Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏457۔ بائبل میں نبی کے بارے میں پیشنگوئی

‏اس آیت 61:6میں کہا گیا ہے کہ اپنے بعد آنے والے ایک رسول کے بارے میں عیسیٰ نبی نے ایک پیشنگوئی کی ہے اور ان کا نام ’’احمد‘‘ ‏ہے۔اس کے متعلق اس 7:157 میں بھی کہا گیا ہے۔

نبی کریم ؐ کا نام سب جانتے ہیں’’محمد‘‘ ہے ، اس کے باوجود آپ کا ایک اور نام ’’احمد‘‘ بھی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے خود اپنا نام ’’احمد‘‘ کہا ہے۔ 

بخاری: 3532، 4896

کلیسا نے بائبل میں مختلف تبدیلیاں کر نے کے باوجود جو بائبل باقی ہیں ان میں عیسیٰ نبی کی پیشنگوئی اور محمد نبی کے بارے میں اور بھی کئی پیشگوئیاں ‏موجود ہیں۔ 

عیسیٰ نبی کے زمانے میں بسنے والے یہود اپنی کتاب میں موجود پیشنگوئی کے مطابق تین آدمیوں کی آمد کے منتظر تھے۔ بائبل کی اس آیت سے تم ‏جان سکتے ہو۔

اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلیم سے کا بن اور لاوی یہ پوچھنے کو اسکے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ تواسنے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ ‏اقرار کیا میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو الیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نہیں ہوں ۔ کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب ‏دیا کہ نہیں۔پس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون؟ تا کہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ (43یوحنا ‏‏1:19,22)

یووان (یعنی یحیےٰ) نبی عیسیٰ کے زمانے میں زندہ تھے۔ عیسیٰ کو بپتسمہ انہیں نے کیا تھا۔وہ جب لوگوں کی اصلاحی کام میں مبتلا تھے تو اس وقت ‏یہودیوں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا تم کرسٹ ہو؟ یا یلیا ہو؟ یاپیغمبر ہو؟ اس سے ہمیں کیا معلوم ہو تا ہے؟ 

اس زمانے کے یہود جان رکھے تھے کہ دنیا کو سدھارنے کے لئے تین اشخاص آنے والے ہیں۔ اور اس بھروسہ میں تھے کہ ان تینوں میں اب تک ‏کوئی نہیںآیا،اس کے بعد ہی آنے والے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا تم کرسٹ ہو؟ یا یلیا ہو؟ یاپیغمبر ہو؟ 

اس طرح کے سوال سے عیسیٰ کو بھی سامناکرنا پڑا۔ تب انہوں نے کیا جواب دیا تھا؟

اس نے جواب میں کہا یلیا البتہ آئے گااور سب کچھ بحال کریگا۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آچکااور انہوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس ‏کے ساتھ کیا۔ اس طرح ابن آدم بھی ان کے بات سے دکھ اٹھائے گا۔تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ان سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بات کہا ‏ہے۔ 40متھی: 17:11-13

عیسیٰ جب اپنے کو کرسٹ کہا تو یہود نے شک کیا کہ اگر تم کرسٹ ہوتو تم سے پہلے یلیا آنا چاہئے تھا؟ یہ سچ ہے کہ یلیا آکر حالات کا اصلاح کر ے گا۔ ‏یلیا مجھ سے پہلے آچکے۔ وہی یووان ہے اور یووان ہی یلیا ہے، اس کو جانے بغیر انہیں لوگوں نے اذیت پہنچائی۔ یلیا کے بعد میں آیا ہوں، اس لئے میں ‏کرسٹ ہوں۔ اس آیت میں عیسیٰ نے یہی کہا تھا۔ 

اس وضاحت سے ان آیتوں کو پڑھنے والے صاف طورسے سمجھ سکتے ہیں۔یہاں سوال اٹھ سکتا ہے کہ یووان نے کیوں کہا کہ میں یلیا نہیں ‏ہوں؟یووان کو لوگوں نے اذیت پہنچانے کی وجہ سے وہ انکار کئے ہوں گے۔

آئیے اب اصل مقصد کو جانیں۔

یلیا کی آمد کا یہود منتظر تھے۔ وہ آگئے، وہی یووان تھے۔ 

یہود منتظر تھے کہ ان کے پیچھے ہی کرسٹ آنا چاہئے۔ وہ بھی آگئے، وہی عیسیٰ تھے۔ 

اب تو پیغمبر آنا چاہئے تھا؟ وہ کون ہے؟ یووان کے زمانے سے لے کر آج تک جو پیغمبر بن کر آئے وہ نبی کریم ؐ ہی ہیں۔ عیسیٰ کے بعد آنے والے پیغمبر ، ‏یعنی نبی کریم ؐ کواگر عیسائیاں قبول نہ کریں تواس کا مطلب ہو گا کہ وہ بائبل کی تعلیم کو انکار رہے ہیں۔ 

اس عقیدے کی بنیاد پر ہی جیروشیلم سے حجرت پپکر تے ہوئے یہود مدینہ میںآکر بس گئے۔اور پیغمبر کی آمد کی انتظارمیں تھے۔اگر ایسا نہ ہو تا تو ‏یہودیوں کو مدینہ آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

اسی طرح قدیم عہد نامہ میں بھی نبی کریم ؐ کے بارے میں کئی پیشنگوئیاں موجود ہیں۔ یہاں صرف ایک مثال پیش کر تے ہیں۔

تمام اسرائیلوں کو بلا کر موسیٰ نے تفصیل سے کہنے لگے کہ وہ لوگ کن چیزوں کی پیروی کریں اور کن چیزوں سے اجتناب کریں۔ اس کے ساتھ آنے ‏والے پیغمبر کے بارے میں بھی کہا۔

خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانندایک نبی برپا کرے گا۔تم اسکی سننا۔ 5استثنا : ‏‏18:15

اللہ نے موسیٰ سے وہی بات کہی:

اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیرے مانند ایک نبی برپا کروں گا اور ‏اپنا کلام اسکے منہ میں ڈالوں گااور جو کچھ اسے میں حکم دونگا وہی وہ انسے کہیگا۔

‏5استثنا: 18:17,18

مستقبل میں موسیٰ کی طرح آنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ آیتیں کہتی ہیں۔ یہودیوں کا بھروسہ ہے کہ موسیٰ کے بعد اس قوم کی رہنمائی ‏اور سردار بنے ہوئے یوسواہی کو یہ پیشنگوئی اشارہ کر تی ہے۔ لیکن عیسائیوں کا بھروسہ ہے کہ وہ عیسیٰ ہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 

اس پیشنگوئی میں استعمال کئے گئے لفظوں کو اگر غور سے دیکھو تو ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ یہ نہ تو یوسوا کی طرف اشارہ ہے اور نہ ہی عیسیٰ کی ‏طرف۔

وہ کس کی طرف اشارہ ہے، اسے معلوم کر نے سے پہلے ہمیں جان لینا ضروری ہے کہ وہ یوسوا کو بھی اشارہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی عیسیٰ کی طرف۔ 

اپنے بعد آنے والے ایک شخص کے بارے میں موسیٰ نے اسرائیلوں سے کہا۔ اسرائیلوں میں سے ایک دو کو بلا کر انہوں نے نہیں کہا۔ بلکہ اپاگمم ‏کہتی ہے کہ تمام اسرائیلوں کو بلا کر اس بات کو انہوں نے کہا۔ 

آنے والے اگر اسرائیلوں میں سے ایک ہو تے تو موسیٰ کس طرح کہنا چاہئے تھا؟ تم میں سے تمہارے لئے ، ایسا کہنا چاہئے تھا۔لیکن اس طرح کہنے ‏کے بجائے اپاگمم کہتی ہے کہ موسیٰ نے کہا کہ تمہارے لئے میرے بھائی کے ذریعے سے۔

تم میں سے وہ ظاہر ہوں گے ،کہنے کے بجائے موسیٰ نے کہا کہ وہ تمہارے بھائی کے ذریعے سے ظاہر ہوں گے۔ اسی لئے ہم واضح طور پر جان سکتے ‏ہیں کہ وہ پیغمبر اسرائیل کی نسل سے ظاہر نہیں ہوں گے۔ 

موسیٰ کے پاس اللہ نے جو کہا اس پر ذرا غور کریں۔وہ لفظ بھی اسی معنی سے ترکیب پائی ہے۔ ان لوگوں کے لئے یعنی اسرائیلوں کے لئے ایسا نہیں کہا ‏گیا ہے کہ ان ہی میں سے یعنی اسرائیل کی نسل ہی سے وہ ظاہر ہوں گے، ۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے بھائی کے ذریعے یعنی اسرائیل کے بھائی کی ‏نسل ہی سے وہ پیغمبر ظاہر ہوں گے۔

اس سے ہمیں یقینی طور پرمعلوم ہو تا ہے کہ آنے والے اسرائیل کی نسل سے نہیں ہوں گے،بلکہ اسرائیل کے بھائی کی نسل اسمویل کی نسل ہی سے ‏وہ ظاہر ہوں گے۔

یوسوا اسرائیل کی نسل والے ہیں، اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ 

نسل کے لحاظ سے عیسیٰ بھی اسرائیلی ہیں، اس لئے یہ پیشنگوئی ان کی طرف اشارہ نہیں ہوسکتی۔

اس لئے اسرائیلی نسل میں نہ ہو نے والے ایک شخص کے بارے میں کہنے والے یہ جملے اسرائیلی نسل کے ان دونوں شخص کے بارے میں ہر گز ‏اشارہ نہیں ہو سکتا۔ 

اس پیشنگوئی میں موسیٰ نے کہا کہ میری طرح ایک پیغمبر اور اللہ نے موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ تمہاری طرح ایک پیغمبر۔ اس سے معلوم ہو تا ‏ہے کہ آنے والے پیغمبر موسیٰ کی طرح ہونا چاہئے۔ 

موسیٰ کی طرح کا موازنہ پیغمبر کی بنیاد پر نہیں کہا گیا۔ بلکہ وہ موازنہ کہتا ہے ہر قسم سے وہ موسیٰ کی طرح پیغمبر ہوں گے۔

موسیٰ کے بعد عیسیٰ تک سالمون، یسکئیل اور دانئیل وغیرہ کئی پیغمبر گزرے ہیں۔ پیغمبر کے لحاظ سے یہ مثال دیاگیا ہے، اس لئے وہ پیشنگوئی ہر پیغمبر ‏کے لئے موزوں ہے، وہ صرف عیسیٰ کے لئے نہیں ہو سکتی۔ 

مزید یہ کہ موسیٰ کے بعد ایک پیغمبر نہیں، کئی پیغمبر گزرے ہیں۔ اس کے بارے میں اگر پیشنگوئی کر نا ہو تو تمہارے جیسے کئی پیغمبر ہی کہنا ‏چاہئے۔اس طرح کہنے کے بجائے ایک پیغمبر کہا گیا ہے۔اس لئے تمہارے جیسے ایک پیغمبر کہنا ہر لحاظ سے موسیٰ کی طرح رہنے والے مخصوص ایک ‏پیغمبر ہی کے لئے پیشنگوئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ 

کیا عیسیٰ ہر طریقے سے موسیٰ جیسے تھے؟ہر گز نہیں۔ 

عیسیٰ عجیب طرح سے پیدا ہوئے۔ لیکن موسیٰ اور محمد نبی دوسروں کی طرح ہی پیدا ہوئے۔

عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ نبی مجرد تھے۔ لیکن موسیٰ نبی اور محمد نبی ازدواجی زندگی بسر کئے ہوئے تھے۔

عیسیٰ نبی اپنی زندگی میں لوگوں سے تسلیم نہیں کئے تھے۔ لیکن موسیٰ نبی اور محمد نبی اپنی زندگی میں لوگوں سے مانے گئے تھے۔ 

عیسیٰ نبی نے حکومت نہیں کی، لیکن موسیٰ نبی اور محمد نبی سلطنت چلائے تھے۔ 

عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ نبی مر کر زندہ ہوئے تھے۔ لیکن موسیٰ نبی اور محمد نبی مر نے کے بعد زندہ نہیں ہوئے۔ 

عیسیٰ نبی کو جرمیاتی قانون نازل نہیں کیا گیا۔ لیکن موسیٰ نبی اور محمد نبی کو جرمیاتی قانون نازل کیا گیا تھا۔ 

اس لئے موسیٰ کی طرح کا جو پیشنگوئی آئی وہ محمد نبی ہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 

 ‏456۔ کیا عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے؟

‏یہ آیتیں 3:55، 4:156 کہتی ہیں کہ عیسیٰ کو صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔ 

عیسیٰ نامی مسیح کے متعلق اسلام کا عقیدہ اور عیسائیوں کے عقیدوں میں بہت فر ق موجود ہے۔ 

عیسیٰ کو یہود نے مارنے کی جو کوشش کی تھی اسے اسلا م مانتا ہے۔ لیکن وہ لوگ عیسیٰ کے بدلے میں کسی اور ہی کو قتل کیا تھا۔ اور قرآن کہتا ہے کہ وہ ‏زندہ ہی او پر اٹھالئے گئے۔

ہر کسی کو موت آنی ہی ہے۔ زمین میں دفن ہو نا ہی ہے۔ اللہ کے اس قانون کے مطابق عیسیٰ نبی آخری زمانے میں پھر زمین پر بھیجے جائیں گے اور ‏وفات پائیں گے۔ یہ بھی اسلام کا عقیدہ ہے۔

عیسیٰ کو صلیب پر چڑھایا گیا ، پھر تیسرے دن زندہ ہو کر آگئے۔اس طرح عیسائی جو یقین کر تے ہیں اس کو اسلام نہیں مانتا۔

بائبل کے دلیل کے لحاظ سے بھی دیکھا گیا تو اسلام کہنے کے مطابق ہی مضبوط دلیل موجود ہیں۔ 

عیسیٰ کے تاریخ کو لکھنے والے متی، مرقس، لوقا، یوحنا وغیرہ چاروں عیسیٰ نبی کے براہ راست شاگرد نہیں تھے۔ جو سنا تھا اسی کو انہوں نے لکھا تھا۔یہ ‏لکھنے والے کہ عیسیٰ کو صلیب پر چڑھایا گیا، اس کو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھا ۔

عیسیٰ نبی کے براہ راست شاگرد برنبا س تھے۔ عیسیٰ کو گرفتار کرتے وقت وہ ساتھ ہی تھے۔ ان کی لکھی ہوئی کتاب اسلام ہی کی طرح اس واقعے کو ‏سنا تی ہے۔اسی وجہ سے عیسائی مذہب کے پیشواؤں نے برنبا س کی کتاب کو رد کر دیا۔ 

برنبا س کے بارے میں بائبل میں جو بات کہی گئی ہے وہ ان کی اہمیت کو اجا گر کرتی ہے۔ 

دیکھئے اعمال کی آیتیں: 9:27، 11:21-26، 13:1,2، 13:7، 13:43، 13:44-47، 15:37، 15:38-41۔ 

اور دیکھئے ۔ 48گلتیوں 2:1;2:9,10

برنبا سکی اہمیت کو پولس بھی انکار نہیں کر سکے۔اس کوان آیتوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔ 

پولس کے برابراور ان سے بڑھ کر برنباس کی لکھی ہوئی گاسپل میں صلبی موت کے بارے میں وہ کہتے ہیں: 

‏215۔ ‏When the soldiers with Judas drew near to the place whee jesus was, ‎jesus heard the approach of many people, wherefore in fear he withdraw into ‎the house. And the eleven sleeping‏.

Then God, seeing the danger of his servant, commanded Gabriel, Michael, ‎Rafael, and Uriel, his ministers, to take Jesus out of the world‏. 

The holy angels came and took Jesus out by the window that looketh toward ‎the South. They bare him and placed him in the third heaven in the company ‎of angels blessing God for evermore‏. 

‏216. ‏Judas entered impetuously before all into the chamber whence jesus had ‎been taken up. And the disciple were sleeping. Whereupon the wonderful ‎God acted wonderfully, insomuch that Judas was so changed in speech and in ‎face to be like Jesus that we believed him to be Jesus. And he, having ‎awakened us, was seeking where the master was. Whereupon we marvelled, ‎and answered: 'Thou, Lord, art our master; hast thou now forgotten us‏?

And he, smiling, said: 'Now are ye foolish, that know not me to be Judas ‎Iscariot‏!'

And as he was saying this the soldiery entered and laid their hands upon ‎Judas, because he was in every way‏. 

We having heard Judas' saying, and seeing the multitude of soldiers, fled as ‎beside ourselves‏. 

And John, who was wrapped in a linen cloth, awoke and fled, and when a ‎soldierseized him by the linen cloth he left the linen cloth and fled naked. For ‎God heard the prayer of Jesus, and saved the eleven from evil‏. 

‏217. ‏The soldiers took Judas and bound him, not without derision. For he ‎truthfulluy denied that he was Jesus; and the soldiers, mocking him, said: ‎‎'Sir, fear not, for we are come to make thee king of Israel, and we have bound ‎thee because we know that thou dost refuse the kingdom‏.'

Judas answered: 'Now have ye lost your senses! ye are come to take Jesus of ‎Nazareth, with arms and lanterns as (against) a robber; and ye have bound me ‎that have guided you, to make me king‏!' 

‏‏215۔ عیسیٰ جہاں کھڑے تھے اس کے قریب یوداس اور اس کی فوج جب آکر پہنچے تو عیسیٰ نے لوگوں کی آواز کو سنا۔گھر سے باہر نکلے۔ خوف کی ‏وجہ سے وہ پھر گھر کے اندرچلے گئے۔اس وقت گیارہ حواری بھی سو رہے تھے۔ 

جب اللہ نے اپنے بندے کو آفت میں پھنسا ہوا دیکھا تواپنے فرشتے جبرئیل، میکائیل، رافعیل اور ارئیل کو حکم دیا کہ عیسیٰ کو زمین سے اوپر اٹھا لیا ‏جائے۔ 

جنوب کی طرف کھلی ہوئی کھڑکی کی طرف سے فرشتوں نے عیسیٰ کو اوپر اٹھالیا۔ اللہ کا فضل کبھی قائم رہنے والی فرشتوں کے ٹہرنے کی جگہ تیسرے ‏آسمان پر انہیں لایا گیا۔ 

‏216۔ عیسیٰ اٹھائے جانے کے بعد یوداس نے سب کے سامنے تیزی سے کمرے کے اندر گیا۔اس وقت تمام حواری نیند کی آغوش میں تھے۔ اس ‏وقت معجزہ دکھانے والے اللہ نے معجزہ ظاہر کیا۔ یوداس کی گفتگو اور اس کا چہرہ عیسیٰ کی طرح ہو گیا۔ ہم سب اس کو عیسیٰ ہی سمجھنے کی حالت کو پہنچ ‏گئے۔ ہمیں جگا کر اس نے پوچھا تمہارا استاد کہا ں ہے؟ جب ہم نے حیرت سے اس کو جواب دیا کہ اے ہمارے حاکم! آپ ہی تو ہمارے مالک ‏ہیں۔کیا آپ ہمیں بھول گئے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: میں ہی یوداس اسکاریات ہوں، اسے نہ جاننے والے تم بے وقوف ہو۔ 

اس وقت اس کی فوجیاں اندر گھس آئے۔ بالکل عیسیٰ جیسے دکھائی دینے والے یوداس کو انہوں نے پکڑ لیا۔ ہمیں گھیرے ہوئے فوجیوں کے ‏درمیان سے ہم بھاگنے لگے تو یوداس جو کہہ رہا تھا اس کوہم نے سنا۔ کتان کے کپڑوں میں لپٹا ہوا جان اٹھ کر جب بھاگنے لگا تو ایک فوجی نے اس کے ‏کپڑے کو پکڑ کر کھینچا تو اس نے اس کپڑے کو جھٹک کر بغیر کپڑے ہی کے وہ بھاگ نکلا۔ عیسیٰ کی دعا کو اللہ نے قبول کیا اور ان گیارہ لوگوں کو برائی ‏سے بچالیا گیا۔ 

‏217۔ فوجیاں یوادس کو زبردستی پکڑ رکھے تھے۔وہ تو انکار کر رہا تھا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں۔ فوجیاں اس کو مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ حضور! ڈرو ‏نہیں۔ ہم تمہیں اسرائیلوں کے بادشاہ بنانے کے لئے آئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بادشاہت کو تم انکار کردو گے، اسی لئے ہم نے تمہیں پکڑ رکھا ‏ہے۔ 

یوداس نے کہا کہ اب تم اپنی عقل کھو گئے ہو۔ تم نے ایک چور کو پکڑنے کی طرح نظارت کے عیسیٰ کو پکڑنے کے لئے اوزار اور چراغ لے کر آئے ‏ہو۔تمہیں راستہ دکھانے والے مجھ ہی کو بادشاہ بنانے کے لئے مجھے پکڑ رکھے ہو۔ 

اس واقعے کے وقت براہ راست آنکھوں سے دیکھنے والے برنبا کا یہ بیان قرآن مجید کی رائے سے مناسبت رکھتا ہے۔

عیسیٰ نبی گرفتار ہو نے سے پہلے انہوں نے اللہ سے رو رو کر دعا کی تھی۔

ان کی دعا یہی تھی: 

اس وقت یسوع ان کے ساتھ گتس منی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ میں وہاں جاکر دعا کروں۔ اور ‏پطرس اور زبدے کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیکر 

غمگین اور بیقرار ہونے لگا۔ اس وقت اسنے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے ۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے ۔تم یہاں ٹہرو اور ‏میرے ساتھ جاگتے رہو۔پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل گرکر یوں دعا کی کہ ائے میرے باپ ! ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔تو بھی نہ ‏جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہوا۔پھر شاگردوں کے پاس آکر ان کو سوتے پایااور پطرس سے کہا کیا تم میرے ساتھ ایک گھڑی ‏بھی نہ جاگ سکے؟ جاگواوردوعا کرو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو۔روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔ پھر دوبارہ اس نے جاکریوں دعاکی کہ اے ‏میرے باپ ! اگر یہ میرے پئے بغیر نہیں ٹل سکتا تو تیری مرضیے پوری ہو۔ اور آکر انہیں پھرسوتے پایا کیونکہ انکی آنکھیں۔ نیند سے بھریں تھی۔ ‏اور ان کو چھوڑکر پھر چلا گیا اور پھر وہی بات کہکر تیسری بار دعا کی۔

‏40متھی: 26:36-44

اور پطرس اور زبدے کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیکر 

غمگین اور بیقرار ہونے لگا۔ اس وقت اسنے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے ۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے ۔تم یہاں ٹہرو اور ‏میرے ساتھ جاگتے رہو۔پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل گرکر یوں دعا کی کہ ائے میرے باپ ! ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔تو بھی نہ ‏جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہوا۔

‏40متھی: 26:37-39 

دیگر کتابیں بھی اسی طرح کہتی ہیں۔ 

عیسیٰ نبی نے موت کے خوف سے خود کو حفاظت کے لئے رو رو کر دعا کرتے رہے، اسے اللہ قبول فرما کر انہیں حفاظت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی ‏مناسب دکھائی دیتا ہے۔ 

مزید یہ کہ سب کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے ہی عیسیٰ قربان ہوئے، یہ بائبل کے خلاف کا عقیدہ ہے۔ 

بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں ہر ایک اپنے ہی گناہ سے سبب سے مارا جائے۔

‏5استثنا: 24:16

بیٹا باپ کاگناہ کا بوج نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کے لئے ہوگی اور شریر کی شرارت شریر کے لئے۔

‏26 حزفی ایل 18:20

ان ایام میں پھر یوں نہ کہیں گے باپ دادانے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے ہوگئے۔کیونکہ ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے ‏مریگا۔ ہر ایک جو کچے انگور کھاتا ہے اس کے دانت کٹھے ہونگے۔

‏24یریمیا: 31:29,30

بائبل کہتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہی گناہوں کا بوجھ اٹھاناہے، ایسے میں دوسروں کی گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے عیسیٰ کا قربان ہو جا نا بائبل ہی کے ‏خلاف ہے۔ مزید یہ کہ عیسیٰ کو مرنا پسند نہیں تھا، اس سے بچنے ہی کی خواہش تھی۔اس کو ان کی دعاؤں سے ہم معلوم کر سکتے ہیں۔ 

اور یہ کہ وہ اپنے آ پ قربان نہیں ہوئے ، بلکہ بچ کر بھاگنے ہی کی کوشش کی۔اسی لئے انہیں ان کا شاگرد ہی نے پکڑوادیا۔ 

اور مشورہ کیا کہ یسوع کو فریب سے پکڑ کر قتل کریں

‏40متھی: 26:4

اس پر فریسیوں نے باہر جا کر اسکے بر خلاف مشورہ کیا کہ اسے کسطرح ہلاک کریں۔

‏40متھی: 12:14

دو دن کے بعدفسح اورعید فطیر ہونے والی تھی اور سردار کابن اورفقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اسے کیونکر فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔

‏41مر قس 14:1

اور سردار کابن اور فقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اسے کس طرح مارڈالیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔

‏42لوقا 22:2

اور اسکے پکڑوانے والے نے انہیں یہ نشان دیا تھا جسکا میں بوسہ لوں وہی ہے۔اسے پکڑ کر حفا ظت سے لے جانا۔وہ آکر فی الفور اس کے پاس گیا اور ‏کہا ائے ربی! اور اسکے بوسے لئے۔ انہوں نے اس پر ہاتھ ڈال کر اسے پکڑ لیا۔

‏41مرقس 14:44-46

لوگوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا نے کے لئے عیسیٰ نے اپنے آپ کو قربان کر دیا۔اگر یہ سچ ہو تا تو وہ اپنے آپ کو صلیب پر چڑھادیا ہوتا۔ یا ان کے دشمن ‏انہیں صلیب پر چڑھا کر انہیں قتل کر نے والے ہیں کی کیفیت سن کر اسے استقبال کر نا چاہئے تھا۔ ایسا نہ کر نے کے بجائے انہوں نے بھاگ کر کہیں ‏چھپ گئے۔ اسی لئے ان کے شاگردوں میں سے ایک کے ذریعے پکڑوانے کی نوبت پیدا ہوئی۔ کہیں چھپ کر روپوش زندگی جینے والے ہی کو ‏پکڑوانیے کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

اس لئے ہمیں اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ بائبل کے رائے کے مطابق عیسیٰ نبی دوسروں کی گناہوں کا بوجھ اٹھانے کی خواہش سے اپنے آپ کو ‏قربان نہیں کیا۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 101، 106 بھی دیکھئے!

 ‏455۔ بائبل کی نظر میں کس کوذبح کیاگیا؟ 

‏ابراھیم نبی اپنے دونوں بیٹوں اسمٰعیل ، اسحاق میں سے اسمٰعیل ہی کو ذبح کر نے کے لئے تیار ہو ئے، اس طرح مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ اس کے ‏متعلق ان11:71، 37:102 آیتوں میں کہا گیا ہے۔

اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 223 میں تشریح کی گئی ہے۔

عیسائی سمجھتے ہیں کہ ابراھیم نبی جس کو ذبح کر نے کے لئے آگے بڑھے وہ اسمعیل نہیں تھے بلکہ اسحاق ہی تھے۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بائبل ‏میں بھی ایساہی لکھا ہوا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اس کی حقیقت کو صاف طور سے سمجھ لینا ضروری ہے۔ 

اگر بائبل میں اس طرح لکھا بھی گیا ہو تو بعد کے زمانے میں بدل دیا گیا ہوگا۔اسحاق کو ذبح کر نے کے لئے لے جا یا گیا ہی تو ان کے جانشین مسیح کو ‏اس میں فضیلت ہے۔ اسماعیل کو ذبح کر نے کے لئے لے جایا گیا کہنے سے وہ فضیلت نبی کریم ؐ کو پہنچ جاتی ہے۔ اسی ڈر سے مذہبی پیشواؤں نے بائبل ‏میں اپنی دست درازی دکھا کر لکھ لیا کہ ذبح کر نے کو لے جانے والے اسحاق ہی تھے ۔

بائبل کو ذرا غور سے پڑھنے والے اس کو جان سکتے ہیں۔اسحاق ذبح ہو نے کو کہنے والی آیتوں کو دیکھو۔ 

‏1۔ ان باتوں کے بعد یوں ہوا کے خدانے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام اس نے کہا میں حاضر ہوں۔

‏2۔ تب اس نے کہا کہ ثو اپنے بیٹے اصحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریا کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ‏ایک پہاڑ یرجو میں تجھے بتاوں گا سوقتنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

‏1پیدایش 22:1,2 

‏12۔ پھر اسنے کہا کہ تو اپنا ہات لڑکے پر نہ چلا ااور نہ اس سے کچھ کر کیوں کہ اب میں جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اسلئے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو ‏تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔

‏1پیدایش22:12 

یہی بائبل میں اسحاق کوذبح کر نے کی دلیل ہے۔ 

ان آیتوں میں ذبح ہو نے والے اسحاق کہا جا نے کے باوجود ان کا لقب اکلوتابیٹا کہلایا جاتا ہے۔ 

ابرہام ذبح کر نے کی کوشش کر تے وقت اگر ایک ہی بیٹا ہوتا تو اسی وقت ہم اسے اکلوتاکہہ سکتے ہیں۔ 

اگر اسحاق بڑا بیٹا ہو تا توہی یہ ممکن ہے۔ اگر اسماعیل بڑا بیٹا ہوتا اور اسحاق چھوٹا بیٹا ہوتا تواسحاق ایک ہی بیٹا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ان کے ساتھ اسماعیل ‏بھی رہنے سے ویسا کہہ نہیں سکتے۔ 

بڑا بیٹا جو ہے وہی ایک ہی بیٹا ہو سکتا ہے۔ 

ان آیتوں کو دیکھئے!

‏16۔ اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمٰعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔ 

‏1پیدایش16:16 

‏24۔ ابرہام ننا نوے برس کا تھا جب اسکا ختنہ ہوا۔

‏25۔ اور جب اسکے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ہواتو وہ تیرہ برس کا تھا۔

‏26۔ ابرہام اور اسکے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ایک ہی دن ہوا۔

‏1پیدایش17:24-26 

‏4۔ابرہام نے خدا کے حکم کے مطابق اپنے بیٹے اصحاق کا ختنہ اس وقت کیا جب وہ آٹھ دن کا ہوا۔

؂

‏5۔ اور جب اسکا بیٹا اصحاق اسے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا۔

‏1پیدایش21:4,5 

ان آیتوں سے کیامعلوم ہو تا ہے؟ 

یہ آیتں کہتی ہیں کہ ابرہام کی چھیاسی عمر میں انہیں اسمعیل پیدا ہوئے۔ اور ان کی سوویں سال میں اسحاق پیدا ہوئے۔ یعنی اسماعیل سے اسحاق چودہ ‏سال چھوٹے تھے۔

چودہ سال تک اسماعیل ہی ابراھیم کے ایک ہی بیٹا ، یعنی ایکلوتارہے۔ اسحاق کسی موقع میں ایک ہی بیٹا نہ رہے، اور رہ بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں ‏اسماعیل جو ایک ہی بیٹا رہے اس کو بدل کر جان بوجھ کر اسحاق کا نام ڈالا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بدلتے وقت ایک ہی بیٹا کا لفظ کو ‏بدلنا بھول گئے اور پھنس گئے

اس لئے ذبح کر نے کے لئے لے جانے والے اسما عیل ہی تھے۔ اس کے ذریعے نبی کریم ؐ کو عظمت آجائے گی سمجھ کر اسماعیل کے نام کو مٹا کر اس ‏جگہ پر اسحاق کا نام درج کر دیا گیا۔ ہمیں اس ایک ہی بیٹا کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔ 

اس طرح کہہ کر دھوکہ نہیں دے سکتے کہ اسماعیل کنیز کو پیدا ہوئے ، اس لئے وہ بیٹے کی حیثیت کو پا نہیں سکتے ۔ کیونکہ نیچے کی یہ آیت واضح طور پر ‏کہتی ہے کہ اسماعیل اور اسحاق دونوں ابراھیم کی اولاد ہیں۔

ابرہام کو اسحاق جس طرح بیٹے تھے اسی طرح اسماعیل بھی ان کے بیٹے تھے۔ یہی اس آیت میں وضاحت سے کہی گئی ہے۔ 

 ‏454۔ بدکار بیوی سے الگ ہونا

‏کسی پر زناکاری کا جرم تھوپنے والے اس کے لئے چار گواہوں کو لانا ضروری ہے۔ اگرایسا لا نہ لاسکے تو الزام لگا نے والے پر اسّی کوڑے برسانا ‏چاہئے۔ یہی اسلام کی جرمیاتی قانون ہے۔لیکن بیوی پرشوہر اس طرح کاالزام لگاتے وقت اپنے الزام کو ثابت کر نے لئے اگر چار گواہ میسر نہ ہوں تو ‏کیا کرنا چاہئے، اس کو یہ 24:6-9آیتیں کہتی ہیں۔ 

بیوی پر بدکاری کا الزام لگانے والے شوہر کو اپنے سوا کوئی دوسرا گواہ نہ ہو تو یہ چار بار کہہ کر کہ جو کچھ میں کہتا ہوں بالکل سچ ہے، اللہ پر قسم کھانا ‏چاہئے۔ اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر میرا کہنا جھوٹ ہو گا تو اللہ کی لعنت مجھ پر برسے۔ 

اس کے بعد اس کی بیوی بھی چار باراللہ پر قسم کھا کر اسے انکار کر نا چاہئے۔ پانچویں بار وہ کہے کہ اگر میرا کہنا جھوٹ ہو گا تو مجھ پر اللہ کی لعنت ‏اترے۔ یہی تفصیل ان آیتوں میں کہا گیا ہے۔

اس طرح دونوں کہنے کے بعد دونوں کے درمیان جو نکاح کا بندھن تھا وہ خودبخودٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد وہ دونوں مل کر رہنے کی اجازت ‏نہیں۔ مزید یہ کہ شوہر اگر انکار کر ے کہ بیوی کو پیدا ہو نے والا بچہ میرا نہیں ہے تووہ بچہ ماں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ وہ اس کا بچہ نہیں کہلائے ‏گا۔ ماں کی جائداد کو وہ بچہ وارث ہو گا۔ باپ کی جائدا کو وہ وارث نہیں بنے گا۔ 

اس کے لئے یہ دلیل ہے:

نبی کریمؐ کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو دیکھ کر کیا وہ اس کو قتل کر سکتا ہے؟(اس ‏طرح اگر قتل کر دے تو انتقاماً )کیا تم اس کو قتل کر سکتے ہو؟ اگر نہیں تو وہ دوسراکیا کر ے؟ اس وقت اللہ نے ا ن شوہر بیوی کے سلسلہ میں ’’لعان‘‘ ‏کا قانون اتارا۔ نبی کریم ؐ نے اس شخص سے کہا کہ تمہا رے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد ان دونوں میاں بیوی ‏نے ’’لعان‘‘ کیا۔ اس وقت میں اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ تھا۔ وہ شخص اپنی بیوی سے جدا ہو گیا۔(اس دن سے) وہی واقعہ ’’لعان‘‘ کر نے والے ‏میاں بیوی کو جدا کر نے کے لئے ایک نمونہ بن گیا۔ وہ عورت حاملہ تھی۔ اس حمل کو ماننے سے شوہر نے انکار کر دیا۔ اس عورت کو پیدا ہو نے والا ‏لڑکا اسی کی نسبت سے اس عورت کا بیٹا کہلانے لگا۔ اس کے بعد وہ اس عورت سے اور یہ اس بیٹے سے اللہ نے جس طرح انتظام کیا تھا اسی کے مطابق ‏حصہ پانے کا وراثت کا قانون عمل میں آگیا۔ 

بخاری: 4746، 4748

سعیدبن زبیر ؒ نے فرمایا : 

میں نے ابن عمرؓ سے پوچھا کہ ایک شخص اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو اس کا قانون کیاہے؟انہوں نے کہا کہ بنو عجلان قبیلے کے زوجین دونوں ‏کو (اس طرح کی ایک حالت میں)نبی کریم ؐ نے الگ کر رکھا۔ پھر کہنے لگے کہ اللہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹاہے۔ اس ‏لئے تم میں سے کون ہے جو توبہ کر کے(اللہ کی طرف )لوٹتا ہے؟ فوراً وہ دونوں ہی انکار کیا۔ نبی کریمؐ نے پھر کہنے لگے کہ اللہ اچھی طرح سے جانتا ‏ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹاہے۔ اس لئے تم میں سے کون ہے جو توبہ کر کے(اللہ کی طرف )لوٹتا ہے؟تب بھی ان دونوں نے انکار کر دیا۔ ‏پھر تیسرے بار بھی نبی کریمؐ نے پھر کہنے لگے کہ اللہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹاہے۔ اس لئے تم میں سے کون ہے جو ‏توبہ کر کے(اللہ کی طرف )لوٹتا ہے؟تب بھی ان دونوں نے انکار کر دیا۔اسلئے نبی کریم ؐ ان دونوں کوجدا کردیا۔ 

اس کے راویوں میں سے ایک ایوب ؒ نے کہا:

امر بن دینارؒ نے مجھ سے کہاکہ اس حدیث میں سعید بن زبیر ؒ نے جو بات کہی تھی ، میں سمجھتا ہوں کہ اس نے نہیں کہا۔پھر انہوں نے کہا کہ اس ‏شخص نے پوچھاتھا ، میں نے جو مہر میں دیا تھا اس چیز کاکیا ہو گا؟ تو ان سے کہا گیا کہ (تم اپنی بیوی پر جو تہمت لگائے تھے ، اس میں ) تم اگر سچے ہو تو ‏پہلے ہی سے تم ازدواجی زندگی بسر کر چکے ہو ۔ (اس کے لئے وہ مہر برابر ہوجا ئے گا۔)اگرتم جھوٹ بولے ہو تو (بیوی سے لطف اندوز ہو تے ہوئے ‏الزام بھی لگا نے کی وجہ سے) وہ دولت تم سے چھوٹ کر بہت دور چلی گئی۔ 

بخاری: 5311

شوہر اس کو ظاہر کئے بغیر اس سے الگ ہونا چاہے تو طلاق دے کر الگ ہوسکتا ہے۔ 

یا اگر وہ معاف کر کے قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا تو اس کے لئے بھی اس کو حق دیا گیا ہے۔ 

 ‏453۔ جنت کو مٹا کر زمین میں پھر سے بنایاجائے گا

‏ان 14:48، 21:104، 39:67 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ آسمان اور زمین تمام کو مٹا کر بعد میں پھر سے دوسرے آسمان اور زمین کوپیدا کیا جا ‏ئے گا۔

اگر ایسا ہو تو سوال اٹھ سکتا ہے کی کیا جنت اور دوزخ کو بھی مٹادیا جائے گا؟

کئی حدیثوں میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ معراج کے سفر میں اور بھی کئی موقعوں میں جنت کو دیکھا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت پہلے ہی سے ‏پیدا کیا ہوا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ آسمان میں ہے۔ 

قرآن مجید کہتا ہے کہ شہداء فوراً جنت کو جا ئیں گے اورحدیثیں کہتی ہیں کہ سبز رنگ کے پرندے کی شکل میں وہ جنت میں گھوم پھر کر آئیں ‏گے۔اس سے بھی ہم جان سکتے ہیں کہ جنت پہلے ہی سے تخلیق کیا گیا ہے۔ 

لیکن دنیا فنا ہو نے کے وقت آسمان، زمین، جنت اور دوزخ تمام مٹادیا جائے گا،اس کے بعد پھر سے ایجاد کیا جا ئے گا۔ 

اللہ کا بھی یہی دستور ہے۔ 

پہلے پیدا کر نا ، اسے مٹانا اور پھر اسے پیدا کرنا ، اللہ نے اس بات کو اپنا خصوصی صفت ہی بتایا ہے۔ 

انسان خیال کر سکتا ہے کہ ہم نے ایک چیزکو خرید لیا، اگر وہ ٹوٹ جائے تو کیا دوسرا خرید سکتے ہیں؟ یادوسرا خریدنے کے لئے بہت تکلیف اٹھانا ‏پڑے گا۔لیکن کُن کے حکم سے بنانے کی قدرت رکھنے والے پروردگارکامعاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی لئے وہ مٹانے کے بعد پھر سے پیدا کر نے کو ‏فخرسے کہتا ہے۔ اس کو ان 10:4، 10:34، 27:64، 29:19، 30:11، 30:27، 85:13 آیتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

پہلے جیسا کہ کچھ بھی نہیں تھا اسی جیسا حال دنیاپھر سے پائیگا۔ پھر ابتداء سے اللہ پیدا کر یگا۔ اسی بات کو یہ آیتیں کہتی ہیں۔ ہم نے کسی دلیل کو نہیں ‏دیکھا کہ اس میں صرف جنت استثناء ہے۔

پہلے ہی سے جنت پیدا کئے جانے کے باوجود اس جنت کو مٹاکر دوسری جنت بنائی جا ئے گی۔اس جنت ہی کو جنتی لوگ جائیں گے۔ یہی رائے ٹھیک ‏ہے۔ 

یہ آیتیں14:48، 21:104 کہتی ہیں کہ دنیامٹتے وقت آسمان اور زمین مٹادی جائے گی اور پھر سے پیدا کیا جائے گا۔ 

آسمان مٹادی جائے گی میں جنت بھی مٹ جائے گی کا مفہوم موجود ہے۔ آسمان پھر سے پیدا کیا جائے گا میں جنت بھی پھر سے پیدا کیا جائے گا کا ‏مفہوم موجود ہے ۔ 

ان 3:133، 57:21 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ آخرت میں نیک لوگوں کو جو جنت حاصل ہو گی وہ آسمان کی جنت سے بہت ہی اعلیٰ ہو گی۔ 

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آسمان میں اب جو جنت موجود ہے وہ الگ ہے اور آسمانوں اور زمین کو اندر سمیٹے ہوئے بڑی وسعت والی جنت الگ ہے۔ 

ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا مٹائے جا نے کے بعد انسانوں کو پھر سے زندہ کیا جا ئے گا۔ اس 20:55آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ زمین ہی سے اٹھائے ‏جائیں گے۔ 

زمین ہی سے انسان پھر سے اٹھائے جائیں گے، اس کے لئے دلیل موجود ہے۔جہاں تک ہم جانتے ہیں ہمیں کوئی دلیل نہیں ملی کہ اٹھائے جا نے ‏کے بعد اوپر کو لے جائے جائیں گے۔ 

یہ آیتیں 7:25، 18:47,48، 20:55، 20:105-108، 30:25، 39:68,69، 54:6-8، 71:17,18 بالکل واضح ‏طور پر کہتی ہیں کہ اب جو جنت بنایا جائے گا وہ زمین پر ہی قائم کیا جائے گا۔

ان دلیلوں کو مرتب کرکے دیکھنے کے بعد معلوم ہو تا ہے کہ آسمان، زمین،جنت اور دوزخ وغیرہ تمام مٹ جائے گا، مٹ جانے کے بعد آسمان ایک ‏الگ آسمان اور زمین ایک الگ زمین میں بدل جائے گا۔ انسان زمین سے اٹھائے جا نے کی وجہ سے وہیں پر جنت بنائی جائے گی اور وہ زمین آسمان اور ‏زمین سے بہت بڑی ہوگی۔ 

‏452۔ گن کر کیوں بولا نہیں گیا؟ 

‏اللہ نے اس آیت 37:147میں یونس نبی کی قوم کی گنتی کے بارے میں کہتے ہوئے قطعیت سے ایک گنتی کہنے کے بجائے فرمایا ہے کہ ہم نے ‏ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔

قرآن میں نقص ڈھو نڈنے والے سوال کر تے ہیں کہ ایک انسان اس طرح انداز سے کہہ سکتا ہے، لیکن اللہ کو شک نہیں ہوناچاہئے کہ وہ لوگ کتنے ‏تھے۔ 

یہ سوال بالکل بے معنی ہے۔ ایک رسول کو بھیجنا ایک لمحے میں ختم ہو نے والاکام نہیں ہے۔ ان کا کام کئی سالوں تک متواتر چلنے کا کام ہے۔ اس ‏عرصے میں لوگوں کی گنتی بڑھتے ہی جائے گی۔ 

یونس نبی بھیجے جانے کے وقت میں ایک لاکھ لوگ رہتے وہ ان لوگوں کو تبلیغ کر نے کے زمانے میں ہر روز لوگوں کی گنتی بڑھ سکتی تھی۔ اس طرح ‏بڑھنے والے لوگوں کو بھی وہی رسول تھے۔ 

کوئی شخص سات کروڑ لوگوں کامالک اگر منتخب ہو تا، وہ اپنے عہدے کے آخری زمانے میں ساڑھے سات کروڑ لوگوں کا مالک بن گیا ہوتا۔ 

اس طرح اگر غور کرو تو تم جان جاؤگے کہ یہ اصطلاح کتنی خوبصورت انداز کا اصطلاح ہے۔ 

اگر قرآن کہتا کہ ایک لاکھ لوگوں کو ہم نے نبی بنا کر بھیجاتو یونس نبی کے زمانے میں کیا کوئی بھی بچے کو جنم نہیں دیاکا سوال اٹھاکر اللہ کے اس قول کو ‏جھوٹ کہہ دیا ہوتا۔ اسی لئے اللہ نے ایک مختلف اصطلاح استعمال کیاہے۔ یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اس کو اللہ ہی نے کہا ہے۔   

‏451۔ یاجوج ، ماجوج کون ہیں؟

‏ان18:94، 21:96 آیتوں میں یاجوج ماجوج کے بارے میں کہا گیا ہے ۔

دنیا فنا ہو نے کے قریب جو ایک گروہ نکلے گی ، وہی یاجوج ماجوج ہے۔ دنیا فنا ہو نے سے پہلے واقع ہونے والے دس نشانیوں کے بارے میں نبی کریم ؐ ‏نے پیشنگوئی کی تھی ، ان میں سے ایک یہ یاجوج ماجوج کی آمد بھی ہے۔ اس کے بارے میں نبی کریم ؐ نے واضح انداز سے فرمایا ہے۔ 

یہ جماعت بہت زمانے سے موجود ہیں۔ پہاڑوں سے گھرے ہوئے ایک حصہ میں وہ بسے ہوئے ہیں۔ ان پہاڑوں کے درمیان لوہے کے تختوں کو ‏جوڑ کر اس پر تانبا پگھلا کر ڈالاگیا ہے۔ اسے پا ر کر کے وہ لوگ آنہیں سکتے۔ اسے کرید کر بھی وہ باہرنہیں آ سکتے۔قیامت کے دن کے قریب وہ اس ‏رکاوٹ کو توڑ کر وہ لوگ باہر آئیں گے۔ایک سے ایک ٹکرانے کے انداز سے ان لوگوں کی گنتی بہت زیادہ ہوگی۔ اس کو ان 18:94-96 ‏آیتوں میں کہا گیا ہے۔ 

یہ آیت 21:96 کہتی ہے کہ آخر میں یاجوج و ماجوج کا وہ گروہ کوکھول دیا جائے گا۔ وہ فوراً (سیلاب کی طرح ہر ایک اونچائی سے )تیزی سے چلے ‏آئیں گے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ قیامت کے دن کے قریب ان کے لئے راستہ کھول دیا جائے گا۔اس کے متعلق نبی کریم ؐؐ اور بھی تفصیل سے کہا ہے:

‏’’اس وقت اللہ یاجوج وماجوج کے گروہ کو بھیجے گا۔ وہ لوگ ہر ایک اونچائی سے تیزی سے آئیں گے۔ ان میں سے پہلے آنے والے تبریہ نامی تالاب ‏سے پانی پئیں گے۔ پیچھے آنے والوں کو پانی نہیں ملے گا۔ اس وقت عیسیٰ نبی اوران کے ساتھی اس گروہ سے محاصرہ کئے جائیں گے۔ اس زمانے میں ‏ایک گائے کا سر آج کے سو سونے کے سکہ کے برابر دکھائی دینے کے انداز سے محاصرہ لمبا ہوگا۔ عیسیٰ نبی اللہ سے دعا کریں گے۔ یاجوج و ماجوج کا ‏گروہ یکسرمر جائیں گے۔پھر عیسیٰ نبی اور ان کے ساتھی کوہ طور سے نیچے اتریں گے۔ اس گروہ کا اجسام زمین میں اس طرح مر کر پڑا ہو گا کہ ایک ‏بالشت جگہ بھی باقی نہیں ہو گا اور سڑی بدبو پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس وقت عیسیٰ نبی اللہ کے پاس پھر سے دعا کریں گے۔

اس وقت اللہ اونٹ کی گردن کے مانند پرندوں کو بھیجے گا۔ وہ ان جسموں کو لے جا ئیں گے اور دور پھینک دیں گے۔ اس کے بعد اللہ بارش برسائے ‏گا۔بارش ایسی برسے گی کہ کھوٹا ہو یا مٹی کا گھر کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ وہ زمین کو آئینہ کی طرح پاک کر دیگی۔‘‘

نبی کریم ؐ نے فرمایا: یہ (اللہ کی طرف سے) زمین کوحکم دیاجائے گا کہ’اے زمین! تو اپنا پھل اگا دے! تیری ترقی کو پھر سے دکھادے!‘ ۔ اس ‏زمانے میں ایک ہی انار کو ایک بڑی جماعت کھا ئے گی۔ اس کے چھلکے میں پوری جماعت سایہ حاصل کر سکتا ہے۔ دودھ میں برکت کیا جائے گا۔ ‏ایک اونٹ کا دودھ ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگا۔ ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لئے کافی ہوگا۔ ایک بکری سے دوہنے والا دودھ ایک ‏خاندان کے لئے کافی ہوگا۔وہ لوگ اس طرح جیتے وقت اللہ ان پر پاکیزہ ہوا بھیجے گا۔ سارے مسلمانوں کی جانوں کو وہ قبض کر ے گا۔ صرف برے ‏لوگ ہی بچیں گے۔ وہ زندہ رہتے وقت ہی دنیا فنا ہوجائے گی۔ 

مسلم: 5629

وہ کس ملک میں اس طرح بند کئے گئے تھے، اس کونہ اللہ نے فرمایا نہ ہی رسول نے کہا۔ قیامت کے دن کے قریب ہی ان کاظاہر ہو نا تھا ،اس لئے ‏انسان انہیں نہ جانناہی بہترتھا۔ اسی لئے اللہ نے انہیں چھپا کر رکھا ہوگا۔ 

ایسا ایک گروہ بند کیا گیا ہوتا تو جدید اوزار، ہوائی جہاز، اور دوربین وغیرہ دریافت ہونے والے اس زمانے میں کیا وہ دنیا کو معلوم نہ ہو ا ہوتا؟ تانبا پگھلا ‏کر انڈیلا گیا ہے تو اس کی چمک دمک ہی سے اسے جان لیاگیا ہوتا۔ اس طرح بعض لو گ سوال کر رہے ہیں۔ یہ سوال بالکل غلط ہے۔

انسان کے پاس ایسے جدید اوزار رہنے کے باوجود انہیں پوری طریقے سے اب تک استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بہت اونچائی سے بھی زمین کی تصویر لی ‏گئی ہے۔اسے دیکھنے کے سوا زمین کی ہر ایک انچ اور ہر ایکڑ کو انسان ان اوزاروں کے ذریعے اب تک تحقیق نہیں کیا۔ زمین ہی کے کئی حصوں کو اب ‏بھی تحقیق کیا جا رہا ہے، اس طرح خبروں کو دیکھ کر ہم جان سکتے ہیں۔ 

اس سرزمین میں انسان کے قدم نہ چھونے والے بہت سے حصے اب بھی موجود ہیں۔ آسمان میں گردش کر تے ہوئے طاقتور دوربین کے ذریعے ‏سے اگر ہر ایک ایکڑ کو تحقیق کر نے کی کوشش بھی کریں تو درخت اور جنگلات جیسے رکاوٹ نہ ہو گا تو ہی زمین میں رہنے والوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ‏رکاوٹ ہو گا تو ان جنگلوں ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

جنگلات اور غار وغیرہ دوربین کے ذریعے دیکھنے کو روک دیتی ہیں۔ 

پہاڑوں سے گھرے ہوئے جنگلات یا غار وغیرہ میں اگریاجوج و ماجوج کا گروہ ہوگا تو کسی بھی آلات کے ذریعے ان کی موجودگی کو جان نہیں سکتے۔ 

تانبے کے دھات پر بہت جلد کائی پھیل کر وہ سبز رنگ میں بدل جا نے کی وجہ سے اس کی چمک سے اس کو معلوم نہیں کر سکتے۔ دور سے دیکھو یا ‏قریب سے بھی دیکھو تو ایسا معلوم پڑے گا کہ پہاڑوں پر کائی جمی ہوئی ہے۔

کسی کی آنکھوں کو دکھائی دئے بغیر وہ جماعت اس زمین کے کسی ایک حصہ میں زندگی بسر کر رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

مستقبل میں انسان کی کوشش سے وہ ان کے قریب ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ قیامت کے دن کے قریب کا وقت ہی ہوسکتا ہے۔ 

‏450۔ ہارون کی بہن کون ہے؟

‏اس 19:28 آیت میں مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے۔

قرآن مجید میں نقص نکالنے والے عیسائی اس سوال کو کئی زمانوں سے پوچھتے آرہے ہیں کہ ہارون تو موسیٰ کے زمانے والے ہیں، انہیں کیسے مریم بہن ‏ہو سکتی ہے؟ اور وہ اعلان کر تے آرہے ہیں کہ قرآن میں تاریخی غلطی موجود ہے۔ 

یہ سوال تو ناسمجھی سے اٹھایا گیا سوال ہے۔ 

ایک نام سے کئی لوگ پایا جانا بالکل معمولی بات ہے۔ ہارون کے نام سے موسیٰ کے زمانے میں ایک شخص رہنے کے باوجود اسی نام سے مریم کے ‏زمانے میں بھی ایک شخص کا پا یا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔اور وہ تنقید کے لائق بھی نہیں۔ 

اس کے متعلق جب نبی کریم ؐ سے پوچھا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ وہ لوگ اپنے متقدمین میں سے نیک لوگوں کے نام رکھ لینا ان کی عادت ‏تھی۔(دیکھئے: مسلم: 4327)

عیسائی ایسے بھی ضد کر سکتے ہیں کہ مریم کے زمانے میں ہارون نامی کوئی شخص ہوتا تو ہماری کتاب میں کہا گیا ہوتا۔ اس طرح کوئی خبر ہماری کتاب ‏میں موجود نہ رہنے سے یہ تاریخی غلطی ہی ہے۔ 

عیسائی کتابوں میں نہ کہا گیا ہے، اس وجہ سے اگر وہ اس کو قبول نہ کریں بھی تو ہارون کی بہن کہنا غلط نہ ہوگا۔ 

اگر کسی کو شیطان کا بھائی کہا جا ئے توہم ایسا نہیں سمجھیں گے کہ دونوں ہی ایک ماں کے بیٹے ہیں۔بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ شیطان کی صفت اس ‏میں موجود ہے۔ 

یہودیوں کی عبادت گاہوں میں خدمت کر نے کا ذمہ لے ویر کو اور پوجا کر نے کے طریقے کو سکھلانے کا ذمہ آرون نامی ہارون کو آقا کے ذریعے ‏سونپا گیا تھا۔ اس لئے عبادت گاہ میں خدمت کر نے والوں کو ہارون کے بھائی کہا جاتا تھا۔ 

یہ بات خروج ‏Exکی 27:21آیت میں، اورخروجEx-2‎‏ کی 28:41-43آیتوں میں، خروج ‏Exکی 27 سے آخر تک کی ابواب میں دیکھ ‏سکتے ہیں۔ ‏Lv‏ احبارکے پہلے باب میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

میری نامی مریم کومندر کی خدمت کے لئے سونپ دیا گیا تھا۔ وہ عورت رہنے کے باوجود انہیں اس خدمت کے لئے منتخب کر لیا گیا تھا۔لوگ یہی ‏توقع کر یں گے کہ مسیح کو پوجا کر نے والے دوسروں سے زیادہ اخلاق میں بہتر ہو نا چاہئے۔

مسیح کے گر جا گھر میں خدمت کی ذمہ داری میں رہنے کے باوجود یعنی ہارون کی بہن رہنے کے باوجودانہوں نے پوچھا کہ تم اس طرح بچے کے ساتھ ‏آکر کھڑی ہو۔

اس لئے ہارون کی بہن جو ہے وہ تاریخی غلطی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بائبل بھی نہیں کہا۔

یہ آیت کہتی ہے کہ انہیں اس طرح پکار کرلوگوں نے کہا کہ اے ہارون کی بہن! تمہارے باپ بھی برے نہیں تھے اور تمہاری ماں بھی بری ‏نہیں تھی۔ 

اس سے اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ کس معنی میں ہارون کی بہن کہا تھا۔ 

تمہارے ماں باپ نیک لوگ تھے۔ تم بھی ہارون کی خدمت میں منسلک ہو۔ ایسی حالت میں تم بن باپ کے بچے کو لے کر آ کھڑی ہو۔ یہی اس ‏کامطلب ہے۔ 

مریم پیدا ہو نے سے پہلے ہی گرجا گھر کے لئے نذر کر دئے گئے تھے۔ پیدا ہو نے کے بعد اسی گرجا گھر میں ٹہر کر خالق کی خدمت میں مبتلاہو گئے ‏تھے۔ اس لحاظ سے وہ لوگ جوانہیں ہارون کی بہن کہا تھا ، وہ بائبل کے مطابق بھی ٹھیک ہی تھا۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بائبل بھی نہیں کہا۔

عیسائیوں کی کج بحثی کو تشریح حاصل کر نے کے لئے ان حاشیہ نمبروں کو90، 137، 138، 147، 223، 265، 271، 455، 456، ‏‏457، 459، 491، 493 ملاحظہ فرمائیے۔

More Articles …