Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 17 سورۃ بنی اسرائیل ۔ اسرائیل کی اولاد

کل آیتیں : 111

اللہ نے بنی اسرائیل کو جو کامیابیاں عطا کی تھیں، پھر انہوں نے جو نافرمانیاں اللہ سے کی تھیں،جن سے انہیں جو شکست ہوئی تھیں، ان سب کا ذکر اس سورت کی آیت نمبر 4 سے 8 تک بیان ہونے کی وجہ سے اس سورت کا نام بنی اسرائیل رکھا گیا ہے۔ 

پارہ : 15 بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے . . .

1۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد کو ہم نے بابرکت بنا رکھا تھا، اپنی نشانیا ں دکھا نے کے لئے263 ایک رات اپنے بندے(محمد) کو جس نے لے گیا وہ پاک ہے10۔ وہ سننے والا488 ، دیکھنے والا ہے488۔ 

2۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب دی تھی۔ اسے بنی اسرائیل کے لئے رہنمائی کر نے والا بنایا کہ وہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنائے۔ 

3۔ نوح کے ساتھ جنہیں ہم نے(کشتی میں) چڑھایاتھاان کی اولادو! وہ تو شکر گزار بندے تھے۔

4۔ ہم نے اس کتاب میں بنی اسرائیل سے کہاتھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤگے، بہت زیادہ مغرورہوجاؤگے۔ 

5۔ جب ان دو میں پہلا وعدہ پورا ہونے کو آیا تو ہم نے اپنے سخت طاقتور بندوں کو تمہارے مقابلے میں بھیجا۔ وہ لوگ گھر کے اندر بھی گھس گئے۔ وہ تو پورا کیا ہوا وعدہ تھا264۔

6۔ پھر ان کے مقابلے میں ہم نے تمہیں موقع دیا۔ مال اور مردبچوں سے تمہیں نوازا۔ تمہیں بڑی تعدادمیں بنایا۔ 

7۔ اگر تم بھلائی کرتے ہو تو تم اپنے لئے ہی بھلائی کرتے ہو۔اگر تم برائی کرتے ہو تو وہ بھی تمہارے لئے ہی ہے۔جب دوسرا وعدہ پورا ہو ا تو وہ تمہارے لئے برا ئ کء۔ (بیت المقدس نامی) مسجد میں پہلے ہی کی طرح گھس گئے۔ ان کے قابو میں جو چیز بھی آیا برباد کردئے۔ 

8۔ تمہارا رب تمہارے لئے رحم کر ے گا۔ اگر تم پھر سے (پرانی حالت کو) لوٹو گے تو ہم بھی لوٹ جائیں گے۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کے لئے جہنم کو قید خانہ بنا رکھاہے۔ 

9۔ یہ قرآن سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور یہ خوشخبری بھی سناتی ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک عمل کر نے والوں کو بہت بڑا اجر ہے۔

10۔ آخرت کے انکارکرنے والوں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 

11۔ انسان بھلائی کے لئے دعا مانگنے کی طرح برائی کی بھی دعا مانگتا ہے۔ انسان بڑا جلد باز ہے۔ 

12۔رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔ تمہارے پروردگار کا فضل حاصل کر نے اور برسوں کا شمار اور زمانے کا حساب معلوم کر نے کے لئے رات کی نشانی تاریک کر کے، دن کی نشانی کو روشن کردیا۔ ہر چیزہم نے تفصیل سے بیان کردیاہے۔ 

13۔ ہر انسان کے گلے میں اس کا اعمال نامہ لٹکا دیا ہے۔ قیامت کے دن1 اس کے لئے ایک کتاب ظاہر کریں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔ 

14۔ (کہا جائے گاکہ) اپنی کتاب توخود پڑھ لے۔ تیرے بارے میں حساب لینے کے لئے آج توخود ہی کافی ہے۔ 

15۔ جو سیدھی را ہ اختیار کر تا ہے وہ اپنے ہی لئے اختیار کرتاہے۔ جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے ہی خلاف گمراہ ہوتا ہے265۔ کوئی کسی اورکا بوجھ اٹھا نہیں سکتا۔ جب تک ہم رسول نہیں بھیجتے ہم (کسی کو) سزا نہیں دیتے۔ 

16۔ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہیں ان بستیوں میں عیش وعشرت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو (فرماں براداری اختیار کر نے کا) حکم دیں گے۔ وہ لوگ اور زیادہ جرم کریں گے۔ پس اس بستی کے خلاف (ہمارا) وعدہ یقینی ہوجائے گا۔تو فوراً اسے تباہ کردیتے ہیں۔ 

17۔ نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی نسلوں کوہلاک کر چکے ہیں۔ تمہارا پروردگا ر اپنے بندوں کے گناہوں کو خوب جاننے اور دیکھنے کے لئے کافی ہے۔ 

18۔ جلد باز دنیا کو چاہنے والوں میں ہم جسے چاہتے ہیں ہم جو چاہتے ہیں جلد ہی دے دیتے ہیں۔ پھر ان کے لئے جہنم تیار کردیں گے۔ جس میں وہ رسوائی کے ساتھ رحمت سے دھتکارے ہوئے جلتے رہیں گے۔ 

19۔ ایمان کی حالت میں آخرت چاہتے ہوئے اس کے لئے جو کوشش کرتے ہیں ان کی کوشش کے لئے شکر ادا کیا جائے گا6۔ 

20۔ اِن کے لئے، اُن کے لئے اور سب کے لئے ہم اپنے انعامات کو اور زیادہ دیں گے۔ تمہارے رب کی انعام ردکی ہوئی نہیں ہے۔ 

21۔ غور کرو کہ ہم نے ان میں ایک دوسرے پر کیسی فضیلت دی رکھی ہے۔ آخرت کی زندگی توبہت بڑے درجے اور بہت بڑی فضیلتیں والی ہے۔ 

22۔ اللہ کے ساتھ کسی اورمعبود کو تم تصور نہ کرو۔ اگر ایسا کروگے تو مذموم اور بے کس ہو کر رہ جاؤگے۔ 

23۔تمہارے رب نے حکم فرمادیا ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ والدین کی احسان کرو۔ تمہارے ساتھ رہنے والے (ماں اور باپ ) دونوں یا ان میں سے ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان دونوں سے اف تک نہ کہو۔ ان دونوں کو مت جھڑ کو۔ ادب و احترام کے ساتھ ہی ان دونوں سے بات کیا کرو۔ 

24۔ محبت کے ساتھ عاجزی کی بازو ان دونوں کے لئے جھکاؤ251۔ اور دعا کرو کہ اے میرے پروردگار! مجھے بچپن میں جس طرح انہوں نے میری پرورش کی تھی اسی طرح ان دونوں پر رحم فرما۔ 

25۔ تمہارے دلوں میں جو ہے تمہارا رب اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اگر تم نیک ہوتو سدھرنے والوں کو وہ بخشنے والا ہے۔ 

26۔ رشتہ دار، غریب اور خانہ بدوشوں206 کو ان کے حق ادا کردیا کرو۔ ایکدم فضول خرچی نہ کرو۔ 

27۔ فضول خرچ کر نے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور شیطان تو اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ 

28۔( تمہارے پاس سہولت نہ ہو تو) تمہارے رب کے فضل کی تلاش میں منتظر حالت میں (کچھ بھی نہ دیتے ہوئے)اگرانہیں نظر انداز کر نا ہوتو بالکل نرمی کی بات کہا کرو۔

29۔ تمہارے ہاتھ گردن سے بندھے ہوے بھی نہ رکھو۔پوری طرح اسے کھلا بھی نہ چھوڑو۔ (اگر کھلا چھوڑوگے تو) تم ملامت زدہ درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤگے۔ 

30۔ تمہارا رب جسے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے، تنگ بھی کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ، دیکھنے والا ہے488۔ 

31۔ مفلسی سے ڈر کر تم اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو487۔ ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں463۔ انہیں قتل کر نا بڑا جرم ہے۔ 

32۔ زنا کے قریب نہ جاؤ۔ وہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔ 

33۔اللہ نے جس جان کے قتل کو روکا ہے اسے بلا وجہ نہ کرو۔ جو نا انصافی سے قتل کردیا گیا ہے ان کے وارث کو ہم نے اختیار دے رکھی ہے401۔وہ قتل کر نے کے لئے زیادتی نہ کرے۔ وہ (قانون کے ذریعے) مدد کئے ہوئے ہیں43۔ 

34۔ یتیم کے مال وہ جوانی کو پہنچنے تک عمدہ طریقے کے سوا قریب نہ جاؤ۔ وعدہ پورا کرو۔ وعدے کی باز پرس ہوگی۔

35۔ ناپ کرو تو پوری طرح سے ناپو۔ ٹھیک ترازو سے وزن کرو۔ یہی بہتر ہے، اچھا انجام ہے۔ 

36۔ جس کا تمہیں علم نہیں اس کی پیروی نہ کرو۔ کان، آنکھ اور دل تمام سے بازپرس ہوگی۔

37۔ زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ تم زمین کو پھاڑکر پہاڑ کے بلندی کے موافق (نیچے )پہنچ نہیں سکتے266۔ 

38۔ ان سب کی برائی تمہارے رب کے پاس ناپسندیدہ ہیں۔ 

39۔ (اے محمد!) یہ تمہارے رب نے (اپنی) حکمت سے تمہیں وحی کی ہے۔ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کا تصور نہ کرنا۔ (اگر ایسا کرو گے تو) ملامت زدہ اور (اللہ کی رحمت سے) دھتکارے ہوئے جہنم میں پھینک دئے جاؤگے۔ 

40۔ کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے بیٹے دے کر اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنالی ہیں؟ تم تو خطرناک بات کہہ رہے ہو!

41۔ وہ لوگ غورو فکر کر نے کیلئے اس قرآن میں کئی باتیں واضح کی ہیں۔ وہ انہیں اور بھی نفرت بڑھا تی ہے۔ 

42۔ کہہ دو کہ ان کے قول کے مطابق اگر اس کے ساتھ کئی اور معبود ہو تے تو وہ بھی عرش والے488 (رب) کے پاس (سپردگی کے لئے) ایک راستہ تلاش کرتے۔ 

43۔ وہ جو کہتے ہیں اس سے وہ پاک ہے10۔ بہت ہی بلند ہے۔ 

44۔ ساتوں آسمان507، زمین اور جو کچھ ان میں ہیں اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اسکی حمد و ثنا نہ کر نے والی چیز کوئی نہیں۔ لیکن ان کی تسبیح تم سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار ، بخشنے والا ہے۔ 

45۔ جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت کے نہ ماننے والوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔ 

46۔ ان کے دلوں میں غلاف اور کانوں میں بہراپن پیدا کر دیتے ہیں تاکہ اس کو وہ نہ سمجھ سکیں۔ قرآن میں جب تم اپنے رب ہی کا ذکر کر تے ہو تو وہ لوگ نفرت کر تے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ 

47۔ (اے محمد!) ظلم کر نے والے رازداری سے جو کہتے ہیں کہ ایک سحر زدہ آدمی ہی کی تم پیروی کر تے ہو357 اور تمہارے پاس وہ لوگ جو سنے اس سنی ہوئی باتوں کو بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

48۔ تم غور کرو کہ وہ تمہارے لئے کیسی مثالیں دے رہے ہیں۔ اس سے وہ گمراہ ہوگئے۔ وہ سیدھی راہ پا نہیں سکتے۔ 

49۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم ہڈیاں بن کر بوسیدہ ہوجانے کے بعد بھی پھر ہم از سر نو پیدا کئے جائیں گے؟ 

51,50۔ کہو کہ تم پتھر بن جاؤ ، لوہا بن جاؤ یا تمہارے دلوں میں جو بڑی مخلوق دکھائی دیتا ہے ویسے ہی بن جاؤ(تم جیسے بھی ہو ہم زندہ کریں گے)۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ہمیں پھر سے کون زندہ کرے گا؟ تم کہو کہ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا وہی(تمہیں پھر سے پیدا کرے گا)۔ وہ تمہارے پاس اپنے سروں کو خم کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ تم کہو کہ وہ عنقریب آجا ئے گا26۔ 

52۔ جس دن1 وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کر تے ہوئے جواب دوگے۔اور خیال کروگے کہ تم تھوڑی ہی مدت (زمین میں)رہے ۔ 

53۔میرے بندوں سے کہوکہ وہ اچھی ہی باتیں کیا کریں ۔ شیطان ان کے درمیان جدائی پیدا کردے گا۔ شیطان انسان کا کھلا ہوادشمن ہے۔ 

54۔ تمہارا پروردگار تمہارے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر رحم فرمائے ، چاہے تو عذاب دے۔ (اے محمد!) ہم نے تمہیں ان کے لئے ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا81۔  55۔ آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والوں کوتمہارا رب بخوبی جانتا ہے۔ نبیوں میں بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے37۔ داؤد کو ہم نے زبور عطا کی۔

56۔کہہ دو کہ اللہ کے علاوہ تم جنہیں تصور کرتے ہو انہیں پکار کر دیکھو۔تم سے تمہاری تکلیف دور کرنا یا بدل دینا ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

57۔ یہ جنہیں پکارتے ہیں ان میں سے (اللہ سے) زیادہ قریب ہو نے والے ہی اپنے رب کی طرف وسیلے کی141(اللہ سے قریب ہو نے کا راستہ) تلاش کر تے ہیں۔ اس کی رحمت کے منتظر رہتے ہیں۔ اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ تمہارے رب کا عذاب ڈرنے ہی کی چیز ہے۔

58۔ کوئی بھی بستی ہو قیامت کے دن 1 سے پہلے اسے ہم تباہ کئے بغیر اور سخت عذاب دئے بغیرنہیں رہ سکتے۔ یہ بات کتاب میں157 درج کی گئی ہے۔ 

59۔ معجزات کو اگلوں نے جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے اسے (اب) ہم بھیجنے سے روک رہے ہیں۔ قوم ثمود کو ہم اونٹنی آنکھوں کے سامنے دی تھی269۔ اس پر انہوں نے ظلم کیا۔ ہم تو ڈرانے ہی کے لئے معجزات بھیجتے ہیں۔ 

60۔ (اے محمد!) یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ تمہارا رب لوگوں کو پوری طرح سے جانتا ہے۔ ہم تمہیں جو نظارہ دکھایا تھا اور قرآن میں جو لعنت کی ہوئی درخت ہے، سب لوگوں کی آزمائش ہی کے لئے بنایا ہے267۔ انہیں ہم ڈراتے ہیں۔ وہ انہیں بہت بڑی گمراہی کو بڑھا دی ہے۔ 

61۔ جب ہم نے کہا کہ آدم کی اطاعت کرو 11تو ابلیس509 کے سوا سب نے اطاعت کی۔ اس نے پھوچا506کہ کیا میں اس کی اطاعت کروں جو مٹی سے 503پیدا کیا گیا ہے؟ 

62۔ اس نے کہا کہ مجھ سے زیادہ جسے تونے فضیلت دی ہے اس کے بارے میں مجھے بتا۔ قیامت کے دن1 تک اگرتومجھے مہلت دے گا تو چند لوگوں کے سوا میں ان کی نسل کو جڑ سے کاٹ دوں گا۔ 

63۔ (اللہ نے) فرمایا کہ تم جاؤ۔ ان میں سے اگر کوئی تیری پیروی کی تو تم سب کے لئے جہنم ہی بدلہ ہے،(وہی ) پورا بدلہ ہے۔ 

64۔ (اللہ نے یہ بھی کہا کہ) تو اپنی آواز کے ذریعے ان میں سے ممکن حد تک گمراہ کرلے۔ اپنے گھوڑوں اور پیادہ لشکروں کو ان کے مقابلہ میں ابھار دے۔ مال اور اولاد میں ان کا تو شریک بن جا۔ انہیں وعدے بھی کر۔ شیطان تو سراسر دھوکے کے سوا انہیں کوئی وعدہ نہیں دیتا۔ 

65۔(اللہ نے یہ بھی کہا کہ)میرے (نیک) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں۔ تیرا رب کارسازی کے لئے کافی ہے۔ 

66۔ تمہارے رب کی رحمت تلاش کر نے کے لئے وہی تمہارے لئے سمندر میں کشتی چلاتا ہے۔ وہ تم پرنہایت ہی رحم کر نے والا ہے۔ 

67۔ سمندر میں اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا جسے تم پکارتے ہو وہ چھپ جاتے ہیں۔ اللہ تمہیں بچا کر جب کنارے پر لا تا ہے تو (تم اس کو) جھٹلا دیتے ہو۔ انسان بڑا ناشکرا ہے۔ 

68۔ کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کسی حصہ میں دھنسادے یا تم پر پتھر کی بارش برسادے۔پھر تم اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاؤگے۔ 

69۔ کیا تم اس بات سے بھی بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ پھر سے ایک بار اس (سمندر) میں جب تمہیں بھیجے تو تمہارے برخلاف طوفانی ہوا بھیج کر تمہاری انکار کی وجہ سے وہ تمہیں غرق نہیں کرے گا؟ پھر ہمارے خلاف اس میں تم کوئی مدد گار نہیں پاؤگے۔

70۔ ہم نے اولاد آدم 504کو عزت بخشی۔ انہیں خشکی اور سمندر میں سواری مہیا کی۔انہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔ ہماری تخلیق کے اکثر مخلوقات سے زیادہ انہیں فضیلت دی۔ 

71۔ جس دن1 ہم ہر قوم کو ان کے سرداروں کے ساتھ بلائیں گے تو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دئے جا نے والے لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے۔ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

72۔ جو یہاں (ادراک کے) اندھے ہوں گے آخرت میں بھی اندھے اور گمراہ ہوں گے390۔

73۔ (اے محمد!) ہم پر تم جھوٹ باندھنے کے لئے ہم نے تم کو جو وحی کی تھی اس سے رخ بدلنے کی کوشش کی۔ (اگر ایسا کر تے تو) وہ تمہیں گہرے دوست بنالئے ہوتے۔ 

74۔ (اے محمد!) اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو تم ان کی طرف تھوڑا تو جھک ہی جاتے۔

75۔ اگر تم ایسا کئے ہوتے تو جیتے وقت دوگنا اور موت کے وقت بھی دوگنا عذاب ہم چکھائے ہوتے۔ پھرہمارے پاس تم اپنے لئے کوئی مددگار نہ پاتے156۔ 

76۔ (اے محمد!)انہوں نے تمہیں اس سر زمین سے ہٹا کر باہر نکال دینے کی کوشش کی۔ تب وہ تمہارے پیچھے بہت کم ہی ٹہرپاتے268۔ 

77۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے ان کے معاملے میں بھی (یہی ہمارا) طریقہ رہا۔ ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے۔ 

78۔ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی اندھیریاں303 گھیرنے تک نماز اور فجر( کی نماز) میں قرآن قائم کرو۔ فجر (کی نماز)میں قرآن گواہی دیا جا نے والا ہے۔ 

79۔ (اے محمد!) تمہارے لئے جو زیادہ ہے اس حالت میں رات کے وقت اس (قرآن کے )ذریعے تہجد پڑھا کرو۔ تمہارا رب عنقریب تمہیں مقام محمود پر کھڑا کر ے گا۔ 

80۔کہو کہ اے میرے پروردگار! اچھی طرح سے مجھے داخل کردے۔ اچھی طرح سے مجھے نکال دے۔ اور تو اپنی طرف سے میرے لئے مدد دینے والی قوت عطا کر۔ 

81۔ اور کہو کہ سچائی آگئی ، باطل مٹ گیا۔ باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔ 

82۔ ایمان والوں کے لئے جو رحمت اور شفا ہے اسے ہم قرآن میں نازل کر تے ہیں۔ ظلم کر نے والوں کو (وہ ) نقصان ہی بڑھا تا ہے۔ 

83۔ جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو وہ ہمیں جھٹلا کر دور چلا جا تا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید ہو جا تا ہے۔ 

84۔کہو کہ ہر شخص اپنے ہی راستے پر عمل کرتا ہے۔ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر چلنے والا کون ہے۔ 

85۔ (اے محمد!) روح کے بارے میں وہ تم سے پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے پروردگار کے حکم کے مطابق ہے۔ تم لوگ بس تھوڑا سا علم ہی دئے گئے ہو۔ 

87,86۔ (اے محمد!) اگر ہم چاہیں تو جو وحی تم پر بھیجی تھیں اس کو زائل کردیں۔ پھراس کے متعلق ہمارے پاس تمہارے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤگے۔ پھر بھی وہ تمہارے رب کی مہربانی ہے (کہ زائل نہیں کی گئی)۔تم پر اس کافضل بہت بڑا ہے26۔ 

88۔ کہہ دو کہ اس قرآن کے مانند لے آنے کے لئے انسان اور جن سب ایکساتھ ملیں بھی تو اس جیسا نہیں لا سکیں گے۔ خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں7۔

89۔ اس قرآن میں انسان کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کردی ہیں۔ انسانوں میں اکثریت (اللہ کے) انکار کے سوا کچھ بھی قبول نہیں کرتے۔ 

90۔ وہ کہتے ہیں کہ اس زمین میں تم جب تک ہمارے لئے چشمہ جاری نہیں کریں گے ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ 

91۔ یا تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغ ہونی چاہئے۔ ان کے درمیان تم بہتی ہوئی نہریں جاری کر دکھانا چاہئے۔ 

92۔ یا تمہارے خیال کے مطابق آسمان507 کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرادو۔ یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے تم لے آؤ۔ 

93۔(اور یہ بھی کہا کہ) یا تمہارے پاس ایک سونے کا گھرہو نا چاہئے۔ یا تم آسمان میں چڑھنا چاہئے۔ اورجب تک تم ہمارے پاس ہمارے پڑھنے کے لائق ایک کتاب کے ساتھ نہیں اتروگے تو ہم تمہارا چڑھ کر جانا بھی نہیں مانیں گے۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے۔ میں صرف انسان اور پیغام پہنچانے والا ہوں269۔ 

94۔ کیا اللہ نے انسان کو پیغمبر بنا کر بھیجنا ہی لوگوں کے پاس جب ہدایت آئی تو انہیں ماننے سے مانع رہا۔ 

95۔ کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھر تے(بسنے والے) ہوتے تو انہیں آسمان507 سے فرشتوں ہی کو رسول بنا کر بھیجتے154۔ 

96۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان نگرانی کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا، دیکھنے والا ہے488۔ 

97۔ اللہ جسے سیدھی راہ دکھائے وہی سیدھی راہ پانے والا ہے۔ جسے وہ گمراہی میں چھوڑدیتا ہے اس کو اس کے سوا کسی اور محافظوں کو نہ پاؤگے۔ انہیں قیامت کے دن1 چہروں کو جھکائے ہوئے اندھوں، گونگوں اور بہروں کی طرح اٹھائیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ جب بھی وہ بجھنے لگے تو ہم اس آگ کو اور بھڑکاویں گے۔ 

98۔ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور پوچھا کہ ہم ہڈیاں بن کر بوسیدہ ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے، اس لئے یہی ان کی سزا ہے۔ 

99۔ کیا انہوں نے نہیں جانا کہ آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کرنے والا ان جیسے (حقیروں) کو پیدا کر نے کی قدرت رکھتا ہے۔ بے شک ایک مدت بھی ان کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ ظلم کر نے والے (اللہ کا) انکار کے سوا دوسرا کچھ مانتے نہیں۔

100۔ کہہ دو کہ میرے رب کی رحمت کے خزانے کو اگر تم مالک ہوتے تو خرچ کر نے کے اندیشے سے اس کو تمہارے ہی پاس رکھ لیتے۔ انسان توبڑا کنجوس ہے۔ 

101۔ ہم نے موسیٰ کو نو9 واضح نشانیاں دی تھی۔ ان کے پاس جب وہ آئے تو (جو کچھ ہوا) بنی اسرائیل سے پوچھو۔ اس وقت فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ! میں یہی سمجھتاہوں 357کہ تم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ 

102۔ انہوں نے جواب دیا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے ان دلیلوں کو عطا کی ہیں۔اے فرعون! میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم ہلاک ہو نے والے ہو۔ 

103۔اس نے اس زمین سے انہیں نکال دینا چاہا۔اس کو اور اس کے ساتھ رہنے والے سب کو ہم نے غرق کر دیا۔ 

104۔ اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس زمین میں رہو۔جب آخرت کے بارے میں وعدہ پورا ہو گا تو تم سب کو ایک ساتھ لے آئیں گے۔ 

105۔ ہم نے اس کو سچائی کے ساتھ اتارا ہے،یہ سچائی کے ساتھ ہی اترا ہے۔ ہم نے تمہیں خوشخبری سنانے والااور خبردار کر نے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 

106۔ لوگوں کے لئے وقفہ بنا کر تم پڑھ کر سنانے کے لئے اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا بتدریج اتارا ہے447۔ 

107۔ کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ اس سے پہلے (کتابی) علم دئے ہوئے لوگوں کے پاس اگر یہ سنایا جائے تو وہ منہ کے بل سجدے میں396 گر پڑیں گے۔ 

108۔ وہ کہیں گے کہ ہمارا پروردگار پاک 10ہے اور ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔

109۔ وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں۔ وہ ان کی عاجزی کو بڑھا دیتا ہے۔ 

110۔ کہہ دو کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو۔ تم جس طرح بھی پکارو تو اس کے سب نام اچھے ہیں۔تم اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھو اور نا ہی آہستگی سے۔ ان دونوں کے درمیانی راہ تلاش کرو270۔ 

111۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے جس نے کوئی اولاد نہ بنائی۔ حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ (اپنے لئے )مددگار رکھلے نے کی ذلت بھی اس کے لئے نہیں ہے۔ اس کی خوب بڑائی بیان کر تے رہو۔ 

سورۃ : 18 سورۃ الکھف ۔ وہ غار

کل آیتیں : 110

اس سورت کی آیت نمبر 9 سے 26 تک عقیدے کی خاطر اپنے وطن سے ہجرت کر کے غار میں پناہ لینے والے چند نوجوانوں کا حیرت انگیز واقعہ بیان ہو نے کی وجہ سے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے . . .

4,3,2,1۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اسی نے اپنے بندوں پر کسی بھی کجی کے بنا سچائی کی اس کتاب کو، اپنے سخت عذاب سے آگا ہ کر نے کے لئے، اور یہ خوشخبری دینے کے لئے کہ نیک کام کر نے والے ایمان والوں کو اچھا بدلہ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان لوگوں کو جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے لئے اولاد بنالی ہے تنبیہ کر نے کے لئے نازل کی ہے26۔ 

5۔ انہیں اور ان کے اگلوں کو بھی اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ ان کے منہ سے نکلنے والی ان کی باتیں بڑی خوفناک ہیں۔ وہ لوگ جھوٹ ہی کہتے ہیں۔ 

6۔ اس پیغام کو اگر وہ نہ مانیں تو تم ان کے لئے فکر کرتے ہوئے شاید اپنے آپ کو ہلاک کرڈالوگے!

7۔ ان میں اچھے اعمال والے کون ہیں ، یہ آزمانے کے لئے484 زمین میں جو کچھ ہے اس کو ہم نے اس (زمین) کی سجاوٹ بنایا ہے۔ 

8۔ اس پر جو کچھ ہے اس کو ہم کھلی میدان بھی بنادینے والے ہیں۔

9۔کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ غار اور کتبہ والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب ہیں271؟ 

10۔ چند نوجوانوں نے جب غار میں پناہ لی تو کہنے لگے کہ اے ہمارے رب! تو اپنی رحمت ہمیں عطا فرما۔اور ہمارے معاملے میں ہمارے لئے درست کردے۔ 

11۔ پس اس غار میں ہم نے انہیں کئی سالوں تک سلائے رکھا462۔ 

12۔ ان کے ٹہرے رکھنے کی مدت کو ان دونوں گروہوں میں سے اچھی طرح جاننے والا کون ہے ، یہ معلوم کرا نے کے لئے پھر ہم نے انہیں اٹھایا۔ 

13۔ ان کا سچا واقعہ ہم تمہیں سناتے ہیں۔ وہ کچھ نوجوان تھے۔ وہ اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے۔ ہم نے ان کی ہدایت اور بڑھا دی۔ 

14۔انہوں نے جب اٹھ کر کہنے لگے کہ ہمارا رب آسمانوں507 اور زمین کا پروردگار ہے، ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے۔ (اگر ایسا کریں تو) حد سے بڑھی ہوئی بات کہنے والے ہوجائیں گے ، تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا۔ 

15۔ یہ ہماری قوم نے اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کو بنا رکھے ہیں۔ کیا وہ لوگ ان کے بارے میں ایک واضح دلیل نہیں لانا چاہئے تھا؟ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے سے بڑھ کر بڑا ظالم اور کون ہوگا؟

16۔ (وہ یہ بھی کہنے لگے کہ) ان کو اور اللہ کے سوا جنہیں یہ پوجتے ہیں ان سب کو چھوڑ کر اس غار میں پناہ لے لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کشادگی سے عطا کر ے گا۔ اور تمہارے کام بھی آسان فرمائے گا۔ 

17۔ تم دیکھو گے کہ جب سورج طلوع ہو تا ہے تووہ ان کے غار سے دائیں طرف جھک جاتا ہے اور جب وہ غروب ہو تا ہے تو بائیں طرف سے ان سے گزر جا تا ہے۔ وہ لوگ اس غار کے کشادہ حصے میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اللہ جسے ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہے۔ وہ جسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے تو انہیں ہدایت دینے والے کسی سرپرست کو نہیں پاؤگے۔ 

18۔ تم سمجھوگے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ (لیکن) وہ سو رہے ہیں462۔ انہیں ہم دائیں اور بائیں کروٹ بدلتے ہیں۔ ان کا کتا اپنا اگلا پاؤں پھیلا ئے ہوئے غار کے دہانے بیٹھا ہے۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو انہیں چھوڑ کر تم ڈر کربھاگ گئے ہوتے۔ ان سے تم زیادہ ہی دہشت زدہ ہوجاتے۔ 

19۔ وہ اپنے آپس میں تحقیق کر نے کے لئے ہم نے انہیں اٹھایا۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ کتنا (وقت) تم گزارے ہوں گے؟ (دوسرے ) لوگ کہنے لگے کہ ایک دن یا دن میں کا کچھ حصہ ہی ٹہرے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تم جتنا ٹہرے تھے وہ اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ تم میں سے کسی ایک کو اس چاندی کے سکے کے ساتھ شہر میں بھیجو۔وہ یہ دیکھ کر کہ پاکیزہ رزق کون رکھتا ہے اس کے پاس سے وہ کھانا ہمارے لئے لے آئے۔ وہ بہت احتیاط سے رہے۔ تمہارے بارے میں وہ کسی سے نہ کہے413۔ 

20۔ اگر وہ تمہیں پہچان لیں تو وہ تمہیں سنگسار کردیں گے۔ یا ان کے مذہب میں وہ تمہیں پھر سے داخل کر دیں گے۔ تب تو تم کسی حال سے جیت نہ پاؤگے۔ 

21۔یہ جاننے کے لئے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اورخاتمے کے دن1 میں کوئی شک نہیں ، ہم نے (غار والوں کے متعلق) انہیں اسی طرح مطلع کر دیا۔ اس وقت وہ اپنے آپس میں اختلاف کر نے لگے۔ اور کہا کہ ان پر ایک عمارت کھڑا کردو۔ ان کے بارے میں ان کا رب ہی جانتا ہے۔ اپنے معاملے میں جن کا ہاتھ اونچا رہا انہوں نے کہا کہ ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے397۔ 

22۔ بعض کہتے ہیں کہ (وہ) تین، اور چوتھا ان کا کتا ہے۔ غیب کے بارے میں قیاس کے طور پر (دوسرے) کہتے ہیں کہ پانچ ، چھٹواں ان کا کتا ہے۔ اور (بعض تو) یہ کہتے ہیں کہ سات اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ان کی گنتی کے بارے میں میرا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ چند لوگوں کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا496۔ ان کے بارے میں جو تم جانتے ہواس کے سوا (کسی اور میں) بحث نہ کرو۔ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے تفصیل مت مانگو۔  24,23۔کسی بات کے بارے میں بھی نہ کہو کہ میں اسے کل کردوں گا بجز (اسکے ساتھ کہے) اگر اللہ چاہے ۔جب تم بھول جاتے ہو تو اپنے رب کو یاد کرو۔ اور کہو کہ میرا رب عنقریب اس سے بھی زیادہ ہدایت کی راہ بتلائے گا26۔ 

25۔ وہ اپنے غار میں تین سو سال ٹہرے رہے (بعض کہتے ہیں کہ) نو سال اور زیادہ گزارے۔

26۔ کہہ دو کہ ان کے ٹہرے رہنے (کی مدت )کے بارے میں اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو پوشیدہ ہیں سب اللہ ہی کے ہیں۔وہ خوب دیکھنے والاہے488 اور اچھی طرح سننے والا ہے488۔ اس کے سوا ان کے لئے کوئی کارساز نہیں۔ وہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔  27۔ (اے محمد!) اپنے رب کی کتاب میں سے جو تمہیں وحی کی گئی ہے اسے سناؤ۔اس کی باتوں کوکوئی بدلنے والا نہیں30۔اس کے سوا کوئی پناہ گاہ تم نہیں پاؤگے۔ 

28۔ اپنے پروردگار کے چہرے کو چاہتے ہوئے صبح اور شام اپنے رب کو پکارنے والے لوگوں کے ساتھ اپنے کو پابند رکھا کرو۔ اس دنیا کی رونق کی خاطر ان سے ہٹ کرتم اپنی آنکھوں کو مت پھیرو۔ اپنی یاد سے جس کے قلب کو ہم نے بھلا دیا ہے اس کا کہا نہ مانو۔ وہ اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ، اس کا معاملہ حد سے گزرنے والا ہے۔ 

29۔ (اے محمد!) یہ حقیقت تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ جو چاہے اسے مانے اورجو چاہے اسے انکار کرے۔ ظلم کر نے والوں کو ہم نے جہنم تیار کر رکھا ہے۔ اس کی دیواریں انہیں گھیرے میں لے لیں گی۔ اگر وہ پانی مانگیں تو چہرے کو جھلسانے والی پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ وہ بہت ہی برا مشروب ہے، بہت ہی برا ٹھکا نا۔ 

30۔ جولوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے (اس طرح) اچھے عمل کر نے والوں کا اجرہم ضائع نہیں کرتے۔

31۔ ان کے لئے دائمی جنت کے باغات ہیں۔ ان کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہوں گی۔ انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے وہ پہنیں گے۔ وہاں کے تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ یہی بہتر اجر ہے ، عمدہ آرام گاہ ۔

32۔ ان کے لئے دو آدمیوں کا مثال دو۔ ان میں سے ایک کے لئے دو انگور کے باغات دئے تھے۔ ان دونوں کو کھجور کے درخت سے احاطہ باندھ کر ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگا دی تھی۔

33۔ وہ دونوں با غات بغیر کسی کمی کے اپنے فائدے پہنچا رہے تھے۔ ان دونوں کے درمیان نہرجاری کردی۔ 

34۔ دوسرے بھی پھل تھے۔ وہ اپنے ساتھی سے بات کر تے وقت کہا کہ میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اورزبردست جتھے والاہوں۔ 

35۔ وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا۔ اور کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ تباہ ہوجا ئے گا۔ 

36۔ (اور کہا کہ)میں نہیں سمجھتاکہ خاتمے کا دن1 آئے گا۔ اگر میں میرے رب کے سامنے لے جایا جاؤں گا تو اس سے بہتر جگہ ہی پاؤں گا۔ 

37۔ اس سے گفتگو کر نے والے ساتھی نے پوچھا کیا تم اس ذات کا انکار کر تے ہو جس نے تمہیں مٹی سے اور پھر ایک بوند منی سے پیدا کیا368 اور پھرتمہیں ایک ٹھیک ٹھاک انسان بنایا506۔ 

38۔ لیکن وہی میرا اللہ ہے، میرا مالک ہے۔ میرے پروردگار کے ساتھ میں کسی کو شریک نہ ٹہراؤں گا۔ 

39۔ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تمہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اللہ کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے۔ تم نے سوچ لیا کہ میں مال اور اولاد میں تم سے کمتر ہوں۔

40۔ ممکن ہے کہ تیرے باغ سے بہتر باغ مجھے میرا پروردگار عطا کردے اور تیرے باغ پر فیصلہ کر نے کے لئے آسمان سے بھیج کراسے پھسلنے والی چکنی مٹی بنادے۔ 

41۔(اور کہا کہ) یا اس کا پانی خشک ہوجائے۔ اسے ڈھونڈ نکالنا تجھ سے نہیں ہوسکتا۔ 

42۔ اس کے پھل گھیر لئے گئے۔ انہیں اوندھا گری ہوئی حالت میں دیکھ کر اس کے لئے جو خرچ ہوا اس کے بارے میں وہ ہاتھ ملنے لگا۔ اور کہا کہ کاش! میں میرے رب کے ساتھ کسی اورکو شریک نہ ٹہرایا ہوتا!

43۔ اللہ کے سوا اس کو مدد کر نے والی کوئی جماعت نہیں تھی۔ اور وہ مدد حاصل کر نے والابھی نہ تھا۔

44۔ وہاں مدد کر نا اللہ بر حق ہی کے لئے ہے۔ وہی بہتر اجر دینے والا ہے اور بہتر فیصلہ کر نے والا ہے۔ 

45۔ آسمان سے ہم نے پانی برسایا۔ وہ زمین کے پودوں سے گھل مل گیا۔ (پھر خشک ہو کر) وہ سوکھے پتے بن گئے۔ جسے ہوا ئیں لے کر اڑ گئیں۔ اس کو تم دنیا کی زندگی کے لئے مثال دو۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

46۔ مال اور اولاد اس دنیوی زندگی کی زینت ہیں۔ قائم رہنے والی نیکیاں ہی تمہارے پروردگار کے پاس اجر میں بہتر اورامید کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔ 

47۔ ہم پہاڑوں کوجگہ بدلنے کے دن1 تم زمین کو کھلی میدان دیکھوگے۔ ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ 

48۔ تمہارے رب کے پاس وہ صف باندھے ہوئے کھڑاکئے جائیں گے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) جس طرح تمہیں ابتدا میں پید اکیا گیااسی طرح تم ہمارے پاس آگئے۔ تم نے سوچا تھا کہ آگاہی کی جگہ ہم تمہارے لئے مقرر نہیں کریں گے۔ 

49۔ وہ کتاب رکھ دیا جائے گا۔ اس میں جو کچھ ہے اس کی وجہ سے مجرموں کو تم ڈرتے ہوئے دیکھوگے ۔ وہ کہیں گے کہ اس دفتر کو کیا ہوگیا ہے کہ چھوٹی ہو یا بڑی ہربات درج کیا ہو اہے! وہ جو کئے تھے اس کواپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے۔ تمہارا رب کسی پر ظلم کر نیوالا نہیں۔

50۔ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی اطاعت کرو11 تو ابلیس 509کے سوا سب نے اطاعت کی۔ وہ جنوں کے گروہ سے تھا۔ وہ اپنے رب کے حکم سے تجاؤز کرگیا۔ کیا تم مجھے چھوڑکر اس کو اور ا س کی نسل کو اپنا کارساز بنالیتے ہو؟وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظلم کر نے والے (توحید کو شرک سے) جو بدلوایا وہ بہت ہی برا ہے۔ 

51۔ آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کر نے اور انہیں پیدا کر نے کو368، میں نے انہیں گواہ نہیں رکھا۔ گمراہ کر نے والوں کو میں دوست بناتا نہیں۔ 

52۔ جب وہ فرمائے گا کہ تم جنہیں میرا شریک ٹہرائے تھے انہیں بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے۔ لیکن وہ لوگ انہیں کچھ بھی جواب نہ دیں گے۔ ان کے درمیان ہم ہلاکت کی جا پیدا کردیں گے۔

53۔ گنہگار جب دوزخ دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ ہم اسی میں گرنے والے ہیں۔ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔ 

54۔ لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہم نے ہر طرح کی مثالیں واضح کی ہیں۔ انسان تو زیادہ ہی حجت کر نے والا ہے۔ 

55۔ جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو اس کو مانتے ہوئے اپنے رب سے معافی طلب کر نے کے لئے انسانوں کو جو مانع ہے وہ یہی ہے کہ پہلے لوگوں پر جو حالت گزری تھی وہ اپنے پر نہیں آئی یا براہ راست عذاب نہیں اتری۔

56۔ خوشخبری دینے اور خبردار کر نے ہی کے لئے ہم نے رسولوں کو بھیجا۔ باطل سے حق مٹانے کے لئے جھوٹ کے ذریعے (اللہ کا) انکار کر نے والے بحث کرتے ہیں۔ میری آیتوں کواورتنبیہ کئے ہوئے چیزوں کو وہ مذاق سمجھتے ہیں۔ 

57۔ اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے تو اسے جھٹلاتے ہوئے اپنے کئے ہوئے کام بھول جائے؟تاکہ ان کے دل نہ سمجھ پائیں، ان پر ہم نے پردے اور ان کے کانوں میں بہراپن ڈال رکھے ہیں۔اگر تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو وہ ہرگز سیدھی راہ پر آنے والے نہیں۔ 

58۔ تمہارارب بخشنے والا اور نہایت ہی رحم والا ہے۔ اگر وہ ان کے کاموں کے لئے انہیں پکڑنا ہوتاتو ان کے عذاب کو وہ جلد ہی بھیج دیا ہوتا۔ بلکہ ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے بچنے کی کوئی جگہ وہ نہ پائیں گے۔ 

59۔ کئی بستیوں والوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کرڈالا۔ انہیں ہلاک کر نے کے لئے ایک وقت بھی مقرر کیا۔ 

60۔ یاد دلاؤ جبکہ موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ دو سمندر ملنے کی جگہ حاصل ہونے تک میں چلتا رہوں گا۔ یا میں میرے سفر کو عرصۂ دراز تک جاری رکھوں گا۔ 

61۔ دو سمندر ملنے کی جگہ پرجب وہ دونوں پہنچے تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ وہ سمندر کو چیرتے ہوئے اپنا راستہ بنالیاتھا۔

62۔ جب وہ دونوں چلنے لگے تو(موسیٰ) اپنے خادم سے کہا کہ صبح کا کھانا لے آؤ۔اس سفر میں ہم نے بہت تکلیف اٹھائی ہے۔ 

63۔ (خادم نے) کہا کہ جب ہم اس چٹان پر آرام کررہے تھے تو کیا تم نے غور کیا؟ میں مچھلی کوبھول گیا۔اس بات کو تم سے کہنے سے شیطان نے مجھے بھلادیاتھا۔ وہ سمندر میں اپنا راستہ عجیب طریقے سے بنالیا۔ 

64۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اسی جگہ کی ہمیں تلاش تھی۔دونوں گفتگو کر تے ہوئے اسی راستے سے واپس ہوگئے۔ 

65۔ (وہاں ) اپنے بندوں میں سے ایک کو دیکھا۔جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔ ہم ہی نے اس کو علم بھی سکھایاتھا۔

66۔ موسیٰ نے کہا کہ جو تمہیں سکھایا گیا ہے اس میں سے بھلی باتیں مجھے سکھانے کے لئے کیا میں تمہارے پیچھے آسکتا ہوں؟ 

68,67۔ (اس بندے نے )کہا کہ میرے ساتھ صبر سے رہنا تم سے نہیں ہوسکتا۔جوچیز تم نہیں جانتے ہو اس سے تم کیسے صبر سے رہ سکتے ہو26؟ 

69۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اللہ اگر چاہے تو مجھے صبر کر نے والا پاؤگے۔ تمہارے کسی بھی حکم کی سرتابی نہیں ہوگی۔ 

70۔ (اس بندے نے ) کہا کہ اگر تم کومیری پیروی کرنا ہے تو میں تم سے کسی بات کی تشریح کر نے سے پہلے تم مجھ سے نہیں پوچھوگے۔

71۔ دونوں چل پڑے۔ دونوں ایک کشتی میں سوار ہو نے کے ساتھ (اس بندے نے) اس میں سوراخ کر دیا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ کیا تم اس میں رہنے والوں کوغرق کرنے کے لئے سوراخ کر رہے ہو؟ یہ تو تم نے بہت بڑا کام کرڈالا!

72۔ (اس بندے نے) کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر سے رہ نہیں سکوگے273؟ 

73۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میری بھول پر مجھے پکڑ نہ لینا۔ میرے معاملہ میں مشکل پیدا نہ کر دینا۔ 

74۔ دونوں (مسلسل) چلتے رہے۔ جب ایک نوجوان کو دیکھا تو (اس بندے نے) اس کو قتل کر ڈالا۔ (موسیٰ نے ) کہا کہ کسی کی جان نہ لینے والے ایک پاکیزہ جان کو تم نے مار ڈالا۔ تم نے تو ایک ناگوا رکام کرڈالا273!

پارہ : 16

75۔ (اس بندے نے) پوچھا کہ کیا میں تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر سے نہیں رہ سکتے؟

76۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اس کے بعد بھی اگر میں کسی چیز کے بارے میں تمہارے پاس سوال کروں تو تم میرے ساتھ تعلق نہ رکھنا۔ اب میرے پاس سے تم (کافی) عذر حاصل کرچکے۔

77۔ وہ دونوں چل پڑے۔ آخر میں ایک قریہ والے کے پاس آکر کھانے کے لئے کچھ مانگا۔ ان دونوں کو میزبانی کر نے سے انہوں نے انکار کردیا۔ ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھا جو گرپڑنے کی حالت میں تھی۔ تو (اس بندے نے)فورااس کوسیدھا(کھڑا) کردیا۔ (موسیٰ نے ) کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری حاصل کر سکتے ہو273۔ 

78۔ یہی تمہارے اور میرے درمیان جدائی ہے۔ تم جن چیزوں سے صبر کرنہ سکے تھے ان کی وضاحت میں تمہیں بتاتا ہوں۔ 

79۔ وہ کشتی، سمندری کام کر نے والے چند غریبوں کی ہے۔ ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے ۔ وہ ہر ایک(بے عیب) کشتی زبردستی چھین لیا کر تا ہے۔اسی لئے میں نے اس کو عیب دار بنانا چاہا۔ 

80۔ اس نوجوان کے والدین ایمان والے تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ ان دونوں کو (اللہ کا) انکار اور گمراہی میں کہیں ڈھکیل نہ دے۔ 

81۔ ہم نے خیال کیا کہ ان دونوں کا رب اس کے بدلے میں اس سے بھی بہتر پاکیزہ اور قریبی میل جول رکھنے والا عطا کر ے گا۔ 

82۔ وہ دیوار اس شہر کے دو یتیم بچوں کی ہے۔ اس کے نیچے ان دونوں کے لئے خزانہ مدفن تھا۔ ان دونوں کے والد اچھے آدمی تھے۔ اس لئے اللہ نے چاہا کہ وہ دونوں جوان ہو کر ان کے حق کا خزانہ حاصل کر لیں۔ یہ تمہارے رب کی مہربانی ہے۔ اس کو میں نے میری مرضی سے نہیں کیا۔ یہی ہے اس کی وضاحت جس پر تم نے صبر نہ کیا273۔

83۔ (اے محمد!) ذوالقرنین کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہیں۔ تم کہو کہ ان کے بارے میں میں تمہیں سناتا ہوں۔ 

84۔ اس کو زمین میں( حکومت کر نے کے لئے) ہم نے موقع دیا۔ ہر ایک چیز سے اس کو ہم نے راستہ بنایا۔ 

85۔پس وہ ایک راہ پر چلا۔ 

86۔ غروب آفتاب کی جگہ پر جب وہ پہنچے تو کیچڑ بھرے ہوئے پانی میں اس کو ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ وہاں ایک قوم کو دیکھا۔ ہم نے کہا کہ اے ذوالقرنین! تم انہیں سزا دے سکتے ہو یا ان کے پاس سے بھلے طریقے سے (جزیہ) لے سکتے ہو۔

87۔ اس نے کہا کہ ظلم کر نے والوں کو ہم بعد میں سزا دیں گے۔پھر وہ اپنے رب کے پاس لے جایا جائے گا۔ وہ سخت سزا دے گا۔ 

88۔ جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا اس کے لئے اچھا بدلہ ہے۔ ہمارے احکامات میں سے آسان بات انہیں کہیں گے۔ 

89۔ پھر وہ ایک راہ پر چلا۔ 

90۔ آخر جب اس نے طلوع آفتاب کے سمت تک پہنچا تو اسے ایک قوم پر طلوع ہو تے ہوئے دیکھا۔ اس میں سے انہیں ہم نے کوئی رکاوٹ نہیں پہنچائی274۔ 

91۔ اسی طرح اس کے پاس جو ہے ہم پوری طرح جانتے ہیں۔ 

92۔ پھر ایک راستے کی طرف مسلسل چل پڑا۔ 

93۔ آخر جب وہ دو پہاڑوں کے درمیانی حصہ تک جا پہنچا تو اس پار،کسی بات کو نہ سمجھنے والی ایک قوم کو دیکھا ۔ 

94۔ انہوں نے (اشارے سے) پوچھا کہ اے ذوالقرنین! یاجوج ماجوج 451نامی لوگ زمین میں فساد برپا کررہے ہیں۔کیا ہم تمہیں محصول ادا کریں تاکہ تم ہمارے اور ان کے درمیان ایک روک بنا دیں۔ 

95۔ اس نے کہا کہ میرے پروردگار نے جو مجھے عطا کیا ہے وہی بہتر ہے۔ طاقت سے میری مدد کرو۔ تمہارے اور ان کے درمیان ایک آڑ بنادوں گا۔ 

96۔( وہ اپنے خادموں سے)کہا کہ میرے پاس لوہے کے طبق لے آؤ۔ دونوں پہاڑوں کا شگاف جب(چھپ کر) برابر ہو گیا تو پھونکوکہہ کر اسے آگ بنا دیا۔ پھر کہا کہ میرے پاس تانبا لے آؤ، اس پر میں (پگھلا کر) انڈیل دوں گا۔ 

97۔ اس پر اوپر چڑھنے اور نقب لگا نے ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

98۔ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ میرے رب کا وعدہ جب پورا ہو جائے گا تو اسے وہ چکنا چور کردے گا۔ میرے رب کا وعدہ سچا ہے374۔ 

99۔ انہیں ایک دوسر ے سے ٹکرائیں گے۔ صور پھونکا جائے گا۔ ان سب کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔

100۔ (ہمارے) انکار کر نے والونکے سامنے اس دن دوزخ کو اچھی طرح دکھائیں گے۔

101۔ ہماری یاد سے ہٹ کران کی آنکھیں پردے میں تھیں ، (سچائی) سن نہیں سکتے تھے۔

102۔ کیا (میرا) انکار کر نے والے مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو گہرا دوست بنالینا چاہتے ہیں؟(میرے) انکار کر نے والوں کے لئے جہنم کو ٹھکانا بنا رکھا ہے۔ 

103۔ کہو کہ عمل سے نقصان پانے والوں کے بارے میں کیا میں تمہیں بتلاؤں؟ 

104۔ اس دنیا کی زندگی میں ان کی کوشش ضائع ہوگئی۔ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے عمل کئے۔

105۔ وہی لوگ اپنے رب کی نشانیوں اور ملاقات488 کا انکار کر نے والے ہیں۔ ان کے نیک اعمال برباد ہوگئے۔ پس قیامت کے دن1 ان کے اعمال کو کوئی وزن نہیں دیں گے۔ 

106۔ انہوں نے (میرا) انکار کیا، میری آیتوں کو اور رسولوں کا مذاق اڑایا ، اس لئے جہنم ہی ان کی سزا ہے۔ 

107۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے فردوس نامی جنت کے باغات ہی ٹھکانا ہے۔ 

108۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے منتقل ہونا وہ پسند نہیں کریں گے۔ 

109۔ کہہ دو کہ میرے رب کے احکامات کے لئے155 اگر سمندربھی روشنائی بن جائے میرے رب کے احکامات (لکھ کر) ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہوجائے گا۔ اگر چہ ہم مدد کے لئے اس جیسا اور بھی لے آئیں۔ 

110۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (البتہ)مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اپنے پروردگار کی ملاقات488 کا جو امید رکھتا ہے وہ نیک عمل کرے۔ اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹہرائے۔ 

سورۃ : 19 سورۃ مریم ۔ عیسیٰ نبی کے والدہ کا نام

کل آیتیں : 98

اس سورت کی آیت نمبر 16 سے 34 تک مریم ؑ بغیر خاوند کے حاملہ ہو کر عیسیٰ کو جنم دینے کا واقعہ بیان ہو نے کی وجہ سے اس سورت کانام مریم قرار پایا ہے۔ 

بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ کاف، ھا، یا، عین، صاد2۔

2۔ (یہ) تمہارے رب نے اپنے بندے زکریا پر کی ہوئی رحمت کا ذکر ہے۔ 

3۔ وہ اپنے رب کو پوشیدگی سے پکار کر دعا کی۔ 

4۔ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں۔ سر کے بال بھی سفیدی سے چمک رہے ہیں۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے دعا کر کے کبھی بد نصیب نہیں رہا۔ 

5۔ میرے بعد میرے رشتہ داروں کے متعلق میں ڈر رہا ہوں۔ میری بیوی بھی بانجھ ہے۔ اس لئے تم اپنے پاس سے میرے لئے ایک مددگار عطا کر391۔ 

6۔(اور کہا کہ) وہ میرے اور یعقوب کے خاندان کا وارث بنے گا۔ اے میرے رب! انہیں (تیرے)راضی برضا بنادے۔

7۔ (اللہ نے کہا کہ) اے زکریا! ایک فرزند کی خوشخبری ہم تمہیں دیتے ہیں۔ ان کا نام یحیےٰ ہوگا۔ اس نام سے ان سے پہلے ہم نے اب تک نہیں بنایا467۔ 

8۔ اس نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا؟ جبکہ میری بیوی تو بانجھ ہے۔ اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔ 

9۔ (اللہ نے کہا کہ) وہ ایسا ہی ہے۔(اور کہا گیا کہ) تمہارا رب کہتا ہے کہ وہ میرے لئے آسان ہے۔ تم کچھ بھی نہ ہو نے کی حالت میں ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ 

10۔ اس نے پوچھا کہ اے میرے پروردگار! مجھے کوئی نشانی بتادے۔ رب نے کہا کہ تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ کسی معذوری کی حالت میں نہ ہوتے ہوئے بھی تم تین راتیں لوگوں سے بات نہیں کروگے۔

11۔ عبادت گاہ سے نکل کر وہ اپنے لوگوں کے پاس آئے اور (اشارے سے) کہنے لگے کہ صبح اور شام حمد کیاکرو۔ 

12۔ (ہم نے کہا کہ) اے یحیےٰ! اس کتاب کو مضبوطی سے تھامو۔ ہم نے ان کو بچپن ہی276 میں اختیار164دے رکھا تھا۔ 

14,13۔وہ ہمارے پاس سے رحم دل حاصل کرنے والے، پاک باز ، (ہم سے) ڈرنے والے اوراپنے والدین سے نیک سلوک کر نے والے تھے۔ گناہ یا سرکش کرنے والے نہ تھے26۔ 

15۔ ان کی پیدائش کے دن، ان کے انتقال کے دن اور پھر زندہ اٹھائے جانے والے دن ان پر سلامتی ہے۔

16۔ اس سورت میں مریم کے متعلق بھی یاد دلاؤ۔ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر مشرقی جانب والی جگہ پر وہ تنہا رہ گئیں۔

17۔ ان سے الگ ہو کروہ ایک پردہ ڈال لیا۔ ان کے پاس ہم نے اپنا روح444 بھیجا۔ وہ ان کو ایک مکمل آدمی سا دکھائی دیا۔ 

18۔ (مریم نے) کہا کہ اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو تو میں تم سے بہت ہی مہربان والے کی پناہ مانگتی ہوں۔ 

19۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں پاکیزہ فرزند کا عطیہ عطا کر نے کے لئے( آیا ہوں)تمہارے پروردگار کا رسول161 ہوں۔

20۔( مریم نے)کہا کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں،اور میں بدکار بھی نہیں ہوں، تو مجھے لڑکا کیسے ہو گا؟ 

21۔ (اللہ نے) کہا کہ ایسے ہی۔ (جبرئیل نے کہا) تیرا رب فرماتا ہے کہ وہ میرے لئے آسان ہے۔ ان کو ہم لوگوں کے لئے ایک نشانی415 اور اپنی رحمت بنائیں گے۔ یہ نافذ ہو کر رہنے والا امرہے۔ 

22۔ پھر وہ حاملہ ہو کر اس حمل کو لئے ہوئے دور ایک مقام پر کنارہ کش ہوگئے۔ 

23۔ دردزہ نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے نچلے حصے کے پاس لے گئی۔وہ کہنے لگی کہ کاش! میں پہلے ہی مرچکی ہوتی، اور بالکل بھولی بسری چیز ہوگئی ہوتی! 

24۔ ان کے نیچے سے فرشتے نے آواز دی کہ غمگین نہ ہوں۔ تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے436۔ 

25۔ (اور کہا کہ) کھجور کے درخت کے تنے کو ہلاؤ۔ وہ تم پر ترو تازہ پھل برسائیں گے۔ 

26۔ تم کھاؤ ،پیو اور مطمئن ہوجاؤ۔ اگر تم کسی انسان کو دیکھو تو کہہ دو کہ میں میرے رحمن کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے۔ میں کسی سے بات نہیں کروں گی277۔

27۔ (بچہ پیدا ہونے کے بعد) اس بچے کو لے کر وہ اپنی قوم کے پاس آئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اے مریم! تم تو خطرناک کام کر دئے ہو؟

28۔ (اور کہا کہ) اے ہارون کی بہن!450 تمہارا باپ بھی برا نہیں تھا اور تمہاری ماں بھی بدکار نہیں تھی۔ 

29۔ اس نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ گہوارے میں رہنے والے بچے سے ہم کیسے بات کریں؟ 

30۔ فوراً اس (بچے) نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں459۔ اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا276&415۔

32,31۔ میں جہاں بھی رہوں اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے۔مجھے حکم دیا گیا ہے278 کہ میں زندہ رہ کر میری ماں کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہوں، رہتے زمانے تک نماز قائم کر وں اور زکوٰۃ دیتا رہوں۔اس نے مجھے بدبخت اور سرکش نہیں بنایا26۔ 

33۔ (اور کہا کہ) میری پیدائش کے دن،میرے انتقال کے دن اور پھر زندہ اٹھائے جانے والے دن مجھ پر سلامتی159 ہے۔

34۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ یہی ہیں۔ وہ لوگ جس میں شک کر رہے تھے وہ سچی بات یہی ہے۔ 

35۔ کسی کو بیٹا بنا لینا اللہ کے شایاں نہیں ہے۔ وہ پاک ہے10۔ جب ایک کام کا ارادہ کر تا ہے تو صرف اتناہی کہتا ہے کہ ہوجا، تو وہ فوراً ہوجا تا ہے۔ 

36۔ (کہہ دو کہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ 

37۔ ان کے درمیان موجود مختلف فرقوں نے اختلاف کیا۔ ایک بڑادن1 جب آئے گا تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے خرابی ہے۔ 

38۔ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو صفائی سے دیکھیں گے اور صفائی سے سنیں گے۔ مگر ظالم لوگ اس دن کھلی گمراہی میں ہوں گے۔ 

39۔ وہ لوگ بنا سوچے اور بغیر ایمان لائے ہوئے ہیں ، انہیں اس دن 1کے بارے میں تنبیہ کر دو کہ جب معاملہ ہو جائے گا اور نقصان اٹھانا پڑے گا۔ 

40۔ ہم ہی زمین اور اس پر بسنے والوں کے وارث ہیں۔ وہ لوگ ہمارے ہی پاس واپس لائے جائیں گے۔ 

41۔ اس کتاب میں ابراھیم کے متعلق بھی یاد دلاؤ۔ وہ بڑے سچے اور نبی تھے۔

42۔ یاد دلاؤ جب اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! جو نہیں سنتا اور نہیں دیکھتا اورتمہیں کچھ فائدہ بھی نہیں دیتا اس کی تم کیوں عبادت کر رہے ہو؟ 

43۔ (اور کہا کہ) ابا جان! آپ کو جو نہیں ملا وہ علم مجھے ملا ہے۔ پس تم میری پیروی کرو۔ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہوں۔ 

44۔ (اور کہا کہ) ابا جان! شیطان کی پرستش مت کرو۔ شیطان تو رحمن کی نافرمانی کر نے والا ہے۔ 

45۔ (اور کہا کہ) ابا جان! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تمہیں رحمن کا عذاب آنہ جائے اور تم شیطان کے گہرے ساتھی بن بیٹھو۔

46۔ (باپ نے) کہا کہ اے ابراھیم! کیا تم میرے معبودوں سے روگردانی کر رہے ہو؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا۔ دراز مدت تک تم مجھ سے دور ہوجاؤ۔ 

47۔(ابراھیم نے کہا کہ ) تم پر سلامتی159 ہو۔ تمہارے لئے میں میرے رب سے معافی چاہوں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے247۔ 

48۔ تم سے اور جو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو ان سے میں الگ ہوجاتاہوں۔ میں میرے رب ہی سے دعا کروں گا۔ میرے رب کے پاس دعا کر نے سے میں بدبخت نہ رہوں گا۔ 

49۔ ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جنہیں وہ پرستش کر رہے تھے ان سے جب وہ الگ ہوگئے تو ہم انہیں اسحاق اور یعقوب انعام کے طور پر عطا کیا۔ ان دونوں کو نبی بنایا۔ 

50۔ انہیں ہم اپنی رحمت کا انعام بھی نوازا۔ اور انہیں بلند تعریف بھی عطا کی۔ 

51۔ اس کتاب میں موسیٰ کے متعلق بھی یاد دلاؤ۔ وہ منتخب شدہ رسول اور نبی تھے۔ 

52۔ کوہ طور کی دائیں جانب سے ہم نے انہیں پکارا۔ (ہم سے) باتیں کر نے کے لئے انہیں قریب کرلیا۔ 

53۔ ہم اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر انہیں عطا کیا۔ 

54۔ اس کتاب میں اسماعیل کی بھی یاد دلاؤ۔ وہ اپنا وعدہ پورا کر نیوالے ، رسول اور نبی تھے۔

55۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔ وہ اپنے رب سے راضی برضا تھے۔

56۔ اس کتاب میں ادریس کی بھی یاد دلاؤ۔ وہ بڑے سچے اور نبی تھے۔ 

57۔ ہم نے انہیں اونچے درجے پر بلند کیا۔ 

58۔ وہ لوگ آدم کی اولادمیں سے، نوح کے ساتھ کشتی میں جنہیں ہم سوار کئے تھے ان میں سے، ابراھیم اوراسماعیل کی نسل سے ہماری ہدایت پر چنے ہوئے انبیا تھے۔ ان پر اللہ نے فضل فرمایا۔ جب انہیں رحمن کی آیتیں سنائی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں 396گر پڑتے ہیں۔ 

59۔ ان کے بعد ان کے جانشین46 آئے۔ انہوں نے نماز ضائع کردیا ، نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ وہ بعد میں نقصان کا سامنا کریں گے۔ 

60۔ سوائے اس کے جس نے توبہ کی، ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا369۔ وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ذرہ بھر نا انصافی نہ کئے جائیں گے۔

61۔ (وہ) ہمیشہ رہنے والے جنت کے باغات ہیں۔ رحمن نے اسے اپنے بندوں کے لئے چھپائے رکھا ہے۔ اس کا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ 

62۔ وہاں سلام 159کے سوا وہ کوئی فضول بات نہیں سنیں گے۔ وہاں صبح و شام ان کے لئے رزق ہوگا۔ 

63۔ اپنے بندوں میں سے (مجھ سے) ڈرنے والوں کو اس جنت کا وارث بنا ئیں گے۔

64۔ (اللہ کے کہنے پر جبرئیل نے کہا 492کہ اے محمد!) سوائے تمہارے رب کے حکم کے ہم نہیں اترتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے، پیچھے ہے اور اس کے درمیان میں ہے ، سب اسی کا ہے۔ تمہارا رب بھولنے والا نہیں279۔ 

65۔ آسمانون507 اورزمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے سب کا (وہی) رب ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو۔ اس کی عبادت کے لئے( تکلیفیں )برداشت کرو۔ کیا تم اس کا ہمسر جانتے ہو؟ 

66۔ انسان کہتا ہے کہ اگر میں مرجاؤں تو اس کے بعد کیا میں پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا؟ 

67۔ کیا انسان کو یہ سوچنا نہیں چاہئے تھا506 کہ پہلے جب وہ کچھ بھی نہ ہونے کی حالت میں ہم نے اس کو پیدا کیا368؟

68۔ تیرے رب کی قسم379! انہیں اور شیطانوں کو اکٹھا جمع کریں گے۔ پھر انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل کھڑا کریں گے۔ 

69۔ پھر ہر گروہ سے رحمن کے سرکشی میں زیادہ سخت رہنے والوں کو الگ کر دیں گے۔ 

70۔ اس میں جلنے کے مستحق کون ہیں ، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

71۔ تم میں سے کوئی اس پر سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے پورا کیا جانے والا فریضہ ہے280

72۔ پھر (ہم سے) ڈرنے والوں کو ہم بچالیں گے۔ ظالموں کو گھٹنوں کے بل اسی میں چھوڑ دیں گے۔ 

73۔ جب ہماری واضح آیتیں انہیں سنائی جاتی ہیں تو (اللہ کا) انکار کر نے والے ایمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ(ہم) دونوں گروہوں میں سے بہتر ٹھکانے میں اور بہتر مجلس میں رہنے والے کون؟

74۔ ان سے زیادہ اچھے اسباب اور شکل و صورت والے کتنی ہی نسلوں کوان سے پہلے ہم ہلاک کرچکے۔ 

75۔ کہہ دو کہ گمراہی میں رہنے والوں کو رحمن مہلت دراز کر دیتا ہے۔موعودہ عذاب یا آخری گھڑی 1کا سامنا جب ہو گا تو وہ جان لیں گے کہ برے ٹھکانے والے اورکمزور لشکر والے کون ہیں؟ 

76۔ ہدایت پانے والوں کو اللہ مزید رہنمائی کر تاہے۔ دائمی نیک عمل ہی تمہارے رب کے پاس بہتر جزا اور بہتر ٹھکانے کے قابل ہے۔ 

77۔ ہماری آیتوں کا انکار کر نے والا کو تم نے دیکھا ہے؟وہ کہتا ہے کہ مجھے مال اور اولاد نوازا جا ئے گا۔ 

78۔ کیا اس کو غیب کا پتا چل گیا ہے؟ یا رحمن کے پاس کوئی وعدہ لے رکھا ہے؟ 

79۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس کے کہنے کو ہم درج کرلیں گے۔ اس کے لئے عذاب کوبالکل بڑھا دیں گے۔

80۔ وہ جس کے بارے میں بات کر رہا ہے اس ( کے مال اور اولاد) کو ہم ہی وارث ہوں گے۔ وہ اکیلا ہی ہمارے پاس آئے گا۔ 

81۔ ان لوگوں نے اللہ کے سوا کئی معبودوں کو بنا رکھا ہے تاکہ وہ مددگار بنیں۔

82۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ ان کی عبادت کا انکار کر کے ان کے مخالف بن جائیں گے۔ 

83۔ کیا تم نے جانا نہیں کہ ایکدم اکسانے کے لئے (ہمارے) انکار کر نے والوں کے پاس ہم شیطان بھیجتے ہیں؟ 

84۔ پس تم ان کے بارے میں جلدی نہ کرو۔ ان کے لئے ہم بالکل باریکی سے حساب کر تے ہیں۔ 

86,85۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو رحمن کے پاس ایک گروہ بنا کر جمع کر نے والے دن1 مجرموں کو ہم جہنم کی طرف پیاس کی حالت میں ہانک لے جائیں گے26۔ 

87۔ رحمن کے پاس عہد لینے والے کے سوا سفارش17 کر نے کے لئے کسی کو اختیار نہیں۔ 

88۔ وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے اولاد بنا رکھا ہے۔ 

89۔ بڑی تہمت ہی لائے ہو۔ 

91,90۔ ان لوگوں نے رحمن کے لئے اولاد ہونے کا دعویٰ کر نے کی وجہ سے آسمان507 پھٹنے کے لئے، زمین شق ہو نے کے لئے، پہاڑیں ریزہ ریزہ ہونے کے لئے تیار ہیں26۔ 

92۔ رحمن کے لئے ضرورت نہیں کہ کسی کو اولاد بنالے۔ 

93۔ آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے ہر ایک رحمن کے پاس غلام بن کر ہی آئینگے۔ 

94۔ ان سب کا اس نے برابر گن کر حساب کیا ہے۔ 

95۔ وہ سب اس کے پاس قیامت کے دن اکیلے ہی آئیں گے۔ 

96۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے رحمن ان سے محبت کرے گا۔ 

97۔ (اے محمد! ہم سے) ڈرنے والوں کو تم اس کے ذریعے خوشخبری سنانے کے لئے اور ہٹ دھرمی لوگوں کوتنبیہ کرنے کے لئے تمہاری زبان میں244 اس کو آسان کیا ہے۔ 

98۔ ان سے پہلے کئی نسلوں کو ہم نے ہلاک کرچکے۔ ان میں سے کسی کو کیا تم دیکھتے ہو؟ یا ان کا کراہنا ہی سنتے ہو؟ 

سورۃ : 20 سورۃ طٰہٰ ۔ عربی زبان کا سولہواں اور چھبیسواں حرف 

کل آیتیں : 135

اس سورت کی پہلی آیت میں طا ھا دو حروف آئے ہیں، اس لئے اس سورت کا نام طٰہٰ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ طا، ھا2۔

2۔ (اے محمد!) تم بدنصیب ہو نے کے لئے ہم نے یہ قرآن تم پر نہیں اتارا۔ 

3۔ (ہم سے) ڈرنے والوں کو نصیحت کے طور پر (ہم نے اتارا ہے)۔ 

4۔ اونچے آسمانوں507 اور زمین کے پیداکر نے والے سے (یہ) نازل ہوا ہے۔ 

5۔ رحمن نے عرش488 پر قائم ہوا۔ 

6۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے، اور زمین میں ہے، اور اس کے درمیان میں ہے اور زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔ 

7۔ اگر تم بلند آواز سے کہو (اسے جانتے ہوئے) اس کے بھید کو اور اس سے زیادہ راز کی باتیں بھی وہ جانتا ہے۔ 

8۔ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اس کے لئے خوبصورت نامیں ہیں۔ 

9۔ کیا تمہیں موسیٰ کے بارے میں خبر معلوم ہے؟

10۔ جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹہرو۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ اس میں سے میں تمہارے لئے ایک مشعل لے آتا ہوں۔ یا آگ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ نکالتا ہوں۔ 

11۔ وہاں جب وہ آئے تو اے موسیٰ کہہ کر پکارا گیا۔

12۔ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ پس تم اپنے جوتے اتاردو۔تم طوٰی نامی ایک مقدس وادی میں ہو۔ 

13۔میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ پس جو وحی کی جاتی ہے اس خبر کو سنو۔

14۔ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ پس تم میری عبادت کرو۔ مجھے یاد کر نے کے لئے نماز قائم کرو۔ 

15۔ خاتمے کا وقت1 آنے ہی والا ہے۔ہر ایک اپنی محنت کا اجر پانے کے لئے اس کو ہم نے چھپا رکھا ہے۔

16۔ اسے نہ مانتے ہوئے اپنی خواہش کی پیروی کر نے والا تمہیں اس سے روک نہ دے۔ (ورنہ) تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ 

17۔ رب نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟ 

18۔ اس نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں۔ اس کے ذریعے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ میری دوسری ضروریات بھی اس میں ہیں۔

19۔ فرمایا کہ اے موسیٰ! اسے ڈال دو۔ 

20۔ اسے وہ ڈالتے ہی اچانک وہ پھنکارتا ہوا سانپ بن گیا269۔ 

21۔فرمایاکہ بے خوف ہو کر اسے پکڑلو۔ اس کو ہم پہلی حالت پر بدل دیں گے۔

22۔ اپنا ہاتھ اپنے بغل سے ملالو۔ کسی عیب کے بغیر وہ چمکتا ہوا ظاہر ہوگا۔ یہ دوسری ایک نشانی ہے269۔ 

23۔ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض تمہیں دکھا تے ہیں۔ 

24۔ (رب نے فرمایا کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ 

25۔ اس نے کہا کہ اے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کشادہ کر دے۔ 

26۔ اور میرا کام میرے لئے آسان کردے۔ 

27۔ میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے۔

28۔ (تب ہی) میری بات وہ لوگ سمجھ سکیں گے۔ 

30,29۔ میرے گھرانے سے میرے بھائی ہارون کو میرا معاون بنا دے26۔ 

31۔ ان کے ذریعے مجھے طاقتور بنادے۔ 

32۔ میرے کام میں انہیں بھی شریک کردے۔ 

33۔ تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کر سکیں۔ 

34۔ اور تجھے زیادہ یاد کر سکیں۔

35۔ (اور کہا کہ) تو ہمیں دیکھنے والا ہے488۔ 

36۔ فرمایا کہ اے موسیٰ! تمہاری استدعا قبول کر لی گئی۔ 

37۔ پھر ایک بار تم پر احسان کیا گیا ہے۔ 

38۔یاد کرو کہ تمہاری ماں کو جو کہنا تھا ہم نے کہہ دیا۔

39۔ (تمہاری ماں سے کہا تھا کہ) اس (بچے) کو صندوق میں رکھ کر اسے دریا میں چھوڑ دو۔ دریا انہیں کنارے پر پہنچا دے گا۔ میرا اور ان کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ میری نگرانی میں تم پرورش پانے کے لئے ہم اپنی محبت تم پر ڈال دی۔ 

40۔ تمہاری بہن چلتی ہوئی جا کر کہنے لگی کہ کیا میں اس بچے کی نگہداشت کر نے والے کے بارے میں تمہیں بتاؤں؟ پس ہم نے تمہاری ماں کی آنکھیں ٹھنڈی کر نے اور وہ بے فکر رہنے کے لئے ان کے پاس تمہیں پھر سے لوٹا دیا484۔ تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا375۔ تمہیں اس غم سے نجات دی۔ تمہیں کئی طریقوں سے آزمایا۔ مدین والوں کے پاس تم کئی سال ٹہرے رہے۔ اے موسیٰ! پھر تم (ہماری) منصوبے کے مطابق آپہنچے۔ 

41۔ میرے لئے تمہیں منتخب کرلیا۔ 

42۔ تم اور تمہارے بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔ مجھے یاد کر نے میں سستی نہ کرو۔

43۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے سرکش ہو گیا ہے۔ 

44۔ (اور فرمایا کہ) تم دونوں اس سے نرمی ہی سے بات کرو۔ شاید وہ عبرت حاصل کرے یا (مجھ سے) ڈرے۔ 

45۔ دونوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچائے یا وہ ہم پر زیادتی کرے۔

46۔ فرمایا کہ ڈرو نہیں، میں سب کچھ دیکھتا ہوا اور سنتا ہوا تمہارے49 ساتھ ہوں۔ 

48,47۔ تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پر وحی کی گئی ہے26 کہ ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں۔ پس تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو181۔ انہیں اذیت مت دو۔ہم تیرے رب کی طرف سے تیرے پاس نشانی لے کرآئے ہیں۔ سیدھی راہ کے پیروی کر نے والوں پر سلامتی ہو۔ جس نے جھوٹ سمجھ کر جھٹلادیا اس کے لئے عذاب ہے۔

49۔ اس نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تمہارا رب کون ہے؟ 

50۔ اس نے کہا کہ ہر چیزکو اس کی شکل و صورت عطا کر کے پھر راہ دکھانے والا ہی ہمارا رب ہے۔ 

51۔ اس نے پوچھا کہ گزری ہوئی نسلوں283 کا کیاحال ہے؟ 

52۔ اس نے کہا کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس (موجود) دفتر میں157ہے۔ میرا رب نہ غلطی کر تا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ 

53۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا284۔ اس میں تمہارے لئے راستے آسان کئے۔ آسمان 507سے پانی برسا کر اس کے ذریعے مختلف قسم کی بناتات کے جوڑے242 ظاہر کئے۔ 

54۔ کھاؤاور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ عقل والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

55۔ اسی میں سے تمہیں پیدا کیا۔ اسی میں تمہیں لوٹائیں گے۔ پھرایک بار ا سی میں سے تمہیں ظاہر کریں گے۔ 

56۔اس (فرعون) کو ہماری ساری نشانیاں دکھائیں۔ اس نے جھوٹ سمجھ کر انکار کردیا۔

57۔ اس نے پوچھا کہ اے موسیٰ!کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو285 سے ہمارے اس زمین سے ہمیں نکال دے۔ 

58۔ (اور کہا کہ) اس قسم کاایک جادو ہم بھی تمہیں کر دکھائیں گے۔ہمارے اور تمہارے درمیان (مقابلہ کے لئے) ایک عام جگہ پر ایک وقت مقرر کرلو۔ جسے تم اور ہم خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ 

59۔ موسیٰ نے کہا کہ تہوار کا دن ہی تمہارے لئے مناسب ہے۔ دوپہر سے پہلے لوگوں کو جمع کردیا جائے۔ 

60۔ فرعون لوٹ کر چلا اوراپنی مکاری کویکسوکیا، پھر آگیا۔ 

61۔ موسیٰ نے ان سے کہا کہ تمہارا برا ہو۔ اللہ پر جھوٹ بہتان نہ باندھو۔ وہ تمہیں عذاب سے تباہ کردے گا۔ جھوٹ گھڑنے والا نقصان میں پڑگیا۔ 

62۔ وہ اپنے معاملے میں آپس میں بحث کر نے لگے۔ اس کو رازداری سے کر نے لگے۔

63۔ کہنے لگے کہ یہ دونوں جادو گر 285ہیں۔ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے سر زمین سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ تمہارے بہترین طریقوں کو مٹادینا چاہتے ہیں357۔ 

64۔ (اور کہا کہ)تم اپنی تدبیریں اکٹھے کر لو۔ پھر صف باندھے ہوئے آجاؤ۔ مقابلے میں جیتنے والے ہی آج کامیاب ہوں گے۔ 

65۔ (جادوگروں نے )پوچھاکہ اے موسیٰ! تم ڈالتے ہو یا ہم پہلے ڈالیں؟ 

66۔ موسیٰ نے کہا کہ نہیں ، تم ہی ڈالو۔ اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے پھنکارتے ہوئے285 انہیں نظر آئے357۔ 

67۔ موسیٰ نے اپنے اندر خوف محسوس کر نے لگے۔ 

68۔ ہم نے کہا کہ ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ر ہوگے۔

69۔ (ہم نے یہ بھی کہا کہ) تمہارے داہنے ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالو۔ انہوں نے جو بنایا ہے اس کو یہ نگل جائے گا۔ انہوں نے جو کیاوہ جادوگر کا فریب ہے285 ۔ (مقابلے میں) جب آجائے تو جادوگرکامیاب نہیں ہوتا357۔ 

70۔ تمام جادو گرفوراً سجدے میں گر کر کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔

71۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے تم نے اس کو مان لیا؟وہی تمہیں جادو سکھا نے والا تمہارا استاد ہے285 ۔ پس میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا کر تمہیں کھجور کے درخت کے نچلے حصہ میں سولی دے دوں گا۔ ہم میں سخت سزا دینے والا اور قائم رہنے والا کون ہے (جب ) تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ 

72۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو واضح دلائل آئے ہیں اس سے اور ہمیں پیدا کر نے والے سے زیادہ ہم تم کو ترجیح دینے والے نہیں۔ تم کو جو فیصلہ سنانا ہے سنادے۔ اس دنیوی زندگی ہی میں تم فیصلہ کر سکتے ہو۔ 

73۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ہمارے گناہوں کواوراس جادو357 کو بھی جو تم نے ہمیں مجبور کیا تھا، ہمارا پروردگار بخش دینے کے لئے ہم نے ہمارے رب پر بھروسہ کر لیا ہے۔ اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ 

74۔اپنے پروردگار کے پاس مجرم بن کر آنے والے کو جہنم ہی ہے۔جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ 

75۔ نیک عمل کر کے ایمان کے ساتھ اس کے پاس آنے والوں ہی کو بلند درجے ہیں۔

76۔ دائمی جنت کے باغات ہیں۔ اس کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔یہی پاکیزہ زندگی جینے والوں کا بدلہ ہے۔ 

77۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں کو لے کر نکلو۔ ان کے لئے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا کر دو۔ پکڑے جانے کے بارے میں خوف نہ کرو۔ (کسی اور چیز سے بھی) نہ ڈرو۔

78۔ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔سمندر میں جو ڈھانپنا چاہئے تھا وہ انہیں ڈھانپ لیا۔ 

79۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر دیا۔سیدھا رستہ نہیں دکھایا۔ 

80۔ اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمنوں سے نجات دی۔ کوہ طور کی داہنی حصے کا ہم نے وعدہ کیا۔ تم پر من و سلوٰی442 (کی غذا) اتارا۔ 

81۔ہم نے جو تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ رزق کھاؤ۔ یہاں حد سے آگے نہ بڑھو۔ (ورنہ) میرا غضب تم پر اترے گا۔ جس پر میرا غضب اتر گیا، وہ تباہ ہوگیا۔ 

82۔ جس نے توبہ کی، ایمان لے آیا، نیک عمل کئے اور پھر راہ راست پر چلاتو میں اس کو بخش دوں گا۔ 

83۔ (رب نے فرمایا کہ) اے موسیٰ! تم اپنی قوم کو چھوڑ کر جلد کیوں آگئے؟ 

84۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ اے میرے پروردگار! تیری رضا کی خاطر میں تیرے پاس جلد آگیا۔ 

85۔ (رب نے) کہا کہ تیرے پیچھے ہم نے تیری قوم کی آزمائش کی484۔ انہیں سامری نے گمراہ کر دیا۔ 

86۔ فوراً موسیٰ نے اپنی قوم کی طرف غصہ اور رنج کے ساتھ لوٹے۔ اور کہا کہ اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تمہیں اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ یا (میرے گئے ہوئے) کیا زیادہ زمانہ گزر گیا؟ یا کیا یہ چاہتے ہوئے کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو، تم مجھ سے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کی؟ 

87۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے منصوبہ بناکر تم سے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔بلکہ اس قوم کے زیورات ہم پر لادا گیا۔ ہم نے اسے پھینک دیا۔ اسی طرح سامری بھی پھینکا۔ 

88۔ ان کے لئے جسم کے ساتھ ایک بچھڑے کو (اس نے) برآمد کیا۔ وہ آواز بھی نکالی۔ فوراً (ان میں سے جاہل) لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے، موسیٰ کا معبود۔پس وہ راہ بھٹک کر چلے گئے19۔ 

89۔ کیا انہیں غور کرنا نہیں چاہئے تھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دیتااور نہ ان کے لئے نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے؟

90۔ اس سے پہلے ہارون نے ان سے کہا تھاکہ اے میری قوم! تم اس کے ذریعے آزمائے گئے ہو484۔ رحمن ہی تمہارا رب ہے۔ پس تم میری پیروی کرو۔ میرے حکم کی تعمیل کرو۔

91۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آنے تک ہم اسی میں مستحکم رہیں گے۔ 

93,92۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اے ہارون! جب تم نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تمہیں میری پیروی نہ کر نے میں کیا رکاوٹ تھی؟ تم تو میرے حکم کی خلاف ورزی کردی26۔

94۔ (ہارون نے ) کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کو نہ پکڑو۔ میں ڈرا کہ تم یہ کہو گے کہ میرے حکم کا انتظار کئے بغیر بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا۔ 

95۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اے سامری! تیرا معاملہ کیا ہے؟ 

96۔ اس نے کہا کہ جو انہوں نے نہیں دیکھا، میں نے دیکھا۔ اس رسول کی نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لے لی۔ اسے پھینکا ۔ میرے دل نے ایسا کر نے سے مجھے ورغلایا19۔

97۔ (موسیٰ نے )کہا کہ تو چلا جا۔ تیری زندگی میں یہ حالت ہوگی کہ تم کہو گے مجھے مت چھونا۔تبدیل نہ ہونے والا ، وعدے کے مطابق آنے والا ایک وقت بھی تیرے لئے ہے۔ تم جس کی پرستش کر رہے تھے اس معبود کو دیکھ۔ اسے آگ میں جلا کر پھر اسے سمندر میں بکھیر دیں گے19۔ 

98۔ تمہارا معبود اللہ ہی ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ ہر ایک چیز کو اس نے وضاحت سے جان رکھا ہے۔ 

99۔ (اے محمد!) اسی طرح ہم گزری ہوئی خبریں تمہیں سناتے ہیں۔ اور ہماری نصیحت بھی ہم تمہیں عطا کر چکے ہیں۔ 

100۔ اس کو جھٹلا نے والے قیامت کے دن 1گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے۔

101۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ قیامت کے دن1 وہ ان کے لئے بہت برا بوجھ ہوگا۔ 

102۔ صور پھونکنے کے دن ہم مجرموں کو نیلے رنگ کی آنکھوں سے اٹھائیں گے۔ 

103۔ وہ لوگ آپس میں رازداری سے کہتے ہوں گے کہ ہم دس دن کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے۔

104۔ جب ان میں سے زیادہ علم رکھنے والا کہے گا کہ تم ایک دن کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے تو ان کا کہنا ہم خوب جانتے ہیں۔ 

105۔ (اے محمد!) پہاڑوں کے بارے میں وہ تم سے پوچھتے ہیں۔تم کہو کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔ 

106۔ پھر اسے کھلا، بنجر زمین بنا دے گا۔

107۔ اس میں تم کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھو گے۔

108۔ کسی قسم کا انکار کے بغیر اس دن1 پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے۔ رحمن کے آگے سب آوازیں دب جائیں گی۔ قدموں کے آہٹ کے سوا تم کچھ بھی نہ سنو گے۔ 

109۔ اس دن رحمن جسے اجازت دے اور اس کی بات کو پسند بھی کر لے ، اس کے سوا کسی اور کی سفارش17 فائدہ نہ دے گی۔ 

110۔ جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب وہ جانتا ہے۔ اسے وہ لوگ پوری طرح جان نہیں سکتے۔ 

111۔ ہمیشہ زندہ رہنے والے کے آگے ان کے چہرے جھک جائیں گے۔ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا نامراد ہوا۔ 

112۔ ایمان کی حالت میں نیک عمل کر نے والے نا انصافی کئے جانے یا کوئی کمی دئے جانے سے نہیں ڈریں گے۔

113۔ اسی طرح وہ لوگ (اللہ سے) ڈرنے یاانہیں عبرت پیدا کرنے کے لئے ہم نے قرآن کو عربی زبان489 میں نازل کیا227۔ اس میں ہم نے واضح طور سے تنبیہ کی ہے۔

114۔ اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے بلندو برتر ہوگیا۔ (اے محمد!) اس کی وحی تمہیں پوری طرح سنانے سے پہلے152 قرآن کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ کہوکہ اے میرے پروردگار! میرا علم زیادہ کردے447۔

115۔ اس سے پہلے ہم آدم سے عہد لیا تھا۔ اس نے بھول گیا۔ اس میں ہم عزم نہیں پایا۔ 

116۔ ہم نے جب فرشتوں سے کہا کہ آدم کی اطاعت11 کرو تو ابلیس 506کے سوا سب نے اطاعت کی۔اس نے انکار کر دیا۔ 

117۔ ہم نے کہا کہ اے آدم! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ وہ کہیں تم دونوں کو جنت سے12 نہ نکلوادے۔ تب تم بدبخت ہوجاؤ گے۔ 

118۔ یہاں تم بھوکے نہیں رہو گے، ننگے نہ ہوگے۔ 

119۔ یہاں تم پیاسے بھی نہیں رہوگے، تم پر دھوپ بھی نہیں پڑے گی۔ 

120۔ ان کے پاس شیطان نے برا خیال پیدا کیا۔ (کہا کہ) اے آدم! دائمی (زندگی بخشنے والے) درخت کے13 بارے میں اور لازوال حکومت کے بارے میں کیا میں تمہیں بتاؤں؟ 

121۔ ان دونوں نے اس میں سے کھالیا۔ ان دونوں کو اپنی شرمگاہ کے بارے میں پتا چلا174۔ وہ دونوں جنت کے12 پتوں سے اپنے کو ڈھانکنے کی کوشش کی۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ پس وہ بہک گیا۔ 

122۔ پھر ان کا پروردگار ان کو منتخب کیا۔ انہیں معاف کیا اور سیدھی راہ بتائی۔ 

123۔اور فرمایاکہ دونوں یہاں سے ایک ساتھ اتر جاؤ۔ تم میں سے بعض، بعض کے دشمن ہوں گے۔ میری طرف سے تمہیں سیدھی راہ آئے گی۔ اس وقت جومیری ہدایت کی پیروی کرے گا ،وہ گمراہ نہیں ہوگا۔ بد بخت بھی نہیں ہوگا۔ 

124۔ جو شخص میری نصیحت سے اعراض کر ے گا اس کے لئے تنگ زندگی ہے۔ اسے ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔ 

125۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب!میں تو آنکھوں والا تھا، تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟ 

126۔ (اللہ) فرمائے گا کہ وہ ایسا ہی۔ ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں۔ اسے تم بھول گئے۔ اسی طرح آج تم بھلادئے جارہے ہو۔ 

127۔ اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ مانتے ہوئے حد سے بڑھ جانے والے کو ہم اسی طرح بدلہ دیں گے۔ آخرت کا عذاب سخت اور باقی رہنے والا ہے۔

128۔ کیا ان لوگوں کو یہ بات سیدھی راہ نہیں دکھلائی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔وہ ان کی آبادی کے مقامات پر چلتے پھرتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔

129۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے مقررہ مدت اور تقدیر سبقت نہ لے جاتی تو (بربادی) یقینی ہوجاتا۔ 

130۔ (اے محمد!) ان کی باتوں کو برداشت کرلو۔ سورج طلوع ہو نے سے پہلے اور وہ غروب ہو نے سے پہلے اور رات کے ا وقات میں بھی اپنے پروردگار کی حمد و پاکی بیان کرو۔ دن کے کناروں میں بھی تسبیح کرو۔ اس سے(جو اجر ملتا ہے) تم مطمئن ہوگے۔ 

131۔ (اے محمد!) آزمائش 484کے طور پر ان میں سے بعض کو ہم نے اس دنیوی زندگی کی جو کشش دے رکھی ہے اس کی طرف آنکھیں دراز نہ کرو۔ تمہارے رب کی دولت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ 

132۔ (اے محمد!) اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔ اس میں ( ہونے والی تکلیفوں کو) برداشت کرلو۔ہم تم سے دولت نہیں مانگا۔ ہم خود تمہیں دولت دیتے ہیں۔ (اللہ کے) ڈر ہی کو (اچھا) انجام ہے۔ 

133۔ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ اپنے رب سے کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے؟ کیاپہلی کتابوں میں موجود نشانی ان تک نہیں پہنچی؟

134۔ اگر پہلے ہی عذاب کے ذریعے ہم انہیں ہلاک کردیتے تو وہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے پاس ایک رسول تو نے کیوں نہیں بھیجا؟ ہم ذلیل و رسوا ہو نے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کر تے؟ 

135۔ کہہ دو کہ سب انتظار کر رہے ہیں، تم بھی انتظا کرو۔عنقریب جان لوگے کہ سیدھی راہ کے مستحق کون ہیں اور ہدایت یافتہ کون ہیں؟

سورۃ : 21 سورۃ الانبیاء ۔ انبیاء

کل آیتیں : 112

پارہ : 17

اس سورت میں موسیٰ، ہارون، ابراھیم، لوط، اسحاق، یعقوب، نوح، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس اور زکریا وغیرہ نبیوں کے بارے میں ذکر کیا گیاہے ، اس لئے اس سورت کا نام انبیاء رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ لوگوں کے لئے ان کی تفتیش قریب آگئی ہے۔ وہ تو جھٹلائے ہوئے بے خبرہیں۔ 

2۔ ان کے پروردگار کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے وہ مذاق ہی سمجھ کر سنتے ہیں۔ 

3۔ ان کے دلوں نے بے پرواہ کرتے ہیں۔ ظالم لوگ بالکل چھپے ہوئے گفتگو357 کر تے ہیں کہ یہ تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان کے سوا اور کون؟ دیکھتے ہوئے بھی تم اس جادو 285کے پاس جاتے ہو؟ 

4۔ (پیغمبرنے) کہا کہ میرا رب آسمانوں507 اور زمین کی ہربات جانتا ہے۔ وہ سننے والا488 اور جاننے والا ہے۔ 

5۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ (ان کا کہنا) ایک بے معنی خواب ہے۔نہیں، اس کو اس نے گھڑلیا ہے۔ نہیں، وہ ایک شاعر ہے۔ جیسے اگلے لوگوں کو دی گئی تھی اس طرح کی نشانی وہ ہمارے پاس لے آنے دو۔ 

6۔ ان سے پہلے ہم نے ہلاک کیا ہوا کسی بھی بستی ایمان نہیں لائے توکیا یہ لوگ ایمان لائیں گے؟

7۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے مردوں ہی کو رسول بناکر بھیجا ہے239۔ ان پر ہم نے وحی بھیجی۔اگر تم نہیں جانتے تو علم رکھنے والوں سے پوچھو۔ 

8۔ ان کا بدن بغیرغذاکاہم نے نہیں بنایا۔ وہ لوگ ہمیشہ بھی نہیں رہے۔ 

9۔ پھر ہم نے ان سے (کیا ہوا) وعدہ سچا کر دکھایا، انہیں اور جن کو ہم نے چاہا ،بچا لیا۔ حد سے گزرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔ 

10۔ہم تمہارے پاس ایک کتاب عطا کی۔ اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

11۔ ظلم کر نے والی کئی بستیوں کو ہم نے جڑ سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد دوسری قوم تخلیق کی۔

12۔ جب ہمارا عذاب انہوں نے محسوس کیا تو فوراً وہاں سے بھاگ نکلے۔ 

13۔ (کہا گیا کہ) بھاگو مت۔ اپنے سامان عیش اور مکانات کی طرف لوٹ جاؤ۔ تم سے تحقیق کیا جائے گا۔ 

14۔ انہوں نے کہا کہ ہائے ہماری شامت! ہم نے ظلم ڈھا دیا۔ 

15۔ ہم نے انہیں فصل کاٹ کر جلا ئے ہوئے کی طرح بنانے تک یہی ان کا واویلہ رہا۔

16۔ آسمانوں507 اور زمین اور ان کے درمیانی چیز کو ہم نے یوں ہی مذاق کے طور پر نہیں بنایا۔

17۔اگر ہم کھیل( تماشہ) بنانا چاہتے تو اسے ہم اپنی ہی طرف سے بناتے۔ ہم ( کچھ بھی) کرنے والے ہیں۔ 

18۔ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں۔ وہ جھوٹ کو کچل دیتا ہے۔ تو فوراً جھوٹ مٹ جاتی ہے۔ (رب کے بارے میں) تم (غلط انداز سے) بیان کر نے کی وجہ سے تمہیں خرابی ہے۔

19۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہیں سب اسی کے ہیں۔ اس کے پاس جو ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اور تھکتے بھی نہیں۔ 

20۔ وہ رات اور دن تسبیح کر تے ہیں ، اکتاتے نہیں۔ 

21۔ کیا یہ زمین سے معبودوں کو تیار کر تے ہیں؟ کیا وہ زندہ کر کے اٹھائیں گے؟ 

22۔ ان دونوں(آسمانوں اور زمین) میں اللہ کے سوا اگر دوسرے معبود ہوتے تو دونوں برباد ہوچکے ہوتے۔ عرش488 کا مالک اللہ ان باتوں سے پاک 10ہے جو وہ لوگ کہتے ہیں۔

23۔ اسکے کاموں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ بلکہ وہ لوگ ہی پوچھے جائیں گے۔

24۔ اللہ کے سوا کیا انہوں نے معبود بنا رکھے ہیں؟ (اے محمد!) کہہ دو کہ اپنی دلیلیں لے کر آؤ۔ یہی میرے ساتھیوں کی نصیحت ہے اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی نصیحت ہے۔پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ حق نہیں جانتے۔ پس وہ لوگ اعراض کر نیوالے ہیں۔ 

25۔ تم سے پہلے کسی رسول کو ہم نے یہ وحی نازل کئے بغیر نہیں بھیجا کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔ 

26۔ وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے اولاد بنالی ہے۔ وہ پاک10 ہے۔ بلکہ وہ (فرشتے) تو معزز بندے ہیں۔

27۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔ اس کے حکم کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں۔

28۔ ان کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے وہ جانتا ہے۔ جن کے لئے اس نے راضی ہوگیا ان کے سوا (دوسروں کو) وہ سفارش17 نہیں کرتے۔ وہ اس کے خوف سے لرزتے ہیں۔

29۔ جو یہ کہے کہ اس کے سوا میں ہی عبادت کے لائق ہوں، اس کو ہم جہنم کی سزا دیں گے۔ ظالموں کو ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں۔ 

30۔ کیا (ہمارا) انکار کر نے والے غور کرنا نہیں چاہئے تھا کہ آسمان507 اور زمین ملے ہوئے تھے، ان دونوں کو ہم ہی نے الگ کیا287اور ہر جاندار چیز کو پانی سے506بنایا۔ کیاانہیں ایمان نہیں لانا چاہئے تھا؟ 

31۔ ہم نے کھونٹے 248لگائے تاکہ انہیں زمین گرانہ دے۔ انہیں راہ پانے کے لئے کئی لمبے راستے بنائے۔ 

32۔ ہم نے آسمانوں507 کو محفوظ چھت بنایا288۔ وہ لوگ تو اس میں موجود نشانیوں کو جھٹلارہے ہیں۔

33۔ اسی نے رات اور دن، سورج اور چاند پیدا کیا۔ ہر ایک آسمانی فضا میں تیر رہے ہیں241۔ 

34۔ (اے محمد!) تم سے پہلے کسی انسان کو ہم نے ہمیشگی نہیں دی۔ اگر تم مرگئے تو کیا وہ قائم رہیں گے؟ 

35۔ ہر ایک موت کا مزہ چکھنے والے ہی ہیں۔بھلائی اور برائی کے ذریعے امتحان لینے کے لئے ہم تمہیں آزمائیں گے484۔ ہمارے ہی پاس تم لوٹائے جاؤگے۔ 

36۔(اے محمد!اللہ کا) انکار کر نے والے تمہیں جب دیکھتے ہیں تو تمہیں مذاق کی چیز سمجھتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں کہ) کیا یہی ہیں جو تمہارے معبودوں کو تبصرہ کر نے والے؟وہ لوگ رحمن کی یادکا انکار کر نے والے ہیں۔ 

37۔ انسان جلد باز بنایا گیا ہے368۔ عنقریب میں تمہیں میری نشانیاں دکھاؤں گا۔میرے پاس جلدی نہ کرو۔ 

38۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ انتباہ کب (ہوگا)؟ 

39۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے جہنم سے اپنا چہرہ اور پشت روک نہ سکنے والے اس وقت کو کیا جاننا نہیں چاہئے تھا؟اور نہ وہ لوگ مدد کئے جائیں گے۔

40۔ بلکہ وہ اچانک آ کر انہیں حیران کر دے گی، اسے وہ ٹال نہ سکیں گے۔ اوروہ مہلت بھی نہیں دیئے جائیں گے۔ 

41۔ (اے محمد!) تم سے پہلے کئی پیغمبر مذاق اڑائے گئے۔وہ جو مذاق اڑائے تھے، وہی ان مذاق اڑانے والوں کو آ گھیرا۔ 

42۔ پوچھو کہ رحمن سے تمہیں رات اور دن میں بچانے والا کون ہے؟ پھر بھی وہ اپنے پروردگار کی یاد کو جھٹلا رہے ہیں۔ 

43۔ کیا ان کے لئے ہمارے سوا کچھ معبود ہیں جوانہیں بچالیں؟ وہ خود اپنامدد نہیں کر سکتے۔ وہ ہم سے حفاظت بھی نہیں کئے جائیں گے۔

44۔ انہیں ہم نے عمر دراز کیااور ان کے اگلوں کو بھی سہولیات زندگی عطا کی۔ کیا انہیں غور کر نا نہیں چاہئے تھا243 کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں؟ کیا وہ لوگ(ہمیں)جیتیں گے؟

45۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ میں تمہیں وحی کے ذریعے ہی آگاہ کر رہا ہوں۔ جب آگاہ کیا جائے تو اس پکار کو بہرے سنتے نہیں۔ 

46۔ اگر تیرے رب کے عذاب سے تھوڑا بھی انہیں مل جائے تو وہ کہہ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت! ہم ظالم ہوگئے۔ 

47۔قیامت کے دن1 کے لئے انصاف کا ترازو قائم کریں گے۔ کسی پر ذرا بھر ظلم نہیں ہوگا۔ اگر رائی کے دانے برابر بھی ہو تو ہم اسے بھی لے آئیں گے۔ حساب لینے کے لئے ہم ہی کافی ہیں۔ 

48۔ فرق کر کے دکھانے والی اور روشنی کو (ہم سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت، موسیٰ اور ہارون کو بھی عطا کی۔ 

49۔ وہ لوگ تنہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ خاتمے کے وقت1 کے بارے میں بھی ڈرتے ہیں۔ 

50۔یہ ایک بابرکت نصیحت ہے، اس کو ہم ہی نے اتاراہے۔کیا تم اس کا انکار کر تے ہو؟

51۔اس سے پہلے ابراھیم کو ان کی ہدایت بخشی۔ان کے بارے میں ہم واقف تھے۔

53,52۔ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم سے جب پوچھا کہ تم جو پرستش کررہے ہو یہ مورتیاں کیا ہیں؟ تو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اجداد کو انہیں پرستش کر تے ہوئے دیکھا ہے26۔ 

54۔ اس نے کہا کہ تم اور تمہارے اجداد صریح گمراہی ہی میں ہو۔

55۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم صحیح کہہ رہے ہو یا ہم سے مذاق کر رہے ہو؟

56۔ اس نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ آسمانوں507 اور زمین کے پیدا کر نے والا پروردگار ہی تمہارا رب ہے۔ میں اس کی گواہی دینے والا ہو۔ 

57۔(اور یہ بھی کہا کہ) اللہ کی قسم! تم لوٹ کرجا نے کے بعد تمہاری بتوں کو توڑ دوں گا473۔

58۔ وہ لوگ اپنے بڑے بت کے پاس لوٹ کر آنے کے لئے اس کے سوا ان سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دئے473۔ 

59۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کس نے کیا؟ وہ ظالم ہے ۔

60۔ لوگوں نے کہا کہ ایک نوجوان کوہم نے ان کا تبصرہ کرتے ہوئے سناتھا۔ جسے ابراھیم کہا جا تاہے۔ 

61۔ کہنے لگے کہ اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ۔ تاکہ وہ لوگ گواہی دیں۔ 

62۔ ان لوگوں نے پوچھاکہ اے ابراھیم!کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا؟

63۔ ابراھیم نے کہا کہ نہیں، ان میں کا بڑا بت ہی ایسا کیا ہے432۔ اگر وہ بولتے ہوں تو (ٹوٹے ہوئے) انہیں کے پاس دریافت کرلو۔ 

64۔ وہ لوگ ہوش میںآ تے ہوئے اپنے آپس میں کہنے لگے کہ تم ہی (انہیں پرستش کرنے کی وجہ سے) ظلم کر رہے ہو۔ 

65۔ پھر وہ لوگ سروں کے بل اوندھا ہو تے ہوئے کہنے لگے کہ تم توجانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں۔

66۔ ابراھیم نے کہا کہ کیاتم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر تے ہو جو تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان نہ پہنچا سکے؟ 

67۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تف ہے تم پراوراللہ کے سوا جن کی تم عبادت کررہے ہو ان پر۔کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

68۔ کہنے لگے کہ تم کو (اگر کچھ ) کرنا ہی ہوتو انہیں آگ میں جلاکر تمہارے معبودوں کی مدد کرو۔

69۔ ہم نے کہا کہ اے آگ! ابراھیم پر ٹھنڈی اور سلامتی بن جا269۔ 

70۔ ان کے خلاف انہوں نے سازش کی۔ ہم نے انہیں نقصان اٹھانے والے بنا دیا۔ 

71۔ ان کو اور لوط کو ہم نے دنیا والوں کے لئے برکت والی زمین میں نجات دی۔ 

72۔ انہیں اسحاق کے ساتھ مزید یعقوب بھی انعام فرمایا۔ ان سب کو نیک بنایا۔ 

73۔ ہمارے حکم کے مطابق انہیں سیدھی راہ دکھانے والے پیشوا بنایا۔ نیک عمل کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کر نے انہیں ہم نے وحی بھیجی۔ وہ سب ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے۔

74۔ لوط کو ہم نے اختیار164 اور علم عطا کی۔ بے حیائی کے کام کر نے والی اس بستی سے انہیں نجات دی۔ وہ بہت برے لوگ اور جرم کر نے والے تھے۔ 

75۔ انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، وہ نیکوں میں سے ایک تھے۔ 

76۔ نوح اس سے پہلے جب(ہم سے) دعا کی تو ان کے لئے ہم نے (اسے) قبول کر لی۔ انہیں اور ان کے گھر والوں کو سخت تکلیف سے نجا ت دی۔ 

77۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے لوگوں سے (بچا کر) ان کی مدد کی۔ وہ بہت برے لوگ تھے۔ پس ان سب کو ہم نے ڈبو دیا۔ 

78۔جب ایک قوم کی بکری (دوسری ایک قوم کی) کھیت میں چرنے لگی تو داؤد اور سلیمان نے جوفیصلہ کیا تھا ، اس کو یاد دلاؤ۔ ان کے فیصلہ کوہم گواہ تھے۔ 

79۔ اسے ہم سلیمان کو سمجھایا۔ دونوں ہی کو ہم نے اختیار اور علم عطا کی تھی۔ پرندوں اور پہاڑوں کو ہم داؤد کے تابع کر دیاتھا۔ وہ (اللہ کی) تسبیح کر نے لگے، ہم (کچھ بھی) کر نے والے ہیں۔

80۔ جنگ کے وقت تمہیں حفاظت کر نے والی زرہ بکتر بنانے انہیں سکھایا۔ کیا تم شکر کر نے والے ہو؟ 

81۔ ہم نے تیزوتند ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا269۔ وہ ہمارے برکت والی زمین کی طرف ان کے حکم کے مطابق چلنے لگی۔ ہم ہر ایک چیزکے جاننے والے ہیں۔ 

82۔ شیاطین میں سے ان کے لئے غوطہ خور کے علاوہ دوسرے کام کر نے والوں کو بھی (ان کے تابع )کیا۔ ہم ان کے نگران تھے۔ 

84,83۔ جب ایوب نے دعا کی کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے۔تو رحم کر نے والوں میں سب سے بڑارحم کرنے والا ہے تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی۔ان پر آئی ہوئی تکلیف کو دور کیا۔ ان کے گھر والوں کو ، ان کے ساتھ ان جیسے لوگوں کو بھی ہم نے اپنی رحمت سے عطا کی۔ عبادت گزار وں کے لئے یہ نصیحت ہے26۔

85۔ اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل یہ سب صبر کر نے والے تھے۔ 

86۔ انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ وہ نیک لوگ تھے۔ 

87۔ مچھلی والے395 (یونس) غصہ سے چلے گئے۔ اس نے خیال کیا کہ ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے۔ پھر اس نے اندھیروں سے303 پکار اکہ تیرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو پاک10 ہے۔ میں ظلم کر نے والوں میں سے ہوگیا۔

88۔ ان کی دعا قبول کر لی۔ غم سے انہیں نجات دی۔ اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔

90,89۔ زکریا نے جب اپنے پروردگار کو پکارا کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑدے، توہی بہتریں وارث ہے، تو ہم نے ان کے لئے (ان کی دعا ) قبول کی۔ انہیں یحیےٰ انعام میں بخشا۔ ان کی بیوی کو ان کے لئے( بچہ جنم دینے کے) قابل بنایا۔ وہ نیکی کی طرف جلدی کر نے والے ، شوق اور خوف سے ہم سے دعا کر نے والے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کر تے تھے۔

91۔ اپنی عصمت کو بچانے والی عورت میں ہم نے اپنی روح پھونکا90۔ انہیں اور ان کے بیٹے کو جہاں والوں کے لئے نشانی بنادیا415۔ 

92۔تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ میری ہی عبادت کرو۔

93۔ وہ تو اپنے معا ملے میں آپس میں بٹ گئے۔ سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 

94۔ایمان کے ساتھ نیک عمل کر نے والوں کی محنت کا کوئی انکار نہیں۔ اسے ہم درج کررہے ہیں۔ 

95۔ہم ہلاک کئے ہوئے بستی والے (بچ کر آنا) ممنوع کیا گیا ہے، وہ لوگ واپس نہیں آئیں گے۔

96۔ آخر میں یاجوج اور ماجوج 451(کی جماعت) کھول دئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے آئیں گے۔ 

97۔ سچا وعدہ قریب آ چکا۔ اس وقت (اللہ کا) انکار کر نے والوں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ (وہ کہیں گے کہ) ہائے ہماری شامت! ہم اس کے بارے میں غفلت میں رہ گئے۔ نہیں، ہم نے ظلم کر ڈالا۔ 

98۔ تم اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کر رہے ہو، وہ دوزخ کا ایندھن بنوگے370۔ وہاں تم آکر پہنچنے والے ہی ہو۔ 

99۔ اگر وہ معبود ہو تے تو یہاں نہ آئے ہوتے۔ سب لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

100۔ وہاں ان کے لئے سسک سسک کر رونا ہی ہے۔ وہ لوگ وہاں کچھ بھی نہ سنیں گے۔

101۔ جن کے بارے میں ہماری مدد سبقت لے گئی وہ لوگ اس سے دورکئے گئے ہیں370۔ 

102۔ وہ اس کی شور نہیں سنیں گے۔ ان کے دل کی خواہشوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

103۔ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں کرے گی۔ فرشتے ان کی استقبال کر یں گے۔ (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ 

104۔ لکھے ہوئے اوراق لپیٹنے کی طرح آسمان507 کو ہم لپیٹنے کے دن 1جس طرح ہم نے پہلی تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی کو ہم پھر سے قائم کریں گے225&453۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔ ہم (کچھ بھی) کر نے والے ہیں۔ 

105۔ ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھا تھا کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث بنیں گے۔ 

106۔ عبادت گزار لوگوں کے لئے اس میں کافی چیزیں ہیں

107۔ (اے محمد!) جہاں والوں281 کے لئے ہم نے تمہیں رحمت بنا کر بھیجا ہے187۔ 

108۔ پوچھو کہ مجھے یہی وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، کیا (تم) اسے قبول کر رہے ہو؟ 

109۔ اگر وہ جھٹلائیں توکہہ دو کہ تم سب کو یکساں اطلاع کر چکا ہوں192۔ تمہیں جو انتباہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور، میں نہیں جانتا۔ 

110۔ وہ اونچی آواز بھی جانتا ہے اور تم جو چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہے۔ 

111۔ میں نہیں جانتا کہ یہ (دنیوی زندگی) تمہارے لئے آزمائش484 ہو گی یا مقررہ مدت تک زندگی خوشحال ہوگی؟

112۔( پیغمبرنے)کہا کہ اے میرے رب!تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما۔ تم جو کہہ رہے ہو اس کے مقابلے میں میرا پروردگار رحمن ہی مددکے لئے مجھے تلاش ہے۔

سورۃ : 22 سورۃ الحج ۔ ایک فرض عبادت

کل آیتیں : 78

اس سورت کی آیت نمبر 27 سے 37 تک حج اور اس کے آداب کے متعلق ذکر ہوا ہے، اس لئے اس سورت کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے... 1۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ اس وقت 1کی ہلچل بڑی سخت چیز ہے۔ 

2۔ جس دن تم اسے دیکھوگے ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پلاتے (بچے) کو بھول جائے گی۔ہر حاملہ عورت اپنا حمل وضع کر دے گی۔ لوگوں کو تم مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ 

3۔ اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر حجت کر نے والے، گمراہ کر نے والے شیطان کی پیروی کر نے والے بھی لوگوں میں موجود ہیں۔ 

4۔ اس کے خلاف لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسکو اپنا سرپرست بنائے گاوہ اسے گمراہ کر دے گا اور جہنم کے عذاب کی طرف راستہ دکھائے گا۔ 

5۔ اے لوگو! پھر سے زندہ کئے جانے میں اگر تم شک میں ہو تو (ہم واضح کر دیتے ہیں)۔ ہم نے تمہیں مٹی سے368، پھر نطفہ سے، پھر حمل شدہ بیضہ سے365&506، پھر مکمل کیاہوا اور نامکمل گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا368۔ ہم جو چاہتے ہیں رحم میں ایک مقررہ مدت تک ٹہرائے رکھتے ہیں144۔ پھر تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ تم میں وفات پانے والے بھی ہیں۔ اور تم میں سب جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جاننے والی معذور عمر تک لے جائے جانے والے بھی ہیں333۔ زمین کو تم خشک دیکھتے ہو ۔ اس پر ہم پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہو کرنشونما پاتی ہے اور ہر قسم کے خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ 

6۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کر تا ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 

7۔ خاتمے کا وقت1 آ کر ہی رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ قبروں میں رہنے والوں کو اللہ زندہ کرے گا۔ 

8۔ علم، ہدایت اور روشن کتاب کے بغیراللہ کے معاملے میں بحث کرنے والا بھی لوگوں میں موجودہے۔ 

9۔ اللہ کی راہ سے گمراہ کر نے کے لئے اپنی گردن موڑ لیتا ہے۔ اس کے لئے اس دنیامیں رسوائی ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی ہوئی عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 

10۔ (ہم کہیں گے کہ) یہ حالت تیرے کئے ہوئے کاموں ہی کی وجہ سے ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کر نے والا نہیں۔ 

11۔ کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کر نے والا بھی لوگوں میں ہے۔ اس کو کو ئی فائدہ پہنچے تو اس میں وہ مطمئن ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی آزمائش آجائے484 تو سر کے بل بدل جاتا ہے۔ اس دنیا اور آخرت میں اس نے نقصان اٹھایا، یہی کھلا نقصان ہے۔ 

12۔ اللہ کے سواوہ انہیں پکارتا ہے جو اسے نہ تکلیف پہنچا سکتی ہے اور نہ فائدہ دے سکتی ہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ 

13۔ جس کا بھلائی سے زیادہ برائی بہت قریب ہے اس کو یہ پکارتا ہے۔ وہ بہت برا دوست ہے اوربرا سرپرست۔

14۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں جنت کے باغات میں اللہ داخل کر تا ہے۔ جن کے نچلے حصے میں نہریں جاری ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

15۔ جو یہ خیال کر تا ہے کہ اس دنیامیں اور آخرت میں انہیں (محمدکو) اللہ ہرگز مدد نہیں کرے گاتو وہ آسمان کی طرف ایک رسی تان لے ، پھر (انہیں اللہ جو مدد کرتا ہے) اس کوروک ڈالے۔ اور یہ دیکھے کہ کیا یہ سازش اس کی نفرت کو دور کر دیتی ہے؟ 

16۔ اسی طرح ہم نے واضح آیتیں نازل کیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔

17۔ ایمان والے، یہودی، صابئن 443، عیسائی، مجوسی اور مشرک ، ان سب کے درمیان قیامت کے دن1 اللہ فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ 

18۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان میں رہنے والے، زمین میں رہنے والے، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور آدمیوں میں اکثریت اللہ کی اطاعت کر تے ہیں396۔ اور بہت سے لوگوں پر عذاب یقینی ہوچکا ہے۔ اللہ جسے ذلیل کردے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

19۔ اپنے پروردگار کے بارے میں بحث کر نے والے دو مدعیان یہ ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے آگ کا لباس تیار کیا گیا ہے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ 

20۔ اس کے ذریعے ان کے پیٹوں میں رہنے والی چیزیں اور کھالیں پگھل جائیں گی۔ 

21۔ ان کے لئے لوہے کے ہتھوڑے بھی ہیں۔ 

22۔ تکلیف کے مارے وہ جب بھی وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں تو وہ پھر سے اس میں ڈھکیلے جائیں گے۔(ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی عذاب چکھو۔

23۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں اللہ جنت باغات میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ 

24۔وہ لوگ پاکیزہ عقیدے کی طرف رہنمائی کئے گئے۔ تعریفوں کے مستحق (اللہ) کے راستے کی طرف راہ دکھائے گئے۔ 

25۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے، اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے روکنے والے اور وہاں ظلم کے ذریعے جرم کرنے والوں کو درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ہم نے مسجد حرام کو (اس کے) قریب میں بسنے والے اور دور میں بسنے والوں کے لئے مساوی کر دیا290۔ 

26۔ یاد دلاؤ جبکہ ہم نے اس کعبہ کے33 جگہ کو ابراھیم کے لئے مقرر کر تے ہوئے کہا کہ مجھے کسی سے شریک مت کرنا۔ طواف کر نے والے،کھڑے ہوئے عبادت کر نے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف و ستھرا رکھنا۔ 

27۔ (اور یہ بھی کہا کہ) لوگوں کو حج کے بارے میں اعلان کردو۔ وہ لوگ تمہارے پاس پیدل بھی اورایک ایک دبلے اونٹوں پربھی سوار ہو کر آئیں گے۔ وہ انہیں بہت دور دراز اور ہر ایک راستے سے لا کر پہنچائیں گے۔ 

28۔ وہ لوگ اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے اورانہیں سادہ لوح چوپایوں کوبخشنے کی وجہ سے مقررہ دنوں میں اللہ کانام لینے کے لئے (آئیں گے)۔اسے تم بھی کھاؤ171 اور مصیبت زدہ غریبوں کو بھی دو۔ 

29۔ پھر وہ لوگ اپنا میل کچیل دور کر نے دو۔ اپنے نذریں پوری کر نے دو۔ اس پرانے گھر کا طواف کر نے دو۔ 

30۔ یہی (اللہ کا فیصلہ) ہے۔ اللہ کی حرمتوں کو تعظیم کر نے والے کو اللہ کے نزدیک وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ تمہارے لئے جوسنائے جائیں گے اس کے سوادوسرے چوپائے تمہارے لئے حلال کردئے گئے ہیں ۔ بتوں کی گندگی سے الگ ہٹ جاؤ۔ جھوٹ بولنے سے بھی بچو۔

31۔ اللہ کے سپرد کر کے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نے والے بنو۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والا گویا ایسا ہو جائے گاکہ آسمان 507 سے گرپڑا اور اسے پرندے اچک لے گئے416 یاہوا اس کو کہیں دور اڑا لے جا کر پھینک دیاہو۔ 

32۔ یہی (اللہ کاحکم) ہے۔جو اللہ کی نشانیوں کااحترام کر تا ہے وہ ان کے دل میں موجود خوف الہٰی کا اظہار ہے۔ 

33۔ ان (چوپایوں ) میں مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدے ہیں383۔پھر ان کے پہنچنے کی جگہ وہی قدیم عبادت خانہ ہے33۔ 

34۔ سیدھے سادھے چوپائے انہیں عطا کر نے کی وجہ سے اللہ کا نام یاد کر نے کے لئے ہر ایک امت کو ہم نے عبادت کا طریقہ مقرر کیا۔ تمہارا معبودایک ہی معبود ہے۔تم اسی کے مطیع رہو۔ عاجزی کر نے والوں کو خوشخبری سنادو۔ 

35۔ اللہ کے بارے میں کہا جائے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔ جو بھی انہیں پہنچتی ہے اسے وہ برداشت کر لیتے ہیں۔ نماز قائم کر تے ہیں۔ ہمارے دئے ہو ئے میں سے (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں۔ 

36۔ (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ (کے دین) کی نشانیوں میں سے ایک بنایا ہے۔ ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کھڑا رکھنے کی حالت میں اس پر اللہ کا نام لو۔ پھر وہ جب پہلو کی طرف گر پڑے تو اس میں سے کھاؤ۔ مانگنے والے اور نہ مانگے والوں کو کھلاؤ171۔ تم شکر ادا کر نے کے لئے اسی طرح ہم اس کو تمہارے لئے نفع بخش بنایا۔ 

37۔ ان کا گوشت اور ان کا خون اللہ کو نہیں پہنچتا۔ بلکہ تمہاراخوف (الہٰی) ہی اسے پہنچتی ہے292۔ اللہ نے تمہیں سیدھی راہ دکھانے کی خاطر اس کی بڑائی بیان کر نے کے لئے اسی طرح وہ تمہارے لئے فائدہ مند بنا دیا ہے۔ نیکی کر نے والوں کو خوشخبری دے دو۔  38۔ ایمان والوں سے (دشمنی کو) اللہ روک دیتا ہے۔ دغابازوں اور ناشکر وں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

39۔ اس وجہ سے کہ جن کے خلاف جنگ کیاگیا، وہ مظلوم ہیں، انہیں بھی (ان کے خلاف جنگ کر نے کے لئے) اجازت دی گئی ہے۔اللہ ان کی مدد کر نے پر قادر ہے53۔ 

40۔انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہی ہے، اس لئے وہ لوگ ناحق اپنے گھروں سے نکال دئے گئے ۔ لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کواگر اللہ نے روکا نہ ہوتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور اللہ کانام کثرت سے لئے جانے والے مسجدیں ڈھا دئے جاتے433۔ اس کی مدد کر نے والوں کو اللہ بھی مدد کر تا ہے۔ اللہ بڑی قوتوں والا ، زبردست ہے۔

41۔ اگر ہم انہیں زمین میں موقع دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ بھی دیں گے۔ بھلائی کاحکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ 

44,43,42۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو وہ ان سے پہلے قوم نوح، قوم عادو ثمود، قوم ابراھیم، قوم لوط اور مدین والے کوبھی جھوٹا سمجھے تھے۔ موسیٰ بھی جھوٹے سمجھے گئے تھے۔ پس(میرے) انکار کر نیوالوں کومیں نے مہلت دی۔ پھر ان کو پکڑا۔ میرا عذاب کیسا رہا26؟ 

45۔ ظلم کر تے رہنے کی حالت میں ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ کر دیا۔ وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں۔ بے توجہ کنویں!برباد قلعے! 

46۔ کیا وہ زمین میں سفر نہیں کئے؟ (اگر کئے ہوں تو) انہیں سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہوتے۔ آنکھیں اندھی نہیں ہوئیں۔ بلکہ دلوں کے فکر ہی اندھے ہوگئے۔ 

47۔ (اے محمد!) وہ لوگ تم سے عذاب جلد مانگ رہے ہیں۔ اللہ ہر گز اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن ، تمہارے حساب کے مطابق ایک ہزار سال کے مانند ہے293۔ 

48۔ کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کر نے کی حالت میں ہم نے مہلت دی۔ پھر اسے سزا دی۔ میرے ہی پاس ان کا لوٹنا ہے۔ 

49۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ لوگو! میں تمہیں واضح طور پر آگاہ کر نے والا ہوں187۔ 

50۔ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ 

51۔ ہماری آیتوں کو پست کر نے کی کوشش کر نے والے ہی جہنمی ہیں۔ 

53,52۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جسے بھی نبی اور رسول398 بھیجا ، جب وہ پڑھنے لگتے ہیں تو ان کے پڑھنے میں شیطان(غلط قسم کا وسوسہ) ڈالے بغیر نہیں رہا294۔ جس کے دل میں مرض ہے ان کو اور سخت دل رکھنے والوں کوشیطا ن کے ڈالے ہوے کو آزمائش بنانے کے لئے اللہ اس کو بدل دیتا ہے۔ پھر اپنی آیتوں کو ثابت کردیتا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ظلم کر نے والے دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں26۔ 

54۔ (اے محمد!اللہ نے یہ اس لئے کیا ہے کہ) جنہیں علم دیا گیاہے وہ یہ جان کر مان لیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ ایمان والوں کو اللہ سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ 

55۔ ان کے پاس خاتمے کا وقت اچانک آنے تک یا فائدے سے خالی دن کا عذاب انہیں پہنچنے تک (اللہ کا) انکار کر نے والے اس میں شک و شبہ ہی میں پڑے رہیں گے۔ 

56۔ اس دن بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ ان کے درمیان وہ فیصلہ فرمائے گا۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ دائمی جنت کے باغات میں ہوں گے۔ 

57۔ جو(ہمیں)انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھا انہیں ذلت کا عذاب ہوگا۔ 

58۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت 460کی اور مارے گئے یا مر گئے تو انہیں اللہ اچھا رزق عطا کرے گا۔اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے463۔ 

59۔ ان کے اطمینان والی جگہ پر انہیں داخل کر ے گا۔ اللہ جاننے والا، بردبار ہے۔ 

60۔ یہی (اللہ کا حکم) ہے۔ اگر کوئی جتنا اس کو ستا یا گیااسی طرح (اس کے مسبب کو) ستاتے وقت اس کے لئے اس پر پھر سے ظلم کیا جائے تو اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔اللہ درگزر کر نے والا اور بخشنے والا ہے۔ 

61۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ دن میں رات کو داخل کر تا ہے اور رات میں دن کو داخل کر تا ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے488۔ 

62۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اس کے سوا جسے وہ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔ اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔

63۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے ، (جس سے) زمین سرسبزو شاداب ہوجاتی ہے؟ اللہ باریک بین اور باخبر ہے۔ 

64۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اللہ بے نیاز ، تعریفوں والا ہے485۔ 

65۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ زمین میں رہنے والی اور اس کے حکم کے مطابق سمندر میں چلنے والی کشتی بھی اللہ نے تمہارے لئے فائدہ مند بنادی ہے؟ اس نے بغیراس کے حکم کے زمین پر آسمان507 کوگرنے سے روک رکھا ہے240۔ اللہ لوگوں پر شفقت کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

66۔اسی نے تم کو زندگی بخشی۔پھر تمہیں موت دے گا۔ پھر تمہیں زندہ کر ے گا۔ انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔ 

67۔ (اے محمد!) ہم نے ہر قوم کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیاتھا۔ اس کی وہ پیروی کر نے لگے۔ اس معاملے میں وہ تم سے بحث نہ کر نا چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف بلاؤ۔ تم سیدھے راستے پر ہو۔ 

68۔ اگر وہ تم سے بحث کریں تو (اے محمد!) کہہ دو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ 

69۔ جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن1 فیصلہ کردے گا۔ 

70۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے؟ یہ سب کتاب157 میں موجود ہے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

71۔ اللہ کو چھوڑ کر وہ لوگ ان چیزوں کی پرستش کر تے ہیں جن کے لئے اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ ظالموں کو کوئی مددگار نہیں۔ 

72۔ جب انہیں ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو (ہمارے) انکار کر نے والوں کے چہروں میں ناگواری دیکھتے ہو۔ ہماری آیتوں کو ان کے پاس بولنے والوں پر حملہ کرنے کی بھی وہ کوشش کریں گے۔ (اے محمد!) تم پوچھو کہ کیا میں اس سے زیادہ بدتر چیزتم سے کہوں؟ وہ ہے جہنم۔ انکار کر نے والوں کو اللہ اسی کا وعدہ کیا ہے۔ وہ پہنچنے کی جگہ میں بہت برا ہے۔ 

73۔ اے لوگو! تمہیں ایک مثال دی جاتی ہے۔ اسے دھیان سے سنو۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی بھی پید انہیں کرسکتے۔ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین لے تو اسے اس مکھی سے چھڑابھی نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کمزور ہیں۔ 

74۔ وہ لوگ اللہ کی جس طرح قدر کر نی چاہئے تھی اس طرح قدر نہیں کی۔ اللہ بڑا ہی طاقتور اور زبردست ہے۔  75۔ فرشتوں507 اور انسانوں میں سے اللہ رسولوں کو چن لیتا 261ہے۔ اللہ سننے والا488 دیکھنے والا ہے488۔ 76۔ ان کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے۔ سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لے جایا جائے گا۔ 

77۔ اے ایمان والو! رکوع کرو۔ سجدہ کرو396۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور نیک کام کرو۔ شاید تم کامیاب ہوجاؤ۔ 

78۔ اللہ کے لئے جس طرح جہاد کر نا ہو اس طرح جہاد کرو۔ یہ رسول (محمد) تم لوگوں کو سمجھائیں اور تم دوسروں کو سمجھانے کے لئے اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ تمہارے باپ ابراھیم کی اس دین میں وہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی68۔ اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی وہی تمہارا نام مسلمان295 رکھا۔ پس تم نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ کو مضبوطی سے تھامو۔ وہی تمہارا محافظ ہے۔ وہ بہترین محافظ ہے۔ اور بہترین مددگار۔ 

سورۃ : 23 سورۃ المومنوں ۔ ایمان والے

کل آیتیں : 118

پارہ : 18

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ ایمان والے فلاح پاگئے۔

2۔ (وہ) اپنی نماز میں خشوع اختیار کر نے والے ہیں۔ 

3۔بے کارباتوں سے اعراض کر نے والے ہیں۔ 

4۔ زکوٰۃ بھی ادا کر نے والے ہیں۔ 

6,5۔ اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے سوا 107اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر نے والے ہیں۔ اس کے لئے وہ ملامت نہیں کئے جائیں گے26۔ 

7۔ اس کے علاوہ (کوئی اور راہ) ڈھونڈنے والے ہی حد سے تجاوز کر نے والے ہیں۔ 

8۔ اپنی امانتوں اور عہد کا وہ حفاظت کر نے والے ہیں۔ 

9۔ اور اپنی نمازوں کی حفاظت کر تے ہیں۔ 

11,10۔ فردوس نامی جنت کے وہی وارث ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے26۔ 

12۔ مٹی 503 کے خلاصہ 506 سے ہم نے انسان کو پیدا کیا368۔ 

13۔ پھر اسے محفوظ جگہ پر نطفہ بنادیا506۔ 

14۔ پھر اس نطفہ کو حمل کا بیضہ بنادیا365&506۔ پھر اس حمل کے بیضہ کو گوشت کا لوتھڑابنا دیا۔ اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی بنا کر اس ہڈی پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر اسے دوسری تخلیق296 بنادیا486۔ بہت ہی بہتر پیدا کر نے والا اللہ بڑا ہی برکت والا ہے۔ 

15۔ اس کے بعد تم مر جانے والے ہو۔ 

16۔ پھر قیامت کے دن1 زندہ کئے جاؤگے۔ 

17۔ تمہارے اوپر ہم نے سات راستے پیدا کئے۔ اس مخلوق کے بارے میں ہم بے خبر نہیں۔

18۔ آسمان 507سے ہم نے ایک اندازے سے پانی اتارا۔ اسے زمین میں ٹہرائے رکھا297۔ ہم اس کو دور کر نے میں بھی قادر ہیں۔ 

19۔ اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغات پیدا کئے۔ ان میں تمہارے لئے بہت سے پھل ہیں۔ جن کو تم کھاتے ہو۔ 

20۔ ہم نے طور سینا سے نکلنے والاایک درخت بھی(پیدا کیا)۔ وہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن بھی اگاتا ہے۔ 

21۔ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے۔ ان کے پیٹ میں رہنے والی چیزوں میں سے تمہیں پینے کے لئے دیتے ہیں۔ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں۔ اسے تم کھاتے ہو171۔ 

22۔ان پر اورکشتیوں پربھی تم سوار کئے جاتے ہو۔ 

23۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم!اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ کیا تم ڈرو گے نہیں؟ 

24۔ ان کی قوم میں (اللہ کا) انکار کر نے والے سرداروں نے کہا کہ یہ تو تم جیسے ایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تم سے زیادہ فضیلت حاصل کرناچاہتے ہیں۔ اللہ اگر چاہتا تو وہ فرشتوں کو بھیجا ہوتا154۔ ہمارے اگلوں سے بھی یہ ہم نے نہیں سنا۔

25۔ (اور کہا کہ) یہ تو ایک مجنون کے سوا کوئی نہیں۔ کچھ مدت کے لئے اس کو مہلت دو۔ 

26۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب! وہ لوگ مجھے جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے تو میری مدد فرما۔

27۔ ہم نے اس کو وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق کشتی بناؤ۔ ہماری اجازت سے پانی ابل پڑا تو221ہر ایک میں سے ایک جوڑی اور جس کے خلاف ہمارا حکم سبقت لے گیاہو ان کے سوا دوسرے تمہارے گھروالوں کو اس میں چڑھا لو۔ ظلم کر نے والوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرو۔ وہ لوگ ڈبوئے جانے والے ہیں۔ 

28۔ تم اور تمہارے ساتھ رہنے والے جب کشتی میں بیٹھ جائیں تو کہو کہ ظلم کرنے والے قوم سے ہمیں بچانے والے اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ 

29۔ اور کہو کہ اے میرے رب! برکت والی جگہ پر مجھے سکونت دینا۔ سکونت دینے والوں میں تو ہی سب سے بہتر ہے۔ 

30۔ اس میں کئی نشانیاں ہیں222۔ ہم آزمانے والے ہیں484۔ 

31۔ ان کے بعد دوسری ایک نسل کو پیدا کیا۔ 

32۔ انہیں میں سے انہیں رسول بھیجا (یہ آگا ہ کر نے کے لئے)کہ اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

33۔ ان کی قوم میں جس نے (اللہ کا) انکارکیا ، آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھااور اس دنیوی زندگی میں جن کے لئے ہم نے عیش و آرام عطا کی تھی ان سرداروں نے کہا کہ یہ تو تمہارے ہی جیساایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔تم جو کھا رہے ہو وہی یہ بھی کھاتا ہے، تم جو پی رہے ہو وہی یہ بھی پیتا ہے۔ 

34۔اگرتم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی تابع ہو گئے تو تم نقصان والے ہو۔ 

35۔کیا یہ تمہیں انتباہ کر تا ہے کہ جب تم مر کرمٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم پھر زندہ کئے جاؤگے؟ 

36۔ نہیں ہوگا! تمہیں جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ نہیں ہوگا!

37۔ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔ مرجاتے ہیں ،جیتے ہیں، ہم زندہ نہیں کئے جانے والے۔ 

38۔ (ان سرداروں نے یہ بھی کہا کہ) یہ تواللہ پر جھوٹ باندھنے والا آدمی کے سوا کوئی نہیں۔ ہم اس کو ماننے والے نہیں۔ 

39۔اس نے کہا کہ اے میرے رب! وہ لوگ مجھے جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے تو میری مدد فرما۔

40۔ (اللہ نے) فرمایا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ پچھتانے والے ہوں گے۔ 

41۔ حقیقت میں ان پر ایک زور کی آواز نے وار کیا۔ اسی وقت ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا۔ ظلم کر نے والے لوگوں کے لئے (اللہ کی رحمت) دور ہی ہے۔ 

42۔ ان کے بعد دوسرے کئی نسلوں کو پیدا کیا۔ 

43۔ کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے آگے بھی نہ جا سکے گی اور پیچھے بھی نہ جا سکے گی۔

44۔ پھر ہم نے لگاتار رسولوں کو بھیجا۔ ہر قوم کے پاس جب بھی رسول آئے انہیں جھوٹا سمجھتے رہے۔ اسی لئے ہم نے ان میں بعض کو بعض کے پیچھے لگا دیا۔انہیں قدیم افسانہ بنا دیا۔ ایمان نہ لانے والوں کو (اللہ کی رحمت) دور ہی ہے۔ 

46,45۔ پھر ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی دلیلوں اور واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے تکبر کیا۔ اور وہ زور جتانے والے لوگ تھے26۔

47۔ اور کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کو مان لیں جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے؟ 

48۔ ان دونوں کو انہوں نے جھوٹا سمجھا۔ اس لئے وہ لوگ تباہ شدہ ہو گئے۔

49۔ وہ لوگ ہدایت پانے کے لئے ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ 

50۔ مریم کے بیٹے اوران کی ماں کو ہم نے نشانی بنایا415۔سرسبز اور پائیدار والی ایک اونچی جگہ پر ان دونوں کو ہم نے ٹھکانا دیا۔ 

51۔ اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ نیک عمل کرو۔ جو کچھ تم کر تے ہو اسے میں جانتا ہوں۔

52۔ تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔ میں تمہارا رب ہوں۔ مجھ ہی سے ڈرو۔ 

53۔ وہ لوگ اپنے معاملے کو آپس میں کئی ٹکڑے کر ڈالے۔ ہر گروہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے خوش ہیں۔ 

54۔ کچھ عرصہ تک ان کو انہیں کے گمراہی میں چھوڑدو۔ 

56,55۔ ان کو ہم جو مال اور اولاد عطا کی ہے اس کے بارے میں وہ کیا یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھلائیاں ہم انہیں جلد دے رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ وہ سمجھیں گے نہیں26۔ 

61,60,59,58,57۔ اپنے رب کے خوف سے لرزنے والے، اپنے رب کی آیتوں کو ماننے والے، اپنے رب کے ساتھ شریک نہ ٹہرانے والے، اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے سے دل سے ڈرنے والے ، جو دینا ہے اس کو دینے والے ، یہی لوگ نیکیوں کو جلد حاصل کر تے ہیں۔ وہی لوگ اس کے لئے سبقت کر نے والے ہیں26۔ 

62۔ ہم کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے68۔ ہمارے پاس سچائی بیان کرنے والی کتاب157 ہے۔ وہ لوگ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ 

63۔ پھر بھی ان کے دل اس کے متعلق غفلت میں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لئے اور کام بھی ہیں، اسے وہ کرتے ہیں۔ 

64۔ آخر میں جب ہم ان میں خوشحال زندگی بسر کر نے والوں کوعذاب میں پکڑتے ہیں تو وہ بلبلا اٹھتے ہیں۔

65۔ اب چلاؤ نہیں۔ تم ہم سے مدد نہیں کئے جاؤگے۔

66۔ میری آیتیں تمہیں سنائی جاتی تھیں۔ اس وقت تم پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔ 

67۔ تکبر کے ساتھ رات کے وقت ا سے دوش دیتے ہوئے رہ گئے۔ 

68۔کیا اس بات کو انہو ں نے سوچ کر نہیں دیکھا؟ یا کیا ان کے پاس وہ آگئی جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟

69۔ یا وہ اپنے رسول کے بارے میں نہ جانتے ہوئے انہیں وہ جھٹلاتے ہیں؟ 

70۔ یا وہ کہتے ہیں کہ ان کو جنون ہے468۔ بلکہ وہ تو ان کے پاس سچائی ہی لے کر آئے تھے۔ ان میں اکثر لوگ حق کو ناپسند کر نے والے ہی ہیں۔ 

71۔ اگر سچائی ان کی خواہشوں کے پیچھے چلتی تو آسمان507، زمین اور ان میں رہنے والے سب تباہ ہوگئے ہوتے۔ بلکہ ہم ان کے پاس ان ہی کی نصیحت دی ہے۔ وہ لوگ اپنی نصیحت سے اعراض کر رہے ہیں۔ 

72۔ یا (اے محمد!) کیاتم ان کے پاس اجرت مانگتے ہو؟ تمہارے رب کی اجرت ہی بہتر ہے۔ دینے والوں میں وہی بہتر ہے۔ 

73۔ تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہو۔ 

74۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے اس راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ 

75۔ اگر ہم ان پر رحم کر تے اور ان کے پاس جو تکلیف ہے اسے دور کردیتے تو وہ اپنی سرکشی میں بھٹکے ہوئے ڈوب کر رہ جائیں گے۔ 

76۔ہم نے انہیں سخت سزا دی تھی۔وہ اپنے رب کے آگے جھکے بھی نہیں اور گڑگرائے بھی نہیں۔ 

77۔ آخر جب ہم نے سزا کا دروازہ ان کے لئے کھول دیاتو وہ مایوس ہو جا تے ہیں۔ 

78۔ اسی نے تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم ہی شکرادا کرتے ہو۔

79۔ اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اور اسی کے پاس تم سب جمع کئے جاؤگے۔ 

80۔ وہی زندہ کر تا ہے اور مارتا ہے۔ رات اور دن کا بدلنا اسی کے اختیار میں ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟

81۔ بلکہ اگلے لوگوں نے جس طرح کہی تھی اسی طرح یہ بھی کہہ رہے ہیں۔ 

82۔ کہتے ہیں کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہو جانے کے بعد کیا ہم پھر سے زندہ کئے جائیں گے؟

83۔ (اور یہ بھی کہا کہ)اس سے پہلے ہی ہمیں اور ہمارے اجداد کو اسی طرح تنبیہ کی گئی تھی۔یہ تو اگلوں کی جھوٹی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔

84۔ (اے محمد!) ان سے پوچھو کہ یہ زمین اور اس میں رہنے والے کس کے ہیں، اگر تم جانتے ہو تو (جواب دو)؟ 

85۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی کے ہیں۔ پوچھو کہ کیا تم سوچوگے نہیں؟

86۔ پوچھو کہ ساتوں آسمانوں507 کا مالک اور عظمت والے عرش 488کا مالک کون ہے؟ 

87۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ پوچھو کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

88۔پوچھو کہ پناہ د ینے والا، (دوسروں کی) پناہ میں نہ رہنے والا اور اپنے ہی ہاتھوں میں ہر چیز کا اختیار رکھنے والا کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو تو(جواب دو)؟ 

89۔ وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ پوچھو کہ تم کس طرح بہکائے جاتے ہو؟ 

90۔ان کے پاس ہم حق ہی لائے تھے۔ وہ جھوٹے ہیں۔ 

91۔ اللہ نے بیٹا نہیں بنایا۔ اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو اپنی مخلوق کے ساتھ ہر معبود (الگ) چلا گیا ہوتا۔ ایک دوسرے پر غلبہ پاگئے ہوتے۔ ان کی باتوں سے اللہ پاک ہے10۔

92۔ وہ پوشیدہ اور ظاہرسب جاننے والا ہے۔ وہ لوگ جو شریک ٹہراتے ہیں اس سے وہ  بالا تر ہے۔ 

94,93۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اے میرے رب! انہیں جو تنبیہ (عذاب) کی جارہی ہے اگر تو مجھے دکھائے ، اے میرے پرور دگار! مجھے ظلم کر نے والے لوگوں میں شامل نہ کر26۔

95۔ انہیں جو تنبیہ کر رہے ہیں اس کو تمہیں دکھانے پر ہم قادر ہیں۔ 

96۔ بھلائی کے ذریعے برائی کو روک دو۔ ان کے کہنے کو ہم خوب جانتے ہیں۔ 

97۔ کہو کہ اے میرے رب! شیطانوں کی اکساہٹوں سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ 

98۔ (یہ بھی کہو کہ) اے میرے رب! وہ میرے پاس آنے سے بھی میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

100,99۔ آخر کا ر ان میں سے جب کسی کو موت آجائے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار! جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک عمل کر نے کے لئے مجھے واپس بھیج دے۔ ایسا نہیں ہے،یہ صرف (منہ کی) باتیں ہیں۔ ا سی کو وہ کہہ رہا ہے۔ وہ پھر سے زندہ کئے جانے کے دن تک ان کے پیچھے پردہ298 ہے26۔ 

101۔ جب صور پھونکاجائے گا اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہوگا۔ ایک دوسرے سے دریافت بھی نہیں کریں گے۔ 

102۔ جن کے وزن بھاری ہوگئے وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ 

103۔ جن کے وزن ہلکے ہوگئے وہ لوگ اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا۔وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

104۔ ان کے چہروں کو آگ جھلسا دے گی۔ اس میں وہ بد شکل میں ہوں گے۔ 

105۔ (کہا جا ئے گا کہ) میری آیتیں کیا تمہیں سنائی نہیں گئی؟ کیا تم اسے جھوٹ نہیں سمجھ رہے تھے؟ 

106۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی۔ ہم راہ بھٹکے ہوئے لوگ بنے ہوئے تھے۔ 

107۔ (اور وہ یہ بھی کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار! یہاں سے ہمیں نکال دے۔ اگر ہم پرانی حالت کی طرف لوٹیں توبے شک ہم ظلم کر نے والے ہوں گے۔ 

108۔ وہ فرمائے گا کہ تم یہیں ذلیل ہوجاؤ۔اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 

109۔ میرے بندوں میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے۔ پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تم سب سے بہتر رحم کر نے والے ہو۔ 

110۔ (اللہ فرمائے گا کہ) تم سے میری یاد بھلانے کی حد تک انہیں تم نے مذاق سمجھا۔ انہیں دیکھ کر تم ہنس رہے تھے۔ 

111۔ (اور اللہ یہ بھی فرمائے گا کہ) وہ لوگ برداشت کر نے کی وجہ سے آج میں نے انہیں انعام دیا۔ وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

112۔ (اللہ) پوچھے گا کہ سالوں کے حساب سے تم کتنی مدت زمین میں رہے؟

113۔ وہ لوگ کہیں گے کہ ایک دن یا ایک دن میں کچھ دیر ہی رہے۔ حساب کر نے والوں سے پوچھ لو۔ 

114۔ وہ فرمائے گا کہ تم لوگ بہت کم ہی رہے۔ کاش تم اسے جاننے والے ہوتے!

115۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس واپس لائے نہ جاؤگے؟ 

116۔اللہ، بادشاہ حقیقی ، بلندی والا ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ (وہی) بزرگی والے عرش488 کا مالک ہے۔ 

117۔کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو بلائے تو اس کے پاس اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے بازپرس کر نا رب ہی کے پاس ہے۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔ 

118۔ کہہ دو کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما493۔ تو ہی سب سے بہتررحم کر نے والا ہے۔ 

سورہ : 24 سورۃالنور ۔ وہ روشنی 

کل آیتیں : 64

اس سورت کی آیت نمبر 35 میں اللہ اپنی سیدھی راہ کے لئے روشنی کی مثال دیتا ہے، اس لئے اس سورت کا نام النور (وہ روشنی) رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ (یہ) ہم نے نازل فرما کر فرض کی ہوئی سورت ہے۔اس میں ہم واضح آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم عبرت حاصل کر سکو۔ 

2۔ زنا کر نے والی عورت اور زنا کر نے والے مرد ، ان میں ہر ایک کو سو کوڑے مارو115۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن 1پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے احکام میں ان دونوں پر تمہیں رحم نہ آنا چاہئے43۔ ان دونوں کوجو سزا دی جاتی ہے اسے مومنوں کا ایک گروہ ددیکھاکرے299۔ 

3۔ زانی ،زانیہ یا مشرکہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہیں کرے گا۔ زانیہ ، زانی یا مشرک کے سوا کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی۔ ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا ہے۔ 

4۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگا نے کے بعد چار گواہ نہ لانے والوں کو اسی کوڑے مارو112۔ ان کی گواہی ہر گز قبول نہ کرو۔ وہی لوگ مجرم ہیں43۔ 

5۔ اس کے بعد سوائے ان کے جو توبہ اور اصلاح کر لیں ۔اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

6۔ اپنے سوا کوئی دوسری گواہ نہ ہونے کی حالت میں اپنی بیویوں پر تہمت لگانے والے اللہ پر چار بار (قسم کھا کر) گواہی دینی چاہئے کہ وہ سچے ہیں454۔ 

7۔ پانچویں مرتبہ454 یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو6۔

8۔ اگر وہ عورت اللہ پر چار مرتبہ (قسم کھا کر) گواہی دے دے454 کہ وہی جھوٹا ہے تو وہ اسے سزا سے بچا سکتی ہے۔ 

9۔ پانچویں مرتبہ454 یہ کہے کہ اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو۔

10۔ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ، اور اللہ توبہ قبول کر نے والا، حکمت والا نہ ہوتا تو (تمہیں تباہی آگئی ہوتی)۔

11۔ بہتان باندھنے والے تم میں سے ایک گروہ ہے۔ اسے تم اپنے لئے برا نہ سمجھو۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں ہر ایک کے لئے ان کا کیا ہوا گناہ ہے۔ ان میں سے اس معاملے میں بڑا حصہ لینے والے کو سخت عذاب ہے۔ 

12۔ اسے جب سنا تو ایمان والے مرد اور عورتیں اپنے اندر نیک گمان نہیں کر ناچاہئے تھا؟ کیا یہ کہنا نہیں چاہئے تھا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ 

13۔ کیا وہ ا س کے لئے چار گواہ 112نہیں لانا چاہئے تھا؟ اگر وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے پاس وہی جھوٹے ہیں۔ 

14۔ اس دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم جس میں مبتلا ہوگئے تھے اس کے لئے تمہیں بہت سخت عذاب ملا ہوتا۔ 

15۔یاد کرو کہ تم اپنی زبانوں سے اسے پھیلایا۔ تم جو نہیں جانتے تھے اس کو تم تمہارے ہی منہ سے کہہ دیا۔ اسے تم معمولی بھی سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھیانک ہے۔ 

16۔ جب تم نے یہ سنا تو تمہیں کہنا نہیں چاہئے تھا کہ اس کے بارے میں بات کر نا ہمارے لئے مناسب نہیں ہے؟ (اے اللہ!) تو ہی پاک ہے10۔ یہ تو بھیانک بہتان ہے۔ 

17۔ اگر تم ایمان والے ہو تو ہر گز ایسی حرکت پھر کبھی نہ کرنے کی اللہ تمہیں نصیحت کر تا ہے ۔

18۔ آیتوں کو اللہ تمہیں وضاحت کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

19۔ جو یہ چاہتے ہیں کہ بے حیائی کا عمل ایمان والوں میں پھیلے، انہیں اس دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

20۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، اور اللہ شفقت والا ، نہایت ہی رحم والا نہ ہوتا تو(تمہیں تباہی آگئی ہوتی)۔ 

21۔ اے ایمان والو!شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ جس نے شیطان کے نقش قدم کی پیروی کی (وہ گمراہ ہوجا ئے گا)۔ کیونکہ وہ بے حیائی اور برائی پر اکساتا ہے۔ اگراللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پرنہ ہوتی تو تم میں کسی شخص کو بھی وہ ہرگز پاک نہ کرتا۔ پھر بھی جسے چاہتا ہے اللہ پاک کر دیتا ہے۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

22۔ تم میں مال اور وسعت والے یہ قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور غریبوں کو اوراللہ کی راہ میں ہجرت460 کر نے والوں کو مدد نہیں کریں گے۔ بلکہ معاف کر کے چھوڑ دیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے364۔ 

23۔ ایمان والے، بھولے بھالے، پاک دامن عورتوں پر بہتان باندھنے والے اس دنیا اور آخرت میں لعنت کئے گئے ۔ ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ 

24۔ اس دن1 ان کی زبانیں510، ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف ان کے عمل کے بارے میں گواہی دیں گے۔ 

25۔ اس دن ان کی حقیقی اجرت اللہ انہیں دے گا۔ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے اور واضح کر نے والا ہے۔ 

26۔ بری عورتیں برے مردوں کے لئے، برے مردبری عورتوں کے لئے (قابل) ہیں۔اچھی عورتیں اچھے مردوں کے لئے اور اچھے مرد اچھی عورتوں کے لئے(مناسب) ہیں۔ وہ (منافق )لوگ کی باتوں سے یہ (نیک)لوگ بری ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 

27۔ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر اور انہیں سلام کئے بغیر داخل نہ ہوں159۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے، اس سے تم اصلاح پاؤگے۔

28۔ اگر وہاں کوئی دکھائی نہ دیں تو تمہیں اجازت ملنے تک ان میں داخل نہ ہوں۔ اگر تم سے کہا جائے ، واپس جاؤ تو تم واپس ہوجاؤ۔ وہی تمہارے لئے پاکیزہ ہے۔ تم جو کر رہے ہو اللہ جانتا ہے۔ 

29۔ غیر آباد گھرمیں اگر تمہارا کوئی چیز ہو تو وہاں داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ تم جو ظاہر کر تے ہو اور چھپاتے ہو سب اللہ جانتا ہے۔ 

30۔ (اے محمد!) ایمان والے مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے پاکیزہ ہے۔ ان کے کاموں سے اللہ خوب واقف ہے۔ 

31۔ ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور عصمت کی حفاظت کریں۔ وہ اپنی زینت میں458 جو ظاہر ہو اس کے سوائے دوسرا کچھ ظاہر نہ کریں۔ وہ اپنے ڈوپٹے سینوں پر ڈالے رہیں472۔ وہ اپنے شوہر، اپنے باپ، شوہروں کے باپ، بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنی عورتیں، اپنی ملکیت کے غلام107،مردوں میں (بڑھاپے کی وجہ سے عورتوں پر ) رغبت نہ رکھنے والے خادم، عورتوں کے پوشیدہ جگہوں سے ناواقف بچے، ان کے سوا دوسروں کے سامنے اپنی زینت458 کو وہ ظاہر نہ کریں۔ ان کی چھپی ہوئی زینت کو مطلع کرا نے کے لئے اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے نہ چلیں۔ اے ایمان والو! سب اللہ کی طرف لوٹو۔ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ300۔ 

32۔ تم میں شریک حیات نہ رکھنے والوں کو، تمہارے نیک غلاموں کواور لونڈیوں کونکاح کردو435۔ اگر وہ غریب ہوں توانہیں اللہ اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔ 

33۔ نکاح کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والوں کو اللہ اپنے فضل سے غنی بنا نے تک وہ اپنی عصمت کی حفاظت کر لیں435۔ تمہارے غلاموں میں جو آزادی کی تحریر مانگ رہے ہیں ، اگر تم بھلائی کو دیکھو تو انہیں آزادی کی تحریر لکھ کر دے دو301۔ اللہ نے جو مال تمہیں عطا کی ہے اس میں سے انہیں بھی دو۔ پاک دامنی چاہنے والی تمہاری عورتوں کو اس دنیوی زندگی کے اسباب حاصل کر نے کی خاطر انہیں بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اگر کوئی انہیں مجبور کرے تو ان مظلوم عورتوں کو اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

34۔ تمہارے لئے واضح آیتیں، تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی مثالیں اور (ہم سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحتیں ہم نے نازل کی ہیں۔ 

35۔ اللہ آسمانوں507 اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق ہے۔ اس میں ایک چراغ ہے۔ وہ چراغ ایک شیشہ میں ہے۔ وہ شیشہ چمک دار ستارے جیسی ہے۔ بامبارک زیتوں کے درخت سے وہ جلایا جاتا ہے۔ نہ وہ مشرقی سمت کا ہے اور نہ مغربی سمت کا ہے۔ آگ چھوئے بغیر بھی اس کا تیل روشنی دیتا ہے۔ (اس طرح) وہ روشنی پر روشنی ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی طرف راہ دکھاتا ہے۔ لوگوں کے لئے اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے302۔ 

37,36۔ (اللہ کے) گھروں کو بلند کئے جا نے اور اس میں اس کے نام کا ذکر کر نے اللہ نے حکم فرمایا ہے417۔ اس میں صبح اور شام بعض مرد اس کی تسبیح کر تے ہیں418۔ تجارت اور خریدو فروخت انہیں اللہ کی یاد سے ، نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی۔ آنکھیں اور دل ڈگمگا جا نے والے دن 1سے وہ ڈرتے ہیں26۔ 

38۔ ان کے نیک عمل کے لئے اللہ بدلہ دے گا۔ وہ اپنا فضل انہیں اور بڑھائے گا۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ 

39۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کا عمل صحرا میں(دکھائی دینے والے) سراب کی طرح ہے۔ پیاسا اس کو پانی سمجھے گا۔ آخر جب وہ وہاں آئے گا تو وہاں کچھ بھی نہ پائے گا۔ وہاں وہ اللہ ہی کو دیکھے گا61۔ اس وقت( اللہ) اس کا حساب سیدھا کر دے گا۔ اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔ 

40۔ یا گہرے سمندر کے اندر موجود اندھیروں303 کی طرح ہے۔ ایک موج اس کو ڈھانپ لیتی ہے، اس پر ایک اور موج429۔ اس کے اوپر بادل۔ ایک کے اوپر ایک کئی اندھیرے303۔جب وہ اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے بھی وہ دیکھ نہیں سکتا303۔ اللہ جس کو روشنی عطا نہیں کیااس کے لئے کوئی روشنی نہیں۔ 

41۔کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے اورصف باندھے ہوئے پرندے اللہ کی تسبیح کر تے ہیں260؟ہر ایک اپنی عبات اور تسبیح کو جانے ہوئے ہیں۔ وہ جوکچھ کر تے ہیں اللہ جاننے والا ہے۔  42۔ آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

43۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ بادلوں کو کھینچ کر آپس میں ملا دیتا ہے اورپھر اس کو تہہ بہ تہہ بنادیتا ہے؟ اس کے درمیان بارش کو نکلتے ہوئے تم دیکھتے ہو۔ آسمان 507سے اس میں موجود (برف کے) پہاڑوں سے اولے برساتا ہے419۔ جن کو چاہتا ہے اس کو پہنچا دیتا ہے۔ جن سے چاہتا ہے اس کو پھیردیتا ہے۔ اس بجلی کی چمک آنکھوں کو اچکنے والی ہے۔ 

44۔ اللہ رات اور دن کو بدل بدل کر آنے دیتا ہے۔ غور کر نے والوں کے لئے اس میں عبرت ہے۔ 

45۔ ہر جاندار کو اللہ نے پانی سے پید اکیا۔ ان میں پیٹ کے بل چلنے والے بھی ہیں، دونوں پاؤں سے چلنے والے بھی ہیں۔ چار پاؤں سے چلنے والے بھی ان میں ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کر تا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 

46۔ واضح کر نے والی آیتیں ہم نے اتا ری ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلا تا ہے۔

47۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوئے۔ ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد جھٹلادیتے ہیں۔ وہ ایمان والے نہیں۔ 

48۔ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے پاس بلایا جائے تو ان میں سے ایک گروہ جھٹلا تا ہے234۔ 

49۔ اگر سچائی ان کی موافقت ہو تو اس کی وہ مطیع بن جا تے ہیں

50۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا شک کر رہے ہیں؟ یاکیا وہ ڈر رہے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول انہیں ناانصافی کر یں گے؟ نہیں، بلکہ وہی لوگ ظالم ہیں۔

51۔ان کے درمیان فیصلہ کر نے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف جب بلایا جائے تو مومنوں کی یہی قول ہونی چاہئے کہ ہم نے سنا اور تابع ہوگئے۔وہی لوگ کامیاب ہیں234۔ 

52۔جو اللہ اور اس کے رسول کے تابع ہوئے اور اللہ سے ڈرکر تقویٰ اختیار کر ے وہی کامیاب ہیں۔ 

53۔ (اے محمد!) اگر تم انہیں حکم دوگے تو وہ (جنگ میں) نکلنے کے لئے اللہ پر مضبوطی سے قسم کھاتے ہیں۔ کہہ دو کہ قسم نہ کھاؤ۔ اچھے طریقے سے تابع ہو نا ہی (ضروری ہے)۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 

54۔ کہو کہ اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرو۔ اگر وہ جھٹلائیں تو ان(محمد) پرجو بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ انہیں پہنچتا ہے، اور تم پر جو بوجھ ڈالاگیا ہے وہ تمہیں پہنچے گا۔ اگر تم ان کی اطاعت کروگے تو تم سیدھی راہ پاؤگے۔ صاف طور پر پہنچا نے کے سوا اس رسول پر کچھ(فرض) نہیں ہے81۔ 

55۔ تم میں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جس طرح اختیاردیا گیا تھا اسی طرح انہیں بھی زمین میں اختیار عطا کرے گا۔ ان کے لئے جو دین اس نے پسند کر لیا اس میں انہیں مضبوطی سے جمادے گا۔اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن عطا کرے گا۔وہ لوگ میری ہی عبادت کر یں گے۔ مجھے کسی اور سے شریک نہیں کریں گے۔ اس کے بعد (اللہ کا) انکار کر نے والے ہی مجرم ہیں۔ 

56۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اس رسول کی بھی اطاعت کرو۔ اس سے تم رحم کئے جاؤگے۔

57۔تم یہ نہ سمجھو کہ (اللہ کا) انکار کر نے والے زمین میں فتح پا جائیں گے۔ان کا ٹھکانا جہنم ہے ، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

58۔ اے ایمان والو! تمہارے غلام، تم میں بلوغت کو نہ پہنچے ہوئے اشخاص، فجر نماز سے پہلے اور دوپہرمیں تمہارے (اضافی) کپڑوں کو اتار رکھتے وقت اور عشاء نماز کے بعد ، ان تینوں وقتوں میں (گھرکے اندر ڈاخل ہو نے کے لئے) تمہارے پاس اجازت مانگیں۔ یہ تینوں وقت تمہاری تنہائی کا (وقت) ہے۔ اس کے سوا دوسرے وقتوں میں (ان کا آنا) ان پر یا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ وہ تمہارے چکر لگانے والے لوگ ہیں۔ تم ایک دوسرے کے پاس آنے جانیوالے ہو۔ اسی طرح اللہ آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

59۔ تم میں جو چھوٹے ہیں اگر وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو( عمر میں) ان سے پہلے لوگ جس طرح اجازت مانگی تھی اسی طرح یہ بھی اجازت مانگیں۔ اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح کر تا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ 

60۔ نکاح کا خیال نہ رکھنے والی معمر عورتیں بناؤ سنگھار کئے بغیر، اپنا اوپری لباس اتار کر رکھ دینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اگر وہ حفاظت کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے۔ اللہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

61۔ تم اپنے گھروں میں یا باپ دادا کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروں میںیا بھائیوں کے گھروں میںیا بہنوں کے گھروں میں یا باپ کے بھائیوں کے گھروں میں یا باپ کے بہنوں کے گھروں میں یا ماں کے بھائیوں کے گھروں میں یا ماں کے بہنوں کے گھروں میںیا جن کی کنجیاں تمہارے اپنے قبضہ میں ہوں وہاں پریا تمہارے دوستوں کے پاس کھانے میں تم پرکوئی گناہ نہیں۔ مریضوں پر بھی کوئی گناہ نہیں۔اپاہج پر بھی کوئی گناہ نہیں۔اندھے پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ تم سب مل کر کھاؤ یا تنہا کھاؤ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ گھروں کے اندر داخل ہو تے وقت اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ کے طور پر تم خود پر سلام159 کرلیا کرو۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح کر تا ہے تاکہ تم سمجھو376۔ 

62۔ اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والے ہی ایمان والے ہیں۔ وہ لوگ ایک عام معاملے کے لئے ان(محمد) کے ساتھ ہوتے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر (باہر) نہیں جائیں گے۔ تم سے اجازت مانگنے والے ہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ وہ لوگ جب ایک معاملے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں جس کو تم چاہتے ہو انہیں اجازت دے دو۔ ان کے لئے اللہ سے بخشش مانگو۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

63۔ جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہواس طرح اس رسول کو مت بلاؤ۔ تم میں نظر بچاکر چھپ جانے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ جو ان کے حکم کی خلاف ورزی کر تے ہیں ، انہیں ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی مصیبت آجائے یا انہیں کوئی دردناک عذاب آ پہنچے۔

64۔ یاد رکھو! آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ جس پر تم ہو اسے وہ جانتا ہے۔ اس کی طرف وہ سب جس دن 1لے جائے جائیں گے ان کے کرتوتوں کو وہ انہیں بتا دے گا۔ اللہ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔ 

More Articles …