Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

32۔ مسجدوں سے کسی کو روکنا نہیں

قرآن کی یہ آیتیں 2:114، 96:8-18کہتی ہیں کہ مسجدوں کا حقدار اللہ ہی ہے، اس میں صرف اللہ کی عبادت کر نے والے کسی کو نہ روکیں۔ 

دنیا کی مختلف مذاہب میں عبادت گاہ ہی چھوت چھات کی آماجگاہ نظر آتی ہیں۔ 

تالاب، کنواں ، راستے اور سرکاری اداروں کے استعمال میں ایک حد تک چھوت چھات کو خاتمہ کر نے کے باوجود عبادت گاہوں میں سو فیصد اس کی پیروی کی جاتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک مخصوص فرقہ ہی عباد ت گاہوں کی خاص جگہوں کے اندار جاکر عبادت کر سکتے ہیں ، اس کو ہم بدل ہی نہیں سکتے۔ 

لیکن یہ حال مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجدوں میں پائی نہیں جاتی۔ کیونکہ اسلام کا عقیدہ ہے کہ مسجدوں کا مالک اللہ ہی ہے

یہ آیت(2:114) اعلان کر تی ہے کہ اللہ کے خاص گھر میں اس کی عبادت کر نے کے لئے کوئی بھی آئیں تو انہیں روکنا نہیں۔اس طرح روکنا بہت بڑا گنا ہے ہے۔ایسی نصیحتوں کی وجہ ہی سے اسلام میں چھوت چھات دکھائی نہیں دیتی۔ 

کسی بھی وجہ سے مسلمانوں میں کسی کو مسجدوں میں آنے سے روکنا بہت بڑا گنا ہ ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے اللہ کے گھرکعبہ میں جب نماز پڑھی تو انہیں ان کے دشمنوں نے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ 

اس کے بارے میں آیت نمبر 96:9-18 میں اللہ نے سختی سے انتباہ کی ہے۔ 

اللہ نے اس آیت میں جو کہا ہے کہ’’انہیں اپنی مجلس کو جمع کر نے دو، ہم بھی اپنی مجلس جمع کریں گے‘‘، یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے سخت انتباہ ہے۔ 

اسلام کے ابتدائی دور میں نبی کریم ؐ نے جب کعبۃاللہ میں نماز پڑھی تو شرک ٹہرانے والے اس زمانے کے لوگ نبی کریم ؐ کے گلے میں اونٹ کی آنتیں ڈال کر مذاق اڑایا۔ نبی کریم ؐ نے اللہ سے فریاد کی کہ یا اللہ! انہیں تو دیکھ لے۔ ان سب کو اللہ نے بغیر جڑ کے درخت سا گرادیا۔ (دیکھئے: بخاری 240، 520، 2934، 3185، 3854، 3960)

اس لئے مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کی مسجدوں میں اللہ کی عبادت کر نے آنے والوں کومنع کر نا بہت ہی سخت جرم ہے۔یہ اللہ کے خلاف جنگ کا اعلان سمجھ کر ایسی حرکتوں سے باز آجانا چاہئے۔ 

پیدائشی طور پر سب برابر ہیں۔ صرف چال چلن کی وجہ سے ایک سے ایک بڑھ سکتا ہے، اور اسلام کی مساوات اور بھائی بندی وغیرہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 11، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 290، 368، 508 دیکھئے!

31۔ موسیٰ سے پوچھے گئے نامناسب سوالات

اس آیت 2:108 میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی سے ان کی قوم نے جس طرح سوال کی تھی اس طرح تم بھی نبی کریم ؐ سے سوال مت کرنا۔ ہم نے جب قرآن میں تلاش کی کہ موسیٰ نبی سے ان کی قوم نے کیا پوچھا تھا تو ہمیں معلوم پڑا کہ انہوں نے موسیٰ نبی سے اللہ سے سرزنش کی ہوئی چار شدید باتوں کو پوچھا تھا۔ 

ان چار باتوں کی طرف ہی یہ اشارہ کر تی ہیں ، یہ سمجھنا ہی اس کی ساری تفصیل ہو گی۔ 

1۔ موسیٰ نبی اور ان کی قوم کو سمندر میں ڈوبے بغیر اللہ نے انہیں بچا کر کنارے پہنچایا۔ اس کے بعد بتوں کی پرستش کر نے والی ایک قوم کو موسیٰ نبی کی قوم نے دیکھا۔

نہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! ان کے پاس جو ہے اسی طرح کا معبود ہمیں بھی بنا کر دو! یہ آیت نمبر 7:138 میں موجود ہے۔

موسیٰ نبی کے پاس ان کی قوم نے جو باتیں پوچھی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ اس کے بارے میں نبی کریم ؐ نے تشریح کی ہے: 

نبی کریم ؐ نے ایک درخت سے گزرے۔ وہ درخت شرک ٹہرانے والے لوگوں کی تھی۔ ذات انواد نامی اس درخت میں مشرکوں نے اپنے ہتھیاروں کو لٹکا یا کر تے تھے۔ اس کو دیکھ کر بعض صحابیوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے پاس جوذات انواد نامی مقدس درخت ہے، اسی طرح ہمارے لئے بھی ایک مقدس درخت انتظام کیجئے۔نبی کریم ؐ نے کہا : اللہ پاک ہے۔ موسیٰ نبی کی قوم نے پوچھا تھا کہ انہیں جس طرح کئی معبود ہیں اسی طرح ہمیں بھی معبودوں کا انتظام کرو! تمہارا یہ سوال بھی اسی طرح دکھائی دیتا ہے۔ میری جان جس کے قبضہ میں اس پر قسم ! تم سے پہلے گزرے ہوے لوگوں کی طریقے کوتم اسی طرح پیروی کروگے!

ترمذی :2106

جب اسلام میں تمام اچھی چیزیں ہیں تو غیر اسلامی مذہبوں کی رسمیں بھی اسلام میں ہوں، ایسی خواہش نہیں کر نی چاہئے، اسی مدعا کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

قندوری جلسے، پنجہ، صندل عرس، میلاد کے جلسے، نیا سال منانا، فال کی کتاب، مر نے والوں کو تیسری، ساتویں اور چالیسویں دنوں کے رسمیں کرنا،مذہبی پیشواؤں کی قدم بوسی کر ناوغیرہ کر نے والے، ایسا لگتا ہے جیسا کہ موسیٰ نبی کے پاس غیر مذہبوں کے معبودوں کی طرح اپنے لئے بھی معبودوں کو پوچھنے والے اسرائیلوں کے برابر ہیں۔ اس آیت پر غور کر نے سے یہ بات سمجھ میں آجائیگی۔

2۔ موسیٰ نبی کی قوم نے اللہ کی قدرت اور حکمت کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے بعد بھی موسیٰ نبی سے پوچھا کہ اللہ کو ہمارے سامنے دکھاؤ۔ آیت نمبر 4:153 کہتی ہے کہ اچانک ایک بہت بڑی آواز پیدا ہوئی اور وہ لوگ بے ہوش ہو گئے۔ 

انسان اس دنیا میں اللہ کو دیکھ نہیں سکتا ،یہ اطلاع دینے کے باوجود اللہ سے یہ پوچھنا کہ اس کو بدل دو تو وہ اللہ کو غضبناک کر نے والی چیز ہوگی۔ 

اس آیت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس چیز کا اللہ نے فیصلہ کر چکا ، اس کو بدل دینے کے لئے استدعا نہ کریں۔

3۔ ہمیں اس بات پر یقین ہو نا چاہئے کہ اللہ جو بھی قانون نافذ کرتا ہے تو اس میں ضرورت کی ساری چیزیں شامل کر کے ہی جاری کر تا ہے۔اس میں زیادہ چھان بین کرنا ہمارے لئے ہی مشکل پیدا کرے گا۔ 

ان جیسے سوالات بھی موسیٰ نبی کی قوم نے موسیٰ نبی سے پوچھا تھا۔

موسیٰ نبی کے زمانے میں ایک شخص مارا گیا۔ قاتل کو ڈھونڈنکالنے کے لئے اللہ نے کہا کہ ایک بیل ذبح کر کے اس کے ایک حصہ سے مرنے والے پر ماروتو وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشاندہی کر ے گا۔

جب اللہ نے کہا کہ ایک بیل کو ذبح کرو توکہنے کے ساتھ وہ کسی بیل کو ذبح کر دینا تھا۔ کسی بھی بیل کو اگر وہ ذبح کر دیتے تو اللہ کے حکم پر عمل کرنے والے ہوگئے ہوتے ۔لیکن انہوں نے بیل کا رنگ کیاہے، اس کی صفت کیاہے جیسے غیر ضروری سوالات اٹھا کر اپنے آپ پر تکلیفیں ڈال لیں۔ اس کو آیت نمبر 2:67-71 میں دیکھیں۔ 

یہ رائے بھی اس میں شامل ہے کہ اس طرح گستاخانہ انداز سے نہ چلیں۔

4۔ یہ رائے بھی اس آیت میں شامل ہے کہ وحی نازل ہو تے وقت اللہ کے پیغمبر سے زیادہ تشریح نہ مانگا کریں۔ 

ان 5:101,102 قرآنی آیتوں میں یہ بات تشریح کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ جن باتوں کی میں نے تشریح نہیں کی اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو۔تم سے پہلے گزر جانے والے اپنے بنیوں سے زیادہ سوال کر نے کی وجہ سے اور نبیوں سے اختلاف رائے کر نے کی وجہ سے برباد ہوگئے۔

بخاری: 7288

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ غیر ممنوع چیز کے بارے میں سوال اٹھا کر اس سوال کی وجہ سے وہ چیز اگر ممنوع قرار پائی تو وہی انسان مسلمانوں میں بہت بڑا مجرم ہوگا۔ 

بخاری : 7289

مندرجہ بالا چار باتیں بھی اس میں شامل ہیں کہ موسیٰ نبی سے اسرائیل جسطرح سوال کئے ویسے نبی کریم ؐ سے سوال نہ کریں۔

یہ آیت وہی بات کہتی ہے کہ اس طرح نبیوں سے سوال نہ کیا کریں۔ 

لیکن باطل علماء اس آیت کو دلیل کی طرح لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے پاس کوئی سوال نہ کیا کریں، اور جو وہ کہتے ہیں اس کو آنکھ بند کر کے یقین کریں۔

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد کسی بھی علماء سے سوال کر و تو اس کی وجہ سے کوئی حلال حرام نہیں ہوسکتا، اور کوئی حرام حلال نہیں ہوسکتا۔اس لئے علمائے دین اپنے پاس سوال نہ کر نے کے لئے اس آیت کو ڈھال نہ بنالیں۔ 

اس سے زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 150 دیکھیں۔

30۔ بعض آیتیں کیوں بدل دی گئیں؟

آیت نمبر 2:106، 13:39، 16:101 میں کہا گیا ہے کہ اللہ اپنی آیتوں کو بدل دے گا۔ 

ان آیتوں کو پڑھنے والے سوچ سکتے ہیں کہ اللہ نے جو آیت نازل کی ہے، وہی اس کو کیوں بدلے؟ وہ تو ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ بدلنے کی نوبت نہ آئے بغیر وہ پہلے ہی سے اس کو ٹھیک کر نا چاہئے تھانا؟

یہ اللہ کی لاعلمی ظاہر نہیں کرتی۔ بلکہ وہ لوگ سمجھ لینا چاہئے تھا کہ یہ اس کی بے انتہا علم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 

تاریخ میں اور وعدہ کر نے میں پہلے جو کہا گیاتھااس کو بدلنا نہیں چاہئے۔

قانون جب بناتے ہیں تو ماحول کے مطابق ہی بنانا چاہئے۔ ماحول بدل جانے کے بعد اگر قانوں نہ بدلا جائے تو وہی نادانی ہے۔ 

تناتنی کے عالم میں حکومت کرفیو کا حکم نافذ کر تی ہے۔ کشیدگی دور ہو نے کے ساتھ کرفیو کا حکم ہٹالیتی ہے۔ کرفیو کا حکم جاری کر دینے سے اس کو ایسے ہی قائم رکھناعقلمندی نہیں ہو سکتی اور تناتنی کا عالم پیدا ہو نے کے بعد کرفیو کا حکم نہ دینا بھی دانشمندی نہیں ہے۔ 

ایک ماں اپنے دو سال کے بچے کو چند کھانے کی چیزیں دینے سے انکار کردے گی، اورکھانے سے روکے گی۔ وہی بچہ جب دس سال کا ہوجائے تو پہلے جو منع کیا تھا اسی غذا کو کھانے کے لئے کہے گی۔وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ ایسا کہنے کی نوبت آئیگی۔یہاں بچے کی حالت بدلی ہے پر ماں کے علم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

نبی کریم ؐ جب دین پھیلانا شروع کئے تو اس وقت مکہ میں مسلمان زندہ رہنا ہی بڑا مسئلہ تھا۔ ایسی حالت میں یہ قانون نافذ نہیں کر سکتے کہ چوری کیا تو ہاتھ کاٹ دو۔ اگر ویسا کیا جائے تو وہ بے معنی ہوگا۔ حکومت اور اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں آنے کے بعد ہی وہ قانون ڈالا جا سکتا ہے۔ اس لئے بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر قانون نافذ کرنا ہی عقلمندی کہلائے گی۔ 

ایک واقعہ 2002 میں واقع ہوا کہنے کے بعددوسرے دن وہ واقعہ 1967میں واقع ہوا کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تاریخ ہے۔ جو واقع ہوا اس کو بدلی نہیں کر سکتے۔ایسی کوئی تبدیلی قرآن مجید میں نہیں ہے۔ بعض قانون میں ہی ویسا ہوا ہے۔ 

مندرجہ بالا آیتیں اس انداز سے ترکیب دی گئی ہیں کہ قرآنی آیتوں کو ضرورت کے مطابق اللہ بدلی کرے گا ۔

یہ آیتیں 6:34، 6:115، 10:64، 18:27، 48:15 کہتی ہیں کہ قرآنی آیتوں میں اللہ کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح قرآن میں اختلاف رہنے سے وہ اللہ کی کتاب نہیں ہوسکتی۔ 

یہ آیتیں 6:34، 6:115، 10:64، 18:27، 48:15اللہ کی آیتوں کو بدلنے کے بارے میں نہیں کہہ رہی ہیں بلکہ اللہ کے فیصلے اور اس کے احکام کے بارے میں کہہ رہی ہیں۔ 

مندرجہ بالا آیتوں میں اللہ اپنے اختیار کے بارے ہی میں کہتا ہے کہ ایک قوم کو جب اللہ مٹا نے کا ارادہ کر کے اسکے لئے قانون اتار دے تو دوسرا قانون نافذ کر کے کوئی اس کو بدلا نہیں سکتا۔

اللہ کے حکم کو بدلنے والا نہیں کا مطلب ہے کہ اس کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔یہ مطلب بھی اس میں شامل ہے کہ اگر چہ اس کو بدلنا بھی ہو تومیں ہی بدلوں گا۔

قرآن کی آیتوں کو بدلنے کے بارے میں یہ آیتیں نہیں کہہ رہی ہیں، اس لئے اس میں کسی قسم کی اختلاف نہیں ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 155 اور 157 دیکھئے!

29۔ دوہری معنوں میں نبی کو بلانے والے منافقین

ان آیتوں میں 2:104، 4:46 فرمایا گیا ہے کہ دینی معاملے میں دوہری معنوں میں بات نہیں کر نی چاہئے۔

عربی لفظ راعنا ذومعنی والے ہیں۔ ایک معنی ہماری طرف توجہ کیجئے، اور دوسری معنی اے ہمارے چرواہے۔ 

یہودیوں میں جو منافقین تھے وہ اپنے دل میں اے میرے چرواہے کا خیال کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کو راعنا کہہ کر اطمینان ہوجایا کر تے تھے۔ مسلمان تو اس کو پہلے معانی میں استعمال کیا کرتے تھے۔

ہمیں توجہ فرمائیے کا مطلب لفظ انظرنا کو بھی ہے۔ لیکن انظرنا لفظ کو راعنا جیسے دو معنی نہیں ہیں۔ 

یہاں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ذومعنی والے راعنا کو چھوڑکرنبی کے لئے ایک ہی معنی والے انظرنا استعمال کریں۔


اسی طرح ’اطعنا‘کا لفظ’ مطیع ہوئے‘ کامعنی دینے کے باوجود’ اطعنا‘ کہنے کے انداز میں منافقین نے نبی کریم ؐ کی طرف ’عصینا‘ کہا کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اختلاف کیا۔


دوہری معنوں میں بات کر تے ہوئے دوہرا چہرہ ظاہر کر نے والے یہودیوں کی چال یہاں ظاہرکی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ مسلمان ایسی باتوں سے دور رہا کریں۔ 


اس میں یہ نصیحت بھی پایا جا تا ہے کہ جو کہنا ہے اس کو واضح طور پر اور بغیر انتشار کے کہیں۔

28۔ جادو کے بارے میں یہودیوں کی جھوٹے دعوے

 آیت نمبر 2:102 میں جادو کے بارے میں یہودیوں کے سارے جھوٹے دعؤوں کواللہ جھٹلاتا ہے۔

 
اس آیت میں کیا خبریں دی گئی ہیں، پہلے اسکو جان لیں۔


سلیمان کی حکومت میں شیطانوں نے جو کہا انہوں نے اس کی پیروی کی، یہ جملہ کیا کہتا ہے؟ 


جادو کسی نیکوکاروں سے سکھلائی نہیں گئی۔ اس کو سکھلانے والے سلیمان نبی کے زمانے میں موجود برے لوگ ہی تھے۔ یہی اوپر والے جملے کی معانی ہے۔ 


سلیمان نے (ایک اللہ سے) انکار نہیں کیا۔ (جبرئیل، میکائیل نامی) ان دونوں فرشتوں کو (جادو) عطا نہیں کیا گیا، یہ جملہ کیا کہتا ہے؟ 


یہود جو کہتے ہیں کہ جادو سلیمان نبی نے سکھلائی ہے، وہ غلط ہے۔ انہوں نے جادو نہیں سکھلائی۔

 اگر وہ جادو سکھلائے ہوتے تو اس وجہ سے وہ اللہ کا انکار کرنیوالے ہوتے۔ انہوں نے جادو بھی نہیں سکھلائی اور اللہ کا انکار کر نے والے بھی نہیں ہوئے۔


اسی طرح یہاںیہی کہا گیا ہے کہ یہودیوں نے جو مانا تھا کہ جادو فرشتوں نے سکھلائی ہے ، ان کاوہ اعتبار غلط ہے ۔یعنی جادو سیکھنا کفر ہے، اس کو نہ سلیمان نبی کر سکتے ہیں اور نہ ہی فرشتے۔ 


بابل شہر میں لوگوں کو جادو سکھلانے والے ہاروت اور ماروت نامی شیطان ہی انکار کے یہ جملہ کیا کہتا ہے؟ 


ہاروت ماروت نامی شیطانوں ہی نے جادو سکھلائی۔ اس کے ذریعے انہوں نے اللہ کا انکار کر نے والے بن گئے۔ 


’’ہم عبرت کے لئے ہیں۔ اس لئے (اس کو سیکھ کراللہ کا) انکار مت کر دینا۔‘‘ یہ کہے بغیر ان دونوں نے کسی کو سکھلا تے نہیں، یہ جملہ کیا کہتا ہے؟


اللہ کا انکار کر نے والے ہاروت ماروت نامی شیطان جادو سکھلانے کے پہلے سیکھنے آنے والوں کو پہلے یہ آگاہی کر دیا کر تے تھے۔ہم جادو سیکھنے کی وجہ سے کافر بن کر تمہارے سامنے عبرت بنے ہوئے کھڑے ہیں۔ اس لئے تم بھی اس کو سیکھ کر کافر مت بن جانا، یہی ان کی آگا ہی تھی۔ ہر ایک سے وہ یہ آگاہی کئے بغیر نہیں رہتے۔ 


اس لئے شوہر بیوی کے درمیان جس کے ذریعے تفریق ڈال سکتے اس کو ان دونوں کے ذریعے وہ لوگ سیکھ گئے، یہ جملہ کیا کہتا ہے؟ 


اس مقام پر ہم نے اس لئے جو کہا ہے اس پر ذرا غور کرو۔ 


یہ آدمی دھوکہ باز ہے، اس لئے اس کو میں قرض نہیں دونگا۔ اس جملے میں اس لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ اس لئے کا لفظ استعمال ہو نے کی وجہ سے اس کو میں قرض نہ دینے کا سبب وہ دھوکہ باز ہے۔

 
اسی طرح وہ جملہ بھی قرار پایا ہے۔ 


اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر جادو سیکھ گئے تو کافر بن جاؤگے، ہاروت ماروت نے یہ آگاہی دینے کی وجہ سے جادو کو سیکھے بغیر شوہر اور بیوی کے درمیان جس کے ذریعے تفرقہ ڈال سکتے ہیں اس کو انہوں نے سیکھ لیا۔


جادو سیکھنے سے کافر بن جاؤگے، یہ تنبیہ کر نے کی وجہ سے اپنے کو کافر بنانے والے جادو کو سیکھے بغیر دوسری ایک چیز کو سیکھ لئے۔یہی مطلب اس لئے کے لفظ سے ظاہر ہو تا ہے۔ 


کراٹے اگر سیکھوگے تو استاد کو آداب بجا لانا چاہئے، اس تنبیہ کے ساتھ کراٹے سکھایا گیا۔ اس لئے فرض کرو کہ لوگ کشتی سیکھ گئے۔ کراتے سے پیش آنے والی برائی سے آگاہ کر نے کی وجہ سے وہ لوگ کراٹے چھوڑکر کشتی سیکھ گئے۔ 


اسی طرح مندرجہ بالا جملہ بھی قرار پایا ہے۔ 


کراٹے کی خرابیوں کے بارے میں کہا گیا، اس لئے کراٹے سیکھ گئے کہنا بالکل نامناسب ہوگا۔ تنبیہ کر نے بعد اس کو چھوڑکر دوسری ایک چیز کوسیکھوگے تو ہی اس لئے کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔ 


والد نے تنبیہ کی کہ تمباکو نوشی مت کر۔ اس لئے بیٹے نے اس عادت کو چھوڑ دیا، ایسا کہنا مناسب ہے۔ 


والد نے تنبیہ کی کہ تمباکو نوشی مت کر، اس لئے بیٹے نے اچھی طرح تمباکو نوشی کی ، ایسا کہنا بالکل نامناسب ہوگا۔ 


اس وضاحت کو دل میں رکھتے ہوئے مندرجہ بالاجملے پر غور کریں۔ 


دونوں نے تنبیہ کی کہ جادو سے نقصان ہو گا ۔اس لئے شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنے والے فن کو لوگوں نے سیکھ لیا، اس لفظ سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنے والا فن جادو میں جمع نہیں ہو سکتا ۔ اوریہ کہ عدم جادو کے جادو سے کمترنقصان دینے والی ایک اور چیز ہے۔


یہ کہنے کی وجہ سے کہ سوائے اللہ کی چاہت کے اس کے ذریعے کوئی نقصان پہنچا نہیں سکتے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسکے لئے یہ ایک مثبت دلیل ہے کہ جادو کے ذریعے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔


یہ سچ ہے کہ اللہ اگر چاہا تو اس کے ذریعے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے نہیں جانا کہ اس کے ذریعہ جادو نہیں کہا گیا۔


اگر اس کے ذریعے کہا گیا تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس سے پہلے کیاکہا گیا تھا۔اس سے پہلے کیاکہا گیا تھا ، اس ڈر سے کہ اگر جادو سیکھیں تو کافر بن جائیں گے، اس کو چھوڑ کر شوہر اور بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنے والے فن کوسیکھ لئے۔ 


اس کے ذریعے کا لفظ اسی کی طرف اشارہ کر تی ہے، جادو کی طرف نہیں۔


شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والے فن کے ذریعے اگر اللہ چاہے تو نقصان ہو سکتاہے ، اسی کو یہ جملہ کہتا ہے، جادو سے نقصان ہو گا، نہیں کہا گیا۔ 


اس آیت کو اگر غور سے جانچ کر یں تو معلوم ہو تا ہے کہ جادو کے بغیر شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ پیدا کر نے والے فن ہی کو لوگوں نے سیکھا اور اس کے ذریعے چند نقصانات پیدا ہوسکتا ہے۔


اس میں یہ بولا ہی نہیں گیا کہ جادو سے ضرر پہنچا سکتے ہیں۔


اگر کوئی ایسا سمجھے کہ شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنا جادوکی ایک قسم کیوں نہیں ہوسکتا تو دو وجہ سے وہ غلط ہے۔ 


جادو کے بارے میں وہ دونوں سختی سے آگاہی کر نے کے بعدجادو کی ایک قسم کو اگر سیکھ لئے ہوتے تو ’’اس لئے‘‘ کہا نہیں گیا ہوتا۔ 


نیزاس آیت میں تین جگہوں میں کہا گیا ہے کہ جادو سیکھنا کافر بنادے گا۔ شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنا گناہ کا کام رہنے کے باوجود وہ کافر بنانے کی حد تک گناہ نہیں۔ہم بھی اس طرح نہیں کہا۔جادو پر یقین رکھنے والے بھی اس طرح نہیں کہتے۔ اگران کا سیکھا ہوا یہ فن کسی کو کافر نہیں بنائے گاتو وہ یقینی طور پر جادوکی ایک قسم نہیں ہو سکتی۔


یعنی وہ جادوسیکھے نہیں۔بغیر جادو کے شوہر اور بیوی کو کس طرح جدا کیا جا سکتا ہے، اسی کو سیکھا۔ وہ بھی صد فی صد کامیابی نہیں دے سکتی۔ یہ آیت کہتی ہے کہ سوائے اللہ کے چاہنے سے شوہر بیوی کو الگ نہیں کر سکتے۔


اس طرح ترجمہ کر تے وقت اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کا گناہ عظیم نہیں ہوتا۔قرآن کی آیتیں کہتی ہیں کہ جادو ایک سازش ہے، دھوکہ ہے،وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتاتو اس کا یہ ترجمہ بغیر اختلاف کے تعاون کر تا ہے۔


نیز اس میں اللہ کا استعمال کیا ہوا جملہ بھی غور کر نے کے قابل ہے۔ 


شوہر بیوی کو جس کے ذریعے جدا کیا جاتا ہے وہ بات اصل میں ہے۔ 


اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ شوہر بیوی کو جدا کر نے کا جادو سیکھ لیا۔جس کے ذریعے جدا کیا جا سکتا ہے وہ بات کہہ کر لفظوں کو جو جوڑا گیا ہے وہ بغیر جادو کے ایک اور چیز کی طرف اشارہ کر تا ہے۔ 


اور اس آیت میں ہاروت ماروت دو نام کہا گیا ہے۔ ہاروت ماروت کیا فرشتے ہیں یا برے لوگ ہیں، اس میں مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 


بعض علماء کہتے ہیں کہ ان دو فرشتے کے الفاظ کے بعد ہاروت ماروت کا نام لیاجانے کی وجہ سے یہاں ہاروت ماروت کو فرشتوں کے معانی میں لینا ہے۔ ان لوگوں کے رائے کے مطابق دیکھا گیا تویہ معانی نکلتا ہے کہ ہاروت ماروت نامی دو فرشتے انسانوں کے پاس آکر سحر نامی جادو سکھائے۔


فرشتے کس طرح جادو سکھا سکتے ہیں؟ اس معقول سوال کے جواب میں چند مفسرین ایک کہانی بھی تیار کر رکھے ہیں۔


نوع انسانی کو اللہ ہر وقت تعریف کر تے ہوئے دیکھ کر انہوں نے حسد سے اللہ سے اعتراض کر نے لگے۔خطا کر نے والے انسان کی انہوں نے ایک فہرست بنا کر پیش کیا۔ اس کو دیکھ کر اللہ نے کہا کہ انسانوں کو میں نے ہی خواہش کا جذبہ عطا کیا ہے۔ اس سے وہ لوگ بعض اوقات غلطیاں کر بیٹھتے ہیں۔ تم میں سے کسی دو کو انتخاب کر لو۔ میں انہیں بھی خواہش کا جذبہ پیدا کر دیتا ہوں۔ ان دونوں کو دنیا میں جانے دو۔ اسی طرح ملائک نے ہاروت ماروت نامی دو فرشتوں کو منتخب کیا۔ وہ دونوں دنیا میں آکر انسانوں سے زیادہ گناہ کر نے لگے۔وہی دونوں نے جادو بھی سکھائے۔ یہ رہا وہ کہانی۔


کیا یہ کہانی اور اس کہانی کی بنیاد پرجو معانی لیا گیا ہے، کیا درست ہے؟ اس پر جب ہم غور کر نے لگے توقرآن کی کئی آیتوں سے وہ ٹکراتا نظر آتا ہے۔ 


آیت نمبر 2:30کہتی ہے کہ جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں نوع انسانی کو پیدا کر نے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ انسان تو فساد کر نے والے اور خون بہانے والے ہیں۔


آیت نمبر 2:32 کہتی ہے کہ اللہ نے جب آدم ؑ کی فضیلت اور قابلیت ثابت کر کے دکھائی تو انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے ، تو ہمیں جتنا سکھایا ہے اس کے سوا ہمیں کوئی دوسرا علم نہیں ہے، تو ہی جاننے والا ، حکمت والا ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنی غلطی پر نادم ہوئے۔


آیت نمبر 2:34کہتی ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے آدم ؑ کے مطیع ہو کر اپنی غلطیوں کیلئے کفارہ ڈھونڈ لیا۔ 


انسان کی صلاحیت کے بارے میں پہلے ہی انہوں نے تنقید کی اور اللہ نے اس تنقید کو غلط ثابت کر نے کے بعد فرشتوں نے اپنی غلطی کو مان لیا تھا۔


ایسی فطرت کے مالک فرشتے پھر ایک بار اللہ سے کیوں اعتراض کریں گے؟ 


انسان کو پیدا کر تے وقت اللہ نے ان کی رائے طلب کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنی رائے پیش کی۔ اس کو اعتراض یا بے ادبی نہیں کہہ سکتے۔ 


اس کہانی میں ایسا کہا گیا ہے کہ اللہ نے فرشتوں سے رائے کچھ نہیں مانگا اور انسان کو پیدا کئے جانے کے بعدہی فرشتوں نے خلاف رائے کی۔


اس طرح کی بے ادبی فرشتوں کی خلاف فطرت ہے۔

 
جب ہم نے تحقیق کی کہ ہاروت اور ماروت کوجو فرشتہ کہا جاتا ہے کیا وہ درست ہے؟ تو وہرائے قرآن کی کئی آیتوں سے ٹکراتے ہوئے نظر آئی۔ 


اللہ نے جو حکم دیا اس سے فرشتے کبھی بھی اختلاف نہیں کریں گے۔قرآنی آیت 66:6 کہتی ہے کہ جو حکم ہوا ہے اس کو وہ پورا کر یں گے۔


فرشتے قابل عزت بندے ہیں۔ وہ اللہ کے سامنے کچھ نہیں بولیں گے۔ آیت نمبر 21:26,27 کہتی ہے کہ وہ اس کے حکم کے مطابق عمل کریں گے۔

 
ان آیتوں میں فرشتوں کی صفات اور فطرت کو واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ اتنے اچھے اخلاق والے فرشتے اللہ کے انکار کی طرف ڈھکیلنے والے جادو کو کیسے سکھا سکتے ہیں؟


اس آیت میں کہا گیا ہے کہ سحر نامی جادو سکھاناکفر ہے ۔کفر کی باتوں کوفرشتے ہر گز نہیں کئے ہوں گے۔ 


اگر ہاروت ماروت کو ہم فرشتے سمجھنے لگیں تو جس طرح فرشتوں پر ایمان لانا چاہئے اس سے مختلف انداز میں فرشتوں پر ایمان لے آنا پڑے گا۔ اس لئے فرشتوں کے کردار کے مطابق جس طرح معانی لینا چاہئے اسی معانی سے انہیں سمجھنا چاہئے۔ 


فرشتوں کے کردار کے خلاف کوئی مطلب نکالے بغیر ہمیں دیکھنا ہے کہ کیادوسری قسم کے معانی لے سکتے ہیں؟ 


اس آیت میں وہ دو فرشتے کہا گیا ہے۔ وہ دو فرشتے کہنے کی وجہ سے اس سے پہلے یا پچھلی آیت میں جب ہم تلاش کرتے ہیں کہ کیادو فرشتوں کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے توہمیں آیت نمبر 2:98ملتی ہے جس میں جبرئیل اور میکائیل کے متعلق کہا گیا ہے۔ 


جبرئیل اور میکائیل نامی فرشتوں کے خلاف چلنے والے یہوداس آیت میں تاکید کئے گئے ہیں۔


یہودیوں کی اس چال کے بارے میں اللہ سرزنش کر نے کے بعد اس سلسلے میں (2:102 آیت میں) فرمایاہے کہ ان دونوں فرشتوں کوجادو عطا نہیں کیا گیا۔

 

یہودیوں نے جوکہا کہ ہمیں جبرئیل اور میکائیل نامی دو فرشتوں کے ذریعے ہی جادو ملا ، اس کے خلاف ہی اللہ نے یہ فرمایا ہے۔ 


اس کا مطلب ہے کہ جبرئیل اور میکائیل نامی فرشتوں کو اور جادوئی فن کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ 


آیت نمبر 2:98 میں کہا گیا ہے کہ جبرئیل اور میکائیل نامی فرشتوں کے یہود دشمن تھے۔اسی کی تشریح میں یہ آیت اتری ۔ یہودیوں نے یہ کہہ کرالزام لگایا تھا کہ جبرئیل اور میکائیل نامی دو فرشتوں نے ہی جادو سکھایا تھا ، اس الزام کو اس کے ذریعے اللہ نے دور کر دیا۔ 


یہاں سوال اٹھ سکتا ہے کہ اگر ایسا ہو تو ہاروت اور ماروت کون ہیں؟ ان کے بارے میں یہاں ذکر کر نیکی ضرورت کیا ہے؟ 


یہ آیت اسطرح شروع ہوتی ہے کہ جو شیطانوں نے سکھا یا تھااسی کی انہوں نے پیروی کی۔ 


اگر شیطانوں نے سکھایا ہے تو کیا شیطانوں نے ہی براہ راست سکھایا ہے؟ یا برے لوگوں کو یہاں شیطان کہا گیا ہے؟ 


یہ بھی ہمیں سمجھنا چاہئے۔ 


جس طرح شیطان کا لفظ سچ مچ شیطان کے لئے استعمال کیا گیا ہے اسی طرح ان 2:14، 6:112، 114:5,6آیتوں میں بھی برے لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ 


نبی کریم ؐ نے تنہا سفر کر نے والا شیطان (ابو داؤد 2240، ترمذی 1597) اور شاعروں کو شیطان (مسلم 4548:) کہا ہے۔


ہم جو بحث کر رہے ہیں اس آیت میں کہا گیا ہے کہ شیطانوں نے جادو سکھلایا۔گمان ہو تا ہے کہ کیا یہ شیاطین اصل شیاطین کو کہہ رہے ہیں؟ یا برے آدمیوں کو؟اس گمان کو ہٹا نے کیلئے ہی اللہ نے ہاروت ماروت کہا ہے۔ 


یعنی اللہ نشاندہی کر تا ہے کہ جادو سکھلانے والے شیاطین ہاروت ماروت نامی برے آدمی ہی ہیں۔


عربی زبان میں کئی معنوں والے لفظ استعمال کر نے کے بعد واضح ایک دوسرے لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو عربی زبان میں بدل کہا جا تا ہے۔ اس لحاظ سے شیطانوں کا (بدل) دوسرا لفظ ہی ہاروت ماروت ہے۔ 


ہم اب تک جو کہتے آرہے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ یہودیوں کوفن جادو سکھلانے والے نہ سلیمان نبی ہیں،نہ ہی جبرئیل اور میکائیل نامی فرشتے ۔ بلکہ ہاروت ماروت نامی انسانی شیطان ہی نے سکھلایا۔ 


تفسیری فن میں مہارت رکھنے والے قرطبی نے کہا ہے کہ اس آیت کو مختلف انداز سے معانی دینے کے باوجود یہی بالکل بہترین تشریح ہے۔ 


قرطبی کی اس تشریح کو ابن کثیر بھی اپنی تفسیر میں لیا ہے۔


آیت نمبر 10:77 کہتی ہے کہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ اگر کہتے ہیں کہ جادو سے شوہر اور بیوی کو جدا کیا جاسکتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے جادوگر فتح پائیں گے۔

 
آیت نمبر 7:116کہتی ہے کہ جادو ایک شعبدہ بازی ہے، وہ حقیقت نہیں ہے۔یہ کہنا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتے ہیں، اس آیت کے مخالف ہے۔ 


آیت نمبر 7:118 سے 7:120 تک کہا گیا ہے کہ جادوبھی ہارا اور جادوگر بھی ہار گئے۔ایسا کہنا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکتے ہیں، اس آیتوں کے مخالف ہے۔

 
آیت نمبر 20:66میں کہا گیا ہے کہ بہت بڑے جادو گر جو بہٹ بڑے جادو سے رسی کو سانپ کی طرح بناکر دکھائے، لیکن اس کو سانپ نہیں بنا سکے۔یہ بھی اس رائے کے خلاف ہے۔ 


آیت نمبر 20:69 میں کہا گیا ہے کہ جادو کا مطلب ہے سازش اور مکاری، وہ سچ نہیں ہے۔ایسا کہنا کہ جادو کے ذریعے شوہر بیوی کو جدا کر سکتے ہیں، یہ بھی اس رائے کے خلاف ہے۔ 


اس مطلب سے لکھے ہوئے ترجمے کہ جادو سے شوہر اور بیوی کو جدا کر سکتے ہیں ، بالکل غلط ہے۔اس کے لئے عقلی وجوہات بھی ہیں۔

 
جادوسیکھیں تو کافر ہوجاؤگے ، اگر یہ تنبیہ بھی انہیں کچھ اثر نہ کرسکا تو وہ شوہر بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنے والے بالکل چھوٹے جادو کو کیوں سیکھیں؟ 


اگر چھوٹے جادو سیکھیں بھی کا فر ہی ہوں گے، اور بڑے جادو سیکھیں بھی تو کافر ہی ہوں گے تو وہ کیوں چھوٹے جادو سیکھیں گے؟


جادو اثر کر سکتی ہے کہنے والوں کی رائے کے مطابق جادو ایک بکثرت شعبدہ دکھانے والا فن ہے۔ کافر ہوجائیں گے جان کر بھی جو دلیر ہیں وہ سب قسم کے جادو بھی سیکھے ہوں گے۔ 


ایک ہی جادو، وہ بھی بہت چھوٹا ساجادو، کیا منتخب کرکے سیکھیں گے؟ ایک ہی جادوبھی سیکھو تو کافر ہونا یقینی ہے اور ہزارہا جادو بھی سیکھو تو کافر ہونا یقینی ہے۔ اس حالت میں سب کچھ یا بڑے بڑے جادو کو سیکھے بغیر کیوں چھوڑدیا؟ 


مال جمع کر نے کے لئے اور دنیوی آسائشیں حاصل کر نے کے لئے ہی جادو سیکھنے کی کوشش کئے ہوں گے۔ ایک ہی جادو اگر سیکھیں تو کم ہی مال جمع کرنا ہوگا۔ اگر زیادہ جادو سیکھیں تو زیادہ مال جمع کر سکتے ہیں۔ 


دنیوی آسائشوں کے لئے کافر بننے کے بارے میں فکر نہ کر نے والے، سب قسم کے جادو ہی نا وہ سیکھے ہوں گے؟ اس پر غور کرو تو ہمیں واضح ہو تا ہے کہ ترجمے میں کہیں کوئی کوتا ہی ہے۔


اس لئے قرآن کی دیگر آیتوں کو بغیر اختلاف کے اور اسلام کی بنیادی عقیدے کے مطابق اس آیت کو معانی دینا ہی درست ہے۔


جادو کے متعلق پوری تفصیل معلوم کر نے کے لئے حاشیہ نمبر 285، 357، 468، 495، 499 وغیرہ دیکھئے۔ 



27۔ کیا سب عیسائی کو کتاب دی گئی ہے؟

ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اہل کتاب قوم کی عورتوں سے مسلم شادی کر سکتے ہیں، ان کا کھانا پینا مسلمانوں کو جائز ہے ۔


اہل کتاب کون ہیں، اس میں کئی قسم کی رائے پائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ کتابوں کو ماننے والے سب کی طرف اشارہ ہے۔ پھر بھی قرآن میں اہل کتاب والی آیتیں یہود اور عیسائی کے بارے ہی میں کہا گیا ہے۔ 


یہود ی اور عیسائیوں کو جو اہل کتاب کہا گیا ہے ، اس سے یہ نہ سمجھ لیناکہ وہ تمام یہودی اور عیسائی ہیں۔ سب یہودی اور عیسائی اہل کتاب نہیں ہو سکتے۔


کیونکہ عیسیٰ نبی اوریہودیوں کی طرف بھیجے ہوئے موسیٰ نبی یہ سب انبیاء صرف اسرائیلی قوم کی طرف بھیجے گئے۔ 


تورات اور انجیل وغیرہ اسرائیل ہی کے لئے بھیجا گیا۔


آیت نمبر 3:49، 5:72، 43:59، 61:6کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی نے کہا کہ میں اسرائیل کے لئے ہی بھیجا گیا ہوں۔


جو غیر اسرائیل ہیں اگر وہ عیسائی بن بھی گئے ہو تے تو وہ اہل کتاب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ انجیل ان کے لئے نہیں دی گئی۔


نبی کریم ؐ سارے عالم کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے۔اور چند بھی اس طرح بھیجے گئے ہوں گے۔ لیکن اکثر انبیاء مخصوص لوگوں کے لئے اور مخصوص قوم کے لئے ہی بھیجے گئے۔ 


اور یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ موسیٰ نبی بھی توفرعون کو رسول بنا کر بھیجے گئے تھے؟ وہ تو اسرائیلی قوم کا نہیں تھا۔


یہ حقیقت ہے کہ موسیٰ نبی شروع میں صرف اسرائیل کو نہیں بلکہ فرعون کی قوم کے لئے بھی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔


لیکن فرعون اور اس کی قوم ہلاک کئے جا نے تک موسیٰ نبی کو تورات عطا نہیں کیا گیا تھا۔ فرعون ہلاک ہو نے کے بعد ہی اللہ نے انہیں تورات عطا کیا۔ اور وہ یہی کہہ کر عطا کیا گیا تھا کہ یہ تورات اسرائیل کے لئے ہے۔ اس کو ذرا تفصیل سے دیکھیں۔


موسیٰ نبی اور ہارون نبی کو اللہ نے فرعون کی طرف بھیجتے وقت کوئی کتاب انہیں دے کر نہیں بھیجاگیا تھا۔ چند معجزے دے کر تبلیغ کر نے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ 


موسیٰ اور ہارون نبی فرعون اور اس کی قوم کو تبلیغ کر تے ہیں۔ موسیٰ نبی اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ 


اس وقت تورات نازل نہیں کی گئی تھی۔ 


اسرائیلی قوم پر فرعون ظلم کر نے لگتا ہے۔ موسیٰ نبی اور ان کی قوم اس کو برداشت کر لیتے ہیں۔ فرعون کی قوم قحط، سخت بارش، ٹڈی، جوں، مینڈک اور خون وغیرہ سے کئی طریقوں سے آزمائش میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ 


اس وقت بھی تورات عطا نہیں کی گئی۔


اس کے بعد موسی نبی اور ان کی قوم شہر چھوڑکر بھا گ جاتے ہیں۔ فرعون بھگاتے ہوئے آتا ہے۔ آخر میں موسیٰ نبی اور انکی قوم بچا لئے جا تے ہیں۔ فرعون سمندر میں غرق کردیا جاتا ہے۔ 


اس وقت بھی تورات نازل نہیں کی گئی تھی۔


اتنے سارے واقعات کے بعد ہی اللہ نے موسیٰ نبی کو کتاب عطا کیا۔ 


ساتویں سورت کی 103 سے 150 تک کی آیتوں کو غور کر نے سے اس حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ 


103 سے 141 تک کی آیتوں میں موسیٰ نبی کی تبلیغ ، آزمائش، فرعون کی بربادی وغیرہ کہنے کے بعد 142 سے145 تک کی آیتوں میں اللہ انہیں کتاب عطا کر نے کا واقعہ سنا تا ہے۔


کسی قسم کی کتاب کے بغیر ایک لمبے عرصے تک موسیٰ نبی اور ہارون نبی نے تبلیغ کر تے آئے ہیں۔ 


آیت نمبر 3:93، 17:2، 32:23، 40:53، 5:43,44، 61:6وغیرہ پر اگر غور کریں تو معلوم ہوسکتا ہے کہ موسیٰ نبی کو جو۔۔۔۔ تورات دی گئی تھی وہ صرف اسرائیلوں کے لئے تھی۔ 


اسی طرح آیت نمبر 3:49، 5:72، 7:105، 7:134، 7:138، 10:90، 17:2، 17:101، 20:47، 20:94، 26:17، 32:23، 40:53، 43:59، 61:6 وغیرہ کو دیکھو تو معلوم ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ نبی کو جو انجیل دی گئی تھی وہ صرف اسرائیلوں کے لئے تھی۔


غیر اسرائیل کے عیسائیوں کو وہ کتاب نہ دئے جا نے سے وہ لوگ اللہ کی نظروں میں اہل کتاب نہیں ہوسکتے۔


اس لئے ’’اہل کتابوں سے نکاح کر سکتے ہیں، اور ان کی ذبح کی ہوئی چیزیں کھا سکتے ہیں‘‘ کا حکم صرف اسرائیلوں کے لئے ٹھیک ہے۔ اسرائیل کے سوا یہودو عیسائی اہل کتاب کی فہرست میں جگہ نہیں پا سکتے۔


اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 137، 138 دیکھئے۔

26۔ نامناسب آیتوں کے نمبر

چھاپے ہوئے قرآن کی نقلوں میں ہر ایک آیتوں کے آخر میں اس آیت کی نمبر لکھی گئی ہے۔ لیکن نبی کریمؐ کے سامنے لکھی ہوئی نقل میں اور ان کے بعد عثمانؓ کے حکومت میں لکھی ہوئی نقل میں بھی اس طرح نمبر نہیں ڈالا گیا تھا۔ بعد کے زمانے میں آنے والے ہی اس میں نمبرڈالے تھے۔ 


کئی جگہوں میں مناسبت سے نمبر ڈالنے کے باوجود چند جگہوں میں ناموزوں طریقے سے بھی نمبر ڈالا گیا ہے۔ 


مدعا پورا نہ ہونے کے جگہوں میں بھی نامناسب آیتوں کو بھی نمبردیا گیا ہے۔ 


چند جگہوں میں فاعل کو ایک آیت اور فعل کو ایک آیت بنایا گیا ہے۔ دونوں کو ملاکر ایک آیت بنانے سے ہی اس کامقصد پورا ہوگا۔ 


چند جگہوں میں رائے ایک آیت ہے اوراس رائے سے استثناء کوایک اور آیت بنایا گیا ہے۔ ان دونوں کو ملا کر اگر ایک آیت بنادئے ہوتے تو سمجھنے کے لئے آسان ہوتا۔ 


نامناسب نمبر والے آیتوں کو ملا کر ہم نے ترجمہ کیا ہے۔اس کو نشاندہی کر نے کے لئے ہی ہم نے حاشیہ نمبر 26ڈالا ہواہے۔ 


آیتوں کو نمبر دینے کے معاملے میں کافی غورو فکر نہیں کیا گیا، اس کو ہم نے قرآن ترتیب دینے کے واقعات کے عنوان کے تحت آیتوں کے ہندسے کے عنوان میں تفصیل سے لکھا ہے۔

12۔ وہ جنت کونسی ہے جہاں آدم نبی بسے تھے

2:35 ، 7:19، 7:22، 7:27، 20:121 ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ’’آدم نبی جنت سے باہر نکالے گئے‘‘۔ اس میں دو قسم کا مطلب نکالا گیا ہے۔ 

سورگ ہی جنت ہے۔

آخرت میں نیک لوگوں کو اللہ جو چمن عطا کر نے والا ہے ، وہ جنت کہلاتا ہے۔ 

اس دنیا میں جو باغات ہیں اس کو بھی جنت کہتے ہیں۔

قرآن مجید میں ان دونوں معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ آدم ؑ کوجنت میں بسایا گیا اور وہ حکم عدولی کر نے کی وجہ سے باہر نکال دئے گئے۔ 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرآن کہتا ہے (2:30) آدم ؑ زمین میں پیدا کئے گئے، اور شیطان جنت میں گھس کر انہیں گمراہ نہیں کر سکتا اس لئے زمین میں آدم کے لئے ایک باغ بنا کر اسی میں وہ ٹہرائے گئے، اسی میں سے وہ باہر نکالے گئے۔ 

ان دونوں میں جو بھی قبول کرو تو وہ اسلامی بنیاد کو یااس سے جو عبرت حاصل کیا جا تا ہے ، کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔

More Articles …