Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏345۔ اللہ ہے، اس کی سند

‏ان آیتوں 30:37، 39:52 میں یہ کہنے کے بعد کہ اللہ جسے چاہتا ہے اس کو زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اندازہ سے دیتا ہے، ‏پھر اللہ فرماتا ہے : غور کر نے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں موجود ہیں۔

دنیا میں بہت بڑے عالم، عظیم فاضل، بڑے عقلمنداور سخت محنتی وغیرہ لوگوں کوایک طرف ہم غریبی میں ڈوبے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ 

بے عقل، کم محنتی،کئی معاملوں میں کافی علم نہ رکھنے والے اور قاعدے سے تدبیر نہ جاننے والے اشخاص کو دوسری طرف کروڑوں کے حساب سے ‏بیوپارمیں ڈوبے ہوئے بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ہنر مند آدمی بالکل کم کامیاب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں

یہ ثابت ہو تا ہے کہ اللہ یہیں پر ہے۔ انسان کی محنت اور صلاحیت ہی سے اگر معیشت ملتی ہے توبغیر کسی صلاحیت کے اور انپڑھ لوگ بھی کروڑوں ‏کے مالک بن جاتے ہیں، وہ کیسے؟

اللہ اپنی مرضی کے مطابق انتظام کر نے ہی پر وہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اللہ اگر نہیں تو دنیا میں صلاحیت رکھنے والے دولتمند اور جو صلاحیت نہیں رکھتے وہ ‏غریب ہی بن کر رہیں گے۔ 

اس طرح کا ایک ماحول نہ رہنے کی وجہ ہی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک معبود ہے۔ اسی کو اللہ نے فرمایا ہے کہ غور کر نے والوں کے لئے نشانیاں ‏موجود ہیں۔

‏344۔ کیا پیدا ہو تے وقت ہی نبی؟ 

‏ان آیتوں 28:86، 42:52 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریمؐ اللہ کے رسول مقرر ہو نے سے پہلے ایمان یعنی اللہ پر عقیدہ کے بارے میں انہیں کچھ ‏معلوم نہیں تھا۔ 

نبی کریم ؐ کے بارے میں جوجھوٹی کہانیاں کہی جاتی ہیں یہ اس کے برخلاف اعلان کرتی ہے۔ 

وہ جھوٹی کہانی یہی ہے کہ پہلا انسان آدم نبی کو اللہ پیدا کرنے سے پہلے ہی محمد نبی ؐ کو اللہ نے نبی مقرر کر دیا تھا، اس لئے وہ پید اہوتے وقت ہی نبی بن ‏کر پیدا ہوئے تھے۔ 

اگر نبی کریم ؐ پیدا ہوتے وقت ہی نبی بن کر پیدا ہوئے تھے تواس آیت 42:52میں اللہ کیوں کہتا کہ ایمان کیا ہے ، تم نہیں جانتے اور کلام اللہ کیا ‏ہے تم نہیں جانتے۔

اللہ کے رسول مقرر پا نے والے کو کیا ایمان نہیں ہوگا؟کلام اللہ کیا ہے، یہ نہ جاننے والے کیا اللہ کے رسول ہوسکتے ہیں؟اگر اس طرح سوچیں تو ہم ‏اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ نبی کریمؐ اپنی چالیسویں عمر میں نبی بنائے جانے کے پہلے وہ نبی بھی نہیں تھے اوروہ جانتے بھی نہیں تھے کہ وہ نبی بنائے ‏جائیں گے۔

وحی آنے کے بعد بھی انہیں ابتداء میں معلوم نہیں ہو سکا کہ جو انہیں آیا ہے وہ وحی ہے۔ ورقہ نامی شخص نے بتا نے کے بعد ہی انہیں معلوم ہوسکا۔ ‏‏(دیکھئے بخاری: 4، 3392، 4954، 6982)

چنانچہ ان آیتوں سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کریمؐ پیداہو تے وقت ہی نبی بن کر پیدا ہونا اور دنیاپیدا ہو نے سے پہلے ہی وہ نبی مقرر کر دئے گئے تھے ‏کہنا سب جھوٹی کہانیاں ہیں۔ ‏

 ‏343۔ کیا پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے پوچھ سکتے ہیں؟

اس آیت 43:45میں نبی کریم ؐ کو حکم دیا گیا تھا کہ پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے ایک سوال کریں۔ 

یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ گزرے ہوئے نبیوں سے نبی کریم ؐ کیسے سوال کر سکتے ہیں؟

لیکن اس کو ’’رسولوں سے سوال کرو‘‘کے بجائے اس طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ’’رسول جو لے آئے تھے ان تعلیموں میں تلاش کرو‘‘۔اس طرح سمجھنے کے ‏لئے قرآن میں ایک اور آیت بھی ہے۔

قرآن کی آیت 4:59میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’اگر تمہیں اختلاف رائے پیدا ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے پاس لے چلو۔‘‘یہاں جو کہا گیا ہے ، اللہ کے پاس لے ‏چلو تو اس کا مطلب اس کے سوا دوسرا کچھ نہیں ہو سکتا کہ کلام اللہ سے موازنہ کرو۔ 

اسی طرح اللہ کے رسول کے پاس لے چلو جو کہا گیا ہے ، اس کو نبی کریم ؐ زندہ رہنے تک لے جا سکتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد تو کوئی مسئلہ ان کے پاس لے جا ‏نہیں سکتے۔اس کا مطلب ہوگا ان کی دکھائی ہوئی رہنمائی کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں۔ 

اسی طرح اس آیت کو بھی سمجھیں۔

قرآن مجید اکثر جگہوں میں یہی کہا ہے کہ مرے ہوئے لوگ سنتے نہیں اور جواب بھی نہیں دے سکتے۔ اس لئے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اس کو اسی طرح سمجھیں۔ ‏

‏342۔ آخری زمانے میں عیسیٰ نبی آئیں گے

‏اس آیت 43:61میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی قیامت کے دن کی نشانی ہیں۔ 

بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ دو ہزار سال پہلے اس زمین پر بسنے والے عیسیٰ نبی اسی وقت وفات پاگئے۔وہ غلط ہے ، اس کے لئے یہ آیت واضح دلیل ‏ہے۔ 

عیسیٰ نبی کے دشمن جب انہیں قتل کر نے کی کوشش کی تواللہ نے انہیں بچا کر اپنی طرف اٹھالیا۔یہی حقیقت ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے آدمی ‏کو عیسیٰ نبی سمجھ کر قتل کر دیا۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر93، 101، 133، 134، 151، 278، 456 وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

کئی حدیثیں کہتی ہیں کہ اوپر کی طرف اٹھائے جانے والے عیسیٰ نبی آخری زمانے کے قریب زمین پراتارے جا نے کے بعد وفات پائیں گے۔

اس حدیثوں کو سچ ثابت کر نے کی طرح یہ آیت ترکیب پائی ہے۔ 

اگر کسی کے بارے میں کہا جائے کہ یہ قیامت کے دن کی نشان ہیں تو وہ قیامت کے دن کے قریب دنیا میں بسے رہنا چاہئے۔ جبھی انہیں قیامت کے ‏دن کی نشان کہہ سکتے ہیں۔ 

جو کہتے ہیں کہ عیسیٰ نبی دو ہزار سال پہلی ہی گزر چکے، ان کے لئے یہ حدیث انکار ہے۔ 

 ‏341۔ برکت والی رات

‏یہ آیت 44:3 کہتی ہے کہ قرآن مجید کو ایک برکت والی رات میں اتارا گیا۔ برکت والی رات کونسی ہے، اس کو دوسری چند آتیوں سے ہم جان ‏سکتے ہیں۔ 

یہ آیت 2:185کہتی ہے کہ قرآن مجید کو رمضان کے ماہ میں اتارا گیا۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ برکت والی رات رمضان ہی میں موجود ہے۔ 

یہ آیت 97:1 کہتی ہے کہ رمضان میں لیلۃ القدر کی رات میں قرآن کریم کو اتارا۔ 

آیت نمبر 44:3 میں برکت والی رات جو کہا گیا ہے اورآیت نمبر 97:1میں قدر والی رات جو کہا گیا ہے، وہ دونوں ایک ہی رات کی طرف اشارہ ‏ہے۔ 

بعض لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آیت نمبر 44:3 میں جو برکت والی رات کہا گیا ہے وہ ماہ شعبان کی پندرہویں رات کی

طرف اشارہ ہے۔اس کے لئے نہ قرآن میں کوئی دلیل موجود ہے نا ہی حدیثوں میں۔ 

ماہ شعبان کی پندرہویں رات میں قرآن نازل ہوا کہنا اللہ کے فرمان کے خلاف ہے، جو کہتا ہے کہ وہ رمضان ہی میں نازل ہوا ۔

اس آیت کو وہ لوگ غلط سمجھ جانے کی وجہ ہی سے ’برات‘ نامی ایک رات کو بعض مسلمان خود ہی قائم کر کے مناتے آرہے ہیں۔

‏’برات کی رات‘ نامی لفظ قرآن مجیدمیں یا نبی کریم ؐ کی حدیث میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ نا موجود ایک رات کو قیاس کرکے اللہ کی آیت کو ‏نامناسب تفصیل دے کر اس دن کے لئے چند رسموں کو ایجاد کر کے ناسمجھ مسلمان غلط راستے پر جا رہے ہیں۔

وہ لوگ سمجھنا چاہئے کہ شعبان کے مہینہ میں قرآن کے نازل ہونے پر بھروسہ کر نا قرآن مجید کے اس قول کا انکار ہے کہ ماہ رمضان ہی میں قرآن ‏نازل ہوا۔

وہ لوگ اپنی غلط رائے کو ایک اور تفصیل دے رہے ہیں۔ یعنی لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر برات کی رات میں نازل ہوا۔ وہاں سے تھوڑا تھوڑا سا نبی ‏کریمؐ تک نازل ہوا وہ لیلۃ القدر ہے۔ اس کی مناسبت سے کوئی بھی حدیث سند نہیں ہے۔

کیاقرآن مجید ایک ہی رات میں اتارا گیا؟ اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 447 دیکھئے!

‏340۔ کیا چالیس عمر سے پہلے قاعدہ قانون نہیں تھا؟

‏انسان چالیس سال میں ہی شباب کو پہنچتا ہے۔ اس وقت تک انسان کو کوئی قانون نہیں ہے۔اس آیت 46:15 کو اس طرح معنی دے کر بعض ‏جاہل لوگ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 

اس آیت کوبنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ چالیس عمر تک کسی بھی طرح جی سکتے ہیں اور چالیس عمر کے بعد ہی نیکو کار بن کر جینا کافی ہے۔ اس طرح وہ بھی ‏گمراہ ہو کر دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی بکواس کر رہے ہیں کہ چالیس عمر میں ہی انسان جوان ہو تا ہے۔

اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس عمر تک آدمی پر کوئی فرض نہیں اور چالیس عمر تک انسان کسی بھی طرح جی سکتا ہے۔ 

اس آیت میں کہا نہیں گیا کہ جوانی کو پہنچنا چالیس عمر ہی میں ہے۔ بلکہ اس کے خلاف ہی یہ کہتا ہے۔ اس آیت میں یہی کہا گیا ہے کہ ’’انسان جوانی کو ‏پہنچ کرچالیسویں عمر کو جب پہنچتا ہے تو۔‘‘

جوانی کو پہنچنا جب چالیس سال ہے تو اس طرح کہہ نہیں سکتے۔ اس میں سے کسی ایک کو کہنا کافی ہے۔اس آیت سے ہم جان سکتے ہیں کہ جوانی کو ‏پہنچناالگ ہے اور چالیس عمر کو پہنچنا الگ ہے۔

‏’’چالیس عمر کو جب پہنچتے ہیں تو‘‘ اس اصطلاح کو یہاں کیوں درج کیا گیا ہے؟ اس کو اسی آیت میں جواب دیا گیا ہے؟

عام طور پر انسان جب جوانی کو پہنچتا ہے تو وہ والدین کی عظمت کو پہچاننے والا نہیں ہوتا۔ ماں اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھنے اور جنم دینے کو وہ ‏بھول جاتا ہے۔ 

جب شادی ہو تی ہے تو والدین اس کو غیر ضروری لگتے ہیں۔ جسمانی جذبات کو ترجیح دے کر والدین کو وہ ٹھکرا دیتا ہے۔ اس کو ایک بچہ یا کئی بچے پید ‏اہوتے ہیں ۔ جب بھی وہ والدین کی قدر کو پہچاننے سے معذور ہو تا ہے۔ 

اس کے ہی بچے جب جوان ہو کر اسی کے مخالف بات کرتے ہیں تواس وقت اس کو احساس ہو تا ہے کہ والدین کی قدر کرنا چاہئے۔ ہم جس طرح ‏اپنے والد سے برتاؤ کئے تھے اسی طرح اس کے بچے جب اس سے برتاؤ کر نے شروع کر تے ہیں تو وہ پریشان ہو کر زمانہ دراز کے بعد والدین کی قدر ‏کو پہچانتے ہے۔ 

اس حال کو انسان کم از کم چالیس سال کی عمر میں پہنچتا ہے۔ اگر وہ بیس سال کی عمر میں شادی کیا ہوتو اس کی چالیسویں عمر میں بیس سال کے بچے کا ‏باپ ہوتا ہے۔ پچیس سال کی عمر میں دیر سے اگر شادی کیا ہو تو اس کی چالیسوں عمر میں اس کو ایک پندرہ سالہ بیٹا ہو گا۔ 

اپنا ہی بیٹا جب اس کو بے پرواہ کر دیتا ہے تو اسی وقت اس کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ اس کو اتنا زمانہ لگتاہے۔

‏* والدین کو نیکی کر نے کا احکام

‏* حمل میں رہتے وقت ماں کی تکلیف

‏* جنم دیتے وقت اس کی مشکل حالات

ان سب کو بیان کر نے کے بعد ’’چالیس عمر کو پہنچتے وقت ‘‘ کہا گیا ہے۔ ہر عقلمند اس کو جانتا ہے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ چالیسویں عمر میں آدمی دعا کر تا ہے کہ ’’میرے بچوں کو میرے مطابق بنادے‘‘۔یہ اور بھی زور دیتا ہے کہ بچے کو جنم دے کر ‏جوانی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہی انسان اپنے والدین کو خیال کر تا ہے ۔ 

یہ کہہ کر وہ اصلاح پاتا ہے کہ ’’میں نے جس طرح میرے والدین کی قدر نہیں کی اسی طرح میرے بچوں کو میری قدر نہ کرنے والے نہ بنادے۔ ‏میں ایک اچھا مسلمان بن کر چلوں گا۔‘‘

اس آیت کو شروع سے آخر تک غور سے پڑھو تو اس میں کہا گیا ہے کہ چالیس سال کی عمر کوپہنچنے کے بعد ہی والدین کی عظمت کو انسان پہچانتا ‏ہے۔اس کے برعکس چالیس سال کی عمر تک دھوم مچانے کے لئے کوئی اجازت اس آیت میں نہیں دی گئی ہے۔ 

انسان میں جسم کی تناؤ رہنے تک ہی اس کو راست باز بنانے کے لئے ایک اخلاقی قانون ضرورت پڑتا ہے۔ جسم ڈھل جانے کے بعد کئی گناہوں میں ‏مبتلا ہو نے سے اس کے جسم میں خود طاقت کھو جاتی ہے۔ 

ذرا سوچو اگر دنیا میں رہنے والے تمام اس کی پیروی کرنے لگیں کہ چالیس سال کی عمر تک جو کچھ چاہے کریں تو کیا حال ہوگا؟ وہ سمجھ جائیں گے کہ یہ ‏کتنی خطرناک چیز ہے۔ ‏

‏339۔ ایوب نبی کی واقعات میں جھوٹی کہانیاں

‏اس آیت 38:44 کی تفصیل کے نام سے مختلف کہانیوں کو مفسروں نے لکھ چھوڑی ہے۔ 

ان لوگوں کی جھوٹی کہانیوں کا مطلب یہی ہے: 

ان کا کہنا ہے کہ ایوب نبی اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اس قسم کی بجا آوری کے لئے سو گھاسوں کا ایک گچھا لے کرانہوں نے ‏بیوی کو مارا۔ سو گھاس کے گچھے سے مارنے کی وجہ سے وہ سو بار مارنے کے برابر ہوگیا۔ اس طرح ان کی قسم پوری ہوگئی۔اس طریقے سے ان کی ‏کہانی چلتی ہے۔ 

ایوب نبی اپنی بیوی کو سو بار مارنے کی جو قسم کھائی تھی اس کے بارے میں نہ اللہ فرمایا ہے اور نا ہی اللہ کے رسول نے فرمائی ہے۔ اس آیت میں اس ‏طرح سمجھنے کے لئے کیا کوئی وجہ ہے تو وہ بھی نہیں۔ 

اس آیت میں کہا نہیں گیا کہ تم اپنی بیوی کو مارو ۔صرف اتنا کہا گیا ہے کہ مارو۔ ان لوگوں نے بیوی کا لفظ شامل کر لیا ہے۔ 

اس میں یہی کہا گیا ہے کہ ایک مٹھی گھاس لو ۔اس میں یہ بھی کہا نہیں گیا کہ سو شاخوں کاگچھا لو۔ 

اگر بیوی کو سو بار ماروں گاکہہ کر قسم کھا لیا جائے تو اس جیسے قسم کو پورا کرنا ضروری بھی نہیں۔ اس معمولی سی سمجھ بھی نہ رکھنے والے قیاسی کہانیوں ‏کی بنیاد پر اس کی تفصیل بھی بتا رہے ہیں۔ 

اس آیت اور اس سے پہلے کی آیت کو ملا کر غور کر وتو ایوب نبی بیمار ہو نے کے بعد انہیں صحت عطا کر نے کے لئے اللہ نے چند انتظامات کئے تھے۔ 

‏’’اپنے پاؤں سے زمین پر مارو! یہ دیکھو غسل کے لئے ٹھنڈا پانی! پینے کے لئے پانی!‘‘ یہ جملے تمام کیا کہتی ہیں؟ ایوب نبی کے ذریعے زمین پر پاؤں ‏مار کر ، اس طرح مارنے کے ذریعے نہانے اور پینے کے لئے پانی کو ظاہرکر نا ہی اس کا مقصدہوگا۔ 

یہ کہنے کے بعدکہ اس پانی کو پی کر اور اس پانی سے نہا کروہ صحتمند ہوئے، اسی سلسلہ میں کہا گیا کہ ایک مٹھی گھاس لے کر مارو۔ 

چنانچہ کہا گیا ہے کہ ان کی بیماری کو شفاء دینے کے لئے اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی گھاس کی ایک مٹھی لے کر وہ اپنے اوپر مارلیں،اس کے سوا یہ ‏نہیں کہا گیا ہے کہ بیوی کو ماریں۔

یہاں ایک سوال اٹھ سکتا ہے کہ قسم نہ توڑوکیوں کہا گیا ہے؟ وہ کوئی نذر یا قسم کھائے ہوں گے۔ بیمار ہو نے کی وجہ سے وہ اس نذر کو پورا نہ کئے ‏ہوں گے۔ اب جو صحتیاب ہو جا نے کی وجہ سے اس کو پورا کر نے کے لئے اللہ فرمایا ہے۔ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔ 

ایک وہ صحتیاب ہو نے کے لئے کفارہ ہے۔ 

دوسرا جب وہ بیمار ہو ئے تواس قسم کو پورا کر نے کے لئے یاد دلاناہے۔ 

یہی ان لفظوں سے ہمیں سمجھنا چاہئے۔ 

اس آیت میں اللہ انہیں تعریف کر تا ہے کہ ان کو بہت صبر والا جانا۔ بیوی کو مارنے والی وہ جھوٹی کہانیاں تو انہیں بے صبرثابت کر تی ہیں۔   

‏338۔ تخت پر ڈالا ہوادھڑ

‏اکثر مترجم اس آیت 38:34کو اس طرح ترجمہ کیا ہے:

بے شک ہم نے سلیمان کو آزمایا۔ اور ان کے تخت پر ایک دھڑ کو پھینکا۔ پھر وہ (ہماری طرف) رجوع کیا۔ 

لیکن ہم اس کو اس طرح ترجمہ کیا ہے:

سلیمان کو ہم نے آزمایا۔ ان کے تخت پر (انہیں) ایک لاش سا ڈالا۔ پھر وہ سدھر گئے۔ پھر کہا کہ’’ اے میرے رب! مجھے معاف فرمادے۔ ‏میرے بعد کسی کو نہ ملے ایسی ایک حکومت مجھے عطا کر، تو ہی بڑا فیاض ہے۔ 

یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت کہتی ہے کہ سلیمان نبی نے ایک غلطی کی تھی اور انہوں نے اس غلطی کو سدھار لی۔ 

سارے مفسر اسکے بارے میں جھوٹ موٹ قیاس کر تے ہوئے کہانیاں جوڑی ہیں۔ 

اللہ کہتا ہے کہ سلیمان کو آزمایا۔ اس کی تفسیر کرنے والے کہتے ہیں کہ سلیمان نبی ایک بڑی گناہ کے مرتکب ہو گئے، اسی کے لئے اللہ نے انہیں ‏آزمایا۔ 

انہوں نے کیا گناہ کئے؟

بعض لوگ کہتے ہیں وہ شرک کر دئے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حیض کے وقت وہ بیوی سے مجامعت کر دئے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ تین دن تک فیصلہ کئے بغیر غائب ہوگئے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مقدمہ میں اپنی بیوی کے رشتہ داروں کی طرفداری میں فیصلہ کر دئے۔ 

اسی طرح مختلف قیاس آرائیوں سے لکھ رکھا ہے۔

اس کے لئے کیا کوئی دلیل پیش کر تے ہیں؟نہیں!اکرمہ نے کہا، مجاہد نے کہا، اِس نے کہا، اُس نے کہا ، یہی ان کی دلیل ہے۔ اللہ کے رسول نے کہا، ‏ایسی کوئی اطلاع کسی نے نہیں دی۔ 

ان کے تخت پر ایک دھڑ پھینکا ، اس کی تفسیر میں جادوگرانہ کہانیاں لکھ چھوڑے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ دھڑ جو کہا گیا ہے وہ شیطان ہے۔اوراس کی تفصیل یہ ہے کہ سلیمان غلطی کر نے کی وجہ سے ان کی تخت پر اللہ نے شیطان کو بٹھا دیا۔ 

اس کو اور زیادہ وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان ؑ ایک انگوٹھی پہنے ہوئے تھے۔ اس انگوٹھی کی وجہ ہی سے وہ سلطنت میں رہ سکے۔ ایک ‏دن انگوٹھی نکا لا اور اپنی بیوی کے پاس دے کر نہانے کے لئے گئے۔ اس کو سکرنامی شیطان نے جانتے ہوئے سلیمان نبی کی شکل میں ان کی بیوی کے ‏پاس آکر انگوٹھی مانگا۔ بیوی نے اس کو انگوٹھی دیدی۔ تو فوراً سلطنت شیطان کی ہاتھوں میںآگیا۔شیطان نے چالیس دن تک حکومت کیا۔اس کے ‏بعد ہی سلیمان نبی کو اللہ نے حکومت بخشی۔ کہانی اس طرح چلتی ہے۔ 

ہم نے جہاں دھڑ ترجمہ کیا ہے اس جگہ پر جسد استعمال ہواہے۔ جسد کا مطلب ہے جسم۔ دھڑ اس کا مطلب نہیں ہے۔ دھڑکا مطلب ہے بغیر سر کا ‏جسم۔ 

نس، گوشت اور ہڈی وغیرہ مل کر ہی جسدہوتا ہے۔ یہ تمام چیزیں شیطان کو نہیں ہے۔وہ لوگ یہ معمولی حقیقت کو بھی نہ جان سکے کہ شیطان کے ‏لئے اس لفظ کو استعمال نہیں کیا جاتا۔

کیاشیطان ایک نبی کی شکل دھار سکتا ہے؟ سلیمان نبی کی شکل میں شیطان حکومت کرے تو کیا لوگ اتباع کر یں گے؟ کیا اس کے کہنے کو لوگ دین ‏مانیں گے؟ نبی زندہ رہتے وقت ہی لوگ اس طرح گمراہ ہو جانے کوکیا اللہ چھوڑ دیا ہوگا؟

کیا حکومت ایک انگوٹھی میں مضمر ہو سکتی ہے؟ ان سب چیزوں پر مفسرین نے غور نہیں کیا۔ 

اس طرح کی نادانی وضاحت ہی تفسیروں میں درج ہے۔

اگر یہ قیاسی کہانیاں ہوں توحقیقی واقعہ ہی کیا ہے؟ 

اس کے پیچھے کیا ایک ہی واقعہ ہونا ضروری ہے؟ کسی واقعہ کے بغیر اس آیت کو اگر ٹھیک سے تحقیق کر ے تو اس آیت کو اسی آیت کے ذریعے ‏ٹھیک طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

سلیمان کو ہم نے آزمایا ، اس کو سمجھنے کے لئے کسی کہانی کی ضرورت نہیں۔ اللہ تو دولت دے کر بھی آزماتا ہے، اس کو چھین کر بھی آزماتا ہے، اور ‏صحت دے کر بھی آزماتا ہے۔ 

سلیمان نبی کو اللہ نے کس چیز سے آزمایا ہے، اس کو اگر سمجھ گئے تو بس واضح ہو جائے گا۔ 

ان کی تخت میں ایک دھڑ ڈالاکا مطلب کیا ہے؟ اس کو دیکھنے کے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس کا معنی برابر ہے؟ دھڑ کا ترجمہ بالکل غلط ہے۔ ‏جسم کا معنی ہی ٹھیک ترجمہ ہے۔ 

اس آیت کو اس طرح بھی معنی کر سکتے ہیں کہ ان کی تخت میں دھڑ دالا۔ 

ان کی تخت میں ایک لاش ڈالنے سے غلطی کا احساس دلا نہیں سکتے۔ ایک کے تخت میں اگر ایک لاش ڈالا گیا تو وہ سمجھیں گے نہیں کہ یہ ہماری ‏غلطی کودکھانے کے لئے ڈالاگیا ہے۔ 

اس طرح بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ(انہیں) ان کی تخت میں جسم ساڈالا۔

یہ جملہ ایسا ہے کہ دونوں کو اس میں جگہ ہے۔ 

اس جگہ پر دوسری قسم کے ترجمہ کو اگر سمجھ جائیں تو اس قیاسی کہانیوں کے ذریعے پیدا ہو نے والی الجھنوں سے بچ سکتے ہیں۔پھر اس آیت کو آسانی ‏سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

فرض کرو کہ ایک شخص بہت ہی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔ بستر مرگ پر پڑا ہوا ہے، حرکات و سکنات بھی نہیں ہے۔ اس کے متعلق کہتے وقت ‏عرب اور دیگر زبان والوں میں بھی یہی کہنے کی عادت ہے کہ صرف اس کا جسم ہی پڑا ہوا ہے۔ جان رہ کر بھی بے جان کی طرح رہنے کی وجہ سے ‏اس کو زندہ کہنے کے بجائے کہا جاتا ہے کہ صرف جسم پڑا ہوا ہے۔ 

تخت پر بیٹھ کر حکومت چلانے والے سلیمان ؑ کو تخت پر صرف جسم سا ڈالا۔ 

اس طرح معانی دے کر دیکھو! اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ سلیمان نبی کو ہم نے آزمایا۔ وہ آزمائش کیا تھا اس کو ہم اس آیت سے سمجھ سکتے ہیں۔وہ ‏سخت بیماری کی وجہ سے صرف جسم بن کر رہ گئے۔جب تخت پر صرف جسم پڑا ہو تو وہ جس طرح کسی حرکت کے بغیر پڑارہے گا اس حالت کو وہ پہنچ ‏گئے تھے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ وہ بے جان سلیمان کی طرح ہوگئے۔ 

ہم نے سلیمان کو آزمایا۔ (اس آزمائش کی وجہ سے ان کے جسم کی حرکت متاثر ہوگیاتھا)ان کے بے حرکت جسم کو تخت پر ڈالا۔

دیکھو یہ کتنا واضح انداز اور بغیر الجھن کے سمجھ میں آتاہے۔

پھر اس نے ہماری طرف رجوع کیا، اسکا مطلب کیا ہے؟

‏’’ہماری طرف‘‘ کا لفظ اصل متن میں نہیں ہے۔ اَنَابَ کا لفظ پرانی حالت کو پھرنے کے معنی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہماری طرف کا لفظ بے ‏ضرورت ہے۔ پھر وہ پرانی حالت کی طرف لوٹے ، یہی مطلب ٹھیک ہے۔ 

اب دیکھو اس آیت کا پورا معانی۔ 

ہم نے سلیمان کو آزمایا۔ ان کے جسم کو تخت پر ڈالا۔پھر وہ اپنی پرانی حالت کو لوٹے۔ 

اس کو سمجھنے کے لئے کیا ایسی کہانیوں کی ضرورت ہے؟ قرآن مجید کوسمجھنا آسان ہے، اس کو جھوٹاثابت کر نے کے لئے کیا یہ تفصیلات ضروری ‏ہیں؟  

More Articles …