Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏417۔ مسجدوں میں اللہ کا نام لیناکیاضروری ہے؟ 

‏اس آیت 24:36کو بعض لوگ یہ معنی لیتے ہیں کہ اللہ کے گھر میں اس کا نام لینے کے لئے اجازت دیا گیاہے۔ 

عربی کے متن میں ’’اَذِنَ‘‘کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ اس لفظ کا معنی ہے اجازت دی ہے۔ اسی طرح حکم دیا ہے اور اعلان کیا ہے کے معنی میں بھی ‏استعمال ہوتا ہے۔

اس آیت میں کہی ہوئی خبر کو دیکھتے وقت’ اجازت دی ہے‘ کہنا نامناسب دکھائی دیتا ہے۔

اللہ کے گھر میں اس کے نام کا ذکر کرنے کی اجازت ہے کہنے کی ضرورت ہی نہیں، سب کو معلوم ہے۔

مسجدیں تعمیر کر کے بغیر عبادات کے اس کو تباہ نہ کریں۔بلکہ اس میں اللہ کا نام لے کر حمد و ثناء کر نا چاہئے۔وہی حکم یہاں کہا گیا ہے۔   

 ‏416۔بہت بڑا پرندہ

‏اس آیت 22:31 میں مشرکوں کو مثال دیتے وقت کہا گیا ہے کہ پرندوں سے اچک لے جا کر کہیں دورپھینکے جانے کی طرح۔

نبی کریم ؐ کے زمانے سے لے کر آج تک بھی کوئی پرندہ انسان کو اٹھالے جا کر دوسری جگہ پھینکنے کی حد تک بڑی نہیں ہے۔ 

انسان سے کئی گنا زیادہ بڑا اور طاقتور کوئی پرندہ ہو تو ہی وہ ممکن ہے۔ 

ان جیسے پرندوں کو اگر ہم دیکھے بھی نہیں تونمونوں کوتحقیق کر نے والے سائنسدان انکشاف کیا ہے کہ ویسے پرندے رہتے تھے۔ان سائنسدانوں ‏نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھی سے بھی بڑے سائز کے پرندوں کی ہڈیاں مدفون ہیں۔

ان پرندوں کی جین اگر مل گئی تو اس کے ذریعے پھر ان پرندوں کو پیدا کر سکتے ہیں۔

گزشتہ زمانے میں اس طرح کا پرندہ تھااور ان کی جین اگر مل جائے تو مستقبل میں اس کو پھر سے پیدا کر سکتے ہیں، اسی لئے اللہ نے یہ مثال دی ہے کہ ‏پرندوں کے ذریعے اٹھا لے جانے والے انسان کی طرح۔ 

 ‏415۔ کلوننگ ممکنات میں سے ہے

‏آج کا انسان جو کلو ننگ کے بارے میں تحقیق کیا ہے ہم کیا فیصلہ کریں ، اس کے لئے یہ آیتیں 3:46، 19:21، 19:29,30، 21:91، ‏‏23:50راہ دکھاتی ہیں۔

عیسیٰ نبی نے مرد کی خلیہ کے بغیر کنواری ماں کے ذریعے خصوصی قوت کے ساتھ پیدا ہوئے۔قرآن مجید نے اس واقعہ کو صرف تاریخ سانہیں کہا، ‏بلکہ کہا کہ یہ ایک دلیل ہے۔ اس کے بارے میں یہ آیتیں غور کر نے کو اکساتی ہیں۔ 

اگر انسان کوشش کر ے تو یہ ممکن نہیں ہوگاتو اس پر غور کرنے کے لئے اکسانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر کوشش کرو تو ہو سکتا ہے، اسی لئے اس پر ‏غور کر نے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ 

آج کی جدید دنیا میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جانداروں کی خلیہ کے بدلہ میں جین کو استعمال کر کے جانداروں کو پیدا کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک بکری جب بچے جنتی ہے تو وہ بچے ہر قسم سے ماں جیسے یا اس بکری کو حاملہ بنانے والے بکرے جیسے نہیں رہتے۔ بعض باتوں ‏میں ماں جیسے اور بعض باتوں میں باپ جیسے ہوا کر تے ہیں۔ بعض اوقات دونوں کی مشابہت سے پرے بھی ہوا کرتے ہیں۔ 

لیکن ایک بکری کی جین کے ذریعے تخلیق پانے والے بچے اس جین کے ذاتی بکری یابکرے سے ہر طریقے سے مشابہ ہو گا۔اس طرح جین کے ‏ذریعے نسل کی پیداوار کو کلوننگ کہا جا تا ہے۔ 

جین کے ذریعے پیدا ہو نے والے بچے اصل ماں کی طرح پیدا ہونے کی وجہ کو بھی ہم جان لینا ضروری ہے۔ مرد کا خلیہ اور عورت کا حمل کا بیضہ مل ‏کر حمل جب بڑھتا ہے تو اس میں اس کا جین ظاہر ہوتا ہے۔ 

دونوں مل کر ایک مرکب جین وہاں نئے طور سے ایجاد ہو نے کی وجہ سے وہ والدین سے ہر طریقے سے مشابہ نہیں ہوتا۔

اسی وقت جانداروں کے تمام جسم میں ہر ایک پٹھوں میں جین پھیلے ہو ئے ہیں۔ تھوڑاسا گوشت نکا ل کر اس میں سے صرف جین کو الگ کر تے ہیں۔ ‏یہ جین اگر پچیس سالا نوجوان کا جین ہو تو اس جین کی عمر بھی پچیس سال ہی ہوگی۔ 

اسی وجہ سے جس کے جین سے بچہ تخلیق کیا جا تا ہے وہ اسی کی طرح شکل و شباہت والا ہو گا۔ 

مرد کا خلیہ اور عورت کے حمل کے بیضہ کوٹیسٹ ٹیوب میں رکھ کر پرورش کیاجاتا ہے۔ دونوں مل کر نیا جین اس میں تشکیل پا تا ہے۔ ایک ‏مخصوص عرصہ تک اسی ٹیوب میں رکھ کر اس میں پیدا ہونے والے جین کو الگ کر کے جن کو کلوننگ کر نا چاہتے ہیں ان کی جین کو اس جگہ میں رکھا ‏جا تا ہے۔ اس کے بعد ٹیسٹ ٹیوب میں پرورش پائے ہوئے کو عورت کی رحم میں رکھ کر حمل کو بڑھایا جا تا ہے۔ عام طور سے جنم دینے کی طرح ‏اس کو بھی پیدا کیا جاتا ہے۔ 

انسان میں اس کو تحقیق کر کے ثابت نہیں کیا گیا، اس کے باوجود بکری، گائے اور خنزیر جیسے جانوروں میں اسے آزما کر سائنسدان کامیاب ہو ئے ‏ہیں۔

انسان کے حد تک اسے کلوننگ کر نے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ، اس کو سائنسدانوں نے انداز ہ لگا یا ہے۔

پچیس سالا ایک شخص کی جین کو لے کر کلو ننگ کر کے ایک بچہ کو تخلیق کیا جائے تو وہ شکل و صورت سے بچہ رہنے کے باوجود اس کی جین کی حد تک ‏اس کی عمر پچیس ہی ہو گی۔ اس لئے پچیس سالا شخص کی عقل اور غورو فکر اس بچے کو بھی ہو گی، یہی سائنسدانوں کا اندازہ ہے۔ 

اس وضاحت کو دل میں رکھتے ہوئے عیسیٰ نبی کی پیدائش کے بارے میں جو قرآن کہتا ہے اس پر غور کریں۔ 

باپ کے بغیر ایک بچے کو اللہ اگر پیدا کر نا چاہے تو کن کہہ کر ہی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے باوجودکہاجا تا ہے کہ اللہ نے ایک فرشتے کو انسانی شکل میں ‏بھیج کر وہ فرشتہ عیسیٰ نبی کی ماں مریم کے پاس پھونکا ۔یہ واقعہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تخلیق پائی ہوئی ایک جین کو وہ فرشتہ مریم ؑ پر ‏پھونکا ہو گااور کسی بھی طریقے سے بچہ جنم دینا ہو تو آخر ماں کی رحم بہت ضروری ہے۔ 

اس کے بعد ہم غور کر نے کی ایک چیز ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی پیدا ہو نے کے ساتھ با ت کئے تھے۔باپ کے بغیر پیدا ہو نے سے معجزہ ‏کی نبیاد پر چند باتیں کہنے کے بعد پھر سے وہ بچہ کے انداز سے نہیں رہے۔ وہ بچہ بن کر رہتے وقت ہی بات کئے تھے، وہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا جا تا ہے ‏کہ ان کو اسی وقت اللہ کا رسول بھی بنا دیا گیا تھا۔

اللہ کا رسول کا مطلب ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو ٹھیک سے سمجھیں۔اس کو لوگوں کے سامنے تشریح کر نا چاہئے۔

پیدا ہو نے کے ساتھ عیسیٰ نبی نے بات کی تھی اور اللہ کے پیغام کو سمجھ کر لوگوں کے سامنے پیش کر نے کے حد تک پختگی حاصل تھی۔ یہ بات انسانی ‏کلوننگ کے بارے میں سائنسدانوں کے رائے کے مناسبت سے ہے۔ 

‏414۔ سابقہ کتابوں کو قرآن کا نام

‏قرآن کا لفظ اکثر قرآن ہی کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔ بعض وقت اللہ کی نازل کردہ سابقہ کتاب کے لئے بھی قرآن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

قرآن مجید میں تمام مقامات میں قرآن کا لفظ نبی کریم ؐ پر نازل کردہ قرآن مجید ہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 

اس آیت 15:91میں کہا گیا ہے کہ جس طرح قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کوہم نے ہلاک کر دیا اسی طرح ہم ان کو بھی ہلاک کر دیں ‏گے۔ سابقہ قوم کے بارے میں کہا گیا ہے، اسلئے یہ قرآن کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے۔ اپنی کتاب کو ٹکرے کرنے کی طرح کے مطلب سے ‏اس آیت میں قرآن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ بھی قرآن کے لفظ کو سابقہ کتاب کی طرف اشارہ کر نے کے لئے استعمال کیا ہے۔ 

نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ داؤد نبی کو قرآن پڑھناآسان کیا گیا تھا۔ (دیکھئے بخاری:3417)

داؤد نبی کے زمانے میں قرآن نازل نہیں ہوا تھا۔ان پر زبور نامی کتاب ہی نازل کیا گیا تھا۔ زبور ہی کو انہوں نے پڑھا ہوگا۔ اس لئے اس حدیث میں ‏جو قرآن کہا گیا ہے اس کو ہم زبور ہی سمجھنا چاہئے۔ 

‏413۔ عربی متن میں بڑے حروف

‏ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں شائع ہو نے والے قرآن مجید کی عربی متن میں اس آیت 18:19 کے ایک ہی لفظ میں بڑے حروفوں میں ‏شائع کیا گیا ہے۔ 

اس کو اور اسلام کو کوئی تعلق نہیں۔ 

قرآن مجید میں جملہ حروفوں کو گن کر اس کو ٹھیک آدھا حصہ بنا کر اس مقام کواہم سمجھ کر نشان بنا نے کے لئے صرف اس لفظ کو بڑی سائز میں شائع ‏کر تے ہیں۔ 

اس کے بارے میں مقدمے میں قرآن کی مرتب کی تاریخ کے عنوان پر غیر ضروری تحقیق کے چھوٹی عنوان پر تشریح کی گئی ہے۔

‏412۔ گرم کیا ہواپتھر

‏ان 11:82، 15:74، 26:173، 27:58، 51:34 آیتوں میں اللہ نے فرمایا ہے کہ برائی کر نے والوں کو سزا کے طور پر گرم پتھروں ‏کی بارش برساکر ہلاک کیا۔ 

گرم پتھروں کے معنی کو سطحی طور پر سمجھ نہ لینا۔کیونکہ اوپر سے جب گرم پتھریں زمین پر آنے تک ٹھنڈا ہو جا ئے گا۔

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ ان پتھروں کے حملہ سے عظیم ہلاکت واقع ہوئی۔ اس لئے جب پتھریں زمین پر آکر گرے تو وہ گرم رہا ہوگا۔

نیچے گر کر پھٹنے کی وجہ سے وہ بکھر کر جو گرمی پہنچائی اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ اس لئے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اس پتھر کے اندر سخت طاقت دبا کر ‏رکھا گیا تھا۔ 

ان آیتوں میں برے لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں کہنے کے بعد کہا گیا ہے کہ اس میں بہت بڑی دلیل موجود ہے اور سمجھنے والے لوگوں کے کے ‏لئے اس میں نشانی رکھا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بڑی ہلاکت خیز بم جیسے چیزوں کے لئے ایک پیشنگوئی سمجھنا چاہئے۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 355 دیکھیں!

 ‏411۔ بے گناہ کو قید کی سزا کیوں؟

‏اس آیت 12:35میںیوسف نبی بے گناہ معلوم ہو نے کے بعد بھی انہیں محسوس ہوا کہ انہیں قید خانہ میں ڈالنا چاہئے۔ ایساکیوں کہا گیا ہے؟

یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ بے گناہ جاننے کے بعد بھی انہیں کیوں قید خانے میں رکھا گیا؟

یوسف نبی کے پاس ان کی مالکن غلط انداز سے چلنے کی خبر ایک طرف ، یوسف نبی نے اپنی مالکن سے غلط طریقے سے چلنے کی افواہ ایک طرف لوگوں ‏میں چرچا ہو رہا تھا۔ 

اس حالت میں یوسف نبی کو قید خانے میں نہ بند کریں تو یہ خبر آشکارا ہوجا ئے گا کہ ان کی مالکن ہی گنہ گار ہے۔ اس سے اندیشہ تھا کہ شاہی خاندان کی ‏عزت بدنام ہو جا ئے گا۔

اس لئے یوسف نبی کو قید خانے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

‏410۔ غریبی ختم ہو نے کی پیشنگوئی

‏اس زمانے کے عربوں کے نزدیک شہر مکہ بہت بڑا مقدس مقام مانا جاتا تھا۔ وہ صحرائی مقام رہنے کی وجہ سے اس عبادت گاہ کو آنے والے مسافر وں ‏کے ذریعے ہی مقامی لوگوں کو کچھ آمدنی مہیا ہو تا تھا۔ زیادہ مسافر آنے پر ہی تو زیادہ آمدنی ملے گی، ایسا سوچ کر انہوں نے ہر قسم کی برائیوں کو جگہ ‏دے رکھی تھی۔

اسی موقع پر اللہ نے اس9:28 آیت کے ذریعے منع کیا ہے کہ اللہ کو شریک ٹہرانے والے اس عبادت گاہ کو نہ آئیں۔

اس ممانعت کے ذریعے مکہ والوں کو اندیشہ ہوا کہ مسافروں کی آمد کم ہو کر اس سے ان کی آمدنی کم ہو جائے گی۔ ان کے خوف کو دور کر تے ہوئے ‏اللہ کی طرف سے یقین دلائی گئی کہ تم مفلسی سے ڈرو نہیں، میں تمہیں دولتمند بناؤں گا۔ 

شرک ٹہرانے والے کعبہ کونہ آئیں، اس حکم کے بعد اللہ کے وعدے کے مطابق لوگ جوق در جوق اسلام میں آنے لگے۔ پہلے سے کئی گنا زیادہ ‏مسافرکعبے کو آنے لگ گئے۔ اس طرح مکہ کے لوگوں کی مالی حالت بڑھ گئی اور اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا۔ وہی حالت آج بھی قائم ہے۔ 

یہ آیت صرف مکہ کے لوگوں ہی کو نہیں بلکہ سب مومنوں کے لئے بھی مناسب نصیحت کرتی ہے۔ 

غلط طریقے سے آمدنی ملنے کی وجہ سے دین کے معاملے میں ہونے والی برائی سے بعض مسلمان سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ توحید کے عقیدے کو جب ہم ‏اشاعت کر تے ہیں تواسے ہم ٹھیک عقیدہ ماننے کے باوجود آمدنی متاثرہونے کی وجہ سے اپنی برائی کو وہ لوگ چھوڑتے نہیں۔ 

ایسے لوگ اللہ سے ڈر کر ان برائیوں سے اگر ہٹ جائیں تو اللہ انہیں دوسری راہ سے ان کی مالی حالت کو بڑھائے گا، یہ عبرت بھی اس آیت میں ‏موجود ہے۔ 

یہ آیت 65:2 بھی ثابت کر تی ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کو وہ ایک راہ پیدا کر ے گا۔  

More Articles …