Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 33 سورۃ الاحزاب ۔ اجتماعی فوج

کل آیتیں : 73

مختلف دشمنوں نے اجماعی طور پر فوج جمع کر کے حملہ آور ہو نے کے واقعہ بارے میں اور اس وقت رب کی طرف سے ملی ہوئی مدد کے بارے میں اس سورت کی آیت نمبر 9 سے 27 تک ذکر ہوا ہے، اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیاہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ اے نبی! اللہ سے ڈرو۔ (اللہ کا) انکار کرنے والے اور منافقوں کے تابع نہ بنو۔ اللہ جاننے والا ،بڑی حکمت والا ہے۔

2۔(اے محمد!) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کرو۔ تم جو کچھ کر تے ہو اللہ اچھی طرح جاننے والا ہے۔

3۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ اللہ کارسازی کے کافی ہے۔

4۔ کسی بھی انسان کے اندر اللہ نے دو دل502 نہیں بنائے۔ تمہاری بیویوں میں تم جسے ماں کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہو انہیں اس نے تمہاری مائیں نہیں بنایا316۔ تمہارے لے پالک بچوں کو وہ تمہارے بچے نہیں بنایا317۔ یہ توتمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اللہ حق ہی کہتا ہے۔ وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔

5۔ انہیں تم ان کے والد کے نسبت سے پکارو۔ وہی اللہ کے نزدیک انصاف ہے۔ اگر تم ان کے والد کو نہ جانتے ہوں تو وہ تمہارے لئے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اگر غلطی سے کچھ کہہ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ تم دلی ارادے سے کہو تو (گناہ ہوگا)۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

6۔ایمان والوں کو اپنی ذات سے زیادہ یہ نبی(محمد) ہی فوقیت پانے والے ہیں۔ ان کی بیویاں ان کی مائیں322 ہیں۔ ایمان والے اور ہجرت460 کر نے والوں سے زیادہ رشتہ دار ہی ایک کودوسرے فوقیت رکھنے والے385 ہیں، بجز اس کے کہ تم خوداپنے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرو۔ یہ اللہ کی کتاب میں ہے۔ اور یہ دفتر157 میں لکھا ہوا ہے۔

8,7۔یاد دلاؤ جبکہ ہم نے نبیوں کے پاس (خاص کر) تمہارے پاس، نوح، ابراھیم، موسیٰ اورمریم کے بیٹے عیسیٰ سے بھی ان کا عہد95 لیا تھا۔سچے لوگوں کو ان کے سچائی کے بارے میں دریافت کر نے کے لئے ان سے سخت معاہدہ کیا تھا۔ (اس کا) انکار کر نے والوں کو وہ دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے26۔

9۔ اے ایمان والو! تمہارے پاس جب اجماعی فوج آئی تو اللہ نے تمہیں جو نعمتیں بخشی تھی اس کویاد کر و۔ان کے خلاف ہم نے آندھی اورتم کو دکھائی نہ دینے والی فوج بھیجی ۔ تم جوکچھ کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا 488ہے۔

11,10۔ وہ لوگ جب تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے آئے تو تمہاری آنکھیں پتھراگئیں اور دل گلے تک پہنچ کر پھنس گئے ، اللہ کی نسبت تم نے مختلف قسم کے گمان کرنے لگے تو وہیں ایمان والے آزمائے گئے484۔ وہ لوگ بری طرح سے جھنجھوڑ دئے گئے26۔

12۔ (اس وقت بھی یہ آزمائے گئے جبکہ) منافق اور دلوں میں بیماری رکھنے والوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے بس ہم سے دھوکے کا وعدہ ہی کیا تھا۔

13۔(اس وقت بھی وہ آزمائے گئے جبکہ ) ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب(مدینہ) والو! تم (ان کے مقابلہ میں) ٹہرنہیں سکتے۔اس لئے لوٹ جاؤ۔ ان میں سے ایک گروہ نے محفوظ ہو تے ہوئے بھی نبی سے یہ کہہ کر اجازت چاہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ وہ لوگ بھاگ جا نے کے سوا اور کچھ نہیں چاہا۔

14۔ ان کے خلاف اس کے کئی حصوں سے حملہ کیا جاتا، پھر ان سے فساد برپا کر نے کے لئے پوچھاجاتا تو وہ کر دیتے۔بجز تھوڑی دیر کے وہ زیادہ دیر نہیں کرتے۔

15۔ اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے۔اللہ سے کئے ہوئے عہد کی بازپرس ہوگی۔

16۔ کہہ دو کہ اگر تم بھاگو گے تو تمہارا بھاگنا موت یا قتل کئے جانے سے تمہیں روک نہیں سکے گی۔ اس وقت تم بہت کم ہی خوشحالی دئے جاؤگے۔

17۔ تم پوچھو کہ اگر اللہ تمہارے لئے کوئی برائی چاہے تو اس سے تمہیں بچانے والا کون؟ یا وہ تمہارے لئے کوئی بھلائی چاہے تو (اسے روکنے والا کون)؟ اللہ کے سوا کوئی کارساز یا حمایتی وہ دیکھ نہیں سکتے۔

18۔ تم میں روکنے والوں کو اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والوں کو کہ ہمارے پاس آجاؤ، اللہ جانتا ہے۔ سوائے بہت کم کے وہ جنگ میں نہیں آتے۔

19۔ تمہارے مقابلہ میں وہ کنجوسی کر تے ہیں۔تم دیکھوگے کہ خوف کے وقت موت (کی دہشت) سے بیہوش آدمی کی طرح آنکھوں کو گردش دے کر وہ تمہیں دیکھتے ہیں۔خوف ہٹنے کے ساتھ (جنگ میں ملے ہوئے) مال پر حریص بن کر تیززبانوں سے وہ تمہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ وہ لوگ ایمان نہیں لائے۔ اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دئے۔یہ اللہ کے لئے آسان ہی ہے۔

20۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اجماعی فوجیں ابھی گئی نہیں۔ اگر وہ فوجیں آجائیں تو وہ چاہیں گے کہ دیہاتیوں کے ساتھ رہتے ہوئے تمہارے بارے میں خبریں دریافت کرتے رہیں۔ اگر وہ تمہارے ساتھ رہتے بھی تو وہ برائے نام کے سواجنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

21۔ اللہ اور آخرت کے دن 1پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے تم کو اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے318۔

22۔ جب ایمان والوں نے اجتماعی فوج کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا تھا۔ ایمان اور فرمانبرداری کے سوا دوسرا کچھ انہیں (یہ) زیادہ نہیں کیا۔

23۔ ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ سے جس کے بارے میں عہد لیا تھا ، اس کو سچ کر دکھایا۔ان میں اپنی مراد کو پائے ہوئے لوگ بھی ہیں۔ (اسے) انتظار کر نے والے لوگ بھی ان میں ہیں۔ وہ لوگ ذرا بھی (عہدمیں) تبدیلی نہیں کی۔

24۔ سچے لوگوں کو ان کی سچائی کی وجہ سے اللہ انعام دے گا۔ اگر چاہا تو منافقوں کو سزا دے گا یا انہیں معاف کر دے گا۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

25۔ (اس کا) انکار کر نے والوں کو کوئی بھلائی نہ پاتے ہوئے ان کے غصے کے ساتھ ہی اللہ انہیں واپس کر دیا۔ ایمان والوں کے لئے جنگ کر نے اللہ ہی کافی ہے۔ اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔

26۔ اہل کتابوں27 میں سے جو ان کی مدد کی تھی انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا۔ ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا۔تم نے ایک گروہ کو قتل کردیا، دوسری گروہ کو قید کر لیا۔

27۔ ان کی زمین، ان کے گھروں ، ان کے مال اور وہ زمین جس میں تمہارا قدم نہ پڑاہو، تمہیں وارث بنایا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

28۔ اے نبی (اے محمد) تم اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم اس دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں آسائش عطا کر کے اچھے طریقے سے تمہیں رخصت کردوں۔

29۔ اگر تم اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کی زندگی چاہتی ہو تو تم میں نیکی کر نے والیوں کے لئے اللہ بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

30۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم میں کوئی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کروگے تو انہیں دوہرا عذاب دیا جائے گا500۔

وہ اللہ کے لئے آسان ہی ہے۔

پارہ : 22

31۔ تم (نبیوں کی بیویوں) میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کر تے ہوئے نیک عمل کرنے والیوں کے اجر کوہم دو بار عطا کریں گے۔ ان کے لئے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھی ہے500۔

32۔ اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں دوسروں جیسی نہیں ہو500۔ اگر تم (اللہ سے) ڈرتے ہو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو۔ جس کے دل میں بیماری ہے تو وہ بری خواہش کر نے لگے گا۔ بھلی بات ہی کہو۔

33۔ اپنے گھروں ہی میں ٹہرے رہو۔ قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اظہار کر تے ہوئے نہ پھرو500۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ تم سے جو اس گھرانے والی ہو، گندگی دور کرنا اور تمہیں پوری طرح سے پاک و صاف کر نا ہی اللہ چاہتا ہے۔

34۔ تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت67 سنائی جاتی ہیں، وہ یاد رکھو۔ اللہ باریک بین، خبردار ہے۔

35۔ مسلمان مرد اور عورتیں، ایمان والے مرد اور عورتیں، فرمانبردار مرد اور عورتیں، راست باز مرد اور عورتیں، صبر کر نے والے مرد اور عورتیں، عاجزی سے چلنے والے مرد اور عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کر نے والے مرد اور عورتیں، اللہ کو کثرت سے یاد کر نے والے مرد اور عورتیں، ان سب کے لئے اللہ نے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

36۔ جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردیں تو ایمان والے مرد اور عورت کے لئے ان کے اس معاملے میں اپنی ذاتی خواہش کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر نے والے واضح طور پر گمراہ ہوگئے۔

37۔ (اے محمد!) یاد کرو جس پر اللہ نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا تھا ، اس شخص سے تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بیوی کو اپنے ہی پاس رکھو، اور اللہ سے ڈرو۔تم اس بات کو دل میں چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ تم انسان سے ڈر گئے۔ تمہارے ڈرنے کے لئے اللہ ہی سزاوار ہے۔ زید نے اس سے اپنی حاجت جب پوری کر لی (طلاق دیدی) تو ہم نے تم کو اس سے شادی کرادی۔ (ہم نے یہ اس لئے کیا کہ)لے پالک بیٹے جب اپنی بیوی سے اپنی حاجت پوری کر لیتے ہیں (طلاق دے دیتے ہیں) تو انہیں ایمان والے (پرورش کرنے والے باپ) نکاح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ کا حکم ہو کر رہنے والاہے319۔

39,38۔ اللہ نے ان کے لئے جو انتظام کیا تھا اس میں نبی پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے ، اس کے سوا کسی اور سے نہ ڈرتے ہوئے، اللہ کے پیغامات کو پہنچانے والے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے پاس بھی اللہ کایہی دستور رہا۔ اللہ کا حکم طے شدہ فیصلہ ہے۔ حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے۔

40۔ محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں تھے320۔ بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں187۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

41۔ اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔

42۔ صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرو۔

43۔اندھیروں303 سے اجالے کی طرف تمہیں لے جا نے کیلئے وہی تم پر رحمت بھیجتا ہے۔ اس کے فرشتے تمہارے لئے رحمت ڈھونڈتے ہیں۔ وہ مومنوں پر نہایت ہی رحم والا ہے۔

44۔ جس دن وہ لوگ اس سے ملیں گے488 تو ان کا تحفہ سلام159 ہوگا۔ ان کے لئے باعزت اجرت بھی اس نے تیار کر رکھا ہے۔

46,45۔ اے نبی! (اے محمد!) ہم نے تم کو گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا، خبردار کرنیوالا، اللہ کی مرضی کے مطابق اسکی طرف بلانے والا،اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے26۔

47۔ انہیں خوشخبری سنادو کہ مومنوں کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔

48۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے اور منافقوں کی تابع نہ بنو۔ ان کی ایذارسانی کی پروا نہ کرو۔اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ ذمہ داری کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔

49۔ اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو ، پھر انہیں ہاتھ چھونے سے پہلے طلاق66 دے دو تو تمہارے لئے ان کا کوئی عدت نہیں69۔ ان کے لئے کچھ سہولتیں مہیا کرو74۔ خوش اسلوبی سے انہیں رخصت کردو۔

50۔ اے نبی! (اے محمد!) تمہاری بیویوں میں جن کو تم نے مہر108 ادا کر چکے ہوان کو، اللہ تمہیں جنگی قیدیوں میں سے عطاکئے ہوئے لونڈیوں کو107، تمہارے چچا کی بیٹیوں کو، تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیوں کو، تمہارے ماموؤں کی بیٹیوں کو، تمہاری خالاؤں کی بیٹیوں کو، جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت460 کی ہے ان کو (نکاح کر نے کے لئے) ہم نے تم کو اجازت دی ہے۔ نبی کے لئے اپنے آپ کو نذر کر دینے والی مومن عورت سے بھی نبی اگر نکاح کر نا چاہے تو (اجازت ہے)۔ تمہیں دشواری نہ ہو نے کے لئے، دوسرے مومنوں سے الگ، یہ تمہارے لئے خصوصی378 قانون ہے۔(دوسروں کے لئے) ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو مقرر ہوا ہے اسے ہم جانتے ہیں۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

51۔ (اے محمد!) ان میں سے تم جن کو چاہیں الگ کر سکتے ہو۔ جن کو چاہیں اپنے پاس رکھ سکتے ہو۔ جن کو تم نے الگ کردیا ان میں سے جن کو تم چاہو (ا ن کو دوبارہ ملالینے سے) تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو نے کے لئے، وہ بے فکر رہنے کے لئے، تم جوانہیں دیتے ہو اس سے وہ سب راضی رہنے کے لئے یہ مناسب ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ جانتا ہے۔ اللہ جاننے والا ، بردبار ہے۔

52۔ لونڈیوں کے سوا107 دوسری عورتیں اس کے بعد تمہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر چہ ان کی خوبصورتی تمہیں لبھائے بھی۔ (انہیں طلاق دینے کے بعد) ان کے بدلے میں دوسری بیویوں کو بدلنا بھی نہیں۔ اللہ ہر چیزپر نگرانی کررہا ہے۔

53۔ اے ایمان والو! نبی کی گھروں میں اجازت کے بغیر کھانے کے لئے داخل نہ ہو۔ ان کے برتن کو دیکھتے نہ رہو۔بلکہ تمہیں بلا یا جائے تو جاؤ۔ کھانا کھا چکو تو نکل جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہوجاؤ۔ وہ نبی کے لئے تکلیف دہ ہوگی۔تم سے (کہنے کے لئے) وہ شرمندہ ہوں گے۔ سچ بات کہنے کے معاملے میں اللہ شرماتا نہیں۔ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنی ہوتو پردے کے پیچھے500 ہی سے مانگو۔ یہی تمہارے لئے اور ا ن کے لئے پاکیزہ ہے۔ اللہ کے رسول کو تم تکلیف نہ دینی چاہئے۔ ان کے بعد تم ہر گز ا ن کی بیویوں سے نکاح نہیں کر نا چاہئے۔یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے322۔

54۔ کسی بات کو تم ظاہر کرویا مخفی رکھو اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

55۔ ان کے باپوں ، ان کے بیٹوں، ان کے بھائیوں ، ان کے بھتیجوں ، ان کے بھانجوں ، ان کی عورتوں اور ان کے غلاموں107 کے معاملے میں ان پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ ہر چیز کا دیکھنے488 والا ہے۔

56۔ اللہ اس نبی پر رحمت بھیجتا ہے۔ فرشتے ان کے لئے اس کی رحمت چاہتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان کے لئے (رب کی) رحمت چاہو۔ اور سلام 159بھی کہو324۔

57۔ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دینے والوں کو اس دنیا اور آخرت میں اللہ لعنت کرتا ہے6۔ ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

58۔ ایمان والے مرد اور عورتوں نے جو کام ارتکاب نہیں کیا ، اسے کہہ کر ایذا دینے والے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھا لیا۔

59۔ اے نبی! (اے محمد!) تم اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور (دوسرے) ایمان والی عورتوں سے کہو 472کہ وہ چادریں اپنے اوپر لٹکا لیں۔ انہیں پہچانا جانے اور ستایا نہ جانے کے لئے وہ بہتر ہے300۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

60۔ منافق لوگ اور دلوں میں بیماری رکھنے والے ، مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اگر باز نہ آئے تو (اے محمد!) ہم تمہیں ان پر اقتدار کر نے رکھ دیں گے۔ پھر یہاں تمہارے پاس بہت کم لوگ ہی آباد رہیں گے185۔

61۔ وہ لوگ لعنت کئے ہوئے ہوں گے۔ وہ جہاں کہیں بھی دیکھے جائیں ، پکڑے جا کربری طرح قتل کئے جائیں گے۔

62۔ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے معاملے میں یہی اللہ کا دستور رہا۔ اللہ کے دستور میں تم کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے۔

63۔ (اے محمد!) لوگ قیامت کے وقت1 بارے میں تم سے پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔تمہیں کیسے معلوم کہ قیامت کا وقت1 شاید قریب بھی ہوسکتا ہے۔

64۔ ( اس کا) انکار کر نے والوں پر اللہ نے لعنت کردی6۔ ان کے لئے جہنم بھی تیار کر دیا۔

65۔ اس میں وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔ کوئی کارساز یا مددگار نہ پائیں گے۔

66۔ جس دن6 ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ لوگ کہیں گے کہ اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی۔اور اس رسول کی اطاعت کی ہوتی۔

67۔ اوریہ بھی کہیں گے کہ اے میرے رب! ہم اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔

68۔ (یہ بھی کہیں گے کہ) اے ہمارے پرور دگار! انہیں دگنا عذاب دے۔ انہیں بہت بڑے مقدار میں لعنت کر۔

69۔ اے ایمان والو! موسیٰ کو اذیت پہنچانے والے کی طرح نہ ہوجاؤ۔ ان کی باتوں سے ان کو اللہ نے بری کردی۔ اللہ کے پاس وہ بڑے مرتبہ والے تھے394۔

70۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ سیدھی بات ہی کہا کرو۔

71۔ وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال درست کر دے گا۔ تمہارے لئے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اللہ اور اس کے رسول کی جس نے اطاعت کی اس نے بڑی فتح پائی۔

72۔ آسمانوں507 ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے ہم نے امانت446 پیش کی۔ وہ بار اٹھانے سے ڈر کر انکار کردیا۔ انسان نے اسے اٹھالیا۔ وہ تو بڑا ظالم اور نادان ہے۔

73۔ منافق مردوں اور عورتوں کو، مشرک مردوں اور عورتوں کواللہ سزا دینے کے لئے ، مومن مردوں اور عورتوں کو اللہ معاف کر نے کے لئے (اس نے ایسا کیا)۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔

سورۃ : 34 سورۃ سبا ۔ ایک بستی 

کل آیتیں : 54

سبا نامی ایک بستی کے بارے میں اور اس بستی میں کئے گئے بارآور سہولتوں کے بارے میں ، جب ان بستی والوں نے ناشکری کی تو ان آسائشوں کو برطرف کر نے کے بارے میں اس سورت کی آیت نمبر 17,16,15 میں ذکر کیا گیا ہے، اس لئے اس سورت نام یہ رکھاگیاہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے...

1۔ اللہ ہی کے لئے ہیں تمام تعریفیں۔ آسمانوں507 میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ آخرت 1میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے۔ وہ حکمت والا، خوب جاننے والا ہے۔ 

2۔ جو کچھ زمین میں داخل ہو تا ہے،جو کچھ اس سے نکلتا ہے، جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جوکچھ اس کی طرف چڑھتا ہے وہ سب جانتا ہے۔ وہ نہایت ہی رحم والا، بخشنے والا ہے۔ 

3۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ قیامت کا وقت1 ہم پر نہیں آئے گا۔ تم کہہ دو کہ ایسا نہیں ہے۔ میرے رب کی قسم! وہ تمہارے پاس آئے گا۔ وہ غیب کا جاننے والا ہے۔ آسمانوں 507میں اور زمین میں ذرہ برابر یا اس سے بھی چھوٹی یا اس سے بھی بڑی کوئی چیزاس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ وہ کھلی دفتر میں157 درج کئے بغیر نہیں ہے۔ 

4۔ (یہ اس لئے درج کیا جا رہا ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں انعام دیا جائے۔ ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ 

5۔ ہماری آیتوں میں ہمیں جیتنے کی کوشش کر نے والوں کودردناک عذاب کی سزا ہے۔

6۔ (اے محمد!) جنہیں علم دیا گیاہے وہ سمجھتے ہیں کہ تمہارے رب کی جانب سے جو تمہیں عطا ہوئی ہے وہی حق ہے۔اور وہ خوبیوں والے عزیزکی راہ دکھا تا ہے۔ 

7۔ (اللہ کا) انکا ر کر نے والے پوچھتے ہیں کہ کیا تمہیں ہم ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو یہ کہتا ہے کہ تم پوری طرح سے نابود ہوجا نے کے بعد پھرنئے سرے سے تخلیق کئے جاؤگے؟

8۔ کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے؟ یا اسے دیوانگی ہے468؟ ایسا نہیں ہے، آخرت کے1 نہ ماننے والے عذاب میں اور دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

9۔ آسمان507 اور زمین میں جو ان کے آگے اور پیچھے ہے ،کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟اگر ہم چاہتے تو انہیں زمین میں دھنسا دئے ہوتے، یا ان پر آسمان507 سے ٹکڑوں کو گرادئے ہوتے۔اصلاح چاہنے والے ہر بندوں کے لئے اس میں مناسب دلیل ہے۔ 

11,10۔ داؤد کو ہم نے فضل عطا کیا۔(اور کہا کہ) اے پہاڑو! اے پرندو! ان کے ساتھ مل کر تسبیح کرو۔ یہ کہہ کر کہ جنگی زرہیں بناؤ اور اس کے کڑیوں کو درست کرو ، ہم نے ان کے لئے لوہے نرم کر دئے۔اور یہ بھی کہا26 کہ نیک عمل کرو۔ تم جوکر رہے ہو وہ میں دیکھ رہا ہوں488۔ 

12۔ سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا۔ اس کا نکلنا ایک مہینہ ہے اور اس کا پلٹنا ایک مہینہ ہے325۔ ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اپنے رب کی مرضی سے ان کے پاس خدمت کرنے والے جنات بھی تھے۔ ان میں سے کوئی ہمارے حکم کی سرتابی کرے تو دوزخ کے عذاب کا مزہ انہیں چکھائیں گے۔ 

13۔ ان کی چاہت کے مطابق انہوں نے محلات، مجسمے326، حوضوں جیسے لگن، ہٹائے نہ جانے والے دیگیں بنائے۔ (ہم نے کہا کہ) اے داؤد کے گھر والو! شکر کے ساتھ عمل کرو۔ میرے بندوں میں شکر گذار بہت کم ہی ہیں۔

14۔جب ہم نے ان پر موت طاری کی تو زمین میں رینگنے والے جاندار(دیمک) ان کی موت کا پتہ دے دیا۔ وہ ان کی لاٹھی کھا رہا تھا۔ جب وہ نیچے گر پڑے تو جنوں نے سمجھ لیا کہ اگر ہم کو غیب کی باتیں معلوم ہوتیں تو رسوائی بھری اس مصیبت میں نہ پڑے ہوتے327۔ 

15۔ سبا والوں کو ان کی آبادی میں معقول نشانی ہے۔اس کے دائیں اور بائیں جانب دو باغ تھے۔ (ان سے کہا گیا کہ) اپنے رب کارزق کھاؤ۔ اس کا شکر ادا کرو۔ بستی بھی اچھی بستی ہے اورپروردگار بھی بخشنے والا ہے۔ 

16۔ لیکن انہوں نے جھٹلادیا۔ اس لئے ہم نے ان پر زور کا سیلاب بھیجا۔ ان کے اس دو باغوں کے بدلے میں ترش اور کڑوی گھاس والی اور تھوڑی سی بیری کے درختوں کے دو باغوں میں بدل دیا۔

17۔ وہ لوگ (ہمارا) انکار کر نے کی وجہ سے اس طرح ہم نے سزا دی۔(ہمارا) انکار کر نے والوں کے سوا کیا ہم دوسروں کو سزا دے سکتے ہیں؟ 

18۔ ہمارے برکت کئے ہوئے بستیوں اور ان کے درمیان کھلے انداز میں دکھائی دینے والی بستیوں کو ہم نے آباد کی۔ اس میں سفر بھی جاری کیا۔ (اور کہا کہ) رات اوردن بے خوف ہو کر سفر کرو۔ 

19۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے دور دراز سفر پیدا کردے، وہ اپنے آپ پر ظلم کر نے لگے۔ انہیں پرانا افسانہ بنا دیا۔ انہیں نیست و نابود کر دیا۔ صبر اور شکر کر نے والے ہر ایک کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

20۔ ان کے انداز تک ابلیس نے اپنے خیال میں کامیاب رہا۔ ایمان والے ایک گروہ کے سوا (دوسرے) اس کی پیروی کر نے لگے۔ 

21۔ ان پر اس کوکسی قسم کا اختیار نہیں۔ آخرت کے ماننے والوں اور شک کر نے والوں کو الگ کر کے دکھانے کے لئے (ایسا ہوا تھا)۔ تمہارا رب ہر چیز کی حفاظت کر نے والا ہے۔ 

22۔کہہ دو کہ اللہ کے سوا جس کا تم تصور کر تے ہو ان کو بلا کر دیکھو۔وہ آسمانوں507 اور زمین میں ایک ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ ان دونوں میں انہیں کوئی حصہ بھی نہیں۔ان میں اس کے لئے کوئی مددگار بھی نہیں۔ 

23۔ جس کو اس نے اجازت دی تھی اس کے سوا اس کے پاس سفارش 17کر نا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ آخر میں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو نے کے ساتھ وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہیں گے کہ حق بات (کہا ہے)۔ وہ بلند و بالااور بڑا ہے۔ 

24۔ (اے محمد!) پوچھو کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق کون دیتا ہے463؟ کہو کہ اللہ۔ ہم یا تم سیدھی راہ پر یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

25۔ اور یہ بھی کہو کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کے بارے میں تم دریافت نہیں کئے جاؤگے۔ تمہارے کئے ہوئے کے بارے میں ہم دریافت نہیں کئے جائیں گے265۔ 

26۔اور کہو کہ ہمیں ہمارارب اکٹھا کر ے گا۔ پھر ہمارے درمیان سچا فیصلہ کر ے گا۔ وہ فیصلہ کر نے والا ، علم والا ہے۔ 

27۔ کہو کہ جن کو تم اس کا شریک ٹہراتے ہو مجھے دکھاؤ۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہی زبردست اور حکمت والا اللہ ہے۔ 

28۔ (اے محمد!) ہم نے تم کو خوشخبری دینے والا، خبردار کر نے والااور سارے انسانوں281 کے لئے بھیجا ہے187۔ لیکن انسانوں میں اکثر نہیں جانتے۔ 

29۔ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ انتباہ کب (پورا) ہوگا؟

30۔ کہہ دو کہ تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن1 مقرر ہے۔ اس سے تھوڑی دیر پیچھے بھی ہٹ نہیں سکوگے اور نہ آگے بھی جا سکو گے۔ 

31۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اوراس کوجو اس سے پہلے گزر گئی 4ہم نہیں مانیں گے۔ اپنے رب کے سامنے جب ظالموں کو کھڑے کئے جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ ان میں ایک دوسرے پرالزام دھر رہے ہوں گے۔ جو کمزور تھے وہ متکبر لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم بھی ایمان لے آتے۔ 

32۔ متکبر لوگ کمزوروں کے پاس کہیں گے کہ جب سیدھی راہ تمہارے پاس آئی تو کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے۔ 

33۔ متکبر لوگوں سے کمزور لوگ کہیں گے کہ جب تم نے ہم کو حکم دیا تھا کہ اللہ کا انکار کرو اور اس کا شریک تصور کرو تو اس وقت رات و دن کی تمہاری مکاری ہی نے (ہمیں گمراہ کردیا)۔ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو پشیمانی کو دل میں چھپا لیں گے۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کی گردنوں میں ہم طوق ڈالیں گے۔کیا اس کے سوا جو انہوں نے کیا تھا (دوسری کسی چیز کے لئے)وہ سزا دئے جائیں گے؟ 

34۔ ہم نے جس بستی میں بھی تنبیہ کر نے والے کو بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگ یہ کہے بغیر نہیں رہے کہ تم جو دے کر بھیجے گئے ہو اس کا ہم انکار کر نے والے ہیں۔ 

35۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد پائے ہیں۔ ہم سزا پانے والے نہیں ہیں۔ 

36۔ کہو کہ میرا رب جس کو چاہتاہے مال کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ لیکن لوگوں میں اکثر نہیں جانتے۔ 

37۔ تمہارے مال اور اولاد ہم سے قریب کر نے والی نہیں ہیں بجز اس کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ انہیں ان کے اعمال کا کئی گنا اجر ہے۔ وہ لوگ اونچے محلوں میں بے فکر رہیں گے۔

38۔ ہماری آیتوں میں (ہمیں) فتح پانے کی کوشش کر نے والے عذاب کے سامنے کھڑا کئے جائیں گے۔ 

39۔کہو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے مال کشادہ کر دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے کم بھی کر دیتا ہے۔ تم جو چیز بھی (نیک راہ میں) خرچ کروگے وہ اس کا بدلہ دے گا۔ وہ دینے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ 

40۔ (وہ) ان سب کو اکٹھا کر نے کا دن 1ہے۔ پھر وہ فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کر تے تھے؟ 

41۔ وہ کہیں گے کہ تو پاک 10ہے۔ تو ہی ہمارا محافظ ہے۔ ا ن کے ساتھ (ہمارا کوئی) تعلق نہیں۔بلکہ یہ لوگ جنوں ہی کی عبادت کر تے رہے۔ ان میں اکثر انہیں کو مانتے تھے۔

42۔ پس اس دن تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی بھلائی یا برائی کر نے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ تم جسے جھوٹ سمجھا تھا اس جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو۔ 

43۔ ہماری واضح آیتیں انہیں سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ آدمی تو تمہارے باپ دادا جس کی پرستش کر تے تھے اس سے تمہیں روکناچاہتا ہے۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ محض من گھڑت بہتان ہے۔ ان کے پاس جب سچائی آئی تو(اللہ کا) انکار کر نے والے کہتے ہیں357 کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں285۔ 

44۔ جن کو وہ پڑھتے ہیں ویسی کوئی کتاب ہم نے انہیں نہیں دی تھیں۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ان کے پاس آگاہ کر نے والے کسی کوہم نے نہیں بھیجا۔ 

45۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھوٹ سمجھا تھا۔ ان کو ہم نے جو عطا کیا تھااس میں دس میں ایک حصہ (بھی) یہ لوگ نہیں پائے۔ وہ لوگ ہمارے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔ میری جوابی کاروائی کیسی رہی؟ 

46۔ کہہ دو کہ میں تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کر تا ہوں کہ تم دو دو مل کر یا اکیلے اکیلے ہی اللہ کے واسطے تھوڑا وقت نکالواور غور کرو کہ تمہارے ساتھی کو(مجھ کو) کوئی جنون نہیں ہے468۔ سخت عذاب سے پہلے وہ تمہیں خبردار کر نے والے کے سوا کوئی نہیں۔ 

47۔ کہو کہ تمہارے پاس میں کوئی اجرت نہیں مانگا۔ وہ توتمہارے لئے ہے۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی(اور )کے پاس نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کا دیکھنے والا ہے488۔ 

48۔ کہو کہ میرا رب حق ہی ڈالتا ہے۔ (وہ) غیب کو بخوبی جاننے والاہے۔ 

49۔ کہو کہ حق آگیا۔ باطل (معبودوں نے)کوئی چیز پیدا نہیں کی، پھر سے وہ پیدا کر نے والے بھی نہیں ہیں۔ 

50۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوجاؤں تو میرے ہی خلاف میں گمراہ ہوتا ہوں۔ اگر میں ہدایت پاؤں تو وہ میرے رب نے جو مجھے وحی کی تھی اس کی وجہ سے ہے81۔ وہ سننے والا، قریب رہنے والا ہے49۔ 

51۔ وہ جب گھبرائے ہوئے ہوں تو تم دیکھوگے ، وہ بچ کر نہیں جا سکتے۔ قریب سے وہ پکڑے جائیں گے۔ 

52۔ وہ کہیں گے کہ اسے ہم نے مانا۔ دور کی جگہ سے (کسی چیز کو) پالینا کیسے ممکن ہے؟ 

53۔ اس سے پہلے انہوں نے اس کا انکار کیا تھا۔ دور کی جگہ میں رہتے ہوئے غیب کے بارے میں (شبہات) پھینکتے تھے۔ 

54۔ ان جیسے لوگوں کو پہلے جو کیا گیا تھا اسی طرح انہیں بھی ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا۔ یہ لوگ سخت شک میں پڑے ہوئے تھے۔ 

سورۃ : 35 سورۃ فاطر ۔ پیدا کر نے والا

کل آیتیں : 45

اس سورت کی پہلی آیت میں فاطر کا لفظ پانے کی وجہ سے اس سورت کا نام اس طرح رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کر نے والے اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔ (وہ) فرشتوں کو دو دو، تین تین، چار چار پر وں والے قاصد161 بنا کر بھیجے گا۔ وہ اپنی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کر ے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

2۔ لوگوں کے لئے اللہ نے جوبھی رحمت کھول دے اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ اس نے جو روک دیا اس کے بعد اس کو بھیجنے والا بھی کوئی نہیں۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

3۔ اے لوگو! تم کو اللہ نے جو احسان کی ہے اس کو یاد کرو۔ آسمان507 اور زمین سے تمہیں اللہ کے سوا رزق دینے والا463(کوئی دوسرا) خالق ہے؟ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ تم کیسے رخ پھیرے جاتے ہو؟ 

4۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں تو تم سے پہلے کئی رسول جھوٹے سمجھے جا چکے ہیں۔ سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

5۔ اے لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ دھوکہ دینے والا (شیطان) اللہ کے معاملے میں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ 

6۔ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ اس کو دشمن ہی بنالو۔ جہنمی بننے ہی کے لئے وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے۔ 

7۔ کفر کر نے والوں کو سخت عذاب ہے۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ 

8۔ جس کو اس کا برا عمل آراستہ کر کے دکھایا جائے اور وہ بھی اس کو اچھا سمجھنے لگے تو کیا وہ (جنتی ہے)؟ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (اے محمد!) ان کے لئے افسوس کر تے ہوئے تمہاری جان نہ نکل جائے81! جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ جانتا ہے۔ 

9۔ اللہ ہی ہوا بھیجتا ہے۔ وہ بادل کو منتشر کر دیتی ہے۔ مردہ بستی پر ہم اسے برساتے ہیں۔ اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں۔ پھر سے زندہ کیا جانا بھی اسی طرح ہے۔ 

10۔ اگر کوئی عزت چاہے تو عزت ساری اللہ ہی کے لئے ہے۔ پاکیزہ کلمات اسی کی طرف اوپر چڑھتی ہیں۔ نیک عمل ان کو بلند کر تا ہے۔ برے کاموں میں سازش کر نے والوں کو سخت عذاب ہے۔ ان کی سازش ہی تباہ ہوگی۔ 

11۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے368&506 پھر نطفے سے پیدا کیا۔ پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا۔ کوئی عورت حاملہ ہونا اوربچے کا تولد ہونا بغیراس کے علم کے نہیں ہوسکتا۔ کسی شخص کو زندگی دینا اور اس کی عمر کو کم کرنا دفتر میں157 درج کئے بغیر نہیں ہے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

12۔ دوسمندر برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ میٹھا ، کم کثافت والا اور پینے کے قابل ہے۔ اور وہ نمکین اور کڑوا ہے۔ ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو171۔ تم جو پہنتے ہو اس زیور کو (اسی سے) ظاہر کرتے ہو۔ تم اس کے فضل تلاش کر نے اور شکر ادا کر نے کے لئے سمندر کو چیرتے ہوئے کشتیاں چلتے ہوئے تم دیکھتے ہو۔ 

13۔ وہ رات کو دن میں داخل کر تا ہے، دن کو رات میں داخل کر تا ہے۔ سورج اور چاند کو اس نے اپنے قابو میں رکھاہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا ہے241۔ وہی اللہ، تمہارا رب ہے۔ اسی کے لئے اختیارہے۔ اس کے سوا تم جسے پکارتے ہو وہ ذرہ برابر اختیار والے نہیں ہیں۔ 

14۔ تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے۔ اگر وہ سن بھی لیں تو وہ تمہیں جواب نہیں دیں گے۔ قیامت کے دن1 وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے۔ اچھی طرح جاننے والے (اللہ )کی طرح تمہیں کوئی بتا نہیں سکتا۔ 

15۔ اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو۔ اللہ ہی بے نیاز ہے485، تعریف کے لائق ہے۔ 

16۔ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر کے ایک نئی مخلوق لے آئے گا۔ 

17۔ یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں ہے۔ 

18۔ ایک، دوسر ے کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا265۔ زیادہ بوجھ والا اسے اٹھانے کے لئے کسی کو پکارے تو (پکارے جانے والا) رشتہ دار بھی ہو تو اس میں سے کچھ بھی اس پر لادا نہیں جائے گا۔ تنہائی میں رہتے وقت اپنے رب سے ڈرتے ہوئے نماز قائم کر نے والوں ہی کو تم آگاہ کر سکتے ہو۔ پاکیزگی اختیار کرنے والے اپنے ہی لئے پاکیزگی اختیار کر تے ہیں۔ اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ 

21,20,19۔ اندھااور آنکھوں والا، تاریکیاں303 اور روشنی، سایہ اور دھوپ برابر نہیں ہوسکتے26۔ 

22۔ زندہ رہنے والے اور مردے برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ جن کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے۔ قبروں میں رہنے والوں کو تم سنا نہیں سکتے۔ 

23۔ تم تو خبردار کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔ 

24۔ خوشخبری سنانے والے اور خبردار کر نے والے ، سچائی کے ساتھ ہم نے تمہیں بھیجا۔ کسی بھی قوم میں خبردار کر نے والے انہیں آئے بغیر نہیں رہے۔ 

25۔ اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھے تو ان سے پہلے گزرے ہوئے بھی(رسولوں کو) جھوٹا سمجھے تھے۔ ان کے پاس ان کے رسولوں نے واضح دلیلیں ، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے105۔

26۔ پھر (میرے) انکار کر نے والوں کو پکڑا۔ میری جوابی کاروائی کیسی رہی؟ 

27۔ کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ ہی نے آسمان 507سے پانی اتارا؟ اس کے ذریعے مختلف رنگوں کے پھل نکالے۔ پہاڑوں میں سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے راستے ہیں۔ اور کالے رنگ کے بھی ہیں۔ 

28۔ اسی طرح انسانوں میں، رینگنے والوں میں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگوں کے ہیں۔ اللہ کے بندوں میں اس سے ڈرنے والے علماں ہی ہیں۔ اللہ زبردست، بخشنے والا ہے۔ 

29۔ جولوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کر تے ہیں، وہ بغیر خسارے کے ایک تجارت کے منتظر ہیں ۔

30۔ کیونکہ وہ ا ن کی اجرتیں پوری دے گا۔وہ اپنی نعمتوں سے انہیں اور زیادہ بھی دے گا۔ وہ بخشنے والا، شکر گزار ہے۔ 

31۔ (اے محمد!) کتاب سے ہم تمہیں جو وحی کی ہے وہی حق ہے۔ وہ اپنے سے پہلے گزری ہوئی کی4 تصدیق کرتی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو اچھی طرح جاننے والا، دیکھنے والا ہے488۔

32۔ پھر ہمارے بندوں میں سے ہم نے جن کو منتخب کر لیا انہیں کتاب کا وارث بنایا۔ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کر نے والے بھی ہیں۔ ان میں میانہ روی والے بھی ہیں۔ ان میں اللہ کی مرضی کے مطابق نیکی کی طرف تیزی سے جانے والے بھی ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے۔ 

33۔ وہ دائمی جنت کے باغات میں داخل ہوں گے۔ وہاں سونے کے کنگن اور موتیاں پہنائی جائیں گی۔ وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ 

34۔ اور کہیں گے کہ ہم سے غم دور کر نے والے اللہ ہی کے لئے ساری تعریفیں ہیں۔ ہمارا رب بخشنے والا، شکر گزار ہے6۔ 

35۔ (اور یہ بھی کہیں گے کہ) وہ اپنے فضل سے ہمیں ہمیشگی کی دنیا میں بسایا۔ یہاں ہمیں کوئی تکلیف نہ ہوگی اور نہ تھکاوٹ پہنچے گی۔ 

36۔ (ہمارا) انکارکر نے والوں کو جہنم کی آگ ہے۔ وہ مرنے کے لئے فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ اس کا عذاب بھی انہیں ہلکا نہ کیا جائے گا۔ (ہمارا) انکار کر نے والے ہر ایک کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔ 

37۔ وہاں وہ چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں باہر بھیج دے۔ ہم نے جس طرح کر تے آئے تھے اس کے بجائے (آئندہ) نیک عمل کریں گے۔ (انہیں کہا جائے گا کہ) تم عبرت حاصل کر نے کی حد تک کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی؟ کیا تمہارے پاس خبردار کرنے والے نہیں آئے؟ اس لئے تم مزہ چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

38۔ آسمانوں507 اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو اللہ جاننے والاہے۔ سینوں میں جو ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ 

39۔ اسی نے تمہیں زمین میں خلیفہ46 بنایا۔ اگر کوئی (اللہ کا) انکار کرے تو اس کا انکار اسی کے خلاف ہوگا۔ انکار کر نے والوں کو ان کا انکار ان کے رب کے پاس بجز اس کے غصہ کے کچھ نہ بڑھائے گا۔ انکار کر نے والوں کو ان کا انکارنقصان کے سوا کچھ نہ اضافہ کرے گا۔ 

40۔ پوچھو کہ اللہ کے سوا تم جسے پکارتے ہو وہ شریک زمین میں کیا پیداکیا ، ذرا ہمیں بتاؤ۔ یا جواب دو کہ آسمانوں507 میں ان کاکوئی حصہ ہے؟ یا انہیں ہم نے کوئی کتاب دی ہے کہ جس سے (ملی ہوئی) تسلی میں وہ ہیں؟ نہیں، ان ظالموں میں ایک دوسرے سے فریب کے وعدے ہی کر رہے ہیں۔ 

41۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین کو اکھڑے بغیر تھاما ہوا ہے۔ وہ دونوں اگر اکھڑ گئے تو اس کے سوا کوئی انہیں روک نہیں سکتا328۔ وہ بردبارہے، بخشنے والا ہے۔ 

43,42۔وہ لوگ اللہ پر پختہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ان کے پاس کوئی خبردار کر نے والا آئے تو دوسری قوموں سے زیادہ راہ راست پانے والے ہوں گے ۔جب ان کے پاس خبردار کر نے والے آئے تو وہ انہیں نفرت ، زمین میں تکبر کرنا اور بری چالیں چلنے کے سوا (دوسرا کچھ) اضافہ نہیں کیا۔ بری چالیں، وہ کر نے والوں ہی کو لپیٹ لیتی ہیں۔ اگلے لوگوں کی حالت کے سوا کیا وہ (کسی اورچیز کے)منتظر ہیں؟ اللہ کے دستور میں تم کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے۔ اللہ کے دستور میں تم کوئی موڑ بھی نہیں دیکھ سکو گے26۔ 

44۔ کیا وہ لوگ زمین پر سفر کر کے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیا ہوا ؟ وہ لوگ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے۔ آسمانوں507 اور زمین میں اللہ پر کچھ بھی فتح نہیں پاسکتے۔ وہ جاننے والا، قدرت والا ہے۔ 

45۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب اللہ اگر پکڑنا چاہے تو زمین پر کسی جاندار کو چھوڑے نہیں رکھتا۔ بلکہ ایک مقررہ مدت تک انہیں مہلت دے رکھا ہے۔ ان کا مقررہ وقت جب آجا ئے گا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا 488ہے۔ 

سورۃ : 36 سورۃ یٰسٓ ۔ (عربی زبان کے 28 اور 12 ویں حروف )

کل آیتیں : 83

اس سورت کی ابتدا ہی یا ، سین کی دو حروفوں سے ہوئی ہے، اس لئے یہ نام اس کو رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے...

1۔ یا، سین2۔

2۔ حکمت بھرے قرآن کی قسم! 

3۔ (اے محمد!) تم رسولوں میں سے ایک ہو۔

4۔ (تم) سیدھے راستے پر ہو۔ 

6,5۔ زبردست اورنہایت ہی رحم والے کی طرف سے یہ نازل کیا گیا ہے26 تاکہ تم اس قوم کو خبردار کریں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کے اگلوں کوخبردار نہیں کیا گیا تھا۔

7۔ ان میں سے اکثر لوگوں کے خلاف حکم ثابت ہوچکا۔ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

8۔ انکے گلوں میں ہم نے طوق ڈال دئے ہیں۔ وہ (ان کے) ٹھوڑیوں تک ہیں۔ اس لئے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ 

9۔ ان کے آگے ایک آڑ بنا رکھی ہے۔ ان کے پیچھے بھی ایک آڑ بنا رکھی ہے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا۔پس وہ دیکھ نہیں سکتے۔ 

10۔ انہیں خبردار کرنا اور نہ کرنا ان کی حد تک سب برابر ہے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

11۔ اس نصیحت کی پیروی کر تے ہوئے رحمن سے تنہائی میں ڈرنے والوں ہی کو تم آگاہ کر سکتے ہو۔ انہیں مغفرت اور باعزت اجر کے بارے میں خوشخبری سناؤ۔

12۔ مردوں کو ہم ہی زندہ کر تے ہیں۔ ان کے عمل اور ان کے نقش قدم کو ہم درج کرتے ہیں۔ ہر ایک چیز کو ہم ایک واضح کتاب میں157 مقرر کر دیا ہے۔ 

13۔ ایک بستی والوں کے پاس جب رسول آئے تو اس واقعہ کو انہیں مثال کے طور پر سناؤ۔

14۔ ان کے پاس دو شخص کوجب ہم نے رسول بنا کر بھیجا تو ان دونوں کو جھوٹا سمجھا۔ پس ہم نے تیسرے کے ذریعے تقویت پہنچائی329۔ وہ کہنے لگے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔ 

15۔ (اس بستی والوں نے) کہا کہ تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان کے سوا کچھ نہیں ہو۔ رحمن نے کچھ نہیں نازل کیا۔ تم تومحض جھوٹ بولنے والے ہو۔ 

17,16۔ (رسولوں نے) کہا کہ ہمارارب جانتا ہے ہم تمہاری طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔ واضح طور پر پہنچادینے کے سوا ہم پر (دوسراکچھ) نہیں ہے۔ 

18۔ (اس بستی والوں نے) کہا کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہیں آئے تو ہم تمہیں سنگ سار کر دیں گے۔ ہماری طرف سے تمہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔ 

19۔ (رسولوں نے) کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ہی پاس ہے۔کیا تم کو اگر نصیحت کی جائے (تو بھی ہمیں دھمکی دوگے)؟ نہیں، تم تو حدسے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

20۔ اس شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص نے تیزی سے آیا اور کہا کہ اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔

21۔ تمہارے پاس اجرت نہیں مانگنے والے، راہ راست پر رہنے والوں کی پیروی کرو۔ پارہ : 23

22۔ میرے خالق کی میں کیسے عبادت کئے بغیر رہ سکتا ہوں؟ اسی کے پاس تم واپس لائے جاؤگے۔ 

23۔ اس کے سوا کیا میں دوسرے معبودوں کو بنالوں گا؟ اگر رحمن نے میرے لئے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش17 میرے لئے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہ مجھے بچا بھی نہیں سکتے۔

24۔جب میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ 

25۔ (یہ بھی کہا کہ) میں نے تمہارے رب کو مان لیا۔پس تم میری بات سنو۔ 

27,26۔ (ان سے) کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ330۔ اس نے کہا کہ کاش! میری قوم جان لیتی کہ میرے رب نے مجھے معاف کردیااور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کردیا26۔

28۔ ان کے بعد ان کی قوم کے مقابلے میں ہم نے ایک لشکر آسمان507 سے نہیں اتارا۔(اس طرح) ہم اتارنے والے بھی نہیں تھے۔ 

29۔ وہ تو صرف ایک ہولناک آواز تھی۔ فوراً وہ راکھ ہوگئے

30۔ بندوں کے لئے یہ نقصان ہی ہے۔ ان کے پاس جو بھی رسول آئے اس کا وہ مذاق اڑائے بغیر نہیں رہے۔ 

31۔کیا یہ نہیں جانتے کہ ان سے پہلے ہم نے کئی نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔اور وہ لوگ ان کے پاس واپس آنے والے نہیں ہیں۔ 

32۔ سب لوگ ایک ساتھ ہمارے پاس اکٹھا کئے جائیں گے

33۔ مردہ زمین ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ اسے ہم زندہ کرتے ہیں۔ اس سے ہم اناج نکالتے ہیں۔ اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ 

35,34۔ اس میں کھجور اور انگوروں کے باغات پیدا کئے۔ تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں۔ اس میں چشمے بھی بہادئے۔اسے انکے ہاتھوں نے نہیں بنائے۔ کیا وہ شکر ادا نہیں کریں گے26؟

36۔ زمین کی اگائی ہوئی چیزوں میں، خود ان میں اور ان کے نہ جانے ہوئے چیزوں میں جس نے جوڑے242 بنائے وہ پاک ہے10۔ 

37۔ رات بھی ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو کھینچ نکالتے ہیں۔ فوراً وہ لوگ تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں۔ 

38۔سورج اپنی مقررہ جگہ کی طرف چلا جا رہا ہے۔ یہ زبردست، علم والے کا انتظام ہے241۔

39۔چاند کے لئے کئی منازل مقرر کیا ہوا ہے۔ آخر میں وہ سوکھے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے۔ 

40۔ سورج، چاند کو پا نہیں سکتا۔ رات، دن سے آگے بڑھ نہیں سکتی۔ ہر ایک آسمان میں تیر رہے ہیں241۔ 

42,41۔ بھری ہوئی کشتی میں ان کی نسل کو ہم نے سوار کیا، وہ لوگ جو سوار ہوئے تھے اس جیسی399 (زمین میں) ان کے لئے پیدا کیا، اس میں بھی ان کے لئے نشانی ہے26۔ 

43۔ اگر ہم چاہتے تو انہیں غرق کر دیتے۔ ان کے لئے آواز اٹھانے والے کوئی نہیں ہوں گے۔ وہ لوگ بچائے بھی نہیں جاسکتے۔ 

44۔ پھر بھی ہماری رحمت کی بنا پر اور مقررہ وقت تک فائد ہ اٹھانے کیلئے (غرق نہیں کیا)۔ 

45۔جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے آگے اور پیچھے جو ہے اس سے ڈرو۔ تم پر رحم کیا جائے گا(تو وہ جھٹلا دیتے ہیں)۔ 

46۔ ان کے رب کی نشانیوں میں سے جوبھی نشانی ان کے پاس آتی ہے تو اسے وہ جھٹلائے بغیر نہیں رہتے۔ 

47۔ ان سے جب کہا جا تا ہے کہ اللہ جو تمہیں عطا کیا ہے (نیک راہ میں) خرچ کرو تو (اللہ کا) انکار کر نے والے مومنوں سے کہتے ہیں کہ (محتاجوں کو) کیا ہم کھانا کھلائیں؟ اگر اللہ چاہتا تو وہ انہیں کھلا دیا ہوتا۔ تم تو صریح گمراہی میں ہو۔ 

48۔ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ انتباہ کب (پورا ) ہوگا؟

49۔ ایک بڑے ہولناک آواز کے سوا کسی کی وہ منتظر نہیں۔ وہ بحث کر تے ہوں گے جب وہ انہیں آپکڑے گی۔ 

50۔ اس وقت ان سے وصیت کہنا بھی نہیں ہوگا۔ وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس بھی نہیں جاسکتے۔ 

51۔ صور پھونکا جائے گا۔ فوراً وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ 

52۔ وہ پوچھیں گے کہ ہماری نیند سے ہمیں زندہ کر نے والا کون332؟ (جواب دیا جا ئے گا کہ) رحمن نے جو وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے جس بات کوسچ ہے کہا تھا یہ وہی ہے۔ 

53۔ بس ایک زور کی آواز کے سوا کچھ اور نہیں۔ فوراًوہ سب ہمارے پاس اکٹھا کئے جائیں گے۔ 

54۔ آج کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیاجائے گا۔ تم جو کر رہے تھے اس کے سوائے اجرت نہیں دئے جاؤگے۔ 

55۔ اس دن جنتی (اپنے) مشغلوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ 

56۔ وہ اور ان کی بیویاں8 پلنگ میں جھکے ہوئے سایوں میں ہوں گے۔ 

57۔ وہاں ان کے لئے میوے ہیں۔ وہ جو طلب کریں گے انہیں ملے گا۔ 

58۔ سلام159! یہ نہایت ہی رحم والے رب کا قول ہو گا۔ 

59۔ (کہا جائے گا کہ) اے مجرمو! آج تم (نیکو کاروں سے) الگ ہوجاؤ۔ 

61,60۔ اے بنی آدم504!کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ میری ہی عبادت کرو۔ وہی سیدھا راستہ ہے26۔ 

62۔ تم میں سے ایک بڑی جماعت کو اس نے گمراہ کر دیا۔ کیا تمہیں سمجھنا نہیں چاہئے تھا؟ 

63۔ یہی تمہیں آگاہ کیا ہوا جہنم ہے۔ 

64۔ اور کہا جائے گا کہ تم (اللہ کا) انکار کر نے کی وجہ سے آج اس میں جلو۔ 

65۔ آج ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے510۔ ان کے کرتوتوں کے بارے میں ان کے ہاتھ ہم سے بات کر یں گے۔ پاؤں گواہی دیں گے۔ 

66۔ اگرہم چاہتے تو ان کی آنکھیں نکال دئے ہوتے۔ جب وہ راستے کی طرف دوڑتے تو وہ کیسے دیکھ پاتے؟ 

67۔ اگرہم چاہتے تو اسی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دئے ہوتے۔ اس طرح وہ (آگے بھی) جا نہیں سکتے ، پیچھے بھی جا نہیں سکتے۔ 

68۔ ہم نے جس کو عمر دراز دی تھی اس کو تخلیق میں تنزلی دے دیتے ہیں333۔ کیا وہ (اس کو) سمجھیں گے نہیں؟ 

69۔ انہیں(محمدکو) ہم نے شاعری نہیں سکھائی۔ (وہ) انہیں ضرورت بھی نہیں ۔ یہ تو نصیحت اور واضح قرآن کے سوا کچھ اور نہیں۔ 

70۔ (ہم نے اس کو نازل کیا) تاکہ جو زندہ ہیں انہیں تنبیہ کرے اور (ہمارے) انکار کر نے والوں کے خلاف حکم ثابت ہوجائے۔ 

71۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے چوپایوں کو ان کے لئے پیدا کیا اور وہ ان کے مالک ہیں؟ 

72۔ ان کے لئے انہیں تابعدار بنادیا۔ ان میں ان کے لئے سواری بھی ہیں ۔ ان میں سے وہ کھاتے بھی ہیں171۔ 

73۔ ان کے لئے فائدے اور مشروبات بھی ان میں ہیں۔ کیا وہ شکر ادا نہیں کر یں گے؟

74۔ اپنے لئے مدد کئے جا نے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا کئی معبودوں کو بنا لیا۔

75۔ ان معبودوں کو یہی لوگ (اس دنیا میں) اعلیٰ محافظ بنے رہنے کے باوجود وہ معبودتو ان لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے۔

76۔ (اے محمد!) ان کا قول تمہیں غم میں مبتلا نہ کردے۔ وہ جوکچھ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں سب ہم جانتے ہیں۔ 

77۔ کیا اس نے نہیں دیکھا کہ ہم نے انسان کو ایک نطفے 368سے پیدا کیا۔ وہ تو کھلے عام احتجاج کر تا ہے506۔ 

78۔ وہ ہمارے لئے مثال دیتا ہے۔ وہ بھول گیا کہ( ہم نے)اس کو پید اکیا ہے۔وہ پوچھتا ہے کہ ہڈیاں بوسیدہ ہوجا نے کے بعد اس کو زندہ کر نے والا کون؟

79۔ کہہ دو کہ پہلی بار جس نے اس کو پیدا کیا وہی اس کو زندہ کر ے گا۔ وہ ہر ایک مخلوق کو جاننے والا ہے۔ 

80۔ وہ سبز درخت سے تمہارے لئے آگ پیدا کیا۔اس میں سے تم آگ سلگاتے ہو۔ 

81۔ کیا آسمانوں507 اور زمین کو پیدا کر نے والا ان جیسوں کوپیداکر نے کی طاقت نہیں رکھتا؟ ہاں، وہ بہت بڑا خالق ہے، خوب جاننے والا ہے۔ 

82۔ اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کر تا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا، وہ فوراً ہوجاتی ہے506۔ 

83۔وہ پا ک 10ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے ۔ اسی کی طرف تم واپس لائے جاؤگے۔ 

سورۃ : 37 الصَّافَّات ۔ صف آرائی کرنے والے

کل آیتیں : 182

اس سورت کی ابتدا ئی آیت میں الصافات کا لفظ جگہ پانے کی وجہ سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ صف آرائی کر نے والوں کی قسم379! 

2۔ سختی سے دھتکارنے والوں کی قسم379! 

3۔ نصیحت سنانے والوں کی قسم379!

4۔ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

5۔ (وہ) آسمانوں507 اور زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے۔ مشرقوں کا بھی رب ہے335۔

6۔ پہلی آسمان507 کوہم نے ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔ 

7۔ ہر سر کش شیطان سے محفوظ(بنا دیا)307۔ 

10,9,8۔ (فرشتوں جیسے) اعلیٰ گروہ سے (ایک دو لفظ)کان لگا کر سننے کے سوا وہ کچھ نہیں سن سکتے۔ دھتکارے جا نے کے لئے ہر ایک حصہ سے ان پر پھینکے جا نے والا چمکتا ہوا شعلہ انہیں بھگا دے گا307۔ انہیں دائمی عذاب بھی ہے26۔ 

11۔ ان سے پوچھو کہ کیا یہ قوت والے مخلوق ہیں یا(دوسرے وہ)جن کو ہم نے پیدا کیا؟انہیں ہم نے چپکتی مٹی 503&506سے پیدا کیا368۔ 

12۔ حقیقت میں تم (اللہ کی قدرت پر غور کر تے ہوئے) تعجب کر تے ہواور وہ لوگ تو مذاق اڑا رہے ہیں۔ 

13۔ جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ عبرت حاصل نہیں کرتے

14۔ نشانی وہ دیکھ بھی لیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔ 

15۔ وہ کہتے ہیں357 کہ یہ صریح جادو کے سوا اور کچھ نہیں285۔ 

17,16۔ (وہ پوچھتے ہیں کہ)جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم اور ہمارے اگلے باپ دادا بھی پھر سے زندہ کئے جائیں گے26؟

18۔ کہو کہ ہاں، تم ذلیل ہونے والے ہو۔

19۔ وہ تو بس ایک زور کی آواز ہوگی۔ فوراً وہ دیکھیں گے

20۔ جب وہ کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی! یہ تو فیصلے کا دن 1 ہے۔ 

21۔ (کہا جائے گا کہ) تم نے جو جھوٹ سمجھ رکھا تھا وہ فیصلے کا دن 1 یہی ہے۔ 

23,22۔ ظلم کر نے والوں کو، ان کا ساتھ دینے والوں کو اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر نے والوں کو اکٹھا کرو۔ انہیں دوزخ کا راستہ دکھاؤ26۔ 

24۔ (فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) وہ لوگ پوچھ گچھ کئے جائیں گے، انہیں ٹہرائے رکھو۔

25۔ (پوچھا جائے گا کہ) تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ 

26۔ ویسا نہیں ہوگا۔ آج1 وہ مغلوب ہوئے لوگ ہیں۔ 

27۔ وہ ایک دوسرے سے متوجہ ہو کر استفسار کر لیں گے۔ 

28۔ (بعض) کہیں گے کہ تم ہی ہم پر حکم چلانے والے تھے۔ 

29۔ (دوسرے چند) کہیں گے کہ نہیں، تم ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔

30۔ تم پر ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا۔ بلکہ تم خود گمراہ لوگ تھے۔ 

31۔ پس ہمارے رب کا حکم ہمارے خلاف ثابت ہوچکا۔ (اس کا انجام) ہم بھگت رہے ہیں۔ 

32۔ (اور یہ بھی کہیں گے کہ)ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ ہم بھی گمراہ تھے۔ 

33۔ اس دن وہ عذاب میں حصہ دار ہوں گے۔ 

34۔ مجرموں سے ہم ایسے ہی برتاؤکریں گے۔ 

35۔ جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں تو وہ تکبر کر تے تھے۔

36۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایک دیوانہ 468شاعر کی خاطر ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیں گے؟ 

37۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ سچائی لے کر آئے ہیں۔ رسولوں کی تصدیق کر تے ہیں۔ 

38۔ تم درد ناک عذاب چکھنے والے ہو۔ 

39۔ تم جو کر رہے تھے اس کے سوا (کسی چیز کے لئے) اجرت نہیں دئے جاؤگے۔ 

40۔ منتخب شدہ اللہ کے بندوں کے سوا۔ 

43,42,41۔ خوشگوار جنت کے باغات میں ان کے لئے جانی پہچانی غذااورمیوے ہیں۔ وہ احترام کے ساتھ برتاؤ کئے جائیں گے26۔ 

44۔ پلنگوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ 

45۔ شراب کے چشمے سے (بھرے ہوئے) جام ان کے اطراف آئے گا۔ 

46۔ وہ سفید اور پینے والوں کے لئے لذت دینے والا ہوگا۔ 

47۔ اس میں کوئی خرابی نہیں ہوگی۔ اور وہ مدمست بھی نہیں ہوں گے۔ 

49,48۔ ان کے ساتھ نیچی نگاہ والی حسین آنکھوں والیاں8 چھپائے رکھے ہوئے انڈوں کی طرح ہوں گی26۔ 

50۔ ان میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے۔ 

53,52,51۔ ان میں سے ایک شخص کہے گاکہ میرا ایک دوست تھا۔ (وہ مجھ سے پوچھا) کیا تم بھی (آخرت کے) ماننے والوں میں سے ایک ہو؟ ہم مر کر جب مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم بدلہ دئے جائیں گے26؟ 

54۔ (اللہ) پوچھے گا کہ کیا تم (اس کو) جھانک کر دیکھتے ہو؟ 

55۔ وہ جب جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم کے درمیان پائے گا۔ 

56۔ وہ (جہنمی سے) کہے گا کہ اللہ کی قسم! تم مجھے گڑھے میں گرانے کی کوشش کی۔ 

57۔ اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو (دوزخ میں) لے جا نے والوں میں میں بھی ہوتا۔

59,58۔ (وہ یہ بھی پوچھے گا کہ) ہماری پہلی موت کے سوا کیا ہم پھر سے مر نے والے نہیں؟ اورکیا ہم سزا دئے جانے والے بھی نہیں26؟

60۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

61۔ عمل کر نے والے اس جیسے ہی کے لئے عمل کریں۔ 

62۔کیا یہ بہتر ٹھکانا ہے یا زقوم کا درخت؟ 

63۔ ہم نے اس کو ظالموں کے لئے آزمائش بنایا۔ 

64۔ وہ جہنم کی تہہ سے نکلنے والا درخت ہے۔ 

65۔ اس کا خوشہ شیطانوں کے سروں جیسا ہو تا ہے۔ 

66۔ وہ اس میں سے کھائیں گے۔ اس میں سے پیٹ بھریں گے۔ 

67۔ پھر اس پر کھولتا ہوا پانی بھی ان کے لئے ہو گا۔ 

68 ۔ پھر ان کا لوٹنا جہنم ہی ہوگا۔ 

69۔ وہ اپنے باپ دادا کو گمراہی میں پایا۔ 

70۔ انہیں کے نقش قدم پر یہ بھی کھینچے جا تے ہیں۔ 

71۔ پہلے گزرے ہوے لوگوں میں اکثر لوگ ان سے پہلے گمراہ ہوچکے تھے۔ 

72۔ ان کے پاس آگاہ کرنے والوں کو بھیجا۔

74,73۔ غور کرو کہ منتخب شدہ اللہ کے بندوں کے سوا آگاہ کئے جانے والوں کا انجام کیسا رہا26؟

75۔ نوح نے ہم سے دعا کی۔ ہم قبول کرنے والوں میں بہت بہتر ہیں۔ 

76۔ ان کو اور ان کے گھر والوں کو ہم نے بڑی مصیبت سے نجات دی۔ 

77۔ ان کے نسل ہی کو ہم نے باقی رہنے والا بنایا۔ 

78۔ پیچھے آنے والوں میں ان کی شہرت کو ہم نے قائم رکھا۔ 

79۔ دنیا والوں میں نوح پر سلام159 ہوگا۔ 

80۔ نیکوکاروں کو ہم اسی طرح اجرت دیتے ہیں۔ 

81۔ وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔ 

82۔پھر دوسروں کو ہم نے ڈبودیا۔ 

83۔ انہیں کی نسلوں میں ہیں ابراھیم ۔

84۔ یاد دلاؤ جبکہ وہ اپنے رب کے پاس پاک دل کے ساتھ آئے۔ 

85۔یاد دلاؤ جبکہ اس نے اپنے والد اور اپنی قوم سے پوچھا کہ تم کسے عبادت کر رہے ہو؟ 

86۔ اللہ کے سوا کیا تم خیالی معبودوں کو چاہتے ہو؟ 

87۔ (اور پوچھا کہ) سارے جہاں کے رب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ 

88۔ پھر وہ ستاروں کو غور سے دیکھا۔ 

89۔ اور کہا کہ میں بیمارہوں336۔ 

90۔ انہیں چھوڑکر وہ چلے گئے۔ 

92,91۔ ان کے معبودوں کے پاس جا کر پوچھنے لگے کہ کیا تم کھاتے نہیں ہو؟ کیوں بات نہیں کرتے؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے26؟ 

93۔ پھر ان کے پاس (قریب )جا کرپوری قوت سے مارا473۔ 

94۔ وہ لوگ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ 

96,95۔ اور کہا کہ کیا تم تمہاری ہی تراشی ہوئی چیز کی پرستش کر تے ہو؟ اللہ ہی نے تم کو اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو پیدا کیا ہے26۔ 

97۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لئے ایک مکان بنا کر ان کو آگ میں ڈالو۔ 

98۔ ان کے خلاف سازش کر نا چاہا۔ انہیں ہم نے پست کر دیا۔ 

99۔ اس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں۔ وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ 

100۔ (دعا کی کہ) اے میرے پروردگار! مجھے اچھے اخلاق والوں میں سے ایک کو (بطور وارث) عطا کر۔ 

101۔ انہیں ایک نہایت ہی بردبار لڑکے (اسماعیل) کی بشارت سنائی۔ 

102۔ ان کے ساتھ دوڑدھوپ کر نے کی عمر کو جب وہ (اسماعیل) پہنچ گئے تو ابراھیم نے پوچھا کہ اے میرے پیارے بیٹے! میں تمہیں ذبح کر تے ہوئے455 خواب میں122 دیکھا۔ تم سوچ کر بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ (اسماعیل نے) کہا کہ اے میرے ابا جان! تم کو جو حکم ہوا ہے کر گزرو۔ اگر اللہ چاہاتو تم مجھے صبر کر نے والا پاؤگے۔ 

105,104,103۔ دونوں نے مطیع ہو کر (اپنے) بیٹے کو جب اس نے پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے ا س کو پکار کر کہا کہ اے ابراھیم! تم نے اس خواب کو122 سچ کر دکھا دیا۔ نیک عمل کر نے والوں کو ہم اسی طرح اجرت دیتے ہیں26۔ 

106۔یہی بہت بڑی آزمائش ہے۔ 

107۔ ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں ہم نے دے دیا۔ 

108۔ پیچھے آنے والوں میں ان کی شہرت کو ہم نے قائم کر دیا۔ 

109۔ ابراھیم پر سلام159 ہوگا۔ 

110۔ نیک عمل کر نے والوں کو ہم اسی طرح اجرت دیتے ہیں۔ 

111۔ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ایک تھے۔ 

112۔ نبی اور نیک اسحاق کے بارے میں ہم نے انہیں خوشخبری دی۔ 

113۔ ان پر اور اسحاق پر ہم نے برکتیں نازل کیں۔ ان دونوں کی نسلوں میں نیکوکار بھی ہیں۔ اور اپنے آپ پر صریح ظلم کر نے والے بھی ہیں۔ 

114۔ موسیٰ اور ہارون پر بھی ہم نے احسان کیا۔ 

115۔ ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بھی ہم نے بڑی مصیبت سے بچایا۔ 

116۔ ان کی مدد فرمائی۔ اس لئے وہی لوگ کامیاب رہے

117۔ ان دونوں کو واضح کتاب عطا کی۔ 

118۔ ان دونوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔ 

119۔ پیچھے آنے والوں میں ان دونوں کی شہرت کو ہم نے قائم کر دیا۔

120۔ موسیٰ پر اور ہارون پر سلام159 ہوگا۔ 

121۔ نیک عمل کر نے والوں کو ہم اسی طرح اجرت دیتے ہیں۔

122۔ وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے

123۔ الیاس بھی رسولوں میں سے ایک تھے۔ 

127,126,125,124۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟ سب سے بہتر خالق، تمہارا رب اور تمہارے باپ داداؤں کا رب، اللہ کو چھوڑ کرکیاتم بعل نامی بت کو پکارتے ہو؟ تو ان لوگوں نے ان کو جھوٹا سمجھا۔ وہ (ہمارے پاس )لائے جائیں گے26۔ 

128۔ منتخب شدہ اللہ کے بندوں کے سوا ۔

129۔ پیچھے آنے والوں میں ان کی شہرت کو ہم نے قائم کر دیا۔

130۔ الیاس پر سلام159 ہوگا۔ 

131۔ نیک عمل کر نے والوں کو ہم اسی طرح اجرت دیتے ہیں۔

132۔ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

133۔ لوط بھی رسولوں میں سے ایک تھے۔ 

135,134۔ یاد دلاؤ جبکہ ہم نے ان کو اور (ہلاک ہونے والوں کے ساتھ)ٹہر جانے والی بڑھیا کے سوا ان کے گھر والے سب کو ہم نے بچالیا26۔ 

136۔ بعد میں دوسروں کو پوری طور سے ہلاک کردیا۔ 

138,137۔ صبح کے وقت اور رات میں تم ان پر سے گزرتے ہو۔ کیا تم سمجھوگے نہیں26؟ 

139۔ یونس رسولوں میں سے ایک تھے۔

141,140۔ بھری ہوئی کشتی کی طرف جب وہ چھپ کر بھاگے تو وہ لوگ قرعہ ڈالنے لگے (کشتی سے کس کو باہر نکالا جائے)۔ہارنے والوں میں سے وہ ہو گئے26۔ 

142۔ مذموم حالت میں ان کو مچھلی نے نگل لیا508۔ 

144,143۔ اگر وہ (ہماری) پاکی بیان نہ کر تے تو لوگ پھر سے زندہ کئے جانے والے دن1 تک وہ اسی کے پیٹ میں ٹہرے رہتے26۔ 

145۔ انہیں بیماروں کی طرح چٹیل میدان میں پھینک دیا

146۔ ان پر (سایہ دینے کے لئے) کدو کی بیل اگادی۔ 

147۔ ان کو ایک لاکھ یا (اس سے) زیادہ لوگوں پر رسول452 بنا کر بھیجا۔ 

148۔ وہ لوگ ایمان لے آئے۔ مقررہ مدت تک انہیں سہولتیں عطا کیں۔ 

149۔ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے پروردگار کے لئے بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے؟ 

150۔ ہم فرشتوں کو عورتیں بنایا تو کیا اس وقت یہ دیکھ رہے تھے؟ 

152,151۔ یاد رکھو! وہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں کہ اللہ نے (بچوں کو) جنم دیا ہے۔ وہ لوگ جھوٹ بولنے والے ہیں26۔ 

153۔ کیا وہ بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو انتخاب کر لیا ہے؟

154۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کیسے فیصلے کر تے ہو؟

155۔ کیا تم غور نہیں کروگے؟ 

156۔ یا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ 

157۔ اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب لے کر آؤ۔ 

158۔جنات اور اس کے درمیان انہوں نے نسبی رشتہ تصور کر رکھا ہے۔ جنات تو جان رکھے ہیں کہ ہم (اللہ کے سامنے) حاضرکئے جائیں گے۔ 

159۔ وہ جو کہتے ہیں اس سے اللہ پاک ہے10۔ 

160۔ منتخب شدہ اللہ کے بندوں کے سوا۔ 

163,162,161۔ تم اور تمہارے معبود، جہنم میں جلنے والے کے سوا (دوسروں کو) گمراہ نہیں کر سکتے26۔ 

166,165,164۔(فرشتے کہیں گے کہ) ہم میں سے کوئی بھی ہو، ان کے لئے ایک خاص مقام ہے۔ ہم صف بستہ کھڑا رہنے والے ہیں اور تسبیح279 کر نے والے ہیں26۔ 

169,168,167۔ (شرک ٹہرانے والے) کہہ رہے تھے کہ ہمارے اگلوں کی طرف سے اگر ہمیں نصیحت ملی ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے26۔ 

170۔ اب وہ اسے انکار کر تے ہیں، بعد میں جان لیں گے

171۔ ہمارے بندے جو رسول ہیں، انہیں ہمارا حکم سبقت لے جا چکا۔ 

172۔ وہی مدد کئے جائیں گے۔ 

173۔ ہمارے لشکر ہی کامیاب ہوں گے۔ 

174۔ مقررہ مدت تک ان سے اعراض کرو۔ 

175۔ انہیں دیکھتے رہو، وہ بھی بعد میں دیکھ لیں گے۔ 

176۔ کیا وہ ہمارے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں؟ 

177۔ جب ہمارا عذاب ان کے آنگن میں اتر جائے گا توخبردار کرائے جانے والوں کی صبح بڑی بری ہوجائے گی ۔

178۔ مقررہ وقت تک ان سے اعراض کرو۔ 

179۔دیکھتے رہو، وہ بھی بعد میں دیکھ لیں گے۔

180۔ ان لوگوں کے کہنے سے تمہارا رب، عزت کا مالک، پاک10 ہے

181۔ رسولوں پر سلام159 ہوگا۔ 

182۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے۔ 

سورۃ : 38 سورۃ ص ٓ : عربی زبان کا 14 واں حرف

کل آیتیں : 88

اس سورت کا آغاز حرف ’ص‘ سے ہوا ہے، اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ صاد2۔ نصیحت والے اس قرآن کی قسم!

2۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے تکبر اوراختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

3۔ ان سے پہلے ہم کئی نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اس وقت وہ چیخ اٹھے تھے۔ وہ بچنے کا وقت نہیں تھا۔ 

4۔ انہیں حیرت ہوئی کہ خبردار کر نے والے انہیں میں سے آئے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کہنے لگے357 کہ یہ جھوٹے ہیں، جادوگر ہیں285۔ 

5۔ کیا معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا؟ یہ تو بڑی حیرت کی بات ہے۔ 

6۔ ان میں سے سرداروں نے کہا کہ (انہیں چھوڑ کر) چلے جاؤ۔ اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت رہو۔ یہ توکوئی اورتوقع سے کہے جانے والی بات معلوم ہوتی ہے۔ 

7۔ ہم دوسرے دین میں اسے نہیں سنا۔ یہ تو من گھڑت بات کے سوا کچھ نہیں۔ 

8۔(اور یہ بھی پوچھتے ہیں کہ) ہمارے درمیان کیا (صرف)ان پر ہی نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ میری نصیحت میں وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ 

9۔ تمہارے زبردست و فیاض رب کی رحمت کے خزانے کیا ان کے پاس ہیں؟

10۔ یا آسمانوں اور زمین اوران کے درمیانی چیزوں کی حکومت کیا ان کے پاس ہے؟ اگر ایسا ہے تو سیڑھیوں پر چڑھ کر جا نے دو۔ 

11۔ یہاں کا یہ حقیر لشکر ہرایا جا نے والا لشکر ہے۔ 

13,12۔ ان سے پہلے نوح کی قوم، قوم عاد، کثیر لشکر والی فرعون کی قوم، ثمود کی قوم، لوط کی قوم، (مدین کے) باغ والوں نے بھی جھوٹ سمجھا۔ وہی (شکست خوردہ) وہ قوم ہیں26۔ 

14۔(ان میں) ہر ایک نے رسولوں کو جھوٹا سمجھے بغیر نہیں رہے۔ پس وہ میرے عذاب کے مستحق بن گئے۔ 

15۔ ایک زوردار آواز کے سوا (دوسرے کسی کے لئے) وہ منتظر نہیں تھے۔اس کے لئے کوئی توقف نہیں۔

16۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا حصہ (اس دنیا میں) ہمیں جلد عطا کر دے۔ 

17۔ (اے محمد!) ان کی باتوں کو برداشت کر لو۔ قوت والے ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔وہ (ہماری طرف) رجوع کر نے والے تھے۔ 

19,18۔ صبح اور شام ، پہاڑیں اور اکٹھا کئے ہوئے پرندے ان کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لئے انہیں مسخر کر دیا تھا۔ ہر ایک ا س کی طرف رجوع کر نے والے تھے26۔ 

20۔ ان کی سلطنت کو مضبوط کر دیا۔ انہیں حکمت اور واضح تشریح عطا کی۔ 

22,21۔جو مقدمہ کر نے آئے تھے کیا تم انہیں جانتے ہو؟ نماز کی جگہ کو پھاند کرجب وہ داؤد کے پاس آئے تو انہیں دیکھ کر یہ گھبراگئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرئے نہیں۔ ہم ایک دوسرے پرزیادتی کئے ہوئے دو مدعی ہیں۔ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کیجئے۔ غلطی مت کیجئے۔ سیدھی راہ پر ہمیں چلائیے26۔

23۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔ اور میرے پاس تو ایک ہی دنبی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کو بھی میرے حوالے کردے۔ بحث میں وہ مجھ پر غالب آگیا۔ 

24۔ داؤد نے کہا کہ تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے اس نے تم پر ظلم کیاہے۔ شریک ہونے والوں میں اکثر لوگ ایک دوسرے پر ناانصافی کر تے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ ایسے لوگ تو بہت تھوڑے ہیں۔داؤد سمجھ گئے 337کہ انہیں ہم نے آزمایاہے484۔ وہ اپنے رب سے معافی طلب کر نے لگے، عاجزی سے گرگئے396 اوراصلاح پا گئے۔ 

25۔ تو ہم نے انہیں معاف کردیا۔ ان کے لئے ہمارے پاس تقرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ 

26۔ اے داؤد! تم کو ہم نے زمین میں خلیفہ46 بنایا ہے۔ پس تم لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو۔ نفسانی خواہش کی پیروی مت کرو۔ وہ اللہ کی راہ سے تمہیں بھٹکا دے گی۔ اللہ کی راہ سے بھٹکانیوالے حساب کے دن 1کو بھول جانے کی وجہ سے انہیں سخت عذاب ہے۔

27۔ آسمان، زمین اور ان کے درمیانی چیزوں کو ہم نے بے کار نہیں پیدا کیا۔ یہ تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں کا گمان ہے۔ انکار کر نے والوں کو جہنم کی خرابی ہے۔ 

28۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کوکیا ہم زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح کر دیں گے؟ یا (ہم سے) ڈرنے والوں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟ 

29۔ یہ بڑی بابرکت کتاب ہے۔ اس کی آیتوں پرغور کر نے اور عقلمند لوگ عبرت حاصل کرنے کے لئے یہ تم پر نازل فرمایا ہے۔ 

30۔ داؤد کو ہم نے سلیمان بطور تحفہ عطا کیا۔ وہ نیک بندے اور (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔ 

32,31۔ تربیت یافتہ ، اعلیٰ قسم کے گھوڑے ان کے سامنے شام کے وقت پیش کے گئے ، یہاں تک کہ جب وہ اوٹ میں چھپ گئے تو وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے رب کو یاد کئے بغیر اس اچھی چیز کو پسند کرلیا26۔

33۔ ان کو میرے پاس پھر واپس لے آؤ (کہہ کر) ان کے پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

34۔ سلیمان کو ہم نے آزمایا484۔ ان کے تخت پر (انہیں)بے جان جسم کی طرح ڈال دیا338۔پھر وہ اصلاح پاگئے۔ 

35۔ اور کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے معاف کردے۔ میرے بعد کسی کو نہ ملنے والی سلطنت مجھے عطا کر۔ تو ہی سخی ہے۔ 

36۔ ان کے لئے ہوا کو تابع کر دیا۔ ان کے حکم کے مطابق جہاں وہ چاہتے مطیع ہو کر وہ چلی۔

38,37۔ شیطانوں میں عمارتیں بنانے والوں کو، سمندر سے موتی نکالنے والوں کواور زنجیروں میں جکڑے ہوئے بعض کو(انہیں) تابع کر دیا26۔ 

39۔ (اور کہا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے۔ دوسروں کو بے حساب دے سکتے ہو۔ یا اس کو تم خود رکھ لے سکتے ہو۔

40۔ ان کے لئے ہمارے پاس تقرب اور اچھا ٹھکانا ہے

42,41۔ ہمارے بندے ایوب کی یاد دلاؤ۔ جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور دکھ سے چھولیاتو (ہم نے کہا کہ)اپنے پیروں سے دباؤ۔ یہ ہے ٹھنڈی نہانے کی جگہ اور مشروب26۔ 

43۔ ان کو اور ان کے گھر والوں کو ان کے ساتھ ان جیسے اور لوگوں کو عطا کیا۔ یہ ہماری طرف سے ملنے والی رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔ 

44۔ (اور کہا کہ) تم اپنے ہاتھ سے گھاس کا ایک مٹھی لے کر اس کے ذریعے مارو۔ اور قسم نہ توڑو339۔ ہم نے انہیں صبر والا پایا۔ وہ اچھے بندے اور (ہماری طرف) رجوع کر نے والے تھے۔

45۔ قوت و بصیرت والے ہمارے بندے ابراھیم، اسحاق اور یعقوب کی یاد دلاؤ۔ 

46۔ آخرت کو یاد کر نے کے لئے انہیں ہم نے خصوصیت سے منتخب کیا۔ 

47۔ وہ ہمارے پاس منتخب شدہ بہترین لوگ ہیں۔

48۔ اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کا بھی یاد دلاؤ۔ وہ سب بہترین لوگ تھے۔ 

50,49۔ یہ نصیحت ہے۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو کھلے دروازوں کے ساتھ دائمی جنت کے باغات کا بہترین ٹھکانا ہے26۔ 

51۔ اس میں وہ تکیہ لگا ئے ہوئے بہت سے میوے اور مشروبات وہ طلب کر یں گے۔ 

52۔ جھکی نگاہیں والی ہم عمر کنواریاں8 بھی ان کے لئے ہیں

53۔ حساب کے دن کے لئے تمہیں جو وعدہ کیا گیا تھا وہ یہی ہے۔ 

54۔ یہ ہماری دولت ہے۔ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ 

55۔ یہ لو! سرکشوں کے لئے بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

56۔ دوزخ ہی میں وہ جلیں گے۔ وہ بہت بری جگہ ہے۔ 

57۔ یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے، یہ اس کو چکھنے دو۔

58۔ اس طرح کی اور کئی قسمیں بھی ہیں۔ 

59۔ (دوزخ میں پڑے ہوئے سرداروں سے کہا جائے گا کہ) یہ تمہارے ساتھ ملنے والی جماعت ہے۔ (دوزخ میں پڑے ہوئے سردار کہیں گے کہ) انہیں کوئی خوش آمدید نہیں ہے۔ وہ بھی تو جہنم میں جلنے والے لوگ ہیں۔

60۔یہ لوگ کہیں گے کہ ایسا نہیں ہے۔ تم بھی تو ہو۔ تمہیں بھی کوئی استقبال نہیں ہے۔ اس کے لئے ہمیں لے آنے والے ہی تم ہو۔ یہ تو بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

61۔ یہ بھی کہیں گے کہ اے ہمارے رب!یہاں (اس دوزخ پر) ہمیں لا نے والوں کو جہنم میں کئی گنا عذاب زیادہ دے۔

62۔ وہ پوچھیں گے کہ جسے ہم برے سمجھے تھے ان لوگوں کوہم (دوزخ میں)کیوں نہیں دیکھ رہے ہیں؟ 

63۔ (وہ نیک لوگ رہنے کے باوجود)کیاہم نے انہیں حقیر سمجھا تھا؟ یا ان سے( ہماری) نگاہیں چوک گئی تھیں؟ 

64۔ دوزخیوں کا یہ باہم جھگڑا سچ ہے۔ 

65۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میں تو صرف تنبیہ کرنے والا ہوں۔یکتا و زبردست اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں

66۔ (وہ) آسمانوں507، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔ 

67۔ کہہ دو کہ یہ عمدہ خبر ہے۔ 

68۔ اسے تم جھٹلاتے ہو۔ 

69۔ بلند قدر (فرشتوں کی) جماعت جب بحث کر رہے تھے تو ان کے متعلق مجھے علم نہیں تھا380۔ 

70۔ سوائے اس کے کہ میں کھلا خبر دینے والا ہوں ، دوسرا کچھ مجھے وحی نہیں کی گئی۔ 

74,73,72,71۔ جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے503&506 انسان کو پیدا کر نے والا ہوں368۔ جب میں اس کو درست کرکے اس میں میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے تابع ہو کر گرجانا11، تو ابلیس کے سوا فرشتے تمام تابع ہو گئے۔ اس نے گھمنڈ کیا۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں میں ہوگیا26۔ 

75۔ (اللہ نے) سوال کیا کہ اے ابلیس! میرے دونوں ہاتھوں488 سے جس کو میں نے پیداکیا, اسے مطیع ہو نے سے تجھے کس بات نے روکا؟ کیاتو تکبر میں آگیا ہے یا اونچے درجے والا ہوگیا ہے؟ 

76۔ اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیااور اس کو مٹی سے503&506 پید اکیا۔ 

78,77۔ (اللہ نے) کہا کہ یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے۔ فیصلہ کے دن1 تک تجھ پر میری لعنت 6ہے26۔ 

79۔ اس نے کہا کہ اے میرے پروردگار! وہ لوگ پھر سے زندہ کئے جانے کے دن1 تک مجھے مہلت عطا کر۔ 

81,80۔ اللہ نے فرمایا کہ پہچانے ہوئے وقت کو سموئے ہوئے دن1 تک تجھ کو مہلت دی گئی26 ۔

83,82۔ (شیطان نے ) کہا کہ تیری عزت کی قسم! تیرے منتخب شدہ بندوں کے سوا ان سب کو میں گمراہ کروں گا26۔ 

84۔ (اللہ نے) فرمایا کہ یہی حق ہے۔ میں حق ہی کہتا ہوں

85۔ (اللہ نے کہا کہ) میں تجھ سے اور ان میں سے جو تیری پیروی کر تے ہیں، ان سب سے جہنم کو بھردوں گا۔ 

86۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میں اس کے لئے تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ اورنہ میں خود بنا کر پیش کر نے والوں میں ہوں۔ 

87۔ یہ تمام جہاں والوں کے لئے نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔ 

88۔ کچھ مدت کے بعد اس کی خبر تم جان لوگے۔

سورۃ : 39 سورۃ الزمر ۔ گروہ

کل آیتیں : 75

اس سورت کی آیت نمبر 71 اور 73 میں کہا گیا ہے کہ نیک لوگ جنت کی طرف اور برے لوگ جہنم کی طرف گروہ در گروہ لے جائے جائیں گے، اس لئے اس سورت کانام یہ رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ (یہ) زبردست اور حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ 

2۔ (اے محمد!) سچائی کواندر سموئے ہوئے اس کتاب کو ہم نے تم پر نازل کی ہے۔ اس لئے تم عبادت کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کے لئے خالص کر تے ہوئے کرو۔ 

3۔ یاد رکھو! یہ پاکیزہ دین اللہ ہی کے لئے ہے۔ اس کے سوا دوسرے کومحافظ بنائے ہوئے لوگ (کہتے ہیں کہ) سوائے اس کے کہ اللہ سے ہمیں وہ مقرب بنا دیں گے، ہم نے انہیں پرستش نہیں کی213۔ ان کے اختلاف کے بارے میں ان کے درمیان اللہ فیصلہ کر ے گا۔ (اس کے) انکار کر نے والے جھوٹے کو اللہ سیدھا راستہ نہیں دکھاتا۔ 

4۔ اگر اللہ بیٹا بنانے کا ارادہ کرے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے چن لیتا۔ وہ پاک ہے10۔ وہی زبردست ویکتااللہ ہے۔ 

5۔ مناسب وجہ کے ساتھ ہی آسمانوں507 اور زمین کواس نے پیدا کیا۔ دن پر وہ رات کو لپیٹتا ہے اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے۔ سورج اور چاند کو اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک چلے گا241۔ یاد رکھو! وہی زبردست، بخشنے والا ہے۔ 

6۔ اس نے تمہیں ایک ہی شخص سے پیدا کیا368۔ پھر ان سے504 ان کا جوڑا بنایا۔ چوپایوں میں سے (قربانی کے قابل) آٹھ جوڑے تمہارے لئے اتارے۔تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت تین تاریکیوں میں303 تمہیں بنا تا ہے۔ وہی اللہ ہے، تمہارا رب۔ اسی کی فرمانروائی ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کو ئ نہیں ہے۔ تم کہاں رخ پھیرے جارہے ہو؟ 

7۔ اگر تم (اللہ کا) انکار کروگے تو وہ تم سے بے نیاز ہے485۔ وہ اپنے بندوں کے انکارسے راضی نہیں ہوگا۔ اگر تم شکر ادا کر وگے تو وہ تم سے راضی ہوگا۔ ایک ،دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا265۔ پھر تمہارا لوٹنا تمہارے رب ہی کے پاس ہے۔ جو کچھ تم کرتے رہے وہ تمہیں بتائے گا۔ دلوں کی باتیں بھی وہ جانتا ہے۔ 

8۔ انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خود کو رب کو سونپتے ہوئے اسے پکارتا ہے۔ پھر جب رب اپنی نعمت عطا کر تا ہے تو جس کے کے لئے وہ پہلے دعا کیا تھا اسے وہ بھول جاتا ہے۔ اللہ کی راہ سے گمراہ کر نے کے لئے اس کا شریک ٹہراتا ہے۔ کہہ دو کہ اپنے (رب کی) انکار سے کچھ دن مزہ چکھ لے۔ تم جہنم والوں میں سے ہو۔ 

9۔ رات کے اوقات میں سجدہ کر تے ہوئے، قیام کر تے ہوئے ، آخرت سے ڈرتے ہوئے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے عبادت کر نے والے (یا اس طرح نہیں کر نے والے)؟ تم پوچھو کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کیا برابر ہوسکتے ہیں؟ عقل والے ہی اچھا علم حاصل کر یں گے۔ 

10۔ تم کہہ دو کہ (اللہ فرماتا ہے) اے میرے ایماندار بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ اس دنیا میں نیکی کر نے والوں کوبھلائی ہی ہے۔ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ اور صبر کر نے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔ 

12,11۔ کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ عبادت کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کے لئے خالص کر کے اس کی بندگی کروں۔ اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں میں مقدم بنوں۔

13۔ اور یہ بھی کہو کہ اگر میں میرے رب کی نافرمانی کروں تو ایک عظیم دن 1کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ 

15,14۔ اور کہو کہ میری عبادت کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کے لئے خالص کر کے اسی کی میں بندگی کروں گا۔ اللہ کے سوا تم جسے چاہتے ہو بندگی کرو۔ اور کہو کہ قیامت کے دن1 اپنے کو اور اپنے گھروالوں کو نقصان میں ڈالنے والے ہی حقیقت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ یاد رکھو! یہی کھلا ہوا نقصان ہے26۔ 

16۔ ان کے اوپر آگ کا پرت ہوگا، نیچے بھی پرت ہوگا۔ اس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! مجھ سے ڈرو۔ 

17۔ جو لوگ بری طاقتوں کی پرستش سے اجتناب کر تے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کر تے ہیں ، ان کے لئے خوشخبری ہے۔ پس تم میرے بندوں کو بشارت دے دو۔ 

18۔ وہ لوگ بات کو توجہ سے سن کر اس میں بہتری کی پیروی کر تے ہیں۔ ان ہی کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے۔ وہی لوگ عقل والے ہیں۔ 

19۔ جس شخص کے خلاف عذاب کا حکم ثابت ہوچکا کیا وہ (جنت میں جائے گا)؟ کیا تم جہنم میں رہنے والے کو چھڑا سکتے ہو؟ 

20۔ بلکہ اپنے رب سے ڈرنے والوں کومحلوں کے اوپر تعمیر کئے گئے محل ہوں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ 

21۔ کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے آسمان507 سے پانی اتارتاہے،اور اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کر تا ہے؟ پھر اس کے ذریعے مختلف رنگوں کے کھیتیاں اگاتا ہے۔ پھر وہ سوکھ کر زرد رنگ میں بدلتے ہوئے تم دیکھتے ہو۔ پھر اس کو سوکھے پتے بنا دیتا ہے۔ عقلمندوں کے لئے اس میں نصیحت ہے۔

22۔ جس کے سینے کو اسلام کے لئے اللہ نے کھول دیا کیا وہ (گمراہ ہوگا)؟ وہ اپنے رب کی طرف سے (ملی ہوئی) روشنی میں ہے۔ رب کی یاد سے جن کے دل سخت ہوگئے ان کے لئے خرابی ہے۔ وہی لوگ کھلی گمراہی میں رہنے والے ہیں۔ 

23۔ اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے۔ وہ بار بار دہرائی گئی اور آپس میں ملتی جلتی ہوئی کتاب ہے۔ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے اس سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کو یاد کر نے کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے۔ اسی کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ نے جسے گمراہی میں چھوڑ دیا اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ 

24۔ جو اپنے چہرے کو قیامت کے دن1 کے برے عذاب سے بچالے گا کیا وہ (دوزخ میں جائے گا)؟ ظالموں سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کیا اس کا مزہ چکھو265۔ 

25۔ ان سے پہلے گزرے ہو ئے لوگ بھی (اللہ کے پیغام کو) جھوٹاسمجھا تھا۔ اس لئے ان کی بے خبری میں انہیں عذاب آپہنچا۔ 

26۔ انہیں اس دنیوی زندگی میں اللہ نے رسوائی کا مزہ چکھا دیا۔ آخرت کا عذاب ہی بہت بڑا ہے۔ کیا انہیں جاننانہیں چاہئے تھا؟ 

27۔ وہ عبرت حاصل کر نے کے لئے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ 

28۔ وہ (ہم سے) ڈرنے کے لئے عربی زبان میں489 کسی بھی کجی کے بنا قرآن (نازل کیا) ہے227۔ 

29۔ اللہ نے ایک شخص (غلام ) کی مثال بیان کرتا ہے۔ اس کے حقدار مختلف رائے رکھنے والے کئی حصہ دارہیں۔ اور ایک آدمی کی بھی وہ مثال بیان کر تا ہے۔ وہ صرف ایک آدمی کا ہے۔ کیا یہ دونوں مثال میں یکساں ہو سکتے ہیں۔ ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ پھر بھی ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

30۔ (اے محمد!) تم مرنے والے ہی ہو۔ اور وہ لوگ بھی مر نے والے ہیں۔ 

31۔ پھر تم اپنے پروردگار کے پاس قیامت کے دن 1مقدمہ پیش کروگے۔

پارہ : 24

32۔ اللہ پر جھوٹ باندھ کر اپنے پاس آئی ہوئی سچائی کو جھوٹ سمجھنے والے سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں ہے؟ 

33۔ جس نے سچائی لے کر آیا اور اس کی تصدیق کی، وہی (اللہ سے) ڈرنے والے ہیں۔ 

34۔ وہ لوگ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے رب کے پاس موجود ہے۔ نیکی کر نے والوں کو یہی بدلہ ہے۔ 

35۔ ان کے کئے ہوئے برے عملوں کو ان سے اللہ دور کر دے گا۔ ان کے کئے ہوئے نیکی کے لئے انہیں ان کا اجر دے گا۔ 

36۔ کیا اللہ اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے؟ اللہ کے سوا اوروں کے بارے میں وہ تمہیں ڈرا رہے ہیں۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑ دیا اس کو سیدھی راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔

37۔ اللہ جسے سیدھی راہ دکھا دے اسے کوئی گمراہ کر نے والا نہیں ۔ کیا اللہ زبردست ، بدلہ لینے والا نہیں ہے؟ 

38۔تم ان سے پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کر نے والا کون ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ تم پوچھو کہ اللہ کے سوا تم جنہیں پکار رہے ہو ، ان کے بارے میں کہو۔ اور کہہ دو کہ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کر سکتے ہیں؟ یا وہ مجھ پر کوئی مہربانی کر نا چاہے تو کیا وہ اس کی مہربانی کو روکنے والے ہیں؟ اللہ میرے لئے کافی ہے۔ بھروسہ کر نے والے اسی پر بھروسہ کر تے ہیں۔ 

40,39۔ کہہ دو کہ اے میری قوم! تمہارے ہی راستے پر عمل کرو۔ میں بھی عمل کرتا ہوں۔ بعد میں جان لو گے کہ کس کو رسوا کن عذاب ملتا ہے؟اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے26؟ 

41۔ سچائی کو اندر سموئے ہوئے اس کتاب کوتم پر ہم نے انسانوں کے لئے نازل کی ہے۔ جو ہدایت پاتا ہے وہ اپنے ہی لئے پاتا ہے، گمراہ پانے والا اپنے ہی خلاف گمراہ پاتا ہے۔ (اے محمد!) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو81۔ 

42۔ جانوں کو ان کی موت وقت اورجن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کی حالت میں اللہ قبض کر لیتا ہے۔ جس کی موت کا فیصلہ کر چکا اس کو اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے دوسروں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ غور کر نے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

43۔ پوچھو کہ کیا انہوں نے اللہ کے سوا سفارش کر نے والوں کو 17تصور کر لیا ہے؟ اگرچہ وہ کسی چیز کی اختیار نہ رکھتے ہو ں اورکچھ نہ سمجھتے ہوں ؟

44۔ اور کہو کہ سفارش17 تمام اللہ ہی کے لئے ہے۔ آسمانوں 507اور زمین کی اختیارات اسی کے لئے ہیں۔پھر تم اسی کے پاس واپس لائے جاؤگے۔ 

45۔ صرف اللہ کا ذکر کیاجائے تو آخرت کے نہ ماننے والوں کے دل سکڑ جاتے ہیں۔ اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جائے تو وہ فوراً خوش ہوجاتے ہیں۔ 

46۔ کہو کہ اے اللہ! آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کر نے والے! غائب و حاضر کے جاننے والے! تیرے بندوں کے اختلافی چیزوں میں ان کے درمیان تو ہی فیصلہ کر ے گا۔ 

47۔ ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو تا جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر ایک گنا اوربھی ہوتا تو قیامت کے دن1 برے عذاب کے بدلے وہ دے دیتے۔ اللہ کی طرف سے انہیں وہ ظاہر ہوگا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔ 

48۔ ان کے برے اعمال ان کے سامنے آجائیں گے265۔ وہ جس کا مذاق اڑا رہے تھے وہ انہیں گھیر لے گا۔

49۔ انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے۔ جب ہم اس کو اپنی رحمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے علم کی بنا پر دی گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے، وہ ایک آزمائش ہے484۔ پھر بھی ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

50۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی یہی کہہ رہے تھے۔ ان کی محنت انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکی۔ 

51۔ اُن کی کی ہوئی برائیاں انہیں آ پکڑیں گی۔ اِن کی کی ہوئی برائیاں اِن میں سے ظالم لوگوں کو آ پکڑیں گی265۔ یہ لوگ کامیاب ہونے والے نہیں۔ 

52۔ کیا وہ لوگ جانتے نہیں کہ اللہ جسے چاہتا ہے دولت کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ ایمان لا نے والوں کو اس میں کئی نشانیاں ہیں345۔

53۔ تم کہہ دو (اللہ فرماتا ہے) کہ اپنے ہی خلاف زیادتی کر نے والے اے میرے بندو! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا471۔ سارے گناہوں کو اللہ بخش دے گا۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

54۔ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اورتمہیں مدد نہ کئے جا نے کی حالت آجائے ، تم اپنے پروردگار کے پابند ہو کر اسی کی طرف رجوع کرو۔

58,57,56,55۔اپنے پروردگار کی طرف سے تمہیں نازل ہو نے والی بہترین چیز کی پیروی کرو،اس سے پہلے کہ تمہاری بے خبری کی حالت میں اچانک تم پر عذاب آجائے، اورکوئی بھی یہ کہنے سے پہلے کہ اللہ کے فریضہ میں کوتاہی کر نے کی وجہ سے مجھ پر خرابی ہے، میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہوگیا ، اور یہ کہنے سے پہلے کہ اگر اللہ نے مجھے نیک راہ دکھا یا ہوتا تومیں بھی (اس کے ) ڈرنے والوں میں سے ہوگیا ہوتا، اور عذاب کو دیکھتے وقت کوئی یہ کہنے سے پہلے کہ پھر واپس جانا ہو تو میں بھی نیکوکاروں میں ہو گیا ہوتا26۔

59۔(کہا جائے گا کہ) بلکہ تمہارے پاس میری آیتیں آئیں۔ اس کو تم نے جھوٹ سمجھااور تکبر کیا۔ اور (میرے) انکار کر نے والوں میں سے تھا۔ 

60۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کے چہروں کو قیامت کے دن1 تم سیاہ پاؤگے۔ کیا غرور کرنے والوں کو جہنم میں ٹھکانا نہیں ہے؟ 

61۔ (اس سے) ڈرنے والوں کو کامیابی دے کر اللہ بچائے گا۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ وہ لوگ غمگین بھی نہیں ہوں گے۔ 

62۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ وہ ہر چیز کا ذمہ دار ہے۔ 

63۔ آسمانوں507 اور زمین کی کنجیاں اسی کے لئے ہیں۔ اللہ کی آتیوں کا انکار کر نے والے ہی نقصان والے ہیں۔ 

64۔ پوچھو کہ اے جاہلو! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں غیر اللہ کی عبادت کروں؟ 

66,65۔ ( اے محمد!) تم کو اور تمہارے پہلے والوں کو وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک کروگے تو تمہاراعملِ خیر ضائع ہو جائے گا498۔ اور تم خسارے میں رہ جاؤگے۔ بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور شکر گزار وں میں ہوجاؤ26۔ 

67۔ اللہ کو اس کی قدر کے مطابق انہوں نے قدر نہیں کی۔ قیامت کے دن ساری زمین اس کی ایک مٹھی میں488 ہوگی۔ آسمان507 اس کے داہنے میں لپٹے ہوئے ہوں گے225&453۔ وہ پاک ہے10، ان کے شریک ٹہرانے سے وہ بلندو بالا تر ہے۔

68۔ صور پھونکا جائے گا۔ اللہ جنہیں چاہے ان کے سوا آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے اس وقت بے ہوش ہوجائیں گے۔ پھرسے ایک بار صور پھونکاجائے گا۔ فوراً وہ اٹھ کر دیکھیں گے346۔

69۔ زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ (درج کی ہوئی) کتاب (سامنے) رکھی جائے گا۔ انبیاء اور گواہ لائے جائیں گے۔ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا۔وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

70۔ ہر شخص کو ان کے عمل کا پورا دیا جائے گا۔ وہ لوگ جو کر رہے ہیں اسے وہ خوب جانتا ہے۔ 

71۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے گروہ در گرو ہ جہنم کی طرف ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔ وہ لوگ وہاں پہنچنے کے ساتھ اس کے دروازے کھول دئے جائیں گے۔ اس کے نگہبان پوچھیں گے کہ تمہارے رب کی آیتوں کو تمہیں سنانے والے پیغمبر تم ہی میں سے کیاتمہارے پاس نہیں آئے تھے؟کیا انہوں نے تمہیں اس دن کی ملاقات سے آگاہ نہیں کی تھی ؟ اس کو وہ لوگ ہاں کہیں گے۔ مگر (اللہ کا) انکارکر نے والوں کو عذاب کا حکم ثابت ہوچکا۔ 

72۔ ان سے کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ فخر کر نے والوں کا ٹھکانا بہت برا ہے۔ 

73۔ اپنے رب سے ڈرنے والے جنت کی طرف گروہ در گروہ ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔ آخر جب اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور وہ اندر داخل ہوں گے تو ان کے نگہبان ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو159۔ تم خوش ہوجاؤگے۔ تم اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔ 

74۔ وہ کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ وہ اپنا وعدہ ہمارے لئے سچ کر دیا۔ جنت میں ہم جہاں چاہیں ٹہرنے کے لئے اس سر زمین کو ہمارے لئے ملکیت بنادیا۔ محنت کر نے والوں کا اجر بہت خوب ہی ہے۔ 

75۔ تم دیکھو گے کہ فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہوئے عرش488 کے اطراف گھومتے ہیں۔ ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا۔ اور کہا جائے گا کہ سارے جہانوں کا پروردگار اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔ 

سورۃ : 40 سورۃ المؤمن ۔ ایمان والا

کل آیتیں : 85

اس سورت کی 28 ویں آیت میں مؤمن کا لفظ استعمال ہو نے کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ حا، میم2۔

2۔ یہ زبردست، علم والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ 

3۔ (وہ) گناہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کر نے والا ہے، سخت سزا دینے والاہے اور فضل والا ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ۔ لوٹنا اسی کی طرف ہے۔ 

4۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے سوا (دوسرے) اللہ کی آیتوں میں بحث نہیں کریں گے۔ وہ لوگ جو شہروں میں (اتراتے)چلتے پھرتے ہیں وہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ 

5۔ ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کئی قوموں نے جھوٹ سمجھا تھا۔ ہر قوم نے اپنے پیغمبروں پر حملہ کر نا چاہا۔ باطل کے ذریعے حق مٹانے کے لئے بحث کر نے لگے۔ اس لئے ہم نے ان کو پکڑا۔ میرا عذاب کیسا رہا؟ 

6۔تمہارے رب کا حکم ثابت ہو چکا کہ (اللہ کا) انکار کر نے والے جہنمی ہی ہیں ۔

7۔ عرش488 کے اٹھا نے والے اور اس کے اردگرد رہنے والے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر تے ہیں، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان والوں کے لئے وہ مغفرت مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! اپنی رحمت اور علم سے توہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس لئے جس نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی، انہیں معاف کردے۔ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ 

8۔ اے ہمارے پروردگار! ان کو ، ان کے والدین کو، ان کی بیویوں کواور ان کی نسلوں میں نیک لوگوں کو اس دائمی جنت کے باغات میں داخل کر دے جن کا تو نے وعدہ کیاتھا۔ تو زبردست، حکمت والا ہے۔ 

9۔ (اور یہ بھی دعا کر تے ہیں کہ) انہیں برائیوں سے بچا لے۔ آج جس کو تو نے برائیوں سے بچالیا توتو نے اس پر رحم فرمادیا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ 

10۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں سے کہا جائے گا کہ جب تمہیں ایمان کی طرف بلا یا جانے پر تم انکار کر تے وقت، تمہارے دل میں جتنی نفرت تھی ا س سے کہیں زیادہ (تم کو) اللہ کی نفرت ہوگی۔ 

11۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہم کودوبار موت دی، دو بار زندہ کیا۔ ہم اپنے گناہوں کا اقرار کر تے ہیں۔ بچ نکلنے کی کوئی راہ ہے347؟

12۔ اس کی وجہ یہی کہ جب صرف اللہ سے دعا کی جائے تو تم نے انکار کیا، اور جب اس کو شریک ٹہرایا گیا تو اسے مان لیا۔ بلند اور سب سے بڑا اللہ ہی کے لئے سب اختیار ہیں234۔ 

13۔ وہی اپنی نشانیوں کو تمہیں دکھا تا ہے۔ آسمان سے507 تمہارے لئے رزق اتارتا ہے۔ اصلاح پانے والے کے سوا کوئی دوسرا عبرت حاصل نہیں کرتا۔ 

14۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو اگرناگوار بھی گزرے تو تم عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ پکارو۔ 

15۔ وہ درجوں کو بلند کر نے والا ہے۔ عرش کا 488مالک ہے۔ ملاقات کے دن 1کے بارے میں تنبیہ کر نے کے لئے اپنے بندوں میں سے جس پر وہ وچاہتا ہے اپنا روح رواں احکام نازل کر تا ہے۔ 

16۔ جب وہ لوگ باہر نکل پڑیں گے ان کے بارے میں کچھ بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گا۔ آج بادشاہت کس کی ہے؟ زبردست و یکتا اللہ ہی کی ہے۔ 

17۔ آج ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا265۔ آج کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

18۔ بہت جلد آنے والے دن 1کے بارے میں انہیں آگاہ کردو۔ اس وقت ان کے دل حلق تک پہنچ جائے گا اور وہ اسے چبا کرنگلنے والے ہوں گے۔ ظالموں کاکوئی دوست نہیں ہوگا اور تسلیم کیا ہوا کوئی سفارشی بھی نہیں ہوگا17۔ 

19۔ آنکھوں (کے اشاروں) سے کی جانے والی خیانت اورسینوں میں پوشیدہ باتیں بھی وہ جانتا ہے۔ 

20۔ اللہ ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کر نے والا ہے۔ اس کے سوا جن کو وہ پکارتے ہیں وہ کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کر یں گے۔ اللہ سننے والا488، دیکھنے والا ہے488۔ 

21۔زمین میں سفر کر کے کیا انہیں غور کر نا نہیں چاہئے تھا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا رہا؟ وہ قوت میں اور زمین میں چھوڑے ہوئے آثاروں میں ان سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ انہیں سزا دی۔ انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ 

22۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس جب ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے انکار کردیا۔ اس لئے اللہ نے انہیں سزا دی۔ وہ بڑا قوت والا ، سخت سزا دینے والا ہے۔ 

24,23۔ موسیٰ کو ہم نے ہماری نشانیوں اور واضح قدرت کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کے پاس بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ یہ توبہت بڑا جھوٹا جادوگر285 ہے26۔ 

25۔ ہمارے پا س سے سچائی کوجب وہ ان کے پاس لے گئے توانہوں نے کہا کہ ان پر ایمان لانے والے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو۔ (ہمارے) انکار کرنے والوں کی سازش غلط ہی ثابت ہوگی۔

26۔ فرعون نے کہا کہ موسیٰ کو قتل کر نے کے لئے مجھے چھوڑدو، وہ اپنے رب کو پکارنے دو۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے اور زمین میں فسادبرپا کردے۔

27۔ موسیٰ نے کہا کہ حساب کے دن1 پر ایمان نہ لانے والے ہر ایک تکبر کر نے والوں سے میں تمہارے اور میرے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں۔ 

28۔ فرعون کی قوم میں سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے ایک مومن نے کہا کہ کیا تم اس انسان کو قتل کر نے جارہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔اور تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں وہ تمہارے پاس لے آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی کو پہنچے گا۔ اگر وہ سچا ہے تو اس کی آگاہی سے کچھ نہ کچھ تم پر واقع ہو جائے گا۔ حد سے تجاوز کر نے والے بڑے جھوٹوں کو اللہ راہ راست نہیں دکھاتا۔ 

29۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اے میری قوم! آج بادشاہی تمہارے ہی پاس ہے۔ زمین میں غلبہ پائے ہوئے ہو۔ اگر اللہ کا عذاب ہم پر آجائے تواس سے ہمیں بچانے والا کون؟ اس پر فرعون نے کہا کہ مجھے جو(صحیح) دکھتا ہے اسی کو میں دکھا تا ہوں۔ سیدھے راستے کے سوا میں (دوسرا کچھ) تمہیں نہیں دکھاتا۔ 

31,30۔ ایمان والے (اس) آدمی نے کہا کہ اے میری قوم! میں ڈرتا ہوں کہ دوسری قوموں کی حالت کی طرح، قوم نوح، قوم عاد،قوم ثمود اوران کے بعد آنے والوں کی حالت کی طرح کہیں تم پر بھی وہ معاملہ نہ آجائے۔ اللہ اپنے بندوں پر کوئی ظلم نہیں چاہتا26۔ 

32۔ اے میری قوم! فیصلے کے لئے پکارے جا نے والے دن1 کا میں تمہارے معاملے میں ڈرتا ہوں۔ 

33۔ اس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے۔ اللہ سے تمہیں بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ جسے اللہ نے گمراہی میں چھوڑ دیا اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔ 

34۔ اس سے پہلے یوسف نے تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آئے تھے۔وہ تمہارے پاس جو لے کر آئے تھے اس میں تم شک ہی میں رہے۔ ان کی موت واقع ہوئی تو تم نے کہا کہ ان کے بعد کسی رسول کوہر گز اللہ بھیجے گا نہیں348۔ حد سے تجاوز کرکے شک کر نے والے کو اللہ اسی طرح گمراہ کر تا ہے۔ 

35۔ وہ لوگ کسی دلیل کے بغیر اللہ کی آیتوں میں بحث کر تے ہیں۔ اللہ اور ایمان والوں کے نزدیک یہ بہت غصہ دلانے والی بات ہے۔ اسی طرح تکبر کر تے ہوئے جبر کر نے والے ہر ایک کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ 

37,36۔ فرعون نے کہا کہ اے ہامان! میرے لئے ایک بلند عمارت بنا۔ راستوں پر، آسمان کے507 راستوں پر پہنچ کر مجھے موسیٰ کے رب کو دیکھنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اسی طرح فرعون کو اس کا برا عمل خوشنما بنا کر دکھا یا گیا۔ (سیدھی) راہ سے وہ روکا گیا۔ فرعون کی سازش تباہی میں ختم ہوئی26۔ 

38۔ اس ایمان والے نے کہا کہ اے میری قوم! میری پیروی کرو۔ میں تمہیں سیدھی راہ دکھاتا ہوں۔ 

39۔ اے میری قوم! اس دنیا کی زندگی ایک حقیر سکھ ہے۔ آخرت ہی دائمی دنیا ہے۔ 

40۔ اگر کوئی ایک برائی کر تا ہے تو اسی طرح کے بدلے کے سوا اس کودوسرا کچھ نہیں دیا جائے گا۔ مرد ہو یاعورت مومن ہوتے ہوئے نیک عمل کر نے والے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس میں وہ بے حساب دئے جائیں گے۔ 

41۔ اے میری قوم! مجھے کیا ہے؟ میں تو تمہیں کامیابی کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا تے ہو۔ 

42۔ تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسی چیز سے اس کو شریک ٹہراؤں جو میں جانتا نہیں۔میں تو تمہیں زبردست، بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔ 

43۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہووہ اس دنیا میں اور آخرت میں پکارے جانے کے لائق نہیں ہے ، ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور حد سے بڑھ جانے والے ہی جہنمی ہیں۔ 

44۔ (اس نے یہ بھی کہا کہ)میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں وہ بعد میں محسوس کروگے۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر تا ہوں۔ اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے488۔ 

45۔ اس لئے ان کی سازش کی ہوئی برائیوں سے اس کو اللہ نے بچالیا۔ فرعون کے لوگوں کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ 

46۔ صبح اور شام وہ جہنم کی آگ میں پیش کئے جائیں گے349۔ جب قیامت کا وقت1 آئے گا تو (کہا جائے گا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت عذاب میں داخل کرو۔ 

47۔ دوزخ میں وہ لوگ جب بحث کر نے لگیں گے تو کمزور لوگ تکبر کر نے والوں سے کہیں گے کہ ہم نے تو تمہاری ہی پیروی کر تے تھے۔ اس لئے کیا تم جہنم سے کچھ حصہ ہم سے روکنے والے ہو؟ 

48۔ تکبر کر نے والے کہیں گے کہ ہم سب اسی میں تو ہیں۔ اللہ تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکاہے۔ 

49۔ جہنم میں رہنے والے جہنم کے نگہبانوں سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو۔ وہ اس عذاب کو ایک دن کے لئے ہلکا کردے گا۔

50۔ وہ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول واضح دلائل لے کر نہیں آئے؟ اس کو وہ لوگ ہاں کہیں گے۔ (جہنم کے نگہبان) کہیں گے کہ اگر ایساہو تو تم ہی دعا کرو۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کی دعا اکارت ہی جائے گی۔

51۔ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کو اس دنیوی زندگی میں اور گواہیاں پیش ہونے والے دن بھی ہم مدد کریں گے۔ 

52۔ اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کام نہ آئے گی۔ ان کے لئے لعنت ہے۔ اور ان کے لئے برا ٹھکانا بھی ہے۔ 

53۔ موسیٰ کو ہم نے ہدایت دی۔ بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا۔ 

54۔ وہ سیدھی راہ دکھانے والی ہے اور عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ 

55۔ (اے محمد!) صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔ اپنے رب کو صبح اور شام حمد کے ساتھ تسبیح کرو۔ 

56۔ بغیر کسی دلیل کے اللہ کی آیتوں میں بحث کر نے والوں کے دلوں میں کبر کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے لئے وہ قابل نہیں ہیں۔ اللہ کے پاس پناہ مانگو۔ وہ سننے والا488، دیکھنے والا ہے488۔ 

57۔ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کر نے سے 368بہت بڑا ہے۔پھر بھی انسانوں میں اکثر جانتے نہیں۔ 

58۔ اندھا اور آنکھوں والا یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والے اور برائی کر نے والے (برابر نہیں ہو سکتے)۔ تم تو بہت کم ہی عبرت حاصل کر تے ہو۔ 

59۔ قیامت کا وقت1 ضرور آکر رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ پھر بھی لوگوں میں اکثر ایمان نہیں لاتے۔ 

60۔ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ مجھے پکارو۔ تمہیں جواب دیتا ہوں49۔ میری عبادت کو چھوڑ کر تکبر کر نے والے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے۔ 

61۔ تم سکون پانے کے لئے رات اور دیکھنے کی حالت میں دن اللہ ہی نے بنایا۔ اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ پھر بھی لوگوں میں اکثر شکر ادا نہیں کرتے۔ 

62۔ وہی تمہارا رب اللہ ہے۔ ہر چیز کا پیدا کر نے والاہے۔ اس کے سوا بندگی کے لائق کوئی نہیں۔ تم کیسے رخ پھیرے جا رہے ہو؟ 

63۔ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والے بھی اسی طرح رخ پھیرے گئے۔ 

64۔ اللہ ہی نے اس زمین کو تمہارے لئے قرار اور آسمان507 کو چھت بنایا288۔ اور تمہیں شکل دی۔ تمہاری شکلوں کو خوبصورتی عطا کی۔ پاکیزہ چیزیں تمہیں عطا کیں۔ وہی تمہارا رب، اللہ ہے۔ سارے جہاں کا پروردگار اللہ بڑی برکت والاہے۔

65۔ وہی (ہمیشہ) زندہ رہنے والا ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ پس تم عبادت کو اخلاص کے ساتھ اسی کے لئے خالص کر تے ہوئے اسی کو پکارو۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جوسارے جہاں کا پروردگار ہے۔ 

66۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میرے رب کی طرف سے واضح دلیلیں جب میرے پاس آئیں توتم اللہ کے سوا جسے پکارتے ہو اس کی بندگی کر نے سے میں روکا گیا ہوں۔ اور تمام جہاں کے پروردگار کا فرمانبردار بن کر رہنے کے لئے مجھے حکم دیا گیا ہے۔ 

67۔ اسی نے مٹی سے368، پھر نطفے سے اور پھر حاملہ بیضہ سے تمہیں پیدا کیا365&506۔پھر تمہیں بچہ کی شکل میں نکالتا ہے۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر تم بوڑھے ہوجا تے ہو۔ اس سے پہلے بھی تم میں فوت ہوجانے والے ہو تے ہیں۔ ایک مقررہ مدت کو تم پہنچتے ہو۔ (یہ اس لئے وہ کہتا ہے کہ)تاکہ تم سمجھ سکو۔ 

68۔ وہی زندہ کر تا ہے، اور موت بھی دیتا ہے۔ جب ایک کام کاوہ ارادہ کر تا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا، وہ فوراً ہو جا تا ہے506۔ 

69۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی آیتوں میں بحث کر نے والے کس طرح رخ پھیردئے جاتے ہیں؟

70۔ ان لوگوں نے کتاب کو اور جس کے ساتھ ہمارے پیغمبروں کو بھیجا تھا اس کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے352۔

72,71۔ اس وقت ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی۔ وہ لوگ کھولتے ہوئے پانی میں پھینکے جائیں گے۔ پھر آگ میں جلائے جائیں گے26۔ 

74,73۔ پھران سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم جسے شریک ٹہراتے تھے وہ کہاں ہیں؟وہ لوگ کہیں گے کہ وہ ہم سے غائب ہو گئے ہیں۔ نہیں، اس سے پہلے ہم کسی کو پکارتے نہیں تھے۔ اسی طرح (اس کے انکار) کر نے والوں کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے26۔ 

75۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور گھمنڈ کر تے تھے۔ 

76۔ جہنم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ اس میں تم ہمیشہ رہوگے۔ تکبر کر نے والوں کا ٹھکانا بہت برا ہے۔ 

77۔ (اے محمد!) صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پس انہیں ہم نے جس سے آگاہ کیا تھا اس میں سے کچھ ہم تمہیں بتادیں یا تمہیں موت دیدیں وہ ہمارے ہی پاس لائے جائیں گے۔ 

78۔ تم سے پہلے ہم نے کئی رسولوں کوبھیجا۔ ان میں سے بعض کے متعلق ہم نے تمہیں بتا یا ہے اور بعض کے متعلق ہم نے نہیں بتایا۔ اللہ کی مرضی کے سوا کوئی معجزہ لے آنا کسی بھی رسول کو نہیں ہے269۔ پس جب اللہ کا حکم آئے گا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ اس وقت باطل لوگ نقصان اٹھائیں گے۔ 

79۔ تمہاری سواری کے لئے اللہ ہی نے تمہیں چوپائے پیدا کئے۔ ان میں سے تم کھاتے بھی ہو171۔ 

80۔ ان میں تمہارے لئے (دوسرے) فائدے بھی ہیں۔ تمہارے دلوں میں موجود حاجتوں کو ان پر (سوار ہوکر) تم حاصل کر لیتے ہو۔ ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کئے جاتے ہو۔ 

81۔ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا تا ہے۔ تم اللہ کے کن نشانیوں کو جھٹلا رہے ہو؟ 

82۔کیاوہ لوگ زمین میں سفر کر کے غور کر نا نہیں چاہئے تھا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا رہا؟ وہ لوگ تعداد میں ان سے زیادہ تھے ، طاقتور تھے اور زمین میں بہت سی یادگاریں چھوڑبھی گئے تھے۔ ان کا کیا انہیں بچا نہیں سکا۔ 

83۔ ان کے رسول ان کے پاس جب واضح دلیلیں لے کر آئے تو جو علم ان کے پاس تھا اس کی وجہ سے وہ اترانے لگے۔وہ جس کا مذاق اڑا رہے تھے وہی انہیں گھیر لیا۔ 

84۔ جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا کہ ہم صرف اللہ پر ایمان لے آئے۔ ہم جن کو شریک ٹہرایا تھا ان کا انکار کرتے ہیں۔ 

85۔جب انہوں نے ہماراعذاب دیکھا تو ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دیا۔ گزرے ہوئے اپنے بندوں میں اللہ کا طریقہ یہی ہے۔ اس وقت (ہمارا) انکار کر نے والے خسارے میں رہ گئے۔ 

More Articles …