Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

40۔قبلہ کے متعلق دو مختلف تبصرے

نبی کریم ؐنے مدینہ آنے کے ساتھ یروشلم میں واقع بیت المقدس کی عبادت گاہ کو رخ کر تے ہوئے نماز پڑھی۔ وہ یہودیوں کا قبلہ تھا۔ 

اس کو دو گرہوں نے دو طریقے سے تبصرہ کئے۔ 

مکہ میں رہنے والوں نے سوال کیا کہ یہ توکہہ رہے ہیں کہ ابراھیم نبی کے دین کی پیروی کر تے ہیں۔ لیکن ابراھیم نبی کے قبلہ کو کیوں چھوڑ دیا۔ کیونکہ ابراھیم نبی کا قبلہ کعبہ تھا۔ 

یہودیوں نے تنقید کی کہ یہ توہمارے یہود کے دین کو غلط کہہ رہے ہیں، پر ہمارا قبلہ ان کو اچھا لگتا ہے!

کعبہ کی طرف رخ کر نے کاحکم دیا جائے تو دونوں گروہ تنقید نہیں کر سکیں گے۔ نبی کریم ؐ جن کے دین میں تھے انہیں کے قبلہ کو رخ کریں ہی تو مناسب ہوگا۔ انصاف پسند لوگ اس کو مان لیں گے۔

لیکن بغیر کسی وجہ کے تنقید کر نے والے کی تنقید کو یہ روک نہیں سکیگی۔ اسی لئے آیت نمبر2:150 میں کہا گیا کہ بے انصافوں کے سوا دوسرا کوئی تنقید نہ کریں ، اس لئے وہ تبدیل کیا گیا۔ 

-39ّراہ نبی کی ضرورت کو احساس دلانے والی قبلہ کی تبدیلی

نبی کریم ؐ نے ابتدائی زمانے میں نماز کے وقت ایک قبلہ کو یعنی سمت کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔پھر اس سمت سے بدل کر دوسرے قبلہ کی طرف منہ کر نے کے لئے حکم ہوا۔ اس کے بارے میں اللہ نے آیت نمبر 2:142-145فرمایا ہے۔

لگ بھگ سترہ مہینوں تک نبی کریم ؐنے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی۔ پھراس کو بدلواکر کعبہ کی طرف منہ کرنے کے لئے حکم نازل ہوا۔اسی کو یہ آیتیں کہتی ہیں۔ 

یہ آیتیں براہ راست یہی اطلاع دیتی ہیں۔

جس طرح قرآن مجیداسلام کی بنیادی دلیل ہے اسی طرح نبی کریم ؐ کی وضاحت بھی اسلام کی بنیادی دلیل ہے۔ اس عقیدے کی تشریح بھی اس خبر میں موجود ہے۔ وہ کیسے، آئیے دیکھیں!

ان تین آیتوں میں پہلی آیت (2:142) کواٹھالیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ ’’انسانوں میں جو بے وقوف لو گ ہیں وہ کہیں گے کہ پہلے ہی سے موجود ان کے قبلہ کو چھوڑکر مسلمان کیوں پھر گئے؟ 

اس آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ مسلمان پہلے ایک قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کر تے تھے، اب اس قبلہ کو چھوڑ کر دوسرے قبلہ کی طرف بدل گئے، اس طرح بدلی ہونے کو اس وقت کے جاہل لوگ تنقید کر نے لگے۔

اس آیت میں جو کہا گیا ہے اس کو دل میں رکھتے ہوئے اب آئیے آیت نمبر 2:144 دیکھیں!

(اے محمد!) تمہارا چہرہ ہر وقت آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے تمہارے چاہت کے قبلہ کی طرف ہم تمہیں پھیر دیتے ہیں۔ (2:144)

نبی کریم ؐ کی خواہش اور تمنا تھی کہ مسلمان پہلے جس قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اس قبلہ کو اللہ بدل دے۔اسی وجہ سے قبلہ کو بدل دینے والے حکم کی انتظار کر تے ہوئے انہوں نے بار بار آسمان کی طرف دیکھا کر تے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم ؐ نے جس قبلہ کو چاہا اسی قبلہ کی طرف منہ کر نے کے لئے اللہ نے حکم نازل کیا۔ یہ تفصیل اس آیت سے معلوم ہو تا ہے۔ 

مسلمان پہلے ایک قبلہ کی طرف نماز ادا کئے، اور اب دوسرے قبلہ کی طرف بدل گئے ، یہ دونوں عمل اللہ کے حکم کے مطابق ہی واقع ہوے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ 

قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیت نمبر 144 میں موجود ہے۔لیکن پہلے جو قبلہ کی طرف مسلمانوں نے نماز ادا کی اس کا کوئی حکم قرآن میں نہیں ہے۔ 

صرف اس خبر کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ایک قبلہ کی طرف مسلمانوں نے منہ کیا کرتے تھے۔

پہلے کا جو قبلہ تھا اس کے بارے میں حکم اگر قرآن میں نہیں ہے تو اس کا حکم نبی کریمؐ ہی نے دیا ہوگا۔ کیا نبی کریم ؐ نے خود ہی وہ حکم دیا ہوگا؟ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔

یونکہ اس کے بعد کی آیت میں اللہ کہتا ہے کہ پہلے کے قبلہ بھی ہم ہی نے مقرر کیا تھا۔

الٹے پاؤں پھر جانے والوں میں سے اس رسول کی پیروی کر نے والوں کونشاندہی کر نے کے لئے ہی پہلے کے اس قبلہ کو ہم نے مقرر کیا تھا۔(2:143)

اگر نبی کریم ؐ خود ہی پہلے کے قبلہ کو مقرر کیا ہوتا تو وہ خود ہی اس کو تبدیل بھی کئے ہوں گے۔ تبدیل کر نیکے لئے اللہ کے حکم کی انتظاری میں وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

پہلے کے قبلہ کو رخ کر نے کے لئے اللہ نے حکم بھیجا ، یہ بھی صحیح ہے اور وہ حکم قرآن میں نہیں ہے، یہ بھی صحیح ہے۔ان دونوں حقیقتوں میں سے ملنے والی تیسری حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا ہرحکم قرآن میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اللہ کے رسولوں کے دل میں جبرئیل نامی فرشتے کی مدد کے بغیر اللہ اپنے خیالات کو درج کر دیتا ہے۔ وہ تیسری حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی اللہ کا حکم ہی ہے۔ 

ان ساری باتوں پر جب غور کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جا تی ہے کہ قرآن مجیدکے علاوہ بھی ایک اور قسم کی وحی کے ذریعے نبی کریم ؐ کو پہلے کے قبلہ کے بارے میں حکم آیا ہوا تھا، اس بنا پر ہی انہوں نے پہلے کے قبلہ کی طرف رخ کیا تھا، اسی وجہ سے نئے قبلہ کے معاملے میں اللہ کے دوسرے حکم کے لئے منتظر تھے۔ 

اس کے لئے یہ ایک دلیل ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی ایک اور وحی تھی۔

قرآن ہی کافی ہے کا دعویٰ کر نے والے پہلے کے قبلہ کی طرف رخ کر نے کے حکم کو قرآن سے دکھا نہیں سکتے۔ 

آیت نمبر143 میں اللہ نے کیوں کہا کہ پہلے کے قبلہ کی طرف مسلمانوں نے جو رخ کیا وہ میرے ہی حکم سے تو اس پر غور کر نا چاہئے۔

تمام احکام کو اللہ نے صرف قرآن کے ذریعے نہ کہہ کر چند احکام کو اس نے قرآن کے علاوہ ایک اور وحی کے ذریعے کیوں کہا ؟ اس طرح شک کر نے والوں کے لئے اس آیت کے سلسلہ ہی میں اللہ نے مستحکم انداز سے جواب دیا ہے۔ 

الٹے پاؤں پھر جانے والوں میں سے اس رسول کی پیروی کر نے والوں کونشاندہی کر نے کے لئے ہی پہلے کے اس قبلہ کو ہم نے مقرر کیا تھا۔

کتنی خوبصورت عبارت دیکھو! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف قرآن کافی ہے کہنے والوں ہی کے لئے اتارا گیا ہے۔ 

اللہ نے انہیں اس آیت کے ذریعے جواب دیتا ہے کہ پہلے کے قبلہ کو رخ کر نے کا حکم قرآن میں تو نہیں ہے۔ پھر بھی ہم ہی نے اس قبلہ کو بھی قائم کیا تھا۔ قرآن میں اگر نابھی ہوتو یہ رسول اپنی دلی خواہش سے کوئی بات نہیں کہیں گے، اس پر یقین کر تے ہوئے اس بنا پر عمل پیر اہونے کے لئے آگے آنے والا کون؟ الٹے پاؤں پھر جانے والا کون؟ یہی نشاندہی کر نے کے لئے ہم نے ایسا کیا۔

یعنی جان بوجھ کر ہی اس حکم کو قرآن کے ذریعے نا کہہ کر اللہ کے رسول کے ذریعے اللہ نے حکم نازل کیا۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے جو حکم دیا تھا اس کو اللہ نے اپنا ہی حکم کہہ کرقبول فرما لیا۔ 

اس لئے یہ آیتیں دلیل ہیں کہ قرآن کے ساتھ سنت نبی کی بھی ضرورت ہے۔ 

قرآنی احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کر ناہے ، اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 دیکھیں۔ 

38۔ اللہ کا رنگ

ایک شخص جب ایک مذہب اختیار کر تا ہے تو اس کو رنگ بھرے پانی سے نہلا کر یا چھڑک کر اب یہ ہماری مذہب میں شامل ہو گیا کہنے کا رواج اس زمانے میں رہا کرتا تھا۔

سلام میں شامل ہو نے کے لئے ایسا کوئی رنگ بھر اپانی یا سفوف کی ضرورت نہیں۔ 

یہ لوگ صرف انسانی جسم ہی میں رنگ بھر سکتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ادبی خوبی کے ساتھ کہتا ہے کہ اسلام قبول کر نے والے کے دل کو رنگ سے بھر دیتا ہے۔ 

جسموں میں بھرا رنگ مٹ سکتا ہے، لیکن اللہ تو اسلام کا رنگ دلوں میں بھر دیتا ہے، وہ پائیدار ہے۔ اسی مطلب سے یہ آیت (2:138) نازل کی گئی ہے۔ 

37۔ نبیوں کے درمیان فرق نہ کرے

یہ آیتیں 2:136، 2:253، 2:285، 3:84، 17:55 کہتی ہیں کہ نبیوں کے درمیان فرق نہ کرے۔

اگر کہا جائے کہ اس رسول نے اچھا کام کیا اور اس رسول نے بہتر انداز سے نہیں کیا ، تو ایسا کہنا اختلاف پیدا کرنے کا جرم ہوگا۔یہ اس بنیاد ہی کو مسمار کر دے گا کہ قابل آدمی ہی کو اللہ منتخب کر تا ہے۔اس لئے ہمیں یقین ہو نا چاہئے کہ ہر ایک نبی نے جو انہیں سونپا گیا تھا، سب کچھ بہترین انداز سے انجام دیا۔ 

اگرایسا کہے کہ موسیٰ نبی کے جگہ میں نبی کریم ؐ ہو تے تو اس سے بہتر انداز سے انجام دئے ہوتے، ایسا کہنا اختلاف ہی نہیں بلکہ اللہ کے انتخاب پر عیب لگانے کا جرم ہوگا۔ 

اس کا مطلب ہے کہ اس طرح اختلاف جتانا بہت بڑا گناہ ہے۔

نبی کریم ؐ کو جو ذمہ داری سونپی گئی تھی اگر دوسرے نبی کے پاس سونپا جا تا تو وہ بھی اس کو بہترین طریقے سے نبھائے ہوں گے، یہی مسلمانوں کا ایمان رہنا چاہئے۔ 

کوئی بھی نبی انہیں سونپے ہوئے کام میں تل کی نوک کے برابر بھی کمی نہیں کی، بکے نہیں،لوگوں سے ڈرے نہیں، آخرت سے زیادہ اس دنیا کو ترجیح نہیں دی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس طرح تمام پیغمبروں نے بہترین انداز سے پیش خدمت کئے، اس پر ہمارا ایمان ہو نا چاہئے۔ 

ایک رسول کوجو فضیلت نہیں دی گئی اس کو کسی اور رسول کو اگر اللہ نے دیا ہو تا تو اسکی طرف اشارہ کرنا اختلاف کر نا نہیں ہے۔

تمام رسولوں کو مساوی قابلیت کے ساتھ اللہ نے نہیں بھیجا۔ایک کو جو قابلیت نہیں دی گئی اس کو اللہ نے دوسروں کوعطا کی ہے۔ اللہ کی عطا کی ہوئی فضیلت کو ہم بیان کرنا اختلاف نہیں ہے۔

یہ آیتیں 3:45، 3:47، 3:59، 4:171، 19:19-21، 21:91، 66:12 کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

یہ آیتیں 4:157-159، 5:75، 43:61 کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی آج بھی زندہ ہیں۔ 

ایسا کہنا کہ یہ فضیلت کسی کو نہیں اختلاف کر نا نہیں ہے۔ کیونکہ اس فضیلت کو اللہ ہی نے انہیں عطا کی ہے۔ 

یہ آیتیں 2:253، 17:55کہتی ہیں کہ بعض رسولوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔ 

ایسا کہنا بھی اختلاف جتلانا نہیں ہوگاکہ اسی طرح ابراھیم نبی کے گھر والوں کو جو عطاگیا تھااس قسم کی سعادتیں کسی اور کو نہیں دی گئیں، ۔کیونکہ اللہ خود انہیں فضیلت دینے کے بارے میں یہ آیتیں 2:124، 2:125، 4:125، 11:73، 16:120کہتی ہیں۔

یہ آیتیں 21:81، 21:82، 27:16-18 ، 27:40، 34:12، 38:35 کہتی ہیں کہ سلیمان نبی کو جو حکومت اور اختیارات عطا کی گئی تھیں دنیا میں کسی کو عطا نہیں ہوئی تھیں۔ہم بھی اس طرح کہنا اختلاف کرنا نہیں ہوگا۔ 

اسی طرح آخر نبی اور سارے عالم کے لئے نبی بناکر نبی کریمؐ کو بھیجا گیا۔ یہ فضیلت کسی کو عطانہیں کی گئی۔اس کو 4:79، 6:19، 7:158، 9:33، 21:107، 33:40، 34:28، 48:28، 61:9 وغیرہ آیتیں کہتی ہیں۔ 

آیت نمبر 17:79 کہتی ہے کہ آخرت میں مقام محمود نامی قابل تعریف عزت نبی کریم ؐ کو اللہ عطا کر ے گا۔ 

آیت نمبر 108:1 کہتی ہے کہ حوض کوثر نامی نہر ان کے حوالے کیا جائے گا۔

پوری دلیلوں کے ساتھ احادیث موجود ہیں کہ آخرت میں نبی کریم ؐ ہی پہلے پہل سفارش کریں گے۔(دیکھئے بخاری: 99، 335، 438، 3340، 4476، 4712، 6304، 6305، 6565، 6566، 6570، 7410، 7440، 7474، 7509، 7510)

نبی کریم ؐ کو اللہ نے جو عظمت عطاکی تھی اس کے بارے میں تعریفی الفاظ کہنا اختلاف جتانا نہیں ہوگا۔ 

36۔ نبی کریم ؐ کا چار کام

ان آیتوں میں (2:129، 2:151، 3:164، 4:113، 62:2)نبی کریم ؐ کے پیغمبرانہ کام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ انہیں چا رکام دیا گیا تھا۔

* قرآن مجید پڑھ کر سنانا

* لوگوں کو پاک کرنا

* لوگوں کو کتاب اور حکمت سکھانا

* لوگ جو جانتے نہیں، اس کو سکھانا

یہی وہ چار کام ہیں۔

ان چار جملوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے۔

اس زمانے میں بعض لوگ یہ دعویٰ کر تے ہیں کہ صرف قرآن کافی ہے، نبی کریم ؐ کی وضاحت ضروری نہیں۔ 

اگر اللہ سے قرآن حاصل کر کے لوگوں کے پاس پہنچانے تک نبی کا کام ختم ہوگیا ہوتا تو ان چار کاموں کے بارے میں اللہ کہا نہیں ہوتا۔ صرف اتنا کہہ کر رک جاتا کہ آیتوں کو انہیں پڑھ کر سنائیں گے۔ 

نبی کریم ؐ ان آیتوں کو پڑھ کر سنا نے کے ساتھ عربی زبان کے مادری زبان والے اس کواچھی طرح سمجھ جاتے۔ 

لیکن اللہ کہتا ہے کہ کتاب کے سلسلے میں ’’آیتوں کو پڑھ کر سنائیں گے اور کتاب کو سکھلائیں گے ‘‘ یہ دونوں کام بھی نبی کریم ؐ کے پاس سونپا گیا۔ 

پڑھ کر سنائیں گے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ آیتوں کو پڑھ کر سنائیں گے ۔ 

کتاب کو سکھلائیں گے کا مطلب کیا ہے؟

اس کو پڑھنا سکھائیں گے کا معانی نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اللہ کہتا ہے کہ نبی کریم ؐ کو پڑھنا نہیں آتا۔ 

اس سے پہلے کسی بھی کتاب سے تم پڑھنے والے نہیں تھے اور تمہارے دائیں ہاتھ سے اس کو لکھوگے بھی نہیں۔ 

قرآن 29:48

اگر فرض کرلیں کہ نبی کریم ؐ پڑھناجانتے تھے، توپڑھنا سکھلانے کا مطلب ہوگا ایک زبان کو سکھلانا، ناکہ قرآن مجید کو سکھلانا۔

ایک زبان کو سکھلانے کے لئے رسولوں کی ضرورت نہیں۔ اس زبان کو جاننے والا کوئی بھی سکھلا سکتا ہے۔ اس لئے قرآن سکھلائیں گے کا مطلب ہو گا، جب ضرورت پڑے توبولی سے اور عمل سے وضاحت کریں گے۔ 

اگرنبی کریم ؐ قرآن مجید کی تشریح کر نے کے لئے بھیجے گئے ہیں تو اس وضاحت پر مسلمان عمل پیرا ہوناہی اس کا مطلب ہے۔

اس لئے ان آیتوں سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ جس طرح نبی کریم ؐ کا پڑھ کر سنایا ہواقرآن مجید رہنما بناہوا ہے، اسی طرح ان کی تشریح شدہ احادیث بھی رہنما بنا ہوا ہے۔

ان آیتوں میں استعمال شدہ لفظوں کے ذریعے یہ اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن مجید کو باقاعدگی اور پوری طریقے سے سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت بہت بہت ضروری ہے۔

اللہ کہتا ہے کتاب ہی نہیں بلکہ حکمت بھی سکھلائیں گے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ لوگ جو جانتے نہیں اس کو بھی سکھلائیں گے اور لوگوں کو پاک کریں گے۔ 

اگر قرآن ہی کافی ہے، نبی کریم ؐ کی وضاحت ضروری نہیں ہوتا تو اس کے برخلاف معنی والے اتنے لفظوں کو استعمال کر کے اللہ کیوں کہتا کہ نبی کریم ؐ کی وضاحت ضروری ہے؟
اس لئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ صرف قرآن ہی کافی ہے کہنے والے حقیقت میں قرآن ہی کی انکار کرتے ہیں ۔

قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کر نے کے بارے میں او زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 دیکھئے!

35۔ مقام ابراھیم کیا ہے؟ 

آیت نمبر 2:125، 3:97 میں مقام ابراھیم کا لفظ جگہ پایا ہے۔ آیت نمبر 2:125 کہا گیا ہے کہ مقام ابراھیم کے ایک حصہ میں نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ 

مقام ابراھیم کیا ہے؟ اس کے بارے میں بہت سے لوگ لاعلم ہیں۔ کعبے کے مشرق کی طرف دس میٹر کی دوری پر تم دیکھو گے کہ ایک پتھر گاڑا گیا ہے۔اسی پتھرکولوگ مقام ابراھیم کہتے ہیں۔ 

بہت سے عالم کہتے ہیں کہ ابراھیم نبی نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ جس پتھر پر کھڑے ہو کر انہوں نے کعبہ کی تعمیر کی تھی وہ پتھر یہی ہے۔یہی مقام ابراھیم ہے۔ یہ غلط ہے۔ 

مقام ابراھیم جسے کہتے ہیں اس کو لوگوں کی یقین کو بنیاد بناکر فیصلہ کر نے سے قرآن اور حدیث کو بنیاد رکھ کر فیصلہ کر نا ہی درست ہوگا۔ 

مقام ابراھیم میں نماز پڑھنے کی جس آیت میں حکم دیا گیا ہے اس پر غور کر نے سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ مقام ابراھیم وہ پتھر نہیں ہے۔ 

مقام ابرھیم کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ من مقامی ابراھیم، یعنی حکم دیتا ہے کہ مقام ابراھیم کے ایک حصہ میں نماز کے لئے جگہ بنالو۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ نماز کے لئے ایک آرام دہ جگہ ہی مقام ابراھیم ہے۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ مقام ابراھیم کوئی ایک مخصوص پتھر نہیں، وہ ایک طول و عرض جگہ ہے۔ اس وسیع جگہ میں جس حصہ میں چاہوتم نماز پڑسکتے ہو، اسی معنی میں یہ آیت اتاری گئی ہے۔ 

ایک مخصوص پتھر کو مقام ابراھیم کہنے والے اس پتھر پر چڑھ کر نماز نہیں پڑھتے۔ اس طرح چڑھ کر نماز پڑھ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے مقام ابراھیم اس پتھر کو نہیں کہتے۔ 

اسی لئے جب حکم ہواکہ مقام ابراھیم کے ایک حصہ میں نماز کے لئے ایک جگہ بنا لوتو (کعبہ کے دیوار سے لگی ہوئی) مقام ابراھیم کہلانے والی پتھر کے پیچھے کھڑے ہو کر نبی کریم ؐ نے نماز پڑھی۔ (دیکھئے بخاری: 396، 1192، 1600، 1624، 1627، 1646، 1692، 1794)

نبی کریم ؐ کی وہ عملی کارکردگی مقام ابراھیم کی وضاحت کر تی ہے۔ کعبہ کے چاروں طرف میں مقام ابراھیم نامی پتھر جہاں ہے وہ مشرقی حصہ ہی مقام ابراھیم ہے۔ 

عام طور سے ہم جانتے ہیں کہ کعبہ کے چاروں طرف سے کعبہ کو رخ کر کے ہم نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس آیت کا مقصد ہے کہ کوئی چند نماز ہی سہی مقام ابراھیم کی طرف رخ کر کے پڑھیں۔

اللہ نے تمام لوگوں کو حکم دیا ہے کہ مقام ابراھیم کے ایک حصہ میں نماز کے لئے جگہ بنالو۔ اگر تمام لوگ مقام ابراھیم میں نماز پڑھنا ممکن ہو تو ہی اللہ اس طرح حکم دے سکتا ہے۔ اگر وہی مخصوص پتھر کی چھوٹی سی جگہ ہی مقام ابراھیم ہو تا تو وہاں جمع ہو نے والوں میں چند ہزار لوگوں کوبھی وہ موقع نہیں مل سکتا ۔

نبی کریم ؐ کی عملی کارکردگی کو بنیاد رکھ کراگر ہم سمجھیں کہ کعبہ کے چاروں رخ میں مشرقی رخ ہی مقام ابراھیم ہے تو تمام حاجی اس جگہ میں نماز پڑھنے کا موقع پا سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہو تو نبی کریم ؐ کے زمانے میں کعبہ کے ساتھ لگ کر رہنے اور پھر جگہ بدل کر رکھے ہوئے پتھر کو مقام ابراھیم کیوں کہا جاسکتا ہے، یہ شک پیدا کر سکتی ہے۔ 

عام طور سے مروج ہے کہ ایک جگہ کی نشاندہی کے لئے رکھا جانے والا چیز ہی اس جگہ کا نام حاصل کرلیتا ہے۔ اسی طرح مقام ابراھیم نامی جگہ کی نشاندہی کے لئے جو پتھر رکھا گیا تھا، وہی اس کا نام بن گیا۔ 

جب یہ حکم آیا کہ مقام ابراھیم کے حصہ میں نماز کے لئے جگہ بنا لوتو فوراً اس پتھر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے بجائے وہ جس سمت میں ہے اس سمت کی طرف نبی کریم ؐ نے نماز پڑھی، یہی اس کے لئے مناسب دلیل ہے۔ 

اس کو ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

اگر ایک تختی پر مکہ لکھ کر لٹکا دیا جائے تو کوئی اس تختی ہی کو مکہ نہیں سمجھیں گے۔ یہی سمجھیں گے کہ وہاں سے مکہ شروع ہو تا ہے۔

اسی طرح ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ کعبہ کے دیگر تین سمتیں مقام ابراھیم نہیں ہیں، بلکہ وہ جو مشرق کی طرف پتھر ہے اسی سمت مقام ابراھیم ہے۔ 

اسی معانی سے اس پتھرکو مقام ابراھیم کہا گیا۔ اگر وہی پتھر مقام ابراھیم ہو تا تو اس کو کوئی جگہ بدلی نہیں کر سکتا۔ مقام ابراھیم کے حصہ کو نشاندہی کر نا ہوتا تو ہی اس پتھر کو جگہ بدلی کر سکتے ہیں۔ 

اسی بنا پر عمرؓ نے کعبہ سے لگے ہوئے اس پتھر کو اب کے اس جگہ پر بدل کر رکھا۔ ابن رجب کی فتح الباری

اس کے بعد بھی اگرکوئی دعویٰ کرے کہ مقام ابراھیم ایک جگہ کی نشانی نہیں، بلکہ ایک خاص پتھر ہی ہے تو مقام ابراھیم کے ایک حصہ میں نماز کے لئے جگہ بنالو کے حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس پتھر کے اوپر کھڑے ہو کر کوئی نماز پڑھ کر دکھا سکتا ہے؟ ذرا غور کریں۔ 

اور ایک شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے حد تک بھی جب وہاں جگہ نہیں تو سب لوگ وہاں کیسے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اس پر بھی ذرا غور کریں۔

ایک اور چیز بھی یہاں قابل ذکر ہے۔ 

’’ابراھیم نبی کے قدم کی نشانی‘‘کے نام پر اب اس پتھر پر ایک نشان ہے۔ وہ بعد کے زمانے میں ایجاد کیا گیا ہے۔ 

اس پتھر پر ابراھیم نبی کے قدم کا نشان ہے کہنا جھوٹی کہانی ہے۔ ابن رجب اپنی فتح الباری میں کہتے ہیں کہ وہ اسلام کی ابتدائی دور میں رہا ہوگا،پھر مٹ گیا ہوگا۔ 

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ ابن رجب کے زمانے میں (ہجری 736-795)کوئی نقش پا اس پتھر پر نہیں تھا۔

اور یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ اب جو نشان دکھائی دیتا ہے وہ ابن رجب کے زمانے کے بعد حکومت کی طرف سے مصنوعی اندازسے ایجاد کیا گیا ہے۔ 

34۔ حفاظت کیا ہوا مقدس مقام 

دنیا میں اللہ کی عبادت کے لئے پہلے پہل جو تعمیر کیا گیا تھا وہ گھر ہے کعبہ۔ یہ آیتیں 2:125، 3:97، 5:97، 14:35، 28:57، 105:1-5، 106:4 کہتی ہیں کہ یہ گھر ،لوگوں کے لئے امن کی جگہ ہوگی۔ 

یہ اعلان کر کے کہ مکہ ایک امن کی جگہ ہے، چودہ سوبرس گزرچکا، کئی حکومتیں بدل چکیں، پھر بھی وہ آج تک بھی امن ہی کی جگہ قرار پائی ہوئی ہے۔ 

چودہ سو سالوں سے مغلوب نہ ہونے والی گھرہے اور حملہ کر نے والوں کو پسپا کر تے ہوئے آرہی ہے۔ قرآن مجید کے اعلان کے مطابق وہ امن کا شہر ہی قرار پایا ہوا ہے۔ 

حج کے زمانے میں کئی لوگ مکہ میں انتقال کر جا تے ہیں۔ بعض لوگ حجت کرسکتے ہیں کہ یہ امن کی جگہ نہیں ہے، یہ اس کے لئے دلیل ہے۔ 

وہ اس طرح حجت کر نے کی وجہ یہ ہے کہ امن کی جگہ کا مطلب انہوں نے ٹھیک سے نہیں سمجھا۔ 

عقلمند لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ اس مطلب سے نہیں کہا گیا کہ مکہ میں کوئی مریگا نہیں۔ یہ آیت نازل ہونے سے پہلے بھی اور یہ آیت نازل ہو نے کے بعد بھی مکہ میں کئی لوگ مرے ہیں۔ لوگ مرتے ہوئے دیکھنے پر بھی یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ مکہ ایک امن کی جگہ ہے۔ نبی کریم ؐ کے کئی قریبی دوست مکہ میں انتقال ہوئے ہیں۔ 

ایک شخص کی موت کہاں، کب اور کیسے واقع ہوگی یہ اللہ کی طرف سے جس طرح فیصلہ ہوچکا اسی طرح واقع ہوگا۔ اگراللہ نے فیصلہ کردیا کہ کسی کو مکہ میں انتقال ہوناہے تو اس کو مکہ ہی میں موت ہوگی۔ یہی اسلامی عقیدہ ہے۔ 

مکہ جانے والا ایک شخص یہ سوچتے ہوئے کہ مکہ سے واپسی ہو گی یا نہیں ، وہ سب رشتہ داروں سے اور دوستوں سے مل کر معافی چاہنے کے بعد روانہ ہونے کی عادت مسلمانوں میں اب بھی موجود ہے۔ اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ مکہ میں موت یا حادثہ نہ ہوگا، اس پر کسی مسلمان کو یقین نہیں۔ مسلمان جو نہین مانتا اس کے بارے میں سوال نہیں کر سکتے۔ 

چند موقعوں پر شر پسند لوگ کعبے کے اندر بھی گھس کر ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ تو امن والے شہر کے خلاف ہے؟ 

اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ امن والے جگہ کی وجہ سے وہ آپس میں جھگڑا نہیں کریں گے۔یہ بھی اس کا مطلب نہیں ہے کہ ہتھیار لے کر چند لوگ حملہ نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ حملہ کرنے کی کوشش کریں گے تو پسپا کر دئے جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ان لوگوں کا زور بڑھ جانے کی وجہ سے مکہ کی حرمت کو انکار کر نے والوں کے ہاتھوں میں مکہ نہیں جائے گا۔ 

سارے عالم پرقبضہ کرنے والی برطانوی حکومت بھی اس زمین کے آس پاس رہنے والی زمینوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا، پر مکہ کے قریب نہ جا سکے۔ اسلامی مذہب کے خلاف چلائی گئی صلیبی جنگوں میں بھی ان لوگوں کا ارادہ تھا مکہ پر قبضہ کر لیں ، وہی ان کی کامیابی ہے، لیکن مکہ کے قریب نہ جاسکے۔ 

اس لئے اس زمانے سے اب تک مکہ امن کا مقام ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

قرآن مجید اللہ ہی کی کتاب ہے ، اس کے لئے یہ آیتیں دلیل ہیں۔ 

33۔ وہ گھر سے مراد کیا ہے؟

قرآن کی آیتیں 2:125، 2:127، 2:158، 3:97، 5:2، 5:97، 8:35، 22:26، 22:29، 22:33، 106:3 وغیرہ میں وہ گھر کہا گیا ہے۔ وہ گھر کا مطلب ہے کعبہ اور اس کے اطراف کی جگہ۔ 

(مزید معلومات کے لئے فنی الفاظ کے عنوان پر کعبہ کے عنوان کے تحت ، اور فہرست مضامین میں تاریخ کے عنوان پر انبیاء (ابراھیم) کے عنوان کے تحت دیکھئے!) 

More Articles …