Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏377۔تبلیغ کے لئے اجرت

‏قرآن کئی جگہوں میں کہتا ہے کہ دین کو پیش کر نے کے لئے کسی کے پاس کوئی اجرت لینا نہیں چاہئے۔

تبلیغ کر نے کے لئے لوگوں سے کسی چیز کی توقع رکھنا نہیں چاہئے۔ لیکن یہ آیت 42:23 کہتی ہے کہ ایک چیز کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ 

ایک ادبی انداز سے کہا جا تا ہے کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کو تبلیغ کر تے وقت میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ ہے اس بنا پر میں جو تبلیغ کررہا ‏ہوں ، اس کو قبول کر لیں، اس طرح کہہ کر ان کے پیار کی اجرت مانگ سکتے ہیں۔

نبی کریم ؐ جن لوگوں کو تبلیغ کی تھی ان میں ان کے قریبی رشتہ دار بھی تھے، وہ رشتہ دار بھی ابتداء میں ان کے مخالف تھے۔ 

اللہ نے اس آیت میں نبی کریم ؐ سے کہتا ہے کہ کہو، میں تمہارا رشتہ دار ہوں، تم مجھ پرجوپیار جتا تے ہو اس پیار کو میں تم سے اجرت مانگ رہاہوں۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جب حق کی تبلیغ کر تے ہیں تو رشتہ داروں سے رشتہ داری دکھا کر مدد مانگ سکتے ہیں۔ 

اسی طرح اس آیت 25:57 میں اللہ حکم دیتا ہے کہ حق کو اختیار کئے ہوئے لوگوں ہی کو اجرت مانگو۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ اللہ کی محبت ‏کوحاصل کر نا ہی میری تبلیغ کے لئے اجرت ہے، اس کے سوا تم میرے لئے کچھ بھی نہ کرو۔  

‏376۔ دوسرے گھروں میں کھانا

‏یہ آیت24:61 کہتی ہے کہ حق کی نسبت سے کسی کے گھروں میں بھی کوئی شخص کھا سکتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر لکھنے والے اس آیت کا معنی یہ لکھتے ہیں کہ جنگ میں حصہ لئے بغیر رہنا کوئی گناہ نہیں۔اس کے لئے آیت نمبر 48:17کو دلیل ‏پیش کر تے ہیں۔ 

‏48:17کی آیت جنگ کے میدان کے بارے میں جوکہتی ہے ، وہ حقیقت رہنے کے باوجود 24:61 کی آیت جنگ کے میدان کے بارے میں ‏بات نہیں کرتی۔ دونوں آیتوں کو کوئی تعلق نہیں ہے ، اس کو سطحی طور پر دیکھوگے ہی تو تم سمجھ جاؤگے۔ 

واضح طور پر جب کہا گیا ہے کہ کھانا گناہ نہیں ہے تو ان لوگوں کاایسا کہناکہ جنگ کو گئے بغیر رہنا غلط نہیں ہے ، قابل قبول نہیں ہے۔ 

یہ آیت دوسروں کے گھروں میں کھانے کی آداب کے متعلق کہتی ہے۔ کیاایک انسان دوسرے خاندان والوں سے مل کر کھا سکتاہے؟ اس سوال ‏ہی کویہ آیت جواب دیتی ہے۔ 

ایک آدمی اپنے والدین کے گھرمیں ان کے ساتھ مل کر کھاسکتا ہے۔ اسی طرح اپنے بھائی، بہن، باپ کے ساتھ پیدا ہونے والے، اور ماں کے ساتھ ‏پیدا ہو نے والے رشتہ داروں کے گھر میں مرد اور عورت سب مل کر یا اکیلے بھی کھا سکتے ہیں۔ 

اسی طرح بالکل قریبی دوست ہوں تو دونوں خاندان والے مل کر کھا نے سے کوئی حرج نہیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ قریبی رشتہ دار بھی نہیں ،اور دوست و احباب بھی نہیں ایسے اندھے، اپاہج اور مریض لوگوں کو بھی اپنے ساتھ کھانے میں ‏شامل کر لے سکتے ہیں۔

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ غیر مرد اور عورت تنہائی میں رہنے کو اسلام منع کر تا ہے۔ پھر بھی قریبی رشتہ دار ایک ساتھ مل کر کھا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی ‏حرج نہیں۔

پھر بھی اسلام کے منع کئے جانے کے طریقے سے لباس پہن کر آنا ، مرد اور عورت چپک کر بیٹھنا وغیرہ کو اجتناب کر دینا ضروری ہے۔ 

اسی مقصد کو ان آیتوں کے ذریعے ہم براہ راست حاصل کر سکتے ہیں۔ آیتیں جو کہتی نہیں اس کو تفسیر کے نام سے کوئی بھی کہیں اس کو ماننا نہیں ‏چاہئے۔ 

اس طرح مل کر کھا نے سے مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 472 دیکھئے!  

‏375۔ موسیٰ نبی نے جو قتل کی

‏ان آیتوں20:40، 26:14، 28:15، 28:16، 28:19 میں اس واقعہ کو کہا گیا ہے جس میں موسیٰ نبی نے ایک شخص کو غلطی سے قتل ‏کر دیاتھا۔ یہ واقعہ اس وقت ظہورہواجب وہ رسول نہیں تھے۔ مزید یہ کہ وہ اس کو قتل کر نے کے ارادے سے نہیں مارا تھا۔ یہ ان آیتوں میں واضح ‏کیا گیا ہے۔ 

اس میں ایک اور پیام بھی موجود ہے۔

موسیٰ نبی کے قوم کا ایک شخص اور دشمنوں کے جماعت سے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس جھگڑے میں اپنی قوم والے کی طرفداری میں ‏دشمنوں کی جماعت والے کو موسیٰ نے قتل کر ڈالااور اس کے لئے انہوں نے معافی چاہی اور اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ اس کو آیت نمبر ‏‏28:16واضح کرتی ہے۔ 

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر اکیلا انسان ہو یا گروہ ،کسی کو قتل کردینا گناہ گارمانا جاتا ہے۔   

‏374۔ کیا ذوالقرنین نبی ہیں؟

‏اس آیت 18:98 میں ذوالقرنین نامی بادشاہ کے بارے میں کہا گیا ہے۔ کیا وہ اللہ کے رسول تھے؟ یا بنارسول کے نیک انسان تھے؟ اس بارے ‏میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے.

یہ آیت کہتی ہے کہ یاجوج ماجوج کی قوم اور لوگوں کے درمیان احاطہ بنانے والے ذوالقرنین نے کہا کہ یہ دیوار قیامت کے دن تک قائم رہے گی، ‏اورقیامت جب قائم ہو گی تو یہ دیوار ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور وہ لوگ باہر آجائیں گے۔ 

اس طرح ایک رسول ہی کہہ سکتا ہے۔ اس لئے ذوالقرنین کو رسول کہنے والے علماء اسی آیت کو دلیل بناتے ہیں۔   

‏373۔ نام رکھنے کے لئے کوئی رسوم نہیں

‏اس آیت 3:36میں کہا گیا ہے کہ مریم کو ان کی والدہ نے نام رکھا۔ 

مریم ؑ کی والدہ نے اپنے بچے کو اللہ کی راہ پر نذر کر نے کے لئے منت کر تے وقت ان کا خیال تھا کہ لڑکا پید اہوگا، اسی ارادے سے انہوں نے منت کی ‏تھی۔ لیکن ان کی توقع کے خلاف لڑکی پیدا ہوجا نے کی وجہ سے انہیں دھچکا لگا۔ 

لڑکی لڑکے کے مانند نہیں ہے ، کہنے کے بجائے انہوں نے بدل کر کہہ دیا کہ لڑکا لڑکی کی مانند نہیں ۔ اس سے اندازہ لگتا ہے کہ انہوں نے کس حد ‏تک دھچکا کھائی ہے۔

مریم ؑ جب پید اہوئے تو اس شہر کے ایک اہم شخصیت کی حیثیت سے زکریا نبی تھے۔ انہیں نے مریم ؑ کے ذمہ دار بن کر پال پوس کیا۔ 

اللہ کے رسول اور ایک اہم شخصیت زکریا نبی اس شہر میں رہنے کے باوجود اپنی بچی کو نام رکھنے کے لئے زکریا نبی کو مریم کی والدہ نے بلا یا نہیں۔ اپنی ‏بچی کو وہ خود نام رکھ دیا۔ اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں نام رکھنے کے لئے کوئی رسم و رواج نہیں ہے۔ 

 ‏372۔کیا غیبی بات نوح نبی کو معلوم ہوا؟

‏اس آیت 71:27 میں کہا گیا ہے کہ نوح نبی نے کہا کہ اگر انہیں چھوڑدیا گیاتو وہ لوگوں کوگمراہ کر دیں گے اور وہ بدکار لوگوں ہی کو جنیں گے۔ 

ایسا کوئی انسان نہیں کہے گا کہ ایک بھی نیک انسان نہیں بنیں گے، اور وہ جنم دینے والے نسل بھی بدکار لوگ ہی ہوں گے۔ اللہ کہے بغیر اللہ کے ‏رسول کوئی بھی اس طرح کہہ نہیں سکتا۔ مستقبل میں لوگ کیا کریں گے؟ اور کیسے سلوک کریں گے؟ یہ سب باتیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن ‏نوح نبی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا؟ ایساشک پیدا ہو سکتا ہے۔ 

یہ شک درست ہے۔ لیکن نوح نبی خود ایسا نہیں کہا۔ اللہ نے جس طرح سکھایا اسی بنا پر انہوں نے کہا ہے۔ 

اس آیت 11:36 میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے فرمایا : تمہاری قوم میں اب کوئی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس لئے اللہ نے جس طرح کہا تھا اسی ‏بنیاد پر نوح نبی نے اس طرح دعا کی تھی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ 

غیب کی باتوں کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر104، 273، 327 وغیر دیکھئے!

‏371۔ ناک پر عذاب

‏اس آیت 68:16 میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر انسان کو جدا کر کے دکھانے کے لئے ناک پر نشان لگائیں گے۔

ایک انسان کوالگ کر کے بالکل باریکی سے جاننے کے لئے ہاتھ کی ریکھاؤں ہی کو ماہر وں نے استعمال کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص ‏کے ہاتھ کی لکیروں جیسے دوسرے کے ہاتھ کی لکیر یں نہیں ہوتیں۔اسی لئے بالکل اہم دستاویزوں میں ہاتھ کی انگلی کی نشان لیا جاتا ہے۔

ہاتھ کی ریکھاؤں کے ذریعے ایک شخص کوتفتیش کر نے سے ناک کو کئی زاویوں سے اسکین اٹھانے کے ذریعے کسی بھی انسان کو باریکی سے جاننے ‏والا فوٹوفیس کی کاروباری نزاکت انکشاف کیا گیا ہے۔ 

لیکن یہ آیتیں 68:15,16 کہتی ہیں کہ انسان کو الگ سے شناخت کر نیکے بارے میں انسان کے ناک میں نشان لگائیں گے۔

ہاتھ کی لکیریں تو آنکھوں کو دکھائی دیتی ہیں۔ اس کو ہم ظاہری طور پر دیکھ کر جان لیتے ہیں۔ 

لیکن انسان کی ناک میں کچھ نشان لگا ئے جانے کو ہم ہر گز دیکھ نہیں سکتے۔ 

ناک میں کوئی نشان نہ دیکھنے کے باوجود اب ماہروں نے انکشاف کیا ہے کہ ناک میں نشان ڈالا گیا ہے۔ 

انگلینڈ کے بھات یونیورسٹی کے ماہروں نے تفتیش کی ہے کہ انتہا پسند اور مجرموں کو انکشاف کرنے کے لئے ان کے ناک کام آئیں گے۔اس کے لئے ‏نئے باریکئی فن کو انہوں نے انکشاف کی ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کی ناک کے ناپ کے ذریعے ان کے بارے میں باریک سے باریک تفصیل کو جان سکتے ہیں۔ اس کے مطابق فوٹوفیس نامی ‏بلند باریکی فن کی اسکین کے ذریعے ناک کو کئی زاویوں سے فوٹو لینا چاہئے۔ 

اس کے بعد رومن، گریک، نبیان، ہاک، اسنب اور ٹرن اپ نامی چھ شکلوں میں ناک کو تفتیش کر نا چاہئے۔ پھر ناک کی تفصیل نوک اور سوراخ ‏وغیرہ کو کمپیوٹر سافٹ ویر کے ذریعے باریکی سے آزمایا جا تا ہے۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر اڈرین ای ونس کہتے ہیں کہ ہاتھ کے لکیرکے اسکین سے ‏زیادہ ناک کے اسکین کے ذریعے ایک شخص کو آسانی سے نشان دہی کر سکتے ہیں۔اس کے ذریعے مجرم کی مادری وطن اور نسل وغیرہ کے ساتھ ہاتھ ‏کی لکیروں کی طرح انسانوں کی ناک کی بناوٹ بھی مختلف ہو نے سے جانچ لینا آسان ہوگا۔ 

ناک پر نشان لگائیں گے، بالکل مناسب سے استعمال کیا گیا ہے۔یہ بھی ایک دلیل ہے کہ قرآن کلام اللہ ہی ہے۔   

‏370۔ جہنم کا ایندھن

‏اس آیت 21:98 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن کو یا جس کو پرستش کئے، وہ لوگ جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ کے سوا جنہیں بھی عبادت کرو یا جس کو بھی عبادت کرو، اس کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ 

عبادت کر نے والوں کو جہنم میں ڈالا جانا ہمیں سمجھ میں آتا ہے۔ جنہیں عبادت کیا گیا اس کو بھی ڈالاجاناشک پیدا کرسکتا ہے۔ 

عبادت کئے ہوئے تین قسم کے ہوں گے۔ 

صالح لوگ جو وفات پاگئے انہیں لوگ معبود مان لئے ہوں گے۔ اس میں ان نیک لوگوں کی رضامندی نہیں ہوگی۔ممکن ہے وہ جانتے بھی نہ ‏ہوں۔دوسرے لوگ انہیں معبود سمجھ کر عبادت جو کرتے تھے، اس لئے وہ لوگ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہی مطلب اس میں پائی جاتی ‏ہے۔ 

اس آیت میں وہ رائے پائے جانے کے باوجود اس شک کو یہ 21:101آیت دور کر دیتی ہے۔ 

جن کے بارے میں نیک انسان کا فیصلہ ہو چکا انہیں جہنم سے دور رکھا جائے گا ، یہ کہہ کر اللہ نے اس شک کو دور کر دیتا ہے۔

اس آیت سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ انبیاء جیسے صالح لوگ عبادت کئے جانے کے باوجود انہیں عبادت کر نیوالے ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے، پر ‏انبیاء اور نیک لوگ جہنم نہیں جائیں گے۔

اپنے کو معبود ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دینے والے لوگ بھی عبادت کئے جاتے تھے۔ اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہی لوگ جہنم رسید ‏ہونے کے مستحق ہیں۔ 

یہی نہیں بلکہ قیاسی کردار، بے عقل جانداراور بے جان چیزیں جو عبادت کئے گئے ہیں، انہیں کیوں جہنم میں ڈالا جائے؟ کیا پتھر اور مٹی جہنم کے ‏عذاب کو محسوس کر سکتی ہیں، ایسے شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ چیزیں عذاب کو نہ بھی محسوس کریں اس کی عبادت کئے ہوئے لوگوں کو دلی لحاظ سے ‏شدید تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ ہم جسے معبود سمجھ کر عبادت کئے تھے وہی اب جہنم میں ہیں ، اس کو دیکھ کر ان کو ذہنی اذیت پہنچے گی۔ یہی اس عذاب کی ‏وجہ ہے۔   a

More Articles …