Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏329۔ ایک قوم کے لئے تین پیغمبر

‏اس آیت 36:14میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک قوم کی طرف ایک وقت میں پہلے دو رسول بھیجے گئے ، پھر تیسرا رسول بھی بھیجا گیا۔ 

تین رسولوں کو بھیجنا ایک تاریخی خبر رہنے کے باوجود اس میں ایک اصولی تشریح بھی موجود ہے۔ 

کتاب حاصل کر کے لوگوں تک پہنچانے کے سوا دوسری کوئی ذمہ داری رسولوں کو نہیں ہے ، اس طرح دعویٰ کر کے رسولوں کی رہنمائی کی ‏ضرورت نہیں کہنے والوں کو یہ واقعہ انکار کر تی ہے۔

‏کتاب لے آکر لوگوں کے پاس پہنچانے کے سوا اگر رسولوں کو ئی کام نہیں دیا گیا ہے تو ایک قوم کے لئے ایک دور میں ایک ہی رسول بھیجا جانا چاہئے ‏تھا۔ 

لیکن ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔ 

اگر کتاب لا کر دینے سے رسولوں کا کام ختم ہو جا تا تو ایک ہی رسول کو اللہ بھیجا ہوتا۔ دو رسولوں کو کو بھیجا نہیں ہوتا۔ کتنا بھی تشریح کرو ، جب لوگ ‏قبول نہیں کر تے توایک اور رسول کو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ رسولوں کا کام صرف کتاب لا کر دینا ہی نہیں ہے۔ 

کتاب لا کرصرف لوگوں کو دینا ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی تشریح کر نا اور پرچار کر نا بھی رسولوں کا کام رہنے ہی پر ایک قوم کے لئے ایک دور ‏میں تین رسولوں کو بھیج سکتے ۔

لوگوں کا سخت ارادہ اور سمجھنے کی طاقت کم رہنے ہی کے وجہ سے ایک رسول سے وہ کام کو پوری طریقے سے ہو نہیں سکتا، اسی صورت میں اللہ کئی ‏رسولوں کو بھیجتا ہے۔ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طریقے سے اگر دیکھا گیا تو کتاب سے زیادہ اللہ نے رسولوں ہی کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ 

اسی طرح ایک اور دور میں موسیٰ نبی کے ساتھ ہارون نبی کو بھی اللہ نے بھیجا تھا۔ اس کو یہ آیتیں 20:29-31، 25:35، کہتی ہیں۔

ایک دور میں ایک قوم کی طرف دو رسولوں کو بھیجنے کے بارے میں یہ آیتیں کہتے ہوئے اس طرح بھیجے جانے کی وجہ بھی بتاتی ہے۔ 

کتاب لا کر دیناہی اگر رسولوں کا کام ہو تا تو صرف موسیٰ نبی ہی اس کام کے لئے کافی تھے۔ کتاب لا کر دینے کے لئے دو رسولوں کی ضرورت نہیں ‏تھی۔ 

موسیٰ نبی نے کہا کہ مجھ کو واضح طور پر تشریح کرنا نہیں آتا اور مجھ سے زیادہ ہارون کوتشریح کر نے کی صلاحیت زیادہ ہے، ان وجوہات کو دکھا کر ‏انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ ہارون کو بھی ان کے ساتھ بھیجیں۔ اللہ نے بھی ان کی بات کو مانتے ہوئے موسیٰ سے زیادہ تشریح کر نے کی ‏صلاحیت والے ہارون نبی کو ساتھ میں بھیجا۔ 

اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ لوگوں کی سمجھ کے مطابق تشریح کر نا اورانہیں جو شک پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرنا ، یہ رسولوں کا کام تھا۔  

‏328۔ آسمان و زمین کے درمیان کشش ثقل

‏اس آیت 35:41 میں کہا گیا ہے کہ آسمان اور زمین ہٹے بغیر رہنے کے لئے پابندی لگائی گئی ہے۔ 

آسمان اور زمین ایک سے ایک کشش ثقل سے جوڑے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کی کشش ثقل جب زیادہ ہوجا تی ہے یا کم ہوجاتی ہے تو وہ بکھر کر ‏تہس نہس ہو جائے گی۔ اسی سائنسی حقیقت کو اس آیت میں پوشیدگی سے کہا گیا ہے۔ 

کشش ثقل کے بارے قرآن کیا کہتا ہے اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 240 ملاحظہ فرمائیں۔   

‏327۔ جنات غیب کا علم نہیں جانتے

‏اس آیت 34:14میں کہا گیا ہے کہ جنوں کی مخلوق غیب کی خبر نہیں جانتے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ جنوں کی مخلوق بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ آنکھ جھپکنے کے اندر ایک ملک میں رہنے والی تخت کو دوسری ایک ملک کو ‏لے آنے کی حد تک طاقت ان میں موجود تھی۔ 

ہوائی جہاز یا راکٹ کے بغیر ہی آسمانی دنیا تک جا کر فرشتوں کی گفتگو کو چھپ کر سننے کی حد تک جنوں کو طاقت ہے۔ 

اتنی طاقت عطا ہونے کے باوجود غائب کی باتوں کو وہ جان نہیں سکتے۔ 

سلیمان نبی سے ڈر کر بیت المقدس کو تعمیر کر نے کے کام میں جنات مشغول ہیں۔یہ آیت 34:14 کہتی ہے کہ سلیمان نبی نے کھڑے کھڑے ہی ‏وفات پا گئے۔پھر بھی عصا کے سہارے وہ کھڑے رہنے کی وجہ سے وہ نیچے گرے بغیر ایسے ہی کھڑے رہے۔ پھر اس عصا کو جب دیمک کھانے ‏لگ گئے تو ان کا جسم نیچے گر پڑا۔ وہ نیچے گرنے کے بعد ہی جنوں کو پتہ چلا کہ سلیمان نبی پہلے ہی انتقال ہوچکے۔ 

اپنے قریب ہی کھڑے ہوئے سلیمان نبی کیا زندہ ہیں یا مرگئے؟ اس کا پتہ بھی ان جنوں کو معلوم نہیں ہوسکا۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جنات ہی کوجب غیب کی خبر معلوم نہ ہوسکا تو ہمیں اس بات پر بھروسہ نہیں کر نا چاہئے کہ یہ بزرگ کہلانے والے ‏غیب کی باتیں جانتے ہیں یا مرے ہوئے لوگ غیب کی خبر جانتے ہیں ۔

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 298، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

‏326۔ بتوں کو کیااسلام میں اجازت ہے؟ 

‏اس آیت 34:13میں سلیمان نبی کو جنات اور شیا طین نے کئی قسم کے فنکارانہ کاریگری بنا کر دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔کہا جا تا ہے کہ ان ‏میں مجسمہ بھی تھے۔

اس کو بنیاد بنا کر یہ نہ سمجھ لینا کہ اب بھی مجسمہ رکھ سکتے ہیں ، اور تصویروں کو ٹانگ سکتے ہیں۔کیونکہ پچھلی قوموں کو جو اجازت دی گئی تھی اگر وہ اللہ ‏کی طرف سے یااللہ کے پیغمبروں کے ذریعے سے بدل دیا ہوتو ہی ہم اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ 

مجسمہ کے حد تک اس کو نبی کریم ؐ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اس کو بڑا گناہ کہا ہے۔ (دیکھئے بخاری: 2105، 3224، 3225، 3226، ‏‏3322، 4002، 5181، 5949، 5957، 5958، 5961، 7557 )

اس لئے یہ سلیمان نبی ہی کو نہیں بلکہ ایسا سمجھناچاہئے کہ نبی کریم ؐ سے پہلے گزرے ہوئے قوموں ہی کے لئے اجازت شدہ معاملہ ہے۔

پہلے کی قوم کو عطا کیا ہواسارا قانون کیا ہمیں بھی مناسب ہے؟ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 277 دیکھیں!  

‏325۔ قرآن کا بیان کردہ ہوا کی تیزی

‏اس آیت 34:12 میں اللہ فرماتا ہے کہ سلیمان نبی کے لئے ہواکو مسخر کر دیا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس ہوا کی اوسط تیزی بھی اللہ نے ہمیں بتایا ہے۔

ہم پر چلنے والی ہواہمیں چھونے کے بعد زمین کے گرد ایک بار گھوم کر پھر سے ہمیں چھونا ہو تو اس کے لئے کم از کم دو ماہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہوا ‏‏25کلو میٹر اوسط تیزی سے چلتی ہے۔ اس تیزی سے چلنے والی ہوازمین کے گرد گھوم کر آنے کے لئے دو ماہ لگتے ہیں۔ 

یہ نہ سمجھ لینا ہوا ایک ہی انداز سے گھوم کر آتی ہے۔ سلیمان نبی کو اللہ نے خصوصی انداز سے ہوا کو مسخر کیا تواللہ کہتا ہے کہ وہ ہوا دو ماہ میں ایک بار ‏گھوم کر واپس آتی ہے۔ 

سلیمان نبی کی خصوصیت کوکہتے ہوئے ہوا کی اوسط درجہ کی تیزی ، زمین کا دائرہ اور زمین کے گردش کی تیزی کو حساب کر کے قرآن مجید ایسا کہتا ہے ‏جیسے کہ ایک سائنسدان۔

یہ ہر گز ایک انسان کی بولی نہیں ہو سکتی۔یہ بھی ایک سند ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہو سکتا ہے۔  

‏324۔ صلوٰۃ سے کیا مراد ہے؟

‏اس آیت 33:56کو بعض لوگ غلط سمجھ رکھا ہے۔ 

بعض علمائے دین اس آیت کو اس طرح ترجمہ کیا ہے: ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریمؐ پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں ، اس لئے تم بھی صلوٰۃ بھیجو!‘‘

اس آیت میں جو صلوٰۃ کہا گیا ہے اس کے دو معنی ہیں۔ 

ایک : فضل فرمانا۔

دوسرا: فضل کا چاہنا۔ 

اس آیت میں اللہ، فرشتے اور انسان تینوں کے ساتھ یہ لفظ تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے تینوں کو ایک ہی معنی نہیں دینا چایئے۔ 

اگر فضل فرماتا ہے کا معنی لیا جائے توایسا ناموافق مطلب ہو جائے گا کہ اللہ بھی فضل فرماتا ہے، فرشتے بھی فضل فرماتے ہیں اور تم بھی محمد پر فضل فرماؤ ‏۔کیونکہ فرشتے اور انسان فضل کر نہیں سکتے۔

اگر فضل چاہو کا معنی لیا جائے تو انسانوں اور فرشتوں ہی کو یہ معنی مناسب ہے۔ اللہ کے لئے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ نبی کریم کے لئے فضل چاہنے کا ‏معنی ہوتا تو اس کا مطلب ہوجا ئے گا کہ ایک اور اللہ ہے، اور اس اللہ سے فضل چاہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی عقیدے کے ہی خلاف ہو جا ئے ‏گا۔ 

اس لئے مسلمان اللہ صلوٰۃ بھیجتا ہے جیسے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا چاہئے ۔

اس آیت کو ٹھیک معنی دینا ہو تو اللہ کے ساتھ صلوٰۃ کا لفظ ملاتے وقت فضل فرماتا ہے کا معنی اور اللہ کے سوا دوسروں کے ساتھ اس لفظ کو ملاتے وقت ‏فضل چاہتے ہیں کا معنی دینا چاہئے۔ 

اس لحاظ سے ’’نبی پر اللہ فضل فرماتا ہے ، فرشتے فضل چاہتے ہیں اور تم بھی ان کے لئے فضل چاہو‘‘ یہی اس آیت کے لئے ٹھیک معنی ہے۔ 

اسی سورۃ کی آیت نمبر 43 بھی دلیل ہے کہ اس آیت کو یہی معنی دینا چاہئے۔

اگر اس آیت 33:56 کو نبی کریم ؐ پر اللہ صلوٰۃ بھیجتا ہے کا معنی لیا گیا تو 33:43 آیت کو بھی وہی معنی لینا چاہئے۔ اس میں بھی صلوٰۃ کا لفظ ہی ‏استعمال کیا گیا ہے۔ 

لیکن 33:43 آیت کو ’’تم پر اللہ صلوٰۃ کہتا ہے‘‘ کا معنی دینے کے بجائے فضل فرماتا ہے کا معنی دیا گیا ہے۔ 

انہیں احساس ہے کہ ایسا کہناکہ اللہ صلوٰہ کہتا ہے ، غلط ہے ، اسی لئے صرف 33:43 آیت کو ٹھیک سے ترجمہ کیا ہے۔ 

اسی بنیاد پر 33:56 آیت کو بھی ترجمہ کر نا ہی صحیح ہے۔  

‏323۔ آسمان میں بھی راستے ہیں

‏اس آیت 51:7 میں کہاگیا ہے کہ آسمان میں بھی راستے ہیں۔ 

اس زمانے میں انسان سمجھتا تھاکہ صرف زمین ہی میں راستے ہیں، اسی زمانے میں یعنی چودہ سو سال پہلے ہی آسمان میں بھی بہت سے راستے ہیں کہہ کر ‏اللہ نے فرمادیا کہ آسمانی سفر ممکن ہے ۔اس سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

آسمانی سفر کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 172، 304وغیرہ دیکھئے!  

‏322۔ نبی کریم ؐ کی بیویوں سے نکاح نہ کرے

‏ان آیتوں 33:6,53 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں سے کوئی نکاح نہیں کر نا چاہئے۔

عام طور سے اسلام عورتوں کو دوسری شادی کر نے سے انکار نہیں کرتا، بلکہ ترغیب دیتا ہے۔بعض لوگ سوال کر سکتے ہیں کہ ایسے میں نبی کریم ؐ کی ‏بیویوں کو آپ کی وفات کے بعد دوسری شادی کر نے سے روکنا کیا ان کے حقوق کو چھیننا نہیں ہو گا؟ 

نبی کریم ؐ کی بیویاں دوسری عورتوں کے جیسے نہیں رہنا چاہئے۔ انہیں دوسروں سے زیادہ پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔اس طرح کہنے کے بعد 33:28 ‏آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اگرتم زیادہ پابندیاں نہ چاہو تو ابھی سے تم رخصت ہو سکتے ہو۔ 

اس طرح زیادہ پابندیوں کو انہوں نے خود چاہ کر اپنا لیا۔ 

نبی کریم ؐ وفات پانے تک آپ کی بیوی بن کر ہی رہے تو اپنے کو دوسری شادی کر نے کا موقع نہ ملے گا ، اس کو اچھی طرح جانتے ہوئے آپ کی بیویاں ‏نبی کریم ؐ کی بیوی بن کر زندگی بسر کررہے تھے، اس لحاظ سے یہ ان کی حقوق کو چھیننا نہیں ہوگا۔   

More Articles …