Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏449۔ مسلمانوں کے درمیان کیا مباہلہ کر سکتے ہیں؟

‏دو شخصوں کے درمیان کون جھوٹا ہے کا مسئلہ جب اٹھتا ہے تو دونوں شخص اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع ہو نا چاہئے ۔ اور اس طرح دعا کر نا ‏چاہئے کہ یا اللہ! میں جو کہتا ہوں وہ سچ ہے۔ اگر میں جھوٹ بولا ہو تا تو مجھ پر اور میری بیوی بچوں پرتیری لعنت اترے۔اسلام میں یہی مباہلہ کہلا تا ‏ہے۔ 

اس آیت 3:61 میں اللہ حکم فرماتاہے کہ اہل کتابوں سے مباہلہ کے لئے بلاؤ۔ 

یہ آیت اہل کتابوں سے کے بارے میں نازل ہو نے کے نے کے باوجود کون جھوٹا ہے کا مسئلہ جب آجائے تو وہ سب کے لئے ہی ہے۔ 

قرآن مجید کی آیتیں اکثر کسی ایک فرقہ کے بارے میں اور تنہا ایک فرد کے بارے میں ہی نازل کیا گیا ہے۔ لیکن ہم یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ یہ صرف ‏انہیں کے لئے ہے۔اسے ایسا سمجھنا چاہئے کہ اس صفت کے رہنے والے سب لوگوں کے لئے ہی وہ بولا گیا ہے۔

لوط نبی کی قوم کے اغلام کو اللہ نے سرزنش کی تھی۔ اس کو اس طرح نہ سمجھ لیں کہ وہ لوط نبی کی قوم کے لئے تھی، ہمارے لئے نہیں۔

ایک انسان جھوٹ بولتا ہے یا سچ ، یہ ایک مسئلہ ہے۔اس مسئلہ میں اگر ایک نتیجہ کو نہ پہنچے تواس کے لئے ایک فیصلہ کر نا چاہئے۔ وہ فیصلہ ہی اللہ کی ‏ذمہ داری میں چھوڑنے والا مباہلہ ہے۔

نبی کریمؐ نے غیر مسلم اہل کتاب کو مباہلہ کے لئے بلا یا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان مباہلہ نہ کریں۔ ان لوگوں کا سوال ہے کہ ‏ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف کیسے لعنت کو چاہے؟ 

ایک مسلمان شوہر بیوی کے درمیان ہو نے والے الزامی جرم کے وقت ایک دوسرے کے خلاف لعنت چاہنے کے لئے ایک قانون ہے لعان، اسے ‏نہ جاننے کی وجہ ہی سے وہ لوگ حجت کر رہے ہیں۔ اس کو ان 24:6,9 آیتوں میں کہا گیا ہے۔

اصحاب رسول کے شوہر بیوی کے درمیان لعان کر نے کیلئے نبی کریم ؐ نے فیصلہ کیا۔ اس کوان بخاری کی حدیثوں میں 4745، 5310، 5314، ‏‏5315، 5316، 6748، 6856 دیکھ سکتے ہیں۔ 

اسکے بارے میں حاشیہ نمبر 454میں وضاحت کی گئی ہے۔

جھوٹا کون ہے ، اس کو معلوم کر نے کی ضرورت پڑی تویہ دعا کر سکتے ہیں کہ جھوٹوں پر اللہ کا لعنت ہو۔اس کے لئے یہ ایک اہم سند ہے۔ 

انسانوں کے دل میں جو ہے اسے ہم جان نہیں سکتے، اس لئے اس کو اللہ کی ذمہ داری میں چھوڑ کر معاملے کو ختم کر دینا چاہئے، اس کے سوا انسان کو ‏کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ 

مسلمانوں کے درمیان جھوٹے کون ہیں ، یہ فیصلہ کر نے کی ضرورت پڑی تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کو چاہنا نہیں، اس کے لئے کوئی سند نہیں ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں ، کوئی بھی عالم نہیں کہا کہ مسلمانوں کے درمیان مباہلہ کر سکتے ہیں۔

عالم ابن تیمیہ نے وحدت الوجود کے عقیدے والے نام نہاد مسلمانوں سے مباہلہ کیا ہے۔ ایک اور عالم حافظ ابن حجر نے ابن عربی کے شاگردوں ‏سے مباہلہ کی ہے۔ 

ابن عباس، سفیان ثوری، اوزائی، ابن قیو م وغیرہ بے شمارعلماء غلط عقیدہ رکھنے والوں سے مباہلہ کیا ہے۔ اور یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کر سکتے ہیں۔ اس ‏لئے ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ 

اس جگہ میں ایک اور بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے۔ 

ایک شخص کے خلاف دوسرا ایک شخص الزام لگاتا ہے۔ اس طرح الزام لگاتے وقت الزام لیا ہوا شخص اس کے خلاف مباہلہ کو بلا سکتا ہے۔ اس میں ‏انصاف ہے۔ یاوہ اس کو بے پرواہ بھی کردے سکتا ہے۔ 

لیکن الزام لگا نے والا مباہلہ کے لئے بلانے کے بعد اس سے بچنے کے لئے اسلام میں کوئی راستہ نہیں۔ ایک دوسرے پرکوئی الزام لگائے تو الزام ‏لگانے والے کا ایک ہی فرض ہے کہ اس جرم کو وہ سند کے ساتھ ثابت کرے۔ 

میں دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کروں گا،کیا مباہلہ کے لئے آسکتے ہو؟ اس طرح سوال اٹھا کر الزام کے سزا سے بچ نہیں سکتے۔ کیا میری رائے صحیح ‏ہے یا تمہاری رائے صحیح ہے؟ کیامیرا عقیدہ صحیح ہے یا تمہاراعقیدہ صحیح ہے؟ ایسے ہی مسائل میں دونوں میں سے کوئی مباہلہ کو بلا سکتے ہیں۔

عقیدے کے اعتبار سے نہیں بلکہ مخصوص ایک آدمی پر اگر کوئی غلط الزام لگائے تو وہ ملزم مباہلہ کے لئے بلا سکتا ہے۔ کیونکہ کسی چیز کو ثابت کر نے ‏کی ضرورت ملزم کو نہیں ہوتی۔ الزام لگانے والے پر ہی ساری ذمہ داری ہے۔ سند کے ساتھ ثابت کر نا ہی ان کا پہلا فرض ہوگا۔ 

کسی بھی سند کے بغیر الزام لگانے کے بعد اس کو ثابت کرنے کے لئے سامنے آنے کے بجائے یہ پوچھ کرکہ کیاتم مباہلہ کے لئے تیار ہو، بھاگ کھڑے ‏ہو جانا، اس کے لئے مباہلہ کو استعمال کر نا نہیں چاہئے۔

الزام لگا نے والے پر الزام ثابت کرناہی دین میں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو اس پر الزام لگانے کا سزا ہوگا۔ الزام لگا نے والا اگر اس کو ثابت کر نے سے انکار ‏کر تا ہے تو اس کا الزام جھوٹ ثابت ہو جا نے کی وجہ سے ملزم اسے ایسے ہی چھوڑدینا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں دوسروں پرالزام لگا نے والے اس کو ثابت نہ کر نے کی وجہ سے انہیں سزا دی گئی۔

الزام لگا کر اسے ثابت نہ کر تے ہوئے مباہلہ کے لئے بلا کراس سے بچنے کے لئے کسی کو مہلت نہیں دی گئی۔ جب الزام کو ثابت نہ کرسکا تو وہی اس کو ‏جھوٹا ثابت کردیتا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی کہے کہ مباہلہ کے ذریعے میں ثابت کروں گا تو وہ قانون کا مذاق اڑانا ہوگا۔

افواہیں پھیلانے والے سب سے پہلے دین کی بنیاد پر ثابت کر نے والے فرض کو ادا کر نا چاہئے۔لیکن ملزم کاکوئی فرض نہیں ہے۔ اسلئے ہم سمجھ سکتے ‏ہیں کہ وہ مباہلہ کے لئے بلا سکتے ہیں۔

اس کے متعلق اور تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 94 دیکھئے!

‏448۔ عیسیٰ نبی کے پیروکار کون ہیں؟

‏یہ آیت 3:55کہتی ہے کہ عیسیٰ نبی کی پیروی کر نے والوں کو اللہ اونچا ئی میں رکھے گا۔ 

عیسیٰ نبی کی پیروی کر نے والوں کو عیسائی مذہب والے نہ سمجھ لینا۔ 

کیونکہ عیسیٰ نبی اوپر کو اٹھا لئے جا نے کے چند ہی سال میں بول نامی شخص سے عیسیٰ نبی کا دین بدل دیا گیا۔ عیسیٰ نبی نے جو ایک ہی معبود کی تعلیم دی ‏تھی اس عقیدے کو بدل کر تین معبودوں کا عقیدہ بنا دیا گیا۔ عیسیٰ نبی کے ناپسندیدہ اس عقیدے میں رہنے والے عیسیٰ نبی کے پیروکار نہیں ‏ہوسکتے۔ 

عیسیٰ نبی نے جس عقیدہ کو اس دنیا میں تعلیم کی تھی اسی عقیدے کومحمد نبی نے بھی کہا ہے۔ اسلام ہی کو عیسیٰ نبی نے بھی تعلیم دیا تھا۔ اسلام کے ‏پیروکار ہی عیسیٰ نبی کے عقیدے میں کسی ردو بدل کے بغیر پیروی کر تے آرہے ہیں۔ 

عیسیٰ نبی کا عقیدہ ہی اسلام ہے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 459دیکھیں!

 ‏447۔ کیا قرآن ایک رات میں نازل کیا گیا؟

‏اس آیت 97:1میں کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر میں قرآن نازل کیا گیا۔ 

ان آیتوں 17:106، 20:114، 25:32، 76:23 میں کہا گیا ہے کہ قرآن مجید تھوڑا تھوڑا سا نازل کیا گیا ہے۔ اسے اختلاف نہ ‏سمجھیں۔ 

اس آیت 97:1میں جو اللہ کہتا ہے کہ لیلۃ القدر میں قرآن مجید اتارا گیا تو اس کو ایسا سمجھنا چاہئے کہ وہ نزول کی ابتداء ہے۔ 

پیدا کر نے والے اپنے رب کے نام سے پڑھو، یہی آیت (96:1)نبی کریم ؐ پر نازل ہو نے والی پہلی آیت ہے۔ یہ آیت لیلۃ القدر ہی میں اتاری گئی، ‏یہی اس آیت کا مفہوم ہے۔ 

اس کے بعد ماحول کے مطابق 23سال میں تھوڑا تھوڑا سا قرآن اتاراگیا۔ 

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 341 دیکھئے!

‏446۔ انسان کس امانت کا بوجھ اٹھایا؟

‏اس آیت 33:72 میں کہا گیا ہے کہ صرف انسان کے لئے ایک امانت( اچھی طرح سے دیکھ بھال کرکے سپرد کر دینا) عطا کیا گیا ہے۔ 

اس آیت میں جوامانت کہا گیا ہے وہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں نہ قرآن نے کہا ہے اور ناہی حدیثوں میں جگہ پائی ہے۔ پھر بھی انسانوں کے اور ‏ساری مخلوقات کے درمیان جو فرق ہے وہ سمجھداری ہی ہے۔ اس لئے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیت اسی کی طرف اشارہ کر تی ہے۔ 

بعض علماء کہتے ہیں کہ امانت کا مطلب قرآن مجید ہی ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔کیونکہ اس آیت میں سارے مخلوقات کے لئے امانت کہا گیا ہے۔ ‏اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا۔ 

اگر امانت کا مطلب قران مجید لے لیا جائے تو محمد نبی کی قوم کے پہلے گزرے ہوئے لوگ اس قرآن کو لادلیناچاہئے تھا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ثابت ہو ‏تا ہے کہ یہ معنی غلط ہے۔ 

امانت کا مطلب قرآن ہی ہے کہنے والے اس کے لئے اس آیت کو دلیل بتاتے ہیں: 

اس قرآن کو اگر ہم پہاڑ پر اتارتے توتم دیکھتے کہ وہ خوف الہٰی سے جھک کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے۔انسان کی غورو فکر کے لئے ہم ان مثالوں کو ‏انہیں بیان کر تے ہیں۔ 

قرآن: 59:21

اس آیت کو اور اوپر درج شدہ آیت کو ملا کرہم اس فیصلہ کو آ نہیں سکتے کہ امانت کا مطلب قرآن ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں ‏جو واقع نہیں ہوا ہے اس بات کو یہاں مثال کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اتارا ہو تا، اس کا مطلب ہے اتارا نہیں گیا۔

لیکن اس آیت 33:72میں جو تخلیق کے وقت پیش ہوا تھا اس کے بارے میں کہا گیاہے کہ اس امانت کو اٹھانے کے لئے آسمان، زمین اور پہاڑوں ‏پرہم نے پیش کیا، وہ اٹھانے سے انکار کر دئے۔صرف انسان نے اس بوجھ کو اٹھالیا۔ 

ہر انسان جانتا ہے کہ دوسری کسی مخلوق کو نہیں دی گئی، صرف انسان ہی کو دی گئی وہ چیز سمجھداری ہی ہے، فہم و فراست ہی ہے۔ اس طرح جان ‏لینے ہی کے لئے کوئی دوسری وضاحت قرآن میں یا حدیثوں میں کہا نہیں گیا۔   

‏445۔ کتب الٰہی کا سودا کرنا

‏ان آیتوں 2:41، 2:174، 2:187، 3:199، 5:44، 9:9 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی آیتوں کوحقیر قیمت پر بیچا نہ کرو۔

قرآن مجید یااس کے ترجمے کو طبع کر کے بیچنا اس میں داخل نہیں ہوگا۔ 

اللہ کی آیتوں کو یہودیوں نے تجارت بنادیا تھا۔ اسی کی تاکید میں وہ آیتیں نازل کی گئی تھیں۔ یہودیوں نے اپنی کتاب اللہ کو طبع کر کے فروخت کر ‏رہے تھے، اس کی تاکید میں یہ آیت نازل نہیں فرمائی گئی۔ یہ بہت آسانی سے سمجھنے والی سچائی ہے۔ 

اس زمانے میں کتابوں کو چھاپنا اور اس کا تجارت کر نا دریافت نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آیت کتابی تجارت کے بارے ‏میں نہیں کہہ رہی ہے۔

اللہ کی آیت کو حقیر قیمت پر نہ بیچو، یہ براہ راست معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ جو قرآن میں ہے اس کو لوگوں کے پاس ایسے ہی پہنچادو تو اس ‏کے لئے آخرت میں بہت بڑا اجر ملے گا۔ ویسا نہ کر تے ہوئے دنیوی فائدے کی خاطر کتاب میں جو ہے اس کو چھپا دیتے ہیں اسی کو یہاں تجارت کہا گیا ‏ہے۔ 

اس کا مطلب کیا ہے ، اس کو یہ آیت 3:187تشریح کی ہے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ کی آیتوں کو چھپا کر حقیر قیمت پر بیچ نہ ڈالو۔

کتاب اللہ کوتجارت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حقیر قیمت پر بیچ دینا،لوگوں سے ڈر کر کتاب کو چھپا دینا، اور کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرنا وغیرہ۔ 

ان آیتوں سے ہم اس کو جان سکتے ہیں۔ 

قرآن مجید کو چھاپ کر تجارت کر نا اور اس کے ترجمے اور تعلیمات کو چھاپ کر بیچنا قرآن کے بیچنے میں داخل نہ ہوگا۔ 

مطبع خانہ اور کتابیں فروخت کرنا وغیرہ میں سرمایہ ڈالا جاتا ہے۔ چھاپنے والے ، حرفوں کو جمانے والے اور جلد ساز وغیرہ کو تنخواہ دیا جاتا ہے۔ 

مزید یہ کہ طبع ہو نے والے کتابوں کو حفاظت سے رکھنے کے لئے اور اس کو بیچنے کے لئے جو جگہ کی ضرورت پڑتی ہے اس کو کرایہ دینا پڑتا ہے۔ اس ‏کے لئے بھی کسی کومقرر کر کے اس کے لئے بھی تنخواہ دینی پڑتی ہے، برقی ذرائع کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ 

اس لئے پیشہ کے لحاظ سے اس کو سمجھ لینا چاہئے۔ قرآن کے بیچنے کی جرم میں وہ نہیں آئے گی۔ 

مزیدبات یہ ہے کہ کتاب اللہ لوگوں تک پہنچنے کے لئے اس طرح بعض لوگ کوشش کرنے ہی سے وہ ہوسکتا ہے۔ کتاب کو چھاپ کر بیچنا جرم ہو گا ‏تو کتاب ان تک پہنچے گا نہیں۔ 

 ‏444۔ مقدس روح کے ذریعے تائیدکرنا

‏ان آیتوں2:87، 2:253، 5:110 میں کہا گیا ہے کہ مقدس روح کے ذریعے عیسیٰ نبی کوہم نے تائید کی۔ 

اور اس آیت 16:102 میں کہاگیا ہے کہ مقدس روح نے اس کو تمہارے دل میں اتارا۔ 

اس آیت26:193 میں معتمد فرشتہ کہا گیا ہے اور ان آیتوں 19:17، 58:22، 70:4، 78:38، 97:4میں روح کہاگیا ہے۔

یہ سب جبرئیل کی طرف اشار ہ کر تی ہے۔ 

نبی کریمؐ کی مخالفت میں آپ کے دشمنوں نے جب شاعری کر نے لگے تو نبی کریم ؐ نے حسان نامی صحابی کو اس کے جواب میں شاعری کر نے کو کہا۔ ‏جب آپ کو حوصلہ دلانے کی طرح انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ! انہیں مقدس روح کے ذریعے تائید فرما۔

‏(بخاری: 453، 3212، 6152)

ایک اور موقع پر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اے حسان! ان کے جواب میں شاعری کرو، تمہارے ساتھ جبرئیل ہیں۔ 

‏(بخاری: 3213، 4124، 6153)

ان دونوں حدیثوں کو جوڑ کر اگر دیکھو توہم معلوم کرسکتے ہیں کہ مقدس روح کا مطلب جبرئیل نامی فرشتے ہی ہیں۔

ان حدیثوں سے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ جبرئیل نامی مقدس روح کے ذریعے تائید کرنے کا مطلب کیا ہے۔ 

مدعا کوٹھیک سے اور واضح طور سے بولنے کے لئے زبان کو مضبوط بنانا ہی اس کا مطلب ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دین کی طرفداری میں مخالف کرنے کے لئے حسانؓ کی زبان کو جبرئیل کے ذریعے اللہ نے تقویت عطا کی۔

حسان بن ثابتؓ کو ہر وقت اور ہرمعاملے میں جبرئیل کے ذریعے تائید نہیں تھی۔ اسی لئے دشمنوں کو جواب دیتے وقت جبرئیل ؑ کے ذریعے انہیں ‏روحانی طاقت ملنے کے باوجود عائشہؓ پر الزام کہتے وقت جبرئیل کے ذریعے روحانی طاقت نہیں ملی۔ 

اگر جبرئیل نے انہیں تقویت پہنچائی ہو تی تووہ عائشہؓ پر الزام لگا کر نبی کریم ؐ کے ذریعے کوڑے کی مار نہ کھائے ہوتے۔(دیکھئے، بخاری: 4141، ‏‏4146، 4755، 4758)

جبرئیل ؑ کا پیغام لا نے کا کام نبی کریم ؐ کے ساتھ ختم ہو جا نے کے بعد بھی جبرئیل ؑ کے ذریعے تقویت پہنچانا ٹھیک عقیدے رکھنے والے تما م لوگوں پر ‏اللہ کا فضل ہے۔ اس کو اللہ نے اس آیت 58:22 میں فرمایا ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرنے والوں کو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے پسند کرتے ہوئے تم نہیں دیکھو گے۔ وہ ان کے ماں باپ ‏ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں، یا ان کے خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں ! ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دی۔ اپنی روح (جبرئیل ) کے ذریعے ‏انہیں قوت دی۔ انہیں جنت میں داخل کر ے گا۔ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ ‏بھی اللہ سے راضی ہو ئے۔ وہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں۔ یاد رکھو، اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے۔ 

‏(قرآن: 58:22)

یہ آیت ثابت کر تی ہے کہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوئے دین کے حدود کو تجاؤز کر نے والے رشتہ داری اوردنیا داری سے مخالف ‏کرنے والے ، ان سب کو جبرئیل کے ذریعے اللہ تائید کر تا ہے۔ 

ایسے لوگوں سے رائے کے ذریعے کوئی جیت نہیں سکتا۔ کیونکہ اللہ نے انہیں مقدس روح جبرئیل کے ذریعے تائید کی ہے۔

قرآن مجیداور سنت رسول ہی کو دین مان کر دین کے لئے خاص رشتہ داروں سے بھی دشمنی کر نے کے عقیدے والوں کوآج بھی اللہ تائید کر تے ‏ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے علماء بھی جواب نہ دے سکے، ایسی ایک صلاحیت ان عقیدتمندوں کے پاس موجود ہے۔ اس کی وجہ جبرئیل ‏کے ذریعے اللہ نے ان کی تائید کی ہے، اس کے سوا کوئی دوسری وجہ نہیں ہو سکتی۔ ‏

‏443۔ صابئین

‏ان آیتوں میں 2:62، 5:69، 22:17 صابےئن کے متعلق کہا گیا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ زبور کے مطابق چلنے والے کہتے ہیں۔اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ آگ کی پوجا کر نے والے ہی صابئین ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ صابئین کی نیکیوں کو معاوضہ ‏ملے گا۔ آگ کی پوجا کر نے والے قوم کی نیکیوں کو قبول نہیں کیا جا ئے گا، اس حقیقت کے خلاف ہی ان لوگوں کا قول ہے۔ 

جب حدیثوں کو تحقیق کیا گیا تومعلوم پڑا کہ صائبین وہ لوگ ہیں جو اللہ کے رسول بھیجے نہ جانے کے باوجود اپنے غور و فکر کواستعمال کر کے توحید کے ‏عقیدے کو سمجھ گئے تھے۔وحدت کو سمجھتے ہوئے اللہ کے ساتھ شرک نہ ٹہرانے والی قوم ہی صابئین ہے۔اس طرح سمجھنے کے لئے حدیثوں میں ‏دلیل موجود ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے جب توحید کے عقیدے کو کہا تو آپ کو نہ ماننے والے دشمنوں نے نبی کریم ؐ کو صابی کا نام دیا تھا۔اس کا جمع ہی صابئین ہے۔ 

نبی کریم ؐ کوجب سفر میں پانی نہ ملا توآپ نے اپنے صحابیوں کو بھیج کر رکھا۔ جب ایک عورت کوپانی کی مٹکی لے کر جا تے ہوئے وہ لوگ دیکھا تو ‏انہوں نے اس عورت کو نبی کریم ؐ کے پاس بلانے لگے۔ تو اس عورت نے پوچھا کہ کیا اس صابی آدمی کے پاس؟صحابیوں نے کہا ، ہاں اسی آدمی کے ‏پاس۔یہ بہت بڑے ایک حدیث کا ایک حصہ ہے۔ 

دیکھئے: بخاری: 344

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ اس زمانے کے لوگوں میں صابی کے نام سے ہی جانے جا تے تھے، اور نبی کریم ؐنے بھی اس سے انکار نہیں کیا۔ ‏اگر وہ برے عقیدے والوں کو کہا جاتا تو صحابیوں نے اس عورت کے پاس اعتراض کرتے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اس کو قبول کر لیا۔ 

ابوذرؓ نے اسلام کے بارے میں اور نبی کریم ؐ کے بارے میں جان کر مکہ آتے ہیں۔نبی کریم ؐ سے تنہائی میں مل کر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے ‏بعد مکہ کے بت پرستوں کے پاس جا کر کھلم کھلا اعلان کر تے ہیں ،میں مانتا ہوں کہ عبادت کے لائق اللہ کے سوا کوئی نہیں، محمد نبی اللہ کے رسول ‏ہیں۔تو فوراًمکہ کے بت پرستوں نے اس صابی کو ماروکہہ کر حملہ کر تے ہیں۔ یہ بخاری کی حدیث 3522 میں درج ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اگر کوئی اسلام قبول کر لے تو لوگ اس کا نام صابی رکھ دیتے ہیں۔ 

اس طرح ایک جماعت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں وہ لوگ ہار گئے اور اسلام قبول کر نے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے ایسا کہنے کے ‏بجائے کہ ہم اسلام میں شامل ہو تے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم صابی ہوگئے۔ اس کو سپہ سالار خالد بن ولید نے نہ مانا اوران سے متواتر جنگ کر نے ‏لگے۔اس کو سن کر نبی کریمؐ نے خالد بن ولید کو ڈانٹا۔ (بخاری: 4339، 7189)

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ صابی کہنا نبی کریم ؐ کو انکار نہیں تھا، بلکہ توحید کے عقیدے میں ثابت قدم رہنے والے صابی کہلائے جاتے تھے۔ 

نبی کریم ؐ اللہ کے رسول بنائے جانے سے پہلے بت کی پرستش سے انکار کرتے ہوئے توحید پر قائم رہنے والی ایک قوم بھی تھی۔ صرف عبادت کے ‏طور طریقے انہیں معلوم نہ تھا۔ اسے اللہ کے رسول کے ذریعے ہی معلوم کر سکتے تھے۔ اس کے سوا دوسرے معاملوں میں صابئین کی قوم اچھے ‏اخلاق والی تھی۔

آج بھی اللہ کے رسول کی تعلیمات کو نہ حاصل کر نے والی قوم بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ کا دیا ہوا علم ہی انہیں صابی بن کر جینے کے لئے کافی ہے۔  

 ‏442۔ من و سلویٰ

‏ان آیتوں 2:57، 7:160، 20:80 میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلوں کواللہ کی طرف سے دو غذائیں من و سلویٰ اتارا گیا۔

یہ دونوں لفظ عربی لفظ نہیں ہیں۔ اور یہ دونوں غذائیں بھی عربوں کی غذا نہیں۔ اس لئے اس غذا کے بارے میں کئی مفسروں نے مختلف تفسیریں کی ‏ہیں۔وہ تمام صرف قیاس ہیں۔ 

اس کے بارے میں اللہ اور اللہ کے رسول نے کوئی تشریح نہیں کی ۔ تلاش کر نے پر معلوم ہوا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ ہم غذا کے طور پر جو ‏استعمال کر تے ہیں ککر موتا اسی کو’ من‘ کہا جا تا ہے۔

نبی کر یم ؐ نے کہا کہ کمعت نامی ککر موتا غذا ’من‘ قسم کی غذا ہے۔ اس کا پانی آنکھ کے درد کوشفا دیتی ہے۔ 

دیکھئے، بخاری: 4478، 4639، 5708۔

ککر موتا قسم کی غذا اور سلویٰ نامی ایک اور غذا کو اللہ نے نازل فرمایا ۔ اس کے لئے انہوں نے شکریہ ادا نہیں کیا۔اس حد تک جان لینا ہی ہمارے لئے ‏کافی ہے۔ 

More Articles …