Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 41 سورۃ فصّلت ۔ واضح کر دی گئی

کل آیتیں : 54

اس سورت کی تیسری آیت میں لفظ فصلت جگہ پانے کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے کی طرف سے (یہ) نازل ہوئی ہے۔ 

3۔ (یہ) سمجھنے والی قوم کے لئے آیتیں واضح کی گئی کتا ب ہے۔ عربی489 زبان میں واقع قرآن 227ہے۔ 

4۔ خوشخبری سنانے والی اور آگاہ کر نے والی (ہے یہ)۔ ان میں سے اکثر نے جھٹلادیا۔ پس وہ نہیں سنیں گے۔ 

5۔ وہ کہتے ہیں کہ تم جس کی طرف ہمیں بلا رہے ہو اس سے (روکنے کے لئے) ہمارے دلوں میں غلاف اور کانوں میں بہراپن اورہمارے تمہارے درمیان ایک پردہ بھی ہے۔ پس تم اپنا کام کرو اور ہم بھی اپنا کام کر تے ہیں۔ 

6۔(اے محمد!) کہہ دو کہ میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں، اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہارامعبود ایک ہی معبودہے۔ اس لئے تم اس کی طرف مستحکم رہو۔ اس سے مغفرت چاہو۔ شرک ٹہرانے والوں کے لئے خرابی ہی ہے۔ 

7۔ وہ زکوٰۃ نہیں دیں گے اور آخر ت1 کا بھی انکار کرنے والے ہیں۔ 

8۔ ایمان لاکر نیک عمل کر نے والوں کو ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ 

9۔ کہو کہ کیا تم زمین کو دو دنوں میں پیدا کر نے والے کا انکار کر تے ہو179؟ اور اس کے ہمسروں کا تصور کر تے ہو۔ وہی سارے جہاں کا رب ہے۔ 

10۔ چار دنوں میں اس کے اوپر کھونٹے بنادئے248۔ اور اس میں برکت رکھی۔ ان کے رزق کو اس میں مقرر کیا179۔ سوال کر نے والوں کو ٹھیک جواب یہی ہے408۔ 

11۔ پھر آسمان 507جب دھواں تھا تو اس کی طرف متوجہ ہوا353۔ آسمان اورزمین سے اس نے کہا کہ خوشی سے یا ناخوشی سے تمہیں حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے تعمیل کر تے ہیں96۔

12۔ دو دنوں میں اس نے سات507 آسمان بنائے179۔ ہر آسمان507 میں اس کے مناسب حکم جاری کیا۔ نچلے آسمان507 کو چراغوں سے سجایا۔ (اور اس کو)محفوظ کردیا307۔ یہ غالب، جاننے والے کا انتظام ہے۔ 

13۔ کہہ دو کہ اگر تم جھٹلاؤگے توقوم عاد اور ثمود کو واقع ہو نے والی بجلی کی گرج کی طرح تم پر بھی بجلی کے کڑک کی تنبیہ کر تا ہوں۔ 

14۔ ان سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی لوگوں کے پاس رسول(یہ تعلیم دینے کے لئے) آئے کہ اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ تو اس کو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو وہ فرشتوں کو اتارتا۔ پس تم جس کے ساتھ بھیجے گئے ہو اسے ہم انکار کر نے والے ہیں154۔

15۔ قوم عادنے زمین میں ناحق تکبر کیا۔ اور کہا کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہیں؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان کا پیدا کر نے والا اللہ ان سے زیادہ طاقتور ہے؟ وہ لوگ ہماری نشانیوں کا انکار کر نے والے تھے۔ 

16۔اس لئے اس دنیوی زندگی ہی میں ذلت بھرے عذاب کامزہ چکھانے کے لئے منحوس دنوں381 میں ان پر سخت آندھی بھیج دی۔ آخرت کا عذاب (اس سے) زیادہ رسوا کن ہے۔ وہ لوگ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 

17۔ قوم ثمود کو ہم نے سیدھی راہ دکھائی۔ وہ لوگ سیدھی راہ سے زیادہ اندھے پن ہی کو پسند کیا۔ اس لئے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے بادلوں کی گرج جیسی ذلت بھر ا عذاب انہیں آپکڑا۔ 

18۔جو لوگ ایمان لا ئے اور (ہم سے) ڈرے انہیں ہم نے بچا لیا۔ 

19۔ اللہ کے دشمن جہنم کی طرف اکٹھا کئے جانے والے دن 1وہ لوگ ترتیب سے کھڑے کئے جائیں گے۔

20۔ آخر جب وہ لوگ وہاں آئیں گے تو ان کے خلاف ان کے کان، آنکھیں اور کھالیں ان کے کرتوتوں کے بارے میں گواہی دیں گی۔ 

21۔ وہ اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔وہ جواب دیں گے کہ ہر چیز کو گویائی عطا کر نے والے اللہ ہی نے ہمیں بھی گویائی دی۔ پہلی با ر اسی نے تمہیں پید اکیا۔ اور اسی کے پاس واپس لے جائے جاؤگے۔ 

22۔تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف گواہی نہ دینے کے لئے تم نے (ان کو) کوئی کام چھپائے نہیں۔ اور تم نے سوچا کہ تمہارے کاموں میں سے اکثر کو اللہ نہیں جانتا۔ 

23۔ یہی تمہارے رب کے بارے میں تمہارا گمان تھا۔ وہ تمہیں برباد کر دیا۔ اس لئے تم نقصان اٹھا نے والوں میں سے رہ گئے۔ 

24۔ اگر یہ انتظار کریں تو جہنم ہی ان کا ٹھکانا ہے۔یہ لوگ (پھر سے دنیا میں لوٹ کر) عباد ت کر نے کا موقع اگر چاہیں تو وہ تکلیف انہیں نہیں دی جائے گی۔ 

25۔ ان کے لئے کچھ ساتھی مقرر کردئے ہیں۔ ان کے آگے اور پیچھے جو ہے اس کو وہ خوشنما بناکر دکھا تے ہیں۔ اس لئے ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں میں رہنے والے (برے) گروہوں کے ساتھ ان کے خلاف بھی حکم ثابت ہوچکا۔ یہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ 

26۔(اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو۔ تم غلبہ پانے کے لئے اس میں (الجھانے کے لئے) بیہودہ کام کرو۔ 

27۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کوہم سخت عذاب چکھائیں گے۔ وہ جو برے کام کر رہے تھے اس کو ہم بدلے میں دیں گے۔ 

28۔ یہی اللہ کے دشمنوں کا بدلے کا دوزخ ہے۔ اس میں ان کے لئے دائمی گھر ہے۔ یہ ہماری آیتوں کو انکار کر نے کا بدلہ ہے۔ 

29۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کہیں گے کہ اے ہمارے رب! جنوں اور انسانوں میں ہمیں گمراہ کر نے والوں کو ہمیں دکھلا۔ وہ ذلیل و خوارہونے کے لئے انہیں ہم ہمارے قدموں کے نیچے کر دیں گے۔ 

30۔ہمارا رب اللہ ہی کہہ کر اس پر قائم رہنے والوں کے پاس فرشتے اتر آئیں گے اور کہیں گے کہ تم خوف نہ کھاؤ، غم نہ کرو۔ تم سے وعدہ کئے گئے جنت کے بارے میں خوش ہوجاؤ۔ 

32,31۔اور یہ بھی کہیں گے کہ اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں ہم تمہارے مددگار ہیں۔ بخشنے والے، نہایت ہی رحم والے کی مہمانی کے طور پر تم جو چاہتے ہو وہاں وہ تمہیں ملے گا۔ تم جو مانگو وہ تمہیں وہاں موجود ہوگا26۔ 

33۔ اللہ کی طرف (لوگوں کو)جو بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں، اس سے زیادہ اچھی بات کہنے والا کون ہے؟ 

34۔ بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ نیکی ہی کے ذریعے(دشمنی کو) روکو۔ جس سے تمہاری دشمنی ہے وہ اسی وقت گہرا دوست بن جائے گا۔ 

35۔ صبر کر نے والوں کے سوا دوسروں کویہ (صفت) عطا نہیں کی جاتی۔ بڑے نصیبوں والے کے سوا (دوسروں کو) یہ حاصل نہیں ہوتی۔ 

36۔ شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی چھیڑ پیدا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

37۔ رات، دن، سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ سورج یا چاند کو سجدہ مت کرو۔ اگر تم اسی کی بندگی کر نے والے ہو تو ان کے پیدا کر نے والے اللہ ہی کو سجدہ کرو396۔ 

38۔اگر وہ تکبر کریں تو تمہارے رب کے پاس رہنے والے رات اور دن اس کی تسبیح کر تے ہیں۔اور وہ کبھی نہیں تھکتے۔ 

39۔ زمین کو جو تم خشک دیکھ رہے ہو اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس پر جب ہم پانی برساتے ہیں تو وہ(کھیت)ترو تازہ ہو کرابھرتی ہے۔ اس کو زندہ کر نے والا مردوں کا بھی زندہ کر نے والا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

41,40۔ہماری آیتوں کو موڑ نے والے، یہ نصیحت جب ان کے پاس آئی تو اس کے انکار کرنے والے ہم سے چھپ نہیں سکتے۔کیا جہنم میں پھینکا جا نے والا بہتر ہے یا قیامت کے دن1 بے خوف ہو کر آنے والا؟ تم جو کر نا چاہو کرلو۔ تم جو کچھ کر تے ہو وہ دیکھنے والا ہے488۔ یہ تو غالب آنے والی کتا ب ہے26۔ 

42۔ اس کے آگے اور پیچھے سے اس میں کوئی غلطی نہیں آئے گی123۔ یہ تعریفوں والے، حکمتوں والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے351۔ 

43۔ (اے محمد!) تم سے پہلے جو رسولوں کو کہا گیاتھا وہی تم کو بھی کہا گیا ہے۔ تمہارا پروردگار معاف کر نے والا اور دردناک عذاب دینے والا بھی ہے۔ 

44۔ اگر ہم اس کوبغیر عربی489 زبان کاقرآن بنا دئے ہوتے تو وہ لوگ کہتے227 کہ کیا اس کی آیتوں کو واضح کر نا نہیں چاہئے تھا؟ (یہ) غیر عربی ہے اور (وہ) عربی والے ہیں؟ تم کہہ دو کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اورشفا ہے۔ نہ ماننے والوں کے کانوں میں ڈاٹ ہے، یہ انہیں اندھا پن بھی دکھتا ہے۔ وہ لوگ تو بہت دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔ 

45۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب دی تھی۔ اس میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے بات طے نہ ہوئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ یہ لوگ اس میں شدید شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

46۔ جس نے نیک کام کئے وہ اسی کے لئے ہے۔جس نے برے کام کئے وہ اسی کے خلاف ہے۔ تمہارا رب بندوں پر ظلم کر نے والا نہیں۔  پارہ : 25

47۔ قیامت کے وقت1 کا علم تو اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اس کے علم کے بغیر کسی شاخ سے پھل نکلنا اور کوئی عورت حاملہ ہو نا اور جننا نہیں ہو سکتا۔ جس دن وہ پوچھے گا کہ میرے شریک جن کو سمجھا گیا تھا وہ کہاں ہیں؟ تو وہ کہیں گے کہ ہم تیرے پاس اعتراف کرتے ہیں کہ ہم میں گواہی دینے والے کوئی نہیں ہیں۔

48۔ اس سے پہلے وہ لوگ جو پرستش کر تے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے۔ وہ یقین کر لیں گے کہ ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں۔ 

49۔ (دنیامیں موجود) بھلائی کی دعا کر نے سے انسان نہیں تھکتا۔ جب اس کو کوئی برائی پہنچے تو وہ ناامید ہو تے ہوئے مایوس ہو جا تا ہے۔ 

50۔ اس کو پہنچی ہوئی تکلیف کے بعد اگر ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ہے۔میں نہیں سمجھا تھا کہ قیامت کا وقت1 آئے گا۔ اگر میں میرے پروردگار کے پاس لے جایا جاتا تو اس کے پاس میرے لئے بہتری ہی ہوگی۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کوان کے اعمال کی خبر دیں گے۔ اور انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 

51۔ انسان پر جب ہم فضل کر تے ہیں تو وہ روگردانی کر تے ہوئے اپنی ہی طرف پلٹ جا تا ہے۔ اگر اس کو برائی پہنچے تو بڑی لمبی دعا ئیں کر نے لگتا ہے۔ 

52۔ (اے محمد!) پوچھوکہ مجھے جواب دو، اگر یہ اللہ کی طرف سے آئی ہو اور اس کو تم انکار کرتے ہو تو بہت دور کی گمراہی میں رہنے والے سے زیادہ گمراہ کون ہے؟

53۔ انہیں حقیقت سے واضح کر نے کے لئے کئی حصوں میں سے اورخود ان کے اندر سے بھی ہماری نشانیوں کو ہم دکھا ئیں گے۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب ہر چیزکو دیکھ رہا ہے؟

54۔ یاد رکھو! وہ اپنے پروردگار کی ملاقات 488سے شک ہی میں ہیں۔ یاد رکھو! وہ ہر ایک چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ 

سورہ : 42 سورۃ الشورٰی ۔ مشورہ

کل آیتیں : 53

اس سورت کی آیت نمبر 38 کہتی ہے کہ مشورہ کر نے کے بعد ہی فیصلہ کر ناچاہئے، اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ عین، سین، قاف2۔ 

3۔ (اے محمد!) تم کو اور تمہارے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی اللہ اسی طرح وحی کہتا ہے۔(وہ )زبردست ، حکمت والا ہے۔

4۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کے لئے ہے۔ وہ اعلیٰ ، عظمت والا ہے۔ 

5۔ (لوگوں کے گناہوں سے) آسمان507 اپنے اوپر کی طرف سے پھٹ پڑنے کی کوشش کریگی۔فرشتے اپنے رب کی حمدو تسبیح کر تے ہوئے زمین میں رہنے والوں کے لئے مغفرت چاہیں گے۔ یاد رکھو!اللہ ہی بخشنے والا ہے، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

6۔ اس کے سوا جنہیں یہ محا فظ بنا لئے ہیں ان کا بھی اللہ ہی محافظ ہے۔ (اے محمد!) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو۔ 

7۔ (مکہ نامی) شہروں کی ماں اوراس کے ارد گردکو281 (اے محمد!) تم آگاہ کر نے کے لئے، بغیر کسی شبہ کے ایک ساتھ اکٹھا کر نے والے دن 1کے بارے میں تنبیہ کر نے کے لئے اس طرح ہم تمہیں (جانے ہوئے) عربی489 زبان میں اس قرآن کو وحی کی ہے227۔ ایک گروہ جنت میں اوردوسرا گروہ جہنم میں ہوگا۔ 

8۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا۔ بلکہ وہ اپنے چاہنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کر دیتا ہے۔ ظالموں کوحامی اور مددگار نہیں ہے۔ 

9۔ اس کے سوا کیا انہوں نے محافظ بنا لئے ہیں۔ اللہ ہی محافظ ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کر تا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

10۔ کہہ دو کہ اگر تم کسی چیز میں اختلاف کر تے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہی اللہ میرا پروردگار ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کیا ہوا ہوں۔ اسی کی طرف لوٹوں گا۔ 

11۔ (وہ) آسمانوں507 اور زمیں کو پیداکیا ہے۔ تمہارے لئے تمہیں میں سے جوڑے بنائے اور (چوپایوں کے لئے) چوپایوں میں سے جوڑے بنائے۔ اس (زمین) میں تمہیں پھیلایا۔ اس جیسا کچھ بھی نہیں۔ وہ سننے والا488، دیکھنے والا ہے488۔ 

12۔ آسمانوں507 اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہیں۔ جس کو چاہے وہ دولت کشادہ کر دیتا ہے، اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

13۔ نوح کو اس نے جو حکم دیا تھا وہی تم کو بھی دین بنایا۔ (اے محمد!) ہم نے تم کو، ابراھیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو یہی حکم نازل کیا تھا کہ دین کو قائم رکھواور اس میں جدا نہ ہوجاؤ۔ تم جس کی طرف انہیں پکار رہے ہو وہ شرک ٹہرانے والوں پر بھاری ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے منتخب کر لیتا ہے۔اصلاح چاہنے والوں کو اپنی طرف راستہ دکھا تا ہے۔ 

14۔ ان کے پاس علم آجانے کے بعد بھی ان کی آپس کے حسد کی وجہ کے سوا وہ لوگ متفرق نہیں ہوئے۔ مقررہ وقت تک کے لئے پہلے ہی سے تمہارے رب کی طرف سے اگر حکم آیا نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے ہوئے لوگ اس میں شدید شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

15۔ (اے محمد!) اس کی طرف بلاؤ۔ تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسی کے مطابق قائم رہو۔ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ اور کہہ دو کہ اللہ کی نازل شدہ کتاب کو میں مانتا ہوں۔ تمہارے درمیان انصاف سے چلنے کے لئے مجھے حکم دیا گیا ہے۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارا اعمال تمہارے لئے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان (آئندہ) کوئی بحث نہیں ۔ اللہ ہمیں (آخرت میں) ایک ساتھ جمع کر ے گا۔ اسی کے پاس لوٹ کر جا نا ہے۔ 

16۔ (اسلام کو قبول کر نے کے ذریعے مسلمانوں سے) اللہ کو جواب دینے کے بعد اس کے معاملے میں جو بحث کر یں گے ان کی بحث ان کے رب کے پاس چلنے والی نہیں ہے۔ ان پر اس کا غضب بھی ہے۔ اور سخت عذاب بھی ہے۔

17۔ اللہ ہی نے سچائی کو سموئے ہوئے کتاب اور ترازو نازل کی ہے۔ تمہیں کیا معلوم کہ قیامت کا وقت1 شاید قریب ہو! 

18۔ اسے نہ ماننے والے جلدی کر رہے ہیں۔ ایمان رکھنے والے اس کے بارے میں ڈرتے ہیں۔ اسے وہ حق جانتے ہیں۔ یاد رکھو! قیامت کے وقت 1کے بارے میں بحث کرنے والے بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ 

19۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی برتتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے دولت عطا کرتاہے ۔وہ بڑی قوت والا، زبردست ہے۔ 

20۔آخرت کی فصل چاہنے والوں کو ان کی فصل کو ہم بڑھائیں گے۔ اس دنیا کی فصل چاہنے والوں کو ہم ان میں سے دیں گے۔ انہیں آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ 

21۔کیا ان کے لئے اللہ کی اجازت نہ ہونے والے دین کے بنانے والے ہیں؟فیصلہ کے بارے میں اگر حکم نہ ہوتاتو ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ظالموں کو دردناک عذاب ہے۔ 

22۔ تم دیکھوگے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال کے بارے میں ڈررہے ہوں گے۔ وہ انہیں مات کر دے گی۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے ، وہ جنت کے باغات میں ہوں گے۔ وہ جو چاہیں گے ان کے رب کے پاس ان کے لئے ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے۔ 

23۔ ایمان لاکر نیک عمل کر نے والے اپنے بندوں کواللہ یہی خوشخبری دیتا ہے۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ رشتوں کے بنا پرملنے والی محبت کے سوا میں اس کے لئے تمہارے پاس(دوسرا) کچھ صلہ نہیں مانگتا377۔ نیکی کر نے والوں کو اس میں ہم نیکی بڑھائیں گے۔ اللہ معاف کر نے والا، شکر کر نے والا ہے6۔ 

24۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھا ہے؟ (اے محمد!) اللہ اگر چاہے تو وہ تمہارے دل پر مہر لگا دے گا۔ اللہ باطل کو مٹا تاہے اور اپنے احکام سے 155سچائی قائم کر تا ہے۔ دلوں میں جو ہے وہ اسے جانتا ہے۔ 

25۔وہی اپنے بندوں سے مغفرت کو قبول فرما کر برائیوں کو مٹا تاہے۔ تم جوکچھ کر تے ہو وہ جانتا ہے۔ 

26۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کی دعاؤں کو قبول کر تا ہے۔ اپنے فضل کو ان کے لئے بڑھا دیتا ہے۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے سخت عذاب ہے۔ 

27۔ اللہ اپنے بندوں کوجب دولت کشادگی سے بخشتا ہے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ پھر بھی وہ جو چاہتا ہے اس کو ایک اندازے سے نازل کر تا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو اچھی طرح جاننے والا، دیکھنے والا ہے488۔ 

28۔ وہ لوگ ناامید ہو نے کے بعد وہی بارش برساتا ہے۔ اپنی رحمت بھی پھیلاتا ہے۔ وہ حفاظت کر نے والا ہے، قابل تعریف ہے۔ 

29۔ آسمانوں 507اور زمین کا پیدا کر نا، جانداروں کو ان دونوں میں440 پھیلانا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔ 

30۔ تمہیں جو کچھ بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ہے۔ وہ بہت سی چیزوں کو معاف کر دیتا ہے۔ 

31۔ زمین میں تم جیتنے والے نہیں ہو۔ اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی محافظ و مددگار نہیں ہے۔

32۔ پہاڑوں جیسی سمندرمیں چلنے والی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 

33۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو بند کر دیتا ہے۔ وہ فوراًاس (سمندر) کی سطح پر ٹہر جاتی ہے۔ ہرصبر والے اور شکر گزار کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

34۔ یا ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو (غرق کر کے) تباہ کردے۔ بہت سی چیزوں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔ 

35۔ ہماری نشانیوں میں بیجا بحث کر نے والے(اس وقت) جان جائیں گے کہ ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

39,38,37,36۔ تمہیں جو کچھ بھی دیا جا تا ہے وہ اس دنیوی زندگی ہی کی سہولتیں ہیں۔ جو لوگ ایمان لا کر اپنے رب ہی پر بھروسہ کر تے ہیں، کبیرہ گناہ اور بے حیائی سے بچ جا تے ہیں، غصے کے وقت معاف کر دیتے ہیں، اپنے رب کو جواب دیتے ہوئے ، نماز قائم کر تے ہیں،اپنے معاملوں میں آپس میں مشورہ کر تے ہیں، ہماری عطا کی ہوئی چیزوں میں سے (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں، جب ان پر نا انصافی کی جاتی ہے تو (اللہ سے) مدد چاہتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اورپائیدارہے26۔ 

40۔ برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہی ہے۔ جومعاف کرے اور صلح کی راہ پر چلے اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ وہ نا انصافی کر نے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

41۔ اپنے پر ظلم کئے جا نے کے بعد جو مدد حاصل کرے ان کے خلاف کوئی راستہ نہیں۔ 

42۔ جو لوگ ظلم کر تے ہیں اور ناحق زمین میں زیادتی کر تے ہیں ان کے خلاف ہی الزام لگانے کا راستہ ہے۔ انہیں دردناک عذاب ہے۔ 

43۔ جس نے صبر اختیار کر کے معاف کیا وہ ایک بڑے استقلال کا کام ہے۔ 

44۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑ دے اس کو اس کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ ظالم لوگ جب عذاب دیکھیں گے تووہ یہ کہتے ہوئے تم دیکھوگے کہ کیا بچنے کی کوئی راہ ہے؟

45۔ تم دیکھوگے کہ وہ ذلت سے بالکل عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوں گے۔ایمان والے (اس وقت) کہیں گے کہ قیامت کے دن1 اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان پہنچانے والے ہی (حقیقت میں) خسارے والے ہیں۔ یاد رکھو! ظالم لوگ دائمی عذاب میں ہوں گے۔ 

46۔ اللہ کے سوا مدد کر نے والے محافظ انہیں کوئی نہیں ہے۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کے لئے کوئی راہ نہیں۔  47۔ اللہ سے نہ بچنے والا دن1 آنے سے پہلے تمہارے رب کی پکار کا جواب دو۔ اس دن تمہارے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں۔ تمہیں انکار کر نے کا کوئی حق بھی نہیں۔ 

48۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو (فکر مت کرو، کیونکہ) ہم تمہیں ان پر محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔ پیغام پہنچانے کے سوا تمہارا کچھ نہیں81۔ جب انسان کوہم اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے وہ خوش ہوجاتا ہے۔ ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو آدمی ناشکرا بن جاتا ہے۔ 

49۔ آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کر تا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے لڑکیاں عطا کر تا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے لڑکے عطا کر تا ہے۔

50۔ یا انہیں لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ بھی بنا دیتا ہے۔ وہ جاننے والا، قدرت والا ہے۔ 

51۔ وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی رسول کو بھیج کر اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتا ہے اس کو پہنچانے کے علاوہ (کسی دوسرے ذریعے سے) کسی انسان سے اللہ کلام نہیں کرتا۔ وہ بلند تر،حکمت والا ہے350۔ 

52۔ اسی طرح ہم نے ہمارے حکم میں سے روح رواں تمہیں وحی کی ہے۔ (اے محمد!) تم جانتے نہیں تھے344 کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ بلکہ ہم نے اس کو اپنے بندوں میں سے ہم جسے چاہتے ہیں ان کو سیدھی راہ دکھانے والا نور بنا دیا۔ تم سیدھی راہ کی طرف ہی بلا رہے ہو81۔ 

53۔جوکچھ آسمانوں507 میں اور زمین میں ہے وہ جس کی ہے اس اللہ کے راستے کی طرف ہی (تم بلا رہے ہو)۔ یاد رکھو! اللہ ہی کی طرف معاملات لوٹتے ہیں۔ 

سورہ : 43 سورۃ الزخرف ۔ آرائش

کل آیتیں : 89

زیب و زینت کی زندگی کے بارے میں اس سورت کی آیت نمبر 34 اور 35 میں کہے جا نے کی وجہ سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ واضح کتاب کی قسم379! 

3۔ ہم نے اس کو عربی489 زبان کا قرآن بنایا 227تاکہ تم سمجھ سکو۔ 

4۔ یہ ہمارے پاس موجود ام الکتاب157 میں ہے۔ یہ بلند مرتبہ ، حکمت بھری کتاب ہے۔ 

5۔ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو،کیا اس لئے ہم تمہیں نصیحت کر نا چھوڑ دیں گے؟ 

6۔ اگلے لوگوں میں ہم کئی نبیوں کو بھیجے ہیں۔ 

7۔ ان کے پاس جو بھی نبی آئے ان کو وہ لوگ مذاق اڑائے بغیر نہیں رہے۔ 

8۔ ان سے زیادہ طاقتوروں کو ہم نے مٹایا ہے۔ اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔ 

9۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ کہیں گے کہ اس کو زبردست اور جاننے والے ہی نے پیدا کیا۔ 

10۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا284۔ اپنی راہ پانے کے لئے اس میں کئی راستے بنائے۔ 

11۔ اسی نے آسمان507 سے ایک مقدارسے پانی اتارا۔ مردہ بستی کو اس سے ہم زندہ کر تے ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر کئے جاؤگے۔ 

12۔ اسی نے تمام جوڑے بنائے242۔ کشتیوں اور چوپایوں میں سواری کر نے کے لئے بھی وہ تمہیں انتظام کیا۔

14,13۔ (یہ سب وہ اس لئے عطا کیا کہ) تم ان کے پیٹھ پر سوار ہو کر چلیں، سوار ہو تے وقت اللہ کی نعمت کو یاد کریں ، اور یہ کہیں کہ ہمارے لئے ان کوجس نے مسخر کیا وہ پاک ہے10، ہم اس کے قابل نہیں تھے، اور ہم ہمارے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں26۔ 

15۔ وہ لوگ اس کے بندوں میں سے بعض کو (اس کا) ایک جز (اولاد) بنادیتے ہیں۔ انسان تو صریح ناشکرا ہے۔ 

16۔ کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیوں کو اپنے لئے رکھ لی اور تمہارے لئے بیٹوں کو منتخب کردیا ؟ 

17۔ رحمن کے لئے جس کا انہوں نے تصور کیا تھا اس(یعنی بیٹی) کے بارے میں جب انہیں خوشخبری دی جاتی ہے تو ان کے چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ اور وہ غضبناک ہو جا تے ہیں۔ 

18۔کیا وہ جسکو سنگارکرکے مقدمہ ٹھیک سے پیش کرنے نہیں آتا(اس کی پرستش کرتے ہیں)؟ 

19۔ فرشتوں کو جورحمن کے بندے ہیں ، انہوں نے عورتیں تصور کر لیا۔ کیا ان کی تخلیق کو یہ لوگ دیکھ رہے تھے؟ ان کا قول لکھ لیا جائے گا اور وہ استفسار کئے جائیں گے۔ 

20۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمن چاہتا تو ہم انہیں پرستش نہیں کئے ہوں گے۔اس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں۔صرف تصور کر نے کے سوا وہ لوگ کچھ نہیں۔ 

21۔ کیا اس سے پہلے ہم نے ان کو کوئی کتاب دی تھی؟ کیا اس کو وہ (اس کی سند کے طور پر) مضبوطی سے تھام لیا ہے؟ 

22۔ ایسا نہیں ہے! وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایک طریقے پر پا یا ہے۔ ہم انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ 

23۔ اسی طرح تم سے پہلے ایک شہر کی طرف جب بھی ہم نے تنبیہ کر نے والے کو بھیجا تو اس بستی میں عیش و عشرت سے جینے والوں نے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکے کہ ہمارے باپ داداؤں کو ہم نے ایک طریقے پر دیکھاہے۔ ہم تو انہیں کے نقش قدم کی پیروی کر نے والے ہیں۔ 

24۔ (تنبیہ کر نے والے نے) پوچھا کہ تمہارے باپ دادا ؤں کو تم نے جس پر پایا ، کیا اس سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں تو بھی؟ انہوں نے کہا کہ جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اسے ہم انکار کر نے والے ہی ہیں۔ 

25۔ پس ہم نے انہیں سزا دی۔ غور کرو کہ جس نے جھوٹ سمجھا ان کا انجام کیسا رہا؟

27,26۔ یاد دلاؤ جبکہ ابراھیم نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ مجھے پیدا کر نے والے کے سوا جس کی تم عبادت کر تے ہو اس سے میں دور ہوں۔ وہ مجھے سیدھی راہ دکھائے گا26۔ 

28۔ اسی کو ان کی نسل میں باقی رہنے والا عقیدہ بنا دیا۔ اس سے وہ لوگ سدھر سکتے ہیں۔ 

29۔ ایسا نہیں ہے! سچائی اور واضح کر نے والے رسول ان کے پاس آنے تک انہیں اور ان کے باپ داداؤں کو ہم نے لطف اٹھانے دیا۔ 

30۔ ان کے پاس جب حق آیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو جادو 285ہے اورہم اس کے انکار کرنے والے ہیں357۔ 

31۔ وہ کہتے ہیں کہ (مکہ و مدینہ) دونوں بستیوں میں رہنے والے بڑے آدمیوں پر کیا یہ قرآن نازل نہیں ہونا تھا؟ 

32۔تیرے رب کی نعمت کو کیا وہ لوگ تقسیم کر رہے ہیں؟اس دنیوی زندگی میں ان کی زندگی کی سہولتیں ہم ہی بانٹتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ملازم بنانے کے لئے بعض کے درجے بعض پر ہم نے بلندکی ہے۔ وہ لوگ جو جمع کر تے ہیں اس سے زیادہ رب کی رحمت بہتر ہے۔ 

35,34,33۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی قوم (اللہ کا انکار کر نے والے) بن جائیں گے تو رحمن کے انکار کر نے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ، چڑھ کر جانے والے سیڑھیاں کو بھی چاندی اور سونے سے بنا دیتے، ان کے گھروں کو کئی دروازے اور ٹیک لگانے کے لئے پلنگ (اس میں)سنگاربھی تیار کردیتے۔ یہ سب اس دنیوی زندگی کی سہولتیں ہیں۔ (اللہ سے )ڈرنے والوں کو تمہارے رب کے پاس آخرت1 ہے26۔ 

36۔ جو رحمن کی نصیحت کو جھٹلاتا ہے اس پر ہم ایک شیطان کو مسلط کر دیتے ہیں۔ وہ ان کا ساتھی بن جا تا ہے۔ 

37۔ وہ (سیدھی) راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اپنے آپ راہ راست پر ہیں۔ 

38۔ آخر میں جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو وہ (شیطان سے) کہے گا کہ تیرے اور میرے درمیان، کاش! مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا! تو تو بہت برا ساتھی ہے۔ 

39۔ تم ظلم کر نے کی وجہ سے آج تمہارے لئے (کچھ بھی) فائدہ نہ دے گا۔ تم عذاب میں شریک ہو۔ 

40۔ کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو؟ اندھے کو اور صریح گمراہی میں رہنے والے کو کیا تم راہ دکھا سکتے ہو81؟ 

41۔ (اے محمد!) ہم تمہیں (موت دے کر) اٹھا لے جائیں تو ہم انہیں سزا دیں گے۔ 

42۔ یا انہیں ہم نے جوتنبیہ کی تھی وہ تمہیں دکھائیں گے۔ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں۔

43۔ تمہیں جو وحی کی جاتی ہے اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ تم سیدھے راستے پر ہو۔ 

44۔ یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے، پھر تم لوگ پوچھے جاؤگے۔ 

45۔ تم سے پہلے بھیجے ہوئے رسولوں سے پوچھو کہ رحمن کے سوا پرستش کر نے کے لئے کیا ہم نے دوسرے معبود بنائے تھے343؟ 

46۔ اپنی نشانیوں کے ساتھ ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا کہ میں سارے جہاں کے رب کا رسول ہوں۔ 

47۔ ہماری نشانیوں کو جب وہ ان کے پاس لے گئے تو اس کو دیکھ کر وہ ہنسنے لگے۔ 

48۔ جوبھی نشانی ہم انہیں دکھاتے ہیں وہ اس سے پہلے گزری ہوئی نشانی سے بڑی ہوتی تھی۔ وہ لوگ اصلاح پانے کے لئے انہیں ہم نے عذاب میں پکڑا۔

49۔ انہوں نے کہا کہ اے جادوگر357! تمہارے رب کے دئے ہوئے وعدہ کے بارے میں ہمارے لئے دعا کرو۔ ہم سیدھی راہ پائیں گے۔ 

50۔جب ہم ان سے عذاب دور کیا تو وہ فوراً حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ 

51۔ فرعون نے اپنی قوم کو پکارا۔اور کہا کہ اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے؟کیایہ نہریں میرے نیچے بہہ نہیں رہی ہیں؟ کیا تم سمجھو گے نہیں؟

52۔ یہ حقیر اور صاف طور سے بولنانہیں جاننے والے ان سے، کیا میں بہتر نہیں ہوں؟

53۔ اور پوچھا کہ کیا ان کو سونے کے کنگن عطا نہیں کر نا چاہئے تھا؟ یا ان کے ساتھ مل کر فرشتے نہیں آنا چاہئے تھا؟ 

54۔وہ اپنی قوم کو حقیر سمجھا۔ وہ لوگ اس کے تابع ہوئے۔ اور وہ بدکار لوگ تھے۔ 

55۔ جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے انہیں سزا دی۔ ان سب کو غرق کردیا۔ 

56۔ انہیں گئے گزرے بنادیااور پیچھے آنے والوں کے لئے ایک مثال بنادیا۔ 

57۔ جب مریم کے بیٹے کی مثال دی گئی تو اس کو سن کر تمہاری قوم (حقارت سے) چلانے لگے۔

58۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے معبود بہترہیں یا وہ؟ بے جا حجت کر نے کے سوا ان کے متعلق انہوں نے نہیں کہا۔ بلکہ وہ تو بے جا بحث کر نے والے ہی ہیں۔ 

59۔ ہمارے فضل کئے بندے کے سوا وہ کوئی اور نہیں459۔ بنی اسرائیل کے انہیں ایک نمونہ بنادیا۔ 

60۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے بدلے میں فرشتوں کو ہم اس زمین میں جانشین46 بنا دیتے۔ 

61۔(اور کہو کہ) وہ عیسیٰ اس وقت کی علامت ہیں342۔ اس میں تم شک نہ کرو۔ میری ہی پیروی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ 

62۔ شیطان تمہیں روک نہ دے۔ وہ تمہارے لئے کھلا دشمن ہے۔ 

63۔ عیسیٰ نے جب واضح دلیلیں لے کر آئے تو کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ تم جن سے اختلاف کئے تھے ان میں بعض کو میں تمہارے لئے واضح کرونگا۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو۔ 

64۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے459۔ پس تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ 

65۔ ان کے درمیان مختلف گروہوں نے اختلاف کیا۔ دکھ والے دن1 ظالموں کو عذاب کی خرابی ہے۔ 

66۔ ان کی بے خبری کے عالم میں ناگہاں قیامت کا وقت1 ان پر آجائے، اس کے سوا کیا وہ دوسرا کچھ انتطار کر رہے ہیں؟ 

70,69,68,67۔ (اللہ سے) ڈرتے ہوئے ہماری آیتوں پر ایمان لا نے والے مسلمانوں295 کے سوا گہرے دوست بھی اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ (انہیں کہا جائے گا کہ) اے میرے بندو! آج تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ تم غمزدہ ہوگے۔ تم خوش کر دئے جاؤگے۔ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجاؤ26۔

71۔ سونے کی رکابیاں اور پیالے ان کے پاس لائے جائیں گے۔ ان کے دل جو چاہے اور ان کی آنکھیں جس سے لذت پائے سب اس میں ہوگا۔ اس میں تم ہمیشہ رہو گے۔ 

72۔ تم جو عمل کر رہے تھے اس کی وجہ سے تم جس کے وارث بنائے گئے ہو وہ جنت یہی ہے۔ 

73۔ اس میں تمہارے لئے بہت سے پھل ہوں گے۔ اس میں سے کھاؤگے۔ 

74۔ مجرم لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

75۔ انہیں (عذاب) کم نہیں کیا جائے گا۔ اس میں وہ مایوس پڑے ہوئے ہوں گے۔ 

76۔ ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود ظلم ڈھالئے۔ 

77۔وہ پکاریں گے کہ اے (جہنم کے محافظ)مالک! تمہارا رب ہمارے خلاف (موت کا) فیصلہ کر نے دے۔وہ کہے گا کہ تم (یہیں) رہوگے۔ 

78۔ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے۔ پھر بھی تم میں سے اکثر لوگ سچائی سے نفرت کر نے والے ہیں۔

79۔ کیا وہ ایک معاملے کا منصوبہ بنائے ہیں؟ ہم بھی منصوبہ بنائیں گے6۔ 

80۔ کیا وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ راز کی باتوں کوہم نے سنا نہیں؟ایسا نہیں ہے، ان کے پاس رہنے والے ہمارے رسول 161سب لکھ رہے ہیں۔ 

81۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ رحمن کی اگر اولاد ہوتی تو پہلے انہیں میں ہی عبادت کر نے والا ہوتا۔

82۔ آسمانوں507 اور زمین کا پروردگار جو عرش488 کا رب ہے ، ان کے کہنے سے پا ک ہے۔ 

83۔ آگاہ کئے ہوئے دن کی ملاقات تک وہ کھیل کود میں ڈوبے رہنے کے لئے انہیں چھوڑدو۔

84۔ وہی آسمانوں507 میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ وہ حکمت والا، علم والا ہے۔

85۔ آسمانوں507 ، زمین اور ان کے درمیانی چیزوں کا اختیارات رکھنے والا بڑی برکت والا ہے۔ قیامت کے وقت 1کا علم اسی کے پاس ہے۔ اسی کے پاس تم واپس لائے جاؤگے۔

86۔ اس کے سواوہ جسکوپکارتے ہیں وہ سفارش 17کے حقدار نہیں ہوں گے۔ جان کر حق کی گواہی دینے والے کے سوا۔ 

87۔ اگر ان سے پوچھو کہ انہیں پیدا کر نے والا کون ہے تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ وہ کس طرح رخ پھیرے جاتے ہیں؟ 

88۔ وہ (محمد) جو کہتے ہیں( ہم جانتے ہیں کہ) اے میرے رب! وہ تو ایمان نہ لانے والے لوگ ہیں۔ 

89۔ ان سے تغافل برتو۔ اور سلام 159کہو۔ پھر وہ لوگ جان جائیں گے۔ 

سورۃ : 44 سورۃ الدخان ۔ وہ دھواں

کل آیتیں : 59

اس سورت کی دسویں آیت میں ایک خاص دھویں کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے ، اس لئے اس صورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔ 

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ قسم ہے اس واضح کتاب کی379۔

3۔ اس کو ہم برکت بھری رات میں نازل کی۔ اور ہم خبردار کر نے والے ہیں341۔ 

4۔ اسی میں ہر محکم کام تمام تقسیم کیاجا تا ہے۔ 

6,5۔ (یہ) ہمارا حکم ہے۔ تمہارے پروردگار کی مہربانی سے ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے26۔ 

7۔ وہ آسمانوں507، زمین اورجو کچھ ان کے درمیان ہے، سب چیزوں کا پروردگار ہے۔ اگر تم یقین سے ماننے والے ہو(تو اس کوجان لو)۔ 

8۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ وہ زندہ کر تا ہے اور موت بھی دیتا ہے۔ (وہی) تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا بھی رب ہے۔ 

9۔ پھر بھی وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ 

10۔ آسمان507 اس کھلے ہوئے دھواں کو لانے والے دن 1کا انتظار کرو۔

11۔ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گا۔ یہی دردناک عذاب ہے۔ 

12۔ (وہ لوگ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار! ہم سے عذاب کو دور کردے۔ ہم ایمان لانے والے ہیں۔ 

13۔ نصیحت ان کو کیسے (فائدہ دے گی)؟ان کے پاس وضاحت کر نے والا رسول آچکا۔

14۔ پھر وہ ان کو بے پرواہ کر دئے۔ اور کہا کہ یہ تو دوسروں سے سکھایا گیا ، دیوانہ 468ہے۔ 

15۔ عذاب کو ہم تھوڑی( دیر) ہٹا دیں گے۔ تم (پرانی حالت کی طرف) لوٹو گے۔

16۔ بڑی سختی کے ساتھ ہم جس دن 1تمہیں پکڑیں گے، سزا دیں گے۔ 

17۔ ان سے پہلے ہم فرعون کی قوم کو آزمایا ہے484۔ ان کے پاس معزز رسول آئے۔ 

18۔ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو181۔ میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ 

19۔ اللہ کے خلاف تکبر نہ کرو۔ میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آنے والا ہوں۔ 

20۔ میں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو، اپنے رب کی جو تمہارا بھی رب ہے، میں پناہ مانگتا ہوں۔ 

21۔ (اور کہا کہ) اگر تم مجھے نہیں مانتے تو مجھ سے تم الگ ہوجاؤ۔ 

22۔ وہ اپنے رب سے دعا کی کہ یہ تو جرم کر نے والے لوگ ہی ہیں۔ 

24,23۔ (اللہ نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو رات ہی رات لے کر چلے جاؤ۔ تم دشمنوں سے پیچھا کئے جاؤگے۔ پھٹے ہوئے حال ہی میں دریا کوچھوڑدو۔ وہ غرق کئے جانے والے لشکر ہیں26۔ 

27,26,25۔ انہوں نے کئی باغات، نہریں، کھیتیاں، عمدہ مکانات اور مزہ لوٹے ہوئے عیش و عشرت سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے26۔ 

28۔ اسی طرح، ہم نے دوسری قوم کو ان کا حقدار بنا دیا۔ 

29۔ ان کے لئے آسمان507 اور زمین نہیں روئے۔ اور وہ لوگ مہلت بھی نہیں دئے گئے۔ 

31,30۔ بنی اسرائیل کو ہم نے فرعون کی رسواکن عذاب سے بچایا۔ وہ تو متکبر اور حد سے تجاوز کر نے والا تھا26۔ 

32۔ دنیا والوں سے زیادہ ہم نے انہیں جان کر ہی منتخب کیا16۔ 

33۔ جس میں کھلی آزمائش 484تھی اسی نشانیوں کو ہم نے انہیں عطا کی۔ 

36,35,34۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار موت کے سوا دوسرا کچھ نہیں۔ ہم اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ داداؤں کو لے کر آؤ26۔ 

37۔ کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تُبّع کی قوم؟ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ وہ تو جرم کر نے والے لوگ ہی تھے۔

38۔ آسمانوں507، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے لئے نہیں پیدا کیا۔ 

39۔ مناسب وجہ کے سوا ہم نے ان دونوں کو پیدا نہیں کیا۔ لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

40۔ فیصلہ کا دن1 ہی ان سب کا (خبردار کیا ہوا) وقت ہے۔ 

42,41۔ اس دن کوئی دوست کسی دوست کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔اللہ جس پر مہربانی کرے اس کے سوا،وہ لوگ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ وہ زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے26۔

44,43۔ زقوم کا درخت مجرموں کا غذا ہوگا26۔

46,45۔ وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح اور گرم کیا ہوا پانی کھولنے کی طرح وہ پیٹوں میں کھولے گا26۔

47۔ (فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) اس کو پکڑو۔ اور اسے جہنم کے بیچ میں لے کر آؤ۔ 

48۔ پھر اس کے سر پر ایذا بھرا کھولتا ہوا پانی ڈالو۔ 

50,49۔ (کہا جائے گا کہ) مزہ چکھو۔ تو بڑا زبردست، عزت والا ہے۔ تم نے جو شک کیا تھا، وہی ہے یہ26۔ 

52,51۔ (اللہ سے) ڈرنے والے محفوظ جگہ پر ، جنت کی باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے26۔ 

53۔ سندس اور استبرق نامی (دو قسم کے) ریشمی لباس پہن کر ایک دوسر سے ملیں گے۔

54۔ ایساہی ، انہیں ہم حور العین کے ساتھ ساتھی بنائیں گے8۔ 

55۔ بے خوف ہو کر وہ ہرقسم کے میوے طلب کریں گے۔ 

56۔ پہلی موت کے سوا وہاں وہ دوسری موت نہیں چکھیں گے۔ جہنم کے عذاب سے انہیں وہ بچائے گا۔ 

57۔ (یہ) تمہارے رب کا فضل ہے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

58۔ (اے محمد!) وہ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے ہی ہم نے اس کو تمہاری زبان244 میں اتارا ہے۔ 

59۔ تم انتظار کرو، وہ بھی انتظار کر نے والے ہیں۔

سورۃ : 45 سورۃ الجاثیہ ۔ گھٹنے ٹیکے ہوئے

کل آیتیں : 37

ہر قوم گھٹنے ٹیکے ہوئے رب کے روبرو کھڑے ہونے کے بارے میں اس سورت کی آیت نمبر 28 میں ذکر ہونے کی وجہ سے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ (یہ) زبردست، حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔

3۔ ایمان والوں کے لئے آسمانوں507 اور زمین میں کئی نشانیاں ہیں۔

4۔ تمہاری پیدائش میں اور دیگر جانداروں کو پھیلائے رکھنے میں یقین رکھنے والی قوم کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔

5۔ رات اور دن بدل بدل کر آنے میں، آسمان سے (بارش کی) دولت کو اتارنے میں، زمین خشک ہو نے کے بعد اس کے ذریعے (اس کو) زندہ کر نے میں اور ہواؤں کے رخ پھیرنے میں جاننے والی قوم کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔

6۔ (اے محمد!) یہ اللہ کی آیتیں ہیں۔ اس کو حق کے ساتھ تمہیں سناتے ہیں۔ اللہ اوراس کی آیتوں کے بعد اور کس بات ہی کو وہ مانیں گے؟

7۔جھوٹ باندھنے والے ہر گنہ گار کو خرابی ہے۔

8۔اس پر پڑھی جانے والی اللہ کی آیتوں کو وہ سنتا ہے۔ پھر تکبر کر تے ہوئے ایسا اڑجاتا ہے گویا کہ وہ سنا ہی نہیں۔ اس کودردناک عذاب کی آگاہی کردو۔

9۔ ہماری آیتوں میں سے کوئی بات جان لیتا ہے تو اسے وہ مذاق بنا لیتا ہے۔ انہیں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

10۔ ان کے پیچھے جہنم ہے۔ ان کے عمل اور اللہ کے سوا وہ لوگ جنہیں محافظ بنارکھے ہیں، کچھ بھی انہیں کام نہ آئیں گے۔ ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

11۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ اپنے رب کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو سخت دردناک عذاب ہے۔

12۔ کشتیاں اس کے حکم کے مطابق چلنے کے لئے، تم اس کے فضل کو تلاش کر نے کے لئے اور شکر ادا کرنے کے لئے اللہ ہی نے سمندر کو تمہارے لئے نفع بخش بنادیا۔

13۔ آسمانوں507میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب وہ تمہارے لئے فائدہ مند کردیا۔ غورو فکر کر نے والی قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔

14۔ ایمان والوں سے کہہ دو کہ جولوگ اللہ کے عذابوں کو نہیں مانتے انہیں معاف کردیں۔ کیونکہ قوم کی کرتوتوں کے لئے وہ بدلہ دینے والا ہے۔

15۔ اگر کوئی نیکی کر ے تووہ اسی کے لئے اچھا ہے۔ اگر کوئی بدی کر ے تو وہ اسی کے لئے خلاف ہے۔ پھر تم تمہارے رب کے پاس واپس لائے جاؤگے۔

16۔بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب، اقتدار164اور نبوت عطا کی۔ پاکیزہ چیزوں کو انہیں دیا تھا۔ دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت بخشی16۔

17۔ اس دین کے بارے میں انہیں کئی دلیلیں بھی دی تھیں۔ انہیں علم آنے کے بعد ہی وہ لوگ آپس میں پیدا شدہ حسد کی وجہ سے مختلف ہوگئے۔ تمہارا رب قیامت کے دن 1ان کے اختلاف میں فیصلہ کرے گا۔

18۔ (اے محمد!) پھر اس دین میں تمہیں ایک طریقے پر قائم کیا۔ پس تم اس کی پیروی کرو۔ نادانوں کی دلی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔

19۔ وہ اللہ سے تمہیں کچھ بھی بچا نہیں سکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے گہرے ساتھی ہیں۔ (اس سے) ڈرنے والوں کا اللہ سرپرست ہے۔

20۔ یہ لوگوں کے لئے واضح دلیلیں ہیں۔ یقین کر نے والوں کے لئے سیدھی راہ اور رحمت ہے۔

21۔ کیا جرم کر نے والے سمجھتے ہیں کہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں بھی ان جیسے ہی بنا دیں گے؟وہ لوگ جینا اور مرنا برابر ہے۔ وہ جو فیصلہ کررہے ہیں بہت برا ہے۔

22۔ آسمانوں507 اور زمین کو اللہ نے مناسب سبب ہی سے پیدا کیا۔ ہر ایک اپنے کئے کا بدلہ دئے جائیں گے265۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

23۔ اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود جو بنا رکھا ہے کیا تم نے اس کو دیکھا ؟ جانتے ہوئے ہی اللہ نے اس کو گمراہ کیا۔ اس کے کانوں اور دلوں میں مہر لگا دیا۔ اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اللہ کے بعد اس کوکون راہ دکھا ئے گا؟ کیا تم غور نہیں کروگے؟

24۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اس دنیوی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔ جیتے ہیں، مرتے ہیں اور زمانے کے سوا ہمیں کوئی ہلاک نہیں کرتا۔ انہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ وہ تو صرف قیاس کر نے والے کے سوا کوئی نہیں۔

25۔ جب ہماری واضح آیتیں انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کو یہ کہنے کے سوا کوئی اور دلیل نہیں ہوتا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ داداؤں کو لے کر آؤ۔

26۔ کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندہ رکھتا ہے، پھر تم کو موت دیتا ہے، پھر بغیر کسی شک والے قیامت کے دن1 وہ تم سب کو جمع کر ے گا۔ لیکن لوگوں میں اکثر نہیں جانتے۔

27۔ آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ قیامت1 قائم ہونے والے دن، اسی دن باطل پرست نقصان اٹھائیں گے۔

28۔ ہر قوم کوگھٹنے ٹیکتے ہوئے تم دیکھو گے۔ہر قوم اپنی (درج شدہ)کتاب کی طرف بلائے جائیں گے۔ تم جو کر رہے تھے اس کو آج بدلہ دئے جاؤگے۔

29۔اور کہا جائے گا کہ یہی ہماری کتاب ہے۔ یہ تمہارے خلاف سچ بولتی ہے۔ تم جو کر رہے تھے اس کو ہم درج کر نے والے تھے۔

30۔ جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کر ے گا۔ یہی کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

31۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں سے( کہا جائے گا کہ)کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں گئیں؟ تم نے تکبر کیا اور تم جرم کر نے والے لوگ تھے۔

32۔ جب کہا گیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس وقت1 کے بارے میں کوئی شک نہیں، تو تم نے کہا کہ قیامت کا وقت 1 کیا ہے ، ہم نہیں جانتے۔ ہم تو قیاس کر نے والوں کے سوا کوئی نہیں۔ ہم یقین کے ساتھ ماننے والے نہیں ہیں۔

33۔ ان کی کی ہوئی برائیاں انہیں ظاہر ہوجائیں گی۔ جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے ، انہیں وہ گھیر لے گا۔

34۔ ان سے کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو تم نے جس طرح بھلا دیا تھااسی طرح ہم بھی آج تمہیں بھلا دیں گے۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، تمہیں مدد کر نے والے کوئی نہیں۔

35۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق سمجھا تھااور اس دنیوی زندگی نے تمہیں فریفتہ کر دیا تھا۔ آج اس میں سے وہ باہر نہیں نکالے جائیں گے۔ وہ لوگ (دنیا کو پھر سے بھیج کر عبادت کر نے کے لئے) مجبور نہیں کئے جائیں گے۔

36۔سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں507 کا رب، زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب ہے۔

37۔ آسمانوں507 اور زمین کی بڑائی اسی کے لئے ہے۔ وہ زبردست ، حکمت والا ہے۔

سورۃ : 46 سورۃ الاحقاف ۔ ریت کے ٹیلے

کل آیتیں : 35

اس سورت کی آیت نمبر 21 میں ھود نامی پیغمبر نے ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہوئے تبلیغ کر نے کا ذکر آیا ہے، اس وجہ سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔

پارہ : 26

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا ، میم2۔

2۔ (یہ)زبردست، حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔

3۔ آسمانوں 507کو، زمین کو اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے ، ان سب کو مناسب وجہ اور ایک مقررہ مدت کے سوا ہم نے پیدا نہیں کیا۔ (ہمارا) انکار کر نے والے انہیں جو تنبیہ کی گئی ہے اسے جھٹلا تے ہیں۔

4۔ (اے محمد!) پوچھو کہ اللہ کے سوا تم جسے پکارتے ہو، مجھے بتاؤ کہ وہ زمین میں کیا پیدا کئے ہیں؟ یا مجھے جواب دو کہ انہیں آسمانوں 507میں کوئی حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے گزری ہوئی کتاب یا علمی ثبوت میرے پاس لے آؤ۔

5۔ قیامت کے دن1 تک بھی جو جواب نہ دے سکے ان غیر اللہ کو پکارنے والے سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا؟ وہ تو اسے پکارے جانے کے بارے میں بے خبر ہیں۔

6۔ جب لوگ اکٹھا کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ وہ جو ان کی پرستش کر رہے تھے اس سے بھی وہ انکار کریں گے۔

7۔ انہیں جب ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اپنے پاس آئے ہوئے حق کا انکار کر نے والے کہتے ہیں357 کہ یہ تو صریح جادو285 ہے۔

8۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے وہ خود گھڑ لیا ہے؟(اے محمد!) کہہ دو کہ اگر میں خود گھڑلیا ہو تا تو اللہ سے تم مجھے ذرا بھی بچا نہ سکو گے۔ تم جس میں ڈوبے ہوئے ہو اس کو وہی اچھی طرح جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی کے لئے کافی ہے۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

9۔ کہہ دو کہ پیغمبروں میں میں نیا نہیں ہوں۔ مجھے یا تمہیں کیا کیا جائے گا، میں نہیں جانتا۔ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس کے سوا میں کسی کی پیروی نہیں کرتا۔ اور میں توصاف آگاہ کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔

10۔ (اے محمد!) پوچھو کہ اگریہ اللہ کی طرف سے آیا ہو، بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس کی گواہی دے کر ایمان بھی لے آنے کی حالت میں تم اس کو اگر انکار کرو اورتکبر بھی کرو تو (کیا ہوگا) مجھے جواب دو۔ ظالموں کو اللہ سیدھا راستہ نہیں دکھاتا۔

11۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے مومنوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ بہتر ہو تا تو وہ لوگ ہم سے زیادہ اس کے لئے سبقت نہ لے جاتے۔اس کے ذریعے وہ سیدھی راہ نہ پاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

12۔ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ یہ ظلم کر نے والوں کو خبردار کر نے کے لئے اور نیکی کر نے والوں کو خوشخبری دینے کے لئے عربی489 زبان میں بنی ہوئی کتاب ہے227۔ (پہلے گزرے ہوئے کتابوں کی یہ)تصدیق کر تی ہے۔

13۔ یہ کہنے کے بعد کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، اس پر ثابت قدم رہنے والوں کو کوئی خوف نہیں۔وہ غمگین بھی نہ ہوں گے۔

14۔ وہی جنتی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) ان کے کئے کا بدلہ ہے۔

15۔ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کر نے کے لئے ہم نے انسان کو تاکید کی۔ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے پیٹ میں رکھا، تکلیف ہی سے جنا۔اس کا حمل میں رہنااور دودھ چھڑانا تیس مہینے ہیں314۔ وہ جوان ہو کر جب چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے340 کہ اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو تو نے جو احسان کیا ہے، اس کا شکر ادا کرنے کے لئے اورتیری رضا کے مطابق نیک عمل کر نے کے لئے مجھے توفیق دے۔ میرے لئے میری نسلوں کو صالح بنادے۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ، میں مسلمانوں میں 295سے ہوں۔

16۔ ان کی طرف سے ان کے نیک اعمال کو ہم قبول کر لیں گے۔ ان کی گناہوں کو درگزر کر دیں گے۔وہ لوگ جنت والوں میں سے ہوں گے۔ (یہ) ان سے کیا ہوا سچا وعدہ ہے۔

17۔ ایک شخص نے اپنے والدین سے کہا کہ کیا تم دونوں مجھے ڈراتے ہوکہ (دوبارہ) زندہ کیا جاؤں گا؟ تف ہے، مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔ ان دونوں نے اللہ سے پناہ مانگی۔ اور کہا کہ تیرے لئے خرابی ہے۔ ایمان لے آ، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پس وہ کہتا ہے کہ یہ اگلوں کی جھوٹی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔

18۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے ساتھ ان کے خلاف بھی رب کا حکم ثابت ہوگیا۔ یہ لوگ نقصان میں پڑگئے۔

19۔ ہر ایک کے عمل کے مطابق ان کے لئے درجے ہیں۔ ان کے اعمال کا وہ پوراپورا جرت دے گا۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

20۔ جس دن1(اللہ کا) انکار کر نے والے دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے تو (انہیں کہا جائے گا کہ) تمہاری دنیوی زندگی میں اپنی نیکیوں کو تم ہی نے ضائع کر دیا۔ اسی میں تم نے عیش پایا۔ تم زمین میں ناحق تکبر کر تے رہے اور جرم بھی کر تے رہے، اس لئے آج تم کوذلت بھرا عذاب دیا جارہا ہے۔

21۔ یاد دلاؤ جبکہ قوم عاد کو ان کے بھائی (ھود نے) ریت کے ٹیلوں پر کھڑے ہوئے خبردارکر رہے تھے کہ اللہ کے سوا تم(کسی کی)عبادت نہ کرو۔ تمہارے معاملے میں ایک عظیم دن 1کے عذاب سے میں ڈرتا ہوں۔ خبردار کر نے والے ان سے پہلے بھی اور بعد میں بھی گزر چکے ہیں۔

22۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہوکہ ہمارے معبودوں سے ہمیں پھیردینگے؟ اگر تم سچے ہو تو تم جو آگاہ کر رہے ہو اس کو ہمارے پاس لے آؤ۔

23۔ (اس سے متعلق) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ میں جو دے کر بھیجا گیا ہوں اس کو میں تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ پھر بھی میں تمہیں نادان لوگ ہی سمجھتا ہوں۔

24۔انہوں نے اس کو اپنی وادیوں کی طرف آنے والا بادل ہی سمجھا۔ اور کہا کہ یہ تو ہمارے لئے بارش برسانے والا بادل ہے۔ (کہا گیا کہ) نہیں، جس کے لئے تم جلد ی کر رہے تھے یہ وہی ہے۔ یہ درد ناک عذاب بھرا ہوا ہے۔

25۔ اپنے پروردگار کے حکم سے وہ ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ صبح میں وہ لوگ اس حال کو پہنچے کہ ان کے رہائش گاہ کے سوا (دوسرا کچھ) دکھائی نہیں دیا۔جرم کر نے والے گروہ کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔

26۔ ہم نے ان کو ایسی سہولتیں دے رکھی تھیں جو تم کو نہیں دیا گیاتھا۔ انہیں ہم کان، آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کان، آنکھیں اور دل ، جب وہ لوگ اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے تھے تو انہیں ذرا بھی فائدہ نہ پہنچایا۔ وہ لوگ جو مذاق اڑا رہے تھے وہ انہیں گھیر لیا۔

27۔ تمہارے ارد گرد کئی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ وہ اصلاح پانے کے لئے ہم نشانیاں واضح کر تے ہیں۔

28۔ اللہ کے سوا جس کووہ قربت دلانے والا معبود تصور کیا تھا ، کیا وہ انہیں مدد کر نا نہیں چاہئے تھا؟ بلکہ وہ تو ان کو چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ یہ ان کا جھوٹ اور بہتان تھا۔

29۔ (اے محمد!) یاد کرو جبکہ ہم نے اس قرآن کو سننے کے لئے جنوں میں سے ایک جماعت کو تمہارے پاس بھیجا تھا۔وہ جب ان کے پاس پہنچے تو اپنے گروہ سے کہا کہ چپ رہو۔ جب

(پڑھ کر) ختم ہو گیا تو آگاہ کر نے والے بن کر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے۔

30۔ اور کہا کہ اے ہماری قوم! موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ایک کتاب کو ہم نے سنا۔ وہ اپنے سے پہلے گزری ہوئی4 کی تصدیق کر تی ہے۔ سچائی اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر تی ہے۔

31۔ اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کو جواب دو۔ اس پر ایمان لے آؤ۔ وہ تمہاری گناہوں کو معاف کر ے گا۔ دردناک عذاب سے تمہیں بچائے گا۔

32۔ (اور کہا کہ) اللہ کی طرف بلانے والے کو جواب نہ دینے والا زمین میں اللہ سے جیت نہیں سکے گا۔ اس کے سوا اس کوکوئی محافظ نہیں۔ وہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

33۔کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ آسمانوں507 اور زمین کو پیدا کر کے اس کو پیدا کر نے سے نہیں تھکنے والا اللہ کیا مردوں کو زندہ کر نے میں قادر نہیں ہوسکتا ؟ ہاں، وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

34۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے دوزخ کے سامنے حاضر کئے جانے والے دن ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں، ہمارے پروردگار کی قسم! (اللہ فرمائے گا کہ) تم (میرا ) انکار کر رہے تھے، اس لئے عذاب کا مزہ چکھو۔

35۔ عالی ہمت رسولوں نے جس طرح صبر کیا، تم بھی صبرکرو۔ ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ انہیں جو آگاہ کیا گیا تھا اس کو جس دن وہ دیکھیں گے تو (ایسا سوچیں گے کہ) ہم دن میں تھوڑی ہی دیر کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے، ( اس کو)پہنچانا چاہئے۔سوائے جرم کر نے والوں کے کیا(دوسرے) لوگ ہلاک کئے جائیں گے158!

سورۃ : 47 سورۃ محمد ۔ آخری رسول کا نام

کل آیتیں : 38

اس سورت کی دوسری آیت میں’’ محمد پر نازل کیا گیا‘‘کے الفاظ جگہ پانے کی وجہ سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔جنہوں نے (اللہ کا) انکار کیااور اللہ کی راہ سے روکا، ان کے اعمال کو (اللہ نے)ضائع کردئے۔

2۔ جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کئے اورمان لیا کہ جو محمد پر نازل کیا گیا ہے وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو ان سے دور کردیتا ہے اور ان کے حالات کو درست کردیتا ہے۔

3۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (اللہ کا) انکار کر نے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کی پیروی کی۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو ان کے لائق مثالیں بیان کر تا ہے۔

4۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو اگر تم (جنگ کی میدان میں) ملو تو ان کی گردن کاٹ دو53۔ آخر جب ان پر کامیاب ہوجاؤ تو جنگ (کرنے) والے اپنے ہتھیار نیچے ڈالنے تک ان کی گرہوں کو مضبوط کرلو۔ اس کے بعد فدیہ حاصل کریں یا مہربانی سے انہیں چھوڑدیں۔ یہی (اللہ کا حکم ہے)! اگر اللہ چاہتا تو انہیں (خود ہی) سزا دیتا۔ بلکہ وہ تو تم میں ایک کے ذریعے دوسرے کو آزماتا ہے484۔ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کے اعمال وہ ہر گزضائع نہیں کرتا۔

5۔ انہیں سیدھی راہ دکھا کر ان کی حالت کو درست کرے گا۔

6۔ ان کے لئے اطلاع کی ہوئی جنت میں انہیں داخل کر ے گا۔

7۔ اے ایمان والو! اگرتم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کر ے گا۔ تمہارے قدموں کو وہ ثابت کر دے گا۔

8۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو خرابی ہی ہے۔ ان کے اعمال کو وہ تباہ کرکے ضائع کردیا۔

9۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اس سے وہ نفرت کر نے لگے۔اس لئے ان کے اعمال کو اس نے برباد کر دیا۔

10۔ کیا انہوں نے زمین میں سفر کرکے غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا رہا؟ اللہ نے انہیں سراسر تباہ کر دیا۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو اس جیسا ہی ہے۔

11۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان والوں کا اللہ کارساز ہے اور (اللہ کا) انکار کر نے والوں کا وہ کوئی کارسازنہیں ہے۔

12۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے اللہ انہیں جنت کے باغات میں داخل کر ے گا۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے (اس دنیا میں) جانوروں کی طرح کھاتے ہوئے لطف اٹھا رہے ہیں۔ جہنم ہی ان کا ٹھکانا ہے۔

13۔ (اے محمد!) جو بستی تمہیں باہر کیا ہے اس سے زیادہ کئی طاقتور بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا ۔ انہیں کوئی حمایتی نہیں ہوا۔

14۔ اپنے رب کی طرف سے (ملی ہوئی) واضح دین میں رہنے والا کیا اس جیسا ہوگا جو اپنی دلی خواہشوں کی پیروی کر ے اوراس کے برے کام خوشنما دکھا یا گیا ہو؟

15۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو وعدہ کیا ہوا جنت کی صفت، اس میں بغیر تغیر کے پانی کی نہریں، مزہ نہ بدلا ہوادودھ کی نہریں، پینے والوں کے لئے لذت دینے والی شراب کی نہریں اور پاک وصاف شہد کی نہریں بھی ہوں گی۔وہاں انہیں ہر قسم کے پھل اور اللہ کی طرف سے معافی بھی ہے۔ کیا (یہ لوگ) ان جیسے ہوسکتے ہیں جوجہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہوں اور انہیں انتڑیوں کوٹکڑے ٹکڑے کر دینے والا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے؟

16۔ (اے محمد!) تم سے سننے والے لوگ بھی ان میں ہیں۔ تمہیں چھوڑ کر جب وہ باہر جاتے ہیں تو علم والوں سے (بطور مذاق) پوچھتے ہیں کہ یہ کچھ دیر پہلے کیا کہا تھا؟ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ وہ لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی ہے۔

17۔ نیک راہ پانے والوں کو ہدایت اور بڑھا کر (انہیں) وہ اپنے بارے میں خوف بھی عطا کیا۔

18۔ قیامت کا وقت1 ان پر اچانک آجانے کے سوا کیا وہ دوسرا کچھ انتظار کر رہے ہیں؟اس کی علامتیں آچکی ہیں۔ ان کے پاس جب وہ آجائے تو وہ کیسے عبرت حاصل کر سکتے ہیں؟

19۔ جان لو کہ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اپنے گناہوں کے لئے ، مومن مردوں اور عورتوں کے لئے تم معافی مانگو۔ تمہاری نقل و حرکت اور ٹھکانے کو اللہ جانتا ہے۔

21,20۔ ایمان والے کہتے ہیں کہ(مزید) ایک سورت کیوں نہیں اتاری گئی؟ مستقل مدعا والی ایک سورت نازل ہوجاتی، اس میں جنگ کے متعلق بھی کہا جا تا تو جن کے دلوں میں بیماری ہو، ان لوگوں کو(اے محمد!) تم دیکھو گے کہ وہ تم کو اس طرح دیکھیں گے جیسے موت سے بیہو ش ہو نے والے تکتے ہیں۔ اس لئے تابع ہونا اور اچھی بات کہنا ان کے لئے مناسب ہے۔ معاملہ( جنگ) جب یقینی ہوجائے تواگر وہ اللہ کے پاس صداقت سے چلے تو وہ ان کے لئے بہترہے26۔

22۔ کیا تم اس کو جھٹلا کر زمین میں فساد برپا کرنے اور رشتوں کوقطع کر نے کی کوشش کروگے؟

23۔ انہیں کو اللہ نے پھٹکارا 6۔ انہیں بہرا کیااور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔

24۔ کیا وہ لوگ اس قرآن پر غور کر نا نہیں چاہئے تھا؟ یا ان کے دلوں پر اس کے لئے تالے لگے ہوئے ہیں؟

25۔ سیدھی راہ واضح ہو جانے کے بعد پیٹھ پھیر کر چلے جا نے والوں کو شیطان نے اسے خوشنما بنا کر دکھایا۔ انہیں وہ آرزو دلایا۔

26۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو عطا کیا ہے اسے جس نے ناپسند کیا ان کے پاس انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری پیروی کریں گے۔ اللہ ان کے رازوں کو جانتا ہے۔

27۔ ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جب فرشتے انہیں قبض165 کریں گے تو کیسا ہوگا؟

28۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کو غصہ دلانے والی چیزوں کی انہوں نے پیروی کی اوراس کی رضامندی کو ناپسند کیا۔ پس اس نے ان کے اعمال برباد کردئے۔

29۔ جن کے دلوں میں بیماری ہے کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے کینوں کو اللہ ظاہر نہیں کرے گا؟

30۔ (اے محمد!) اگر ہم چاہتے تو انہیں تم کو دکھادیتے۔ ان کی علامتوں سے انہیں تم جان لو گے۔ ان کے انداز گفتگو سے بھی تم پہچان لوگے۔ اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔

31۔ تم میں ایثار کر نے والوں اور صبر کر نے والوں کو نشاندہی کر نے کے لئے ہم تمہیں آزمائیں گے484۔ تمہاری خبروں کو بھی آزمائیں گے۔

32۔ جنہوں نے(اللہ کا) انکار کیا، اللہ کی راہ سے روکا، سیدھی راہ واضح ہو نے کے بعد اس رسول کے خلاف چلنے والے اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ان کے اعمال کو وہ برباد کر دے گا۔

33۔ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو۔ اور اس رسول کی بھی اطاعت کرو۔ اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔

34۔ جنہوں نے(اللہ کا) انکارکیا، اللہ کی راہ سے روکا، پھر انکار ہی کی حالت میں مربھی گئے تو انہیں اللہ ہرگز نہیں بخشے گا490۔

35۔ (میدان جنگ میں) ہمت ہار کر صلح کے لئے مت بلاؤ۔ تم ہی بلند ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تمہارے اعمال کو وہ تمہارے لئے کم نہیں کرے گا۔

36۔ اس دنیوی زندگی کھیل اور بے سود ہے۔ اگر تم ایمان لے آئے اور (اللہ سے )ڈرے تو وہ تمہاری اجرتیں تمہیں دے گا۔ تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا۔

37۔ اگر وہ تم سے مانگ کر اصرار بھی کرے تو تم بخیلی کر نے لگو گے۔ وہ تمہارے کینے ظاہر کردے گا۔

38۔ جان لو! اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کے لئے بلائے جاؤگے تو تم میں بخیلی کر نے والے بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی بخیلی کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے بخل کر تا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے485۔ تم لوگ ہی محتاج ہو۔ اگر تم جھٹلاؤ گے تو تمہارے سوا دوسری ایک قوم کو تمہارے بدلے میں لے آئے گا۔ پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے۔

سورۃ : 48 سورۃ الفت ح ۔ کامیابی

کل آیتیں : 29

اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ایک عظیم کامیابی کے بارے میں کہا گیا ہے،اس لئے اس سورت کا نام الفتح رکھا گیا ہے۔

؂ہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ (اے محمد!) ایک کھلی ہوئی، بہت بڑی کامیابی ہم نے تمہیں عطا کی ہے۔

3,2۔ اللہ تمہاری گناہوں میں اگلے اور پچھلے معاف کر نے کے لئے493، اپنی نعمت کو تم پر مکمل کرنے کے لئے، تمہیں سیدھی راہ دکھا نے کے لئے اوراللہ ایک عظیم نصرت تمہیں دینے کے لئے(اس کامیابی کو عطا کیا ہے)26۔

4۔ اپنے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھالینے کے لئے وہی ایمان والوں کے دلوں میں سکون عطا کیا۔ آسمانوں507 اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

5۔ ایمان والے مردوں اور عورتوں کوجنت کے باغات میں داخل کرانے کے لئے (سکون عطا کی)۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے گناہوں کو ان سے وہ دور کرے گا۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔

6۔ منافق مردوں اور عورتوں کو ، اللہ کے بارے میں برے گمان رکھنے والے مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دینے کے لئے بھی (ایسا کیا ہے)۔ ضرر پہنچانے والی تکلیف ان کے لئے ہے۔ اللہ ان پر غضب ہو کر انہیں پھٹکا ر دیا6۔ ان کے لئے جہنم تیا ر کر رکھا ہے۔ وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

7۔ آسمانوں507 اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔

8۔ (اے محمد!) ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا اورتنبیہ کر نے والا بنا کر بھیجا ہے۔

9۔(نبی کو اس لئے بھیجا ) تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے، اس کی مدد کرے، اس کی تعظیم کرے اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرے۔

10۔ تم سے جو وعدہ کر تے ہیں وہ اللہ ہی سے وعدہ کر تے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اگر کوئی عہد شکنی کرے تو وہ اپنے ہی خلاف عہد شکنی کرتاہے۔ جو اللہ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کر تا ہے تو وہ اس کو بہت بڑا اجر دے گا334۔

11۔ (اے محمد!) جنگ میں شامل نہ ہونے والے دیہاتی تم سے کہتے ہیں کہ ہمارے اموال اورہمارے گھر والے ہمیں رخ پھیر دیا۔ اس لئے ہمارے لئے مغفرت چاہو۔یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ پوچھو کہ اگر اللہ نے تمہیں برائی چاہے یا بھلائی چاہے تو اللہ سے (اسے روکنے کے لئے) ذرّہ بھی اختیار رکھنے والاکون؟ ایسا نہیں ہے! تم جو کچھ کر تے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔

12۔ نہیں! تم نے یہ گمان کر لیا کہ یہ رسول اور ایمان والے اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر واپس ہی نہیں آئیں گے۔یہ تمہارے دلوں میں بھلا کیا گیا۔ تم نے برا گمان کیا۔ تم ہلاک ہونے والے لوگ ہوگئے۔

13۔ جو اللہ اور اس کے رسول کو نہیں مانا،ہم نے(ہمارے)انکار کر نے والوں کے لئے جہنم تیار کر رکھا ہے۔

14۔ آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ جس کو چاہے وہ بخشے ، جس کو چاہے وہ سزا دے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

15۔ جنگ میں دشمنوں نے جو چیزیں چھوڑی ہیں اس کو لینے کے لئے جب تم جانے لگو تو جنگ میں شامل نہ ہونے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دو کہ ہم بھی تمہارے پیچھے آئیں۔وہ اللہ کی باتوں کو بدل دینا چاہتے ہیں30۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ تم ہمارا پیچھا نہ کرو۔ اسی طرح اللہ نے پہلے بھی کہہ چکا ہے۔ وہ کہیں گے کہ تم ہم سے حسد کر تے ہو۔ ایسا نہیں ہے! وہ لوگ بہت تھوڑے کے سوا کچھ نہیں سمجھتے۔

16۔ (اے محمد!) جنگ میں شامل نہ ہونے والے دیہاتیوں سے کہہ دو کہ ایک طاقتور قوم سے جنگ کر نے کے لئے تم بلائے جاؤگے، یا وہ سپرد ہو جائیں گے۔ اگر تم اطاعت کروگے تو اللہ تمہیں اچھا بدلہ دے گا۔ اگر تم جھٹلاؤگے جیسا کہ(اس سے) پہلے جھٹلاچکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

17۔ (جنگ میں گئے بغیر رہنا) اندھوں پر کوئی گناہ نہیں۔ لنگڑے پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اور بیمار پر بھی کوئی گنا ہ نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی جو اطاعت کر ے گا ،انہیں جنت کے باغات میں داخل کر ے گا۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہوں گی۔ جس نے جھٹلایا اس کو درد ناک عذاب دے گا۔

18۔ اس درخت کے نیچے تمہارے پاس جب عہد334 لیا تھا تو مومنوں سے اللہ راضی ہوگیا۔ ان کے دلوں میں جو ہے وہ جانتا ہے۔ انہیں اطمینان عطا کیا۔اور انہیں ایک قریبی فتح بھی نوازا۔

19۔ میدان جنگ میں دشمن کی چھوڑی ہوئی بہت سی چیزوں کو وہ حاصل کر لیں گے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔

20۔اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میدان جنگ میں دشمن کی چھوڑی ہوئی بہت سی چیزوں کو تم اٹھا لوگے۔اس کو وہ تمہارے لئے بہت جلد ہی پورا کیا۔تاکہ یہ مومنوں کے لئے ایک نشانی بن جائے، اور تمہیں سیدھی راہ دکھا ئے، وہ لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا۔

21۔ دوسری ایک قوم پر تم نے (ابھی) قدرت نہیں پائی۔ انہیں اللہ نے پوری طرح جان رکھا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

22۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے اگر تم سے لڑنے آئے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔پھر وہ کوئی کارساز اور حمایتی نہ پائیں گے۔

23۔ (اس سے) پہلے بھی یہی اللہ کا دستور رہا۔ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھوگے۔

24۔ مکہ کے درمیانی حصہ میں ان کے خلاف وہ تمہیں کامیابی دینے کے بعد تمہارے ہاتھوں کو ان سے اور ان کے ہاتھوں کو تم سے اسی نے روکا۔ تم جو کچھ کررہے ہو اللہ دیکھ رہا 488ہے۔

25۔انہیں لوگوں نے (اللہ کا) انکار کیا۔مسجد حرام سے تمہیں روکا۔موقوف کئے ہوئے قربانی کے جانور اس کی جگہ میں پہنچنے سے بھی روکا۔ تمہارے نہ جانے ہوئے ایمان والے مردوں اور عورتوں پر تم حملہ کر کے، (وہ لوگ) نہ جانتے ہوئے ان سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچنے کا نہ ہوتا (تو وہ جنگ کرنے کی اجازت دے دیا ہوتا)۔ اللہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ وہ ( نیک ) لوگ اگر الگ ہوگئے ہوتے تو ان میں سے (ہمارا) انکار کر نے والوں کو سخت عذاب سے سزا دیتے۔

26۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے اپنے دلوں میں حمیت، جاہلانہ حمیت ٹھان لی تو اللہ اپنی تسکین اپنے رسول اور مومنوں پر نازل کی۔ انہیں (اللہ سے) ڈرنے کی بات پر مضبوطی سے جمائے رکھا۔ وہ اس کے حقدار اور قابل تھے۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

27۔ اللہ اپنے رسول کو (ان کادیکھا ہوا) خواب122 سچا کر دیا۔ (پس) اگر اللہ چاہے تو تم حفاظت سے، اپنے سر منڈوا کراور سر کے بال کتروا کر ، بے خوف مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ تم جو نہیں جانتے وہ جانتا ہے۔ اس کے علاوہ قریبی کامیابی بھی اس نے عطا کی163۔

28۔ دوسرے تمام دین سے زیادہ غلبہ پانے کے لئے اسی نے اپنے رسول کو سیدھی راہ اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ اللہ کا نگران ہونا کافی ہے۔

29۔ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ان کے ساتھ رہنے والے (اللہ کا) انکار کر نے والوں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں382۔ تم انہیں رکوع اور سجدہ کر تے ہوئے دیکھو گے۔ اللہ کی طرف سے فضل اور رضامندی کے وہ طالب ہوں گے۔ ان کی علامت سجدے کا نشان ان کے چہروں پر ہوگا۔ یہی تورات میں491 ان کی مثال 25ہے۔ انجیل میں491 ان کی مثال ایک کھیت جیسی ہے۔ وہ اپنی کونپل نکالتی ہے۔ پھر اس کو مضبوط کر تی ہے۔ پھر سخت ہو کر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوجا تی ہے۔ منکروں کو غصہ دلانے کے لئے کسانوں (ایمان والوں) کو وہ خوش کرتی ہے۔ ان میں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے بخشش اور بڑے اجر کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔

More Articles …