Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏‏57۔ حج کے مہینے‏

یہ آیت(2:197) کہتی ہے کہ چندمتعین مہینوں میں حج کرنا چاہئے۔

ذو الحج کے مہینے ہی میں ہم حج کر تے ہیں۔ لیکن اس آیت میں جمع کے صیغے میں مہینے کہا گیا ہے۔ 

عربی زبان میں دو کے لئے ثانی کالفظ استعمال ہونے کی وجہ سے اگر جمع کا لفظ استعمال کیا گیا تو اس کامطلب کم از کم تین ہو نا چاہئے۔ اس لئے حج کا ‏مہینہ کم از کم تین ، یا اس سے زیادہ ہونا چاہئے۔ 

اب سوال اٹھتا ہے کہ اس کو ہم کیسے سمجھیں؟ کیا ہم اس کو تین مہینہ سمجھیں یا اس سے زیادہ؟ اس کو ہم کیسے سمجھیں کہ وہ کونسے مہینے ہیں؟ 

اس کے متعلق قرآن مجید میں کہا نہیں گیا؟ تاہم متعین مہینے کے لفظ سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس کی تشریح کس طرح پائیں؟

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہونے کے زمانے میں موجود نبی کریم ؐ اور اس زمانے میں رہنے والے لوگ اس کو جان رکھے تھے۔ ‏اس لفظ سے معلوم ہو تا ہے کہ جو وہ لوگ جان رکھے تھے اسی کو اللہ نے بھی حج کے مہینے کے نام سے منظور کیا ہے۔ 

نبی کریم ؐ اور اس زمانے کے لوگ کن مہینوں کو حج کے مہینے جان رکھے تھے، اس کو اس زمانے کے لوگوں کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر ابن عمرؓ نے کہا ہے:

شوال اور ذوالقعدہ مہینے اور ذوالحج مہینے کا دس دن ، یہی حج کے متعین مہینے ہیں۔ (حاکم) 

عام طور سے ذوالحج کے مہینے میں ہی حج کر تے ہیں۔ حج کی ساری کاروائی ذوالحج کے مہینے میں ہی ہو تی ہے۔ اس لحاظ سے یہ شبہ پید ا ہوسکتا ہے کہ ‏شوال اور ذوالقعدہ مہینوں کو انہوں نے کیسے جان رکھا ہو گا کہ وہ حج کے مہینے ہیں۔

حاشیہ نمبر 56 میں حج کے تین اقسام کے عنوان میں تمتع حج کے بارے میں خلاصہ کیا گیا ہے۔ 

تمتع قسم کے حج کر نے والے شوال ہی کے مہینے میں احرام باندھ کر عمرہ ختم کر کے حرم کے ہی احاطے میں ٹہر کر ذوالحج کا مہینہ آنے کے ساتھ پھر ‏سے احرام باندھ کر حج ادا کریں گے۔ ان کے لئے تین مہینے حج کا مہینہ ہو تا ہے۔ اسی بنا پر شوال اور ذوالقدہ کے مہینے بھی حج کا مہنہن ہوتا ہے۔ 

قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ضروری ہے، اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ ‏نمبر 18، 36، 39، 50،55، 56، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 244، 255، 256، 258، ‏‏286، 318، 350، 358، 430 وغیرہ دیکھیں۔

‎56‎۔ حج کے تین اقسام‏

آیت نمبر 2:196کہتی ہے کہ تمتع قسم کے حج کر نے والے کفارہ ادا کریں۔ تمتع قسم کا حج کیا ہے؟ کیا وہ دوسرے قسم کا حج ہے ، اس کے بارے ‏میں اس آیت میں یا قرآن مجید کی کسی اور آیت میں کہا نہیں گیا ہے۔ تاہم حدیثوں میں اس کی تشریح موجود ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ‏قرآن کی چند آیتوں کا ٹھیک مطلب جاننے کے لئے حدیث یعنی سنتِ نبی کی ضرورت ہے۔ 

اس کی تشریح یہی ہے: 

‏1۔ صرف حج ادا کرنے کی نیت سے حج ادا کر نا۔

‏2۔ حج کے ساتھ عمرہ نامی فرض بھی ملاکر ایک ہی احرام میں ادا کرنا ایک اور طریقہ ہے۔

‏3۔ پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر اس کو ادا کرنے کے بعد احرام سے بری ہوکر مکہ میں ٹہرے رہے، حج کا وقت آنے کے بعد پھر سے احرام ‏باندھ کر حج ادا کرنا۔ 

وہ تیسری قسم ہی تمتع کہلاتا ہے۔ 

عمرہ اور حج کے درمیانی عرصہ میں مقامی لوگ جو کام کر تے ہیں ان تمام کاموں کو تیسرے قسم کے حج ادا کر نے والے کر سکتے ہیں۔ یہ آیت کہتی ‏ہے کہ اس وجہ سے اس قسم کے حج کر نے والے ایک جانور کو ذبح کر نا چاہئے۔ 

تمتع حج کے متعلق قرآن مجید عام طور سے کہہ دیا، مگرنبی کریم ؐ نے اس کی وضاحت کر دی۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ قرآن کو ٹھیک سے سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت ضروری ہے۔ 

قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ضروری ہے، اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ ‏نمبر 18، 36، 39، 50،55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 وغیرہ دیکھیں۔

‏55۔ حرمت والے مہینے کونسے ہیں؟‏

یہ آیتیں 2:194 ، 2:217، 5:2، 5:97، 9:5، 9:36 جنگ کر نے کے لئے منع کئے گئے مہینوں کے بارے میں کہتی ہیں۔ 

آیت نمبر 9:36 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق مہینوں کی گنتی بارہ ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے ان بارہ مہینوں میں چار مہینے مقدس ہیں۔

لیکن وہ مقدس مہینے کونسے ہیں، یہ قرآن میں نہیں کہا گیا۔ تاہم نبی کریم ؐ نے وضاحت کر دی ہے کہ وہ چار مہینے کونسے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایاہے:

آسمانوں اور زمین کے تخلیق کے دن جو تھا اسی(پرانی) حالت کو زمانہ لوٹ گیا۔ سال کے بارہ مہینے ہو تے ہیں۔ ان میں سے چار مہینے مقدس ہیں۔ ‏‏(ان میں سے) تین مہینے مسلسل آنے والی ہیں۔وہ مہینے ذوالقعدہ، ذوالحج اور محرم ہیں۔ اور چوتھا مہینہ جمادی الاول اور شعبان کے درمیانی مہینہ ‏رجب ہے۔ 

بخاری: 3197، 4406، 4662، 5550، 7447 

یہ حدیث تشریح کر تی ہے کہ مقدس مہینے کونسے ہیں۔

عام طور سے قرآن میں صرف بنیادی احکام ہی بتایا جاتا ہے۔ آیت نمبر 16:44 اور 16:64کہتی ہیں کہ اس کی تشریح نبی کریم ؐ کے ذریعے ہی ‏حاصل کر یں ۔اس لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت کو اللہ کے ذریعے ملی ہوئی وضاحت ہی سمجھنا چاہئے۔ 

اس طرح کہی گئی آیتوں کی وضاحت نبی کریم ؐ کے ذریعے ہی معلوم کر سکتے ہیں ، اس لئے ہمیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن مجید کے ساتھ نبی کریم ؐ کی ‏وضاحت کی بھی ضرور ت ہے۔ 

اگر کوئی دعویٰ کرے کہ صرف قرآن مجید ہی بس ہے تو ان چار مہینوں کو قرآن مجید سے نکال کرکوئی بتادے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو یہ ثابت ہوجائے گا ‏کہ قرآن مجید کے ساتھ سنت بھی ضرورت ہے۔

قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ضروری ہے، اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ ‏نمبر 18، 36، 39، 50، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 وغیرہ دیکھیں۔

جنگ، دہشت گری اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 53، 54، 76، 89، 197، 198، 199، 203، ‏‏359وغیرہ دیکھیں۔ 

‏‏54۔ مذہب بدلا نے کے لئے جنگ نہ کرے‏

ان آیتوں میں (2:193، 8:39)کہا گیا ہے کہ فتنہ مٹ کردین اللہ کا ہونے تک جنگ کرو۔ ان دونوں جگہوں میں جو دین کہا گیا ہے اس کو بعض ‏لوگ مذہب کا معانی پہنایا ہے۔ 

اس معانی سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ دوسروں کو زبردستی مذہب بدلوانا چاہئے۔ لیکن آیت نمبر 2:256، 10:99، 9:6، 109:6کہتی ہیں ‏کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ 

اس لئے اس کو ’’مذہب بدلنے تک جنگ کرو‘‘ کے معانی میں لے ہی نہیں سکتے۔ 

نیز نبی کریم ؐ کے حکومت میں یہود و نصاریٰ جوغیر مسلم تھے وہ لوگ یہو دو نصاریٰ بن کر ہی جیتے رہے۔ انہیں زبردستی مذہب نہیں بدلا گیا۔ اس ‏وجہ سے بھی اس کو وہ معانی نہیں دے سکتے۔ 

نیز مندرجہ بالا دونوں آیتوں کے پچھلے حصہ پر غور کرو توبھی سمجھ میں آجائے گا کہ اس طرح معانی لینا غلط ہے۔

وہ آیتیں کہتی ہیں کہ اگر وہ باز آگئے تو ان پر حدسے تجاوز نہ کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ جنگ سے باز آگئے۔

اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اس آیت میں جو دین کا لفظ ہے اس کو مذہب کا معنی دینا غلط ہے۔

دین کا لفظ کئی معنوں والا ہے۔ راستہ، اجرت، انعام، فیصلہ اور اختیار ایسے اس کے کئی معانی ہیں۔ 

ان دونوں آیتوں میں اختیار کا معانی لینا ہی ٹھیک ہے۔ اگر جنگ چھڑ جائے تو اختیار ہاتھ کو آنے تک جنگ کرے، یہی اس کا مطلب ہے۔ یہ تودنیا ‏کے سارے ممالک اپنانے والی عام کاروائی ہے۔

جنگ، دہشت گری اور جہاد کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 53، 55، 76، 89، 197، 198، 199، 203، 359 ‏دیکھئے!

‎53‎۔ کیا دوسرے مذہب والوں کو اسلام مارنے کو کہتا ہے؟‏

یہ آیتیں 2:190-193، 2:216، 2:244، 3:121، 3:195، 4:74,75، 4:84، 4:89، 4:91، 8:39، 8:60، ‏‏8:65، 9:5، 9:12-14، 9:29، 9:36، 9:41، 9:73، 9:123، 22:39، 47:4، 66:9 مسلموں کوجنگ کر نے کے لئے ‏حکم دیتی ہیں۔ 

اسلام کے خلاف یہ تنقید کیا جا رہا ہے کہ روحانی رہنما والی کتاب میں جنگ کر نے کے لئے کیوں حکم دیا گیا ہے؟ تو کیا اسلام کو تلوار کی نوک سے ہی ‏پھیلایا گیا؟ 

اس طرح کیوں حکم دیا گیا؟ کن حالات میں یہ حکم نافذ کیا گیا؟ اگر اسکو جان لیں تو معلوم ہوجائیگا کہ انکی تنقید قطعی غلط ہے۔

نبی کریم ؐ نے جب تبلیغ کر نے لگے کہ صرف اللہ واحدہی کی عبادت کریں تو آپ کے خاص شہر والوں سے وہ ناگفتہ تکلیوں میں مبتلا کئے گئے۔ ان کے ‏پیروکارکو بھی ظلم و ستم سے دوچار ہو نا پڑا۔ کئی لوگ تو قتل بھی کئے گئے۔ 

آخر میں جب نبی کریم ؐ کو بھی مار دینے کی ان لوگوں نے تدبیر کی تو نبی کریم ؐ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا گھر باراور جائداد سب کچھ ان دشمنوں کے ‏حوالے کئے اور مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔ 

نبی کریم ؐ جب مدینہ آئے تو انہیں لوگوں کی تعاون حاصل ہونے کی وجہ سے وہاں ایک الگ حکومت قائم کئے۔ 

اس کے بعد مکہ والوں نے حملہ کیا اور مسلمانوں کو ایذائیں دینے لگے اور چند لوگوں کو قتل بھی کر ڈالا تواس وجہ سے اللہ نے جنگ کو فرض کیا۔

نبی کریم ؐ صرف مذہبی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ اس ملک کے حاکم بھی تھے۔ ملک کے حاکم ہو نے کی وجہ سے اپنی رعایا کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے ‏ہوئے اگر کوئی دشمن حملہ آور ہو تو ان سے مقابلہ بھی کرنا ضروری ہے۔صرف یہی نہیں کہ اپنے خاص شہرسے مسلمانوں کو بھگایاگیا،بلکہ وہ لوگ ‏جہاں سکون سے جی رہے تھے اگروہاں بھی وہ لوگ ان پر حملہ آور ہو ئے تو ان سے مقابلہ کر نا فرض اور حق بنتا ہے۔ اسی بنا پر نبی کریم ؐ کو جنگ کر نا ‏پڑا۔ 

قرآن مجید میں جو مارو، کاٹو کہا گیا ہے وہ سب جنگی میدان کی دستور العمل ہے۔ میدان جنگ کا وہی طریقہ ہے۔ 

میدان جنگ میں کھڑے ہوئے سپاہیوں کو جو احکام دیا جاتا ہے ان احکام کا ذکر کرتے ہوئے وہ لوگ کچھ اندرونی مقصد سے تشہیر کر تے ہیں کہ اسلام ‏غیر مسلموں کو قتل کرنے کو کہتاہے۔ 

نیچے دئے گئے آیتوں سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ الزام بالکل غلط ہے ۔ 

‏* آیت نمبر 2:190 اور 9:13 میں کہا گیا ہے کہ بے ضرورت جھگڑاکرنے والوں سے جنگ کرو۔ 

‏* آیت نمبر 2:191 اور 22:40 میں کہا گیا ہے کہ خاص شہر سے بھگانے والوں ہی سے جنگ کرو۔ 

‏* آیت نمبر 2:192 میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے باز آ جانے والوں سے جنگ مت کرو۔ 

‏* آیت نمبر 4:75، 22:39-40 میں کہا گیا ہے کہ ظلم سہنے والے کمزور مرد، عورتیں اور بچوں ہی کے لئے جنگ کریں۔

‏* آیت نمبر 8:61 میں کہا گیا ہے کہ صلح چاہنے والوں سے جنگ نہ کریں۔ 

‏* آیت نمبر 2:256، 9:6، 109:6 میں کہا گیا ہے کہ مذہب پھیلانے کے لئے جنگ مت کرو۔ 

اسلام کہتا ہے کہ جائز وجہ ہو تو ہی مسلم حکومت جنگ کر نا چاہئے۔ 

یہ آیتیں کس لئے اور کس ماحول میں نازل کی گئیں، اس حقیقت کو جانے بغیرکوئی تنہا شخص یا گروہ ان آیتوں کو اپنی انتہا پسندی کے لئے سند بنالیں تو ‏یہ ان کی جہالت ہوگی۔ ان آیتوں کو اور انتہا پسندی کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

تنہا شخص یا گروہ جہاد کے نام سے تشدد اختیار کریں تو وہ غلطی ہوگی۔ 

اپنے خاص ملک سے بھگائے ہوئے لوگ جنگ کر کے اپنی کھوئی ہوئی اختیار پھر سے پا لینے کو کوئی غلط نہیں کہے گا۔ اسی بنیاد پر ہی نبی کریم ؐ نے مکہ پر ‏جنگ کیا۔ 

بالکل واضح حکم بھی دیا گیا ہے کہ جنگ کو پہلے شروع نہ کریں۔اس کو آیت نمبر 2:190 اور 9:12,13میں دکھ سکتے ہیں۔

جنگ، دہشت انگیزی اور جہاد کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 54، 55، 76، 89، 197، 198، 199، 203، 359 ‏دیکھیں۔ ‏

‏‏52۔ عربوں کا اندھا عقیدہ‏

حج اور عمرہ نامی عبادت کو پوری کر نے کے لئے احرام میں رہتے وقت اس دور کے عرب سامنے کے دروازے سے گھر کے اندر آنے کے بجائے ‏پیچھے کی طرف سے آتے تھے۔

اس طرح کے اندھے عقیدوں کو ٹھیک سے پیروی کر نے والے کعبہ میں اچھل کود کر کے سیٹھی بجاتے ہوں گے۔ اللہ سے نہیں ڈریں گے۔اسی ‏اندھے عقیدے کو یہاں (2:189)احتجاج کیا گیا ہے۔ (دیکھئے بخاری: 1803، 4512)

‏‏51۔چاند کو کیوں جمع کے صیغے میں کہا گیا ہے؟‏

اس آیت (2:189) میں چاندیں کہا گیا ہے۔بعض لوگوں کو گمان گزرے گا کہ ایک ہی چاند تو ہے، تو کیوں چاند کو جمع کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ 

چاندیں کہہ کر ترجمہ کر نے کی جگہ میں ہلال نامی اصل لفظ کو جمع کے صیغے میں اھلۃ کہا گیا ہے۔ یہ زمین کی معاون سیارے کی طرف اشارہ نہیں ‏ہے۔بلکہ چاند میں ہونے والی ترقی اورگھٹنے کی حالت کی طرف اشارہ ہے۔ ہر دن ایک حالت کے حساب سے چاندکوہ زیادہ حالات بڑھتے جانے کی ‏وجہ سے اس کو جمع کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ ‏

‎50‎۔ راہ نبی کی ضرورت کو احساس دلانے والا روزے کا قانون‏

ہمیں معلوم ہے کہ روزہ دار دن میں مجامعت میں مبتلا نہ ہو اور رات میں صحبت کر سکتے ہیں۔ 

اسلام کی ابتدائی دور میںیہ قانون تھا کہ صرف دن ہی میں نہیں بلکہ رات کے وقت بھی مجامعت نہ کیا جائے۔اس قانون کو بدلوا کر اس آیت ‏‏(2:187) کے ذریعے روزہ دار رات کے وقت ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو نے کی اجازت دی گئی۔ 

اسی بات کو یہ آیت براہ راست کہتی ہے۔اس کے ساتھ اس عقیدے کی تفصیل بھی اس میں موجود ہے کہ جس طرح قرآن اسلام کا اصل سند ہے ‏اسی طرح نبی کریم ؐ کی تشریح بھی اصل سند ہے۔ اس کے متعلق تفصیل سے جانیں۔ 

اس آیت سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اسلام کی ابتدائی دور میں رات کے وقت بھی مجامعت کرنے سے اللہ نے روک رکھا تھا۔ اس ممانعت کو ‏صحابیوں سے پیروی نہ ہو سکا۔اس لئے اس ممانعت کو انہوں نے توڑ دیا۔ لوگوں کی کمزوری کو نظر میں رکھتے ہوئے اس مناہی کو اللہ نے ہٹادی اور ‏اجازت دیدی کہ اب سے تم رات کے وقت ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو سکتے ہو۔ 

پہلے منع کیا گیا تھا کہ رات کے وقت بھی مجامعت میں مبتلا نہ ہو، لیکن اس طرح منع کر نے کے بارے میں کوئی آیت قرآن میں نہیں ہے۔ 

اللہ اس آیت میں کہتا ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات میں ازدواجی زندگی میں مبتلا ہونا پہلے منع کیاگیا ‏تھا۔ اسی وقت وہ خیانت کہلاتا ہے جبکہ ایک منع کی ہوئی عمل کو ان لوگوں نے کیا ہو۔

اسی آیت سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس نے ان کی توبہ قبول کی اور انہیں معاف کیا۔ منع کی ہوئی ایک عمل کو کرنے ہی سے معافی کی ضرورت ہوتی ‏ہے۔ اجازت ملی ہوئی عمل کے لئے معافی مانگنا بے معنی ہے۔ اس سے بھی ہم جان سکتے ہیں کہ رات کے وقت بھی ازدواجی زندگی میں مبتلا ہونا منع ‏کیا گیا تھا۔ 

رات کے وقت بھی ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو نے کے لئے منع کیا گیا تھا، اسی لئے ’’اب سے تم ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو سکتے ہو‘‘ کہہ کراللہ نے ‏اس ممانعت کو ہٹا دی۔

رات کے وقت بھی ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو نے کے لئے ممانعت تھی، اور وہ ممانعت اب سے ہٹادی گئی ، اسی بات کو اللہ نے ان تین جملوں کو ‏استعمال کر کے فرماتا ہے۔ 

اگر یہ دعویٰ سچ ہو تا کہ صرف قرآن مجید ہی اللہ کی وحی ہے تورات کے وقت ازدواجی زندگی مبتلا نہ ہونے کی ممانعت قرآن مجید میں موجود ہونا ‏چاہئے تھا۔ لیکن رات کے وقت مجامعت میں مبتلا نہ ہونے جو پہلے منع کیا گیا تھا وہی خبر قرآن میں کہا گیا ہے۔ رات کے وقت مجامعت نہ کرنے کا ‏حکم کسی بھی آیت میں نہیں ہے۔

نبی کریم ؐ ہی نے اس طرح روکا ہوگا۔وہ تو آپ خود منع نہیں کئے ہوں گے۔ اگر آپ خود منع کئے ہو تے تو نبی کریم ؐ کو اللہ احتجاج کرنا تھا۔اللہ یہ کہنا ‏چاہئے تھا کہ ’’تم رات کے وقت جو اس طرح کیا تھا اس میں کوئی غلطی نہیں، محمد نے غلطی سے کہہ دیا ۔‘‘

اس طرح اللہ نہ کہنے کی وجہ سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ قرآن میں نہ رہنے کے باوجود جو نبی نے منع کیا تھا اس مناہی کو اللہ نے اپنا بنا لیا۔ 

اللہ کی طرف سے جو وحی آئی وہ صرف قرآن ہی نہیں۔ بلکہ نبی کریم ؐ کے دل میں اللہ نے جو بھی خیال ڈالتا ہے وہ بھی وحی ہے۔ اس کی بھی پیروی کرنا ‏ہے، یہ آیت اس کے لئے سند ہے۔ 

قرآن کے احکام کو پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ہے، اس کے بارے میں اور بھی تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 18، ‏‏36، 39، 55، 56، 57،60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، 258، ‏‏286، 318، 350، 352، 358، 430 وغیرہ دیکھیں!‏

More Articles …