Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏374۔ کیا ذوالقرنین نبی ہیں؟

‏اس آیت 18:98 میں ذوالقرنین نامی بادشاہ کے بارے میں کہا گیا ہے۔ کیا وہ اللہ کے رسول تھے؟ یا بنارسول کے نیک انسان تھے؟ اس بارے ‏میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے.

یہ آیت کہتی ہے کہ یاجوج ماجوج کی قوم اور لوگوں کے درمیان احاطہ بنانے والے ذوالقرنین نے کہا کہ یہ دیوار قیامت کے دن تک قائم رہے گی، ‏اورقیامت جب قائم ہو گی تو یہ دیوار ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور وہ لوگ باہر آجائیں گے۔ 

اس طرح ایک رسول ہی کہہ سکتا ہے۔ اس لئے ذوالقرنین کو رسول کہنے والے علماء اسی آیت کو دلیل بناتے ہیں۔   

‏373۔ نام رکھنے کے لئے کوئی رسوم نہیں

‏اس آیت 3:36میں کہا گیا ہے کہ مریم کو ان کی والدہ نے نام رکھا۔ 

مریم ؑ کی والدہ نے اپنے بچے کو اللہ کی راہ پر نذر کر نے کے لئے منت کر تے وقت ان کا خیال تھا کہ لڑکا پید اہوگا، اسی ارادے سے انہوں نے منت کی ‏تھی۔ لیکن ان کی توقع کے خلاف لڑکی پیدا ہوجا نے کی وجہ سے انہیں دھچکا لگا۔ 

لڑکی لڑکے کے مانند نہیں ہے ، کہنے کے بجائے انہوں نے بدل کر کہہ دیا کہ لڑکا لڑکی کی مانند نہیں ۔ اس سے اندازہ لگتا ہے کہ انہوں نے کس حد ‏تک دھچکا کھائی ہے۔

مریم ؑ جب پید اہوئے تو اس شہر کے ایک اہم شخصیت کی حیثیت سے زکریا نبی تھے۔ انہیں نے مریم ؑ کے ذمہ دار بن کر پال پوس کیا۔ 

اللہ کے رسول اور ایک اہم شخصیت زکریا نبی اس شہر میں رہنے کے باوجود اپنی بچی کو نام رکھنے کے لئے زکریا نبی کو مریم کی والدہ نے بلا یا نہیں۔ اپنی ‏بچی کو وہ خود نام رکھ دیا۔ اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں نام رکھنے کے لئے کوئی رسم و رواج نہیں ہے۔ 

 ‏372۔کیا غیبی بات نوح نبی کو معلوم ہوا؟

‏اس آیت 71:27 میں کہا گیا ہے کہ نوح نبی نے کہا کہ اگر انہیں چھوڑدیا گیاتو وہ لوگوں کوگمراہ کر دیں گے اور وہ بدکار لوگوں ہی کو جنیں گے۔ 

ایسا کوئی انسان نہیں کہے گا کہ ایک بھی نیک انسان نہیں بنیں گے، اور وہ جنم دینے والے نسل بھی بدکار لوگ ہی ہوں گے۔ اللہ کہے بغیر اللہ کے ‏رسول کوئی بھی اس طرح کہہ نہیں سکتا۔ مستقبل میں لوگ کیا کریں گے؟ اور کیسے سلوک کریں گے؟ یہ سب باتیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن ‏نوح نبی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا؟ ایساشک پیدا ہو سکتا ہے۔ 

یہ شک درست ہے۔ لیکن نوح نبی خود ایسا نہیں کہا۔ اللہ نے جس طرح سکھایا اسی بنا پر انہوں نے کہا ہے۔ 

اس آیت 11:36 میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے فرمایا : تمہاری قوم میں اب کوئی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس لئے اللہ نے جس طرح کہا تھا اسی ‏بنیاد پر نوح نبی نے اس طرح دعا کی تھی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ 

غیب کی باتوں کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر104، 273، 327 وغیر دیکھئے!

‏371۔ ناک پر عذاب

‏اس آیت 68:16 میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر انسان کو جدا کر کے دکھانے کے لئے ناک پر نشان لگائیں گے۔

ایک انسان کوالگ کر کے بالکل باریکی سے جاننے کے لئے ہاتھ کی ریکھاؤں ہی کو ماہر وں نے استعمال کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص ‏کے ہاتھ کی لکیروں جیسے دوسرے کے ہاتھ کی لکیر یں نہیں ہوتیں۔اسی لئے بالکل اہم دستاویزوں میں ہاتھ کی انگلی کی نشان لیا جاتا ہے۔

ہاتھ کی ریکھاؤں کے ذریعے ایک شخص کوتفتیش کر نے سے ناک کو کئی زاویوں سے اسکین اٹھانے کے ذریعے کسی بھی انسان کو باریکی سے جاننے ‏والا فوٹوفیس کی کاروباری نزاکت انکشاف کیا گیا ہے۔ 

لیکن یہ آیتیں 68:15,16 کہتی ہیں کہ انسان کو الگ سے شناخت کر نیکے بارے میں انسان کے ناک میں نشان لگائیں گے۔

ہاتھ کی لکیریں تو آنکھوں کو دکھائی دیتی ہیں۔ اس کو ہم ظاہری طور پر دیکھ کر جان لیتے ہیں۔ 

لیکن انسان کی ناک میں کچھ نشان لگا ئے جانے کو ہم ہر گز دیکھ نہیں سکتے۔ 

ناک میں کوئی نشان نہ دیکھنے کے باوجود اب ماہروں نے انکشاف کیا ہے کہ ناک میں نشان ڈالا گیا ہے۔ 

انگلینڈ کے بھات یونیورسٹی کے ماہروں نے تفتیش کی ہے کہ انتہا پسند اور مجرموں کو انکشاف کرنے کے لئے ان کے ناک کام آئیں گے۔اس کے لئے ‏نئے باریکئی فن کو انہوں نے انکشاف کی ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کی ناک کے ناپ کے ذریعے ان کے بارے میں باریک سے باریک تفصیل کو جان سکتے ہیں۔ اس کے مطابق فوٹوفیس نامی ‏بلند باریکی فن کی اسکین کے ذریعے ناک کو کئی زاویوں سے فوٹو لینا چاہئے۔ 

اس کے بعد رومن، گریک، نبیان، ہاک، اسنب اور ٹرن اپ نامی چھ شکلوں میں ناک کو تفتیش کر نا چاہئے۔ پھر ناک کی تفصیل نوک اور سوراخ ‏وغیرہ کو کمپیوٹر سافٹ ویر کے ذریعے باریکی سے آزمایا جا تا ہے۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر اڈرین ای ونس کہتے ہیں کہ ہاتھ کے لکیرکے اسکین سے ‏زیادہ ناک کے اسکین کے ذریعے ایک شخص کو آسانی سے نشان دہی کر سکتے ہیں۔اس کے ذریعے مجرم کی مادری وطن اور نسل وغیرہ کے ساتھ ہاتھ ‏کی لکیروں کی طرح انسانوں کی ناک کی بناوٹ بھی مختلف ہو نے سے جانچ لینا آسان ہوگا۔ 

ناک پر نشان لگائیں گے، بالکل مناسب سے استعمال کیا گیا ہے۔یہ بھی ایک دلیل ہے کہ قرآن کلام اللہ ہی ہے۔   

‏370۔ جہنم کا ایندھن

‏اس آیت 21:98 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن کو یا جس کو پرستش کئے، وہ لوگ جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ کے سوا جنہیں بھی عبادت کرو یا جس کو بھی عبادت کرو، اس کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ 

عبادت کر نے والوں کو جہنم میں ڈالا جانا ہمیں سمجھ میں آتا ہے۔ جنہیں عبادت کیا گیا اس کو بھی ڈالاجاناشک پیدا کرسکتا ہے۔ 

عبادت کئے ہوئے تین قسم کے ہوں گے۔ 

صالح لوگ جو وفات پاگئے انہیں لوگ معبود مان لئے ہوں گے۔ اس میں ان نیک لوگوں کی رضامندی نہیں ہوگی۔ممکن ہے وہ جانتے بھی نہ ‏ہوں۔دوسرے لوگ انہیں معبود سمجھ کر عبادت جو کرتے تھے، اس لئے وہ لوگ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہی مطلب اس میں پائی جاتی ‏ہے۔ 

اس آیت میں وہ رائے پائے جانے کے باوجود اس شک کو یہ 21:101آیت دور کر دیتی ہے۔ 

جن کے بارے میں نیک انسان کا فیصلہ ہو چکا انہیں جہنم سے دور رکھا جائے گا ، یہ کہہ کر اللہ نے اس شک کو دور کر دیتا ہے۔

اس آیت سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ انبیاء جیسے صالح لوگ عبادت کئے جانے کے باوجود انہیں عبادت کر نیوالے ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے، پر ‏انبیاء اور نیک لوگ جہنم نہیں جائیں گے۔

اپنے کو معبود ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دینے والے لوگ بھی عبادت کئے جاتے تھے۔ اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہی لوگ جہنم رسید ‏ہونے کے مستحق ہیں۔ 

یہی نہیں بلکہ قیاسی کردار، بے عقل جانداراور بے جان چیزیں جو عبادت کئے گئے ہیں، انہیں کیوں جہنم میں ڈالا جائے؟ کیا پتھر اور مٹی جہنم کے ‏عذاب کو محسوس کر سکتی ہیں، ایسے شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ چیزیں عذاب کو نہ بھی محسوس کریں اس کی عبادت کئے ہوئے لوگوں کو دلی لحاظ سے ‏شدید تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ ہم جسے معبود سمجھ کر عبادت کئے تھے وہی اب جہنم میں ہیں ، اس کو دیکھ کر ان کو ذہنی اذیت پہنچے گی۔ یہی اس عذاب کی ‏وجہ ہے۔   a

‏369۔ قضا نماز

‏اس آیت 19:60 میں جس نے نماز چھوڑی اس کے کفارہ کے بارے میں کہا گیا ہے ۔ 

کئی سالوں سے اور کئی مہینوں سے جس نے نماز چھوڑا وہ اچانک اصلاح پانے کی خواہش کریں گے۔تو کیا وہ سالوں سے جو چھوٹ گئی ان نمازوں کو ادا ‏کر نا ضروری ہے؟ یا وہ دوسرا کیا کریں؟ 

نماز کو جنہوں نے چھوڑا وہ اصلاح پا کر توبہ کرلیں اور آئندہ ٹھیک سے ادا کرتے آئیں، وہی کافی ہے۔اس آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جنت میں ‏داخل ہوں گے۔یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو نماز چھوٹ گئی اس کو قضا کر نا چاہئے۔ نبی کریم ؐ بھی ایسا کوئی حکم دیا نہیں۔ 

اس لئے وہ توبہ کریں اور آئندہ ٹھیک سے چلیں، وہی کافی ہے۔ 

اگر کوئی بیس سال سے نماز نہیں پڑھا،ان بیس سالوں کی نمازوں کو کسی سند کے بغیر ادا کر نے کو کہا جائے تو وہ منہ پھیر کر واپس چلا جانے کو ہم نے ‏دیکھا ہے۔ اس لئے دین میں جو نہیں ہے ایسے فیصلوں کو نہ سنائیں تو اصلاح پانے کی خواہشمندوں کو آسانی ہوگی۔ 

قضا نماز اسلام میں نہیں ہے، اس کو مناسب دلیلوں کے ساتھ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 479دیکھیں!  

‏368۔ انسان بندر سے پیدا نہیں ہوا

‏یہ آیتیں 2:21 ،3:59، 4:1، 5:18، 6:2، 6:98، 7:189، 15:26، 15:28، 16:4، 18:37، 18:51، 19:67، ‏‏21:37، 22:5، 23:12، 25:54، 30:20، 32:7، 35:11، 36:77، 37:11، 38:71، 39:6، 40:57، ‏‏40:67، 49:13، 50:16، 51:56، 53:45، 55:3، 55:14، 70:19، 76:2، 86:5، 87:2، 90:4، 92:3، ‏‏95:4، 96:1 کہتی ہیں کہ انسان ارتقائی نشونما کے ذریعے تبدیل نہیں پایا۔ وہ براہ راست اللہ سے پیدا کیا گیاہے۔ 

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ پہلا انسان مٹی سے پیدا کیا گیا اور دوسرے لوگ منی کے قطرے سے پیدا کئے گئے۔

کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ منی کے قطرے سے انسانی نسل بڑھتی جا رہی ہے۔

لیکن اللہ کا انکار کر نے والوں کا کہنا ہے کہ انسان کی ابتدائی نمود ارتقائی نشو نما کے ذریعے ہوئی ہے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خلیہ کئی ارتقائی منزل سے گزرتے ہوئے بندر بنا۔ اس کے بعد ہی انسان کی ارتقاء ہوئی ۔ وہ اس لئے ایسا دعویٰ کر رہے ہیں ‏کہ اگر مان لیں کہ انسان پیدا ہوا تو اللہ کے انکار کا عقیدہ مٹ جائے گا۔ 

لیکن اس ایک خلیہ کی جان کیسے پیدا ہوئی؟ ا س سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ 

انسان بندر سے پیدا ہوا ، یہ فلسفہ اللہ کے انکار کے لئے مددگار ثابت ہو نے کی وجہ ہی سے اس کو بعض لوگ قابل تعریف سمجھتے ہیں ، اس کے علاوہ وہ ‏سائنسی لحاظ سے ثابت کی ہوئی حقیقت نہیں ہے۔ وہ صرف ایک قیاس ہے۔ 

ڈارونوں کا عقیدہ ہے کہ بعض جاندار زمانے کے دوران ایک اور جاندار میں تبدیل ہو تی گئی۔ کئی کروڑوں سال کے بعد بندر کی ذات میں تبدیل ‏ہوئیں۔اس کے اور کئی کروڑوں سال کے بعدبندر نشو نما پا کر انسانی شکل اختیار کی۔ 

کسی بندر کوانسانی شکل میں تبدیل ہو تے ہوئے دیکھ کرکیا کوئی ڈارونسٹ نے اس طرح فیصلہ کیا تو ہرگز نہیں۔

بندر اور انسان کے درمیان شکل میں چند متشابہت پائے جانے کی وجہ سے ڈارونسٹ اس قیاس کواپنایاہوگا۔ 

اس قیاس کو سچ کر دکھانے کے لئے انسان کی ارتقائی منزل کو دکھانے کی تصویریں شائع کر کے اسی کو ارتقائی نشو نما کو دلیل بنا کر پیش کر تے ہیں۔ یہ ‏تمام خیالی تصویریں ہیں۔ یہ ارتقائی عقیدے کو دلیل نہیں ہو سکتا۔

سائنسی علم کم ہو نے کے زمانے میں رہنے والے اگر اس کو مانیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔ آج کے سائنسی دینا میں اس کو ماننا ہی حیرت کی بات ‏ہے۔ 

شکل کے اعتبار سے بندر انسان سے مشابہت رکھ سکتا ہے،لیکن اندرونی ساخت میں انسان بندر سے مختلف ہے۔ 

ایک انسان کے خون کو دوسرے ایک انسان کو چلانے کے زمانے میں ہم جی رہے ہیں۔ 

سائنسدانوں نے تحقیق کی کہ انسانی خون جب مہیا نہیں ہوتاتو دوسرے جانداروں کا خون کیا انسانوں کوچلا سکتے ہیں؟ صرف بندر ہی نہیں بلکہ کسی ‏بھی جانوروں کا خون انسان کے خون سے ملتا نہیں۔ لیکن صرف خنزیرکا خون ہی انسان کے خون سے زیادہ تر میل کھاتاہے۔ 

شاید آئندہ زمانے میں سائنسدان اگر فیصلہ بھی کر یں کہ انسان کو خنزیر کا خون چلا بھی سکتے ہیں اورچلا نہیں بھی سکتے ہیں ، کسی بھی جانداروں کے ‏خون سے زیادہ خنزیر کا خون ہی انسانی خون سے میل رکھتا ہے۔ 

اگر انسان بندر سے ارتقاء پایا ہوتا توبندر کاخون ہی انسان کے خون سے قریب ہونا چاہئے تھا۔ بیل بکری جیسے جانور وں کا خون جس حد تک انسانی ‏خون سے الگ ہے اسی حد تک بند ر کا خون بھی انسانی خون سے الگ ہے۔ 

یہ انکشاف ناقابل انکارکے لئے ایک سند ہے کہ بندر سے انسان پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ فیصلہ کر نے کے بجائے کہ انسان ‏کس سے پیدا ہوا ، یہی بہتر ہے۔کیونکہ یہی عقلمندی ہے۔ 

آج بھی باپ کی شکل میں اگربیٹا ظاہر ہو تو ڈی۔این۔اے۔ کے معائنہ کے ذریعے ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہی اس کا باپ ہے۔ شکل کو حساب میں ‏لیا نہیں جاتا۔ 

ڈارون کے زمانے میں خون کے ذروں کو تقسیم کر نے کی فراست نہ رہنے کی وجہ سے اس کے قیاس کو معاف کر سکتے ہیں۔ علمی شعور بڑھے ہوئے ‏اس زمانے میں بھی اس پر قائم رہنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ 

دل کی آپریشن میں آج انسان بہت ترقی کرچکا ہے۔ اگر دل کام نہیں کر تا تو اس کے بدلے میں مصنوعی دل کو لگا نے کے حد تک ترقی کر چکا ہے۔ 

سائنسدانوں نے تفتیش کی کہ کیا دوسرے جانوروں کا دل انسان کو لگا سکتے ہیں؟ اگر لگا یا جا سکتا تو کئی دل کے مریضوں کو ایک دوسرا جنم مل سکتا ‏ہے۔ 

ہر جانوروں کے دلوں کو جب تفتیش کیا گیاتومعلوم کیا گیا کہ بندراور کسی بھی جانور کا دل انسانی جسم کے ساتھ موزوں نہیں ہوا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انکشاف کیا گیا ہے، خنزیر کا دل ہی انسان کے دل کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ خنزیر کا دل انسان کے جسم میں میل کھانے کے ‏باوجود ، وہ ممکن نہیں ہے،مگر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دوسرے جانوروں کے دل سے زیادہ خنزیر کا دل ہی انسانی دل کے قریب ہے۔

اگر کہنا ہو کہ انسان اگر کسی جانور سے ارتقاء پایا ہے تو یہی کہنامناسب ہو گا کہ وہ خنزیر سے ارتقاء پایا ہے۔ ڈارون کی بتائی ہوئی جسمانی ساخت سے ‏زیادہ اندرونی اعضاء کا تناسب کو بنیاد بنانا ہی علمی شعور کے مطابق ہوگا۔ 

آج کا انسان خلیہ کی آزمائش میں بھی ترقی پاگیا۔ جین کی راز کو جان لیاہے۔ 

بندر کی جین اور انسان کی جین کو آزما کر دیکھو، اگر وہ دونوں کم و بیش ایک ہی مشابہت سے ہوں یاثابت کیا گیا ہو کہ دوسرے کسی جانورکی جین ‏انسان کی جین سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو ڈارون کے فلسفہ کو ایک حد تک تو مان سکتے ہیں۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 

جین کی تفتیش کے بعد انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ساری نسل ہی ایک افریقی ماں باپ سے نمودار ہوئی ہے۔

ڈارون نے ایسا نہیں کہا کہ ایک ہی بندر کی جوڑی سے انسان ارتقا ء پا کر اس میں سے انسانی نسل بڑھتے ہوئے آئی ہے۔ ڈارون کا فلسفہ ہے کہ ایک ‏مخصوص زمانے میں ایک مخصوص گنتی کے بندر ہی انسان میں ارتقاء پائی ہے۔یہ انکشاف ہو نے کے بعد سارے انسان ایک ہی افریقی ماں کی نسل ‏ہیں تو ڈارون کا وہ عقیدہ چکنا چور ہوگیا۔ 

انسان ایک ماں باپ کے ذریعے ہی پیدا ہوا، یہی حقیقت دنیوی بھائی بندی کو اجاگر کر سکتی ہے اور قوم، نسل اور رنگ کے نام سے اونچ نیچ وغیرہ کو ‏روک سکتی ہے۔ 

ڈارون کے فلسفہ کو تھامنا انسانی نسل کے لئے ضرر پہنچا سکتی ہے۔ 

میراپہلا باپ اور تمہارا پہلاباپ الگ الگ ہیں، یہ کہہ کر آج کے اس ذات پات کے اختلاف کو روا رکھ سکتے ہیں۔ 

اس سے زیادہ ایک اہم بات بھی ہے۔ انسان اپنی جسمانی ساخت سے بڑائی حاصل نہیں کی بلکہ عقل و تمیز کے ذریعے ہی حاصل کیا ہے۔ 

جسمانی نشونما اور جسمانی تبدیلی ہی کے لئے ڈارون وجہ بتاتا ہے۔ عقل و فہم سے عاری جاندار عقل و فہم سے تبدیل ہو نے کا ماحول اور مجبوری کون ‏سی ہے، وہ اس کو نہیں کہہ سکا۔ 

ڈارونسٹ کہتے ہیں کہ ابتدا میں زرافہ کی گردن بہت چھوٹی تھی۔ اس کی غذا اونچی مقام پرتھی، اس کو کھانے کے لئے گردن کواونچا کر نا پڑتا تھا، ایسے ‏ہی اونچا کرتے کرتے کئی کروڑوں سال کے بعد بہت لمبی ہوگئی جیسا اب دیکھ رہے ہیں۔ 

دنیا میں جینے کے لئے لمبی گردن کی ضرورت پر زرافہ کی گردن لمبی ہوگئی ، چلئے،ایک بات کے لئے مان لیتے ہیں۔لیکن زندہ رہنے کے لئے عقل و ‏فہم کی ضرورت کسی بھی زمانے میں نہیں رہی۔ زندہ رہنے کے لئے عقل و فہم کی ضرورت نہیں۔ 

کیا یہ زبردستی کسی زمانے میں تھی کہ عقل نہ رکھنے والی جاندار زندہ نہیں رہ سکتی؟ عقل نہ رکھنے والی جاندار عقل والی جاندار بننے کے لئے کسی بھی ‏زمانے میں کوئی زبردستی نہیں تھی۔ 

جب زندہ رہنے کے لئے عقل کی ضروری نہیں تو ارتقائی نشونما کے ذریعے جسم بدل سکتاہے ، مگر عقل و فہم نہیں آسکتی۔ 

زرافہ کی گردن لمبی ہونے کو جو وجہ ڈارون نے بتائی ہے اس کو ہم مان نہیں سکتے۔ ہاتھی کی سونڈ کیوں لمبی ہوگئی؟ کنگرو کے پیٹ میں تھیلی کیوں ‏آئی؟ کیا وہ کہیں گے کہ ہاتھی اپنی ناک کو لمبا کر نے سے وہ سونڈ بن گئی؟ 

ارتقائی نشونما سے کئی کروڑوں سال کے بعد اگر بندر انسان بنا تو وہ نشونما اب کیوں رک گئی؟

ہر دن چند بندر دنیا کے کسی حصہ میں انسان میں تبدیل ہوتے رہنا چاہئے؟ یا ہر روز چند بندریہ انسانی بچے کو جنم دینا چاہئے۔

وہ سلسلہ کیوں نہیں بڑھا؟ اس کا جواب بھی ڈارونسٹ کے پاس نہیں ہے۔

بندر سے انسان اگر ارتقاء پایا ہوتو بندر بننے سے پہلے وہ ایک نسل ہو نا چاہئے تھا۔ اس کو اور انسان کے درمیان ایک دو فرق تو ہونا چاہئے۔ اب کے ‏بندر اور انسان کے درمیان ہزاروں درمیانی نسلیں ہونی چاہئے تھیں۔ اسی وقت ارتقاء کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ 

اب کے بندر اور انسان کے درمیان ہزاروں فرق جو ہیں وہی ارتقائی نشونما کے ذریعے انسان پیدا نہیں ہوا کے لئے ایک اور دلیل ہے۔ 

انسان نشو نما پا کر کیوں ایک اور اونچے مقام کو حاصل نہیں کیا؟ اس کا بھی جواب نہیں ہے۔

انسان کا خون، دل، جگر اورگردہ وغیرہ کی اندرونی بناوٹ اور جین یہ ثابت کر تی ہیں کہ انسان ایک الگ نسل ہے، کسی دوسری نسل سے وہ نشو نما پایا ‏ہوا نہیں ہوسکتا۔ 

پیدائشی طور پر سب برابر ہیں۔ چال چلن ہی سے وہ ایک دوسرے سے بڑھ سکتا ہے اور اسلام کی بتائی ہوئی مساوات اور بھائی بندی کو جاننے کے ‏لئے ان 11، 32، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 508 حاشیوں کو دیکھئے!  

‏367۔ ڈرنے سے نجات کا راستہ

‏ان آیتوں 28:31,32 میں کہا گیاہے کہ عصا کو سانپ بنانا، ہاتھ سے روشنی کا نکلنا، ڈر کے وقت دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر ڈر سے نجات پانا ‏وغیرہ معجزات کو موسیٰ نبی کو عطا کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں معجزے ہیں۔ تین معجزے کہنے کے بعد کیوں دو معجزے کہا گیا ہے؟اس طرح کہنے میں ایک عظیم ‏نفسیاتی علم موجود ہے۔ 

اس آیت میں تین چیزیں کہی گئی ہیں۔ اس میں دو چیزیں ہی موسیٰ نبی کو عطاہو نے والے معجزے ہیں۔ ڈر لگتے وقت ہاتھوں کو سمیٹ لینا چاہئے، یہ ‏معجزہ صرف موسیٰ نبی ہی کو نہیں عطا ہوئی۔ یہ سب کے لئے عام ہے۔ اسی لئے اس کو کہتے وقت گنتی میں دو معجزے کہا گیا ہے۔ 

ڈر لگتے وقت دل تیزی کے ساتھ دھڑکے گا۔اضطرابی حالت زیادہ ہوگی۔ اس سے بچنے کے لئے سینے کو تانے بغیر پرندوں کی طرح سمیٹ کر ڈھیلا ‏چھوڑدیں تو اس سے دل کو زیادہ جگہ ملتا ہے۔ بغیر دباؤ کے وہ کام کر ے گا۔ اضطراب کم ہوگا اور ڈر دور ہوجائے گا۔

وہی نہیں بلکہ ہاتھوں کو سمیٹ لینے سے ایسا محسوس ہو گا کہ کوئی ہمیں دبوچ لیا ہے، اس سے وہ ہمیں عام حالت کی طرف لے آئے گی۔ 

یہ آیت اسی عظیم سچائی کو کہتی ہے۔   

More Articles …