Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

2۔ معنی نہ کئے جانے والے حروف

قرآن مجید میں بعض سورتوں کی ابتدامیں الگ الگ حروف جگہ پائی ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ الگ الگ حروف کو کسی بھی زبان میں معنی نہیں پہنا سکتے۔ 

مثال طور پر اگر sun کہاجائے تواس کو معنی دے سکتے ہیں۔ اگر الگ الگ حروف میں s.u.n. کہا جائے تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ تین حروف کہا گیا ہے، اس کے سوا اس کا کوئی معنی نہیں۔

اسی طرح عربی زبان میں ’اَلَم‘ کہا جائے تو اس کو معنی دے سکتے ہیں۔اگر اس کو الگ الگ حروف میں الف، لام، میم کہا جائے توہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ تین حروف کہا گیا ہے، اس کے سوا اس کا کوئی معنی نہیں۔ 

قرآن مجید میں انتیس سورتیں اسی طرح الگ الگ حرفوں سے ابتدا کی گئی ہیں: 2، 3، 7، 10، 11، 12، 13، 14، 15، 19، 20، 26، 27، 28، 29، 30، 31، 32، 36، 38، 40، 41، 42، 43، 44، 45، 46، 50، 68 ۔

کثر لوگوں کویہ شبہ ہوسکتا ہے کہ معنی نہ کئے جانے والے حرفوں سے انتیس سورتوں کی ابتداکیوں کی گئی ہیں؟

اس زمانے کے پنڈتوں میں ایک عادت تھی۔ اعلیٰ قسم کے ادب کو تخلیق کر تے وقت ابتدا میں ایک دو حرفوں کو استعمال کیا کرتے تھے۔ 

اس لئے قرآن مجید جو تمام عربی آداب سے بڑھ کر عظیم ہے اور یہ اعلان کر تا ہے کہ اس جیسا کوئی بنا نہیں سکتا، وہی طریقے کو اپنا کر للکار ا ہے۔ 

نبی کریم ؐ سے چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی تشریح چاہنے والے اصحاب رسول اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ اس طرح سوال اٹھانے کا کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ معمولی دستورالعمل تھا۔

نبی کریم ؐ کے دشمن نبی کریم ؐ پر اور ان کے لائے ہوئے دین پر عیب لگانے کے لئے کئی طرح کی سخت کوششیں اختیار کیں۔

قرآن مجید میں جو حروف استعمال کیا گیا ہے وہ اس زمانے میں عام نہ ہوتااور اس زمانے کے لوگ اگر اس کو اختیار نہ کیا ہوتا تو اس کو بالکل سختی سے تنقید کئے ہوں گے۔اورکہے ہوں گے کہ محمد کو دیکھو، بے معنی الفاظ کہہ کر یہ کتاب الٰہی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

لیکن نبی کریم ؐ کے خلاف مختلف قسم کے تنقید کر نے والے دشمن اس کے متعلق کوئی بھی تبصرہ نہ کئے۔ صرف ایک شخص کی تنقید کی بھی دلیل کہیں نہیں پائی گئی۔

وہ لوگ تنقید نہ کرنے کی وجہ سے ہم جان لے سکتے ہیں کہ اس طرح کے لفظوں کا استعمال اس زمانے کے لوگوں میں رہتا تھا۔

اسی لئے مندرجہ بالا سورتوں کی ابتدا میں جگہ پانے والے حرفوں کو اسی طرح درج کر دئے ہیں۔

صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس زمانے کے عربوں میں یہ ایک عام عادت تھی۔ 

512۔ چور کا ہاتھ کس حد تک کاٹنا چاہئے؟

اس آیت میں(5:38) کہا گیا ہے کہ چوری کرنیوالوں کے ہاتھ کاٹ دینا چاہئے۔لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ کس حد تک کاٹے جائیں۔کلائی تک؟ یا کہنیوں تک؟ یاکندھے تک؟

پھر بھی ہم غور کرکے جان سکتے ہیں کہ اس جگہ پر ہاتھ کسے کہا گیا ہے؟

ہاتھ کا مطلب ہے کہ ہاتھ کے انگلیوں سے لے کر کندھے کا نچلا حصہ بازوتک کہا جانے کے باوجود ہر زبان میں اور آدمیوں کے بول چال میں عام طور سے جب ہاتھ کہا جائے تو وہ کلائی کے حصے تک ہی کو کہا جا تا ہے۔ دوسرے معنی میں اگر جملہ ترکیب پائی ہو تو اسکے سوا دوسرے موقع پر ہاتھ کو کلائی تک کیلئے ہی کہا جاتا ہے۔

اگر کہا جائے کہ ہاتھ سے اٹھاؤ، ہاتھ سے پکڑو، ہاتھ دھوؤ، ہاتھ سے مصافحہ کرو تو اس کو ہم پورا ہاتھ نہیں سمجھیں گے۔کلائی ہی کو سمجھا جائے گا۔

ڈاکٹر کہتا ہے کہ انجکشن کے لئے ہاتھ لمبا کر و توہم یہ جانتے ہوئے کہ وہ انجکشن کہاں ڈالے گا، ہم پورا ہاتھ لمبا کر تے ہیں۔

کوئی کہے کہ ہاتھوں کو باندھ لو تو اس میں دونوں ہاتھ ملے ہو نے کی وجہ سے ہم دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک باندھ لیتے ہیں۔

اس طرح کچھ کہے بغیر صرف ہاتھ کہا گیاتوکلائی تک کے حصے ہی کوہم استعمال کریں گے۔ آدمیوں کے بول چال کے انداز ہی سے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے۔

اگر کوئی کہے کہ ہاتھ دھوکر کھاؤ تو ہم ایسا نہیں سمجھیں گے کہ کندھے تک دھو کر کھانا چاہئے۔

اگر اس طرح کہا نہیں گیا کہ ہاتھ کو کلائی تک کاٹ ڈالو ، اس کے باوجود اس کو دوسرے معنی میں سمجھنے کے لئے وہ آیت ترکیب نہ پانے کی وجہ سے اس کا معنی کلائی تک ہی ہوگا۔

اس کو ذیل کی اس آیت سے معلوم کر سکتے ہیں:

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے تیا رہوتے ہو تواپنے چہرے اوراپنے ہاتھوں کو جوڑوں تک اوراپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ۔ اپنے سروں کا (گیلے ہاتھوں سے) مسح کر لو۔ اگر تم حالت جنابت میں ہو تو (نہا کر) پاک ہوجاؤ۔ اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آئے ہو یا (صحبت کے ذریعے) عورتوں کو چھوئے ہوتوپانی نہ ملنے کی صورت میں پاکیزہ مٹی کو چھو کر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کی تیمم کرلو۔اللہ نہیں چاہتا کہ وہ تم پر کوئی تنگی ڈالے۔ بلکہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم شکر گزار بننے کے لئے تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت کو پوری کرے۔

(قرآن مجید، 5:6)

اس آیت میں دو جگہوں پرہاتھ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک وضو کرنیکے بارے میں اور دوسرا تیمم کر نے کے بارے میں۔

وضو کے بارے میں کہتے وقت کہنیوں تک دھونے کے لئے اللہ نے کہا ہے۔ لیکن تیمم کر نے کے بارے میں کسی حد کے بارے میں کہے بغیراللہ نے صرف ہاتھ کہا ہے۔

اس کو نبی کریم ؐ نے عمل کے ذریعے تشریح کرتے وقت بتایا کہ زمین میں ہتھیلی سے مار کر اس کو چہرے پر پھیر لیا اور پھر کلائی تک ہاتھوں پر مسح کر لیا۔

دیکھئے: بخاری، 342، 343، 338، 339۔

تیمم کر تے وقت آپ نے کہنیوں تک مسح نہیں کی۔عام طور سے ہاتھ کہا جانے کی وجہ سے کلائی تک کو عمل کر کے دکھا دیا۔

عام طور سے جب ہاتھ کہا جائے تواس کو کلائی تک ہی سمجھنا چاہئے۔اس لئے کلائی تک ہی کاٹنا چاہئے۔

511۔ کیا ایسا کہہ سکتے ہیں کہ وہ عرش پر بیٹھا؟

ان آیتوں کو دیگر مفسروں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے عرش پر سلطنت قائم کی۔ ہم نے ترجمہ کیا ہے کہ اس نے عرش پر بیٹھا۔ ایسا کیوں کیا، اس کو ذرا سمجھ لیں۔

مندرجہ بالا آیتوں میں استویٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

یہی لفظ قرآن میں دوسری جگہوں میں بھی بیٹھنے کے معنی ہی میں استعمال کیا گیا ہے۔

آیت نمبر 11:44 میں مترجموں نے جو ترجمہ کیا ہے کہ جہاز پہاڑ پر بیٹھا، اس جگہ پر بھی یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح اس 23:38 کے آیت میں بھی جہاں کہا گیا ہے کہ جہاز میں بیٹھو، اس جگہ میں بھی یہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

استویٰ کا لفظ عام طور سے نیچے بیٹھنے کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ اونچے مقام پر بیٹھنے کے لئے استعمال ہو تا ہے۔

مثال کے طور پر جہاز پر بیٹھنا، پہاڑ پر بیٹھنا، سواری پر بیٹھنا، منبر پر بیٹھناوغیرہ معانی میں قرآن اور حدیثوں میں یہ لفظ کہا گیا ہے۔

سواری پر بیٹھنا کے معنی میں 43:13کے آیت میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

حدیثوں میں بھی یہ لفظ بیٹھنے کے معنی ہی میں استعمال کیا گیا ہے۔

ابو درداء نے جب کہا کہ میں گھوڑے پر بیٹھا تواس جگہ پر استویٰ کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔

(دیکھئے،بخاری:2914)

نبی کریم ؐ سواری پر اچھی طرح بیٹھ گئے ، ایسا کہتے ہوئے ابو عباسؓ نے اسی استویٰ کا لفظ ہی استعمال کئے تھے۔

(دیکھئے، بخاری: 4277)

انسؓ نے جب کہا کہ نبی کریم ؐ منبر پر بیٹھ گئے، اس جگہ میں بھی یہی استویٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

(دیکھئے، بخاری:7269)

لسان العرب نامی مشہور عربی لغات کی کتاب میں بھی کہتے ہیں کہ اس لفظ کو یہی معنی کہا گیا ہے۔ یعنی ایک چیز کے اوپربیٹھنے کو یہ معنی کہا گیا ہے۔

استویٰ کا مطلب ہے کہ اوپربیٹھنا۔ سواری پر بیٹھنا، گھر کے چھت پر بیٹھنا وغیرہ۔

اس لئے اللہ عرش پر بیٹھا ہوا بلندو بالاہے، اس کو اس طرح کا معنی دینا ہی ٹھیک ہے۔

بعض لوگ اس کو اس طرح معنی دینے کے بجائے دوسری طرح سے تشریح کر تے ہیں۔ وہ تمام تفصیلات عربی قواعد سے بھی سہی ، قرآن اور حدیث کے اعتبار سے بھی سہی غلط ہی ثابت ہوتے ہیں۔

510۔ زبان بولے گی اور نہیں بولے گی،

قرآن میں یہ اختلاف کیوں؟

ایسا معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں24:24، 36:65 آیتیں ایک سے ایک غیرموافقت ہیں۔

آیت نمبر 24:24کہتی ہے کہ آخرت میں زبان بولے گی اورآیت نمبر 36:65کہتی ہے کہ آخرت میں زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی۔سطحی طور پر دیکھا گیا تو اس میں اختلاف دکھائی دینے کے باوجود ذرا غور کریں توجان جاؤگے کہ اس میں ناموافت کچھ بھی نہیں ہے۔

اس دنیا میں تمام اعضاؤں کے ذریعے جو کام کرتے ہیں اس کے بارے میں وہ اعضاء بات نہیں کریں گے، زبان ہی بات کرے گی۔

لیکن آخرت میں ہر ایک اعضاء اپنے کئے کے بارے میں گواہی دے گی۔ کہا گیا ہے کہ اس وقت منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔

لیکن زبان کے ذریعے کئے جانے والے کاموں کو اس سے تعلق رکھنے والی زبان ہی بولے گی۔ زبان گواہی دے گی کا مطلب یہی ہے۔

دیگر اعضاء کے عمل کو بول نہیں سکتی، اس لئے زبان کو مہر لگا دیا جائے گا۔ زبان جو بولتی تھی اس کو زبان ہی گواہ دے سکتی ہے۔

جو آیت کہتی ہے کہ زبان بولے گی ، وہ تہمت لگانے کے متعلق بولے گی۔ یہ زبان ہی سے ہوتی ہے۔ تہمت جو زبان سے ہوتی ہے اس کو زبان ہی بول سکتی ہے۔ اسی لئے اس جگہ پر کہا گیا ہے کہ زبان بولے گی ۔

یعنی سب کچھ بولنے کی طاقت رکھنے والی زبان کے اختیارکو چھین لیا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا تھاصرف اسی حد تک وہ بات کر ے گی۔ اس طرح اگر ان دونوں آیتوں کو ملا کر دیکھیں تو اس میں کسی طرح کا اختلاف دکھائی نہیں دے گا۔

509۔ ابلیس کون ہے؟

آدم ؑ کو پیدا کر کے اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ انکے تابع ہوجائیں۔ اس حکم کے مطابق فرشتوں نے تابع ہوئے۔ لیکن ابلیس نے تابع ہو نے سے انکار کردیا۔ اس طرح یہ آیتیں2:34، 7:11، 15:31، 17:61، 18:50، 20:116، 38:74 کہتی ہیں۔

اس کو سطحی طور پر اگر دیکھا جائے توکہا گیا ہے کہ ابلیس کے سوا باقی فرشتے تابع ہوئے۔ اس طرح بولے جانے سے اس سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں میں وہ بھی ایک تھا۔

لیکن ابلیس کے بارے میں اور فرشتوں کے بارے میں نازل ہو نے والی آیتوں کو دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ فرشتوں کی ذات میں سے نہیں ہے۔

18:50آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ جن کے ذات کا ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جنات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں۔ (دیکھئے: مسلم) قرآن کی آیت 15:27 بھی کہتی ہے کہ جنات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں۔

اس لئے ابلیس جنات کے ذات سے رہنے کی وجہ سے وہ فرشتہ نہیں ہو سکتا۔

مزید یہ کہ جب اللہ ایک حکم دیتا ہے تواس حکم سے تجاؤز نہ کرنے کی فطرت ہی میں وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ اس کو ان آیتوں میں16:49، 16:50، 21:19، 21:27، 66:6 معلوم کر سکتے ہیں۔

اگر ابلیس فرشتوں کے جماعت سے ہو تا تو وہ ہرگز اللہ کے حکم سے تجاؤز نہ کیا ہوتا۔

مزید یہ کہ فرشتوں میں مرد عورت کا جنس نہیں ہے۔ اس لئے انہیں کوئی نسل نہیں ہے۔ لیکن آیت نمبر 18:50میں کہا گیا ہے کہ ابلیس کی نسل ہے۔ اس لئے ابلیس فرشتہ نہیں ہوسکتا۔

پھر بھی وہ فرشتے کی ذات نہ ہو نے کے باوجود ہمیں یہی سمجھنا چاہئے کہ جنات کے قوم کے ابلیس کو اللہ نے فرشتوں کے ساتھ رہنے دیا تھا۔

یہ آیتیں15:34، 38:77 کہتی ہیں کہ تم یہاں سے نکل جاؤ کہہ کراللہ نے اس کو آسمانی دنیا سے باہر کردیا۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ باہر کئے جانے تک وہ آسمانی دنیا میں فرشتوں کے ساتھ ہی رہا۔

اللہ نے کس لئے ابلیس کو فرشتوں کے ساتھ رکھا تھا، اس کی وجہ نہیں کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی مقصد ہی سے اللہ نے اس کو فرشتوں کے ساتھ آسمانی دنیا میں رکھا ہوا تھا۔

508۔ نسل سے کوئی شان نہیں

یہ دو آیتیں49:13، 53:32 زور دے کر کہتی ہیں کہ پیدائشی طور پر کوئی اعلیٰ نہیں۔

اللہ نے براہ راست آدمی کی ایک جوڑی ہی پیدا کی۔ ان کے ذریعے ہی آج دنیا میں جینے والے سارے انسان نشو نما پا رہے ہیں۔ اس کو آیت نمبر 49:13میں اللہ نے اعلان کیا ہے۔

تمام نوع انسان ایک ہی ماں باپ سے ظاہر ہوئے ہیں ، اس لئے ان کے درمیان پیدائش کی بنا پر کسی طرح کی اونچ نیچ نہیں ہوسکتی۔

ایک ہی ماں باپ کو پیدا ہونے والے دو بیٹوں میں ایک کی پیدائش کو اعلیٰ ،اور دوسرے کی پیدائش کو ادنیٰ کوئی نہیں کہے گا۔

قرآن کہتا ہے کہ اس طرح کی بھائی بندی ہی نوع انسانی کے درمیان پائی جا تی ہے۔

اسلام کی یہ کوئی بے معنی اصول نہیں ہے۔ چودہ سو سال سے یہ اصول رائج ہے۔

عیسائی مذہب بھی کہتی ہے کہ آدم اور حوا کے ذریعہ سے ہی آدمی ظاہر ہوئے تھے۔

اس کے باوجود صرف اسلام ہی اسے رائج کرتے آرہی ہے۔لیکن غور طلب بات ہے کہ عیسائی اس کو رائج نہیں کیا۔

ناڈار عیسائیت اور تلت عیسائیت وغیر ہ ان کے پہلے ہی کی ذات ، اس سے پیدا ہو نے والے اونچ نیچ کا طریقہ جیسا عیسائیت میں چلا آرہا ہے ویسا اسلام میں جاری نہیں ہے۔ ان میں جیسے دونوں کو الگ الگ گرجا گھر ہوتاہے ویسا مسلمانوں کے درمیان نہیں ہے۔

ناڈار مسلم اور تلت مسلم ، ایسے الفاظ بھی مسلمانوں میں نہیں پائے جاتے۔کسی بھی مذہب کے ہوں جب وہ اسلام قبول کر تے ہیں تو اسی لمحہ ان سے وہ مذہب تمام ہٹ جاتا ہے۔ اس وقت وہ صرف مسلمان رہ جاتے ہیں۔

مسلمانوں میں بعض لاعلمی کی وجہ سے شیعہ اور سُنی جیسے ناموں سے الگ کر کے دکھاتے ہیں، اسلام اس کی حمایت نہیں کرتا۔ اور پھر اس فرقہ بندی کومذہب کے ساتھ نہ ملائیں۔

قرآن اور سنت رسول کو سمجھنے میں جو تفریق کی گئی اسی وجہ سے اس طرح جدا ہو کر بیٹھے ہیں۔

شیعہ کے فرقے سے اگر کوئی سُنی کے فرقے میں شامل ہو نا چاہے تو وہ فوراً اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سُنی فرقے والا شیعہ فرقے میں شامل ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک تلت اگر چاہے تو وہ پجاری بن نہیں سکتا۔

مکہ میں موجودکعبۃ اللہ میں شیعہ کے فرقے ہی نہیں بلکہ تمام فرقے وہاں اللہ کی عبادت کرسکتے ہیں۔

انسان اللہ کی عبادت کر نے کے لئے سب کے لئے پورا حق دینا چاہئے، اور اس میں مساوات ہونا چاہئے۔ لیکن دوسرے مذاہب کے عبادت گاہوں میں ایسی حالت کونہیں دیکھ سکتے۔

ایک مخصوص نسل میں پیدا ہو نے والا ایک شخص غسل کر کے، نہا دھو کر، نئے کپڑے پہن کر، منتر وغیرہ اچھی طرح جان کر، خدا کی عبات کے لئے جاتا ہے۔ اسی طرح پوجا کر نے والا ایک اورشخص اس کو پوجا کر نے سے روکتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ صرف ہم لوگ ہی براہ راست پوجا کر سکتے ہیں۔ تم لوگ ہمارے راستے ہی سے پوجا کر نا چاہئے، اس کے علاوہ برا ہ راست تم نہیں کر سکتے۔

پہلا شخص کہتا ہے کہ میں بھی منتر وغیرہ جانتا ہوں۔ اور میں بھی اچھی طرح نہا دھوکر ہی آیا ہوں۔ کتنا بھی کہو اس کو پوجا کر نے سے اس لئے روکا جاتا ہے کہ وہ ایک نیچ نسل سے ہے۔

انسان اپنی کوشش سے حاصل کر نے والے علم، عہدہ اورشہرت وغیرہ سے بڑا آدمی سمجھا جا سکتا ہے، یہ غلطی نہیں۔لیکن جو آدمی کی کوشش سے ملتا نہ ہواس نسل کے نام سے انسانوں کو اگر الگ کردیا جائے، اور اس کو خدا بھی مان لے تو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔

دنیا کی کسی بھی مسجد میں نسل، خاندان ، عہدہ اور دولت وغیرہ کی بنیاد پر کسی طرح کی ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ اسے کوئی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تصدیق کر سکتا ہے۔

مسجد کے اندر جو پہلا آتا ہے وہی پہلی صف میں کھڑ سکتا ہے، آخر میں آنے والا آخر ہی میں کھڑے گا۔

اس معاملے میں مسلمان ذرہ بھر سمجھوتہ نہیں کرتا۔

صدر جموریت ذاکر حسین اور فخر الدین علی احمد وغیرہ دہلی کی جمعہ مسجد میں عید کی نمازیں پڑھی ہیں۔ وہ لوگ دیرسے آنے کی وجہ سے جگہ نہ پاکر کھلی میدان میں نماز پڑھی ہے۔

جمہوری صدر آنے پر بھی کوئی مسلمان ان کو ترجیح دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ اسی طرح صدر نے بھی نہیں پوچھا کہ مجھے آگے کی صف میں جانے دو۔ اگر پوچھاہوتاتو بھی کوئی مسلمان مانے گا نہیں۔

جہاں جگہ ملی وہیں وہ بیٹھ گئے ، اس کے سوا ان کے لئے نعرہ لگا کر پہلی صف میں انہیں بٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ بھی اس طرح نہیں مانگا۔

کسی بھی مسجدمیں کسی کے لئے پوشاک وغیرہ پہنایا نہیں جاتا۔

اس لئے اللہ کے نام پر ظلم ڈھانے کو انصاف دلانے کا گناہ اسلام نہیں کرتا۔

ہر انسان ایک ماں باپ کو پیدا ہوئے ہیں۔ اس کو جب قبول کیا جاتا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں تامل والا، میں کیرالا والا اور میں کرناٹک والا، اس لحاظ سے میں ہی بہتر ہوں۔

میں ہندوستانی ہوں، میں پاکستانی ہوں، میں امریکن ہوں ، اس طرح دیس کے نام سے آدمی کو آدمی سے الگ کر کے دیکھنے کی حالت کو یہ عقیدہ بدل دیتا ہے۔

مسجد کے باہر بھی اچھوت کو اسلام بالکل مٹادیا ہے۔ ایک ہی تھالی میں سب مل کر کھانے کی بھائی بندی کو اسلام سکھا تا ہے۔

سب انسان ایک ہی اللہ سے تخلیق کئے گئے ہیں۔ وہ سب لوگ ایک ہی جوڑی سے پیدا ہو ئے ہیں، اس طرح کہنے والی یہ آیتیں اچھوت کو قبروں کو بھیج چکا ہے۔

ہر انسان ایک ہی ماں باپ کو پیدا ہوئے ہیں، اگر اس کو مان لیں تو یہ ثابت ہوجا ئے گا کہ ہر انسان بھائی بھائی ہیں، اور پیدائشی طور سے کوئی کسی سے اعلیٰ نہیں ہوسکتا۔

نسل اور ذات کے نام سے انسان جو رخنہ ڈالا ہوا ہے ، اس کواس عقیدے کو اپنانے کے ساتھ اگلے لمحے ہی مٹ جا تا ہے۔

پیدائشی طور پر ہر انسان برابر ہے۔ اخلاق ہی سے ایک دوسرے سے اعلیٰ ہوسکتا ہے۔ اسلام جو کہتا ہے وہ مساوات اوربھائی بندی کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے ان حاشیوں 11، 32، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 368کو دیکھئے!

507۔ آسمان کیا ہے؟

قرآن مجید میں آسمان کا لفظ دو معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔

اوپر میں جو کھلی فضا ہے، وہ ایک معنی ہے۔

یہ آیتیں2:21، 6:98، 8:11، 13:17، 14:23، 15:22، 16:10، 16:65، 20:53، 22:63، 23:18، 25:48، 27:60، 29:63، 30:24، 31:10، 35:27، 31:21، 43:11، 50:9 کہتی ہیں کہ آسمان سے بارش برسایا گیا ہے۔

اس آسمان کو ہم آسانی سے پا سکتے ہیں۔ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے اس آسمان سے اوپر یعنی بارش برسانے والے بادلوں کے اوپر بھی سفر کر سکتے ہیں۔

قرآن جو کہتا ہے کہ پرندے آسمان میں چکر لگا رہے ہیں، وہ اسی کھلی فضا کو ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ آسمان ٹھوس چیز نہیں ہے اور سُونا ہے۔ اسی لئے ہم اس کو ہوائی جہاز کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور آسمان کے بارے میں قرآن کہتا ہے۔ جہاں انسان اب تک نہ پہنچ پانے کی دوری میں موجود ہے۔ وہ سات درجوں میں بنایا گیا ہے۔

دو دن میں سات آسمان بنائے۔ہر آسمان میں اس کے لائق حکم نازل کیا۔ نچلے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا گیا۔ (اسکو)محفوظ کردیا۔ یہ علیم و عزیزکا انتظام ہے۔

قرآن مجید ، 41:12

نبی کریم ؐ کومعراج نامی آسمانی سفر میں لے جاتے وقت وہ ہر ایک آسمان سے گزرنے کے لئے وہاں فرشتوں کو بلا کر کھولا گیا ، اس کے بعد ہی نبی کریم ؐ اندر داخل ہوئے۔

اس طرح سات آسمان ہیں۔ اس آسمان کو سائنسدانوں نے اپنی عقل کے ذریعے ابھی چھوا تک نہیں۔ انہوں نے آفاق کی کھلی فضا کے آخری حدبھی اب تک پہنچے نہیں۔ کیا وہ ٹھوس ہے یامائع اس کے بارے میں بھی وہ اپنی رائے پیش نہیں کئے۔

کس آیت میں کونسے آسمان کے بارے میں کہا گیا ہے اس کو ہم آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں۔

آدمی کے سلسلے کی بات ہوتووہ آسمان کھلی فضا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

انسان جو نہیں جانتا ہو اس اعتقاد کے بارے میں اگرآسمان کہا گیا ہو تو وہ انسان کا پہنچ نہ ہو نے والاسات درجوں کا ٹھوس آسمان کے معنی میں استعمال کیاگیا ہوگا۔

506۔ آدمی کی تخلیق کے بارے میں اختلافی باتیں کیوں؟

ان آیتوں میں2:117، 3:47، 3:59، 16:40، 36:82، 40:68 کہا گیا ہے کہ اللہ کن کے حکم سے انسان کو پیدا کیا۔

ان آیتوں میں6:2، 7:12، 15:26، 15:28، 15:33، 17:61، 23:12، 32:7، 37:11، 38:71، 38:76، 55:14 کہا گیا ہے کہ انسان کو چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں19:67، 76:1کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے انسان کوئی چیز نہیں تھا۔

ان آیتوں میں21:30، 25:54، 32:8، 76:2، 86:6 کہا گیا ہے کہ انسان کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں22:5، 23:14، 40:67، 75:38، 96:2 کہا گیا ہے کہ انسان کو حمل کے بیضہ سے پیدا کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں3:59، 18:37، 22:5، 30:20، 35:11 کہا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔

ان آیتوں میں16:4، 18:37، 22:5، 23:13،23:14، 35:11، 36:77، 40:67، 53:45، 75:37، 76:2، 80:19 کہا گیا ہے کہ انسان منی کے قطرے سے پیدا کیا گیا ہے۔

اسلام پر تبصرہ کر نے والے سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید اس طرح بے ربط بات کیوں کہتا ہے؟

اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ وہ لوگ سمجھ لینا چاہئے کہ سب کچھ ٹھیک معنی ہی سے کہا گیا ہے۔ اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھیں۔

سویّاں کے بارے میں کہتے وقت ایسابھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کو دھان سے بنایاگیاہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کو چاول سے بنا گیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوآٹے سے بنایا گیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوچاول کے آٹے سے تیار کیا گیاہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کوپانی اور چاول کے آٹے سے تیار کیاگیا ہے۔

ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کومیری ماں کی کوشش سے بنایا گیا ہے۔

اس کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں اختلاف ہے۔ اس میں کوئی بھی چیز جھوٹ نہیں ہے۔

اسی طرح مندرجہ بالا آیتیں بھی انسان کی تخلیق کے بارے میں کہتی ہے۔

More Articles …