجہ سے انہیں کو یہ بات سنانا ضروری نہیں۔ 

عرب لوگ جتنا جانتے تھے اس سے بہت کم تفصیل ہی اس سورہ میں موجود ہے۔

اس لئے اس واقعہ کو انہیں سنانا مقصد نہیں۔

انسان معلوم کر نے اور غور کر نے کے لئے اس میں دو خبریں موجود ہیں۔ اس پر غور کر نے کے لئے کہنا ہی اس کا مقصد ہوگا۔ 

پہلی خبر یہ ہے کہ گزشتہ زمانے میں میری رحمت برسا کر تمہیں ایک حیرت انگیز طریقے سے حفاظت کیا۔ اسکو خیال کر تے ہوئے شکر ادا کرو۔ 

دوسری خبر خوب گہرائی سے سوچنے لگو گے تو ہی سمجھ پاؤگے۔

غور کر نے والی ایک بات اس میں مضمر رہنے کی وجہ ہی سے یہ سور ہ یہ کہتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا؟

ہاتھی بہت بڑا جانور ہے، اس کو ایک چھوٹے سے پرندے کی جھنڈنے ماردیا۔اسی بارے میں غور کر نے کے لئے یہ سورہ کہتی ہے۔

وہ پرندے اپنی چونچوں میں جولے کر آئے تھے وہ کوئی معمولی کنکریاں نہیں تھیں۔ قرآن کہتا ہے وہ بہت ہی گرم پتھر تھے۔

وہ کوئی خارجی گرمی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر وہ بیرونی گرمی ہوتی تو وہ کمزور پرندے کیسے ضبط کرتے جبکہ وہ ہاتھیوں ہی کو بھسم کردئے تھے؟ 

مزید یہ کہ اگر وہ گرم پتھر ہو تے تو وہ زمین پر گر نے سے پہلے ہی ٹھنڈے ہوجاتے۔ تو اس پتھر سے کچھ اثر نہ ہوتا۔ 

چنانچہ نیچے گر کر پھٹنے پر بکھر تے وقت جو گرمی پیدا ہو تی ہے اسی طرف وہ اشارہ کر تی ہے۔ 

طاقتور بموں میں شدید گرمی رہنے کے باوجود وہ پھٹتے وقت ہی اس کی گرمی اثر دکھائے گی۔ وہ پھٹنے کے پہلے ایک معمولی سی چیز جیسی ہی دکھائی دے ‏گی۔ 

اس واقعہ میں کہا گیا ہے کہ پرندے جو کنکریاں پھینکیں وہ ہاتھیوں کو مسل کر رکھ دئے تو معلوم ہو تا ہے کہ ان کنکریوں میں بہت ہی سخت طاقت دبا ‏کر رکھا گیا تھا

اسی کو اللہ نے یہاں غور کر نے کے لئے فرمایا ہے۔ 

دنیا کی ہر چیز ذرات سے بنی ہیں۔آج کا انسان انکشاف کیا ہے کہ ان ذروں کو پھوڑو تو ان میں سے بہت بڑی طاقت باہر نکلتی ہے۔

یہ ثابت کر کے دکھا دیا کہ ایک چھوٹا سا بم ایک شہر کو مسمار کرنے کے لئے کافی ہے۔ ان بموں کوبلندی سے پھینکو تو وہ بم پھینکے والوں پر اثر نہیں ‏کرے گا، بلکہ زمین سے پھینکنے سے بم پھینکنے والا بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔ 

ان تمام حقائق کو سمیٹے ہوئے ہی یہ واقعہ واقع ہوا ہے۔ 

اے لوگو! اگر تم کوشش کرو تو زیادہ گرمی ظاہر کر نے والی طاقت کو ایک چھوٹی سی چیز کے اندر سما سکتے ہو۔ اس چیز کو پھٹنے رکھ کر کسی بھی چیز کو مٹا ‏سکتے ہیں۔ تمہیں کسی قسم کی گزند پہنچے بنا تم اس کو بنا سکتے ہو۔اس طرح یہ سورہ (105)کہتی ہے کہ اس کے بارے میں ذرا سوچو۔  

‏354۔ کیا قرآن انیس کے ہندسے کی پابند ہے؟

‏اس آیت 74:30 میں جو کہاگیا ہے کہ ’’اس پر انیس اشخاص ہیں‘‘ وہ دوزخ کے انیس فرشتوں کی گنتی کو کہتا ہے۔ اس میں تمام عالم متفق رائے ‏ہیں۔ اس میں کسی قسم کی الجھن یا شک نہیں ہے۔ 

لیکن قریب ہی میں گولی کھا کر مر نے والا رشاد خلیفہ نے اس کو نئی تفسیر دے کر بکواس کیا ہے۔ اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بکواس کی انکشاف کرنے ‏کی وجہ سے میں ایک نبی ہوں۔

چنانچہ اس کے بارے میں کسی کو کوئی الجھن نہ ہو نے پائے، اس کو ہم تھوڑی وضاحت سے بیان کر تے ہیں۔ 

پہلے ہم اس کو دیکھتے ہیں کہ اس آیت کے سلسلہ میں رشاد خلیفہ کیا کہتا ہے۔ 

‏’’اس پر انیس ہے ‘‘ کا مطلب ہے کہ قرآن مجیدپر انیس ہے ۔ قرآن مجید پر انیس ہے کا مطلب انیس کے ہندسے میں قرآن مجید پابند ہے۔ یہی دلیل ‏ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔

‏) قرآن میں 114سورتیں ہیں۔ 114کا ہندسہ انیس سے برابر تقسیم ہو تا ہے۔ 

‏) بسم اللہ الرحمن الرحیم کا جملہ قرآن میں 114جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بھی انیس سے برابر تقسیم ہو تا ہے۔ 

‏) بسم اللہ الرحمن الرحیم کی حرفوں کو جمع کرو تو وہ بھی انیس سے برابرتقسیم ہو تا ہے۔ 

اس طرح قرآن میں سے جو بھی اٹھاؤ وہ انیس سے برابر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس حساب سے وہ بندش رہنے کی وجہ ہی سے سند ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔ 

زمانہ جدید میں قرآن مجید کو اللہ کا کلام ثابت کر نے کے لئے اس عجیب انکشاف کو اللہ نے مجھے عطا کی ہے۔ اس لئے قرآن مجید کو تصدیق کر نے والا ‏رسول میں ہوں۔ 

یہی رشاد خلیفہ کا دعویٰ ہے۔ 

وہ بکواس کر تا ہے کہ انیس کے حساب سے تقسیم نہ ہو نے کی وجہ سے قرآن میں سے دو آیتوں کو نکال دیا جائے۔ اس کو نکال کر دیکھا جائے تو سارا ‏قرآن ہی انیس کے اندر مسدود ہے۔ 

اس زمانے میں دنیا بھر میں یہی انیس کے بارے میں چرچہ چل رہا تھا۔ پھر بھی یہ جان کر کہ یہ ایک واہیات ہے ، چند ہی سالوں میں معدوم ہو گیا۔

یہاں ہم تین باتوں کو واضح کر نے والے ہیں:

‏1۔ اس آیت کو رشاد خلیفہ نے جو تشریح کیا تھا، کیاوہ صحیح ہے؟

‏2۔رشاد خلیفہ نے جو کہا ہے کہ قرآن مجید انیس میں یا ہندسے کے اندرمسدود ہے، کیا وہ حقیقت ہے؟ 

‏3۔ رشاد خلیفہ ایک دلی مریض ہے ، اس کی دلیل خود اس کی تحریروں میں سے۔ 

اب پہلی بات کو لے لیں۔

قرآن پر انیس ہے کہہ کر اس نے جو دعویٰ کیا تھا کہ پورا قرآن ہی انیس کے اندر مسدود ہے ، قطعاً غلط ہے۔ 

عربی زبان کو پوری طریقے سے نہ جاننے والے بھی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس آیت کا معنی یہ نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ عربی زبان کے قواعد کے ‏مطابق رشاد خلیفہ کا کہنا غلط ہے۔ 

یہ تشریح کس طرح غلط ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے عربی زبان کے قواعد کی ایک بات کو جان لینا ضروری ہے۔ 

عربی زبان میں مرد اورعورت ہی کی طرح دوسری جاندار اور بے جان چیزوں کو بھی کہا جاتا ہے۔ 

عربی زبان میں نر اور مادہ کے سوا دوسراکوئی جنس نہیں ہوتا۔ 

ہم انسانوں کے بارے میں بات کریں یا دوسرے کسی کے بارے میں بات کریں نر اور مادہ دو ہی قسم عربی زبان میں ہوتا ہے۔ 

سورج کے طلوع کے بارے میں کہنا ہو تو سورج طلوع ہو تا ہے کہنا چاہئے، اور جب بارش کے بارے میں کہنا ہو تو بارش ہورہی ہے کہنا چاہئے۔ 

اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ہوا مونث ہے یا مذکر تو وہ ہمیں تعجب سے دیکھے گا ۔ لیکن عربوں سے پوچھو تو وہ فوراً کہدیں گے کہ ہوا مونث ہے۔ عربی ‏زبان میں ہی کہہ سکتے کہ ہوا چلتی ہے۔

کوئی بھی لفظ ہو کونسا مذکر ہے اور کونسا مونث ہے اس کو عرب لوگ عام طور سے جھٹ سے کہہ دیں گے۔ 

اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے مندرجہ بالا آیت پر غور کر نا چاہئے۔’ عَلَےْھَا‘ کے لفظ کو ہم نے’ اس پر‘ ترجمہ کیا ہے۔

اس کا براہ راست معنی ہے ’اس پر (مونث)‘ ۔عَلَےْہِ کا معنی ہے ’اس پر (مذکر)‘۔

اصل متن میں علیھا کہنے کی وجہ سے ہمیں ایک اور بات بھی سمجھ لینی چاہئے۔ 

عربی زبان میں قرآن مذکر ہے۔ قرآن کی طرف اشارہ کرنیوالے ذکر اور فرقان وغیرہ بھی مذکر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ 

اس لئے’ اس پر‘ جو ترجمہ کیا گیا ہے اس جگہ پر اصل متن میں علیھا کہہ کر استعمال کر نے کی وجہ سے ہر گز وہ قرآن کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ ’ ‏اس پر‘ کے ترجمہ سے سادہ لوح انسانوں کو فریب دیتے ہیں۔ اگر قرآن کو مونث کے صیغے میں استعمال کر تے ہوئے دیکھیں تو عرب لوگ ہماری ‏لاعلمی پر ہنس پڑیں گے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی قواعد کے لحاظ سے ’ اس پر‘ کا لفظ قرآن کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ 

اگر ان کا دعویٰ اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن پر انیس ہے کہنے پر ہی انیس کی حدود میں قرآن مسدود ہے ، توان کا یہ دعویٰ ٹھیک ہو سکتاہے۔ ‏اگریہ قرآن کی طرف اشارہ نہیں ہے تو انیس کے ہندسے میں قرآن مسدود ہے کا دعویٰ آغاز ہی میں گرجا تا ہے۔ 

اگر ’اس پر‘ کا لفظ قرآن کی طرف اشارہ نہیں کر تاتو وہ کس طرف اشارہ کرتا ہے، آئے وضاحت سے دیکھیں!

تیسویں آیت انیس کے بارے میں کیا کہتی ہے، اس کو جاننے کے لئے آیت نمبر چوبیس سے اکتیس تک اگر غور کریں توبس، کسی کی تشریح کی ‏ضرورت نہیں ہوگی۔ 

یہاں چوبیس اور پچیسویں آیت قرآن کے بارے میں اور چھبیس اور ستائیسویں آیت دوزخ کے بارے میں کہتی ہیں۔ 

قرآن کے بارے میں کہنے والی دونوں آیتوں میں ھٰذِہِ کے بجائے ھٰذَا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

عربی میں دوزخ کے لئے نارکا لفظ مونث ہے۔ 

‏’اس پر‘ کے لئے علیھا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس لئے ’قرآن پر‘ کا معنی لینا عربی قواعدکے مطابق غلط ہے۔ اس لئے دوزخ پر کا معنی لینا ہی ٹھیک ‏ہے۔اس آیت میں کہا ہی نہیں گیا ہے کہ قرآن انیس کے ہندسے پر کاربند ہے۔

یہ آیت یہی کہتی ہے کہ دوزخ پر انیس ہے ۔ دوذخ پر انیس ہے کا مطلب کیا ہے؟ 

انیس ہیں، یا انیس ہے کہنے کی وجہ سے عربی میں دونوں کو ایک ہی طرح سے کہنا چاہئے۔ 

انیس اشخاص ہیں بھی اس کو معنی دے سکتے ہیں ، یا انیس ہے کہہ کر دیگر جانداروں اور چیزوں کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

اس کا ٹھیک معنی یہی ہے کہ ’’جہنم میں اس کو داخل کروں گااور اس پر انیس اشخاص ہیں‘‘ ۔انیس اشخاص ہیں کہنے کے بعد کہا گیا ہے کہ جہنم کے ‏داروغہ فرشتوں ہی کو ہم مقرر کئے ہیں ۔ اس لئے یہ آیت کہتی ہے کہ دوزخ کے ان محافظوں کی گنتی انیس ہے۔ 

انیس اشخاص جہنم کے داروغہ مقرر ہو نے کے باوجود تیرے رب کے لشکرتو بے حساب ہیں کہہ کر اکتیسویں آیت ختم ہوتی ہے۔ ایسا نہ سمجھ لینا کہ ‏انیس فرشتے ہی رب کے پاس ہیں۔ یہ جملہ یقین دلاتا ہے کہ تمہارے رب کے لشکروں کو کو ئی نہیں گن سکتا۔

چنانچہ اس ‏‏�آیتمیںقرآنکےبارےمیںیاوہانیسکےاندرکاربندہونےکےبارےمیںکہاہینہیںگیا۔اسلئےاسکودلیلبناکررشادخلیفہنےجودعویٰکیاتھاسببیکارگیا۔

اگررشادخلیفہکےکہنےکےمطابقانیسمیںہیسبکچھکاربندہےبھیتواسکواوراسآیتکوکوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ اس کو ایک فضیلت سا ‏اللہ نے بنایا۔

اس نے جس آیت کو دلیل بنا کر دعویٰ کیا تھا کہ قرآن انیس کے ہندسے میں کاربند ہے ، اس کو اور اس کے دعوے کو کوئی تعلق نہیں ہے، یہی اس ‏کے لئے کافی جواب ہے۔ 

پھر بھی اس کے کہنے کے مطابق قرآن کیا انیس کے ہندسے میں کاربند ہے اوروہ جو حساب دکھاتا ہے کیا وہ تمام ٹھیک ہیں؟ آؤ اسے بھی جانچ کریں!

اس کے کہنے کے مطابق قرآن انیس کے ہندسے کا ہرگزپابند نہیں ہے۔ رشاد خلیفہ نے صرف پچاس مقام ہی کو انیس کے اندر کاربند ہوتے ہو ئے ‏دکھایا ہے۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ باقی کے تمام آیتیں، ان آیتوں میں موجود الفاظ، اور ان لفظوں میں موجود حروف کوئی بھی اس انیس کے اندر ‏سمائی ہوئی نہیں ہے۔ 

پورا قرآن انیس کے اندر کاربندہے، یہی رشاد خلیفہ کا دعویٰ ہے۔ وہ صرف پچاس مقام کو انیس کے اندار کاربند ہوتے ہوئے دکھاتا ہے۔ لاکھوں ‏الفاظ کے قرآن میں اس کی طرح اگر ڈھونڈنے لگیں تو پچاس مقام سے زیادہ جگہوں میں دیکھوگے کہ وہاں اٹھارہ کا ہندسہ کاربند ہے۔ اسی طرح ہر ‏ایک ہندسہ میں چند الفاظ ملے بغیر نہیں رہے گا۔ 

اس بنیادی حقیقت کو وہ بھی نہ جان سکا اور اس کی بکواس کی پیروی کر نے والے بھی نہ جان سکے۔ 

بعض الفاظ انیس کے ہندسے میں کاربند ہونے کو دیکھ کر اگر کوئی تعجب سے سوال کر ے تو ان کے لئے یہی جواب کافی ہے کہ صرف انیس ہی نہیں ‏بلکہ بہت سارے ہندسوں میں کاربند ہو نے والے الفاظ بھی قرآن مجید میں موجود ہیں۔ 

‏(انیس سے تقسیم ہو نا کوئی تعجب کی بات نہیں، اس کو ثابت کر نے کے لئے بائبل میں بھی انیس سے تقسیم ہو نے والے کئی لفظوں کو ہم تحقیق رکھے ‏ہیں۔)

قرآن مجید میں کل 114سورتیں ہیں۔ یہ ہندسہ انیس سے برابر تقسیم ہو تا ہے۔ (6‏X19=114‎‏)

وہ کہتا ہے کہ 114سورتوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نویں سورت میں جگہ نہیں پائی ہے۔اس لئے صرف 113بسم اللہ ہی آتے ہیں۔یہ تو 19 ‏سے تقسیم نہیں ہو گا۔میں نے تلاش کی تو 27:30 آیت میں ایک بسم اللہ کو ڈھونڈ نکالا۔ اس سے 114برابر ہو گیا۔ وہ بھی انیس کے اندر آگیا۔

یہ دونوں حساب تو ٹھیک ہیں۔قرآن میں 114 سورتیں ہونے کی وجہ سے وہ انیس سے تقسیم ہوگی ہی۔ 

‏114 کا ہندسہ انیس سے برابر کاتقسیم ہونا حقیقت ہے۔ لیکن 114 کا ہندسہ چھ سے بھی برابر کا تقسیم ہو تا ہے، تین سے بھی برابر کا تقسیم ہو تا ‏ہے، دو سے بھی برابر کا تقسیم ہو تا ہے، 38سے بھی برابر کا تقسیم ہو تا ہے، 57سے بھی برابر کا تقسیم ہو تا ہے۔ صرف 19سے تقسیم ہو کر کسی اور ‏ہندسے سے اگر تقسیم نہ ہو نے پائے تو ہی انیس سے ہوتی ہے کہہ کر تعجب کر سکتے ہیں۔ 

اس نے اس سے ختم نہیں کیا۔وہ کہتا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں موجود ہر ایک لفظ کو گن کر دیکھاتو وہ بھی انیس سے تقسیم ہو تے ہوئے دیکھ ‏کر تعجب ہوا۔ 

یعنی بسم، اللہ، رحمن اور رحیم وغیرہ الفاظ قرآن میں کتنی جگہ پر آئی ہیں، میں نے گن کر دیکھا تو تعجب ہوئی۔ان سب کو انیس کے اندر کاربند دیکھ کر ‏میں حیرت میں پڑگیا۔ 

یعنی اس نے کہا ہے کہ اللہ کا لفظ پورے قرآن میں 2698بار آیا ہے۔ وہ لفظ انیس سے 142بار برابر کا تقسیم ہو تا ہے۔ ‏‏(142‏X19=2698‎‏)

اس نے 2698بار کو ایسے ہی نہیں کہہ دیا۔جس جس آیت میں اللہ کا لفظ جگہ پایا ہے ان سب کا ایک فہرست اپنی کتاب میں اشاعت کیا ہے۔ اس ‏کی اشاعت شدہ کتاب میں صفحہ نمبر30 سے 63 تک 34 صفحات میں اللہ کا لفظ جگہ پانے والی آیتوں کی فہرست پیش کیا ہے۔

اللہ کا لفظ جگہ پائے ہوئے اور بھی کئی آیتوں کو اس فہرست سے نظر انداز کردیا ہے۔

جن آیتوں میں اللہ کا لفظ ہی نہیں ہے ، اس میں اللہ کا لفظ ہے کہہ کر جھوٹ کہا ہے۔ اور بھی کئی فریب دے کر 142‏X19=2698‎‏ کا حساب ‏پیش کیا ہے۔

مثال کے لئے چند فریب دہی کو ملاحظہ فرمائیے۔

پچیسویں سورہ میںآیت نمبر 68میں اللہ کا لفظ اس نے ایک بارکہاہے، لیکن اس آیت میں اللہ کا لفظ دو بار کہا گیا ہے۔ 

چالیسویں سورہ میں آیت نمبر 74 میں اللہ کا لفظ اس نے ایک بار کہا ہے، لیکن اس آیت میں اللہ کا لفظ دو باراستعمال ہوا ہے۔ 

‏46 ویں سورہ میںآیت نمبر 23میں اللہ کا لفظ اس نے دو بار کہا ہے ۔ لیکن اس آیت میں اللہ کا لفظ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ 

اس کی ایک اور عیاری کی طرف بھی اشارہ کر ناضروری ہے۔ یعنی اس کا دعویٰ ہے کہ نویں سورہ میں آخر دو آیتوں کو بیچ میں داخل کیا گیا ہے۔ قرآن ‏کی تمام آیتوں کو انیس سے تقسیم کریں تو دو بچت ہو جا تے ہیں۔ چنانچہ اس کا دعویٰ ہے کہ نویں سورہ کی آخر دو آیتیں قرآن میں شامل نہیں ہیں۔ 

اس طرح دعویٰ کر نے والاوہ شخص اس کی فہرست میں اس آیت 9:129کو بھی شامل کرلیاہے۔ جس میں اللہ کا لفظ ایک بار استعمال ہو ا ہے۔ اس ‏کے دعوے کے مطابق یہ آیت قرآن میں نہیں ہے۔ 

اس کی فہرست کو اس نے جمع کر دیکھاتو 2697ہی آتی ہے۔وہ انیس سے برابر تقسیم ہو نے کے لئے ایک کم ہوتا ہے۔ اس لئے اس نے جس کو ‏قرآن میں نہیں کہا اسی کو اس کے حساب میں شامل کر کے اس کو 2698بنا دیا۔ 

اس سے اچھی طرح ثابت ہو تا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی گنتی میں اللہ کا لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ اور وہ انیس سے بھی تقسیم نہیں ہوتا ‏ہے۔ 

رحیم کا لفظ قرآن میں 115جگہوں میں جگہ پائی ہے۔ وہ تو 114 کہہ کر فہرست بھی پیش کیا ہے۔ اس فہرست میں اس نے اس آیت 9:128کو ‏شامل نہیں کیا۔ اس آیت میں رحیم کا لفظ ایک بار استعمال کیاگیا ہے۔ 

اس سے پوچھا گیا کہ اس کو تم نے کیوں شامل نہیں کیا تو کہتا ہے کہ یہ آیتیں 9:128 اور 9:129 قرآن میں نہیں ہیں۔ اس کو قرآن سے منسوخ ‏کر نا چاہئے۔ 

رحیم کوشامل کر تے وقت درمیان میں داخل ہوا کہہ کر رد کرنے والااللہ کو شامل کر تے وقت اس آیت کو اختیار کر لیتا ہے۔ 

ایک جگہ میں اس آیت کواختیار کر لیتا ہے ، دوسری جگہ میں اس کو رد کر دیتا ہے۔ 

یہ حساب کر تے وقت کئی قسم کی مسخرہ پن دکھائے گا۔ 

اس کے مرضی کے مطابق اگر انیس میں آجائے تو اس ک چھوڑ دے گا۔ اگر انیس میں نہ آئے تو کئی طرح کی دیوانہ پن سے کہہ دے گا کہ وہ انیس ‏میں مسدود ہے۔ 

اللہ اور رحیم کے لفظ کو گنتے وقت اس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم میں بھی وہ دونوں لفظ موجود رہنے کے باوجود اس کو نظر انداز کردیا۔ 

‏113سورتیں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع ہو تی ہیں۔ 27ویں سورہ میں 30ویں آیت کے درمیان ایک بار بسم اللہ الرحمن الرحیم جگہ ‏پایا ہے۔

یہ حساب کرتے وقت کہ اللہ اور رحیم وغیرہ الفاظ کتنے جگہوں میں ہے ، بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بھی حساب میں لینا چاہئے۔ کیونکہ اس میں اللہ اور ‏رحیم استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس نے 113 سورتوں میں استعمال ہو نے والے 113بسم اللہ کو حساب نہیں کیا۔

‏113جگہوں میں جو 113اللہ کا لفظ ہے اور 113رحیم کا لفظ ہے، اس کو حساب میں نہیں لیا گیا۔ 

اس کے حساب سے اللہ کا لفظ قرآن میں 2698بار آیا ہے۔ وہ انیس سے تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اور بھی شامل کئے جانے والے بسم اللہ میں ‏‏113اللہ کا لفظ بھی شامل کریں تو کل (2698+113)2811=ہوتے ہیں، یہ انیس سے تقسیم نہیں ہوتی۔

اس کے حساب سے رحیم کا لفظ 114ہیں۔ اس کے ساتھ 113بسم اللہ میں موجود 113 رحیم بھی ملائیں تو 227ہوتے ہیں۔ یہ انیس سے تقسیم ‏نہیں ہوتیں۔ اسی لئے اس حساب میں بسم اللہ میں موجود اللہ اور رحیم کے لفظ کو اس نے شامل نہیں کیا ۔ 

رحمن کا لفظ 57بارجگہ پایا ہے۔ وہ کہتا ہے یہی انیس سے برابر تقسیم ہوتا ہے۔ وہ بھی غلط ہے۔ 113جگہوں میں جگہ پانے والی بسم اللہ الرحمن ‏الرحیم میں 113بار رحمن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے ساتھ اس کو بھی اگر ملائیں تو 170 ہوتا ہے، یہ انیس سے تقسیم نہیں ہوتا۔ 

اگر دیکھا گیا تو مسئلہ بسم االلہ الرحمن الرحیم کا ہی ہے۔اس میں جو الفاظ ہیں اس کو گھٹاکر حساب کرنا بکواس کے سواکچھ نہیں۔

تمام حساب میں اگر وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو شامل نہیں کرتا تو ایک لحاظ سے برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن چند جگہوں میں بسم اللہ کو بھی بنا نمبر کے ‏آیت کہہ کر شامل کر لیتا ہے۔ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم میں پہلا جو لفظ ہے بسم ، کیا اس میں انیس مسدود ہے؟ اس کے بارے میں اس کی بکواس دیکھو۔ 

وہ کہتا ہے کہ بسم تین جگہوں میں جگہ پائی ہے۔ آیت 96:1میں جو بسم جگہ پائی ہے اس بسم کو حساب میں نہیں اٹھئے گا۔ کیونکہ اس آیت میں لکھتے ‏وقت ایک زیادہ الف لکھا گیا ہے۔ 

اچھا، تیں جگہوں پر ہی تو بسم آئی ہے، وہ کیسے انیس سے تقسیم ہو سکتی ہے تووہ کیا کہتا ہے، سنئے!

قرآن میں تین جگہوں میں بسم جگہ پائی ہے نا، ان جگہوں پرغور کرو!

ستائیسویں سورہ میں تیسویں آیت میں ایک بار بسم استعمال ہوا ہے۔ 

اس کے ساتھ 30 کوملاؤ۔ 57آگیانا؟ (کیوں ملایا جائے ، پوچھو مت!)

اس کے ساتھ بسم جگہ پائے ہوے ان تین جگہوں کو ملاؤ تو 60 آتا ہے ؟ 

اس کے بعد گیارھویں سورہ میں 41 آیت میں بسم جگہ پائی ہوئی ہے۔ اس لئے 41 کے ساتھ 11 کو ملاؤ تو 52 ہوتا ہے۔ 

پہلے جو ملایا گیا تھا اس 60 کواس 52سے ملاؤ تو 112 آتا ہے۔ 

اس کے بعد پہلی صورت میں پہلی آیت میں جو بسم موجود ہے ، اس میں ایک سے ایک ملاؤ تو دو ہوتا ہے۔ 

پھر اس 112 سے ان دو کو ملاؤ تو 114آجائے گا۔ 

اب تو یہ انیس سے تقسیم ہو سکتی ہے۔ 

اسی طرح وہ پاگل بکواس کیا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا بسم کا لفظ انیس سے تقسیم ہونے والا ہے؟ اس کا جواب ہو ناچاہئے ، نہیں۔ 

بسم کا حساب شاید اسی کو مضحکہ خیز معلوم ہو اہوگا۔ اس لئے وہ دوسرے ایک حساب کو چلا کہ بِ کو چھوڑ کر اسم کا لفظ کتنی جگہوں میں جگہ پائی ہے۔

ایک فہرست بنایا کہ اسم کا لفظ کل انیس جگہوں میں آتا ہے۔ اس میں بھی مکاری دکھائی ہے۔ 

اسم کا لفظ تنہا کل چودہ جگہوں میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں کے ساتھ جیسے الاسم، بسم اور اسمہُ دس جگوں میں آتا ہے۔ اس طرح کل چوبیس جگہوں ‏میں اسم کا لفظ جگہ پایا ہے۔ لیکن اس نے 19جگہ کہہ کر جھوٹا حساب دکھایاہے۔ 

اب تم سمجھتے ہو کہ اس کی یہ تحقیق کتنی بیہودہ ہے ؟

قرآن مجید میں بعض سورتوں کے آغاز میں جملوں کے بجائے چند خاص حروف جگہ پائی ہیں۔ 

اس طرح قرآن میں کل 29سورتیں ہیں۔ وہ یہ ہیں:

‏2، 3، 7، 10، 11، 12، 13، 14، 15، 19، 20، 26، 27، 28، 29، 30، 31، 32، 36، 38، 40، 41، 42، 43، 44، 45، ‏‏46، 50، 68۔ 

ان جیسے سورتوں کو اس نے نام دی ہے انشیل سورے۔اس کا دعویٰ ہے کہ ہر ایک انشیل سورے میں بھی انیس سے تقسیم ہو نے کی حد تک ہی یہ ‏انشیل حروف جگہ پائی ہیں۔ یہ انیس کی بہت بڑی کرامت ہے۔ 

یعنی البقرہ نامی دوسری سورت میں الف لام میم کے تین حروف جگہ پائی ہیں۔ اس سورہ میں کتنے الف ہیں ، اگر گنا جائے تو وہ انیس سے تقسیم ہونے ‏والی حد تک ہی ہوں گی۔

اسی طرح اس سورہ میں کتنے لام ہیں ، اگر گناجائے تو وہ بھی انیس سے تقسیم ہونے والی حد تک ہوں گی۔

اسی طرح اس سورہ میں کتنے میم ہیں ، اگر گناجائے تو وہ بھی انیس سے تقسیم ہونے والی ہوں گی۔

اس نے یہ بھی کہا ہے کہ آج تک کوئی انکشاف نہ کر سکا کہ چودہ سو سال سے انشیل حروف کیوں جگہ پائی ہیں، اس کو میں نے انکشاف کی ہے۔ قرآن ‏انیس کے اندر مسدود ہے اس کی گواہی کے لئے ہی اس کوقایم کیا گیا ہے۔ 

الف لام میم جیسے حروف چند سورتوں کی آغاز میں کیوں رکھا گیا ہے ، یہ نہ جاننے والے لوگوں کواس کی وہ بکواس کوئی فلسفہ سا معلوم پڑا۔اس لئے ‏لوگ یہ سمجھ کر اس کی تعریف کر نے لگے کہ دوسرے لوگ قرآن کو بے معنی کر دیا تھا ، اسی نے اس کو بامعنی بنایاہے۔

لیکن انشیل حروف کو اس کے کہنے کے مطابق حساب کریں تو ہر گز وہ ٹھیک نہیں ہے، اس سے اس کی مکاری ثابت ہوتی ہے۔ 

قرآن مجیدمیں پچاسویں سورہ کی آغاز میں جو قاف ہے اس کے کہنے کے مطابق وہ انشیل حرف ہے۔ اسی کو مثال دے گا۔

پچاسویں سورہ میں قاف کا حرف 57 بار استعمال ہوا ہے۔ یہ انیس سے تقسیم ہوتی ہے،صحیح ہے۔ 

اس سورت کو پوری طرح چھاپ کر جہاں قاف استعمال ہوا ہے اس جگہ پر کچھ نشان لگا کر دکھاتاہے۔ اس کے پیروکار کو وہ بہت خوشی کا باعث ‏ہوگا۔ 

اس کے بعد 42 ویں سورت میں قاف انشیل حرف آیا ہے۔ اس سورہ میں بھی قاف57 بار جگہ پایا ہے۔ یہ بھی انیس سے تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ‏دیکھ کر اس کے پیروکار حیرت کی بلندی ہی کو پہنچ جاتے ہیں۔ 

اگر اس کا کہنا سچ ہو تا تووہ ہر سورہ میں اس کو دکھانا چاہئے۔ سورہ بقرہ سے وہ ثابت کر نا چا ہئے تھا۔ اس کے بارے میں اس کے مرید سوچتے نہیں۔ اسی ‏لئے اس کی مکاری کے بارے میں ہر چیز کو خلاصہ کر نا پڑتا ہے۔ 

پچاسویں سورہ میں انشیل حرف قاف جگہ پانے کی وجہ سے وہ انیس سے تقسیم ہو تی ہے، اس طرح کہنے والا رشاد خلیفہ کہتا ہے کہ 42ویں سورہ میں ‏بھی قاف کاانشیل حرف آیا ہے، وہ بھی انیس سے تقسیم ہو تا ہے۔ اس 42ویں سورہ میں صرف قاف ہی انشیل حرف نہیں ہے۔ 

بلکہ حا میم عین سین قاف کے پانچ انشیل حروف بھی ہیں۔ پانچویں حرف قاف 57 بار تقسیم ہوتا ہے کہنے والا رشاد خلیفہ باقی کے چار حرفوں کے ‏بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔ 

اس سورہ میں حاکا جو حرف ہے وہ 51بار ہی جگہ پایا ہے، وہ انیس سے تقسیم نہیں ہوتا۔ 

اس سورہ میں میم کا جو حرف ہے وہ 297 بارجگہ پایا ہے، یہ بھی انیس سے تقسیم نہیں ہوتا۔ 

اس سورہ میں عین کا جو حرف ہے وہ 98 بارجگہ پایا ہے، یہ بھی انیس سے تقسیم نہیں ہوتا۔ 

اس سورہ میں سین کا جو حرف ہے وہ 53 بارجگہ پایا ہے، یہ بھی انیس سے تقسیم نہیں ہوتا۔ 

حا میم عین سین قاف کے پانچ انشیل حروف والے اس سورہ میں چار حروف انیس سے تقسیم نہیں ہوتے۔ صرف قاف ہی تقسیم ہو تا ہے۔ اسی لئے ‏اس نے ان چار حرفوں کو نظر انداز کر دیا اور صرف قاف کے حرف کو ایک خاص نشان دے کر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ 

کام دام چھوڑ کر کوئی گنتے نہیں بیٹھے گا ، اس بھروسے سے اس نے نظر انداز کردیا۔ 

اسی 42ویں سورہ میں اس نے ایک اور حماقت کر کے حساب دکھایا ہے کہ سب انیس کے اندر مسدود ہے۔ 

اسی طرح اس نے حرفوں کو آگے پیچھے گھما پھرا کر اس انیس کو ثابت کر نے کی کوشش کی ہے۔

اس سے کہیں اورزیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کا رسول ثابت کر نے کے لئے دلائل پیش کیا ہے۔ اس کو معمولی ایک انسان بھی ‏پاگل پن کہہ سکتا ہے۔ 

اس سے پہلے ایک اور بات کو سمجھ لینا ضروری ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ آج کے زمانے میں نیومرالجی کے نام سے حرفوں کو ایک ہندسہ دے کر کئی قسم کی حماقتیں چلی آرہی ہیں۔ اس باطل عقیدے کو ‏مسلمانوں میں جو بدمذہب ہیں ، انہوں ہی نے راستہ دکھا یا ہے۔ تعویز، جھاڑ پھونک، بندش وغیرہ کاموں کے لئے کارآمد ہونے کی وجہ سے ایسا ‏ایک حساب انکشاف کیاگیا ہے۔ اسی باطل عقیدے کے حساب کووہ اپنے لئے سند بتاتا ہے۔ 

اسی قسم سے دینی علم نہ رکھنے والے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو 786سے پیش کر تے ہیں۔اس کو ابجد کا حساب کہا جاتا ہے۔ اس حرف کو یہ ہندسہ ‏،کس نے مقرر کیا؟ کیااللہ نے ؟ قرآن میں براہ راست یا پوشیدہ طور پر اللہ نے اس طرح کہا ہے؟ ہر گز نہیں۔ 

یہود اپنی عبرانی زبان جو استعمال کیاکرتے ہیں وہی ابجد کاحساب ہے۔ چند لفظوں کے سوا تمام عربی الفاظ عبرانی زبان میں موجود ہیں۔عبرانی زبان ‏میں یہود جس حرف کو جو عدد دیتے ہیں اسی کو یہ لوگ بھی دیتے ہیں۔ عربی زبان کے چھ حروف عبرانی زبان میں نہ ہو نیکی وجہ سے صرف ان ‏حرفوں کو نئے ہندسے دیدیاگیا۔ 

اسی یہودی حساب کو دلیل بنا کر اپنے کو رسول کہتا ہے۔

اس کا نام رشاد خلیفہ ۔اس رشادمیں را کے لئے 200، شین کے لئے 300، الف کے لئے 1، دال کے لئے 4، ان چار حرفوں کی مقدار ہے ‏‏505۔ 

خلیفہ کے حرفوں میں خاکے لئے 600، لام کے لئے 30، یا کے لئے 10، فا کے لئے 80، ہا کے لئے 5، کل پانچ حرفوں کی مقدار 725ہوتے ‏ہیں۔ 

ان دونوں ہندسوں کو ملاؤ تو 1230ہو تے ہیں۔ 

اس کو بنیاد رکھ کر وہ اپنے آپ کو رسول کہنے کا طریقہ دیکھو!

اس آیت 2:119میں جو کہا گیا ہے کہ ہم نے تم کو حق کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا ۔ اس کا دعویٰ ہے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ کیا تم پوچھتے ہو کہ ‏اس کے لئے کیا دلیل ہے؟ سنئے! رشاد کا ہندسہ 505، خلیفہ کا ہندسہ 725، ان دونوں کے ساتھ 119 کو ملاؤ تو 1349 آتی ہے نا؟ اس کو تم ‏انیس سے بآسانی تقسیم کر سکتے ہو۔انیس کومیں نے ہی دریافت کیا، اس لحاظ سے وہ میری ہی طرف اشارہ ہے۔یہی اس کا دعویٰ ہے۔ 

یعنی اس آیت کا نمبر 119 ہو نے سے اس کے نام کے ساتھ اس 119 کو ملاؤ کہتا ہے۔ 

اس کے دعوے ہی سے ہم معلوم کر سکتے ہیں وہ کتنا پاگل ہے۔پھر بھی اس نے ایک اور دلیل بھی پیش کیا ہے۔ اس کو دیکھو تو تم یقین کے ساتھ اس ‏کے بارے میں معلوم کر سکتے ہو۔ 

اس آیت5:19 میں کہا گیا ہے کہ ہمارے رسول تمہارے پاس آگئے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ کیا تم پوچھتے ہو وہ ‏کیسے؟اگر تم سوچوگے کہ پہلے جو کہا تھا اسی طرح اب بھی کہے گا؟ ہر گز نہیں۔ 

اس نے پہلے جو کہا تھا 1230 اس کے ساتھ 19 کوملاؤ تو 1249ہوتے ہیں۔تم الجھوگے کہ یہ تو انیس سے تقسیم ہو نہیں سکتی۔ اس پاگل کو اس ‏کے بارے میں فکر نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ایک اور پانچ کو اس کے ساتھ ملاؤتو 1254 آتا ہے، وہ انیس سے تقسیم ہو جائے گی۔ پانچ کو کیوں ملایا ‏جائے؟ یہ آیت توپانچویں سورہ میں ہے، اس لئے اس پانچ کو ملا لو۔ 

انسان جس دن سے ہندسوں کو جان لیا اس پر ایک قسم کی حیرت او ر خوف پیدا ہو گئی۔اور اعتبار کر نے لگا کہ بعض ہندسے اس کو بھلائی پہنچاتی ہیں اور ‏بعض برائی پہنچاتی ہیں۔ راس آنے والے چند ہندسوں کو منتخب کر لیا اور چند ہندسوں کو راس نہیں کہہ کر ہٹا دیا۔ 

نیومرالجی کے نام سے ایک حساب مرتب کیا۔ ہر حرف کو ایک ہندسہ مقرر کیا۔چند منتروں کولکھ کر اس کو نیومرالجی کے حساب میں بدل دیا۔اس ‏ہندسوں کوملاکر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ سمجھتا تھا وہی اس منترکی طرف اشارہ ہے۔لمبے لمبے منتروں کو چھوٹے چھوٹے ہندسے میں تبدیل کیا۔ اس ‏طرح بدلے ہوئے ہندسوں کو پترے میں لکھ کر دیواروں میں ٹانگ دیا۔ کاغذوں میں لکھ کر ہاتھوں اور گلے میں لٹکا دیا۔ یہ سب اپنے لئے بھلائی ‏سمجھا۔ 

‏13جیسے نمبر والی گھروں میں بسنے سے انکار کر دیا۔ بارہ کے بعد تیرہ کے بجائے 12-‏A، ‏‎14‎، ‏‎15‎، ‏‎16‎‏ کو گھروں کا نمبر دینے لگا۔ 

جنگلی اور پہاڑی لوگ ہی نہیں بلکہ اچھے پڑھے لکھے امریکی اور یورپ کے لوگ بھی اس باطل عقیدے کے شکار ہیں۔ 

ہر زمانے میں اور ہر جگہ بعض لوگ ، بعض عدد کو افضل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح انیس کے عدد کوبھی بعض لوگ مقدس سمجھتے ہیں۔ 

اس کو اور اسلام کو کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب اسلام میں خلل پیدا کر نے کے لئے یہودیوں کی چال ہے۔ اس کو پڑھنے والے اچھی طرح سمجھ سکتے ‏ہیں۔   

More Articles …