Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

17۔ کیا سفارش کام آئے گی؟ 

آخرت میں کیا ایک دوسرے کی سفارش کر سکتے ہیں؟ اس کے لئے تین قسم کی رائے کہی جاتی ہے۔ 

1۔ بالکل سفارش نہیں چلے گی۔ 

2۔ نیک بندے اور انبیاء چاہنے والے کی سفارش کر سکتے ہیں۔

3۔ شرط کے ساتھ سفارش ہوگی۔

ان تین رائے میں پہلی دو رائے غلط ہے۔

صرف ان قرآنی آیتوں کو2:48، 2:123، 2:254، 6:51، 6:70، 6:94، 26:100، 32:4، 36:23، 39:43,44، 74:48 دیکھنے والے کہتے ہیں کہ آخرت میں سفارش ہی نہیں ہے اور سفارش کام نہ آئے گی۔ 

چند آیتیں کہتی ہیں کہ سفارش نہیں ہے۔اور چند آیتوں میں کہا گیا ہے کہ سفارش ہے۔ پھر بھی ان اختلافی آیتوں کو جوڑتے ہوئے چند آیتیں ایسی بھی ہیں جو کہتی ہیں کہ سفارش کے لئے چند شرائط ہیں۔ یہ آیتیں ان اختلاف کو دور کردیتی ہیں۔ 

کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے۔

۔قرآن : 2:255

اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر نے والا نہیں۔

۔قرآن: 10:3

ان آیتوں سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکتے۔اگر سفارش ہی نہیں ہے تو اس طرح کہہ نہیں سکتے۔

قرآن کی یہ آیتیں21:28، 19:87، 20:109، 34:23، 43:86، 53:26 کہتی ہیں کہ اللہ جسے اجازت دے تو وہ سفارش کرے گااور وہ سفارش کارآمد ہوگی۔

آخرت میں سفارش بالکل نہیں کہنا غلط ہے، یہ آیتیں اس کے لئے مناسب سند ہیں۔ 

سفارش رہنے کے باوجوداچھے مارکس لے کر اسی لمحے جنت میں جا نے کے لئے ہی ہر ایک کی پسند ہونی چاہئے۔ اسی کو ہم اللہ سے مانگنا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے یہ نہیں سکھایا کہ میری سفارش کو اللہ سے مانگو۔ یہی کہا ہے کہ گنہ گاروں کے لئے میری سفارش ہے۔یہ بھی کہا کہ چند کاموں کے ذریعے میری سفارش مل سکتی ہے۔ 

آخرت میں سفارش کر نے کے لئے اللہ کس کو اجازت دے گا ، کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے اس دنیا میں کسی بزرگ سے نہیں پوچھنا چاہئے کہ حضرت! مجھے آخرت میں سفارش کیجئے۔وہ اللہ کے اختیار میں مداخلت ہو جا ئے گا۔ 

مکہ میں رہنے والے اس طرح سفارش مانگنے ہی کی وجہ سے وہ لوگ مشرک ٹہرے، یہ آیت نمبر 10:18کہتی ہے۔

صرف یہی نہیں کہ سفارش کون کرے گا بلکہ کس کے لئے کر نا ہے، وہ بھی اللہ ہی فیصلہ کر ے گا، اس لئے سفارش کے لئے کسی سے نہ مانگیں۔

اللہ ہی جب معاف کر نے کا فیصلہ کر تا ہے تو وہ کسی کو بلا کر کہے گا کہ اس کی سفارش کرو۔ صرف نام کے لئے ہی وہ سفارش ہوگی، پر فیصلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ 

(دیکھئے بخاری: 99، 335، 448، 3340، 4476، 4712، 6304، 6305، 6565، 6570، 7410، 7440، 7474، 7509، 7510)

درگاہ کی عبادت کو انصاف ثابت کر نے والوں کی دیگر دلائل کس طرح غلط ہے، یہ معلوم کر نے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، 104، 121، 122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے۔ 

16۔ فضیلت دے گئے اسرائیل

2:47، 2:122، 45:16 ان آیتوں میں اللہ کہتا ہے کہ بنی اسرائیل کو دنیا والوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ 

اسلام کی بنیادی عقیدوں میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ کوئی انسان پیدائشی بنا پر کوئی فضیلت پا نہیں سکتا۔اس کو 2:111، 3:75، 49:13 وغیرہ آیتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس بنیادی عقیدے کے مطابق ہی اس کو ہم سمجھنا چاہئے۔ 

اس لئے یہ لفظ اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا کہ پیدائشی طورپر بنی اسرائیل اعلیٰ ہیں ۔ اسرائیلوں کو جو حکومت، اختیارات اور مالی سہولیات عطا کی گئیں اسی فضیلت کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

یعقوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، داؤد، سلیمان، زکریا، یحیےٰ، عیسیٰ وغیرہ اللہ کے رسول زیادہ تر اسرائیلوں میں ہی بھیجا گیاتھا۔یہ عظمت دوسروں کو نہیں ملی۔ قرآن کی آیت 5:20 اس بات کو واضح طور پر کہتی ہے۔ مندرجہ بالا آیتیں بھی اسرائیلوں کو عطا کی گئی انہیں اختیارات کے بارے میں کہتی ہے۔ 

وہ فضیلت بھی ہمیشہ قائم رہنے والی فضیلت نہیں تھی۔ان 2:47، 2:122، 45:16 آیتوں میں بھی ماضی کا صیغہ ’’فضیلت دی تھی ‘‘استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایک زمانے میں انہیں چند سہولتیں عطا کی گئی تھیں، اس کے سوا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہر زمانے میں فضیلت والے ہوں گے۔ 

قرآن کی یہ آیتیں 2:143، 3:110کہتی ہیں کہ روحانی حالات کے موافق نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ذمہداری سے عمل پیرا ہونے والی امت نبی کریم ؐ کی امت ہی ہے۔یہ فضیلت اسرائیلوں کو نہیں ہے۔ 

قرآن کی آیتیں 2:88، 2:159، 4:46,47، 5:13، 5:60، 5:64، 5:78 کہتی ہیں کہ اختیارات دے کر فضیلت کے قابل نبے ہوئے اسرائیل بعد میں اللہ کے سخت غضب اور لعنت کو حاصل کرنے والے بن گئے۔

15۔ سب باہر نکلو، یہ کس لئے کہا گیا؟ 

آدم ؑ اور ان کی بیوی دونوں ہی تھے، ان دونوں کو اللہ نے باہر نکال دیا۔ بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے میں اس آیت (2:38) میں کیوں کہا گیا ، تم سب باہر نکلو؟ 

دنیا فنا ہو نے تک سب کو وہ دونوں اپنے اندر سمائے ہوئے تھے۔ اس لئے ان میں سے صادر ہونے والے سب کو دھیان میں لیتے ہوئے ایسا کہا گیا ہے۔ 

آدم کی اولادکے پیٹھ سے ان کی نسلوں کو ظاہر کر کے اللہ نے ، کیا میں تمہارا معبود نہیں ہوں؟ پوچھ کر عہد لیا تھا، وہ خبر آیت نمبر 7:172 میں جگہ پائی ہے۔ 

اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آدم کے اندر سمائے ہوئے سب کو ذہن میں لیتے ہوئے تم سب باہر نکلو کہا گیا تھا۔

آج دنیا میں جینے والے، اس سے پہلے زندگی بسر کر کے گزر جانے والے، اس کے بعد پیدا ہو نے والے سب انسان ، پہلے انسان میں سمائے ہوئے تھے۔ تم سب باہر نکلو کے جملے کے ذریعے اس سائنسی حقیقت کو یہ آیت احساس دلاتی ہے کہ پہلے انسان ہی سے ہر ایک انسان کو تفریق کر نے والی توارثی نطفے کو نسل در نسل انسان حاصل کر لیتا ہے۔

قرآن کتاب الٰہی ہی ہے کے دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ آیتیں ہیں۔ 

14۔ آدم نے کس طرح معافی چاہا؟ آیت نمبر 2:37 کہتی ہے کہ اللہ کی طرف سے آدم ؑ نے چند جملے سیکھ لئے۔ اس آیت میں نہیں کہا گیا کہ وہ جملے کیا ہیں ، بلکہ آیت نمبر 7:23 میں کہہ دیا گیا ہے۔ 

اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کر ڈالا۔ اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ کرے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے، آیت نمبر 7:23 واضح کر تی ہے کہ یہی وہ جملے ہیں۔ 

اس آیت نمبر 7:23 سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ وہ بات کہہ کر دونوں نے معافی چاہا، اللہ نے انہیں معاف کردیا، اور اپنی غلطی کا احساس کر کے جو التماس کرتاہے اس کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ 

بعض لوگ ایک جھوٹی کہانی گھڑے ہوئے ہیں کہ آدم ؑ نے جو خطا کی تھی،اس کو نبی کریم ؐ کے بنا پر معافی چاہا۔ وہ جھوٹی کہانی یہی ہے:  آدم ؑ پیدا کئے جانے کے فوراًبعد انہوں نے جنت کو دیکھا۔ اس کے داخلی دروازے پر لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا،یااللہ! تیرے نام کے ساتھ جو محمد کا نام لکھا ہوا ہے، وہ کون ہیں؟تو اللہ نے جواب دیا کہ وہ آنے والے تمہارے جانشین ہیں۔ اگروہ نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔ اس کے بعد جب آدم ؑ نے حکم عدولی کی وجہ سے باہر نکالے گئے تو انہیں جنت میں محمد نبی کے بارے میں جو لکھا ہواتھا، یاد آگیا۔ جب انہوں نے ، یا اللہ! ان محمد کے بنا پر مجھے معاف فرما، کہہ کر دعا مانگی تو فوراً اللہ نے انہیں معاف کر دیا ۔ 

یہ خبر ترمذی اور حاکم وغیرہ میں درج کیا ہوا ہے۔اس خبر کو عبد الرحمن بن زید بن اسلم کے ذریعے روایت کی گئی ہے۔ وہ تو جھوٹی کہانیاں گھڑ نے میں مشہور تھے۔ اس لئے علماء کہتے ہیں کہ وہ خبر گھڑی ہوئی ہے۔

آدم ؑ نے کن الفاظ کو استعمال کر کے معافی چاہا تھا، وہ قرآن کی آیت نمبر 7:23 واضح طور پر کہتی ہے۔ اس کے بالکل برخلاف یہ خبر شائع ہوئی ہے۔ یہ گھڑی ہوئی جھوٹی خبر کہنے کے لئے یہ بھی ایک وجہ ہے۔ 

اس لئے اس خبر کو ماننا قرآن کے خلاف ہے۔

ایک شخص کی بناپر اللہ سے دعا مانگنا بے معنی ہے، اس بات کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 141دیکھئے۔ 

13۔ وہ درخت کونسا ہے جس سے روکا گیا؟

قرآن کی آیتیں 2:35، 7:19، 7:20، 7:22، 20:120 کہتی ہیں کہ ’’ اس درخت کے قریب نہ جاؤ‘‘۔ اس کے متعلق کئی لوگوں نے کئی خیالات ظاہر کئے ہیں۔ 

لیکن قرآن مجید میں بھی سہی اورحدیث میں بھی سہی یہ نہیں کہا گیا کہ وہ کونسا درخت ہے۔ درخت کونسا ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

بلکہ ہر قسم کی سہولتیں پہنچانے کے باوجودایک ہی درخت کے قریب نہ جانے سے آدم ؑ اپنے آپ کو روک نہ سکے اور انہیں باہر نکالے جانے کا سبب بھی وہی درخت بنا، یہی بات معلوم کر نے کی ضرورت ہے۔

کسی سند کے بغیر کہنا کہ شجر ممنوع یہی ہے، جھوٹ کہنے کے جرم میں شامل کر دے گی۔

6۔ کیا اللہ مجبور ہے؟

ان آیتوں کو 2:15، 2:88، 2:89، 2:152، 2:158، 2:159، 2:161، 3:87، 4:46، 4:47، 4:52، 4:93، 4:118، 4:147، 5:13، 5:60، 7:44، 9:68، 9:79، 11:18،24:7، 33:57، 33:64، 38:78، 47:23، 48:6، 64:17، 76:22سطحی طور پر دیکھا جائے تو بعض لوگ سمجھیں گے کہ اس میں اللہ کی کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ 

اللہ بے حد قدرتوں والا ہے۔اگر کوئی کام کر نا ہوتو صرف ’کن‘ کہنے سے وہ ہوجاتا ہے۔

لیکن ’’اللہ تدبیر کرتا ہے، اللہ مذاق اڑاتا ہے، اللہ دھوکہ دیتا ہے ‘‘ جیسے جملے ان آیتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ 

دھوکہ دینا، مذاق اڑانا وغیرہ ناتواں کمزوروں کا کام ہے۔ ہوجا کہہ کر پیدا کرنے کی قدرت رکھنے والا تدبیر اور دھوکہ بازی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ اللہ نے ایسا کیوں کہا۔

اکثر زبانوں میں ایسے جملوں کے معانی براہ راست لینے کے بجائے اس کو دوسرے معنوں میں بھی استعمال کیا جا تاہے۔ 

مثال کے طور پرجب ہم کہتے ہیں کہ ’’اگر تم حدسے گزروگے تو میں بھی حد سے گزروں گا‘‘ تو پہلے کی حد سے گزرنا ہی براہ راست کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ دوسرا جو حد سے گزرنا ہے وہ جوابی کاروائی کے معانی میں ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اگر کوئی ہمارے خلاف حد سے گزرتا ہے تو اس کو جواب دیناحد سے گزرنا نہیں ہوگا۔ 

’’اگروہ مذاق اڑائیں گے تو اللہ بھی مذاق اڑائے گا‘‘کو ’’مذاق اڑانے کا سزا دے گا‘‘کے معانی میں اور ’’اگر وہ تدبیر کر یں گے تو اللہ بھی تدبیر کر ے گا‘‘ کو ان کی ’’تدبیر کو ناکام کر ے گا‘‘ کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

’’تم کروگے تو میں بھی کروں گا‘‘کے انداز میں کہی ہوئی اللہ کی قدرت کے خلاف تمام جملوں کو اسی پیرائے میں سمجھ لینا چاہئے۔ تاکیدی انداز کے بجائے تعریفی انداز میں بھی ایسے جملے استعمال کئے گئے ہیں۔ 

اللہ کا فرمان ہے کہ ’’مجھے تم یاد کروگے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا‘‘،’’ تم شکر کرو گے تو میں بھی شکرکروں گا‘‘ ۔ اللہ ہمیں یاد کرنے کی ضرورت نہیں اور ہمیں شکر کر نیکی بھی ضرورت نہیں۔ ایسے جملوں کو ہم اس طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اس کا اجر دے گا۔ ’’اللہ لعنت کرتا ہے‘‘ کو ہم ’’وہ سزا دیتا ہے‘‘ سمجھنا چاہئے۔ 

4 ۔پہلے جو نازل ہوئیں ان آیتوں میں (2:4، 4:60، 4:136، 4:162، 5:59، 10:94) پہلے جو نازل ہوئیں ، ان کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

نبی کریم ؐ پر جس طرح قرآن نازل کیا گیا اسی طرح ان سے پہلے بھیجے گئے رسولوں پر بھی کتابیں نازل ہوئی ہیں۔

پہلے نازل شدہ کتابوں پر ایمان لانا، اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی پیروی کر یں، نبی کریم ؐ ہی کو نہیں بلکہ سب رسولوں پر کتاب نازل ہوئی ہیں، اس پر ایمان لانا ہی اس کا مطلب ہے۔ 

کیونکہ سابقہ کتابوں پر ایمان لانے کے لئے حکم دینے والا قرآن ہی 2:75، 2:79، 3:78،4:46، 5:13، 5:41وغیرہ آیتوں میں کہتا ہے کہ ان کتابوں میں انسانی قول شامل ہوگئی ہیں، تبدیل کیا گیا ہے، چھپایا دیاگیا ہے اور ترمیم کیا گیا ہے۔

اس پر بھی یقین لا نا چاہئے کہ قرآن کے سوا دنیا میں کوئی بھی کتاب تبدیل ہوئے بغیر نہیں ہے۔ 

کتاب الٰہی کے بارے میں مسلمانو ں کے درمیان چند غلط عقیدے پائے جاتے ہیں۔ 

’’تورات، زبور، انجیل اور قرآن ، یہ چار کتابیں ہی اللہ کے ذریعے نازل ہوئی ہیں‘‘ یہ بھی ان غلط عقیدوں میں سے ایک ہے۔ 

اس غلط فہمی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تورات، زبور، انجیل اور قرآن ان چار کتابوں ہی کے نام قرآن میں کہا گیا ہے۔

ان آیتوں میں 2:213، 14:4، 19:12، 57:25، 87:18,19 کہا گیا ہے کہ سب رسولوں کو کتاب عطا کی گئی ہے۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مندرجہ بالا چار کتب الٰہی کتاب نامی بڑی کتابیں ہیں، اورباقی کے تمام صحف نامی چھوٹی کتابیں ہیں۔ اور صحف نامی چھوٹی کتابیں چند رسولوں کو دی گئی ہیں۔

قرآن، تورات، انجیل اور زبورنامی چار کتابیں نبی کریمؐ ، موسیٰ نبی، عیسیٰ نبی اور داؤد نبی کو دئے گئے۔ اور کہتے ہیں کہ یہی چار کتابیں کتاب نامی بڑی کتابیں ہیں اور دوسرے رسولوں کو صحف نامی چھوٹی کتابیں دی گئیں۔ 

یہ بھی کتب الٰہی کے متعلق مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والا غلط عقیدہ ہے۔ 

اس کے لئے قرآن مجید میں یا قابل قبول حدیثوں میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

قرآن مجید میں آیت نمبر 98:2 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ صحف پڑھ کر دکھائیں گے۔ 

نبی کریمؐ کو جو نازل ہوی ہے اس کو کئی آیتوں میں کتاب کہا گیا ہے، لیکن اس آیت میں (98:2)صحف کہا گیا ہے۔اس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ کتاب اور صحف ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ 

کتب الٰہی کے لحاظ سے یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی رکھنے کے باوجود ترتیب دینے کے لحاظ سے دونوں میں فرق ہے۔

اگر الگ الگ ورق ہوں تووہ صحیفہ کہلاتا ہے، وہی اوراق ایک ساتھ ملا کر ترتیب دیا گیا تو وہ کتاب کہلاتا ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں قرآن مجید صحیفہ نامی ترتیب نہ دئے گئے اوراق کے شکل میں تھا۔ اسی لئے اس کو صحیفہ کہا گیا۔ یہ قرآن لوح محفوظ سے جبرئیل نامی فرشتے کے ذریعے لایا گیا، اسی لئے اس کو کتاب کہا گیا۔ 

1۔ قیامت کا دن آسمان، زمین، سورج، سیارے، زمین میں بسنے والے انسان، جاندار، نباتات تمام چیزیں ایک دن مٹا دی جائیں گی۔اس دن صرف اللہ قائم رہے گا۔

کائنات کے خاتمے کا دن، آخری دن اور صور پھونکنے والے دن، اس طرح مختلف ناموں سے اس دن کو یاد کیا جاتا ہے۔

دنیا مٹا ئے جانے کے بعد سارے انسان پھر سے زندہ کرکے دریافت کئے جائیں گے۔ تحقیق کے بعدفیصلہ کیا جائے گا۔نیک لوگوں کو آسائشیں ملیں گی، اور برے لوگوں کو ایذا دینے والی مختلف سزائیں ملیں گی۔ وہ زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی۔

آخرت، دوسری دنیا، وہ دنیا، فیصلے کا دن، سب کو جمع کئے جانے کا دن، کوئی کسی کو کام نہ آنے والا دن، واپس جانے والا دن، اجرت دئے جانے والادن، دریافت کئے جانے والا دن، فائدہ دینے والا دن، پھر سے زندہ کئے جانے والا دن، اللہ سے ملاقات کا دن، افسوس کئے جانے والا دن، اللہ کے سامنے حاضر ہو نے والا دن، نہ بچنے والا دن، زندہ کئے جانے والا دن، اس طرح اور کئی ناموں سے اس دن کو یاد کیا جاتا ہے۔

بغیر شبہ کا دن، عظمت والا دن، وہ دن، اس وقت، وعدہ کیا ہوا دن، کسی قسم کا شک نہ کر نے کا دن، اس طرح کے الفاظ مٹائے جانے اور پھر سے زندہ کئے جانے والے دن کے لئے عام ہے۔ 

مٹائے جانے والا دن اور پھر سے زندہ کئے جانے والا د ن یہ دونوں دن کب آئے گا ، اس کا جواب نہ تو نبی کریم ؐاور نہ کوئی انسان جانتاتھااور نہ ہی فرشتے جانتے تھے۔وہ دن کب آئے گا، وہ راز صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس بات کو آیت نمبر 7:187، 20:15،33:63، 79:42 اعلان کرتی ہیں۔

اس بات کو ذہن نشین کر لیجئے کہ اس دنیا میں انسان نیک بن کر زندگی بسر کر نے کے لئے ایسے ایک دن پر ایمان لانا بہت ہی فائدہ مند ہے۔ (اس دن کے بارے میں اور زیادہ تفصیل جاننا ہو تو فہرست مضامین میں قیامت کا دن ۔آخری دن کے عنوان کے تحت دیکھ لیجئے!)