Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏409۔کیا ظلم نہ کرنے والوں کو بھی عذاب ہے؟

‏یہ آیت 8:25کہتی ہے کہ اللہ کی سزا ظلم کر نے والوں کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کر تی ہے۔ 

ظلم کر نے والوں کو سزا دینا کچھ معنی رکھتا ہے، لیکن جو ظلم نہیں کر تے انہیں اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ ایسا شک پیدا ہو سکتا ہے۔

اس شک کو قرآن مجید کی یہ آیتیں 7:163-167دور کردی ہے۔ وہ آیتیں یہی بات کہتی ہیں۔ 

وہ قوم جو ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے ممانعت کی گئی تھی، تین حصوں میں بٹ گئے۔

ایک گروہ اس پابندی کو جھٹلا کر ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے لگے۔ 

دوسرا گروہ اللہ کے حکم سے سرتابی سے بچ کر ممکن حد تک انہیں روکنے کی کوشش کر تے رہے۔ 

تیسرا گروہ سرتابی کر تے ہوئے مچھلی تو نہیں پکڑا، بلکہ مچھلی پکڑنے والوں کو روکا نہیں۔ اورجس نے اسے روکا انہیں رکاوٹ بھی ڈالنے لگے۔ 

ہفتے کے دن سرتابی کر تے ہوئے مچھلی پکڑنے والوں کو اللہ نے سزا دی ، اسی طرح برائی کو نہ روکنے والے تیسرے گروہ کو بھی اللہ نے سزا دی۔ ‏صرف برائی کو روکنے والوں ہی کو بچایا۔ 

ظلم کر نے والوں ہی کو نہیں، اس ظلم کو دیکھتے ہوئے خاموش رہنے والے بھی سزا کے مستحق ہیں۔ اسی رائے کو یہ آیت 8:25کہتی ہے۔   

‏408۔ پہاڑیں کب تشکیل پائیں؟ 

‏قرآن مجید کئی آیتوں میں زمین کے بارے میں جب بھی کہتا ہے اس میں پہاڑوں کو قائم کر نیکے بارے میں بھی کہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ‏زمین کے پیدا ہو تے وقت ہی پہاڑیں بھی تخلیق پاگئیں۔ اسے یہ آیتیں 41:9,10واضح کرتی ہیں۔ 

آیت نمبر 41:9میں زمین کی تخلیق کے بارے میں کہتے ہوئے اس کے بعد کی آیت 41:10 میں اللہ فرماتا ہے کہ اس کے بعد کے چار دنوں میں ‏پہاڑوں کو قائم کر نے اور غذا وغیرہ مقرر کرنے کا معاملہ کیا گیا۔ 

اب سائنسدانوں نے تفتیش کی ہے کہ پہلے زمین قائم ہوا پھر پہاڑیں قائم کی گئیں ۔

قرآن مجید نے چودہ سو سال کے پہلے جو کہا تھا اسی کو آج کے سائنسدانوں نے مستحکم کیا ہے۔ 

اور بھی زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 248دیکھئے!  

‏407۔ خنزیر کھانے سے ممانعت

‏ان آیتوں2:173، 5:3، 6:145، 16:115 میں اللہ نے خنزیر کھا نے کو منع کیا ہے۔ 

اس کی وجہ کو نہ قرآن مجید نے کہا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے۔ 

بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ خنزیر فضلہ کھاتا ہے اور غلاظت میں لوٹ پوٹ ہو تا ہے، اسی وجہ سے اس کو منع کیا گیا ہے۔ 

اگر یہی وجہ ہو تو غلاظت کھانے والی بیل اور مرغی وغیرہ کئی جانوروں کو بھی منع کر نا چاہئے تھا، لیکن کوئی ممانعت نہیں کی گئی۔ 

خنزیر غلاظت کھانے کی وجہ ہی سے منع کیا گیا ہوتا تو کیا ان خنزیروں کو کھانے کی اجازت ہے جو فارم میں پالا جا تا ہے۔ لیکن یہاں کسی خنزیر کو ‏کھانے کی اجازت نہیں۔ 

اس لئے یہاں خنزیر کے گوشت کھانے کو ممانعت کی وجہ یہ نہیں ہوسکتا۔ خنزیر کے گوشت کھانے سے منع کے لئے دوسری کئی وجوہات ہیں۔ 

عام طور سے غذاؤں میں زیادہ چربی ہو تو وہ انسانی جسم کو خرابی پہنچاتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خصوصاً دل کے مریضوں کوبہت ہی متاثر کر دیتی ‏ہے۔

کہا جا تا ہے کہ دل کے مریض گائے اور بکری کا گوشت کھانا ٹھیک نہیں۔

سو گرام بکرے کی گوشت میں سترہ گرام چربی ہو تا ہے۔ سو گرام گائے کے گوشت میں پانچ گرام چربی ہو تا ہے۔لیکن سو گرام خنزیر کے گوشت ‏میں پچاس گرام چربی ہو تا ہے۔ 

جس خنزیر کے گوشت میں گوشت اور چربی برابر برابر کاہو تو وہ گوشت جسم کے لئے ہر گز اچھا نہ ہوگا۔ مزید یہ کہ ہر جاندارمیں پسینے کے غدود ہوا ‏کرتے ہیں۔ جسم جب زیادہ گرم ہو تو پسینے کے غدود سے جسم کو ٹھنڈا کر نے کے باوجود جسم میں سے خراب پانی بھی اس کے ذریعے سے خارج ہو ‏جاتی ہے۔ 

لیکن خنزیر کو پسینے کے غدود نہیں ہوتے۔ انسان عام طور سے چالیس ڈگری سینٹی گریڈ گرمی کو برداشت کر لیتے ہیں۔ دوسرے جاندار اس سے ‏زیادہ گرمی کو برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن خنزیر 29 ڈگری گرمی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔

اسی لئے وہ 29 ڈگری سے زیادہ گرمی بڑھ گیا تو کیچڑ میں لت پت ہو کر اپنی گرمی کو ٹھنڈا کر لیتاہے۔ 

خنزیر کے گوشت میں انسان کو نقصان پہنچانے والی پرجیاتی کیڑے پائے جا تے ہیں۔ کتنی بھی شدید گرمی ہو تو یہ کیڑے مرتے نہیں۔ دماغی بخار، ‏خنزیری بخار، پیلا بخار اور دل کا سوجن وغیرہ 66 قسم کے بخار خنزیر کا گوشت کھانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں،یہ طبی دنیا کی تفتیش ہے۔ 

خنزیر کا گوشت نہ کھانے والے اسلامی ممالک میں دل کی سوجن سے متاثر ہو نے والوں سے پانچ گنا زیادہ خنزیر کے گوشت کھانے والے یورپ کے ‏ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ 

ان جیسے وجوہات کی بنا پر ، آنے سے پہلے روک تھام کی مقصد سے، خنزیر کے گوشت کھانے سے اسلام نے منع کیاہے۔   

 ‏406۔ خراب ہوئے بغیر حفاظت کر نے والی صنعتی نکتہ 

‏یہ آیت 2:259 ایک انسان کی زندگی میں ہونے والے ایک واقعہ کو کہنے کے بعد کہتی ہے کہ اللہ نے اس انسان سے کہا کہ ہم نے تم کو انسانوں کے ‏لئے ایک نشانی بنایا ہے۔ 

انسانوں کو نشانی بنا نے کے بارے میں کہنے والی آیتوں میں پیشنگوئی یا سائنسی حقائق یا اس کے متعلق کچھ اشارے قرآن میں چھپے ہو نے کو واضح طور ‏سے ویکھ سکتے ہیں۔ 

اس واقعے میں کہے جانے والے انسان اپنے ساتھ ایک گدھے کو، کھانے کی بعض چیزوں کو اور پانی کو لے کر سفر کیا۔ 

اس حالت میں انہیں سو سال تک موت دینے والے اللہ نے گدھے کو بھی موت دے کر سڑی ہوئی ہڈی کا ڈھانچہ بنا دیا۔ لیکن وہ انسان ساتھ لایا ہوا ‏کھانااور پانی وہ بھی سو سال گزرنے کے بعد بھی خراب ہوئے بغیر ویسا ہی رہا۔ 

اس میں اللہ کی بتائی ہوئی وہ دلیل کیا ہے؟ 

کھا نے اور پینے کے قریب ہی گدھے کاجسم بھی تھا۔اس کے باوجود گدھے کا جسم بوسیدہ ہوگیا۔ کھانا اور پینا سب خراب ہوئے بغیرایسا ہی رہا۔ 

یہ آیت پیشنگوئی کر تی ہے کہ فِرِج کی پیٹی جیسی ایک مخصوص جگہ میں ایک حفاظتی نیام کو بنا سکتے ہیں۔ 

اشیاء خراب ہونے سے حفاظت کر نے کے لئے ایک صنعتی نکتہ موجود ہے، اس کو تحقیق کرو، اس بات کویہ آیت کہنے کی وجہ ہی سے اللہ نے فرمایا ہے ‏کہ اس کو ہم نے نشانی بنایا ہے۔ 

 ‏405۔ بیوہ عورت کی دوسری شادی

‏اس آیت 2:240 میں کہا گیا ہے کہ شوہر کو کھوئی ہوی عورتیں ایک سال تک اپنے شوہر کے گھر میں رہ سکتی ہیں۔ شوہر کے گھر والے اسے باہر نہ ‏نکا لے۔ شوہر بھی اس پر زور دے کر زندہ رہتے وقت ہی وصیت کر دینا چاہئے۔ 

پھر اس کو بدل کر آیت نمبر 4:12کے ذریعے یہ قانون نازل کیا گیا کہ مرے ہوئے شوہر کو اگر بچہ نہ ہو تو اس کی جائداد میں سے پچیس فیصد اور اگر ‏اسے بچہ ہو تو ساڑھے بارہ فیصد بیوی کو پہنچنا چاہئے۔ اور شوہر کے گھر والے کی مہربانی کے بغیر اس کو جو پہنچنا ہے اس جائدا دکو لے کر زندگی بسر کر نے ‏کا حق اسلام عطا کی۔

شوہر مر نے کے بعد ایک سال تک شوہر کے گھر میں بسر کر نے کے لئے اس کو حق رہنے کے باوجود دوسری شادی کر نے کا فیصلہ کر نے کواگر شوہر ‏کے گھر میں جینا رکاوٹ ہوگا تو وہ اپنے خاوند کے گھر سے نکل جا سکتی ہے۔ اپنے معاملے میں اچھا فیصلہ اختیار کرنے کے جملے سے اسے ہم جان سکتے ‏ہیں۔

کیا عورتوں کو دل (آتما)ہے ، اس مباحثہ میں پڑے ہوئے اس دور میں اسلام نے یہ کہہ کر عورتوں کے حق کو استوار کیا کہ شوہر کی جائداد میں بیوی ‏کوبھی حصہ ہے اور دوسری شادی کر نے کا بھی حق ہے۔ 

 ‏404۔ عدت کے وقت مردوں سے بات کر نا

‏اسلام کہتا ہے کہ شوہر کو کھوئی ہوئی عورتیں چار مہینے دس دن تک دوسری شادی کو ملتوی کر نا چاہئے۔اس حالت میں زیب و زینت کرنا چھوڑ دینا ‏چاہئے۔یہی عدت ہے۔ 

اس کی وجہ کو حاشیہ نمبر 69میں دیکھئے!

اس عر صہ میں اسلام نے جو نہیں کہا ایسے کئی الٹے سیدھے باتوں کو یہ لوگ عورت پر مسلط کر دیتے ہیں۔ 

عدت کے عرصہ میں عورتیں اندھیرے میں رہنا چاہئے۔خونی رشتہ کے مردوں تک بھی دیکھنا نہیں چاہئے۔ مرد بچوں تک بھی دیکھنا نہیں ‏چاہئے۔ حاملہ عورت کے پیٹ میں مرد بچہ ہو بھی سکتا ہے ،اس لئے حاملہ عوت کو بھی دیکھنا نہیں چاہئے، اس طرح کی کئی باطل عقیدے اس کی ‏مثال ہیں۔ 

ان لوگوں کی اس باطل عقیدے کے خلاف ہی یہ آیت 2:235نازل ہوئی ہے۔ 

 ‏403۔ شوہر کو منتخب کر نے کا حق

‏عورتوں کی خواہش کے خلاف ان کی ناپسندمرد سے ان کے والدین زبر دستی شادی کر دیتے ہیں۔ 

اس تہذیبی دور میں بھی وہ حالت ابھی تک جاری ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی عورتوں کو جو حق انہیں نہیں ملی چھٹویں صدی ہی میں اسلام نے ‏انہیں عطاکر چکی ہے۔ 

جس طرح اپنے لائق ایک لڑکی کو منتخب کر نے کا حق جب ایک مرد کو ہے تو اسی طرح عورتوں کو بھی اپنے لئے شوہر منتخب کر نے کا حق ہے۔ 

اسلامی حدود کے پار نہ ہوتے ہوئے عورت جب اپنے لئے شریک حیات منتخب کر تی ہے تو اس کی اس حق کو والدین چھیننا نہیں چاہئے۔ اس کی ‏خواہش کے خلاف اسے زبردستی بھی کر نا نہیں چاہئے۔ اس کو یہ آیتیں 2:234، 4:19 وضاحت کر تی ہیں۔

نبی کریم ؐنے فرمایا ہے کہ عورت سے ضرور اجاز ت لینا چاہئے۔ دیکھئے بخاری: 5136، 6968، 6970، 6971)

عورت کی منظوری کے بغیر ہو نے والی شادی رد کر نے کے لئے بھی نبی کریم ؐ نے ہدایت دی ہے۔ دیکھئے، بخاری: 5139، 6945، 6969)

اسی وقت عورتوں کو دی ہوئی اس اجازت سے عورتیں دھوکہ میں آنا یا نقصان اٹھانا نہیں چاہئے ، اس لئے والد، بھائی یا جماعت کے صدر وغیرہ ذمہ ‏داروں کے پاس اپنی خواہش کو ظاہر کر کے ان کے ذریعے ہی نکاح کر نا چاہئے۔ اس چیز کو بھی اسلام اجازت دی ہے۔ 

اسی طرح اسلام کے قاعدہ قانون کی حد سے نہ گزرتے ہوئے عورتیں اپنی شریک حیات کو منتخب کر لیں تو اسلام ان کے لئے جو حقوق دے رکھی ‏ہے اسے چھینے بغیر انہیں شادی کر رکھنا والدین یا ان کے ذمہ داروں کا فرض ہے۔ 

‏402۔ عورتوں کی طلاق کا حق

‏جب شوہر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو منصفانہ طور پراس کی حیثیت کے مطابق اس عورت کو سہولتیں مہیا کر نے کے بعد ہی طلاق دینا چاہئے، یہی ‏اسلام کا حکم ہے۔ (حاشیہ نمبر 74دیکھئے!)

اس آیت 2:229 میں کہا گیا ہے کہ جو بیوی شوہر کو نہ چاہتی ہو ، اس کو جو دینا ہے اسے دے کر طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ 

جس طرح مردوں کو طلاق کاحق ہے ، اسی طرح ناپسند شوہر سے قاعدے کے مطابق الگ ہو نے کا حق اسلام میں عورتوں کو بھی عطا کیاہے۔ اسی ‏حق کے بارے میں یہ آیت کہتی ہے۔ 

اس آیت کو غلطی سے سمجھے ہوئے چند علماء کہتے ہیں کہ شوہر جو مانگتا ہے اس رقم کو ادا کرنے کے بعد ہی بیوی طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ 

اس کے لئے تلافی د ے کر وہ الگ ہوجانا غلطی نہیں ہے، آیت کے اس جملے کو وہ لوگ دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شوہر جتنا مانگے اسے دیدینا چاہئے ۔بلکہ شوہر سے جتنی مہر بیوی نے حاصل کی ہے اسی کو دینا بیوی پر حق ہے۔ اس آیت ‏کی آغاز سے اگر تم دیکھو تو سمجھ سکتے ہو۔

تم اگر طلاق دو تو تم جو کچھ بیوی کو دئے تھے اس میں سے کچھ بھی واپس مانگنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس آیت کا یہ پہلا حصہ ہے۔ 

عورت کی طرف سے طلاق کی درخواست آئے توجو اس آیت کے اگلے حصہ میں منع کیاگیا تھااس کولے لینا گناہ نہیں، اس طرح اس آیت کی پچھلے ‏حصہ میں اجازت دی گئی ہے۔ 

یعنی مرد جب طلاق دیتا ہے تو عورت کودی ہوئی مہر کو واپس مانگنا نہیں چاہئے۔ 

عورت کی طرف سے طلاق کی درخواست جب آتی ہے تو جو اس نے مہر دیا تھااس کو واپس مانگ سکتا ہے۔ یہی اس کا مطلب ہے۔ اس کا یہ مطلب ‏نہیں کہ مہر کی رقم سے زیادہ مانگیں۔ 

نبی کریم ؐ نے بھی اسی طرح فیصلہ کیا تھا۔

‏(دیکھئے بخاری: 5273)

اور بھی تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 66دیکھئے!

طلاق کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 70، 74، 386، 424 وغیرہ دیکھئے!  

More Articles …