Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏305۔ سمندروں کے درمیان پردہ

‏ان آیتوں میں27:61، 35:12، 55:19,20کہا گیا ہے کہ دو سمندروں کے درمیان آنکھوں کو سجھائی نہ دینے والا پردہ ہے اور اس سے وہ ‏دونوں ایک سے ایک آمیزش نہیں ہو تے۔ 

دو سمندروں کے درمیان پردہ جو ہے اس کو آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے۔ کئی قسم کی تفتیشات کے بعد جو انہوں نے انکشاف کیا اس ‏حقیقت کو قرآن نے چودہ سو سال پہلے ہی کہہ دیا۔ 

بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود وسعت سے الگ کئے گئے تھے۔ بارہ ہزار سال کے پہلے ایک بہت بڑی سیلاب آنے کی وجہ سے دونوں مل گئے۔ دونوں ‏سمندر ملنے کی جگہ میں دونوں میں برابر کثافت نہ رہنے کی وجہ سے زیادہ کثافت والا سمندر کا پانی نیچے اور کثافت کم والاسمندر کا پانی اوپرجا کر دو سو ‏قدم کے انداز سے ایک کے اوپرایک ٹہرا ہوا ہے۔ بارہ ہزار سال کے بعد بھی وہ دوسرے سے ملے نہیں۔

اٹلانٹک سمندر اور بحرہند ایک سے ایک چمٹے ہو ئے رہنے کے باوجود کثافت میں اور رنگ میں مختلف ہیں۔ ایک سے ایک ملے ہوئے نہیں ہیں۔ 

اسی طرح بحیرۂ روم اور اٹلانٹک سمندرایک سے ایک چمٹے ہوئے ہیں۔ بحیرۂ روم کثافت کے ساتھ کنکنا رہنے کی وجہ سے بحر اٹلانٹک کے ساتھ ‏ملنے کی جگہ پر اس پر ہزار قدموں کے اوپر دباکر لگ بھگ سو میل تک ایک کے اوپر ایک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک کے ساتھ ایک نہیں ملے۔ 

قرآن کی 25:53 آیت میں صاف پانی سمندر سے ملنے کے بارے میں کہتی ہے کہ دونوں کے درمیان ایک پردہ اورمظبوط رکاوٹ ڈالا گیا ہے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ دو سمندر ملتے وقت وہاں ایک پردہ ہے، اسی کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ سمندر کے ساتھ صاف پانی ملتے وقت دو رکاوٹ ڈالا گیا ‏ہے۔ 

اس میں بھی ایک عظیم حکمت پوشیدہ ہے۔ 

سمندر کے ساتھ ندی کا پانی ملتے وقت کثافت کے فرق کی وجہ سے مندرجہ بالا رکاوٹ کے ساتھ نمکین اور صاف پانی کی ایک ملاوٹ پید اہو کر وہ ‏ایک اور رکاوٹ بن جا تی ہے۔ 

یہ بات لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے نبی کریم ؐ کو چودہ سو سال پہلے ہی کیسے معلوم ہوا؟ 

چنانچہ یہ بھی ایک سند ہے کہ قرآن کریم اللہ ہی کلام ہے۔   

 ‏304۔ خلائی سفر ممکن ہے

‏ٍٍ یہ آیت 55:33 صریح انداز سے کہتی ہے کہ انسان خلائی سفر اختیار کر سکتا ہے اور اختیار کر نا ممکن ہے۔ اسی وقت یہ بھی کہتے ہوئے کہ وہ ممکن ‏ہے، اس کے لئے راستہ بھی دکھاتاہے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ اس کے لئے ایک قوت پیدا کر نے کے سوائے تم اس کی حدود کو پار نہیں کرسکتے۔ 

اس قوم میں یہاں تک بھی قیاس کر نے والے نہیں تھے کہ کیا آسمان میں اڑا جا سکتا ہے۔ ہاں، آسمان میں اڑنا ممکن ہے اور اس کے لئے ایک قوت ‏کی ضرورت ہے کہہ کر یہ آیت ثابت کر تی ہے کہ قرآن کریم اللہ ہی کلام ہے۔ 

یہ آیت انسانوں کو اور جن کی مخلوقات کو مخاطب کر نے کے انداز میں نازل ہوئی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ آنکھوں کو دکھائی نہ دینے والے جن کسی ‏قسم کی طاقت کے بغیر آسمانی دنیا تک آسانی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ 

یہ نہ سمجھنا کہ دونوں باتوں میں اختلاف ہے۔

جنات کوفطری طور پر وہ طاقت عطا کی گئی ہے۔ کسی قسم کی ذریعے کے بغیروہ آسمان میں سفر کرسکتے ہیں۔ انسانوں کو فطرتاً وہ طاقت عطا نہیں کی ‏گئی۔اگر وہ لوگ سمجھ جائیں کہ اس کے مطابق ذریعہ بنا لے کر سفر کر سکتے ہیں تو کوئی شک پیدا ہو نہیں سکتا۔ 

آسمانی دنیا کا سفرکرنا ایک حد تک ہی ممکن ہے۔ اللہ اپنے قابو میں رکھے ہوئے سات آسمانوں تک نہیں جا سکتے۔ 

جنات اور شیطان آسمانی خبروں کو جاننے کے لئے آسمان کے قریب جا تے ہیں تو انہیں آگ کا شعلہ بھگائے گا، اس کو ہم حاشیہ نمبر 307 میں ‏وضاحت کی ہے۔ 

چودہ سو سال پہلے ہی قرآن کہہ چکا کہ خلائی سفر ممکن ہے ، اس سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ یہ اللہ ہی کلام ہے ۔ 

‏303۔ کئی اندھیرے

قرآن میں نور کے بارے میں کہتے وقت ہر جگہ نور کہہ کر واحد ہی کہا ہے۔ 

لیکن اندھیرے کے بارے میں کہتے وقت ہر جگہ جمع کے صیغے میں اندھیریاں کہا گیا ہے۔ 

وہ آیتیں یہی ہیں: 2:17، 2:19، 2:20، 2:257، 5:16، 6:1، 6:39، 6:59، 6:63، 6:97، 6:122، 10:27، ‏‏13:16، 14:1، 14:5، 17:78، 21:87، 24:40، 27:63، 33:43، 35:20، 39:6، 57:9، 65:11۔

لوگ اندھیرے کو واحد کے صیغے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے اس کے برعکس اس کو جمع کے صیغے میں کہنے سے اس میں ایک بہٹ بڑی حکمت ‏دکھائی دیتی ہے۔ 

روشنی کو ہم ایک ہی رنگ میں دیکھتے ہیں۔لیکن وہ سات رنگوں میں مشتمل ہے۔ ان رنگوں کی مداخلت کی طاقت ایک سے ایک مختلف ہو تا ہے۔ 

مثال کے طور پر سورج سے نکلنے والی روشنی میں تمام رنگ موجود ہیں۔ ہر رنگ کے لئے ایک لہری لمبائی ہو تی ہے۔ لہری لمبائی کم ہو نے والی روشنی ‏میڈیا کی وجہ سے بہت زیادہ منتشر ہوجا تی ہے۔ لہری لمبائی زیادہ ہونے والی روشنی میڈیا سے کم منتشر ہوتی ہے

چند رنگیں کم فاصلہ میں رک جا تی ہیں۔ مزید چند رنگیں اس سے زیادہ فاصلہ پر رک جاتی ہیں۔ 

ہر رنگ اس کی لہری لمبائی کے مناسب داخل ہو نے سے روک دیا جاتا ہے تو اس رنگ کے لحاظ سے وہ تاریک ہوجا تی ہے۔ تین رنگوں کو روک کر ‏باقی کے رنگ ہمیں پہنچتی ہے تواس کا مطلب ہو تا ہے وہاں تین اندھیریاں پیدا ہوگئی ہیں۔ 

فرض کرو کہ ا یک نوٹس بورڈ پرسرخ، زرد اور نیلے رنگ میں لکھا گیا ہے ۔ اس تختی کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھو تو ان تینوں رنگوں میں جو لکھا گیا ‏ہے اس کو ہم پڑھ سکتے ہیں۔ 

ایک مخصوص فاصلے کے اس پار جب دیکھیں تو نیلے رنگ کی حرفوں کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔ اس جگہ پر روشنی رہنے کے باوجود نیلے رنگ کے حد تک ‏وہ اندھیرا ہو جا تا ہے۔ 

اور تھوڑی دور جائیں تو زرد رنگ بھی مانع ہو کر صرف سرخ رنگ کے حروف ہی ہماری آنکھوں کو دکھائی دے گا۔ اس جگہ پر روشنی رہنے کے ‏باوجود نیلا اور زرد دونوں رنگوں کے حد تک دو اندھیریاں پیدا ہوجائیں گی۔ 

اس طرح رنگوں کے لہری لمبائی کی مناسبت سے اس کو داخل ہونے سے روک دئے جانے کی وجہ سے ہر رنگ کے لئے ایک اندھیراپیدا ہو کر ‏اندھیریاں قائم ہوجاتی ہیں۔ 

اسی لئے واحد کے صیغے میں اندھیرا کہنے کے بجائے قرآن نے جو جمع کے صیغے میں اندھیریاں کہا ہے، وہ بہت بڑی حکمت کی دلیل ہے۔ 

اسی طرح گہرے سمندر میں پیدا ہو نے والے اندھیریوں کے بارے میں قرآن کی آیت 24:40 تفصیل سے کہتی ہے۔ 

ایک شخص سمندر کے اندر ڈوبتے وقت گہرائی بڑھنے بڑھنے اندھیریاں بھی بڑھتے ہوئے آخر میں اپنے ہی ہاتھوں کونہ دیکھ سکنے کی حالت پیدا ہوجا ‏ئے گی۔ یہ آیت کہتی ہے کہ اس حد تک سخت اندھیریاں گھیر لے گی۔ 

دن دھاڑے سمندر پر گرنے والی سورج کی روشنی ذرا ذرا سا گھٹ کر گہرا اندھیرا چھا جا تا ہے۔ اس بات کو آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ‏ہے۔ 

سورج کی روشنی میں نیلا، گہرا نیلا، ارغوانی،سبز، زرد، نارنجی اور سرخ وغیرہ سات رنگیں ہیں۔ 

سورج کی روشنی کے ہر رنگ کی لہری رفتار مختلف ہو نے سے سمندر میں ہر ایک مخصوص فاصلے پر ہر رنگ روک دیا جاتا ہے۔ 

سرخ شعاع سمندر میں15 میٹرتک ہی جائے گی۔ 15میٹر گہرائی سے بڑھ کر چلیں تو سورج کی چھ رنگ ہی دکھائی دیں گے، وہاں ایک ایسا اندھیرا ‏چھا جا تا ہے جہاں سرخ چیزوں کو دیکھ نہیں سکتے۔

اس طرح ہر ایک فاصلے پر ایک ایک رنگ روک دیا جاتا ہے تواس روشنی کی حد تک اندھیرا چھا جا تا ہے۔ جس جگہ میں سب رنگیں پوری طرح سے ‏روک دیا جاتا ہے تو اس جگہ کے لائق اندھیرادوسرا کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اس کو آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کی ہے۔

امریکہ کے محقق بیپ نے کہا ہے کہ جب سمندر کے ہزار میٹر اندرجاتے ہیں تو آنکھیں بے قرار ہوجا تی ہیں۔ آخر میں رنگیں بالکل غائب ہوجاتی ‏ہیں۔ زمین کے سطح پر آنے والی راتوں کو میں اندھیرا نہیں کہہ سکتا، اس انداز سے تاریکی کو سمندر پہنچ جاتی ہے۔ 

یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اندھیریوں میں کئی درجے ہو تے ہیں، اور زمین کے سطح میں رات میں چھانے والی اندھیرے سے دن کی روشنی میں ہزار میٹر ‏گہرائی میں سمندر کے اندر چل کر دیکھیں تو سخت اندھیرا چھایا ہوا ہوگا۔ 

اپنی زندگی میں سمندری سفر ہی نہ کر نے والے نبی کریم ؐ نے اس طرح فرمایا ہے کہ جیسے وہ سمندر کے اندر ہزار میٹر گہرائی میں جا کر محسوس کی ہے۔ ‏اس آیت سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے۔   

‏302۔ نور الٰہی کو مثال نہیں

‏اس آیت 24:35 میں اللہ خود کو ایک نور کہا ہے۔ پھر اس نور کو مثال ایک چراغ کہا ہے۔ 

یہ چراغ کی مثال اللہ کے نور سے موازنہ کر نا قابل قبول نہیں ہے۔ 

کیونکہ روشنی دینے والے تیل کو چراغ میں ڈال کر جلاؤ یا اس کو شیشے کی ڈکھن بناؤبھی تو وہ روشی اللہ کے نور کے ساتھ موازنہ کرکے دیکھ نہیں سکتے، ‏اس کو ہم سب جانتے ہیں۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے اللہ کے نور کی مثال ہو سکتی ہے؟ 

لیکن یہاں اللہ اپنے نور کو مثال جو کہا ہے وہ اپنے دین کواور اس کے دکھائے جانے والی سیدھی راہ کو ہی ہم مثال سمجھنا چاہئے۔ 

کیونکہ اس آیت کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اس کی روشنی کی طرف آنے والوں کو اللہ راہ دکھاتا ہے۔ 

چاہنے والوں کو اللہ راستہ دکھا ئے گا کا مطلب ہے کہ اپنے دین کی طرف راستہ دکھائے گا۔اس کو اسی معنی سے استعمال کیا گیا ہے۔ 

یہ آیتیں 2:55، 4:153، 6:103، 7:143، 25:21کہتی ہیں کہ اللہ کو یعنی اللہ کی روشنی کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔

اس لئے اس آیت 24:35میں مثال کے طور پر کہی جانے والی روشنی اس کے دین کو اور سیدھی راہ کو مثال ہے کہ سوائے اللہ کے نور کو مثال ‏نہیں۔ 

یہا آ یتیں 42:11، 112:4جو کہتی ہیں کہ اللہ کے مثل کچھ بھی نہیں، اس پر بھی ہمیں غور کر نا چاہئے۔

اللہ کے نور کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 21دیکھئے!  

‏301۔ غلاموں کوآزاد نامہ

غلاموں کوبیچنے پردام دے کر خریدنے والوں کو نقصان نہ ہو اس پرجو معاہدہ کیا جا تا ہے اسی کوآزاد نامہ کہا جا تا ہے۔

اس رقم کوکماکر دیتا ہوں یا کوئی دوسرے معاہدے کی بنیاد پراپنے مالک کے پا س معاہدہ کر کے اپنی غلامی کے پھندے سے غلام آزاد ہو سکتا ہے۔ 

اسی کویہ آیت 24:33کہتی ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 107 دیکھئے!  

‏300۔ عورتوں کو حجاب کیوں؟ 

‏ان آیتوں 24:31 اور 33:59 میں ان اخلاق کے بارے میں کہا گیا ہے جنہیں عورتیں پیروی کرنا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ عورتیں اپنے ہاتھوں، چہرہ اور پاؤں کے سوا دیگر تمام اعضاء چھپائے رکھیں۔ (اس کے بارے میں تفصیل حاشیہ ‏نمبر 472 میں دیکھیں!)

اس کو حجاب، پردہ، برقع،اور چادروغیرہ نام سے کہا جاتا ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجاب عورتوں کے لئے ایک بوجھ ہے۔ ان کے حقوق کو چھیننے والی اور ان کی ذاتی آزادی میں داخل ہو نے والی ہے۔ 

اصل میں حجاب عورتوں کو اعزاز دلانے اور انہیں حفاظت میں رکھنے ہی کے لئے بنایا گیا ہے، اس کے سوا ان کے حقوق کو چھینے کے لئے نہیں بنا یا ‏گیا۔ 

جس طرح اسلام عورتوں کو لباس کے متعلق پابندی لگائی ہے اسی طرح ہمارے ملک کے سارے مذہب والے اور لامذہب بھی عورتوں کو لباس ‏کے متعلق پابندی لگائی ہے۔ حقوق عورت کی بات کر نے والی عورتیں بھی اپنے کو بھول کر لباس کے معاملے میں عورتوں کو لباس کی پابندی کی ‏ضرورت کوظاہر کر تے ہی آرہے ہیں۔

سب کا کہنا یہی ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتیں ہی زیادہ چھپانے کی ضرورت ہے ۔وہ زیادہ کتنا ہو نا چاہئے ، اسی میں وہ اسلام سے اختلاف رکھتے ‏ہیں۔ اس کو پہلے جان لینا چاہئے۔

محنت کر نے والا شخص قمیص اور بنیان بھی پہنے بغیر صرف ہاف پینٹ پہن کر اپنا کام کر تا ہے۔ سب کے سامنے اس وضع میں وہ رہتا ہے۔ لیکن ایک ‏محنتی عورت اوپری لباس کے بغیر صرف ہاٹ پینٹ پہن کر کام کر نے یا دوسروں کے سامنے دکھائی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ 

بیوی، بہن اور ماں دوسروں کے سامنے اس طرح کے لباس میں نظر آنا ترقی یا فتہ لوگ بھی پسند نہیں کریں گے۔ 

ا سی طرح درمیانی طبقہ یااوپر والے طبقہ کا کوئی شخص گھر کے اندر نکّر کے ساتھ رہتا ہے۔ ہر وقت نہ سہی سخت محنت کے وقت اور سخت گرمی کے ‏وقت ویسا رہتا ہے۔ اسی طبقہ والی ایک عورت گھر کے اندر اس طرح رہنے کو کیا اجازت ملے گا؟ ہر گز نہیں!

غیر مرد وں کے سامنے ہی نہیں بلکہ گھروالوں کے سامنے بھی کوئی عورت اس حالت میں نہیں رہتی۔ اور عورتوں کے سامنے بھی اس طرح دکھائی ‏دینے کو اجازت نہیں ہے۔ 

مردوں سے زیادہ چھپانے والی چیزیں عورتوں ہی کے پاس زیادہ ہیں،اس کے لئے یہ رویہ سند ہے کہ اس کو عورتیں بھی جانتے ہیں اور مر د بھی ‏جانتے ہیں ۔

عورتیں مردوں سے زیادہ اپنے اعضاء کو چھپانا پڑتا ہے، اس کو وہ اپنی عادتوں سے مان لیتے ہیں۔ کتنی حد تک چھپانا ہے ، اسی میں اسلام کے اور ان کے ‏درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ بھی مردوں کو جتنا حق لباس کے معاملے میں دینا ہے ، اس لحاظ سے عورتوں کو دئے نہیں۔ 

حجاب کس طرح عورتوں کو اعزاز دلانے اور انہیں حفاظت میں رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے، اس پر ہم غور کریں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ مرد عورتوں سے اور عورت مردوں سے کتنا ذوق رکھتے ہیں ۔ہم کوپہلے سمجھنا چاہئے کہ پھر بھی دونوں کے ذو ق میں فرق ہو تا ‏ہے۔ 

عورتوں کا رنگ روپ، حسن، جوانی اور اعضاؤں کا ابھار وغیرہ سے مرد لطف ا ندوزہو تے ہیں۔ اسی وجہ سے کم لباس میں یا کشش پیدا کر نے کے ‏تنگ لباس میں اگر عورت نظر آئے تو اس کو مردلوگ بار بار دیکھنے کو چاہتے ہیں۔ بعض لوگ مستثنیٰ رہنے کے باوجود عام طور سے مرد لوگ ایسے ‏ہی ہو تے ہیں۔ 

لیکن عورتوں کا ذوق اس طرح کا نہیں ہوتا۔ مردوں کے اعضاؤں کی کشش میں ان کا ذوق جا تا نہیں۔ اسی لئے مرد کتنا بھی کم لباس میں نظر آئے ‏اس پر عورتوں کی نظر جاتی نہیں۔ پھر سے دیکھنے کی خواہش ہوتی نہیں۔ 

فحش فلموں اور کتابوں وغیرہ میں عورتوں کی ننگی تصویریں ڈال کر بیوپار کر تے ہیں، لیکن اس طرح مردوں کی ننگی تصویریں ڈال کربیوپار نہیں کیا ‏جاتا۔ اسی سے اس فرق کوجانا جا سکتا ہے۔ 

مرد اور عورتیں مل کر زندگی بسر کر نے کی اس دنیا میں صرف عورتوں کی خواہش کو مد نظر رکھ کر ان کے لباس کا فیصلہ کر نا ٹھیک نہیں۔انہیں دیکھ ‏کر محظوظ ہو نے والے مردوں کی دلی کیفیت کو بھی نظر میں رکھ کر ان کے لباسوں کا فیصلہ کر نا چاہئے۔ دونوں طرفیں عصمت اور شائستگی سے جینے ‏کیلئے اس طرح غور کر نا ضروری ہے ۔ 

ایک خوبصورت عورت کے پاس ایک مرد جس کو دیکھ کر محظوظ ہونا چاہتا ہے اس چیز کو بالکل چھپانا چاہئے۔ 

بعض لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ صرف دیکھنے سے کیا ہوجائے گا؟ یہ سوال ہی غلط ہے۔ اس سے ہونے والے انجام کو ہم ہر روز دیکھتے ہی آرہے ہیں۔ ‏اپنی بیوی سے زیادہ خوبصورت کسی عورت کو دیکھنے والوں میں اکثرصرف لطف انداز ہی نہیں ہو تے بلکہ اس عورت کو حاصل کر نے کی بھی کوشش ‏کر تے ہیں۔ ہم ہر روز دیکھتے آرہے ہیں کہ وہ معاملہ بڑھ کرزنا بالجبر اور قتل تک نوبت آجاتی ہے۔ 

اس حد تک برائی میں نہ جا نے والے بھی دل کے اندر اس کے خیال میں ڈوب جانے والے بھی ہیں۔ اپنی بیوی سے موازنہ کر کے بیوی پر ہونے والی ‏محبت میں کمی کر لیتے ہیں۔ 

اخلاقی زندگی میں دنیابالکل پست انداز میں جانے کی وجہ عورتوں کی تنگ لباسیں اور مردوں کو لبھانے والی زینتیں ہیں۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح مرد عورتوں کو دیکھ کرلطف اندوز ہو تے ہیں اسی طرح عورتیں بھی مردوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اگر اس ‏دعوے کو حق مان بھی لیا جائے تو حجاب کے انکار کے لئے یہ دعویٰ قوی نہیں ہے۔ 

کیونکہ مرد عورتوں کو دیکھ کر محظوظ ہو تے ہوئے ان کی مرضی کے بغیر ہی ان سے زبردستی بدکاری کر سکتے ہیں۔لیکن عورتیں مردوں سے لطف ‏اندوز ہوبھی لیں توجب تک مرد رضامند نہ ہو اور ان کے جذبات جب تک نہ ابھریں عورتیں مردوں کو زبردستی سے زنا بالجبر نہیں کر سکتے۔ 

اس حالت میں ایک مرد کتنا بھی کم لباس میں رہے اس کو کوئی اثرنہیں ہو سکتا۔ لیکن ادھورا اور مشتعل انگیز لباس پہننے والی عورت کو ضرور اس کے ‏ادھورے لباس کے ذریعے اشتعال پائے ہوئے مرد کے ذریعے ضرور اثر ہوگا۔ 

عورت کی خواہش کے خلاف زبر دستی اس سے اگر مجامعت کریں تو اس کا حق ، اس کی نسوانیت، خودداری وغیرہ متاثر ہو جا تا ہے، اس کو حجاب پر ‏نقص دکھانے والے غور نہیں کر تے۔ 

ملک میں ہر روز ہونے والی عصمت دری اور عورتوں کے خلاف کئے جانے والے ظلم و ستم پر سرزنش کر تے ہوئے اس حرکت میں مبتلا ہو نے ‏والوں کو سختی سے سزا دینی چاہئے اور عرب ممالک کا قانون یہاں بھی لاگو کرا نا چاہئے۔اس طرح حجاب پر نقص اٹھانے والے چلا رہے ہیں۔ 

لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ مردوں میں بعض لوگوں کو ترغیب دلانے والا عورتوں کا لباس بھی اس حال کے لئے ایک اہم وجہ ہے۔ سبب کو بھول کر ‏صرف کام پر الزام لگانا کیسا انصاف ہے؟

ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ حقوق نسواں کا تحریک فحش فلم اور دیوار گیر اشتہار کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں، اور پوسٹروں کو پھاڑنے، رنگ لگا کر اس ‏کو چھپانے میں مشغول ہورہے ہیں۔ یہ کس طرف اشارہ کر ہا ہے؟ کیا ان لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اس چیز کو ان کی ضمیر خود قبول کر تی ہے کہ ‏عورتیں مردوں سے زیادہ اپنی جسم کو چھپا نا ہے؟

حقوق نسواں کو استعمال کر تے ہوئے آزادی سے وہ عورت (اداکارہ) اس طرح دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس کی آزادی ہے۔ اس کی مرضی ہی سے وہ ‏منظرفلمائی گئی۔ اس حالت میں ایسے مناظروں کو سرزنش کر نا اور اس کو پھاڑنا ، انہیں کے قول کے مطابق اس عورت کی ذاتی آزادی اورحقوق پر ‏مداخلت نہیں ہوگا؟ 

اسلام کہتا ہے کہ عورتوں کا جسم چھپانا چاہئے۔ان کی وہ حرکات ہی کہتی ہیں کہ اسی کو ان کی ضمیر بھی کہتی ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھ سکتا ہے کہ عورتوں کا پوارا جسم ہی لطف اندوز ہو نے کی چیز ہے تو چہرہ اور ہاتھوں کو بھی تو چھپانا ہے؟ 

اس کو بھی اسلام مناب وجوہات کی بنا پر ان دونوں اعضاؤں کو نہ چھپانے کے لئے رعایت بخشی ہے۔ 

مرد ہو یا عورت ان میں سے کوئی بھی اللہ سے ڈر کر شائستگی سے جینے والے بہت ہی کم ہیں۔ اکثر لوگ شائستگی سے چلنے کی اہم وجہ وہ سوچتے ہیں کہ ‏ان کے اپنے آدمیوں کے درمیان اپنی عزت پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ اسی ڈر سے وہ اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ اپنی بستی میں بااخلاق نظر آنے ‏والے وہی لوگ غیر بستیوں میں نیک اخلاق کوکھو دینے کی وجہ یہی ہے۔ 

ایک عورت اگر پوری طریقے سے منہ چھپالے تویہ جاننا کہ وہ کون ہے مشکل ہو جا ئے گا۔ اگر وہ جان لے کہ مجھے کوئی نہیں جانتا تو اس کو اخلاق کھو ‏نے کے لئے ہمت پیدا ہو جا ئے گی۔ کسی بھی مرد کے ساتھ وہ جائے، اس کو نہ جاننے کی وجہ سے، دنیا سمجھ جائے گی وہ اس کی بیوی ہے۔ اگر منہ بھی ‏چھپالینے کی اجازت دی جائے تو ایسا ہوجائے گا کہ غلط کام کر نے کے لئے راہ بنا کر دیا گیا ہے۔

عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی نقاب اوڑھ کر ایسی لباس پہن کر کہ کوئی بھی پہچان نہ سکے ، اس کو اگر اجازت دی جائے تو اس وقت اس کی اصل روپ ‏بھی ظاہر ہوجا ئے گی۔اللہ کا ڈر نہ سہی، سماج کی طرف سے توخوف ہو تواخلاق کی پیروی کر نے راستہ ملے گا۔ 

اسی لئے اسلام صورت چھپانے کے لئے عورتوں کو اجازت نہیں دی۔ 

عورتیں صورت چھپانا نہیں، اس کو دلیلوں کے ساتھ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 472دیکھیں!

لین دین اور کئی معاملوں میں مبتلا ہو نے کے لئے ہاتھوں کا کھلا رہنا ضروری ہے۔ اس کو بھی اگر چھپا لیا جائے تو کسی بھی کام میں عورت مصروف ہو ‏نہیں سکتی۔ اسی طرح پاؤں کو چھپانے کے لئے بھی اسلام نے زور نہیں دیا۔ 

اس کے سوا دوسرے تمام اعضاء ضرور مردوں کے جذبات سے کھیلنے والی ہی ہیں، ان کے اخلاق کو چیلنج کر نے والی ہیں۔ ان حصوں کو کھلا رکھنے سے ‏کوئی فائدہ نہیں۔

صرف چہرہ اور ہاتھ دکھائی دینے کی طرح لباس پہننا عورتوں کی ترقی کے لئے مانع ہے کہنا بھی قابل قبول نہیں ہے۔ 

اس ملک کے اور دنیا کی مختلف ملکوں کے وزیر اعظم، صدر جمہوریت اور وزیر ریاست جیسے مختلف عہدے میں رہنے والے مرد اپنے چہرے اور ہاتھ ‏کے سوا باقی حصوں کو پوری طرح سے چھپائے رکھے ہو ئے ہیں۔ پھر بھی انہیں اس طرح چھپا کر رکھنا بڑے عہدوں کے لئے مانع نہیں ہے۔ 

بڑے عہدے میں رہنے والے کوئی بھی مرد ناف دکھاتے ہوئے لباس نہیں پہنتے۔ گھٹنے تک چوغہ پہن کر پاؤں کو دکھاتے نہیں۔

اس بات کو کیسے قبول کیا جائے کہ مردوں سے کم مقدار میں چھپانا ہی عورتوں کی آزادی ہے؟

دوسرے لوگ دیکھ کر محظوظ ہو نا چاہئے، ایسی گستاخانہ خیال ہی اگر آزاد کہلاتا ہے تو ہم اسے نہیں مان سکتے۔ 

ایسی جسم کوحاصل کئے ہوئے مردجوکسی کومتاثر نہیں کرتا، وہ پوری طرح لباس پہن کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ 

کم لباس سے دوسروں کو متاثر کر نے والے جسم کوپائی ہوئی عورتیں بالکل الٹا حرکت کر تی ہیں وہی تعجب خیز ہے۔ 

قریب ہی میں تفتیش کیا گیا ہے کہ مردوں کی مردانیت کو متاثر کر نے میں عورتوں کاادھورا لباس بہت اہم جگہ پایا ہے۔ 

یعنی کہ مردوں کی جذبات کو ابھارنے کی طرح عورتیں لباس پہننے کی وجہ سے اسے دیکھ کر مرد جب خوش ہو تا ہے تو وہ اکسائے جاتے ہیں۔اب ‏انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سے ان کے عضو میں بار بار آنے والی رطوبت سے وہ ازدواجی زندگی میں مبتلانہ ہو نے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ 

اس سے عورتوں کو کافی ازدواجی آسودگی نہ ملنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اور بھی مثبت کرتاہے کہ حجاب کو پیروی کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ 

ایک اور بات بھی یہاں ہم کہنا چاہتے ہیں۔پردہ کوئی خاص رنگ اور شکل کی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی رنگ میں اور کسی بھی وضع میں ہو سکتا ہے۔ چہرہ ‏اور صورت کے سوا باقی دوسرے حصے کو چھپانا چاہئے، یہی قانون ہے۔ 

ذلیل خیالات کے مردوں سے عورتوں کو حفاظت کر نے اور سماج میں نیک اخلاق کو قائم کر نے اسلام میں حجاب کو زور دیا گیا ہے۔ 

مغربی ممالک میں دئے گئے لباس کی آزادگی سے جو انجام ہو رہا ہے اس کو دیکھنے کے باوجود کوئی بھی حجاب کے متعلق نقص نہیں کہہ سکتا۔   

‏299۔ لوگوں کے سامنے سزا

‏اس آیت 24:2 میں کہا گیا ہے کہ سزائیں عوام کے سامنے تعمیل کر نا چاہئے۔ 

عوام کو بتائے بغیر پوشیدہ طور پر سزاؤں کو تعمیل کرنا اسلام نہیں مانتا۔ کیونکہ سزائیں دینے کامقصد ہی اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ سدھرنا ‏چاہئے۔ 

اس لئے عوام کے سامنے سزا ئیں تعمیل کرنے ہی سے سزا دینے کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے اس آیت میں کہا گیا ہے کہ سزا دئے جاتے وقت ‏ایک گروہ وہاں موجود رہے۔   

‏298۔ مرنے والے کی روح اس دنیا کو آنہیں سکتی

‏ایک انسان جب مرجا تا ہے تو اس کے اور اس دنیا کے درمیان کسی قسم کا تعلق نہیں رہتا۔یہ آیت23:100 کہتا ہے کہ ان کے پیچھے ایک غیر ‏محسوس بہت بڑا پردہ ڈال دیا جا تا ہے۔

مرے ہوئے لوگوں کو پکار نا،مرے ہوئے لوگوں کی عبادت کرنا، مرے ہوئے لوگوں کے پاس حاجت رکھنا، اور ان پر نذرونیازچڑھانا ، ایسے عمل ‏کر نیوالوں کو یہ آیت بالکل خلاف ہے۔ 

جب کہا جاتا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کو اور اس دنیا کو پردہ ڈال دیا جاتاہے تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ اس دنیا میں رہنے والے جو کچھ کرتے ہیں ‏اس کو مرے ہوئے لوگ جان ہی نہیں سکتے۔

مرے ہوئے لوگ کچھ بھی جان ہی نہیں سکیں گے تو یہ ثابت ہوجا تا ہے کہ وہ کچھ بھی کر بھی نہیں سکیں گے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 79 دیکھیں!

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

More Articles …