Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

505۔ مچھلی کو کاٹے بغیر کیوں کھایا جا تا ہے؟

ان آیتوں میں (5:96، 16:14) کہا گیا ہے کہ مچھلیوں کو غذاکے طور پر کھا سکتے ہیں۔ دیگر جانداروں کو کاٹ کر کھاناچاہئے اور مچھلی کو کاٹنے کی ضرورت نہیں۔ نبی کریم ؐ نے کہا ہے کہ اپنے آپ مری ہوئی مچھلیوں کو بھی کھا سکتے ہیں۔

بعض لوگوں کو یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ دیگر جانداروں کو کاٹنا ضروری ہے، مگرمچھلی کو کاٹے بغیر کھاسکتے ہیں۔ اس تفریق کی وجہ کیا ہے؟

پانی کے جاندار اور دوسرے جانداروں میں فرق ہے۔

پانی کے جانداروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا۔اسے زندہ پکڑکر کاٹو بھی تو اس میں سے کچھ تھوڑا سا خون نکلے گا، لیکن خون نہیں بہے گا اور نہ ہی ٹپکے گا۔

اسلامی اعتقاد کے مطابق بہنے والے خون کومنع کیاگیا ہے۔ اسی لئے بیل بکرے وغیر ہ جانداروں کو جب کاٹا جاتا ہے تو اس سے بہتے ہوئے خون کو کھانا نہیں چاہئے۔

بیل بکرے وغیرہ زندہ رہتے وقت صرف اس کو کاٹتے وقت ہی ان میں سے خون باہر ہوگا۔ وہ مرنے کے بعد کاٹنے سے خون نہیں نکلے گا۔ اس لئے اس گوشت کو کھا تے وقت خون بھی ملاکر کھانے کی نوبت آتی ہے۔

خون میں ایسے جراثیم اور کیڑے پائے جاتے ہیں جو انسان کے کھانے کے قابل نہیں۔ جانور مرنے کے ساتھ خون منجمد ہوجاتا ہے۔ خون میں نہ جینے والے جراثیم دوسرے حصوں کی طرف پھیل جاتی ہے۔ خون کو کھانے سے جو انجام ہو تا ہے وہ سب اس گوشت کو کھانے سے پیدا ہو جا تی ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔

مچھلی میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا، اس لئے اس کو کاٹنے سے بھی اس میں سے خون نہیں بہے گا۔ وہ اپنے آپ سے مرے بھی تو گوشت تک داخل ہو نے کا خون مچھلی میں نہیں ہوتا۔اس لئے مچھلیوں کو کاٹنے کے لئے اسلام نہیں کہتا۔

504۔ کیا اولاد آدم بہن بھائیوں سے شادی کی تھی؟

یہ آیتیں4:1، 7:26، 7:27، 7:31، 7:172، 7:189، 17:70، 36:60، 39:6، 78:35 کہتی ہیں کہ اللہ نے انسان کی ایک ہی جوڑی کو براہ راست پیدا کیا اورباقی تمام انسانی نسل ان دونوں کے جانشین ہیں۔

اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ آدم اور حوا کے ذریعے ہی انسانی نسل ظاہر ہوئی ۔ ان دونوں کے سوا دوسری کوئی جوڑی اللہ کے ذریعے براہ راست پیدا نہیں کی گئی ، اس لئے بھائی بہن کے درمیان ہی شادی کا رشتہ ظہور میں آیا ہوگا۔

اگر کوئی پوچھے کہ کیا بھائی بہن کے درمیان شادی کر سکتے ہیں تواس زمانے میں اس کا جواب یہی ہوگا کہ نہیں ۔

ایک ہی جوڑی دنیا میں پیدا کئے جانے کی وجہ سے بھائی بہن کے درمیان شادی کرنے کی اجازت اللہ نے دی تھی۔ انسانی نسل کی افزونی کے لئے اس وقت وہ ضروری تھی۔ اس کی اجازت سے جس نے شادی کی وہ گناہ گار نہیں ہوکتے۔

یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک جوڑی کے بجائے دو جوڑی انسانوں کو پیدا کرکے اس مسئلے کو دور کر سکتے تھے۔

اللہ نے ایک جوڑی کے ذریعے انسانی نسل کونشو نماکر نے میں ایک خاص وجہ موجود ہے۔

تمام بنی نوع ایک ہی ماں باپ کے ذریعے ظاہر ہوں تو ہی پیدائشی بنیاد پر اونچ نیچ پیدا ہونے کا راستہ بند ہو گا۔ بھائی بندی کا احساس اور بڑے چھوٹے کے فرق کے بغیر تمام انسان پیدائشی طور پر برابر ہیں، اسی مساوات کو یہ پیدا کرتی ہے۔

503۔ کیا آدمی چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے؟

یہ آیتیں 6:2، 7:12، 15:12، 15:28، 15:33، 17:61، 23:12، 32:7، 37:11، 38:71، 38:71، 38:76، 55:14 کہتی ہیں کہ آدمی چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

آدمی مٹی کی طرح نہ ہونے کی وجہ سے یہ انکار کر نہیں سکتے کہ پہلا آدمی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

غور سے اگر دیکھا جائے توصرف پہلا آدمی ہی نہیں بلکہ منی کے قطرے کے ذریعے تخلیق پانے والے انسان کانسل بھی حقیقت میں مٹی ہی ہے۔

اس وقت دنیا میں 700کروڑآدمی موجود ہیں۔ ہر ایک کا وزن پچاس کلو رکھ لیں بھی تو کل ملاکر پینتیس ہزار کروڑ کلو وزن ہوتا ہے۔

جب ایک انسان بھی موجود نہیں تھااس وقت زمین کا کل وزن جو تھا اسی وزن میں سات سو کروڑ لوگ بستے وقت بھی موجود ہے۔

سات سو کروڑلوگ اس زمین میں بڑھ جانے کے باوجود پینتیس ہزار کروڑکلو وزن بڑھا نہیں۔ سات سو کروڑ لوگوں کو ملا کر زمین کا جو وزن تھا وہی وزن ایک بھی انسان پیدا ہو نے کے پہلے بھی اس زمین کاتھا۔ یعنی اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ زمین اپنے میں پینتیس ہزار کروڑ کلو کو آدمی میں بدلی کیا ہے۔

ہم جو رزق کھا رہے ہیں وہ مٹی کی قوت سے پیدا ہوئی ہیں اس لئے ہم حقیقت میں مٹی کھا کر ہی جسم کی پرورش کر رہے ہیں۔ اسی لئے ہمارے ذریعے زمین کا وزن زیادہ نہیں ہوا۔

ہر انسان پیدا ہو تے وقت پچاس کلو وزن زمین کو بڑھتا ہے تو زمین کا وزن بڑھتے ہوئے دوسرے سیاروں سے ٹکراکر زمین تتر بتر ہو جائے گی۔

ہمارے اسلاف دفن ہو نے کی جگہ کو کھود کر دیکھو تومعلوم ہو گا کہ جس سے وہ پیدا کئے گئے تھے ویسے ہی وہ بدلی ہو گئے ہیں۔

گیلی چکنی مٹی سے پیدا ہوا انسان ہی پہلا انسان ہے۔ یعنی مٹی اور پانی ملاکرپیدا کیا گیا ہے۔ ہمارے جسم میں یہی موجود ہیں۔ اس کو جیسے بھی تم تبدیل کرو آخر میں وہ مٹی ہی ہو گا۔ ہم مرنے کے بعد مٹی اور پانی ہی بنیں گے۔

پہلا آدمی براہ راست مٹی ہی سے پیدا کیا گیا تھا۔ ان کے جانشین پوشیدہ طور پر مٹی ہی سے پلتے ہیں ۔ مٹی سے پیدا کیا گیاکا مطلب یہی ہے۔

آدمی مٹی سے تخلیق پایا ہے۔ اس کے لئے اس کے جسم میں موجود مٹی کے بنیادی عنصر ہی گواہ ہیں۔ ستر کلو گرام وزن کے ایک اوسط درجے کے انسانی جسم کوجب سائنسی طریقے سے جانچا کیا گیا تو جسم کے بنیادی عنصر بالکل باریکی سے معلوم پڑا۔ آدمی مٹی سے پیدا کیا گیاہے، قرآن مجید کی اس آیت کو سائنسی دنیا بھی تصدیق کردی۔

کلارنٹ پبلکیشن ، آکسفورڈ سے شائع شدہ جان نمسلے کی لکھی ہوئی کتاب ’دی ایلمنٹس‘ (تیسرامطبوعہ،1998)میں انسانی جسم کی جو بنیادی عناصر جانچا گیا تھا ا س حوالے کو دیکھئے۔

ستر کلو گرام وزن کے ایک انسانی جسم میں جو موجود ہیں وہ بنیادی عناصر یہی ہیں:

1۔ آکسیجن 43کلوگرام

2۔ کاربن 16کلو گرام

3۔ ہائڈروجن 7 کلو گرام

4۔ نائٹروجن 18 کلو گرام

5۔ کالسیم 10کلو گرام

6۔ فاسفرس 780گرام

7۔ پوٹاشیم 140 گرام

8۔ سوڈیم 100گرام

9۔ کلورن 95گرام

10۔ مگنیشیم 19 گرام

11۔ لوہا 4.2 گرام

12۔ فلورن 2.6گرام

13۔ جست 2.3گرام

14۔ سلکن 1.0 گرام

15۔ ربیڈیم 0.68 گرام

16۔ اسٹرونٹیم 0.32 گرام

17۔ برومن 0.26 گرام

18۔ سیسہ 0.12 گرام

19۔ تانبا 72 ملی گرام

20۔ المنیم 60 ملی گرام

21۔ کاڈمیم50 ملی گرام

22۔ سیریم 40ملی گرام

23۔ پیریم 22 ملی گرام

24۔ آیوڈن 20 ملی گرام

25۔ قلعی 20ملی گرام

26۔ ٹائیٹانیم 20 ملی گرام

27۔ پوران 18 ملی گرام

28۔ نکل 15 ملی گرام

29۔ سینیم 15 ملی گرام

30۔ کرومیم 14 ملی گرام

31۔ مگنیشیم 12 ملی گرام

32۔ آرسنک 7 ملی گرام

33۔ لتّیم 7 ملی گرام

34۔ سیسیم 6 ملی گرام

35۔ سیماب 6 ملی گرام

36۔ جرمانیم 5 ملی گرام

37۔ مالپٹنم 5 ملی گرام

38۔ گوپالٹ 3 ملی گرام

39۔ آنٹی منی 2 ملی گرام

40۔ چاندی 2 ملی گرام

41۔ نیوپیم 1.5 ملی گرام

42۔ سرکونیم 1 ملی گرام

43۔ لتانیم 0.8 ملی گرام

44۔ کالشیم 0.7ملی گرام

45۔ ٹیلوریم 0.7 ملی گرام

46۔ اٹری یم 0.6 ملی گرام

47۔ بسمت 0.5 ملی گرام

48۔ تالویم 0.5 ملی گرام

49۔ انڈیم 0.4 ملی گرام

50۔ سونا 0.4 ملی گرام

51۔ اسکانڈیم 0.2 ملی گرام

52۔ تنتالم 0.2 ملی گرام

53۔ والڈیم 0.11 ملی گرام

54۔ توریم 0.1 ملی گرام

55۔ یورینیم 0.1 ملی گرام

56۔ سماریم 50 ملی گرام

57۔ بیلیم 36 ملی گرام

58۔ ٹنگسٹن 20 ملی گرام

انسانی جسم میں موجود بنیادی عناصر مندرجہ بالا 58 عناصر میں آکسیجن اورہائیڈروجن وغیرہ گیس کے سوا باقی کے تمام عناصرمٹی ہی سے ملی ہیں۔ وہ پھر سے مٹی کے ساتھ ملنے والی ہیں۔

502۔ کیا عورتوں کو دو دل ہے؟

ہم نے اس آیت کو( 33:4)اس طرح ترجمہ کیا ہے کہ کسی بھی انسان کواللہ نے دو دل پیدا نہیں کیا۔

لیکن جس جگہ ہم نے انسان ترجمہ کیا ہے وہاں عربی کی متن میں رجلن استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا براہ راست معنی مرد ہے۔ اس لئے بعض لوگ اعتراض کر تے ہیں کہ اس جگہ انسان کا ترجمہ غلط ہے۔

’انسان کو‘ کا ترجمہ کرنے کے بجائے اگر’ مرد کے لئے‘ کا ترجمہ کیا تھا تو ٹھیک تھا۔ اس کے لئے انہوں نے سائنسی وجہ بھی بتا رہے ہیں۔ عورتیں جب حمل سے ہوتی ہیں تو بچے کا دل اور ماں کا دل ملا کر عورتوں کو دو دل ہوتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے مرد کا لفظ استعمال کیا ہے، یہی ان کی سائنسی تشریح ہے۔

وہ کہہ رہے ہیں کہ آیت نمبر 4:34اور 7:155میں اسی لفظ کو مرد کے معنی ہی میں ترجمہ کیاگیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ آیت نمبر 33:4میں رجلن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ اس کا براہ راست معنی مرد ہے۔ لیکن اس آیت میں مرد کو استعمال کر نے کے بجائے انسان کہہ کر مناسب وجہ ہی سے ہم نے ترجمہ کیا ہے۔

اسے ذرا تفصیل سے دیکھیں!

ہر زبان میں اکثر کئی الفاظ براہ راست معنی میں استعمال ہونے کے باوجود چند موقعوں پر براہ راست معنی سے زیادہ بہت وسیع معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ براہ راست معنی موزوں نہ ہو نے کی صورت میں اس طرح دوسرا معنی لیا جا تا ہے۔

اگر کوئی کہے کہ میں کسی سے ڈرتا نہیں، یہ مرد کی طرف اشارہ کر نے کے باوجود اس کا معنی یہی لیا جا ئے گا کہ میں کسی مرد یا عورت سے ڈرتا نہیں۔

رجلن کے لفظ کا براہ راست معنی مرد ہی ہے۔ ایسے ہی معنی لیا جانا چاہئے۔ اگر براہ راست معنی موزوں نہ ہو نے کی صورت میں مرد اور عورت کی طرف اشارہ کر نے والاوسیع معنی یعنی انسان کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر آیت نمبر 7:46میں رجل کے لفظ کا جمع کا صیغہ رجال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا براہ راست معنی مرد ہی ہے۔ پھر بھی اس آیت کے سلسلہ میں تمام علماء براہ راست معنی لینے کے بجائے انسان ہی معنی لیا ہے۔

بھلائی اور برائی یکساں کر نے والے اعراف نامی آڑ ی دیوار پر ہوں گے۔ جس طرح جنت والوں میں مرد اور عورت ہوں گے، جس طرح دوزخ والوں میں مرد اور عورت ہوں گے، اسی طرح اعراف والوں میں بھی مرد اور عورت ہوں گے۔ اس لئے اس آیت میں جہاں مرد کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو آدمیوں کے معنی ہی میں لینا چاہئے۔

آیت نمبر 33:4کو غور سے دیکھو تو تم کو معلوم ہو گا کہ وہ مرد اور عورت ہی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لئے ہم نے ترجمہ کیا ہے کہ کسی بھی انسان کو اللہ نے دو دل عطا نہیں کیا ہے۔

حمل کے زمانے میں عورت کو دو دل ہوتا ہے، اسی بات کو پوشیدہ طور سے کہنے کے لئے ہی اس آیت میں مرد کے لفظ کو استعمال کیا گیا ہے، ان کا یہ دعویٰ بالکل غلظ ہے۔

آئیے دیکھیں وہ کیسے غلط ہے؟

آیت نمبر 33:4دل نامی عضوکے بارے میں نہیں کہتی ہے، قلب کے بارے میں کہتی ہے۔

اس آیت کو پوری طرح سے دیکھیں!

کسی بھی آدمی کے اندراللہ نے دو قلب نہیں رکھا۔ تمہاری بیویوں میں جسے تم ماں کے ساتھ موازنہ کر تے ہو انہیں تمہارے لئے ماں نہیں بنایا۔تمہارے لے پالک بچوں کو اللہ نے تمہارا بچہ نہیں بنایا۔یہ تمہارے منہ سے نکلی ہوئی بات ہے۔ اللہ حق بات ہی کہتا ہے۔ وہی سیدھی راہ دکھا تا ہے۔

یہی پوری آیت ہے۔

دو قلب نہیں بنائے، اس جملے کو کس مقصد سے استعمال کیا گیا ہے، اس آیت کو غور سے دیکھو تو سمجھ سکتے ہو۔

ایک آدمی اپنی بیوی کو فرض کرو کہ ماں سمجھتا ہے۔ حقیقت میں وہ اس کی بیوی ہے۔ اس کے قیاس میں وہ ماں بنائی جا تی ہے۔ انسان کو تو ایک ہی قلب ہے۔ اس کا قلب اگر فیصلہ کر تا ہے کہ وہ بیوی ہے تواس کو ماں نہیں کہہ سکتا اور اس کا قلب اگر فیصلہ کر تا ہے کہ وہ ماں ہے تو اس کو بیوی نہیں کہہ سکتا۔ اگر انسان کو دو قلب ہو تا تو ایک قلب بیوی اور دوسرا قلب ماں کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ لیکن کسی کو دو قلب نہیں ہے۔ اس لئے ایسے اختلافی فیصلہ کر نہیں سکتے، اور کرنا بھی نہیں ہے، یہی اس کا مطلب ہے۔

اسی طرح ایک بچے کو ایک باپ ہے تو کوئی دوسرا اس بچے کا باپ نہیں ہوسکتا۔ دو شخص کو ایک بیٹا نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص کو دو قلب ہو تو اس طرح کا اختلافی فیصلہ ہی اٹھانا ہو گا۔ جب ایک ہی قلب ہوتو اس میں اختلافی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

اسکو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کہا گیا ہے کہ دو قلب کسی کو نہیں دیاگیاہے۔

خون کو اعضاء کی طرف لے جانے والے دل نامی عضو کے بارے میں یہ آیت نہیں کہتی۔بلکہ وہ کہتی ہے کہ ایک انسان کے اندر دو مختلف فیصلہ کرنے کے لئے دو قلب کو اللہ نے کسی کو نہیں دیا۔ اگر پوری آیت پر دھیان دیں توسمجھ سکتے ہیں۔

اسی خاصیت کو یہ آیت کہتی ہے۔ اس سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ مرد اور عورت کو یہ عام ہے۔

ایک عورت جب حاملہ ہے تو اس کے لئے ایک دل اور اس کے پیٹ میں پلنے والے بچہ کو ایک دل ، اس طرح دو دل ہو سکتے ہیں۔لیکن دو دل اس کے اندر کسی بھی وقت ہو نہیں سکتا۔

اس کا دل ہی اس کو متحرک رکھتا ہے، اس کے بچے کا دل نہیں۔بچے کی طرف سے ایک فیصلہ، اپنی طرف سے ایک فیصلہ وہ اٹھا نہیں سکتی۔ اس لئے جب وہ حاملہ رہتی ہے اس وقت بھی اس کو ایک ہی دل ہو تا ہے۔

اگریہ صرف مرد ہی کی طرف اشارہ کر تی ہے تو حمل سے رہنے والی عورت ا یک بچے کو اپنا بچہ اور اسی وقت وہ دوسری عورت کا بچہ کہہ کر کیا فیصلہ کر سکتی ہے؟

دوسرے کو پیدا ہونے والے بچے کو کوئی مرد اپنا لے پالک بیٹا کہنا نہیں ، بلکہ عورتیں کہہ سکتی ہیں، ایسا کوئی فیصلہ کر سکتا ہے؟ اگر ویسا فیصلہ نہ کر سکتے تووہ یقینامان لیتے ہیں کہ عورتوں کو بھی ایک ہی دل ہے، دو دل نہیں ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی فیصلہ کر ے کہ ایک عورت اپنے شوہر کو شوہر بھی کہہ سکتی ہے اور باپ بھی کہہ سکتی ہے ، تو اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کو دو دل ہیں۔

وہ فیصلہ نہ مرد اٹھائے اور نہ عورت۔ کیونکہ دونوں کو ایک ہی دل ہوتاہے۔

عورت کو دو دل ہوتے ہیں، اس طرح کہنے میں اگر وہ سچے ہوں تو انہیں کہنا چاہئے کہ لے پالک بچے کو اپنا خاص بچہ کہنا مرد کو جائز نہیں ، بلکہ عورت کو جائز ہے۔ اس طرح وہ کہنے والے نہیں، اس لئے وہ مان لیتے ہیں کہ عورت کو بھی ایک ہی دل ہے۔

ایک بات کے لئے مان بھی لیں کہ اوپر کی اس آیت میں دو قلب نہیں کہا گیا، بلکہ دو دل کی طرف ہی اشارہ ہے تو بھی بچے کا دل اس کا نہیں ہوتا۔ اس کا حق صرف اسی کا دل ہے۔ عورتوں کو کسی بھی وقت دو قلب نہیں رہا۔

ان کے قول کے مطابق عورت دو دلوں کے ساتھ رہنے کا عرصہ بہت کم ہوتا ہے۔ بچہ جننے والی عورت ساٹھ سال تک جی کر وہ تین بچوں کو اگر جنا ہو تو تیس ماہ تک ہی وہ بچے کا بوجھ سہا ہو گا۔ 57سال تک بچے کا بوجھ اٹھائے بغیروہ ایک ہی دل کے ساتھ رہی ہے۔ بعض عورتیں ایک وقت میں چار حمل کا بار اٹھائے ہوں گے۔ اس وقت ان کو پانچ دل ہو جائے گا۔

چند عورتیں بچہ جنے بغیر ساٹھ سال تک جئیں تو انہیں دو دل کا مسئلہ کبھی نہیں ہوگا۔

بلوغت کو پہنچنے تک، اور حیض رکنے کے بعد بھی وہ عورت ہی رہتی ہے۔اس کو دو دل نہیں ہوتا۔

اس لئے ان کے دعوے قطعاً غلط ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ اختلافی انجام کو نہ مرد اٹھائیں اور نہ عورت اٹھائیں، اس قانون کو مناسب وجوہات کے ساتھ تشریح کر نے والی آیت ہے۔ یہ مرد اور عورت سب کے لئے عام ہے۔ اس لئے کسی بھی انسان کو اللہ نے دو قلب عطا نہیں کیا۔ اس طرح ہم نے جو ترجمہ کیا ہے وہی اس جگہ کے لئے مناسب ہے اور ٹھیک بھی ہے۔

501۔ کیا اگلے لوگوں کی پیروی کر سکتے ہیں؟

یہ آیت 9:100کہتی ہے کہ حجرت کر نے میں سبقت لے جا نے والے اور انہیں مدد کر نے میں سبقت لے جانے والوں کی پیروی کرو۔ اصحاب رسول کچھ بھی کہے اس کی ہم پیروی کر نا چاہئے، ایسے غلط اعتقاد والے اس آیت کو اپنے لئے دلیل پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس آیت کو وہ معنی نہیں ہے جو وہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ اس کو جاننے سے پہلے اسلام کی بنیادی عقیدے کو جان لینا ضروری ہے۔

اسلام کے نام سے جو کچھ بھی کرنا ہو وہ اللہ کا فرمان ہو نا چاہئے۔ یا وحی کے ذریعے اس کے رسول ؐ کا کہنا ہونا چاہئے۔

اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے خلاف کوئی بھی کہے اس کو اور اسلام کو کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اللہ اوراس کے رسول نے جو نہیں کہا اس کو اسلام کے نام سے کوئی بھی کہے اس کو اور اسلام کو کوئی تعلق نہیں۔

یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

اللہ اور اس کے رسول نے جو نہیں کہا اس کو اگر صحابیوں نے کہا بھی ہو یا جانے مانے بزرگوں نے بھی کہا ہو تو اس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

سیدھا راستہ دکھانے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، وہ تو صرف میرے لئے ہے، یہی اللہ کی طرف سے دنیا کو ملا ہوا پہلا حکم ہے۔

پہلا انسان آدم ؑ کو اللہ نے براہ راست پیدا کیا ہے۔ اللہ کی قدرت کو آنکھوں کے سامنے دیکھے ہوئے ہیں۔انہیں فرشتوں سے زیادہ دانشمندی عطا کی گئی ہے۔

ایسی عظمت کو پائے ہوئے آدم ؑ اور ان کی بیوی حوا ؑ دونوں نے اللہ کے ایک حکم کو نہیں مانا۔ اس کی وجہ سے جہاں وہ تھے اس جنت سے باہر نکال دئے گئے۔

انہیں باہر کر تے وقت اللہ نے ان سے کہا تھا:

یہاں سے تم سب نکل جاؤ۔میرے پاس سے جب تمہیں ہدایت آئے توجو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس کونہ کوئی خوف ہو گا اور وہ نہ غمگین ہوں گے۔

قرآن مجید، 2:38

تم دونوں ایکساتھ یہاں سے اترو۔ تم میں سے بعض بعض لوگوں کے دشمن ہوں گے۔ میرے پاس سے تم کو ہدایت آئے گی۔ اس وقت میری ہدایت کی جو پیروی کر ے گا وہ گمراہ نہ ہوگااور نہ بدبخت ہوگا۔جو میری نصیحت کو اعراض کرے گا اس کو تنگی کا جینا ہوگا۔ اس کو ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

قرآن مجید، 20:123,124

انہیں عطا ہو نے والی عقل کے ذریعے سیدھی راہ کواگر انسان جان سکتا ہے تو اللہ نے اسطرح کہہ کر بھیجنے کی ضرورت نہیں۔

اللہ کہہ سکتا تھا کہ میں نے تمہیں بے شمار عقلمندی عطا کی ہے، اس عقل کے ذریعے سیدھی راہ تلاش کر واور اسی کے مطابق چلو۔ اس نے ایسا نہیں کہا، بلکہ اس طرح کہہ کر بھیجا ہے کہ میرے پاس سے تم کو سیدھی راہ آئے گی، اس راہ کو اگر تم پیروی کرو گے ہی تو کامیاب حاصل کر سکو گے۔

انسانوں ہی میں بہت بڑے عالم آدم نبی جو تھے وہ خودبھی سیدھی راہ دریافت نہیں کر سکتے۔ اللہ سے بتائی ہوئی ہدایت پر ہی انہیں چلنا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کا قول اور کارروائی کو ہم دین بنالینا نہیں چاہئے۔

آدم نبی خود اللہ کی طرف سے آنے والی صرف ہدایت کو ، وحی کوپیروی کر نا ہے تو یہ اصحاب رسول اور دوسرے کیا ان سے زیادہ بڑھ گئے؟

ان آیتوں میں 2:170، 3:103، 6:106، 6:114,115، 7:3، 10:15، 33:2،39:3، 39:58، 46:9، 49:16، 24:51,52، 5:3، 16:116، 42:21، 5:87، 6:140، 7:32، 9:29، 9:37، 10:59، 5:48,49 اس عقیدے کو اللہ نے اور بھی زیادہ واضح طور پر سمجھایا ہے۔

اب آئیں دیکھیں یہ 9:100کی آیت کیا کہتی ہے!

دین کے لئے مکہ چھوڑکر مدینہ کی ہجرت کر نے والوں کواور ہجرت کر کے مدینہ آنے والوں کی مدد کر نے والوں کو یہ آیت تعریف کر نے کے ساتھ انہیں پیروی کر نے والوں کو بھی یہ آیت تعریف کر تی ہے۔ یہ آیت یہ بھی کہتی ہے کہ اللہ نے ان سے راضی ہو ااور ان کے لئے جنت تیار ہے۔

اللہ خود حکم دیا ہے کہ اصحاب رسول کی پیروی کرو، اسی لئے وہ دعویٰ کر تے ہیں کہ اصحاب رسول کی پیروی ضروری ہے۔

اس آیت کی طرف ٹھیک سے غور نہ فرمانے کی وجہ سے ان کے غلط عقیدے کے لئے اس کو دلیل پیش کر تے ہیں۔ پیروی کر نے کا لفظ استعمال کر نے کے جگہ کے مطابق معنی دیتا ہے۔

ایک مخصوص آدمی کے نام کو استعمال کر کے اگر کہا جائے کہ اس کی پیروی کر تے ہوئے چلو تو اس کا معنی ہو گا کہ ہر طریقے سے اس کی پیروی کر نا چاہئے۔

ایک انسان کا رتبہ اور قابلیت کی طرف اشارہ کر کے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی قابلیت کے سلسلے کے معاملے میں اس کی پیروی کرو۔

اگر کہا جائے کہ پولس کے افسر کی پیروی کرو یا پولس افسر موسیٰ کی پیروی کروتو اس کا مطلب ہو گا کہ پولس افسر کے لحاظ سے ان کی جو اختیارات ہیں اس معاملے میں پیروی کرو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تجارت، نکاح یا عبادت کے معاملوں میں پیروی کرو۔

اگر کہا جائے کہ سخاوت یا سخی ابراھیم کی پیروی کرو تواس کا مطلب ہو گا کہ ان کے دریا دلی کے معاملے کی پیروی کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ جو کچھ کہے اس کو سنو یا وہ جو کچھ کرے اس کو تم بھی کرو۔

اس آیت میں کسی بھی انسان کی پیروی کر نے کے لئے نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ ہجرت کر نے میں سبقت لے جانے والے اور ان کی مدد کرنے میں سبقت لے جانے والے کی پیروی کر نے کے لئے ہی کہا گیا ہے۔

یعنی ہجرت کر نے میں جو سبقت لے گئے انہیں پیروی کرتے ہوئے بعض لوگ ہجرت کرنے میں دیری کردی، یہی اس کا مطلب ہے۔ مدد کر نے میں سبقت لے جانے والوں کی پیروی کا مطلب ہے کہ مدد کر نے میں انہوں نے ان کا راستہ اپنایا۔

اس میں ایک اور بات بھی غور کرنے کے قابل ہے۔

اللہ نے جنہیں مہاجر اور انصار کہا وہ اصحاب رسول ہی ہیں، اس کے باوجود انہیں پیروی کر نے کے لئے ہمارے لئے کوئی حکم نہیں ہے۔ اللہ نے مستقبل کا عمل ’’جو پیروی کر ے گا ‘‘کہنے کے بجائے ’’جو پیروی کیا تھا‘‘ کا ماضی کا عمل استعمال کیا ہے۔

’جو پیروی کر ے گا‘کہا جاتا تواس کا مطلب ہو تا کہ اب بھی انہیں پیروی کر سکتے ہیں۔ ’جو پیروی کیا تھا‘ کہا جانے کی وجہ سے یہ آیت نازل ہو نے سے پہلے جس نے پیروی کی تھی یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے۔

اس لئے مہاجر اور انصار جیسے اصحاب رسول کی طرف اشارہ ہے اسی طرح مہاجر کی پیروی کرنا اور انصار کی پیروی کر نا دونوں اصحاب رسول ہی کی طرف اشارہ ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ ابتدائی مہاجر ، ان کی پیروی کر تے ہوئے ہجرت کئے ہوئے مہاجر ، ابتدائی انصار اور ان کی پیروی کر تے ہوئے مدد پہنچانے والے انصار ، ان سب کو اللہ کی رضامندی ہے۔ یہ لوگ تمام اصحاب رسول ہی ہیں۔ جو اصحاب رسول نہیں ہیں ان کی طرف یہ اشارہ نہیں ہے۔

ہجرت کر نے میں اور ہجرت کر نے والوں کو اپنانے میں انہیں پیروی کرنے والے کا یہ جملہ عام طور سے پیروی کر نے کے لئے کہا نہیں جاتا۔

پہلے ہجرت کرنے والوں سے ہجرت کے وقت غلط کام واقع ہوا ہوگا۔ اس لئے کہ اس کی پیروی نہ ہوجائے،اللہ فرماتا ہے کہ اچھی طریقے سے پیروی کر نے والے۔

اور پھر صرف وحی کی پیروی کی جائے کہنے والی بے شمار دلیلوں کو بغیر اختلاف کے اس آیت کو سمجھنے کے لئے یہی ٹھیک طریقہ ہے۔

اس کو اگر اس طرح معنی دیں کہ مہاجر اور انصار وغیرہ کسی بھی چیز کو اگر دین کہیں یا کریں ، اس کو ایسے ہی ہم بھی پیروی کرنا ہے، تویہ نوبت آ جائے گی کہ صرف وحی کی پیروی کرنے کوکہنے والی آیتوں کو جھٹلادیا جائے ۔ یا ایسا ہوجائے گا کہ اصحاب رسول کو بھی وحی آتی تھی۔ دونوں ہی بات غلط ہیں۔

اس لئے یہ آیت یہ معنی نہیں دیتی کہ اصحاب رسول کی باتیں اور عمل دین کے لئے دلیل ہیں۔

دیگر رائے رکھنے والے اس آیت کو جو معنی دیتے ہیں وہ غلط ہے۔اسی طرح ترکیب پائی ہوئی ایک اور آیت کے ذریعے بھی ہم جان سکتے ہیں۔

جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی ہم جمع کر دیں گے۔ ان کے عمل میں کوئی چیز کم نہیں کریں گے۔ ہر آدمی اپنے اعمال میں گروی ہے۔

قرآن مجید، 52:21

اس 9:100آیت کو اختلاف رائے رکھنے والے جیسا سمجھے ہیں اس آیت کو بھی اگر سمجھیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہر آدمی اپنے مومن والدین کی پیروی کر سکتے ہیں۔ یعنی اس کا یہ مطلب ہو گا کہ صرف صحابیوں کی پیروی کر نا ضروری نہیں ہے۔ اپنے والدین جس کو دین کہہ کر پیروی کرتے ہیں اسی کو ہم بھی پیروی کرنا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹھیک طریقے سے ایمان والے والدین کو اسی طرح ٹھیک طریقے سے ایمان لا کر اولاد بھی اگرپیروی کریں تو ان کی اجرت کو کچھ کمی کے بغیر ہم عطا کر یں گے۔

وہ لوگ خود مانتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ والدین کی تمام کارروائی کو ایسے ہی پیروی کریں۔

ایک ہی طریقے سے ترکیب پائی ہوئی دو الگ الگ آیتوں کو دو طریقے سے تشریح کی گئی ہے، اسی سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کا دعویٰ کتنا غلط ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تم میں بہتر لوگ میرے زمانے والے ہیں۔ پھراس کے بعد آنے والے ہیں۔ پھر ان کے بعد آنے والے ہیں۔آپ ہی نے پھرکہا کہ تمہارے بعد ایمانداری سے نہ چلنے والے، دھوکہ بازی کر نے والے،گواہی کے لئے بلائے بغیر گواہ دینے والے، نذریں ماننے کے بعد اس کوپورا نہیں کر نے والے ظاہرہوں گے۔ اور ان کے پاس ریاکاری دکھائی دے گی۔

بخاری: 2651، 3650، 6428، 6695

نبی کریم ؐ نے اپنے زمانے والوں کو اور اس کے بعد کے زمانے والوں کو بہترین امت کہنے کی وجہ سے وہ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اصحاب رسول کی ہم پیروی کر سکتے ہیں۔

یہ حدیث سند یافتہ حدیث ہونے میں کوئی شک نہیں۔لیکن اس میں اصحاب رسول کی پیروی کر نے کے لئے ایک بھی جملہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کو نبی کریم ؐ نے اس کے آخر ہی میں وضاحت کردیا ہے۔

یعنی اس امت میں ایمانداری، صداقت،وعدہ نبھانا، ہر معاملہ میں زبردستی داخل ہوناوغیرہ اچھے اخلاق بہت زیادہ ہونگے۔ اس کے بعد کے زمانے میں وہ کم ہو جا ئے گا، یہی وہ تفصیل ہے۔

اصحاب رسول کی غورو فکر میں، فیصلوں میں، انجام میں، تفتیش میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی، اس وجہ سے اگر نبی کریم ؐانہیں بہتر امت کہا ہو تا تو انہیں پیروی کر سکتے ہیں۔ فرض کرو کہ یہ معنی اس کے اندر موجود ہے۔

ان کی ایمانداری اور راست بازی کی وجہ سے نبی کریم ؐ نے انہیں بہتر کہا ہے۔ ایمانداری اور راست بازی سے رہنے کی وجہ سے ان کے ذہن میں کبھی بھی غلطی پیدا ہی نہیں ہو گی ، کوئی نہیں کہہ سکتا۔

اور پھر ہم نے کئی دلائل پیش کر چکے ہیں کہ صرف وحی ہی کی ہمیں پیروی کرنا ہے۔ اس کے خلاف اگر ہم اس حدیث کو مانیں تو ہمیں یہ بھی ماننے کی آفت آجائے گی کہ اصحاب رسول کو بھی اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے۔

500۔ منہ کا چھپاناصرف نبی کی بیویوں کے لئے ہے

بہت سے مسلمان غلطی سے سمجھنے والی آیتوں میں 33:53 کی آیت بھی ایک ہے۔ اس آیت کو سند بنا کر چند لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ عورتیں منہ کو چھپانا ضروری ہے۔

اس کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضروری ہے۔

ہم نے حاشیہ نمبر 472میں تشریح کی ہے کہ عورتیں منہ کو چھپانا نہیں ہے۔ اس کے لئے دلائل بھی پیش کیا گیا تھا۔

نبی کریم ؐ کے زمانے میں عورتیں منہ کو چھپائے نہیں تھے، اس کے لئے ہم کئی دلائل پیش کر نے کے باوجود اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کا ایک ہی جواب یہ تھا:

ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ حجاب کے متعلق کہنے والی آیت میں کہا گیا تھا کہ عورتیں پوری طرح غیر مردوں سے اپنے کو چھپالینا چاہئے، اس طرح کہنے کی وجہ سے عورتیں منہ کو چھپائے بغیر تھے۔ یہ واقعہ تمام اس آیت کے نازل ہو نے سے پہلے پیش آیاتھا، اس طرح اس کو سمجھیں!

حجاب کی آیت کہلائے جانے والی اس 33:53آیت میں کیا کہا گیاہے؟

اے ایمان والو! نبی کی گھروں میں اجازت کے بغیر کھانے کے لئے داخل نہ ہو۔ ان کے برتن کو دیکھتے نہ رہو۔بلکہ تمہیں بلا یا جائے تو جاؤ۔ کھانا کھا چکو تو نکل جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہوجاؤ۔ وہ نبی کے لئے تکلیف دہ ہوگی۔تم سے (کہنے کے لئے) وہ شرمندہ ہوں گے۔ سچ بات کہنے کے معاملے میں اللہ شرماتا نہیں۔ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنی ہوتو پردے کے پیچھے ہی سے مانگو۔ یہی تمہارے لئے اور ا ن کے لئے پاکیزہ ہے۔ اللہ کے رسول کو تم تکلیف نہ دینی چاہئے۔ ان کے بعد تم ہر گز ا ن کی بیویوں سے نکاح نہیں کر نا چاہئے۔یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے322۔

قرآن مجید: 33:53

یہ آیت کہتی ہے کہ پردے کے آڈ ہی سے مانگو ، اس لئے یہ لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ عورتیں منہ چھپا نا ضروری ہے۔

یہ آیت عام طور سے تمام مسلم عورتوں کے لئے ذاتی قانون نہیں ہے۔ صرف نبی کریم ؐ کی بیویوں کے لئے مخصوص قانون ہے، اس بات کو یہ آیت ہی واضح کر تی ہے۔

اس آیت میں استعمال شدہ

نبی کے گھروں میں کا جملہ ،

اور ان(ازواج رسول) کے پاس کچھ مانگنا ہو تو پردے کے اوٹ ہی سے مانگو کا جملہ،

اللہ کے رسول کو تم تکلیف نہ پہنچاؤ کا جملہ،

ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے کوئی نکاح نہ کرے کا جملہ،

واضح طور سے کہتی ہے کہ یہ ازواج رسول کے لئے مزید پابندی ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نبی کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے کوئی بھی نکاح نہ کرے۔ وہ مزید پابندی صرف نبی کی بیویوں کے لئے خاص ہے، اس کو ٹھیک سے سمجھ جاتے ہیں۔ لیکن اسی آیت میں ایک اور پابندی جو کہا گیا ہے وہ سب کے لئے ہے کہہ کر اس آیت کے مطلب کو پھیر دیتے ہیں۔

اخلاق اور پابندی کے معاملے میں ازواج رسول کو مزید پابندی ہے، اس کو اسی سورت کی 30 سے 33 آیتوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔

30۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے کوئی کھلی بے حیائی کا کام کروگی تو ان کو دوہرا عذاب دے جائے گا۔ وہ اللہ کے آسان ہی ہے۔

31۔ (اے ازواج رسول!) تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی تابع ہو کر نیک عمل کر نے والوں کو اس کادوہرااجردیں گے۔ اور اس کو باعزت روزی بھی تیا کر رکھی ہے۔

32۔اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو تو ملائم انداز سے بات مت کرو۔ جس کے دل میں بیماری ہو تو وہ لالچ میں پڑجائے گا۔اچھی باتیں ہی کرو۔

33۔ تم اپنے ہی گھر میں ٹہرے رہو۔ سابقہ جاہلیت کے زمانے میں ظاہرکر تے پھر نے کی طرح نہ پھرو۔ نماز قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت کو آلودگی سے دور کردے اور تمہیں پوری طرح سے پاک و صاف کر دے۔

یہ آیتیں تمام اس بات کو واضح طور پر کہتی ہیں کہ نبی کے بیویوں کو مزید پابندی ہیں۔

تیسویں آیت میں اللہ کہتا ہے کہ اے نبی کی بیویو! تم میں سے کوئی کھلی بے حیائی کا کام کروگی تواس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ عام عورتوں سے زیادہ نبی کی بیویاں جو اخلاقی جرم کر تے ہیں، اس کے لئے دوہرا عذاب دیا جائے گا۔

اکتیسویں آیت میں کہا گیا ہے کہ ازواج رسول کو دوہرا انعام دیا جائے گا۔

بتیسویں آیت میں کہا گیا ہے کہ تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو تو ملائم انداز سے بات مت کرو۔ جس کے دل میں بیماری ہو تو وہ لالچ میں پڑجائے گا۔اچھی باتیں ہی کرو۔

اس آیت میں اللہ نے واضح طور پر کہتا ہے کہ اخلاق و آداب کے بارے میں ازواج رسول عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔

تیتیسویں آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ تمہارے گھروں ہی میں ٹہرے رہو۔سابقہ جہالت کے زمانے میں زینت کو ظاہر کر تے ہوئے پھر نے کی طرح نہ پھرو۔

اللہ فرماتا ہے کہ دوسری عورتیں اپنی ضروریات کے لئے باہر جا سکتی ہیں۔ لیکن ازواج رسول گھر سے باہر نہ جائیں۔

ان آیتوں کو غور کر نے سے اچھی طرح واضح ہو تا ہے کہ منہ کو چھپانا صرف ازواج رسول ہی کے لئے مخصوص قانون ہے۔

اور حدیثوں میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ قانون ازواج رسول ہی کے لئے مخصوص ہے۔

عمرؓ فرماتے ہیں:

میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے پاس اچھے لوگ بھی آتے ہیں اور برے لوگ بھی آتے ہیں۔ اس لئے مومنوں کی ماؤں کو حجاب (پردے ) میں رہنے کے لئے حکم دیں تو اچھا ہوگا۔جب ہی اللہ نے حجاب کے متعلق آیت اتاری۔

بخاری: 4790، 4483

عمرؓ یہ نہیں کہا کہ تمام عورتیں اپنے آپ کو چھپا لینے کے لئے حکم دیں۔بلکہ یہی کہا کہ مومنوں کی ماؤں کو یعنی ازواج رسول کو ایسی پابندی لگائیں۔ اسی کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

یہ آیت نبی کے گھرانے کے سلسلے ہی میں نازل ہوئی ہے، اس کے لئے مندرجہ ذیل حدیث دلیل ہے:

نبی کریم ؐ کی شادی جب زینبؓ کے ساتھ ہوئی تو نکاح کی دعوت رکھی گئی۔ سب لوگ دعوت سے فارغ ہو کر جانے کے بعد بھی ایک گروہ نبی کے گھر ہی میں بیٹھ کر گفتگو کر نے میں مشغول تھی۔ وہ بات نبی کریم ؐ کو بہت گراں گزرا۔

(سب لوگ جانے کے بعد بھی)ان میں سے صرف ایک گروہ(باہر جا نے کے بجائے) اللہ کے رسول کے گھر میں بیٹھے ہوئے بات کر رہے تھے۔ اللہ کے رسول بھی وہیں موجود تھے۔ اس وقت اللہ کے رسول کی بیوی (زینبؓ ) اپنے چہرے کو دیوار کی طرف کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہاں اٹھ کر جانے کے بجائے جو بیٹھے ہوئے تھے، اللہ کے رسول ؐ کو بہت گراں گزررہا تھا۔

اس لئے اللہ کے رسول ؐنے باہر نکل کر اپنی دوسری بیویوں کے پاس گئے،سلام کیا اور خیریت دریافت کر کے واپس آئے۔ نبی جب واپس آئے تو انہیں دیکھ کر وہاں بیٹھے ہوئے لوگ سوچنے لگے کہ کہیں ہم رسول اللہ ؐ کے لئے بوجھ تو نہیں نبے۔ اس لئے وہ فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔

اللہ کے رسول ؐ نے پردے لٹکا ئے اور گھر کے اندر چلے گئے۔ میں اس کمرے میں بیٹھی تھی۔ تھوڑی ہی دیر انہوں نے وہاں رہے۔ اس کے بعدباہر نکل کر وہ میر ے پاس آپہنچے۔ اس وقت ان پر یہ آیت (33:53) اتری۔ اللہ کے رسول ؐ نے لوگوں کو ان آیتوں کو پڑھ کر سنایا: اے ایمان والو! نبی کے گھر وں میں داخل نہ ہوں۔ دعوت کے لئے تمہیں بلایا بھی گیا ہو تو اس وقت بھی کھانا تیار ہونے کو دیکھتے مت رہ جاؤ۔ جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ۔ کھانا ختم ہونے کے ساتھ باہر نکل جاؤ۔ گفتگو میں مائل مت ہو جاؤ۔ بے شک تمہارا یہ عمل نبی کو ناگوار گزرتا ہے۔ یہی وہ آیت ہے۔

انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت اترنے کے ماحول کے بارے میں اور نبی کریم ؐ کی بیوی حجاب ڈال کر چھپائے جانے کے بارے میں لوگوں میں میں ہی اچھی طرح جاننے والا ہوں۔

مسلم: 2803

یہی واقعہ دوسرے الفاظوں میں بخاری کی 5466 حدیث میں کہا گیا ہے۔

یہ آیت نازل ہونے کا موقع اور اس آیت میں استعمال ہو نے والا جملہ واضح طور پر کہتا ہے کہ منہ کو چھپانے کا قانون صرف ازواج رسول ہی کو لاحق ہے۔

دیگر عورتوں کا قانون حاشیہ نمبر 472 میں وضاحت کیا گیا ہے۔

499۔ کیا یہ 113، 114سورتیں جادو کے متعلق اتری ہیں؟

بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ قرآن مجید میں 113 اور114سورتیں نبی کریمؐ کو جادو کرتے وقت اتری ہیں۔ ہر ایک آیت پڑھنے کے ساتھ ایک گرہ کھل کر نبی کریم ؐ نے شفا پاتے گئے ۔ اس طرح کہہ کر انہوں نے یہ بات ثابت کر نے کی کوشش کی کہ جادو سے نبی کریم ؐ کو ضرر پہنچانے کی خبر بالکل صحیح ہے۔

نبی کریم ؐ پر جادو کیا جانا اور اس کے ذریعے انہیں متاثر کرنا سب جھوٹی کہانی ہے۔ اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 357 میں تفصیل سے کہا ہے۔

نبی کریم ؐ پر جادوکئے جانے کی خبر ہی جب باطل ہو تو اسی کے لئے یہ دونوں سورتیں اتری ہیں کی خبر بھی جھوٹی کہانی ثابت ہوجاتی ہے۔

راوی معتمد رہنے کے باوجود نبی کریم ؐ پر جادو کئے جانے کی خبر اسلام کی بنیاد ہی کومسمار کر دینے والی ہے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ وہ جھوٹی کہانی ہے۔

اس بات کے لئے کوئی مناسب دلیل نہیں ہے کہ113 اور 114کی سورتیں نبی کریم ؐ پر کئے جانے والے جادو کو مٹانے کے لئے اتاری گئی ہے۔ قابل قبول راوی کی تسلسل بھی نہیں ہے۔

اس کے بارے میں ابن کثیر کی تبصرے کو ذرا دیکھئے!

قرآن کے مسفر ثعلبی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ پر جادو کر نے کے بعد نبی کریم ؐ نے علی، زبیر، عمار بن یاسر وغیرہ کو اس کنویں کے پاس بھیجا۔ وہ لوگ کنویں سے پانی کو سینچا۔ وہ پانی مہندی کی رس کی طرح تھا۔ پھر اس سے چٹان کو ہٹایا گیا۔ اس کے نیچے کھجور کے شاخ کے غلاف کو باہر نکالا گیا۔ اس میں نبی کے سر کے بال اور ان کے کنگھی کی دانتیں تھیں۔ سوئی میں پروئے ہوے تاگے میں بارہ گانٹھ ڈالا ہوا تھا۔ اسی وقت113اور 114دو سورتوں کو اتارا گیا۔ایک ایک آیت پڑھتے گئے تو ایک ایک گرہ کھلتا گیا۔ اس طرح ثعلبی کا کہنا ہے۔ اس میں صرف اتنا ہی ہے کہ عائشہؓ اور ابن عباس نے کہا۔ ان دونوں نے کس سے کہااور ان راوی تک پہنچنے والا تسلسل کچھ بھی نہیں ہے۔ اس میں چند باتیں مستحکم خبر کے ساتھ اختلاف رکھتی ہیں۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ ایسا بھی ہے جو کسی نے نہیں کہا۔

راویوں کے تسلسل کے بغیر کہی جانے والی کوئی بھی حدیث جھوٹی کہانی کے مترادف ہے، اس لئے اس کو دلیل نہیں بنا سکتے۔

اسی طرح ابن حجر بھی اس کا تبصرہ کیا ہے۔

بیہقی نے کمزور راوی کی تسلسل سے اپنی کتاب دلائل النبوت میں کہتے ہیں کہ جادو کر نے کے لئے گیارہ گانٹھ ڈالے گئے، اسی کے بارے میں فلق اور ناس وغیرہ سورے نازل کئے گئے، ہر سورہ اترتے وقت ایک ایک گانٹھ کھلتے گئی۔ اسی طرح ابن سعد نے ابن عباس کے ذریعے راویوں کی تسلسل کے بغیرخبروں کو روایت کی ہے۔ اس طرح ابن حجر نے تبصرہ کیا ہے۔

نبی کریم ؐ پر جب جادو کیا گیا تو اس وقت ہی یہ دو سورتیں نازل کی گئیں ، اس کے لئے کوئی معتمد روایت نہیں ہے۔ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں، اس اعتماد والے بھی مانتے ہیں کہ یہ کمزور ہے۔ اس لئے یہ ایک ایسی جھوٹی کہانی ہے کہ جسے دلیل نہیں بنا سکتے۔

ان دو سورتوں کو غلط تشریح دے کربعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جادو ہی کی بات کرتی ہے۔

خاص کر فلق کی سورت میں کہا گیا ہے کہ گرہ میں پھونک مارنے والوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ وہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ گرہوں میں پھونک مار کر جادو کر نے والی عورتوں ہی کے بارے میںیہ کہتا ہے، اس لئے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جادو کا اثر ہے۔

یہ ان لوگوں کا قیاس ہی ہے کہ گرہوں میں پھونک مارنے کی شر سے، یہ بات جادوگرنی کے متعلق ہے ۔ اس کے سوا اللہ نے یا رسول اللہ نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی۔اس کے لئے کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے کہ گرہوں میں پھونک مارنے والی عورت تو جادوگرنیوں ہی کو کہا جاتا ہے۔اس کے لئے جب دلیل مانگا گیا تو وہ لوگ جواب نہیں دے سکے۔

ان کا کہنا غلط ہے، اس کو معمولی انسان بھی کہہ سکتا ہے۔

جادو سے متاثر کر سکتے ہیں کے عقیدے والوں کا بھروسہ یہی ہے کہ صرف عورتیں ہی نہیں، بلکہ مردیں بھی جادو کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا بھروسہ ہے کہ نبی کریم ؐ کو لبید نامی یہودی مرد نے ہی جادو کیا تھا۔ ایسی صورت میں جادو کر نے والی عورتوں سے پناہ مانگنے کے لئے کہنا کیسے مناسب ہوگا؟

اس سورت میں گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کے شر سے پناہ مانگا گیا ہے۔ جادو کر نے والے مردوں سے حفاظت نہیں ہوگا؟

متاثر کر نے کی طاقت اگر جادو کو ہے تو اس سے پناہ مانگنے کے لئے ہی ان سورتوں کے ذریعے اللہ راستہ دکھاتا ہے توصرف گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کی شر سے پناہ مانگنے کو کہہ کر جادو کرنے والے مردوں سے حفاظت نہ کر نے کی حالت کو کیا اللہ پیدا کر سکتا ہے؟

اس طرح اگر سوچا جائے توایسا معلوم ہو تا ہے کہ ان کی دی ہوئی وضاحت بیکار اور اللہ کا قول بے معنی ہو جا ئے گا۔

جادو سے متاثر کر سکتے ہیں، اس طرح بھروسہ کرنے والوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ گرہوں میں پھونکنے کا ایک ہی راستے کے سوا کوئی جادونہیں ہے ۔

ہزاروں طریقوں سے جادو کر سکتے ہیں، یہی ان کا عقیدہ ہے۔ یہ سورت اگر جادو سے ہمیں حفاظت پانے کے لئے نازل کیاگیا ہو تو اس میں گرہوں میں پھونکنے کی ایک ہی قسم کا جادو موجود ہے۔ اس کے سوا اگر کوئی جادو کیا تو اس سے کسی قسم کی حفاظت نہیں ہوگی۔

اس سے کیا حقیقت ظاہر ہو تا ہے؟ یہ جادو گروں سے پناہ مانگنے کے لئے نازل نہیں کیا گیا ۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ اس طرح نامکمل طریقے سے نہیں سکھائے گا ۔

دنیا میں اکثر مرد ہی جادو کیاکرتے ہیں۔ جادوگرنیاں شاذو نادر ہی ہیں۔ مزاحیہ کہانیوں اور ڈراؤنی کہانیوں ہی میں جادوگرنی ایک بوڑھی کو دکھایا جاتا ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ مرد ہی زیادہ تر جادو گر رہنے کی وجہ سے جادو کر نے والی عورتوں سے پناہ مانگو کہنا نامناسب دکھائی دیتا ہے۔

گرہوں میں پھونکنے کی شر کا مطلب کیا ہے؟ گرہ کوبراہ راست معنی بھی گرہ ہی ہے، اس کے باوجود یہاں وہ معنی درست نہیں ہے۔ اگر سوچے کہ گرہ ڈالنے سے ہمیں کیا ضرر پہنچ سکتا ہے تو گرہ کا براہ راست معنی یہاں ہم لے نہیں سکتے۔

گرہ کو اس کے براہ راست معنی سے ہٹ کر دوسرے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر موسیٰ نبی کو ہکلاپن تھا۔ اس کے متعلق وہ اللہ کے پاس عرض کر تے ہوئے(20:27) کہا کہ یا اللہ! میرے سینے کو کشادہ کر دے۔ میرے کام کو آسان کردے۔ میری زبان کی گرہ کھول دے!

اس آیت سے ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ زبان میں گرہ ڈالاگیا ہے۔ موسیٰ نبی کوہکلاپن تھا۔ہم یہی سمجھیں گے کہ اسی کو انہوں نے گرہ کہا ہے۔ کوئی بھی اس کو گرہ نہیں سمجھے گا۔

اسی طرح شادی کے متعلق اللہ کہتا ہے کہ شادی کر نے کے بعد دونو ں اگر ملے بغیر جدا ہو گئے تو آدھا مہرادا کر دینا چاہئے۔ سوائے اس کے کہ نکاح کا گرہ جس کے ہاتھ میں ہے وہ معاف کردے۔(2:237)

مرد اور عورت نکاح کے ذریعے ملنے کو اللہ نے یہاں گرہ کہا ہے۔

اس لئے ہمیں ڈھونڈ کر دیکھنا چاہئے کہ اس سورۃ میں جو گرہ کہا گیا ہے اسکے موافقت میں کیا کوئی حدیث میں کہا گیا ہے؟

اس طرح تلاش کیا گیاتومعلوم ہوا کہ نبی کریم ؐ نے جو ایک خبر دی تھی وہ اس کی مناسبت میں موجود ہے۔

نبی کریمؐ نے فرمایا:

شیطان آدمی کے سراہنے بیٹھ کر اس کے سوتے وقت اس پرتین گرہیں ڈالتا ہے۔ جگنے کا وقت آتے ہی وہ کہے گا کہ اور بھی بہت وقت ہے، سو جاؤ۔ اگر وہ جگ گیا تو ایک گرہ کھل جاتا ہے۔ پھر جب وہ وضو کر تا ہے تو دوسراگرہ بھی کھل جاتاہے۔ نماز کے لئے تکبیر باندھنے کے بعد تیسرا گرہ بھی کھل جا تا ہے۔ اس کے بعد وہ اچھی صبح کو پاتا ہے۔ اگر نہیں تو سستی میں رہے گا۔

بخاری: 1142، 3269

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا گرہ کا مطلب ہے اچھے اعمال کر نے سے روکنااور برے اعمال کا ترغیب دینا۔

اس طرح شیطان گرہ ڈال کر ہمیں گمراہ نہ کرنے کے لئے پناہ مانگنا ہی گرہوں میں پھونکنا ہے۔

بغیر کسی دلیل کے قیاس کے طور پر نامناسب تشریح کر نے سے بہتر حدیث کی مدد سے گرہ کا معنی سمجھ لینا ہی ٹھیک ہے۔

114 کی سورت میں کہا گیا ہے کہ دلوں میں وسوسہ ڈالنے والیکی شر سے پناہ مانگتے ہیں ۔ یہ بھی 113 کی سورت جیسی ہی ہے۔

جادو کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 28، 285، 357، 468، 495وغیرہ دیکھیں!

498۔ پہلے کا نیک عمل نیکیاں بن جائیں گی

اللہ اور آخرت کا دن اورایمان رکھنے والی تمام چیزوں کو طریقے کے ساتھ بھروسہ کروگے ہی توآخرت میں انہیں جنت عطا کی جائے گی، یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

اسلام کو قبول نہ کیا ہوا شخص صدقہ اور خیرات کرے ، دیگر کئی نیک عمل کرے، اس کے لئے تعریف وتوصیف وہ اسی دنیا میں حاصل کر لے گا۔ وہ اس نیک عمل کو اللہ کے لئے نہیں کیا، اللہ پر ان کو بھروسہ بھی نہیں ہے، اس لئے اللہ اس کو آخرت میں کوئی اجرت نہیں دے گا۔ اور وہ بھی اللہ کے پاس اس کے لئے جزا نہیں مانگ سکتا۔

اسی طرح مسلم خاندان میں پیدا ہو کراللہ کے ساتھ شرک ٹہراتے ہوئے اگر کوئی شخص زندگی بسر کر تا ہے تو اس کی نمازیں، اس کے روزے اور کوئی بھی نیک عمل کے لئے اللہ کے پاس اجرت نہیں ملے گی، سب کچھ برباد ہوجا ئے گا۔ اس کو ان آیتوں6:88، 29:65کے ذریعے جان سکتے ہیں۔

اسلام کو قبول کیا ہوا ایک شخص اس سے پہلے اگر نیک عمل کیا ہو تووہ اسلام کو قبول کر لینے کی وجہ سے وہ جو نیک کام کئے تھے، اس کواسلام لانے کے بعد کیا ہوا عمل ہی سمجھا جائے گا۔

اسی طرح مسلمان پیدا ہو کر اسلام کو جانے بغیر کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کے بعد توحیدکے عقیدے کو قبول کر لیا اور اسلام کی تعلیم کے مطابق نماز اور روزہ وغیرہ عبادتوں کواسلام کے طریقے کے مطابق نہ کرتے ہوئے ، بری طریقے سے کرنے کے بعد نیک راستے پر واپس آگیا تو اس کے نیک عمل اکارت نہیں جائے گی۔ اس کی غلطی سے کی ہوئی عبادت کوٹھیک طریقے سے کی ہوئی عبادت سا اللہ قبول فرما لے گا۔اس کو ان آیتوں 29:7، 2:143، 25:70سے جان سکتے ہیں۔

More Articles …