Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏‏73۔ قرض کو منسوخ کر دینا‏

دولتمند لوگ اپنے پاس جو زیادہ دولت ہے اس کو غریبوں کو قرض کے طور پریا خیرات کے طور پر مدد کر نے کے لئے اسلام رہنمائی کر تا ہے۔ لیکن ‏مسلمانوں میں بعض لوگ قرض دے کراس پر بے شرمی سے سود لیتے ہیں۔ 

وہی خیرات اللہ کے پاس قابل قبول ہوتا ہے جو یہ ارادے سے کرے کہ میں اللہ کے لئے خیرات دیتا ہوں۔ لیکن قرض کے معاملے میں اللہ اس ‏آئین کو ڈھیل دیتا ہے۔ ہم نے جو قرض دی تھی اگر وہ رقم واپس نہ ملنے کی صورت میں اس قرض کو معاف کردے تو وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول ‏خیرات ہوگا، یہی یہ آیت کہتی ہے۔ 

قرض دیتے وقت اگر ہمیں خیرات کا ارادہ نا بھی ہو تو مقروض پرمہربانی کے طور پر اللہ اس آئین کو ڈھیل دے کر رحم فرمایا ہے۔ 

اسی طرح زکوٰۃ جس پر فرض ہے وہ اس کوحاصل ہونے والے قرضوں کو معاف فرماکر اس پر جو زکوٰۃ فرض ہے، اس میں سے وہ رقم گھٹا لے سکتا ‏ہے۔ اس آیت (2:280) سے ہم جان لے سکتے ہیں۔ 

‏‏72۔ امن کی حالت میں نماز کیسے پڑھیں؟‏

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ دشمنوں کے بارے میںیا کسی اور چیز کے بارے میں اگر خوف ہو تو چلتے ہوئے یا سواری میں سفر کرتے ہوئے نماز پڑھ ‏سکتے ہیں۔ اس کو ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

اگر خوف دور ہوگیا تو اللہ نے جس طرح تمہیں سکھایا ہے اس طرح اللہ کا ذکر کرو۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ امن کی معمول حالت میں کس طرح نماز پڑھا جاتا ہے، اس کو اللہ نے سکھایا ۔لیکن معمولی حالت میں کس طرح نماز پڑھے ، ‏ایسی آیت قرآن میں نہیں ہے۔ اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید ہی نہیں ، بلکہ اس کی تشریح بھی نبی کریم ؐ کو عطا کیا ‏گیا۔ نبی کریم ؐ نے معمولی حالت میں نماز پڑھنے کے طریقے کو سکھایا ہے۔ آپ نے جو سکھلایا اسی کو اللہ نے میں سکھلایا کہتا ہے۔ 

یہ اس کی دلیل ہے کہ نبی کریم ؐ کی تشریحات اللہ کی طرف سے حاصل ہوئی ہے، اور قرآن مجید ہی کی طرح نبی کریم ؐ کی تشریحات کی بھی ضرورت ‏ہے۔ 

قرآن مجید کے ساتھ سنت نبی کی بھی ضرورت ہے ، اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 39، 50، 55،56، 57، 60، 67، ‏‏105، 125، 127، 128، 132، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 ‏دیکھیں!‏

‏71۔ پانچ وقت کی نماز کو درمیانی نماز دلیل ہے‏

اس آیت (2:238) میں کہا گیا ہے کہ درمیانی نماز کی حفاظت کریں۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ درمیانی نماز کا مطلب ہے عصر کی نماز۔ (بخاری: 6396)

نبی کریم ؐ نے جب اس کی تشریح کر دی تو دوسروں کی رائے کو ہم اہمیت دینا نہیں چاہئے۔ 

یہ آیت ایک اور بات بھی کہتی ہے۔ 

ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ہر روز پانچ وقت کی نماز ادا کر نا ہے اور اس کے لئے بہت سی حدیثوں کی دلائل موجود ہیں ، اس کو ہم جانتے ہیں۔ نبی کریم ؐ ‏کے زمانے سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں سے یہ عمل مسلسل چلتا آرہا ہے۔ 

پھر بھی مسلمانوں میں بعض جاہل لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن میں پانچ وقت کی نماز کہا نہیں گیا ہے، اس لئے پانچ وقت کی نماز کہنا قرآن مجید کے ‏خلاف ہے۔ 

یہ بھی سچ ہے کہ قرآن میں پانچ وقت نماز کا کوئی جملہ نہیں ہے۔ پھر بھی کئی آیتوں میں پانچ وقت نماز کے متعلق پوشیدہ انداز میں کہا گیا ہے۔ ان ‏جیسی آیتوں میں یہ بھی ایک ہے۔ یہ آیت پانچ وقت نماز کے متعلق براہ راست کہنے کے بجائے پوشیدہ انداز میں کہتی ہے کہ پانچ وقت کی نماز ‏ہے۔ 

وہ کیسے، چلو جان لیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ نمازوں کو اور درمیانی نماز کی حفاظت کرو

نمازیں جمع کا صیغہ ہے۔ عربی زبان میں دو کے لئے ثانی کا طرز کلام رہنے کی وجہ سے جمع کے لئے تین ہو نا چاہئے۔ عربی زبان میں تین سے کم جمع ‏نہیں ہے۔ 

‏’’(کم از کم تین) نمازوں کو اور درمیانی نماز کو ‘‘ جب کہا جاتا ہے تو وہاں کل چار نمازیں ہوجا تی ہیں۔ 

جب درمیان کہنا ہو تو وہ واحد کے صیغے میں ہی ہونا چاہئے۔ چار میں سے کسی کو درمیان نہیں کہہ سکتے۔ پانچ ہو تو ہی اس میں سے ایک کو درمیان ‏کہہ سکتے ہیں۔ اس لئے اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ کل نمازیں پانچ ہی ہیں۔

اگر تین وقت کی نمازیں کہو تو اس میں سے ایک وقت کو درمیانی نماز کہہ سکتے ہیں ، پھر بھی نمازوں کو جمع کے صیغے میں کہنے کے ساتھ درمیانی نماز ‏کے متعلق الگ سے کہنے کی وجہ سے درمیانی نماز کو چھوڑ کر کم از کم تین وقت کی نمازیں ہی اس آیت کا معنی ہے۔ 

جمع کے صیغے میں نمازیں کا لفظ اور درمیانی نماز کے لفظ کو ایک ساتھ غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ اس آیت میں پانچ وقت کی نمازیں موجود ‏ہیں۔ 

اس آیت کے متعلق ایک اور اطلاع بھی ہمیں ملتی ہے۔ بعض لوگ بحث کر تے ہیں، یہ آیت کہتی ہے کہ صبح کا وقت ہی دن کا آغاز ہے ۔

حدیثوں میں آیاہے کہ اس آیت میں جو کہا گیا ہے درمیانی نماز ، وہ عصر نماز کی طرف اشارہ ہے تو صبح کی نماز ہی پہلی نماز ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا ‏دعویٰ ہے کہ صبح کے وقت ہی سے دن شروع ہوتا ہے۔ حاشیہ نمبر 361 میں ہم نے وضاحت کی ہے کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ 

پانچ وقت کی نمازیں ہیں، اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 226 میں دیکھئے۔ ‏

‏70۔ مہر کو درگذر کردینا اچھا ہے

‏اس آیت نمبر 2:237میں کہا گیا ہے کہ مہر کو تم درگذر کر دینا ہی اچھا ہے۔

مرد اور عورت کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے اس میں تم لوگ کا اشارہ مردوں کی طرف ہے یا عورتوں کی طرف ہے، اس کے متعلق مفسرین ‏دو مختلف رائے کہتے ہیں۔

نکاح کر کے بیوی کو چھونے سے پہلے اگر طلاق دی جائے تو آدھا مہر دینا ضروری رہنے کے باوجود ’’پورا مہر یااس سے زیادہ بھی دوں گا‘‘ کہہ کر ‏درگذر کرنا ہی مردوں کے لئے بہتر ہے۔ 

‏’’تم اس کو معاف کر نا ہی بہتر ہے‘‘ یہ جملہ مردوں کے لئے ہی کہا گیا ہے، یہی بہتر رائے ہے۔ 

تامل زبان میں ’’تم‘‘ کا لفظ مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں کہا جا سکتا ہے۔ لیکن عربی زبان میں ’’تم‘‘ کے لفظ کو اگر مردوں کے لئے استعمال ‏کر تے ہیں تو طرز کلام الگ ہوگا اور عورتوں کے لئے استعمال کر تے ہیں تو ایک اور طرز کلام ہوگا۔ 

اس آیت میں مردوں کی طرف اشارہ کرنے والی طرز کلام یعنی مردوں کی طرف تخاطب کرنے والا انداز استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ مسلسل یہ کہا گیا ہے کہ ’’تمہارا معاف کردینا ہی تقویٰ سے بالکل قریب ہے۔ تمہارے درمیان (بعض کو) جو برتری ہے اسے نہ ‏بھولو‘‘۔یہ مردوں کی برتری کے متعلق ہی اشارہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ مرد کے لئے درگذر کرنا ہی بہتر ہے۔ 

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں جنسوں کی طرف ہی اشارہ ہے۔ اس کے باوجود ادبی اور عدل کے لحاظ سے وہ غلط ہے۔مرد ہی اس میں بلند حوصلہ ‏دکھا نا چاہئے۔ یہی اس آیت (2:237) کا مقصد ہے۔ طلاق دئے جا نے کے بعد مجبوری کی حالت میں جب ایک عورت ہوتی ہے تو اس کو کیسے ‏اللہ کہہ سکتا ہے کہ تم معاف کردو۔ 

طلاق کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 74، 386، 402، 424دیکھیں!

‏‏69۔ عورتوں کو عدت کیوں؟ ‏

یہ آیتیں 2:228، 2:231، 2:232، 2:234، 2:235، 33:49، 65:1، کہتی ہیں کہ شوہر کو کھوئی ہوئی عورتیں فوراً دوسری ‏شادی نہ کریں، اور کتنے دنوں کے بعد وہ دوسری شادی کر سکتی ہیں؟ وہی عدت کا زمانہ کہلاتا ہے۔ 

آیت نمبر 2:234 اور2:235 کہتی ہیں کہ شوہر کو کھوئی ہوئی عورتیں چار مہینے اور دس دن ختم ہو نے تک دوسری شادی نہ کریں۔ 

آیت نمبر 65:4 کہتی ہے کہ حاملہ عورتیں بچہ جنم دینے تک عدت کو قائم رکھنا چاہئے اور حیض موقوف ہونے والے عمر رسیدہ عورتیں تین مہینے ‏عدت میں رہنا چاہئے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس قسم کی عدت صرف طلاق شدہ عورتوں ہی کے لئے ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس آیت میں عام طور سے عورتوں ‏کی عدت ہی کہا گیا ہے۔ یہ قانون طلاق شدہ عورتوں اور شوہر کو کھوئی ہوئی عورتوں کے لئے بھی عام ہے۔

یہ قانون عورتوں کو نقصان پہنچا نے والا قانون نہیں۔ انہیں بہت بڑی بھلائی پہنچانے والا قانون ہے۔ 

شوہر مر تے وقت اس کے بچے کو اس کی بیوی پیٹ میں رکھی ہوگی۔ اسی حال میں اگر وہ دوسرے سے شادی کر لی تو اس بچے کا مستقبل متاثر ہو ‏جائیگا۔ دوسرا شوہر اس بچے کو میرا نہیں کہہ دیگا۔

پہلے شوہر کے خاندان بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارا بچہ نہیں ہے ۔ باپ کون ہے ،یہ نہ جانتے ہوئے وہ بچہ دماغی توازن کھو بیٹھے گا۔ باپ سے ملنے والی ‏جائدادبھی اس کو مل نہ سکے گی۔ 

دوسرا شوہر اگر یہ خیال کر نے لگے کہ ’’دوسرے کے بچے کو پیٹ میں لئے ہوئے اس نے مجھ کودھوکہ دیدیا‘‘ تو اس عورت کا مستقبل بھی سوالیہ ‏نشان بن جائے گا۔ 

بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ ’’بطن میں اگر بچہ ہو تو اسے جاننے کے لئے ایک مہینہ کافی ہے۔ اگر اس مہینے میں حیض ہوا تو معلوم ہوجا ئے گا کہ حمل ‏نہیں ہے۔اس کے لئے چار ماہ اور دس دن بہت زیادہ ہے نا؟‘‘

اچھا سوال ہے۔ لیکن مروجہ زندگی میں ہونے والے چند پیچیدگیوں سے اجتناب کر نے کے لئے ہی اسلام چار مہینے اور دس دن انتظار کر نے کو کہتا ‏ہے۔ 

ایک عورت اگر پہلے ہی ماہ میں جان بھی لے کہ وہ حمل سے ہے ، اسے وہ چھپانے کی کوشش بھی کرسکتی ہے۔ وہ حمل سے نہیں کہہ کر دوسرے سے ‏نکاح بھی کر سکتی ہے۔ چار ماہ اور دس دن کے بعد وہ ایسا نہیں کہہ سکتی۔ اس کا حمل دوسروں پر بھی ظاہر ہوجائے گا۔ 

دوسری شادی کر نے کے بعد چھ سات مہینے کے اندر وہ ایک بچے کو جنم دے گی تو وہ دوسرا شوہر گمان بھی کر سکتا ہے کہ کیایہ بچہ پہلے شوہر کا تو نہیں؟ ‏چار مہینے اور دس دن کے بعد اگر دوسری شادی ہوئی ہو تی تو وہ اس طرح کہہ نہیں سکتا۔ اس کو وہ حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ اگر اس کے پیٹ ‏میں بچہ ہو تا تو چار مہینے اور دس دن میں ظاہر ہوگیا ہوتا۔ 

ان وجوہات کی بنا پر عورتوں کو بھلائی پہنچانے کے لئے ، اس کا مستقبل خوشیوں سے قائم رہنے کے لئے ، ان کے بچے کی آئندہ زندگی کی حفاظت کے ‏لئے اللہ نے یہ انتظام کیا ہے۔

شوہر کو کھوئی ہوئی عورتیں چار مہینے اور دس دن تک دوسری شادی کئے بغیر عدت پر قائم رہنا ،آج سائنس کے ذریعے بھی ثابت کیا گیا ہے۔ 

رابرٹ گلہام ایک یہودی سائنسدان نے اس کے متعلق ایک تجربہ کیا۔

مرد و عورت جب مجامعت کر تے ہیں تو مرد اپنی جنسی ریکھا عورت میں چھوڑ جاتا ہے۔ رابرٹ نے دریافت کیا کہ وہ ریکھا تین مہینے کے بعد ہی ‏پوری طرح مٹتی ہے۔ اسی مناسبت سے جہاں امریکی مسلمان زیادہ آباد تھے اس حصہ میں تفتیش شروع کی۔ اس حصہ میں بسنے والی مسلم عورتوں ‏میں صرف ان کے شوہروں کی ریکھائیں نقش تھیں۔ 

اسی وقت وہ امریکی عورتیں بسنے والی ایک گلی میں تفتیش کی تو معلوم پڑا کہ ان عورتوں میں مختلف ریکھائیں دکھائی دیں۔ تین الگ الگ ریکھائیں ان ‏میں نقش تھیں۔ 

رابرٹ گلہام نے فوراً ایک کام کیا۔ اس نے اپنی بیوی کو ڈاکٹری جانچ کیا۔ 

اس کے پاس تین ریکھائیں دیکھ کر وہ حیرت میں پڑگیا۔ اس کے بعد اس نے تحقیق کیا تو معلوم پڑا کہ اس کے تین بیٹوں میں ایک ہی بیٹا اس کا خاص ‏تھا۔ 

شوہر کو مرے ہوئے دو ایک مہینے میں اگرایک عورت شادی کرے تو دوسرے شوہر کے ذریعے پیدا ہو نے والا اس کا بچہ دوسرے شوہرکے ٹی ین ‏اے سے مناسبت نہ رکھنا ممکن ہے۔ پہلے شوہرکے ٹی ین اے سے وہ مناسبت رکھ سکتا ہے۔ 

یہ انکشاف بھی عدت کی ضرورت کواجاگر کر تا ہے۔ 

چار مہینے اور دس دن کے بعداگر وہ دوسری شادی کر لے تو ٹی ین اے کے جانچ میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔ 

رابرٹ گلہام نے یہ جان کر کہ قرآن اللہ ہی کاکلام ہے اسلام قبول کر نے کے لئے عدت کا قانون بھی ایک وجہ ہے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ عدت کس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہوا ایک قانون ہے۔

بعض مسلمان چار مہینے اور دس دن شوہر کوکھوئے ہوئے عورتوں کو عدت کے نام سے اندھیری کوٹھری میں بند کر کے ظلم ڈھاتے ہیں، یہ بہت ‏بڑی غلطی ہے۔ ان لوگوں کو سمجھ میں آجانی چاہئے کہ بغیردوسری شادی کے رہنااور شادی کے لئے اکسانے والی زیب و زینت نہ کرنا ہی عدت ‏ہے۔ 

اس کے علاوہ ایک اور طریقے کی عدت بھی ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو وہ لوگ دوسری شادی کئے بغیر انتظار کر نا بھی عدت ہے۔ ‏یعنی طلاق کے فوراً بعد عورتیں دوسری شادی کئے بغیر تین حیض کے عرصے تک انتظاار کرنا چاہئے۔ اس عرصے کے اندر شوہر اپنی بیوی سے جمع ‏ہوسکتا ہے۔ یہ آیتیں 2:228، 2:231، 2:232، 33:49، 65:1 اسی عدت کے بارے میں کہتی ہیں۔

اس عدت کو کسی قسم کی پابندی بھی الگ سے دین میں کہا نہیں گیا۔ اس عدت میں یہی ایک شرط ہے کہ عدت ختم ہو نے تک وہ دوسری شادی نا ‏کریں۔

عدت کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 360، 404، 424وغیرہ دیکھیں!

طلاق کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 66، 70، 74، 386، 402، 424دیکھیں!

‏‏68۔ طاقت کے مناسب قوانین‏

یہ آیتیں 2:185، 2:220، 2:233، 2:286، 4:28، 5:6، 6:152، 7:42، 23:62، 65:7 کہتی ہیں کہ انسان کے طاقت ‏کے مناسب ہی اسلام کا قانون تشکیل کیا گیا ہے ۔

یہ جملہ کئی مسئلوں کے لئے حل ہے۔ 

ہم جینے کا یہ زمانہ ، ملک اور دیش وغیر ہ کے لحاظ سے، اورصحتیابی، بیماری اور بڈھاپے کی وجہ سے اللہ کے چند احکام پر عمل پیرا نہ ہوسکتے۔ انہیں کے ‏لئے یہ آیتیں حل ثابت ہوتی ہیں۔ ایک شخص سے مجبوری کی حالت میں چند احکام پر اگر عمل نہ ہو سکا تو اس کو اللہ گرفت نہیں فرمائے گا۔ 

مثال کے طور پر قرآن میں کہی ہوئی سیاسی قانون کو ہندوستان میں نہیں چلا سکتے۔ کیونکہ یہاں اسلامی حکومت نہیں ہے۔یہ آیتیں سند ہیں کہ ‏ہندوستان کی اس ماحول میں اس پر عمل پیرا نہ ہونا کوئی جرم نہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں یہ جملہ اور بھی کئی مسئلوں کو سلجھاتی ‏ہے۔ ‏

‏ ‏67۔نبی کریم ؐ کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی دی گئی‏

یہ آیتیں 2:129، 2:151، 2:231، 3:164، 4:113، 33:34، 62:2 نبی کریم ؐ کوکتاب عطا کر نے کے بارے میں کہتے وقت ‏صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ تمہیں کتاب عطا کی گئی ہے، بلکہ کتاب کے ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی ہے۔ 

معقول وجہ ہی سے اس طرح کہتی ہے۔

یہ آیتیں 3:48، 3:81، 4:54، 5:110 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐاور دیگر اللہ کے رسولوں کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی ۔

ان آیتوں سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کو اللہ نے صرف کتاب ہی نہیں دی بلکہ کتاب کیساتھ حکمت بھی عطا کی گئی۔

کتاب کی کس طرح وضاحت کریں اس کی بھی حکمت کے ساتھ ہی اللہ کے رسول بھیجے گئے۔ ان لوگوں نے جو وضاحت کی تھی وہ ان کا اپنا خاص ‏اختراع سے نہیں کہا گیا۔یہ آیتیں صاف کہتی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا گیا۔ 

یہ آیتیں سند ہیں کہ اللہ کے رسول جو تشریح کی تھی وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ آیتیں اس کی بھی سند ہیں کہ جس طرح قرآن کی بتائی ہوئی رہنمائی ‏کی ہم پیروی کر تے ہیں اسی طرح نبی کریم ؐ کی دلیل بھری باتیں اور رہنمائی کی بھی پیروی کر نا ضروری ہے۔ 

حدیث کے انکار کر نے والے بکتے ہیں کہ کتاب اور حکمت کا جملہ حکمت والی کتاب کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

حکمت والے کتاب کو کتاب اور حکمت جیسے لفظوں سے کوئی بھی عقلمندنہیں کہے گا۔ حکمت والی کتاب ،حکمت بھری کتاب جیسے لفظوں ہی سے اس ‏کو معانی دے گا۔ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کتاب اور حکمت دو چیزوں کی طرف ہی اشارہ کر تی ہے۔ 

مندرجہ بالا آیتوں میں استعمال شدہ الفاظ ان لوگوں کی جہالت ہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ 

قرآن مجید کے بارے میں کہتے وقت جیسا کہ کہا گیا ہے کہ’’ قرآن کو اتارا‘‘ ، اسی طرح آیت نمبر 4:113 میں اللہ کہتا ہے کہ قرآن مجید بھی اتارا ‏اور حکمت بھی اتارا۔ اس سے اچھی طرح واضح ہو تا ہے کہ قرآن کی طرح حکمت بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

قرآن مجید کے ساتھ سنت نبی کی بھی ضرورت ہے ، اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 39، 50، 55،56، 57، 60، 72، ‏‏105، 125، 127، 128، 132، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 ‏دیکھیں!‏

 ‏66۔ کیا طلاق کا قانون انصاف ہے؟

‏ان آیتوں میں 2:227، 2:228، 2:229، 2:230، 2:231، 2:232، 2:236، 2:241، 4:20، 4:34، 65:1، ‏‏33:49 کہا گیا ہے کہ بیویوں کو طلاق دینامردوں کو حق ہے۔ اس کے لئے طور طریقے بھی ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔ 

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مردوں کو طلاق دینے کا حق جو دیا گیا ہے وہ عورتوں کے لئے بہت بڑی ناانصافی ہے۔ 

شوہر کو بیوی پسند نہ آئی تو طلاق دینے کی اجازت اگرنہیں ہے، یا طلاق کا قانون بالکل سخت ترین ہے تو اس سے عورتوں کو بھلائی سے زیادہ برائی ہی ‏پیدا ہوگی۔ اس لحاظ سے نیچے دئے گئے برائیاں لوگوں میں عام دکھائی دیتی ہیں۔ 

‏1۔ اگریہ حال ہوجائے کہ طلاق حاصل نہیں کر سکتے،یا طلاق حاصل کر نے کے لئے بہت مشکلوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے تو وہ بیوی سے مل کر زندگی ‏بسر کر نے کے بجائے ایک اور لڑکی کا انتظام کر لے گا۔ بیوی کو دکھ پہنچائے گا اور اس کو سہارا بھی نہ دیگا۔

‏2۔ یا آسانی سے طلاق پانے کے لئے بیوی کو بد چلن کہہ کرجھوٹی تہمت لگائے گا۔ 

‏3۔ یا بیوی کو آگ لگا کر جالا دے گا اور اس کو خودکشی یا حادثہ کا سوانگ رچا کر بچ جائے گا۔ 

ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ غیر اسلامی مذہبوں میں طلاق کی اجازت نہیں ہے اور اور طلاق کا آئین بہت سخت رہنے کی وجہ سے اس طرح کی کاروائیاں ‏پیش ہو تے رہتے ہیں۔ 

اس لئے عورتوں کی جان، مال، حیا وغیرہ کی حفاظت کرنے کے ارادے سے طلاق کے لئے اجازت دے کر اس کے قانون کو بھی اسلام آسان کر دیا ‏ہے۔ 

طلاق کا قانون آسان ہو نے کے باوجود آگے پیچھے کچھ سوچے بغیر طلاق دینے کے لئے اسلام نہیں کہتا۔ اسلام مندرجہ ذیل رہنمائی کر تا ہے۔

پہلے بیوی کو بہتر انداز سے نصیحت کر کے اس کو سدھارنے کی کوشش کر نی چاہئے۔ 

اگر وہ فائدہ مند ثابت نہ ہوتو عارضی طور پر بستر سے اس کو دور کردینا چاہئے۔ 

اگر وہ بھی فائدہ نہ دے تو آیت نمبر 4:34 کہتی ہے کہ اس کو مار کر سدھارے۔

بیوی کے چہرے پر مارنے اور زخم پیداہونے کے انداز سے مارنے نبی کریم ؐ نے بہت سختی سے منع کیا ہے۔

بخاری: 1294، 1297

طلاق کے حد تک جانے سے روکنے کے لئے ہی بالکل ہلکے سے مارنے کے لئے اسلام اجازت دیتا ہے۔ 

ہلکے سے مارو کہنے والے اسلام قبول کر نے والوں سے زیادہ مارنے کے بارے میں نہ کہنے والے دوسری قوم کے افرادہی عورتوں کو بہت زیادہ مار ‏پیٹ کر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ 

مرد کو طاقتور اور عورت کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ دونوں جب تنہا ہوں تو دو محافظوں کو حفاظت کے لئے مقرر نہیں کر سکتے۔ اس حالت میں غصہ ‏کے عالم میں طاقت والے بسا اوقات کمزوروں پر حملہ کرہی دیتے ہیں۔ اسکو کوئی قانون روک نہیں سکتا۔

ہلکے سے ماروکہنے کے ذریعے اندھا دھند مارنے سے روک سکتے ہیں۔ اسی لئے بیویوں کو ایذا دینے میں دوسروں کے بہ نسبت مسلمانوں میں کم ہی ‏ہے۔

اس کے بعد بھی دونوں کے درمیان اچھی موافقت پیدا نہ ہوئی آیت نمبر 4:35 کہتی ہے کہ تو دونوں خاندانوں کے منصف کے ذریعے بات چیت ‏کر کے فیصلہ کرلیں۔

ان چار کاررواےؤں سے بھی اگر موافقت پیدا نہیں ہوئی تو وہ دونوں مل کر جینے میں کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ اس حالت میں کوئی دوسری راہ نہ ‏ہونے کی وجہ سے طلاق کے لئے اسلام کہتا ہے۔

بیوی سے دو گواہوں کے سامنے مرد اگر کہہ دے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو طلاق ہوجائے گی۔ 

طلاق دینے کے بعد عورتوں کو حفاظتی رقم دینے کی ذمہ داری شوہر کی ہے، اس لئے اس کا فیصلہ کر کے اس رقم کو لے کر دینے کے لئے جماعت کے ‏سامنے یقین دلانا چاہئے۔ 

دوسری کوئی رسم نہیں ہے۔ 

طلاق دینے کے لئے ہر شوہر کو تین مواقع فراہم ہیں۔ 

ایک بار طلاق دینے کے ساتھ نکاح کا بندھن یکبارگی ختم نہیں ہوجاتا۔ پہلی بار طلاق دینے کے بعد بیوی کو تین حیض ہونے سے پہلے بیوی کے ساتھ ‏رشتہ جوڑ سکتے ہیں۔ اگر بیوی حاملہ ہو تووہ جننے سے پہلے اس سے مل سکتے ہیں۔ (دیکھئے آیت نمبر 65:4)

اس میعاد کے اندر بیوی کے ساتھ اگر شوہر نہ ملا تو ان کے درمیان نکاح کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔ تاہم دونوں مل کر جینا چاہیں تو وہ دونوں پھر سے ‏نکاح کر سکتے ہیں۔ اس کو کوئی روک نہیں ہے۔ 

پہلی طلاق کہہ کر دونوں مل جانے کے بعدان کے درمیان پھر سے مل کر نہ جینے کی حالت پیدا ہوتو پہلے جو کہا گیاتھا ان سب طریقوں کو اختیار کر ‏نیکے بعد آخر میں پھر سے طلاق دے سکتے ہیں۔ 

پہلے جو کہا گیا اس طرح مقررہ میعاد کے اندر پھر سے مل جا سکتے ہیں۔ وہ میعاد ختم ہو نے کے بعد دونوں اگر مل کر جینا چا ہیں تو پھر سے نکاح کر کے مل ‏سکتے ہیں۔ 

اس طرح جب تیسری دفعہ مل کر جیتے ہیں تو، ان کے درمیان پھر سے موافقت نہ پیدا ہو تو ، تیسری دفعہ طلاق دے سکتے ہیں۔ یہی آخری موقع ‏ہے۔ 

تیسری دفعہ طلاق دے دیں تو بیوی سے مل کر جینے کا دروازہ بند ہو جا تا ہے۔ 

تاہم طلاق شدہ عورت ایک دوسرے سے شادی کرکے وہ بھی اس کو قاعدے کے مطابق طلاق دے دے تو پہلا شوہر پھرسے اس کی رضامندی ‏کے ساتھ اس سے شادی کر سکتا ہے۔ 

آیت نمبر 2:229 سے ہم جان سکتے ہیں کہ (پھر سے واپس بلالینے کے لائق) اس طرح طلاق دو دفعہ ہی ہے۔

اسلام کا عطا کیا ہوا اس قانون کو ٹھیک سے نہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنی ازدواجی زندگی کو برباد کر تے آرہے ہیں۔ ایک ہی وقت میں تین طلاق ‏کہہ کر بیوی کوطلاق دے دیتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اسکے بعد مل کر زندگی بسر کر نے کے لئے راستہ نہیں۔

یہ تو بالکل غلط ہے۔ ایک ہی وقت میں تین طلاق کہویا تین سو طلاق کہو، ایک ہی طلاق واقع ہوگا۔ ایک بار طلاق دینے کے بعد جس طرح مقررہ ‏میعاد تک بیوی سے مل سکتے ہیں یا مقررہ میعاد ختم ہو نے بعد دونوں پھر سے نکاح کر سکتے ہیں، اسی طرح اب بھی کر سکتے ہیں۔ 

ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ کیونکہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ایک موقع پر تین طلاق کہنا ایک ہی طلاق سمجھا جاتا تھا۔

مسلم: 2932، 2933، 2934

ایک وقت میں کہی ہوئی تین طلاق تین طلاق ہی سمجھا جانا نبی کریم ؐ کے زمانے کا بعد کا ایجاد شدہ غلط کارروائی ہے۔

طلاق دینے کے بعد بیوی کو بے سہارا چھوڑنا نہیں چاہئے۔ اس کی آئندہ دیکھ بھال کے لئے مناسب نان و نفقہ ادا کر نا چاہئے۔ اس کا بندو بست کر نا ‏جماعت کا فرض ہے۔ 

اس کے متعلق جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 74 دیکھیں۔ 

یہ مردوں کی طلاق کے بارے میں قانون ہے۔جس طرح مردوں کو طلاق دینے کا حق ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں ثابت بن قیسؓ کی بیوی نے نبی کریم ؐ کے پاس آکر کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر کے اچھے اخلاق اور اچھی صفات میں میں ‏کچھ کمی نہیں کہوں گی۔ تاہم اسلام میں رہتے ہوئے (اللہ سے) اختلاف کرنا مجھے پسند نہیں ہے۔ (یعنی شوہر اگر نیک بھی ہوں تو میں ان سے مل کر ‏زندگی بسر کر نا نہیں چاہتی!) تو فوراً نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہو تو کیا تم اس باغ کو (جو تیرے شوہر نے مہر میں دیا تھا) واپس دینے کے لئے تیار ‏ہو؟ تو اس عورت نے ہاں کہا۔ تو نبی کریم ؐنے فوراً اس کے شوہر سے کہا کہ تم اس باغ کوواپس لے لو او ر بیوی کو پوری طریقے سے آزاد کردو۔

بخاری: 5273، 5275، 5277

اس حدیث سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے والی عورتوں کو بھی طلاق کا حق تھا۔ 

اگر ایک عورت کو اس کا شوہر پسند نہ آئے تو وہ قومی صدر کے پاس فریاد کر نا چاہئے۔وہ صدر اس سے کہے کہ شوہر سے جو مہر کی رقم اس نے لیا تھا اس ‏کو واپس کر دے ، اور شوہر سے کہے کہ اس مہر کی رقم لے کر اس عورت سے الگ ہوجائے اور نکاح بھی رد کردے۔ اس حدیث سے ہم یہ جان سکتے ‏ہیں۔ 

عورتیں خود ہی نکاح کا عہد توڑے بغیر صدر کے سامنے فریاد کر نا ہی ان کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ یہ شرط اس لئے ڈالا گیا کہ عورتیں لوگوں کے ‏سامنے شوہر سے مہر کی رقم حاصل کی ہے، اور اس رقم کو لوگوں ہی کے سامنے اپنے شوہر کو سونپ دیں۔ 

یہ انتظام اس لئے بھی ضروری ہے کہ طلاق حاصل کر نے کے بعد عورتوں ہی کو زیادہ تکلیفوں کاسامنا کر نا پڑتا ہے، اس لئے وہ اس طرح کا فیصلہ کر ‏نے میں جلدی نہ کرے۔ قومی صدر عورتوں کو نصیحت کر نے بھی راستہ پیداہوتاہے۔ اس لئے قومی صدرسے فریاد کر کے ان کے ذریعے ہی جدا ‏ہونا عورتوں کے لئے بہتر ہے۔

عورتیں طلاق حاصل کر نے کے لئے اس سے آسان طریقہ دنیا میں کہیں بھی دیکھ نہیں سکو گے۔ بیسویں صدی میں بھی نہ دئے جانے والا حق ایک ‏ہزار چار سو سال پہلے ہی اسلام نے دیدیا۔

اس طرح عورتیں نکاح سے آزاد ہونے کے لئے بہت بڑے وجہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اوپر کی اس حدیث میں اس عورت نے اپنے شوہر پر کوئی ‏خامی نہیں بتائی۔ صرف اتنا کہا کہ مجھے پسند نہیں۔ نبی کریم ؐ نے اس کے لئے وجہ بھی نہیں پوچھا۔ کوئی وجہ کہنا اگر اہم ہو تا تواس کے بارے میں نبی ‏نے ضرور پوچھا ہوگا۔ کسی قسم کے دریافت کے بنا طلاق عطا کردیا۔

نکاح کو اسلام نے جدا نہ ہونے والا بندھن نہیں سمجھا۔ بلکہ اس کووہ زندگی کا ایک اقرار نامہ ہی سمجھتا ہے۔ 

قرآن (4:21) کہتا ہے کہ وہ عورتیں پختہ عہد لے کر ایک دوسرے کے ساتھ مل چکے،

اور یہ بھی (2:228) کہتا ہے کہ مردوں کو جس طرح بیویوں پر حق ہے اسی طرح بیویوں کو بھی مردوں پر حق ہے۔

جس طرح مردوں کو طلاق کا حق نہیں دیا جائے تو برا انجام پیدا ہوتا ہے، اسی طرح عورتوں کو بھی طلاق کا حق نہ دیا گیا تو بہت سے برے انجام پیدا ‏ہوں گے، اور ہوتا آرہا ہے۔ 

شوہر کوپسند نہ کر نیوالی عورتیں طلاق کا قانون سخت رہنے کی وجہ سے شوہر ہی کو قتل کر دینے کے کئی واقعے پیش آرہے ہیں۔

زہر دے کر شوہرکو قتل کر دیتے ہیںیا چور عاشق سے مل کر شوہر کو مار دیتے ہیں۔ شوہر سے آسانی سے طلاق پا کر جسے وہ پسند کرتی ہے اس سے ‏قانون کے مطابق نکاح کر نے کا اگر راستہ ہوتا تو اس جیسا ظلم پیش نہیں آئے گا۔ 

اسی لئے صرف مردوں ہی کے لئے نہیں بلکہ عورتوں کے لئے بھی طلاق کے قانون کو اسلام نے آسان کر رکھا ہے۔ جس طرح مردوں کو حق دیا ‏گیا ہے اس سے کسی قسم کی کم و بیشی کے بغیر اسلام نے عورتوں کو بھی وہ حق پہنچایا ہے۔ اس کو آیت نمبر 2:228-232 میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

طلاق کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 69، 70، 74، 386، 402، 424 میں دیکھیں۔

More Articles …