Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏401۔ قاتل کو معاف کر نے کا اختیار

‏اس آیت 2:178میں کہا گیا ہے کہ قاتل کو مقتول کے وارث معاف کرسکتے ہیں۔

قاتل کو سزائے موت دینااسلام کاجرمیاتی قانون ہے۔ 

تاہم مقتول کے وارث قاتل کو اگر معاف کردیں تو قاتل سزائے موت سے بچ سکتا ہے۔ 

لیکن اس کے لئے قصاص مقتول کے وارثوں کو ادا کر نا چاہئے۔ مقتول کو اگرکئی وارث ہوں ، ان میں سے ایک بھی اگر معاف کر دے تو قاتل کو ‏سزائے موت نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ کچھ معافی ہو جائے تو اس سے ہم اس کو معلوم کر سکتے ہیں۔ کچھ بھی کا مطلب ہے کہ ایک چھوٹا سا حصہ۔ مقتول کو اگر ‏دس وارث ہوں ، ان میں سے نو وارث معاف کر نے کے لئے انکار کر تے ہیں، لیکن وہ ایک وارث معاف کر نے کے لئے تیار ہے۔ اس لحاظ سے ‏تھوڑی سی معافی مل جانے کی وجہ سے قاتل کو سزائے موت نہیں ہے۔ مقتول کے وارثوں کو قصاص ادا کرناچاہئے۔ 

جن ممالک میں قاتلوں کو سزائے موت دیناقانون ہے ان ممالک میں قاتلوں کو معاف کرنے کا اختیار ان کے حکمرانوں کو حاصل ہے۔ 

اگر کوئی مارا جائے تو اس کے وارث ہی زیادہ متاثر ہو تے ہیں۔ اس لئے انہیں جو تکالیف، سزا اور دکھ درد پہنچتی ہے اس کو وہی لوگ جان سکتے ہیں۔

اس لئے معاف کر نے کا اختیار وارثوں کے پاس ہی ہو نا چاہئے۔ کوئی مارا جائے تو اس سے ملک کے حکمراں پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لئے معاف ‏کرنے کا اختیار حکمراں کو دینا ناانصافی ہے۔ 

اپنے باپ کے قاتل کوبیٹا اگرکہتا ہے کہ سزائے موت ہی دینا ہے ، تو اس کے خلاف اس قاتل پر حکمراں اگر مہربانی کرے تو وہ بالکل ظلم ہوگا۔ 

اسی دانشمندانہ اور عادلانہ قانون اس آیت میں کہا گیا ہے۔   

‏400۔ صفا اورمروا

‏اس آیت 2:158میں کہا گیا ہے کہ حج اور عمرہ میں صفا اورمرواکو طواف کرنا غلط نہیں ہے۔ 

اسے ایسا نہ سمجھنا چاہئے کہ اگر چاہو تو صفا و مروا کی طواف کر سکتے ہیںیا چھوڑ سکتے ہیں۔

بلکہ حج و عمرہ کے وقت صفا و مروا کا طواف کر نافرض عین ہے۔ (دیکھئے، بخاری :1545)

صفا و مروا میں طواف کرنا عین فرض رہنے کے باوجود بعض لوگ اس کو گناہ خیال کر تے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صفا و مروا کے درمیان جاہلیت ‏کے زمانے میں منات نامی ایک بت تھا۔ 

جاہلیت کے زمانے کے لوگ طواف کر تے وقت اس بت کو بھی ملا کرطواف کر تے تھے۔ 

وہی لوگ اسلام اختیار کر نے کے بعد منات نامی بت کی جگہ کو ہم کیسے طواف کریں، یہ سوچ کر انہوں نے اس کو گناہ سمجھا تھا۔ 

لوگ گناہ سمجھنے کی وجہ سے وہ گناہ نہیں ہے کہتے ہوئے یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (دیکھئے: بخاری: 1645، ‏‏1790، 4495، 4861)

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ صفا و مروا اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اور نبی کریم ؐ نے بھی تاکید کی ہے، اس وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں کہ حج کے ‏وقت صفا مروا کا طواف کرنا فرض عین ہے۔  

 ‏399۔ صحرائی کشتی

‏یہ آیت 88:17انسانوں کو غور کر کر نے کے لئے کہتی ہے کہ اونٹ کی تخلیق کیسے ہوئی؟ 

کس انداز سے اونٹ پر غور کر نا چاہئے؟ یہ آیتیں 36:41,42کہتی ہیں کہ وہ کشتی کے انداز سے ترکیب پانے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ 

سمندر کی طرح پھیلی ہوئی صحرا میں کوئی جاندار سفر کرنا ممکن نہیں ، ایسی ایک حالت میں اونٹ بہت ہی معمولی انداز سے سفر کر تے ہوئے ہم دیکھ ‏رہے ہیں۔ اسی کی مناسبت سے اونٹ کے اندر ایسی خصوصی مزاج رکھا گیا ہے کہ وہ کسی جاندار میں نہیں ہے۔ 

گرمی کی وجہ سے جسم اور خون میں موجود پانی اگر کم ہوجائے تو کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتی۔ 

جاندار کی خون میں اگر پانی کم ہوجائے تو خون منجمد ہو کر خون کی دوران نہ ہو نے سے وہ جاندار مر جا ئے گی۔

وہ حالت نہ ہو نے کے مطابق صحرائی کشتی کہلانے والے اونٹ میں کئی خصوصی انتظامات کی گئی ہیں۔ 

اونٹ ایک ہی وقت میں سو لٹر پانی جذب کر کے اپنے جسم میں موجود پانی کی تھیلی میں لبالب بھر لیتا ہے۔ جب خون میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے تو وہ ‏اپنی اس تھیلی سے خون کی نالیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ 

اونٹ کے خون کا ہر ایک ذرہ دو سو گنا پھیل جا تا ہے۔ اس سے جتنے دن بھی پانی نہ ملے تو تھیلی میں موجود پانی ختم ہو نے تک خون منجمد ہوئے بغیر ‏اونٹ سفر کر سکتا ہے۔ 

صرف خون ہی کو نہیں بلکہ عضلوں کو بھی پانی چاہئے۔

اس پانی کی تھیلی سے لینے کا انتظام اونٹ میں نہیں ہے۔ اس کے اس پانی کی ضرورت کو پورا کر نے کے لئے بہت سی چربی اس کے کوہان میں جمع کیا ‏جاتا ہے۔ 

چربی میں موجود ہائڈروجن کے ساتھ اونٹ سانس لینے والی آکسیجن کے ساتھ جب ملتا ہے تو چربی پگھل کر پانی بن کر پٹھوں کو جاتی ہے۔ 

مزید یہ کہ صحرائی ریت کی گرمی معمولی زمین کی گرمی سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ صحرائی ریت کی گرمی اونٹ کو متاثر کئے بغیر رہنے کے لئے اسکے ‏پاؤں کوزیادہ تر ربر کی گوشت کی طرح بنایا گیاہے۔ 

صحرائی کشتی کی طرح استعمال کر نے کے قابل ا ونٹ میں موجود خصوصی قابلیت کو جاننے والے پروردگار ہی کایہ کلام ہو سکتاہے، اسی کو یہ آیتیں ‏ثابت کر تی ہیں۔ 

‏398۔ نبی اور رسول ایک ہی ہیں

‏نبی اور رسول کے لفظ کو ہم ایک ہی معنی میں استعمال کر رہے ہیں۔ 

کیا ان دونوں میں کچھ فرق ہے؟ کیا یہ دونوں لفظ ایک ہی مطلب کو کہتی ہیں؟ اس کو ہم تفصیل سے جان لیں۔

نبی کا لفظ نباکے مادے سے نکلی ہے۔ اس لفظ کا معنی ہے بتانے والا۔اللہ سے پیغام حاصل کرکے لوگوں تک پہنچانے والے کے معنی میں اللہ کے ‏رسولوں کو نبی کہاجا تا ہے۔ 

رسول کا معنی ہے اپنی ذاتی رائے کہنے کے بجائے دوسروں کی رائے کوہو بہوپہنچانے والے یعنی پیغمبرہیں۔ اللہ سے پیغام حاصل کر نے کی بنیاد ‏پرانہیں رسول یا پیغمبر کہا جا تا ہے۔ 

ہر نبی اللہ سے پیغام حاصل کر نے کی وجہ سے وہ رسول بھی کہلاتے ہیں۔ 

ہر رسول اللہ سے پیغام حاصل کر کے لوگوں کو کچھ چھپائے بغیر کہہ دینے کی وجہ سے وہ نبی بھی کہلاتے ہیں۔ 

ایک شخص رسول ہیں یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف سے پیغام حاصل کر نے والے ہیں تو وہ ضرور نبی بھی ہو نا چاہئے۔ یعنی لوگوں کو وہ پہنچانے والے ‏بھی ہو نا چاہئے۔ دونوں ایک سے ایک ملے جلے ہوئے ہیں۔ یہی اس لفظ کے درمیان فرق ہے۔ 

چند لوگ بحث کر رہے ہیں کہ دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جنہیں کتاب دی گئی وہ رسول ہیں اور جنہیں کتاب ‏نہیں دی گئی وہ نبی ہیں۔ 

یہ آیتیں 2:129، 2:151، 2:252، 3:164، 3:184، 4:136، 5:15، 5:67، 5:83، 6:130، 7:35، 9:97، ‏‏35:25، 39:71، 57:25، 62:2 وغیرہ کہہ رہی ہیں کہ رسول کو کتاب دیا جائے گا، اسی کووہ دلیل دکھا رہے ہیں۔ 

لیکن یہ آیتیں 2:136، 2:213، 3:79، 3:81، 3:84، 5:81، 19:30، 37:112-117، 29:27، 45:16، ‏‏57:26کہتی ہیں کہ نبی کو بھی کتاب دیا جائے گا ، اس سے ان کی وہ ولیل معطل ہو جا تی ہے۔ 

اور بعض لوگ اس طرح حجت کر رہے ہیں کہ رسولوں کو ایک الگ دین دیا جائے گا۔ لیکن ایک نبی دوسرے ایک نبی کو عطا کئے جانے والے دین کو ‏زندہ کر تے ہیں۔ 

یہ آیتیں 9:33، 10:47، 17:15، 48:28،61:9 کہتی ہیں کہ رسول کو ایک الگ دین ہے، اسی کو وہ دلیل بنا رہے ہیں، یہ غلط ہے۔ 

کیونکہ یہ آیتیں 19:49، 66:8بھی کہہ رہی ہیں کہ نبی کو بھی الگ دین عطا کیا گیاہے۔ 

مزید یہ کہ یہ آیتیں 7:157، 7:158، 9:61، 19:51، 19:54، 43:6 کہتی ہیں کہ نبی اور رسول دونوں ایک ہیں۔

نبی اور رسول الگ ہیں کہنے والی ایک ہی آیت 22:52 ہے، پھر بھی اس دعوے کو یہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔ 

اس آیت 22:52 میں ہم نے جو بھی نبی بھیجا ، جو بھی رسول بھیجا کا جملہ جگہ پایا ہے۔ نبی اور رسول ایک نہیں ہیں، الگ الگ ہیں، کہنے والے اس کو ‏دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

اگر اس کو براہ راست معنی لے کراگر کہیں کہ نبی الگ اور رسول الگ ہیں تو اس کے خلاف جو آیتیں ہیں ان سب کو انکار کر نے کی نوبت آجا ئے ‏گی۔ 

انسانوں کی روزمرہ کی زبان میں ایک ہی معنی والے دو لفظوں کو استعمال کر کے ایسا کہا جا تا ہے گویاکہ اس کے الگ الگ معنی ہیں۔خاص کر مخالف ‏انداز سے بات کر تے وقت اس طرح بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی زبان ہی میں نہیں بلکہ اور بھی کئی زبانوں میں یہ طریقہ موجود ہے۔

مجھے کوئی ساتھی اور دوست نہیں ہے۔ 

مجھے کوئی عزیزو اقارب نہیں ہے۔ اس طرح کے کئی الفاظ ہم استعمال کر رہے ہیں۔ 

زیادہ زور دینے کے لئے ایک ہی مطلب کے دولفظوں کو دو الگ معنی کی طرح ہم استعمال کر تے ہیں۔ اسی طرح اس کو بھی اگر سمجھ لیں تو نبی اور ‏رسول ایک ہی ہیں کے آیتوں کے ساتھ وہ ہم آہنگ ہو جا ئے گا۔  

‏397۔ کیا قبر میں تعمیر کر سکتے ہیں؟

‏اس آیت18:21 میں کہا گیا ہے کہ چند لوگوں نے کہا کہ مرے ہوئے نیکوکار پر عبادت گاہ بنائیں گے۔

کوئی نیک انسان مر نے کے بعد ان پر درگاہ یا عبادت گاہ بنائے جانے کو حجت کر نے والے جاہل لوگ اس کو اپنے دعوے کے لئے دلیل پیش کر تے ‏ہیں۔ 

قبر پرستی کو روا رکھنے کے لئے اس آیت کووہ لوگ دلیل سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ غار والے نیکوکار رہنے کی وجہ ہی سے اللہ کہتا ہے کہ ‏ان پر عبادت گاہ تعمیر کی گئی۔

ان پر عبادت گاہ تعمیر کر نے کو اور ان نیکو کاروں کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ عبادت گاہ بنانے والے طاقتور اور غلبہ پانے والے تھے، اسی کو اللہ نے ‏فرمایاہے۔ اس طرح عبادت گاہ تعمیر کر نے والوں کو اللہ نیکو کار نہیں کہا۔ 

اس طرح عبادت گاہ تعمیر کر نے والے کیا نیک تھے؟ یا برے تھے؟ ایسا کیوں تعمیر کیا گیا؟یہ بات نبی کریم ؐ کی تعلیم میں مناسب تشریح ملتی ہے۔ 

نبی کا قول ہے کہ یہود اور نصارااپنے نبیوں کے قبروں کو عبادت گاہ بنا ڈالا، اس لئے اللہ ان پر لعنت بھیجی۔ 

دوسری ایک روایت میں کہا گیا ہے کہ اس طرح نبی کریم ؐ اگر تنبیہ نہ کر تے تو ان کی قبربھی بلند بنادئے گئے ہوتے۔

سند یافتہ یہ حدیث کئی کتابوں میں درج کیا گیا ہے۔ 

یہ بات ان حدیثوں میں جگہ پائی ہے:

بخاری: 436، 437،1330، 1390، 3454، 4441، 4444، 5816 ۔

مسلم: 921، 922، 923، 924، 925۔ 

ابوداؤد: 3227

نسائی: 703، 2046، 2047

موئطا: 414، 1583

دارمی: 1403

احمد: 1884، 7813، 7818، 7822، 7894، 9133، 9849، 10726، 10727، 21667، 21822، 24106، ‏‏24557، 24939، 25172، 25958، 26192، 26221، 26363۔ 

ابن حبان: 2326، 2327، 3182، 6619۔

نسائی کبرا: 782، 2173، 2174، 7089، 7090، 7091، 7092، 7093۔ 

بیہقی: 7010، 7011، 11520، 18530۔ 

ابو یعلیٰ: 5844

طبرانی (کبیر) : 393-411، 4907۔

اور بھی کئی کتابوں میں یہ حدیث جگہ پائی ہے۔

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ نیک بندوں کی قبر پر عبادت گاہ بنانا یہود و نصاراکی عادت تھی۔اس عادت کے مطابق ہی وہ لوگ غار والوں ‏پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ 

بعض کاروائی پہلے گزری ہوئی قوم کو اجازت دی گئی تھی۔ پھر بعد کی قوم کو منع کر دی جاتی تھی۔ ان جیسے معاملوں میں اس کو داخل نہیں کر سکتے۔ 

پہلے زمانے میں بھی اس کو منع ہی کیا گیا تھا۔ اگر وہ اجازت شدہ کام کر تے تونبی کریم ؐ فرمائے نہیں ہوتے کہ وہ لعنت کے لائق ہیں۔ 

چنانچہ غار والے نیک بندوں پر عبادت گاہ بنانے والے اللہ کی لعنت کے لائق ہیں، اس کے سوائے وہ نیک بندے نہیں۔ 

قبروں پر عمارت تعمیر کرنے کو نبی کریمؐ نے منع کیا ہے۔

‏(مسلم: 1765، ترمذی: 972)

تعمیر شدہ قبروں کو ڈھانے کے لئے نبی کریم ؐ نے حکم فرمایا ہے۔ 

‏(مسلم:1763، 1764۔ ترمذی: 970)

میری قبر کو عبادت گاہ مت بناؤ۔ 

‏(احمد: 7054)

اس طرح نبی کریم ؐ نے بہت ہی سختی سے تاکید کی ہے۔

فرعون نے کہا کہ میں ہی اللہ ہوں۔ اس کو اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ اس لئے ہم دعویٰ نہیں کر سکتے کہ میں ہی اللہ ہوں ہم بھی کہہ سکتے ‏ہیں۔ 

اسی طرح ان برے لوگوں کے اعمال بھی تم سے کہتا ہے۔ اس لئے برے لوگوں کی اس عمل کو سند بناکر دعویٰ کر نا کہ درگاہ تعمیر کر سکتے ہیں ، ‏جہالت ہے۔ 

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 298، 327، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! 

 ‏396۔ سجدے کی آیتیں کتنی ہیں؟

‏قرآن مجید میں 15 آیتوں کے کنارے پر سجدہ کا لفظ لکھا گیا ہے۔ ان آیتوں کو پڑھتے وقت سجدہ کر نا چاہئے، اسی کی طرف وہ اشارہ ہے۔

وہ آیتیں یہ ہیں:

‏7:206، 13:15، 16:49، 17:107، 19:58، 22:18، 22:77، 25:60، 27:25، 32:15، 38:24، 41:37، ‏‏53:59، 84:21، 96:19۔ 

اس طرح پندرہ مقامات پر سجدہ کا لفظ درج ہو نے کے باوجود ہمارے ملک کے شافعی اور حنفی مذہب والے کہتے ہیں کہ صرف چودہ مقامات پر سجدہ ‏کر نا چاہئے۔ 

بائیسویں سورہ میں دو جگہوں پر سجدہ کا لفظ درج کیا گیا ہے۔ اس میں دوسری جگہ یعنی77 ویں آیت میں لکھاکیا گیا ہے کہ یہ شافعوں کے رائے کے ‏مطابق سجدہ کر نے کی جگہ ہے۔اس آیت کو پڑھتے وقت حنفی کے لوگ سجدہ نہیں کر تے۔ کیونکہ ان کے سجدے کی آ یتیں صرف چودہ ہیں۔ 

اسی طرح آیت نمبر 38:24 میں سجدہ کا لفظ درج ہو نے کے باوجود اس آیت کو پڑھتے وقت شافعی مذہب والے سجدہ نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں ‏بھی سجدے کی آیتیں چودہ ہی ہیں۔ 

قرآن مجید کے ایک کنارے پر اس طرح درج کر نا دین میں کوئی سند نہیں ہے۔عثمانؓ کی ترتیب دی ہوی قرآن مجید کے اصل کتاب کے کنارے ‏ایسا کوئی نشان نہیں ہے۔ 

شافعی اور حنفی مذہب والے کہتے ہیں کہ چودہ جگہوں پر ہی سجدہ کریں، اور اسے قرآن کے کنارے بھی درج کر تے ہیں۔ اس کے لئے کوئی مناسب ‏دلیل ہو نا چاہئے۔ 

قرآن مجید میں چودہ جگہوں پر سجدہ کر نے کے لئے نبی کریم ؐ کا فرمودہ کوئی حدیث بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ؐ نے جو نہیں کہا اس کو قرآن مجید کے ‏کناروں پر درج کر نے کی ہمت کیسے پیدا ہوئی ، ہمیں سمجھ میں نہیں آئی۔ 

چودہ نہیں پندرہ آیتوں پر سجدہ کر نے کے لئے ابوداؤد کی حدیث 1193 اور ابن ماجہ کی حدیث 1047 کہتی ہیں۔ لیکن یہ حدیثیں کمزور حدیثیں ‏ہیں۔

اس حدیث کے دوسرے راوی عبد اللہ بن منین کو کوئی نہیں جانتا۔ ان کے ذریعے سے روایت کر نے والے حارث بن سعدکو بھی کوئی نہیں ‏جانتا۔ اس لئے یہ حدیث بھی قابل قبول نہیں۔ 

مزید یہ کہ اس حدیث میں پندرہ سجدے کونسے ہیں، اس کا بھی کوئی فہرست نہیں ہے۔ سورہ حج میں صرف دو سجدے ہی کہا گیا ہے۔ باقی کے تیرہ ‏سجدے کونسے ہیں، نہیں کہا گیا ہے۔ اس لئے ان کی درج شدہ فہرست انہیں کی قیاس آرائی ہے۔

مزید یہ کہ اس میں سجدہ کی آیتیں پندرہ کہا گیا ہے، دونوں مذہب والے چودہ کہہ رہے ہیں۔ اس حدیث کی کمزوری کے لئے وہ خودگواہ ہیں۔ 

ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ گیارہ آیتیں پڑھتے وقت نبی کریمؐ کے ساتھ میں نے سجدہ کی ۔ (دیکھئے ترمذی :519، ابن ماجہ: 1054)

یہ بھی کمزور حدیث ہے۔ اس کے راوی عمر دمشقی نامی شخص کو کوئی نہیں جانتا۔ 

ابن ماجہ کی ایک اور حدیث میں تفصیل سے کہا گیا ہے : ساتویں سورہ الاعراف، تیرہویں سورہ الرعد، سولہویں سورہ النحل، سترہویں سورہ بنی ‏اسرائیل، انیسویں سورہ مریم، بائیسویں سورہ الحج میں دومقام، پچیسویں سورہ الفرقان، ستائیسویں سورہ النمل، بتیسویں سورہ السجدہ، اٹھتیسویں سور ‏ہ ص، اکتالیسویں سورہ حٰم السجدہ وغیرہ۔ 

اس روایت میں عثمان بن فائض نامی شخص حصہ پایا ہے۔ وہ شخص کمزور راوی ما نا جا تا ہے۔ 

اس لئے گیارہ سجدوں کی آیتیں بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ 

حدیثوں میں جب تلاش کریں تو سند ملتا ہے کہ صرف چار آیتوں کوپڑھتے وقت نبی کریم ؐنے سجدہ کیا تھا۔ اس لئے وہی چارآیتیں ہی سجدہ والی آیتیں ‏ہیں۔ 

اس آیت 96:19کو پڑھتے وقت نبی کریم ؐ نے سجدہ کی، یہ مسلم کی حدیث 1010 اور1011 میں کہی گئی ہے۔

اس آیت 84:21کو پڑھتے وقت نبی کریم ؐ نے سجدہ کی، یہ بخاری کی حدیث 766، 768، 1074، 1078 میں کہی گئی ہے۔

اس آیت 53:62کو پڑھتے وقت نبی کریم ؐ نے سجدہ کی، یہ بخاری کی حدیث 1067، 1070، 3853، 3972، 4863، میں کہی گئی ہے۔

اس آیت 38:24کو پڑھتے وقت نبی کریم ؐ نے سجدہ کی، یہ بخاری کی حدیث 1069، 3422 میں کہی گئی ہے۔

اس لئے ان چار آیتوں 38:64، 53:62، 84:21، 96:19 کے سوا دوسری آیتوں کو پڑھتے وقت سجدہ کر نے کے لئے سنت نبی میں کوئی ‏سند نہیں ہے۔ ‏

‏395۔ مچھلی کے پیٹ میں کیا انسان زندہ رہ سکتا ہے؟ 

‏ان آیتوں 21:87، 37:142، 68:48 میں کہا گیا ہے کہ یونس نبی نے چند دن تک مچھلی کے پیٹ میں قید رکھے گئے۔ 

مچھلی کے پیٹ میں انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ بعض لوگوں کا سوال ہے کہ آکسیجن کے بغیر توانسان مرجائے گا!

اگر اللہ چاہے تو اس جیسے کئی معجزے ظاہر کرسکتا ہے۔ پھر بھی مچھلی کے پیٹ میں یونس نبی زندہ رہنے کی سائنسی ممکنات کو بھی ہم بتائے دیتے ‏ہیں۔ 

انسان کونگلنے کی حد تک سمندر میں اگر ایک مچھلی ہے تو وہ ویل مچھلی ہی ہے۔

سمندر میں کئی قسم کے ویل ہیں اس میں نیلی ویل بھی ایک قسم ہے۔ اس ویل کی جیپ میں پچاس آدمی تک بیٹھ سکتے ہیں۔ ان جیسے ویل میں وحشی ‏پن نہیں ہوتا، بلکہ سادھو ہو تے ہیں۔ 

صرف جیپ میں پچاس آدمی بیٹھ سکتے ہیں توہم قیاس کر سکتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کتنا وسعت ہو گا ۔

ویل دوسری مچھلیوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ مچھلی کی ذات رہنے کے باوجود دوسرے جانوروں کی طرح اپنے بچوں کودودھ پلانے والی جاندار ‏ہے۔ 

مزیدیہ کہ مچھلیاں اپنے گلپھڑے سے سانس لیتی ہیں۔ لیکن ویل کو انسان کی طرح پھیپھڑے رہنے کی وجہ سے وہ پھیپھڑوں سے سانس لیتی ہیں۔ ‏پانی کے سطح میں آ کر ضرورت کی حد تک ہوا کو کھینچ لیتی ہے۔ پانی کے اندر سانس چھوڑے بغیر دو گھنٹے تک بھی سانس کو روک لیتی ہے۔ انسان ‏سانس لیتے وقت ہوا میں سے پندرہ فیصد آکسیجن کو اندر کھینچ لیتا ہے۔ لیکن ویل مچھلیاں ہوا میں سے 90 فیصد آکسیجن کو اندر کھینچ لینے کی وجہ سے ‏‏7000قدم اندرگہرائی کو جا نے تک بھی بہت دیر تک سانس روک سکتی ہیں۔

ویل کی اس خصوصیت کو ذہن میں رکھیں تووہ جتنی آکسیجن اندر جمع کرتی ہے اس کے ذریعے یونس نبی کو سانس لینے کے لئے کافی ہے۔ آکسیجن ختم ‏ہوتے وقت وہ سمندر کی سطح پر آکر ہوا کو اندر کھینچ لیتی ہے، اس انداز سے یونس نبی کو آکسیجن کی کمی ہو نہیں سکتی۔ 

ایک آئینے کی کمرہ میں باہر کی ہوا آئے بغیر ایک شخص کو اگر بند کر رکھیں تو اس کمر ے میں جتنی ہوا ہے وہ اس آدمی کو سانس لینے کے لئے کافی ہوگا۔ ‏ویل اندر کھینچنے کی ہوا میں زیادہ آکسیجن رہنے کی وجہ سے یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا سائنس کے اعتبار سے موافقت رکھتا ہے۔ اس میں ‏سائنسی لحاظ سے سوال اٹھانے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اور اگر مزید کہا جائے تو سمندر میں ان جیسے مخصوص مچھلیاں پائے جاتے ہیں، اس کو سائنسی ‏پیشنگوئی سا بھی لے سکتے ہیں۔   

 ‎394‎َ۔ موسیٰ نبی پر کیا الزام لگا یا گیا؟ 

‏اس آیت 33:69 میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی کی قوم کہنے کی وجہ سے اللہ نے موسیٰ نبی کوبری کیا۔ 

موسیٰ نبی کے بارے میں ان کی قوم نے کیا کہا، اس میں دو مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 

موسیٰ نبی کی قوم کو کھلی فضا میں نہانے کی عادت تھی۔ لیکن موسیٰ نبی سب سے ہٹ کر تنہائی میں کسی کے نظر میں آئے بغیر نہا تے تھے۔ اس کی وجہ ‏ان کی قوم کہا کرتی تھی کہ موسیٰ نبی کو فتق کی بیماری تھی۔ ایک روز موسیٰ نبی نے اپنے کپڑے تمام اتار کر ایک پتھر پررکھ کر نہانے گئے۔ اس وقت ‏وہ پتھر ان کے کپڑوں کے ساتھ بھاگا۔ جب موسیٰ نبی نے میرے کپڑے میرے کپڑے کہتے ہوئے پانی سے باہر نکلے۔ جب ان کی قوم نے دیکھا کہ ‏انہیں کوئی فتق کی بیماری نہیں ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اسی کی طرف اللہ نے اشارہ کیا ہے۔ اس کو بخاری کی ان حدیثوں 278، 3404، ‏‏3407، 3152 میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

موسیٰ نبی اور ہارون نبی جب ایک پہاڑکی چوٹی پر گئے تو وہاں ہارون نبی کی وفات ہوگئی۔ اسے جب موسیٰ نبی نے اپنی قوم کے پاس آکر سنائے تو انہوں ‏نے موسیٰ نبی پر قتل کا الزام لگایا۔نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اس الزام کواللہ نے جبرئیل ؑ کو بھیج کر مٹادیا۔ یہ حدیث حاکم میں جگہ پائی ہے۔ یہ بھی سند یافتہ ‏حدیث ہے۔ 

ان دونوں وجوہات میں حاکم میں جگہ پائی ہوئی حدیث ہی قابل قبول ہے۔ 

کیونکہ اللہ کے رسولوں کی ایمانداری، راست بازی اور شائستگی وغیرہ کو متاثر کر نے والی باتیں رسولوں کی تبلیغ کو بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔کوئی جسمانی ‏نقص تبلیغی کام میں مزاحمت نہیں کر سکتی۔ بعض اللہ کے رسولوں کو کئی قسم کی بیماریاں ہوئی ہیں۔ اس سے ان کی تبلیغی کام متاثر نہ ہوا۔ 

لیکن اللہ کے رسولوں کی نیک نہاد کے خلاف لگانے والی الزام ہی رسالت کے کاموں کو متاثر کر دیتا ہے۔اگر یہ خبر لوگوں میں پھیل جاتا کہ موسیٰ نبی ‏نے قتل کر ڈالا تو ان کی رسالت ہی میں شک پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے اس الزام سے اللہ ان کو بری کر نا ہی اہم ہے۔ 

اس لئے بخاری میں جگہ پائی ہوئی حدیث سے زیادہ حاکم میں جگہ پائی ہوئی حدیث ہی قابل قبول ہے۔ 

More Articles …