66۔ کیا طلاق کا قانون انصاف ہے؟
ان آیتوں میں 2:227، 2:228، 2:229، 2:230، 2:231، 2:232، 2:236، 2:241، 4:20، 4:34، 65:1، 33:49 کہا گیا ہے کہ بیویوں کو طلاق دینامردوں کو حق ہے۔ اس کے لئے طور طریقے بھی ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مردوں کو طلاق دینے کا حق جو دیا گیا ہے وہ عورتوں کے لئے بہت بڑی ناانصافی ہے۔
شوہر کو بیوی پسند نہ آئی تو طلاق دینے کی اجازت اگرنہیں ہے، یا طلاق کا قانون بالکل سخت ترین ہے تو اس سے عورتوں کو بھلائی سے زیادہ برائی ہی پیدا ہوگی۔ اس لحاظ سے نیچے دئے گئے برائیاں لوگوں میں عام دکھائی دیتی ہیں۔
1۔ اگریہ حال ہوجائے کہ طلاق حاصل نہیں کر سکتے،یا طلاق حاصل کر نے کے لئے بہت مشکلوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے تو وہ بیوی سے مل کر زندگی بسر کر نے کے بجائے ایک اور لڑکی کا انتظام کر لے گا۔ بیوی کو دکھ پہنچائے گا اور اس کو سہارا بھی نہ دیگا۔
2۔ یا آسانی سے طلاق پانے کے لئے بیوی کو بد چلن کہہ کرجھوٹی تہمت لگائے گا۔
3۔ یا بیوی کو آگ لگا کر جالا دے گا اور اس کو خودکشی یا حادثہ کا سوانگ رچا کر بچ جائے گا۔
ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ غیر اسلامی مذہبوں میں طلاق کی اجازت نہیں ہے اور اور طلاق کا آئین بہت سخت رہنے کی وجہ سے اس طرح کی کاروائیاں پیش ہو تے رہتے ہیں۔
اس لئے عورتوں کی جان، مال، حیا وغیرہ کی حفاظت کرنے کے ارادے سے طلاق کے لئے اجازت دے کر اس کے قانون کو بھی اسلام آسان کر دیا ہے۔
طلاق کا قانون آسان ہو نے کے باوجود آگے پیچھے کچھ سوچے بغیر طلاق دینے کے لئے اسلام نہیں کہتا۔ اسلام مندرجہ ذیل رہنمائی کر تا ہے۔
پہلے بیوی کو بہتر انداز سے نصیحت کر کے اس کو سدھارنے کی کوشش کر نی چاہئے۔
اگر وہ فائدہ مند ثابت نہ ہوتو عارضی طور پر بستر سے اس کو دور کردینا چاہئے۔
اگر وہ بھی فائدہ نہ دے تو آیت نمبر 4:34 کہتی ہے کہ اس کو مار کر سدھارے۔
بیوی کے چہرے پر مارنے اور زخم پیداہونے کے انداز سے مارنے نبی کریم ؐ نے بہت سختی سے منع کیا ہے۔
بخاری: 1294، 1297
طلاق کے حد تک جانے سے روکنے کے لئے ہی بالکل ہلکے سے مارنے کے لئے اسلام اجازت دیتا ہے۔
ہلکے سے مارو کہنے والے اسلام قبول کر نے والوں سے زیادہ مارنے کے بارے میں نہ کہنے والے دوسری قوم کے افرادہی عورتوں کو بہت زیادہ مار پیٹ کر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔
مرد کو طاقتور اور عورت کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ دونوں جب تنہا ہوں تو دو محافظوں کو حفاظت کے لئے مقرر نہیں کر سکتے۔ اس حالت میں غصہ کے عالم میں طاقت والے بسا اوقات کمزوروں پر حملہ کرہی دیتے ہیں۔ اسکو کوئی قانون روک نہیں سکتا۔
ہلکے سے ماروکہنے کے ذریعے اندھا دھند مارنے سے روک سکتے ہیں۔ اسی لئے بیویوں کو ایذا دینے میں دوسروں کے بہ نسبت مسلمانوں میں کم ہی ہے۔
اس کے بعد بھی دونوں کے درمیان اچھی موافقت پیدا نہ ہوئی آیت نمبر 4:35 کہتی ہے کہ تو دونوں خاندانوں کے منصف کے ذریعے بات چیت کر کے فیصلہ کرلیں۔
ان چار کاررواےؤں سے بھی اگر موافقت پیدا نہیں ہوئی تو وہ دونوں مل کر جینے میں کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ اس حالت میں کوئی دوسری راہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کے لئے اسلام کہتا ہے۔
بیوی سے دو گواہوں کے سامنے مرد اگر کہہ دے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو طلاق ہوجائے گی۔
طلاق دینے کے بعد عورتوں کو حفاظتی رقم دینے کی ذمہ داری شوہر کی ہے، اس لئے اس کا فیصلہ کر کے اس رقم کو لے کر دینے کے لئے جماعت کے سامنے یقین دلانا چاہئے۔
دوسری کوئی رسم نہیں ہے۔
طلاق دینے کے لئے ہر شوہر کو تین مواقع فراہم ہیں۔
ایک بار طلاق دینے کے ساتھ نکاح کا بندھن یکبارگی ختم نہیں ہوجاتا۔ پہلی بار طلاق دینے کے بعد بیوی کو تین حیض ہونے سے پہلے بیوی کے ساتھ رشتہ جوڑ سکتے ہیں۔ اگر بیوی حاملہ ہو تووہ جننے سے پہلے اس سے مل سکتے ہیں۔ (دیکھئے آیت نمبر 65:4)
اس میعاد کے اندر بیوی کے ساتھ اگر شوہر نہ ملا تو ان کے درمیان نکاح کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔ تاہم دونوں مل کر جینا چاہیں تو وہ دونوں پھر سے نکاح کر سکتے ہیں۔ اس کو کوئی روک نہیں ہے۔
پہلی طلاق کہہ کر دونوں مل جانے کے بعدان کے درمیان پھر سے مل کر نہ جینے کی حالت پیدا ہوتو پہلے جو کہا گیاتھا ان سب طریقوں کو اختیار کر نیکے بعد آخر میں پھر سے طلاق دے سکتے ہیں۔
پہلے جو کہا گیا اس طرح مقررہ میعاد کے اندر پھر سے مل جا سکتے ہیں۔ وہ میعاد ختم ہو نے کے بعد دونوں اگر مل کر جینا چا ہیں تو پھر سے نکاح کر کے مل سکتے ہیں۔
اس طرح جب تیسری دفعہ مل کر جیتے ہیں تو، ان کے درمیان پھر سے موافقت نہ پیدا ہو تو ، تیسری دفعہ طلاق دے سکتے ہیں۔ یہی آخری موقع ہے۔
تیسری دفعہ طلاق دے دیں تو بیوی سے مل کر جینے کا دروازہ بند ہو جا تا ہے۔
تاہم طلاق شدہ عورت ایک دوسرے سے شادی کرکے وہ بھی اس کو قاعدے کے مطابق طلاق دے دے تو پہلا شوہر پھرسے اس کی رضامندی کے ساتھ اس سے شادی کر سکتا ہے۔
آیت نمبر 2:229 سے ہم جان سکتے ہیں کہ (پھر سے واپس بلالینے کے لائق) اس طرح طلاق دو دفعہ ہی ہے۔
اسلام کا عطا کیا ہوا اس قانون کو ٹھیک سے نہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنی ازدواجی زندگی کو برباد کر تے آرہے ہیں۔ ایک ہی وقت میں تین طلاق کہہ کر بیوی کوطلاق دے دیتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اسکے بعد مل کر زندگی بسر کر نے کے لئے راستہ نہیں۔
یہ تو بالکل غلط ہے۔ ایک ہی وقت میں تین طلاق کہویا تین سو طلاق کہو، ایک ہی طلاق واقع ہوگا۔ ایک بار طلاق دینے کے بعد جس طرح مقررہ میعاد تک بیوی سے مل سکتے ہیں یا مقررہ میعاد ختم ہو نے بعد دونوں پھر سے نکاح کر سکتے ہیں، اسی طرح اب بھی کر سکتے ہیں۔
ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ کیونکہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں ایک موقع پر تین طلاق کہنا ایک ہی طلاق سمجھا جاتا تھا۔
مسلم: 2932، 2933، 2934
ایک وقت میں کہی ہوئی تین طلاق تین طلاق ہی سمجھا جانا نبی کریم ؐ کے زمانے کا بعد کا ایجاد شدہ غلط کارروائی ہے۔
طلاق دینے کے بعد بیوی کو بے سہارا چھوڑنا نہیں چاہئے۔ اس کی آئندہ دیکھ بھال کے لئے مناسب نان و نفقہ ادا کر نا چاہئے۔ اس کا بندو بست کر نا جماعت کا فرض ہے۔
اس کے متعلق جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 74 دیکھیں۔
یہ مردوں کی طلاق کے بارے میں قانون ہے۔جس طرح مردوں کو طلاق دینے کا حق ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہے۔
نبی کریم ؐ کے زمانے میں ثابت بن قیسؓ کی بیوی نے نبی کریم ؐ کے پاس آکر کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر کے اچھے اخلاق اور اچھی صفات میں میں کچھ کمی نہیں کہوں گی۔ تاہم اسلام میں رہتے ہوئے (اللہ سے) اختلاف کرنا مجھے پسند نہیں ہے۔ (یعنی شوہر اگر نیک بھی ہوں تو میں ان سے مل کر زندگی بسر کر نا نہیں چاہتی!) تو فوراً نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہو تو کیا تم اس باغ کو (جو تیرے شوہر نے مہر میں دیا تھا) واپس دینے کے لئے تیار ہو؟ تو اس عورت نے ہاں کہا۔ تو نبی کریم ؐنے فوراً اس کے شوہر سے کہا کہ تم اس باغ کوواپس لے لو او ر بیوی کو پوری طریقے سے آزاد کردو۔
بخاری: 5273، 5275، 5277
اس حدیث سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے والی عورتوں کو بھی طلاق کا حق تھا۔
اگر ایک عورت کو اس کا شوہر پسند نہ آئے تو وہ قومی صدر کے پاس فریاد کر نا چاہئے۔وہ صدر اس سے کہے کہ شوہر سے جو مہر کی رقم اس نے لیا تھا اس کو واپس کر دے ، اور شوہر سے کہے کہ اس مہر کی رقم لے کر اس عورت سے الگ ہوجائے اور نکاح بھی رد کردے۔ اس حدیث سے ہم یہ جان سکتے ہیں۔
عورتیں خود ہی نکاح کا عہد توڑے بغیر صدر کے سامنے فریاد کر نا ہی ان کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ یہ شرط اس لئے ڈالا گیا کہ عورتیں لوگوں کے سامنے شوہر سے مہر کی رقم حاصل کی ہے، اور اس رقم کو لوگوں ہی کے سامنے اپنے شوہر کو سونپ دیں۔
یہ انتظام اس لئے بھی ضروری ہے کہ طلاق حاصل کر نے کے بعد عورتوں ہی کو زیادہ تکلیفوں کاسامنا کر نا پڑتا ہے، اس لئے وہ اس طرح کا فیصلہ کر نے میں جلدی نہ کرے۔ قومی صدر عورتوں کو نصیحت کر نے بھی راستہ پیداہوتاہے۔ اس لئے قومی صدرسے فریاد کر کے ان کے ذریعے ہی جدا ہونا عورتوں کے لئے بہتر ہے۔
عورتیں طلاق حاصل کر نے کے لئے اس سے آسان طریقہ دنیا میں کہیں بھی دیکھ نہیں سکو گے۔ بیسویں صدی میں بھی نہ دئے جانے والا حق ایک ہزار چار سو سال پہلے ہی اسلام نے دیدیا۔
اس طرح عورتیں نکاح سے آزاد ہونے کے لئے بہت بڑے وجہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اوپر کی اس حدیث میں اس عورت نے اپنے شوہر پر کوئی خامی نہیں بتائی۔ صرف اتنا کہا کہ مجھے پسند نہیں۔ نبی کریم ؐ نے اس کے لئے وجہ بھی نہیں پوچھا۔ کوئی وجہ کہنا اگر اہم ہو تا تواس کے بارے میں نبی نے ضرور پوچھا ہوگا۔ کسی قسم کے دریافت کے بنا طلاق عطا کردیا۔
نکاح کو اسلام نے جدا نہ ہونے والا بندھن نہیں سمجھا۔ بلکہ اس کووہ زندگی کا ایک اقرار نامہ ہی سمجھتا ہے۔
قرآن (4:21) کہتا ہے کہ وہ عورتیں پختہ عہد لے کر ایک دوسرے کے ساتھ مل چکے،
اور یہ بھی (2:228) کہتا ہے کہ مردوں کو جس طرح بیویوں پر حق ہے اسی طرح بیویوں کو بھی مردوں پر حق ہے۔
جس طرح مردوں کو طلاق کا حق نہیں دیا جائے تو برا انجام پیدا ہوتا ہے، اسی طرح عورتوں کو بھی طلاق کا حق نہ دیا گیا تو بہت سے برے انجام پیدا ہوں گے، اور ہوتا آرہا ہے۔
شوہر کوپسند نہ کر نیوالی عورتیں طلاق کا قانون سخت رہنے کی وجہ سے شوہر ہی کو قتل کر دینے کے کئی واقعے پیش آرہے ہیں۔
زہر دے کر شوہرکو قتل کر دیتے ہیںیا چور عاشق سے مل کر شوہر کو مار دیتے ہیں۔ شوہر سے آسانی سے طلاق پا کر جسے وہ پسند کرتی ہے اس سے قانون کے مطابق نکاح کر نے کا اگر راستہ ہوتا تو اس جیسا ظلم پیش نہیں آئے گا۔
اسی لئے صرف مردوں ہی کے لئے نہیں بلکہ عورتوں کے لئے بھی طلاق کے قانون کو اسلام نے آسان کر رکھا ہے۔ جس طرح مردوں کو حق دیا گیا ہے اس سے کسی قسم کی کم و بیشی کے بغیر اسلام نے عورتوں کو بھی وہ حق پہنچایا ہے۔ اس کو آیت نمبر 2:228-232 میں دیکھ سکتے ہیں۔
طلاق کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 69، 70، 74، 386، 402، 424 میں دیکھیں۔