Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 9 سورۃالتوبہ ۔ معافی

کل آیتیں 129

اس سورت کی 117 اور 118 ویںآیتوں میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مہاجرین ، پناہ دے کر مدد کر نے والے اور خصوصاً جنگ تبوک میں حصہ نہ لینے والے تینوں صحابیوں کو معاف کردیا۔ چونکہ یہ سورت پوری ہی قوم کو معاف کر دینے کے متعلق سناتی ہے ، اس لئے اس سورت کا نام التوبہ رکھا گیا ہے۔

ہر سورت کے شروعات میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معنی والا جملہ ’’بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے‘‘ درج ہوگا۔ لیکن اس سورت کے شروع میں وہ جملہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے لئے کئی لوگوں نے مختلف وجوہات اور فلسفے بیان کئے ہیں۔ اسلام کے تیسرے صدر مملکت حضرت عثمانؓ جنہوں ننے قرآن کی نقل تیار کی، اس کی وجہ یوں کہتے ہیں :

میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی نوویں اور آٹھویں سورت شاید ایک ہی سورت ہو۔ دونوں سورتیں ایک ہی طرح کے خبریں دیتی ہیں۔ اسی لئے میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم بغیرلکھے چھوڑدیا۔ ا

س کے متعلق وضاحت کر تے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہر ایک سورہ نازل ہو نے کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتبوں کو بلاکر لکھنے کے لئے کہتے۔ وہ یہ بھی کہتے کہ ہر ایک آیت کس سورہ میں جگہ پانا ہے ۔لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ سورتیں دو ہیں یا ایک ہی ہیں۔اس لئے میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم درج نہیں کیا۔ انہوں نے یہی وجہ کہی ہے۔ اس روایت کے ماننے میں کئی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو، اس بات میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا گیا ہے۔

1۔ (اے ایمان والو) تم نے جس سے معاہد کیا ہے ان مشرکوں سے اللہ اور اس کے رسول کے الگ ہو نے کا اعلان ہے۔

2۔ (اے مشرکو!) چار مہینے اس زمین(مکہ) میں گھومو پھرو۔ جان لو کہ اللہ سے تم جیت نہیں سکتے اور اللہ (اس کے ) انکار کرنے والوں کو رسوا کر نے والا ہے۔

3۔ اللہ اور اس کے رسول نے مشرکوں سے دست بردار ہوگئے۔ اس بڑے حج کے دن تمام لوگوں کے لئے یہ اللہ اور اس کے رسول کا اعلان ہے۔اگر تم سدھر گئے تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ تم اللہ سے جیت نہیں سکتے۔دردناک عذاب کے متعلق (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو تنبیہ کردو ۔

4۔ بجز ان مشرکوں کے جن سے تم معاہدہ کئے ہووہ اس (معاہدے )میں تمہیں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہیں کئے ہوں۔ ان کے پاس ان کے معاہدہ کو اس کی مدت تک پورا کرو۔ اللہ (اس سے) ڈرنے والوں کو پسند کرتاہے۔

5۔ پھر جب حرمت والے مہینے 55گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ انہیں پکڑو اور انہیں محاصرہ کرلو۔ ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں رہو۔ اگر وہ اصلاح کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ میں انہیں چھوڑ دو۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے53۔

6۔ مشرکوں میں اگر کوئی تم سے پناہ طلب کرے تو اللہ کا کلام سننے کے لئے اس کو پناہ دو۔ پھر اس کو امن کی جگہ پر پہنچا دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے خبر لوگ ہیں۔

7۔ ان مشرکوں کو اللہ اور اس کے رسول کے پاس معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بجز ان کے جن سے تم نے مسجد حرام میں معاہدہ کیا تھا۔ جب تک وہ تمہارے ساتھ راست بازی سے چلیں تم بھی ان کے ساتھ راست بازی سے چلو۔ اللہ (اس سے) ڈرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

8۔ کیسے (ہو سکتا ہے معاہدہ)؟ اگر وہ تم پر فتح پاجائیں تو تمہاری رشتہ داری اور معاہدے کی وہ پاسداری نہیں کریں گے۔ اپنی منہ سے وہ تمہیں مطمئن کر رہے ہیں۔ ان کے دل سے تو انکار کررہے ہیں۔ ان میں سے اکثر جرم کر نے والے ہیں۔

9۔ وہ لوگ اللہ کی آیتوں کو حقیر قیمت پر بیچ رہے ہیں445۔ اس کی راہ سے روک رہے ہیں۔ وہ لوگ جو کر رہے ہیں بہت برا ہے۔

10۔ ایمان والوں کے معاملے میں رشتہ داری یا عہدو پیمان کا وہ لحاظ نہیں کریں گے۔ وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔

11۔ اگر وہ سدھر جائیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ بھی ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ جاننے والے لوگوں کے لئے ہم دلیلیں واضح کرتے ہیں۔

12۔ معاہدہ کر نے کے بعد اگر وہ اپنا معاہدہ توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنہ زنی کریں تو اس وجہ سے کہ (اللہ کا) انکار کرنے والے سرداروں کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، ان سے جنگ کرو۔ وہ (اپنے رویہ سے) باز آسکتے ہیں53۔

13۔ جنہوں نے اپنے معاہدوں کو توڑ ڈالااور اس رسول (محمد) کو نکال باہر کر نے کا منصوبہ بنایا، وہ لوگ خود ہی (جنگ کر نا) شروع کریں تو کیا تم ان سے لڑوگے نہیں ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو ڈرنے کے لئے اللہ ہی زیادہ مستحق ہے53۔

14۔ ان سے جنگ کرو۔ تمہارے ہاتھوں سے اللہ انہیں سزا دے گا۔ انہیں رسوا کر ے گا۔ ان کے مقابلے میں وہ تمہاری مدد کرے گا۔ ایمان رکھنے والوں کے دلوں کو وہ تسلی دے گا53۔

15۔ ان کے دلوں کا غصہ( وہ) دور کردے گا۔ اللہ جس کو چاہے معاف کر دے گا۔ اللہ جاننے والا ، حکمت والا ہے۔

16۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم یوں ہی چھوڑ دئے جاؤ گے؟کہ اللہ نے بغیر نشاندہی کیے کہ کن لوگوں نے اللہ، اس کے رسول اور ایمان والوں کو چھوڑ کر(دوسری) گہری دوستی 89نہیں بنائی؟ اورتم میں جنگ کرنیوالے کون؟ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

17۔ مشرک لوگ اپنے (اللہ کے) انکار کی وہ خود ہی گواہی دینے کی حالت میں انہیں اللہ کی مسجدوں کا سربراہی کر نا مناسب نہیں۔ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

18۔ اللہ پراور آخرت کے دن1 پرایمان رکھتے ہوئے جو نماز قائم کر تے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا دوسرے کسی سے نہیں ڈرتے وہی لوگ اللہ کی مسجدوں کی سربراہی کرنا چاہئے۔وہی لوگ ہدایت یافتہ ہو سکتے ہیں۔

19۔ کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد حرام کی سربراہی کر نے والوں کو اللہ پر ، آخرت کے دن 1 پر ایمان لاتے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والوں کی طرح سمجھ رہے ہو؟ وہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہوسکتے۔ ظلم کر نے والوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔

20۔ جو لوگ ایمان لائے ، ہجرت460 کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا،وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبے والے ہیں۔وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

21۔ ان کا پروردگار اپنی رحمت، رضامندی اورجنت کے باغات (عطا کر نے) کی خوشخبری دیتا ہے۔ ان کے لئے اس میں دائمی نعمت ہے۔

22۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

23۔ اے ایمان والو! اگر تمہارے والدین اور تمہارے بھائی ایمان سے زیادہ (اللہ کا) انکارپسند کریں تو انہیں اپنا گہرا دوست89 نہ بناؤ۔ انہیں گہرے دوست بنانے والے ہی ظلم کرنے والے ہیں۔

24۔ کہہ دو کہ تمہارے والدین، تمہارے بیٹے، تمہاری شریک حیات، تمہارا خاندان، تمہارے کمائے ہوئے مال، وہ تجارت جس کے نقصان سے تمہیں ڈر ہو، تمہارے پسندیدہ مکانات، یہ سب اگر تمہیں اللہ سے، اس کے رسول سے، اس کی راہ میں جہاد کر نے سے زیادہ محبوب ہو تو اللہ اپنا حکم جاری کر نے تک انتظار کرو۔ جرم کر نے والے لوگوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔

25۔ کئی میدانوں میں اللہ نے تمہیں مدد کی ہے۔ (جنگِ) حنین کے دنوں میں جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز تھا وہ تمہیں کچھ فائدہ نہ دے سکا۔ زمین کشادہ ہو نے کے باوجود وہ تمہارے لئے تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگے۔

26۔ پھر اللہ نے اپنی تسکین اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتاری۔ ایسے لشکر بھی اتارے جو تم نے نہیں دیکھا۔(اسکا) انکار کر نے والوں کو سزا دی۔ یہی انکار کر نے والوں کی سزا ہے۔

27۔ پھر اللہ نے جسے چاہا اس کو معاف کردیا۔ اللہ بخشنے والا،نہایت ہی رحم والا ہے۔

28۔ اے ایمان والو!شرک کرنے والے ناپاک ہیں۔ اس لئے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ جائیں200۔اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اگر اللہ چاہے تو اپنے فضل سے وہ تمہیں بے نیاز کر دے گا410۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

29۔ اہل کتاب میں 27سے جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹہرایا ہے، اسے نہیں روکتے 186اور سچے دین کی پیروی نہیں کرتے، ان سے جنگ کرو 53یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ 201ادا کردیں۔

30۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح92 اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ اس سے پہلے (اللہ کا) انکار کر نے والوں کی باتوں کی نقل کر تے ہیں۔ اللہ انہیں تباہ کر دے گا۔ وہ کیسے رخ پھیرے جا تے ہیں!

31۔ اللہ کے سوا ان لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں ، درویشوں اور مریم کے بیٹے مسیح92 کو اپنا رب بنا لیا459۔ ایک ہی رب کی عبادت کے لئے وہ حکم دئے گئے تھے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔اور وہ ان کی شریک ٹہرائی ہوئی چیزوں سے پاک ہے10۔

32۔ اللہ کی روشنی کو وہ اپنے منہ سے پھونک کر بجھادینا چاہتے ہیں۔ (اس کے) انکار کر نے والے ناپسند بھی کریں تو اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔

33۔ مشرک خواہ نفرت بھی کریں تما م ادیان پر غالب آنے کے لئے سیدھی راہ اور سچے دین کے ساتھ اسی نے اپنے رسول بھیجے۔

34۔ اے ایمان والو! مذہبی پیشوا اور درویشوں میں اکثریت ،لوگوں کے مال غلط طریقے سے کھاتے ہیں۔ اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔ انہیں تنبیہ کرو 139کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کر تے ہوئے سونا اور چاندی جمع کر رکھنے والوں کو دردناک عذاب ہے۔

35۔ اس کو اس دن دوزخ کی آگ میں تپا کر اس سے ان کی پیشانیوں ، پہلوؤں اور پیٹھوں میں داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا کہ) اسی کو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا۔ پس جس کو تم نے جمع کیا ، اس کا مزہ چکھو۔

36۔ آسمانوں507 اور زمین کی پیدائش کے دن سے اللہ کی کتاب 157کے مطابق اللہ کے نزدیک202 مہینوں کی گنتی بارہ ہیں۔ اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں55۔ یہی صحیح راستہ ہے۔ (حرمت والے) مہینوں میں تم اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ مشرک لوگ جس طرح ایک ساتھ مل کر تم سے لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح مل کر ان سے لڑو۔اور جان لو53 کہ اللہ (اس سے) ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

37۔ (مہینے کی حرمت کو)پیچھے ہٹادینا (اللہ کے) انکار میں اضافہ کر نا ہے۔اس کے ذریعے (اللہ کا) انکار کرنے والے گمراہ کئے جاتے ہیں۔ ایک سال اس کی حرمت کو دور کر دیتے ہیں اوردوسرے سال اس کو حرمت والا کر دیتے ہیں۔ اللہ جسے حرمت دی ہے اسکئ تعداد پورا کر نے کے لئے اللہ نے جسے حرمت کی ہے اس کو بغیر حرمت والی بنا دیتے ہیں۔ ان کے بُرے اعمال انہیں خوشنما بنادئے گئے ہیں۔ (اس کے) انکار کر نے والے لوگوں کو وہ راہ نہیں دکھاتا۔

38۔اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ جب کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوجاؤ تو تم اس دنیا کی طرف جھک جاتے ہو۔ کیا آخرت سے زیادہ تم اس دنیا کی زندگی میں اطمینانی محسوس کر رہے ہو؟ آخرت کے مقابلے میں اس دنیا کی آسائش حقیر ہے۔

39۔ اگر تم نہیں نکلے تو وہ تمہیں درد ناک قسم کا سزا دے گا۔ تمہارے بجائے دوسری قوم کو لے آئے گا۔ اس کو تم کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ ہر چیز پر اللہ قدرت والا ہے۔

40۔اگر تم ان (محمد) کی مدد نہ بھی کرو، (اللہ کا) انکار کرنے والے ان کو دونوں میں سے ایک کو باہر بھی کردیں، وہ دونوں غار میں رہتے وقت بھی، جب وہ اپنے ساتھی سے کہا کہ تم فکر نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے، اس وقت بھی اللہ نے ان کی مدد فرمائی ہے۔ اپنی تسکین ان پر اتارا۔ ان لشکروں کے ذریعے ان کو مضبوط کیا جسے تم نے نہیں دیکھا۔ (ا سکے) انکار کرنے والوں کی اصولوں کو پست بنا دیا۔ اللہ کا اصول ہی اعلیٰ ہے۔اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

41۔ (فوجی طاقت) کم بھی ہوں یا زیادہ بھی تم نکلو۔ تمہارے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو203۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے53۔

42۔ (اے محمد!) اگر قریب ملنے والا مال ہوتااور درمیانی سفر ہو تاتو وہ تمہاری پیروی کئے ہوں گے۔ تاہم سفر ان کے لئے تکلیف دہ اور لمبا تھا ۔وہ اللہ پر قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہم سے ممکن ہوتا تو ہم تمہارے ساتھ نکل گئے ہوتے۔ وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کر رہے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

43۔ (اے محمد!) اللہ تم کو معاف کردیا493۔یہ واضح ہونے سے پہلے کہ سچ بولنے والے کون ہیں اور جھوٹوں کو جان لینے سے پہلے تم نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟

44۔ اللہ پر اورآخرت کے دن1 پر ایمان رکھنے والے اپنے مال اور جان سے جنگ میں نہ جانے کے لئے تم سے اجازت طلب نہیں کریں گے۔(اس سے) ڈرنے والوں کو اللہ جانتا ہے۔

45۔جو اللہ اور آخرت کے دن1 پر ایمان نہ رکھتے ہوں وہی اپنے دلوں میں شک کرتے ہوئے تم سے اجازت طلب کریں گے۔ وہ اپنے شک میں سرگرداں ہیں۔

46۔ اگر وہ نکلنا چاہتے تو اس کے لئے کچھ تیاری کئے ہوتے۔ بلکہ ان کے نکلنے کو اللہ نے پسند نہیں کیا۔ اس لئے انہیں سست کروادیا۔ اور کہا گیا کہ جنگ میں نہ جانے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھے رہو۔

47۔ اگر وہ تمہارے ساتھ نکلے ہوتے تو وہ تمہیں بگاڑ کے سوا (دوسرا) کچھ نہیں بڑھاتے۔ فتنہ ڈالنے کے ارادے سے تمہارے درمیان چغل خوری کئے ہوتے۔ تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں۔ظلم کر نے والوں کو اللہ جانتا ہے۔

48۔ (اے محمد!) اس سے پہلے بھی وہ فتنہ پیدا کر نے کا ارادہ کیا۔ الجھنوں کو وہ تمہاری طرف پلٹا دیا۔ آخر میں سچائی ظاہر ہوئی۔ ان کی ناگواری کے باوجود اللہ کا معاملہ غالب رہا۔

49۔ ان میں یہ کہنے والے لوگ بھی ہیں کہ (جنگ میں حصہ نہ لینے کے لئے) مجھے اجازت دو۔ مجھے آزمائش میں نہ ڈالو۔ یاد رکھو! وہ لوگ الجھن میں پڑگئے۔ دوزخ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو گھیرلینے والی ہے۔

50۔ تمہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ انہیں تکلیف دیتی ہے۔ اگر تمہیں کوئی آزمائش ہو تی ہے تووہ یہ کہہ کرکہ (اچھا ہوا) ہم پہلے ہی سے احتیاط میں رہے، خوشی سے واپس چلے جاتے ہیں۔

51۔ کہہ دو کہ اللہ نے ہمارے لئے جو لکھ دی ہے اس کے سوا ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔وہی ہمارا مالک ہے۔ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

52۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ (فتح یا بہادرانہ موت) دو بھلائیوں میں سے ایک کے سوا کیا تم ہمارے لئے کسی اور بات کاانتظار کر تے ہو؟ لیکن ہم تو یہی انتظار کر تے ہیں کہ اللہ اپنے عذاب کے ذریعے یا ہمارے ہاتھوں کے ذریعے تمہیں سزا دے۔تم انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کر تے ہیں۔

53۔ یہ بھی کہو کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے۔ وہ تمہاری طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم جرم کر نے والے لوگ ہو۔

54۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا، سستی سے نماز اد اکی اور(اچھی راہ میں) ناپسندیدگی سے خرچ کی، یہی وجہ ہے ان کے خرچ کئے ہوئے مال ان سے قبول ہونے سے رکاوٹ بن گئی۔

55۔ ان کے مال اور اولاد تمہیں مائل نہ کردے۔اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کے ذریعے اس دنیا کی زندگی میں انہیں سزا دی جائے، اور وہ (اللہ کے) انکار کر نے کی حالت میں ان کی جانیں نکلیں ۔

56۔ اللہ کی قسم کھا کر وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تم سے ملے ہوئے ہیں۔ وہ تم سے ملے ہوئے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ تو ڈرپوک قوم ہیں۔

57۔ کوئی پناہ گاہ یا غار یا سرنگ وہ دیکھیں تو اس کی طرف تیزی سے چلے گئے ہوں گے۔

58۔ صدقات (تقسیم کر نے ) میں تم پر عیب لگا نے والے بھی ان میں ہیں۔ اس میں سے انہیں دیا گیا تو وہ مطمئن ہو تے ہیں۔ اس میں سے اگر انہیں نہیں دیا گیا تو وہ فوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔

59۔ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس پر ر اضی ہوتے ہوئے اگر وہ یہ کہتے (تو بہتر ہوتا)کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ہمیں اس کافضل عطا کر یں گے140۔ ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں

60۔فقیروں کے لئے، مسکینوں کے لئے، ان کے وصول کر نے والوں کے لئے، دلوں کو مانوس کرنے والوں کے لئے204،غلاموں (کے آزاد کر نے والوں) کے لئے، قرضداروں کے لئے، اللہ کی راہ میں205 اور خانہ بدوشوں کے لئے206 ہی صدقات ہیں۔ یہ اللہ کا ٹہرایا ہوا فریضہ ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے130۔

61۔ اس نبی کو ایذا دینے والے بھی ان میں ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جو سنتے ہیںیہ اس پر بھروسہ کر لیتے ہیں۔ کہو کہ تمہیں بھلائی پہنچانے والی باتیں وہ سنتے ہیں۔ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان والوں کے قول پر یقین رکھتے ہیں۔ تم میں سے ایمان رکھنے والوں کے لئے رحمت ہیں۔ اللہ کے رسول کو ایذا دینے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

62۔ تمہیں راضی کر نے کے لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا تے ہیں۔ اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو اللہ اور اس کے رسول ہی راضی کر نے کے مستحق ہیں۔

63۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر نے والوں کو دوزخ کی آگ ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیا انہیں جاننا نہیں چاہئے کہ یہی بہت بڑی رسوائی ہے۔

64۔منافقین ڈرتے ہیں کہ اپنے دلوں میں جو ہے ا س کو ظاہر کر نے والی سورت کہیں ایمان والوں پر نازل نہ ہوجائے ۔ کہہ دو کہ مذاق اڑاؤ۔ جس سے تم ڈر رہے ہو اللہ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔

65۔ ان سے (اس بارے میں) پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی مذاق میں کہہ دئے تھے۔ تم پوچھو کہ کیا اللہ ، اس کی آیتیں اور اس کے رسول کی تم نے ہنسی مذاق اڑارہے تھے؟

66۔ بہانے نہ بناؤ۔ ایمان لانے کے بعد تم نے (ہمارا) انکار کر دیا۔ تم میں سے ایک گروہ کو ہم معاف کربھی دیں تو دوسرے گروہ کو ان کے جرم کی وجہ سے سزا دیں گے۔

67۔ منافق مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ برائی کی حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں۔ (بغیر خرچ کئے) اپنے ہاتھوں کو بند کر لیتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے، اللہ بھی انہیں بھول گیا6۔منافق ہی نافرمان ہیں۔

68۔ منافق مردوں کو ، عورتوں کواور (اس کے) انکار کر نے والوں کو اللہ نے دوزخ کے آگ کی تنبیہ کردی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ان کے لئے کافی ہے۔ انہیں اللہ نے لعنت کردی6۔ انہیں دائمی عذاب ہے۔

69۔ تمہارے اگلوں کی طرح(ہی تم بھی) ہو۔ وہ تم سے زیادہ طاقتوراور مال و اولاد میں بھی تم سے زیادہ تھے۔ وہ اپنے حصے کے خوش نصیبی سے فائدہ اٹھایا۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگ اپنی خوش نصیبی سے جس طرح فائدہ اٹھایا اسی طرح تم بھی تم کو ملی ہوئی خوش نصیبی سے فائدہ اٹھایا۔ (بے کار بحثوں میں) ڈوبے ہوئے لوگوں کی طرح تم بھی ڈوب گئے۔ ان کے عمل اس دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں۔

70۔ ان سے پہلے گزرے ہوئی نوح کی قوم، عاد اور ثمود کی قوم، ابراھیم کی قوم، مدین والے(لوط نبی کی قوم کے ساتھ) اوندھے منہ الٹائے گئے لوگوں کے بارے میں خبریں تمہیں نہیں پہنچیں؟ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر آئے تھے۔ اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہیں تھا۔ بلکہ وہ خوداپنے آپ پر ظلم کررہے تھے۔

71۔ ایمان والے مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نمازقائم کر تے ہیں، زکوٰۃ ادا کر تے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہتے ہیں۔ انہیں لوگوں پر اللہ رحمت فرمائے گا ۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔

72۔ ایمان والے مرد اور عورتوں کے لئے اللہ نے جنت کے باغات کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیشگی کے باغوں میں صاف ستھرے مکانات بھی ہیں۔ اللہ کی رضامندی ہی بہت بڑی چیز ہے۔ یہی اعلیٰ درجے کی کامیابی ہے۔

73۔ اے نبی! (اللہ کا) انکار کر نے والے اور منافقوں سے جہاد کرو۔ ان سے سختی کے ساتھ برتاؤ کرو53۔ ان کی پناہ گاہ جہنم ہے، وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

74۔ اللہ کے انکار کا کلمہ کہنے کے باوجود وہ اللہ پر قسم کھا کر کہتے ہیں کہ (ویسا) نہیں کہا۔ اسلام قبول کر نے کے بعد انکار کردیا۔ حاصل نہ ہو نے والے منصوبے بھی بنائے۔ انہیں اللہ اور رسول نے اس کے فضل سے دولت مند بنا نے کے سوائے (دوسری کسی چیز کے لئے) وہ عیب نہیں لگاتے140۔ اگر وہ اصلاح کر لیں تو وہ ان کے لئے بہتر ہوگا۔ اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ زمین میں ان کا کوئی محافظ یا مددگار نہیں ہوگا۔

75۔ اللہ اپنی مہربانی اگر ہمیں عطا کریگاتو ہم بھی صدقہ کریں گے اور نیک بندے بن جائیں گے ، اس طرح اللہ سے عہد کئے ہوئے لوگ بھی ان میں ہیں۔

76۔ اللہ اپنی مہربانی انہیں عطاکیا تو اس میں وہ بخیلی کر نے لگے۔ بے پرواہی کر تے ہوئے منہ موڑ لیا۔

77۔ اللہ سے کئے ہوئے وعدے کو توڑ نے اور جھوٹ کہتے رہنے کی وجہ سے وہ لوگ اس سے ملنے کے دن تک1 ان کی دلوں میں اللہ نے نفاق جاری کر دیا۔

78۔کیا انہیں جان لینانہیں چاہئے کہ ان کے رازاور گہرے راز بھی اللہ جانتا ہے۔ اللہ غیب کی باتیں بھی جاننے والا ہے۔

79۔ دل کھول کر (نیک راہ میں) خرچ کر نے والے مومنوں پر اور اپنی محنت کے سوا دوسرا کچھ حاصل نہ کر نے والوں پروہ لوگ عیب لگا کر مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے6۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

80۔ (اے محمد!) ان کے لئے مغفرت چاہو یا نہ چاہو ، ان کے لئے تم ستر مرتبہ بھی مغفرت چاہو انہیں اللہ معاف کر نے والا نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا انہوں نے انکار کیا۔ نا فرمان لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔

81۔ اللہ کے رسول (جنگ تبوک میں) جانے کے بعد جنگ میں حصہ نہ لے کر اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے لوگ خوش ہوتے ہیں۔ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جنگ کر نا انہیں پسند نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گرمی میں مت نکلو۔ تم کہو کہ دوزخ کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے۔ کیا وہ لوگ سمجھیں گے نہیں؟

82۔ جو کچھ وہ کر رہے تھے اس کی وجہ سے265 انہیں چاہئے کہ وہ کم ہنسیں اور زیادہ روئیں۔

83۔ (اے محمد!) تمہیں ان میں سے ایک گروہ کی طرف اللہ واپس لائے اور وہ تم سے جنگ میں جانے کے لئے اجازت چاہیں تو کہہ دو کہ تم ہر گز میرے ساتھ نہ نکلو۔میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے جنگ نہ کرو۔جنگ میں شریک نہ ہوکر ٹہرے رہنے ہی کو تم نے شروع میں چاہا تھا۔ پس جنگ میں شریک نہ ہونے والوں کے ساتھ تم بھی ٹہر جاؤ۔

84۔ ان میں مر جانے والے کسی کے لئے تم نمازنہ پڑھاؤ۔ کسی کے قبر پر کھڑے نہ ہوں۔ وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کوماننے سے انکار کردیا۔ اور نافرمانی ہی کی حالت میں مرگئے۔

85۔ ان کے مال اور اولاد تمہیں مائل نہ کردے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے ذریعے انہیں اس دنیا میں سزا دیں اور (اللہ کے) انکارکی حالت ہی میں ان کی جان نکلیں۔

86۔ اللہ پر ایمان لاؤ۔اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو، (اس طرح ) اگر کوئی سورت نازل ہو تو ان میں دولت مند لوگ یہ کہہ کر اجازت چاہتے ہیں کہ جنگ میں شریک نہ ہو کرٹہر جانے والوں کے ساتھ ہم بھی ٹہر جانے کے لئے ہمیں چھوڑ دو۔

87۔ خانہ نشین عورتوں کی طرح رہنے ہی کے لئے انہوں نے پسند کرلیا۔ ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے۔ پس وہ سمجھیں گے نہیں۔

88۔ بلکہ یہ رسول (محمد) اور ان کے ساتھ رہنے والے مومنین اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں۔ انہیں کے لئے بھلائیاں ہیں۔ وہی کامیاب لوگ ہیں۔

89۔ ان کے لئے اللہ نے جنت کے باغات تیار کر رکھے ہیں۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

90۔ دیہاتیوں میں (جنگ میں شریک نہ ہونے ) اپنے لئے اجازت چاہتے ہوئے عذر پیش کر نے والے تمہارے پاس آئے۔ اللہ اور اس کے رسول کے پاس جھوٹ بولنے والے جنگ میں شریک نہ ہوکرٹہر گئے۔ ان میں (اللہ کا) انکار کر نے والونکو دردناک عذاب ہوگا۔

91۔ کمزوروں پر ، بیماروں پر، (نیک راہ میں) خرچ کر نے کے لئے کچھ نہ رکھنے والوں پر اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں تو، کوئی گناہ نہیں۔ نیک عمل کر نے والوں کے خلاف(سزا دینے کے لئے) کوئی راستہ نہیں۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

92۔ (اے محمد!) ان پر بھی کوئی گناہ نہیں جوتمہارے پاس سواری مانگنے کے لئے آئے تھے، جب تم نے کہا کہ تمہیں بھیجنے کے لئے (کوئی سواری)میرے پاس نہیں تو (نیک راہ میں) خرچ کر نے کے لئے کچھ بھی نہ ہونے کی فکر میں آنسو بہاتے ہوئے واپس چلے گئے۔

93۔ سہولت ہو نے کے باوجود تم سے اجازت چاہنے والوں پر ہی (سزا) لائق ہے۔ خانہ نشین عورتوں کی طرح رہنے ہی کے لئے انہوں نے پسند کرلیا۔ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ پس وہ جانیں گے نہیں۔ پارہ : 11

94۔ (جنگ ختم کر کے) جب تم ان کے پاس واپس جاؤ تو وہ بہانہ بنائیں گے۔(اے محمد!) تم کہو کہ بہانہ نہ بناؤ۔ ہم تم پر یقین کر نے والے نہیں۔ تمہاری خبریں اللہ نے ہمیں بتا چکا ہے۔ تمہاری کاروائی کو اللہ اور اس کے رسول بھی جانتے ہیں۔ پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کے پاس لے جائے جاؤگے۔ تم جو کچھ کر رہے تھے وہ تمہیں بتا ئے گا۔

95۔ ان کے پاس جب تم لوٹ کر جاتے ہو تو وہ تمہارے پاس اللہ پر قسم کھائیں گے تاکہ تم ان کو چھوڑدیں۔ انہیں چھوڑ دو۔ وہ ناپاک ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یہ ان کے کاموں کی سزا ہے265۔

96۔تم ان سے راضی ہوجا نے کے لئے وہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہیں۔ تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو نافرمان لوگوں سے اللہ راضی نہیں ہوگا۔

97۔ دیہاتی لوگ (اللہ کے) انکار کر نے میں اور منافقت میں بہت سخت ہیں۔ اللہ نے اپنے رسول پر نازل کردہ حدود سے وہ بے خبر رہنا ہی ان کے لئے لائق ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

98۔ وہ جو خرچ کر تے ہیں اس کو نقصان دہ سمجھنے والے بھی ان دیہاتیوں میں ہیں۔ وہ تمہارے لئے آزمائشوں کا انتظار کر تے ہیں۔ انہیں کے لئے بری مصیبت ہے۔اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے،

99۔ دیہاتیوں میں اللہ پر اور آخری دن1 پر ایمان لانے والے بھی ہیں۔ وہ جو خرچ کر تے ہیں اس کو اللہ کا قرب حاصل کر نے کا ذریعہ اور اس رسول (محمد) کی دعا کا سبب سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو! وہ انہیں (اللہ کا) قربت دلانے والا ہے۔ اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

100۔ مہاجر460 اور انصار میں سب سے پہلے سبقت لے جانے والوں اور نیک کاموں میں ان کا پیچھا کر نے والوں سے501 اللہ راضی ہوگیا۔وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے۔اللہ نے ان کے لئے جنت کے باغات تیا ر کر رکھا ہے، جن کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

101۔ تمہارے اردگرد رہنے والے دیہاتیوں میں اور مدینہ والوں میں منافقین ہیں۔ وہ لوگ منافقت میں اڑے ہو ئے ہیں۔ (اے محمد!) تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم ہی انہیں جانتے ہیں۔ ہم انہیں دو بار سزا دیں گے۔ پھر وہ سخت عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔

102۔ اور بعض لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ نیک کام کودوسرے برے کام سے ملا دئے۔انہیں اللہ معاف کردے۔ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

103۔ (اے محمد!) ان کے مالوں میں سے صدقہ لو۔ اس کے ذریعے سے انہیں پاک کر و اور ان کا تزکیہ کرو۔ ان کے لئے دعا کرو۔ تمہاری دعا ان کو اطمینان بخشے گی۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔

104۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے، ان کے صدقات قبول کرلیتا ہے اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

105۔ کہہ دو کہ(جو کرنا ہے) کرو۔تمہارے کاموں کو اللہ، اس کا رسول اور ایمان والے جانتے ہیں۔ چھپی اور کھلی چیزوں کے جاننے والے کے پاس تمہیں لے جا یاجائے گا۔ تم جو کر رہے تھے اس کو وہ تمہیں بتلادے گا۔

106۔ اورکچھ لوگ اللہ کے حکم کے لئے منتظر رکھے گئے ہیں۔ اللہ انہیں سزا دے سکتاہے یا معاف کرسکتا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

107۔ نقصان پہنچانے کے لئے، (اللہ کا) انکار کر نے کے لئے، مومنوں کے درمیان نفاق پیدا کرنے کے لئے، اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں جنگ کر نے والوں کو پناہ دینے کے لئے ایک مسجد بنانے والے قسم کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

108۔ تم اس میں کبھی عبادت نہ کرو۔اول دن سے تقوے کی بنیاد پر تعمیر کی گئی مسجد ہی تمہاری عبادت کے لئے موزوں ہے۔ اس میں پاکیزگی کے چاہنے والے مرد رہتے ہیں418۔ اور پاک رہنے والوں کواللہ پسند کر تا ہے۔

109۔اللہ سے متعلق خوف پراور اس کی رضامندی پر اپنی عمارت کو جو تعمیر کیا وہ شخص بہتر ہے یا کھوکھلے اور گرنے والی عمارت کو کھائی کے کنارے پر تعمیر کر کے اس کے ساتھ جہنم میں گرنے والا وہ شخص بہتر ہے؟ ظلم کر نے والے لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ 110۔ سوائے ان کے دل پھٹ کر منتشر ہوجائے ،ان کی بنائی عمارت ان کے دلوں میں موجود شک کی علامت کے طور پر ہمیشہ رہے گی۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

111۔اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لی۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں53۔ وہ قتل بھی کر تے ہیں اور قتل کئے بھی جاتے ہیں۔یہ تورات، انجیل491 اور قرآن میں اس نے اپنے اوپر فرض کیا ہوا عہد ہے۔ اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ تمہارے معاہدے کی اس تجارت میں خوش ہوجاؤ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

112۔ (وہ) توبہ کر نے والے ہیں ، عبادت کر نے والے ہیں، (اللہ کی) حمد کر نے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، رکوع کر نے والے ہیں، سجدہ کر نے والے ہیں، نیکی کی دعوت دینے والے ہیں، برائی کو روکنے والے ہیں، اللہ کے حدود کی حفاظت کر نے والے ہیں۔ (ایسے) مومنوں کوخوشخبری سنادو۔

113۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شرک کر نے والے جہنمی ہیں ، وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ان کے لئے مغفرت چاہنا ایمان والوں کے لئے اور اس نبی (محمد) کے لئے مناسب نہیں ہے247۔

114۔ ابراھیم اپنے والد کے لئے مغفرت چاہنا بھی وہ اپنے والد کو دئے ہوئے وعدے کے سبب تھا۔ جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تووہ اس سے ہٹ گئے247۔ ابراھیم نرم دل اور بردبار تھے۔

115۔ اللہ کسی قوم کو سیدھی راہ دکھانے کے بعد جن سے وہ بچناہے ان باتوں کو واضح کر نے تک وہ انہیں گمراہی میں نہیں چھوڑتا۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

116۔ آسمانوں507 اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ زندہ کر تا ہے، اور موت بھی دیتا ہے۔ اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار۔

117۔ اللہ نے اس نبی کو، مہاجرین460 اور انصار کو معاف کردیا۔ ان میں ایک گروہ کے دل راستہ بدلنے کی کوشش کر نے کے باوجود تنگئی کے وقت پر ان کی پیروی کرنے والوں کو بھی معاف کردیا۔ وہ ان پر بڑی شفقت والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

118۔ جن تینوں210 کا فیصلہ ملتوی کیا گیا تھا (انہیں بھی اللہ نے معاف کیا)۔ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان کے حق میں تنگ ہوگئی۔ ان کے دل بھی تنگ ہوگئے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ سے (بچنے کے لئے) اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ پھر وہ سدھر نے کے لئے انہیں بھی معاف کیا۔ اللہ توبہ قبول کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

119۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

120۔ اللہ کے رسول کے ساتھ مل کر جنگ میں شامل ہوئے بغیر ٹہر جانا، ان کی جان سے زیادہ اپنی جانوں کو چاہنا مدینہ والوں کو اور اس کے ارد گرد رہنے والے دیہاتیوں کو روا نہیں53۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں انہیں پیاس، مشقت اور بھوک پہنچتی ہو، (اللہ کے) انکار کر نے والوں کو ناراض کر نیوالے جگہ پر وہ قدم رکھیں ، دشمنوں سے ایک حملہ پائیں توایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے انہیں ایک نیک عمل درج نہ کیا جائے۔اللہ نیک عمل کر نے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

121۔ وہ تھوڑا یا زیادہ جو بھی(نیک راہ میں) خرچ کریں، یا کوئی وادی طے کریں تو جو کچھ بھی وہ کر تے ہیں اس نیکی کے بدلے انعام دینے کے لئے اللہ اس کو درج کئے بغیر نہیں رہتا۔

122۔ ایمان والے سب مل کر ایک ساتھ نہ نکلیں۔ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ان میں ہر ایک گروہ سے ایک جماعت دین سیکھنے کے لئے اور جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں تو انہیں تنبیہ کر نے کے لئے نکل کھڑے ہوں؟ وہ (اس کے ذریعے اپنی غلطیوں سے) دور ہوجائیں گے211۔

123۔ اے ایمان والو! تمہارے آس پاس کے (اللہ کا) انکارکر نے والوں سے جنگ کرو53۔ تمہاری شدت کو وہ دیکھیں۔ اور جان لو کہ اللہ (اس سے) ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

124۔ جب کوئی سورت نازل ہو تی ہے تو ان میں سے بعض پوچھتے ہیں کہ یہ تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا؟ ایمان والوں کے ایمان کو یہ زیادہ کیا ہے۔ وہ خوش ہو تے ہیں۔

125۔ لیکن جن کے دل میں روگ ہے ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی کو وہ بڑھا دی۔ وہ لوگ (اللہ کا) انکار کرتے ہوئے ہی مرے۔

126۔ کیا وہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ ہر سال ایک مرتبہ یا دو مرتبہ آزمائش484 میں ڈالے جاتے ہیں؟پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے، عبرت بھی حاصل نہیں کرتے۔

127۔ جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں،(یہ کہتے ہوئے کہ) کیا تمہیں کوئی دیکھ رہا ہے؟ پھرلوٹ جاتے ہیں ۔وہ لوگ نا سمجھ ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں کو اللہ نے پھیر دیا۔

128۔ تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول (محمد) آگئے۔ تمہاری تکلیف ان پر گراں گزریگا، تم پر وہ زیادہ ہمدرد ہیں۔ ایمان والوں پر شفیق اور نہایت ہی رحم والے ہیں۔

129۔ اگر وہ روگردانی کریں تو کہدو کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اسی پر میں بھروسہ کر تا ہوں۔ وہی بڑے عرش488 کا مالک ہے۔

سورہ : 10سورۃ یونس ۔ ایک رسول کا نام

کل آیتیں : 109

اس سورت کی 98۔ویں آیت میں یونس نبی کے نہ ماننے والے لوگ اللہ کے عذاب کو دیکھنے کے ساتھ سدھر کر اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے وہ سزا سے بچ گئے، یہ خبر اس میں پائی ہے اس لئے اس سورت کا نام یونس رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ الف، لام، را2۔ یہ پُر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔

2۔ کیا ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص پر وحی بھیجی کہ لوگوں کو خبر دار کرو۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دو کہ ان کے نیک اعمال (کا بدلہ) ان کے رب کے پاس ہے؟ (ہمارا) انکار کر نے والے357 کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو گر285 ہے۔

3۔ تمہارا رب اللہ ہی ہے۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا179۔ پھر عرش488 پر بیٹھا۔ہر کام کا اہتمام کر تا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی17 نہیں ۔ وہی اللہ ہے، تمہارا رب۔ اس کی عبادت کرو۔ کیا تم عبرت حاصل نہیں کروگے؟

4۔ تم سب کا لوٹنا اسی کی طرف ہے۔ (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ اسی نے ابتدا میں پیدا کیا۔ پھر ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کے اجر انصاف کے ساتھ دینے کے لئے دوبارہ پیدا کر تا ہے۔ (اللہ کے) انکار کر نے والوں کو ان کی انکار کی وجہ سے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔

5۔ سالوں کی گنتی اور (زمانے کا) حساب معلوم کر نے کے لئے اسی نے سورج کو تاب ناک اور چاند کو نور انی بنایا۔ چاند کی کئی منزلیں مقرر کیں۔ مناسب وجہ ہی سے اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ جاننے والی قوم کے لئے وہ اپنی آیتوں کو واضح کر تا ہے۔

6۔ رات اور دن بدل بدل کر آنے میں اور اللہ نے آسمانوں507 اور زمین کو پیدا کر نے میں (اللہ سے) ڈرنے والی قوم کے لئے مناسب دلیلیں ہیں۔

8,7۔ ہماری ملاقات488 کی امید نہ رکھتے ہوئے اس دنیوی زندگی ہی سے مطمئن ہو کراسی میں سکون حاصل کر نے والے ، ہماری آیتوں کو جھٹلا نے والے (برائی) کرتے رہنے کی وجہ سے265 ان کا ٹھکانا جہنم26 ہوگا۔

9۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے ایمان کی وجہ سے اللہ انہیں نعمت بھری جنت کے باغوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہوں گی۔

10۔ وہاں ان کی دعا یہی ہوگی کہ اے اللہ! تو پاک ہے10۔ سلام159 ہی وہاں ان کی مبارک بادی ہوگی۔ ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سارے جہاں کا رب اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں۔

11۔ جس طرح لوگ بھلائی کے لئے جلدی کر تے ہیں ان کے معاملے میں برائی پہنچا نے کے لئے اللہ اگر جلد بازی کرتا تو ان کی مدت پوری ہوچکی ہوتی۔ ہماری ملاقات488 کی امید نہ رکھنے والوں کوان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔

12۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہم سے دعا کر نے لگتا ہے۔ اس کی تکلیف کو جب ہم دور کر تے ہیں تو وہ اس طرح چلنے لگتا ہے گویاکہ وہ اس کی تکلیف کے لئے ہمیں پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کو ان کے اعمال خوشنما بنا دئے گئے ہیں۔

13۔ تم سے پہلے ظلم کر نے والے کئی نسلوں کوہم نے ہلاک کردیا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے۔ وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔

14۔یہ دیکھنے کے لئے کہ ان کے بعد تم کس طرح عمل پیرا ہوتے ہو، ہم نے تمہیں زمین میں جانشین46 (خلیفہ )بنا دیا۔

15۔ انہیں جب ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو جو ہماری ملاقات488 کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اس کے بجائے دوسری قرآن لے آؤ، یا اس کو تبدیل کرو۔ (اے محمد!) تم کہدوکہ مجھے اپنی طرف سے اس کو تبدیل کر نے کی اختیار نہیں ہے۔جو مجھے وحی کی جاتی ہے اس کے سوا کسی بات کی میں پیروی نہیں کرتا ۔ اگر میں میرے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن1 کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

16۔ (اے محمد!) تم کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم کو نہ سناتا۔ وہ بھی تمہیں نہ سنایا ہوگا۔ میں تمہارے ساتھ کئی سال گزار چکا ہوں212۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟

17۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے ،یا اس کی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں سے زیادہ بڑا ظالم کون ہوگا؟ مجرم لوگ کامیاب نہیں ہوں گے۔

18۔ اللہ کے سوا وہ لوگ ایسوں کی عبادت کر تے ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ۔اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس ہماری سفارش 17کر نے والے ہیں213۔تم کہو کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جو آسمانوں اور زمین میں وہ جانتا نہیں؟ وہ پاک ہے10، ان لوگوں کی شرک سے وہ بر تر ہے۔

19۔ سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا۔ تمہارے رب کی طرف سے تقدیر سبقت نہ کرتی تو جس بات میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا۔

20۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے ان پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اے محمد!) تم کہو کہ غیب کی باتیں تو اللہ ہی کے لئے ہیں۔ تم بھی انتظار کرو ، تمہارے ساتھ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔

21۔ لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں میں سازش کر نے لگتے ہیں۔ تم کہو کہ اللہ تو بہت تیزی سے چال چلنے والا ہے6۔ ہمارے رسولیں 161(فرشتے) تمہاری چالوں کو لکھ رہے ہیں۔

22۔ سمندر اور زمین میں وہی تمہیں سفر کراتا ہے۔ تم کشتی میں ہو تے ہو ۔ موافق ہوا انہیں لے چلتی ہے۔ جب وہ خوش ہو تے ہیں تو طوفانی ہوا ان کے پاس آتی ہے۔ ہر ایک جگہ سے ان کے پاس موج بھی آتی ہے۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ گھیرے میں آگئے۔ جب وہ عبادت کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے دعا کر نے لگتے ہیں کہ ا گرتم نے اس سے ہمیں بچالیا تو ہم شکر گزار بن جائیں گے۔

23۔ انہیں جب وہ بچاتا ہے تو وہ ناحق زمین میں فساد کر نے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمہاری سرکشی تمہارے ہی خلاف ہے۔ اس دنیوی زندگی میں کچھ سہولتیں ہیں۔ پھر تمہارا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ جو کچھ تم کر رہے تھے اس وقت تم کو بتا دیں گے۔

24۔ اس زندگی کی مثال ہم آسمان سے برسانے والے پانی کی مانند ہے۔ آدمی اور چوپائے کھانے والے زمین کی نباتات کے ساتھ وہ ملتا ہے۔ آخر میں زمین رونق پا کر پرکشش بن جاتی ہے۔ اس کے حقدارجب سمجھنے لگے کہ اس پر وہ قدرت رکھتے ہیں تو ہمارا حکم رات یا دن میں اس (زمین) کو ملتی ہے۔ تو فوراً ہم اسے کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنا دیتے ہیں گویا کہ کل وہ وہاں تھا ہی نہیں۔ غورو فکر کرنے والی قوم کے لئے ہم اسی طرح دلیلیں واضح کر تے ہیں۔

25۔ اللہ سلامتی کے گھرکی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔

26۔ نیک عمل کر نے والوں کو نیکی ہے (اور اس سے) زیادہ بھی ہے۔ ان کے چہروں پر سیاہی یا ذلت نہیں چھائے گی۔ وہی جنتی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

27۔ برائی کر نے والوں کو اللہ سے بچانے والاکوئی نہیں ہوگا۔ ایک برائی کی سزا اس جیسی ہی ملے گی۔ انہیں ذلت گھیر لے گی۔گویا کہ اندھیریاں 303چھائی ہوئی رات کا ایک حصہ ان کے چہروں کو ڈھانکا ہوا ہے۔ وہی جہنمی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

28۔ ان سب کو ایک ساتھ جمع کر نے والے دن مشرکوں سے ہم کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی ہی جگہ پر کھڑے رہو۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق ڈال دیں گے۔ ان کے معبود کہیں گے کہ تم ہماری عبادت کئے ہی نہیں۔

29۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کے لئے اللہ ہی کافی ہے ۔ تم جو (ہماری) عبادت کئے تھے اس سے ہم بے خبر تھے۔

30۔ وہیں پر ہر ایک اپنے کئے کا انجام دیکھ لے گا۔ ان کے حقیقی مالک اللہ کے پاس وہ لے جائے جائیں گے۔ وہ جو کچھ تصور کر رہے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے۔

31۔ کہو کہ آسمان اور زمین سے تمہیں رزق دینے والاکون ہے463؟ سننے اور دیکھنے کی قوت کو اپنے قبضہ میں رکھنے والا کون ہے؟ بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو ظاہر کر نے والا کون ہے؟ تمام معاملات کا انتظام کر نے والا کون ہے؟ وہ کہیں گے کہ اللہ۔ تم پوچھو کہ کیا تم نہیں ڈروگے؟

32۔ وہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟ تم کس طرح رخ پھیرے جا تے ہو؟

33۔ تمہارے رب کا یہ قول کہ وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں، نافرمانوں پر اس طرح ثابت ہوگیا۔

34۔پوچھو کہ تمہارے معبودوں میں پہلی پیدا کر نے والااور دوبارہ بھی پیدا کر نے والا کوئی ہے؟ کہو کہ اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کر تاہے اور دوبارہ بھی پید اکر تا ہے۔ تم کس طرح رخ پھیرے جا رہے ہو؟

35۔ پوچھو کہ تمہارے معبودوں میں سچائی کی طرف راہ دکھانے والا کوئی ہے؟ کہو کہ اللہ ہی سچائی کی راہ دکھاتا ہے۔ کیا سچائی کی راہ دکھانے والا اتباع کے لائق ہے یا سوائے دوسرے راستہ دکھانے کے جو خود چلنا نہ جانتا ہو وہ اتباع کے لائق ہے؟ تمہیں کیا ہوگیاہے؟ تم کیسے فیصلہ کر تے ہو؟

36۔ ان میں اکثر لوگ قیاس کے سوا پیروی نہیں کرتے؟ قیاس کبھی سچائی سے بے نیاز نہیں کرسکتی۔ وہ جو کر تے ہیں اسے اللہ جانتا ہے۔

37۔ یہ قرآن اللہ کے سوا کسی غیر کی طرف سے گھڑی ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اپنے سے پہلے گزری ہوئی 4کی تصدیق کر نے والی اور وضاحت کر نے والی کتا ب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ سارے جہاں کے رب کی طرف سے آیا ہے۔

38۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے گھڑلیا ہے؟ (اے محمد!) تم کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے کرآؤ۔ اللہ کے سوا تم سے جتنا ہو سکے ان سب کومدد کے لئے بلا لو7۔

39۔ انہیں پوری آگاہی نہیں ہے اور حقیقت بھی کھلی نہیں ہے، اس لئے وہ اس کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی اسے جھوٹ سمجھا تھا۔ غور کرو کہ ظلم کر نے والوں کا انجام کیا ہوا؟

40۔ ان میں اس (قرآن) کو ماننے والے بھی ہیں۔ اس کو نہ ماننے والے بھی ہیں۔ فساد کرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔

41۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو کہہ دو کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں اس سے تم بری ہو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بری ہوں۔

42۔ تمہارے قول کو کان لگا کر سننے والے بھی ان میں ہیں۔ اگر وہ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں تو کیا تم بہروں کو سنا ؤگے؟

43۔ تمہیں دیکھنے والے بھی ان میں ہیں۔ اگر وہ دیکھتے نہ ہوں تو کیا تم اندھے کو راستہ دکھاؤگے81؟

44۔ اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

45۔ جس دن1 وہ انہیں اٹھائے گا تو وہ ایک دوسر ے کی طرف اس طرح دیکھیں گے کہ دن میں وہ تھوڑی ہی دیر کے لئے (زمین میں) رہے تھے۔ اللہ کی ملاقات488 کو جھوٹا سمجھنے والے نقصان اٹھا نے والے ہوگئے۔ وہ سیدھی راہ حاصل نہیں کئے۔

46۔ (اے محمد!) ہم جس سے انہیں خبردار کر تے ہیں اس کا کچھ حصہ اگر تمہیں دکھائیں یا تمہیں وفات دیں تو ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ پھر ان کے افعال پر اللہ گواہ ہے۔

47۔ ہر قوم کے لئے ایک رسول ہے214۔ ان کا رسول آنے کے ساتھ ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

48۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہوتو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟

49۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اللہ کے مرضی کے سوا میں خود اپنی ذات پر نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ ہرامت کے لئے ایک وقت مقررہ ہے۔ جب وہ مقررہ وقت آجا تا ہے تو ایک گھڑی پیچھے بھی نہ جا سکیں گے ، آگے بھی نہ جا سکیں گے۔

50۔ تم کہو کہ اگر اس کا عذاب رات میں یا دن میں تم پر آجائے (تو کیا ہوگا) اس کا جواب دو اور مجرم لوگ کیوں جلدی کر رہے ہیں؟

51۔ کیا وہ واقع ہونے کے بعد تم مانوگے؟ (کہا جائے گا کہ) کیا اب (تم مانوگے)؟تم تواسی کو جلدی سے تلاش کر رہے تھے؟

52۔ پھرظلم کر نے والوں سے کہا جائے گا کہ ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ تم جو کرتے تھے اس کے سوا کیا (دوسرے کسی کے لئے) تم سزا دئے جا رہے ہو265؟

53۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ(آخرت) سچ ہے؟ تم کہو کہ ہاں! میرے رب کی قسم! وہ واقعی سچ ہے۔ (اللہ سے) تم جیت نہیں سکتے۔

54۔ ظلم کرنے والے ہر ایک کے پاس زمین کی تمام چیزیں بھی خاص ہوں تو اس کو وہ فدیہ کے طور پر دے دیں گے۔عذاب کو دیکھتے ہی دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔ ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

55۔ یاد رکھو! آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ یاد رکھو! اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پھر بھی اکثر لوگ جانتے نہیں۔

56۔ وہی زندہ کر تا ہے اور موت دیتا ہے۔ اسی کے پا س واپس لائے جاؤگے۔

57۔ اے لوگو! تمہیں تمہارے رب کی طرف سے نصیحت، دلوں کی بیماریوں کے لئے شفاء اور ایمان لانے والوں کے لئے راہنمائی اور رحمت آپہنچی ہے۔

58۔ کہہ دو کہ اللہ کی رحمت اور شفقت ہی سے وہ لوگ خوش ہوں۔ جو وہ جمع کر رہے ہیں اس سے یہ بہتر ہے۔

59۔ کہو کہ اللہ نے تمہارے لئے رزق اتارا۔ اس میں حرام اور حلال تم خود ہی بنالئے ہو۔ اور پوچھو کہ کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی تھی یا اللہ پر تم جھوٹ باندھ رہے ہو؟ اس کا جواب دو۔

60۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے قیامت کے دن 1 کے بارے میں کیا خیال کر تے ہیں؟ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ پھر بھی اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

61۔ (اے نبی!) اگر تم کسی کام میں ہو، قرآن سے کوئی بات تم سنارہے ہو، (اے لوگو!) جو بھی کام تم کرتے ہو، اس میں جب تم مشغول ہو تے ہو تو ہم تمہاری نگرانی کئے بغیر نہیں رہتے۔ زمین اور آسمانوں 507میں ایک ذرہ یا اس سے بھی چھوٹی چیز تمہا ر ے رب سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ (وہ ایک) واضح کتاب میں157 درج کئے بغیر نہیں ہے۔

62۔ یاد رکھو! اللہ کے دوستوں کو کوئی ڈر ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے215۔

63۔ وہ لوگ (اللہ پر ) ایمان رکھتے ہیں اور (اس سے) ڈرنے والے ہوتے ہیں۔

64۔ اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں انہیں خوشخبری ہے۔ اللہ کے احکام میں155 کوئی تبدیلی نہیں30 ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

65۔ ان کے قول تمہیں غمگین نہ کردیں۔ تمام تر تعظیم اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔

66۔ یاد رکھو! آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے اللہ ہی کے ہیں۔ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کو پکارنے والے کس کی پیروی کر تے ہیں؟ وہ لوگ تو قیاس ہی کی پیروی کر تے ہیں۔وہ تصور ہی کر نے والے لوگ ہیں۔

67۔ اسی نے رات کو تمہارے لئے سکون حاصل کر نے کے لئے اور دن کو روشن بنایا۔ سننے والی قوم کے لئے اس میں دلیلیں ہیں۔

68۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنالیا ہے۔ اس کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ وہ پاک ہے10، وہ بے نیاز ہے485۔جو کچھ آسمانوں507 اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ کیا تم اللہ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔

69۔ کہہ دو کہ اللہ پر جھوٹ گھڑ نے والے کامیاب نہیں ہوسکتے۔

70۔ اس دنیا میں تھوڑی ہی سہولتیں(ان کے لئے ہیں)۔ ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ وہ (ہمارا) انکار کرتے رہنے کی وجہ سے انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

71۔ نوح کی تاریخ(قصہ) انہیں سناؤ۔ انہیں یاد دلاؤ جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! میرا رہنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا اگر تمہیں گراں گزرتا ہوتو میں اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ تمہارے منصوبے اور تمہارے معبودوں کو جمع کرلو۔ پھر تمہارا منصوبہ تمہارے لئے پوشیدہ نہ رہے۔ پھر میرے معاملے میں فیصلہ کرواور مجھے مہلت بھی نہ دو۔

72۔ (یہ بھی کہا کہ) اگر تم جھٹلاتے ہو( تو مجھے کوئی غم نہیں)، میں تو تمہارے پاس کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان295 بن کر رہوں۔

73۔ ان لوگوں نے انہیں جھوٹا سمجھا۔ پس ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ کشتی میں رہنے والوں کو بچالیا222۔ انہیں جانشین(خلیفہ) 46بنایا۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کو غرق کردیا۔ غور کرو کہ تنبیہ کئے ہوئے لوگوں کا انجام کیا ہوا؟

74۔ ان کے بعد کئی رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا۔ وہ ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے۔وہ پہلے ہی جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے وہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ حد سے بڑھ جانے والوں کے دلوں پر ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں۔

75۔ ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے تکبر کیا۔ وہ مجرم قوم تھے۔

76۔ جب ہماری طرف سے حقیقت آئی تو کہنے لگے357 کہ یہ تو کھلا جادو 285ہے۔

77۔ موسیٰ نے کہا357 کہ حقیقت تمہارے پاس آگئی ہے تو کیا تم اس کو جادو کہتے ہو؟ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے285۔

78۔ انہوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے باپ داداؤں کو ہم نے جس میں پایا ہے اس سے ہمیں پھیردیں اور اس دنیا میں تم دونوں کو بڑائی حاصل ہوجائے؟ تم دونوں کو ہم ماننے والے نہیں۔

79۔ فرعون نے کہا کہ ہر ماہر جادو گر کو میرے پاس لے آؤ۔

80۔ جب جادوگر سب آگئے تو موسیٰ نے کہا کہ (تمہارے شعبدوں میں سے) جو ڈالنا ہے وہ ڈال دو۔

81۔ جب انہوں نے (اپنا کرتب) ڈالا تو موسیٰ کہنے لگے کہ تم جو لائے ہو وہ جادو ہے357۔ اللہ اس کو برباد کر دے گا۔ فسادیوں کے کام کو اللہ غالب ہو نے نہیں دیتا۔

82۔ مجرم لوگ نفرت بھی کریں تو اللہ اپنے احکام 155 کے ذریعے حق کو قائم کر ے گا۔

83۔ فرعون اور اس کے درباری کہیں انہیں تکلیف نہ پہنچائے ،اس ڈر سے ان کی قوم کے چند افراد کے سوا دوسرے کوئی موسیٰ پر ایمان نہیں لائے۔ کیونکہ اس زمین میں فرعون طاقتور اور سرکش تھا۔

84۔ موسیٰ نے کہا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور مسلمان295 ہو تو اسی پر بھروسہ کرو۔

85۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔اے ہمارے پروردگار! ظالم قوم کے ظلم و ستم کو ہمیں نشانہ نہ بنا۔

86۔ (یہ بھی کہا کہ) تم اپنی رحمت سے (تیرے ) انکار کر نے والی قوم سے ہمیں بچالے۔

87۔ موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف ہم نے وحی کی کہ تم دونوں تمہاری قوم کے لئے شہر مصر میں گھر تعمیر کرو۔ اپنے گھروں کو ایسا بناؤ کہ وہ ایک دوسر ے کے آمنے سامنے رہے216۔نماز قائم کرو اور مومنوں کو خوشخبری سناؤ۔

88۔ موسیٰ نے کہا کہ اے ہمارے رب! فرعون اور اس کے درباریوں کو اس دنیا کی زندگی میں تو نے زینت اور دولت عطا کی ہے۔ اے ہمارے رب!یہ تیرے راستے سے انہیں گمراہ کر نے کے لئے ہی ( فائدہ مند) ہے۔اے ہمارے رب! ان کے مال و دولت کو برباد کرکے ان کے دلوں کو سخت بنادے۔ جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

89۔ (اللہ نے) کہا کہ تم دونوں کی دعائیں قبول کر لی گئیں۔ دونوں ثابت قدم رہو۔ تم دونوں جاہلوں کے راستے کی پیروی نہ کرو۔

90۔ بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر پار کرایا۔ فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی سے انہیں پیچھا کیا۔ آخر جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ بنی اسرائیل نے جس پر ایمان لائے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، اور میں مسلمانوں میں 295 سے ہوں۔

91۔ کیا اب (تم ایمان لاؤگے)؟ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کر نے والوں میں سے تھا384۔

92۔ (ہم نے کہا کہ) تیرے بعد آنے والوں کو ایک نشان بن کے رہنے کے لئے ہم تجھے تیرے جسم کے ساتھ حفاظت کر یں گے217۔ لوگوں میں اکثر ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہی ہیں۔

93۔ بنی اسرائیل کو ہم بہترین سر زمین میں ٹھکانا دیا۔ پاکیزہ چیزیں انہیں عطا کیا۔ ان کے پاس علم آنے تک وہ اختلاف نہیں کئے۔ تمہارا رب قیامت کے دن1 ان کے درمیان ان کے اختلاف میں فیصلہ کر ے گا۔

94۔ (اے محمد!) جو ہم نے تم پر اتاری ہے اگر اس میں تمہیں شک ہوتو تم سے پہلے کی کتاب 4پڑھنے والوں سے پوچھو۔ تمہارے رب ہی کی طرف سے یہ سچائی تمہارے پاس آئی ہے۔ تم شک کر نے والوں میں سے نہ ہوجا نا218۔

95۔ اللہ کی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں میں نہ ہوجاؤ۔ ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤگے۔

97,96۔ جن کے خلاف تمہارے رب کا حکم ثابت ہوچکا ہے ان کے پاس کسی قسم کی دلیلیں بھی آجائیں وہ لوگ درد ناک عذاب دیکھنے تک ایمان نہیں لائیں گے26۔

98۔ (آخری وقت میں) ایمان لا ئے، وہ ایمان یونس کے قوم کو نفع پہنچانے کے سوا دوسری بستیاں بھئ کاش ہوتا219 وہ جب ایمان لائے تو ہم نے اس دنیا کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کو ان سے دورکیا384۔ اور انہیں ایک خاص مدت تک سہولت عطا کی۔

99۔ (اے محمد!) اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب ایک ساتھ ایمان لائے ہوتے۔ کیا تم لوگوں کو مومن ہو نے کے لئے زبردستی کر رہے ہو؟

100۔ اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی ایمان لا نہیں سکتا۔ اس کی سمجھ نہ رکھنے والوں کو وہ عذاب دے گا۔

101۔ کہہ دو کہ آسمانوں507 اور زمین میں جوکچھ ہے اس پر غور کرو۔ ایمان نہ لانے والے لوگوں کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔

102۔کہہ دو کہ اس سے پہلے جو گزر گئے ان پر جو تکلیفیں پہنچیں اس کے سوا وہ کیا (دوسرا کچھ) انتظار کرتے ہیں؟ انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر تا ہوں۔

103۔ پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو بچالیا۔ ایمان والوں کو اس طرح بچالینا ہمارا ذمہ ہے۔

104۔ کہہ دو کہ اے لوگو! تم اگر میرے دین میں شک میں ہوتو (مجھے اس کی پرواہ نہیں)۔ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہوان کی میں عبادت کر نے والا نہیں۔ بلکہ تمہیں اپنے قبضہ میں کر نیوالے اللہ ہی کی عبادت کروں گا۔ اور مجھ کو حکم ہوا ہے کہ میں ایمان والا رہوں۔

105۔ سچائی کی راہ پر قائم رہتے ہوئے اس دین کی طرف اپنی توجہ فرماؤ۔شر ک کرنے والے نہ بنو۔

106۔ اللہ کے سوا تمہیں نفع یا نقصان نہ پہنچانے والے سے دعا نہ مانگو۔ (اگر ایسا )کروگے توتم ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔

107۔ اللہ اگر تمہیں ایک تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کو دور کر نے والا کوئی نہیں۔ اگر وہ تمہارے لئے بھلائی چاہے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اپنے بندوں میں سے وہ جس کو چاہتا ہے اس کو دیتا ہے۔وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

108۔ (اے محمد!) کہہ دو81 کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں حق پہنچ چکا۔ سیدھی راہ چلنے والے اپنے ہی لئے سیدھی راہ چلتے ہیں۔ جو گمراہ ہوتے ہیں وہ اپنے ہی خلاف گمراہ ہو تے ہیں۔ میں تم پر ذمہ دار نہیں ہوں۔

109۔ (اے محمد!) تمہیں جو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کرو۔ اللہ کا فیصلہ آنے تک صبر سے کام لو۔ فیصلہ کر نے والوں میں وہ بہتر ہے۔

سورۃ : 11  سورۃ ھود ۔ ایک رسول کا نام

کل آیتیں : 123

اس سورت کی 50 ویں آیت سے لے کر 60ویں آیت تک ھود نبی کی تبلیغ اور ان کی قوم کی طرف سے ان کو دی گئی تکلیفیں اور نیک لوگوں کی نجات اور برے لوگوں کی بربادی کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی لئے اس سورت کا نام ھود رکھا گیا ہے۔ 

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے 

1۔ الف، لام، را2۔ (یہ) کتاب الہٰی ہے۔بہترین علم اورباخبر(اللہ) کی طرف سے اس کی آیتیں حکمت سے بھر دی گئی ہیں اور پھر واضح کر دی گئی ہیں۔ 

2۔ (اے محمد!کہہ دو کہ) اللہ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرو۔ اس کی طرف سے میں تمہیں خوشخبری دینے والا اور تنبیہ کر نے والا ہوں۔ 

3۔ (یہ بھی کہو کہ) اپنے رب کے پاس معافی چاہو۔ پھر اس کی طرف پلٹ جاؤ۔ وہ تمہیں عمدہ سہولتیں ایک مقررہ وقت تک مہیاکرے گا۔ نیک عمل کر نے والے ہر ایک کے لئے ان کے انعام عطا کرے گا۔ اگر تم جھٹلاؤگے تو ایک بڑے دن 1کے عذاب کے متعلق تمہارے لئے میں ڈرتا ہوں۔ 

4۔ اللہ ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

5۔ یاد رکھو! اس سے چھپنے کے لئے اپنے سینوں کو وہ چھپا لیتے ہیں۔ یاد رکھو! وہ اپنے کپڑوں سے اگر ڈھانپ بھی لیتے ہیں تو ان کے چھپانے کو اور ظاہر کر نے کو وہ جانتا ہے۔ ان کے دلوں کی باتیں بھی وہ جانتا ہے۔ 

پارہ : 12 

6۔ زمین میں جو بھی جاندار ہیں سب کو روزی دینا اللہ کے ذمے ہے463۔ ان کے ٹھکانے اور وہ پہنچنے کی جگہ بھی وہ جانتا ہے۔ سب کچھ واضح کتاب میں157 موجود ہے۔ 

7۔ تم میں اچھے عمل کر نے والا کون ہے، یہ آزمانے کے لئے484 اس نے آسمانوں507 اور زمین کوچھ دنوں میں پیدا کیا179۔ اس کا عرش پانی پر تھا488۔ اگر تم کہو کہ مر نے کے بعد اٹھائے جاؤگے تو (اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں357 کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں285۔

8۔ ایک مقررہ مدت تک ہم ان پر عذاب روک کر رکھیں تووہ کہتے ہیں کہ اسے کس چیز نے روکا؟ یاد رکھو! جس دن وہ ان کے پاس آئے گا ان سے وہ روکا نہ جائے گا۔ وہ جس کا مذاق اڑا رہے تھے وہ انہیں گھیر لے گا۔ 

11,10,9۔ انسان کو اپنی رحمت کامزہ چکھا کر پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا بن جا تا ہے۔ اس کو تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم راحت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ مجھ سے میری برائیاں دور ہوگئیں۔ پھر وہ اتراتا ہے اور فخر کر نے لگتا ہے۔سوائے ان کے جو (مصیبتوں کو) برداشت کر تے ہوئے نیک عمل کرنے والے ہیں۔انہیں کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے26۔ 

12۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں ان پر کوئی خزانہ اتارا نہیں گیا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ نہیں آیا؟ اس لئے (اے محمد!) تم پر وحی کی جانے والی باتوں میں سے چند حصہ تم چھوڑدینے والے ہو۔ اس سے تمہارا دل رنجیدہ ہوسکتا ہے۔ تم صرف تنبیہ کر نے والے ہو۔ اللہ ہی ہر چیز کا ذمہ دار ہے۔ 

13۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے خود گھڑکر کہا ہے؟ تم کہو کہ اگر تم سچے ہو توتم بھی گھڑکر اس جیسی دس سورتیں لے آؤ۔ اللہ کے سوا تم سے جتنا ہوسکے دوسروں کو (مدد کے لئے) بلالو7۔

14۔ اگر وہ تم کو جواب نہ دیں توجان لو کہ یہ اللہ کے علم کے ساتھ نازل کی گئی ہے اور اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اور پوچھو کہ کیا تم فرماں بردار بنوگے؟ 

15۔ اس دنیا کی زندگی اور اس کی کشش چاہنے والوں کے اعمال( کا اجر)ہم یہیں بھرپور دیں گے۔ انہیں یہاں کو ئی کمی نہیں کی جائے گی۔ 

16۔ انہیں آخرت1 میں جہنم کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا تیار کیا ہوا تمام وہاں برباد ہوجائے گا۔ وہ جو کر رہے تھے وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔

17۔اپنے پروردگارکے طرف سے ملا (ہوا)دلیل کے بنا پر اوراس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ (محمد) کے آنے کے با وجود، اس سے پہلے(نازل شدہ) موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت ہو توکیا اس پر ایمان لانے والے اور انکار کر نے والے برابر ہو سکتے ہیں۔ جہنم ہی ان کے لئے تنبیہ کی ہوئی جگہ ہے۔ اس میں تم شک نہ کرو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے۔ پھر بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

18۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ اپنے رب کے نام سے جھوٹ بولنے والے تھے۔ یاد رکھو! ظلم کر نے والوں پر اللہ کی لعنت ہے6۔

19۔ وہ لوگ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اس میں کجی دکھلاتے ہیں۔ وہی آخرت کے منکر ہیں۔ 

20۔ وہ لوگ زمین میں کامیاب ہو نے والے نہیں۔ اللہ کے سوا ان کا کوئی محافظ بھی نہیں۔ان کا عذاب کئی گنا بڑھادیا جائے گا۔ وہ سن نہیں سکتے اور وہ دیکھنے والے بھی نہیں۔ 

21۔ وہی لوگ اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیا۔ وہ جو تصور کر رہے تھے ان سے چھپ گئے۔ 

22۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی لوگ آخرت میں بہت زیادہ نقصان اٹھا نے والے ہیں۔

23۔ جو لوگ ایمان لائے، اچھے عمل کئے اور اپنے رب کی طرف رجوع کئے وہی جنتی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

24۔ ان دونوں فریقوں کی مثال اندھا اور بہرا، دیکھنے والا اور سننے والا جیسا ہے۔ کیا صفت میں وہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کروگے؟ 

25۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انہوں نے کہا کہ) میں تمہیں کھلم کھلا تنبیہ کر نے والا ہوں۔ 

26۔(اور یہ بھی کہا کہ) اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت مت کرو۔ میں تمہارے معاملے میں ایک دردناک دن1 کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ 

27۔ ان کی قوم میں (اللہ کا) انکار کر نے والے عمائدین نے کہاکہ ہم تم کو ہمارے ہی جیسا ایک انسان دیکھ رہے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہم میں جوعقل کی کمی اور پست لوگ ہیں وہی تمہاری پیروی کر رہے ہیں۔ہم نہیں سمجھتے کہ ہم سے زیادہ کوئی برتری تم میں ہے۔ بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں۔ 

28۔( نوح نے )کہا کہ اے میری قوم! میں اپنے رب سے ملی ہوئی دلیل کی بنیاد پر قائم ہوں، وہ اپنی رحمت مجھ پر عطا بھی کیا ہے، وہ تم سے چھپادی گئی ہے، اگر تم اسے ناپسند کر تے ہوتو کیا ہم اسے تم پر اصرار کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب دو۔ 

29۔ اے میری قوم! اس کے لئے میں تم سے کوئی دولت نہیں مانگا۔ میرا اجر اللہ کے پاس ہی ہے۔ ایمان والوں کو میں بھگانے والا بھی نہیں۔ وہ لوگ اپنے رب سے ملنے والے ہیں488۔ پھر بھی میں تمہیں جاہل ہی سمجھتا ہوں۔ 

30۔ اے میری قوم! اگر میں انہیں بھگادوں تو اللہ سے مجھے بچانے والا کون؟ کیا تم غور نہیں کروگے؟ 

31۔ (یہ بھی کہا کہ) میں یہ نہیں کہوں گا کہ اللہ کے خزانے میرے پاس ہیں۔ میں غیب کی باتیں بھی نہیں جانتا۔یہ بھی نہیں کہتا کہ میں ایک فرشتہ ہوں۔ یہ بھی نہیں کہتا کہ تمہاری آنکھیں جسے حقیر سمجھتی ہواللہ اس کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا۔ (اگر ایسا کہوں تو) میں ظالموں میں سے ہوجا ؤں گا۔ ان کے دلوں میں جو ہے اللہ خوب جانتا ہے۔ 

32۔ ان لوگوں نے کہا کہ اے نوح! تم نے ہم سے بحث کرلیا۔ بہت زیادہ ہی بحث کرچکے۔ اگر تم سچے ہو تو تم جو ڈراتے ہو اس کو ہمارے پاس لے آؤ۔ 

33۔ (نوح نے) کہا کہ اگر اللہ چاہے تو اس کو وہی تمہارے پاس لے آئے گا۔ تم (اس سے) جیت نہیں سکتے۔ 

34۔ (یہ بھی کہا کہ ) میں تمہاری خیر خواہی چاہوں بھی تو اگراللہ تمہیں گمراہی میں ڈالنا چاہے تو میری نصیحت تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا رب ہے۔ اسی کی طرف واپس لے جائے جاؤگے۔ 

35۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ اسے خود گھڑ لیا ہے۔ تم کہو کہ اگر میں گھڑ لیا ہوتا تو اس کا گناہ مجھ پر ہی ہوگا۔تم جو گناہ کر رہے ہو اس سے میں بری ہوں۔ 

37,36۔نوح کو وحی کی گئی کہ (پہلے )جو ایمان لا چکے ان کے سوا تمہاری قوم میں اور کوئی(اس کے بعد) ایمان لانے والاہی نہیں۔ پس تم ان کے کاموں سے غمگین نہ ہو۔ ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق کشتی بناؤ۔ ظلم کر نے والوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرو۔ وہ لوگ غرق کردئے جائیں گے26۔ 

38۔ وہ کشتی بنانے لگے۔ ان کے عمائدین جب بھی ان کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے۔ انہوں نے کہا کہ تم ہمارا مذاق اڑاؤگے تو تمہاری ہی طرح ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ 

39۔ (یہ بھی کہا کہ) رسوا کن عذاب کس پر آئے گا اوردائمی عذاب کس پر اترے گا، یہ تم بعد میں معلوم کر لوگے۔

40۔ جب ہمارا حکم آگیا اور پانی ابلنے لگا تو221 ہم نے کہا کہ ہر ایک میں سے ایک جوڑا اور تمہارے گھر والوں میں ہماری تقدیر سے سبقت لے جا نے والوں کے سوا دوسرے سب کو اور ایمان والوں کو اس میں سوار کرلو۔ ان کے ساتھ بہت کم لوگ ہی ایمان والے تھے۔ 

41۔ (نوح نے) کہا کہ اس میں سوا رہوجاؤ۔ اللہ کے نام ہی سے اس کا چلنا اور ٹہرنا ہے۔ میرا رب بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

42۔ پہاڑ وں جیسی موجوں میں وہ کشتی انہیں لے چلی۔نوح نے اپنے بیٹے سے جو الگ ہوگیا تھا کہا کہ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں سے مت ہوجانا۔ 

43۔ اس نے کہا کہ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت جن پر ہے اس کے سوا اللہ کے امر سے بچانے والا کوئی نہیں۔ ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی۔ وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔ 

44۔ (اللہ کا) حکم ہوا کہ اے زمین! تو اپنا پانی جذب کرلے۔ اے آسمان507! تو تھم جا۔ پانی خشک ہو گیا۔ معاملہ ختم کردیا گیا۔ وہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹہر گئی222۔ اور کہا گیا کہ ظلم کر نے والے (اللہ کی رحمت سے) دور ہوگئے۔ 

45۔ نوح نے اپنے رب کو پکارا۔ اور کہا کہ میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ تیرا وعدہ بھی سچا ہے۔ فیصلہ کر نے والوں میں تو ہی بہتر ہے۔ 

46۔ (اللہ نے) فرمایا کہ اے نوح! وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ یہ اچھا کام نہیں ہے۔ جس کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو۔ میں تمہیں نصیحت کر تا ہوں کہ تم نادان نہ بنے رہو۔ 

47۔ انہوں نے کہا کہ اے پروردگار! ایسے سوال کر نے سے میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس کے بارے میں مجھے علم نہیں۔ اگر تو مجھے نہیں بخشے گااور مجھ پر رحم نہیں فرمائے گا تو میں خسارہ پا نے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ 

48۔ کہا گیا کہ اے نوح!تم پر اور تمہارے ساتھ رہنے والی قوم پر برکتیں نازل کر نے کے لئے اور ہماری طرف سے سلامتی برقرار رہنے کے لئے اتر آؤ۔ بعض قوموں کو ہم عیش و آرام کی زندگی دیں گے، پھر ہماری دردناک عذاب انہیں پہنچے گا۔ 

49۔ (اے محمد!) یہ غیب کی خبریں ہیں۔ جنہیں ہم تم کو پہنچا رہے ہیں۔ اس سے پہلے تم یا تمہاری قوم اسے نہیں جانتے تھے۔ پس تم صبر سے کام لو۔ (ہم سے) ڈرنے والوں ہی کے لئے (اچھا) انجام ہوگا۔ 

50۔ قوم عاد کے پاس ان کے بھائی ھود کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ تم تو صرف تصور کر نے والے ہی ہو۔ 

51۔ اے میری قوم! اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ میرے پیدا کر نے والے ہی کے پاس میری اجرت ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

52۔ (یہ بھی کہا کہ) اے میری قوم! اپنے رب کے پاس معافی طلب کرو۔ اسی کی طرف رجوع کرو۔ وہ تم پر لگاتار آسمان سے507 برسائے گا۔ وہ تمہیں طاقت پر طاقت اضافہ کر تا جائے گا۔ گنہ گار بن کر اسے مت جھٹلاؤ۔ 

53۔ اے ھود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے۔ صرف تمہارے کہنے سے ہم ہمارے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں۔ اور ہم تمہیں ماننے والے بھی نہیں۔

55,54۔ (انہوں نے کہاکہ) ہم تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے بعض نے تمہیں ضرر پہنچائی ہے۔ اس نے کہا 26کہ میں (اس کے لئے) اللہ کو گواہ بناتا ہوں۔ تم بھی گواہ رہو۔ اس کے سوا جسے تم شریک ٹہراتے ہو اس سے میں بری ہوں۔ پس تم سب میرے خلاف سازش کرو۔ پھر مجھے کچھ بھی مہلت نہ دو۔ 

56۔ میرا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی پر میں نے بھروسہ کیا۔ کوئی بھی جاندار ہو اس کی پیشانی وہی تھاماہے۔ میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔ 

57۔ (یہ بھی کہا کہ) تمہارے لئے جو میرے پاس بھیجا گیا تھا وہ تمہیں بتا چکا۔ اگر تم جھٹلاؤگے تو وہ تمہیں چھوڑ کر دوسری قوم کو تمہارے بدلے میں46 انتظام کر دے گا۔ اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکوگے۔ میرا رب ہر چیز پرنگہبان ہے۔ 

58۔ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ھود اور اس کے ساتھ والے مومنوں کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ انہیں سخت عذاب سے نجات دی۔ 

59۔یہ قوم عاد اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیااور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ ہر ضدی جابروں کے احکامات کی انہوں نے پیروی کی۔ 

60۔ اس دنیا میں اور قیامت کے دن1 بھی انہیں لعنت نے پیچھا کیا۔ یاد رکھو! قوم عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ یاد رکھو! ہود کی (قوم) عاد ( اللہ کی رحمت سے) دور ہوگئے۔

61۔ قوم ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا۔ اس میں تمہیں بسنے دیا۔ پس تم اس سے معافی طلب کرو۔پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ میرا رب قریب ہے49، جواب دینے والا ہے۔ 

62۔ انہوں نے کہا کہ اے صالح! اس سے پہلے تم ہمارے پاس معتبر آدمی تھے۔ ہمارے باپ دادا جس کی عبادت کر تے تھے کیا تم اس کی عبادت سے ہمیں روکتے ہو؟ تم جس کے لئے ہمیں بلا رہے ہو اس میں ہم کو بڑا شک ہے۔ 

63۔ اس نے کہاکہ اے میری قوم!میں میرے رب سے ملی ہوئے دلیل پر ہوں، وہ مجھ پر رحمت بھی عطا کی ہے، اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ سے مجھے بچانے والا کون؟ اس کا جواب دو۔ اس وقت تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کروگے۔ 

64۔ (اس نے کہا کہ) اے میری قوم! تمہارے نشانی کے لئے یہ ہے اونٹنی۔ اللہ کی زمین میں اس کو چر نے کے لئے چھوڑ دو۔ اس کو کوئی تکلیف نہ دو۔ (اگر ایسا کروگے تو) بہت جلد تمہیں عذاب آپہنچے گا۔ 

65۔ انہوں نے اسے کاٹ کر ہلاک کردیا۔ صالح نے کہا کہ تم اپنے گھروں میں تین دن مزہ لے لو۔ یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے۔ 

66۔ جب ہمارا حکم آپہنچا توہم نے صالح اور اس کے ساتھ رہنے والوں کو اپنی مہربانی سے اس دن کی رسوائی سے بچالیا۔ تمہارا رب قوی اور زبردست ہے۔ 

67۔ ظلم کر نے والوں کو ایک زور کی چنگھاڑ نے آپکڑا۔ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں نیچے گرے ہوئے تھے۔ 

68۔ ایسے ہوگئے گویا کہ وہ اس میں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو! قوم ثمود اپنے رب کا انکار کیا۔ یاد رکھو! قوم ثمود (اللہ کی رحمت سے) دور ہوگیا۔ 

69۔ ہمارے رسول161 ابراھیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔ انہوں نے سلام159 کہا۔ وہ بھی سلام 159 کئے۔ بغیر کسی تاخیر کے بھنے ہوئے بچھڑے کو وہ لے آئے171۔ 

70۔ ان کے ہاتھ (کھانے کیلئے) اس طرف نہ بڑھتے ہوئے دیکھ کر انہیں اجنبی سمجھا۔ اور دل ہی دل میں ڈرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

71۔ ان کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ اس کو اسحاق کے بارے میں اور اسحاق کے بعد یعقوب کے بارے میں خوشخبری دی223۔ 

72۔ وہ کہنے لگی کہ یہ کیا تعجب ہے؟ میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور یہ میرے شوہربھی بوڑھے ہوگئے ہیں، اس حال میں میں بچہ کیسے جنوں گی؟ یہ حیرت ہی کی بات ہے۔ 

73۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم کے بارے میں تعجب کر تی ہو؟اللہ کی رحمت اور برکتیں ہونے والی(ابراھیم کے) اس گھر والے تم پر واقع ہو224۔ وہ بڑا قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔ 

74۔ ابراھیم سے ان کا ڈر دور ہوگیا، انہیں خوشخبری بھی مل گئی تو وہ قوم لوط کے بارے میں ہم سے بحث کر نے لگے۔ 

75۔ ابراھیم بڑے بردبار ، نرم دل اور (ہماری طرف) رجوع کرنے والے ہیں۔ 

76۔ (اللہ نے کہا کہ) اے ابراھیم! اسے تم چھوڑ دو۔ تمہارے رب کا حکم آچکا۔ انہیں نہ ٹلنے والا عذاب آنے والا ہے۔ 

77۔ ہمارے رسولیں161 جب لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے معاملے میں غمگین ہوگئے۔ ان کے لئے دل برداشتہ ہوگئے۔ اور کہنے بھی لگے کہ یہ تو بہت سخت دن ہے۔ 

78۔ ان کی قوم ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ اس سے پہلے وہ بدکاریاں کرتے رہے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے میری قوم! لو، یہ میری بیٹیاں ہیں۔ وہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے؟ 

79۔ انہوں نے کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ تمہاری بیٹیوں میں ہمیں کوئی حاجت نہیں ہے ۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہماری چاہت کیا ہے۔ 

80۔ لوط نے کہا کہ تمہارے معاملے میں کاش مجھے طاقت ہوتی! یا کاش میں مضبوط سہارا حاصل کیا ہوتا! 

81۔ سفیروں نے کہا کہ اے لوط! ہم تمہارے رب کے رسول ہیں161۔ یہ ہرگز تم تک پہنچ نہیں سکتے۔ تم اپنی بیوی کے سوا تمہارے گھر والوں کے ساتھ رات کے ایک حصہ میں نکل جاؤ۔ تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ جو انہیں پہنچنے والا ہے وہی اس عورت کو بھی پہنچے گا۔ ان کا مقررہ وقت صبح ہے۔ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے؟  82۔ جب ہمارا حکم آگیا تو گرم کئے ہوئے پتھروں سے اس بستی پر ہم نے تہ بہ تہ پتھروں کا بارش برسایا اور اس کے اوپری حصہ کو نچلا حصہ بنادیا412۔ 

83۔ (وہ) تمہارے رب کے پاس نشان زدہ ہے۔ وہ بستی ظلم کر نے والے ان لوگوں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ 

84۔ شہر مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ میں تو تمہیں اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں۔ گھیر لینے والے اس دن 1کے عذاب سے میں تمہارے لئے ڈر رہا ہوں۔ 

85۔ اے میری قوم! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ اس زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے نہ پھرو۔ 

86۔ (اور کہا کہ) اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔ 

87۔ انہوں نے (مذاقاً) کہا کہ اے شعیب! کیا تمہاری نمازتمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ہمارے باپ داداکی عبادت کوچھوڑ دیں اور ہمارے اپنے مال سے ہماری اپنی چاہت کے مطابق خرچ کر نا بند کردیں۔ تم تو بڑے ہی بردبار اور راست باز ہو۔ 

88۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اگر میں میرے رب کی طرف سے دلیل حاصل کر لیا اور وہ مجھے اپنی طرف سے اچھی دولت بھی عطا کیا ہو تو (تمہارا حال کیا ہوگا) مجھے جواب دو۔ جس چیز سے میں تمہیں روک رہا ہوں اسی پر عمل کر کے میں تمہارے پاس خلاف چلنا نہیں چاہتا۔ ممکن حد تک اصلاح کرنا ہی چاہتا ہوں۔ میرے لئے اچھی مدد اللہ ہی کے پاس ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کیا ہوں۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ 

89۔ اے میری قوم! مجھ پر جو تمہاری نفرت ہے وہ (کہیں تمہیں ظلم کرنے پرآمادہ کرکے) جس طرح نوح کی قوم، ھود کی قوم اور صالح کی قوم کو پہنچی تھی اسی طرح تم پر بھی پہنچنے کے لئے تمہیں ابھارنہ دے۔ لوط کی قوم تم سے بہت دور نہیں ہے۔ 

90۔ (کہا کہ) اپنے رب کے پاس معافی طلب کرو۔ پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ میرا رب نہایت ہی رحم والا، بہت محبت والا ہے۔ 

91۔ انہوں نے کہا کہ اے شعیب! تمہاری بہت سی باتیں ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہم میں تم کوکمزور ہی سمجھتے ہیں۔ اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر کے ہلاک کردیتے۔ہم پر تم غالب نہیں ہو۔ 

92۔ شعیب نے کہا کہ اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمہیں اللہ سے زیادہ عزت دار ہے۔ اسے تم نے پس پشت ڈال دیا۔ جو تم کر تے ہو میرا رب پوری طرح سے جانتا ہے۔ 

93۔ (کہا کہ) اے میری قوم! تم تمہارے طریقے پر عمل کرواور میں (اپنے طریقے پر)عمل کرتا ہوں۔ بعد میں معلوم ہوجا ئے گاکہ رسوا کر نے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے؟انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر تا ہوں۔ 

94۔ جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ رہنے والے مومنوں کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ ظلم کر نے والوں پر ایک سخت چنگھاڑ نے آلیا۔ صبح میں وہ سب اپنے گھروں میں گرے پڑے تھے۔ 

95۔ (ایسے ہوگئے) گویا کہ وہ وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو!جس طرح قوم ثمود (اللہ کی رحمت سے) دور ہوگئے تھے ، اسی طرح مدین والے بھی دور ہوگئے۔

97,96۔ ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس واضح دلیلوں اور اختیارات کے ساتھ بھیجا۔ وہ لوگ فرعون ہی کے حکم کی پیروی کی۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا26۔ 

98۔ قیامت کے دن1 وہ اپنی قوم کے آگے آئے گا۔انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ پہنچنے والی وہ جگہ بہت ہی بری ہے۔ 

99۔ یہاں بھی اور قیامت کے دن1 بھی انہیں لعنت نے پیچھا کیا۔ انہیں دی جا نے والی اجرت بہت بری ہے۔ 

100۔ یہ (چند) بستیوں کی خبریں ہیں، جسے ہم ہی تمہیں سنارہے ہیں۔ ان میں سے (بعض)قائم ہیں اور (بعض) اجڑ چکی ہیں۔

101۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جب تمہارے رب کا حکم آگیا تو اللہ کے سوا جن معبودوں کو وہ پکارتے تھے وہ انہیں کچھ بھی کام نہ آسکے۔ انہیں نقصان کے سوا وہ کچھ بھی اضافہ نہ کر سکے 

102۔ ظلم ڈھانے والے بستیوں کو جب پکڑتا ہے تو تمہارا رب اسی طرح پکڑتا ہے۔ اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے۔ 

103۔ آخرت 1 کے عذاب سے ڈرنے والوں کو اس میں بڑی عبرت ہے۔ وہی لوگوں کو جمع کرنے کا دن 1 ہے۔ وہی (سب لوگ اللہ کے) روبرو حاضر کئے جانے کا دن 1 ہے۔ 

104۔ ایک مقررہ مدت ہی کے لئے اسے ہم ملتوی کر رکھا ہے۔ 

105۔ جس دن وہ واقع ہو گا تو کوئی اس کی اجازت کے بغیر بات نہ کر سکے گا۔ ان میں بدبخت بھی ہیں اور نیک بخت بھی ہیں۔

106۔ بد بخت لوگ جہنم میں ہوں گے۔ وہاں ان کے لئے گدھے کی چیخ اور چلانا ہوگا۔ 

107۔ آسمان507 اور زمین برقرار رہنے والے زمانے تک225 اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، بجز تمہارے رب کی مرضی کے173۔ تمہارا رب جو چاہے کرگزر تا ہے۔ 

108۔ نیک لوگ جنت میں ہوں گے۔ آسمان507 اور زمین برقرار رہنے والے زمانے تک225 اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، بجز تمہارے رب کی مرضی کے173۔(وہ) بغیر کسی کمی کی نعمت ہے۔ 

109۔ وہ جو عبادت کر تے ہیں (ان کے پاس کسی دلیل ہونے کی) شبہ میں نہ رہنا۔ اس سے پہلے ان کے اگلوں نے جس طرح عبادت کی تھی اسی طرح یہ بھی عبادت کر تے ہیں۔ ان کے حصہ کی اجرت ہم کسی کمی کے بغیر پوری طرح عطا کریں گے۔ 

110۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب دی۔ اس میں اختلاف کیا گیا۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے تقدیر سبقت نہ لی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ وہ لوگ اس میں بڑے ہی شک میں پڑے ہیں۔ 

111۔ ہر ایک کو ان کے اعمال (کا بدلہ) تمہارا رب پورا پورا دے گا۔ وہ جو کچھ کر تے ہیں اسے وہ خوب جانتا ہے۔ 

112۔ جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس طرح تم اور جو سدھر کر تمہارے ساتھ رہنے والے تمام جمے رہو۔ حد سے تجاوز نہ کرو۔ تم جو کر تے ہو وہ دیکھ رہا ہے488۔ 

113۔ ظلم کرنے والوں کی طرف جھک نہ جاؤ۔ (اگر جھک جاؤگے تو) تمہیں دوزخ چھو لے گا۔ اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی محافظ نہیں۔ پھر تم مدد نہیں کئے جاؤگے۔ 

114۔ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں226 نماز قائم کرو۔ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ عبرت حاصل کر نے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے۔ 

115۔ صبر کو اپناؤ۔ نیکی کر نے والوں کا اجر اللہ ضائع نہیں کرتا۔ 

116۔ ہم نے جنہیں نجات دی ان چند لوگوں کے سوا تم سے پہلے گزرے ہوئے نسلوں میں سے زمین میں فتنہ پھیلانے والوں کو روکنے والے نیک لوگ کاش رہے ہوتے! ظلم کر نے والے عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوب گئے۔ وہ لوگ مجرم بھی تھے۔ 

117۔ بستی کے باشندے اصلاح کر نے والے ہوں تو ان بستیوں کو اللہ ناحق تباہ نہیں کریگا۔ 

119,118۔ اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیا ہوتا۔ (وہ اس طرح نا چاہنے کی وجہ سے) سوائے ان کے جس پر تمہارے رب نے رحم فرمایا ہو، دوسرے تمام اختلاف کر تے ہی رہیں گے۔ انہیں اسی لئے اس نے پیدا کیا ہے۔ تمہارے رب کا وعدہ پورا ہوگیا کہ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا۔ 

120۔ رسولوں کے احوال میں سے تمہارے دل کو مضبوط کر نے والے تمام باتوں کو ہم تمہیں سناتے ہیں۔ سچائی، نصیحتیں اور مومنوں کو عبرت ، اس میں تمہارے لئے آئی ہے۔

121۔ جو ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طور پر عمل کرو۔ ہم بھی عمل کر تے ہیں۔ 

122۔ اور (یہ بھی کہو کہ) انتطار کرو، ہم بھی انتطار کر تے ہیں۔ 

123۔ آسمانوں507 اور زمین میں چھپی ہوئی چیزیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اسی کے پاس سب معاملات لوٹائے جائیں گے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی پر بھروسہ رکھو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں ہے۔ 

سورۃ : 12 سورۃ یوسف ۔ ایک رسول کا نام

کل آیتیں : 111

اس پوری سورت میں یوسف ؑ نامی ایک رسول کی سرگزشت وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ ایک سورت میں ایک ہی شخصیت کی سرگزشت پوری طرح سے صرف اسی سورت میں بیان ہوئی ہے۔ اسی لئے اس سورت کا نام یوسف رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے

1۔ الف، لام، را2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

2۔ ہم نے اس قرآن کو عربی489 زبان میں227 نازل کیا ہے تا کہ تم سمجھ سکو۔ 

3۔ (اے محمد!) اس قرآن کو تمہیں وحی کے ذریعے بہت ہی خوبصورت سرگزشت سناتے ہیں۔ اس سے پہلے تم (اس کو) جاننے والے نہ تھے۔ 

4۔ یاد دلاؤ جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! گیارہ ستاروں کو، سورج اور چاند کو میں نے (خواب میں)122 دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں11۔ 

5۔ باپ نے کہا کہ میرے پیارے بیٹے! اپنا یہ خواب122 اپنے بھائیوں سے مت کہنا۔ وہ تمہارے خلاف سخت سازش کریں گے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 

6۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب کر کے (مختلف) خبروں کی وضاحت تمہیں سکھائے گا۔ اس سے پہلے تمہارے اجدادابراھیم اور اسحاق پر اپنی نعمت جس طرح پورا کیا تھا اسی طرح تم پراور یعقوب کے گھر والوں پر اپنی نعمت پورا کر ے گا۔ تمہارا رب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

7۔ (وضاحت) پوچھنے والوں کے لئے یوسف اور ان کے بھائیوں کے پاس کئی نشانیاں ہیں۔

8۔ یاد دلاؤ228 جب (ان کے بھائیوں نے) کہا تھا کہ ہم ایک جماعت رہنے کے باوجود یوسف اور اس کے بھائی ہم سے زیادہ ہمارے والد کو پیارے ہیں۔ ہمارے والد تو کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

9۔ (اور یہ بھی کہا کہ) یوسف کو قتل کردو۔یا کسی سر زمین میں اسے پھینک دو۔ تمہارے والد کی توجہ تمہاری ہی طرف ہوجائے گی۔ اس کے بعد تم نیک لوگ بن سکتے ہو۔

10۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر تم (کچھ) کرنا ہوتو یوسف کو قتل نہ کرو۔ اس کو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو۔ راہ گیروں میں کوئی اسے اٹھا لے گا۔ 

11۔ انہوں نے کہا کہ ابا جان! یوسف کے معاملے میں تم ہم پر اعتبارکیوں نہیں کرتے؟ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ 

12۔ (اور یہ بھی کہا کہ) کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجو۔ وہ خوب کھائے اور کھیلے۔ ہم اس کی حفاظت کر نے والے ہیں۔ 

13۔ باپ نے کہا کہ تمہارا اسے لے جانا مجھے فکر مند بنادے گا۔ تم اس سے غافل ہوجاؤگے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کو بھیڑیا نہ کھا جائے۔ 

14۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں، اس حالت میں اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم نقصان اٹھانے والے ٹہرے۔ 

15۔ جب وہ اس کو لے جانے لگے تواس کو گہرے کنویں میں ڈال دینے کاانہوں نے ایک دل سے فیصلہ کر چکے تھے۔ ان کی بے خبری میں ہم نے یوسف کو خبر دی تھی کہ (بعد کے زمانے میں) ان کے اس معاملہ کے بارے میں تم ان سے کہو گے۔ 

16۔ وہ لوگ روتے ہوئے رات کو ان کے باپ کے پاس آئے۔ 

17۔ اور کہا کہ ابا جان! ہم شرط لگا کر دوڑ رہے تھے۔ ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ اس وقت بھیڑیا اس کو کھا گیا۔ ہم سچ بولنے کے باوجود تم ہم پر یقین کرنے والے نہیں ہو۔ 

18۔ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے۔ باپ نے کہا کہ تمہارے دلوں نے تمہیں ایک کام کو خوبصورت کر دکھا دیا۔ میں اچھے صبر سے کام لوں گا۔ جو کچھ تم کہتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے۔

19۔ ایک قافلہ آیا۔ انہوں نے پانی لانے والے کو بھیجا۔ وہ اپنا ڈول( کنویں میں )ڈالا۔ پھر اس نے کہا کہ ایک خوشخبری سنو!یہ دیکھو ایک لڑکا۔ انہوں نے اس کو مال تجارت قرار دے کر چھپا لیا۔ ان کے کاموں کو اللہ جاننے والا ہے۔

20۔ گننے کے لئے آسان چند درہموں کی خاطر انہوں نے اس کو حقیر قیمت پر بیچ دیا۔ ان کے معاملے میں وہ پیسوں کے لالچ والے نہیں تھے۔ 

21۔ مصر میں جس نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو عزت کے ساتھ رکھو۔ یہ ہمیں فائدہ مند ہو سکتا ہے یا اس کو ہم بیٹا بنا لیں گے۔ اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں سہولت مہیا کردی۔ (مختلف) خبروں کی وضاحت اس کو ہم نے سکھایا۔ اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ 

22۔ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم اس کو اختیار اور علم عطا کیا۔ اسی طرح ہم نیک عمل کر نے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ 

23۔ جس عورت کے گھر میں وہ تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کر نے لگی۔ و ہ دروازے بند کر کے کہنے لگی کہ انہوں نے کہا کہ میں اللہ سے پناہ چاہتا ہوں۔ وہی میرا رب ہے۔ اس نے مجھے خوبصورت ٹھکانا دیا ہے۔ ظلم کر نے والے کامیاب نہیں ہوتے۔

24۔ اس عورت نے ان کا قصد کیا۔ انہوں نے بھی اس کا قصد کر لیا۔ اگر وہ اللہ کی دلیل نہ دیکھتے تو (غلطی کر جاتے)229۔ اسی طرح ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کے کام دور کردی۔ وہ منتخب شدہ ہمارے بندوں میں سے ایک تھے۔ 

25۔ دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔ اس عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے سے کھینچ کر پھاڑدیا۔ اس وقت اس کے شوہر کوان دونوں نے دروازے کے پاس موجود پایا۔وہ کہنے لگی کہ تمہارے بیوی کے ساتھ کوئی برا ئی کر نے کا ارادہ کرے تو اس کی سزا اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ اسے قید کیا جائے یا درد ناک عذاب دیا جائے۔

27,26۔ انہوں نے کہا کہ اسی نے مجھے اپنی طرف مائل کیا۔ اس عورت کے خاندان والوں میں سے ایک شخص نے دلیل پیش کی 26کہ اگر ان کی قمیص آگے سے پھٹی ہوگی تو عورت سچ کہہ رہی ہے اور وہ جھوٹے ہیں۔ اگر ان کی قمیص پیچھے کی جانب پھٹی ہوگی تو عورت جھوٹ کہہ رہی ہے اور وہ سچے ہیں۔ 

28۔ جب اس کے شوہر نے دیکھا کہ ان کی قمیص پیچھے کی جانب سے پھٹی ہوئی ہے تو کہنے لگا کہ یہ تو تمہاری ہی سازش ہے، تم عورتوں کی سازش بہت بڑی ہے۔ 

29۔ (اس نے یوسف سے کہا کہ)اے یوسف ! اس بات کو جانے دو۔ (اور اپنی بیوی سے کہا کہ) اپنے گناہ کی معافی مانگ۔تو ہی مجرم ہے۔ 

30۔ اس شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ وزیر کی بیوی اپنے غلام کو مائل کر نے کی کوشش کی ہے۔ وہ غلام اس عورت کو محبت میں فریفتہ کرلیا۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے۔ 

31۔ ان عورتوں کی مکارانہ باتیں سنا تو اس نے ان سب کو بلا بھیجا۔ انہیں دعوت کا بھی اہتمام کیا۔ ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی۔ اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے چلے آؤ۔ انہیں دیکھنے کے ساتھ ان عورتوں نے دم بخودہوگئے۔ اپنے ہاتھوں کو بھی کاٹ لیا۔ اور کہا کہ اللہ پاک ہے۔ یہ تو انسان ہی نہیں۔ یہ ایک معززفرشتہ کے سوا کوئی نہیں۔

32۔ اس نے کہا کہ اس کے بارے میں ہی تم نے مجھے ملامت کی تھی۔ میں نے ہی اس کو اپنی طرف مائل کر نے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ بچ گیا۔ اگر یہ میرا حکم نہ مانے تو قید کردیا جائے گا، اور بے عزت ہوگا۔ 

33۔ یوسف نے کہا کہ اے میرے پروردگار!جس کی طرف یہ عورتیں بلا رہی ہیں اس سے مجھے قید خانہ پسند ہے۔ اگر تو مجھے ان کی سازشوں سے نہیں بچایا تو میں ان کی طرف جھک کرنادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔

34۔ رب نے ان کی دعا قبول کرلی۔ ان کے فریب سے انہیں بچالیا۔ وہ سننے والا488 ، جاننے والا ہے۔ 

35۔ (وہ بے گناہ ہونے کی) دلائل دیکھنے کے باوجود ان لوگوں کو یہی سجھائی دی411 کہ ایک مقررہ مدت تک انہیں قید خانہ میں رکھا جائے۔ 

36۔ ان کے ساتھ دو نوجوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب 122میں دیکھا کہ شراب نچوڑرہا ہوں۔دوسرے نے کہا کہ میں نے(خواب میں) دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور اسے پرندے کھا رہے ہیں۔ (انہوں نے کہا ) اس کی تعبیر ہمیں بتاؤ۔ ہم تو تمہیں نیک عمل کر نے والوں میں سے دیکھ رہے ہیں۔

37۔ یوسف نے کہا کہ (خواب میں) تمہیں جو بھی کھانے کو دی جانے والی ہو، وہ حاصل ہو نے سے پہلے اس کے بارے میں تفصیل میں تمہیں بتا دوں گا۔ یہ میرے رب نے مجھے سکھایا ہے122۔ اللہ پر ایمان نہ لاتے ہوئے، آخرت کا انکار کر نے والے لوگوں کی دین کو میں نے (قبول نہ کر تے ہوئے) چھوڑدیا۔  38۔ میرے اجداد ابراھیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی میں پیروی کر تا ہوں۔ اللہ کے ساتھ کسی کو ہم شریک کر نے والے نہیں۔ یہ ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کے لئے اللہ کا فضل ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ 

39۔ اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا بہت سے معبود (رہنا ) اچھا ہے یا ایک ہی زبردست اللہ بہتر ہے؟ 

40۔ اس کے سوا جو تم عبادت کرتے ہو وہ سب صرف نام ہیں۔ تم اور تمہارے اجداد نے اس کو نام دیا ہے۔ اس کے متعلق اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار سارے اللہ کے سوا کسی کو نہیں234۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی تم عبادت نہ کریں۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ 

41۔ اے میرے قید خانے کے ساتھیو! تم میں سے ایک اپنے آقا کو شراب پلائے گا، دوسرا صلیب پر لٹکایا جائے گا۔ اس کے سر کو پرندے کھائیں گے۔ جس کے متعلق تم تفصیل مانگ رہے ہواس معاملہ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ 

42۔ ان دونوں میں سے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا، اس سے یوسف نے کہا کہ میرے بارے میں تمہارے آقا سے ذکر کرنا۔ لیکن وہ اپنے آقا سے ان کے بارے میں کہنے سے شیطان نے بھلا دیا۔ پس وہ (یوسف) قید خانے ہی میں کئی سال ٹہرے رہے230۔ 

43۔ بادشاہ نے کہا کہ میں نے( خواب میں) دیکھا کہ سات موٹی گائیں کوسات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات ہری بالیاں اور دوسری سوکھی بالیوں کو بھی دیکھا۔ اے درباریو! اگر تم خواب122 کی تعبیر جاننے والے ہوتو میرے اس کی خواب کی تعبیر بتاؤ۔ 

44۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے معنی خواب122 ہیں۔بے معنی خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ 

45۔ ان دونوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا اس کو بہت دنوں کے بعد یاد آیا تو کہنے لگا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا۔پس مجھے بھیجو۔ 

46۔ (اس نے کہا کہ) اے یوسف! اے سچے! ساتھ موٹی گائیں کوسات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، سات ہری بالیاں اور دوسری سوکھی بالیاں بھی ہیں، ان کی تعبیرہمیں بتلاؤ۔ (اس اطلاع کے ساتھ) میں لوگوں کے پا س جانا ہے، شاید وہ سمجھ جائیں ۔

47۔ لگاتارسات سال تک کھیتی کرتے رہوگے۔ تم جو فصل کاٹو اس میں کھانے کے لئے تھوڑی مقدار کے سوا دوسری بالیوں کو چھوڑ رکھو۔ 

48۔ اس کے بعد قحط سالی کے سات (سال) آئیں گے۔ اس کے لئے جو غلہ تم نے پہلے جمع کر کے رکھا تھاصرف تھوڑی مقدار کے سوا ان سب کو وہ کھا جائیں گے۔ 

49۔ پھر اس کے بعدلوگوں کے لئے بارش برسنے والی سال آئے گی۔ اس سال پھل کا رس نچوڑا جائے گا۔ 

50۔ (یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ ان کو میرے پاس لے آؤ۔ (بادشاہ کا) قاصد ان کے پا س آیا۔ یوسف نے ان سے کہا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس جا کر پوچھو جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ا ن عورتوں کا حال کیا ہوا۔ میرا پروردگار ان عورتوں کی سازش جاننے والا ہے۔ 

51۔ (بادشاہ نے ان عورتوں سے) پوچھا کہ جب تم نے یوسف کو فریفتہ کر نے کی کوشش کی تو تمہیں کیا ہوا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ پاک ہے۔ ان کے پاس ہم نے کسی قسم کی برائی نہیں پائی۔ وزیر کی بیوی نے کہا کہ اب سچائی سامنے آگئی۔ میں نے ہی انہیں اپنی طرف مائل کر نے کی کوشش کی تھی۔ وہ تو راست گو ہے۔ 

52۔ (یوسف نے کہا کہ میں نے یہ تحقیق اس لئے کی کہ) وزیر کو معلوم ہوجائے کہ( میرے آقا )آنکھوں سے اوجھل ہونے کے باوجود میں نے اسکی خیانت نہیں کی اور خیانت کر نے والوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا232 ۔ پ

ارہ : 13

53۔ (یوسف نے کہا کہ ) میں نہیں کہتا کہ میرا دل پاک ہے۔نفس تو برائی ہی کی طرف اکساتا ہے سوائے اس کے جو میرا رب رحم فرمائے۔ میرا رب بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

54۔ بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ۔ اسے میرے لئے منتخب کر تا ہوں۔ پھر جب اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ آج تم نے ہمارے پاس ایک مستحکم جگہ پالیا اور معتمد ہوگئے۔ 

55۔ انہوں(یوسف )نے کہا کہ اس زمین کے خزانوں پرمجھے بطور افسر مقرر کر دیجئے۔ میں جاننے والا اور حفاظت کر نے والا ہوں233۔ 

56۔اس سرزمین میں جہاں چاہے رہنے کے لئے اسی طرح ہم نے یوسف کو اختیار دیا۔ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت عطا کرتے ہیں۔نیکی کر نے والوں کے اجر ضائع نہیں کرتے۔

57۔ ایمان لانے والے اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کو آخرت کا اجر ہی بہتر ہے۔ 

58۔ یوسف کے بھائی بھی آئے اور ان سے ملاقات کی۔یوسف نے انہیں پہچان لیا ،لیکن وہ لوگ انہیں پہچان نہ سکے۔ 

59۔ جب اس نے ان لوگوں کے لئے سامان تیار کر دیا تو کہا کہ تم اپنے والد سے تمہارے بھائی کوبھی میرے پاس لے آؤ228۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں؟میں بہترین خاطر تواضع کر نے والا ہوں۔ 

60۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اگر تم اس کو لے کر نہ آئے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ آنا۔ 

61۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو زور دیں گے۔ ہم تو (وہ کام) کر نے والے ہی ہیں۔ 

62۔ اپنے خدمت گاروں سے (یوسف نے )کہا کہ وہ لوگ جو مال لائے تھے اس کو انہیں کے بوریوں میں رکھ دو۔ جب وہ اپنے اہل وعیال میں پہنچیں گے تو اس کو دیکھ کر (اسے واپس کر نے کے لئے) وہ پھرلوٹ کر آئیں گے۔

63۔ پھر وہ جب اپنے باپ کے پاس لوٹے تو کہنے لگے کہ ابا جان! (آئندہ ) ہمیں غلہ دینے سے روک دیا گیا ہے۔ اس لئے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجو۔ ہم غلہ لے آئیں گے۔اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ 

64۔ (یعقوب نے) کہا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی کے معا ملے میں جس طرح تم پر اعتبار کیا ، کیا اس کے معاملے میں بھی تم پر اعتبار کروں؟ اللہ ہی بہترین محافظ ہے۔ وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ 

65۔ وہ جب اپنا سامان کھولاتو دیکھا کہ ان کا مال انہی کو واپس کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ابا جان! ہم نے کوئی ظلم نہیں کی۔ یہ دیکھوہمارا مال بھی ہمیں لوٹادیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کے لئے رسد لے آئیں گے۔ اپنے بھائی کی بھی حفاظت کریں گے۔ ایک اور اونٹ کا بوجھ زیادہ حاصل کریں گے۔ یہ تو آسان ناپ ہے۔ 

66۔ (یعقوب نے) کہا کہ سوائے تم سب کو کوئی آفت نہ آجائے، پھرسے تم اس کو میرے پاس لا پہنچانے کے لئے اللہ کے نام سے مجھے جب تک تم عہد نہ کروگے ، میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ جب انہوں نے عہد کیا تو کہنے لگے کہ ہم جو بات کئے تھے اس کا اللہ ہی ذمہ دار ہے۔

67۔ پھر کہنے لگے کہ اے میرے بیٹو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا۔ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اللہ سے میں تمہیں ذرا بھی بچا نہیں سکتا235۔ سارے اختیارات اللہ ہی کا ہے234۔ میں اسی پر بھروسہ کیا ہوں۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کر نا چاہئے۔ 

68۔ چنانچہ ان کے والدانہیں جیسے داخل ہونے کا حکم دیاتھا اسی طرح جب وہ داخل ہوئے تو یعقوب کے دل میں ایک خیال جو گزراتھا بجزاس کو پورا کر لینے کے سوا(مختلف دروازوں سے گزرنا) اللہ کی طرف سے انہیں کچھ بھی نہ بچا پایا۔ ہم انہیں سکھلانے کی وجہ سے وہ صاحب علم تھے۔ پھر بھی لوگوں میں اکثر نہیں جانتے۔ 

69۔ وہ لوگ جب یوسف کے پاس گئے تو وہ اپنے بھائی کو (الگ کرکے) پیار سے کہا کہ میں ہی تمہارا بھائی ہوں۔ وہ لوگ جو کئے تھے اس کا غم نہ کر۔

70۔ انہیں جب ان کے سامان کے ساتھ تیار کیا گیا تو ناپنے کا پیالہ اپنے بھائی کے بوری میں رکھ دیا۔ پھر منادی نے اعلان کیا کہ اے اونٹ کے قافلے والو! تم لوگ چورہو۔ 

71۔ وہ سب ان کے پاس آ کر پوچھنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھوگئی ہے؟ 

72۔ وہ بولے کہ بادشاہ کے ناپنے کا پیالہ گم ہے۔ جواسے لے آئے اسے ایک اونٹ کے بوجھ (برابر کا غلہ) دیا جائے گا۔ اس کے لئے میں ذمہ دار ہوں۔ 

73۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم!تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم اس سر زمین میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے، اور ہم چور بھی نہیں ہیں۔ 

74۔ وہ پوچھنے لگے کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اس کی سزا کیا ہے؟ 

75۔ انہوں نے کہا کہ جس کے اسباب میں وہ پایا جائے وہی (اس کو پکڑ لینا ہی) اس کی سزا ہے۔ ظلم کرنے والوں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ 

76۔ ان کے بھائی کے بوری سے پہلے(یوسف نے) ان لوگوں کے بوریوں کی تلاشی شروع کردی۔ پھر اپنے بھائی کے سامان سے اسے برآمد کیا۔ اسی طرح ہم نے یوسف کو چالاکی عطا کی236۔ اللہ کی مرضی کے سوا اس بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اپنا نہیں سکتے تھے237۔ہم جسے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ ہر علم والے کے اوپر ایک بڑا علم والا ہے۔

77۔ انہوں کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی228 چوری کی ہے۔ (اس حقیقت کو کہ وہ بھائی میں خود ہوں ) یوسف نے انہیں ظاہر نہیں کیا ، ا س کو اپنے دل ہی میں رکھ لیا۔ پھر کہا کہ تم بہت برے ہو۔ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ 

78۔ انہوں نے کہا کہ اے وزیر! اس کو ایک بوڑھا باپ بھی ہے۔ اس لئے اس کے بجائے ہم میں سے کسی ایک کو پکڑ لو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تم بڑے نیک نفس ہیں۔ 

79۔ اس نے کہا کہ اپنا سامان جس سے ہم نے برآمد کیا ہے اس کے سوا دوسرے کو گرفتار کرنے سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم ظلم کر نے والے ہوں گے۔ 

80۔ جب وہ لوگ ان سے ناامید ہوگئے تو تنہائی میں مشورہ کر نے لگے۔ ان میں سے بڑے بھائی نے کہا کہ تمہارے والد تمہارے پا س اللہ کے نام سے جو عہد لیا تھا کیا وہ تم نہیں جانتے؟ پہلے بھی تم یوسف کے معاملے میں زیادتی کر چکے ہو۔ اس لئے جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لئے فیصلہ نہ کردے میں اسی سرزمین پر ٹہرنے والا ہوں۔ وہ بہتر فیصلہ کر نے والا ہے۔ 

82,81۔ (اور کہا کہ ) تم اپنے والد کے پاس جا کر کہو کہ ابا جان! تمہارے بیٹے نے چوری کی۔ ہم جو جانتے ہیں اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ ہم تو غیب جاننے والے نہیں۔ اور یہ بھی کہو کہ ہم جس بستی میں تھے ان لوگوں سے اور ہمارے ساتھ جو اونٹ کے قافلہ والے آئے تھے ان سے بھی دریافت کرلو۔ ہم بالکل سچے ہیں۔ 

83۔ (وہ لوگ جب اپنے والد سے اس کے بارے میں کہا تو) اس نے کہا کہ بات ایسی نہیں ہے۔ تمہارے دل نے ایک کام کے لئے ابھار دیا۔ پس میں اچھی صبر سے کام لیتا ہوں۔ ان سب کو اللہ میرے پاس پہنچا دے گا۔ وہی علم والا، حکمت والا ہے۔ 

84۔ انہیں چھوڑ کر وہ ہٹ گئے۔ اور کہا کہ ہائے یوسف! غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ وہ (دکھ کو) ضبط کرنے والے تھے۔

85۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! کیا تم یوسف کو یاد کر تے رہوگے یہاں تک کہ تمہارا جسم گھل جائے یا تم ہلاک ہوجائے۔ 

86۔ یعقوب نے کہا کہ میں اپنا دکھ اور غم کی فریاداللہ ہی سے کر تا ہوں۔ تم جو نہیں جانتے اسے میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں۔  87۔ (اور کہا کہ) میرے بچو! تم جاؤ ، یوسف اور اس کے بھائی کی اچھی طرح تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجانا۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے سوا دوسرے کوئی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے471۔ 

88۔ وہ لوگ ان( یوسف )کے پاس آئے۔ اور کہا کہ اے وزیر! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔ ہم حقیر سا مال ہی لائے ہیں۔ اس لئے ہمیں پوراغلہ دیجئے اور ہمیں صدقہ بھی دیجئے۔ خیرات کر نے والوں کو اللہ اجر عطا فرمائے گا۔ 

89۔ یوسف نے پوچھا کہ جب تم نادان تھے ، اس وقت یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ تم نے کیا کیا ، تم جانتے بھی ہو؟

90۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم ہی یوسف ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں، میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں۔ اللہ نے ہم پر فضل فرمادیا۔ جو کوئی (اللہ سے) ڈر کر صبر اختیار کر تا ہے ایسے نیکی کر نے والوں کا اجر اللہ ضائع نہیں کرتا۔

91۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ نے ہم سے زیادہ تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ ہم نے خطا کردیا۔

92۔ اس نے کہا کہ آج تم سے کوئی انتقام لینا نہیں ہے۔ تمہیں اللہ معاف کر ے گا۔ وہ رحم کر نے والوں میں بہترین رحم کر نے والا ہے۔ 

93۔ (یہ بھی کہا کہ) میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈالو۔ انہیں بینا ئی آجائے گی۔ اپنے تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔ 

94۔ جب اونٹ کا قافلہ نکلا تو ان کے والد نے کہاکہ میں یوسف کی بو محسوس کر رہا ہوں۔ تم مجھے ملامت نہ کرنے لگو۔

95۔ (گھر والے) کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! تم تو اپنے پرانے غلط فیصلے پر ہی ہو۔ 

96۔ خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر اسے ان کے چہرے پر ڈالا۔ فوراً انہیں بینائی آگئی۔ اس نے کہا کہ کیا میں تم سے نہیں کہا تھاکہ تم جو نہیں جانتے وہ میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں۔ 

97۔ انہوں نے کہا کہ اے ہمارے ابا جان! ہمارے گناہوں کے لئے بخشش طلب کیجئے۔ ہم خطا کر چکے۔ 

98۔ اس نے کہا کہ میں تمہارے لئے میرے رب سے بعد میں معافی طلب کروں گا۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

99۔ وہ لوگ جب یوسف کے پا س گئے تو وہ اپنے ماں باپ سے لپٹ گئے۔ اور کہا کہ اگر اللہ چاہے تو امن کے ساتھ شہر مصر میں داخل ہوجاؤ۔ 

100۔ اپنے والدین کو وہ اپنے تخت پر بٹھایا۔ وہ سب لوگ ان کے مطیع ہوگئے11۔ یوسف نے کہا کہ ابا جان! پہلے جو میں نے خواب دیکھا 122اس کی تعبیر یہی ہے۔ میرے رب نے اسے سچ کر دکھا یا۔جب قید خانہ سے باہر نکالا تو وہ مجھ پر بڑا احسان کیا۔ میرے اور میرے بھائیوں کے بیچ شیطان نے جدائی ڈالنے کے بعد تم سب کودیہات سے میرے پاس لاکر پہنچا دیا۔میرا رب جو چاہتا ہے باریک بینی سے کر تا ہے۔ وہ جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ 

101۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اختیار میں (کچھ) عطا کیا ہے۔مجھے (مختلف) باتوں کی وضاحت سکھائی ہے۔ اے آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کر نے والے! توہی اس دنیا میں اور آخرت میں میرا محافظ ہے۔ مجھے مسلمان 295کی حالت میں وفات دے۔ نیک لوگوں کے ساتھ مجھے شامل کردے۔ 

102۔ (اے محمد!) یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جسے ہم تمہیں سناتے ہیں۔ وہ سب لوگ جب (یوسف کے خلاف) ایک دل سے سازش کر رہے تھے اس وقت تم ان کے ساتھ نہیں تھے۔ 

103۔ خواہ تم کتنی ہی خواہش کرو لوگوں میں سے اکثر یت ایمان لانے والے نہیں۔ 

104۔ اس کے لئے تم نے ان سے کوئی اجرت نہیں مانگی۔ یہ تمام جہاں والوں کے لئے نصیحت کے سوا اور کچھ نہیں۔ 

105۔ آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں، جنہیں وہ جھٹلاتے ہوئے ہی گزرجاتے ہیں۔

106۔ ان میں اکثر لوگ شرک کر نے کے سوا اللہ کو نہیں مانتے۔ 

107۔ اللہ کا گھیر لینے والا عذاب ان کے پاس آجائے یا ان کی بے خبری میں اچانک وہ قیامت کی گھڑی1 آجائے، اس بات سے کیا وہ لوگ بے خوف ہوگئے ہیں؟

108۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ یہی میرا راستہ ہے۔ میں اور میرے فرماں بردار روشن دلیل پر رہتے ہوئے اللہ کی طرف بلا رہے ہیں۔ اللہ پاک ہے10۔ اور میں شرک کرنے والا نہیں ہوں۔ 

109۔ تم سے پہلے ہم نے(مختلف بستیوں میں انہیں کے) بستی والے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا239۔ انہیں وحی نازل فرمایا۔ کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر کر کے غور نہیں کیاکہ ان سے پہلے جو گزرے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟(اللہ سے) ڈرنے والوں کو آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

110۔ آخر میں جب رسولوں نے نا امید ہو کر سمجھ لیا کہ ہم ٹھکرا دئے گئے تو ہماری مدد انہیں آپہنچی۔ ہم جسے چاہتے تھے وہ بچالئے گئے۔ مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔

111۔ ان کی سرگذشت میں عقل مندوں کے لئے عبرت ہے۔ (یہ کوئی) گھڑی ہوئی بات نہیں ہے۔ بلکہ جو اس سے پہلے گزر چکی ہے4 اس کی تصدیق کر تے ہوئے ہر ایک بات کی وضاحت کرتی ہے۔ ایمان لانے والوں کے لئے سیدھی راہ اور رحمت ہے۔

سورۃ : 13 سورۃ الرعد ۔ گرج

کل آیتیں : 43

اس سورت میں 13ویں آیت میںیہ جملہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ بجلی کی گرج بھی اللہ کی حمد کرتی ہے، اس لئے اس سورت کا نام گرج رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ الف، لام، میم، را2۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو کچھ اترا ہے حق ہے۔ پھر بھی لوگوں میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔ 

2۔ تم جو دیکھ رہے ہو ستونوں کے240 بغیر آسمانوں کو507 اللہ ہی نے بلند کیا۔ پھر وہ عرش488 پر بیٹھ گیا511۔ سورج اور چاند کو وہ اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک دوڑ رہے ہیں241۔ ہر کام کا انتظام وہی کر تا ہے۔ تمہارے رب کی ملاقات پر488 یقین کر نے کے لئے اس نے دلیلوں سے وضاحت کی ہے۔

3۔ اسی نے زمین کو پھیلایا۔ پہاڑوں اور دریاؤں کو اس میں معین کردیا۔ ہر طرح کے پھلوں میں ایک جوڑے بنائے242۔ رات کو دن سے ڈھانک دیتا ہے۔ غور کر نے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

4۔ زمین میں قریب قریب واقع کئی حصے ہیں۔ انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور وں کے شاخ دار اور بے شاخ کے درخت ہیں۔ ان سب کوایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتاہے۔ (اسکے باوجود) ذائقے میں ایک سے دوسرے کو بہتر بناتے ہیں۔ سمجھنے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

5۔ اگر تمہیں حیرت ہو تو اس سے زیادہ حیرت کی بات ان کا یہ کہنا ہے کہ کیا ہم مٹی ہونے کے بعد بھی از سر نو پیدا کئے جائیں گے۔ وہی لوگ اپنے رب کاانکار کر نے والے ہیں۔ان کے

گردنوں میں ہی طوق پڑے ہوئے ہیں۔ وہی لوگ جہنمی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

6۔ بھلائی سے پہلے وہ لوگ تم سے برائی کو جلدطلب کررہے ہیں۔ انہیں پہلے ہی مثالیں گزر چکی ہیں۔ وہ لوگ ظلم کر نے کے باوجود تمہارا رب معاف کر نے والا ہے۔ اور تمہارا رب سخت سزا دینے والا ہے۔ 

7۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے انہیں مناسب نشانی نازل ہونا چاہئے تھا۔ تم تو تنبیہ کر نے والے ہو۔ ہر ایک قوم کے لئے ایک رہنما ہے۔ 

8۔ ہر عورت (رحم میں) جو حمل اٹھاتی ہے، رحموں کا سکڑنا اور پھیلنا سب اللہ جانتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے پاس مقررہ مقدار ہے144۔ 

9۔ (وہ) غیب اور حاضر سب کا جاننے والاہے۔ سب سے بڑااور بلند و بالا ہے۔ 

10۔ تم میں کوئی مخفی سے بات کرے، باآواز بلند بات کرے، رات میں چھپا ہوا ہویا دن میں چل رہا ہو، سب( اس کے لئے ) برابر ہیں۔ 

11۔انسان کے آگے اور پیچھے مسلسل آنے والے (فرشتے ) ہیں۔ اللہ کے حکم سے وہ انہیں حفاظت کر تے ہیں۔ جو قوم اپنے اندر کی حالت کو جب تک نہیں بدلتا اس قوم کی حالت کو اللہ بدلنے والا نہیں۔ جب کسی قوم پر اللہ برائی چاہتا ہے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ اس کے سواانہیں مدد کر نے والا بھی کوئی نہیں۔ 

12۔ خوف اور امید دلانے کے لئے وہی تمہیں بجلی دکھاتا ہے۔ بوجھل بادلوں کوبھی وہی پیدا کرتا ہے۔ 

13۔ بجلی کی گرج بھی اس کی حمد و ثنا کر تی ہے۔ اس کے ڈر سے فرشتے بھی507(حمدو ثنا کر تے ہیں) ۔گرجنے والی بجلیاں بھی وہی بھیجتا ہے۔ جن کو چاہے وہ اس کے ذریعے سزا دیتا ہے۔ مگر وہ لوگ اللہ کے بارے میں حجت کر تے ہیں۔ وہ بڑی قوت والا ہے۔ 

14۔ سچی دعا اسی کا حق ہے۔ اس کے سوا جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب دینے والے نہیں۔جیسا کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلادے تاکہ پانی (خود بخود) اس کے منہ میں چلا جائے۔وہ (خود بخود) اس کے منہ میں نہیں پہنچنے گا۔ (اللہ کا) انکارکر نے والوں کی دعا بے کار ہی ہوگا۔ 

15۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو بھی ہیں سب خوشی اور ناخوشی سے اسی کی اطاعت کر تے ہیں96۔ ان کے سائے بھی صبح اور شام اطاعت کر تے ہیں396۔ 

16۔ (اے محمد!) پوچھو کہ آسمانوں507 اور زمین کا رب کون ہے؟ اور کہو کہ اللہ۔کہہ دو کہ کیا تم اس کے سوا کسی اور کو کارساز تصور کر لیا ہے؟ وہ توخود اپنے لئے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ پوچھو کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تاریکیاں303 اور روشنی برابر ہوسکتی ہیں؟ کہہ دو کہ کیا وہ اللہ کے لئے شریک ٹہرالئے ہیں؟ کیا انہوں نے اللہ کی طرح کوئی مخلوق پیدا کر کے اس کی وجہ سے کیا انہیں تشویش ہوگئی ہے کہ کس نے پیدا کیا؟ ہر چیز اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ وہ اکیلا ہے اور سب پر قابو رکھنے والا ہے۔ 

17۔ آسمان 507سے اس نے پانی برسایا۔ وہ نالوں کے اندازے سے بہتا ہے۔ سطح پر تیرتے ہوئے جھاگوں کوسیلاب اٹھالیتا ہے۔ زیور یا آلات بنانے کے لئے آگ میں تپاتے وقت بھی اس جیسا جھاگ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ سچ اور جھوٹ کے لئے مثال دیتا ہے۔ جھاگ تو غائب ہو جاتا ہے اور انسان کے لئے جو کارآمد چیز ہے وہ زمین پرٹہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کر تا ہے۔ 

18۔ اپنے رب کی پکار قبول کر نیوالوں کو اچھا بدلہ ہے۔ اس کی پکار کو جس نے نہیں ماناوہ ان کے پاس زمین میں جو ہے سب کچھ اور اسی طرح کا ایک گنا اور زیادہ بھی ہوتواپنے بدلے میں دے ڈالینگے۔ انہیں سخت بازپرس ہوگی۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

19۔ جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہواہے حق ہے، کیا وہ اندھے جیسا ہو سکتا ہے؟ عقل والے ہی عبرت حاصل کریں گے۔ 

20۔ وہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کر تے ہیں، عہد شکنی نہیں کر تے۔ 

21۔ جوڑنے کے لئے اللہ نے جو حکم دیا ہے (ان رشتوں کو) جوڑ تے ہیں۔ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اورسخت باز پرس سے بھی ڈرتے ہیں۔ 

22۔وہ اپنے رب کی رضامندی چاہتے ہوئے صبر اختیار کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اسے پوشیدہ اور علانیہ (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں۔ بھلائی کے ذریعے برائی روکتے ہیں۔ انہیں کے لئے عاقبت کا (اچھا) انجام ہے۔ 

23۔ وہ اور ان کے والدین، بیویاں اور ان کی نسل میں جو نیک ہیں ،سب ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ فرشتے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔ 

24۔(فرشتے کہیں گے کہ) تم صبر سے رہنے کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو159۔ آخرت کا فیصلہ (تمہارے لئے) اچھا ہی ہے! 

25۔اللہ سے عہد لینے کے بعد اسے توڑ نے والے، جن سے جوڑنے کے لئے اللہ نے حکم دیا تھا اسے قطع کر نے والے اور زمین میں فساد برپا کر نے والے ، ان سب کو لعنت ہے۔ انہیں آخرت میں خرابی ہے۔ 

26۔ اللہ جسے چاہتا ہے مال و دولت کشادگی سے دیتا ہے، اور تنگ بھی کردیتا ہے۔ وہ لوگ اس دنیوی زندگی کے ذریعے خوش ہو تے ہیں۔ آخرت کے مقابلے میں اس دنیا کی زندگی ایک حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ 

27۔ (اللہ کا )انکار کر نے والے پوچھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف سے مناسب نشانی اترنا چاہئے تھا! کہہ دو کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ جو سدھر گئے انہیں اپنی طرف راستہ دکھا تا ہے۔ 

28۔ ایمان والوں کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو تے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دل مطمئن ہو تے ہیں477۔ 

29۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے اچھی زندگی اور خوبصورت ٹھکانا ہے۔

30۔ (اے محمد!) تم پر جو ہم نے وحی کی ہے انہیں سنانے کے لئے اسی طرح ہم نے تمہیں ایک قوم کی طرف بھیجاہے۔ اس سے پہلے کئی قومیں گزر چکیں۔ وہ لوگ رحمن کا انکار کر تے ہیں۔ کہہ دو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ کیا ہوں، اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ 

31۔ قرآن کے ذریعے پہاڑ اکھاڈدیا جا ئیں یا زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں یا اس کے ذریعےُ مردوں کے ساتھ بات کئے جائیں (تب بھی وہ لوگ ایمان نہیں لا نے والے)۔اختیار تمام اللہ ہی کے لئے ہے۔ کیا ایمان والوں کو معلوم نہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو سیدھی راہ دکھا دیتا۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے عمل کی وجہ سے اللہ کا حکم آنے تک انہیں ناگہانی آفت پہنچتی رہے گی، یا ان کے بستی کے پاس اترے گی۔ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ 

32۔ (اے محمد!) تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ اس وقت میں نے (میرے) انکار کر نے والوں کو مہلت دی تھی۔ پھر انہیں پکڑا۔ (غور کرو کہ) میرا عذاب کیسا رہا؟ 

33۔ ہر ایک جو کر تا ہے اسے اللہ نگرانی کر نے کے باوجود کیا وہ لوگ اس کا شریک ٹہراتے ہیں؟ تم کہو کہ ان کے بارے میں سمجھاؤ۔ کیاتم اللہ کوزمین کی وہ باتیں بتا رہے ہو جو وہ نہیں جانتا؟ یا صرف الفاظ ہی ہیں؟ (اللہ کا) انکار کر نے والے کی سازش انہیں خوشنما بنادیا گیا ہے۔ وہ لوگ (نیک) راہ سے روک دئے گئے ہیں۔ اللہ جسے گمراہ کر دے اسے راہ دکھلانے والا کوئی نہیں۔ 

34۔ ان کے لئے اس دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سخت ہے۔ انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں۔ 

35۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیاہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس کی غذا اور سایہ دائمی ہوگا۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کایہی انجام ہے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کا انجام جہنم ہی ہے۔ 

36۔ (اے محمد!) ہم نے جسے کتاب دی تھی وہ اس چیز پر خوش ہیں جو تم پر نازل کی گئی ہے۔ ان گروہوں میں اس کی بعض باتوں سے انکار کرنے والے بھی ہیں۔ کہہ دو کہ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹہراؤں۔ اسی کی طرف بلا رہا ہوں ، میرا لوٹنا بھی اسی کے پاس ہے۔ 

37۔ اسی طرح ہم نے اس کو قانون کے طور پر عربی489 زبان میں اتارا ہے227۔ تمہارے پاس یہ علم آجانے کے بعداگر تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کروگے تو اللہ کی طرف سے تمہارا ذمہ دار یا بچانے والاکوئی نہیں ہوگا۔ 

38۔ تم سے پہلے بھی رسولوں کو بھیجا۔ انہیں بیویاں اور اولاد بھی دی تھی۔ کوئی بھی رسول اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی معجزہ لا نہیں سکتا269۔ ہر ایک کی میعاد لکھی ہوئی ہے۔ 

39۔ (اس میں) اللہ جو چاہے مٹادے اور (جو چاہے) برقرار رکھے30۔ اسی کے پاس ام الکتاب157 ہے۔

40۔ (اے محمد!) ہم نے جو انہیں تنبیہ کیا ہے اس میں سے کچھ حصہ تمہیں دکھائیں یا تمہیں وفات دے دیں تو ( اس سے تم کو کیا؟) ۔ صرف پہنچا دینا ہی تمہارا ذمہ ہے81۔ اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ 

41۔کیا وہ دیکھتے نہیں 243کہ زمین کو اس کے کناروں سے گھٹانے کے لئے ہم زمین میں جب آتے ہیں61۔اللہ ہی فیصلہ کر نے والا ہے۔ اس کے فیصلے کو ملتوی کر نے والا کوئی نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

42۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی تدبیر کئے تھے۔ تدبیریں تمام اللہ ہی کے لئے ہیں6۔ ہر ایک جو کرتاہے اسے وہ جانتاہے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے جان لیں گے کہ آخرت کا (اچھا) انجام کس کے لئے ہے۔ 

43۔ (اے محمد!) انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ تم (اللہ کے) رسول نہیں ہو۔ تم کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گوا ہی کافی ہے۔ جن کے پاس کتاب کا علم ہے وہ بھی کافی ہیں۔

سورۃ : 14 سورۃ ابراھیم ۔ ایک رسول کا نام

کل آیتیں : 52

اس سورت کی 35ویں آیت میں نبی ابراھیم نے کعبۃ اللہ کی از سر نو تعمیر کرانے کا واقعہ، اور 37ویں آیت میں انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے گھر والوں کو مکہ کے صحرا میں چھوڑ آنے کا واقعہ، اور 39ویں آیت میں بڑھاپے کی حالت میں انہیں اللہ نے اسحاق اور اسماعیل نام کے دو اولاد عطا کئے جا نے کا واقعہ بیان کیا گیاہے، اس لئے اس سورت کا نام ابراھیم رکھا گیا ہے۔ 

بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے

1۔ الف، لام، را2۔ اللہ کی مرضی کے مطابق لوگوں کو تاریکیوں سے303 روشنی کی طرف اور تعریفوں کے مستحق ،زبردست اللہ کے راستے کی طرف لے چلنے کے لئے تمہیں اس کتاب کو نازل فرمایا ہے۔

2۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو سخت عذاب کی خرابی ہے۔

3۔ وہ لوگ آخرت سے زیادہ اس دنیا کی زندگی کو پسند کر تے ہیں۔ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اسے غیر متوازی دین بتاتے ہیں۔ وہ لوگ (حقیقت سے) بہت دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

4۔ ہم نے ہر رسول ان کی قوم کو وضاحت کر نے کے لئے ان کی قومی زبان ہی میں بھیجا244۔اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھادیتا ہے۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔

5۔ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ تم اپنی قوم کو اندھیروں303 سے روشنی کی طرف لے چلو اور اللہ کی نعمتوں کو یاد دلاؤ۔ اس میں ہر ایک صبر کر نے والے اور شکر کر نے والوں کو نشانیاں ہیں۔

6۔یاد دلاؤ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ فرعون کے آدمیوں سے اللہ نے تمہیں بچاکر (تم پر) جو احسان کیا تھا اس کو یاد کرو۔ وہ لوگ تمہیں بڑی سخت تکلیفیں چکھا رہے تھے۔ تمہارے نرینہ اولاد کو ذبح کردیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ تمہارے رب کی طرف سے اس میں بہت بڑی آزمائش تھی۔

7۔ یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کیاتھا کہ اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کروگے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔

8۔ موسیٰ نے کہا کہ تم اورروئے زمین میں رہنے والے تمام بھی(اللہ کا) انکار کروگے تو اللہ بے نیاز ہے485 اور خوبیوں والا ہے۔

9۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے نوح کی قوم، عاد اور ثمود کی قوم اور اس کے بعد آنے والوں کے متعلق خبریں کیا تمہارے پاس نہیں آئیں؟ انہیں اللہ کے سوا کوئی جاننے والا نہیں۔ ان کے پا س ان کے ر سول واضح دلیلیں لے کرآئے تھے۔ ان لوگوں نے اپنے ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ تم جس کے ساتھ بھیجے گئے ہو اس کو ہم نے انکار کر دیا۔ تم جس کی طرف بلارہے ہو اس میں ہمیں سخت تردد ہے۔

10۔ ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا آسمانوں اور زمین کے بنانے والے اللہ کے بارے میں تم شک کررہے ہو؟ تمہارے گناہوں کو بخشنے کے لئے اور ایک مقررہ مدت تک تمہیں مہلت دینے کے لئے ہی وہ تمہیں بلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم ہمارے ہی جیسے انسان ہو۔ ہمارے باپ دادا جنہیں عبادت کر رہے تھے ان سے تم ہمیں روکنا چاہتے ہو۔ اس لئے تم ہمارے پاس ایک واضح معجزہ لے کر آؤ۔

11۔ ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم تمہارے جیسے انسان ہی ہیں۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتاہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ اللہ کی مرضی کے سوا ہم کوئی معجزہ تمہارے پاس لا نہیں سکتے269۔ ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کر نا چاہئے۔

12۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ہم کو کیا ہوگیا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں؟ وہ ہمیں ہمارے راستے بتا دئے۔تم جو تکلیفیں ہمیں دے رہے ہو اسے ہم برداشت کرلیں گے۔ مضبوط ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کر نا چاہئے۔

14,13۔ انہوں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آؤ۔ ان کے رب نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ظلم کر نے والوں کو ہم ہلاک کر دیں گے۔ ان کے بعد ہم تمہیں اس زمین میں بسائیں گے۔ یہ (خبر) میرے سامنے کھڑے ہو نے سے اور میرے وعید سے ڈرنے والوں کے لئے ہے26۔

15۔ (رسولوں نے) فتح پائی۔ ضدی اورہر سرکش نامراد ہوا۔

16۔ اس کے سامنے دوزخ ہے، اور اس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

17۔ اس کو وہ گھونٹ گھونٹ پئے گا۔ وہ اس کے حلق سے نہیں اترے گا۔ ہر ایک سمت سے اس کو موت آئے گی۔لیکن وہ مرے گا نہیں۔ اس کے آگے اور سخت عذاب بھی ہے۔

18۔ اپنے رب کے انکار کر نے والے کی مثال راکھ ہے۔ آندھی والے دن میں زور دار ہوا اس کو اڑا دیتی ہے۔ جو بھی انہوں نے اکٹھا کیا اس پر وہ قدرت نہیں رکھیں گے۔ یہی (حقیقت سے) بہت دور کی گمراہی ہے۔

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے آسمانوں507 اور زمین کو مناسب سبب ہی سے پیدا کیا ہے؟ اگر وہ چاہے تو وہ تمہیں ہلاک کر کے نئی مخلوق لے آئے ۔

20۔ یہ اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔

21۔ سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کمزور لوگ تکبر کر نے والوں سے پوچھیں گے کہ ہم تمہاری ہی پیروی کر رہے تھے۔ پس اللہ کے اس عذاب سے کیا ہمیں کچھ تو بچاؤگے؟ وہ لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں راستہ دکھایا ہوتا تو ہم تمہیں راہنمائی کئے ہوتے۔ ہم جو یہاں تڑپیں اور صبر کر یں ہمارے حد تک سب برابر ہے۔ ہمارے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

22۔ جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا۔ میں نے بھی تم سے وعدہ کر کے وعدہ کی خلاف ورزی کردی۔میں نے تمہیں بلایا۔ تم نے میری بلاوے کو قبول کیا ، اس کے سوا تم پر میرا کوئی اختیار نہیں۔ پس تم مجھے الزام نہ دو۔ بلکہ اپنے آپ پر ملامت کرلو۔ میں بھی تمہیں بچانے والا نہیں ہوں۔ تم بھی مجھے بچا نہیں سکتے ہو۔ اس سے پہلے تم نے مجھے (اللہ کا) شریک ٹہرانے کو میں انکار کر تا ہوں۔ ظلم کر نے والوں کو دردناک عذاب ہے۔

23۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جنت کے باغات میں بھیجے جائیں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔اس میں وہ اپنے رب کی مرضی سے ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں سلام159 ہی ان کے لئے مبارک بادی ہوگی۔

24۔کیا تم نے نہیں جانا کہ اچھے عقیدے کو ایک پاکیزہ درخت سے اللہ نے کس طرح مثال بنائی ہے؟ اس درخت کی جڑمضبوطی کے ساتھ (گہرائی میں جم کر)اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔

25۔ اپنے پروردگار کی مرضی سے وہ ہروقت غذا دے رہا ہے۔ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے اللہ انہیں مثالیں پیش کر تا ہے۔

26۔ برے عقیدے کی مثال خراب درخت ہے۔وہ زمین کے اوپری سطح سے اکھاڑا گیا ہے، وہ ثابت نہیں رہے گا۔

27۔ایمان والوں کو مثبت عقیدے کے ذریعے اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اللہ ثابت قدم رکھتا ہے۔ ظلم کر نے والوں کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ جو چاہتاہے کر تاہے۔

29,28۔ کیا تم ا نہیں نہیں جانتے کہ اللہ کی نعمتوں کو (اللہ کے) انکار سے بدل کراپنی قوم کوتباہی کی دنیا میں لا بسایا ؟ اس میں وہ لوگ جھلسیں گے، وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے26۔

30۔ اللہ کے راستے سے ہٹ کر گمراہ کر نے کے لئے انہوں نے اس کا شریک ٹہرایا۔ کہہ دو کہ مزے لے لو، تمہارے پہنچنے کی جگہ دوزخ ہی ہے۔

31۔ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کوئی خریدو فروخت یا دوستی نہ ہو نے والا دن1 آنے سے پہلے نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ (نیک راہ میں) خرچ کریں۔

32۔ اللہ ہی نے آسمانوں507 اور زمین پیدا کئے۔ آسمان سے پانی برسایا۔ اس کے ذریعے تمہارے کھا نے کے لئے پھل نکالے۔ اس کے حکم کے مطابق سمندر میں چلنے کے لئے تمہیں جہاز بھی مسخر کردیا۔ ندیوں کو بھی تمہارے لئے فائدہ مند بنا دیا۔

33۔ لگاتار حرکت کرنے کی حالت میں سورج اور چاند کو تمہارے لئے فائدہ مند بنایا۔ رات اور دن بھی تمہارے لئے نفع بخش بنادیا۔

34۔ جو کچھ تم نے مانگا وہ تمہیں عطا کیا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا شروع کروگے تو اسے شمار نہیں کر سکو گے۔ انسان بڑا ہی ناانصاف اور احسان فراموش ہے۔

35۔ یاد دلاؤ 245جب ابراھیم نے کہا کہ اے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنادے34۔ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچالے۔

36۔ اے پروردگار! یہ(بتوں نے) بہت سے لوگوں کو گمراہ کردئے ۔جو میری پیروی کرتے ہیں وہ میرے ہیں۔ اگر کوئی میری نافرمانی کرے تو بخشنے والاہے، نہایت ہی رحم والا ہے۔

37۔ اے میر ے پروردگار! میں نے اپنے نسل کو تیری حرمت والے گھر کے قریب33، کھیتی کے لئے نامناسب وادی میں ،نماز ادا کر نے کے لئے بسا دیا ہے۔ پس اے اللہ! کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کرادے۔ یہ لوگ شکر ادا کر نے کے لئے انہیں پھلوں کی روزی عنایت فرما246۔

38۔ اے میرے پروردگار! ہم جو چھپا رہے ہیں اور ظاہر کر رہے ہیں سب کچھ تو جانتا ہے۔ زمین وآسمان میں کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔

39۔ اسماعیل اور اسحاق کو میرے بڑھاپے میں جس نے مجھے عطا کیااسی اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔ میرا رب دعا قبول کر نے والا ہے۔

40۔ اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کر نے والے بنا دے۔ اے میرے رب! میری دعا قبول فرما۔

41۔(یہ بھی ابراھیم نے کہا 247کہ) اے ہمارے رب! مجھے ، میرے والدین اور ایمان والوں کومحاسبہ کے دن 1معاف فرمادے۔

42۔ ظلم کر نے والے جو کر رہے ہیں اس سے اللہ غافل نہ سمجھ لینا۔ نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جانے والے دن1 ہی کے لئے اللہ نے انہیں مہلت دی رکھی ہے۔

43۔ (اس دن) اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے۔ (پھٹی ہوئی) ان کی نگاہیں پرانی حالت کو نہیں لوٹیں گی۔ ان کے دل بھی بے حس ہو جا ئیں گے۔

44۔ لوگوں کو عذاب پہنچانے والے دن1 کے بارے میں انہیں تنبیہ کرو۔ (اس دن) ظلم کر نے والے کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں چند دن کے لئے مہلت دو۔ تیری دعوت کو ہم قبول کر لیں گے، اور رسولوں کی بھی پیروی کریں گے۔ کیا اس سے پہلے تم نے یہ قسم نہیں کھائی تھی کہ ہمیں بالکل تباہی نہیں ہے؟

45۔ جو اپنے آپ پر ظلم کئے تھے ان کے مکانوں میں بھی تم بسے ہوئے تھے۔ تمہیں ظاہر ہوچکا کہ ہم ان کے ساتھ کیسا برتاؤکیا۔ (کئی) گزری ہوئی مثالیں بھی ہم تمہیں بتائے تھے۔

46۔ وہ لوگ سخت سازش کئے تھے۔ ان کی سازشیں پہاڑ وں کو بھی الٹ دینے کے قابل رہنے کے باوجود وہ سازشیں (کامیاب ہونا) اللہ ہی کے پاس ہے۔

47۔ اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا تھا، اللہ اس کی خلاف ورزی کر نے والا مت سمجھ لینا۔ اللہ زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔

48۔ اس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمانوں507 کو(دوسرے آسمانوں سے)453 بدل دیا جا ئے گا225۔ اکیلے اور زبردست اللہ کے سامنے سب لوگ جمع ہوں گے۔

49۔ اس دن1 مجرموں کوتم زنجیروں سے جکڑے ہوئے د یکھو گے۔

50۔ ان کے لباس تار کول سے تیار کئے گئے ہیں۔ ان کے چہروں کو آگ ڈھانک لے گی۔

51۔ ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق اللہ اجر دے گا۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

52۔ یہ نوع انسانی تک پہنچنے والی چیز ہے187۔(یہ اس لئے نازل کی گئی ہے کہ)اس کے ذریعے وہ آگاہ کئے جائیں، اور وہ یہ جان لیں کہ عبادت کے لائق وہی ایک اللہ ہے، اور عقل والے سوچ سمجھ لیں۔ 

سورۃ : 15 سورۃُ الحجر ۔ ایک بستی

کل آیتیں : 99

پارہ : 14

حجر ایک بستی کا نام ہے جہاں قوم ثمود آباد تھی۔ اس قوم کے بارے میں اس سورت کی آیت نمبر 80 تا 84 تک بتایاکیا گیا ہے ، اس لئے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے. . .

1۔ الف، لام، را2۔ یہ کتاب الٰہی اور واضح قرآن کی آیتیں ہیں۔

2۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے بعض اوقات آرزو کر یں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے!

3۔کھاتے، مزے اڑاتے اور امیدوں کی طرف مشغول ہو تے ہوئے انہیں چھوڑ دیجئے۔ پھروہ جان لیں گے۔

4۔ کسی بھی بستی کو ہم نے اس کے مقررہ وقت کے مطابق ہی ہلاک کیا ہے۔

5۔ کوئی قوم اپنی مقررہ مدت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔

6۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر نصیحت اتاری گئی ہے، تم دیوانے ہی ہو468۔

7۔ (اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے۔

8۔ ہم مناسب وجہ ہی سے فرشتوں کو بھیجتے ہیں153۔ اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جائے گی۔

9۔ ہم ہی اس نصیحت کو اتارا ہے۔ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے143۔

10۔ (اے محمد!)تم سے پہلے گزری ہوئی کئی قوموں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے تھے۔

11۔ جو بھی رسول ان کے پاس آئے وہ انہیں مذاق اڑائے بغیر نہیں رہتے۔

12۔ مجرموں کے دلوں میں ہم اسی طرح اس کو داخل کر دیتے ہیں۔

13۔ وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔اگلوں پرکی (گئی) کاروائی ایک مثال بن کر چلی گئی۔

15,14۔ ان کے لئے آسمان507 میں ایک دروازہ کھول دیتے اور وہ اس پر چڑھتے ہوئے اوپر بھی جاتے تو وہ یہی کہتے کہ ہماری نگاہوں کو مدہوش کردیا گیا ہے یا ہم لوگوں پر جادو کردیا گیا ہے357۔

16۔ آسمان507 میں ہم نے ستارے بنائے۔ دیکھنے والوں کے لئے اس کو سجا دیا۔

18,17۔ چوری چھپے سننے والے کے سوا ہر ایک شیطان مردود سے اسے محفوظ کیاہے۔ اس کو ایک روشن شعلہ بھگا دیتا ہے26۔

19۔ زمین کو پھیلایا، اس میں کھونٹے قائم کر دئے248۔ اس میں وزن کی حد بندی کی ہوئی ہر ایک چیز اگایا۔

20۔ تمہارے لئے اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو ان کے لئے بھی اس میں زندگانی کی ضرورتوں کومہیا کردئے۔

21۔ کوئی بھی چیز ہو اس کے خزانے ہمارے ہی پاس ہیں۔ ہم اس کو مقررہ انداز ہی سے اتارتے ہیں۔

22۔ بوجھل ہواؤں کو بھیجتے ہیں۔ پھر آسمان سے پانی برسا کروہ تمہیں پلاتے ہیں۔ اسے (آسمان میں) تم ذخیرہ کر نے والے نہیں ہو۔

23۔ ہم ہی زندہ کر تے ہیں، موت بھی دیتے ہیں۔ ہم ہی حقدار ہیں۔

24۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی ہم جانتے ہیں، اورپیچھے آنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔

25۔ تمہارا رب ہی انہیں یکجا جمع کرے گا۔وہ علم والا، حکمت والا ہے۔

26۔ سیاہ چکنی مٹی سے503، ریت ملی ہوئی چکنی مٹی سے506 ہم نے انسان کو پیدا کیا368۔

27ْ۔ سخت گرمی والے آگ سے اس سے پہلے ہم نے جنوں کو پیدا کیا۔

28۔ یاد دلاؤ جبکہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سیاہ چکنی مٹی سے503، ریت ملی ہوئی چکنی مٹی سے میں انسان کو پیدا کر نے والاہوں368۔

29۔ (اس نے کہا کہ) جب ان کو میں کرلوں اور ان میں ،میں اپنی روح پھونک دوں90 تو تم ان کے لئے عاجزی سے گرجاؤ11۔

31,30۔ ابلیس 509کے سوا سب فرشتے ایک ساتھ انہیں عاجزی کر نے لگے۔ لیکن اس نے عاجزی کر نے سے انکار کردیا26۔

32 ۔ (اللہ نے) فرمایا کہ اے ابلیس! انکساری کر نے والوں کے ساتھ تو کیوں شامل نہیں ہوا؟

33۔اس نے کہا کہ جسے تو نے سیاہ چکنی مٹی سے503 ، ریت ملی ہوئی چکنی مٹی سے506 پیدا کیا ہے اس انسان کو میں عاجزی کر نے والا نہیں۔

34۔ (اللہ نے کہا کہ) تم یہاں سے نکل جاؤ۔ تم مردود ہو

35۔ فیصلے کے دن 1تک تم پر لعنت ہے۔

36۔ اس نے کہا کہ اے پروردگار! وہ دوبارہ زندہ کئے جا نیکے دن1 تک مجھے مہلت عطا کر۔

37,38۔ (اللہ نے) فرمایا کہ مقررہ وقت کے دن 1تک کے لئے تمہیں مہلت دی جاتی ہے26۔

40,39۔ اس نے کہا کہ اے میرے پروردگار! تم نے مجھے گمراہ کردیا ، اس لئے میں زمین میں (برائی کو) آراستہ کر کے دکھاؤں گا۔ ان میں سے جو تیرے منتخب بندے ہیں ان کے سوا (دوسرے ) سب کو بہکاؤں گا26۔

41۔ (اللہ نے) فرمایا کہ یہ میرے پاس سیدھا راستہ ہے

42۔ میرے بندوں میں سے تیری پیروی کر نے والے گمراہوں کے سوا دوسرے کسی پربھی تیرا زور نہیں چلے گا۔

43۔ جہنم ہی ان سب کے لئے آگاہ کی ہوئی جگہ ہے۔

44۔ اس کے سات دروازے ہیں۔ ان میں سے بٹا ہوا ایک حصہ ہر دروازے کے لئے ہیں۔

45۔ (اللہ سے) ڈرنے والے جنت کے باغات میں اور چشموں میں8 ہوں گے۔

46۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بے خوف اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔

47۔ ان کے دلوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے۔ وہ تختوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی بن کر رہیں گے۔

48۔ اس میں انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں سے وہ باہر نکالے نہیں جائیں گے۔

49۔ تم میرے بندوں سے کہہ دو کہ میں بخشنے والا ہوں اور نہایت ہی رحم والا ہوں۔

50۔ (اور یہ بھی کہو کہ) میرا عذاب تو دردناک عذاب ہوگا۔

51۔ ابراھیم کے مہمانوں کے بارے میں بھی انہیں سناؤ

52۔ انہوں نے ان کے پاس آکر سلام 159کہا تو اس نے کہا کہ ہم تمہیں( دیکھ کر)ڈرتے ہیں۔

53۔ انہوں نے کہا کہ تم ڈرو نہیں۔ہم تمہیں ایک صاحب فہم فرزند کی بشارت دیتے ہیں۔

54۔ ابراھیم نے کہا کہ میری اس بڑھاپے کی حالت میں کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو؟ کس بنا پر تم مجھے بشارت دے رہے ہو؟

55۔ انہوں نے کہا کہ سچائی کے بنیاد پر ہی ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں۔ پس تم ناامید ہو نے والوں میں سے نہ ہوجانا۔

56۔ ابراھیم نے کہا کہ گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوسکتا ہے471؟

57۔ پھر پوچھاکہ اے رسولو161! تمہاری خبر کیا ہے؟

58۔ (انہوں نے کہا کہ) ہم گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

60,59۔انہوں نے کہا کہ لوط کے خاندان والوں میں سے ان کی بیوی کے سوا ان سب کو ہم بچالیں گے۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ہلاک ہو نے والی ہے26۔

62,61۔ جب وہ رسو ل 161لوط کے خاندان والوں کے پاس آئے تو اس نے کہا کہ تم اجنبی قوم معلوم ہو تے ہو26؟

65,64,63۔ (انہوں نے ) کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ وہ لوگ جو شک کر رہے تھے اس کو تمہارے پاس لے آئے ہیں۔ حق بات ہی تمہارے پاس لائے ہیں۔ ہم سچ بولنے والے ہیں۔ رات کے ایک حصہ میں تم اپنے خاندان کے ساتھ چلے جاؤ۔ ان کا پیچھا کر تے ہوئے (آخر میں) تم جاؤ۔ تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ حکم کے مطابق کر گزرو26۔

66۔ ہم نے اس کو یہ فیصلہ بھی پہنچا دیا کہ صبح کے وقت ان سب لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائیگی۔

67۔ اس بستی کے لوگ خوش ہو کر آئے۔

69,68۔ (لوط نے) کہا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں۔ پس تم لوگ مجھے رسوا نہ کردینا۔ اللہ سے ڈرو۔ مجھ کو ذلیل نہ کرو26۔

70۔ وہ بولے کہ دنیا والوں کو چھوڑ کر (دوسروں کے لئے سفارش کر نے سے) کیاہم نے تمہیں نہیں روکا تھا۔

71۔ اس نے کہا کہ اگر تم کو (کچھ) کر نا ہے تو لو یہ میری بیٹیاں موجودہیں۔

72۔ تمہاری زندگی کی قسم379! وہ لوگ اپنی (شہوت کے) نشے میں برباد ہوگئے۔

73۔ جب وہ لوگ روشنی حاصل کئے تو ایک بڑے زور کی آواز نے انہیں آلیا۔

74۔ ان پر گرم کیا ہوا پتھریلی بارش برسنے لگی۔ اس بستی کے اوپری حصہ کو ہم نے نچلا حصہ بنادیا412۔

75۔ غورو فکر کر نے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

76۔ وہ بستی (تمہارے آنے جانے کے) قائم شدہ راستے پر ہی ہے۔

77۔ ایمان والوں کے لئے اس میں مناسب نشانی ہے

78۔ گھنے باغوں میں رہنے والے (مدین والے) بھی ظالم تھے۔

79۔ انہیں بھی سزا دی گئی۔ وہ دونوں بستیاں (سب کے) جانے ہوئے راستے پر ہیں۔

80۔ (ثمود نامی) حجر والوں نے بھی رسولوں کو جھوٹا سمجھا

81۔ ہم نے اپنی نشانیوں کو انہیں عطا کیں۔ وہ لوگ انہیں جھٹلادئے۔

82۔ وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا اور امن سے رہے

83۔ صبح کے وقت انہیں ایک زو ردار آواز نے آپکڑا۔

84۔ وہ جو کر رہے تھے وہ انہیں نہیں بچایا۔

85۔ آسمانوں 507اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب ایک مناسب وجہ ہی سے پیدا کیا ہے۔ قیامت کی گھڑی آکر ہی رہے گی۔ پس خوش اسلوبی سے ان سے بے تعلق ہوجاؤ۔

86۔ تمہارا رب اچھا پیدا کر نیوالا ہے، علم والا ہے۔

87۔ (اے محمد!) بار بار پڑھی جانے والی سات (آیتیں) اور عظمت والا قرآن ہم نے تم کو عطا کی ہے 250۔

88۔ ان میں مختلف لوگ بہرہ مند ہو نے کے لئے ہم نے جو عطا کی ہے اس پر اپنی نظریں نہ دوڑاؤ۔ ان کے لئے فکر بھی مت کرو۔ ایمان والوں کے پاس تمہارے بازو جھکاؤ251۔

91,90,89۔ بعض چیزوں کو مان کر، بعض چیزوں سے انکار کر نے والوں کو قرآن414(پچھلی کتاب( کے ٹکڑے کر نے والوں پر جس طرح ہم نے( عذاب) نازل کی تھی اسی طرح (ان پر بھی ) اتارا جائے گا۔اللہ کے اس پیغام کے متعلق) (اے محمد!) کہہ دو کہ میں کھلے انداز سے خبردار کر نے والا ہوں26۔

93,92۔ تمہارے پروردگار کی قسم! وہ جو کر رہے تھے اس کے متعلق ان سب سے ہم باز پرس کریں گے26۔

94۔ تمہیں جو حکم دیا گیا ہے بغیر مروت کے بیان کردو۔ مشرکوں کو نظر انداز کردو۔

95۔ مذاق اڑانے والوں سے ہم ہی تمہیں بچائیں گے

96۔ وہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کا تصور کر تے ہیں۔ پھر وہ جان لیں گے۔

97۔ وہ لوگ (تمہارے بارے میں) باتیں کر نے کی وجہ سے تمہارا دل جو تنگ ہو تا ہے ہم اسے جانتے ہیں۔

98۔ تمہارے رب کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کیجئے اور سجدہ کیجئے۔

99۔ یقینی بات252 (موت) آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہو۔ 

سورۃ : 16 سورۃ النحل ۔ شہد کی مکھی

کل آیتیں : 128

اس سورت کی آیت نمبر 68 اور 69 میں شہد کی مکھی اور شہد کے بارے میں کہا گیا ہے، اس لئے اس سورت کا نام النحل رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے . . .

1۔ اللہ کا حکم آچکا۔ پس اس کی جلدی نہ کرو۔ وہ پاک ہے10۔ جس کو وہ شریک ٹہراتے ہیں ان سے وہ برتر ہے۔

2۔ یہ تاکید کرنے کے لئے کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے، پس تم مجھ ہی سے ڈرو ، وہ اپنے روح رواں حکم کے ساتھ فرشتوں کووہ اپنے پسندیدہ بندوں کے پاس بھیجتا ہے۔ 

3۔ آسمانوں507 اور زمین کو اس نے مناسب سبب ہی سے پیدا کیا۔ ان کے شریک ٹہرانے سے وہ برتر ہے۔ 

4۔ انسان کو اس نے منی کی بوند سے پیدا کیا۔ لیکن وہ تو کھلم کھلا بحث کر نے والا ہوگیاہے۔ 

5۔ اس نے چوپائے تمہارے لئے ہی پیدا کیا368&506۔ جن میں سردی سے بچاؤ (کا کمبل) بھی ہے اور کئی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے تم کھاتے بھی ہو171۔ 

6۔ صبح میں جب اسے چلائے لے جاتے ہو اور شام میں اسے واپس چھوڑتے ہو، اس میں تمہارے لئے قدر ہے۔ 

7۔ تمہارے بوجھ ان بستی تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بڑی مشقت ہی سے پہنچ سکتے ہو۔تمہارا رب بڑا ہی شفیق ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

8۔ گھوڑے، خچر اور گدھوں کو تمہاری سواری کے لئے اور قدرو منزلت کے لئے(اس نے پیدا کیا)۔ جو تم نہیں جانتے ہو وہ (اسکے بعد) پیدا کر ے گا253۔ 

9۔ سیدھی راہ اللہ کا ذمہ ہے۔ ٹیڑھا راستہ بھی ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست دکھادیتا۔ 

10۔ اسی نے آسمان507 سے تمہارے لئے پانی برسایا۔ اس میں پینے کے لئے پانی بھی ہے۔ تم چرَانے کے لئے اس سے نباتات بھی ملتے ہیں۔ 

11۔اس کے ذریعے کھیتیاں، زیتون کے درخت، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل تمہارے لئے اگا تا ہے۔ غورو فکر کر نے والوں کے لئے اس میں مناسب نشانی ہے۔ 

12۔ رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ وہ تمہارے لئے سودمند بنایا۔ (دوسرے) ستارے بھی اس کے حکم سے مسخر کر دیا گیا ہے۔ سمجھنے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

13۔ زمین میں وہ تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کئی مختلف رنگ کے ہیں۔ عبرت حاصل کر نے والے لوگوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

14۔ سمندر سے تازہ گوشت505 تمہارے کھا نے کے لئے، پہننے کے زیورتم اس میں سے ظاہر کر نے کے لئے، اس کے فضل کو تلاش کر نے کے لئے، اور تم شکر ادا کر نے کے لئے اس نے سمندر کو تمہارے تابع کر دیا۔ کشتیاں اسے چیرتی ہوئی چلنے کو تم دیکھ رہے ہو۔ 

16,15۔ زمین تمہیں ہلا کر نہ رکھنے کے لئے اس میں کھونٹیاں248، تمہیں راہ جاننے کے لئے کئی راستے، نہریں اور کئی نشانیاں اس نے مقرر فرمائیں۔ ستاروں کے ذریعے وہ راستہ معلوم کر لیتے ہیں26۔ 

17۔کیا پیدا کر نے والا ، پیدا نہ کرنے والے کی طرح ہوسکتا ہے؟کیا تم غور نہیں کروگے؟ 

18۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو تم گن نہ سکوگے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

19۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کر تے ہو، اللہ جانتا ہے

20۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے۔ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ 

21۔ وہ مردے ہیں، زندہ رہنے والے نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کب زندہ کئے جائینگے۔

22۔ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل (اسے) انکار کر رہے ہیں۔ وہ تکبر کر نے والے ہیں۔ 

23۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کر تے ہیں، اللہ جانتا ہے۔ تکبر کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 

24۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اگلوں (سلف )کی گھڑی ہوئی کہانیاں۔ 

25۔ قیامت کے دن1 اپنا پورا بوجھ اور جنہیں یہ لوگ نادانی سے گمراہ کر دئے تھے ان لوگوں کا بوجھ لادنے کے لئے( ایسا کہہ رہے ہیں)۔ یاد رکھو! جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے254۔

26۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی سازش کئے تھے۔ ان کی عمارتوں کے نچلے حصہ میں اللہ آیا61۔ اوپر کی چھت ان پر گری۔ان کے انجانے حالت میں ان پر عذاب آگیا۔ 

27۔ پھر قیامت کے دن1 انہیں رسوا کرے گا۔ اور کہے گا کہ جنہیں تم میرا شریک سمجھ کر حجت کر رہے تھے، وہ اب کہاں ہیں؟جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج تو رسوائی اور خرابی (اللہ کا) انکار کر نے والوں ہی کے لئے ہے۔ 

28۔ جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا تھا انہیں جب فرشتے قبض کر یں گے165 تو وہ یہ کہتے ہوئے صلح کی باتیں کرنے لگیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ایسا نہیں ہے۔جو کچھ تم کر رہے تھے اسے اللہ جانتا ہے۔ 

29۔ (کہا جائے گا کہ)دوزخ کے دروازوں کے راستے سے داخل ہوجاؤ۔ اس میں ہمیشہ رہوگے۔ تکبر کر نے والوں کا ٹھکانا بہت براہے۔ 

30۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا رب کیا نازل کیا؟ وہ کہیں گے کہ بھلائی۔ اس دنیا میں جو بھلائی کئے ان کے لئے بھلائی ہی ہے۔ آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کی دنیا بہت اچھی ہے۔ 

31۔ دائمی جنت کے باغوں میں وہ داخل ہوں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں انہیں موجود ہو گا۔ اسی طرح (اس سے) ڈرنے والوں کو اللہ بدلہ دے گا۔ 

32۔ نیک رہنے کی حالت میں ان کی جانوں کوقبض 165کر تے ہوئے فرشتے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو159۔ تم جو کر رہے تھے اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ 

33۔کیا وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں153 یا تمہارے رب کا حکم آجائے۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی ایسا ہی کیا تھا۔اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کررہے تھے۔ 

34۔ ان کے برے عمل انہیں پکڑا۔ وہ جو مذاق اڑا رہے تھے (وہی سزا) انہیں گھیر لیا۔ 

35۔ شریک ٹہرانے والے کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے اجداد اس کے سوا کسی اورکی عبادت نہ کرتے، اس کے (حکم کے) سوا ہم کسی چیز کو حرام نہ ٹہراتے۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی ایسا ہی کئے تھے۔ تو کیا رسولوں پر واضح طور پر پیغام پہنچادینے کے علاوہ کوئی اور ذمہ بھی ہے؟ 

36۔ ہم ہر امت میں ایک رسول بھیجا 214کہ اللہ کی عبادت کرو اور بری طاقتوں سے بچو۔ اللہ جنہیں ہدایت دی تھی وہ بھی اس امت میں تھے۔ جن پرگمراہی ثابت ہوچکی وہ بھی تھے۔پس تم زمین میں سفر کرو اور دیکھ لو کہ جھوٹ سمجھنے والوں کا انجام کیسا رہا۔

37۔ تم کتنی ہی خواہش کرو کہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں ، اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کو ہدایت نہیں دیتا۔ ان کا کوئی مددگاربھی نہیں81۔ 

38۔ یہ لوگ اللہ ہی پرسخت قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ پھر سے زندہ نہیں کرے گا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ تو اس کا سچا وعدہ ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

39۔تاکہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اس کو واضح کر دے اور (اللہ کا) انکار کر نے والے جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے( وہ پھر سے زندہ کر ے گا)۔ 

40۔جب ہم کسی چیز کا ارادہ کر تے ہیں تو صرف ’ہوجا‘ ہی ہمارا کہنا ہوگا۔ فوراً وہ ہوجاتی ہے506۔ 

41۔ ظلم کئے جانے کے بعد اللہ کی طرف ہجرت460 کر نے والوں کو اس دنیا میں ہم اچھے طریقے سے بسائیں گے۔ آخرت کا اجر اس سے بھی بڑا ہے۔ کاش وہ لوگ یہ جانتے! 

42۔ وہ لوگ صبر اختیار کر تے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

44,43۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجاتھا239۔ انہیں واضح دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ ہمارا پیغام سنایا105۔ اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھو150۔ ہم نے اس نصیحت کوتم پر اس لئے اتارا 26 تاکہ لوگوں پر جو نازل کیا گیا ہے اسے تم انہیں سمجھا سکو255اور وہ اس پر غورو فکر کریں۔ 

47,46,45۔ برے کام کی سازش کر نے والے کیا اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا ان کے انجانے میں انہیں عذاب آجا ئے یا جب وہ اپنے کاموں میں مشغول ہوں وہ انہیں آپکڑ ے یا ڈرتے رہنے کی حالت میں انہیں وہ پکڑلے ؟ وہ بچنے نہیں پائیں گے۔ تمہارا رب بڑا مہربان اور نہایت ہی رحم والا ہے26 ۔ 

48۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز کو نہیں دیکھا؟ اس کے سائے دائیں اور بائیں جانب سے جھک کر اللہ کے سامنے عاجزی سے گر رہے ہیں۔

49۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور زمین میں رہنے والے جاندار اور فرشتے سب اللہ ہی کو سجدہ کر تے ہیں396۔ فرشتے تکبر نہیں کرتے۔ 

50۔ وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں۔جو حکم دیا گیا ہے، تعمیل کر تے ہیں۔ 

51۔ اللہ فرماتا ہے کہ دو معبودوں کا تصور نہ کرو۔ وہ تو ایک ہی معبود ہے۔ پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ 

52۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہیں سب اسی کے ہیں۔ یہ دین بھی ہمیشہ اسی کا ہے۔ کیا تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈر رہے ہو؟ 

53۔ تمہارے پاس موجود ہر نعمت اللہ ہی کا ہے۔ پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریاد کر تے ہو۔ 

55,54۔ پھر جب اس تکلیف کو وہ تم سے دور کر دیتا ہے تو ہماری عطا کی ہوئی نعمتوں کو ناشکری کر تے ہوئے تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹہرانے لگتے ہیں۔ فائدہ اٹھالو، پھر تم جان جاؤگے26۔ 

56۔ ہماری عطا کی ہوئی چیزوں میں سے ایک حصہ اپنے انجانے (فرضی معبود) کے لئے مقرر کر دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تمہارے بہتان کے بارے میں بازپرس کئے جاؤگے۔ 

57۔وہ اللہ کے لئے بیٹیاں تصور کر تے ہیں۔ وہ پاک ہے10۔مگر اپنے لأ ان کی چاہت (بیٹے) کی ہے۔ 

58۔ ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجا تا ہے اور وہ غمزدہ ہوجاتا ہے۔ 

59۔ اسے کہی گئی خبرکوبری(سمجھنے) کی وجہ سے وہ لوگوں سے چھپ جاتا ہے۔(وہ سوچنے لگتا ہے کہ) رسوائی کے ساتھ اس کو رکھ لیں یا مٹی میں اسے (زندہ) دفنا دیں۔ یاد رکھو! ان کا فیصلہ بہت برا ہے۔ 

60۔ آخرت کے انکار کر نے والوں کاصفت برا ہی ہے۔ اللہ کے تو بلندصفت ہیں۔ وہ زبردست، حکمت والاہے۔ 

61۔ لوگوں کی ظلم کی وجہ سے اگر اللہ انہیں سزا دینے لگتا تو زمین میں ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا۔ بلکہ وہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے رکھاہے۔ پھر جب ان کا وہ مقررہ وقت آجا ئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ 

62۔ وہ لوگ (اپنے لئے) جو(بیٹیاں) پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کے لئے تصور کرتے ہیں۔ ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ (اس سے) انہیں بھلائی ہے۔ ان کے لئے جہنم ہی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ (اس میں) وہ ڈھکیل دئے جائیں گے۔ 

63۔ اللہ کی قسم! تم سے پہلے گزرے ہوئے قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا۔ شیطان نے ان کے اعمال خوبصورت بنا کر دکھائے۔ اور آج وہی ان کا گہرا دوست ہے۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

64۔ (اے محمد!)ہم نے تم پر یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ، انہیں واضح کردیں256۔ (یہ) ایمان لانے والوں کیلئے رہنمائی اور رحمت ہے۔ 

65۔ اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا۔ زمین مردہ ہونے کے بعد اس (پانی) کے ذریعے اسے زندہ کیا۔ سننے والی قوم کے لئے اس میں مناسب نشانی ہے۔ 

66۔ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں موجود گوبر اور خون کی درمیانی حالت میں پاکیزہ دودھ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ پینے والوں کے لئے وہ مزیدار ہے257۔

67۔ کھجور اور انگور کے پھلوں سے شراب116اور عمدہ کھانے تیار کر تے ہو۔ عقل رکھنے والی قوم کے لئے اس میں اچھی نشانی ہے۔ 

69,68۔ تمہارے رب نے شہد کی مکھیوں سے فرمایا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور لوگ جو بناتے ہیں اس میں چھتا بنالے۔ ہر ایک پھلوں سے کھالیا کر۔ تیرے پروردگار کی راہوں میں آسانی سے چل474۔ ان کے پیٹوں سے مختلف رنگ کے مشروب ظاہر ہوتے ہیں259۔ اس میں لوگوں کے لئے بیماری کی شفاء ہے۔ غورو فکر کرنے والی قوم کے لئے اس میں اچھی نشانی ہے26۔

70۔ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر وہ تمہیں قبض کرے گا۔ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانے ہوئے کی طرح 333بننے کے لئے بڑھاپے کی عمر تک پہنچائے جا نے والے بھی تم میں ہیں۔ اللہ جاننے والا، قدرت والا ہے۔ 

71۔اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر مال و دولت میں برتری دے رکھی ہے۔(دولت سے) فوقیت پائے ہوئے لوگ اپنی دولت اپنے غلاموں کو 107دے کر انہیں اپنے سے برابر نہیں بناتے۔ کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں؟ 

72۔ تمہارے لئے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں۔ تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے۔ پاکیزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا کیا۔ کیا یہ باطل پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کااحسان بھول جاتے ہیں؟ 

73۔ اللہ کو چھوڑکر کیا وہ ایسوں کی پرستش کر تے ہیں جو آسمانوں507 اور زمین سے ان کے روزی میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ طاقت رکھتے ہیں۔ 

74۔ اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

75۔اللہ مثال بیان کر تا ہے کہ کسی کی ملکیت کا ایک غلام جو کسی چیز پر اختیار نہ رکھتا ہو اور جس کو ہم نے اچھی دولت عطا کی ہے۔ یہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر طور پر (نیک راہ میں) خرچ کر تا ہے۔ (کیا یہ دونوں) برابر ہو سکتے ہیں؟ ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

76۔ اللہ دو آدمیوں کا مثال دیتا ہے۔ ان میں سے ایک گونگا ہے، جو کسی کام کا نہیں۔ وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اسے کہیں بھی بھیجو وہ بھلائی لے کر نہیں آئے گا۔ کیا (ایسا)شخص اور وہ جوسیدھی راہ پر چلتے ہوئے انصاف کرنے والاہے، برابر ہوسکتے ہیں؟

77۔ آسمانوں507 اور زمین میں پوشیدہ چیزیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ قیامت کی گھڑی کا حادثہ آنکھ جھپکنے کی طرح یا اس سے بھی کم وقت میں واقع ہو جائے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔

78۔ اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کی پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل دئے تاکہ تم شکر گزاربنوں۔ 

79۔ آسمان کی کھلی فضا میں تسخیری حالت میں کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا؟ اللہ کے سوا کوئی انہیں (فضا میں) تھامے ہوئے نہیں ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں260۔ 

80۔ تمہارے گھروں میں اللہ نے تمہارے لئے سکون پیدا کیا ہے۔ چوپایوں کے کھالوں سے تمہیں خیمے بنائے۔ جن کوتم سفر میں اور بستی کے قیام میں آسانی سے لے جاتے ہو۔ مینڈھے کے اون، بکرے کی روئیں اور اونٹ کی بالوں سے لباس اور مقررہ وقت تک (کام آنے والے) چیزیں بھی بنایاہے۔ 

81۔ اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سائے بنائے۔ پہاڑوں میں تمہارے لئے غار بنائے۔ گرمی سے تمہیں بچانے والے کرتے اور جنگ میں محفوظ رکھنے والے زرہیں بھی اس نے بنائے۔ اسی طرح وہ اپنی نعمتوں کو تم پر پوری کر تا ہے تاکہ تم فرماں بردار بن کر چلے۔ 

82۔ اگر وہ نظر انداز کر یں تو کھول کر بیان کر نا ہی تمہارے ذمہ ہے81۔ 

83۔ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں ، پھر اسے انکار کر دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر (اللہ کا) انکار کر نے والے ہی ہیں۔ 

84۔ ہر ایک قوم سے ایک گواہ جس دن1 ہم اٹھائیں گے تو (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو (بات کر نے کی)اجازت نہیں ملے گی۔ وہ لوگ (پھر دنیا میں بھیج کرعبادت کر نے کے لئے) مجبور نہیں کئے جائیں گے۔ 

85۔ ظالم لوگ جب عذاب دیکھیں گے تو ان سے وہ عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔ انہیں مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔ 

86۔ مشرک لوگ جب اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہی ہمارے معبود ہیں۔ تجھے چھوڑ کر ہم انہیں کو پکارا کر تے تھے۔ وہ جواب میں کہیں گے کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ 

87۔ اس دن وہ اللہ کے پاس اپنی سپردگی پیش کر یں گے۔ وہ جو جھوٹ گھڑ رہے تھے ان سے گم ہو جائیں گی۔ 

88۔ (ہمیں)انکار کر کے اللہ کی راہ سے روکنے والے فساد برپا کر نے کی وجہ سے انہیں عذاب پرعذاب ہم بڑھاتے جائیں گے۔ 

89۔(اے محمد!)یاد دلاؤ اس دن کاجب ہم ہر ایک قوم میں انہیں میں سے ایک گواہ ان کے مقابلے میں کھڑا کریں گے اور تمہیں ان کے لئے گواہ بنائیں گے۔ اس کتاب کوہم نے تم پر ہر ایک چیز کے لئے وضاحت، ہدایت اور مسلمانوں کے لئے خوشخبری بنا کر نازل کیا ہے۔ 

90۔ انصاف ، بھلائی اوررشتہ داروں کو دینے کے لئے اللہ تمہیں حکم دیتا ہے۔ بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے وہ تمہیں روکتا ہے۔ اچھے شعور حاصل کر نے کے لئے وہ تمہیں نصیحت کر تا ہے۔ 

91۔ جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ تم اللہ کواپنے اوپرضامن ٹہرا کر قسموں کو پختہ کر نے کے بعد اسے مت توڑو64۔ تم جو کر رہے ہواسے اللہ جانتا ہے۔ 

92۔ مضبوطی سے کاتنے کے بعد کاتے ہوئے سوت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی اس عورت کی طرح نہ ہوجانا۔ ایک گروہ سے دوسرا گروہ تعداد میں بڑھ کر رہنے کی وجہ سے (ان کی طرفداری میں) تمہاری قسموں کو دھوکے سے استعمال مت کرو۔ اس کے ذریعے اللہ تمہیں آزماتا ہے484۔ تمہارے اختلاف کے بارے میں قیامت کے دن1 وہ تمہیں واضح کردے گا۔ 

93۔اگر اللہ چاہتا تو وہ تمہیں ایک ہی امت بنا دیا ہوتا۔ بلکہ وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم جو کر رہے تھے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ 

94۔ تم اپنے درمیان دھوکہ دینے کے لئے قسمیں نہ کھاؤ64۔ اگر ایسا کروگے تو جمے ہوئے قدم پھسل جائیں گے۔ اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے تم سزا چکھو گے۔ تمہیں سخت عذاب ملے گا۔ 

95۔ اللہ کے عہد کو حقیر دام میں نہ بیچو445۔ اگر تم سمجھو تو اللہ کے پاس جو ہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

96۔ تمہارے پاس جو ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ اللہ کے پاس جو ہے وہی قائم رہنے والا ہے۔ صبر اختیار کر نے والوں کو ان کے بہترین عمل کی وجہ سے ان کے مطابق اجر دیں گے۔ 

97۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت جوایماندار ہو اور نیک عمل کرے اس کو مسرت بھری زندگی بسر کرائیں گے۔ ان کے بہترین عمل کی وجہ سے ہم ان کے اجرانہیں دیں گے۔

98۔ قرآن پڑھتے وقت مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ 

99۔ ایمان والوں پر اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا کچھ اختیار نہیں۔ 

100۔ اسے اپنا محافظ بنانے والے اور اللہ کا شریک ٹہرانے والوں پر ہی اس کا زور چلے گا۔

101۔ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں30 تووہ کہتے ہیں کہ تم گھڑ لیتے ہو۔ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کونسی بات نازل کرنا ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔

102۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اس کو تمہارے رب کی طرف سے روح القدس444 نے سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے492 تاکہ ایمان والوں کو مضبوط بنا دے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہو۔ 

103۔ ہم جانتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ ایک آدمی ہی انہیں سکھاتا ہے۔ جس کے سات اسے ملاتے ہیں ان کی زبان ہی الگ ہے142۔ یہ تو واضح عربی489 زبان ہے227۔ 

104۔ اللہ کی آیتیں نہ ماننے والوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

105۔ اللہ کی آیتیں جو مانتے نہیں وہی لوگ جھوٹ گھڑنے والے ہیں۔ وہی جھوٹے ہیں۔

106۔ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کا انکار کر نے والوں پر اور انکار کو اپنے دل میں کشادگی سے جگہ دینے والوں پر اللہ کا غضب اور سخت عذاب ہے۔ بجز اس کے 261جسے مجبور کیا گیا ہو اوراس کا دل قوی ایمان کی حالت میں ہو۔ 

107۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت سے زیادہ اس دنیا کی زندگی کے خواہاں تھے۔ (اس کے) انکار کر نے والوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ 

108۔ ان کے دلوں پر، کانوں پراور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی۔ وہی لوگ غافل ہیں۔

109۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 

110۔ آزمائش میں ڈالے جانے کے بعد جس نے ہجرت460 کی، جہاد کیااورصبر بھی اختیار کیا، ان کے لئے ان کا پروردگار ہے۔ اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

111۔ جس دن 1ہر ایک اپنے بارے میں بحث کر نے آئے گا ، ہر ایک کو ان کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

112۔ اللہ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے۔ وہ پر امن اور پر سکون تھی۔ ہر جگہ سے اس بستی کے لئے رزق فراغت سے پہنچ رہا تھا۔ لیکن اس بستی نے اللہ کی نعمتوں کا شکر بھول گئے۔ اس لئے ان کی کرتوتوں کی وجہ سے اس بستی کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ 

113۔ انہیں میں سے ان کے لئے رسول آیا۔ جسے انہوں نے جھوٹا سمجھا۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی حالت میں انہیں عذاب نے آ پکڑا۔ 

114۔ اللہ جو تم کو عطا کیا ہے اس میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ اگر تم اسی کی عبادت کر نے والے ہو تو اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ 

115۔ مردار، خون، سور کا گوشت407 اورجس پرغیر اللہ کا نام لیا گیا ہو42، یہ سب وہ تمہارے لئے حرام کر دیا ہے۔ جو حد سے نہ گزرے ، طلب لے کر نہ جائے اور مجبور ہو431، اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے171۔ 

116۔ تمہاری زبانیں جو جھوٹ کہتی ہیں اس بنا پر تم اللہ پر جھوٹی بات گھڑتے ہوئے یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اللہ پر جھوٹی بات گھڑنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔ 

117۔ (یہ) حقیر سی سہولتیں ہیں۔ (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

118۔ (اے محمد!) ہم نے جوتم کو پہلے بتا چکے تھے262 اسے یہودیوں پر حرام کر دیئے تھے۔ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم ڈھالئے۔ 

119۔ نادانی کی وجہ سے برائی کی، اس کے بعد توبہ کرکے اصلاح کرلی ، ان کے لئے اللہ ہے۔ اس کے بعد تمہارا پروردگار بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

120۔ ابراھیم ایک قوم تھے، اللہ کے فرماں بردار اور سچائی کی راہ پر قائم تھے۔ وہ شرک کر نے والے نہیں تھے۔ 

121۔ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اس نے انہیں منتخب کر لیا۔ سیدھی راہ پر انہیں چلایا۔

122۔ انہیں اس دنیا میں بھلائی عطا کی۔ وہ آخرت میں نیک لوگوں میں ایک ہوں گے۔ 

123۔ (اے محمد!)پھر ہم نے تمہیں وحی کی تھی کہااور وہ شرک کر نے والے نہیں سچائی کی راہ پر قائم رہنے والے ابراھیم کے دین کی پیروی کرو۔ وہ شرک کر نے والے نہیں تھے۔ 

124۔ ان کے اختلاف کر نے والوں پر ہی ہفتے کے دن (مچھلی نہ پکڑنے کاقانون) تھا146۔ قیامت کے دن1 تمہارا رب ان کے اختلافی معاملے میں ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ 

125۔ حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ تمہارے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ ان کے ساتھ بہترین طریقے سے مباحثہ کرو۔ تمہارا پروردگار اپنے راستے سے بھٹکے ہوؤں کو جانتا ہے۔ سیدھی راہ پانے والوں کو بھی وہ جانتا ہے۔ 

126۔ اگر تم بدلہ لینا ہو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہیں ستا یا گیا ہے۔ اگر تم صبراختیار کرو تو صبر کر نے والوں کے لئے وہی بہتر ہے۔ 

127۔ صبر اختیار کرو۔ تمہارا صبر کر نا اللہ ہی کے پاس ہے۔ ان کے لئے تم فکر نہ کرو۔ وہ سازش کر نے کی وجہ سے بے قرار بھی نہ ہوں۔ 

128۔ (اس سے) ڈرنے والوں اور نیکی کر نیوالوں کے ساتھ ہی اللہ ہے۔

More Articles …