Sidebar

10
Mon, Aug

‏353۔ بگ بینگ کے بعد دھواں کا محصور

‏اس آیت 41:11میں کہا گیا ہے کہ آسمان دھواں تھا۔

اس آیت 21:30میں جو واقعہ کہا گیا تھا وہ لگاتار قائم ہوئی ہے۔ یعنی یہ کائنات تمام ایک چھوٹی سی چیز کے اندر سمائی ہوئی تھی۔ اچانک وہ پھٹ کر ‏بکھر جانے کی وجہ سے اس کے ذرات دھواں سے گھر کر ساری کائنات پر پھیل گئی۔ پھر وہ ذرات یہاں وہاں جمع ہو کر سورج بنااور دیگر سیارے اور ‏ذیلی سیارے بنے اورستارے بھی بن گئے۔

بگ بینگ تھیوری کے نام سے آج کی سائنسی دنیا میں جو عقیدہ کہا جاتا ہے وہ چودہ سو سال کے پہلے ہی قرآن نے اس آیت کے ذریعے ظاہرکردی ‏ہے۔ 

اس آیت 21:30 میں کہا گیا ہے کہ آسمان و زمین تمام ایک ہی چیز رہا تھا، ہم نے ہی اس کو چیر کر نکالا۔ اس آیت 41:11 میں کہا گیا ہے کہ اس ‏کے بعد ہونے والی د ھواں اور اس سے لگاتار آسمان اورسیارے پیدا ہو نے کی بات آج کے سائندانوں کی طرح ہی قرآن مجید کہتا ہے اور اس سے ‏اپنے آپ کو کلام اللہ ثابت کر تا ہے۔ 

اس سلسلے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 287 دیکھئے!  

‏352۔ رسولوں کو دوخبریں

‏اس آیت 40:70 میں کہا گیا ہے کہ رسول دو خبروں کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ 

ایک اللہ کی کتاب ۔

دوسراوہ جس کے ساتھ رسولوں کو بھیجاگیا۔

اگر صرف کتاب ہی اللہ کے رسول لائیں گے تو اس کو اللہ اس طرح کہا نہیں ہوگا۔ 

اس آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ کتاب کے ساتھ تشریح کرنے کی اختیار بھی عطا کئے جانے کے بعد ہی رسول بھیجے جا تے ہیں اور انہیں ضرور پیروی ‏کر نا چاہئے۔

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏350۔ وحی تین قسم کی ہیں

‏اس آیت 42:51 میں کہا گیا ہے کہ اللہ اپنے پیغام کو تین طریقوں سے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔

‏* وحی کے ذریعے بات کر نا

‏* پردے کے پیچھے سے براہ راست بات کرنا

‏* رسول بھیج کر ان کے ذریعے پیغام پہنچانا

یہی تین راستے ہیں۔ 

دوسراجو طریقہ پردے کے پیچھے سے براہ راست بات کرنا کہا گیا ہے ، وہ موسیٰ ؑ کے ساتھ اللہ نے جو براہ راست گفتگو کی تھی اس کی مثال ہے۔  

موسیٰ ؑ نے اللہ کو سامنے نہ دیکھنے کے باوجود اللہ نے جو کہا تھا وہ اپنی کانوں سے سنا تھا۔ اس بات کو یہ آیتیں 4:164، 7:143,144، ‏‏19:51,52، 28:30، 20:11,12,13 کہتی ہیں۔ 

ایک رسول بھیج کر ان کے ذریعے اللہ بات کر تا ہے، یہ جبرئیل جیسے فرشتوں کے ذریعے اللہ کے رسولوں کو وحی پہنچانا ہے۔ اس کو ان آیتوں ‏‏2:97، 3:39، 3:42، 3:45، 11:69، 11:77، 15:52,53، 15:61,62، 16:2، 16:102، 19:19، 20:21، ‏‏22:75، 26:193، 29:31، 51:28، 53:56، 81:19 کے ذریعے جان سکتے ہیں۔ قرآن کریم بھی اسی طرح کی وحی ہے۔ 

انسانوں کے ساتھ اللہ بات کرنے کی تین طریقوں میں براہ راست بات کرنے کا مطلب ہمیں سمجھ میں آتا ہے۔فرشتوں کے ذریعے پیغام پہنچانے ‏کا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے۔ وحی کے ذریعے جو بات کی جاتی ہے وہ کیا ہے؟ اسی کوہم واضح کر نا ہے۔

عام طور سے وحی کا لفظ اللہ کی طرف سے عطا ہونے والے ہر طرح کے پیغام کو کہا جانے کے باوجود اس آیت کو اس طرح کا مطلب نہیں دے ‏سکتے۔ 

دو قسم کے وحی کو دوسری لفظوں میں کہنے کے بعد تیسرے کو ’’وحی کے ذریعے‘‘ کہنے کی وجہ سے ان دونوں قسم میں نہ جمع ہو نے والی ایک اور ‏قسم کی وحی کی طرف ہی یہ اشارہ کرتی ہے۔ ان دونوں قسم کے سوا اگر دیکھا جائے کہ اور کوئی وحی ہے تو وہ یہی ہے کہ ’’جو وہ کہنا چاہتا ہے اپنے ‏رسول کے دل میں اللہ جو درج کر تا ہے وہی تیسری قسم کی وحی ہے۔ 

قرآن مجید ظاہر کرتا ہے کہ وحی میں ایسی بھی ایک وحی موجود ہے۔ 

شہد کی مکھیاں کتنی بھی فاصلہ میں چلا جائے کسی قسم کی لڑکھڑاہٹ کے بغیر اپنی چھتے کی طرف آجا تی ہے۔ اس کے بارے میں قرآن مجیدکہتے وقت ‏اس آیت 16:68 میں کہتا ہے: ’’شہد کی مکھیوں کو اللہ نے وحی بھیجی۔‘‘

یعنی یہ آیت کہتی ہے کہ اپنی چاہت کے پیغام کو شہد کی مکھیوں کے لئے اللہ نے الہام کیا۔ اس جیسے وحی کے ذریعے بھی اللہ اپنے رسولوں سے بات ‏کر تا ہے۔ یہ تیسری قسم کی وحی ہے۔ 

ان تینوں قسم کی وحی پر بھروسہ کر نے والا ہی حقیقت میں قرآن کو ماننے والا ہوگا۔ 

اس کے بجائے صرف قرآن مجیدہی کافی ہے کہہ کر کوئی دعویٰ کر ے تو وہ تین قسم میں فرشتے کے ذریعے آنے والے ایک ہی قسم کو مانتے ہیں۔ ‏دوسرے دونوں قسم کو وہ انکار کرتے ہیں۔ یعنی اللہ نے روبرو بات کر کے عطا کر نے والے پیغام کا انکار کرتے ہیں۔ الہام کے ذریعے اللہ نے جو ‏پیغام بھیجا اس کا انکار کر تے ہیں۔ 

تین قسم کی وحی کے ہونے کی خبر دینے والی اس آیت کو بھی انکار کر تے ہیں۔ 

فرشتوں کے ذریعے سے قرآن کے علاوہ بھی وحی آئی ہے۔ اس کو بھی وہ لوگ انکار کر تے ہیں۔ 

اللہ نے جو اتارا ہے اس کی پیروی کرو جیسے احکام میں بہت سی چیزوں کو بھی وہ انکار کر تے ہیں۔ حدیثوں کے پیروی کر نے والے ہی اللہ نے جو اتارا ‏ہے اس کو پوری طرح سے مانتے ہیں۔ 

موسیٰ نبی اور عیسیٰ نبی کے ماؤں کو بھی اللہ نے وحی بھیجی ہے۔ اس بات کوقرآن کی یہ آیتیں 20:39، 28:7 کہتی ہیں۔

اس کو دلیل بنا کرکیا یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جواللہ کے رسول نہیں ہیں، ان پربھی اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے؟بعض لوگوں کو یہ شک پیدا ہوسکتا ہے ‏کہ اس طرح نبی کریم ؐ کے بعد بھی ان کی امتوں سے کیا اللہ بات کر سکتا ہے؟

جو اللہ کے رسول نہیں ہیں اللہ ان سے بات کر نے کا واقعہ نبی کریم ؐ پر وحی آنے کا بند ہو نے سے پہلے چلا تھا۔ 

پچھلی قوموں میں بعض لوگوں کے پاس اللہ نے اس طریقے سے بات کی ہے۔ لیکن نبی کریم ؐ کے بعد اللہ براہ راست کسی سے بات نہیں کر ے گا۔ 

اسلام مکمل پاکر اللہ کے آخری نبی رسول اللہ ؐ وفات پانے کے بعد وحی کا آنا بند ہو گیا۔ نبوت انجام کو پہنچ جانے کی وجہ سے آئندہ کسی کوہر گزوحی ‏نہیں آئے گی۔ دینی معاملوں میں اور احکام کے متعلق کوئی بھی کہے کہ اللہ نے مجھ سے بات کی یا ندائے غیبی آئی تو وہ جھوٹ ہوگا۔کیونکہ دین مکمل ‏ہو چکی ہے۔ 

اللہ نے قرآن میں کہہ دیا کہ ’’آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا‘‘اس کے ذریعے اللہ نے احساس دلایا ہے کہ آئندہ وہ کسی سے ‏بات نہیں کرے گا۔اس سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ دینی تعلق کے احکام میں نبی کریم ؐ کے بعد اللہ نے فیصلہ کر چکا کہ کسی سے میں بات نہیں ‏کروں گا۔

قرآن اور حدیثوں میں دلیل موجود ہے کہ نبوت اور سب قسم کی وحی بند ہوگئی۔ 

نبی کریم ؐ کے بعد اگر کسی کو وحی آنا ہو تو نبی کے صحابیوں ہی کو آنا چاہئے۔ لیکن وہی لوگ کہہ دئے کہ وحی نہیں آئی۔ 

نبی کریم ؐ وفات پانے کے بعد ابو بکرؓ نے عمرؓ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ ’’ہم دونوں ام ایمنؓ سے ملاقات کے لئے جائیں گے۔‘‘ کیونکہ نبی کریم ؐ ‏اس عورت سے اکثر ملنے جایا کر تے تھے۔ان سے ملنے کے لئے جب یہ دونوں گئے تو وہ عورت ان دونوں کو دیکھ کر رونے لگیں۔ ان دونوں نے کہا ‏‏: ’’اللہ کے رسول کو اللہ کے پاس بھلائی ہی تو ملے گی، تم کیوں روتے ہو؟ رونے کی وجہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’اللہ کے پاس نبی کریم ؐ کو ‏بھلائی ہی ملے گی، یہ میں جانتی ہوں۔ میں اس لئے نہیں روئی کہ وہ نہیں ملے گا۔ لیکن میں اس لئے روتی ہوں کہ آسمان سے آنے والی اللہ ذوالجلال ‏کی وحی آنا بند ہوگئی۔‘‘ انہوں نے ان دونوں کو بھی رلا دیا۔ اس طرح ان کے ساتھ وہ دونوں بھی مل کر رونے لگے۔

راوی: انسؓ 

مسلم: 4492

عمر ؐ نے کہا: اللہ کے رسول ؐ کے زمانے میں لوگ وحی کے ذریعے سزا دئے جاتے تھے۔ اب وحی آنا بند ہو گیا۔ اب ہم تمہیں تمہاری ظاہری اعمال کو ‏دیکھ کر ہی سزا دے سکتے ہیں۔ اس لئے جو ہمارے پاس بھلائی ظاہر کر تے ہیں انہیں کو معتمد مان کر ان کی عزت کریں گے۔ ان کی پوشیدہ باتوں کو ہم ‏نظر انداز کر دیں گے۔انکی رازوں کے بارے میں اللہ ہی حساب مانگے گا۔ جس نے ہمارے پاس برائی ظاہر کی اس کے بارے میں ہم مطمئن نہیں ‏رہیں گے۔ اگر وہ دعویٰ بھی کریں کہ ان کی خفیہ زندگی خوبصورت ہے ! 

بخاری: 2641

پچھلی قوم میں اللہ کی طرف سے وحی پانے والے ہوتے تھے۔ نبی کریم ؐ نے قطعی طور پر کہہ دیا تھا کہ اس قوم میں وہ نہیں ہے۔

نبی کریم ؐنے فرمایا : تم سے پہلے گزری ہوئی قوم میں(مختلف مسائل میں ٹھیک فیصلہ کے بارے میں اللہ کے فضل سے) پہلے ہی سے اطلاع کئے ‏ہوئے لوگ رہتے تھے۔ ان جیسے اگر کوئی میری قوم میں ہو تا تو وہ عمر بن خطاب ہی ہوں گے۔

بخاری: 3469،3689

اگر کوئی ویسا ہو تا تو وہ عمرہی ہوں گے ، اس طرح نبی کریمؐ ؐفرمانے کے ذریعے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ ان جیسے کوئی بھی نہیں۔

اس لئے موسیٰ نبی کی ماں کو فرمانے کی طرح پچھلی قوم میں بعض لوگوں کو فرمایا گیا ہوگا۔ لیکن محمد نبی کی قوم میں ویسے لوگ نہیں ہیں۔ اس انتظام کو ‏قائم کر کے اللہ نے بہت بڑی مہربانی کی۔ 

اس قوم میں اگر وہ معاملہ ہو تا تو باطل لوگ یہ کہہ کر کہ مجھے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے ، لوگوں کے عقیدے کو زک پہنچا دئے ہوں گے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏349۔ صبح اور شام فرعون کو عذاب

‏اس آیت 40:46 میں کہا گیا ہے کہ فرعون کی جماعت ہرروز صبح اور شام دوزخ کی آگ میں دکھائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن سخت عذاب ‏میں مبتلا کئے جائیں گے۔

قیامت کے دن سخت عذاب اور اس سے پہلے اس سے کم عذاب جو کہا گیا ہے ، وہ قبر ہی کی عذاب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 166، 332دیکھئے!  

‏348۔ رسولوں کی آمد کا خاتمہ

‏اس آیت 40:34 میں کہا گیا ہے کہ پہلے یوسف نے تمہارے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ آئے، وہ جو لے آئے تھے اس میں تم شک ہی میں ‏رہے۔ ان کی وفات کے بعد تم نے کہا کہ ان کے بعد کسی نبی کو اللہ ہر گز بھیجے گا نہیں۔ حد سے تجاؤز کر کے شک کر نے والے کو اللہ اسی طرح گمراہ ‏کر تا ہے۔ 

یوسف نبی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کہہ کر انکار کر نے والی ایک قوم کے بارے میں اللہ نے یہاں تنبیہ کی ہے۔ 

ہم کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ اسی قوم کی قول کے مطابق ہے جو کہتا تھا کہ یوسف نبی کے بعدکوئی نبی آئے گا۔اس لئے ‏نبی کریم ؐ کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے، اس کو بنیاد بنا کر مرزا غلام نے دعویٰ کر نے لگا کہ وہ میں ہی ہوں۔

نبی کریمؐ کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتااور مرزا غلام کے بارے میں بھی جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 187 دیکھیں!

یوسف نبی آخری نبی نہیں تھے، اس بنا پر وہ لوگ اس طرح کہنا غلط تھا۔ 

محمد نبی ہی آخری نبی ہیں، اس کے لئے کئی دلیلیں موجود ہیں۔ اس لحاظ سے ہمیں کہنا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ۔ اس فرق کو وہ لوگ ‏سمجھے نہیں۔

فرض کرو کہ ریشن کی دکان میں ہر روز پچاس آدمیوں کو مفت چاول دیا جاتا ہے۔ 

پہلے شخص کو چاول دینے کے بعداگر کوئی یہ کہہ کر بھگائے کہ پھر کسی کو چاول نہیں دیا جائے گا تو وہ جرم ہوگا۔اس طرح ان 49آدمیوں میں کسی کو ‏بھگائے تو وہ جرم ہی ہوگا۔ پچاسویں آدمی کو تقسیم کر تے وقت اگر کہا جائے کہ اس کے بعدکسی کو ریشن نہیں تو کیا وہ جرم ہوگا؟ 49آدمیوں کو اس ‏طرح کہنا جرم ہو نے کی وجہ سے پچاسویں آدمی کے بعد ریشن نہیں کہنا کیسے غلط ہو سکتا ہے؟ 

یوسف نبی کے بعد اللہ کے رسولوں کی آمدکاخاتمہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بعد رسول ہی نہیں آئے گا کہنا جرم ہوگا۔ 

لیکن نبی کریم ؐ کے حد تک ان کے بعد رسولوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔نبی کریم ؐ کے بعد کوئی رسول آئے گا کہنا جرم ہوگا۔ 

اس لئے یوسف نبی کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا کہنا ہی غلط ہوگا، اس کے سوائے نبی کریم ؐ کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا کہنا اس آیت کے ‏خلاف نہیں۔ 

اس میں غور کر نے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم ؐ کے بعد بعض جھوٹے نبیوں کو ماننے والی وہ جماعت دعویٰ کر رہی ہے کہ ان جھوٹے نبیوں کے بعد ‏کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس سے ان کی جعلسازی اچھی طرح واضح ہو تا ہے ۔   

‏347۔ دو موت، دو زندگی کا مطلب کیا ہے؟

‏یہ آیت 40:11کہتی ہے کہ ’’آخرت میں گناہگارآہ و زاری کر یں گے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دوبار زندگی دی اور دو بار موت دی۔

دو بار زندہ کیا کا مطلب ہمیں سمجھ میں آتی ہے ۔ اس دنیا میں ایک بار پیدا ہو تے ہیں ، مرنے کے بعد ، نابود کر نے کے بعدپھرایک باراللہ ہمیں زندہ ‏کر تا ہے۔ 

لیکن ایک بار ہی ہم مرتے ہیں۔دو بار ہمیں موت دی ، کیسے کہا جا سکتا ہے؟ 

قرآن کی آیت 2:28اس کی تشریح کرتی ہے۔ انسان کی تخلیق کے پہلے جو حالت تھی اس کے متعلق اللہ کہتے وقت اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’’تم ‏مرنے والے تھے، تمہیں اس نے زندہ کیا۔ پھر تمہیں موت دے کر پھر سے زندہ کر ے گا۔‘‘

تخلیق کے پہلے تم جس حال میں تھے اسی کو وہ پہلی موت کہتا ہے۔ اس بنیاد پر ہی گناہگار آخرت میں کہیں گے کہ تو نے ہمیں دو بارموت دی ۔  

‏346۔ قیامت کے دن بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ

‏اس آیت 39:68 میں اللہ فرماتا ہے کہ دنیا مٹانے کے لئے پہلا صور جب پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں رہنے والے تمام بے ہوش ہو ‏جائیں گے، اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ مگر جس کو اللہ چاہے۔ 

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آسمان میں رہنے والے بعض لوگ اور زمین میں رہنے والے بعض لوگ پہلے صور کے وقت بیہوش نہیں ہوں گے۔

اللہ نے کس کو استثناء دینے کا ارادہ کیا ہے اس کو قرآن اور حدیث نے تشریح کی ہے۔ 

یہ آیت 69:17کہتی ہے کہ پہلا صور پھونکنے کے بعد جب آسمان دوسرا آسمان بن جائے گاتو فرشتے اس کے کنارے کھڑے ہونگے اور اس دن ‏اللہ کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

یہ آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ آسمان میں رہنے والے دوسرے اگر بیہوش ہوجائیں بھی تو عرش اٹھانے والے فرشتے اور دیگر فرشتے بیہوش نہیں ‏ہوں گے۔ جس کو اللہ چاہے جو کہا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے : ’’انسانوں کو جگانے کے لئے جب صور پھونکا جائے گا تو سب سے پہلے میں ہی اٹھوں گا۔ لیکن مجھ سے پہلے موسیٰ ‏نبی عرش کو تھامے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ وہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنے کے خواہشمندتھے، اس لئے پہلے ہی سے بیہوش ہو جا نے کی وجہ سے اب وہ ‏بیہوش ہوئے بنا رہے؟یا بیہوش ہو کر مجھ سے پہلے اٹھے؟ یہ مجھے معلوم نہیں۔ (دیکھئے، بخاری کی حدیث: 2411، 2412، 3408، ‏‏6517، 6518، 7472)

نبی کریم ؐنے جو کہا ان دوباتوں میں اگر پہلی بات باعث ہوتی توزمین میں بیہوش ہونے سے استثناء پائے ہوئے لوگوں میں سے موسیٰ نبی بھی ہیں۔ 

More Articles …