Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏393۔ یتیموں کے لئے عدل اور کثیرازدواج 

‏اس آیت 4:3 میں کئی شادیاں کرنایتیموں کو عدل پہنچانے کے ساتھ تعلق کر دکھا یاگیا ہے۔ 

ایک دولت مند شخص اپنی چھوٹی سی بچی کو چھوڑ کر جب مرجائے تو اس کے رشتہ دار اس یتیم بچی اور اس کی جائداد کو دیکھ بال کرنے کی ذمہ داری ‏سنبھال لیتے ہیں۔ 

اس ذمہ داری کو سنبھالنے والے اپنی حفاظت میں رہنے والی اس یتیم لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں،اس کو مہر بھی نہیں دیتے، پھر اس کی ساری جائداد ‏کو اپنا لیتے ہیں۔ 

اس طرح اپنی ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو دھوکہ دینے والوں کو یہ آیت ایک تنبیہ ہے۔ 

دو، تین، چار عورتوں سے شادی کر نے کی اجازت جب دی گئی ہے تو تمہاری ذمہ داری میں چھوڑے گئے یتیم لڑکیوں کو دھوکہ دے کر کیوں ‏شادی کر تے ہو؟ اس کو سمجھانے کے لئے ہی اس طرح کہا گیا ہے۔ 

عام طور سے انسان اپنی ذمہ داری میں رہنے والوں کو خود کو بھول کر دھوکہ دینے والا ہی ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ ہم خود ہی تو اس کی پرورش کر رہے ‏ہیں ، اس وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں۔

اسی کمزوری کو اللہ نے یہاں اشارہ کر رہا ہے۔تمہاری ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو مناسب جگہوں میں نکاح کراؤ۔ تم دوسری عورتوں سے ‏نکا ح کرلو ، یہی مطلب اس آیت میں مضمر ہے۔ اسے تم اس آیت 4:127 سے جان سکتے ہو۔

مزید یہ کہ یتیم عورتوں کی جائداد ہی میں نہیں، بلکہ ان کی شادی کی حقوق میں بھی ناانصافی کر نے کا موقع ہے۔ اپنی ماتحت میں رہنے والی یتیم عورت ‏ناپسند کر نے کے باوجود اپنی ذمہ داری میں رہنے کی حالت کو استعمال کر کے اس کو زبردستی نکاح کرانے کا موقع بھی ہے۔

اس ناانصافی کو بھی یہ آیت اشارہ کر تی ہے۔اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ یتیموں کے پاس انصاف نہ کر سکو گے تو ، یہ جملہ ہر قسم کی ناانصافی کو اپنے میں ‏سمایا ہوا ہے۔ 

کثیر ازدواج کی اجازت کیوں ہے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 106 دیکھئے! ْ ْ  

‏392۔ کیا بے گناہوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا؟ 

‏اس آیت 7:155 کوسطحی طور پر دیکھا گیا تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ ایسے بے گناہوں کو جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی ان نیک لوگوں ‏کو بلا کر اللہ نے سزا دی۔ 

دوسرے کی بوجھ کوئی اٹھا نہیں سکتا ، یہ قرآن مجید میں کئی آیتوں میں اللہ نے فرمایاہے۔ (حاشیہ نمبر 265 دیکھئے!)

دنیا کے تمام لوگوں میںیہی عدل چلا آرہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کسی نے گناہ کی تو اس کے لئے کسی اور کو اللہ کیوں سزا دے گا؟ 

اس لئے اللہ کے اس عدل کے مطابق ہی اس آیت کو ہم سمجھ لینا چاہئے۔

اس آیت کی ابتداء میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ منتخب کر نے کا مطلب ہے کسی اچھے کام کے لئے منتخب کر نا ‏ہے۔ اپنی قوم سے قابلیت کے نیک لوگوں ہی کو موسیٰ نبی نے منتخب کیا۔ 

یہاں کہا گیا ہے اسی وقت انہیں ایک چنگھاڑ نے حملہ کیا۔ کس لئے وہ چنگھاڑ حملہ کیا ، وہ کہا نہیں گیا۔ 

لیکن دوسری آیتوں کو تفتیش کر نے سے یہ آیتیں 2:55، 4:153کہتی ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کو براہ راست دیکھنے کی استدعا کی تھی۔ 

عام طور پر اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کر نے والوں کو اس طرح سزا دینا ہی اللہ کا دستور تھا۔ یہ آیت 7:143 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی بھی اللہ کو دیکھنے ‏کی خواہش ظاہر کر کے بے ہوش گر پڑے۔

اس لئے جن لوگوں پر جو حملہ ہوااس کی وجہ ان کی خواہش ہی تھی، اس کے سوا دوسروں نے جو بتوں کی پرستش کی تھی اس کے لئے نہیں۔ 

اس آیت 4:153 میں کہا گیا ہے کہ بڑی چنگھاڑ کی حملہ آوری کے بعد ہی بچھڑے کو پرستش کر نے کی گناہ میں مبتلا ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ ان پر ‏بڑی چنگھاڑ کا حملہ ہوا، اس کے بعد ہی انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی۔ 

موسیٰ نے کہا کہ ہم میں جو بیوقوفوں نے کی تھی کیا اس کے لئے تو ہمیں ہلاک کرے گا؟اس کو بنیاد بنا کر بچھڑے کی پرستش کر نے کی وجہ سے جو ‏پرستش نہیں کئے تھے انہیں بھی اللہ نے سزا دی۔ کئی مفسروں نے اسی فیصلے کواپنائے ہوئے ہیں۔ 

ایسی آیتوں کو کہ ایک شخص کی کرتوت کے لئے دوسرے کو ہلاک نہیں کیا جائے گا، یہ خلاف ہے۔اس کو وہ لوگ نظر انداز کردیا۔

اللہ کو دیکھنے کے لئے اس میں سے چند لوگ ہی پوچھا تھا۔ دوسروں نے نہیں پوچھا تھا۔ تاہم انہوں نے بھی دل میں چاہا تھا۔اس لئے سب لوگوں کو ‏بڑی ایک چنگھاڑ سے اللہ نے ہلاک کردیا۔ ظاہری طور پر چند ہی لوگوں نے اس طرح کہاتھا، اس کو موسیٰ نبی جانتے تھے، اسی لئے موسیٰ نبی نے اس ‏طرح کہا تھا۔ اگر اس کو سمجھ گئے تو تمام آیتیں ایک سے ایک بالکل خوبصورتی سے میل کھا جاتی ہیں۔  

‏391۔نبیوں کی جائداد کو وارث نہیں

اس آیت 19:5 میں زکریا نبی نے اپنے لئے ایک وارث مانگنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

ایک شخص مرنے کے بعد ان کی جائداد کا حقدار بن کر جو فائدہ اٹھاتا ہے اسی کوہم وارث کے لفظ سے جانتے ہیں۔ 

لیکن اس آیت میں جو وارث استمال ہواہے اس کو اس معنی میں نہ سمجھ لینا۔ 

کیونکہ نبیوں کی جائداد کو ان کے بچے وارث نہیں بن سکتے، یہ نبی کا قول ہے۔ (بخاری: 2862، 2863، 3435، 3730، 3913)

نبی کریم ؐ کی جائداد اور دیگر نبیوں کی جائدادکو ان کے خاندان والے وارث نہیں بن سکتے ، اس لئے جو روحانی کام وہ کررہے تھے اسے متواتر کر نے کے ‏لئے ہی وہ اپنے لئے ایک نسل کومانگاتھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ذمہ دارعطا کر۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جو زکریا نبی نے کہاتھا کہ وہ وارث مجھے اور یعقوب کے خاندان والوں کو وارث بنیں گے تو اس مطلب سے نہیں کہا گیا ‏کہ وہ جائداد کے وارث بنیں گے۔کیونکہ یعقوب نبی کی جائداد کو زکریا نبی کا بیٹا وارث نہیں بن سکتا۔ 

‏390۔ کیا نابینا اندھے بن کر اٹھائے جائیں گے؟ 

‏آیت نمبر 17:72 میں کہا گیا ہے کہ اس دنیا میں نابینا بن کر رہنے والے آخرت میں بھی اندھے بن کر ہی اٹھیں گے۔ 

ایک شخص اس دنیا میں اگر نابینا ہے تو اللہ نے اس کو اسی طرح پیدا کرنے کی وجہ ہی سے وہ نابینا بنا۔ حشر میں تو جسمانی معزوری کی بنا پر فیصلہ نہیں ‏کیاجاتا۔ اس دنیا میں انسان جیسا عمل کر تا ہے اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اس بنیاد ہی پر اس آیت کا مطلب سمجھنا چاہئے۔ 

اس آیت میں جو نابینا کہا گیا ہے اس کا مطلب اندھا نہیں ہوسکتا۔ اس دنیا میں جو لا علم رہ کر حق کو جو پہچانا نہیں وہی اندھا ہے، اسی کو اس آیت میں ‏اشارہ کیا گیا ہے۔ 

اس کو یہ آیتیں 17:97، 20:124,125اور بھی وضاحت سے کہتی ہیں۔ 

اس لئے نگاہ رہنے کے باوجود پہچان نہ رکھنے والے آخرت میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے، یہ اس آیت کا مطلب ہے۔

‏389۔ موسیٰ نبی کی خانہ بدوش قوم

‏اس آیت 2:61 میں موسیٰ نبی کی قوم کو مخاطب کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک شہر میں ٹہرو!

بعض اشخاص سوچیں گے کہ ہر انسان تو ایک شہر ہی میں تو ٹہریں گے؟ ویسے میںیہ حکم دینا کہ ایک شہر میں ٹہرو تو یہ کچھ بے معنی سا لگتا ہے۔ اس ‏کے لئے وجہ ہے! 

موسیٰ نبی کی قوم کسی شہر میں نہ ٹہرتے ہوئے شہر شہر خانہ بدوشیوں کی طرح گھوم رہے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں آسمان سے کھانا اتاراگیا۔ 

لیکن انہوں نے زمین سے اگنے والی غذائیں مانگنے لگے۔تو اللہ نے حکم دیا کہ و ہ ایک شہر میں قائم ہو کر کاشتکاری کر کے وہ اپنی چاہت کی غذا ئیں ‏پالیں۔ کسی شہر میں ٹہرو کا مطلب یہی ہے۔  

 ‏388۔ کوثر کیا ہے؟

‏اس آیت 108:1میں جو کوثر کہا گیا ہے اس کا مطلب بعض لوگ زیادہ نیکیاں کہتے ہیں۔ لغات میں تو اس لفظ کا معنی وہ نہیں ہے۔ نبی کی سنت میں ‏بھی اس کی دلیل نہیں ہے۔ 

بخاری کی حدیث 4966 اور6578 میں ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب ہے زیادہ نیکیاں۔ 

حشر کے دن لوگ جب پیاس سے تڑپتے ہوں گے تو انہیں تقسیم کر نے کے لئے اللہ کوثر نامی ایک حوض پیدا کرے گا۔ اس پانی کوتقسیم کر نے کی ‏ذمہ داری نبی کریم ؐ کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس حوض کا نام ہی کوثر ہے۔ یہ نبی کریم ؐ کی وضاحت ہے۔ (دیکھئے: بخاری کی حدیث: 4964، ‏‏4965، 6581، 7517)

نبی کریم ؐ کی دی ہوئی وضاحت کے بعدابن عباسؓ کی اس مخالف رائے کو ہمیں اختیار کر نا نہیں چاہئے۔ 

‏387۔ دس راتیں کونسی ہیں؟

‏اس آیت 89:2 میں کہا گیا ہے کہ دس راتوں کی قسم! وہ دس راتیں کیا ہیں، اس کی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ حدیثوں میں ۔

تاہم نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ذوالحجہ ماہ کے دس دن میں جو نیکیاں کی جاتی ہیں وہ کسی دوسرے دنوں کی نیکیوں سے بہتر ہے۔ (بخاری: 969، ‏ترمذی: 688)

اس کے سوا دوسری کسی راتوں کے بارے میں سند یافتہ حدیثوں میں نہیں کہا گیا ہے۔ اس لئے ذوالحجہ ماہ کی پہلی دس راتوں کے بارے میں ہی یہ ‏آیت کہتی ہوگی۔   

‏386۔ طلاق کے لئے دو گواہ

‏اس آیت 65:2 میں طلاق کی اہم شرائط کو اللہ فرماتا ہے۔ یعنی وہ شرط یہ ہے کہ طلاق دیتے وقت دو راست باز گواہ ہو نا ضروری ہے۔ 

ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی سماج میں ٹیلی فون کے ذریعے طلاق ، خط کے ذریعے طلاق دیا جارہا ہے اور اس کو علماء بھی صحیح قرار دے رہے ہیں۔ 

دو گواہوں کے سامنے خط لکھ کر یا دو گواہوں کے سامنے ٹیلی فون سے بات کر کے طلاق دئے جانے کو وہ سمجھ رہے ہیں گواہوں کا شرط پورا ہوگیا۔ 

طلاق دینے والا اور طلاق دئے جانے والی عورت دونوں کے درمیان طلاق ہونے کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے والے ہی اس کو گواہ بن سکتے ہیں۔ 

اس لئے یہ جانے بغیر کہ مخالف سمت میں رہنے والی عورت کون ہے اور کیا وہ اسی کی بیوی ہے اور یہ بھی جانے بغیر کہ کیا وہ ٹیلی فون کے ذریعے اپنی ‏ہی بیوی سے بات کیا ہے، کوئی بھی گواہ بن نہیں سکتا۔ 

چند لوگوں کویہ بھی شک ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دو گواہوں کو رکھ کر طلاق دیا جائے تو کیا وہ جائزہے؟ ویڈیو کے ذریعے ایک شخص طلاق ‏دینے کو اور اس کے لئے دو گواہ موجود رہنے کو یہیں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے چند علماء کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ انہوں ‏نے پوری طریقے سے تحقیق نہیں کی۔

اسکرین میں طلاق دینے والے کو اور ان دونوں گواہوں کو ہی دیکھتے ہیں۔ وہ کس پس پردہ میں ہیں؟ پردہ کے پیچھے سے کیا کوئی انہیں دھمکی دینے کی ‏وجہ سے ویسا کہہ رہے ہیں؟ کیا ہوش و حواس سے وہ کہہ رہے ہیں؟ یا کسی گرافکس کے ذریعے اس میں تبدیلی کیا گیا ہے؟ کیا وہ براہ راست ٹیلی ‏کاسٹ کیا جارہا ہے؟ یا جو پہلے ہی سے نشر ہوا ہے اس کو دکھایا جا رہا ہے؟ ایسے کئی شبہات رہنے کی وجہ سے ایسی طلاق جائز نہیں ہوگی۔ 

کسی شرط کے بغیر براہ راست دونوں گواہوں کے سامنے ہی طلاق دینا چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہوتو وہ طلاق نہیں کہلائے گا۔ 

عارضی طور پر بستر الگ کرنا، نصیحت کر نا، دونوں خاندانوں کے درمیانی منصف کے ذریعے نیک نہاد کے لئے کوشش کر نا وغیرہ ہو نے کے بعد ہی ‏طلاق کی طرف جانا چاہئے۔ کیایہ سب کارروائی اختیارکی گئی ، اس کو جاننے والاہی گواہ بن سکتا ہے۔ 

دونوں خاندانوں سے قریب رہنے والا یا دونوں خاندانوں سے اس کے متعلق بات کر نے والا ہی مندرجہ بالا کارروائی کو اس نے کیا یا نہیں معلوم ہو ‏سکتا ہے۔ 

مزید یہ کہ طلاق کے بعد بیوی کو معروف کے طور پررقم ادا کر نے کی ذمہ داری بھی طلاق دلانے والے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بارے میں ‏حاشیہ نمبر 74میں واضح کیا گیا ہے۔اس کو اسلامی حکومت یاجماعت ہی دلانا چاہئے۔اس لئے جماعت کے سامنے ہی دو گواہ گواہی دینا چاہئے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ خط کے ذریعے، یا یس ایم یس کے ذریعے، یا اِی میل کے ذریعے، یا ویڈیو کانفرنسی کے ذریعے طلاق کہنا اللہ کے ‏قانون کا مذاق اڑانا ہوگا۔ 

طلاق کے پہلے جس آداب کی تعمیل کرنا ہے اس کی پیروی کی گئی یا نہیں، اس کو جانے بغیر گواہ دینے والا ناانصاف کی گواہ دیتا ہے۔ اس لئے دونوں ‏کے مسئلہ کے متعلق نہ جانا ہوا شخص طلاق کے لئے گواہ نہیں بن سکتا۔ 

ایک بیٹے کوجائداد دے کر دوسرے بچوں کو محروم کر دینے والے ایک صحابی نے جب نبی کریم ؐ کو گواہ بنایا تونبی کریم ؐ نے یہ کہہ کر گواہ بننے سے انکار ‏کردیا کہ میں ناانصافی کے لئے گواہ نہیں بن سکتا۔ (دیکھئے: بخاری: 2650)

ایک شخص دین کے احکام کی نگہداشت کئے بغیر طلاق کہا تو اس کے لئے گواہ بن کر رہنا بھی اسی قسم کا ہے۔ 

اس لئے اس قانون کو نگہ میں رکھیں تو جلدی میں ہو نے والی کئی طلاقوں سے بچ سکتے ہیں۔ 

طلاق کے بارے میں اور معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 70، 74، 402، 424وغیرہ دیکھیں۔  

More Articles …