Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏479۔ نمازکو قضا نہ کریں

‏اس 4:103 آیت میں کہا گیا ہے کہ نماز مقررہ وقت کا فرض ہے۔ 

پانچ وقت کی نمازیں بھی مقررہ وقتوں میں اداکر لیا کریں۔ اسے تاخیرنہ کریں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فرض نمازیں مقررہ وقت میں ادا کر نے ‏کے بجائے نماز کا وقت گزرنے کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں۔اس کو قضا نماز کہا جا تا ہے۔ یہ آیت اس کو غلط ثابت کر تی ہے۔

وقت مقررہ فرض ہو تو اس کو اسی وقت میں ادا کر نا چاہئے۔

رمضان ہی میں روزہ رکھنا فرض ہے، اس کے باوجود مریض اور مسافر وں کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ دوسرے دنوں میں رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ‏نماز میں مقررہ وقت میں ادا نہیں کر نے والوں کوایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے کہ وہ دوسری وقتوں میں پڑھ سکتے ہیں۔

اسلام نے ایسا نہیں کہاکہ اگر تم سے کھڑا نہیں ہوسکتا تو جس وقت ممکن ہو اس وقت کھڑے ہو کر پڑھو۔اسلام رہنمائی کر تا ہے کہ مقررہ وقت ‏میں جس طرح بھی ہو سکے اس طریقے سے نماز ادا کردینی چاہئے۔ 

اگر پانی نہ ملا تو ایسا نہیں کہا گیا کہ جب پانی ملے تونماز پڑھ لیا کریں،بلکہ اسلام حکم دیتا ہے کہ تیمم کر کے مقررہ وقت میں ادا کر لیا کرو۔ مقررہ وقت ‏میں ہی نماز ادا کرنا ہے ، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ حیض کے وقت چھوٹے ہوئے روزوں کو بعد میں رکھ لیا کریں، لیکن چھوٹے ہوئے نماز بعد میں نہ پڑھیں۔ 

رمضان ختم ہوجا نے کے بعد دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کے لئے اجازت دی گئی ہے۔ لیکن نماز کا وقت گزرجائے تو اس کو دوسرے وقت ‏میں پڑھ نہیں سکتے۔ اسی لئے حیض کے وقت میں چھوٹے ہوئے نمازوں کو نہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس فرق کی ‏وجہ وقت کی اہمیت ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے پانچ وقت کی نمازوں کا ابتدائی وقت اور آخری وقت وغیرہ کو واضح طور پر کہہ دیا ہے۔ اس لئے اس وقت کے اندر نمازوں کو ادا کر لینا ‏چاہئے۔ 

اگر کوئی بھول کر نماز پڑھے بغیر سوگیا تو وہ یاد آنے کے ساتھ نماز پڑھ لیا کریں۔ اگر سوگیا تو وہ بیدار ہو نے کے ساتھ نماز ادا کر لیں۔ یہی اس کے ‏لئے کفارہ ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی نماز پڑھنا بھول گیا تو جب یاد آگیا تو فوراًاس کو پڑھ لیا کریں۔اس کے سوا کوئی دوسرا کفارہ نہیں ہے۔ دیکھئے بخاری: ‏‏597

نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جو کوئی نماز بھول جائے اس کو یاد آنے کے ساتھ اس کو ادا کر لینا ہی اس کے لئے کفارہ ہے۔

دیکھئے مسلم: 1216

بھول اور نیند ان دونوں کے سوا دوسری کسی وجہ سے نماز کو چھوڑنا دین میں اجازت نہیں ہے۔ 

مزید یہ کہ سفر میں رہنے والے ظہر اور عصر وغیرہ، مغرب اور عشاء وغیرہ ملاکر جمعو کی بنیاد پر نماز ادا کر یں تو وقت گزرجانے کے باوجود وہ گناہ نہیں ‏ہوگا، اس میں رعایت دی گئی ہے۔ 

سفر کے سوا شہر ہی میں رہنے والے ظہراور عصر نمازوں کو اور مغرب اور عشاء نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنے کے لئے بالکل غنیمت سے ‏اجازت دی گئی ہے۔ دیکھئے بخاری: 543

اس کے سوا دوسری وجوہات کے لئے وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنا نہیں چاہئے۔ اگرچھوٹ گیا تو اس کو قضا کر نا بھی نہیں ہے۔ اللہ رب العزت ‏کے پاس مغفرت چاہتے ہوئے اصلاح پانا ہی ایک ہی راستہ ہے۔ 

ان کے بعد جانشین آئے۔ انہوں نے نماز کو برباد کیا۔ اور دلی خواہشات کی پیروی کر نے لگے۔وہ جہنم کو پائیں گے۔مگرجس نے توبہ کی اور نیک ‏عمل کئے ان کے سوا۔ وہ لوگ جنت میں داخل ہو ں گے۔ ذرہ بھر بھی وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

قرآن مجید 19:59,60

اس زمانے کے بعد آنے والے بعض لو گوں کے بارے میں اللہ اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔ اور فرمایاہے کہ وہ نماز نہیں پڑھیں گے۔ اگر انہیں ‏مغفرت ملنا ہو تو وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے اللہ سے توبہ کر نا چاہئے۔اس طرح حکم دینے والا اللہ جو نمازیں چھوٹ گئیں اس کو پھر سے ‏پڑھنے کے لئے حکم نہیں فرمایا۔ 

اس لئے نیند ، بھول اور سفر جیسے وجوہات کے بغیر دوسری وجوہات کے لئے نمازوں کو مقررہ وقت پر نہ پڑھنے والے اللہ سے توبہ مانگنے کے بعد آئندہ ‏دنوں میں نماز نہ چھوڑنے کے لئے کوشش کر نا چاہئے۔ 

 ‏478۔ ماں کا دودھ پلاناضروری فرض ہے

‏اس آیت2:233 میں ماں کا دودھ پلانے کے بارے میں زور دیا گیا ہے ۔

ماں کا دودھ پلانے سے بچے کو اور ماں کو بے شمار فائدے ہیں، اس لئے بچے کو دو سال تک دودھ پلانے کے لئے اللہ نے حکم نافذ کیا ہے۔ 

اس کو سائنسدانوں نے بھی تحقیق کر کے ثابت کیا ہے۔ 

لندن کے امپیرئل کالج کے ڈاکٹر تیریسا نورٹ نے اس کے بارے میں تحقیق کرکے کہا ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کو سرطان کی بیماری آنے کا ‏موقع ہی نہیں ہے اور خون کا دوران اور سانس کی تکلیف سے مرنے کا موقع بھی بہت کم ہے۔ 

اپنے بچوں کو مائیں دودھ پلانے کے لئے صرف اسلام ہی میں شرعی حکم نافذ کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں دوسری کسی مذہب میں ایسا ایک قانون ‏دکھائی نہیں دیتا۔

لیکن آج کے زمانے میں بوتل کا دودھ پی کر ہی بچے پرورش پانے کا ایک ناشائستہ ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے سے اس کی ‏خوبصورتی میں کمی آجائے گی ، اسی ڈر کی وجہ سے وہ دودھ پلاتی نہیں ہیں۔ 

لیکن ماں کے دودھ کی بجائے بوتل کا دودھ دینے سے بچوں کو بیماری روکنے کی قوت کم ہو جا تی ہے۔ اس سے ماؤں کو سرطان کی بیماری پیدا ہو سکتی ‏ہے ۔ ماں کا دودھ پلانے والی مائیں سرطان سے اور دل کے دورے سے حفا ظت پاتی ہیں، اس کو قریبی تحقیقات سے انکشاف کیا گیا ہے۔

انگلینڈ کے محققین نے بارہ سالوں میںیورپ کے نو ملکوں کے 3,80,000(تین لاکھ اسی ہزار) عورتوں کو تحقیق کر نے سے انکشاف ہوا ہے ‏کہ ماں کا دودھ پلانے سے سرطان کی بیماری کو روک سکتے ہیں۔ کم سے کم چھ مہینے تک تو ماں کا دودھ پلا نے کے ذریعے عورتیں سرطان سے مرنے ‏سے دس فیصد کم ہو جا تی ہے۔ اسی طرح انہیں دل کے دورہ سے واقع ہو نے والی موت بھی سترہ فیصد کم ہو جا تا ہے۔ 

اس طرح اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے۔ 

 ‏477۔ دلی کشیدگی کی بہترین دوا

‏اس 13:28آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی یاد ہی دلوں کو اطمینان بخشتی ہیں۔

امریکہ کی تحقیقات سے معلوم پڑا ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو پژمردگی کے موقعے بہت کم ہوتے ہیں۔ 

واشنگٹن کے میکلین شفا خانہ کے ڈاکٹراور نفسیاتی محکمہ کے ماہر ڈیول روسمیرن نے اس تحقیق کے سلسلے میں 159لوگوں کے پاس مختلف قسم کے ‏آزمائشیں کی گئیں۔ 

اللہ پر ایمان اوربیماری شفا ہو نے کی توقع اور معمولی علاج کا طریقہ ، اس کے بارے میں متاثر ہو نے والوں کے پاس تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں ‏انکشاف کیا گیا ہے اللہ پر ایمان زیادہ رکھنے والوں کو دل کی کشیدگی کی بیماری بہت ہی کم دکھائی گئی۔ 

اللہ کے بارے میں فکر یا تقویٰ ذرہ بھر بھی نہ پائے جانے والے لوگوں کو دل کی پژمردگی اور بیماری کا اثر کسی طرح سے کم نہیں ہوا۔ 

روس میرن کا کہنا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ذریعے دلی صحت کا علاج حاصل کر نے والوں کویہ امید ہو تی ہے کہ اپنی تکلیف سے وہ چھوٹ ‏جائیں گے۔ یہی اس تحقیق کابہت اہم نکتہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تحقیق اس کے بعد آنے والی طبی دنیا کو بہت ہی فائدہ مندثابت ہو گا۔ 

آج کے زمانے میں دل کی پژمردگی ہی انسان کے لئے مہلک بیماری سمجھی جاتی ہے۔ شماریات کہتی ہیں کہ دنیا میں پچھتر فیصد لوگ اسی دل کی کشیدگی ‏ہی میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں ہو نے والی نوے فیصدسے زیادہ خود کشیاں اسی دل کی کشیدگی کی وجہ ہی سے واقع ہو تی ہیں۔اس کو ایک شماریات کہتی ‏ہے۔ 

اللہ پر جس طرح یقین رکھنا ہے ، اسی طرح اگر کوئی یقین رکھے تو اس کوذرہ بھر بھی دل کی کشیدگی پیدا ہی ہو نہیں سکتی، یہ محکم ہے۔اس لحاظ سے یہ ‏تحقیق اسلام کی سچائی کو ثابت کر نے والی ہے۔ 

 ‏476۔ انسان پر کس حد تک بھروسہ کر سکتے ہیں؟ 

‏اس آیت2:282 میں اللہ فرماتا ہے کہ کسی کو قرض دو تو اسے لکھ لیا کرو۔ 

لوگوں میں اکثریت دوسروں پر بے حد بھروسہ کر نے کی وجہ سے دھوکہ کھا تے ہیں۔ لیکن اسلام نے کسی پر سو فی صدبھروسہ کر نے کے لئے نہیں ‏کہا۔ 

ظاہری اعمال کو دیکھ کر یا جاننے والے سے پوچھ کر ایک شخص کے بارے میں دل کے حد تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ لیکن لین دین کے معاملے میں ‏اگر بھروسہ نہ ہوتو جس طرح چلنا چاہئے اس انداز سے سب لوگوں کے پاس بالکل احتیاط سے پیش آنا چاہئے۔ 

یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ 

یعنی دل ہی میں بھروسہ رکھیں۔ کاروائی میں ہر کسی سے ایسا پیش آنا چاہئے کہ جیسا کہ ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ 

قرض دو تو لکھ لیا کرو۔ قرآن بھی اسی بنیاد پر حکم دیتا ہے۔

کسی تحریری انداز میں یا کسی ضمانت کے بغیر چند اشخاص قرض مانگیں گے کہ کیا مجھ پر بھروسہ نہیں۔ اگر اس طرح کوئی پوچھیں تو ان کے دلوں کو ‏ٹھیس پہنچائے بغیرکس طرح جواب دیا جائے، اس کو بھی یہ آیت ہمیں سکھلا تا ہے۔ 

تم پر بھروسہ نہ رہنے کی وجہ سے میں تم سے تحریر نہیں مانگتا۔ بلکہ اللہ نے اس کو فرض کیاہے، اسی لئے میں تحریر مانگ رہا ہوں، اس طرح دل کو ‏ٹھیس پہنچائے بغیر لکھ کر لے لیں۔ 

اگر لکھ کر دینے کا موقع نہ ہو تو ضمانت کے طور پر کوئی چیز حاصل کر لیں، یہ بھی اسی بنیاد پر کہا گیا ہے۔ 

نبی کریمؐ نے ضمانت کے بارے میں کئی رہنمائی عطا کی ہے۔ایک شخص پر بھرپور بھروسہ ہو تو ضمانت کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ 

ایک یہودی کے پاس قرض لیتے وقت نبی کریم ؐ نے اپنی زرہ بکتر کو ضمانت رکھا تھا۔ نبی کریم ؐ نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کیا تم کو مجھ پر بھروسہ نہیں؟

نبی کریمؐ نے تعلیم دے چکے ہیں کہ اگر کوئی ایک چیز کو اپنا کہہ کر دعویٰ کر تا ہے تو اس کے لئے سند پیش کر نا چاہئے۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ‏کسی پر بھروسہ کر کے دھوکہ نہ کھانے کے لئے گواہوں کو تیار کرلینا چاہئے۔

اسلام رہنمائی کر تا ہے کہ مختلف معاملوں کے لئے معاہدہ کر لیا کریں۔منہ کے بول پر بھروسہ کر تے ہوئے دھوکہ نہ کھاجائیں ، اسی لئے تحریری ‏معاہدہ کر لیا کریں۔

اسلام کہتا ہے کہ اسی طرح کئی معاملوں کے لئے گواہوں کا انتظام کر لیا کرو۔اگر اسلام کی پائیداری یہ ہو تا کہ بھر پور بھروسہ رکھا جائے تو گواہوں ‏کی ضرورت ہی نہیں۔ 

اسلام جو کہتا ہے کہ پوری طرح سے دریافت کرلیں، وہ اسی وجہ سے ہے۔ 

اسلام کی اس نصیحت کو اگر دنیا کے لوگ ٹھیک طریقے سے اپنائیں تو دغا بازوں کو کام نہیں ہوگا اور دھوکاکھانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ 

اس کو نمازی سمجھ کر میں نے وہ دے دیا، یہ داڑھی رکھا ہے، اس بھروسہ پر میں نے دے دیا، یہ توحید والا ہے ، اس بھروسہ پرمیں نے دھوکہ ‏کھاگیا، اس کو میں نے رشتہ دار سمجھ کر بھروسہ کیا تھا ، اس نے مجھے دھوکہ دے دیا، اس طرح کہنے والی بیوقوفوں کی جماعت بڑھتے جا نے کی وجہ یہی ‏ہے کہ اسلام کی اس تعلیم کوانہوں نے جھٹلا دیا۔ کسی پر بھروسہ کر کے دھوکہ کھانا نہیں، اسمیں ہوشیاری سے رہنا ضروری ہے۔ 

‏475۔ روزہ رکھنا بہتر ہے

‏ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کے فرائض میں روزہ رکھنا بھی ایک فرض ہے۔ اس آیت 2:184 میں کہا گیا ہے کہ اگر تم جانو تو روزہ رکھنا تمہارے ‏لئے بہتر ہے۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ روزہ رکھنادین میں فرض ہی نہیں بلکہ تم جان سکتے ہو کہ روزہ رکھنا بہتر بھی ہے۔ آج کی طبی دنیا بھی اسے تسلیم کر تی ‏ہے۔ 

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جب بھوک لگتی ہے توکھاناہی صحتمندی ہے۔ بھوکے رہنا جسم کو کمزور کردیتی ہے۔ 

عام طور سے یہ ٹھیک رہنے کے باوجود روزے کے لئے یہ مناسب نہیں، اس طرح سائنسدانوں نے آج کہہ رہے ہیں۔ اس کو ذرا تفصیل سے ‏جانیں۔ 

ہم غذا کھانے کے بعد اس غذا میں سے ضروری طاقت کو جسم حاصل کر لیتا ہے۔ دوسرے وقت کی غذا کھا نے تک طاقت کی ضرورت رہنے سے ‏غذا سے حاصل ہو نے والی تیار شدہ گلوکوز کو ہمارا جسم جگر اور پٹھے میں جمع کرلیتا ہے۔ دوسرے وقت کی غذا کھا نے تک جگر اور پٹھے میں جمع کی گئی ‏گلوکوز کوطاقت کے لئے استعمال کر لیتی ہے۔ ایک وقت کا کھانا کھا نے سے آٹھ گھنٹے تک وہ طاقت کافی ہو تا ہے۔ 

جمع کی ہوئی قوت بخش طاقت آٹھ گھنٹے میں ختم ہو نے کے بعد بھی ہم بھوکے ہی رہیں تو جسم میں موجود چربی توانائی کی قوت کے لئے جلا دیا جاتا ہے۔ ‏یہ جسمانی صحت کے لئے بہت بہتر ہے۔ 

وہ چربی تمام ختم ہو نے کے بعد بھی دن سارا بھو کے ہی رہیں تو جسم کا سارا پروٹین توانائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ 

حالت بہت ہی خطرناک ہے۔ پروٹین استعمال کئے جانے سے جسم دبلا پتلا ہو کر آدمی ناتواں ہو جا تا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا روزہ ایسا نہیں ہوتا۔ 

جو دوسری بار کہا گیا ہے اسی حال میں روزہ ترکیب پائی ہے۔ یعنی آٹھ گھنٹے سے بڑھ کر اور ایک دن سے کم ہی مسلمانو ں کا روز ہ ترکیب پائی ہے۔ 

گلوکوزختم ہو کر توانائی کے لئے چربی استعمال کرنے کی وجہ سے جسمانی وزن کم ہو جا تا ہے۔ اس سے خون میں خراب چربی کی مقدار بھی کم ہوجا تی ‏ہے۔ پٹھیں حفاظت کی جاتی ہیں۔ اس وزن کی کمی خون کی دوران اور خون میں شکر کی بیماری وغیرہ کو ایک حد میں رکھنے کے لئے مدد کر تی ہے۔ ‏جسم کی چربی جب ختم ہو جا تی ہے تو اس کے ساتھ مل کر زہریلی چیزیں بھی جلائی جانے کی وجہ سے امریکی آکسفورڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ‏ہے کہ زہرکو مٹانے کا کام بھی چل رہا ہے۔ 

روزہ شروع ہو نے کے چند ہی دنوں میں خون میں زیادہ مقدار میں ‏endorphin‏ نامی کیمیائی چیزیں بڑھ جانے کی وجہ سے انسان بہت ہی شوق ‏اور اچھی دلی کیفیت سے رہنے کو مدد کر تا ہے۔ اس سے دماغی عملی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ 

امریکہ میں سائنسدانوں نے ایک تحقیق کی اور اس میں معلوم کیا گیا ہے کہ مسلمان جوروزہ رکھتے ہیں اس سے ملنے والی دل کی توجہ (‏brain ‎derived neurotrophic factor‏) دماغ سے آنے والی رگ کی ایک کیمیائی چیز کو بڑھاتی ہے۔ اس وجہ سے دماغ اور بھی زیادہ ‏دماغی خلیوں کو پیداکر کے اس کے ذریعے دماغ کی عملی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

A study carried out by scientists in the USA found that the mental focus ‎achieved during Ramadan increases the level of brain derived neurotrophic ‎factor, which causes the body to produce more than cells, thus improving ‎brain function‏. 

اسی طرح مسلمانوں کے روزے کے وقت جسم میں موجود گردے کے غدود رسنے والی کارٹسول (‏cortisol‏) نامی ہارمون کم ہوجا نے کی وجہ ‏سے دل کے دباؤ میں کمی ہوجاتی ہے۔ 

Likewise, a distinct reduction in the amount of the hormone cortisol, ‎produced by the adrenal gland means that stress levels are greatly reduced ‎both during and after Ramadan‏. 

اقوام متحدہ عرب کے نفسیاتی طب کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزہ رکھنے والے ایک مثبتانہ نتیجہ کو اپنی چربی کی مقدار سے حاصل ہو نے کو ‏محظوظ کرتے ہیں۔ یعنی خون میں جو چربی ہے اس کی مقدار کم ہوجا تی ہے۔ 

A team of cardiologists in th UAE found that people observing Ramadan ‎enjoy a positive effect on their lipid profile, which means there is a reduction ‎of cholesterol in the blood‏.

صرف خراب چربی ہی کم نہیں ہو تی بلکہ روحانی فکر سے اچھی چربی بڑھتی بھی ہے۔ اس سے دل کا خون کا دوران درست ہو تا ہے۔ دل کی بیماری ، ‏دل کا دورہ اور فالج وغیرہ پیدا ہو نا کم ہو جا تا ہے۔ رمضان کے بعد بھی صحتمندانہ کھانے کی عادت ڈال لیں تو کم چربی کی مقدار کو آسانی سے درست ‏کر سکتے ہیں۔

نیشنل انسٹٹیوٹ آف ایجنگ کے ادارے کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ہفتہ میں ایک یا دو دن کھانا کھائے بغیر رہنے سے بہت دن تک زندہ رہ ‏سکتے ہیں، اور دماغ میں پیدا ہو نے والی بڑھاپے کی الذیمر نامی نسیان کی بیماری ، پارکنسن کی بیماری اور دماغی گھٹاؤ وغیرہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ‏ہیں۔ 

کلوریوں کو کم کرلینے کے ذریعے دماغ میں موجود کیمیکل میسنجرس نامی کیمیائی خبریں ترغیب دلائی جا تی ہیں۔ 

The Daily Telegraph‏ نامی اخبار اس طرح کہتی ہے:

غذا ؤں کو کم کر کے کلوریوں کو سختی سے محدود رکھنا زندگی کے ایام کو بڑھاتی ہیں، اس تحقیق کو چوہے جیسے جانداروں کو رکھ کر آزمائے جانے کا عمل ‏کئی صدیوں کے پہلے ہی انکشاف کیا گیاتھا۔ پھر بھی یہ نتیجہ انسان کے اندر بھی موجود رہنے کی توقع تھی، اس کو صرف قیاسی طور پرمانا گیا تھا۔اس ‏اصول کو انسان کے معاملے میں عملی طور سے اور تحقیقی انداز سے بھی تصدیق نہیں کیا گیاتھا۔ مگر اب اس کو محققین نے عملی طریقے سے بھی ثابت ‏کر دئے ہیں۔ 

نیورو سائنس کی تحقیقاتی ادارے کے صدرپروفیسر مارک ماٹسن اس طرح کہتے ہیں:

‏’’کلوریوں کو کم کر نے کے ذریعے تمہارے دماغ کوتم مدد کر سکتے ہو۔ دماغ کی کئی بیماریوں کو روک سکتے ہو۔ لیکن مسلسل بھوکے رہنے سے یہ ‏بھلائی تمہارے دماغ کونہیں مل سکتی۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کا روزہ یعنی پوری طرح سے کھانا چھوڑدینا ، پھر جو ہمیں چاہئے اس کو ہماری ضرورت ‏پوری ہو نے تک کھانا، اس اصول کے ذریعے ہی وہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ ‘‘

یہ تحقیق صرف مسلمانوں کے روزے کو مناسب ہے۔ 

دوسرے مذہبوں کے روزے میں یہ کیفیت نہیں ہے۔ دوسروں کے روزے بہت لمبے وقفے کا نہیں ہوتا۔ وہ لوگ ٹھوس غذاؤں سے پرہیز ‏کرتے ہیں اور سیال چیزوں کو کھاجاتے ہیں۔اس کے ذریعے معمول کلوریاں مل جا تی ہیں۔

بعض روزوں میں کہا گیا ہے کہ جو پکایا جاتا ہے اس سے پرہیز کریں اورپھل وغیرہ کھا سکتے ہیں۔ اس سے بھی وہ فائدے حاصل نہیں کر سکتے۔ اور ‏بعض روزوں میں کہا جاتا ہے کہ گوشت خوری نہ کریں ، وہی کافی ہے۔ اس سے اس تحقیق کا فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔ 

مسلمانوں کے روزوں میں گوشت خوری ہو یا سبزیاں، ٹھوس چیزیں ہوں یا سیال، کسی بھی چیز کو کھانا نہیں چاہئے۔ یہاں تک کہ پانی بھی نہ پینا ‏چاہئے۔ مزید یہ کہ وہ لمبے وقفے کا روزہ بھی ہے۔ اس لئے اس تحقیق کے فائدے کو وہ پوری طرح سے حاصل کر سکتے ہیں۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ روزے کو دین کے لئے فرض کیا گیا ہے، اور اس کو بہتر کہاگیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اس کوتم جان سکتے ہو۔ اس سے ثابت ہو ‏تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

‏474۔شہد کی مکھیوں کا راستہ جاننے کی صلاحیت

‏اس16:68 آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھیوں کو الہام کیا کہ تیرے رب کی راہوں میںآسانی سے جاؤ۔

آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ راستوں کو جاننے میں شہد کی مکھیاں خصوصیت رکھتے ہیں۔

اس کے بارے میں برٹش کے رائل ہالووے یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق اختیار کی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے کہا: 

شہد کی مکھیاں شہد کی تلاش میں بہت دور تک جاتی ہیں۔ وہ بہت زیادہ مختصر راستہ اختیار کر تی ہیں۔ اس کے لئے کمپیوٹر کی مدد سے مصنوعی پھول کے ‏ذریعے شہد کی مکھیوں کی راہ سفر کو جانچا گیا۔ اس میں شہد کی مکھیاں بالکل مختصر وقت میں الگ الگ پھولوں کی طرف جا نے کے لئے بہت زیادہ مختصر ‏راستے استعمال کر تے ہوئے دیکھا۔

فروخت کر نے والا جانے کے لئے کمپیوٹرنے جو راستے بنا یا تھا اس سے زیادہ وہ راستے تھے۔ اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ کمپیوٹر کی عقل ‏سے زیادہ ایک چھوٹی سی شہد کی مکھی کی عقل بڑھی ہوئی ہے۔ 

یہ سائنسدانوں کا کہنا ہے۔ 

راستوں کو جاننے کی صلاحیت شہد کی مکھیوں کو ہے۔ اس حقیقت کو پہلے ہی قرآن مجید کہہ دینے کی وجہ سے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔ 

آسانی سے راستے کو معلوم کرنا صرف مختصر راستہ ہی نہیں بلکہ ٹھیک راستہ معلوم کر نے سے ہی وہ آسان راستہ ہو گا۔

ایک پھول میں یا پھل میں اپنے لئے غذا ہے یا نہیں اس کی بو سونگھ کر جان لینا ہی راستہ آسان کہلائے گا۔ ہر پھول کے پاس 

جاکر دھوکا کھا نے سے راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ‏

آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی سونگھنے کی طاقت بہت ہی دقیق انداز کی ہے۔ 

یورپ کے ملک قروشیہ اور سربیا کے درمیان جب جنگ چھڑی تو بے شمار بارودی سرنگ کو ملک سربیا نے قروشیہ کے اندر دفن کر رکھا تھا۔ جنگ ‏ختم ہونے کے بعد بھی بارودی سرنگ جہاں جہاں دفن کیا گیا تھا ان جگہوں پر پاؤں رکھنے سے لوگ دھماکے سے اڑ جایا کرتے تھے۔ اس لئے اس ‏بارودی سرنگ کو تلاش کرنے کے لئے کیا شہد کی مکھیوں کی سونگھنے کی طاقت کو استعمال کیاجاسکتا ہے ؟ جاکرب یونیورسٹی کے زراعتی محکمہ کے ‏پروفیسر نکولہ کوسک نے اس تحقیق میں اترے۔

اس نے پہلے یہ دریافت کی کہ شہد کی مکھیاں ان کی غذا کتنی بھی دوری میں ہواس کو سونگھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ 

بارود میں جو ٹی ین ٹی کی بو ہے اس کو میٹھے چیز کے ساتھ ملا کر شہد کی مکھیوں کے چھت کے قریب رکھا گیا۔ اس طرح میٹھے چیز کو تلاش کرتے ہوئے ‏آنے والی شہد کی مکھیوں کوٹی ین ٹی کی بو عادت پڑ گئی۔ اس طرح عادت سے معمور ہو نے والی شہد کی مکھیاں جہاں بھی ٹی ین ٹی کی خوشبو ہواس کو اپنی ‏غذا سمجھ نے کی حد تک مشق دیا گیا۔

اس طرح شہد کی مکھیوں کو عادت ڈالنے کے بعد ٹی ین ٹی ملا ہوا میٹھاچیز اور ٹی ین ٹی کے بغیر میٹھا چیز اس کے چھت کے قریب رکھا گیا ۔ شہد کی ‏مکھیوں نے ٹی ین ٹی کے ساتھ ملے ہوئے میٹھے چیز کو پہچان کر اس پر ہی بیٹھنے لگے۔ 

اس کے بعد ایک جگہ پر رکھے گئے میٹھے چیز کے درمیان میں ٹی ین ٹی ملایا گیااور اس کے اطراف ٹی ین ٹی ملایا نہیں گیا۔جب شہد کی مکھیوں نے ٹی ین ‏ٹی ملے ہوئے درمیانی حصہ میں ہی بیٹھنے لگے۔ 

جبلی طور پر بارود کی بو کی طرف شہد کی مکھیاں جاتی نہیں۔ اگر اس کو مشق دیا جائے کہ وہی اس کی غذا ہے تو وہ اس کی تلاش میں جانے لگ جائے گی۔ 

اس طرح سکھلائے گئے شہد کی مکھیوں کے قریب مٹی کے اندر بارود کو دفن کر کے رکھیں تووہ اس جگہ پر بیٹھ کر بھنبھنا نے لگتی ہیں۔ اس کے ‏ذریعے اس جگہ پر سرنگی بارود کو تفتیش کیا جا سکتاہے، یہی اس تحقیق کا انجام ہے۔ 

اس کے بارے میں پروفیسرنکولہ کوسک کہتے ہیں: ہم کو یقین ہے کہ اس تفتیش سے بارود ی سرنگ تلاش کرنے میں فائدہ مندثابت ہو گا۔ اگر یہ ‏سائنسی طریقے سے کامیاب ہو گا توجہاں بارودی سرنگ کا شک ہے ان حصوں میں شہد کی مکھیوں کی کارروائی کو زیر سرخ شعاعوں کے ذریعے ‏نگرانی کر کے ان بارودی سرنگ کو نکال باہر کر سکتے ہیں۔ 

کتا اورچوہے کے ذریعے بھی بارودی سرنگ کو انکشاف کر سکتے ہیں، اس کے باوجود ان کے جسمانی وزن کی وجہ سے وہ پھٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ ‏لیکن شہد کی مکھی کے لحاظ سے وہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ شہد کی مکھیوں کے ذریعے بارودی بم معلوم کر نے کی تحقیق امریکہ میں کیا گیا تھا۔ 

آج مختلف تفتیش کے ذریعے اسے معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن چودہ سو سال کے پہلے ہی اس کو جاننے والاکہ شہد کی مکھیوں کے پاس وہ صلاحیت ہے، وہ ‏صرف اللہ ہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کلام ہے۔

‏473۔ ابراھیم نبی نے بتوں کو جو توڑاکیاوہ ٹھیک تھا؟ 

‏ان آیتوں 21:57، 21:58، 37:93 میں کہا گیا ہے کہ خدا کی طرح مانے جانے والی بتوں کو ابراھیم نبی نے توڑا ۔

ان آیتوں کوپڑھتے وقت ہمیں یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ جس طرح ابراھیم نبی نے بتوں کو توڑا تھا ، کیا ہم بھی غیر مذہبوں کی بتوں کو توڑ سکتے ہیں؟ 

دوسرے مذاہب کے مندروں اور بتوں کو نقصان پہنچانے کے بارے میں اسلام کا صورت حال کیا ہے، اس کو ہم پہلے جان لینا چاہئے۔ 

یہ آیت 6:108کہتی ہے کہ دوسرے جن کی عبادت کر تے ہیں ان دیوتاؤں کو گالی مت دو۔ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 170 میں تشریح کی ‏گئی ہے۔ 

یہ آیت 22:40 کہتی ہے کہ کوئی مذہب والے دوسرے مذاہب کے عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 433 ‏میں وضاحت کیا گیا ہے۔ 

اس کی وجہ بھی ان آیتوں میں کہا گیا ہے۔ دوسرے مذاہب جنہیں دیوتا سمجھتے ہیں اگر تم انہیں گالی دو گے تووہ اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔ تم اگر ‏دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاؤ گے تو وہ تمہاری مسجدوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ یہی وہ وجہ ہے۔

اگر ہم اب دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائیں تو وہی انجام ہو گاجو اوپر کہا گیا ہے۔ 

اگر ایسا ہو تو ابراھیم نبی نے بتوں کو کیوں توڑا؟ 

ابراھیم نبی کا یہ عمل اس آیت کے مخالف نہیں ہے۔ اس کو ہم تفصیل سے معلوم کر لینا چاہئے۔ 

فرض کرو کہ ایک سماج یا ایک مذہب ایک بستی میں ہے۔ اس بستی میں پیدا ہو نے والے ایک شخص کو ان کا مذہب یا ان کی عبادت کا طریقہ پسند ‏نہیں آیا۔ وہ اپنے غصہ کو ظاہر کرنے کے لئے ان کی اس عبادت گاہ کو اور ان کی دیوتا کو نقصان پہنچادیا تو وہاں کوئی مذہنی فتنہ نہ ہوگا۔ دوسرے ‏مذاہب کی عبادت گاہ کو تباہ کر نے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ بتوں کو نقصان پہنچانے والا کسی مذہب کی جانب سے ایسا نہیں کیا۔ 

لوگ یہی سمجھیں گے کہ جسے ہم دیوتا سمجھ رہے تھے اس بھروسے سے نکل گئے۔

ابراھیم نبی کی حالت بھی وہی تھی۔ 

ابراھیم نبی نے بت کو پوجنے والے آزر کو پیدا ہوئے۔ اس وقت وہاں کوئی مذہب نہیں تھا۔ کسی دوسری مذہب کی جانب سے وہ یہ کام نہیں کئے۔ ‏اپنی خاندان والے قومی دیوتا کی بتوں کو پرستش کر نے کو انہوں نے پسند نہیں کیا۔اس غصہ کو انہوں نے اس طرح ظاہر کیا۔ اس کا جو انجام ہو گا، ‏اسے سامنا کر نے کے لئے وہ تیار تھے۔

ایک بستی میں ایک ہی مذہب والے تھے۔ وہ سب لوگ دوسری مذہب کو اگر بدل گئے تو اپنی پرانی عبادت گاہ کو مسمار کردیا جاتا ہے ،اسی طرح اس ‏کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ 

لوگ جب مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں ، اس وقت باہر کے لوگ آکر اپنی بتوں کو توڑنا اور اسی مذہب میں پیدا ہو نے والا اپنی ذاتی طور پر توڑنا، ‏دونوں میں فرق ہے۔ 

اس سلسلے کی دوسری تفصیل کو جاننے کے لئے ان حاشیہ 170،433، 464نمبروں کو دیکھیں!

 ‏472۔ عورتیں چہرہ نہ چھپائیں

‏یہ دونوں آیتیں24:31، 33:59 عورتوں کے لباس کی حدود کے بارے میں کہتی ہیں۔ 

یہ آیت33:59کہتی ہے کہ عورتیں اپنے لباس کے اوپرجلباب نامی آنچل کو پہن لیا کریں۔ 

عورتیں اپنے چہرے کو چھپانا چاہئے ، یہ رائے رکھنے والے اس آیت کواپنے لئے ایک اہم دلیل سمجھ رکھا ہے۔جلباب کا مطلب ہے کہ چہرے کو ‏چھپانے والا لباس، ان کی یہ تشریح ہی ان کے دعوے کی بنیاد ہے۔

جلباب کے لفظ کولغات کی کتابوں میں:

سر پر ڈالنے والی کمار نامی نقاب سے بڑا کپڑا،

لباس کے اوپر پہننے والا چوغہ، 

تہہ بند جیسا لباس، 

جسم کو پوری طرح سے ڈھانپنے والالباس،

اس طرح اس کی کئی معنی ہیں۔

عورتیں اپنے چہرے کے ساتھ تمام اعضاء کوچھپالینا چاہئے ، ایسی رائے رکھنے والے پوری جسم کو چھپانے والا لباس کے معنی میں لے کر دعویٰ کرتے ‏ہیں۔ 

اگر ایک لفظ کو کئی معنی ہوں تو مخصوص جگہ میں کونسا لفظ استعمال کر نا ہے اس کی مناسبت سے غور کر کے معنی لینا چاہئے۔ لغات میں رہنے کی وجہ ‏سے من مانی معنی نہیں لینا چاہئے۔ اس بنیاد کو انہوں نے نظر انداز کردیا۔ 

اس آیت 33:59میں جلباب کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کو پوری جسم کو چھپانے کے معنی دے نہیں سکتے۔ سر پر ڈال کر سینہ تک لٹکنے والا کپڑاہی ‏اس کا معنی ہو سکتا ہے۔ یہ آیت ہی ہمیں راستہ دکھلا تا ہے کہ اس کو یہی معنی لیا جائے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نقاب کو لٹکا نے کے لئے کہئے۔ وہ لوگ جانے جائیں اور اذیت نہ پہنچائے جانے کے لئے یہ مناسب ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جلباب کے لباس میں دو چیزیں ہیں۔ 

ایک یہ کہ جلباب پہننے سے عورتیں اذیت نہیں کئے جائیں گے۔

دوسری بات یہ کہ وہ جان لئے جانا چاہئے۔ 

جلباب نامی اوپری لباس مردوں کے ذریعے عورتیں جو دقت کا سامنا کر تے ہیں اس سے روکنے کی طرح ہو نا چاہئے۔ اس طرح سے بھی ہونا چاہئے ‏کہ جان لیا جائے کہ وہ کون ہیں؟ یہی دو چیزیں اس آیت میں کہا گیا ہے۔ 

عام طور سے عورتیں اپنی جوبن کی اٹھان کو ظاہرکرنا ہی مردوں کو انہیں اذیت پہنچانے کے لئے پہلی وجہ ہے۔ لباس پہننے کے بعد سینوں پر دوپٹہ ‏ڈال لینے سے وہ حالت نہیں ہوگی۔ 

لیکن چہرے پر نقاب نہیں ڈالنا چاہئے۔ اگر ایسا ڈال لوگے تو تم پہچانے نہیں جاؤگے، اس سے اس آیت کی پہلی چیز معدوم ہو جائے گی۔ 

یہ آیت صاف طور سے کہتی ہے کہ عورتوں کا لباس ایسا ہو نا چاہئے کہ وہ پہچان لئے جائیں کہ وہ کون ہیں؟کسی کو پہچاننا ہو تو ان کا چہرہ کھلا رہنا چاہئے۔ ‏چہرہ دیکھ کر ہی کوئی پہچان سکتاہے کہ وہ کون ہے؟

اس آیت 24:31میں جو کہا گیا ہے کہ نقاب کو اپنے سینے پر ڈال لیں، وہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ 

جلباب کے لفظ کا معنی کیا ہے، اس کو جاننے کے لئے جلباب کا لفظ استعمال کئے گئے چند احادیث کو ملاحظہ فرمائیے!

ام عطیہؓ نے کہا ہے: 

دونوں عیدین میں حیض والی عورتوں کو اور پردے کے اندر رہنے والی (بالغ) عورتوں کو نماز کے میدان میں بھیجنے کو ہمیں حکم دیا گیا۔ تمام ‏عورتیں مسلمانوں کی جماعت کی نماز میں حصہ لینا چاہئے اور مسلمانوں کی اشاعتی کام میں بھی شامل ہو نا چاہئے۔نبی کریمؐ نے کہا کہ نماز کی جگہ سے ‏حیض والی عورتیں ہٹ کر رہنا چاہئے۔ اسے سن کر ایک عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں چند عورتوں کے پاس پہننے کے لئے جلباب ‏‏(دوپٹہ) نہیں ہے۔ تو نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ ان کی سہیلیاں اپنی جلبابوں میں سے ایک کسی کو عارضی طور پر دیدیا کریں۔ 

بخاری: 351

اس آیت میں جو جلباب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے و ہی اس حدیث میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ عورتیں عیدین کی نمازوں کو آنے ‏کے لئے جلباب کا پہننا ضروری ہے۔ اور جنہیں جلباب نہیں ہے انہیں رہنے والے دے کر مدد کریں۔ 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدین کی نماز کو آنے والی عورتیں جلباب پہن کر ہی آنا چاہئے ۔جلباب پہننے کے بعد بھی عورتوں کا چہرہ کھلا ہی رہا، اس کو ‏یہ حدیث واضح کر تی ہے: 

اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ میں نے بھی عید کی نماز میں شامل ہواتھا۔ اس وقت آپ نے اذان اور اقامت کے بغیر بیان کر نے سے پہلے ہی نماز ‏پڑھانے لگے۔ پھر بلالؓ پرجھکے ہوئے تقویٰ قائم کر نے کو ، اللہ اور رسول کی اطاعت کر نے کو زور دیتے ہوئے لوگوں کو نصیحت اور یاد دہانی کی۔ پھر ‏وہاں سے نکل کر عورتوں کے حصہ میں جا کر انہیں بھی نصیحت اور یاد دہانی کی۔ مزید کہا کہ صدقہ کیا کرو۔ تم میں سے زیادہ تر لوگ دوزخ کے ‏ایندھن بنو گے۔ تب ان عورتوں میں سے ایک کالی عورت کھڑے ہو کر کہا ، اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟تو اللہ کے رسول ؐ نے کہا کہ تم ‏لوگ زیادہ عیب نکالتے ہو۔ احسان فراموشی سے شوہر کو جھٹلاتے ہو۔ اس وقت عورتوں نے اپنے آویزے اور انگوٹھیاں وغیرہ زیورات نکال کر ‏بلالؓ کے لباس میں ڈال دیا۔ 

مسلم: 1607

نبی کریم ؐ سے سوال کر نے والی عورت کے بارے میں جابرؓ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک کالی رخسار والی عورت تھی۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ‏وہ عورت چہرے کو چھپائی نہیں تھی۔اگر عورت کو چہرہ چھپانا ضروری ہو تا تو آپ سے سوال کرنے والی عورت کا چہرہ دکھائی دینے کو وہ ضرور تاکید ‏کئے ہوں گے۔ اس طرح آپ تاکید نہ کر نے سے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ عورت غیر مردوں کے سامنے چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اگر جلباب کا مطلب یہ ہو تا کہ سر سے چہرے کوچھپانے کے انداز سے لٹکائے رکھنا ہو تو اس عورت کا چہرہ دکھائی نہیں دے سکتا تھا۔ یہ بھی کہا ‏نہیں جا سکتا تھا کہ اس عورت نے جلباب نہیں پہنا۔ نبی کریمؐ نے فرما چکے ہیں کہ عید کی نمازکو آتے وقت جلباب پہننا ضروری ہے، اس لئے وہ ‏عورت بغیر جلباب کے آ نہیں سکتی تھی۔ اگر ایسا ہو تا تو نبی کریم ؐ ضرور پو چھا ہو گا کہ تم نے کیوں جلباب نہیں پہنا؟

وہ عورت جلباب پہننے کے باوجود ایک شخص کہتا ہے کہ اس کا رخسارکالا تھا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ جلباب چہرے کو چھپانے کا لباس نہیں ہے ‏بلکہ وہ سر سے سینے پر ڈالنے کا لباس ہے۔

عورتیں اپنے چہرے کو چھپانے کے لئے نبی کریم ؐ نے نہ حکم نافذ کیا اور نہ خواہش دلائی۔ اپنے سامنے عورتوں کے چہرے کھلے رہنے کے باوجود ‏انہیں آپ نے تاکید نہیں کی ۔ اس طرح کئی دلائل موجود ہیں۔ 

عائشہؓ نے فرمایا:

مومن عورتیں اپنے کمبل کی چادر کو اوڑھے ہوئے اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ فجر کی نماز میں حصہ لینے والے تھے۔ نماز ختم کر نے کے بعدوہ اپنے ‏گھروں کو واپس چلے جا تے تھے۔ اندھیری کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ 

بخاری: 578

عورتیں چہروں پر پردہ ڈالے ہو تے تو وہ پردہ ہی انہیں پہچاننے سے رکاو ٹ ہو تی۔ لیکن اندھیرے کی وجہ سے کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ کون ہیں۔ ‏اس طرح عائشہؓ کہنے سے ہم جان سکتے ہیں کہ نماز کو آنے والی عورتیں نماز ختم کر کے جاتے وقت ان کے چہروں پر پردہ نہیں تھا۔ 

عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیوی زینبؓ نے کہا: 

ہم جب مسجد میں تھے تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ اے عورتو! تمہارے زیورات میں سے کچھ خیرات کرو۔ میں میرے شوہر عبداللہؓ اور میری ذمہ داری ‏میں رہنے والے یتیموں کو خرچ کر نے والی تھی۔ اس لئے میں نے میرے شوہر سے کہا کہ جاؤ، نبی کریمؐ سے پوچھ کر آؤ کہ میں تمہیں اور میری ذمہ ‏داری میں رہنے والے یتیموں کو جو خرچ کرتی ہوں کیا وہ خیرات میں جمع ہو گا ؟ عبد اللہؓ نے کہہ دیا کہ نبی کریمؐ سے تم ہی پوچھ لو۔ اس لئے میں نے ‏نبی کریم ؐ کے پاس گئی ۔ آپ کے دہلیز پر ایک انصاری عورت تھی۔ اس کی بھی میرا ہی مقصد تھا۔ اس وقت بلالؓ آئے۔ ہم نے ان سے کہا کہ نبی ‏کریمؐ سے پوچھ کر آؤ کہ میرے شوہر اور میری ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو جو میں خرچ کرتی ہوں ، کیا وہ خیرات میں جمع ہوگا؟ اور کہا کہ نبی ‏سے مت کہو کہ ہم کون ہیں؟ تو وہ اندر جاکر نبی سے سوال کئے تو آپ نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟بلال نے کہہ دیاکہ وہ زینب ہیں۔ نبی کریم ؐ نے پوچھا ‏کونسی زینب؟ بلال نے کہا عبد اللہ کی بیوی زینب۔ تو نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہاں، زینب کو دوہرا ثواب ہے۔ ایک رشتہ داروں کو دیکھ بھال کر نے کی اور ‏دوسری خیرات کی۔

بخاری: 1466

نبی کریم ؐ کے پاس دینی مسئلہ لے کر آنے والی دونوں عورتیں بلالؓ کے پاس درخواست کر تی ہیں کہ نبی سے مت کہو کہ ہم کون ہیں۔وہ دونوں ‏عورتیں اگر نقاب پہنی ہوتیں تو وہ بلال ہی کو چھپا دی ہو تیں کہ وہ کون ہیں۔ لیکن وہ دونوں چہروں کو کھلا رکھتے ہوئے آنے کی وجہ سے بلال نے ‏پہچان لیاہوگا کہ وہ کون ہیں؟ انہیں بلال نے جان لینے کی وجہ ہی سے وہ دونوں عورتیں گھر کے اندر نبی سے اپنے بارے میں نہ کہنے کو درخواست کی ‏تھیں۔ 

یہ واقعہ بھی ایک دلیل ہے کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں عورتیں چہرہ چھپائے بغیر ہی رہے ۔

عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا:

اللہ کے رسول ؐ کے زمانے میں مرد اور عورتیں مل کر ہی (ایک جگہ میں)وضو کیا کر تے تھے۔ 

بخاری: 193

مرد اور عورتیں ایک ہی جگہ پر مل کر وضو کرتے تھے تو عورتوں کے چہرے کو مرد دیکھے بغیر نہیں رہ سکتے۔چہرے کو چھپاتے ہوئے وضو نہیں کر ‏سکتے۔ 

سہل بن سعدؓ نے فرمایا: 

ایک عورت اللہ کے رسول کے پاس آکر کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کوتمہیں سونپنے کے لئے آئی ہوں۔ اللہ کے رسول نے اس ‏کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور پھر اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیا۔ پھر اپنے سر کو جھکا لیا۔ اللہ کے رسول نے اپنے معاملے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکے، یہ جان ‏کر وہ عورت وہیں بیٹھ گئی۔ جب ایک صحابی نے اٹھ کر نبی کریمؐ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! یہ عورت اگر تمہیں ضرورت نہیں تو اس کو مجھ سے ‏نکاح کرادو۔ (یہ بہت لمبے ایک حدیث کی اختصار ہے)۔ 

بخاری: 5030

اس واقعے میں وہ عورت نبی کے سامنے آتے وقت نقاب اوڑھے بغیر ہی آئی تھی، یہ صاف معلوم ہو تا ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریمؐ نے اس عورت کو ‏دیکھا۔ وہی نہیں بلکہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تمام صحابیوں نے بھی دیکھا۔ 

ان میں سے ایک صحابی اٹھ کر درخواست کر تے ہیں کہ اس عورت کو اپنے سے نکاح کرادو۔ اس عورت کا چہرہ ان صحابی کو گرویدہ کر لیا، اسی لئے وہ ‏نبی کے پاس التجا کر تے ہیں۔ کیونکہ نبی کا فرمان ہے کہ شادی کر نے والے دلہن کے چہرے کو دیکھنا چاہئے۔اگر نقاب اوڑھنا ضروری ہو تا تو اصحاب ‏رسول کے ساتھ نبی کریم ؐ کی محفل کو وہ نقاب اوڑھے بغیر نہیں آتی۔ اور نبی کریم ؐ بھی اس کو اجازت نہیں دئے ہوں گے۔ 

انس بن مالکؓ نے اپنے گھر والوں میں سے ایک عورت سے پوچھا کہ کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ اس نے کہاکہ ہاں جانتی ہوں ۔ انسؓ نے کہا کہ ‏اس نے ایک قبر کے پاس کھڑے ہوئے رورہی تھی، اس وقت نبی کریمؐ وہاں سے گزرے۔ اس کو دیکھ کر نبی کریم ؐ نے کہا کہ اللہ سے ڈرو۔ اورصبر ‏اختیار کرو۔ اس عورت نے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ جو مصیبت مجھ پر گزری ہے وہ تم پر گزری نہیں، اسی لئے تم اس طرح بات کر تے ہو۔نبی ‏کریمؐ نے وہ سن کر خاموشی سے گزر گئے۔ اس وقت ایک آدمی کی گزر ادھر سے ہوئی۔ اس نے اس عورت سے پوچھا کہ انہوں نے تم سے کیاکہا؟ ‏اس عورت نے کہا کہ وہ کون ہیں، مجھے معلوم نہیں۔اس آدمی نے کہا کہ وہی اللہ کے رسول ہیں۔ اس عورت نے فوراً نبی کریم ؐ کے گھر گئی۔ وہاں پر ‏کوئی دربان نہیں تھا۔اس نے نبی کریم ؐ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، آپ کون ہیں، میں نہیں جانتی تھی۔ نبی کریمؐ نے فرمایاکہ ‏مصیبت آنے کے پہلے ہی لمحے میں صبر کو اپنا لینا چاہئے۔ (بخاری: 7154)

قبر کے قریب روتی ہوئی عورت کو نبی کریمؐ نے نصیحت کر نے کا واقعہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ہوا تھا۔ اس کے بعد کے زمانے میں انسؓ اپنے گھر ‏والوں سے دریافت کر تے ہیں کہ کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ؐ نے جس عورت کو نصیحت کی تھی اس ‏عورت کو انسؓ نے دیکھا تھا۔ 

قبر کے قریب بیٹھی ہوئی عور ت کا چہرے پردے میں چھپا ہوا ہو تا انسؓ نے اس عورت کا چہرہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ قبر کے قریب وہ عورت روتی ‏ہوئی بیٹھی تھی، اس وقت بھی انس نے اس عورت کے چہرے کو دیکھا تھا، نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد بھی اس عورت کے چہرے کو انہوں نے ‏دیکھا ہے،اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے۔

کنیزوں کے سوا دوسری عورتیں اس کے بعد تمہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید یہ کہ (بیویوں کو طلاق دے کر)ان کے عوض میں دوسری ‏عورتوں کو بیوی بنا لینا نہیں چاہئے، ان کی خوبصورتی تمہیں گرویدہ بھی کرلیں۔اللہ ہرچیز پر نگہبان ہے۔

قرآن مجید: 33:52

اس آیت میں اللہ نے نبی کریمؐ کو حکم دیتا ہے کہ عورتوں کا حسن تمہیں گرویدہ بھی کرلیں تودوسری عورتوں سے شادی نہ کریں۔اگریہ قانون ہو تا ‏کہ عورتیں چہروں کو چھپائے رکھیں تو یہ جملہ کہ ان کا حسن تمہیں گرویدہ بھی کر لیں ، یہاں بے معنی ہو جا ئیگا۔

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نبی کے زمانے میں عورتوں کاچہرہ دکھائی دیتا تھا۔ 

جریر بن عبد اللہؓ نے کہا تھا :

اتفاقاً(غیر عورت پر) نظر پڑ جانے کے بارے میں میں نے اللہ کے رسول ؐ سے پوچھا۔تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر کو فوراً پھیر لوں۔ 

مسلم: 4363

اگر عورتیں چہروں کو چھپانے والی ہو تیں تو غیر عورتوں کو دیکھ کرنگاہوں کو پھیر لینے کی ضرورت ہی نہیں۔ 

ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں: 

نبی کریم ؐ نے کہا کہ گلیوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم وہاں بیٹھنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ ہم بیٹھ کر بات کرنے کی محفل ‏وہی ہے۔ نبی کریمؐ نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو تمہاری محفل کو آتے وقت اس گلی کا حق دے دیا کرو۔لوگوں نے پوچھا کہ گلی کا حق کیا ہو تا ہے؟ نبی کریم ؐ ‏نے فرمایا کہ گلی کا حق یہ ہوتا ہے کہ (غیر عورتوں کو بغیر دیکھے) نگاہوں کو نیچی کر لینا، راستے میں جا نے والوں کو( اقوال سے اور احوال سے ) ‏تکلیف نہ پہنچانا، سلام کو جواب دینا، بھلائی کی ترغیب دینا اور برائی سے روکناوغیرہ۔ 

بخاری: 2465

ان دلیلوں سے ظاہر ہو تا ہے کہ نبی کریمؐ کے زمانے میں عورتیں چہرے کو چھپائے بغیر عام راستوں میں آتے رہیں ہیں۔

انس بن مالکؓ نے فرمایا: میری ماں ام سلیمؓ کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی۔ (ایک بار) اللہ کے رسول ؐ نے اس لڑکی کودیکھا اور کہا کہ کیا وہ تم ہو؟ ‏بہت بڑی ہو گئی ہو؟ تیری عمر بڑھے بغیر ہی رہے!وہ یتیم لڑکی روتے ہوئے ام سلیمؓ کے پاس واپس گئی ۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ اس لڑکی نے کہا ‏کہ اللہ کے رسول نے میرے خلاف دعا فرمادی کہ میری عمر کبھی نہ بڑھے! اب میری عمر کبھی نہیں بڑھے گی۔ تو فوراً ام سلیم نے اپنے نقاب کوسر ‏پر لپیٹے ہوئے بہت تیزی سے اللہ کے رسول کی طرف چلے۔ اللہ کے رسول ؐ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ اے ام سلیم!تمہیں کیا ہوگیا؟ (مختصراً)

مسلم: 5073

نقاب اوڑھے ہو ئے آ نے والے ام سلیم ؐکو دیکھ کر نبی کریم ؐ نے پوچھاکہ اے ام سلیم! تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ چہرہ دکھائی دینے کی وجہ ہی سے اس ‏طرح سوال کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہرہ چھپا ہو تا تو نبی کو معلوم نہ ہو تا کہ وہ عورت کون ہے؟ اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ام سلیمؓ کا چہرہ چھپا ‏نہیں تھا۔

عطاء بن ابی رباح ؒ نے فرمایا: ابن عباسؓ نے مجھ سے پوچھاکہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت کو دکھاؤں؟ میں نے ہاں کہا۔تو انہوں نے ایک کالے ‏رنگ کی عورت کو دکھا کر کہا کہ یہی وہ عورت ہے۔ یہ عورت ایک بارنبی کریمؐ کے پاس آکر کہا کہ میں بار بار مرگی کی بیماری سے تکلیف اٹھا رہی ‏ہوں۔ اس وقت (میرے جسم سے لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جا تا ہے۔ اس لئے میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے! تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ اگر تم چاہو ‏تو صبر سے کام لے سکتی ہو۔ (اس کے عوض میں) تمہیں جنت ملے گی۔ اگر تم چاہو تو میں تمہاری صحت کے لئے اللہ کے پاس دعا کر تا ہوں۔ اس ‏عورت نے کہا کہ میں صبر سے رہ جاتی ہوں۔ لیکن (مرگی آتے وقت لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جاتا ہے۔ اس لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ میرا جسم ‏نہ کھلے۔ اسی طرح نبی کریم ؐ نے اس عورت کے لئے دعا کی۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا: میں ام صفرکو دیکھا۔وہی کعبہ کے پردہ پر (جھکے ہوئے ‏بیٹھی)کالی اوراونچی عورت ہے۔ (بخاری:565)

ابن عباسؓ نے نبی کریم ؐ کے زمانے میں بھی ام صفرؓ کودیکھا تھا۔

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد عطاء بن ابی رباح کو ابن عباسؓ نے ام صفر کوتعارف کرارہے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں ام صفر کو ابن عباس کو دیکھنے کی وجہ ہی سے نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد بھی انہیں پہچان لیتے ہیں۔ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ‏ام صفرؓ اپنے چہرے کواگر چھپائے ہو تے تو ابن عباسؓ نبی کے زمانے میں بھی اور بعد کے زمانے میں بھی ام صفرؓ کو پہچانے نہیں ہوں گے۔ 

ام صفرؓ اگر اپنے چہرے کو چھپائے ہو تے تو ابن عباسؓ کہہ نہیں سکتے تھے کہ وہ ایک کالے رنگ کی عورت تھی۔ 

اس سے ہم واضح طور سے جان سکتے ہیں کہ ام صفرؓ نبی کے زمانے میں بھی اپنے چہرے کو چھپائے نہیں تھے اور نبی کے زمانے کے بعد بھی چھپائے ‏نہیں تھے۔ 

اس کے بعد ایک زمانے میں کعبہ کے پردہ پر جھکے ہوئے ام سفرؓ کو عطاء بن ابی رباح پہچان لیتے ہیں۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کے ذریعے جنتی عورت کہلائے جانے والی ام صفرؓ نے نبی کے زمانے میں اور اس کے بعد کے زمانے میں بھی اپنے ‏چہرے کو چھپائے ہوئے نہیں تھے۔اور یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں صحابیات کوئی اپنے چہروں کو چھپائی نہیں تھیں۔ 

اپنے گھروں میں، اپنے باپوں کے گھروں میں، اپنی ماؤں کے گھروں میں، اپنے بھائیوں کے گھروں میں، اپنی بہنوں کے گھروں میں، اپنے چچاؤں کے ‏گھروں میں، اپنی پھوپھیوں کے گھروں میں، اپنے مامؤں کے گھروں میں، اپنی خالاؤں کے گھروں میں، یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہواس میں، ‏اپنے دوستوں کے گھروں میں کھانا تم پر کوئی گناہ نہیں۔مریضوں پر بھی کوئی گناہ نہیں، اپاہجوں پر بھی کوئی گناہ نہیں، اندھوں پر بھی کوئی گناہ ‏نہیں۔تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ گھروں کے اندر داخل ہو تے وقت اللہ کی طرف سے بابرکت اور پاکیزہ عطیہ سمجھ کر ‏تم اپنے ہی اوپر سلام کر لیا کرو۔ تمہیں سمجھانے کے لئے اللہ نے اسی طرح تمہارے لئے آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ 

قرآن مجید: 24:61

یہ آیت دوسروں کے گھروں میں کھانے کے آداب کے متعلق کہتا ہے۔ کیاایک انسان دوسری ایک خاندان والوں کے ساتھ مل کر کھا سکتا ہے، یہ ‏آیت اسی سوال کا جواب ہے۔

ایک انسان اپنے والدین کے گھر میں کھا سکتا ہے۔ اسی طرح بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، مامؤں جیسے رشتہ داروں کے گھر میں مرد اور عورتیں تمام مل ‏کر یا الگ الگ بھی کھا سکتے ہیں۔ 

اسی طرح اگرقریبی دوست ہوں تودونوں خاندان مل کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ 

اسی طرح قریبی رشتہ دار اور خاص دوست نہ بھی ہوں ، ان اندھوں، اپاہجوں اور مریضوں کوبھی اپنے ساتھ ملا لے سکتے ہیں۔ یہی اس آیت کی واضح ‏رائے ہے۔ 

غیر مرداور عورتیں تنہائی میں رہنے کو ممانعت کر نے والا اسلام کہتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھا سکتے ہیں، وہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ ‏چہرہ اگر کھلا ہو گا تو ہی کھانے کا نوالہ منہ میں لیا جا سکتا ہے۔ 

اسی وقت اسلام کی منع کی ہوئی لباس پہننے اور مرد اور عورت ایک سے ایک جم کر بالکل قریب ہو نے سے دور رہنا چاہئے۔

ایک ہی گھر میں رہنے والے رشتہ دار مل کر بیٹھے ہوئے کھاتے وقت چہرہ اور ہاتھ ضرور ظاہر ہوگا۔ 

اس آیت کو بعض لوگ شرح کرتے ہوئے قرآن کو بے معنی کر دیتے ہیں۔ یعنی ان کی وضاحت یہی ہے کہ مرد مردوں کے ساتھ اور عورت ‏عورتوں کے مل کر کھانے کے بارے میں ہی یہ آیت کہتی ہے۔ 

عام طور سے یہ آیت کہتی ہے کہ مل کر کھا سکتے ہیں، تو اس سے مرادیہ لینا کہ مرد کے ساتھ مل کر مردکھائیں تو یہ زبردستی کا ٹھونسنا ہوگا۔

عورت عورتوں کے ساتھ اور مرد مردوں کے ساتھ مل کر کھانا یہ تو معمولی بات ہے۔ اس آیت میں جو کہا گیا ہے رشتہ دار اور دوست لوگ ہی ‏نہیں بلکہ اس میں جو کہا نہیں گیا ان مردوں کے ساتھ مرد اور ان عورتوں کے ساتھ عورت بھی مل کر کھا سکتے ہیں۔کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ‏جو کہا نہیں گیا ان دیگر مردوں کے ساتھ مل کر کھانا نہیں چاہئے؟ اور اسی طرح جو کہا نہیں گیا ان عورتوں سے مل کر کھا نا نہیں چاہئے؟ 

ان لوگوں کی وضاحت قرآن مجید کو بے معنی کر دے گا۔ 

اگر عورتوں کا چہرہ ضرور چھپانے کاہوتا تواس کو پیدا کر نے والا اللہ ضرور اجازت نہیں دیا ہوتا۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں بھی اپنے گھر کو آنے والے مہمانوں کے سامنے صحابیات نے کھانے میں شامل ہوئے ہیں۔ اس کو اس حدیث سے معلوم کر ‏سکتے ہیں:

ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ؐ کے پاس مہمان بن کر آئے۔ نبی کریمؐ نے اپنی بیویوں کوخبر بھیجا۔ تب انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پانی ‏کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تو اللہ کے رسول ؐ نے اپنے صحابیوں سے کہاکہ ان کو اپنے ساتھ شامل کر نے والا کون ہے؟ یا انہیں اپنا مہمان بنانے والا ‏کون ہے؟ تب ایک انصاری نے مان لیااور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اللہ کے رسول ؐ کے مہمان کی توقیر کرو۔ ‏ان کی بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس اپنے بچوں کی ٖغذا کے سوا دوسرا کچھ بھی نہیں ہے۔تو وہ انصاری صحابی نے کہا کہ تم ان کے لئے غذاکی بندوبست کر ‏و، بعد میں چراغ( جلا نے کے بہانے )بجھادو۔ اگر تمہارے بچے کھانے کی خوا ہش کر یں توانہیں کسی طرح سلادو۔ اسی طرح ان کی بیوی نے کھانا ‏تیار کیا، چراغ جلایا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر چراغ کو درست کر نے کے بہانے اس کو بجھادیا۔ پھر میاں بیوی دونوں اس مہمان کے ساتھ مل کر بیٹھے ‏اورکھانے کا بہانہ کر نے لگے۔اس کے بعد دونوں (کھائے بغیر ہی) خالی پیٹ رات گزارا۔ صبح ہوتے ہی وہ انصاری نبی کریم ؐ کے پاس گئے۔ نبی ‏کریم ؐ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ تم نے جو رات عمل کیا اسے دیکھ کر اللہ نے(خوشی سے) مسکرایا یا تعجب کیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ اپنے ہی لئے ضرورت ‏رہنے کے باوجود اپنے سے زیادہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں۔حقیقت میں جو لوگ اپنے دل کو بخیلی سے بچا لیا وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (59:9)

بخاری: 3798

وہ صحابی اور ان کی بیوی نے اس مہمان کو (کھانے میں شامل ہو نے کی طرح)دکھایا، یہ جملہ بہت غور طلب ہے۔ 

کھانے کی طرح بہانہ کر نے کو اگر اندھیرے میں بھی مہمان جان سکتا ہے تو ضرور وہ چہرے کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی دوسری رائے ‏نہیں ہو سکتی۔ 

چراغ بجھانے سے پہلے مہمان کے لئے جب کھانا انتظام کیا جاتا تھا اور جب چراغ کو درست کر نے کابہانہ کیا جاتا تھا تواس وقت اس صحابی عورت کا ‏چہرہ اس مہمان کو صاف طور سے دکھا ہو گا۔

اگر عورتوں کا چہرہ ظاہر ہو نے سے منع کیا گیا ہوتاتو ان صحابی مرد و عورت کے عمل کو اللہ نے تعریف نہیں کیا ہوتا۔ 

غیر کے سامنے اس عورت کا چہرہ دکھائی دینے کے باوجود ان کے عمل کو اللہ نے تعریف کی ہے تو چہرے کو ظاہر کر نا ہی شریعت کی اجازت کا عمل ‏ہے، اس کو ہم صاف معلوم کر سکتے ہیں۔ 

چہرے کو چھپانا ہی ہے کے منشا رکھنے والے چند حدیثوں کو اپنا دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ احرام باندھی ہوئی عورت نقاب نہیں پہننا چاہئے۔ 

راوی: ابن عمرؓ 

بخاری: 1838

نقاب پہننے کی عادت نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے کی وجہ ہی سے احرام کے وقت نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ صرف احرام کے وقت اس کو پہننا نہیں۔ ان ‏لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے دوسرے اوقات میں چہرے کو چھپانا ضروری ہے۔ 

آؤ دیکھیں، کیا ان کا دعویٰ ٹھیک ہے؟ 

احرام باندھتے وقت اگر چہرے کو چھپانا نہیں تواس کا مطلب ہے دوسرے وقت پرچھپانا چاہئے۔اللہ کا جو حکم ہے کہ عورت پہچانا جانا چاہئے، وہ اس ‏کے خلاف ہوگا۔ 

کیا اس آیت کے مطابق معنی سمجھنا ممکن ہے تو ضرو راس کے لئے جگہ ہے۔ 

مثال کے طور پر 24:31 کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری عورتیں شائستگی چاہتی ہوں توانہیں زناکاری کے لئے جبر نہ کرو۔ 

اگر عورتیں نیک اخلاق کو نہ چاہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ انہیں زناکاری کے لئے جبر کر سکتے ہیں۔یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ بد اخلاق کو بد ‏کاری کے لئے جبر کرنے سے زیادہ شائستہ عورتوں کو جبر کر نا بہت سخت گناہ ہو گا۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ تمہارے پڑوسی کی بیوی سے بد کاری کر نا بہت بڑا گناہ ہے۔(دیکھئے بخاری: 4207)

اسے کوئی ایسا نہ سمجھے گا کہ پڑوسی کی بیوی کے سوا دوسری عورتوں سے بدکاری کرنا چھوٹا گناہ ہے یا گناہ ہی نہیں ہے۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ ‏دوسروں سے بد کاری کر نے سے زیادہ اس میں اعتماد کوشدید ٹھیس پہنچنے کی وجہ سے اس کو اہمیت دیا گیا ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ عورتیں چہرے کوچھپائے بغیر جلباب پہننا چاہئے ، اس لئے حج کے موقع پر بھی سہی اور دوسری وقتوں میں بھی سہی چہرہ چھپانا نہیں ‏چاہئے۔ لیکن حج کے اوقات میں اللہ کے اس حکم کو بہت ہی خصوصیت کے ساتھ اتباع کرنا چاہئے، اسی کو نبی کریمؐ نے فرمایا ہے۔ اس طرح سمجھنا ہی ‏قرآن مجید کی موزوں تشریح ہوگی۔ 

چہرے کو چھپانا چاہئے، اس عقیدے والے دلیل کے طور پر اس آیت کو پیش کر تے ہیں۔

مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اور اپنی زینت جو ظاہر ہو جائے اس کے سوااور کچھ ظاہر نہ ‏کریں۔ اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔ 

قرآن مجید: 24:31

ہم نے جو دوپٹہ کہا ہے اس کو عربی متن میں خمر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔خمار اس کا واحد ہے۔ خمار کے معنی سر اور چہرہ تمام کو چھپانے والا لباس کہہ کر ‏انہوں نے اس آیت کو بھی وہ اپنے لئے دلیل ثابت کر تے ہیں۔ 

اس آیت میں عام طور پر ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ دوپٹے ڈال لیا کرو، بلکہ ایسا کہا گیا ہے کہ اپنے سینوں پر ڈال لیا کرو۔ اگر کہا گیا ہو تا کہ چہرے پر ڈال لو ‏تو اسی وقت چہروں کو چھپا نے کے لئے اس آیت کو سند بتا سکتے ہو۔لیکن اس طرح کہا نہ جانے کی وجہ سے چہروں کو چھپانے کے لئے اس آیت کو سند ‏نہیں دے سکتے۔ 

خمار کا براہ راست معنی چھپانے کی ہیں۔ اس لفظ کو سرکو چھپانے یا صورت کو چھپانے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جگہ کے لحاظ سے دونوں ‏میں ایک معنی لیا جا سکتا ہے۔ 

ابن حجر نے خمار کے لفظ کو اپنی کتاب فتح الباری میں ایک جگہ پر سر کو چھپانے کا لباس، دوسری ایک جگہ پر چہرے کو چھپانے کا لباس کہا ہے۔ 

اسی طرح عربی لغات کی کتابوں میں اور حدیثوں میں بھی کہا گیا ہے۔ المعجم الوصید اور لسان العرب نامی عربی لغات کی کتابوں میں بھی کہا گیا ہے کہ ‏عورتوں کی خمار وہ اپنے سروں کو چھپانے والے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ 

اوپر کی آیت میں خمار کو ڈال لیں کہنے کے بجائے واضح طور سے کہا گیا ہے کہ خمار کو وہ اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔اس لئے اس جگہ پر چہروں کو ‏چھپانے والا لباس کہنا غلط ہے۔ سر کو چھپانے والا لباس کہنا ہی صحیح ہوگا۔ 

خمار کو سر کے کپڑے کے معنی ہی میں حدیثوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے:

سن بلوغ کو پہنچی ہوئی عورت دوپٹہ کے ساتھ ہی نماز پڑھے، ورنہ اس کی نماز کو اللہ قبول نہیں کرے گا۔ 

یہ عائشہؓ کی روایت ہے۔

ابو داؤد کی حدیث: 5460

یہ حدیث کہتی ہے کہ عورتیں نماز پڑھتے وقت دوپٹے کے ساتھ پڑھیں۔ہم نے جو دوپٹہ لکھا ہے اس جگہ پر خمار کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ خمار کو ‏اگر چہرے کو چھپانے کا لباس کہہ کر غلط معنی لیا گیا تویہ غلط فیصلہ ہو جائے گا کہ عورتیں نماز کے وقت چہرہ کوچھپانا بہت ضروری ہے۔ 

عورتیں چہرے کو چھپانا چاہئے، اس عقیدے والے ایسا نہیں کہتے کہ نماز کے وقت بھی عورتیں چہرے کو چھپانا چاہئے۔اور اوپر کی حدیث میں جو ‏خمار کا لفظ ہے اس کو چہرے کو چھپانامعنی نہیں دیتے۔ بلکہ سر کو چھپانے کا لباس کا معنی ہی دیتے ہیں۔ 

عقبہ بن امرؓ نے کہا: 

میں نے نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ میری بہن پاپوش پہنے بغیر اورخمار اوڑھے بغیر حج کر نے کا ارادہ کیا ہے۔ تو اللہ کے رسول نے فرمایا کہ تم اپنی ‏بہن کو حکم دو کہ وہ خماراوڑھے اور سواری میں آئے۔ اور تین دن تک روزہ رکھے۔

ابو داؤد : 2865

نبی کریم ؐ نے حکم دیا کہ حج کر نے والی عورتیں چہرہ نہ چھپائیں۔اس حدیث کو ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ اس حدیث میں نبی کریم ؐ نے عقبہ بن عامرؓ کے ‏بہن کو حکم فرمایا ہے کہ وہ خمار اوڑھے۔

اگر خمار چہرے کو چھپانے والالباس ہو تا توحج میں جو منع کیا گیا تھا کہ چہرے کو چھپا نانہیں، خمار اوڑھنے کے لئے نبی کریم ؐ حکم فرمائے نہیں ہوں ‏گے۔ 

خمارصرف سرکو چھپانے والا لباس رہنے کی وجہ سے اس کو حج کے موقع پر اوڑھنے کے لئے نبی کریم ؐ اجازت فرمائی ہے۔

عورتیں چہرے کو چھپانا نبی کی بیویوں کے لئے قانون ہے، اس کو حاشیہ نمبر 500میں دیکھیں!

چہرے کو چھپانے سے آج کے دور میں جو برائیاں سرزد ہوں گی اس کو بھی ہم دھیان میں رکھنا چاہئے۔ 

غلطیاں کر نے کا ارادہ رکھنے والے اس نقاب کوسپر سا استعمال کر تے ہوئے بڑی دلیری سے عمل پیرا ہو تے ہیں۔اسی لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ چہرہ ‏چھپانا نہیں۔

غیر مسلم عورتیں اپنے عاشقوں کے ساتھ گھومتے وقت نقاب اوڑھ کر اپنے آپ کو چھپا لیتی ہیں۔ اس طرح نقاب اوڑھ کر بے راہ چلنے والی جوان ‏لڑکیاں اکثر مسلم لڑکیاں نہیں ہوتیں، یہی سچ ہے۔ 

چہرے چھپا لینے کوڈھال بنا کر لڑکیاں برائی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

طوائف کا پیشہ کر نے والی غیر مسلم عورتیں پولس سے بچنے کے لئے اپنے چہروں کو چھپالینے کو ڈھال بنا رکھا ہے۔

سماجی دشمنی کا کام کر نے والے مرد بھی عورتوں کی طرح نقاب اوڑھ کر برے کاموں میں مشغول ہو تے ہیں۔

اس طرح مختلف برائیاں جب چلتی ہیں تو جس میں برائی نہ ہو تو اسی کو ہم منتخب کر نا چاہئے۔ 

چہرہ چھپائے بغیر رہنے سے جو برائیاں چلتی ہیں اس سے کہیں زیادہ چہرے چھپانے سے برپا ہو تی ہیں۔ 

عورتوں کا چہرہ اور ہاتھ کے سوا دوسرے اعضاء غیر مردوں کے سامنے چھپانا چاہئے ۔ کیا وہ عورتوں کے حقوق کو چھین لینا ہوگا؟ اس کے بارے میں ‏جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 300دیکھیں!

More Articles …