Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏473۔ ابراھیم نبی نے بتوں کو جو توڑاکیاوہ ٹھیک تھا؟ 

‏ان آیتوں 21:57، 21:58، 37:93 میں کہا گیا ہے کہ خدا کی طرح مانے جانے والی بتوں کو ابراھیم نبی نے توڑا ۔

ان آیتوں کوپڑھتے وقت ہمیں یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ جس طرح ابراھیم نبی نے بتوں کو توڑا تھا ، کیا ہم بھی غیر مذہبوں کی بتوں کو توڑ سکتے ہیں؟ 

دوسرے مذاہب کے مندروں اور بتوں کو نقصان پہنچانے کے بارے میں اسلام کا صورت حال کیا ہے، اس کو ہم پہلے جان لینا چاہئے۔ 

یہ آیت 6:108کہتی ہے کہ دوسرے جن کی عبادت کر تے ہیں ان دیوتاؤں کو گالی مت دو۔ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 170 میں تشریح کی ‏گئی ہے۔ 

یہ آیت 22:40 کہتی ہے کہ کوئی مذہب والے دوسرے مذاہب کے عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 433 ‏میں وضاحت کیا گیا ہے۔ 

اس کی وجہ بھی ان آیتوں میں کہا گیا ہے۔ دوسرے مذاہب جنہیں دیوتا سمجھتے ہیں اگر تم انہیں گالی دو گے تووہ اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔ تم اگر ‏دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاؤ گے تو وہ تمہاری مسجدوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ یہی وہ وجہ ہے۔

اگر ہم اب دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائیں تو وہی انجام ہو گاجو اوپر کہا گیا ہے۔ 

اگر ایسا ہو تو ابراھیم نبی نے بتوں کو کیوں توڑا؟ 

ابراھیم نبی کا یہ عمل اس آیت کے مخالف نہیں ہے۔ اس کو ہم تفصیل سے معلوم کر لینا چاہئے۔ 

فرض کرو کہ ایک سماج یا ایک مذہب ایک بستی میں ہے۔ اس بستی میں پیدا ہو نے والے ایک شخص کو ان کا مذہب یا ان کی عبادت کا طریقہ پسند ‏نہیں آیا۔ وہ اپنے غصہ کو ظاہر کرنے کے لئے ان کی اس عبادت گاہ کو اور ان کی دیوتا کو نقصان پہنچادیا تو وہاں کوئی مذہنی فتنہ نہ ہوگا۔ دوسرے ‏مذاہب کی عبادت گاہ کو تباہ کر نے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ بتوں کو نقصان پہنچانے والا کسی مذہب کی جانب سے ایسا نہیں کیا۔ 

لوگ یہی سمجھیں گے کہ جسے ہم دیوتا سمجھ رہے تھے اس بھروسے سے نکل گئے۔

ابراھیم نبی کی حالت بھی وہی تھی۔ 

ابراھیم نبی نے بت کو پوجنے والے آزر کو پیدا ہوئے۔ اس وقت وہاں کوئی مذہب نہیں تھا۔ کسی دوسری مذہب کی جانب سے وہ یہ کام نہیں کئے۔ ‏اپنی خاندان والے قومی دیوتا کی بتوں کو پرستش کر نے کو انہوں نے پسند نہیں کیا۔اس غصہ کو انہوں نے اس طرح ظاہر کیا۔ اس کا جو انجام ہو گا، ‏اسے سامنا کر نے کے لئے وہ تیار تھے۔

ایک بستی میں ایک ہی مذہب والے تھے۔ وہ سب لوگ دوسری مذہب کو اگر بدل گئے تو اپنی پرانی عبادت گاہ کو مسمار کردیا جاتا ہے ،اسی طرح اس ‏کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ 

لوگ جب مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں ، اس وقت باہر کے لوگ آکر اپنی بتوں کو توڑنا اور اسی مذہب میں پیدا ہو نے والا اپنی ذاتی طور پر توڑنا، ‏دونوں میں فرق ہے۔ 

اس سلسلے کی دوسری تفصیل کو جاننے کے لئے ان حاشیہ 170،433، 464نمبروں کو دیکھیں!

 ‏472۔ عورتیں چہرہ نہ چھپائیں

‏یہ دونوں آیتیں24:31، 33:59 عورتوں کے لباس کی حدود کے بارے میں کہتی ہیں۔ 

یہ آیت33:59کہتی ہے کہ عورتیں اپنے لباس کے اوپرجلباب نامی آنچل کو پہن لیا کریں۔ 

عورتیں اپنے چہرے کو چھپانا چاہئے ، یہ رائے رکھنے والے اس آیت کواپنے لئے ایک اہم دلیل سمجھ رکھا ہے۔جلباب کا مطلب ہے کہ چہرے کو ‏چھپانے والا لباس، ان کی یہ تشریح ہی ان کے دعوے کی بنیاد ہے۔

جلباب کے لفظ کولغات کی کتابوں میں:

سر پر ڈالنے والی کمار نامی نقاب سے بڑا کپڑا،

لباس کے اوپر پہننے والا چوغہ، 

تہہ بند جیسا لباس، 

جسم کو پوری طرح سے ڈھانپنے والالباس،

اس طرح اس کی کئی معنی ہیں۔

عورتیں اپنے چہرے کے ساتھ تمام اعضاء کوچھپالینا چاہئے ، ایسی رائے رکھنے والے پوری جسم کو چھپانے والا لباس کے معنی میں لے کر دعویٰ کرتے ‏ہیں۔ 

اگر ایک لفظ کو کئی معنی ہوں تو مخصوص جگہ میں کونسا لفظ استعمال کر نا ہے اس کی مناسبت سے غور کر کے معنی لینا چاہئے۔ لغات میں رہنے کی وجہ ‏سے من مانی معنی نہیں لینا چاہئے۔ اس بنیاد کو انہوں نے نظر انداز کردیا۔ 

اس آیت 33:59میں جلباب کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کو پوری جسم کو چھپانے کے معنی دے نہیں سکتے۔ سر پر ڈال کر سینہ تک لٹکنے والا کپڑاہی ‏اس کا معنی ہو سکتا ہے۔ یہ آیت ہی ہمیں راستہ دکھلا تا ہے کہ اس کو یہی معنی لیا جائے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نقاب کو لٹکا نے کے لئے کہئے۔ وہ لوگ جانے جائیں اور اذیت نہ پہنچائے جانے کے لئے یہ مناسب ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جلباب کے لباس میں دو چیزیں ہیں۔ 

ایک یہ کہ جلباب پہننے سے عورتیں اذیت نہیں کئے جائیں گے۔

دوسری بات یہ کہ وہ جان لئے جانا چاہئے۔ 

جلباب نامی اوپری لباس مردوں کے ذریعے عورتیں جو دقت کا سامنا کر تے ہیں اس سے روکنے کی طرح ہو نا چاہئے۔ اس طرح سے بھی ہونا چاہئے ‏کہ جان لیا جائے کہ وہ کون ہیں؟ یہی دو چیزیں اس آیت میں کہا گیا ہے۔ 

عام طور سے عورتیں اپنی جوبن کی اٹھان کو ظاہرکرنا ہی مردوں کو انہیں اذیت پہنچانے کے لئے پہلی وجہ ہے۔ لباس پہننے کے بعد سینوں پر دوپٹہ ‏ڈال لینے سے وہ حالت نہیں ہوگی۔ 

لیکن چہرے پر نقاب نہیں ڈالنا چاہئے۔ اگر ایسا ڈال لوگے تو تم پہچانے نہیں جاؤگے، اس سے اس آیت کی پہلی چیز معدوم ہو جائے گی۔ 

یہ آیت صاف طور سے کہتی ہے کہ عورتوں کا لباس ایسا ہو نا چاہئے کہ وہ پہچان لئے جائیں کہ وہ کون ہیں؟کسی کو پہچاننا ہو تو ان کا چہرہ کھلا رہنا چاہئے۔ ‏چہرہ دیکھ کر ہی کوئی پہچان سکتاہے کہ وہ کون ہے؟

اس آیت 24:31میں جو کہا گیا ہے کہ نقاب کو اپنے سینے پر ڈال لیں، وہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ 

جلباب کے لفظ کا معنی کیا ہے، اس کو جاننے کے لئے جلباب کا لفظ استعمال کئے گئے چند احادیث کو ملاحظہ فرمائیے!

ام عطیہؓ نے کہا ہے: 

دونوں عیدین میں حیض والی عورتوں کو اور پردے کے اندر رہنے والی (بالغ) عورتوں کو نماز کے میدان میں بھیجنے کو ہمیں حکم دیا گیا۔ تمام ‏عورتیں مسلمانوں کی جماعت کی نماز میں حصہ لینا چاہئے اور مسلمانوں کی اشاعتی کام میں بھی شامل ہو نا چاہئے۔نبی کریمؐ نے کہا کہ نماز کی جگہ سے ‏حیض والی عورتیں ہٹ کر رہنا چاہئے۔ اسے سن کر ایک عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں چند عورتوں کے پاس پہننے کے لئے جلباب ‏‏(دوپٹہ) نہیں ہے۔ تو نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ ان کی سہیلیاں اپنی جلبابوں میں سے ایک کسی کو عارضی طور پر دیدیا کریں۔ 

بخاری: 351

اس آیت میں جو جلباب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے و ہی اس حدیث میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ عورتیں عیدین کی نمازوں کو آنے ‏کے لئے جلباب کا پہننا ضروری ہے۔ اور جنہیں جلباب نہیں ہے انہیں رہنے والے دے کر مدد کریں۔ 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدین کی نماز کو آنے والی عورتیں جلباب پہن کر ہی آنا چاہئے ۔جلباب پہننے کے بعد بھی عورتوں کا چہرہ کھلا ہی رہا، اس کو ‏یہ حدیث واضح کر تی ہے: 

اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ میں نے بھی عید کی نماز میں شامل ہواتھا۔ اس وقت آپ نے اذان اور اقامت کے بغیر بیان کر نے سے پہلے ہی نماز ‏پڑھانے لگے۔ پھر بلالؓ پرجھکے ہوئے تقویٰ قائم کر نے کو ، اللہ اور رسول کی اطاعت کر نے کو زور دیتے ہوئے لوگوں کو نصیحت اور یاد دہانی کی۔ پھر ‏وہاں سے نکل کر عورتوں کے حصہ میں جا کر انہیں بھی نصیحت اور یاد دہانی کی۔ مزید کہا کہ صدقہ کیا کرو۔ تم میں سے زیادہ تر لوگ دوزخ کے ‏ایندھن بنو گے۔ تب ان عورتوں میں سے ایک کالی عورت کھڑے ہو کر کہا ، اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟تو اللہ کے رسول ؐ نے کہا کہ تم ‏لوگ زیادہ عیب نکالتے ہو۔ احسان فراموشی سے شوہر کو جھٹلاتے ہو۔ اس وقت عورتوں نے اپنے آویزے اور انگوٹھیاں وغیرہ زیورات نکال کر ‏بلالؓ کے لباس میں ڈال دیا۔ 

مسلم: 1607

نبی کریم ؐ سے سوال کر نے والی عورت کے بارے میں جابرؓ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک کالی رخسار والی عورت تھی۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ‏وہ عورت چہرے کو چھپائی نہیں تھی۔اگر عورت کو چہرہ چھپانا ضروری ہو تا تو آپ سے سوال کرنے والی عورت کا چہرہ دکھائی دینے کو وہ ضرور تاکید ‏کئے ہوں گے۔ اس طرح آپ تاکید نہ کر نے سے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ عورت غیر مردوں کے سامنے چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اگر جلباب کا مطلب یہ ہو تا کہ سر سے چہرے کوچھپانے کے انداز سے لٹکائے رکھنا ہو تو اس عورت کا چہرہ دکھائی نہیں دے سکتا تھا۔ یہ بھی کہا ‏نہیں جا سکتا تھا کہ اس عورت نے جلباب نہیں پہنا۔ نبی کریمؐ نے فرما چکے ہیں کہ عید کی نمازکو آتے وقت جلباب پہننا ضروری ہے، اس لئے وہ ‏عورت بغیر جلباب کے آ نہیں سکتی تھی۔ اگر ایسا ہو تا تو نبی کریم ؐ ضرور پو چھا ہو گا کہ تم نے کیوں جلباب نہیں پہنا؟

وہ عورت جلباب پہننے کے باوجود ایک شخص کہتا ہے کہ اس کا رخسارکالا تھا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ جلباب چہرے کو چھپانے کا لباس نہیں ہے ‏بلکہ وہ سر سے سینے پر ڈالنے کا لباس ہے۔

عورتیں اپنے چہرے کو چھپانے کے لئے نبی کریم ؐ نے نہ حکم نافذ کیا اور نہ خواہش دلائی۔ اپنے سامنے عورتوں کے چہرے کھلے رہنے کے باوجود ‏انہیں آپ نے تاکید نہیں کی ۔ اس طرح کئی دلائل موجود ہیں۔ 

عائشہؓ نے فرمایا:

مومن عورتیں اپنے کمبل کی چادر کو اوڑھے ہوئے اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ فجر کی نماز میں حصہ لینے والے تھے۔ نماز ختم کر نے کے بعدوہ اپنے ‏گھروں کو واپس چلے جا تے تھے۔ اندھیری کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ 

بخاری: 578

عورتیں چہروں پر پردہ ڈالے ہو تے تو وہ پردہ ہی انہیں پہچاننے سے رکاو ٹ ہو تی۔ لیکن اندھیرے کی وجہ سے کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ کون ہیں۔ ‏اس طرح عائشہؓ کہنے سے ہم جان سکتے ہیں کہ نماز کو آنے والی عورتیں نماز ختم کر کے جاتے وقت ان کے چہروں پر پردہ نہیں تھا۔ 

عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیوی زینبؓ نے کہا: 

ہم جب مسجد میں تھے تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ اے عورتو! تمہارے زیورات میں سے کچھ خیرات کرو۔ میں میرے شوہر عبداللہؓ اور میری ذمہ داری ‏میں رہنے والے یتیموں کو خرچ کر نے والی تھی۔ اس لئے میں نے میرے شوہر سے کہا کہ جاؤ، نبی کریمؐ سے پوچھ کر آؤ کہ میں تمہیں اور میری ذمہ ‏داری میں رہنے والے یتیموں کو جو خرچ کرتی ہوں کیا وہ خیرات میں جمع ہو گا ؟ عبد اللہؓ نے کہہ دیا کہ نبی کریمؐ سے تم ہی پوچھ لو۔ اس لئے میں نے ‏نبی کریم ؐ کے پاس گئی ۔ آپ کے دہلیز پر ایک انصاری عورت تھی۔ اس کی بھی میرا ہی مقصد تھا۔ اس وقت بلالؓ آئے۔ ہم نے ان سے کہا کہ نبی ‏کریمؐ سے پوچھ کر آؤ کہ میرے شوہر اور میری ذمہ داری میں رہنے والے یتیموں کو جو میں خرچ کرتی ہوں ، کیا وہ خیرات میں جمع ہوگا؟ اور کہا کہ نبی ‏سے مت کہو کہ ہم کون ہیں؟ تو وہ اندر جاکر نبی سے سوال کئے تو آپ نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟بلال نے کہہ دیاکہ وہ زینب ہیں۔ نبی کریم ؐ نے پوچھا ‏کونسی زینب؟ بلال نے کہا عبد اللہ کی بیوی زینب۔ تو نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہاں، زینب کو دوہرا ثواب ہے۔ ایک رشتہ داروں کو دیکھ بھال کر نے کی اور ‏دوسری خیرات کی۔

بخاری: 1466

نبی کریم ؐ کے پاس دینی مسئلہ لے کر آنے والی دونوں عورتیں بلالؓ کے پاس درخواست کر تی ہیں کہ نبی سے مت کہو کہ ہم کون ہیں۔وہ دونوں ‏عورتیں اگر نقاب پہنی ہوتیں تو وہ بلال ہی کو چھپا دی ہو تیں کہ وہ کون ہیں۔ لیکن وہ دونوں چہروں کو کھلا رکھتے ہوئے آنے کی وجہ سے بلال نے ‏پہچان لیاہوگا کہ وہ کون ہیں؟ انہیں بلال نے جان لینے کی وجہ ہی سے وہ دونوں عورتیں گھر کے اندر نبی سے اپنے بارے میں نہ کہنے کو درخواست کی ‏تھیں۔ 

یہ واقعہ بھی ایک دلیل ہے کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں عورتیں چہرہ چھپائے بغیر ہی رہے ۔

عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا:

اللہ کے رسول ؐ کے زمانے میں مرد اور عورتیں مل کر ہی (ایک جگہ میں)وضو کیا کر تے تھے۔ 

بخاری: 193

مرد اور عورتیں ایک ہی جگہ پر مل کر وضو کرتے تھے تو عورتوں کے چہرے کو مرد دیکھے بغیر نہیں رہ سکتے۔چہرے کو چھپاتے ہوئے وضو نہیں کر ‏سکتے۔ 

سہل بن سعدؓ نے فرمایا: 

ایک عورت اللہ کے رسول کے پاس آکر کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کوتمہیں سونپنے کے لئے آئی ہوں۔ اللہ کے رسول نے اس ‏کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور پھر اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیا۔ پھر اپنے سر کو جھکا لیا۔ اللہ کے رسول نے اپنے معاملے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکے، یہ جان ‏کر وہ عورت وہیں بیٹھ گئی۔ جب ایک صحابی نے اٹھ کر نبی کریمؐ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! یہ عورت اگر تمہیں ضرورت نہیں تو اس کو مجھ سے ‏نکاح کرادو۔ (یہ بہت لمبے ایک حدیث کی اختصار ہے)۔ 

بخاری: 5030

اس واقعے میں وہ عورت نبی کے سامنے آتے وقت نقاب اوڑھے بغیر ہی آئی تھی، یہ صاف معلوم ہو تا ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریمؐ نے اس عورت کو ‏دیکھا۔ وہی نہیں بلکہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تمام صحابیوں نے بھی دیکھا۔ 

ان میں سے ایک صحابی اٹھ کر درخواست کر تے ہیں کہ اس عورت کو اپنے سے نکاح کرادو۔ اس عورت کا چہرہ ان صحابی کو گرویدہ کر لیا، اسی لئے وہ ‏نبی کے پاس التجا کر تے ہیں۔ کیونکہ نبی کا فرمان ہے کہ شادی کر نے والے دلہن کے چہرے کو دیکھنا چاہئے۔اگر نقاب اوڑھنا ضروری ہو تا تو اصحاب ‏رسول کے ساتھ نبی کریم ؐ کی محفل کو وہ نقاب اوڑھے بغیر نہیں آتی۔ اور نبی کریم ؐ بھی اس کو اجازت نہیں دئے ہوں گے۔ 

انس بن مالکؓ نے اپنے گھر والوں میں سے ایک عورت سے پوچھا کہ کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ اس نے کہاکہ ہاں جانتی ہوں ۔ انسؓ نے کہا کہ ‏اس نے ایک قبر کے پاس کھڑے ہوئے رورہی تھی، اس وقت نبی کریمؐ وہاں سے گزرے۔ اس کو دیکھ کر نبی کریم ؐ نے کہا کہ اللہ سے ڈرو۔ اورصبر ‏اختیار کرو۔ اس عورت نے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ جو مصیبت مجھ پر گزری ہے وہ تم پر گزری نہیں، اسی لئے تم اس طرح بات کر تے ہو۔نبی ‏کریمؐ نے وہ سن کر خاموشی سے گزر گئے۔ اس وقت ایک آدمی کی گزر ادھر سے ہوئی۔ اس نے اس عورت سے پوچھا کہ انہوں نے تم سے کیاکہا؟ ‏اس عورت نے کہا کہ وہ کون ہیں، مجھے معلوم نہیں۔اس آدمی نے کہا کہ وہی اللہ کے رسول ہیں۔ اس عورت نے فوراً نبی کریم ؐ کے گھر گئی۔ وہاں پر ‏کوئی دربان نہیں تھا۔اس نے نبی کریم ؐ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، آپ کون ہیں، میں نہیں جانتی تھی۔ نبی کریمؐ نے فرمایاکہ ‏مصیبت آنے کے پہلے ہی لمحے میں صبر کو اپنا لینا چاہئے۔ (بخاری: 7154)

قبر کے قریب روتی ہوئی عورت کو نبی کریمؐ نے نصیحت کر نے کا واقعہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ہوا تھا۔ اس کے بعد کے زمانے میں انسؓ اپنے گھر ‏والوں سے دریافت کر تے ہیں کہ کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ؐ نے جس عورت کو نصیحت کی تھی اس ‏عورت کو انسؓ نے دیکھا تھا۔ 

قبر کے قریب بیٹھی ہوئی عور ت کا چہرے پردے میں چھپا ہوا ہو تا انسؓ نے اس عورت کا چہرہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ قبر کے قریب وہ عورت روتی ‏ہوئی بیٹھی تھی، اس وقت بھی انس نے اس عورت کے چہرے کو دیکھا تھا، نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد بھی اس عورت کے چہرے کو انہوں نے ‏دیکھا ہے،اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے۔

کنیزوں کے سوا دوسری عورتیں اس کے بعد تمہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید یہ کہ (بیویوں کو طلاق دے کر)ان کے عوض میں دوسری ‏عورتوں کو بیوی بنا لینا نہیں چاہئے، ان کی خوبصورتی تمہیں گرویدہ بھی کرلیں۔اللہ ہرچیز پر نگہبان ہے۔

قرآن مجید: 33:52

اس آیت میں اللہ نے نبی کریمؐ کو حکم دیتا ہے کہ عورتوں کا حسن تمہیں گرویدہ بھی کرلیں تودوسری عورتوں سے شادی نہ کریں۔اگریہ قانون ہو تا ‏کہ عورتیں چہروں کو چھپائے رکھیں تو یہ جملہ کہ ان کا حسن تمہیں گرویدہ بھی کر لیں ، یہاں بے معنی ہو جا ئیگا۔

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نبی کے زمانے میں عورتوں کاچہرہ دکھائی دیتا تھا۔ 

جریر بن عبد اللہؓ نے کہا تھا :

اتفاقاً(غیر عورت پر) نظر پڑ جانے کے بارے میں میں نے اللہ کے رسول ؐ سے پوچھا۔تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر کو فوراً پھیر لوں۔ 

مسلم: 4363

اگر عورتیں چہروں کو چھپانے والی ہو تیں تو غیر عورتوں کو دیکھ کرنگاہوں کو پھیر لینے کی ضرورت ہی نہیں۔ 

ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں: 

نبی کریم ؐ نے کہا کہ گلیوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم وہاں بیٹھنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ ہم بیٹھ کر بات کرنے کی محفل ‏وہی ہے۔ نبی کریمؐ نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو تمہاری محفل کو آتے وقت اس گلی کا حق دے دیا کرو۔لوگوں نے پوچھا کہ گلی کا حق کیا ہو تا ہے؟ نبی کریم ؐ ‏نے فرمایا کہ گلی کا حق یہ ہوتا ہے کہ (غیر عورتوں کو بغیر دیکھے) نگاہوں کو نیچی کر لینا، راستے میں جا نے والوں کو( اقوال سے اور احوال سے ) ‏تکلیف نہ پہنچانا، سلام کو جواب دینا، بھلائی کی ترغیب دینا اور برائی سے روکناوغیرہ۔ 

بخاری: 2465

ان دلیلوں سے ظاہر ہو تا ہے کہ نبی کریمؐ کے زمانے میں عورتیں چہرے کو چھپائے بغیر عام راستوں میں آتے رہیں ہیں۔

انس بن مالکؓ نے فرمایا: میری ماں ام سلیمؓ کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی۔ (ایک بار) اللہ کے رسول ؐ نے اس لڑکی کودیکھا اور کہا کہ کیا وہ تم ہو؟ ‏بہت بڑی ہو گئی ہو؟ تیری عمر بڑھے بغیر ہی رہے!وہ یتیم لڑکی روتے ہوئے ام سلیمؓ کے پاس واپس گئی ۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ اس لڑکی نے کہا ‏کہ اللہ کے رسول نے میرے خلاف دعا فرمادی کہ میری عمر کبھی نہ بڑھے! اب میری عمر کبھی نہیں بڑھے گی۔ تو فوراً ام سلیم نے اپنے نقاب کوسر ‏پر لپیٹے ہوئے بہت تیزی سے اللہ کے رسول کی طرف چلے۔ اللہ کے رسول ؐ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ اے ام سلیم!تمہیں کیا ہوگیا؟ (مختصراً)

مسلم: 5073

نقاب اوڑھے ہو ئے آ نے والے ام سلیم ؐکو دیکھ کر نبی کریم ؐ نے پوچھاکہ اے ام سلیم! تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ چہرہ دکھائی دینے کی وجہ ہی سے اس ‏طرح سوال کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہرہ چھپا ہو تا تو نبی کو معلوم نہ ہو تا کہ وہ عورت کون ہے؟ اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ام سلیمؓ کا چہرہ چھپا ‏نہیں تھا۔

عطاء بن ابی رباح ؒ نے فرمایا: ابن عباسؓ نے مجھ سے پوچھاکہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت کو دکھاؤں؟ میں نے ہاں کہا۔تو انہوں نے ایک کالے ‏رنگ کی عورت کو دکھا کر کہا کہ یہی وہ عورت ہے۔ یہ عورت ایک بارنبی کریمؐ کے پاس آکر کہا کہ میں بار بار مرگی کی بیماری سے تکلیف اٹھا رہی ‏ہوں۔ اس وقت (میرے جسم سے لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جا تا ہے۔ اس لئے میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے! تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ اگر تم چاہو ‏تو صبر سے کام لے سکتی ہو۔ (اس کے عوض میں) تمہیں جنت ملے گی۔ اگر تم چاہو تو میں تمہاری صحت کے لئے اللہ کے پاس دعا کر تا ہوں۔ اس ‏عورت نے کہا کہ میں صبر سے رہ جاتی ہوں۔ لیکن (مرگی آتے وقت لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جاتا ہے۔ اس لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ میرا جسم ‏نہ کھلے۔ اسی طرح نبی کریم ؐ نے اس عورت کے لئے دعا کی۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا: میں ام صفرکو دیکھا۔وہی کعبہ کے پردہ پر (جھکے ہوئے ‏بیٹھی)کالی اوراونچی عورت ہے۔ (بخاری:565)

ابن عباسؓ نے نبی کریم ؐ کے زمانے میں بھی ام صفرؓ کودیکھا تھا۔

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد عطاء بن ابی رباح کو ابن عباسؓ نے ام صفر کوتعارف کرارہے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں ام صفر کو ابن عباس کو دیکھنے کی وجہ ہی سے نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد بھی انہیں پہچان لیتے ہیں۔ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ‏ام صفرؓ اپنے چہرے کواگر چھپائے ہو تے تو ابن عباسؓ نبی کے زمانے میں بھی اور بعد کے زمانے میں بھی ام صفرؓ کو پہچانے نہیں ہوں گے۔ 

ام صفرؓ اگر اپنے چہرے کو چھپائے ہو تے تو ابن عباسؓ کہہ نہیں سکتے تھے کہ وہ ایک کالے رنگ کی عورت تھی۔ 

اس سے ہم واضح طور سے جان سکتے ہیں کہ ام صفرؓ نبی کے زمانے میں بھی اپنے چہرے کو چھپائے نہیں تھے اور نبی کے زمانے کے بعد بھی چھپائے ‏نہیں تھے۔ 

اس کے بعد ایک زمانے میں کعبہ کے پردہ پر جھکے ہوئے ام سفرؓ کو عطاء بن ابی رباح پہچان لیتے ہیں۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کے ذریعے جنتی عورت کہلائے جانے والی ام صفرؓ نے نبی کے زمانے میں اور اس کے بعد کے زمانے میں بھی اپنے ‏چہرے کو چھپائے ہوئے نہیں تھے۔اور یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں صحابیات کوئی اپنے چہروں کو چھپائی نہیں تھیں۔ 

اپنے گھروں میں، اپنے باپوں کے گھروں میں، اپنی ماؤں کے گھروں میں، اپنے بھائیوں کے گھروں میں، اپنی بہنوں کے گھروں میں، اپنے چچاؤں کے ‏گھروں میں، اپنی پھوپھیوں کے گھروں میں، اپنے مامؤں کے گھروں میں، اپنی خالاؤں کے گھروں میں، یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہواس میں، ‏اپنے دوستوں کے گھروں میں کھانا تم پر کوئی گناہ نہیں۔مریضوں پر بھی کوئی گناہ نہیں، اپاہجوں پر بھی کوئی گناہ نہیں، اندھوں پر بھی کوئی گناہ ‏نہیں۔تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ گھروں کے اندر داخل ہو تے وقت اللہ کی طرف سے بابرکت اور پاکیزہ عطیہ سمجھ کر ‏تم اپنے ہی اوپر سلام کر لیا کرو۔ تمہیں سمجھانے کے لئے اللہ نے اسی طرح تمہارے لئے آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ 

قرآن مجید: 24:61

یہ آیت دوسروں کے گھروں میں کھانے کے آداب کے متعلق کہتا ہے۔ کیاایک انسان دوسری ایک خاندان والوں کے ساتھ مل کر کھا سکتا ہے، یہ ‏آیت اسی سوال کا جواب ہے۔

ایک انسان اپنے والدین کے گھر میں کھا سکتا ہے۔ اسی طرح بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، مامؤں جیسے رشتہ داروں کے گھر میں مرد اور عورتیں تمام مل ‏کر یا الگ الگ بھی کھا سکتے ہیں۔ 

اسی طرح اگرقریبی دوست ہوں تودونوں خاندان مل کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ 

اسی طرح قریبی رشتہ دار اور خاص دوست نہ بھی ہوں ، ان اندھوں، اپاہجوں اور مریضوں کوبھی اپنے ساتھ ملا لے سکتے ہیں۔ یہی اس آیت کی واضح ‏رائے ہے۔ 

غیر مرداور عورتیں تنہائی میں رہنے کو ممانعت کر نے والا اسلام کہتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھا سکتے ہیں، وہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ ‏چہرہ اگر کھلا ہو گا تو ہی کھانے کا نوالہ منہ میں لیا جا سکتا ہے۔ 

اسی وقت اسلام کی منع کی ہوئی لباس پہننے اور مرد اور عورت ایک سے ایک جم کر بالکل قریب ہو نے سے دور رہنا چاہئے۔

ایک ہی گھر میں رہنے والے رشتہ دار مل کر بیٹھے ہوئے کھاتے وقت چہرہ اور ہاتھ ضرور ظاہر ہوگا۔ 

اس آیت کو بعض لوگ شرح کرتے ہوئے قرآن کو بے معنی کر دیتے ہیں۔ یعنی ان کی وضاحت یہی ہے کہ مرد مردوں کے ساتھ اور عورت ‏عورتوں کے مل کر کھانے کے بارے میں ہی یہ آیت کہتی ہے۔ 

عام طور سے یہ آیت کہتی ہے کہ مل کر کھا سکتے ہیں، تو اس سے مرادیہ لینا کہ مرد کے ساتھ مل کر مردکھائیں تو یہ زبردستی کا ٹھونسنا ہوگا۔

عورت عورتوں کے ساتھ اور مرد مردوں کے ساتھ مل کر کھانا یہ تو معمولی بات ہے۔ اس آیت میں جو کہا گیا ہے رشتہ دار اور دوست لوگ ہی ‏نہیں بلکہ اس میں جو کہا نہیں گیا ان مردوں کے ساتھ مرد اور ان عورتوں کے ساتھ عورت بھی مل کر کھا سکتے ہیں۔کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ‏جو کہا نہیں گیا ان دیگر مردوں کے ساتھ مل کر کھانا نہیں چاہئے؟ اور اسی طرح جو کہا نہیں گیا ان عورتوں سے مل کر کھا نا نہیں چاہئے؟ 

ان لوگوں کی وضاحت قرآن مجید کو بے معنی کر دے گا۔ 

اگر عورتوں کا چہرہ ضرور چھپانے کاہوتا تواس کو پیدا کر نے والا اللہ ضرور اجازت نہیں دیا ہوتا۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں بھی اپنے گھر کو آنے والے مہمانوں کے سامنے صحابیات نے کھانے میں شامل ہوئے ہیں۔ اس کو اس حدیث سے معلوم کر ‏سکتے ہیں:

ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ؐ کے پاس مہمان بن کر آئے۔ نبی کریمؐ نے اپنی بیویوں کوخبر بھیجا۔ تب انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پانی ‏کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تو اللہ کے رسول ؐ نے اپنے صحابیوں سے کہاکہ ان کو اپنے ساتھ شامل کر نے والا کون ہے؟ یا انہیں اپنا مہمان بنانے والا ‏کون ہے؟ تب ایک انصاری نے مان لیااور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اللہ کے رسول ؐ کے مہمان کی توقیر کرو۔ ‏ان کی بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس اپنے بچوں کی ٖغذا کے سوا دوسرا کچھ بھی نہیں ہے۔تو وہ انصاری صحابی نے کہا کہ تم ان کے لئے غذاکی بندوبست کر ‏و، بعد میں چراغ( جلا نے کے بہانے )بجھادو۔ اگر تمہارے بچے کھانے کی خوا ہش کر یں توانہیں کسی طرح سلادو۔ اسی طرح ان کی بیوی نے کھانا ‏تیار کیا، چراغ جلایا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر چراغ کو درست کر نے کے بہانے اس کو بجھادیا۔ پھر میاں بیوی دونوں اس مہمان کے ساتھ مل کر بیٹھے ‏اورکھانے کا بہانہ کر نے لگے۔اس کے بعد دونوں (کھائے بغیر ہی) خالی پیٹ رات گزارا۔ صبح ہوتے ہی وہ انصاری نبی کریم ؐ کے پاس گئے۔ نبی ‏کریم ؐ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ تم نے جو رات عمل کیا اسے دیکھ کر اللہ نے(خوشی سے) مسکرایا یا تعجب کیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ اپنے ہی لئے ضرورت ‏رہنے کے باوجود اپنے سے زیادہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں۔حقیقت میں جو لوگ اپنے دل کو بخیلی سے بچا لیا وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (59:9)

بخاری: 3798

وہ صحابی اور ان کی بیوی نے اس مہمان کو (کھانے میں شامل ہو نے کی طرح)دکھایا، یہ جملہ بہت غور طلب ہے۔ 

کھانے کی طرح بہانہ کر نے کو اگر اندھیرے میں بھی مہمان جان سکتا ہے تو ضرور وہ چہرے کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی دوسری رائے ‏نہیں ہو سکتی۔ 

چراغ بجھانے سے پہلے مہمان کے لئے جب کھانا انتظام کیا جاتا تھا اور جب چراغ کو درست کر نے کابہانہ کیا جاتا تھا تواس وقت اس صحابی عورت کا ‏چہرہ اس مہمان کو صاف طور سے دکھا ہو گا۔

اگر عورتوں کا چہرہ ظاہر ہو نے سے منع کیا گیا ہوتاتو ان صحابی مرد و عورت کے عمل کو اللہ نے تعریف نہیں کیا ہوتا۔ 

غیر کے سامنے اس عورت کا چہرہ دکھائی دینے کے باوجود ان کے عمل کو اللہ نے تعریف کی ہے تو چہرے کو ظاہر کر نا ہی شریعت کی اجازت کا عمل ‏ہے، اس کو ہم صاف معلوم کر سکتے ہیں۔ 

چہرے کو چھپانا ہی ہے کے منشا رکھنے والے چند حدیثوں کو اپنا دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ احرام باندھی ہوئی عورت نقاب نہیں پہننا چاہئے۔ 

راوی: ابن عمرؓ 

بخاری: 1838

نقاب پہننے کی عادت نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے کی وجہ ہی سے احرام کے وقت نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ صرف احرام کے وقت اس کو پہننا نہیں۔ ان ‏لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے دوسرے اوقات میں چہرے کو چھپانا ضروری ہے۔ 

آؤ دیکھیں، کیا ان کا دعویٰ ٹھیک ہے؟ 

احرام باندھتے وقت اگر چہرے کو چھپانا نہیں تواس کا مطلب ہے دوسرے وقت پرچھپانا چاہئے۔اللہ کا جو حکم ہے کہ عورت پہچانا جانا چاہئے، وہ اس ‏کے خلاف ہوگا۔ 

کیا اس آیت کے مطابق معنی سمجھنا ممکن ہے تو ضرو راس کے لئے جگہ ہے۔ 

مثال کے طور پر 24:31 کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری عورتیں شائستگی چاہتی ہوں توانہیں زناکاری کے لئے جبر نہ کرو۔ 

اگر عورتیں نیک اخلاق کو نہ چاہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ انہیں زناکاری کے لئے جبر کر سکتے ہیں۔یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ بد اخلاق کو بد ‏کاری کے لئے جبر کرنے سے زیادہ شائستہ عورتوں کو جبر کر نا بہت سخت گناہ ہو گا۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ تمہارے پڑوسی کی بیوی سے بد کاری کر نا بہت بڑا گناہ ہے۔(دیکھئے بخاری: 4207)

اسے کوئی ایسا نہ سمجھے گا کہ پڑوسی کی بیوی کے سوا دوسری عورتوں سے بدکاری کرنا چھوٹا گناہ ہے یا گناہ ہی نہیں ہے۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ ‏دوسروں سے بد کاری کر نے سے زیادہ اس میں اعتماد کوشدید ٹھیس پہنچنے کی وجہ سے اس کو اہمیت دیا گیا ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ عورتیں چہرے کوچھپائے بغیر جلباب پہننا چاہئے ، اس لئے حج کے موقع پر بھی سہی اور دوسری وقتوں میں بھی سہی چہرہ چھپانا نہیں ‏چاہئے۔ لیکن حج کے اوقات میں اللہ کے اس حکم کو بہت ہی خصوصیت کے ساتھ اتباع کرنا چاہئے، اسی کو نبی کریمؐ نے فرمایا ہے۔ اس طرح سمجھنا ہی ‏قرآن مجید کی موزوں تشریح ہوگی۔ 

چہرے کو چھپانا چاہئے، اس عقیدے والے دلیل کے طور پر اس آیت کو پیش کر تے ہیں۔

مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اور اپنی زینت جو ظاہر ہو جائے اس کے سوااور کچھ ظاہر نہ ‏کریں۔ اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔ 

قرآن مجید: 24:31

ہم نے جو دوپٹہ کہا ہے اس کو عربی متن میں خمر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔خمار اس کا واحد ہے۔ خمار کے معنی سر اور چہرہ تمام کو چھپانے والا لباس کہہ کر ‏انہوں نے اس آیت کو بھی وہ اپنے لئے دلیل ثابت کر تے ہیں۔ 

اس آیت میں عام طور پر ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ دوپٹے ڈال لیا کرو، بلکہ ایسا کہا گیا ہے کہ اپنے سینوں پر ڈال لیا کرو۔ اگر کہا گیا ہو تا کہ چہرے پر ڈال لو ‏تو اسی وقت چہروں کو چھپا نے کے لئے اس آیت کو سند بتا سکتے ہو۔لیکن اس طرح کہا نہ جانے کی وجہ سے چہروں کو چھپانے کے لئے اس آیت کو سند ‏نہیں دے سکتے۔ 

خمار کا براہ راست معنی چھپانے کی ہیں۔ اس لفظ کو سرکو چھپانے یا صورت کو چھپانے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جگہ کے لحاظ سے دونوں ‏میں ایک معنی لیا جا سکتا ہے۔ 

ابن حجر نے خمار کے لفظ کو اپنی کتاب فتح الباری میں ایک جگہ پر سر کو چھپانے کا لباس، دوسری ایک جگہ پر چہرے کو چھپانے کا لباس کہا ہے۔ 

اسی طرح عربی لغات کی کتابوں میں اور حدیثوں میں بھی کہا گیا ہے۔ المعجم الوصید اور لسان العرب نامی عربی لغات کی کتابوں میں بھی کہا گیا ہے کہ ‏عورتوں کی خمار وہ اپنے سروں کو چھپانے والے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ 

اوپر کی آیت میں خمار کو ڈال لیں کہنے کے بجائے واضح طور سے کہا گیا ہے کہ خمار کو وہ اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔اس لئے اس جگہ پر چہروں کو ‏چھپانے والا لباس کہنا غلط ہے۔ سر کو چھپانے والا لباس کہنا ہی صحیح ہوگا۔ 

خمار کو سر کے کپڑے کے معنی ہی میں حدیثوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے:

سن بلوغ کو پہنچی ہوئی عورت دوپٹہ کے ساتھ ہی نماز پڑھے، ورنہ اس کی نماز کو اللہ قبول نہیں کرے گا۔ 

یہ عائشہؓ کی روایت ہے۔

ابو داؤد کی حدیث: 5460

یہ حدیث کہتی ہے کہ عورتیں نماز پڑھتے وقت دوپٹے کے ساتھ پڑھیں۔ہم نے جو دوپٹہ لکھا ہے اس جگہ پر خمار کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ خمار کو ‏اگر چہرے کو چھپانے کا لباس کہہ کر غلط معنی لیا گیا تویہ غلط فیصلہ ہو جائے گا کہ عورتیں نماز کے وقت چہرہ کوچھپانا بہت ضروری ہے۔ 

عورتیں چہرے کو چھپانا چاہئے، اس عقیدے والے ایسا نہیں کہتے کہ نماز کے وقت بھی عورتیں چہرے کو چھپانا چاہئے۔اور اوپر کی حدیث میں جو ‏خمار کا لفظ ہے اس کو چہرے کو چھپانامعنی نہیں دیتے۔ بلکہ سر کو چھپانے کا لباس کا معنی ہی دیتے ہیں۔ 

عقبہ بن امرؓ نے کہا: 

میں نے نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ میری بہن پاپوش پہنے بغیر اورخمار اوڑھے بغیر حج کر نے کا ارادہ کیا ہے۔ تو اللہ کے رسول نے فرمایا کہ تم اپنی ‏بہن کو حکم دو کہ وہ خماراوڑھے اور سواری میں آئے۔ اور تین دن تک روزہ رکھے۔

ابو داؤد : 2865

نبی کریم ؐ نے حکم دیا کہ حج کر نے والی عورتیں چہرہ نہ چھپائیں۔اس حدیث کو ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ اس حدیث میں نبی کریم ؐ نے عقبہ بن عامرؓ کے ‏بہن کو حکم فرمایا ہے کہ وہ خمار اوڑھے۔

اگر خمار چہرے کو چھپانے والالباس ہو تا توحج میں جو منع کیا گیا تھا کہ چہرے کو چھپا نانہیں، خمار اوڑھنے کے لئے نبی کریم ؐ حکم فرمائے نہیں ہوں ‏گے۔ 

خمارصرف سرکو چھپانے والا لباس رہنے کی وجہ سے اس کو حج کے موقع پر اوڑھنے کے لئے نبی کریم ؐ اجازت فرمائی ہے۔

عورتیں چہرے کو چھپانا نبی کی بیویوں کے لئے قانون ہے، اس کو حاشیہ نمبر 500میں دیکھیں!

چہرے کو چھپانے سے آج کے دور میں جو برائیاں سرزد ہوں گی اس کو بھی ہم دھیان میں رکھنا چاہئے۔ 

غلطیاں کر نے کا ارادہ رکھنے والے اس نقاب کوسپر سا استعمال کر تے ہوئے بڑی دلیری سے عمل پیرا ہو تے ہیں۔اسی لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ چہرہ ‏چھپانا نہیں۔

غیر مسلم عورتیں اپنے عاشقوں کے ساتھ گھومتے وقت نقاب اوڑھ کر اپنے آپ کو چھپا لیتی ہیں۔ اس طرح نقاب اوڑھ کر بے راہ چلنے والی جوان ‏لڑکیاں اکثر مسلم لڑکیاں نہیں ہوتیں، یہی سچ ہے۔ 

چہرے چھپا لینے کوڈھال بنا کر لڑکیاں برائی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

طوائف کا پیشہ کر نے والی غیر مسلم عورتیں پولس سے بچنے کے لئے اپنے چہروں کو چھپالینے کو ڈھال بنا رکھا ہے۔

سماجی دشمنی کا کام کر نے والے مرد بھی عورتوں کی طرح نقاب اوڑھ کر برے کاموں میں مشغول ہو تے ہیں۔

اس طرح مختلف برائیاں جب چلتی ہیں تو جس میں برائی نہ ہو تو اسی کو ہم منتخب کر نا چاہئے۔ 

چہرہ چھپائے بغیر رہنے سے جو برائیاں چلتی ہیں اس سے کہیں زیادہ چہرے چھپانے سے برپا ہو تی ہیں۔ 

عورتوں کا چہرہ اور ہاتھ کے سوا دوسرے اعضاء غیر مردوں کے سامنے چھپانا چاہئے ۔ کیا وہ عورتوں کے حقوق کو چھین لینا ہوگا؟ اس کے بارے میں ‏جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 300دیکھیں!

 ‏471۔ گنہ گار بھی اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں

‏ان 12:87، 15:56،29:23، 39:53 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ انسان کتنا بھی گناہ کر ے وہ اللہ کے قریب ہو سکتاہے۔

یہ آیت تاکید کرتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جا نا بہت بڑی گناہ ہے۔ اسے نہ جاننے کی وجہ ہی سے سماج میں اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کا ‏عمل مروج ہے۔ 

بعض لوگ یہ کہہ کر اپنی درگاہ والی عبادت کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم گنہ گار ہیں، اور اس کے حکم کی عدولی کرنے والے ہم اللہ ‏سے کیسے مانگ سکتے ہیں؟ اللہ ہم پر غصہ میں رہتے وقت اس کے غصہ کو ٹھنڈا کر نے کے لئے ہی ہم بزرگوں کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔ 

یعنی یہ سمجھتے ہوئے کہ اپنے کواللہ سے مانگنے کی حیثیت نہیں ہے، وہ راہ بھٹک کر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی عدولی کر نے کی وجہ ‏سے ہم اللہ سے مانگ نہیں سکتے، اسی لئے ہم اولیاء سے مانگ رہے ہیں۔ اس دعوے کی آفت کیا ہو گی ، وہ اس کو سمجھے نہیں۔

اللہ غصہ والا ہے اور اولیاء بڑے مہربان ہیں، ایسا ماننے والے ہی اس طرح کہہ سکتے ہیں۔ایسا سمجھنا کہ اللہ سے زیادہ اولیاء ہی فضل کر نے والے ہیں، ‏وہ شریک ٹہرانے سے زیادہ سخت گناہ ہے۔یہ اللہ سے زیادہ اولیاء کو بڑھانے کا شدید گناہ ہو گا۔ 

ان لوگوں کی اس نادانی کواللہ نے اس آیت میں کہا ہے۔

انسان جتنا بھی گناہ کرے ، اگر وہ اپنے گناہوں کو محسوس کر تے ہوئے اللہ سے توبہ کرے تواللہ ضمانت دیتا ہے کہ اس کا فضل اس کو ضرور ملے گا۔ ‏اللہ نے ایسا نہیں کہا کہ کوئی گنہ گار اپنے پاس نہ آئے۔ اللہ نے گنہ گاروں ہی سے کہتا ہے کہ میری مہربانی سے ناامید نہ ہوجا نا۔ 

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 471،427 وغیرہ دیکھئے! 

‏470۔ چیونٹیوں کو بھی عقل ہے

‏یہ آیت 27:18کہتی ہے کہ چیونٹیاں اپنے پر آنے والی آفت کو پہلے ہی سے جانتے ہوئے اپنے ساتھی چیونٹیوں کو آگاہ کیا کہ سلیمان اور اس کی فوج ‏ہمیں کچل دے گی۔ 

کیا چیونٹیوں کو انسانوں کو جاننے کی صلاحیت اور اپنے اوپر آنے والی آفت کو جاننے کی قابلیت ہے؟ اگر ایسا ہو تو چیونٹیاں انسانوں کے پیروں کے نیچے ‏کچل کر کیوں مرتی ہیں؟ سلیمان نبی آنے کو جانتے ہوئے کچل جانے سے بچنے کی طرح آجکل بھی چیونٹیاں کیوں بچتی نہیں ہیں؟ ایسا شک پیدا ہو سکتا ‏ہے۔ 

وہ چیونٹیاں جس کو جاننے کے بارے میںیہ آیت کہتی ہے اس کوآجکل بھی چیونٹیاں جانتی ہی ہیں۔ 

تنہا ایک آدمی سلیمان کی آمد کو چیونٹیاں جانی نہیں بلکہ سلیمان اور ان کے فوج کی آمد کو ہی وہ جان گئیں۔ 

بڑی فوجیں اپنی مخصوص لرزش کی آواز ہی سے چلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ہاتھی اور گھوڑوں کی فوج سے بھی زمین میں تھر تھراہٹ پیدا ہو تی ہے۔ ‏اس طرح زمین میں پیدا ہو نے والی سخت لرزش کو اور وہ لرزش جس سمت کی طرف ہٹتی ہے اس کو بہت تیزی سے جاننے کی طاقت ان چیونٹیوں کو ‏ہے۔ اس کو اب سائنسدان بھی مانتے ہیں۔ 

وہ دریافت یہی ہے: 

نیو یارک: محققوں نے دریافت کی ہے کہ آنے والے زلزلہ کے بارے میں چھوٹی سی جان چیونٹیوں کو ایک دن پہلے ہی معلوم ہوجاتی ہے۔ لیکن ‏زلزلے کو پہلے ہی سے واضح طور سے جاننے کے لئے کوئی آلہ اب تک دریافت نہیں کیا گیا ہے۔ 

جرمن کے ڈسبرگ یونیورسٹی کے سائنسی محکمہ کے محقق گیبرئل باربرک اپنے ساتھی سائنسدانوں کے ساتھ تین سال تک لال رنگ کے ‏چیونٹیوں پر تحقیقات کی۔ 

اس کے لئے مخصوص طور سے سافٹ ویر سے تیار کیا ہوا ویڈیو کیمرہ وغیرہ کی مدد سے اس تحقیق کو شروع کیا۔ وہ اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا تھا:

عام دنوں میں دن کے وقت پوری طرح سے غذا کی تلاش میں مبتلا ہو نے والی چیونٹیاں رات کے وقت اپنے مقام میں آرام کرتی ہیں۔ لیکن زلزلہ ‏آنے کے ایک دن پہلے رات کے وقت اپنے بل سے باہر نکل جاتی ہیں۔ زلزلہ ختم ہو نے کے بعد ،معمولی حالات پیدا ہو تے ہی واپس آجاتی ہیں۔ ‏زلزلہ کے وقت زمین کے اندر ظاہر ہو نیوالی گیس اور جنبش کی وجہ سے چیونٹیاں باہر نکل جاتی ہیں۔ 

تحقیقی رپورٹ میں اس طرح کہا گیا ہے۔ 

اس تحقیق کو چودہ سو سال کے پہلے ہی اگرکہنا ہو تو وہ صرف اللہ ہی سے ممکن ہے۔

ایک فوج کے آنے کو عام طور سے جان لینا ٹھیک ہے۔ لیکن یہ شک پیدا ہوسکتا ہے کہ سلیمان نبی اور ان کی فوج کو چیونٹیوں نے کیسے جانا؟

چیونٹیاں انسانوں کو ان کے نام کے ساتھ جان نہیں سکتیں۔دوسری کوئی جاندار بھی اسے جان نہیں سکتیں۔ 

لیکن سلیمان نبی کو اللہ نے بہت بڑی سلطنت عطا کی تھی۔ شیطان بھی ان کے تابع چل رہے تھے۔ اس آیت 27:16میں کہا گیا ہے کہ پرندے ‏اور دیگر جانداروں کی زبان بھی انہیں سکھایا گیا تھا۔ 

اس آیت 27:20 میں کہا گیا ہے کہ ہد ہد پرندے کے ساتھ سلیمان نے اس کی زبان میں بات کی تھی۔ 

ان کی حکومت کے تحت رہنے والی جانداروں سے سلیمان نبی نے انہیں کے زبان میں بات کی۔ اس طرح بات کرنے کی بنیاد پر سلیمان نبی کو وہ ‏چیونٹیاں جان لینے میں کوئی تعجب نہیں۔ 

ایک بڑی فوج کے ساتھ ایک جماعت آنے کومحسوس کر تے ہوئے چیونٹیاں جان گئیں کہ اگر اس حصے میں اتنی بڑی فوج آتی ہے تو وہ سلیمان نبی کی ‏ہی ہو سکتی ہے، اس میں کوئی تعجب نہیں۔  

‏469۔ آگ کے خندق کے لائق ، کون ہیں؟

‏نبی کریم ؐ کے زمانے میں اسلام کو اختیار کر نے والے مسلمان ناگفتنی انداز کے تکلیفوں میں مبتلاہوئے۔ مختلف انداز کے اذیت کو سہنا پڑا۔ 

وہ لوگ اسلام اختیار کر لینے کی وجہ سے آگ کا خندق بنا کرسب لوگ اس کے لئے گواہ بن کر انہیں اس میں جھونکا گیا۔ اس ظلم ہی کو اللہ نے ان ‏‏85:4-8آیتوں میں فرمایا ہے۔ 

ان آیتوں کو سطحی طور پر بھی اگر پڑھیں تو جان سکتے ہیں۔

لیکن اکثر تفسیری کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ گزشتہ زمانے میں پکے عقیدوں کے ساتھ رہنے والے نوجوانوں کے متعلق یہ آیت کہتی ہے۔

سابقہ قوم میں رہنے والا ایک نوجوان پر ایسا ظلم ڈھایا گیا، اس کے متعلق مسلم کی حدیث 5735 میں کہا گیا ہے۔ اس واقعے کو وہ لوگ اس آیت کے ‏ساتھ جوڑتے ہیں۔ 

اس آیت میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ وہ آیت اسی واقعے کو کہتی ہے۔ 

یہ آیتیں ایسی نہیں ہیں کہ کسی زمانے میں جو چلا تھا اس کو کہہ رہی ہیں۔ 

اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ایسا ایک واقعہ اس زمانے کے عربوں کو کھلے طور پر معلوم تھا۔ 

اس لئے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ان آیتوں کو پڑھتے وقت نبی کریم ؐ کے زمانے میں مسلمانوں پر جو ظلم ڈھایا گیا اسی کی طرف اشارہ کر رہی ‏ہیں۔ 

 ‏468۔ آزمائش سے راضی ہو کر سچائی ثابت کر نا

‏ان 7:184، 15:6، 23:70، 34:8، 34:46، 37:36، 44:14، 52:29، 68:2، 68:51، 81:22 آیتوں میں اللہ فرماتا ‏ہے کہ نبی کریم ؐ کے دشمن انہیں دیوانہ کہا تھا۔

اس طرح اکثر صوفیوں کو لوگوں نے دیوانہ کہا ہے۔ ان تنقیدوں کو صوفیاں کبھی جواب نہیں دیتے۔ کیونکہ اگر جواب دیاگیا تو انہیں آزمائش میں ‏مبتلا کر نا ضروری ہو جا ئے گا۔اس وقت ان کی حقیقت کھل جائے گی۔ اس لئے صوفی لوگ اس تنقید پر دھیان نہیں دیتے۔ 

عام طور سے یہ صوفیاں لوگوں کے درمیان تصوف کے نام سے بکواس کیا کرتے ہیں۔ ماننے کے ناقابل جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی ان باتوں کو اگر ‏کوئی نفسیاتی ڈاکٹر تحقیق کر ے یاانہیں پوری طرح سے آزمایا جائے تو معلوم ہو جا ئے گاکہ وہ کس انداز سے دلی امراض میں مبتلا ہیں۔ اس لئے وہ کسی ‏آزمائش کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ 

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ اور روح ان سے بات کرتے ہیں۔ اسی سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کا دل کس حد تک بگڑ چکا ہے۔نفسیاتی ماہروں کا ‏کہنا ہے کہ یہی بات اس کو دلیل ہے۔ 

جب نبی کریم ؐ نے کہا کہ مجھے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے تو وہ جھوٹ نہیں تھا۔ لیکن دشمنوں نے تنقید کر نے لگے کہ ذہنی پراگندگی کی وجہ سے وہ ‏اس طرح کہتے ہیں۔ 

اس طرح تنقید کر تے وقت دوسروں کی آزمائش کے لئے 

ڈرکر کہیں چھپ جانے کی طرح نبی کریمؐ نے چھپے نہیں تھے۔ 

بلکہ انہوں نے کہا کہ تم کسی بھی طرح سے مجھے آزما سکتے ہو۔ اس 34:46آیت میں اللہ حکم دیتا ہے کہ اس طرح للکارو۔ 

نبی کریم ؐ نے اعلان کیاکہ ایک ایک یا دو دو آؤ! مجھ سے سوال کرکے آز ما کر دیکھ لو کہ کیا مجھے دیوانگی ہے۔ تم لوگوں کی آزمائش کو میں ساتھ دیتا ‏ہوں۔ اس آزمائش میں تم خود جان لو گے کہ مجھے کسی قسم کی ذہنی پراگندگی نہیں ہے۔

انہوں نے یہ کہہ کر اجتناب کر دیا کہ ایک ایک اور دو دو کر کے جو آئے انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اگر ہم اس شخص کو آزمانے جائیں تو ہم بھی ‏اس کے دین کواختیار کر نے کی نوبت آجائے گی۔ 

دنیا میں اپنے آپ کو آزمائش کے لئے سونپنے کو آگے آنے والے ایک ہی بزرگ ہستی نبی کریم ؐ ہی تھے۔یہی بات ان کی رسالت کے لئے بہت بڑی ‏دلیل ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے جب اپنے کو رسول کہا تو اپنے خلاف اٹھائے جانے والے تمام تنقیدوں کو کیسے سامنا کیا، اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏212دیکھئے!

نبی کریم ؐ پر جادو کرکے اس کے ذریعے آپ دل کے مریض بن گئے، اس طرح کہنے والوں کو یہ آیتیں سخت تنبیہ ہے۔ نبی کریم ؐ کو کسی قسم کی دیوانگی ‏نہیں، یہ جملہ بہت ہی سخت انداز سے کہتی ہے کہ آپ ذرہ بھر بھی دلی مریض سے متاثر نہیں ہوئے۔ 

نبی کریم ؐ نے جادو کے ذریعے کیادلی مریض بن گئے، اس کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے ان 28، 285، 357، 468، 495، ‏‏499 وغیرہ حاشیہ نمبروں کو دیکھئے!

‏467۔ یحیےٰ نامی کوئی نہیں تھا

‏اس 19:7کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ زکریا نبی کی ضعیفی حالت میں انہیں اللہ نے ایک بیٹا نوازا۔ 

بچے کو نام رکھنا وہ اللہ کے لئے اتنا ضروری کام نہیں ہے۔وہ انسان کے لئے بھی مشکل کام نہیں ہے۔ اللہ نے جب بچہ عطا کردیا توکیا زکریا نبی خود نام ‏نہیں رکھ سکتے تھے؟

ایسا نام آج تک کسی کو رکھا نہیں گیا، اس حقیقت کو کہنے کے لئے اللہ ہی نے ان کونام بھی رکھا۔ 

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، اس کو ثابت کر نے کے لئے یہی ایک آیت کافی ہے۔ 

زکریا نبی کو لڑکا عطا کر تے وقت ہی اللہ نے اس کا نام بھی یحیےٰ کہہ کر عطا کر تا ہے۔ اور کہتا ہے کہ یہ نام اب تک کسی کو رکھا نہیں گیا۔ 

اس نام کو اس سے پہلے کسی کو رکھا نہیں گیا ، اس بات کو اس دن بھی سہی اور آج بھی سہی کوئی نہیں کہہ سکتا۔ 

جب ایک انسان اس طرح کہنا ہو تو اس کو دنیا بھر کی ہر زبان معلوم ہو نا چاہئے۔ اس وقت تک دنیا میں پیداہو نے والے اور مرنے والے ہرشخص کا ‏نام بھی اسے معلوم ہو نا چاہئے۔ کروڑوں لوگوں کے نام میں یحیےٰ نامی کوئی شخص نہیں رہا، اس کو یقین کے ساتھ جاننے کے بعد ہی اس طرح کوئی ‏کہہ سکتا ہے۔ 

آج کے کمپیو ٹری زمانے میں بھی اس طرح کوئی انسان کہہ نہیں سکتا۔ دینا میں بسے ہوئے لوگ اور مرے ہوئے لوگ ، ہر انسان کے ناموں کو وہ ‏بھی درج نہیں کرسکتا۔ 

یحیےٰ نامی کوئی شخص اس سے پہلے کوئی نہیں رہا، اس خبر کو کم از کم دو ہزار سال کے پہلے ہی زکریا نبی کو اللہ نے فرمادیا۔

یہ کہنے کے بعد کہ یحیےٰ کے نام سے کوئی نہیں رہا،دنیا میں کسی زمانے میں کسی قدیم کتاب میں اگر معلوم ہوا کہ یحیےٰ کے نام سے کوئی تھاتو یہ آیت ‏جھوٹی ہو جائے گی۔

نبی کریم ؐ نے اس طرح اپنی قیاس سے کہہ نہیں سکتے کہ زکریا نبی کے پاس اللہ نے اس طرح کہا تھا۔اگر اس طرح قیاسی طور پر کہنے کا ارادہ ہو تااور ‏کہیں کوئی یحیےٰ نامی شخص مل جاتا تو کیا ہوگا! اس طرح کا شک انہیں بولنے سے روک دیا ہوتا۔

ایسے ایک نام سے اس سے پہلے کوئی نہیں رہا، اس کو صرف اللہ ہی کہہ سکتا ہے۔ 

مزید یہ کہ زکریا نبی کے پاس اللہ نے اس طرح کہنے کے بارے میں یہودو نصاریٰ کی کتابوں میں بھی نہیں ہے۔ اسکے باوجود قرآن مجید کہتا ہے تواس ‏میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ ہی کاقول ہے۔ 

اللہ نے اس کو ثابت کر نے ہی کے لئے ایسا کہا ہو گا کہ میں ہر چیز کا جاننے والا ہوں۔ 

کوئی بھی شخص کسی بھی زمانے میں آزماکر دیکھ لیں۔ ایسے ایک نام سے اس سے پہلے کسی کو تم دکھا نہیں سکتے۔ اس طرح اللہ کا یہ اعلان ہے۔ 

کسی بھی زمانے میں یہ نہیں رہا۔ اس طرح نہیں رہا کہنا بہت ہی مشکل ہے۔ کیونکہ ہم جانے بغیر اگر کوئی رہ گیا تو ہماری عزت کی کوئی خیر نہیں۔ 

اللہ ہی اس طرح پوری یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے۔ 

اس آیت کو جھوٹاثابت کرنے کے لئے عیسائیوں نے یحیےٰ نام کے شخص کی بہت تلاش کی۔ اگرایسا کوئی ہوگا تو اسی کے ذریعے اسلام کو جھوٹا ثابت ‏کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن وہ تلاش نہیں کر سکے۔ 

 ‏466۔ دشمنوں کو کیوں کم دکھایا گیا؟ 

‏اس 8:44کی آیت میں کہا گیا ہے کہ میدان جنگ میں ملے ہوئے دونوں گروہوں کے لئے مخالف سمت کو اللہ نے کم تعداد میں دکھایا۔

یعنی اللہ نے مسلمانوں کی نگاہ میں دشمنوں کی تعداد کو کم اور دشمنوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی تعدادکو کم دکھایا۔ 

اگر دشمنوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی تعدادزیادہ دکھایا ہو تا تودشمن ڈر کربھاگ گئے ہوں گے، ایسا کیوں نہیں کیاگیا؟ یہ شک پیدا ہو سکتا ہے۔

جنگ چھڑے بغیر میدان جنگ سے دشمن پیچھے مڑے بغیر بھاگ کھڑے ہونا چاہتا تو اللہ اسی طرح کیا ہوگا۔ 

جنگ چل کر مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہو نا چاہئے، یہ اللہ کا ارادہ تھا۔ ان کی تعداد کو انہیں زیادہ دکھانے سے ہی انہیں یقین پیدا ہو گا کہ ہم کامیابی ‏حاصل کریں گے۔ پیچھے کی طرف گئے بغیر میدان میں اتریں گے۔ 

اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے سے زیادہ دشمنوں کی تعداد زیادہ ہے توہارجانے کے ڈر سے وہ لوگ جنگ کئے بغیر ہی بھاگ کھڑے ہوجائیں ‏گے۔ 

جنگ ہو نا ہی ہے، یہ اللہ کا منصوبہ تھا۔ اس لئے دونوں گروہوں کو ایک دوسرے سے کم کر کے دکھایا۔ اس سے ان دونوں کو ایساجوش پیدا ہوا کہ ‏ہمیں جنگ کر نا ہی ہے اور ہم ہی جیتیں گے۔ 

لیکن یہ جنگ شروع ہو نے سے پہلے کی حالت تھی۔ دشمن میدان جنگ میں اترنے کے بعد ان کے دلوں میں ڈر پیدا کرنے اور مسلمانوں میں یقین ‏دلانے کے لئے اللہ نے حالات بدل دیا۔ 

جنگ شروع ہو نے سے پہلے جو حال رہی اسی طرح جنگ چلتے وقت بھی دشمن مسلمانوں کی نظر میں کم ہی دکھائی دیتے تھے۔ 

لیکن دشمنوں کی نظر میں مسلمانوں کو اللہ نے دوگنا دکھایا۔ اس پریشانی میں کہ ہم جو خیال کیا تھا وہ غلط ہو گیا ، دشمنوں کی دلی کیفیت متزلزل ہوگئی، ‏یقین میں پراگندگی آگئی۔ اس لئے انہوں نے ناکام ہوگئے۔ 

اس کو آیت نمبر 3:13 میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ‏

More Articles …