Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏313۔ روم کے فتح کے بارے میں پیشنگوئی

‏جب نبی کریم ؐ مکہ میں تھے تودنیا میں دو زبردست حکومت تھیں۔ ایک عیسائیوں کے قبضہ میں رہنے والی روم اور دوسری آگ کو پوجا کر نے والوں ‏کی پارسی حکومت۔ 

نبی کریمؐ کے زمانے میں یہ دو زبردست حکومتیںآپس میں ٹکراگئیں تو روم کی سلطنت ہار گئی۔ اس پرنبی کریم ؐ کے دشمنوں نے خوشی منائی۔ 

دشمنان مکہ کہنے لگے کہ محمد ہی کی طرح اپنے پاس کتاب کا دعویٰ رکھنے والی رومی سلطنت تباہ ہوگئی۔ہماری ہی طرح کئی معبودوں کو ماننے والی سماج ‏فتاح پا گئی۔ اس لئے محمد سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ 

اسی وقت یہ آیتیں (30:2,3,4) پیشنگوئی کی کہ چند ہی سالوں میں رومی سلطنت فتح پا جا ئے گی اور پارسی حکومت مٹ جائے گی۔ 

نبی کریم ؐ ہی کے زمانے میں اسی پیشنگوئی کے مطابق رومی سلطنت فتح پا گئی اور پارسی حکومت مٹ جانے کی حیرت انگیز واقعہ وقوع پذیر ہوی۔یہ ‏ایک اور ثبوت ہے کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے ۔  

‏312۔ لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے محمد نبی

‏یہ آیتیں 6:112، 7:157، 7:158، 25:5، 29:48 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ 

مسلمان جان رکھے ہیں کہ نبی کریم ؐ کو لکھنا پڑھنا نہ آتا تھا۔

بعض عالم قیاس آرائی سے کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ 

پڑھائی کے ذریعے ہی آج کے انسان کی قابلیت کو مانا جاتا ہے ، اس لئے اس زمانے کے لوگ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے کہنے سے شرماتے ‏ہیں۔ 

اس طرح کہنے سے وہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کی عظمت کو زک پہنچے گا، اسی لئے وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ 

یا شاید انہیں شرم محسو س ہو رہی ہے کہ ایک پڑھنالکھنا نہ جاننے والے کو اپنا رہنما کیسے کہیں!

اس کی حمایت میں چنددلیلیں بھی وہ پیش کر تے ہیں۔ وہ دلیلیں کیا صحیح ہیں ، اس کو تفتیش کر نے سے پہلے ہمیں معلوم کر لینا چاہئے کہ نبی کریم ؐ کو ‏پڑھائی نہ ہونا کیا صحیح معنوں میں قابلیت کی کمی ہے؟

پڑھائی نہ ہونا عام طور سے قابلیت کی کمی ہی سمجھا جا تا ہے ، اس کے باوجود نبی کریم ؐ کے معاملے میں یہ کوئی قابلیت کی کمی نہیں ہے۔ کیونکہ قابلیت کی ‏کمی سمجھے جانے والی چند چیزیں چند جگہوں میں قابلیت کی زیادتی کا مظہر ہو جا تا ہے۔

انسانوں کو تعلیم ایک مزید قابلیت پیدا کر نے والی ہو نے کے باوجوداللہ کے رسول بعثت ہو نے والے نبی کریم ؐ کو تعلیم نہ رہنا ہی خصوصیت ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے کہا کہ مجھے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ وہ خبر بہت ہی اعلیٰ درجے کاادبی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی معیار اتنی بلند تھی کہ للکار سکتے ‏تھے کہ اس جیسا کوئی بھی بنا نہیں سکتا۔ 

اگر نبی کریم ؐ پڑھے لکھے ہوتے تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ ان کی تعلیمی صلاحیت کے ذریعے سے انہوں نے بنائی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوسکتا تھا کہ ‏نبی کریم ؐ بہت ہی باصلاحیت شخصیت ہے ، لیکن وہ ایک رسول ہیں ، یہ ثابت ہو نہیں سکتا تھا۔ 

نبی کریم ؐ ایک عربی کے عالم تھے کہنے سے زیادہ وہ اللہ کے رسول تھے کہنے میں ہی بہت ہی خاص خصوصیت ہے۔ 

اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو آپ کو روبرو دیکھنے والوں میں سے اکثر لوگ انہیں اللہ کا رسول نہیں مانے ہوں گے۔ آپ کے فرمان وحی کو اللہ ‏کی کتاب نہیں مانے ہوں گے۔ 

یہ ثابت کر نے کے لئے کہ یہ اللہ کے رسول ہی ہیں، اللہ نے اس قابلیت کی کمی کو قائم کیا۔ 

‏’’لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے اتنی اعلیٰ قسم کی باتیں سنارہے ہیں، ہر گز یہ ان کی صلاحیت سے بنایا گیا نہیں ہوگا۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ اللہ کا کلام ‏ہی ہوگا‘‘ اس طرح ا س دور کے لوگ ماننے کی وجہ ہی نبی کریم ؐ کی غیر تعلیم ہی ہے۔ 

اس 29:48 آیت میں اللہ فرماتا ہے: ’’اگر تم لکھنا پڑھنا جانتے ہو تے تو باطل پرست لوگ شک میں پڑجاتے۔‘‘اس پر غور کر نے والے خوب ‏سمجھ سکتے تھے۔ 

یہ 29:48 آیت قطعی طور پر کہتی ہے کہ ایک اور فضیلت عطا کر نے کے لئے اللہ نے آپ کو اس قابلیت سے محروم کر دیا۔ 

قرآن مجید کئی مقامات پر صریح انداز سے کہہ دیاہے کہ نبی کریم ؐ کو پڑھنا لکھنا نہیں معلوم۔

قرآن کی آیت 7:157,158 میں نبی کریم ؐ کو اللہ نے امُی کہا ہے۔ 

امُّ ماں کو کہتے ہیں۔ امی کا مطلب ہو تا ہے ماں سے وابستہ رہنا۔ ننھا بچہ ماں کے ساتھ ہی وابستہ رہنے کی وجہ سے اس کو اُمی کہا جا تا ہے۔ پھر پڑھنا لکھنا نہ ‏جاننے والے اس معاملے میں ننھے بچے کی طرح رہنے کی وجہ سے وہ بھی اُمی کہلائے جاتے ہیں۔ 

ان آیتوں 25:4,5 میں کہا گیا ہے کہ یہ اگلوں کی بناوٹی کہانیاں ہیں۔ اس کو انہوں نے لکھوالی ہے۔ اور اس کو صبح اور شام ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ‏ہے۔ یہ آیت بھی اس کی دلیل ہے کہ نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ 

جب دشمنوں نے کہا کہ یہ قرآن نبی کریم ؐ کی بناوٹی کہانی ہے اور اس کو کئی لوگ مدد کر تے ہیں۔ اس سے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی کریم ؐ نے خود اس ‏کو نہیں لکھا بلکہ دوسروں سے لکھوالیا ہے۔ وہ لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبی کریم ؐکو لکھنا نہیں آتا، اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ لکھنا جو جانتا ہے ‏اسکے ذریعے سے آپ نے لکھوالیا۔

کَتَبَ کا مطلب ہے کہ لکھا۔ اِکْتَتَبَ کا مطلب ہے دوسروں سے کہہ کر لکھوالیا۔جو آیت ہم نے اوپر درج کیا ہے اس میں اِکْتَتَبَ کا لفظ ہی جگہ پایا ‏ہے۔ 

ان سب سے بڑھ کر یہ آیت29:48 ترکیب پائی ہے۔

یہ آیت قطعی طور پر کہتی ہے کہ اس سے پہلے بھی تم نے کوئی کتاب نہ پڑھی اور اس کے بعد بھی تم اپنے ہاتھ سے نہیں لکھوگے۔ 

چند مترجم لکھتے ہیں کہ اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے بھی نہیں تھے، یہ غلط ہے۔ وَلاَ تَخُطُّہُ یہ ماضی کا صیغہ ہے۔اس کا براہ راست معنی اور صحیح بھی یہی ہے ‏کہ اس کے بعد بھی تم نہیں لکھوگے۔

اللہ نے فرمادیا کہ نبی بننے سے پہلے بھی تم نے نہیں لکھااور اس کے بعد بھی نہیں لکھوگے۔اس لئے بعض لوگ جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ نبی بننے کے ‏بعد لکھنا پڑھنا جان گئے ہوں گے،اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے ۔

اس طرح کہنے والے کہ نبی کریم ؐ کو لکھنا پڑھنا آتا ہے، اس واقعہ کو سند پیش کر تے ہیں۔ 

حدیبیہ معاہدہ کے وقت اس مین جو لکھا گیا تھا ’’ اللہ کے رسول محمد ‘‘ کو دشمنوں نے انکار کیا۔ اور کہا کہ اگر ہم مان گئے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں تو ‏ہمارے درمیان کوئی جھگڑاہی نہیں ہوگا۔ اس کو قبول کر تے ہوئے نبی کریم ؐ نے کہا کہ ’’ اللہ کے رسول محمد ‘‘ کو مٹا کر ’’عبداللہ کے بیٹے محمد‘‘ لکھ ‏دیا جائے۔ اصحاب رسول کوئی بھی نبی کریم ؐ کے نام کو مٹانے کے لئے آگے نہیں بڑھا۔ تو فوراً نبی کریم ؐ نے معاہدے میں لکھے ہوئے اپنے نام کو مٹا ‏دیا۔ (دیکھئے بخاری کی حدیث : 2500، 2947,2501، 3920)

وہ اس طرح حجت کر رہے ہیں کہ نبی کریم ؐ لکھنا جانتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے نام کو تلاش کر کے مٹائے ہوں گے۔ لکھنا نہیں جانتے تھے کے ‏لئے اتنی صریح دلائل رہنے کے باوجود وہ گھما پھرا کر سندیں دکھا رہے ہیں۔ 

بخاری کی حدیث 3184 کہتی ہے کہ ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ’’نبی کریم ؐ لکھنا نہ جانتے تھے، اسی لئے ’’ اللہ کے رسول محمد ‘‘ کومٹاکر ’’عبداللہ کے ‏بیٹے محمد‘‘کو لکھنے کے لئے علیؓ سے کہا۔ علیؓ نے مٹانے سے انکار کردیا۔تو نبیؐ نے علیؓ سے پوچھا کہ اگر ایسا ہو تو وہ لفظ کہا ں ہے مجھ کو بتاؤ ۔ علیؓ نے اس ‏لفظ کو دکھایا۔ تو فوراً نبی کریم ؐ نے اپنے ہاتھ سے اس کو مٹادیا۔ ‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ لکھنا نہ جاننا عام طور سے قابلیت کی کمی ماناجاتا ہے، لیکن نبی کریم ؐ کے حد تک وہی بات بہت ہی قابل اعزازقابلیت ہے۔   

‏311۔ مکہ کے فتح کے بارے میں پیشنگوئی 

‏یہ آیت 28:85 پیشنگوئی کرتی ہے کہ مکہ سے ہجرت کرنے والے نبی کریم ؐ پھر سے مکہ آئیں گے۔

نبی کریم ؐ نے مکہ سے جان بچا نے کی حالت میں مجبوراً ہجرت کر نا پڑا۔ 

اس حالت میں باہر ہونے والا ایک شخص پھر سے اسی شہر میں آکر حکمرانی کر ے گااور اس کوموزوں حالت پیدا ہوگی، اس کو کوئی قیاس بھی نہیں کر ‏سکتا تھا۔ 

لیکن اس آیت میں نبی کریم ؐ مکہ سے مدینہ کوجانے کے بارے میں کہتے وقت اللہ پیشنگوئی کر تاہے کہ تمہیں جس جگہ سے جلا وطن کیا گیا اسی جگہ پر ‏میں تمہیں لاکر پہنچاؤں گا۔ اس پیشنگوئی کو نبی کریم ؐ نے دنیا بھر کے لوگوں کو فرمایا۔ 

جنہوں نے باہر نکالا اسی شہر کو چند ہی سالوں میں اپنی قابو میں کر لیا۔ اس کی پیشنگوئی پہلے ہی کہہ دینے سے یہ بھی ایک سند ہے کہ قرآن اللہ ہی کا ‏کلام ہے۔   

‏310۔ صحرامیں پھل ملنے کی پیشنگوئی

‏آج کا شہر مکہ نبی کریم ؐکے زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی ایسا ایک صحرائی کھلی فضا تھی کہ وہاں کسی قسم کی پھل کی پیداوار نہیں تھی۔آج بھی ‏وہاں پھلوں کی پیداوار نہیں ہے۔ 

اس28:57 آیت میں پیشنگوئی کی گئی ہے کہ اس صحرائی کھلی فضا کو دنیا کے کئی حصوں میں سے پھل وغیرہ دستیاب ہو گا۔حج کو جانے والا ہر شخص ‏اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ وہ پیشنگوئی انجام پائی ہے۔ 

دنیا کے سارے قسم کے پھل ان لوگوں کی طرف سمٹتے ہوئے آنے کی منظر آج بھی دنیا دیکھ رہی ہے۔ 

جدید دنیا میں دنیا مختصر ہونے والے اس دورہی میں نہیں بلکہ ایک حصہ میں پیدا ہونے والی چیزیں دنیا بھر میں دستیاب نہ ہونے والے زمانے میں ‏بھی یہ عجوبہ چل رہا ہے۔قابل غور بات ہے کہ چودہ سو سال سے یہ چلتا آرہا ہے۔

یہ بھی ایک دلیل ہے کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔  

‏309۔ مہر کے طور پر آٹھ سال کی محنت

‏یہ آیت 28:27ازدواجی زندگی میں عورتوں کے حق کے بارے میں کہتی ہے۔ 

ایک بزرگ نے شرط لگائی کہ ایک عورت سے نکاح کر نے کے لئے اپنے پاس آٹھ سال تک مزدوری کر نا چاہئے ، اس کو موسیٰ نبی نے قبول کر لیا۔ 

مہر دئے بغیر عورتوں کو دھو کہ دینا، حقیر چیز کو دے کر انہیں فریب دینا یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔ اس کے لئے یہ واقعہ ایک دلیل ثابت ہے۔ 

عورتوں کے پاس جہیز نہ لینا چاہئے اور مہر اداکر کے ہی نکاح کر نا ہے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 108دیکھئے!  

‏308۔ آخر زمانے میں ظاہر ہونے والا جاندار

‏دنیا فنا ہو نے کا زمانہ جب قریب آتا ہے تودنیا میں کئی عجیب واقعے پیش آئیں گے۔ اس میں سے ایک عجیب واقعہ ہی اس 27:82آیت میں کہا گیا ‏ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ اب تک انسان نے جو نہیں دیکھا ویسا ایک جاندار زمین میں ظاہر ہوگا۔ وہ انسان سے بات کرے گا۔ 

اللہ کی عجائبات میں یہ بالکل معمولی ہے۔ پھر بھی اپنی دلی خواہش کے مطابق قرآن کی وضاحت کر نے والے بعض لوگ اس کو ایک دوسری طریقے ‏سے وضاحت کر تے ہیں۔ عجیب جاندار کو وہ لوگ ریڈیواور ٹیپ رکارڈر وغیرہ کوکہتے ہیں۔ 

اس کو اکثر لوگ مختلف تشریحات دینے کے باوجود اصل متن میں جو دابہ کا لفظ ہے ، وہ ایک جاندار ہی ہے۔ 

مزید یہ کہ نبی کریم ؐ نے قیامت کے دن کی جو دس آثار کہا ہے اس میں سے دابہ نامی جاندار بھی ایک ہے۔ 

چنانچہ زمین سے ایک جاندار ظاہر کر یں گے کا مطلب آج کے جدید انکشافات کا سائنسی آلہ نہیں ہے۔   

‏307۔ آسمانی دنیاکو جانے کے لئے شیطانوں کومنع ہے

‏یہ آیتیں15:18، 26:212، 37:8,9,10، 72:8,9 آسمانی حکومت کے بارے میں کہتی ہیں۔

فرشتے اپنے کو دئے گئے احکام کے بارے میں اپنے درمیان جب گفتگو کر تے ہیں تو شیاطین اس کو آسمان کے قریب جا کران کی باتوں سے چند باتیں ‏سن لیا کرتے تھے۔ اللہ نے بھی اس کو روکا نہیں تھا۔ 

نبی کریم ؐ رسول بنا کر بھیجے جانے کے بعد اس طرح چھپ کر سننے سے اورآسمانی راز کو شنوائی کرنے سے شیطانوں کو روک دیا گیا تھا۔ 

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد آسمانی دنیا کی کوئی بات شیاطین سن نہیں سکتے۔  

‏306۔ دشمنوں کی ناکامی کے بارے میں پیشنگوئی

‏نبی کریمؐ جب مکہ میں کمزور حالت میں تھے تو اس وقت قرآن کی آیت 54:45 میں کہا گیا کہ آخر کار نبی کریم ؐ ہی کو فتح ملے گی، اور دشمن پیٹھ پھیر ‏کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ 

مسلمان فتح پائیں گے، اس کی کوئی نشانی وہاں موجود نہیں تھی، اس زمانے میں اللہ کا یہ اعلان چند ہی سالوں میں سچا ثابت ہوا۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کلام ہے ، اس کے لئے یہ آیت ایک اور سند ہے۔   

More Articles …