Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏465۔ زوجین ایک دوسرے کے لئے لباس ہیں

‏اس 2:187 آیت میں کہا گیا ہے کہ زوجین ایک دوسرے کے لئے لباس ہیں۔ اس جملے کے ذریعے ازدواجی زندگی کی بے شمار سلیقے کو اللہ نے ‏سکھائی ہے۔ 

ایک شخص کو لباس اور دوسرے کو اس لباس کے استعمال کرنے والا کہہ کر عورتوں کو عیش کی چیز کہنے کے بجائے اللہ نے اس طرح فرمایا ہے کہ ‏شوہر بیوی کے لئے اور بیوی شوہر کے لئے لباس ہیں، اس طرح دونوں کو برابر کی ذمہ داری ہے۔

دھوپ اور ٹھنڈ سے متاثر ہوئے بغیر لباس انسان کی حفاظت کر تا ہے۔ اسی طرح ایک پر آنے والی مصیبت اور تکلیفوں کی بوجھ کو دوسرا بھی ‏سنبھالے۔ یہی معنی اس آیت میں موجود ہے۔ 

انسان میں جو نقص ہیں انہیں اظہار کئے بغیرلباس چھپا لیتی ہے۔اسی طرح آبرو بھی بچاتی ہے۔ زوجین بھی ایک کے نقص کودوسرا چھپاتے ہوئے ‏آپس میں مشورہ کر کے حل کر لینا بہتر ہے۔ یہ معنی بھی اس آیت میں موجود ہے۔ 

اندرونی میل ملاپ کی باتوں کے بارے میں آپس ہی میں بات کرلینا چاہئے ۔ اس کے سوا دوسرے کسی سے ظاہرکرنا نہیں چاہئے۔ یہ رائے بھی اس ‏آیت میں موجود ہے۔ 

انسان ہوش میں آنے کے دن سے ننگا ہوئے بغیر لباس ہی میں نظر آتا ہے۔ اس طرح زوجین بھی ایک دوسرے کو لباس کی طرح ضرورتمند سمجھنا ‏چاہئے۔ 

لباس میں اگرمیل جم جائے تو اسے دھوکر پاک کر لیا جاتا ہے۔ اگر وہ پھٹ بھی جائے تواسے سی کراستعمال کیا کر تے ہیں۔ اسی طرح ایک میں اگر ‏نقص دکھائی دے تو اس کو دانشمندی سے جھٹلاتے ہوئے ازدواجی زندگی میں منسلک رہنا چاہئے۔ 

اوربھی کئی رائے اس میں موجود ہے۔ اس کو محسوس کر تے ہوئے زوجین اگر عمل کریں تواس میں کوئی شک نہیں کہ ازدواجی زندگی خوش حال ‏سے بسر ہوگی۔ 

 ‏464۔ کیا اب بھی ابابیل کا پرندہ آئے گا؟

‏کعبہ کو مسمار کر نے کے لئے آئے ہوئے دشمنوں کو اللہ نے اپنی قدرت سے انہیں مٹادیااور کعبہ کو بچالیا۔ اس کو اللہ اس آیت 105:2میں فرمایا ‏ہے۔ 

یہ صرف کعبہ کے لئے اللہ کا مخصوص حفاظت ہے۔ دنیا میں کسی بھی مسجد کو کوئی بھی توڑنے کے لئے آئے تو اس آیت کے ذریعے ایسا نہ سمجھ لینا ‏چاہئے کہ اللہ فوراًابابیل کے پرندوں کو بھیج کر حفاظت کر ے گا۔ 

قرآن مجید اور احادیث کی بنیاد پر کعبہ اور دنیا کی مسجدیں برابر نہیں ہوسکتیں۔ 

کعبہ اور اسکے اطراف کی زمین کواللہ نے امن کی جگہ قرار دیا ہے۔ 

یہ 3:97، 14:35، 28:57، 29:67 آیتیں کہتی ہیں کہ کعبہ کو کوئی بھی مسمار نہیں کر سکتا۔ اس کو کوئی غیربھی قبضہ نہیں کر سکتا۔

نبی کریم ؐ نے پیشنگوئی کی ہے کہ قیامت کے دن کے وقت پیرسکڑا ہوااک گروہ کعبے کو مٹائے گا۔

دیکھئے بخاری: 1591، 1596

اس سے پہلے کوئی بھی کعبے کو مٹا نہیں سکتا۔

اس طرح کی ضمانت رہنے کی وجہ ہی سے ابابیل پرندوں کو بھیج کر کعبے کو اللہ نے حفاظت کیا۔اگر کوئی کل کے دن کعبے کو مٹانے کی کوشش کی تو جو ‏ہاتھی کے فوج کو ہوا تھا وہی حال انہیں بھی پہنچیگی۔ 

دوسری کسی مسجد کو ایسی ایک ضمانت اللہ نے عطا نہیں کی۔ بلکہ قرآن کہتا ہے کہ دوسری مسجدیں توڑا جا سکتا ہے۔ 

وہ اپنے گھروں سے نا حق نکالے گئے وہ اس لئے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارارب ا اللہ ہی ہے۔ اگر انسانوں میں سے ایک دوسرے کواللہ روکا نہ ہوتا تو ‏خانقاہیں، گرجا گھریں، عبادت خانے اور اللہ کا نام کثرت سے لئے جانے والی مسجدیں ڈھا دئے گئے ہوں گے۔ جو اللہ کی مدد کر تا ہے اس کو اللہ بھی ‏مدد کرتا ہے۔ اللہ قدرت والا،زبردست ہے۔ 

قرآن مجید: 22:40 

دشمنوں سے مسجدیں اگر ڈھا دئے جاتے تواسے روکنے کی ذمہ داری لوگوں ہی پر سونپا گیا ہے۔ ابابیل کے پرندوں کا انتظار نہیں کر نا چاہئے۔ اس ‏طرح کی کوئی ضمانت کسی مسجد کو نہیں ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 170، 433، 473دیکھیں!

‏463۔ رزق کے لئے اللہ ذمہ دارہے توبھوکے مرنا کیسا؟

‏ان 6:14، 6:151، 10:31، 11:6، 17:31، 22:58، 26:79، 27:64، 29:60، 30:40، 34:24، 35:3، ‏‏51:58، 62:11، 65:3، 67:21، 106:4 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ سب کے رزق کے لئے اللہ ہی ذمہ دارہے۔ 

اگرتمام جانداروں کو اللہ ہی رزق دیتا ہے تو بھوکے مرتے کیوں ہے؟ بعض لوگ نکتہ چینی کر تے ہیں کہ کیا اللہ نے رزق کی ذمہ داری نہیں لی؟

اللہ نے رزق کے لئے ذمہ داری لینے کی وجہ سے کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ کوئی شخص کبھی مرنا نہیں چاہئے؟ اللہ ہی رزق کا ذمہ دار ہے توجس شخص ‏کوجب تک زندہ رہنے کے لئے اللہ نے فیصلہ کردیا تھاتو اس وقت تک اللہ ذمہ دار ہے۔ یہی اس کا مطلب ہے ۔ 

مزید یہ کہ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا ذمہ دار ہو نہیں سکتا۔

صرف رزق ہی نہیں بلکہ ہر سعادت کے لئے بھی اللہ ہی ذمہ دار ہے۔ اس کے باوجود ہر چیز مقرر شدہ میعاد تک ہی ہے، قائم نہیں ہے۔ اس کا ‏مطلب ہے کہ جتنے دن تک اللہ نے ذمہ لیا ہے اس دن تک کے لئے وہ رزق پہنچاتے رہے گا۔ 

اللہ نے خود واضح کر دیا کہ قرآن مجید کے مختلف آیتوں میں انسان کو جو کچھ دیا جائے گا وہ سب مقررہ مدت کے لئے ہے۔ 

اس کوان 6:2، 7:34، 10:49، 11:3، 16:61، 71:4 آیتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

ایک شخص کو موت کس وقت واقع ہو گی ، اس کو اللہ نے مقرر کر رکھا ہے۔ اس وقت تک اللہ نے رزق کی ذمہ داری لی ہے۔ مقررہ وقت آنے کے ‏ساتھ وہاں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ 

یہ صرف رزق کے لئے ہی نہیں ہے، سب کے لئے یہ عام قانون ہے۔ ایک انسان کی صحتمندی کے لئے اللہ ہی ذمہ دار ہے۔ اگر کہا جائے کہ ایک ‏انسان کی حفاظت کے لئے بھی اللہ ہی ذمہ دار ہے تو عقلمند کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ کسی کو بیماری نہیں آئے گی اور کوئی بھی نہیں مرے گا۔ 

 ‏462۔ کیا کئی سالوں تک سو سکتے ہیں؟

‏یہ آیتیں 18:11 سے 18:18 تک ایک عجیب کیفیت سناتی ہے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے سے پہلے بعض نوجوان توحید کے عقیدے پر ثابت قدم رہے تھے۔ اس عقیدے کے منکر ان کی قوم نے ان نوجوانوں کو مختلف ‏انداز کی تکلیفیں دے رہے تھے۔ وہ اپنی قوم سے ڈر کر ایک غار میں جا کر چھپ گئے۔ چھپے ہوئے ان نوجوانوں کو اللہ نے کئی سالوں تک نیند میں مبتلا ‏کر دیا۔ اس زمانے کی قوم مٹ جا نے کے بعد اللہ نے انہیں جگایا۔ یہی وہ واقعہ ہے۔

کئی سالوں تک کیا انسان سو سکتا ہے، ایسا شک غیر مسلموں کو پیدا ہو سکتا ہے۔ مگراللہ تو تمام قدرت والا ہے، اس لئے مسلمانوں کو اس میں کوئی شک ‏پیدا نہیں ہوسکتا۔ 

کوئی بھی عجیب واقعہ ہو، وہ صحیح ہے، اس پر یقین رکھنے کے لئے اللہ اسی میں دلیل بھی رکھ دیتا ہے۔ 

اس واقعے میں بھی اس کے لئے دلائل موجود ہیں۔ 

انہیں کئی سالوں تک نیند کی حالت میں رکھنے کے بارے میں کہتے وقت ہم نے انہیں سلائے رکھا ،کہنے کے بجائے اللہ فرماتا ہے کہ ان کے کانوں ‏میں پردہ ڈال دیا۔ 

اب نیند کے بارے میں کہنے کے لئے اس طرح کہنے کا طریقہ استعمال کیا جا تا ہے ۔ لیکن قرآن مجید کے پہلے نیند کے لئے ایسا کہنے کا طریقہ نہیں تھا کہ ‏کانوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ 

التحریر والتنویر نامی کتاب میں اس کے مصنف کہتے ہیں کہ بعد کے زمانے کے ادب میں یہ لفظ نیند کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، لیکن قرآن مجید کے ‏پہلے ایسا لفظ استعمال میں نہیں تھا۔

جو رواج میں نہیں تھا اس اصطلاح کو اللہ نے کیوں استعمال کیا؟

انسان جب نیند میں ہو تا ہے تو آنکھوں کی حرکت رک جاتی ہے۔ لیکن چھوٹی سی آواز سے بھی وہ جاگ اٹھتا ہے۔ 

بجلی کی گرج اور جانوروں کی آواز کی وجہ سے وہ لوگ کئی سالوں تک سو نہیں سکتے تھے۔کئی سالوں تک اگر انہیں سونا ہوگا تو ان کے کانوں میں چھوٹی ‏سی آواز یا گرج دار آواز سنائی دئے بغیر روکنا چاہئے۔ اسی وقت وہ کئی سالوں تک بغیر جا گے سو سکتے ہیں۔ 

اسی کوقرآن نے جو رواج میں نہیں ہے اس لفظ کو استعمال کر کے کہتا ہے کہ کانوں میں پردہ ڈال دیا۔

مزید یہ کہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ان سونے والوں کو دیکھوگے تو جاگنے والے کی طرح دکھائی دے گااور انہیں دیکھوگے تو تم بھاگ کھڑے ‏ہوجاؤ گے اور خوف کھاؤگے۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے سورہے تھے۔ کیونکہ بعض لوگ آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے بھی سوتے ہیں۔ لیکن ‏انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہے گا کہ وہ جاگ رہے ہیں۔اسے دیکھ کر کوئی ڈرے گا بھی نہیں۔ 

بلکہ ایسا ہی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ جاگنے والے کی طرح آنکھوں کو جھپکتے ہو ئے سو رہے ہیں۔ 

پھر بھی دوسروں کو نہیں، بلکہ انہیں آنکھوں کو جھپکتے ہوئے سونے کی خصوصیت کیوں دی گئی؟ 

ایک انسان لمبے عرصے تک آنکھوں کو بند کر تے رہیں تو مناظر کو دما غ کی طرف لے جا نے والی رگیں(‏optical nerves‏) سکڑنے لگ ‏جائے گی اور آخر میں بے حرکت ہوجائے گی۔ اس کی وجہ سے ان کی آنکھیں اندھی ہوجائے گی۔پھر جب وہ آنکھیں کھولیں تو کچھ دیکھ نہیں سکتے۔ 

آنکھ کی سفیدی کو خون کی نالی نہیں ہے۔ اس لئے آنسوؤں کی غدودسے وقت بہ وقت اس کوگیلاکرکے حفاظت کر نا چاہئے۔ اس لئے آنکھوں کو ‏جب بہت لمبے عرصہ تک کھلا ہی رکھا جائے تو آنکھ کی سفیدی خشک ہو جا نے کا اندیشہ ہے۔ دن بہ دن کارنیو ژراسس(‏Corneo-‎xerosis‏) کی اثر سے اندھاپن پیدا ہو جا ئیگا۔ 

مختصراًکوئی شخص سالوں سے آنکھوں کو بند ہی رکھیں یا کھلا ہی رکھیں تو ان کی نگاہ اندھی ہوجائے گی، یہ جدیدسائنسی انکشاف ہے۔ اسی جدید سائنسی ‏حقیقت کو ان آیتوں میں کہا گیا ہے۔ 

کئی سالوں تک بیداری کی حالت میں اگر پڑے رہیں تو زمین سے لگا ہوا جسمانی اعضا گرم ہو کر زخم کی وجہ سے سڑ جائے گا۔ یا وہی انہیں بیدار کر ‏دے گا۔ اور کئی سالوں تک سونے نہیں دیگا۔ 

اسی لئے انہیں دائیں اور بائیں طرف پلٹا کر اس انجام سے بھی اللہ نے انہیں روک لیا۔ 

یہ اللہ کا کلام ہے، اس لئے کئی سالوں تک سونے سے جو انجام برپا ہو گا اور جو انجام برپا ہو نے کو سائنسی دنیا دلیل کے ساتھ ثابت کر تی ہے ، اللہ فرماتا ‏ہے کہ ان تمام انجاموں کو دور کرکے انہیں سلادیا ۔ 

ایسے انجام رہنے کے باوجود اللہ ہی انہیں سلا سکتاہے۔ اس عجیب واقعے پر بھروسہ نہ کر نے والوں کے لئے اپنی قدرت کو ظاہر کر کے ہر چیز کوجاننے ‏والے اللہ کہتا ہے جیسا کہ وہ کہا ہی نہیں۔

‏461۔کیا صحیفہ اور کتاب ایک ہے؟

کلام اللہ کہنے کے لئے قرآن مجید میں صحیفہ اور کتاب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دونوں لفظ کلام اللہ کی طرف اشارہ کر نے والی لفظ رہنے کے باوجود ‏بعض علماء دونوں کے درمیان فرق دکھاتے ہیں۔ 

یعنی ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ جو بڑی جسامت میں اتارا ہے وہ کتاب کہلائے گا۔چھوٹی سی پیمانے میں ہو تو وہ صحیفہ کہلائیگا۔

اس طرح ترمیم کر نے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ان کا دعویٰ غلط ہے۔ اس کے لئے یہ 80:13، 98:2 آیتیں دلیل ہیں۔

نبی کریم ؐ پر جو قرآن نازل ہو اتھاوہ بڑی جسامت کی ہے۔ اس کو کئی آیتوں میں کتاب کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود ان دونوں آیتوں 80:13، ‏‏98:2 میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ صحیفے پڑھیں گے۔ یعنی بڑی سائز کی کتاب رہنے کے باوجود اس کو بھی صحیفہ کہا جا سکتا ہے۔ 

‏460۔ کیا ہجری سال ہے؟

‏ان 2:218، 3:195، 4:89، 4:97، 4:100،8:72، 8:74، 9:20، 9:100، 9:117، 16:41، 16:110، ‏‏22:58، 24:22، 29:26، 33:733:50، 59:8، 59:9، 60:10 آیتوں میں ہجرت کرنے کے متعلق کہا گیا ہے۔ 

ہجرت کا مطلب ہے ، نفرت کر نا، جھٹلانا، ہٹ جاناوغیرہ۔ اسلامی اصطلاح میں ہجرت کا مطلب ایک خصوصی قربانی کی طرف اشارہ ہے۔ 

اسلامی طریقے سے اگر جینے کی حالت میسر نہ ہو تو اپنے ایمان کو بچانے کے لئے خاص وطن ، مال و دولت، رشتہ داری اور دوست و احباب تمام کو ‏چھوڑ کر اسلام کی پیروی کر تے ہوئے جینے کے مناسب مقام کی طرف جا نے ہی کو ہجرت کہا جا تا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے مکہ سے مدینہ جانے کے اس سال سے ہجری سال شروع ہو تا ہے۔ 

ہجری سال اسلامی سال کہے جانے کے باوجود قرآن مجید میں یا حدیث میں اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے ایساکوئی حکم نافذ نہیں کیاکہ میں نے جو ہجرت کی تھی اس سال سے حساب کر لو۔ 

نبی کریم ؐ جس زمانے میں جی رہے تھے ،اصحاب رسول نے ہاتھی کے سال ہی کو استعمال کر رہے تھے۔ 

ابرہا نامی بادشاہ کعبہ کو بربا دکر نے کے لئے ہاتھی کی فوج کے ساتھ جب آیا تو وہ اور اس کے ہاتھی کی فوج ہی برباد ہوئی۔اسی سال کو عربوں نے ہاتھی ‏کے سال کے نام سے استعمال کر تے آرہے تھے۔ ہاتھی کے سال کے پہلے اورہاتھی کے سال کے بعد کے حساب سے واقعات کو عربوں نے درج کی ‏ہے۔ 

ابن عباسؓ نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے ہاتھی کے سال میں پیدا ہوئے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے میں جو رائج تھااس سال ہی کو اگر بعد میں بھی لگاتار استعمال کئے ہو تے تو وہی ٹھیک رہا ہوگا۔ 

یا نبی کریم ؐؐ نبی بن کر وحی آنے شروع ہو نے کے دن قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ہزار مہینے سے بہتر ہے، اور اسی دن اسلام لوگوں تک پہنچنے کی وجہ سے ‏اسی کو اسلام کے سال کا ابتدارکھا ہوتاتو مناسب تھا۔

عمرؓ کے زمانے میں مشورہ کیا گیا کہ اسلام کا سال کس کو رکھا جائے ، تفتیش کرنے کے بعد ہجرت ہی کو پہلا سال رکھنے کے لئے فیصلہ کیا گیا۔

انتظامی سہولت کے واسطے جو انتظام کیاگیا اس بنیاد پر اگر اسے کوئی اختیار کر لے توکچھ حرج نہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے ساتھ اسلام مکمل ہو جانے کے بعد نبی کریمؐ کے زمانے کے بعد جو انتظام کیا جاتا ہے اس کودینی رسم کی طرح قرار دینا بالکل غلط ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد کوئی وحی نہیں ہے۔ وحی کی بنیاد پر جو نہیں ہے ،کوئی بھی بات دین نہیں ہوسکتی۔ اس لئے یہ دعویٰ کر نا کہ مسلمان ہجری ‏سال ہی کو استعمال کریں، نادانی ہے۔ ‏

‏459۔ کیا عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں؟ 

یہ 3:49، 3:59، 4:171، 4:172، 5:17، 5:72، 5:73، 5:116، 9:31، 19:30، 43:59، 43:64 آیتیں کہتی ہیں ‏کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول ہیں۔عیسائیاں عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا اور رب جو مانتے ہیں ، اس کو قرآن نہیں مانتا۔ 

عیسیٰ نبی اپنے آپ کو کبھی معبودنہیں کہا ۔ انہوں نے یہی تعلیم دی تھی کہ انہیں پیدا کر نے والے اللہ ہی کی عبادت کریں۔ عیسیٰ کے بعد آنے والے ‏ہی عیسیٰ کوخدا کا بیٹا کہہ کر عیسیٰ کے عقیدے کے خلاف چلنے لگے۔ یہی اسلام کا اعتقاد ہے۔

اس رائے کو بالکل مضبوطی سے کہنے والی آیتیں آج بھی بائبل میں موجود ہیں۔ 

میرے حضورتوغیر معبودوں کو نہ ماننا۔ ؑ ؑ 

‏2خروج 20:3

یہ سب کچھ تجھ کو دکھا یا گیا تا کہ تو جانے کہ خدا وند ہی خدا ہے اور اسکے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں

‏5استثنا: 4:35

سن ائے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خداسے محبت ‏رکھ۔ 5استثنا: 6:4-6

پہلی باتوں لو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں ۔ میں خدا ہوں اور کوئی مجھ سا نہیں۔ 23ایسعیاہ: 46:9

اورہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجاہے جانیں۔جو کام تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اسکو تما م کر ‏کے میں نے زمیں پرتیرا جلال ظاہر کیا۔

‏43یوحنا: 17:3,4

ائے استاد توریت میں کون سا حکم بڑا ہے؟ اس نے اس سے کہا کہ خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی سارے عقل سے ‏محبت رکھ۔بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ متی: 22:36-38

اسنے اس سے کہا کہ تو کیا چھاہتی ہے ؟ اسنے اس سے کہا فرما کہ یہ میرے دونوں بیٹے تیری بادشاہی میں ایک تیرے دہنی اور ایک تیرے بائیں طرف ‏بیٹھیں۔

‏40متی: 20:21

اس کو عیسیٰ نے کیا جواب دیا؟ یہ نہیں کہا کہ میں ویسے ہی عطا کروں گا۔

انہوں نے جو جواب دیا، وہ یہی ہے:

اسنے ان سے کہا میرا پیالا تو پیوگے لیکن اپنے داہنے بائیں کس کو بٹھا نا میرا کام نہیں مگر جن کے لئے میرے باپ کی طرف سے تیار کیا گیا ان ہی کے ‏لئے ہے۔

‏40متی: 20:23

عیسیٰ نے ہر وقت اپنے کو ایک بندہ قرار کیا ہے۔ 

دیکھئے، متی: 8:20، 9:6، 9:8، 16:13، 17:22، 17:12، 17:9، 19:28، 20:18، 20:28، 24:27، 26:24، ‏‏26:45

عیسیٰ اللہ کا بیٹا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک انسان کا بیٹاہی ہے۔ اس کو مندرجہ بالا بائبل کی آیتیں وضاحت کر تی ہیں۔

چند مقام میں عیسیٰ نے اللہ کا بیٹا کہا ہے۔ اس کام مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق اتباع کر نے والے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اللہ کو ‏پیدا ہونے والے۔ کیونکہ صرف عیسیٰ ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی خدا کے بیٹوں کی موجودگی بائبل میں کہا گیا ہے۔ ان آیتوں کو عیسائی ایسے ہی سمجھتے ‏ہیں۔ 

خروج کی آیت 4:22,23اور یرمیاہ کی آیت 31:9اسرائیل کو اللہ کا بیٹا کہاہے۔

زبور کی آیت 2:7اور تواریخ 1کی آیت 17:13 داؤد کو اللہ کا بیٹا کہاہے۔ 

تواریخ 1کی آیت 22:10سلیمان کو اللہ کا بیٹا کہا ہے۔ 

یریمیاہ کی آیت31:9 افرآئیم کو اللہ کا بیٹا کہا ہے، سموئیل 2کی آیت 7:14سموئیل کو اللہ کا بیٹا کہا ہے۔ 

ہر انسان کو بائبل اللہ کا بیٹا ہی کہا ہے۔ دیکھئے: استثنا 14:1، زبور68:5، متی 6:14,15، 5:9، 5:45، 7:11، 23:9، یوحنا 1:12، ‏لوقا 6:35۔ 

اس لئے عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہنا بائبل کی تعلیم ہی کے خلاف ہے۔

دوسرے انسانوں کی طرح عیسیٰ باپ کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے، اسی لئے وہ اللہ ہی کو پیدا ہوئے، چنانچہ وہ بھی خدا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی بائبل ‏کے خلاف ہے۔ 

باپ کے بغیر پیدا ہوئے کا جملہ ہی اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ عیسیٰ اللہ نہیں ہیں۔وہ پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ انسان ہی ہیں۔باپ کے بغیر پیدا ‏ہوئے کے قول میں ’باپ کے بغیر‘ کے لفظ کو ذرا زور دے کر کہو تو عیسائیوں کو معلوم ہو جا ئے گا کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے نہیں ہیں۔ ’ بغیر ماں کے ‏پیدانہیں ہوئے‘ یہی مطلب ’باپ کے بغیر‘ کا لفظ ادا کرتا ہے۔ بائبل واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ ایک ماں کو پیدا ہوئے ۔

بائبل مزید کہتا ہے کہ باپ کے بغیر صرف عیسیٰ ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی موجود تھے۔ 

لوقاکی آیت 3:38کہتی ہے کہ آدم ماں اور باپ کے بغیر ہی پیدا ہوئے۔ 

پیدایش کی آیت 2:21,22کہتی ہے کہ حوا بھی اسی طرح ماں اورباپ کے بغیر ہی پیدا ہوئی تھیں۔ 

العبرانیینکی آیت 7:3 کہتی ہے کہ ملک صدق ماں اور باپ کے بنا تخلیق پایا ہے۔ 

اسی طرح عیسیٰ چند معجزے دکھا نے سے وہ اللہ کے بیٹے نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ان سے زیادہ معجزہ دکھانے والے بھی بائبل میں موجود ہیں۔ 

سلاطین 1کی آیت 17:22میں کہا گیا ہے کہ ایلیا نے مرے ہوئے کو زندہ کیا۔ سلاطین2 کی آیتیں 4:34، 13:21کہتی ہیں کہ ا یلیشع نے ‏زندہ کیا تھا۔ 

اور بھی کئی معجزے واقع ہوئے ہیں۔ اس کو سلاطین1 کی آیتیں 17:13-16، 17:6 اورسلاطین2 کی آیتیں 4:42-44 ، 4:2-6، ‏‏5:10، 5:14، 6:17، 6:20، 6:6 اور خروج کی آیت 14:22کہتی ہیں۔ 

بعض موقعوں پر اللہ کی اجازت سے عیسیٰ نے بعض معجزے دکھائی ہیں۔ پھر بھی وہ پوری طرح سے انسان ہی رہے۔ انسانوں کی کمزوریاں بھوک، ‏پیاس، لاعلمی، دھوکہ کھانا، بے معنی غصہ وغیرہ سے وہ مامور ہی تھے۔ اس کو بائبل پڑھنے والے سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

معجزے دکھانے سے وہ اللہ کا بیٹا نہیں ہو سکتا، اس کو عیسیٰ ہی نے کہا ہے۔ 

اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے ائے خداوند ! ائے خدا وند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بد روحوں کو نہیں نکا لا ‏اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے۔

‏40متی: 7:22,23

کیوں کہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کڑھے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھاءں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ ‏کرلیں۔

‏40متی: 24:24

چنانچہ عیسیٰ نے جو تبلیغ کی تھی اور جو عقیدے کی پیروی کی تھی وہ صرف یہی تھا کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ 

مذہبی پیشواؤں نے اپنے کو اللہ کے برابر عزت حاصل کر نے کے لئے اللہ کا بیٹا کہہ کر ، پھر مقدس روح کہہ کر ، تین معبودوں کا عقیدہ بنا لیا۔ ہم پر ‏مقدس روح نازل ہوتی ہے، ہم بھی معبود ہی ہیں کہہ کر اس عقیدے کو انہوں نے عیسیٰ کے بعد ایجاد کرلیا۔ 

کیا عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے؟ اس کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 456دیکھیں!

کیا عیسیٰ نبی وفات پاگئے یاآسمان پر اٹھا لئے گئے؟ کیا وہ آخری زمانے میں نازل ہو کر وفات پائیں گے؟ اس کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ ‏نمبر93، 101، 133، 134، 151، 278، 342 وغیرہ دیکھیں!

‏458۔ زیبائش کا مطلب کیا ہے؟

‏ان 24:31، 33:59 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اپنی زینت میں جو ظاہر طور پر دکھائی دے اس کے سوا عورت دوسرا کچھ ظاہر نہ کرے۔

ہمیں فطرتاً جو عطا ہوئی ہے اس خوبصورتی کو زینت نہیں کہتے۔ بلکہ باہری اشیاء سے جو آراستہ کیا جا تا ہے اسی کو زینت کہا جاتا ہے۔ 

ہونٹوں پر لگانے والی لالی، زیورات کی سجاوٹ ، میک اپ کے سامانوں کو استعمال کر نا اور کپڑوں کے ذریعے خوبصورتی کو بڑھا لینا وغیرہ ہی زینت ‏کہلاتا ہے۔ 

اس آیت میں جنہیں کہا گیا ہے ان کے سوا دوسروں کے سامنے سج دھج کر عورتیں نمائش کر نا نہیں چاہئے، یہی اس کا مطلب ہے۔ 

بعض لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ خوبصورتی کو ظاہر نہ کرنا ہی اس کا مطلب ہے۔ خوبصورتی میں چہرہ ہی مقدم ہے، اس لئے مندرجہ بالا رشتہ میں ‏تعلق نہ رکھنے والے مردوں کے سامنے چہرہ بھی چھپانا چاہئے۔ اور عورتوں کے ہاتھ اور پاؤں بھی حسن میں جمع ہے ، اس لئے ہاتھوں کو اورپاؤں ‏کوبھی چھپانا ضروری ہے۔ 

ان کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔ 

قرآن میں کئی مقامات پر زینت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس جگہ پر غورسے دیکھو توکسی شک کے بغیر ہم جان سکتے ہیں کہ زینت کا لفظ آراستگی ہی کی ‏طرف اشارہ ہے، جسمانی عضو کی طرف اشارہ نہیں ہے۔

آسمان میں ہم ستاروں کو سجایا ہے، دیکھنے والوں کے لئے اسے زینت بنایا۔ (قرآن مجید: 15:16)

پہلی آسمان کو ہم نے ستاروں کی زینت سے سجایا ہے۔ 

قرآن مجید: 37:6

دو دن میں سات آسمان بنائے۔ ہر آسمان میں اس کا حکم بھیج دیا۔ نچلے آسمان کو چراغوں سے زینت دی۔ اور اس کو محفوظ کردیا۔ یہ عزیز و علیم کا انتظام ‏ہے۔ 

قرآن مجید: 41:12

ان کے اوپر جو آسمان ہے اسے ہم نے کس طرح زینت دی ہے، کیا انہوں نے غور نہیں کیا؟ اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔

قرآن مجید : 50:6

پہلے آسمان کو چراغوں سے زینت دی۔ ان کو شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ بنایا۔ اور ان کے لئے دوزخ تیار رکھا ہے۔ 

قرآن مجید: 67:5

ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ستاروں کو آسمان کے لئے زینت بنایا گیا ہے۔ 

ستارے آسمان کا ایک رکن نہیں ہیں۔ وہ آسمان کا ایک رکن نہ ہو نے کے باوجودستارے آسمان کوخوبصورتی دیتی ہیں۔ اس کو اللہ نے زینت کہا ‏ہے۔ 

یہ آزمانے کے لئے کہ ان میں اچھے عمل والے کون ہیں ہم نے زمین کی چیزوں کو زینت عطا کی ہے۔ 

قرآن مجید: 18:7

اللہ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ زمین پر جو نباتات ہیں وہ زمین کی زینت ہیں۔ 

اے اولاد آدم! ہرنماز کی جگہ پر تم اپنی زینت کرلو۔ کھاؤ، پیو۔ فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کر نے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (قرآن مجید: ‏‏7:31)

نماز کی جگہ پر زینت کر لینا جسمانی خوبصورتی کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تا توجسمانی خوبصورتی نہ رکھنے والے مسجد کو آنا جرم ہوجا ئے گا۔ ‏لیکن اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جو کپڑا پہنا جائے ، وہ پاکیزہ طور پر پہننا چاہئے۔ 

آیت نمبر 24:31 میں جو زینت کا لفظ جگہ پایا ہے اس کے معنی کو تشریح کر نے کے لئے ہی ان آیتوں کو پیش کیا گیا ہے۔ 

زیوروں سے آراستہ ہو تے ہوئے، ہونٹوں پر لالی لگا کر ، میک اپ کر کے غیر مردوں کے سامنے نظر نہ آنا چاہئے۔مندرجہ بالا آیت میں جن ‏مردوں کے سامنے آنا جائز قرار دیا گیا ہے ان کے سوا دوسرے مردوں کے سامنے بغیر کسی زینت کے قدرتی شکل و صورت ہی میں رہنا چاہئے۔ یہی ‏اس آیت کا مطلب ہے۔ 

اس آیت میںیہ نہیں کہا گیا کہ چہرہ اور ہاتھوں کو چھپانا چاہئے، اور یہ بھی نہیں کہا گیاکہ چھپانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔جسمانی عضو کے بارے ‏میں اس آیت میں کہا نہیں گیا۔

زینت میں باہر جو دکھائی دیتا ہے اس کے سوا دوسرا کچھ ظاہر نہ کریں۔اس میں باہر جو دکھائی دیتا ہے وہ کیا ہے؟

ہم نے جوپہلے ہی کہہ چکے ، اس کے مطابق زینت کا مطلب ہے زیور پہننا، غازہ لگانا، ہونٹوں پر لالی لگاناوغیرہ کے ساتھ وہ کپڑوں کو بھی کہتا ہے۔ ‏جسم کو چھپانے کے لئے پہننے والے کپڑے بھی زینت ہی ہے۔ اگر عام طور سے کہہ دیا جائے کہ زینت کو ظاہر نہ کروتواس کا مطلب ہو جا ئے گا کپڑا ‏پہنے بغیر رہو۔ 

دوسری زینت وغیرہ کو چھپا سکتے ہیںیا اجتناب کر سکتے ہیں۔ لیکن کپڑے کی زینت کوچھپا بھی نہیں سکتے اوراس سے اجتناب بھی کر نہیں سکتے۔ ‏چھپانے کے لئے لباس کے اوپرایک اور لباس بھی پہنیں وہ اوپر کا لباس بھی زینت ہی کہلائے گا۔ 

کچھ بھی کرووہ ظاہر ہو کر ہی رہے گا، لباس ویساہی ایک زینت ہے۔ اس لئے باہر ظاہرہو کر ہی رہنے والی کپڑے کی زینت کے سوا دوسری کسی زینت کو ‏غیروں کے سامنے نہ دکھائیں۔اس کو واضح کر نے لئے ہی ’’باہر دکھائی دینے کے سوا‘‘کا اصطلاح استعمال کیا گیا ہے۔ 

زینت کے لفظ کا براہ راست معنی کے مطابق اور قرآن مجید میں دوسری جگہوں پر اس لفظ کو استعمال کئے جانے کے مطابق ہماری یہ تفصیل ٹھیک ‏معلوم ہو تا ہے۔ 

کیا عورتیں چہرے کو اور ہاتھوں کو چھپانا ضروری ہے، یانہیں؟ اس کے لئے دوسرے دلیل ہی پیش کر نا چاہئے۔ اوپر کی اس آیت کو دلیل بتانا نہیں ‏چاہئے۔

یہی بات ٹھیک ہے کہ عورتیں چہرے اور ہاتھوں کوچھپانا نہیں۔ اس کے متعلق حاشیہ نمبر 472 میں مناسب دلیلوں کے ساتھ واضح کیا ہے۔

عورتیں زینت کو کیوں چھپائیں،چہرے اور ہاتھوں کے سوا دیگر حصوں کو کیوں چھپانا چاہئے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 300 دیکھئے!

More Articles …