Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‎49‎۔ اللہ کا کوئی دلال نہیں‏

اسلام کا یہ صاف عقیدہ کہ اللہ کا کوئی دلال نہیں ،یہ آیتیں 2:186، 4:108، 7:56، 11:61، 20:46، 34:50، 40:60، ‏‏50:16، 56:85، 57:4، 58:7سمجھاتی ہیں۔ 

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عام طور سے انسان آسانی سے اللہ کے قریب نہیں ہو سکتا۔ اسلام کے سوا ہر مذہب میں اسی طرح تعلیم دی جاتی ہے۔ 

جب اللہ سے انسان آسانی سے قریب نہیں ہو سکتا تو ہی اللہ اور انسان کے درمیان دلال گھس جاتے ہیں۔ اللہ کے نام سے لوگوں کو دھوکہ دے کر ‏لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ 

تصوف کے نام سے جو دھوکہ بازی چلتی ہے، عورتوں کی جو عزت لوٹی جاتی ہے اس کی خاص وجہ یہی عقیدہ ہے۔ 

لیکن اسلام اس عقیدے کو مسمار کرتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ انسان کے بالکل قریب ہے، بالکل آسانی کے ساتھ کوئی بھی اس کے قریب ہو ‏سکتا ہے، یہی اسلام کا اعلان ہے۔ تصوف کے نام سے چلنے والی ساری مکاری اس سے مٹ جاتی ہے۔ 

ہر شخص اپنی اپنی ضرورتوں کو اللہ سے براہ راست مانگیں ، اس کے سوا دوسروں کے ذریعے درخواست نہیں بھیجنی چاہئے۔ وہ جو دوسرا ہے وہ بھی ‏اللہ ہی کا بندہ ہے، یہی اسلامی عقیدہ ہے۔ 

پیدائشی طور پر ہر شخص برابر ہے۔ چال و چلن کی وجہ ہی سے ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسلام کی اس مساوات اور بھائی بندی جاننے ‏کے لئے حاشیہ نمبر 11، 32، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 368، 508وغیرہ دیکھئے۔ 

درگاہ والی پرستش کوواجب قراردینے والوں کی دیگر دلائل کس طرح باطل ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 79، 83، 100، ‏‏104، 121، 122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!

‎48‎۔ حیض کے وقت اجتناب کرنے والی چیزیں‏

اس (2:222) آیت میں حیض کے موقع پر بیویوں سے الگ رہنے کے لئے کہا گیا ہے، اس لئے بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ وہ عورتیں نماز ‏،روزہ وغیرہ عبادات کر سکتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ کیسے غلط ہے، آئیے تفصیل میں جائیں۔ 

حیض کے بارے جو سوال کیا گیا اس کے جواب میں ہی یہ آیت نازل کی گئی ہے۔اگر سوال ایسا کیا گیا ہو تا کہ کیا حیض کے موقع پرعبادت کر سکتے ‏ہیں؟ تو اس کے بارے میں جوابی آیت نازل کی گئی ہوتی۔ حیض کے موقع پر ازدواجی زندگی میں کیا مبتلا ہوسکتے ہیں، اس بارے میں سوال اٹھانے کی ‏وجہ سے اسی کو اس میں براہ راست جواب دیا گیا ہے۔ 

انسؓ کہتے ہیں:

یہود حیض کے موقع پر عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں کھاتے۔گھروں میں ان کے ساتھ صحبت نہیں کرتے اور الگ ہی رہتے۔اس لئے اصحاب ‏رسول نے (اس کے بارے میں) نبی کریم ؐ سے سوال کیا۔ اس وقت (اے نبی!) وہ لوگ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، تم کہو کہ وہ ایک ‏‏(قدرتی) علالت ہے۔ اس لئے حیض کے وقت عورتوں سے (صحبت کر نے سے) الگ ہی رہو ۔۔۔ اس طرح شروع ہونے والی آیت ‏‏(2:222) کو اللہ نے نازل فرمایا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ؐ نے کہا کہ مجامعت کے سوا دوسرے کام کر لیا کرلو۔ 

مسلم: 507

حیض کے موقع پر یہودی قوم عورتوں کے ساتھ بہت ہی ذلیل انداز سے سلوک کر تے تھے۔ گھروں کے اندر انہیں جماتے نہیں تھے۔ انہیں الگ ‏کردیا کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوتے بھی نہیں تھے۔ حیض والی عورتیں چھوئے ہوئے چیزوں کو بھی نہیں چھوتے تھے۔ اس باطل عقیدے کو ‏اسلام نے قبول نہیں کیا۔ 

اس کو انکار کر نے کے لئے ہی یہ آیت اتاری گئی۔ 

ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ حیض کے موقع پر مجامعت کے سوا دوسرے چیزوں کے لئے منع نہیں کیا گیا تو یہود خود جو ممانعت کر لی تھی ان کاموں کو منع ‏نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے۔ 

قرآن مجید کی آیت نمبر 5:6 میں نماز کے بارے میں کہتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ تم اگر حالت جنابت میں ہو توغسل کر کے پاک ہوجاؤ۔ 

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے لئے طہارت ضروری ہے۔ 

قرآن مجید کی آیت نمبر 4:43میں نماز کے بارے میں کہتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ تم اگر حالت جنابت میں ہو توغسل کرلو۔اس آیت سے ہم جان ‏سکتے ہیں کہ غسل کر ناہی وہ طہارت ہے۔

حیض کے متعلق کہتے ہوئے مندرجہ بالا آیت میں اللہ کہتا ہے کہ وہ پاک ہو نے تک ان کے قریب مت جاؤ۔ وہ طہارت حاصل کر نے کے بعداللہ ‏نے جس طرح تمہیں حکم دیااس مطابق ان کے پاس جاسکتے ہو۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ حیض کے موقع پر عورتیں ناپا ک ہوتی ہیں ، اورآیت نمبر 4:43 اور 5:6کہتی ہیں کہ بغیر پاکی کے نماز نہ پڑھیں، ان دونوں ‏آیتوں کو جب ملا کر دیکھتے ہیں توہم جان سکتے ہیں کہ حیض کے موقع پر نماز نہ پڑھنا چاہئے۔

نبی کریم ؐ نے وضاحت کی ہے کہ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور کعبہ کا طواف کر نا وغیرہ عبادتوں میں شامل ہونا اور مجامعت کر ناہی انہیں ممانعت کی گئی ‏ہے۔ 

بخاری کی احادیث 228، 304، 306، 320، 325، 331وغیرہ میں تم دیکھ سکتے ہو کہ حیض کے وقت نماز نہ پڑھیں۔ 

بخاری کی حدیث 1951 میں تم دیکھ سکتے ہو کہ حیض کے وقت روزہ نہ رکھیں۔ 

بخاری کی حدیث 294، 305، 1650، 5548، 5559وغیرہ میں تم دیکھ سکتے ہو کہ حیض کے وقت طواف نہ کریں۔ 

دیگر معاملوں میں دوسری عورتوں کی طرح ہر کام میں شامل ہوسکتے ہیں۔ 

‎46‎۔ کیا انسان کو اللہ کا خلیفہ کہہ سکتے ہیں؟ ‏

ان آیتوں میں 2:30، 6:133، 6:165، 7:69، 7:74، 7:129، 7:142، 7:150، 7:169، 10:14، 10:73، ‏‏11:57، 19:59، 24:55، 27:62، 35:39، 38:26، 43:60، 57:7 خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 

چند آیتوں میںیہ لفظ اس معانی میں استعمال کیا گیا ہے کہ ایک شخص مرنے کے بعد یا عمل کے ناقابل ہو نے کے بعد اس کی جگہ کو لینے والا۔ 

چند آیتوں میں خلیفہ کا لفظ نسل در نسل بڑھتے ہوئے آنے والے کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

ایک عورت کا شوہر مر نے کے بعددوسرے شخص سے اگر وہ نکاح کر لے تو دوسرے شوہر کو پہلے شوہر کا خلیفہ کہہ سکتے ہیں۔پہلے شوہر کی جگہ کو وہ ‏پانے کی وجہ سے اس طرح کہا جا تا ہے، احادیث میں بھی اس کی دلیل پائی جا تی ہے۔ 

‏(دیکھئے: مسلم 1674، 1675، 1676)

پہلے انسان آدم ؑ کو اللہ نے خلیفہ اس لئے کہا کہ وہ نسل در نسل بڑھتے ہوئے جانے والے تھے۔ اسی لئے جب اللہ نے کہا کہ میں ایک خلیفہ پیدا کر ‏نے والا ہوں توفوراً فرشتوں نے کہا کہ وہ لوگ تو خون بہائیں گے۔

اس بات سے فرشتوں نے سمجھ لیا کہ آدم کے لئے ایک شریک حیات پیدا کیا جائے گا اور ان دونوں کے ذریعے مزید انسان پیدا ہوں گے اور وہ ‏لوگ آپس میں جھگڑا کرتے رہیں گے۔

اس لئے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ آدم ؑ کے لئے خلیفہ کا لفظ جب استعمال کیا گیا تو نسل در نسل بڑھتے ہوئے جانے والے کا معانی ہے اورجب ‏دوسروں کو خلیفہ کہاجا تا ہے تو اس کا معانی ہوگا کہ سابقہ لوگوں کی جگہ کو پُر کر نے والے۔

لیکن بعض مفسرین توآدم ؑ کو اللہ کا خلیفہ کہا ہے۔اللہ کو موت یا مجبوری تو پیش آنے والی نہیں۔ اور اس کی جگہ کو کوئی پُر کر نے والا بھی نہیں۔ اس ‏لئے کہ کوئی انسان اللہ کا خلیفہ یا نائب نہیں ہوسکتا، یہ معانی غلط ہے۔ 

آیت نمبر 7:142 سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کا خلیفہ یا نائب بن سکتا ہے۔

نبی کریم ؐ کی وفات کے بعدان کے نائب بن کر کارگزاری کر نے والے ابوبکرؓ کو نبی کریم ؐ کے خلیفہ اور نائب اسی معانی سے کہا گیا۔ 

اللہ کو خاتمہ نہیں اور وہ لاچار بھی نہیں، اس لئے اس کا کوئی نائب نہیں ہوسکتا۔ 

اللہ انسان کا نائب ہوسکتا ہے (مسلم: 2612) لیکن اللہ کاکوئی نائب نہیں ہوسکتا۔ 

اس لئے بعض لوگ جو خلیفہ کو اللہ کا نائب ترجمہ کیا ہے، وہ غلط ہے۔

‎45‎۔ وصیت نامہ کو تبدیل کر نے والی وراثتی قانون‏

یہ آیتیں 2:180، 2:240، 4:11-12، 5:106 وصیت نامہ اور وراثتی قانون کے بارے میں ذکر کر تی ہیں۔ 

آیت نمبر 2:180، 2:240کہتی ہیں کہ وراثتی قانون نافذ ہو نے سے پہلے وصیت نامہ تیار کرنا فرض کیا گیا تھا۔ 

کن کن رشتہ داروں کو کتنا مال ملنا ہے وہ قانون ( 4:11-12، 4:176 )نازل ہونے کے بعد وصیت نامہ لکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ 

وصیت نامہ بنانے کی فرضیت نکال دئے جانے کے بعد اگر کوئی چاہے کہ اپنی جائداد کے بارے میں وصیت نامہ لکھا جائے تو اس کے لئے اجازت ‏ہے۔ 

قرآن کی آیت 4:11-12 میں کہا گیا ہے کہ جائداد تقسیم کرنے سے پہلے وصیت نامے کو پورا کرنا چاہئے، اس سے اس کو سمجھ سکتے ہیں۔

پھر بھی اس طرح لکھے جانے والے وصیت نامہ میں تین میں ایک حصہ سے زیادہ آگے بڑھنا نہیں چاہئے۔ تین لاکھ روپئے چھوڑ جانے والے کو ‏ایک لاکھ روپئے کے حد تک ہی وصیت نامہ لکھنے کا حق پہنچتا ہے۔ 

پوری جائداد کا وصیت نامہ کوئی لکھ بھی دے تو تین میں ایک حصہ ہی چلے گا۔ باقی تمام اسلامی طریقے سے وارثو ں کو بانٹا جائیگا۔

سعدؓ نے پوچھا کہ کیا میں ساری جائداد دینی کام کے لئے وصیت کردوں؟ تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تین میں ایک حصہ کردو، وہی بہت زیادہ ہے۔ ‏‏(بخاری: 3936، 4409، 5668، 6373)

اس لئے رشتہ داروں کو، دوستوں کو، عام کاروائیوں کو وصیت نامہ لکھنے والے تینتیس فی صد سے زیادہ وصیت نہ کریں۔ 

44-کیا چاند کے دیکھنے میں اختلاف رائے ٹھیک ہے؟

آیت نمبر 2:185 میںیہ کہنے کے بجائے کہ ’’ماہ رمضان آجائے تو روزہ رکھنا چاہئے‘‘ ، اس طرح کہا گیا ہے کہ ’’جوماہ رمضان پائے وہ روزہ رکھے۔‘‘

عام طور سے ماہ شروع ہونے کے بارے میں اس طرح کوئی نہیں کہتا۔ قرآن مجیدایک خاص وجہ ہی سے دستور کے خلاف ایک جملے کو اس جگہ میں استعمال کیا ہے۔ 

ہلال کے متعلق یہ آیت ایک اہم سند ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔انسانی جملوں میں پائے جانے والی غلطیاں اللہ کے جملوں میں نہیں ہوگا، ہو بھی نہیں سکتا۔ 

ہر مسلم کا پکا عقیدہ ہے کہ اس میں ایک حرف بھی بے ضرورت نہیں ہوسکتا۔ اس عقیدے کو دل میں پیوست کر تے ہوئے اس آیت کی تحقیق کرتے ہیں۔ 

تم میں سے جو کوئی ماہ رمضان پائے وہ ماہ رمضان کے روزے رکھنا فرض ہے۔ 

اس آیت میں تم میں سے جوکوئی اس ماہ کو پائے کے جملے کے بغیر ہی رمضان میں روزے رکھنا فرض ہے کا مفہوم ملجا تا ہے۔ 

اگر ایسا ہو تو اس جملے کا فائدہ کیا ہے؟ مروجہ طریق کار میں اس جیسا جملہ کوئی بھی استعمال نہیں کرتا۔

ف
من
شہد
من
کم
ال
شہر
(اس لئے تم میں سے جو کوئی اس ماہ کو پائے)ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سات الفاظ ضرورت سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ 

کیا یہ الفاظ کوئی فائدے کے بغیر ، کچھ بھی مطالب کے بغیر بے کار استعمال ہوا ہے؟ ہر گز ایسا نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب میں کوئی لفظ بغیر معنی کے نہیں ہے۔ 

اس جملے کے ساتھ کہ رمضان کے مہینے میں روزے فرض ہیں، کوئی اور خبر دینے ہی کے لئے اللہ نے ان لفظوں کو استعمال کیا ہوگا۔ کیونکہ بے ضرورت باتوں کو استعمال کر نیسے اللہ پاک ہے۔

تم میں سے جو کوئی اس ماہ کو پائے، اس جملے میں اللہ کیا کہناچاہتا ہے، آؤ تحقیق کریں۔ 

اس کو سمجھنے کے لئے اسی جیسے انداز میں استعمال کئے گئے جملوں کو ایک نمونے کے طور پر دیکھیں۔ اس سے پہلے کی آیت بھی اسی انداز سے کہا گیا ہے۔ اسی کو لے لیں۔

اے ایمان والو! تم (اللہ سے) ڈرنے کے لئے تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر جس طرح فرض کیا گیا تھا تم پر بھی مخصوص دنوں میں روزہ فرض کیا گیا ہے۔ تم میں جو مریض ہیں، یا سفر میں ہیں،وہ دوسرے دنوں میں گنتی کرلیں۔ اس کی طاقت رکھنے والے ایک غریب کو کھانا کھلانا اس کا کفارہ ہے۔ مزید نیکی کرنے والوں کو وہ اچھاہے۔

اگر تم جانو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے۔ 

قرآن مجید 2:184

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ تم میں جو مریض ہیں یا سفر میں ہیں ، وہ لوگ دوسرے دنوں میں روزہ رکھ لیں۔ 

تم میں جو مریض ہیں کے جملے میں تم میں صحتمند بھی ہیں کا مطلب نکلتا ہے۔ اگر سب لوگ مریض ہیں توکہہ نہیں سکتے کہ تم میں جو مریض ہیں ۔ 

اس آیت کو جس طرح سمجھ لیتے ہیں اسی طرح جس نے اس ماہ کو پایا کے جملے کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ دونوں ہی جملے ایک ہی انداز سے کہا گیا ہے۔ 

تم میں جو اس ماہ کو پاتے ہیں کا مطلب ہے کہ ااس ماہ کو پانے والے بھی ہوں گے اور نہ پانے والے بھی ہوں گے۔

اس آیت ہی میں نہیں بلکہ قرآن میں جن آیتوں میں بھی جس نے پایا اور جو گیا کا استعمال ہوا ہے ان تمام مقامات کو بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ 

سیدھی راہ پانے والے، نہ پانے والے جب دو گروہ ہوتے ہیں تو اس وقت ہی کہا جائے گا کہ جس نے میری راہ کی پیروی کی، 2:38۔ 

جب حج کو اختیار کر نے والے اور حج کو اختیار نہیں کر نے والے ہوتے ہیں تو اس وقت ہی کہا جائے گا کہ جس نے حج کو اختیار کیا 2:197۔ 

قربانی کے جانورکو حاصل کر نے والے، قربانی کے جانور کو حاصل نہیں کرنے والے ہوتے ہیں تو اس وقت ہی کہا جائے گا کہ جس نے قربانی کے جانور نہ حاصل کیا 2:196۔ 

اس انداز میں اور بھی کئی جملے قرآن اور احادیث میں پائے جاتے ہیں۔ انسانوں کے بات چیت میں بھی اس طرح کے الفاظ استعمال کیا جا تا ہے۔ 

انسانوں سے کہہ سکتے ہیں کہ تم میں جو جھوٹ نہیں بولتا اس کو میں انعام دوں گا ۔ لیکن فرشتوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم میں جو جھوٹ نہیں بولتا اس کو میں انعام دوں گا۔ اگر ایسا کہا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو جا ئیگا کہ فرشتوں میں جھوٹ بولنے والے بھی ہیں۔

اسی بنیاد پر مندرجہ آیت کوبھی جانچنا ہے۔ 

* اس ماہ کو اگر کوئی پایا ہو تو دوسرے اس کو پائے نہیں ہوں گے۔ 

* ایکہوتو ہی جس نے رمضان پایا ، کہہ سکتے ہیں۔ 

فرض کر لو کہ سب لوگ ایک ہی وقت میں رمضان پالیا۔ سب لوگ جب رمضان پایا ہے تو تم میں جس نے رمضان پایا کہنا بے جا لفظوں کا استعمال ہوجا ئے گا۔ 

بعض لوگوں نے وضاحت کی ہے کہ مرجانے والے رمضان پائیں گے نہیں، جو زندہ ہیں وہی تو رمضان کو پائیں گے؟ اس کو اللہ بھی کہہ سکتا تھا؟ یہ نا قابل قبول وضاحت ہے۔کیونکہ قرآن زندوں سے ہی کلام کر تا ہے۔ وہ تو زندے کو تنبیہ کر نے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ 

تم میں سے جو مخاطب کیا گیا ہے وہ زندوں کو دیکھ کر ہی ہے۔ زندوں ہی میں رمضان پائے ہوئے لوگ بھی ہیں اور نا پائے ہوئے لوگ بھی ہیں۔ 

صرف روزہ ہی نہیں بلکہ قرآن مجید کا سب احکام زندہ رہنے والوں کے ہی حق میں ہے۔ اللہ جو باریک بین ہے کیا ایسا کہے گا کہ تم میں جو زندہ ہیں وہ روزہ رکھے اور جو مر گئے انہیں روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں؟

اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں زندہ جو ہیں ان میں سے رمضان پائے ہوئے لوگ بھی ہوں گے اور نا پائے ہوئے لوگ بھی ہوں گے۔ جو پاگئے انہیں روزہ رکھنا چاہئے اور جو نہیں پائے وہ جب پائیں گے اس وقت روزہ رکھنا چاہئے۔

ایک شخص رمضان پایا ہوا ہے تو کیا دوسرا نہیں پایا ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ایسے سوال سائنس کے دور کے پہلے پوچھ سکتے تھے۔ اس وقت پوچھ سکتے تھے جبکہ لوگ سمجھتے تھے کہ دنیا چپٹی ہے۔ ایسے سوال آج نہیں پوچھ سکتے۔ 

کیونکہ دنیا کے سب لوگ ایک ہی وقت میں یا ایک ہی دن میں رمضان پا نہیں سکتے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ ہلا ل دیکھ کر ہی مہینے کی پہلی تاریخ کا فیصلہ کر نا ہے۔ (دیکھئے بخاری : 1906، 1909)

آسمان میں نکلے ہوئے ہلال کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ہم پہلا چاندکہتے ہیں ۔ہلال آنکھوں میں دکھنے کے لئے کئی چیزیں ایک ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ 

* ہلال پیدا ہو کر کم از کم پندرہ یا بیس گھنٹہ تو ہونا چاہئے۔ اس سے کم وقت کی ہلال کو آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔

* سورج ڈوبنے کے بعد ہلال بھی غائب ہوجانا چاہئے۔ سورج غائب ہو نے سے پہلے ہلال غائب ہو جائے تو ہلال آسمان میں رہنے کے باوجود اسے دیکھنے سے سورج کی شعائیں روک دیتی ہیں۔ 

* بادل کے بغیر آسمان صاف ہو نا چاہئے۔ باریک سی بادل بھی پہلی ہلال کو چھپا دے گی۔ 

* سورج غروب ہو نے کے بیس یا تیس منٹ کے بعد ہی ہلال غائب ہو نا چاہئے۔ کیونکہ سورج غروب ہو کر اس کی روشنی افق میں ہو تو اس روشنی سے آگے ہلال ہماری آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گا۔ 

* دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کوئی کمی نہ ہونی چاہئے۔ ورنہ چھوٹی سی سفید بادل کو بھی وہ ہلال سمجھ جائیں گے۔ 

اس جیسے کئی وجوہات ایک ساتھ جمع ہونے سے ہی ہلال کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ 

ایک بستی والے جب ہلال کی عمرچودہ گھنٹے ہو تو سورج غروب ہونے کے وقت کو پاتے ہیں۔ ان کے بستی کے سیدھ میں ہلال ہو توبھی ٹھیک وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ ان کی آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گا۔ 

مثال کے طور پر سنگاپور میں رہنے والے جب سورج کے غروب ہونے کے وقت کو پاتے ہیں ،ہلال کی عمر چودہ گھنٹے ہو تو وہ ان کی آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گی۔ 

چینئی سے سنگاپور اڈھائی گھنٹے آگے ہے۔ اس لئے چینئی میں رہنے والے اڈھائی گھنٹے بعد ہی سورج غروب ہو نے کے وقت کو پائیں گے۔ اس اڈھائی گھنٹے کے عرصہ میں ہلال کی عمر بھی اڈھائی گھنٹے زیادہ ہوجائے گی۔ یعنی 16.30گھنٹے کی عمر کو ہلال حاصل کر لے گی۔ یہ آنکھوں سے دیکھنے کا پیمانہ ہے۔ 

سورج غروب ہو نے کے ساتھ شام کے چھ بجے ہم چینئی میں پہلی چاند کو دیکھتے ہیں۔ اس طرح ہم چاند دیکھتے وقت سنگاپور میں رات کے ساڑھ آٹھ بجے ہوگا۔ 

ہم ہلال دیکھ لینے کی وجہ سے ہم نے رمضان پالیا۔ سنگاپور کے باشندے ہلال دیکھے بغیرہلال دیکھنے کا وقت کے گزر جانے کی وجہ سے وہ لوگ رمضان کو نہیں پائے۔ دوسرے دن ہی وہ لوگ ہلال دیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے دوسرے دن ہی وہ لوگ رمضان کو پائیں گے۔ اس طرح دو بستی والے بھی ایک کے بعد ایک دن ہی رمضان کو پائیں گے۔

اگر کوئی یہ دعویٰ کر ے کہ چینئی میں ہلال دیکھنے کی وجہ سے سنگاپور ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں رمضان پیدا ہوگیا تو وہ لوگ اس آیت کی معانی کو جھٹلانے والے ہوں گے۔ 

کیونکہ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ سب لوگ ایک ہی وقت میں رمضان کوپاگئے۔ اللہ کی بات’’ جس نے پایا‘‘ وہ بے معانی ہوجائے گا۔ 

* اس دعوے کو یہ آیت یکسر جھٹلاتی ہے کہ دنیا کے ایک حصہ میں ہلال دکھائی دے تو دنیا بھر کو رمضان آگیا ۔ 

* اس دعوے کو بھی یہ آیت یکسر جھٹلاتی ہے کہ دنیا کے ایک حصہ میں ہلال دکھائی دینے کی خبر ملی تو دنیا بھر کو رمضان آگیا۔

* اندازہ لگایا جاتا ہے کہ دنیا کے کسی ایک حصہ میں آج ہلال دکھائی دے گا۔ اس طرح اگر اندازہ لگا یا جائے کہ وہ اس حصہ تک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو بھی پہلا چاند ہوگا، اس دعوے کو بھی یہ آیت یکسر جھٹلاتی ہے۔

قرآن مجید کی رائے ہے کہ ایک ہی وقت میں سب لوگ اس ماہ کو پا نہیں سکتے۔ 

بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ دنیا میں ایک ہی چاند ہے۔ اس لئے دنیا میں وہ کہیں بھی پیدا ہو جائے تواس کا مطلب ہے کہ ساری دنیا کے لئے بھی وہ پیدا ہوگئی۔اس لئے اگر وہ سعودی میں دکھائی دی یا اندازہ لگا کر کہہ دیا جائے کہ آج پہلی چاند ہے تو اس کو ساری دنیا مان لینی چاہئے، ورنہ دنیا بھر کو ایک ہی چاند کہنا معطل ہوجائے گا۔

فلکیاتی علم نہ رکھنے والوں کو یہ بہت بڑی سائنسی حقیقت اور دانشمندانہ دعویٰ جیسامعلوم پڑے گا۔ 

لیکن اس پر غور کریں تو اس سے زیادہ بیہودہ دعویٰ دوسرا کچھ ہو نہیں سکتا۔ اس میں کوئی سائنس نہیں ہے اور نا ہی دانشمندانہ دعویٰ۔ 

دنیا میں ایک ہی چاند ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ جیسے چاند دنیا بھر کے لئے ایک ہی ہے اسی طرح سورج بھی دنیا بھر کے لئے ایک ہی ہے۔ 

جیسا کہ چاند ہمیں وقت کی نشاندہی کر تا ہے اسی طرح سورج بھی ہمیں وقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ 

وہی صبح کا وقت پیدا کر نے والا ہے، رات کو سکون کے لئے بنایا، سورج اور چاند کووقت دکھانے والا بنایا، یہ زبردست، علم والے کا انتظام ہے۔ قرآن: 6:96)

سورج ہمیں رات اور دن کو دکھلاتا ہے۔ صبح، شام اور دوپہر کے وقت بھی دکھلاتا ہے۔ وہ کیسے دکھلاتا ہے؟ ہماری بستی سے وہ جس زاویہ میں ہے ، وہی وقت کی نشاندہی کرتا ہے، اس کے سوا سورج خود وقت نہیں دکھا ئے گا۔ 

ہمارے سر کے اوپر سیدھے 0 ڈگری پر ہوگا تو وہ دوپہر ہوگا۔

ہمارے سر سے مشرق کی طرف 90 ڈگری پر ہوگا تو ا س کو ہم صبح سویرے کہتے ہیں۔ 

ہمارے سر سے مغرب کی طرف 90 ڈگری پر ہو گا تو اس کو ہم رات کی شروعات کہتے ہیں۔

یعنی کہ سورج اور اس کا زاویہ مل کر ہی وقت کہلاتا ہے۔ 

سورج جب ہمارے سر کے اوپر ہوتوہمارے مشرق کی طرف 90 ڈگری میں رہنے والوں کے نظرسے وہ غائب ہو تے ہوئے دکھائی دے گا۔ یعنی کہ وہ لوگ رات کی ابتدا کو پائیں گے۔

ہمارے سر کے اوپر موجود یہی سورج ہمارے مغرب کی طرف 90 ڈگری میں بسنے والے لوگوں کو ابھی ابھی طلوع ہوتے ہوئے نظر آئے گا۔ 

دنیا بھر کے لئے ایک ہی سورج ہے۔لیکن وہ ہمیں جب دوپہر دکھا تا ہے تو بعض لوگوں کو وہ صبح کا وقت دکھا ئے گا۔اور بعض لوگوں کو سر شام دکھائے گا۔ 

ہمیں جب وہ دوپہر دکھاتا ہے تو آدھی دنیا کو وہ بالکل غائب ہو کر رات کا وقت دکھلاتا ہوگا۔ 

مجھے جب دوپہر کا وقت ہے تو ساری دنیا کو بھی وہ دوپہر کا وقت ہی ہے، اس طرح اگر کوئی حجت کر ے گا تو اس سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہوگا۔ 

ہمارا ایک دوست سعودی میں ہے۔ چینئی میں سورج ڈوبنے کے ساتھ ہمیں روزہ کھولنا ہے۔ ہمارے سعودی دوست کو فون کر کے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سورج ڈوب گیا ہے،

اب تم روزہ کھول سکتے ہو۔ ہم کہے بھی تو وہ سنے گا نہیں۔کیونکہ ہم جب روزہ کھولتے ہیں تواسی وقت وہ عصر نماز پڑھا ہوگا۔ سورج ڈوبنے کے لئے اس کو اور اڈھائی گھنٹہ انتظار کر نا پڑے گا۔ 

اسی طرح چاند بھی وقت دکھاتا ہے۔ 

سعودی میں نظر آنے والا چاند دنیا چھوڑ کر کہیں جا کر چھپ نہیں جائے گا۔ سورج کی طرح ہر ایک لمحہ زمین کو گردش کرتے ہوئے ساری دنیا کو دکھائی دینے کے لئے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔وہ چاند ہمارے سر کے سیدھے جب آئے گااس وقت ہی وہ ہمیں وقت دکھلاتا ہے۔ 

سورج وقت دکھا تا ہے تو سورج اور ہمارے حصہ میں اس کی موجودہ زاویہ بھی مل کر ہی ہمیں وقت دکھا تا ہے۔ 

چاند وقت دکھا تا ہے توچاند اور ہمارے حصہ میں اس کی موجودہ زاویہ بھی مل کر ہی ہمیں وقت دکھا تا ہے۔ 

اس علمی حکمت کو نہ جاننے کی وجہ سے علمی نقاب پہنے ہوئے بعض اشخاص اپنی بے وقوفی کی بکواس کو یہ کہہ کر گمراہ کر رہے ہیں کہ دنیا بھر میں ایک ہی ہلال ہے۔ 

یہ آیت نہیں کہتی کہ پہلے ہلال کوکس طرح فیصلہ کیا جائے ، بلکہ یہ کہتی ہے کہ کیسے فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ اور یہ بھی اعلان کر تی ہے کہ وہ رائے قابل قبول نہیں ہے کہ دنیا بھرمیں ایک ہی عیدہو۔

بعض لوگ کہتے ہیں ،اس کا مطلب یہی ہے کہ جو اس ماہ کاگواہ ہے وہ روزہ رکھے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شَہِدَ کو جیساپایا کا مطلب ہے اسی طرح گواہی دیا کا مطلب بھی ہے۔لیکن اس آیت کو اس طرح معانی نہیں دے سکتے، معانی دینا بھی نہیں چاہئے۔ 

کئی معانی والے الفاظ ہر زبان میں موجود ہے۔ اس لئے ان معنوں میں ہماری پسندکی کوئی بھی معنا نہیں لے سکتے۔ وہ لفظ جہاں استعمال ہوا ہے اس جگہ کو اور جو معنی مناسب ہے اس کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر معانی دینا چاہئے۔ 

اگر اس کو یہ معانی دیں کہ جو گواہ ہیں وہ روزہ رکھے تو بستی میں صرف چار پانچ لوگ ہی روزہ رکھیں گے۔ کیونکہ بستی میں رہنے والے سب لوگ ہلال دیکھنے کی گواہی نہیں دے سکتے، اور سب لوگ ہلال دیکھ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے اگر اس کو یہ معنی لیں کہ جو گواہ ہیں توایسی مخالفانہ رائے پیدا ہو سکتی ہے کہ 99 فیصد لوگ روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ 

اس لئے اس آیت پر غور کریں تو ہمیں واضح ہو جائے گا کہ سب لوگ ایک ہی دن میں رمضان کو حاصل کرنے والی رائے کا ہر دعویٰ غلط ہے ۔

43۔ اسلامی جرمیاتی قوانین

ان آیتوں میں (2:178-179، 5:33، 5:38، 5:45، 17:33، 24:2، 24:4)اسلامی جرمیاتی قوانین کہا گیا ہے۔ مجرموں کو سخت سزا دینے کے لحاظ سے یہ قوانین بنائے گئے ہیں۔ 

غیر مسلم اسلام کے خلاف جو تنقید کر رہے ہیں ان میں سے ایک یہ قوانین بھی ہیں۔ وہ لوگ اسطرح تنقید کرتے ہیں کہ اسلامی جرمیاتی قوانین بہت ہی ظالمانہ ہے اور انسانیت کے خلاف ہے۔

غیر جانبداری سے غور کر نے والے سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی جرمیاتی قوانین انسانیت کے لئے بے حد فائدہ مند قوانین ہیں۔ 

یہ قانون بنانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ مجرم سزا پانا چاہئے۔ اگر اس کو جان گئے تو ہی ہم کوئی ٹھیک فیصلہ کر سکتے ہیں۔ 

قاتلوں کو قتل کر نے سے مقتول کی جان واپس نہیں آسکتی۔ عصمت دری کر نے والے کو سزائے موت دینے سے عصمت واپس نہیں مل سکتی۔ معاش کے معاملے میں ہوسکتا ہے چوری گئی ہوئی مال واپس مل بھی جائے، لیکن پھر بھی اکثر جرائم میں مجرم کو سزا دینے سے مصیبت زدہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ جو کھو گیا اس کو چھڑانا مقصد نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو مجرموں کو سزا دینے کی ضرورت کیا ہے؟

1۔ مجرم کو اس لئے سزا دی جاتی ہے کہ بار بارجرم کرنے سے اس کو روکا جائے۔ 

2۔ ایک مجرم کوملنے والی سزاکو دیکھ کر دوسرے لوگ جرم کر نے سے ڈریں۔ 

3۔ مجرم کے ذریعے نقصان پایا ہوا شخص یہ سمجھے کہ اس کو انصاف مل گیا۔ اس سے دل مطمئن ہو جانا چاہئے۔ 

مجرمین سزا بھگتنے کے لئے یہ تین وجوہات کے سوا اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتا۔ 

دنیا بھر میں قید خانے، پولس تھانے اور عدالتیں اس لئے تشکیل پائی ہیں کہ جرم کر نے والے پھر سے جرم نہ کر بیٹھیں، جرم کرنے کا ارادہ کر نے والے اس کے قریب نہ جانے پائیں۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت نہیں کہتی کہ مجرموں کو کسی قسم کی سزا نہ دیا جائے۔

لیکن دنیا کے اکثرملکوں میں نافذ کئے ہوئے جرمیاتی قوانین سے جرم کم نہیں کر سکے۔ 

صرف وہی نہیں بلکہ مجرموں کو قید خانوں میں جو سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں اس سے جرم اور بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ 

جرم کو انسداد کر نے والے قوانین ہی جب جرم کر نے اکساتا ہے تو کیا حال ہوگا؟ 

چوری، عصمت دری، قتل، ڈاکہ زنی وغیرہ جرائم میں مبتلا ہو نے والے سماجی دشمنوں کو کیا سزا دی جا تی ہے؟ چند ماہ یا چند سال قیدخانے کی سزا ۔ اکثر ممالک میں یہی سزا کی میعاد ہے۔ 

قید خانے کی سزا کیا ہے؟ باہر نہ آسکتے ، اس ایک کمی کو دور کر کے اگر دیکھا جائے تو کئی غریبوں کی زندگی سے قیدخانے کی زندگی کئی گنا بہتر معلوم ہو تا ہے۔ 

عدل و انصاف کے ساتھ زندگی بسر کر نے والے غریبوں کو ہر روز پیٹ بھر کر کھانا ملنا ہی مشکل ہے۔لیکن بے انصافی اور بے ایمانی سے چلنے والے مجرموں کو تینوں وقت کا کھانابے کم و کاست مل جاتا ہے۔ اعلیٰ قسم کی دوائیں مہیا کی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کی تفریح کے لئے قید خانے کے اندر ہی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔

اس حد تک انہیں حفاظت کیا جاتا ہے کہ مجرموں سے مصیبت میں گھرے ہوئے لوگوں سے مجرموں کو کچھ گزند نہ پہنچے۔ جن لوگوں سے اس نے چرایا تھا ، جن لوگوں کو اس نے قتل کیا تھا، جس عورت کی اس نے عصمت دری کی تھی، انہیں لوگوں کی ٹیکس کی رقم سے ان بدمعاشوں کو اتنی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ 

صرف نام کی اس سزا سے کچھ فائدہ نہ ہوا اور نہ ہو گا۔ 

53بار قید خانہ گیا ہوا شخص پھر بھی گرفتار۔

15بار سائیکل چرانے والا پھر ایک بار گرفتار۔ 

اس طرح ہر روز اخباروں میں خبر آتی رہتی ہیں۔ 53بار سزا دینے کے باوجود اس کو کوئی خوف پیدا نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ اس کو ایک سزا ہی سمجھا نہیں۔ 

قید خانوں میں ملنے والی سہولتوں کو سن کر دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی یہ گزرتا ہے کہ ہم کیوں نیک بن کر کھانے پینے کے لئے تکلیفیں اٹھائیں؟ کچھ جرم کرو تو بس قید خانہ میں ہم کو تین وقت کا کھانا آسانی سے مل جا تا ہے۔ اس طرح وہ بھی جرم کر نے میں لگ جاتے ہیں۔ 

اور قید خانوں میں سب لوگ ایک ساتھ جم کر رہنے کا موقع ملتا ہے ، اس سے وہ بڑے پیمانے میں جرم کر نے کے لئے نئے نئے منصوبے بنانے لگ جا تے ہیں۔ 

سب لوگ جانتے ہیں کہ قید خانہ مجرموں کے لئے ایک دارالعلوم بنا ہوا ہے۔ 

ہر سال مجرم لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔ جرائم بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ مجرموں کو بڑھانے کیلئے لوگوں کا ٹیکس برباد ہو رہا ہے۔ 

انسانیت کے قانون کا نتیجہ ہے یہ۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ مصیبت زدہ انسان کیا ان سزاؤں سے دلی اطمینان حاصل کر سکتا ہے؟ 

لٹے ہوئے شخص سے اگر پوچھا جائے کہ چرانے والے کو کیا سزا دی جائے تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ اس کو چھ ماہ تک کھا نا کھلایا جائے۔ مقتول کے بیٹے سے اگر پوچھا جائے کہ قاتل کے ساتھ کیا کیا جائے تو کیا وہ یہ کہے گا کہ اس کو چودہ سال تک حکومت کے خرچ پر حفاظت کیا جائے یا اس کے سر کو قلم کر دیا جائے؟ 

تاریکی میں اپنی مستقبل کو کھوئی ہوئی عصمت لٹی ہوئی عورت اس کی عصمت لوٹنے والے کو کس طرح کا سزا دیا جائے تو اس کو تسلی ہوگی؟ اس طرح اثر پذیر لوگوں کے احساسات کو مدنظر رکھ کر سزائیں دینی چاہئے۔ 

اثر پذیرشخص کی حالت کو دیکھے بغیر اثرنہ لینے والے کی جگہ میں بیٹھ کر قوانین نافذ کر نے کے وجہ ہی سے اثر پذیر شخص کی احساسات کو غور نہیں کیاجاتا۔ لیکن اسلام اس پر توجہ دیتا ہے۔ 

ایک شخص دس لوگوں کو قتل کر کے سولی کی سزا پاتا ہے۔ اس سزاکو رحم کی درخواست کے بنیاد پر رد کر نے کا اختیار صدر جمہوریہ کو عطا کیا گیاہے۔ یہ دنیا میں ہر ملک میں پایا جاتا ہے ۔

یہ صدر جمہوریہ مقتولوں کے کوئی رشتہ دار نہیں۔ ا س کے باوجوداچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ اختیاراس صدر کو دیا جانا اثر پذیر شخص کے حالات کو یہ قانون ذرہ برابر بھی خیال نہیں کیا۔ 

اسلامی قانون کیا کہتا ہے؟ ایک شخص دوسرے کی آنکھ پھوڑدے تو اسلام کا قانون ہے کہ اس مجرم کی آنکھ بھی پھوڑدی جائے۔ آنکھ کو آنکھ، دانت کو دانت ہی اسلامی جرمیاتی قانون ہے۔ 

اگر آنکھ پھوٹا ہوا شخص مجرم کو معاف کر دے تو مجرم کو سزا نہیں دی جائے گی۔ یا مجرم کے پاس جرمانہ حاصل کر لی جائے تو بھی مجرم کو سزا نہیں دی جائے گی۔ 

اسی طرح مقتول کے وارثوں میں کوئی کہے کہ مجرم کی جان نہ لی جائے تو بھی مجرم کو سزائے موت نہیں ہوگی۔ یہ اسلام کا قانون ہے۔

یعنی دنیوی ممالک صدر جمہوریت کو جو اختیار عطا کیا ہے وہ اختیار اثر پذیر شخص کو اسلام دیتا ہے۔ 

عدل کی سوچ رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ انکار نہیں کر سکتا کہ قانوں ایساہی ہو نا چاہئے۔ اثر پذیر شخص کی دلی اطمینانی کے مطابق سزا نہ دی جائے تو وہی شخص مجرم بن جانے کا بھی امکان ہے۔ 

قتل کے جرم میں قید ہو نے والا ضامن میں باہر آتے وقت،یا قید خانہ سے عدالت کو لے جانے کے وقت مقتول کے رشتہ دار اس کو مار بھی دیتے ہیں۔ 

ایسی ایک حالت کی وجہ کیا ہے؟ رشتہ داروں کا خیال ہے کہ قاتل کو ان لوگوں کا قانون خاطر خواہ سزا نہیں دے گا۔ اگر سزا دیا بھی گیا تو وہ کافی نہیں ہوگا۔ اسی وجہ سے مقتول کے رشتہ دار بھی قاتل بن جاتے ہیں۔ جرائم بڑھنے کے لئے یہ بھی ایک وجہ ہے۔ 

آؤاب دیکھیں کہ اسلامی قانون کتنی معنی خیز اور دانشمندانہ ہے۔ 

اسلام کہتا ہے کہ چوری کے جرم میں گرفتار ہو نے والے مرد اور عورت وغیرہ کی دائیں ہاتھ کو کلائی تک کاٹ دیا جائے۔

اس طرح اگر ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ پھر سے چوری نہیں کرے گا اور چوری کر بھی نہیں سکتا۔ 

اور ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ پھر سے چوری کرنے کے لئے دل میں بھی نہیں سوچے گا۔ 

پہلی بار جب ایک شخص چوری کر نے کا ارادہ کیا تو اس سزا کو سن کر چوری کر نے کی ہمت نہیں کریگا۔ یہ دوسرا فائدہ ہے۔

کٹے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ایک چور ہے۔ اس وجہ سے ہم اپنا مال کھوئے بغیر ہوشیاری سے رہ سکتے ہیں۔

چوروں کی تصویروں کے ساتھ ’’کیا یہ لوگ یہاں ہیں؟‘‘ کا بورڈ عام جگہوں پر لٹکانے سے ان چہروں کوکوئی یاد نہیں رکھ سکتا۔ لیکن ہاتھ کاٹ دینے سے وہ ایک علامت بن جاتی ہے کہ یہ چور ہے۔یہ تیسرا فائدہ ہے۔

سزا دینے کا جو مقصد ہے وہ اب پورا ہوگا۔ صرف وہی نہیں بلکہ مجرم کو کئی سالوں تک قید میں بند کر کے اس کی دیکھ بھال کے لئے جو خرچ ہو تا ہے وہ حکومت کو بچت ہوجائے گا۔ لوگوں کی ٹیکس کی رقم برباد ہونے سے یہ قانون روکتا ہے۔ قید خانوں کو مٹا کر اسلام کی سفارش کردہ سزاؤوں پر اگر عمل کیا جائے تو قلت کی بجٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 

افسوس کہ تم ہاتھ کاٹ ڈالتے ہو کہہ کر مجرموں کی طرف داری کر نا ہی بعض لوگ انسانیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ 

بستر مرگ پر پڑی ہوئی اپنی بیوی کی جان بچانے والی دوا لینے جاتے ہوئے شخص کے پاس سے چور پیسہ چرا لیتا ہے تو وہ پیسوں کے علاوہ وہ اپنی بیوی کی جان بھی کھو دیتا ہے۔ اس کے لئے ہمدردی کون دکھائے؟ 

صداقت اور اخلاق کا چاہنے والا صدمہ سے دوچار ہو کر بیچ گلی میں کھڑا ہوجا تا ہے تو اس پرہمدردی دکھا نے کے بجائے اس کو بیچ گلی میں لاکھڑا کرنے والا بدمعاش کیلئے ہمدردی دکھایا جاتا ہے۔ 

بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے ہی ہاتھ کاٹتے جائیں تو ہاتھ کٹے ہوئے لوگوں کی تعداد نہیں بڑھے گی؟ 

ہرگز ہاتھ کٹے ہوئے لوگوں کی تعداد نہیں بڑھے گی۔ایک چور کا ہاتھ کاٹ دو تو دوسرے کسی کو چوری کر نے کی ہمت پیدا نہیں ہوگی۔ اسلئے ہاتھ کٹے ہوئے لوگوں کی تعدادہرگز نہیں بڑھے گی۔

ویسے بھی اگرہاتھ کٹوں کی تعداد بڑھ بھی جائے تو اس میں کوئی ناانصافی نہیں۔ 

ایک مثال کے لئے چوری کے سزا کے بارے میں ہم نے ذکر کیا ہے۔ اسلامی سزا کے طریقے اسی طرح قرار پائے ہیں۔ 

قتل کر نے والے کو اگر حکومت فوراً مار دے تو کوئی بھی قتل کر نے کی ہمت نہیں کرے گا۔ ایک شخص اگر دانت توڑدے تو اس کی بھی دانت حکومت کے ذریعے توڑدی جائے گی ، اس حقیقت کو کوئی جان لے تو کوئی بھی دوسرے کی دانت نہیں توڑے گا۔ 

دنیا میں کئی حکومتیں آئی اور گئیں۔ لوگوں کی جان ، مال، عصمت کی حفاظت ، ان ساری ذمہ داریوں سے سارے ہی حکومتیں ناکام ہوگئیں۔ کب کیا ہوگا، اسی خوف سے لوگوں کو زندگی بسر کر نے کی نوبت آگئی ہے۔ 

اس حالت کو اگر بدلنا ہوتو مجرموں کے معاملے میں تھوڑا بھی رحم نہ کریں۔ تنگ نظری سے اسلامی سزاؤں کو جھٹلائے بنا اس سے حاصل ہونے والے اچھے انجام کو دل میں رکھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہو نا چاہئے۔ 

مجرموں کو سینکنے کی طرح سزا ئیں دینے کے بجائے ان کے خلاف چابک گھما کر سخت ترین سزائیں جاری کریں تو دنیا ایک پرسکون چمنستان نظر آئے گا۔ 

بعض لوگ سوال کر تے ہیں کہ چور کو پکڑکر فوراً اس کے ہاتھ کاٹ دینے کے بعد اگر معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے تو کیا اس کا ہاتھ واپس آجائے گا؟ 

دو تین سال قیدخانے کی سزا بھگتنے کے بعد کئی لوگ بے قصور ثابت کئے گئے ہیں۔ اگر کوئی سوال کرے کہ ان کی کھوئی ہوئی ان تین سالوں کو کیا واپس دلا سکتے ہیں، تو تمہارا جواب کیا ہوگا؟ اس پر غور کر و تو کوئی ایسا سوال نہیں کرے گا۔

اور اسلام یہ نہیں کہتا کہ پکڑو اور سزا دو۔ اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت ہونے کے بعد ہی سزا دیا جائے۔

سزائے موت کے جرم کی طرح سمجھے جانے والی زنا کاری کو چار براہ راست گواہوں کے ذریعے ثابت کر نا چاہئے۔ چاروں سے کم اس جرم کواگر تھوپیں توان تھوپنے والوں کو اسی کوڑے مارنے کے لئے آیت نمبر 24:4 اور 24:13 کہتی ہیں۔ 

اسلامی حکومت کے طریقے میں مناسب گواہوں کے بغیر چند مجرم بچ جا سکتے ہیں، لیکن کوئی بے قصور سزا نہیں پاسکتا، یہی حقیقت ہے۔

دنیا میں قانون اور قاعدہ برقرار رکھنے میں سارے جرمیاتی قوانین ناکام ہو گئے، لیکن قرآن مجید جو جرمیاتی قوانین کہتا ہے صرف وہی کامیاب ہوا ہے۔ 

یہ قرآن اللہ ہی کی کتاب ہے، اس کے لئے دلیلوں میں سے ایک یہ آیتیں بھی ہیں۔ 

42۔ ممنوع غذائیں

یہ آیتیں 2:173، 5:3، 5:96، 6:119، 6:145، 16:115 کہتی ہیں کہ چار غذائیں ممنوع کی گئی ہیں۔ 

خوبخود مرے ہوئے جانور، خون اور خنزیر یہ تینوں ممنوع کی گئی ہیں ، یہ آسانی سے سمجھ میں آتی ہے۔ غیر اللہ کے لئے پکارے گئے کا مطلب ہی اچھی طرح غور کر نے پر سمجھ میں آتا ہے۔ 

اس زمانے کے عرب اپنے بتوں کے لئے چیزیں نذر کرتے وقت اور ذبح کر تے وقت ان بتوں کے نام آوازکے ساتھ پکارا کر تے تھے۔ اسی وجہ سے اس آیت میں پکارا ہوا کہا گیا ہے۔

غیر اللہ کے لئے جو ذبح کیا جاتا ہے وہ جانور بھی اس میں شامل ہے۔

غیر اللہ کے لئے نذر کر نیوالی چیزیں بھی اسمیں شامل ہیں۔

آیت نمبر 5:3 میں صرف یہی نہیں کہ غیر اللہ کا پکارا ہوا کہا گیاہے بلکہ بتوں کے لئے ذبح کیا ہوا بھی ملا کر کہا گیا ہے۔ ذبح کیا ہوا،جاندار چیزوں کی طرف اشارہ کر تا ہے، اس لئے پکارا ہواکامطلب ہے کہ بے جان چیزوں کو غیر اللہ کے لئے نذر کرنا ۔ 

اس لئے آیت نمبر 5:3 سے ہم جان سکتے ہیں غیر اللہ کے لئے نذرکی ہوئی اور بھینٹ کی ہوئی چیزیں ، اور غیر اللہ کے لئے ذبح کی ہوئی جانوریں نہ کھانا چاہئے۔ 

غیراللہ کے لئے پھوڑے جانے والے ناریل ، غیراللہ کے لئے پیش کر نے والے پوجا کی چیزیں، بتوں پر انڈیلے جا نے والے بھینٹ کی چیزیں ، درگاہوں میں دفن کئے ہو ئے لوگوں کے لئے نذرانے اور ان لوگوں کے لئے فاتحہ دلا کر مقدس مانے ہوئے چیزیں، یہ تمام چیزیں غیر اللہ کے واسطے پکارے ہوئے چیزوں میں جمع ہیں۔ یہ سب چیزں حرام ہیں۔ 

یہ آیتیں یہی مطلب کہتی ہیں کہ ان آیتوں میں جو چار قسم کی غذائیں کہی گئی ہیں اس کے سوا دوسری کوئی غذاممنوع نہیں ہے۔

بعض لوگوں کے دل میں یہ گمان پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا اس کے سوا کتا، لومڑی اور گدھے کھا سکتے ہیں؟ 

ان چار چیزوں کے سوااور بھی کئی غذائیں دین میں منع کی گئی ہیں۔ تو اللہ نے صرف ان چار چیزوں کے بارے میں ہی کیوں کہا؟ اس کو ہم تفصیل سے جان لینا چاہئے۔

اسلامی قانون لوگوں کو درجہ بدرجہ ہی عطا کیا گیا۔ ایک زمانے میں اللہ نے کسی بھی غذاکوروکا نہیں تھا۔ پھرصرف مندرجہ بالا چار قسم کی غذائیں ہی روکی گئیں۔اس وقت تک کوئی دوسری غذا نہیں روکی گئی۔ 

اس کے بعد سب پاک چیزوں کی اجازت دی گئیں۔ ساری ناپاک چیزوں کو روکا گیا۔ نبی کریم ؐ کو اختیار دیا گیا کہ ساری ناپاک چیزوں کی تفصیل بتائیں۔ آیت نمبر 7:157 اور 9:29 میں اس کو دیکھ سکتے ہیں۔

اس لئے ان چار چیزوں کے علاوہ جن چیزوں کو نبی کریم ؐ نے منع کیا تھا ، وہ بھی ممنوع قرار دی گئیں ۔ 

قرآن مجید میں ان ممنوع چیزوں کے ساتھ اور چند جاندار بھی نبی کریم ؐ نے منع کیاہے۔ وہ منع بھی اللہ ہی کی طرف سے آیا ہوا مناہی ہے۔ اس سے بھی ہم اجتناب کر نا ہے۔ 
سمندری جاندار

سمندری جانداروں میں منع کی ہوئی چیزیں کوئی نہیں۔ سمندری جاندار چیزیں سب حلال ہیں۔

بعض علماء کہتے ہیں کہ کیکڑا، شارک مچھلی اور وہیل وغیرہ نہ کھانا چاہئے، اس کو نہیں مانو۔ کیونکہ ایسا کہنا نہ قرآن میں ، ناہی حدیث میں کوئی دلیل موجودہے۔ یہ ان لوگوں کا قیاس ہے۔ 

آیت نمبر 5:96 کہتی ہے کہ سمندر میں شکار کرنا اور اس کا کھاناتمہارے لئے حلال ہے۔ 

آیت نمبر16:14 کہتی ہے کہ تازہ گوشت تمہارے کھانے کے لئے اسی نے سمندر کوتمہارے قابو میں کیا۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ سمندرمیں مرے ہوئے بھی حلال ہیں۔

(ترمذی: 64، ابو داؤد: 76، ابن ماجہ: 380، نسائی: 59، 330 ، 4275، احمد: 6935، 8380، 8557، 8737، 14481، 22017 موئطا)

سمندری جانداروں میں سے کوئی چیز اگر منع کرنا ہوتا تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کہنا چاہئے تھا۔ کسی اور کو منع کر نے کا اخیتار نہیں۔اللہ اور اس کے رسول نے سمندری جانداروں میں سے کسی ایک کو بھی منع نہیں کیا تھا۔ 

لیکن انسان کو نقصان پہنچانے والی ہر چیزدین اسلام میں منع کیاگیا ہے۔ سمندری جانداروں میں بھی اگر کوئی چیز انسان کو ضرر پہنچانے والی ہو تو وہ بھی دین میں ممنوع ہے۔ 

پرندے پرندوں کے نام گنواکر یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، ایسا نہ قرآن میں کہا گیا ہے اور نہ ہی حدیثوں میں۔ پھر بھی نبی کریم ؐ نے۔۔ پرندوں کی ذات میں کون سی حرام ہیں ، ایک عام بنیادی اصول فرمایا ہے۔ 

’مکلب‘ نامی ہر ایک پرندے کو نبی کریم ؐ نے کھانے کے لئے منع کیا ہے۔ مسلم: 3914

بعض لوگ مکلب کا مطلب ناخن کہتے ہیں۔ کوئی بھی پرندہ ہو تو اس کو ناخن تو ہوگا ہی۔ اس لئے اس کا مطلب یہ ہو جائے گا کہ ہم ایک بھی پرندہ نہیں کھاسکتے۔ 

جھپٹ کر شکار کر نے کے قابل پنجہ والے پرندے ہی اس کا صحیح مطلب ہے۔شکار کر نے کے لئے استعمال ہو نے والے پنجے جن پرندوں کو ہے انہیں کھانا منع ہے۔ 

گدھ، چیل اور باز وغیرہ پرندے دوسری جانداروں کو اپنے پنجوں سے شکار کر تے ہیں۔ان جیسے پرندوں کو ہم دور کر دینا چاہئے۔ مرغی جیسے پرندوں کو نوکدار ناخن رہنے کے باوجود وہ مرے ہوئے چیزوں کو کھاتے وقت ہی وہ اپنے ناخنوں کو استعمال کرتی ہیں۔ (کیڑے مکوڑے جیسے) جانداروں کو شکار کر تے وقت وہ اپنی منہ ہی کو استعمال کر تی ہیں۔ 

اس لئے دوسری جانداروں کو شکار کر نے کے لئے پنجوں کو استعمال کر نے والے پرندوں کے سوا دیگر تمام پرندوں کو کھانے کی اجازت ہے۔ 

جانوریں جانوروں کے لحاظ سے قرآن میں سور کوحرام قرار دیا گیا ہے۔

بخاری کی احادیث 4217، 4215، 4199، 3155، 4218، 4227، 5115، 5522، 5527، 5528 کہتی ہیں کہ گھریلو گدھے حرام ہیں۔ 

ان کے سوادیگرجانوروں کے بارے میں کیسے فیصلہ کیا جائے ، اس کے لئے نبی کریم ؐ نے ایک عام بنیادی بات کہی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے منع کیا ہے کہ جانوروں میں جن کے لانبے دانت ہیں انہیں مت کھاؤ۔ (بخاری: 5781، 5530)

اوپر ی حصہ میں جو دانت ہیں اس کے دائیں طرف ایک دانت ، اور اس کے بائیں طرف ایک دانت دیگر دانتوں سے زیادہ لانبے ہوں گے۔ 

ایسے لانبے دانت جن کے ہیں انہیں کھانا نہیں چاہئے۔ 

اس بنیادی اصول گر ہم جان لیں تو ہم کس کس کو کھانا ہے اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں۔ گدھے کے لحاظ سے اس کے دانت قطاردار رہنے کے باوجود اس کو خاص کر حرام کیا گیا ہے، اس لئے اس کے لئے وہ بنیادی اصول نہ آزمائیں۔

کیڑے مکوڑوں کو قرآن کی کسی آیت میں منع نہیں کیا گیا ہے، اور حدیث بھی نہیں ہے۔ بلکہ کیڑوں کی ذات سے تعلق رکھنے والی ٹڈیوں کو نبی کریم ؐ کے زمانے ہی میں ان کے سامنے ہی رسول کے صحابیوں نے کھایا ہے۔ اس کے لئے کئی دلیلیں موجود ہیں۔ 

ہم نے نبی کریم ؐ سے مل کر ٹڈیوں کو کھا تے ہوئے چھ سات جنگ کی ہے۔ (بخاری : 5495)

سمندری جانوروں میں اور کیڑے مکوڑوں میں کئی طرح کے زہریلے جانورہیں۔بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ کیا انہیں کھا کر ہمیں مر جا نا ہے؟

تم اپنے آپ کو ہلاک مت کرلو۔ (قرآن 2:195)

تم اپنے آپ کو قتل نہ کرلو۔ (قرآن 4:29)

قرآنی آیت اس طرح کہنے سے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ضرر پہنچانے والی تمام چیزیں حرام ہیں۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک سبزی کھانے سے نقصان ہوتا ہے تو اس کو کھا نا حرام ہے ۔سانپ، چھپکلی اور سمندری زہریلے جانور وغیرہ بھی اسی میں شامل ہیں۔ 

یہ صرف جانداروں ہی کے لئے نہیں بلکہ نباتات اور اناج وغیرہ دیگر کھانے کی چیزوں کے لئے بھی عام ہے۔ 

جانداروں میں یہی کچھ ممنوع ہیں۔ ان کے سوا باقی کے تمام جاندارانسانوں کے کھانے کے لئے حلال کی گئی ہیں۔ 

چند اجازت شدہ چیزیں ہمیں کراہت محسوس ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہو تو اس کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے سوسمار کا گوشت کھانا پسند نہیں کر تے تھے۔ تاہم ان کے سامنے دوسرے لوگ اس کو کھائیں تو انہیں نہیں روکتے تھے۔ (بخاری: 2575، 5391، 5400، 5402، 5536، 5537، 7267) 

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ مجبوری کی حالت میں ممنوع کئے ہوئے چیز کھاسکتے ہیں ۔ مجبوری کی حالت کونسی ہے یہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 431 دیکھئے! 

41۔کیا مرنے کے بعدزندہ رہتے ہیں؟ 

آیت نمبر 2:154، 3:169 کہتی ہیں کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت کہو۔ انہیں مردہ مت سمجھنا۔ مسلمانوں میں بعض لوگ اس کوغلط سمجھ بیٹھے ہیں۔ 

ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان آیتوں سے یہ دلیل ملتا ہے کہ بزرگ لوگ اور نیکو کار مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں، اس لئے ان کی اتباع کر سکتے ہیں، انہیں پکار سکتے ہیں، ان کے پاس دعا کرسکتے ہیں۔ کئی وجوہات سے یہ بات بالکل غلط ہے۔ 

ایک انسان اچھا ہے یا برا ، کوئی انسان جان نہیں سکتا۔ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 215میں کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسول نے جن کو نیک کہا ہم بھی اس کو نیک جان سکتے ہیں۔ لیکن انہیں جشن منانے اور ان کی اتباع کر نے کے لئے یہ آیت دلیل نہیں ہے۔ 

بزرگوں اور نیکوکاروں کا جشن منانے یا ان کی اتباع کر نے کی اجازت دینے کے لئے یہ آیت نازل نہیں کی گئی۔اللہ کی راہ میں جان قربان کر نے کے لئے کوئی پس و پیش نہ کریں، اس پر زور دینے کے لئے ہی یہ اتارا گیا۔ 

یہ آیتیں اترنے کے بعد نبی کریم ؐ یاصحابی رسول نے اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو نہ پکارا ہے ناہی دعا کی ہے، اس کو پہلے سمجھ لینا چاہئے۔ 

ان آیتوں کو غور سے اگر تفتیش کر یں توہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ان لوگوں کا بیان کتنا غلط ہے ۔

آیت نمبر 2:154 میں ’’وہ لوگ زندہ ہیں‘‘ کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’پھر بھی تم سمجھوگے نہیں‘‘۔

وہ لوگ جو زندہ ہیں ، وہ ہماری سمجھ کی طرح نہیں، بلکہ ہم جو سمجھ سکتے نہیں اس انداز سے زندہ ہیں، یہی اسکا مطلب ہے۔ 

آیت نمبر 3:169اور اس کے بعد آنے والی چار آیتیں بھی اس بات کو بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:169 کہتی ہے کہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں۔کہا گیا ہے کہ ہمارے علم کے مطابق اگر وہ مربھی گئے ہوں تواللہ کے نزدیک وہ لوگ زندہ ہیں۔ 

اس آیت کا اللہ کے رسول ؐ نے جو وضاحت کی ہے وہ بھی بہت اہم ہے: 

ہم نے پوچھا کہ اللہ کی راہ میں جان کی قربانی دینے والے زندہ ہیں تو کیسے؟تو نبی کریمؐ نے فرمایا: ان کی روح سبز رنگ کے پرندوں کے گھونسلوں میں ہوگی۔وہ جنت میں اپنی خواہش کے مطابق پھرتے رہیں گے۔

راوی : ابن مسعودؓ ، مسلم: 3834

حشر کے فیصلے کے بعد ہی نیک لوگ جنت میں جائیں گے۔ اسی لئے نبی کریم ؐنے فرمایاکہ وہ لوگ انسانی شکل کے بجائے سبز رنگ پرندے بن کر جنت میں پھر تے رہیں گے۔ 

نبی کریم ؐ نے اتنی واضح دلیل دینے کے بعد بھی’’ اللہ کی راہ میں مارے جانے والے زندہ ہیں‘‘ کی آیت کو بعض لوگ براہ راست معانی دے کر گمراہی کو چن لیتے ہیں۔

اللہ کی راہ میں مارے جانے والے زندہ ہیں کی آیت کو اللہ کے رسول نے جو معانی دی ہے اس کے سوااس کو دوسرا کوئی معانی نہیں ہے۔اگر کوئی اس کو ایسا معانی دیں کہ اللہ کی راہ میں مارے جا نے والے مرے بغیر ہم جیسے زندہ ہیں تو وہ آنے والے ان سوالوں کا کیاجواب دے سکتے ہیں؟ 

اگر ان سے پوچھا جائے کہ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، کیا ان کی جائدادان کے وارث بانٹ لے سکتے ہیں؟ کیا ان کی بیوی دوسری شادی کر لے سکتی ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ کر سکتے ہیں۔

اس بات سے ہم جان سکتے ہیں کہ ہمارے حد تک وہ لوگ بھی ان کے مرنے کو مان لیا ہے۔ 

ایک بات کے لئے فرض کر لو کہ ہمارے ہی جیسے وہ بھی زندہ ہیں ۔ کوئی زندہ رہنے کی وجہ سے کیا ان کے پاس دعا کر سکتے ہیں؟ کیا ان کو اللہ کی صفت آجائے گی؟ ہم بھی تو زندہ ہیں؟ کیا ہم ایک دوسرے سے دعا کر سکتے ہیں؟ 

آیت نمبر4:157-159، 5:75، 43:61 میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی آج تک بھی زندہ ہی ہیں۔

عیسیٰ نبی نے اس دنیا میں بہت سے معجزے دکھائے۔ انہیں پکارکر دعا کر نے والے عیسائیوں کی کاروائی کو غلطی ماننے والے مسلمان عیسیٰ نبی کے برابری کے بھی نہ رہنے والوں سے اور مرے ہوئے لوگوں سے دعا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ 

سب کچھ پیدا کر نے والے اور تمام قدرت رکھنے والے پروردگار ہی سے دعا کرنا چاہئے۔ ایک شخص زندہ ہے اسی وجہ سے ہم اس سے دعا نہیں مانگ سکتے۔ 

ایک انسان اللہ کی راہ میں مارا گیا یا وہ شان و شوکت کے لئے جنگ میں شامل ہوا، یہ بات تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ایک انسان اللہ کی راہ ہی میں مارا گیا ۔اس کو ہم حاشیہ نمبر 215 میں وضاحت کی ہے۔

’’اللہ کے سواکسی اور سے دعا نہ کریں‘‘ اس معانی والی آیتیں سینکڑوں پائی جاتی ہیں۔ ان آیتوں کو دیکھئے:

2:186، 3:38، 7:29، 7:55، 7:56، 7:180، 7:194، 7:197، 10:12، 10:106، 13:14، 14:39، 14:40، 16:20، 17:56، 17:110، 19:4، 21:90، 22:12، 22:13، 22:62، 22:73، 23:117، 27:62، 31:30، 35:13، 35:14، 35:40، 39:38، 40:12، 40:20، 40:60، 40:66، 46:4، 46:5۔ 

ان آیتوں کے خلاف بھی ان کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ 

درگاہ کی عبادت کو صحیح ثابت کر نے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 49، 79، 83، 100، 104، 121، 122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 میں دیکھئے۔

More Articles …