Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏489۔ صاف عربی میں غیر زبانوں کی الفاظ کیوں؟

‏یہ آیتیں12:2، 13:37، 16:103، 20:113، 26:195، 39:28، 41:3، 41:44، 42:7، 43:3، 46:12 کہتی ہیں ‏کہ قرآن مجید واضح طور پر عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ 

قرآن مجید میں غیر زبان کے الفاظ بھی جگہ پائی ہوئی ہیں، ایسے میں اس کو صریح عربی زبان کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اس طرح قرآن میں نقص ‏ڈھونڈنے والے تبصرہ کر تے ہیں۔

دنیا کی کسی زبان میں غیرزبان کے الفاظ شامل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غیر زبان کے الفاظ شامل ہو نے سے وہ غیر زبان ہو نہیں سکتی۔

غیر زبان بولنے والے لوگوں کے نام غیر زبان ہی میں ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں کے نام کو استعمال کر تے وقت اس کو ایسے ہی استعمال کر نا پڑتا ہے۔ 

اسی طرح ایک حصہ کی پیداوار چیزیں یاتیار ہو نے والی چیزیں دوسری زبان بولنے والے حصہ کو جب جاتی ہے تو بعض اوقات غیر زبان کے نام ہی ‏سے جاپہنچتی ہیں۔ مثلاًاٹلی نامی غذا کو نہ جاننے والے حصہ میں جب اس کو تعارف کیا جاتا ہے تو اس کو اٹلی کے نام ہی سے تعارف کیا جائے گا۔ اس ‏لحاظ سے بھی غیر زبان کی شرکت سے کوئی بھی زبان بچ نہیں سکتی۔ 

صریح عربی زبان کا یہ مطلب نہیں کہ غیر زبان کے الفاظ اس میں شامل نہیں ہیں۔

ہر زبان کے لئے قواعد اور اصطلاح ہوتی ہیں۔ اگر اس کی پیروی کر تے ہوئے کوئی بات کر تا ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ اصل زبان میں بات کر تا ہے۔ ‏اگر وہ اس کے خلاف بات کرتا ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اصلی زبان میں بات کر تا ہے۔ 

مثال کے طور پر لوگ کے لئے لوگاں کہنا، پرندے آئے کے بجائے پرندے آیاکہنا، وہ مارا جا ئے گا کہنے کے بجائے اس کو کاٹیں گے کہنا، خبریں ‏سنانے والا کہنے کے بجائے خبریں بتانے والا کہنا ، ایسے کئی طرح سے کہہ کر زبان کو بگاڑا جاتا ہے۔ یہ اردو کی زبان رہنے کے باوجود اس کو صحیح ‏اردوکہہ نہیں سکتے۔

اسی طرح گفتگو کے وقت بھی کئی لفظوں کو بگاڑ کر بات کر تے ہیں۔ کہاں سے آتے ہو؟ پوچھنے کے بجائے ’کدھر سے آتئیں‘ پوچھا جاتا ہے۔ ایسے ‏کئی مثالیں موجود ہیں۔ 

اسی طرح زبان کے قواعد سے ہٹ کر بات کریں تواس کو اصل زبان نہیں کہا جا سکتا۔ 

نبی کریمؐ پڑھے لکھے نہ رہنے کے باوجود قرآن مجید میں اس طرح بیہودہ پن کا طریق عربی زبان میں دکھائی نہیں دیتا۔ زبان کے ماہر لوگ اختیار کر ‏نے کے لائق قرآن مجیدمیں قواعد اور اصطلاح موجود ہیں۔ کوئی بیہودہ طریق اس میں نہیں ہے۔ لفظوں کو توڈ مروڈنااس میں نہیں ہے۔ 

اسی کو صریح عربی کہا جا تا ہے۔ 

اس طرح اگر کوئی کہے کہ ’ہمے سب مل کو وزیر اعظم کنے شکایت کرنا‘، یہ سب اردو کے الفاظ رہنے کے باوجود اس کو ہم بے ڈھنگا اردو ہی کہیں ‏گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ اردو کے رہنے کے باوجود اس کو بگاڑ دیا گیا ہے۔ 

صریح عربی اور بے ڈھنگا عربی اسی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

ہر زبان میں غیر زبان کے الفاظ شامل ہو نے کی طرح عربی زبان میں بھی شامل ہو جانے کی وجہ سے قرآن مجید میں بھی وہ الفاظ استعمال کیاجانا ‏فطری بات ہے۔ اس لئے قرآن مجید صریح عربی زبان میں ہے ، یہ اس کے خلاف نہیں ہے۔ 

‏488۔ کیا اللہ بے شکل ہے؟

‏قرآن مجید کی کئی آیتوں میں اللہ کی صفات اور اللہ کی نمود کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

غیر مسلم سمجھتے ہیں کہ اسلام کا عقیدہ ہے کہ اللہ بے شکل ہے۔مسلمانوں میں بھی اکثراسی طرح سمجھتے ہیں۔ 

اللہ کو کسی نے دیکھا نہیں، اس لئے اس کو ایک شکل بنا کر مسلمان پرستش نہیں کر تے ، اس معنی میں اگرکہا جا ئے تواس میں کوئی غلطی نہیں۔ لیکن ‏اللہ کو ایک بے حقیقت کی معنی میں ویسا کہا گیا تو وہ قطعی غلط ہو گا۔ 

قرآن مجید کی کسی بھی آیت میں کہا نہیں گیا ہے کہ اللہ بے شکل ہے۔ نبی کریم ؐ نے بھی اپنی قول میں کبھی نہیں کہا کہ اللہ بے شکل ہے ۔ 

بلکہ اس معنی میں کہ اللہ کو شکل ہے ، بے شمار آیتیں قرآن مجید میں اور حدیثوں میں موجود ہیں۔ 

اللہ کو شکل نہیں ہے،اسلام کی یہ غلط رائے اسلام کے نام سے لوگوں میں داخل ہو جا نے کی وجہ سے لوگوں کے اندر اللہ کے بارے میں جو خوف ہو ‏ناچاہئے تھا وہ نہیں رہا۔ 

اللہ کوآنکھوں سے اوجھل ایک قوت سمجھے جا نے کی وجہ سے لوگوں کے دل میں یہ خیال جڑ پکڑ گئی کہ جو کچھ بھی نہیں ہے اس خام خیالی کو ہم کیوں ‏ڈریں۔ 

اللہ اپنے ہی موزوں شکل میں موجود ہے۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ شکل کیسی ہے۔ آخرت میں اس کو دیکھنے کے بعد ہی اس کی شکل ہماری ‏آنکھوں کو دکھائی دے گی۔ مسلمان اللہ کے بارے میں اسی طرح بھروسہ کرنا چاہئے۔ 

اس کے لئے قرآن مجید میں دلیل موجود ہیں۔ 

قرآن مجید کی یہ آیتیں2:46، 2:223، 2:249، 3:77، 6:31، 6:154، 10:7، 10:11، 10:15، 10:45، 11:29، ‏‏13:2، 18:105، 18:110، 29:5، 29:23، 30:8، 32:10، 33:44، 41:54، 75:23 کہتی ہیں کہ آخرت میں ہم اللہ ‏کودیکھ سکتے ہیں۔ 

نبی کریمؐ نے بھی فرمایا ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھ سکتے ہیں۔(دیکھئے ،بخاری کی حدیث: 554، 573، 806، 4581، 4851، 6574، ‏‏7434، 7435، 7436، 7438، 7440)

آخرت میں اللہ کو دیکھ سکتے ہیں ، یہ اللہ کو شکل ہے کے لئے دلیل ہے۔ شکل ایک ہے تو ہی آنکھوں سے اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

یہ آیتیں7:54، 10:3، 13:2، 20:5، 25:69، 32:4، 57:4 کہتی ہیں کہ اللہ عرش نامی تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ 

یہ آیتیں9:129، 11:7، 17:42، 21:22، 22:86، 22:116، 27:26، 40:15، 43:82، 81:20، 85:15 کہتی ‏ہیں کہ اللہ عرش نامی تخت کامالک ہے۔ 

تخت پر بیٹھنا بھی اللہ کو شکل ہے کے لئے دلیل ہے۔ اگر شکل ہی نہ ہو توعرش پر بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

اس کے اختیار ات کی طرف اشارہ کر نے والا لفظ ہی تخت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کو براہ راست معنی لینا غلط ہے۔ 

کیونکہ ان آیتوں 39:75، 40:7، 69:17میں کہا گیا ہے کہ عرش کو لادنے والے فرشتے ہیں اور عرش کے اطراف رہنے والے فرشتے اللہ ‏کی حمد کر تے ہیں۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ فرشتوں سے بوجھ اٹھائے جانے والا چیز ہی عرش ہے اور اختیار کو کہنے کے لئے عرش کا لفظ ان آیتوں ‏میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

یہ آیت89:22 کہتی ہے کہ آخرت میں لوگوں سے دریافت کر نے کے لئے فرشتوں کی جھرمٹ میں اللہ آئے گا۔ 

قرآنی آیت 89:22میں اور اور بخاری کی حدیث 4919 میں کہا گیا ہے کہ آخرت میں اللہ کے قدموں میں گر کر مسلمان اتباع کریں گے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ (جہنمی) جہنم میں ڈالے جائیں گے۔جہنم پوچھے گا کہ کیا اور بھی ہے۔ آخر میں اللہ اپنا قدم (اس میں) رکھے گا۔ اس وقت وہ ‏بس بس کہے گا۔ اس کو بخاری کی ان حدیثوں 4848، 4849میں کہا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کو پاؤں ہیں۔ 

آخرت میں فیصلہ سنا نے کے بعد حکم ہو گا کہ ہر آدمی جنہیں عبادت کر تے تھے ان کے ساتھ چلو۔ ان کے ساتھ چل کر وہ جہنم میں گریں گے۔ ‏صرف اللہ کی عبادت کر نے والے اپنے معبود اللہ کی انتظارمیں رہیں گے۔ تب اللہ انکے پاس آئیگا۔ نبی کریم ؐ کافرمان شدہ یہ اطلاع بخاری کی حدیث ‏‏806، 7440میں کہا گیا ہے۔ 

نبی کریم ؐنے فرمایا کہ آخرت میں اللہ بعض لوگوں کو قریب میں بلا کر رازسے بات کرے گا۔ان کے ہر گناہ کو دکھا کر اللہ پوچھے گا کہ کیا تم نے ایسا ‏کیا؟ وہ لوگ ہاں کہیں گے۔ اس طرح وہ ہر گناہ کو ماننے کے بعد اللہ کہے گا کہ جس طرح میں نے دنیا میں تمہاری گناہوں کو چھپایا تھایہاں بھی چھپا دیا ‏اور معاف بھی کردیا۔ 

دیکھئے: بخاری:4685)

اللہ کو شکل ہے ، اس کے لئے یہ بھی ایک سند ہے۔ 

دنیا کو مٹاتے وقت آسمان و زمین اللہ کی بند مٹھی میں ہوگی۔ اس کو اللہ نے آیت نمبر 39:67میں فرمایا ہے۔ نبی کریم ؐ نے اشارے سے تشریح کیا ‏تھا کہ اللہ نے اپنی مٹھی میں کیسے بند کرے گا۔ اس کو مسلم کی حدیث نمبر 5371اور 5372 میں کہا گیا ہے۔ 

بخاری کی حدیث 6614 میں کہا گیا ہے کہ تورات کو اللہ نے اپنی ہاتھوں سے لکھ کر موسیٰ نبی کو عطا کیا تھا۔

نبی کریم ؐنے فرمایا کہ قیامت کے دن یہ زمین اللہ کے ہاتھوں میں ایک روٹی کی طرح دب جائے گی۔اس کو بخاری کی اس حدیث 6520میں کہا گیا ‏ہے۔ 

مسلم کی حدیث 3731 کہتی ہے کہ مومن اللہ کے دائیں ہاتھ کی طرف ہوں گے۔ 

اس آیت 38:75 میں اللہ کہتا ہے کہ پہلے انسان آدم کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ اللہ نے (پہلے انسان) آدم کو اپنی ہی شکل میں پیدا کیا۔

ابوہریرہؓ 

بخاری: 6227

اگر اللہ کو کوئی شکل نہ ہوتا تووہ نہیں کہتا کہ آدم کو اپنی ہی صورت میں پیدا کیا۔ بے شکل کو کوئی مشابہت نہیں ہوتی۔ 

اسی طرح اللہ کو دو ہاتھیں موجود ہیں کہہ کر بے شمار دلیلیں کہتی ہیں۔ 

دجال خود کو اللہ کہے گا ۔ لیکن اس کی ایک آنکھ معذور ہوگی۔ نبی کریم ؐ نے کہا تھا کہ اس کی باتوں پر بھروسہ نہ کرو۔ تمہارے رب کی آنکھ معذور ‏نہیں ہیں۔ (دیکھئے: بخاری کی حدیث: 3057، 3337، 3440، 4403، 6173، 7127، 7131، 7407)

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اللہ کو آنکھیں ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اللہ آخرت میں ہنسے گا۔ اس کو بخاری کی یہ حدیثیں 7437، 3798، 6573کہتی ہیں۔ 

یہ آیتیں2:253، 4:164، 7:143، 7:144 کہتی ہیں کہ اللہ نے موسی نبی سے بات کی۔

اللہ کو منہ ہے، اس کے لئے یہ سند ہے۔ 

کئی آیتیں کہتی ہیں کہ اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ 

یہ سب آیتیں اس بات کی دلیلیں ہیں کہ اللہ کو کان اور آنکھیں ہیں۔ 

اس طرح بے شمار دلیلیں رہنے کے باوجود بعض لوگ اس کو دوسری قسم کی وضاحت کر تے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ اگر کہا جا ئے دائیں ہا تھ تواس کا مطلب ہو گا دائیں ہا تھ کی طرح اہمیت رکھنے والا۔ اگر کہے کہ وہ میری آنکھ ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ‏وہ مجھے آنکھ کی طرح ہیں۔ اسی طرح ہی اللہ کے بارے میں کہی گئی صفات کے متعلق بھی ہمیں سمجھ لینا چاہئے۔

یہ ان لوگوں کی لاعلمی کو ظاہر کر تی ہے۔ عام طور پر کسی بھی لفظ کو اس کی براہ راست معنی ہی لینا چاہئے۔ اگر براہ راست معنی نہیں دے سکتے تو اسی ‏وقت اس کو دوسرا معنی دیا جا سکتا ہے۔اوپر دئے گئے مثالوں میں ایک دوسرے کی ہاتھ یا آنکھ بن نہیں سکتا ، اس لئے اس کو دوسرا معنی دیا جاتا ہے۔ 

لیکن وہ ہاتھوں سے کھایا، اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا، آنکھوں کا علاج کیا، آنکھ کھل گئی وغیرہ ہزاروں الفاظ کو براہ راست معنی ہی میں ہم سمجھتے ہیں۔ 

اسی طرح اللہ کے بارے میں کہتے وقت جس جگہ میں براہ راست معنی نہیں لے سکتے صرف اسی جگہ پر دوسرے معنی دے سکتے ہیں۔ ایسی جگہ ‏بہت کم ہے۔ 

ایسی جگہوں کو حاشیہ نمبر 61 میں واضح کر چکے ہیں۔ 

براہ راست معنی نہ لینے کی اس جگہ کے سوا دوسرے مقامات پر براہ راست معنی ہی میں سمجھنا چاہئے۔ 

اللہ کو شکل نہیں ہے کہنے والوں کا ایک ہی دلیل ایسی آیتیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرح کوئی نہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اللہ کو شکل ‏ہے کہا گیا تو وہ ان آیتوں کے خلاف ہو جا ئے گا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرح کوئی نہیں۔ 

یہ دعویٰ تو دانشمندوں سے قطعی طورپر جھٹلائے جانے والا دعویٰ ہے۔

اللہ کی تخلیق میں شکل و صورت والی بھی ہیں، 

بغیر شکل والی کی بھی ہیں۔ 

ہوا، روشنی، برقی قوت، گرمی اورسرد وغیرہ بے شکل ہیں۔

اگر کہا جا ئے کہ اللہ کو شکل ہے تو وہ مخلوق کے برابر ہو جائے گا، اس دعوے کے مطابق اگر دیکھا گیا تو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اللہ کو شکل نہیں ہے۔ ‏اگر ایسا کہا گیا تو بے شکل چیزوں کو اللہ کے ساتھ موازنہ کر نا ہوجا ئے گا۔ 

اسی سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کا دعویٰ کتنا مہمل ہے۔ 

اگر کہا جائے کہ اللہ کو شکل ہے، لیکن وہ مخلوق کی طرح نہیں ہے تواس میں کوئی الجھن نہیں ہوگا اور سب واضح ہو جائے گا۔ 

ہم یہی کہہ رہے ہیں۔

اس کے جیسا کوئی نہیں۔ 

قرآن مجید، 42:1 

‏(اے محمد! کہدو کہ)اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ (اس نے) کسی کو جنا نہیں، (کسی سے)جنا نہیں گیا۔اس کے برابر کوئی نہیں۔

قرآن مجید، 112:4

ان آیتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ،اللہ جیساکوئی نہیں پر یقین کر تے ہوئے، ایسی ایک شکل میں جو کسی کا ہمسر نہیں وہ موجودہے سمجھنا ہی ٹھیک ‏ایمان ہوگا۔ قرآن مجید اور احادیث سے ہمیں یہی وضاحت ملتی ہے۔ 

‏487۔ کیا اسقاط حمل بچے کا قتل ہوگا؟

‏ان آیتوں 6:140، 6:151، 17:31، 60:12، 81:8,9میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو قتل نہ کرو۔ 

اس زمانے کے گنوار عربوں کے پاس یہ عادت تھی کہ غریبی سے ڈر کراور لڑکی پیدا ہونا حقیر سمجھ کر بچیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ اسلام نے ‏اس آیت کے ذریعے یہ کہہ کرتنبیہ کی کہ وہ بہت سخت گناہ ہے۔اس طرح اس رواج کو ختم ہی کرڈالا۔

بچیوں کو قتل نہ کریں، اس کابراہ راست مطلب یہی ہے۔ 

بچوں کو قتل نہ کریں ، اس آیت کے نازل کے وقت اسقاط حمل کا نکتہ انکشاف نہیں ہوا تھا۔ بچہ پیدا ہو نے کے بعد قتل کر نا ہی ان کی عادت تھی۔ یہ ‏آیت اسی کی طرف اشارہ کر تی ہے۔ 

اب اس جدید زمانے میں حمل ہی میں بچوں کو قتل کر نے کی عادت بڑھتی جا رہی ہے۔ 

حمل میں رہنے والے بچے کو مار دینا کیا قتل کہلایا جائے گا؟ اس کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ اس کو ہم جان لینا چاہئے۔

اسلام کے نظریہ سے روح دو طرح سے تقسیم کیا گیا ہے۔ جسمانی حرکات کے لئے ایک قسم کی روح اوراحساسات کی حرکات کے لئے دوسری قسم ‏کی روح۔ 

جب حمل میں جنین پیدا ہو نے لگتا ہے تو اس وقت سے لے کر وہ ترقی پا تے جاتا ہے۔ پہلے دن کے حمل کو بھی جان ہے اور نو ماہ کے ترقی پائے ہو ‏ئے جنین کو بھی جان ہے۔ حمل میں رہنے والے جنین کوجان رہنے کی وجہ ہی سے وہ بڑھتی جارہی ہے، اور مختلف حالات کو پہنچتی جاتی ہے۔ 

اس انداز سے دیکھا گیا تو معلوم ہو تا ہے کہ ایک دن کا حمل بھی ہو تو اس کو مٹانا قتل میں ہی جمع ہوگا۔ 

لیکن نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ 120 ویں دن میں ہی روح پھونکا جا تا ہے۔ (دیکھئے بخاری: 3208، 3332، 6594، 7454)

یعنی 120ویں دن سے پہلے جنین کو جان رہتے وقت نبی کریم ؐ فرماتے ہیں کہ 120ویں دن میں روح پھونکا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ ‏ایک اور قسم کی جان ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ 120دن کے پہلے تک ترقی پانے کی جان ہی اس حمل میں رہی ہے، اور 120ویں دن ہی میں انسان کے لئے روح ‏پھونکا جا تا ہے۔ 

‏(دو قسم کی جان ہیں، اس کو اور زیادہ دلیلوں کے ساتھ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 486دیکھئے!)

‏120ویں دن ہی میں روح پھونکا جا تا ہے تو معلوم ہو تا ہے کہ اس سے پہلے وہ انسانی حمل نہیں رہا۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ 120ویں دن کے ‏پہلے کی حمل کو مٹایاجائے تو وہ بچہ کو قتل کر نے کا جرم نہیں ہوگا۔ 

کنڈوم وغیرہ استعمال کر تے وقت منی میں موجود لاکھو ں تعداد کے خلیہ کو بچہ بننے سے ہم روکتے ہیں۔ یہ بچوں کو قتل کر نا نہیں ہوگا۔اسی طرح اس ‏کے بعد کے تین حالاتوں میں ترقی پاتے وقت بھی حمل کو ضائع کر نا بچے کو قتل کر نا نہیں ہوگا۔ 

‏120دن ترقی پانے والے حمل کو ضائع کر نے سے وہ قتل کے جرم میں جمع ہو گا۔ اس سے پہلے کی حالت میں حمل کو مٹا دینے سے وہ بچہ کو قتل کر ‏نے کا جرم نہیں ہوگا۔

تاہم حمل کو سہنے والی عورت کو وہ نقصان پہنچانے کی وجہ سے وہ اس جرم میں جمع ہو جا ئے گا۔ 

دین میں روکا گیا ہے کہ خود کو نقصان پہنچانے والا کام نہیں کر نا چاہئے۔ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ تشکیل پائے ہوئے بچے کو ضائع کر نا ‏عورت کو بہت نقصان پہنچائے گا۔اس انداز سے 120دنوں کے پہلے کی حمل کو مٹانا بھی ممانعت ہے۔ وہ بچے کو قتل کر نے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ماں ‏کی صحت کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے اس کو کر نا نہیں۔

جان کوآفت یا ماں کی صحت کواثر کر نے والی ہو تو بڑی نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹی نقصان کو اختیار کر سکتے ہیں، اس بنیاد پر وہ گناہ نہیں کہلائے ‏گا۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 296، 314، 486وغیرہ دیکھیں!

 ‏486۔ روح دو قسم کی

‏اس آیت 39:42 میں کہا گیا ہے کہ انسان مرتے وقت اور سوتے وقت اللہ جانوں کو قبض کر تا ہے۔ یہی رائے آیت نمبر 6:60کہا گیا ہے۔ 

مرتے وقت اللہ روحوں کو قبض کر لیتا ہے ، اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن سوتے وقت روح قبض کر نے کا معاملہ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا۔ 

سوتے وقت اگر روح قبض کرلیا گیا تو سانس کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ پلٹ کر کیسے سو سکتے ہیں؟ چیونٹی وغیرہ کاٹے تو اس کو کیسے جھٹک سکتے ہیں؟ کھایا ‏ہوا غذا کیسے ہضم ہوسکتا ہے؟ اس طرح جسم میں کئی قسم کے حرکات کو ہم دیکھ رہے ہیں۔اس طرح سے دیکھا گیا تو معلوم ہو تا ہے کہ سونے والوں ‏کی روح قبض ہو نہیں سکتی۔ 

سوتے میں ہم سوچتے نہیں، فکر نہیں کرتے۔ تدبیر نہیں کرتے۔ حفظ نہیں کرتے۔ اسی طرح کے بہت سے کام نیند میں نہیں چلتی۔ اگر اس پر غور ‏کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان نہیں ہے۔ 

اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ روح دوقسم کے ہوتے ہیں۔

جسمانی حرکت کے لئے ایک روح،

دوسری روح احساسات کے تعلق سے ہے۔ 

ہم جب سوتے ہیں تو جسمانی حرکت کی روح ہم سے جدا نہیں ہوتی۔ احساسات کو حرکت دینے والی روح ہم سے جدا ہو جاتی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ حمل میں تشکیل پانے والے بچے کو 120ویں دن میں روح پھونکا جاتا ہے۔ (بخاری: 3208، 3332، 6594، ‏‏7454 )یہ بھی ثابت کر تی ہے کہ روح دو قسم کے ہو تے ہیں۔

‏120دن کے پہلے بھی جنین کو جان تھی۔ جان رہنے کی وجہ ہی سے وہ ترقی پاتے گئی۔ تین حالات سے گزرنا ہوا۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ احساس کی تعلق کی روح 120دن میں پھونکی جاتی ہے اور اس سے پہلے جو روح تھی وہ دوسری قسم کی روح تھی۔ 

یہ قرآنی آیت بھی اسی کی طرف تشریح کر تی ہے:

پھر منی کے قطرے کو حمل شدہ بیضہ بنایا۔ پھر اس حمل کے بیضے کو گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ پھر اس لوتھڑے کو ہڈی بنا کر اس ہڈی کو گوشت پہنایا۔ ‏پھر اس کو ایک اور مخلوق بنایا۔ خوبصورت پیدا کر نے والا اللہ بڑا ہی بابرکت والا ہے۔ 

قرآن مجید 23:14

اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 296، 314، 487وغیرہ دیکھئے!

 ‏485۔ بے نیاز اللہ کے لئے عبادتیں کس لئے؟

‏ان آیتوں (2:263، 2:267، 3:97، 3:182، 4:131، 6:133، 10:68، 14:8، 22:64، 27:40، 29:6، ‏‏31:12، 31:26، 35:15، 39:7، 47:38، 57:24، 60:6، 64:6، 112:2میں اللہ کو بے نیازکہا گیا ہے ۔

اللہ بے نیاز ہے، یہ اسلام کا بہت ہی اہم عقیدہ ہے۔ اسلام قطعی طور پر کہتا ہے کہ جس کو کوئی حاجت ہو وہ رب کہنے کے لائق نہیں ہے۔ 

اللہ بے نیاز ہے، اس کو نہ جاننے کی وجہ سے ہی مذہب کے نام سے لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں۔ 

اللہ کے نام پر نذرانہ دینا، اللہ کی عبادت کے لئے پیسے ادا کرنا، کھانے کی چیزیں اور دیگر غذائیں بھینٹ چڑھانا، ان سب کی وجہ یہی ہے۔ اللہ کے نام ‏پر جو نذرانہ دے رہے ہیں ان سب کو انسان ہی غڑپ کر لیتے ہیں۔ اس کو اچھی طرح جانتے ہوئے بھی انسان اس غلطی کو کر تے جارہا ہے۔ 

اسی طرح اگر کوئی اپنے آپ کو مذہبی رہنما ظاہر کرتا ہے تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اس میں خدائی صفت موجود ہے۔ جس کو خدا سمجھا گیا ہے وہ انسان ‏،کھاتاہے، سوتا ہے، اور بھی کئی حاجتوں کا غلام ہے ، اس کو دیکھنے کے بعد بھی اسے خدا سمجھنے کی وجہ یہی اللہ کی بے نیازی سے لا علمی ہے۔

اس طرح اللہ کا نام لے کر کسی کو دھوکہ دئے بغیر اسلام کا یہ عقیدہ ہمیں بچاتا ہے۔ 

بعض لوگوں کو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اگر اللہ کو کوئی ضرورت نہیں تو وہ کیوں حکم دیتا ہے کہ نماز پڑھیں اور روزہ رکھیں؟ 

اسلام کہتا ہے کہ اللہ کے لئے نماز پڑھیں اور اللہ کے لئے قربانی کریں ، اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ اللہ ضرورتمند ہے۔ اگر دنیا بھر کے لوگ مل کربھی ‏یہ فیصلہ کر لیں کہ اللہ کو نماز نہیں پڑھیں گے تو اللہ کوکوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ 

اگر اللہ کی عبادت کر نے کے لئے سب مل کر ایک ہی فیصلہ کریں بھی تو اس سے اللہ کے رتبے میں کوئی فرق آنہیں سکتا۔ اس مطلب سے نبی کریم ؐ ‏کی فرمان بھی موجودہے۔ 

مسلم: 5033

نماز وغیرہ عبادتوں کو ادا کر نے جو اللہ نے حکم دیا ہے، اس لئے نہیں کہ وہ اس کو ضرورت ہے۔ بلکہ جو کررہا ہے اس کی بہبودی کے لئے ہے۔ 

کسی کی بھلائی کے لئے ایک کام میں انہیں مبتلا ہو نے کے لئے جو نصیحت کہتے ہیں ، اس کو ایسا نہیں سمجھیں گے کہ وہ ہمارے لئے ضرورت ہے۔ 

ایک شخص اپنے بیٹے کو امتحان میں زیادہ نمبر حاصل کر نے کے لئے اصرار کرتا ہے۔ مقابلوں میں کامیاب حاصل کر نے کے لئے ترغیب دلاتا ہے۔ ‏وہ سب اس کی ضرورت کے لئے نہیں۔ بلکہ وہ اپنے بیٹے کی بھلائی کے لئے ہی اصرار کر تا ہے۔ 

اگر بیٹا اچھی حالت میں ہو گا تو ہمیں خیال کر ے گا، کم سے کم یہ توقع تو اس کو ہوگا۔ 

لیکن اللہ کے لئے جو عبادات کر تے ہیں اس میں ایسا کوئی توقع بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ہماری بھلائی کے لئے نافذ کئے ہوئے احکام کو حکم دینے والے ‏کی ضرورت کے لئے سمجھنابالکل غلط ہے۔ 

 ‏484۔ تکلیف پہنچی تو پریشان نہ ہوں

‏ان آیتوں2:124، 2:155، 2:249، 3:152، 3:154، 3:186، 5:41، 5:48، 5:94، 6:53، 6:165، 7:163، ‏‏7:168، 9:126، 11:7، 16:92، 18:7، 20:40، 20:85، 20:90، 20:131، 21:35، 21:111، 22:11، ‏‏23:30، 25:20، 27:40، 27:47، 29:3، 33:11، 38:24، 38:34، 39:49، 44:33، 47:4، 47:31، ‏‏54:27، 60:5، 64:15، 67:2، 68:17، 72:17، 76:2، 89:15، 89:16 میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں انسانوں کو جو خوش ‏نصیبی اور تکلیفیں عطا کی گئی ہیں وہ سب ایک آزمائش ہیں۔

مومنوں اور کافروں کوپیش آنے والے مختلف قسم کی پریشانیوں کو اس کے ذریعے حل بتایا گیاہے۔ 

برے لوگ خوش حال زندگی جی رہے ہیں اور اچھے لوگ تکلیفیں جھیل رہے ہیں ۔ اس کو دیکھنے کے بعد بعض لوگوں کو یہ الجھن پیدا ہو سکتا ہے کہ ‏اگر اللہ ہو تا تو اس طرح ہو سکتا تھا؟ 

کسی قسم کی گناہ نہ کر نے والے پیدا ہو نے کے وقت ہی مختلف خامیوں کے ساتھ پیدا ہو تے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ پریشانی ہے کہ کوئی بھی گناہ نہ ‏جاننے والوں کو یہ حالت کیوں ہے؟

اس الجھنوں سے چھٹکارا پانے کے لئے اسلام ایک صریح اصول رکھا ہے۔

اس دنیا میں انسان کیسے جی رہا ہے ، اس کو آزمانے کے لئے ہی اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ 

انسان مر نے کے بعد پھر سے زندہ اٹھایا جائے گا۔ اسی وقت وہ اپنے کئے ہوئے نیک کاموں کا انعام پائے گا۔ اسی طرح برا آدمی اپنے کئے ہوئے ‏برے اعمال کا سزا پائے گا۔ 

یہ دنیا ایک آزمائشی مقام رہنے کی وجہ سے یہاں بعض برے لوگ خوش حال زندگی بسر کررہے ہیں اوربعض نیک لوگ تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ ‏اسلام کہتا ہے کہ اس ظاہری حال دیکھ کر دھوکہ نہ کھا جائیں۔ 

کیونکہ ہر انسان کو اللہ آزماتا ہے۔ تمام لوگوں کو ایک ہی انداز سے آزمانے کے بجائے مختلف قسم سے آزماتا ہے۔ 

ایک شخص کو سو فیصد خوشیاں عطا کر کے ایک فیصد بھی اگر پریشانی نہیں ہو تی تو اسی وقت وہ تکلیفیں واقع ہو نے میں کچھ معنی ہوگا۔ 

لیکن کسی بھی انسان کو اللہ نے پوری خوشی عطا نہیں کی۔ ایسا کوئی بھی انسان دنیا میں نہیں ہے جوایک بھی تکلیف نہ رکھتا ہو۔ 

کتنی بھی خوش حالی ایک شخص کو حاصل ہو ، اگر ہم اس کو غور سے دیکھیں توہمیں احساس ہوجائے گا کہ جو آسودگیاں اس کو نہیں دیا گیا ہے وہ ہہیں ‏دیا گیا ہے۔ 

محتاجی، بد صورتی، کمزوری، لا ولد، ظالموں کے ظلم سے دب کر رہنا، ادا نہ کرنے کی حد تک قرضداری، ناموزوں شریک حیات، غیر اخلاق بچے، ‏قریبی رشتوں کی موت، جسمانی نقص، یادداشت کی کمی، غورو فکرسے نابلد، لاعلمی ،ایسے ہزاروں کوتاہیاں انسانوں میں موجود ہیں۔ 

ایک شخص کو اللہ غریبی اور بیماری دیا ہوگا۔ 

لیکن دولت اور صحتمندی دئے گئے انسان کو دوسرا کچھ نقص ہوگا۔ انہیں ناموزوں بیوی یا بد اخلاق بچے ملے ہوں گے۔ یا دوسرا کچھ اور کمی عطا کیا ہو ‏گا۔ 

اللہ اگر خوشی بھی دے تو اس وقت انسان کا عمل کیسا ہے ، یہ آزمائش کر نا ہی اللہ کا منشا ہے۔ اگر تکلیفیں دیتا ہے تو اس کا بھی آزمائش ہی ہے۔

آزمائش کے وقت اللہ ہمیں زیادہ تکلیف دیتا ہے،ہم اگر اس کو برداشت کر لیں توہماری اس تکلیف کے لائق بھلائی کو آخرت میں کسی بھی کمی کے ‏بغیر اللہ عطا فرماتا ہے۔ اگر ہم نیکی کی زندگی اختیار کریں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آخرت میں ہمارے لئے بے شمار انعامات منتظر ہوں گے۔ ‏اس طرح یقین رکھنے سے نیک زندگی بسر کر نے کے لئے اعتقاد اور بھی بڑھے گا۔ 

اس دنیا میں نیک بن کر جیتے وقت اگر تکلیفیں پیدا ہوں تو نیک بن کر جینے کا انعام ہم دوسری دنیا میں حاصل کر نے والے ہیں۔ اس دنیا میں آرام دہ ‏زندگی بسر کر نے کے لئے راست بازی کی حدود کو اگر ہم پار کر دیں تو اس کی سزا کو ہم دوسری دنیا میں بھگتنا ہی پڑے گا۔یہ اعتقاد ہمیں راہ بدلنے ‏سے روکے گا۔ 

اس کے بارے میں نبی کریمؐ نے ہمیں واضح انداز سے نصیحتیں کی ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا :

جس پراللہ بھلائی چاہتا ہے اس کو آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (بخاری: 5645)

نبی کریم ؐ نے فرمایا:

ایک مسلمان کو کانٹا چبھنے سے لے کر اس کو واقع ہو نے والے مصیبت، بیماری، دکھ، فکر، دقت اور دل آزاریاں وغیرہ کچھ بھی ہوں ، اس کے بدلے ‏میں اس کی گناہوں سے بعض کو اللہ معاف کئے بغیر نہیں رہتا۔ 

‏(بخاری: 5642)

عطاء بن ابی رباح ؒ نے فرمایا:

ابن عباسؓ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت کو دکھاؤں؟ میں نے کہا کہ ہاں، دکھائیے! تو انہوں نے ایک کالے رنگ کی ‏عورت کو دکھایا۔ اس عورت نے ایک بار نبی کریمؐ کے پاس آکر کہنے لگی کہ ’’میں مرگی کی بیماری سے(اکثر) مبتلا ہو جاتی ہوں۔ اس وقت( ‏میرے جسم سے لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جا تا ہے۔ اس لئے میرے لئے دعا کیجئے!‘‘ نبی کریمؐ نے کہا کہ ’’اگر تم چاہو تو صبر سے رہ سکتے ہو۔ ‏‏(اس کے بدلے میں) تم کو جنت ملے گی۔ اگر تم چاہو تو تمہیں صحت عطا کر نے کے لئے اللہ سے دعا کرتا ہوں۔ ‘‘ تو اس عورت نے کہا کہ میں ‏صبرسے رہ جاتی ہوں۔ لیکن (مرگی آتے وقت لباس ہٹ کر) میرا جسم کھل جا تا ہے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ اس طرح میرا جسم کھلنے نہ پائے۔‘‘اسی ‏طرح نبی کریمؐ نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔

‏(بخاری: 5652)

ایک مسلمان جنت میں جانے کے لئے جس طرح نیک عمل کی ضرورت ہے اسی طرح صبر اختیار کر نے سے بھی جنت میں داخل ہو سکتے ہیں۔اس ‏کے لئے یہ فرمان رسول دلیل ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا:

اللہ نے فرمایاکہ میں میرے بندے کی پسندیدہ دو چیزیں (آنکھوں کوچھین کر) آزماتاہوں ، اگر وہ اس کو برداشت کر لے تو اس کے بدلے میں اس ‏کو میں جنت عطا کرتا ہوں۔ 

‏(بخاری: 5653)

اس دنیا میں اللہ نے جو دولت بخشی ہے اگر اس سے ہم محظوظ ہونا چاہیں تو اس کے لئے آنکھیں بہت ضروری ہیں۔ آنکھیں رہنے کی وجہ ہی سے ہم ‏زیادہ خرچ کر تے ہیں۔ اور ہم خوبصورت کپڑے خریدتے ہیں۔ اور خوبصورت گھر بناتے ہیں۔ ہر چیز کو خوبصورت منتخب کر نے کی وجہ آنکھیں ہی ‏ہیں۔ 

اتنی بڑی خوش نصیبی دوسروں کو میسر ہے اورہمارے پاس نہیں ہے توہماری دکھ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ آنکھیں کھو نے کے بعد بھی اس کو ‏برداشت کر تے ہوئے نیک زندگی گزاریں تو اس کے لئے اللہ جنت عطا کر تا ہے۔ 

نبی کریمؐ نے فرمایا:

مومنوں کی حالت دیکھ کر مجھے حیرت ہو تی ہے۔ ان کی (زندگی کی) تمام چیزیں (انہیں) بھلائی ہی ہو تی ہیں۔ مومنوں کے سوا دوسرے کسی کو یہ ‏نہیں ملتی۔ انہیں کوئی خوشی پیدا ہو تی ہے تو وہ شکر ادا کر تے ہیں۔ وہ انہیں بھلائی ہو تی ہے۔ اگر انہیں کوئی غم ملتی ہے تو اس پر وہ صبر کر تے ہیں۔ وہ ‏بھی انہیں بھلائی ہوتی ہے۔ 

‏(مسلم: 5726)

کچھ خوف سے، بھوک سے، دولت سے، جانوں سے اور آمدنیوں میں گھٹاکر تمہیں ہم آزمائیں گے۔ صبر کر نے والوں کو خوشخبری سنا دو۔

قرآن مجید 2:155)

سعدؒ نے فرمایا ہے: 

میں نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ ’’اے اللہ کے رسول! لوگوں میں بہت زیادہ کون آزمائے گئے؟ ‘‘ تو نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ ’’انبیاء کو ، پھر ان جیسے ‏رہنے والوں کو، پھر ان کے جیسے رہنے والوں کو۔ ہر ایک انسان اس کے دین میں جتنی لگاؤ ہے اس حد تک وہ آزمائے جائیں گے۔ اگر اس کے دین کی ‏گرفت مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی بڑی ہو گی۔ اگر اس کے دین کی گرفت کمزور ہو تو اس کے دین کی گرفت کی حد تک وہ آزمایا جائے گا۔ ایک ‏بندہ زمیں پر جب تک چلتے پھر تے رہیگا اور جب تک اس کا سارا گناہ ختم نہیں ہوگااس سے کوئی آزمائش نہیں چھوٹے گی۔

ترمذی: 2322

اس حقیقت کو اگر سمجھ لیں توہمیں یہ عقیدہ دل کو اطمینانی بخشے گا کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ہم میں جو کمی ہیں اسی طرح دوسروں کو بھی دوسری ‏قسم کی کمی پائے جاتے ہیں۔ اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں سے زیادہ کمی ہمارے ہی پاس ہے توسمجھو کہ آخرت میں انعامات زیادہ ہو ں ‏گے۔ 

مزید یہ کہ ایک اور وجہ سے بھی اللہ نے انسانوں میں کمی رکھا ہے۔ 

یہ دنیا اگر ٹھیک طور سے جاری رہنا ہو تو کمی اور زیادتی سب کے لئے برابر تقسیم ہو نا چاہئے۔ 

اگر سب کو ایک ہزار ایکڑ زمین دیا گیا تو کوئی کام کے لئے نہیں جائے گا۔ ہماری زمین کو ہم ہی جوت کر کھیتی باڑی کر نے کے لئے ہم طاقت بھی ‏حاصل نہیں کریں گے۔ تمام لوگ غذا کے بغیرہی مر جائیں گے۔ 

اسی لئے ہر ایک کو ایک الگ قسم کی کمی اور زیادتی دے کر اللہ نے مہربانی کی ہے۔ 

مریض کے ذریعے طبیب کی زندگی چل رہی ہے۔ طبیب کے ذریعے بیوپار ی کی زندگی چل رہی ہے۔ بیوپاری کے ذریعے کسان اور صانع کی زندگی ‏چل رہی ہے۔ اس طرح کی سلسلہ وار زندگی کے ذریعہ سے ہی دنیا متحرک ہو نے کے لئے اللہ نے اس طرح کاانتظام کیا ہے۔ 

‏483۔ کیا انسان 950 سال جی سکتا ہے؟ 

‏اس آیت 29:14میں کہا گیا ہے کہ نوح نبی نے 950 سال رہے۔ 

آج کے دور میں انسان لگ بھگ ساٹھ یا ستر سال ہی جیتے ہیں۔ اس کو دیکھنے سے 950سال جینا ناممکن معلوم ہو تا ہے۔

نوح نبی جس طرح 950 سال تک جئے تھے اسی طرح ان کی قوم کے لوگ بھی بہت زیادہ سال گزارے تھے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ ان کے ‏درمیان 950تک رہے توہمیں معلوم ہو تا ہے کہ اس زمانے میں انسان بہت زیادہ سال تک جینے والے تھے۔ 

اس زمانے میں انسان کا قد زیادہ سے زیادہ چھ قدم ہے۔ لیکن اس زمانے کے لوگوں کے ہڈی کاڈھانچہ اور خاکہ اب انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ ہڈی کے ‏ڈھانچے آج کے انسان کی جسامت اور قد سے کہیں زیادہ ہے۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آج کے انسان کے ا نداز سے پہلے کی قوم نہیں تھی۔

اسی طرح پہلے کی قوم کی زندگی کے ایام آج کی زندگی سے کئی گنا زیادہ رہاہوگا، یہ تو سائنس کے برخلاف بھی نہیں۔ کوئی بھی سائنس یہ نہیں کہا کہ ‏ابتداء سے انسان کی زندگی ساٹھ سال کی ہے۔

آج کا انسان لگ بھگ پچاس سال تک جیتا ہے۔ لیکن ہمارے آباؤ اجداد کی اوسط عمر نوے سال کی تھی۔ سو سال کے اندر ہی اتنا فرق ہو گا تو کئی ‏ہزاروں سال کے پہلے اس سے کئی گنا زیادہ ہی فرق ہوگا۔اس کو کوئی بھی سائنسدان انکار نہیں کر سکتا۔ 

 ‏482۔ کیا نبی کریم ؐ نے اللہ کو دیکھا؟ 

‏ان آیتوں 53:11-13 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ نے اس کو دیکھا۔ 

اس کو دیکھا کا مطلب ہے کہ نبی کریم ؐ نے جبرئیل نامی فرشتے کو دیکھا۔

بعض لوگوں نے’ انہیں دیکھا ‘کے جگہ پر’ اس کو دیکھا‘ سے ترجمہ کر کے شرح کی ہے کہ نبی کریم ؐ نے اللہ کو دیکھا۔ 

‏(عربی زبان میں ’اس کو‘ اور ’ان کو‘ کے لئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ )

یہ معنی کہ نبی کریمؐ نے اللہ کو دیکھا ، ٹھیک نہیں ہے۔ جبرئیل کو دیکھا، یہی ٹھیک معنی ہے۔ 

جبرئیل نے جب پہلا وحی لے کر آئے تو نبی کریم ؐ نے انہیں ان کے اصلی روپ میں دیکھا۔ اس کے بعد معراج کے موقع پر جنت الماوا کے مقام پر ‏پھر ایک بار جبرئیل کو دیکھا۔

اسی کو یہ آیتیں کہتی ہیں۔ 

محمد ؐ نے اپنے رب کو دیکھا کہنے والا بہت بڑی غلطی کردیا۔ تاہم عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی روپ میں اور اصلی ساخت ‏میںآسمانی کناروں کو مسدود کرتے ہوئے دیکھا۔ 

بخاری: 3234

جب عائشہؓ نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے اللہ کو نہیں دیکھا تو اس حدیث کے راوی مسروق نے اس آیت 53:13کو سند بنا کر پوچھا کہ قرآن مجید میں تو کہا ‏گیا ہے کہ انہیں اور ایک بار بھی دیکھاتو عائشہؓ نے جواب میں کہا کہ وہ جبرئیل کی طرف اشارہ ہے!

بخاری: 3235

نبی کریم ؐ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اللہ کو دیکھا ہے؟ تو آپ نے فرمایاکہ وہ تو نور سے بھرا ہوا ہے، اس کو میں کیسے دیکھ سکتا ہوں؟

مسلم: 291

اس لئے نبی کریم ؐ نے معراج کے موقع پر اللہ کو دیکھا کہنا جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ 

اللہ کو کیا اس دنیا میں دیکھ سکتے ہیں؟ اسے تفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 21 ، 249، 488 وغیرہ دیکھیں!

More Articles …