Sidebar

25
Thu, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

سورۃ : 25 سورۃ الفرقان ۔ فرق کر کے دکھانے والا

کل آیتیں : 77

اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن کو فرقان کہا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔ بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ (حق و باطل ) فرق کر کے دکھلانے والے طریقے دنیا والوں کو آگاہ کر نے کے لئے اپنے بندوں پر جس نے نازل کیا وہ بڑا ہی بابرکت والا ہے۔

2۔ آسمانوں507 اور زمین کا اختیار اسی کا ہے۔ وہ اپنے لئے بیٹا نہیں بنایا۔ اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے ہر چیز پیدا کی۔اور اسے منصوبہ سے قائم کیا۔

3۔ اس کے سوا انہوں نے معبود بنالئے۔ وہ کچھ بھی پیدا کر نے والے نہیں۔ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنے لئے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ زندہ رہنے یا مرنے (پھر سے) اٹھائے جانے کا بھی انہیں اختیار نہیں۔

4۔ (اللہ کا )انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ کے سوا کچھ اور نہیں۔ اس کو اسی نے گھڑ لیا ہے۔ اس کے لئے ایک اور قوم نے اس کی مدد کی ہے۔ وہ لوگ ناانصافی اور گناہ ہی لیکر آئے ہیں۔

5۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ اگلوں کی گھڑی ہو ئی کہانیاں ہیں۔ جن کو اس نے لکھوا152 رکھا ہے312۔صبح اور شام وہ اس کوپڑھ کر سنائی جاتی ہے142۔ 6۔ کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین کے راز جاننے والا ہی اس کو نازل کیا ہے۔ وہ بخشنے والا اور نہایت ہی رحم والا ہے۔

7۔ وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ کھانا کھاتا ہے، بازاروں چلتا پھرتا ہے۔ ان کے ساتھ ایک فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان سے (مل کر )لوگوں کوخبردار کرتا154؟

8۔ یا ان کوایک خزانہ نہیں دیا جا نا تھا؟ یا ان کے لئے ایک باغ عطا کیا ہوتاجس میں سے یہ کھایا کرتے؟ ان ظالموں نے کہا کہ تم تو سحر زدہ آدمی ہی کی پیروی کر رہے ہو357؟

9۔ (اے محمد!) ذرا غور کر و کہ وہ تمہارے بارے میں کیسی مثالیں دے رہے ہیں؟وہ لوگ راہ بھٹک گئے ہیں۔ وہ راہ راست نہیں پاسکتے۔

10۔ وہ بڑا با برکت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس سے بھی بہتر باغات تمہارے لئے پیدا کریگا۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ تمہارے لئے محلات بھی بنائے گا۔

11۔ پھر بھی وہ لوگ اس وقت1 کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ اس وقت کو جھوٹ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے جہنم تیار رکھی ہے۔

12۔ جہنم ان لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی وہ لوگ اس کی ہلچل اور دھاڑنا سنیں گے۔

13۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے انہیں اس تنگ جگہ پر ڈال دئے جائیں گے تو وہ وہاں ہلاکت کو پکاریں گے۔

14۔ (کہا جائے گا کہ) ایک ہلاکت کو نہ پکارو، بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔

15۔ پوچھو کہ کیا یہ بہتر ہے یا وہ جو(اللہ سے) ڈرنے والوں کو جو دائمی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لئے اجرت اور ٹھکاناہوگا۔

16۔وہ جو چاہیں گے انہیں وہاں ملے گا۔وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے پورا کیا جانے والا وعدہ ہو گیا۔

17۔ ان لوگوں کو اور اللہ کے سوا جنہیں وہ پرستش کر رہے تھے ان کو اکٹھا جمع کر نے والے دن1 اللہ پوچھے گا کہ کیا تم ہی میرے بندوں کو گمراہ کئے تھے یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے؟

18۔ (جن کی پرستش کی گئی تھی) وہ لوگ کہیں گے کہ تو پاک ہے10۔ تیرے سوا کسی کو گہرا دوست بنالینا ہمیں مناسب نہیں تھا۔ تونے انہیں اور ان کے باپ داداؤں کو آسودگیاں عطا فرمائی تھیں۔ (تم کو) وہ یاد کر نا بھول گئے۔ اور ہلاک ہونے والے لوگ بن گئے۔

19۔ جو بات تم کہتے تھے اس کو انہوں نے جھوٹا ٹہرادیا(یہ بات مشرکوں سے کہنے کے بعدجن کی یہ پرستش کر رہے تھے ان سے کہا جائے گا کہ) نہ تم روک سکتے ہو اور نہ مدد کرسکتے ہو۔ تم میں ظلم کر نے والوں کو بڑا عذاب چکھائیں گے۔

20۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے سب کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھر نے والے ہی بھیجے۔ کیا تم صبر کر تے ہو؟ (یہ آزمانے کے لئے) ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش484 بنایا۔ تمہارا رب دیکھنے والا ہے488۔ پارہ : 19

21۔ ہماری ملاقات488 کو نہ ماننے والے کہتے ہیں کہ کیا ہمارے پاس فرشتے اتارا نہیں جانا تھا؟ یا کیا ہم ہمارے رب کوسامنے دیکھنا نہیں ہے؟ وہ لوگ اپنے بارے میں خود شان اڑارہے ہیں۔ بہت ہی بڑے انداز میں وہ حد سے گزر گئے ہیں21۔

22۔ فرشتوں کو وہ دیکھنے کے دن مجرموں کو اس دن کچھ خوشخبری نہ ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ (تمام مواقع) پوری طرح روک دئے گئے ہیں۔

23۔ ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوکر اس کوپراگندہ خاک بنادیں گے۔

24۔ اس دن اہل جنت خوبصورت ٹھکانے میں اور بہترین آرام گاہ میں ہوں گے۔

25۔ (وہ ) بادل سے آسمان507 پھٹ کر فرشتے لگاتار اتارے جانے کا دن ہوگا۔

26۔ اس دن حقیقی بادشاہی بہت ہی مہربان اللہ ہی کی ہوگی۔ وہ (اس کے) انکار کر نے والوں کا بڑا سخت دن ہوگا۔

27۔ ظالم (افسوس کر تے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو کاٹنے والے دن1 کہے گا کہ اے کاش! اس رسول کے ساتھ میں تعلق اختیار کر لیا ہوتا۔

28۔ اے کاش! میں اس فلاں کو گہرا دوست نہ بنایا ہوتا!

29۔ (اور کہے گا کہ)مجھے نصیحت ملنے کے بعد بھی اس سے چھڑواکر اس نے مجھے گمراہ کردیا۔ شیطان تو انسان کو دغا دینے والا ہی ہے۔

30۔ اور یہ رسول کہے گا کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو جھٹلایا ہوا بنادیا۔

31۔ (اے محمد!) ہم اسی طرح ہر نبی کو جرم کر نے والوں میں سے دشمن بنایا۔ راہ دکھانے اور مدد کر نے کے لئے تمہارا رب ہی کافی ہے۔

32۔ (ہمارا )انکار کر نے والے کہتے ہیں کہ ان پر قرآن ایک ساتھ کیوں نہیں اتارا گیا؟ (اے محمد!) ہم نے اسی طرح اس کے ذریعے تمہارے دل کو مظبوط کر نے کے لئے تھوڑا تھوڑا سااتا را ہے447۔

33۔ (اے محمد!) اگر وہ کوئی بھی مثال پیش کریں بھی تو (اس سے بڑھ کر) حق اور بہترین وضاحت ہم تمہارے پاس لائیں گے۔

34۔ منہ کے بل جہنم کی طرف لئے جائے جانے والے بدترین مقام پر ٹہرنے والے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہوں گے۔

35۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا کی۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنایا۔

36۔ ہم نے کہا کہ تم دونوں ہمارئی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے قوم کے پاس جاؤ۔ اور اس قوم کو ہم نے پوری طرح تباہ کردیا۔

37۔ نوح کی قوم نے جب رسولوں کوجھوٹا کہا تو انہیں ہم نے غرق کردیا۔ انہیں لوگوں کے لئے نشان عبرت بنادیا۔ ظالم لوگوں کو دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

38۔ قوم عاد، قوم ثمود اور ویران کنویں والوں ، ان کے درمیان دوسری کئی نسلوں کو بھی (ہم نے یکسر ہلاک کردیا)۔

39۔ ہم نے ہر ایک کو نصیحت کی۔ (انہیں) ہر ایک کو ہم نے یکسر ہلاک کردیا۔

40۔ بدترین بارش برسائے ہوئے بستیوں سے یہ لوگ گزر رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں؟ بلکہ وہ تو پھر سے اٹھائے جانے کو ماننے والے نہیں ہیں۔

41۔ جب وہ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں مذاق سمجھتے ہوئے (پوچھتے ہیں کہ) کیا اس شخص کواللہ نے رسول بنا کر بھیجاہے؟

42۔ (اور کہتے ہیں کہ) اگر ہم ہمارے معبودوں پر ثابت نہ رہتے تو یہ ہمیں اس سے برگشتہ کر کے چھوڑ دیا ہوتا۔ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو بعد میں وہ جان لیں گے کہ بہت ہی گمراہ شخص کون ہے۔

43۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ کیا تم اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہو؟

44۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو سوائے چوپایوں کی طرح کچھ نہیں۔ نہیں، (وہ اس سے بھی) زیادہ گمراہ ہیں۔

45۔ کیا تم جانتے نہیں کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کر تا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اس کو قائم کردیا ہوتا۔ ہم نے سورج کو اس کے لئے دلیل بنایا۔

46۔ پھر ہم اس کو ہماری طرف آہستہ کھینچ لیتے ہیں۔

47۔ اسی نے تمہارے لئے رات کو لباس، نیند کو آرام اور دن کو حرکت کے لئے بنایا۔

48۔ اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری سنانے کے لئے وہی ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ آسمان 507سے پاکیزہ پانی اتارا۔

49۔ اس کے ذریعے مردہ بستی کو زندہ کر نے کے لئے، ہمارے پیدا کردہ چوپایوں اور بہت سے انسانوں کو پلا نے کے لئے (ہم نے بارش برسایا)۔

50۔ وہ لوگ اچھی فہم پانے کے لئے ان کے درمیان اس کو ہم واضح کر تے ہیں۔ انسانوں میں اکثریت (ہمیں) انکار کر نے والے ہی ہیں۔

51۔ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں خبردار کر نے والے کو بھیج دیتے۔

52۔ اس لئے (اللہ کا) انکار کر نے والوں کے تم پابند نہ بنو۔ اس (قرآن) کے ذریعے ان سے سختی کے ساتھ جہاد کرو۔

53۔ اسی نے دو سمندر وں کوآپس میں ملا دیا۔ یہ میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے اور وہ کھاری اور کڑوا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط آڑ رکھ دیا ہے305۔

54۔ اسی نے پانی سے انسان کو پیدا کیا368&506۔ اس کو خونی رشتہ اور شادی بیاہ کا رشتہ بھی پید ا کیا۔ تمہارارب بڑی قدرت والا ہے۔

55۔ اللہ کے سوا انہیں کسی طرح کا فائدہ یانقصان نہ پہنچانے والے کی وہ پرستش کر تے ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والا اپنے رب کے خلاف مدد گار بنا ہوا ہے۔

56۔ (اے محمد!) ہم تمہیں خوشخبری سنانے والے اور خبر دار کر نے والے بنا کر بھیجا۔

57۔ کہہ دو کہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے کی چاہت رکھنے والے کے سوا میں نے کوئی اور اجرت تم سے نہیں مانگا377۔

58۔ موت کے بغیر ہمیشہ زندہ رہنے والے پر ہی بھروسہ رکھو۔ اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو۔ اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے کے لئے وہی کافی ہے۔

59۔ اسی نے آسمانوں507 اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا179۔ پھر عرش پر488 جا بیٹھا511۔ رحمن کے بارے میں جاننے والے سے پوچھو۔

60۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ 396کرو تو وہ کہتے ہیں کہ وہ رحمن کیا ہے؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تم حکم دیتے ہو؟ یہ ان کی نفرت کو اوربڑھا دیا ہے۔

61۔ آسمان507 میں ستارے بناکر اس میں چراغ اور روشنی دینے والا چاند پید اکر نے والا بڑا ہی بابرکت والا ہے۔

62۔ جو عبرت حاصل کر نا چاہے اور شکر ادا کر نا چاہے ان کے لئے رات اور دن کو اسی نے یکے بعد دیگرے آنے والا بنایا۔

63۔ رحمن کے بندے زمین میں عاجزی سے چلیں گے۔ ان سے جب نادان گفتگو کر یں تو انہیں سلام159 کہہ دیں گے۔

64۔ وہ لوگ اپنے رب کے لئے سجدہ کر کے اور کھڑے رہ کر رات گزاریں گے۔

65۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے جہنم کے عذاب کو روک دے۔ اس کا عذاب تو قائم رہنے والا ہے۔

66۔ وہ بہت بری آرام گاہ اور ٹھکانا ہے۔

67۔ وہ لوگ جب خرچ کر تے ہیں تو اسراف نہیں کریں گے۔ کنجوسی بھی نہیں کریں گے۔ اس کے درمیانی حالت میں وہ رہے گا۔

68۔ وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو مناسب وجہ کے بغیر قتل نہیں کریں گے۔ زنا نہیں کریں گے۔ وہ کر نے والا سزا پائے گا۔

69۔ قیامت کے دن اس کو عذاب کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ اس میں ذلیل و خوار ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔

70۔ اس کے سوا جس نے توبہ کی، ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا۔ ان کے گناہوں کو اللہ نیکیوں میں بدل دے گا498۔ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔

71۔ جو توبہ کرکے نیک عمل کر تا ہے وہ اللہ کی طرف پوری طرح سے رجوع کر تا ہے۔

72۔ وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیں گے۔ بیہودگیوں سے گزرتے وقت بالکل شرافت سے گزر جائیں گے۔

73۔ وہ لوگ اپنے رب کی آیتوں کے ذریعے سمجھائے جائیں تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گریں گے۔

74۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر۔ (تجھ سے) ڈرنے والوں کے لئے ہمیں پیشوا بنادے۔

75۔وہ لوگ صبر کر نے کی وجہ سے انہیں محل عطا کیا جا ئے گا۔ سلام 159کے ساتھ مبارک بادی کہہ کر ان کا استقبال کیا جائے گا۔

76۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اچھا ٹھکانا اور اچھا آرام گاہ ہے۔

77۔ کہہ دو کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہیں چھوڑکر نہیں رکھے گا۔ تم توجھوٹ سمجھ لئے تھے۔ ضرور (اس کی سزا) بعد میں آکر ہی رہے گا۔

سورۃ : 26 سورۃ الشعراء ۔ شعرا 

کل آیتیں : 227

اس سورت کی آیت نمبر 221 سے 227 تک کہا گیا ہے کہ شعراء پیروی کئے جانے کے لائق نہیں ہیں، نیز ان میں اچھے شعراء بھی ہیں اور برے شعراء بھی ہیں ۔ اس مناسبت سے اس سورت کا نام شعراء رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ طا، سیم، میم2۔ 

2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

3۔ وہ لوگ ایمان نہ لانے کی وجہ سے کیا تم اپنے آپ کو ہلاک کرلو گے؟

4۔ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ان کے لئے معجزہ اتارد یں ۔ جب ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں گی۔ 

5۔رحمن کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اس کو وہ لوگ جھٹلائے بغیر نہیں رہتے۔

6۔ وہ لوگ جھوٹ سمجھے تھے۔ جس کی وہ مذاق اڑا رہے تھے اس کے متعلق کی خبریں انہیں آکر پہنچے گی۔ 

7۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے زمین میں ہر ایک عمدہ قسم کے کئی پودے اگائے ہیں؟

8۔ اس میں بڑی دلیل ہے۔ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔ 

9۔ تمہارا پروردگار زبردست ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

12,11,10۔ تمہارے رب نے جب موسیٰ کو پکارا کہ ظلم کر نے والی فرعون کی قوم کے پاس جاؤ۔ کیا انہیں ڈرنا نہیں ہے؟ تو موسیٰ نے کہا کہ یا میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھیں گے26۔

13۔میرا سینہ تنگ ہو جا ئے گا۔ میری زبان بھی چلتی نہیں۔ پس تو ہارون کو رسول بنا کر بھیج دے۔ 

14۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ان کے پاس میرا ایک( قتل کا) الزام بھی ہے375۔ اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

15۔ (رب نے) کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ سنتے رہیں گے۔ 

17,16۔ (اللہ نے یہ بھی کہا کہ) تم فرعون کے پاس جا کر کہو 26کہ ہم سارے جہانوں کے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو181۔ 

18۔ اس (فرعون ) نے کہا کہ تمہاری بچپن کی حالت میں کیا ہم نے تمہیں نہیں پالاتھا؟ تمہاری زندگی کے کئی سال تم نے ہمارے ساتھ گزاری ہے۔

19۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تم نے جو کام کیا ، وہ کر چکے۔ تم ناشکرے ہو۔ 

20۔ موسیٰ نے کہا کہ میں نے وہ اس وقت کیا تھا جبکہ میں سیدھی راہ پایا نہ تھا۔ 

21۔ تم سے ڈر کر میں تم سے دور بھاگ گیا تھا۔ اس وقت میرے پروردگار نے مجھے دانائی عطا کی اور مجھے رسولوں میں ایک مقرر کیا۔ 

22۔ (اور یہ بھی کہا کہ) بنی اسرائیل کوتو نے غلام بنا رکھا ہے، (اس کوانصاف ثابت کرنے کے لئے) مجھ پر کی ہوئی احسان کو تم مجھے جتلارہے ہو181؟ 

23۔ فرعون نے پوچھا کہ یہ رب العالمین کیا ہے؟

24۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر تم پکا یقین رکھتے ہو تو آسمانوں507، زمین اور اس کے درمیان جو کچھ ہے ، سب کے لئے وہی رب ہے۔

25۔ اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھاکہ کیا تم (اس کو) سنتے ہو؟

26۔ موسیٰ نے کہا کہ وہی تمہارابھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کابھی رب ہے۔ 

27۔ اس نے کہا کہ تمہاری طرف بھیجا ہوا تمہارارسول دیوانہ ہے۔

28۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر تم سمجھنے والے ہو تو مشرق ، مغرب اور اس کے درمیان کے ہر چیز کا رب ہے۔ 

29۔ اس نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی اور معبود کو تم تصور کروگے تومیں تمہیں قید کردوں گا۔ 

30۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر میں ایک واضح چیز تیرے پاس لے آؤں جب بھی؟ 

31۔ اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہوتو اسے لے کر آؤ۔ 

32۔ وہ اپنا عصا ڈالا تو وہ فوراًایک اژدھا بن گیا269۔ 

33۔ وہ اپنا ہاتھ باہر نکالا۔دیکھنے والوں کے لئے وہ سفید نظر آیا269۔

34۔ اپنے اردگرد جمع درباریوں سے وہ کہنے لگا کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے357۔ 

35۔ (اور پوچھا کہ) وہ اپنے جادو 285کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکال دینا چاہتا ہے، تم لوگ کیا حکم دیتے ہو357؟

37,36۔ (درباریوں نے کہا کہ) ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دو۔لوگوں کو جمع کرنے شہروں میں ہرکارے بھیجو۔ وہ لوگ تمہارے پاس ہر ایک ماہر جادوگروں کو لے آئیں گے26۔

38۔ مقررہ دن میں اور مقررہ وقت میں سب لوگ جمع ہوگئے۔ 

40,39۔ لوگوں سے بھی کہا گیا کہ اگر جادوگر کامیاب ہو گئے تو ہم انہیں پیروی کر نے کے لئے کیا تم سب جمع ہو جاؤ گے26؟

41۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے پوچھنے لگے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہمیں انعام ملے گا؟ 

42۔ اس نے کہا کہ ہاں! اس وقت تم (میرے) مقرب ہوجاؤگے۔ 

43۔ موسیٰ نے ان سے کہا کہ تمہیں جو ڈالنا ہے اسے ڈالو۔

44۔ وہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دئے۔ اور کہا کہ فرعون کی عزت کی قسم379 ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ 

45۔ فوراً موسیٰ بھی اپنا عصا ڈالا۔ انہوں نے جو بنایا تھاان سب کو اس نے نگل گیا269۔ 

46۔جادوگر (اللہ کے لئے) سجدے میں گر پڑے357۔ 

48,47۔ اور کہا کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کے رب العالمین پر ایمان لے آئے26۔ 

49۔اس نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے کیا تم ان پر ایمان لاچکے؟ تمہیں جادو سکھانے والا استاد یہی ہے۔ (اس کا انجام) تم کو بعد میں معلوم ہوگا۔ میں تمہارے ہاتھ اورپاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ ڈالوں گا۔ تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا۔ 

50۔ انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ ہم ہمارے رب کی طرف لوٹ کر جا نے والے ہیں۔

51۔ (اور یہ بھی کہا کہ)ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں ہم سب سے پہلے ہو نے کی وجہ سے ہماری خطاؤں کو ہمارا رب ہمارے لئے معاف فرمادے۔

52۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں کو رات میں لے چلو۔ تم (دشمنوں کی طرف سے) پیچھا کئے جاؤگے۔

53۔مجمع جمع کر نے والوں کو فرعون نے کئی شہروں میں بھیجا۔ 

54۔ وہ تو چھوٹی ہی جماعت تھی۔ 

55۔ وہ لوگ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ 

56۔ (فرعون نے کہا کہ) ہم سب بہت ہی چوکنا رہنا چاہئے۔

58,57۔ باغات، چشمے ، خزانے اور عمدہ ٹھکانوں سے ہم انہیں نکال باہر کیا26۔  59 ۔اسی طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنایا۔ 

60۔ صبح میں (فرعون کے لوگ)ان کا پیچھا کیا۔ 

61۔دونوں گروہوں نے جب آمنے سامنے دیکھ لیا تو موسٰی کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم پکڑلئے جا ئیں گے۔ 

62۔موسیٰ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، میرے ساتھ میرا رب ہے۔ وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ 

63۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنی لاٹھی سے سمندر پر مارو۔ وہ فوراً پھٹ گیا۔ ہر ایک حصہ بڑا پہاڑ سا ہوگیا269۔ 

64۔ وہاں دوسروں کو بھی قریب کر دیا۔ 

65۔ موسیٰ اور ان کے ساتھ رہنے والے تما م کو ہم نے بچالیا۔ 

66۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔ 

67۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں سے اکثریت ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 

68۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

69۔ انہیں ابراھیم کا واقعہ سناؤ۔ 

71,70۔ ابراھیم نے جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ تم لوگ کس کی عبادت کرتے ہوتو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کر تے ہیں۔ اور اس کی عبادت میں ہم ثابت ہیں26۔

73,72۔ اس نے پوچھا کہ جب تم پکارتے ہو تو کیا وہ سنتے ہیں؟ یا وہ تمہارے لئے نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں26؟ 

74۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد کو ایسا کر تے ہوئے دیکھا ہے۔ 

77,76,75۔ کیا تم نے غور کیا کہ رب العالمین کے سوا تم اور تمہارے اگلوں نے کس کی عبادت کر رہے ہو؟ وہ میرے دشمن ہیں26۔ 

78۔ اسی نے مجھے پیدا کیااور وہی مجھے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

79۔ وہی مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے463۔ 

80۔ جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفاء دیتا ہے۔ 

81۔ وہی مجھے موت دے گا ، پھر مجھے زندہ کرے گا۔ 

82۔ میں چاہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن وہ میری غلطیوں کومعاف کردے۔ 

83۔ اے میرے رب! مجھے اختیار عطا فرما۔ اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کردے۔ 

84۔ میرے بعد آنے والاے لوگوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ

85۔ نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں مجھے بھی بنادے۔

86۔ میرے باپ کو معاف کردے، وہ راہ بھٹکے ہو ئے ہیں247۔ 

87۔ (لوگ) پھر سے زندہ کئے جانے والے دن1 میں مجھے رسوا نہ کردے۔ 

89,88۔ سوائے اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کرآنے کے اس دن دولت یا اولاد کچھ فائدہ نہ دے گی26۔ 

90۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو جنت قریب لائی جائے گی۔ 

91۔ گمراہ لوگوں کے لئے دوزخ ظاہر کی جائے گی۔ 

93,92۔ ان سے پوچھا جا ئے گا کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کر رہے تھے، وہ کہاں ہیں؟ کیا وہ تمہیں مدد کریں گے؟ یا اپنے آپ کی مدد کریں گے؟ 

95,94۔ وہ اور گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب اس میں منہ کے بل جھونک دئے جائیں گے26۔

98,97,96۔ وہ لوگ وہاں بحث کر تے ہو ئے کہیں گے کہ جب ہم تمہیں رب العالمین کے ساتھ ہمسری کر تے تھے تو اللہ کی قسم ہم کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے26۔ 

99۔ ان مجرموں ہی نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ 

100۔ ہمیں سفارش کر نے والا17کوئی نہیں۔ 

101۔ اور نہ کوئی گہرا دوست ہے۔ 

102۔ (وہ کہیں گے کہ) اگر ہم پھر سے دنیا میں واپس جانے والے ہو تے تو ایمان والوں میں شامل ہوجاتے۔

103۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔ 

104۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

105۔ نوح کی قوم نے رسولوں کوجھوٹا سمجھا۔

106۔یاد دلاؤ ، ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ کیا تم (اللہ سے)ڈروگے نہیں؟ 

107۔ میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ 

108۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو۔ 

109۔ میں تمہارے پاس کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

110۔(اور کہا کہ) پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو

111۔ انہوں نے کہا کہ اس حالت میں کہ تمہاری پیروی توبالکل رذیل لوگ کر تے ہیں ، کیا ہم تم کو مانیں گے؟ 

112۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ جو کررہے ہیں (اس کا انجام کیا ہوگا) مجھے معلوم نہیں۔ 

113۔ انہیں محاسبہ کر نا میرے رب کا ذمہ ہے۔ کیا تم سمجھوگے نہیں؟ 

114۔ ایمان والوں کو میں دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ 

115۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میں تو صاف طور سے تنبیہ کر نے والے کے سوا کچھ نہیں۔ 

116۔ انہوں نے کہا کہ اے نوح! اگر تم باز نہیں آئے تو تم سنگسار کر دئے جاؤگے۔ 

117۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب! میری قوم مجھے جھوٹا سمجھ رہی ہے۔ 

118۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرے اور ان کے درمیان قطعی فیصلہ کر دے۔مجھے اور میرے ساتھ رہنے والے مومنوں کی حفاظت فرما۔ 

119۔ پس ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔ 

120۔ پھر باقی رہنے والوں کو غرق کردیا۔ 

121۔ اس میں مناسب نشانی ہے222۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

122۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

123۔ عاد کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔ 

124۔ یاد دلاؤ جبکہ ان کے بھائی ھود نے ان سے کہا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈروگے؟

125۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔

126۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

127۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

128۔ کیا تم ہر ایک اونچے مقام پر بے کار نشانیاں تعمیر کر رہے ہو؟

129۔ ہمیشہ رہنے کے لئے کیا تم مضبوط عمارتیں بنا رہے ہو؟ 

130۔ جب تم پکڑتے ہو تو زبردستی کر نے والے بن کر پکڑتے ہو۔ 

131۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

132۔ تمہاری جانی ہوئی چیزوں کے ذریعے جس نے تمہیں مدد کی ہے اس سے ڈرو۔ 

134,133۔ چوپائے، اولاد، چشمے اور باغات کے ذریعے اس نے تمہیں مدد کی ہے26۔ 

135۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ایک بڑے دن1 کے عذاب سے تمہارے بارے میں مجھے اندیشہ ہے۔

136۔ وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے سب برابر ہے۔ 

137۔ یہ اگلوں کی گھڑی ہوئی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ 

138۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ہم عذاب دئے جانے والوں میں نہیں ہیں۔ 

139۔ اس کو وہ لوگ جھوٹا سمجھے۔ پس انہیں ہلاک کر دیا۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

140۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

141۔ ثمود کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔

142۔ یاد لاؤ جبکہ ان کے پاس ان کے بھائی صالح نے کہا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

143۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔

144۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

145۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

148,147,146۔ کیا تم یہاں باغات میں، چشموں میں، کھیتوں میں، خوشوں والے کھجوروں کے درختوں میں بے خوف چھوڑ دئے جاؤ گے26؟ 

149۔ بڑی مہارت سے پہاڑوں کو تم گھر جیسے تراش لیتے ہو

150۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

151۔ حد سے بڑھ جانے والوں کی اطاعت نہ کرو۔ 

152۔(اور کہا کہ) وہ لوگ زمین میں فساد برپا کریں گے، اصلاح نہیں کریں گے۔

153۔ انہوں نے کہا357 کہ تم تو سحر زدہ آدمی لگتے ہو285۔ 

154۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی لے آؤ۔

155۔ اس نے کہا کہ لو یہ اونٹنی269! اس کو پانی پینے کے لئے ایک مقررہ دن ہے۔ دوسرا دن تمہارے لئے ہے۔ 

156۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تمہیں ایک بڑے دن 1کا عذاب آپکڑے گا۔ 

157۔ انہوں نے اسے کاٹ ڈالا۔ اس وجہ سے وہ پشیمان ہو گئے۔ 

158۔ فوراً انہیں عذاب آ پکڑا۔ اس میں مناسب نشانی ہے ، ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لائے۔ 

159۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

160۔ لوط کی قوم نے رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔ 

161۔ یاد دلاؤ جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا تھا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟

162۔ میں تمہارے لئے معتبر رسول ہوں۔ 

163۔ پس اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو۔ 

164۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

166,165۔(اوریہ بھی کہا کہ) تمہارے رب نے تمہارے لئے دنیا میں جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ کر کیا تم مردوں کے پاس جارہے ہو؟ نہیں، تم تو حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو26۔ 

167۔ انہوں نے کہا کہ اے لوط! اگر تم باز نہ آئے تو نکال دئے جانے والوں میں سے تم بھی ایک ہوگے۔ 

168۔ اس نے کہا کہ تمہارے عمل سے میں سخت بیزار ہوں۔

169۔ (اور کہا کہ) اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے خاندان کو ان کی کرتوتوں سے نجات دلا۔ 

171,170۔ پس ہم نے ان کو اور (برے لوگوں کے ساتھ) ٹہر جانے والی بڑھیا کے سوا، ان کے سب گھر والوں کو بچا لیا26۔ 

172۔ پھر ہم نے باقی لوگوں کو ہلاک کردیا۔ 

173۔ ان پر( پتھریلی)بارش برسایا412۔ خبردار کئے جانے والے لوگوں کے لئے یہ بارش بہت بری ثابت ہوئی۔ 

174۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

175۔ تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

176۔ باغ (مدین) والوں نے بھی رسولوں کو جھوٹا سمجھا۔

177۔ یاد لاؤ جبکہ ان کے پاس شعیب نے کہا کہ کیا تم ڈروگے نہیں؟ 

178۔ میں تمہارے لئے معتبر رسول ہوں۔

179۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔اور میری اطاعت کرو۔ 

180۔ اس کے لئے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگا۔ میرا بدلہ تو رب العالمین کے پاس ہے۔ 

181۔ ناپ تول پورا کرو، کوئی کمی نہ کرو۔ 

182۔ سیدھی ترازو سے تول کر دیا کرو۔ 

183۔ لوگوں کو ان کی چیزیں مت گھٹاؤ۔ زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے نہ پھرو۔ 

184۔ (اور کہا کہ) تم کو اورتم سے پہلے مخلوق کو جس نے پیدا کیا ہے اس سے ڈرو۔ 

185۔ انہوں نے کہا 367کہ تم تو سحر زدہ آدمی ہی ہو285۔

186۔ تم تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان کے سوا کچھ نہیں۔ ہم تمہیں جھوٹاہی سمجھتے ہیں۔ 

187۔ (اور کہا کہ) اگر تم سچے ہو تو آسمان 507 کاایک ٹکڑا ہم پر گرادو۔ 

188۔ اس نے کہا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میرا رب خوب جانتا ہے۔ 

189۔ وہ لوگ انہیں جھوٹا سمجھا۔ پس (بادل سے) سایہ کئے ہوئے دن کے عذاب نے ان پروار کیا۔ وہ تو ایک بڑے سخت دن کا عذاب تھا۔ 

190۔ اس میں مناسب نشانی ہے۔ ان میں اکثرلوگ ایمان لانے والے نہیں۔

191۔(اے محمد!) تمہارا رب زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

192۔ یہ رب العالمین کے طرف سے اتارا گیا ہے۔ 

195,194,193۔ (اے محمد!) تم آگاہ کر نے والوں میں ہونے کے لئے تمہارے دل152 پر صاف عربی489 زبان227میں معتبر روح نے444 اسے اتارا ہے26&492۔ 

196۔ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے۔ 

197۔بنی اسرائیل میں رہنے والے علماء یہ جانتے ہوئے (مان لیا ہے)، کیا ان کے لئے یہ نشانی نہیں ہے ؟ 

199,198۔ اگر ہم اس کو کسی عجمی پر نازل کر تے، وہ ان کو پڑھ کر سنادیتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائے ہوں گے26۔ 

200۔ اسی طرح ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس کو داخل کردیا۔ 

201۔ جب تک وہ لوگ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں گے وہ اسے نہیں مانیں گے۔ 

202۔ ان کی بے خبری کی حالت میں وہ اچانک ان پر آجائے گی۔ 

203۔ (اس وقت) وہ پوچھیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟

204۔ کیا وہ ہمارے عذاب کو جلد تلاش کر رہے ہیں؟ 

207,206,205۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم انہیں کئی سال عیش کر نے دیں، پھر ان پر وہ آجائے جوانہیں خبردار کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی وہ لطف اندوز زندگی انہیں بچا نہیں سکتی26؟ 

208۔ بغیر آگاہی کر نے والے کے ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا۔ 

209۔ (یہ) نصیحت ہے۔ ہم ظلم کر نے والے نہیں ہیں۔ 

210۔ اس کو شیطانوں نے نہیں اتارا۔

211۔ وہ ان کے لئے لائق بھی نہیں ہے۔ وہ ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

212۔ وہ سننے سے بھی روک دئے گئے ہیں307۔ 

213۔ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو تم مت پکارو۔ ورنہ تم سزاپانے والے ہوجا ؤگے۔

214۔ (اے محمد!) اپنے قریبی رشتہ داروں کو تنبیہ کرو281۔

215۔ تمہارے پیروی کر نے والے ایمان والوں کے لئے اپنا بازو جھکاؤ251۔ 

216۔ اگر وہ لوگ نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے میں بری ہوں۔ 

217۔ زبردست اور نہایت ہی رحم والے پر پورا بھروسہ رکھو۔ 

219,218۔ جب تم کھڑے ہوتے ہو اور سجدہ کر نے والوں کے ساتھ جب تم حرکت کر تے ہو، وہ تمہیں دیکھتا ہے26۔ 

220۔ وہی ہے سننے والا488، جاننے والا ۔ 

221۔ کیا میں تمہیں بتاؤں شیاطین کن پر اتریں گے؟ 

222۔ جھوٹی بات گھڑنے والے ہر ایک گناہ گار پر اترتے ہیں۔ 

223۔ چھپ کر وہ سنتے ہیں، ان میں اکثر لوگ جھوٹے ہیں۔ 

224۔ شاعروں کو بے سود آدمی ہی پیروی کریں گے۔ 

225۔ کیا تم جانتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہوئے پھر رہے ہیں؟ 

226۔جو وہ کر تے نہیں وہی کہتے ہیں۔ 

227۔ سوائے ان( شعراء) کے جو ایمان لائے، نیک کام کئے، اللہ کو بہت یاد کر تے رہے، اورمظلومی کے بعد انتقام لئے۔ظلم کر نے والے بعد میں جان لیں گے کہ ہم کہاں جانے والے ہیں؟ 

سورۃ : 27 سورۃ النمل ۔ چیونٹی

کل آیتیں : 93

اس سورت کی آیت نمبر 18 اور 19 میں چیونٹی کے بارے میں ذکر کیاگیا ہے، اس وجہ سے اس سورت کا نام النمل رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ طا، سین2۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

2۔ (یہ) ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ 

3۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور وہی آخرت1 پر یقین رکھتے ہیں۔ 

4۔ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے ہم آراستہ کر دکھاتے ہیں۔ پس وہ بھٹک جا تے ہیں۔

5۔ انہیں کے لئے برا عذاب ہے۔ وہی لوگ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں۔ 

6۔(اے محمد!) سب کچھ جاننے والے، حکمت والے کی طرف سے یہ قرآن تمہیں دیا گیا ہے۔ 

7۔ یاد دلاؤ جبکہ موسٰی نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں ایک آگ دیکھ رہاہوں۔وہاں سے میں تمہارے لئے کوئی خبر لاتاہوں یا تمہیں تاپنے کے لئے کوئی سلگتا ہوا انگارہ لاتا ہوں۔ 

8۔ جب وہ وہاں آئے تو انہیں کہا گیا کہ آگ میں رہنے والے اور اس کے ارد گرد رہنے والے خوش قسمت ہیں۔ سارے جہانوں کا پروردگار، اللہ پاک ہے10۔ 

9۔ اے موسیٰ!میں ہی زبردست اور حکمت والا اللہ ہوں۔

10۔ (انہیں کہا گیا کہ) تم اپنا عصا ڈال دو۔ ڈالتے ہی وہ ایک سانپ کی طرح حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر پیچھے ہٹے اورپلٹ کر دیکھے بغیربھاگنے لگے269۔ اے موسیٰ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔ 

11۔ پھر بھی جس نے ظلم کیا اور برائی کے بعداس کو بھلائی سے بدل دینے والوں کو میں بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہوں۔ 

12۔ (رب نے فرمایا کہ) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ وہ کسی عیب کے بغیر سفیدنکلے گا269۔ فرعون اور اس کی قوم کے پاس نو نشانیوں کے ساتھ (جاؤ)! وہ جرم کرنے والے لوگ ہیں۔ 

13۔ جب ان کے پاس ہماری قابل دید نشانیاں آئیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ کھلا جادو285 ہے۔ 

14۔ وہ لوگ اس پر یقین رکھنے کے باوجود ظلم اور تکبر سے اس کا انکار کیا۔ غور کرو کہ فساد برپا کر نے والوں کا انجام کیسا رہا؟

15۔ داؤد اور سلیمان کو ہم نے علم عطا کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ ایمان رکھنے والے بہت سے مومنوں سے زیادہ ہمیں فضیلت دینے والے اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔ 

16۔ داؤد کے لئے سلیمان وارث ہوئے۔ اس نے کہا کہ اے لوگو! پرندوں کی بولی ہمیں سکھائی گئی ہے۔ اور ہر چیز ہمیں دی گئی ہے۔ یہی نمایاں فضل ہے۔ 

17۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر سلیمان کے لئے جمع کی گئی، اور وہ صف آرائی کئے گئے۔ 

18۔ جب وہ لوگ چیونٹیوں کے وادی کے قریب آئے تو ایک چیونٹی نے کہا 470کہ اے چینٹیو! اپنی بلوں میں گھس جاؤ۔ سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں۔ 

19۔ اس کی بات پر سلیمان نے مسکراتے ہوئے ہنسے اور کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھ پر اور میرے والدین پر جو کچھ تو نے احسان کیا ہے اس کے لئے شکر ادا کرنے اور تیری خوشنودی حاصل کر نے اور نیک عمل کر نے کے لئے مجھے توفیق عطا فرما۔ اپنی مہربانی سے تیرے نیک بندوں میں مجھے بھی شامل کردے۔ 

20۔ اس نے پرندوں کا جائزہ لیا۔ اور کہا کہ ہدہد کو میں نے نہیں دیکھا۔کیا وہ چھپ گیا ہے؟

21۔ (اور کہا کہ) اسے میں سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے واضح دلیل پیش کرے۔ 

22۔ (وہ پرندہ) تھوڑی دیر ہی توقف کیا۔ اس نے کہا کہ تم جو نہیں جانتے وہ خبر میں لایا ہوں۔ سبا نامی گاؤں سے ایک یقینی خبر تمہارے پاس لایا ہوں۔ 

23۔ میں نے ایک عورت کو دیکھا۔ وہ ان پر حکومت چلاتی ہے۔ اس کو ہر چیز دی گئی ہے۔ اس کا ایک بڑا تخت بھی ہے۔ 

24۔ (اس نے یہ بھی کہا کہ) وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کر تے ہوئے پایا۔ ان کے کاموں کو شیطان نے آراستہ کر دکھایا ہے اور انہیں (نیک) راہ سے روکا ہوا ہے۔ پس وہ سیدھی راہ نہیں پا ئیں گے۔ 

25۔ آسمانوں507 اور زمین میں چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرنے والے اللہ کو کیا وہ لوگ سجدہ نہیں کریں گے396؟ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو ، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ 

26۔اور کہا کہ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔وہ عظمت والے عرش488 کا مالک ہے۔

27۔ سلیمان نے کہا کہ ہم تحقیق کریں گے تم سچ کہہ رہے ہو یا جھوٹوں میں سے ہوگئے ہو؟

28۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرے اس خط کو لے جا کر ان کے پاس ڈالو۔پھر ان سے ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ 

29۔ اس عورت نے کہا کہ اے سردارو! میرے پاس ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔ 

31,30۔ وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ (اس میں لکھا گیا ہے کہ) بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے۔ مجھ پر غلبہ پانے کا خیال نہ کرو۔ مطیع بن کر میرے پاس آجاؤ26۔ 

32۔ وہ کہنے لگی کہ اے درباریو! میرے اس معاملے میں فیصلہ سناؤ۔ جب تک تم مشورہ نہیں دوگے میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنے والی نہیں۔ 

33۔ (درباریوں نے) کہا کہ ہم بہت ہی طاقتور اورسخت جنگ جو ہیں۔اختیار تمہارے ہی پاس ہے۔ پس تم سوچ کر فیصلہ کر لو کہ کیا حکم دینا ہے۔ 

35,34۔ وہ کہنے لگی کہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہو تے ہیں تو اسے وہ اجاڑ دیتے ہیں۔ اس بستی کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی کر یں گے۔ میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیج رہی ہوں۔ پھر میں دیکھوں گی کہ بھیجے ہوئے لوگ کس فیصلے کے ساتھ لوٹتے ہیں26۔

36۔ جب وہ (قاصد) سلیمان کے پاس آئے تو اس نے کہا کہ کیا تم لوگ مال سے میری مدد کر نا چاہتے ہو؟ اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس سے کہیں زیادہ بہتر مجھے عطا کیا ہے۔ بلکہ تمہارے تحفے سے تم ہی خوش رہو۔ 

37۔ (اور کہا کہ) ان کے پاس تم واپس جاؤ۔جن کا مقابلہ وہ نہیں کر سکتے، ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان کے پاس آئیں گے۔ذلیل و خوار بنا کر انہیں وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ 

38۔ (سلیمان نے) پوچھا کہ سردارو! وہ لوگ مطیع بن کر میرے پاس آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آنے والا کون ؟ 

39۔عفریت نامی جن نے کہا183 کہ اپنی جگہ سے آپ اٹھنے سے پہلے میں اس کو آپ کے پاس لے آؤں گا۔ میں امانت دار ہوں اور طاقتور بھی ہوں۔ 

40۔کتاب کے بارے میں علم رکھنے والا جن نے کہا183 کہ پلک جھپکنے کے پہلے میں اس کو آپ کے پاس لے آؤں گا ۔اپنے سامنے اسے رکھا ہوا دیکھ کر اس نے کہا کہ کیا میں شکر ادا کر تا ہوں یا ناشکرا بن جاتا ہوں، مجھے آزمانے کے لئے484 یہ میرے پروردگارکا فضل ہے۔ جس نے شکر ادا کیا وہ اپنے ہی لئے شکر ادا کر تا ہے۔ جس نے احسان بھول گیا (وہ اپنے ہی لئے احسان بھولتا ہے)۔ میرا رب بے نیاز ہے485 ، کرم کر نے والا ہے۔ 

41۔ اس نے کہا کہ اس کے تخت کی علامت دکھے بغیراس کو بدل دو۔ہم دیکھیں گے کہ وہ اس کو پہچانتی ہے یا پہچان نہ پاتی ہے؟

42۔ جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیاکہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں، ویسا ہی ہے۔ (سلیمان نے کہا کہ) اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا۔ اور ہم مسلمان295 بھی ہیں۔ 

43۔ وہ (اللہ کا) انکار کر نے والے گروہ میں سے ایک تھی۔اللہ کے سوا جس کی وہ پرستش کر رہی تھی ، وہ اسے( ایک اللہ پر ایمان لانے سے ) روک رکھا تھا۔ 

44۔ اس سے کہا گیاکہ اس محل میں داخل ہو جاؤ۔ جب اس نے اس کودیکھا تو پانی کا حوض سمجھ کر اپنے نچلے لباس کو ٹخنے سے اوپر اٹھا لیا۔ سلیمان نے کہا کہ وہ شیشوں سے چمکایا ہوا محل ہے۔ وہ کہنے لگی کہ اے میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ سلیمان کے ساتھ مل کراللہ رب العالمین کی فرماں بردار بن گئی۔ 

45۔ قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اسی وقت انہوں نے دو فریق بن کر جھگڑنے لگے۔ 

46۔ کہنے لگے کہ اے میری قوم! بھلائی سے پہلے تم برائی کو کیوں جلدی تلاش کر تے ہو؟ کیا تم اللہ سے بخشش طلب نہیں کرو گے؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 

47۔ انہوں نے کہا کہ تم کو اور تمہارے ساتھ رہنے والوں کو ہم بدشگون سمجھتے ہیں۔انہوں(صالح) نے کہاتمہاری بدشگونی اللہ ہی کے پاس ہے۔ بلکہ تم تو آزمائے484 جانے والے لوگ ہو۔ 

48۔اس شہر میں نو جماعتیں تھیں، وہ لوگ زمین میں بربادی پھیلا رہے تھے، اصلاح کر نے والے نہیں تھے۔ 

49۔ انہوں نے آپس میں اللہ پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو رات میں ہلاک کر دیں گے۔ پھر ا ن کے رشتہ داروں سے کہہ دیں گے کہ ان کے گھر والے ہلاکت ہوتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم سچ ہی کہہ رہے ہیں۔ 

50۔ وہ لوگ بہت بڑا مکّر کیا، ہم نے بھی ان کے علم کے بغیر ایک بڑا مکّر کیا6۔ 

51۔ غور کرو کہ ان کے مکّر کا انجام کیا ہوا؟ان کو اور ان کی قوم کے تمام لوگوں کو ہم نے جڑ سے تباہ کر دیا۔

52۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی وجہ سے ان کے گھر ویران پڑے ہیں۔ جاننے والی قوم کے لئے اس میں عبرت ہے۔ 

53۔ ایمان لا کر (ہم سے) ڈرنے والوں کو ہم نے بچا لیا۔ 

55,54۔ لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم جانتے ہوئے بھی بے حیائی کے کام کر رہے ہو؟ عورتوں کو چھوڑ کر تم شہوت سے مردوں کے پاس جا تے ہو۔ تم تو جاہل لوگ ہو۔ 

56۔ ان کی قوم کے لوگوں کاجواب یہی تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ وہ تو پاک باز لوگ ہیں۔ 

57۔ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کوسواء انکے بیوی کے بچا لیا۔اور مقرر کردیا تھا کہ اس کی بیوی ( ہلاک ہونے والوں کے ساتھ) ٹہر جانے والی ہے۔

58۔ ان پر ہم نے (پتھریلی) بارش برسائی412۔ خبردار کئے جانے والوں کی بارش بہت بری ہے۔ 

59۔ کہہ دو کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ جن کو اس نے چْن لیا ان بندوں پر سلامتی ہو159۔ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں وہ لوگ شریک ٹہراتے ہیں؟ 

پارہ : 20

60۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوآسمانوں507 اور زمین کو پید اکیا اور آسمان507 سے تمہارے لئے پانی برسایا؟ اس کے ذریعے سرسبز باغات اگاتے ہیں ۔ اس میں ایک درخت بھی اگانا تمہارے لئے ممکن نہیں۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ نہیں، وہ تو (دوسروں کو اللہ کے) برابر ٹہرانے والے لوگ ہی ہیں۔ 61۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوزمین کو قرار گاہ بنایا، ان کے درمیان نہریں جاری کیں، اس کے لئے کھونٹے 248بنائے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ بنادی305؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ نہیں، ان میں اکثرلوگ جانتے نہیں۔ 

62۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوکشمکش کی حالت میں پکارنے والے کو جواب دیکر،تمہاری تکلیف کو دور کر کے اور تمہیں زمین میں خلیفہ46 بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورمعبود؟ تم تو بہت کم ہی غور کر تے ہو۔

63۔ (تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جوخشکی اور سمندر کی اندھیروں303 میں تمہیں راستہ دکھا تا ہے؟ اپنی رحمت کے پہلے خوش خبری سنانے کے لئے ہواؤں کو بھیجتا ہے؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟ وہ جو شریک ٹہراتے ہیں اس سے اللہ بلندو بالا ہے۔ 

64۔(تم جسے شریک ٹہرایا ہے وہ بہتر ہے یا) وہ جومخلوق کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرنے والا ہے؟ آسمان 507اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے463؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود؟کہہ دو کہ اگرتم سچے ہو تو اپنی دلیل لے کر آؤ۔ 

65۔ آسمانوں اور زمین جو پوشیدہ ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب زندہ کئے جائیں گے؟ 

66۔ آخرت کے بارے میں ان کا علم سمٹ گیا ہے۔ بلکہ اس کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے حد تک وہ اندھے ہی ہیں۔ 

67۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے پوچھتے ہیں کہ ہم اور ہمارے اجداد مٹی بن جائیں تو کیا ہم باہر نکالے جائیں گے؟ 

68۔ (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ) ہم اوراس سے پہلے ہمارے اجدادبھی اس کے متعلق خبردار کئے گئے تھے۔ یہ اگلوں کی گھڑی ہوئی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ 

69۔ کہو کہ زمین میں سفر کرو۔ اور دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا رہا؟ 

70۔ ان کے لئے فکر نہ کرو۔ اگر وہ سازش کر یں تو دلی تنگی محسوس نہ کرو۔

71۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟ 

72۔ کہہ دو کہ تم جو تلاش کرنے میں جلدکر رہے ہو اس میں کا ایک حصہ تمہیں آپہنچے گا۔ 

73۔ تمہارا رب لوگوں پر بڑا فضل کر نے والا ہے۔ پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ 

74۔ ان کے دل جو چھپاتے ہیں اور ظاہر کر تے ہیں ، تمہارا رب جانتا ہے۔ 

75۔زمین میں اور آسمان507 میں جو بھی پوشیدہ ہو، وہ واضح کتاب میں157 درج ہے۔

76۔ بنی اسرائیل جن میں اختلاف رکھتے ہیں ان میں سے اکثر یہ قرآن واضح کر تا ہے۔ 

77۔ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

78۔ تمہارا رب ان کے درمیان اپنا فیصلہ کردے گا۔ وہ زبردست، جاننے والا ہے۔ 

79۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ تم صریح سچائی پر ہو۔ 

80۔ تم مردوں کو سنا نہیں سکتے۔ پکار کو جھٹلا کر بھاگنے والے بہروں کو سنا نا تم سے ہو نہیں سکتا۔

81۔ اندھوں کی گمراہی کو ہٹا کر انہیں سیدھی راہ دکھانے والے تم نہیں ہو۔ ہماری آیتوں پر ایمان لا تے ہوئے جو مسلمان بن جاتے ہیں انہیں کو تم سنا سکتے ہو۔ 

82۔ ان کے خلاف جب (ہمارا) حکم نافذ ہو تا ہے تو ہم زمین سے ایک جاندار نکالیں گے۔ ہماری آیتوں پر یقین نہ رکھنے والے انسانوں کے بارے میں ان سے وہ بات کر ے گا308۔

83۔ ہماری آیتوں کو جھوٹا سمجھنے والے ہر قوم سے ایک جماعت کوجس دن1 ہم اکٹھا کریں گے ،وہ سب صف باندھے کھڑا کئے جائیں گے۔ 

84۔ جب وہ آئیں گے تو ان سے (اللہ) پوچھے گا کہ میری آیتوں کے بارے میں پوری طرح جانے بغیرکیاتم نے اسے جھوٹا سمجھ لیا تھا؟یا پھر تم اورکیا کر رہے تھے؟ 

85۔ وہ لوگ ظلم کر نے کی وجہ سے ان کے خلاف حکم نافذ ہوگا۔ اس وقت وہ لوگ بات نہیں کریں گے۔ 

86۔کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ سکون پانے کے لئے رات اور دیکھنے کے قابل دن کو ہم نے بنایا ہے؟مومن قوم کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

87۔ جس دن1 صور پھونکا جا ئے گا آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والوں میں سے سوائے ان کے جو اللہ چاہے، سب لوگ گھبرا اٹھیں گے۔ سب لوگ عاجزی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے۔

88۔ پہاڑوں کو تم دیکھ رہے ہو، اس کو تم مضبوط سمجھ رہے ہو۔ (اس دن) وہ بادل کی طرح ہٹے گی۔ ہر چیز کو درستی سے بنانے والے اللہ کی یہ کاریگری ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ 

89۔ایک بھلائی لانے والے کو اس سے بہتر ہے۔ وہ لوگ اس دن1 کی گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے۔ 

90۔ برائی لانے والے اوندھے منہ جہنم میں ڈھکیلے جائیں گے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) جو تم کر تے رہے کیا اس کے سوا کوئی اور اجرت دئے جاؤگے؟ 

92,91۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ جسے حرمت والا بنایا اس شہر (مکہ ) کے رب کی عبادت کروں۔ہر چیز اسی کی ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان بن کر رہوں اور قرآن پڑھتا رہوں۔ (اور کہو کہ) 26جو سیدھا راستہ پاتا ہے وہ اپنے ہی لئے پاتا ہے۔ اگر کوئی گمراہ ہوجائے (تو اس کے لئے میں ذمہ دار نہیں ہوں) میں تو خبردار کر نے والا ہوں81۔ 

93۔ اور کہو کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا۔ اسے تم پہچان لوگے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ غافل نہیں ہے۔ 

سورۃ : 28 سورۃ القصص ۔ گذشتہ خبریں

کل آیتیں : 88

اس سورت کی آیت نمبر 25 میں القصص کا لفظ استعمال ہو نے کی وجہ سے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ طا، سیم، میم2۔ 

2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

3۔ موسیٰ اور فرعون کے بارے میں سچی خبرایمان والے لوگوں کے لئے ہم تمہیں سناتے ہیں۔

4۔ فرعون نے زمین میں تکبر کیا تھا۔ وہاں کے لوگوں میں کئی گروہ بنا کر ان میں ایک گروہ کو اس نے کمزور بنادیا تھا۔ ان میں لڑکوں کو قتل کیااور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا۔ وہ فساد مچانے والا تھا۔ 

6,5۔ ہم نے چاہا کہ اس زمین میں کمزور سمجھے جانے والے لوگوں پر احسان کریں، انہیں پیشوا بنائیں، اس سر زمین کے حقدار بنائیں، اس سر زمین میں ان کو اقتدار عطا کریں، فرعون، ہامان اور ان دونوں کے لشکر جس سے ڈر رہے تھے اس کو انہیں دکھائیں26۔ 

7۔ ہم نے موسیٰ کی ماں کو اطلاع دی کہ تم اس کو دودھ پلاؤ۔ اس کے بارے میں اگرتم کو ڈرہو تو اس کو سمندر میں ڈال دو۔ خوف نہ کھاؤ اور غم بھی نہ کرو۔ ہم اسے تمہارے پاس پھر سے لوٹا دیں گے اور اس کو رسول بنائیں گے۔ 

8۔ وہ اپنے لئے دشمن اور غم کا باعث بننے کے لئے فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھالیا۔ فرعون ، ہامان اور ان دونوں کے لشکروں نے غلط اندازہ لگا لیا۔ 

9۔ فرعون کی بیوی نے کہا کہ میرے اور تمہارے لئے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک بنا رہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ یہ ہمیں فائدہ مند ہوگا، یا اس کو ہم بیٹا بنا لیں گے۔ وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔ 

10۔ موسیٰ کی ماں کا دل سُونا ہوگیا۔ اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کر تے تو وہ (سچائی ) ظاہر کردیتیں۔ ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ وہ ایمان والوں میں سے ایک رہے۔

11۔ موسیٰ کی بہن کے پاس (اس کی ماں نے) کہا کہ تو اس کا پیچھا کر۔ چنانچہ اس نے ان کے علم کے بغیر دور سے دیکھتی رہی۔ 

12۔ ہم نے پہلے ہی سے (موسیٰ کے لئے) دائیوں کو روک رکھا تھا۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے گھرانے کے بارے میں بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچے کا ذمہ اٹھاکر پرورش کر ے؟ وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔ 

13۔ ان کی ماں غم کے بغیردل میں ٹھنڈک محسوس کر نے اوریہ جان لینے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، ہم نے موسیٰ کو ان کے پاس واپس پہنچا دیا۔ پھر بھی ان میں اکثر لوگ (اسے) جانتے نہیں۔ 

14۔ جب وہ جوانی کو پہنچے اور درست حالت پر آگئے توہم نے انہیں اختیار164 اور علم عطا کیا۔ نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ 

15۔ جب بستی والے بے خبر تھے اس وقت یہ وہاں داخل ہوئے۔ وہاں دو آدمیوں کو جھگڑتے ہوئے دیکھا۔ان میں سے ایک ان کی قوم کا تھا۔ دوسرا ان کے دشمن کی قوم کا تھا۔ ان کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم کے آدمی کے خلاف ان سے مدد طلب کی۔ فوراً موسیٰ نے ایک گھونسہ مارا۔ تو اسی وقت اس کا قصہ ختم ہوگیا۔ موسیٰ نے کہا کہ یہ شیطان کا کام ہے، وہ گمراہ کر نے والا کھلا دشمن ہے375۔ 

16۔ اور کہا کہ اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس تو مجھے معاف کردے۔ اللہ نے ان کو معاف کر دیا۔ وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے375۔ 

17۔ اور کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھ پر مہربانی کی ہے، آئندہ میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ 

18۔ اس شہر میں وہ ڈرتے ہوئے صبح کے وقت(حالات کا) جائزہ لے رہے تھے۔ جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہی (دوبارہ) مدد کے لئے انہیں پکارا۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو تو صریح گمراہ ہے۔ 

19۔ پھر جب انہوں نے اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ! جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو؟ اس سرزمین میں تم جابر بن کر رہنا ہی چاہتے ہو۔اصلاح کر نے والا بننا نہیں چاہتے375۔

20۔ اس شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ اے موسیٰ! سرداروں نے تمہیں قتل کر نے کے لئے مشورہ کر رہے ہیں ، اس لئے تم یہاں سے نکل جاؤ۔میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ 

21۔ وہ ڈرتے ہوئے احتیاط کے ساتھ وہاں سے نکل گئے۔ اور کہا کہ اے میرے پروردگار! ظلم کرنے والی قوم سے مجھے بچالے۔ 

22۔جب وہ مدین شہر میں آئے تو کہا کہ عنقریب میرا رب مجھے سیدھا راستہ دکھا ئے گا۔

23۔ مدین شہر کے گھاٹ پر جب وہ پہنچے تو لوگوں کے ایک گروہ (اپنے جانوروں)کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا۔ ان سے الگ کھڑے ہوئے دو

عورتوں کو دیکھ کر پوچھا کہ تمہارا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ چرواہے ہٹ نہ جائیں ہم پانی پلا نہیں سکتے۔ ہمارے ابا بہت بوڑھے ہیں۔

24۔ ان کے لئے اس نے پانی نکال کر دیا۔ پھر سائے کی طرف چل کر کہنے لگے کہ اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھے عطا کر تا ہے میں اس کا محتاج ہوں۔ 

25۔ ان میں سے ایک عورت شرماتی ہوئی آ ئی اور کہنے لگی کہ تم نے ہمیں پانی نکال کر دیا تھا، اس کی اجرت دینے کے لئے میرے والد تمہیں بلا رہے ہیں۔وہ ان کے پاس گئے اور (اپنے بارے میں)ساری باتیں سنانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تم خوف نہ کرو۔ ظالم قوم سے تم نے نجات پائی ہے۔

26۔ان میں سے ایک کہنے لگی کہ ابا جان! انہیں کام پر رکھ لو۔ کیونکہ طاقتور اور معتبر آدمی ہی کام میں رکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ 

27۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کردیتاہوں کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو۔اگر تم دس سال پورے کردو تو (وہ) تمہاری طرف سے ہے۔ میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ اگر اللہ چاہا تو تم مجھے بھلا آدمی پاؤگے309۔ 

28۔ (موسیٰ نے) کہا کہ یہی میرے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے۔ دونوں مدتوں میں میں جس کو بھی پوری کروں مجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ ہماری اس بات پر اللہ ہی ذمہ دار ہے۔

29۔ موسیٰ نے اس مدت کو پوری کردی اور جب وہ اپنے گھر والوں کو لے کر رات میں سفر کر نے لگے تو کوہ طور کی جانب ایک آگ دیکھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ اس کے متعلق خبر لاتا ہوں یا تمہارے تاپنے کے لئے ایک آگ کا انگارہ لے آتا ہوں۔ 

30۔ جب وہ وہاں پہنچے تو برکت والی جگہ میں داہنی جانب واقع وادی کے درخت سے انہیں پکارا گیا کہ اے موسیٰ! میں ہی سارے جہاں کا رب، اللہ ہوں۔ 

31۔ (کہا کہ) تم اپنا عصا ڈالو۔ جب اس کوپھنکارتا ہوا سانپ بنا دیکھا تو269 پیچھے ہٹ کرپلٹ کر دیکھے بغیر بھاگنے لگے۔اے موسیٰ! آگے آؤ۔ خوف نہ کھاؤ۔ تم نڈر ہو۔ 

32۔ تم اپنا ہاتھ جیب میں ڈالو۔ کسی عیب کے بغیر وہ سفید ظاہر ہو گا۔ جب ڈر لگے تو اپنا بازو سکیڑ لو367۔ یہ دونوں تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے لئے دو سندیں ہیں۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ 

33۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو مارڈالا تھا375۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

34۔ (اور یہ بھی کہا کہ) میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ پس اس کو میرے ساتھ میری مدد کے لئے بھیج دے۔ وہ مجھے تصدیق کرے گا۔میں ڈرتاہوں کہ وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ 

35۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی کے ذریعے ہم تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے۔ تمہیں مناسب دلیل دیں گے۔ وہ لوگ تم تک پہنچ نہیں سکیں گے۔ ہماری دلیلوں کے ساتھ (جاؤ)۔ تم اور تمہاری پیروی کر نے والے ہی غالب رہیں گے۔ 

36۔ موسیٰ نے جب ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو گھڑا ہوا جادو285 کے سوا کچھ نہیں357۔ ہم نے اس کے بارے میں اپنے اگلے آباؤ اجداد سے کبھی نہیں سنا۔ 

37۔ موسیٰ نے کہا کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی طرف سے سیدھی راہ لے کر آیا ہے اور کس کے لئے اچھا انجام ہوگا؟ظلم کر نے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ 

38۔ فرعون نے کہا کہ اے درباریو!میں تمہارے لئے میرے سوا کوئی اورمعبود نہیں جانتا۔ اور کہا کہ اے ہامان! میرے لئے مٹی کو آگ میں پکوا کر ایک محل بنا۔(اس پر چڑھ کر) میں موسیٰ کے معبود کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹا ہی ہے۔ 

39۔ وہ اور اس کے لشکر ناحق زمین میں تکبر کر رہے تھے۔ اور سمجھے کہ وہ ہمارے پاس پھر سے لوٹائے نہیں جائیں گے۔ 

40۔ پس ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو سزا دی۔انہیں سمندر میں پھینک دیا۔ غور کرو کہ ظلم کر نے والوں کا انجام کیسا رہا؟ 

41۔ انہیں جہنم کی طرف بلانے والے سردار بنادیا۔قیامت کے دن1 وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 

42۔ اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی۔ قیامت کے دن1 وہ ذلیلوں میں سے ہوں گے۔ 

43۔ پچھلی نسلوں کو ہلاک کر نے کے بعد وہ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا کی۔ وہ انسانوں کے لئے سبق، رحمت اور ہدایت ہے۔ 

44۔ موسیٰ کو جب ہم نے حکم دیا تھا تو اس مغرب کی جانب تم موجود بھی نہیں تھے اورتم نے دیکھا بھی نہیں۔ 

45۔ پھر بھی ہم نے کئی قوم پیدا کئے۔ ان پر کئی سال گذر گئے۔ مدین والوں کے پاس ہماری آیتوں کو پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ تم نہیں بھی تھے، بلکہ ہم نے پیغمبروں کو بھیجتے رہے۔ 

46۔ جب ہم نے پکارا تھا تو تم کوہ طور کے قریب بھی نہیں تھے۔ بلکہ تمہارے رب کی مہربانی سے(یہ بات کہی جارہی ہے کہ) اس سے پہلے خبرادار کر نے والے کوئی نہ آنے والی ایک قوم کی طرف تم خبردار کر یں اور وہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ 

47۔ اگر یہ بات نہ ہوتی (تو ہم تمہیں رسول بنا کر بھیجے نہ ہوتے کہ) انہیں جب ان کی کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو وہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے ایک رسول بھیجا ہوتا، ہم تیری آیتوں کی پیروی کئے ہوتے اور ایمان لائے ہوتے۔ 

48۔ ہماری طرف سے جب ان کے پاس سچائی آ پہنچی تو وہ کہتے ہیں کہ جس طرح موسیٰ کو دیا گیا تھا ، اسی طرح ان کو کیوں نہیں دیا گیا۔ اس سے پہلے جو موسیٰ کو دیاگیاتھا کیا ان لوگوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ اور کہتے تھے کہ یہ دونوں ایک سے بڑھ کر ایک جادوہیں285۔ اور کہتے ہیں کہ ہم سب کا انکار کر تے ہیں357۔ 

49۔ کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو ان دونوں سے بڑھ کر سیدھی راہ بتا نے والی کتاب اللہ کی طرف سے لے آؤ۔ اس کی میں پیروی کر تا ہوں7۔ 

50۔ اگر وہ تمہیں جواب نہ دیں تو سمجھ لو کہ وہ اپنی دلی خواہشات کی پیروی کر نے والے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ملی ہوئی ہدایت کے بغیر اپنی دلی خواہشات کی پیروی کر نے والے سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوسکتا ہے؟ ظلم کر نے والوں کو اللہ سیدھی ر اہ نہیں دکھاتا۔ 

51۔ وہ لوگ عبرت حاصل کر نے کے لئے اس خبر کو ہم ان تک پہنچائے ہیں۔ 

52۔ اس سے پہلے جنہیں ہم کتاب دی تھی وہی لوگ اس کو مانتے ہیں۔ 

53۔ جب انہیں پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو مانا۔ یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے۔ اس سے پہلے ہی سے ہم مسلم ہیں۔ 

54۔ انہوں نے صبر کیا، بھلائی کے ذریعے برائی دور کر تے رہے اور ہم نے جوکچھ انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہے، اس لئے انہیں دوگنااجر دیا دیا جائے گا۔ 

55۔ بیہودہ بات جب سنتے ہیں تو بے پروائی برتتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے، تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ تم پر سلام159 ہو۔ جاہلوں کو ہم پسند نہیں کرتے۔ 

56۔ (اے محمد!) تم جسے چاہے انہیں سیدھی راہ پرچلانا تم سے نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ ہدایت پا نے والوں کو وہ خوب جانتا ہے81۔ 

57۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرہم تمہارے ساتھ مل کر سیدھی راہ کی پیروی کریں, ہمارے سرزمین سے ہم اچک لئے جائیں گے۔ کیا ہم نے امن دینے والے مقدس مقام کو ان کے لئے ٹھکانا نہیں بنایا34؟ ہر قسم کے پھل ہماری طرف سے رزق کے طور پر اس کی طرف لائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں310۔ 

58۔ زندگی کو عیش بنانے والے کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ کر ڈالا۔ یہ دیکھو ان کی آبادی۔ ان کے بعد کوئی آباد نہیں ہوئیں مگربہت کم۔ ہم ہی (اس کے) وارث ہوگئے۔ 

59۔ بستیوں کے مرکزی شہرمیں جب تک رسول بیھجا نہیں جاتا، تمہارا رب ہلاک کر نے والا نہیں۔ انہیں وہ ہماری آیتوں کو سنائے گا۔ بستی میں رہنے والے ظلم کئے بغیر کسی بستی کو ہم نے تباہ نہیں کیا۔

60۔ تمہیں جو چیزیں بھی دی جاتی ہیں وہ اس دنیوی زندگی کی عیش اور زینت ہے۔ جو اللہ کے پاس ہے، وہی بہتر اورقائم رہنے والا ہے۔ کیا تم سمجھو گے نہیں۔ 

61۔ جس کو ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اس کو آخرت میں پانے والا بھی ہے ، کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جسے ہم نے اس دنیوی سہولتیں عطا کی ہیں؟ وہ قیامت کے دن (رب کے) سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ 

62۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ جنہیں تم نے میرا شریک ٹہرایا تھا وہ کہاں ہیں؟ 

63۔ جن کے خلاف فیصلہ یقینی ہوگیا وہ کہیں گے کے اے ہمارے پروردگار! ہم نے ہی انہیں گمراہ کیا تھا۔ جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ہم نے انہیں بھی گمراہ کیا۔ اس سے ہٹ کر ہم تیری طرف رجوع کر تے ہیں۔ وہ لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ 

64۔ کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ وہ انہیں بلائیں گے۔ لیکن وہ انہیں جواب نہیں دیں گے۔ اور عذاب بھی دیکھ لیں گے۔ کاش یہ لوگ سیدھی راہ پر چلتے!

65۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟

66۔ اس دن وہ خبریں بھول جائیں گے۔پس وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال بھی نہیں کریں گے۔ 

67۔ جس نے توبہ کی، ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے وہی لوگ فلح پانے والے ہیں۔ 

68۔ تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہے چن لیتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں۔ اللہ پاک ہے10۔ان کے شریک ٹہرانے سے وہ بالاتر ہے۔ 

69۔ ان کے سینے میں جو کچھ چھپا تے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، تمہارا رب جانتا ہے۔ 

70۔ وہی ہے اللہ۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اس دنیا میں اور آخرت میں ساری تعریف اسی کے لئے ہے۔ اختیار بھی اسی کا ہے۔ اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔ 

71۔ کہو کہ اس کا جواب دو، اگرقیامت کے دن1 تک اللہ تم پرہمیشہ کے لئے رات طاری کردے تو اللہ کے سوا تمہارے لئے روشنی لا نے والامعبود کون ہے؟ کیا تم سنو گے نہیں؟  72۔ کہو کہ اس کا جواب دو، اگرقیامت کے دن1 تک اللہ تم پرہمیشہ کے لئے دن طاری کردے تواللہ کے سوا تمہارے لئے سکون دینے والی رات کو لانے والا معبود کون ہے؟ کیا تم غور کروگے نہیں؟ 

73۔ تم سکون حاصل کرنے ، اس کے فضل کو تلاش کرنے اور شکر ادا کرنے کے لئے اس نے تمہارے لئے جو رات دن بنائے وہ اس کی مہربانی ہے۔  74۔ جس دن1 وہ انہیں پکارے گااور پوچھے گا کہ جنہیں تم نے میرا شریک ٹہرایا تھا وہ کہاں ہیں؟  75۔ ہر قوم سے ہم ایک گواہ الگ کریں گے اور کہیں گے کہ تم اپنی دلیلیں پیش کرو۔ اس وقت وہ جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کیلئے ہے۔ جو کچھ وہ افترا کرتے تھے ان سے وہ گم ہوجائے گا۔

76۔ قارون، موسیٰ کی قوم میں سے ایک تھا۔ان پر وہ ظلم کیا۔ اس کے لئے ہم نے خزانے دے رکھے تھے۔ جن کی کنجیوں کو اٹھانا کئی طاقتور لوگوں پر بھاری تھا۔ یاد دلاؤ جبکہ اس کی قوم نے ان سے کہا کہ غرور مت کرو، غرور کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

77۔(اور کہا کہ) اللہ نے جو تم کودے رکھا ہے اس میں آخرت کی زندگی طلب کر۔ اس دنیا میں اپنا فرض نہ بھول۔ جس طرح اللہ نے تجھ پراحسان کیا ہے تم بھی احسان کرو۔ زمین میں فساد کا طالب نہ بن۔ فساد کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

78۔ اس نے کہا کہ میرے پاس جو علم ہے اسی بنا پر یہ مجھے دیاگیا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ طاقتور اور جمعیت والے کئی نسلوں کو اس سے پہلے اللہ نے ہلاک کرچکا ہے؟ ان کے گناہوں کے بارے میں ان مجرموں سے پوچھا نہیں جائے گا۔ 

79۔ اپنی زینت کے ساتھ وہ اپنی قوم کے پاس گیا۔ اس دنیوی زندگی کوچاہنے والے کہنے لگے کہ جس طرح قارون کو دیا گیا تھا کاش! ہمیں بھی دیا جاتا۔ وہ تو بڑا ہی قسمت والا ہے۔ 

80۔ جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تمہارے لئے خرابی ہے۔ جس نے ایمان لاکر نیک عمل کیا اس کے لئے اللہ کی اجرت ہی بہتر ہے۔ صبر کر نے والوں کے سوا دوسروں کو وہ نہیں ملتا۔ 

81۔ اسے اس کے گھر کے ساتھ ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ کے سوا اس کو مدد کر نے والی کوئی جماعت نہیں تھی۔ وہ مدد حاصل کر نے والا بھی نہیں تھا۔ 

82۔ پہلے دن اس کی خوشحالی پر آرزو کر نے والے اس دن سویرے کہنے لگے کہ افسوس! اللہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے اس کو مال و دولت کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ اللہ ا گر ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیا ہوتا۔ افسوس! (اللہ کا) انکار کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔ 

83۔ زمین میں تکبر اور فساد نہ چاہنے والوں کے لئے ہم نے اس آخرت کی زندگی بنائی ہے۔ اچھا انجام (اللہ سے) ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ 

84۔نیکی لانے والوں کو اس سے بہتر ملے گا۔ برائی لا نے والوں کے لئے ان کے عمل کے سوا دوسرا کچھ بدلہ نہ دیا جائے گا۔ 

85۔(اے محمد!) تم پر جس نے اس قرآن کو فرض کیا ہے وہ تمہیں اسی جگہ پر پہنچانے والا ہے 311جہاں سے تم آئے ہو۔ کہو کہ میرا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ ہدایت لا نے والا کون ؟ اور صریح گمراہی میں رہنے والا کون؟ 

86۔ تم اس توقع میں نہیں تھے کہ یہ کتاب تمہیں دیا جائے گا۔مگر تمہارے رب کی مہربانی کے سوا (یہ نازل نہیں کیا گیا) 344۔پس تم (اللہ کا) انکارکر نے والوں کے حمایتی نہ بنو۔ 

87۔ اللہ کی آیتیں تمہیں نازل کئے جا نے کے بعد اس سے تمہیں (کوئی بھی چیز ) روک نہ دیں۔اپنے رب کی طرف بلاتے رہو۔اور شرک کر نے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔  88۔ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی اور نہیں۔ اس کے چہرے کے سوا ہرچیز فنا ہوجائے گی۔ اسی کے لئے فرمانروائی ہے۔ اسی کی طرف پھر سے لوٹائے جاؤگے۔

سورۃ : 29 سورۃ العنکبوت ۔ مکڑی

کل آیتیں : 69

اس سورت کی آیت نمبر 41 میں غلط عقیدہ رکھنے والوں کے لئے مکڑی کے جال کی مثال دی گئی ہے ، اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ الف، لام، میم2۔ 

2۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ صرف یہ کہہ دینے کی وجہ سے کہ ہم ایمان لے آئے، انہیں آزمائے بغیر چھوڑ دیں گے؟ 

3۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی ہم نے آزمایاہے484۔ سچ بولنے والوں کو اللہ جانتا ہے، اور جھوٹوں کو بھی جانتا ہے۔ 

4۔ کیا برائی کر نے والے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے بڑھ جائیں گے؟ ان کا یہ فیصلہ بہت ہی برا ہے۔ 

5۔ جو اللہ کی ملاقات488 کا توقع رکھتے ہیں انکے لئے اللہ کا میعاد ضرور آنے والا ہے۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

6۔ جو محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کر تا ہے۔ تمام جہاں والوں سے اللہ بے نیاز ہے485۔

7۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کی برائیاں ہم ان سے دور کر دیں گے498۔ وہ جو اچھے کا م کر رہے تھے ان کا بدلہ دیں گے۔

8۔ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اگر وہ مجھے شریک ٹہرانے کے لئے زبردستی کریں جس کا تمہیں علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرو۔ میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ تم جو کچھ کر رہے تھے میں تمہیں بتاؤں گا۔ 

9۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو ہم نیکوں کے ساتھ شامل کریں گے۔ 

10۔ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ اللہ کے معاملے میں جب انہیں تکلیف دی جاتی ہے تو انسانوں کی اس ایذا کووہ اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے مدد آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ جہاں والوں کے سینوں میں جو کچھ ہے کیا اس سے اللہ واقف نہیں ہے؟ 

11۔ ایمان والوں کو بھی اللہ جانتا ہے اور منافقوں کو بھی جانتا ہے۔ 

12۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راہ کی پیروی کرو۔ ان کی گناہوں میں وہ لوگ کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ 

13۔ وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے، اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی اٹھائیں گے254۔ ان کے افترا پردازی کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس کئے جائیں گے۔

14۔ ہم نے نوح کو ا ن کی قوم کے پاس بھیجا۔ وہ ان کے ساتھ ایک ہزار سال کو پچاس سال کم483 بسر کرے۔ ظلم کر نے کی حالت میں انہیں بڑے سیلاب نے آ پکڑا۔ 

15۔پھر ہم نے انہیں اور کشتی میں رہنے والوں کو بچالیا۔ اس کو دنیا والوں کے لئے ایک نشانی بنادیا222۔ 

16۔ یاد دلاؤ جبکہ ابراھیم نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو۔اسی سے ڈرو۔ اگر تم جانو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

17۔ اللہ کے سوا تمہاری تصور کی بنائی ہوئی بتوں ہی کی تم پرستش کر رہے ہو۔ اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہووہ تمہیں دولت دے نہیں سکتے۔ پس تم اللہ ہی سے دولت طلب کرو۔ اسی کی عبادت کرو۔ اس کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تم پھر سے لوٹائے جاؤگے۔ 

18۔ اگر تم جھوٹ سمجھو گے تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھوٹ سمجھا تھا۔ رسول کے ذمہ صاف طور سے پیغام پہنچانے کے سوا کچھ اور (فرض) نہیں81۔ 

19۔ کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ پہلی بار کس طرح پیدا کر تا ہے؟ پھر اس کو دوبارہ تخلیق کرے گا۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

20۔ کہہ دو کہ زمین میں سفر کرو۔ غور کرو کہ اللہ نے کس طرح پہلی بار پیدا کیا ؟ پھر اللہ دوسری بار پیدا کر ے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

21۔ وہ جسے چاہے عذاب دے گا۔ اور جس پر چاہے رحم کر ے گا۔ اسی کے پاس تم لے جائے جاؤگے۔ 

22۔ زمین اور آسمان507 میں تم (اللہ سے) جیتنے والے نہیں۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ 

23۔ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات488 کا انکار کر نے والے میری (یعنی اللہ کی)رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں471۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ 

24۔ ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ ان کو قتل کردو۔ یا آگ لگا کر جلا دو۔ انہیں اللہ نے آگ سے بچا لیا269۔ ایمان رکھنے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

25۔اس نے کہا کہ اس دنیوی زندگی میں تمہارے آپس کی محبت ہی کی وجہ سے اللہ کے سوا تم بتوں کو ایجاد کرلیا ہے۔پھر قیامت کے دن1 تم میں ایک دوسرے کاانکار کر یں گے۔ تم میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔ تمہیں مدد کر نے والے کوئی نہیں۔

26۔ ان پر لوط ایمان لے آئے۔ (ابراھیم نے) کہا کہ میں میرے رب کی طرف ہجرت460 کر نے والا ہوں۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

27۔ ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ ان کی نسل میں نبی کی لیاقت اور کتاب عطا کی۔ ان کو ان کا اجر اس دنیا میں دیا گیا اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں میں ہوں گے۔ 

28۔ لوط کو بھی (ہم نے بھیجا) ۔ تم بے حیائی کا کام کر تے ہو۔ دنیا والوں میں تم سے پہلے کوئی ایسا نہیں کیا۔ 

29۔ اس نے اپنی قوم سے جب کہا کہ تم صحیح راستہ چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو؟ کیا تم اپنی مجلسوں میں وہ نفرت انگیز کام کرتے ہو؟ تو ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا اور کچھ نہ تھاکہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ۔ 

30۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب!اس مفسد قوم کے خلاف میری مدد فرما!

31۔ ہمارے قاصد161جب ابراھیم کے پاس خوشخبری لے آئے تو کہنے لگے کہ اس بستی والے ظالم ہیں۔ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کر نے والے ہیں۔  32۔ ابراھیم نے کہا کہ وہاں تو لوط ہیں! وہ کہنے لگے کہ وہاں رہنے والوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے سوائے ان کی بیوی کے۔ وہ (ہلاک ہونے والوں کے ساتھ) ٹہر جائے گی۔ 

33۔ جب ہمارے قاصد161 لوط کے پاس آئے تو وہ غمگین اور تنگ دل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ خوف نہ کھاؤاور آزردہ نہ ہوں۔ تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو ہم بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے۔ وہ (ہلاک ہو نے والوں کے ساتھ) ٹہر جائے گی۔ 

34۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ان لوگوں کی بدکاری کی وجہ سے ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ 

35۔ سمجھنے والی قوم کے لئے وہاں ہم نے واضح نشانی چھوڑرکھا ہے۔

36۔ شہر مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ قیامت کے دن1 کو مانو۔ زمین میں فساد کر تے ہوئے نہ پھرو۔ 

37۔ انہوں نے اس کو جھوٹا سمجھا۔ انہیں زلزلے نے آپکڑا۔ صبح میں وہ اپنے گھروں میں گرے پڑے ہوئے تھے۔ 

38۔قوم عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا)۔ ان کے رہائش گاہوں سے یہ تمہیں صاف ظاہر ہے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے انہیں آراستہ بنا کر دکھایا۔ وہ لوگ عقلمند ہو نے کے باوجود (نیک) راہ سے انہیں روک دیا۔ 

39۔ قارون ،فرعون اور ہامان کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا)۔ ان کے پاس موسیٰ نے واضح نشانیاں لے کر آئے۔ وہ لوگ زمین میں تکبر کر نے لگے۔ اور وہ جیتنے والے نہیں تھے۔

40۔ ہر ایک کو ہم نے ان کے گناہ کی وجہ سے سزا دی۔ ان میں سے بعض پر پتھروں کی بارش بھیجا۔ ان میں سے بعض کو زوردار آواز نے آ پکڑا۔ ان میں سے بعض کو ہم نے زندہ زمین میں دھنسا دیا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہیں تھا۔ بلکہ وہ خوداپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے۔ 

41۔ اللہ کے سوا محافظ بنانے والے کی مثال مکڑی جیسی ہے۔ وہ اپنے لئے ایک گھر بنالیتی ہے۔ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر ہی سب سے زیادہ کمزور ہے۔کیا وہ (اسے ) جاننا نہیں چاہئے تھا؟

42۔ اللہ کے سوا جن چیزوں کو وہ پکارتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

43۔ ان مثالوں کو ہم لوگوں کو سناتے ہیں۔ عقلمندوں کے سوا دوسرے اس کو نہیں سمجھیں گے۔

44۔ آسمانوں507 اور زمین کو مناسب سبب کے ساتھ اللہ نے پیدا کیا۔ ایمان والوں کے لئے اس میں معقول نشانی ہے۔ 

پارہ : 21

45۔ (اے محمد!) کتاب سے جو تم پر وحی کی جاتی ہے اسے سناؤ۔ نماز قائم کرو۔ نماز بے حیائی کے کاموں سے اور برائی سے روکتی ہے۔ اللہ کی یاد ہی بہت بڑی چیز ہے۔ تم جو کچھ کر تے ہو اللہ جانتا ہے۔ 

46۔ اہل کتاب میں سے جو ظالم ہیں ان کے سوا دوسروں27 سے بجز بہتر طریقے سے بحث نہ کرو۔ اور کہو کہ ہم پر جو نازل ہوئی ہے اور تم پر جونازل ہوئی ہے ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا معبوداور تمہارامعبود ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ 

47۔ اسی طرح ہم نے تمہیںیہ کتاب نازل کی ہے۔ ہم نے جس کو کتاب عطا کی ہے وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ (جنہیں کتاب نہیں دی گئی) ان میں سے بھی اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ (ہمارا) انکار کر نے والوں کے سوا کوئی دوسرا ہماری آیتوں کو جھٹلاتا نہیں۔ 

48۔ (اے محمد!) اس سے پہلے تم کسی کتاب 4سے پڑھنے والے نہیں تھے۔ (آئندہ بھی) تم اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو لکھو گے بھی نہیں152&312۔ اگر ایسا ہو تا تو ناقص لوگ شبہ میں پڑے ہوتے۔

49۔ بلکہ یہ تو واضح آیتیں ہیں۔ ان کے دلوں میں ہے420 جنہیں علم عطا ہوا ہے۔ ظلم کر نے والوں کے سوا کوئی اورہماری آیتوں کو انکار نہیں کرتے۔

50۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف سے معجزات نازل کیا نہیں جانا تھا؟ (اے محمد!) کہہ دو کہ معجزات اللہ ہی کے پاس ہیں269۔ میں تو صرف خبردار کر نے والا ہوں۔

51۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے جو انہیں سنائی جاتی ہے۔ ایمان لانے والوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے۔ 

52۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان نگرانی کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔جو کچھ آسمانوں507 اور زمین میں ہے، وہ جانتا ہے۔ باطل کو مان کر اللہ کا انکار کر نے والے ہی نقصان اٹھا نے والے ہیں۔

53۔ وہ عذاب کے لئے تم سے جلدی کر رہے ہیں۔اگرایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو عذاب انہیں آپہنچا ہوگا۔ ان کی بے خبری میں اچانک وہ ان کے پاس آجائے گی۔ 

54۔ وہ تمہارے پاس عذاب جلدی طلب کر رہے ہیں۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو جہنم گھیر لے گا۔

55۔ جس دن1 عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے انہیں ڈھانک لے گا تو (اللہ) کہے گا کہ جو کچھ تم کررہے تھے اس کا مزہ چکھو۔ 

56۔ اے میرے ایماندار بندو! میری زمین بہت وسیع ہے، میری ہی عبادت کرو۔ 

57۔ ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہی ہے۔ پھر تم میرے ہی پاس واپس لائے جاؤگے۔ 

58۔جو لوگ ایمان لائے اورنیک عمل کئے انہیں جنت کی محلوں میں بسائیں گے۔ جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ محنت کر نے والوں کا اجربہت اچھا ہے۔ 

59۔ وہ لوگ صبر کریں گے، اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھیں گے۔ 

60۔ کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھر تے۔ ان کو اور تم کو اللہ ہی رزق دیتا ہے463۔ وہ سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

61۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ سورج اور چاند کو اپنے قابو میں رکھنے والا کون ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ ایسا ہو تو وہ کیسے رخ پھیرے جاتے ہیں؟ 

62۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دولت کی فراوانی کر دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے ایک انداز سے دیتا ہے۔ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ 

63۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی اتا ر کر زمین کو اس کے مرنے کے بعداس کے ذریعے اس کو زندہ کر نے والا کون ہے تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ تم کہو کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے۔بلکہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ 

64۔ اس دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ آخرت کی زندگی ہی زندگی ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے؟ 

65۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوکر جا تے ہیں تو عبادت کو اسی کے لئے خالص کر تے ہوئے اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر انہیں بچاکر کنارے پر لے آتے ہیں تو وہ شرک کر نے لگ جاتے ہیں۔ 

66۔ ہم نے جو انہیں دیا ہے اس کا وہ انکار کر نے دو۔ مزے اڑانے دو۔ عنقریب وہ جان جائیں گے۔ 

67۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے (ان کے لئے) پناہ دینے والا مقدس مقام بنایا جب کہ ان کے اردگرد کے لوگ اچک لئے جانے کی حالت میں ہیں34؟ کیا وہ باطل پر یقین کر تے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا ناشکری کرتے ہیں؟ 68۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بڑھ کر یا اس کے پاس آئی ہوئی سچائی کو جھوٹ سمجھنے والے سے بڑھ کر ظالم کو ن ہوگا؟ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں ہوگا؟ 

69۔ ہمارے معاملے میں محنت کر نے والوں کو ہم اپنی راہ دکھلا ئیں گے۔ اللہ نیک کام کر نے والوں کے ساتھ ہے۔

سورۃ : 30 سورۃ الروم ۔ رومی حکومت

کل آیتیں : 60

رومی حکومت مغلوب ہونے اور پھر وہ دوبارہ فتح پانے کے بارے میں اس سورت کی دوسری، تیسری اور چوتھی آیتوں میں کہا گیا ہے، اس لئے اس سورت کا نام الروم رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ الف، لام، میم2۔ 

5,4,3,2۔ رومی حکومت قریب کی سر زمین میں مغلوب ہوگئی۔ وہ ہار جانے کے چند سالوں بعد اللہ کی مدد سے فتح پا جائیں گے313۔ پہلے بھی اور بعد میں بھی اختیار اللہ ہی کا ہے۔ ایمان والے اس دن خوش ہوں گے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد کر تا ہے۔ وہ زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے26۔ 

6۔(یہ) اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ مگر انسانوں میں اکثر نہیں جانتے۔

7۔ اس دنیوی زندگی میں جو ظاہری طور پر دکھائی دیتی ہے اسی کو وہ جانتے ہیں۔ وہ آخرت کے متعلق غفلت برتتے ہیں۔ 

8۔ کیا وہ اپنے اندر غور نہیں کیا؟ آسمانوں507 اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو مناسب سبب اور مقررہ مدت کے ساتھ اللہ نے پیدا کیا۔ انسانوں میں اکثر اپنے رب کی ملاقات488 کے منکر ہیں۔ 

9۔ کیا وہ زمین میں سفر کر کے نہیں دیکھنا چاہئے تھا کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا؟وہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور تھے۔زمین کو جوت کر انہوں نے جو کاشتکاری کی، اس سے زیادہ انہوں نے کاشتکاری کی تھی۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے۔ اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہیں۔ بلکہ وہ خود اپنے آپ پرظلم کر رہے تھے۔ 

10۔ اللہ کی آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر ان کا مذاق اڑانے کی وجہ سے برائی کر نے والوں کا انجام برا ہی ہوا۔

11۔ اللہ ہی نے پہلی بار پیدا کیا اور دوبارہ بھی پیدا کر ے گا۔ پھر تم اس کے پاس واپس لے جائے جاؤگے۔ 

12۔جس دن قیامت 1برپا ہوگی، مجرم لوگ مایوس ہو جائیں گے۔ 

13۔ ان کے شریکوں میں سے ان کے لئے سفارش کر نے والے نہیں ہوں گے۔ وہ خوداپنے ان شریکوں کا انکار کر دیں گے۔ 

14۔جس دن1 قیامت برپا ہوگی، اس دن وہ لوگ بکھر جائیں گے۔ 

15۔ ایمان لا کر نیک عمل کر نے والے باغ میں مسرور کئے جائیں گے۔ 

16۔ (ہمارا) انکار کرنے والے اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھنے والے عذاب کے سامنے حاضرکئے جائیں گے۔ 

18,17۔ جب تم شام کرو، صبح کرو، غروب آفتاب کے وقت اور تیسرے پہر ، اللہ کی یاد کیا کرو۔ آسمانوں 507اور زمین میں ساری تعریف اسی کے لئے ہے26۔ 

19۔ وہ بے جان سے جاندار کو ظاہر کرتا ہے۔ جاندار سے بے جان کو ظاہر کر تا ہے۔ زمین مرجانے کے بعد اسے زندہ کر تا ہے۔ اسی طرح تم بھی ظاہر کئے جاؤ گے۔ 

20۔ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا506، پھرجو تم انسان بن کر پھیلے ہوئے ہو، یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے368 ۔

21۔ تم سکون حاصل کرنے کے لئے وہ تمہیں میں سے تمہارے لئے بیویاں پیدا کیں اور تمہارے درمیان جو محبت اور رحم قائم کی ہے، یہ اس کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔سوچنے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

22۔ آسمانوں507 اور زمین کا پیدا کر نا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں میں اختلاف رہنا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ دانشمندوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

23۔ رات اور دن میں تمہارا سونااور اس کے فضل کو تلاش کر نا بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ سننے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

24۔ خوف اور امید پیدا کر نے والی بجلی تمہیں دکھانا، آسمان 507سے پانی برساکر مردہ زمین کو اس کے ذریعے زندہ کر نا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

25۔ اس کے حکم کے مطابق آسمان507 اور زمین جو قائم ہے، اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ پھروہ تمہیں ایک ہی بار بلائے گا۔ تب تم زمین سے نکل پڑوگے175۔ 

26۔ آسمانوں507 اور زمین میں رہنے والے سب اسی کے ہیں۔سب اسی کے تابع ہیں۔ 

27۔ اسی نے پہلی بار پیدا کیا۔ پھر وہ دوبارہ پیدا کر ے گا۔ یہ اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں507 اور زمین میں اسی کی اعلیٰ صفت ہے۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔

28۔ تم ہی میں سے وہ تمہارے لئے ایک مثال دیتا ہے۔ تم کو جو ہم نے دیا ہے اس میں کیاتمہارے غلاموں میں کوئی بھی حصہ دار ہے؟ کیا اس میں تم (اور وہ) برابرہوں گے؟جس طرح تم آپس میں ڈرتے ہو ان سے بھی ڈروگے؟ سمجھنے والوں کے لئے ہم اسی طرح آیتیں واضح کر تے ہیں۔ 

29۔ بلکہ ظالم لوگ کچھ جانے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کر تے ہیں۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کو راہ دکھانے والا کون ہے؟ ان کے لئے مددگار کوئی نہیں۔ 

30۔ (اے محمد!) سچائی کے راہ پر کھڑے ہو کر اپنے چہرے کو اس دین کی طرف برقرار رکھو۔ یہ اللہ کا فطری دین ہے۔ اسی پر اللہ نے انسانوں کو بنایا ہے۔ اللہ کی تخلیق کو تبدیل نہ کیا جائے۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر انسانوں میں اکثر نہیں جانتے۔ 

32,31۔ اسی کی طرف رجوع کرو۔ اس سے ڈرو۔ نماز قائم کرو۔اپنے دین کوجدا کرکے جس نے کئی ٹکڑے کرڈالا ان مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ ہر گروہ اپنے پاس رہنے والی چیز سے خوش ہو رہے ہیں26۔ 

34,33۔ لوگوں کوجب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر دعا کر تے ہیں۔ پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس سے ناشکری کر تے ہوئے ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹہراتے ہیں۔ لطف اٹھالو، عنقریب تم جان جاؤگے26۔ 

35۔ جسے وہ شریک ٹہراتے ہیں اس کے متعلق بات کر نے کے لئے کیاہم نے انہیں کوئی دلیل نازل کی ہے؟ 

36۔ لوگوں کو جب ہم رحمت کا مزہ چکھا تے ہیں تو اس سے وہ خوش ہوجا تے ہیں۔ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ 

37۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جسے چاہتا ہے دولت کشادہ بھی دیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے۔ ایمان لانے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیا ں ہیں345۔ 

38۔ رشتہ دار، غریب اور خانہ بدوش206 کو ان کا حق ادا کیجیے۔ اللہ کے چہرے کو چاہنے والوں کے لئے یہی بہتر ہے۔ وہی فلاح پانے والے ہیں۔ 

39۔ لوگوں کے مال میں اضافہ کر نے کے لئے تم جو سود دے رہے ہو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اللہ کے چہرے کو چاہتے ہوئے زکوٰۃ دو گے تو ایسے ہی لوگ بڑھانے والے ہیں۔ 

40۔ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تم کو روزی دی463۔ پھر تمہیں موت دے گا۔ پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیاتمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام کر ے؟ وہ پاک ہے10۔ ان کے شریک ٹہرانے سے وہ بلند و بالا تر ہے۔ 

41۔ لوگوں کے ہاتھوں کے اعمال کی وجہ سے سمندر اور زمین میں بگاڑ بڑھ گیا ہے۔ وہ لوگ اصلاح پانے کے لئے ان کے اعمال میں سے کچھ انہیں مزہ چکھائے گا۔ 

42۔ کہو کہ زمین میں سفر کر و اور غور کروکہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟ ان میں سے اکثر لوگ مشرک تھے۔ 

43۔ ایک ایسادن1 جو روکے رکھنا ناممکن ہو ، اللہ کی طرف سے آنے سے پہلے تم اپنے چہرے کو دائمی دین کی طرف قائم رکھو۔ اس دن وہ لوگ جدا ہوجائیں گے۔

44۔ (اللہ کا) انکار کر نے والوں کا کفر اسی کوپہنچے گا۔ نیک عمل کر نے والے اپنے ہی لئے تیار کر تے ہیں۔ 

45۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں وہ اپنے فضل سے جزا دے گا۔ (اس کا) انکار کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 

46۔ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھانے کے لئے، کشتیاں اس کے حکم سے چلنے کے لئے ، تم اس کا فضل تلاش کر نے کے لئے، اور تم شکر ادا کر نے کے لئے وہ جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ، اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ 

47۔ (اے محمد!) اس سے پہلے کئی رسولوں کوہم نے ان کی قوم کی طرف بیھجا ۔ان کے پاس انہوں نے واضح دلیلیں لے کر آئے۔ جرم کر نے والوں کو ہم نے سزا دی۔ ایمان والوں کی مدد کر نا ہمارا ذمہ ہوگیا ۔ 

48۔ اللہ ہی ہوا بھیجتا ہے۔ وہ بادلوں کو بکھیر تا ہے۔ وہ اپنی چاہت کے مطابق اس کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ اسے کئی ٹکڑے کر دیتا ہے۔ اس کے درمیان بارش نکلتے ہوئے تم دیکھتے ہو419۔ اپنے بندوں میں جسے وہ چاہتا ہے اسکو جب وہ چکھاتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ 

49۔ اس سے پہلے (یعنی) انہیں وہ نازل کئے جا نے سے پہلے وہ مایوس ہو چکے تھے۔ 

50۔ اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ زمین مردہ ہو نے کے بعد کس طرح اللہ اس کو زندہ کر تا ہے۔ وہی ہے مردوں کو زندہ کر نے والا۔ وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

51۔ جب ہم ہوا بھیج کر اس (کھیت) کو زرد رنگ میں وہ دیکھتے ہیں تو بعد میں وہ اس کے انکار کر نے والے بن جاتے ہیں۔ 

52۔ تم مردوں کو سنا نہیں سکتے۔ بہرے لوگ جب پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں تو تمہاری پکار انہیں سنا نا تم سے ہو نہیں سکتا۔

53۔ اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ راست دکھانے والے تم نہیں ہو۔تم انہیں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مان کر اطاعت کر نے والا ہو81۔ 

54۔ اللہ نے تمہیں کمزوری کے حالت میں پیدا کیا۔ پھر کمزوری کے بعدتوانائی دی۔ پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اورسفید بال دئے۔وہ جو چاہتا ہے پیدا کر تا ہے۔وہ جاننے والا، قدرت والا ہے۔ 

55۔ جس دن1 قیامت برپا ہوگی تومجرم لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم تھوڑی ہی دیر کے سوا زندگی بسر نہیں کی۔ اسی طرح وہ رخ پھیرے جا تے تھے۔ 

56۔ جنہیں علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ اللہ کی کتاب157 کے مطابق جی اٹھنے کے دن 1تک تم زمین میں بسے رہے۔ یہی ہے جی اٹھنے کا دن1۔ لیکن تم جانتے نہیں تھے۔ 

57۔ اس دن1 ظالم لوگوں کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا۔ وہ لوگ (دوبارہ دنیا میں بھیج کر) عبادت کر نے کے لئے مجبور نہیں کئے جائیں گے۔ 

58۔ اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر مثال واضح کیا گیا ہے۔ (اے محمد!) ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤگے تو (ہمارا) انکار کر نے والے کہیں گے کہ تم بے سود آدمی کے سوا کچھ نہیں۔

59۔ اسی طرح نا سمجھ لوگوں کے دلوں پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ 

60۔ صبر سے رہا کرو۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پختہ یقین نہ رکھنے والے تمہیں سبک نہ سمجھیں۔ 

سورۃ : 31 سورۃ لقمان ۔ ایک نیک آدمی کا نام

کل آیتیں : 34

لقمان نامی ایک نیک بندے نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کیں اس کا ذکر آیت نمبر 13 سے 19 تک کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سورت کا نام یہ رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ...

1۔ الف، لام، میم2۔ 

2۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔ 

3۔ نیکو کاروں کو (یہ) سیدھی راہ اور رحمت ہے۔ 

4۔ وہ لوگ نماز قائم کریں گے۔ زکوٰۃ ادا کریں گے۔ وہی لوگ آخرت1 پر پختہ یقین رکھنے والے ہیں۔ 

5۔ وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے(پائی ہوئی) سیدھی راہ پر ہیں۔ وہی فلح پانے والے ہیں۔ 

6۔ اللہ کی راہ کو مذاق سمجھ کر اس سے لوگوں کو ناسمجھی سے گمراہ کر نے کے لئے بیہودہ خبریں خریدنے والے بھی لوگوں میں ہیں۔ انہیں کے لئے رسواکر نے والا عذاب ہے۔ 

7۔ جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر کر تا ہوا اس طرح جھٹلا تا ہے گویا اس نے اس کو سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں ڈاٹ ہے۔تم انہیں تنبیہ کر دو کہ اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ 

8۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے نعمت بھرے باغات ہوں گے۔ 

9۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ وہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

10۔ تم جو دیکھ رہے ہوبغیر ستونوں240 کے آسمانوں507 کو اسی نے پیدا کیا۔ زمین میں کھونٹے ڈال دئے248 تاکہ وہ تمہیں جھکا نہ دیں۔ اس میں ہر طرح کے جاندار پھیلادئے۔ آسمان سے پانی اتارا۔ اس میں ہر قسم کے عمدہ چیزیں اگائیں۔ 

11۔ یہ اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے سوا دوسروں کی پیدا کردہ چیزیں مجھے دکھاؤ۔ بلکہ ظلم کرنے والے صریح گمراہی میں ہیں۔ 

12۔ ہم نے لقمان کو (یہ کہہ کر) حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ شکر کر نے والا اپنے ہی لئے شکر کرتا ہے۔ جو (اللہ کا) انکار کر تا ہے ، اللہ تو بے نیاز ہے485،تعریفوں والا ہے۔ 

13۔ یاد دلاؤ جبکہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کر تے ہوئے کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کو شریک نہ ٹہرا۔ شرک کر نا بہت بڑا ظلم ہے۔ 

14۔ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق بھی تاکید کی ہے۔ اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری جھیلتے ہوئے بار اٹھایا۔ اس کے دودھ پینے کی مدت دو سال ہے314۔ میرا اور تیرے والدین کا شکر ادا کرو۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ 

15۔ جس کاعلم تجھے نہیں ہے اسے میرا شریک ٹہرانے کے لئے اگر وہ دونوں تجھ پر دباؤ ڈالیں تو ان کی بات نہ ماننا۔ اس دنیا میں ان کے ساتھ اچھے پیار سے پیش آنا۔ میری طرف رجوع کر نے والوں کی راہ کی پیروی کرنا۔ پھر تمہارا لوٹنا میرے ہی پاس ہے۔ تم جو کچھ کر رہے تھے اس کے بارے میں میں تمہیں بتاؤں گا۔ 

16۔ اے میرے پیارے بیٹے! اگر رائی کے دانے برابر (ایک چیز) ہے، وہ چٹان کے اندر ہو یا آسمانوں507 میں یا زمین میں ہو تو اللہ اس کو حاضرکردے گا۔ اللہ باریک بین، باخبر ہے۔

17۔ اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم رکھو، بھلائی کا حکم دو، برائی سے روکو۔جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرو۔ یہ بڑی ہی حوصلہ مندکام ہے۔ 

18۔ لوگوں سے اپنا چہرہ نہ پھیر لینا۔ زمین میں تکبر سے نہ چلنا۔ تکبر کر تے ہوئے شان اڑانے والے کسی کو اللہ پسند نہیں کرتا

19۔(اور یہ بھی نصیحت کی کہ) اپنی چلن میں میانہ روی اختیار کر۔ اپنی آواز کو پست رکھ۔ آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی آوازہے۔ 

20۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں507 میں جو ہے اور زمین میں جو ہے اس کو اللہ نے تمہارے لئے فائدہ مند بنایاہے اور اپنی نعمتوں کو ظاہری اور پوشیدہ طور پر تم پر نچھاور کیا ہے؟ علم، ہدایت اور روشن کتاب کچھ بھی نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کے بارے میں حجت کر نے والے انسانوں میں ہیں۔ 

21۔ جب ان سے کہا جائے کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اگلوں کو ہم نے جس میں پایا ہے اسی کی ہم پیروی کر یں گے۔ کیاشیطان انہیں جہنم کے عذاب کی طرف بلائے ، جب بھی؟

22۔ بھلائی کی حالت میں اپنے چہرے کو اللہ کی طرف پھیرنے والے مضبوط رسی کو تھام لیا۔ سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے پاس ہے۔ 

23۔ (ہمارے) انکار کر نے والے کی انکار تمہیں فکر مند نہ بنا ڈالے۔ ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ جو انہوں کیا ہے ہم انہیں بتا دیں گے۔ دلوں میں جو ہے اللہ جاننے والا ہے۔

24۔ انہیں تھوڑی مدت تک لطف اٹھانے دیں گے۔ پھر سخت عذاب میں انہیں ڈکھیل دیں گے۔ 

25۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیاہے تو وہ کہیں گے کہ اللہ۔ تم کہو کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ 

26۔ آسمانوں507 اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے485، تعریفوں والا ہے۔ 

27۔ زمین کے سارے درخت اگر قلم بن جائے،اور سمندر کے ساتھ مزید سات سمندر مل کر(روشنائی) بن جائے بھی تو اللہ کے احکامات155 لکھ کرختم نہیں ہو سکتے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ 

28۔ تم سب کا پیدا کرنا اور زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو( پیدا کرنا)۔اللہ سننے والا488، دیکھنے والا ہے488۔ 

29۔ کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر تا ہے، اور سورج اور چاند کو اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا241۔ تم جو کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ 

30۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اس کے سوا جن کو وہ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔ اور اللہ بلند و برتر ہے۔ 

31۔ کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے کے لئے اس کے فضل سے سمندر میں کشتیاں چلتی ہیں؟ ہر صبر کر نے والے اور شکر کر نے والے کیلئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

32۔ سائبانوں کی طرح موجیں انہیں جب ڈھانپ لیتی ہیں تو وہ عبادت کو خالص کر تے ہوئے خلوص کے ساتھ اسے پکارتے ہیں۔ جب انہیں بچا کر کنارے پر پہنچا دیتے ہیں تو ان میں راست باز لوگ بھی ہیں۔ نا شکر دغابازوں کے سوا دوسرا کوئی ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا۔ 

33۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ اس دن 1سے ڈرو کہ جس دن باپ اپنے بیٹے کو اور بیٹا اپنے باپ کو کچھ بھی بچا نہیں سکے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ دھوکے بازتمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ 

34۔ قیامت کے وقت1 کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہ بارش برساتا ہے۔ رحموں میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کہ وہ کل کیا کمائے گا۔ کوئی جاندار یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا۔ اللہ خوب جاننے والا ، باریک بین ہے۔

سورۃ : 32 سورۃ السجدہ ۔ سر جھکانا 

کل آیتیں : 30

اس سورت میں آیت نمبر 15 سے 17 تک اللہ کے لئے سجدہ کرنے والوں اور ان کو ملنے والے انعامات کے بارے میں ذکر آنے کی وجہ سے اس سورت کو یہ نام رکھا گیا ہے۔  بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے ... 1۔ الف ، لام ، میم2۔ 

2۔ (یہ) تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔

3۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے گھڑ لیا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ (اے محمد!) تم سے پہلے جس قوم کو آگاہ کرنے والے نہ آیے تھے اس قوم کو خبردار کرنے اوروہ سیدھی راہ پانے(یہ)تمہارے رب کی طرف سے تم پر آئی ہوئی سچائی ہے۔

4۔ آسمانوں507 اور زمین کو اور ان کے درمیانی چیزوں کو اللہ ہی نے چھ دنوں میں پیدا کیا179۔ پھر عرش پر488 بیٹھا511۔ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی سرپرست اور سفارشی17 نہیں ہے۔ کیا تم غور کروگے نہیں؟ 

5۔ آسمان507 سے زمین تک ہر معاملے کو وہی اہتمام کر تا ہے۔ وہ ایک دن میں اس کے پاس اوپر چڑھ جا ئے گا۔ وہ تمہارے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہے293۔ 

6۔ وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے۔ زبردست، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

7۔ وہ ہر چیز کی تخلیق کو آراستہ کیا۔ انسان کی پیدائش368 مٹی سے 503شروع کی506۔ 

8۔ پھر اس کی نسل کو حقیر پانی506 کے جوہر سے تراشا۔ 

9۔ پھر اس کو درست کر کے اپنی روح اس میں پھونکا۔ اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم ہی شکر ادا کر تے ہو۔ 

10۔ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم زمین میں گم ہوجانے کے بعد کیا ہم نئی تخلیق حاصل کریں گے؟ درحقیقت وہ اپنے رب کی ملاقات488 کے منکر ہیں۔ 

11۔کہہ دو کہ تمہارے لئے مقرر کردہ موت کا فرشتہ تمہیں قبض کر لے گا165۔ پھر تم اپنے پروردگار کے پاس واپس لائے جاؤگے۔

12۔کاش کہ تم دیکھتے کہ جب مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے کہتے ہوں گے کہ اے میرے پروردگار!ہم نے دیکھ لیا، سن لیا، پس تو ہمیں واپس بھیج دے۔ ہم نیک عمل کریں گے اور ہم پختہ یقین رکھیں گے۔ 

13۔ اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ان ان کی ہدایت دے دیتے۔ بلکہ ہماری طرف سے یہ بات سبقت لے چکی ہے کہ تمام (برے) انسانوں اور جنوں سے جہنم بھر دوں گا۔ 

14۔ (کہا جائے گا کہ) اس دن1 کی ملاقات کوتم بھول جانے کی وجہ سے مزہ چکھو۔ ہم بھی تمہیں بھول گئے6۔ پس تم جو کچھ کر رہے تھے اس کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ 

15۔ ہماری آیتوں کے ذریعے جب نصیحت کی جائے تو سجدہ 396میں گر نے والے، اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر نے والے اور فخر نہ کر نے والے ہی اس پر ایمان لانے والے ہیں۔

16۔خوف اور امید سے اپنے رب کو پکارنے کے لئے ان کے پہلو بستر وں سے الگ ہو جائیں گے۔ ہمارئی دی ہوئی چیزوں سے (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں۔ 

17۔ ان کے اعمال کے صلہ میں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک جو چھپا کر رکھی گئی ہے وہ کوئی نہیں جانتا۔ 

18۔ کیا ایک مومن جرم کر نے والے کی طرح ہوسکتا ہے؟ وہ برابر نہیں ہو سکتے۔

19۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے، ان کے (نیک ) عمل کی وجہ سے ان کا انعام جنت کے باغات کا ٹھکانا ہے۔ 20۔جرم کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ اس سے وہ جب بھی باہر نکلنا چاہیں گے تو انہیں اس میں پھر سے ڈالا جا ئے گا۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے جھوٹ سمجھا تھا اس دوزخ کے عذاب کامزہ چکھو۔ 

21۔ وہ لوگ سدھر نے کے لئے اس بڑے عذاب سے پہلے انہیں (اس دنیا کی) چھوٹے عذاب کا انہیں مزہ چکھاتے ہیں۔ 

22۔ اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے تو اس کو جھٹلانے والے سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا؟ہم مجرموں کو سزا دیں گے۔

23۔ موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا کی۔ (اے محمد!) ان کی ملاقات267 میں تم شک نہ کرو315۔ ان کو ہم نے بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا۔

24۔ انہوں نے جب صبر کیا اور ہماری آیتوں کو یقین کے ساتھ تھام لیا تو ہم نے ہمارے حکم کے مطابق راہ دکھانے والے پیشواؤں کو ان میں سے جاری کیا۔ 

25۔ جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہے تھے قیامت کے دن1 تمہارا رب ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ 

26۔ کیا انہیں اس بات نے سیدھی راہ نہیں دکھائی کہ ان سے پہلے ہم نے کئی نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں؟ان کے رہائشی مقامات سے یہ گزر رہے ہیں۔ اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ کیا وہ لوگ سنتے نہیں؟ 

27۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ہی خشک زمین کی طرف پانی بہا لے جا تے ہیں؟اس کے ذریعے ہم کھیتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔اس کے ذریعے وہ اور ان کے مویشی کھا تے ہیں۔ کیا وہ غور نہیں کرتے؟ 

28۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ فیصلہ کب ہوگا؟ 

29۔اور کہو کہ فیصلہ کے دن1 (اللہ کا) انکار کر نے والوں کو ان کا ایمان لاناکچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور وہ مہلت نہیں دئے جائیں گے۔ 

30۔ انہیں جھٹلا دو۔ اور منتظر رہو ،وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ 

More Articles …