Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏89۔ کیا دوسرے مذہب والوں کو دوست نہیں بنا سکتے؟ ‏

ان آیتوں میں3:118، 3:128، 4:89، 4:139، 4:144، 5:51، 5:57، 5:80، 5:81، 9:16، 9:23، 58:14، ‏‏60:1، 60:8، 60:9، 60:13) کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے سوائے دوسروں کو دوست بنا نا نہیں چاہئے۔ 

ان آیتوں کو دیکھ کر بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ غیر مذہبوں کے خلاف اسلام نفرت کی بیج بوتی ہے۔ ایسا سوچنا غلط ہے۔ 

اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ آیت کس کے بارے میں کہتی ہے اور یہ کس لئے اتاری گئی ہے تو ایسی شک و شبہ پیدانہیں ہوسکتی۔

قرآن مجید نازل ہونے والے زمانے میں مسلمانوں کے اطراف بسنے والے کئی معبودوں کے عقیدتمند اور یہودی مسلمانوں کے خلاف فوج اکٹھا کر ‏رہے تھے۔ 

کسی بھی طرح مسلمانوں اور اسلام کو مٹادینے کے لئے قسم کھارکھا تھا۔ کوئی سال جنگ کے بغیر نہیں رہا۔ چند سالوں میں ایک سے زیادہ جنگ بھی ‏مسلمانوں کو سامنا کر نا پڑا۔ 

ایسی ایک پُرآشوب ماحول میں چند مسلمانوں کے رشتہ دار اور دوست لوگ دشمنوں کے حصے میں بسے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ مسلمانوں نے ‏دوستی کر رکھی تھی۔ مسلمانوں کے ذریعے انہیں کوئی خبر نہ پہنچ جائے ، اس لئے انہیں اس طرح حکم دیا گیا تھا۔ 

ان آیتوں میں استعمال شدہ لفظوں پر اگر غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ یہ مناہی عام نہیں ہے اور غیر مسلموں کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ 

آیت نمبر 5:57 کہتی ہے کہ اسلام کامذاق اڑانے والوں کے ساتھ دوستی نہ کرو۔ اسلام کا مذاق اڑائے بغیر مسلمانوں سے رضامند رہنے والوں کا ‏یہاں ذکر نہیں ہے۔ 

آیت نمبر 60:2 کہتی ہے کہ تم سے دشمنی سے پیش آنے والوں کے ساتھ، ہاتھوں اور زبانوں سے تمہیں ضرر پہنچانے کی تدبیر کر نے والوں کے ‏ساتھ دوستی مت کرو۔ مسلمانوں کے اگر دشمن نہ ہوں اور ہاتھوں سے اور زبانوں سے ضرر نہ پہنچانے والے ہوں توان کے ساتھ دوستی کر نے کو یہ ‏منع نہیں کرے گا۔

آیت نمبر 60:1 کہتی ہے کہ تمہیں اور نبی کریم ؐ کو شہر چھوڑ کر بھگانے والے تمہارے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ اپنے خلاف عمل پیرا ہو نے والوں ‏کے ساتھ کوئی بھی مذہب دوستی نہیں کر یگی۔ 

یہ آیتیں (60:8,9) کہتی ہیں کہ تمہیں اور نبی کریم ؐ کو بھگانے والوں کے ساتھ اور دین کے خلاف تم سے جنگ کرنے آنے والوں کے ساتھ ‏دوستی سے پیش نہ آؤ۔ ان جیسے نہ ہوں ان غیر مسلموں سے صرف دوستی ہی نہیں بلکہ انہیں بھلائی بھی کرو۔یہ آیتیں فرق کر کے دکھاتی ہیں کہ غیر ‏مسلموں میں دوستی کر نے کے قابل بھی ہیں اور ناقابل بھی ہیں ۔ 

آیت نمبر3:118 کہتی ہے کہ ظاہری طور پر دشمنی دکھا کر اندرونی انداز سے تمہیں مٹانے کی تدبیر کر نے والوں کو دوست مت بناؤ۔ جو ہمیں ‏مٹانے کی تدبیر کرتا ہے ان سے کون دوستی کرے گا؟ 

آیت نمبر 5:82کہتی ہے کہ اس زمانے کے عیسائی قوم مسلمانوں سے قریبی دوست تھے۔ یہ آیت یہی کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کے زمانے کے غیر ‏مسلمانوں میں عیسائی قوم مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور قریب رہا کرتے تھے۔

آیت نمبر 5:2، 5:8 کہتی ہیں کہ ایک قوم تمہیں برائی پہنچانے کی وجہ سے ان پر ظلم نہ کرو۔ مسلمانوں کو برائی پہنچانے والے بھی ہوں تو انہیں ‏عدل پہنچانے میں انکار کرنا نہیں چاہئے۔ اس سے بڑھ کر مذہبی آ ہنگی کہیں ہوسکتا ہے؟ 

آیت نمبر 9:4 کہتی ہے کہ معاہدہ کر کے قاعدے سے چلنے والوں کے پاس اپنے عہد کو پورا کرو۔فوج جمع کر کے آنے والے دشمن بھی ہوں ، اگر وہ ‏مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کئے ہوں تو پرانی دشمنی کو بھول کر ان سے کیا ہوا معاہدہ کو پورا کریں، کیا ایسا حکم دینا مذہبی تعصب ہو سکتا ہے؟ 

آیت نمبر 9:6 کہتی ہے کہ غیر مسلم اگر پناہ مانگیں تو انہیں پناہ دو۔ ایک غیر مسلم دوسروں سے تکلیف پا کر مسلمانوں کے پاس اگر پناہ مانگے تو وہ ‏غیر مسلم ہو نے کی وجہ سے اس کو پناہ دینے سے انکار نہیں کر نا چاہئے، اس انداز سے دوسرے مذاہب والوں کو اسلام سہارا دیتا ہے۔ 

آیت نمبر 29:8، 31:15 وغیرہ کہتی ہیں کہ اگر والدین مسلم نا بھی ہوں تو ان لوگوں کا جو حق ہے ا س کو ادا کرنا چاہئے۔ 

ان آیتوں کے ساتھ اگر مندرجہ بالا آیتوں کو ملا کر دیکھاجائے تو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جنگ کا اعلان نہ کرنے والے غیر مسلموں سے اچھی ‏طرح ملنساری سے رہنے کے لئے ہی اسلام کہتا ہے۔ 

صرف وہی نہیں بلکہ نبی کریم ؐ کی حکومت میں غیر مسلم لوگ سب طرح کے حقوق کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے۔ 

نبی کریم ؐ کے بڑے دشمن جو تھے ان یہودی قوم کا ایک نوجوان نبی کریم ؐ کے خادموں میں سے ایک تھا۔ 

‏(دیکھئے بخاری: 1356) 

نبی کریمؐ کی حکومت میں جو یہود تھے وہ ہر طرح سے نبی کریم ؐ کو تکلیفیں پہنچا رہے تھے۔ نبی کریم ؐ کو مار دینے کی بھی تدبیریں کررہے تھے۔ دشمن ‏ملک کو اطلاع پہنچا نے والے بھی ان میں تھے۔ دوہرے بھیس میں مسلمانونکو دھوکہ دینے والے بھی تھے۔

اس جیسی قوم کے ایک نوجوان کو نبی کریم ؐ اپنا خادم بنالیا۔ ایک قوم کے لوگ اگر دشمن بنے ہوں تو اس قوم میں رہنے والے اچھے لوگوں سے دشمنی ‏نہیں کر نا چاہئے، اس انداز سے آپ میں انسانی چاہت بھری ہوئی تھی۔ اسی لئے دشمن کی قوم میں رہنے والے ایک شخص کواپنے خادموں میں ایک ‏شامل کرلیا۔

نبی کریم ؐ نے اپنا زرہ بکتر ایک یہودی کے پاس گروی رکھا تھا۔ (دیکھئے بخاری: 2068،2096، 2200، 2251، 2252، 2386، ‏‏2509، 2513، 2916)

نبی کریم ؐ کی حکومت میں یہود بہت ہی قلیل تعداد میں تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ اپنے ملک سے وفادار نہ ہوتے ہوئے نبی کریم ؐ کے دشمن ملکوں کو ‏خبریں پہنچا کر ان کے وفادار بنے رہے۔

اپنے ملک سے وفادار نہ ہوتے ہوئے دوہرے بھیس بدل کر آنے والی قوم کو کوئی بھی ملک عزت نہیں دیتا۔ لیکن یہود کئی قسم کی تکلیفیں دینے کے ‏باوجود وہ لوگ نبی کریم ؐ کی حکومت میں جس انداز سے احترام اور عزت سے چلائے گئے ، اس کے لئے یہ ایک سند ہے۔ 

ملک کے فرمانرواگروی رکھنے والے تھے، اقلیت کے قوم والے اس گروی کو رکھ لینے والے تھے۔اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے ‏دل کی وسعت کتنی تھی۔ 

ایک یہودی عورت نے نبی کریم ؐ کے پاس زہرآلود بکری کی گوشت بھن کر لائی تھی۔ نبی کریم ؐ نے اس کو کھالیا۔ فوراً اس کو پکڑ کا لایا گیا۔ آپ سے ‏سوال کیا گیا کہ کیا ہم اس کو ماردیں؟ آپ نے کہا کہ نہیں۔ انسؓ کہتے ہیں کہ اس زہر کے اثر کو میں نے آپ کے منہ کے اندرونی حصہ میں دیکھا۔ ‏‏(بخاری: 2617)

نبی کریم ؐ کے دشمنی اور اقلیت میں رہنے والی یہودی عورت زہر آلود بکری کی گوشت لا کر دی تو اس کو قبول کرنے کی حد تک آپ کریم النفس تھے۔ ‏جب یہ خبرپھیلی تواس عورت کو کھینچ کر لایا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کو مار ڈالیں تو آپ نے منع کردیا۔

نبی کریم ؐ نے جو دین لایا تھا اس کا قانون یہ تھا کہ مجرموں کوسختی سے سزا دینا چاہئے اور ان پر رحم نہیں کرنا چاہئے۔ 

قانون کی کارروائی میں بالکل سختی برتنے والے نبی کریمؐ نے اپنا ذاتی معاملہ رہنے کی وجہ سے اس کو معاف کردیا۔ 

نبی کریم ؐ کے سامنے سے ایک لاش گزری۔ نبی کریم ؐ نے فوراً اٹھ کھڑے ہوگئے۔ ان سے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کی لاش ہے۔ آپ نے جواب ‏دیا کہ وہ بھی تو ایک جان ہے! 

‏(بخاری: 1311، 1313)

مرنے والے کی لاش لے جاتے وقت بیسویں صدی میں بھی فسادات برپا ہونے کوہم دیکھ رہے ہیں۔ مخالف قوم کے جسم کو ہماری گلی سے لے جانا ‏نہیں کہہ کر ایک ہی مذہب کے لوگ مار پیٹ میں مبتلا ہو نے والوں کو ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔ 

وہ زندہ رہتے وقت چلنے پھر نے کے لئے اجازت دینے والے بھی اس کے مردہ جسم کووہ حق دینے کے لئے انکار کر نے کو ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔ 

نبی کریمؐ سلطنت کے سردار ہیں۔ ان کی دشمن قوم یہود تھے۔ یہودی یعنی اقلیتی قوم کے ایک شخص کی لاش کو نبی کریم ؐ کے سامنے ہی کسی قسم کی ‏ہچکچاہٹ اور خوف کے بغیر لے جایا جاتا ہے۔ 

مسلمانوں کی حکومت میں امت مسلمہ بسنے والے محلہ کے راستے سے ، مسلم حکومت کے فرمانروا بسنے والی گلی سے لاش کو لے جانے کے لئے اقلیتی ‏قوم کو کسی قسم کی خوف نہیں تھی۔ بالکل معمولی طور سے لاش کو لئے جاتے ہیں۔ 

لاش گزرتے وقت دل میں نفرت لئے ہوئے، ناپسندیدہ کراہت کے ساتھ کیا نبی کریم ؐ اور مسلمانوں نے امن کو اپنایاتو ہرگز نہیں۔ بلکہ اٹھ ‏کھڑے ہو کر اس لاش کواحترام کرنے کے ذریعے پورے دل کے ساتھ اجازت دے دیا۔ 

یہود خود انصاف مانگتے ہوئے نبی کریم ؐ پاس آتے تھے۔ (دیکھئے بخاری: 2412، 2417)

دوستی کی دکھاوا کر نے والے منافق بھی ظاہری طورپر جنگ کا اعلان نہ کر نے کی وجہ سے ان سے بھی مسلمان میل جول رکھتے تھے۔ اسی لئے اسلام ‏ان لوگوں کو جیت لیا۔ 

اس لئے ان دلیلوں سے ہم جان سکتے ہیں کہ غیر مسلموں سے دوستی نہ رکھنا عام نہیں ہے اور غیر مسلموں سے بھی اچھی میل جول رکھنا چاہئے۔

جنگ، دہشت انگیزی اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 53، 54،55، 76، 197، 198، 199، 203، ‏‏359 وغیرہ دیکھیں!‏

‏88۔ کیا مرد سونے کے زیورار ت پہن سکتے ہیں؟ ‏

مرد سونے کے زیورات پہننے کو نبی کریم ؐ نے منع کیا تھا۔ لیکن بعض لوگ اس آیت (3:14) کی دلیل سے کہتے ہیں کہ مرد سونے کے زیورات ‏پہن سکتے ہیں۔ 

لیکن نبی کریم ؐ نے مردوں کو جو سونے کے زیورات پہننے سے منع کیا تھا وہ اس آیت کے خلاف نہیں ہے۔ 

اس آیت میں سونے کے زیورات پہننے کے بارے میں ذکر ہی نہیں ہے۔ سونے چاندی کے انبار جمع کر نے کے بارے ہی میں اس آیت کے بارے ‏میں کہا گیا ہے۔ 

اگر حدیث میں یہ کہا گیا ہو تا کہ سونے چاندی کے انبار جمع مت کرو تو ہی وہ اس آیت کے خلاف ہو سکتا ہے۔ 

مزید سونے چاندی کے ڈھیر کو جمع کر نے کی اجازت سے بھی یہ آیت ترکیب نہیں پائی گئی ہے ۔  

اس آیت میں صرف یہی کہا گیا ہے کہ سونے چاندی کے انبار کو خوشنما بنا دیا گیا ہے۔ اگر فرض کرو کہ وہ زیورات کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے تو بھی ‏خوشنما کردیا گیا ہے کا لفظ اجازت دئی گئی ہے کے معانی میں نہیں آسکتا۔ 

خوشنما کر دیا گیا ہے کا لفظ قرآن مجید میں صرف اجازت دی گئی ہے کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ 

انسان کواچھا برا جو بھی خوبصورت دکھائی دیتی ہے ان سب کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

اس کو 6:43، 6:108، 6:122، 6:137، 8:48، 9:37، 10:12، 13:33، 16:63، 27:4،27:24، 29:38، ‏‏35:8، 40:37، 47:14 ، 48:12 وغیرہ آیتوں میں دیکھئے! 

اس لئے مرد سونے کے زیورات پہننے کے لئے یہ آیت دلیل نہیں سکتی۔ 

 ‏87۔ کمزور حالت کے باوجود جنگ بدر کامیاب‏

اسلامی تاریخ میں جو جنگ بدر واقع ہوئی اس کے بارے میں آیت نمبر 3:13 میں کہا گیا ہے۔ 

اس جنگ میں مسلمان تعداد میں بہت کم اور کافی ہتھیار کے بغیر تھے۔ پھر بھی مسلمانوں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔

اس جنگ کے بارے میں بہت بڑی دلیل کے طور پر اس آیت کو کیوں کہا گیا ہے؟

مسلمان تعداد میں بہت کم تھے اور دشمن ،مسلمانوں سے تین حصہ زیادہ تھے۔ اور مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور کھانے پینے کی چیزیں بھی زیادہ نہیں ‏تھی۔ 

وہ چیزیں دشمنوں کے پاس ضرورت سے زیادہ تھیں۔ ماہ رمضان میں سترہ تاریخ کو یہ جنگ ہوا تھا تو اس وقت بہت سے صحابی روزہ دار تھے۔جو ‏روزہ دار نہیں تھے وہ بھی اس سے پہلے روزہ رکھنے کی وجہ سے بہت کمزور تھے۔ 

اس طرح مسلمانوں کی طرف سے بہت سی کمزوریاں رہنے کے باوجود اس جنگ میں مسلمانوں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس میں کوئی شک ‏نہیں کہ حقیقت میں یہ اللہ کی بہت بڑی دلیل ہے۔

جنگ بدر کے بارے میں اور زیادہ معلوم کر نا ہو تو حاشیہ نمبر 358 دیکھئے۔

‏‏86۔ ذو معنی والے الفاظ‏

آیت نمبر 3:7 کواکثر مسلمان غلطی سے سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس لئے اس کے بارے میں تھوڑی تفصیل سے جان لیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ قرآن کی آیتوں میں متشابہ اور محکم دو قسم کے ہیں۔محکم کیا ہے اور متشابہ کیا ہے، اس میں مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 

غلط رائے کی طرف جو موڑ نہ سکے وہ محکم ہیں۔ 

نیک لوگ اگرٹھیک سے سمجھ بھی لیں ، اس کو گمراہ لوگ غلطی سے موڑ بھی سکتے ہیں ، وہی متشابہ ہیں۔ یہی ٹھیک رائے ہے۔ 

لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ محکم کا معانی ہے سب کو سمجھ میں آجانااور متشابہ کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو سمجھ میں نہ آنا۔ 

یہی اکثر لوگوں کی رائے ہے، پھر بھی جب تفتیش کیا گیا تو ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ یہ رائے بالکل غلط رہنے کے علاوہ یہ رائے اللہ کی حیثیت کو بہت ‏ہی گھٹاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ 

متشابہ کے آیت کو معانی دینے میں جوفرق ہوا تھا، وہی اس اختلاف رائے کی وجہ ہے۔

اس آیت نمبر 3:7 کوہم نے اس طرح ترجمہ کیا ہے: 

‏(اے محمد!) اسی نے تم پر یہ کتاب نازل کی۔اس میں واضح احکام کی آیتیں بھی ہیں ، وہی اس کتاب کی اصل ہیں۔ اور ذومعنٰی والی دوسری آیتیں ‏بھی ہیں ۔ جن کے دلوں میں خرابی ہے وہ فتنہ کی تلاش میں اور ان کی وضاحت چاہتے ہوئے ان میں ذومعنیٰ آیتوں کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ ‏حالانکہ اللہ اور راسخ علم والوں کے سوا اس کی وضاحت(اور) کوئی نہیں جانتا۔ وہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ، سب ہمارے رب ہی کی ‏طرف سے آئی ہوئی ہے۔ عقل والوں کے سوا (دوسرے) کوئی غور نہیں کرتے۔

ہمارے اس ترجمہ سے تمہیں یہ رائے ملے گی کہ قرآن میں محکم اور متشابہ دو قسم کے آیات موجود ہیں، محکم آیتوں کو سب لوگ ٹھیک سے سمجھ ‏جائیں گے، متشابہات آیتوں کو اللہ اور برگزیدہ عالم ٹھیک سے سمجھ جائیں گے، لیکن جاہل اور گمراہ لوگ ہی متشابہات آیتوں کو غلط انداز سے سمجھ کر ‏راستہ بھٹک جائیں گے۔ 

اس آیت کو دوسرے لوگوں کا ترجمہ بھی دیکھتے ہیں۔ 

‏(اے نبی!) اسی نے اس کتاب کو بھی تم پر نازل فرمایا ہے۔اس میں بالکل واضح معانی والے آیتیں بھی ہیں، وہی اس کتاب کی بنیاد ہے۔ اور ‏‏(تمہیں) پوری معنی نہ معلوم آیتیں بھی ہیں۔ جن کے دل میں اختلاف ہے وہ غیر واضح معانی والے آیتوں ہی پیروی کریں گے۔ فتنہ پیدا کر نے ‏کی غرض سے بھی اس کو (اپنی غلط مقصدکے مطابق) بدلنے کے لئے بھی ایسا کر تے ہیں۔ تاہم اس کی اصل معانی کو اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔ ‏راسخ العلوم (اس کے معانی کو مکمل طریقے سے نہ جانتے ہوئے بھی) کہیں گے کہ اس کو بھی ہم مانتے ہیں اور (ان دو قسم کی آیتیں ) تمام اپنے ‏رب کی طرف سے اتاری گئی ہیں۔ عقل والوں کے سوا دوسرے کوئی (ان سے) نصیحت حاصل نہیں کریں گے۔ 

۔ جان ٹرسٹ کا ترجمہ

وہی (اس) کتاب کو تم پر اتارا۔اس میں واضح آیتیں بھی ہیں۔ وہی اس کتاب کی بنیاد ہے۔ باقی کے (کئی معنوں والی) متشابہات(کے آیتیں) ‏ہیں۔ تاہم جن کے دلوں میں گمراہی ہے وہ فتنہ برپا کر نے کے لئے متشابہات آیتوں کی وضاحت کی تلاش کرتے ہوئے اس کی پیروی کر تے ہیں۔ ‏اللہ کے سوا دوسرا کوئی اس کی اصل تفصیل کو نہیں جانتے۔راسخ علم والے کہیں گے کہ وہ سب اپنے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ، ہم اس پر ‏یقین رکھتے ہیں۔ عقل والوں کے سوا دوسرے کوئی اس سے نصیحت حاصل نہیں کریں گے۔ ۔ عبد الحمید باقوی کا ترجمہ

یہ دونوں تراجم کہتے ہیں کہ محکم آیتیں سب لوگوں کی سمجھ میں آجائیں گی، متشابہ آیتوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، انسانوں میں کوئی نہیں جانتا۔ 

ہمارے اور دوسروں کے ترجمے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتاہے۔ دونوں کو صحیح بھی نہیں کہہ سکتے اور دونوں کو غلط بھی نہیں کہہ سکتے۔ ‏دونوں میں صرف ایک ہی صحیح ہوسکتا ہے۔ اور دوسرا صحیح نہیں ہوسکتا۔

ہمارا ترجمہ اور دوسروں کا ترجمہ عربی ادب کے لحاظ سے صحیح ہے۔ ادب کے لحاظ سے دونوں صحیح رہنے کے باوجود اس آیت میں کونسا ترجمہ مناسبت ‏رکھتا ہے، اس پر ہم غور کرنا چاہئے۔ 

دو نوں طریقوں سے ترجمہ کرنا عربی ادب کے لحاظ سے اجازت رہنے کی وجہ سے ہماری چاہت کے مطابق ترجمہ نہیں کر نا چاہئے۔ دو قسم کے ‏ترجمے میں ایک ترجمہ اسلامی بنیاد کے خلاف ہو اور ایک ترجمہ اسلامی بنیاد کے مطابق ہو تو جو اسلامی بنیاد کے مطابق ہو اسی کو ہم لینا چاہئے۔ 

یہ ترجمہ کہ متشابہ آیتوں کو انسانوں میں کوئی نہیں جان سکتا، کئی وجوہات سے قابل قبول نہیں ہے۔ 

اللہ نے فرمایاہے کہ انسانی سماج سیدھی راہ پانے کے لئے اور عبرت حاصل کر نے کے لئے ہی قرآن مجید نازل کیا گیاہے۔ اگر قرآن سے انسان ‏سیدھی راہ پانا ہو تووہ اس طرح ہونا چاہئے کہ وہ انسانوں کی سمجھ میں آجائے۔ جو کسی کے سمجھ میں نہ آئے اس طرح کا منترجپنا سیدھی راہ دکھا نہیں ‏سکتا۔ 

اس بات کوکہنے والی کہ پورا قرآن سمجھنے کے قابل ہے ، کئی آیتیں موجود ہیں۔ ان آیتوں میں سے چند آیتوں کے نمبر ہم یہاں درج کرتے ہیں۔

‏2:99، 2:159، 2:185، 2:219، 2:221، 2:242، 2:266، 3:103، 3:118، 3:138، 4:26، 4:82، ‏‏4:174، 5:15، 5:89، 6:105، 6:114، 7:52، 10:15، 10:37، 11:1، 16:89، 17:41، 17:89، 18:54، ‏‏20:2، 22:16، 22:72، 24:1، 24:18، 24:34، 24:46، 24:58، 24:59، 26:2، 27:1، 28:2، 29:49، ‏‏39:27، 41:3، 46:7، 54:17، 54:22، 54:32، 54:40، 55:2، 58:5، 65:11۔ 

یہ آیتیں اور اس معانی میں ترکیب پائی ہوئی آیتیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سارا قرآن سمجھنے کے قابل ہے۔ قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ‏ہے کہ جو سمجھ میں نہ آسکے، ان آیتوں کے مطابق دوسروں کا ترجمہ ترکیب نہیں پائی ہے۔ اس لئے ہمارا ترجمہ ہی صحیح ہوسکتا ہے۔ 

متشابہ آیتوں کے بارے میں اللہ نے دو مقام پرکہا ہے۔ پہلا مقام 3:7 آیت ہے۔ 

دوسرا مقام 39:23 آیت ہے۔ اس میں کہا گیا ہے:

اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے۔ وہ بار بار دہرائی گئی اور متشابہات میں سے ہیں۔ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے اس سے کھڑے ‏ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کی جلد اور دل اللہ کو یاد کر نے کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔یہی اللہ کی سیدھی راہ ہے۔ اسی کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے ‏ہدایت دیتا ہے۔ اللہ نے جس کو گمراہی میں چھوڑدیا اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ (39:23)

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ متشابہ آیت کو سننے سے اللہ سے ڈرنے والوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔رونگٹے کھڑے ہونے کا لفظ ‏واضح طور پر بات سمجھ میں آنے کے بعد دل میں پیوست ہوجا نے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 

متشابہ آیتوں کو سننے سے اللہ سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑا ہونے لگتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ آیتیں سمجھ میں آگئی ہیں اور وہ دل ‏میں گہرائی تک پہنچ چکی ہیں۔ 

مزید اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ ان کے دل اللہ کو یاد کر نے کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔ جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو کیا اسے سننے کے ساتھ اللہ کی ‏یاد میں دل نرم ہوسکتا ہے؟ متشابہ آیتیں سمجھ میں آسکتی ہیں، اس کے لئے یہ بھی ایک مزید دلیل ہے۔ 

مزید اس آیت میں اللہ مدح سرائی سے کہتا ہے کہ قرآن میں متشابہ آیتیں رہنے کی وجہ ہی سے وہ بہترین کلام ہے اور متشابہ کے ساتھ یہ کلام ترکیب ‏پانا ہی اس کی فضیلت ہے۔ہمیں غور کر نا چاہئے کہ اگر وہ کسی کو سمجھ میں نہ آیا ہو تا تو کیا اللہ نے اس کو فضیلت والا کہا ہوگا؟ یہ جملہ بھی ثابت کرتا ہے ‏کہ متشابہ آیتیں سمجھنے کے قابل ہیں۔ 

اللہ سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجا ئیں گے، اس قول کے ذریعے اللہ فرماتا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اس کو سمجھ جائیں گے۔ اسی طرح ‏آیت نمبر 3:7 میں فرماتا ہے کہ علم میں خصوصیت رکھنے والے متشابہ آیتوں کو سمجھ جائیں گے۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے وہ اور آیت نمبر 3:7 میں جو کہا گیا ہے کہ علم میں خصوصیت رکھنے والے وہ، دونو ں ایک ہی قسم ‏کے لوگ ہیں۔ 

کیونکہ دوسری ایک آیت (35:28) میں اللہ فرمایا ہے کہ اللہ کے بندوں میں اس سے ڈرنے والے عالم ہی ہیں ۔ اس لحاظ سے دونوں آیتیں ایک ‏عام نقطے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:7 میں اللہ نے یہ کہنے کے بعد کہ دل میں نافرمانی رکھنے والے فتنہ کی تلاش میں متشابہ آیتوں کو غلط انداز سے استعمال کریں گے اور علم ‏میں خصوصیت رکھنے والے صحیح معنی سمجھ جائیں گے،آیت نمبر 39:23 میں بھی اسی رائے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد ’’اس کے ذریعے جسے وہ ‏چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہی میں چھوڑدیا اس کو راہ دکھلانے والاکوئی نہیں‘‘ کہہ کر اس آیت کو ختم کر تا ہے۔ 

یعنی اللہ فرماتا ہے کہ متشابہ آیتوں کے ذریعے ہدایت پانے والے بھی ہیں اور گمراہ ہونے والے بھی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:7 کودو مختلف قسم کے معانی دینے کا موقع رہنے کے باوجود آیت نمبر 39:23 میں متشابہ کے بارے میں دو قسم کے رائے کو موقع نہ ‏دیتے ہوئے واضح طور پرتشریح کیا گیا ہے۔اس آیت کو بھی ملا کر آیت نمبر 3:7 کو اگرمعانی دیا جائے تو دونوں آیتیں متشابہ آیتوں کے بارے میں ‏ایک ہی رائے دیتے ہوئے تم پاؤگے۔

‏(ان دونوں آیتوں(3:7، 39:23) میں متشابہات اور متشابہ کے الفاظ جگہ پائے ہیں۔ تامل زبان کے ترجمے میں ان دونوں کو الگ الگ معانی جو ‏دیا گیا ہے اس پر توجہ نہ دیتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جگہوں میں عربی متن پرغور کریں۔)

قرآن مجید کو اللہ کا کلام نہ مانتے ہوئے اسے غلط ثابت کرنے والوں کو اللہ آخرت میں سختی سے دریافت کر ے گا۔ آیت نمبر 27:84میں قرآن کہتا ‏ہے ، اللہ پوچھے گا کہ میری آیتوں کوپوری طرح ٹھیک سے نہ جانتے ہوئے کیا اس کو تم جھوٹ سمجھ لیا تھا؟ یا دوسرا کیا کر رہے تھے؟ 

‏’’پوری طرح سے جاننا‘‘اس ترجمے کے جگہ میں ’’تحیطوا‘‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔یہ لفظ عربی زبان میں پوری طرح سے جاننے کے لئے ہی ‏استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں جاننا اور کچھ چیزیں نہ جاننا ، پوری طرح سے جاننا نہیں کہلاسکتا۔ قرآن مجید میں اسی لفظ سے نکلنے والے کئی الفاظ استعمال ‏ہو نے والی چند آیتیں ملاحظہ فرمائیے: 2:255، 18:68، 18:91، 20:110، 27:22، 65:12، 72:28۔

اس سوال کے ذریعے کہ کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سے جانے بغیر جھوٹ سمجھ لیا تھا، قرآنی آیتوں کو پوری طرح سے نہ سمجھنے والوں کو ‏اللہ سرزنش کرتا ہے۔ اس سے یہ اچھی طرح ظاہر ہو تا ہے کہ تمام قرآنی آیتوں کو خوب جان سکتے ہیں اور جاننا بھی چاہئے۔ اگر قرآن کو پوری طرح ‏سے جان نہیں سکتے تو اللہ اس طرح سوال نہیں کرے گا۔ اس کو ایک جرم کی طرح پوچھا بھی نہیں ہوتا۔ 

کلام الٰہی میں نہ سمجھنے والی ایک آیت بھی نہیں، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

اللہ نے کئی جگہوں میں فرمایا ہے کہ قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ ان آیتوں میں 12:2، 26:1952، 20:113، ‏‏39:28، 41:3، 41:44، 42:7، 43:3 اللہ فرماتا ہے کہ لوگ سمجھنے کے لئے ہی اس کو عربی زبان میں اتارا گیا ہے اورعربی زبان میں ‏ترکیب دی گئی وہ آیتیں واضح کی گئی ہیں۔

صرف محکم آیتیں ہی نہیں بلکہ متشابہ آیتیں بھی واضح عربی زبان میں ہی نازل کی گئی ہیں۔ 

واضح عربی زبان میں نازل کی گئی متشابہ آیتیں کسی انسان کی سمجھ میں نہ آئے گی ،تو ایسا کہنا کہ اس کو سمجھنے کیلئے کوشش کر نے والے بھی سمجھ نہیں ‏پائیں گے۔ سوچنا چاہئے کہ یہ کیسا خودسرانہ خیال ہے؟ متشابہ آیتیں سمجھ میں نہیں آئے گی ، کہنے سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ تمہیں اس بات سے ‏انکارہے کہ قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ 

نبی کریمؐ اپنے کو اللہ کے رسول ثابت کر نے کے لئے جب قرآن مجیدکو لوگوں کے آگے پیش کیا تواسلام کو قبول نہ کر نے والے مکہ کے لوگ انکار کر ‏نے لگے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے،بلکہ ایک شاعری ہے۔نبی کریم ؐ کو شاعر اوردیوانہ بھی کہنے لگے۔آیت نمبر 8:31 کہتی ہے ، انہوں نے کہا ‏کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس طرح لا سکتے ہیں۔ 

وہ لوگ موقع کی تلاش میں تھے کہ قرآن مجید میں کوئی غلطی مل جائے ، اسکے ذریعے ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ محمد، نبی نہیں ہیں۔

اگر انہیں معلوم ہو تا کہ قرآن مجید میں سمجھ میں نہ آنے والی باتیں بھی ہیں تو کیا وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دیتے؟ قرآن کو ماننے والے لوگ اگر ‏قرآن میں نہ معلوم چیزیں بھی ہوں تو وہ اس کو نظر انداز کر دے سکتے ہیں۔لیکن قرآن کو نہ ماننے والے ضرور اس موقع سے فائدہ اٹھائے ہوں گے۔ ‏قرآن مجید میں کسی کو سمجھ میں نہ آنے والی باتیں بھی موجود ہیں تووہ ضروراس کو فضول باتیں کہہ کر چرچہ کئے ہوں گے۔ 

اسلام کے دشمن کسی بھی موقع پر ایسا ایک مسئلہ کہ قرآن مجید میں سمجھ میں نہ آنے والی چیزیں بھی ہیں ، چرچہ نہیں کیا۔ کسی شخص کی بھی سمجھ میں نہ ‏آنے والی بات اگر سمجھ لو کہ قرآن مجید میں موجود ہوتاتو یہ ان کی نظروں میں بہت بڑی کمزوری ہوتی۔ اس کے ذریعے وہ ان کے دعوے کو ثابت کر ‏نے کی کوشش کریں گے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اس طرح کچھ بھی واقع نہیں ہو ا، وہی اس بات کی سند ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیتیں ‏واضح ہیں۔

متشابہ آیتیں اللہ کے سوا اگر کوئی نہیں جان سکتا تو جبرئیل ؑ بھی اس کو جان نہیں سکتے اور نبی کریم ؐ بھی متشابہ آیتوں کو نہیں جان سکتے۔ کیونکہ ان کا ‏دعویٰ ہے کہ اللہ کے سوا دوسر اکوئی متشابہ آیتوں کو نہیں 

جان سکتا۔اس سے یہ خطرہ پیدا ہو سکتاہے کہ اگر اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں سمجھ سکتا تو وہ نبی کریم ؐ کے سمجھ میں نہیں آسکتی۔

قرآن کریم کے لانے والے جبرئیل ؑ بھی نہ سمجھ سکتے اوراس کو حاصل کرکے دینے والے اللہ کے رسول بھی نہ سمجھ سکتے تو اس سے زیادہ خطر ناک ‏انجام کیا ہوسکتا ہے۔ 

اس تعلیم کو ہم نے اس لئے اتارا کہ لوگوں کو جو نازل کیا گیا ہے تم انہیں واضح کردو اور وہ غور کرنے لگیں۔ (16:44) 

لوگوں کو قرآن سمجھانے کے لئے نبی کریم ؐ کواللہ نے جب مقرر کیاہے توکیا کوئی سچا مسلمان یہ مان سکتا ہے کہ وہی رسول قرآن کو پوری طرح سمجھتا ‏نہیں؟ 

اللہ ، اس کی نازل شدہ کتاب، اس کو نازل کر نے کامقصد ، اللہ کے رسول کی ذمہ داریاں ، ٹھیک طور سے سمجھنے والا کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت ‏ہی نہیں کر سکتا کہ قرآن میں ایک آیت بھی نبی کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ نبی کریم ؐ نے کسی صحابی کو نہیں سمجھایا اوروہ ‏سمجھا بھی نہیں سکتے تھے؟ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں قرآن مجید میں کوئی تفصیل جاننا ضروری ہوتو اصحاب رسول کی عادت تھی کہ وہ نبی کریم ؐ کے پاس اس کی وضاحت معلوم کر ‏لیا کرتے تھے۔ 

اصحاب رسول جب بھی کوئی تشریح مانگتے ہر موقع پر ایک بھی آیت کے بارے میں نبی کریم ؐ نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ یہ مجھے یا تمہیں سمجھ میں نہیں ‏آئے گی۔ جب بھی کچھ پوچھا گیا تشریح کی گئی۔

نبی کریمؐ کی نبوت کے تےئیس سالہ عرصے میں ان پر جو نازل کیا گیا تھا ان میں سے ایک آیت کے بارے میں بھی کبھی نہیں کہا کہ مجھے معلوم ‏نہیں۔ متشابہ آیات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتااگر سچ ہے تو ایک ہی آیت کے بارے میں تو نبی کریم ؐ نے اس طرح کہنا چاہئے تھا؟ کوئی بھی سند نہیں ‏ہے کہ انہوں نے ایسا کہا۔

نبی کریم ؐ کے پاس کسی بھی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کی تشریح فرمائی ، اس کے سوا انہوں نے محکم اور متشابہ کہہ کر کوئی اختلاف ‏نہیں دکھائی۔

ایسی رائے رکھنے والوں کو کہ متشابہ آیتیں انسانوں میں کسی کو سمجھ میں نہیںآئے گی ، متشابہ آیتیں کون سی ہیں، اس کے طئے کرنے میں کئی پیمانے ‏ہیں۔ ہر ایک آدمی ایک وضاحت دے رہا ہے۔ ان سب لوگوں کی رائے اگر دیکھا جائے تو یہی کہنے کی نوبت آئے گی کہ سارا قرآن ہی متشابہ قسم ‏میں جمع ہو کر پورا قرآن ہی کسی کو سمجھ میں نہ آئے۔ 

اگر مناسب دلیلوں کے ساتھ یہ سمجھ میں آجائے کہ متشابہ آیتیں کون سی ہیں تو متشابہ آیتوں کو سب لوگ اگر سمجھ نہ پائیں بھی تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ‏علم رکھنے والے سمجھ جائیں گے۔ 

متشابہ آیتیں کون سی ہیں ، اس کی وضاحت ہی اس کو سمجھنے کے لئے ناقابل انکار دلیل ہے۔

اللہ اور رسول نے فہرست بنا کر نہیں کہا کہ فلاں فلاں آیتیں متشابہ ہیں ۔ تاہم متشابہ آیتیں کیسی ہوتی ہیں ، اس کی طرف اشارے ہمیں ملتی ہیں۔ ان ‏اشاروں کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ متشابہ آیتیں کون سی ہیں اوراسکے ٹھیک معنی کیا ہیں۔

چند آیتیں مختلف قسم کے دو رائے دینے والی ہوگی۔ وہ اختلاف ایسا ہے کہ اگر ایک رائے اٹھالیا جائے تو وہ اسلام کے عقیدے ہی کو نکال پھینکنے والی ‏ہوگی اور اگر دوسری رائے لیا جائے تو وہ اسلام کی بنیادمستحکم کرنے والی ہوگی۔ متشابہ آیتوں کی یہ اہم خاصیت ہے۔ 

اس قسم کی علامت صرف قرآن مجید ہی میں نہیں بلکہ انسان استعمال کر نے والے لفظوں میں بھی اس کو ہم محسوس کرسکتے ہیں۔

ایک شخص کو جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اندھا ہے۔ عقلمند لوگ سمجھ جائیں گے کہ یہ اس کی ناسمجھی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ ‏لیکن جاہل لوگ کہیں گے کہ اس کی آنکھیں اچھی ہی تو ہیں۔ 

بہت زیادہ بات کر نے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہاس کی زبان لمبی ہے۔ ہم کس مطلب سے کہتے ہیں ، اس کو عقلمند لوگ سمجھ جائیں گے۔ ‏لیکن جاہل لوگ کہیں گے کہ اس کی زبان تو اتنی لمبی نہیں ہے۔ 

انسانوں کی کسی بھی زبان میں چند باتیں بولتے وقت اس کو غلطی سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن میں اس طرح پایاجانا حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ‏کیونکہ اس زمانے کے لوگ جس طرح بات کر رہے تھے اسی عربی زبان میں قرآن اتارا گیا۔ 

حقیقت میں متشابہ آیتیں بھی ایک خاص مقصد کے لئے ہی اللہ نے اتارا ہے۔ آج تک بھی وہی رائے پر قائم ہے۔ وہ بات جو یہ آیت نہیں کہی اس کو ‏قیاس کر تے ہوئے گمراہی اور جاہلیت کو دلوں میں بھرتے ہوئے راہ بھٹک کر چل رہے ہیں۔

اس آیت میں استعمال شدہ جملے ہمیں اچھی طرح سے سمجھاتی ہیں کہ دلوں میں بگاڑ رکھنے والے فتنہ کی تلاش میں اور اسکے مطابق وضاحت کو ‏ڈھونڈتے ہوئے متشابہ آیتوں کی پیروی کر تے ہیں۔جن کے دل میں گمراہی بہت گہرے انداز سے پیوست ہوگئی ہو وہ لوگ اپنی گمراہی کو روا رکھنے ‏اور اس کے ذریعے فتنہ پیدا کر نے اس طرح کی آیتوں کو اپنی غلط عقیدے کے لئے سند بنانے کی کوشش کریں گے۔ 

متشابہ آیتوں کی صحیح معنی سمجھتے ہوئے غلط مطلب سے انکار کر نے کے لئے بہت اہم لیاقت یہ ہے کہ یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ اس کے بارے میں ‏قرآن دوسری جگہوں میں کیا کہا ہے۔اس کو عربی زبان ہی میں جاننا ضروری نہیں ہے۔انہیں کے زبان میں قرآن جو کہتا ہے اس بنیادی حقیقت کو ‏جان لینا کافی ہے۔ اس قسم کے آیتوں کے ٹھیک معانی جان لے سکتے ہیں۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ علم والے کہیں گے کہ یہ سب میرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور ہم نے ان سب کو مانا ، یہ بھی غور کر ‏نے کے قابل ہے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ قرآ ن سا را بھی اللہ ہی کے طرف سے اترا ہے۔ سارا قرآن جس تعلیم پرزور دیتا ہے اس کے خلاف ہم کوئی رائے نہیں دیں ‏گے۔قرآن میں سے چند چیزوں کو لے کر چند چیز وں کاانکار نہیں کریں گے۔سب پریقین کر یں گے۔ کسی آیت کو دوسری کسی آیت سے نہیں ‏ٹکرائیں گے۔ 

متشابہ آیتوں کو ٹھیک معانی دینے کے قابل وہی لوگ ہیں جو مندرجہ بالا صفات والے ہوں۔صرف ایک مخصوص آیت کو پکڑے ہوئے غلط معنی ‏پہنائے بغیر پورے قرآن کو چھان مارنا چاہئے۔ اس بات پر غور کر نا چاہئے کہ پورے قرآن کی تعلیم کے تحت کیا وہ معنی ترکیب پائی ہے۔ 

متشابہ آیت کو جو معنی دیا جاتا ہے وہ دوسری آیتوں کے معانی کو انکار کر نے والی ہو تو قرآن مجید میں سے چند چیزوں کو لینا اور چند چیزوں کوچھوڑنا ہو ‏جائے گا۔ ان حالات سے دوچار ہو نے سے پہلے جن کے دل میںیہ عقیدہ گہرے انداز سے گھر کرجائے کہ یہ تمام چیزیں ہمارے پروردگار کی طرف ‏سے آئی ہیں اور ان تمام چیزوں کو ہم مانتے ہیں ، وہی لوگ علم والے ہیں۔ وہی لوگ اس کی حقیقی معانی جان سکتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر عیسیٰ ؑ کے بارے میں کہتے وقت قرآن مجید کئی مقام میں کلمۃاللہ اور روحٌمنہ(رب کی طرف سے آئی ہوئی روح) کہا ہے۔ عیسائی ‏معلم میں چند لوگ یہ کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ آیتیں مسیح کو اللہ کا بیٹا کہہ رہی ہیں۔

قرآن مجید کئی مقام میں واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ مسیح ایک انسان ہی ہیں اور اللہ کو کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جوڑ کر ان آیتوں کو دیکھنے والے ‏اس کا ٹھیک معانی سمجھ سکتے ہیں۔ 

اس کا ٹھیک مطلب حاشیہ نمبر 90 میں تشریح کیا گیا ہے۔

اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مرد ہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، پھر بھی تم سمجھ نہیں سکتے۔ (قرآن۔ 2:154)

اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت سمجھو۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔ (قرآن۔3:169)

ان دونوں آیتوں کو قبر پرستوں نے اپنے برے عقیدے کے لئے سند بنا لیا ہے۔ اللہ نے صرف یہی نہیں کہاکہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والے ‏زندہ ہیں، بلکہ یہ بھی تاکید کیا ہے کہ انہیں مردہ مت کہو اور مردہ مت سمجھو۔ اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ نیک بندے زندہ ہیں۔ اس لئے ان ‏لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انکے پاس دعا کر سکتے ہیں، اور پوچھ سکتے ہیں کہ ہمیں اللہ سے حاصل کر کے دو۔

ان آیتوں کی ٹھیک تشریح حاشیہ نمبر 41 میں کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں ان کے دعوے کے لئے کوئی موقع نہ رہنے کے باوجود اس کوغلط معنی پہنا کر اپنی گمراہی کو روا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسطرح کی ‏آیتیں ہی متشابہ آیتیں ہیں۔ 

اگر کہا گیا کہ آسمان کو چھوتا ہوامینار تو اس کو براہ راست معنی میں کوئی نہیں سمجھے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا کوئی مینار نہیں ہوسکتا۔ 

ایک لڑکی کے چہرے کوکوئی تعریف کرتا ہے کہ وہ ہزارہا چاندکی طرح چمک رہا تھاتوکوئی نہیں سمجھے گا کہ چہرے سے روشنی نکلتی ہے۔ یہی سمجھیں ‏گے کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔

نبی کریم ؐ کو قرآن نور کہتا ہے۔عقلمند لوگ یہی سمجھیں گے کہ آپ جہالت کی تاریکی دور کر نے کوآئے ہوئے روشنی ہیں۔ 

لیکن جاہل لوگ یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کریں گے کہ ’’نبی کریم ؐ اندھیرے میں چلتے ہیں تو ان سے روشنی پھوٹ نکلتی ہے اور آپ ہم جیسے انسان ‏نہیں بلکہ ربانی علامت والے ہیں۔ ‘‘

مختصراً اگرکہنا ہو توایسی آیتیں جو اچھی عقل والے ٹھیک سے اور کم عقل والے غلطی سے سمجھنے کے اندازمیں ہو وہی متشابہ ہیں۔ 

یہ دعویٰ کر نے والے کہ قرآن میں ایسی آیتیں موجود ہیں جو کسی انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی تو ان سے پوچھو کہ ایک فہرست دو کہ ایسی آیتیں ‏کونسی ہیں تو وہ ان سے نہیں ہوسکتا۔ 

کسی کی سمجھ میں نہ آنے والی ایسی چار پانچ آیتیں بھی ان سے کہا نہیں جاسکتا۔اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ وہ صرف حجت کر نے والے ‏ہیں۔ 

قرآن کے بہت سے ترجمے آچکے ہیں۔ ان کے مترجم تمام آیتوں کا ترجمہ کیا ہے۔ ان لوگوں نے کسی ایک آیت کو بھی یہ کہہ کر ترجمہ کر نے سے باز ‏نہیں رہاکہ یہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئی، یہ تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ لوگ اپنے آپ سے اختلاف کر تے ہوئے اس آیت کونا مناسب وضاحت کی ہے۔ 

یہ جاننے کے لئے کہ متشابہات آیتیں کس طرح ذومعنی دیتے ہیں ،اوراس میں سے ٹھیک معانی اور غلط معانی کسطرح الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے ، ‏اسکے لئے حاشیہ نمبر 193ملاحظہ کریں۔ 

 ‏85۔ گواہی میں مرد عورت کا فرق کیوں؟ ‏

آیت نمبر 2:282 کہتی ہے کہ دو عورتوں کی گواہ ایک مرد کے برابر ہے۔ 

اکثر لوگوں کو اس میں کھٹک پیدا ہوتی ہے۔ مدرسہ اور کالج کی امتحانوں میں مردوں سے زیادہ عورتیں ہی لگاتار اچھی نمبریں لیتی آرہی ہیں۔ یہ ‏عورتوں کی یادداشت اور عقلمندی کی ثبوت ہے۔ ایسے میں بعض لوگ گمان کر سکتے ہیں کہ گواہی دینے کے لئے ضروری دانشمندی اوریادداشت ‏مردوں سے عورتوں ہی کو زیادہ رہنے کے باوجود ان کی گواہی کو آدھی گواہی کیوں سمجھا جاتا ہے؟

اسلام اس بات کا انکار نہیں کر تا کہ عورتوں کو اچھی یادداشت اور دانشمندی ہے۔اسلام اس بات سے بھی انکار نہیں کر تا کہ چند معاملوں میں ‏مردوں سے زیادہ عورتوں میں وہ قابلیت پائی جاتی ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرما یا ہے کہ فہم و فراست والے مردوں کی دانائی کو بھی دنگ کر دینے کی حد تک عورتوں میں قابلیت پائی جاتی ہے۔(دیکھئے بخاری: ‏‏304، 1462)

والدہ عائشہؓ اور والدہ ام سلمہؓ وغیرہ عورتیں نبی کریم ؐ کے صحابیوں کو بھی تعلیمات دینے کے حد تک بہت ہی یادداشت والے گزرے تھے۔ مردوں ‏سے بھی زیادہ ان کی دانائی غالب تھی۔ اس کے ثبوت میں اسلامی تاریخ میں کئی واقعے درج ہیں۔

کیا گواہی دینے کے لئے صرف یادداشت کی حیثیت کافی ہے؟بے شک نہیں! گواہی کے لئے بہت ہی اہم قابلیت یہ ہو نی چاہئے کہ کسی بات کو نہ ‏بڑھائے، نہ گھٹائے، نہ مبالغہ کرے، نہ گھما پھراکر کہے، جو کچھ ہے اس کو اسی طرح کہہ دے۔ یہی لیاقت گواہی کے لئے بہت ہی اہم ہے۔ 

گواہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے حقیقت جاننے میں مدد ملتی ہے اور دوسرے کے مستقبل کو فیصلہ کیا جا تا ہے۔ 

گواہی دیتے وقت کچھ بھی نہ بڑھائیں، نہ گھٹائیں،نا ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیں اور جو کچھ ہے اس کو صاف سیدھا کہہ دیں۔ بڑھا کر یا گھٹا کر کہنے ‏سے بے گناہ مجرم ٹہرایا جائے گا اور مجرم بے گناہ ماناجائے گا۔

آج کے سائنسدانوں کا دریافت ہے کہ اس معاملے میں مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔

سوچنا اور یاد کرنا وغیرہ باتوں کودماغ ہی فیصلہ کر تا ہے۔ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مردوں کے دماغ اور عورتوں کے دماغ میں بنیادی طور ‏پر کئی فرق پائے جاتے ہیں۔ 

عورتوں کے دماغ سے مردوں کا دماغ 100گرام زیادہ وزنداربنایاگیاہے۔ غوروفکر کرنا، حفظ کرنا، احساسات کو ظاہر کرنا،قیاس کرنا، خواہش ‏کرنااور غصہ کرنا ، ان سب کے لئے دماغ میں ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ 

سوچنا، تحقیق کرنا اور اندازہ نگانا، یہ باتیں مرد اور عورت دونوں میں موجود رہنے کے باوجود عورتوں کے دماغ سے مرد کے دماغ میں تیرہ فی صد ‏نیوٹران زیادہ ہیں۔ اس لئے عورتوں سے زیادہ مردوں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کر نے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ 

یہ بھی انکشاف کیا جا چکا ہے کہ دماغ کی یادداشت کا حصہ مردوں سے عورتوں کو گیارہ فی صد زیادہ ہے۔

اسی لئے حفظ کے شعبہ میں عورتیں چمک رہی ہیں۔ مدرسوں کے اسباق میں سو کو سو نمبر لینے والوں میں اکثریت عورتوں ہی کی ہیں۔ پیدائشی تاریخ، ‏شادی کی تاریخ اور خاص دنوں کی تاریخ وغیرہ کو بالکل ٹھیک سے بولنے والے عورتیں ہی ہیں۔ اس معاملے میں مرد پیچھے ہی رہتے ہیں۔ 

لیکن غور و فکر کرنے کی صلاحیت مردوں سے عورتوں کو کم ہی ہوگا۔ دنیا میں دانشمند، موجد اور محقق لوگ مردوں میں ہی بہت زیادہ ہیں۔ صرف ‏چندلوگوں کے سوا باقی تمام لوگ مرد ہی ہیں۔ 

اوریہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ تصور کر نے کی صفت عورتوں کے دماغ میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔

اپنی چاہت کے لوگوں میں دکھائی دینے والے بڑے عیب کو بھی بہت چھوٹا عیب سمجھنا، اپنے ناپسندیدہ لوگوں میں دکھائی دینے والے چھوٹے کو ‏عیب کو بھی بڑا عیب سمجھنا ، عورتوں کی اس فطرت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کئی معاملوں میں ایسا ہی ہے۔ 

مختلف تحقیقات میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کوئی گھبراہٹ کے بغیر جھوٹ بولنے میں عورت ہی دلیرثابت ہوئے ہیں۔ 

مجرموں سے سچائی جاننے کے لئے آلات کے ذریعے معائنہ کیا جاتا ہے۔جب جھوٹ بولا جاتا ہے تو اس کی گھبراہٹ سے دماغ میں پیدا ہونے والی ‏لرزش کو آلات درج کر لیتے ہیں۔جو بات کہی جاتی ہے کیا وہ جھوٹ ہے یا سچ، اس سے فیصلہ کر تے ہیں۔

اس معائنے میں عورت اگر جھوٹ کہتی ہے تو اکثر آلات اس کوصاف دکھاتا نہیں۔ مرد جوجھوٹ کہتا ہے اسی کو وہ آلات دکھاتا ہے۔ گھبراہٹ یا ‏کسی کھٹک کے بنا عورتیں فطری طور پرجھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کو وہ آلات انکشاف نہیں کر سکتے۔

اسی طرح عدالت میں جب جرح کیا جاتا ہے تو عورتیں کسی گھبراہٹ یا لڑکھڑاہٹ کے بغیر جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کو جھوٹ سمجھنا بڑی ‏مشکل ہوتی ہے۔ 

اسی لئے اسلام کہتا ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گوہی کے برابر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقلی دلیل سے بھی سہی اور سائنسی ‏دلیل سے بھی سہی بالکل ٹھیک ہے۔

 ‏84۔ کیا چھوٹے سود کے لئے اجازت ہے؟ ‏

اس آیت میں (3:130) کہا گیا ہے کہ کئی گنا بڑھنے والا سود نہ کھاؤ۔اس کو غلطی سے سمجھے ہوئے لوگ حجت کرتے ہیں کہ چھوٹے انداز کے ‏منصفانہ سود کی اجازت ہے، ظالمانہ اور میٹری سود کے لئے ہی اجازت نہیں ہے۔ 

یہ بالکل غلط انداز کی حجت ہے۔ 

آیت نمبر 2:278میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جو سود باقی آنے والا ہے اس کو چھوڑ دو۔

ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ آنے والے سود میں ظالمانہ سود کے سوا صرف چھوٹے انداز کے سود ہی لے لیا کرو، بلکہ عام انداز سے یہ کہا گیا ہے کہ آنے ‏والے سود کو چھوڑدو۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چھوٹے بڑے ہر قسم کے سود کو منع کیا گیا ہے۔ 

آیت نمبر 2:279 میں کہا گیا ہے کہ سود سے اصلاح پانے والوں کو ان کا اصل رقم ہی ان کا حق ہوگا۔ ایسا نہیں کہا گیا کہ اصل رقم اور چھوٹے انداز ‏کے سود ان کا حق ہے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ اگر آنے والا سود ادنیٰ بھی ہو تو اس کو چھوڑ کرصرف دئے ہوئے قرض ہی کو لینا چاہئے۔

اگر ایسا ہو تو آیت نمبر 3:130 میں کیوں کہا گیا ہے کہ کئی گنا زیادہ بڑھنے والے سود نہ کھاؤ؟

عام طور سے کئی گنازیادہ بڑھنا ہی سودکی خاصیت ہے۔ سود اور تجارت میں یہی فرق ہے۔ 

ادنیٰ سود کے لئے قرض دئے بھی تو دن بڑھنے بڑھنے سود بھی بڑھتا ہی جائے گا۔ چھوٹے انداز کے سود پر قرض لے کر دو سال گزرنے کے بعد دیکھو ‏گے تو جتنا قرض لئے ہو اس سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے سود کو تم پاؤگے۔ 

ایک چیز کو ہم نفع رکھ کر بیچتے ہیں تو اس وقت ہی کے لئے وہ اس چیز کے ذریعے نفع حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک رقم کو سود پر دوگے تو وہ رقم ‏واپس آنے تک لگاتار کئی بار نفع پاتے رہتے ہیں۔ 

اسی لئے اس کو کئی گنا بڑھنے والا سود کہا جاتا ہے۔ بڑا سود یا ظالمانہ سود کا معنیٰ یہ نہیں دیتا۔ 

 ‏83۔ کیا دیوانگی شیطان کی وجہ سے ہے؟

آیت نمبر2:275کہتی ہے کہ پاگل بن کر اٹھنے والا جیسا کہ شیطان کا چھوا ہوا ہے۔

اس آیت کا مطلب ایسا معلوم ہو تا ہے گویا کہ انسان پاگل ہونے کی وجہ شیطان ہی ہے۔ لیکن حقیقت میں شیطان کو وہ اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ 

انسانوں کو سیدھی راہ سے بھٹکا کر انہیں جہنم میں داخل کرا نا ہی شیطان کا عین کام ہے۔ وہ انہیں جہنمی بنانے کا کام ہی کرتا ہے۔ جہنمی بنانے سے ‏روکنے والا کام وہ ہر گز نہیں کرے گا۔

یہ آیتیں (4:119,120، 7:16,17) کہتی ہیں کہ انسانوں کو برے راستے میں لے جا کر گناہ گار بنا کر جہنم رسید کر نا ہی شیطان کا کام ہے۔ 

اگر ایک شخص پاگل ہو گیا تو اس کے بعد وہ جو کچھ بھی کریگا اس کے لئے وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ اس کے لئے سزا بھی نہیں۔ اگر شیطان کسی کو پاگل ‏بنادے گا تو جہنمیوں کی تعداد میں سے ایک کم ہوجائے گا۔ اس لئے جہنمیوں کی تعداد بڑھانے میں ہر وقت مستعد رہنے والا شیطان جہنمیوں کی تعداد ‏کم کرنے والی پاگل کر نے والا کام نہیں کرے گا۔ 

اس لئے اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ شیطان کا چھوا ہوا جیساپاگل بن کر اٹھتا ہے، اس کو مندرجہ بالا دلیلوں کے مطابق ہی بغیر اختلاف کے سمجھ لینا ‏چاہئے۔ 

برے کاموں کے بارے میں جب کہا جاتا ہے کہ اس کو شیطان نے قائم کیا ، اس کو قرآن اجازت دیتا ہے۔ 

ایوب نبی کو مرض اور تکلیف ہونے لگا تو قرآن (آیت نمبر 38:41)کہتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ شیطان نے مجھے اس طرح کردیا۔ 

کوئی اس کو ایسا نہ سمجھے گا کہ مرض اور تکلیف کو بڑھانے کا اختیار شیطان کو ہے۔ہم یہی سمجھیں گے کہ برے عمل کو اللہ کے ساتھ منسلک نہ کر نے ‏کے لئے احترام کے طور پر ہی ایوب نبی نے اس طرح کہا۔اس لئے پاگل پن کو اللہ خود جاری کر نے کے باوجود اس کو شیطان کے ساتھ منسلک کیا گیا ‏ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شیطان ہی پاگل بنا تا ہے۔

انسانوں کو پاگل پن آنے کے بارے میں لوگوں میں مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ 

سادہ لوح انسان سمجھتے ہیں کہ مردوں کی روح زندوں پر جوغالب ہوتی ہے وہی پاگل پن کہلاتی ہے۔ 

آیت نمبر 39:42 کہتی ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی روح اللہ کے قبضے میں ہے اور آیت نمبر 23:100 کہتی ہے کہ مرے ہوئے لوگ اس ‏دنیا میں پھر واپس نہ آئیں،ایسا ادراک نہ ہونے والاایک برزخ کا پردہ حائل کیا گیا ہے ، اس لئے مرے ہوئے لوگوں کی روح پھر سے اس دنیا میں ‏واپس آنے کی امید رکھنا قرآن مجید کے خلاف ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ قبر میں سوال و جواب ہو نے کے بعد نیک لوگ قیامت کے دن تک گہری نیند میں رہیں گے اور برے لوگ سزاپاتے رہیں ‏گے۔ (ترمذی: 991)مندرجہ بالا معنی اس حدیث کے بھی خلاف ہے۔ 

‏82۔ دینی کاموں میں مبتلا ہو نے والوں کو اجرت‏

اس آیت 2:273)) میں کہا گیا ہے کہ دینی کاموں میں مبتلا ہو نے والوں کے لئے بہتر توجہ چاہئے۔ 

سب لوگ جانتے ہیں کہ عام طور پر غریبی حالت میں رہنے والوں کو خیرات کرسکتے ہیں۔ 

ایک شخص غریب رہنے کے باوجود مذہبی کاموں کے لئے اپنے کو قربان کر دیا ہے۔ مذہبی کاموں میں اپنے کو پوری طرح سے سونپ دینے کی وجہ ‏ہی سے وہ لوگ غریب بھی ہوئے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ مال بھی کما نہیں سکے۔ 

صرف اس لئے نہیں کہ ان جیسے لوگ غریب ہیں ، بلکہ ان لوگوں نے مذہبی کاموں میں بھی اپنے کوقربان کر دیا ہے ، اس پر بھی توجہ فرما کر خیرات ‏دینے میں انہیں ترجیح دینی چاہئے۔ اسی بات کو اللہ نے اس آیت (2:273) میں ترغیب دلا ئی ہے۔ 

ایک شخص مال کمانے کی کوشش میں مشغول نہ ہوتے ہوئے پوری طریقے سے اپنے آپ کو مذہبی کاموں کے لئے جو سونپ چکا ہے تو اس کو کوئی ‏الزام نہ دے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ کام تعریف کے قابل کام ہے۔ 

اس طرح مذہبی کاموں میں اپنے آپ کو سونپنے والے آمدنی کے لئے کوئی دوسرا رستہ نہ پاتے ہوئے غیروں کے پاس ہاتھ پھیلانایا اپنی غیرت کو ‏کھودینا نہیں چاہئے۔ 

اس پر ثابت قدم رہنا چاہئے کہ کسی بھی حالت میں کسی کے پاس نہیں مانگیں گے ۔ اس طرح غیرت کی حفاظت کر نے والوں کو مذہبی کاموں کا ‏مقصد بتا کر اسلامی حکومت اور مسلم امت سہارا دینا چاہئے۔ یہ آیت یہ بھی کہتی ہے کہ اگر وہ بھیک مانگنا شروع کر دیں تو وہ اس قابلیت کو کھو دیں ‏گے۔ 

More Articles …