Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏81۔ سیدھی راہ پر چلانا اللہ کے ہاتھ میں ہے

ان آیتوں میں (2:272، 3:8، 3:20، 5:92، 6:u35، 6:66، 6:107، 10:43، 10:108، 13:40، 16:37، 16:82، ‏‏17:54، 24:54، 27:81، 27:92، 28:56، 29:18، 30:53، 34:50، 35:8، 39:41، 42:52، 42:48، ‏‏43:40، 50:45، 88:21، 93:7 ) کہا گیا ہے کہ انسانوں کو سیدھی راہ پر چلانے کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے اور اس اختیار میں مع نبی ‏کریم ؐ کے کسی بھی اللہ کے رسول کو کوئی حصہ نہیں ہے۔ 

اللہ کے رسول دین کی باتوں کو سنانے کے لئے ہی بھیجے گئے۔یہ آیتیں بالکل سختی سے کہتی ہیں کہ انسان کے دلوں میں اپنی تعلیم کووہ جمع کر نہیں رکھ ‏سکتے۔ 

اسی لئے کئی رسولوں کے خاندان والے غلط راستے پر جب چلنے لگے تووہ اپنی خاندان کو نیک راستے پر چلا نہیں سکے۔

نبی کریم ؐ کے بڑے والد اور آپ کو پرورش کر نے والے اور آپ کی تبلیغ کو سہارا دینے والے ابوطالب جب بستر مرگ پر پڑے ہوئے تھے تو نبی ‏کریم ؐ نے ان سے ملنے کے لئے گئے۔ اسلام کو اختیار کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔ لیکن آخر تک بھی وہ بغیر اسلام قبول کئے انتقال کر گئے۔ اس ‏کے لئے نبی کریم ؐ نے بہت غمگین ہوئے۔ اسی وقت اللہ نے یہ آیت (28:56) نازل کی کہ تم جسے چاہو اس کوتم سیدھی راہ دکھا نہیں سکتے، جسے ‏اللہ چاہے اسی کو وہ سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ (بخاری: 3884، 4772)

اسلام کی یہ تعلیم تصوف کے نام سے واقع ہو نے والی تمام دھوکہ بازی کوتباہ دیتی ہے۔ 

کسی کوبزرگ اور پختگی پائے ہوئے لوگ سمجھ کران کے پاس بعض لوگ بیعت حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے پاس اگر ‏بیعت لوگے تو ان کے دلوں میں جو کثافت ہے اس کو وہ دور کر دیں گے اور پختگی عطا کریں گے۔ 

اسی عقیدے کی وجہ سے اکثر لوگ مذہبی پیشواؤں کی تلاش میں جاتے ہیں۔ لوگوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی پیشواؤں نے بھی ‏انہیں اچھی طرح دھوکہ دیتے آرہے ہیں۔ 

اس طرح لوگوں کو کوئی دھوکہ نہ دیں ،اس سے بچانے کے لئے اوراللہ کے رسول جیسے اونچے درجے کو پائے ہوئے بزرگوں سے بھی اپنی چاہت ‏کے مطابق خیالات دوسروں کے دل میں جمع کر نا یا انہیں پختہ کار بنانا نہیں ہوسکتا، اسی بات کو یہ آیت قطعی طور پر کہتی ہے۔ 

بیعت، عہدو پیمان اور تصوف وغیرہ اسلام میں نہیں ہے، اس کے بارے اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 182، 273، 334وغیرہ دیکھئے!

‏80۔ کیا کمتر چیزیں دوسروں کو دے سکتے ہیں؟ 

اس آیت (2:267) میں کہا گیا ہے کہ سوائے آنکھ بند کئے ہوئے جس چیز کو تم لے نہیں سکتے، اس جیسی کمترین چیز کو خرچ کر نے کا ارادہ نہ ‏کرو۔ 

اس کو اگر سطحی طور پر دیکھا گیا تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ ہماری استعمال شدہ چیزیں اور پرانی چیزوں کو دوسروں کو مت دیں۔ 

لیکن اس آیت کی شان ناول کو دیکھو گے تو اس آیت کی صحیح معانی ہمیں سمجھ میں آجائے گی۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں مکہ سے مہاجربن کر مدینہ آنے والے چند لوگ مسجد ہی میں ٹہرے رہے۔ کھجور کا فصل پیدا ہو تے وقت اس میں سے چند ‏خوشے کو لے آکر مقامی صحابیوں نے مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے۔ 

مفلس اور مسجد میں ٹہرے ہوئے اصحاب وقت ضرورت اس کو کھایا کرتے تھے۔

مدینے میں نیک کاموں کے لئے خرچ نہ کر نے والے چند لوگ تھے۔ وہ لوگ فصل کاٹتے وقت جو کھانے کے لائق نہ ہواس خوشے کو لے آکر مسجد ‏لٹکا دیا کرتے تھے۔ جو کوئی نہ کھا سکے ایسی چیزوں کو لا کر دکھاوا کرتے تھے کہ ہم بھی خیرات کرچکے۔ انہیں لوگوں کو سرزنش کر تے ہوئے یہ ‏آیت نازل ہوئی ہے۔ ( ترمذی) 

اگرہمیں کوئی تحفہ کے طور پر کچھ دے تو ہم آنکھ بند کئے بغیر اس کو نہیں لیں گے، اس انداز میں اگر وہ چیز ہو تو ہم اس کو خیرات نہیں کرنا چاہئے۔ ‏اگر ہمیں خیرات دیا گیا تو ہم اس کو جس طرح لیں گے اسی انداز کا ہم بھی خیرات کرنا چاہئے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 78 دیکھئے!

‏79۔ کیا مرے ہوئے کو طاقت ہے؟ 

‏اس (2:259) آیت میں ایک نیک انسان کا عجیب و غریب تاریخی واقعہ کہا گیا ہے۔ ایک نیک بندے کو اللہ نے سو سال تک موت دی۔ دفن ‏کئے بغیر زمین کی سطح پر ہی ان کا جسم پڑا رہا۔ 

تاہم انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہم کتنے سال تک اس حالت میں رہے۔ انہیں محسوس ہوا کہ ایک ہی دن سوئے رہے۔ زمین کے اندر دفن کئے بنا ‏زمین کے سطح پر ہی ان کا جسم پڑے رہنے کے باوجود وہ جان نہیں سکے کہ انہیں کیا ہوا۔ اس لئے تم کو سوچنا چاہئے کہ زمین کے اندار دفن کئے ہوئے ‏لوگ کیسے اس دنیا میں رہنے والے دوسروں کے حالات جان سکتے ہیں؟

بعض مسلمان مرے ہوؤں سے دعا کرتے ہیں۔ وہ لوگ مر کر دفن کئے ہوئے کئی ہزار سال گزرجانے کے باوجود ان کے پاس دعا کر رہے ہیں۔ ‏اس واقعہ سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس طرح دعا کرنا بالکل صحیح نہیں ہے۔ ‏

س آیت میں جس کے بارے میں کہا گیا ہے ، ہم اس کو وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک نیک بندے تھے۔ لیکن درگاہوں میں جو مدفون ہیں ، ‏ان کے بارے میں ہم یقین سے کہہ نہیں سکتے کہ وہ نیک انسان تھے۔ آخرت میں ہی اس کے بارے میں تفصیل معلوم ہوگی۔ اس لئے قبروں میں ‏عبادت کر نے والوں کے خلاف یہی ایک آیت کافی ہے۔ 

درگاہوں کی عبادت کو تائید کر نے والوں کی دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں ، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 83، 100، ‏‏104، 121، 122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 دیکھیں!

‏ ‏78۔ کیا چاہت کی چیزوں کو خیرات کر دینا چاہئے؟ 

‏بعض لوگوں کو یہ خیال آسکتا ہے کہ اس آیت (3:92) کا مطلب ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں اسی چیزکی خیرات کر نی چاہئے۔ 

اس کو ایسا نہ سمجھ لینا کہ ہم جو چاہتے ہیں اسی کو خیرات کر نا اورجو ناپسند چیزیں ہمارے پاس ہیں اس کو خیرات نہیں کرناہے۔ 

اسی طرح اس کو ایسا بھی نہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم جو چاہتے ہیں ان تمام چیزوں کو خیرات کردینا ہے۔

صرف ناپسند چیزوں کوخیرات کرنا ہی بعض لوگوں کی فیاضی ہے۔ ایک چیز اگر ناپسند ہے تو صرف اسی کو خیرات کرنا ، اور چاہت کی کسی چیز کو ‏خیرات کئے بغیر رہنا نہیں، یہی اس کا مطلب ہے۔ 

تمہاری چاہت کی چیزوں میں سے ، اور تمہاری چاہت کی چیزیں ، ان دونوں میں بہت بڑافرق ہے۔ 

‏’تمہاری چاہت کی چیزوں میں سے ‘اس جملے کا مطلب ہے کہ تمہاری چاہت کی چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ تو دو۔ 

ہماری ناپسندیدہ اچھی چیزوں کو خیرات کر سکتے ہیں۔ وہ برا عمل نہیں۔ 

اللہ نے ایک آزمائش رکھی ہے کہ کیا ہم اللہ کے لئے خیرات کر تے ہیں یا وہ ناپسند چیز رہنے کی وجہ سے کر تے ہیں؟ 

اپنی نا پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی پسندیدہ چیزوں کو بھی کوئی خیرات کرتا ہے تو وہ اللہ کیلئے خیرات کرنے والا ہوگا۔ 

اگر خیرات کر نے والی ہر چیزصرف اس کی ناپسندیدہ چیزیں ہوں تو وہ خیرات اللہ کے لئے نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کو وہ چیزیں نا پسند ‏ہیں اور وہ چیزیں اس کو ضرورت نہیں ہیں، اس لئے اس نے اس کو خیرات کردی۔

اسی بنیادی چیز کو ’تمہاری چاہت کی چیزوں میں سے ‘کے جملے کے ذریعے اللہ نے سمجھایا ہے۔

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 80 دیکھیں!

‏77۔ آراستہ کیا ہوا صندوق اور تقدس

‏اس آیت (2:248)میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے ایک خوبصورت صندوق اتارا گیااور اس میں نبیوں کا استعمال شدہ چیزیں موجود تھیں۔ 

اس آیت کو ٹھیک سے نہ سمجھے ہوئے لوگ کہنے لگے کہ بزرگوں کی استعمال شدہ چیزوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ، اور اس طرح محفوظ رکھنے سے دلی ‏سکون حاصل ہوتا ہے۔ 

چند انسانوں کو یہ لوگ خود ہی کسی بھی سند کے بغیربزرگ بنا دیتے ہیں اور ان کا استعمال شدہ جوتا اور ان لوگوں کی بیٹھنے کی جگہ کہہ کر بے چارے ‏سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتے آرہے ہیں۔ 

‏(کیا ایک انسان کو ہم خود بزرگ کہہ کرفیصلہ کرسکتے ہیں، یہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 215 دیکھئے۔)

اگر غور سے دیکھا گیا تو یہ آیت انہیں کے خلاف بتارہی ہے۔موسیٰ نبی اور ہارون نبی کے خاندان والے جو چھوڑ کر گئے اس کو ان کی قوم والے نیکوکار ‏وں نے محفوظ نہیں کیا۔ اسی لئے آسمان سے فرشتے اس کو لے آئے۔ اس سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ انبیاء جو چھوڑ گئے ان چیزوں کو محفوظ کر کے ‏رکھنا بے ضرورت ہے۔ 

جب اللہ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو ان لوگوں نے اعتراض کیا اور گمان بھی کیاکہ ہم سے کم حیثیت والے کو کیسے اختیاردیا جاتا ہے؟ اس کی سند ‏میں کہ طالوت کو اللہ ہی نے مقرر کیا، آسمان سے آراستہ صندوق اتارا گیا۔ سند کے طور پر وہ آنے کی وجہ سے انہوں نے دلی سکون کے ساتھ ان کی ‏صدارت کو اختیار کرکے فوج جمع کر کے چلے۔

اس صندوق کی پارسائی کے لئے اللہ نے اسے نہیں اتارا۔ اور یہ بھی حکم نہیں دیا کہ اس کو حفاظت سے رکھو۔ 

کسی بھی چیزکو مقدس کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس نے صفا و مروہ وغیرہ کو مقدس کر نے کی وجہ سے ہم احد پہاڑ کو مقدس نہیں کر ‏سکتے۔ 

اس لئے اگر کوئی کسی چیز کو مقدس کہیں تو اس کے لئے قرآن یا حدیث کی کوئی دلیل پیش کر نا چاہئے۔

‏76۔ حکومت کے بغیر جنگ نہیں

‏قرآن مجید کی یہ آیتیں (2:247,248) نبی کریم ؐ کے پہلے گزرے ہوئے ایک نبی کی تاریخی خبر دیتی ہے۔ 

اس نبی کی قوم دشمنوں کے ذریعے بے حد تکلیفوں میں مبتلا کئے گئے اور شہر چھوڑ کر بھی بھگائے گئے۔ شہر چھوڑ کر بھگائے جانے کے باوجود وہ لوگ ‏اپنے نبی کی صدارت میں دشمنوں کے خلاف جنگ نہیں کیا۔ 

دشمنوں کے خلاف جنگ کر نے ایک بادشاہ کو مقرر کر نے کے لئے وہ قوم اپنے نبی سے درخواست کی۔ اس درخواست کے بعد اللہ نے طالوت نامی ‏ایک بادشا ہ کو مقرر فرما کر ان پر جنگ کر نے کو فرض کیا۔ اسی واقعہ کویہ آیتیں بتاتی ہیں۔ 

اس واقعہ میں بہت ہی اہم دو قانون موجود ہیں۔

‏1۔ پہلا قانون یہ ہے کہ فوج کو اکٹھا کر کے اگرجنگ کر نا ہو تو اس کے لئے ایک حکومت اور بادشاہ کا ہونا ضروری ہے۔ 

کیونکہ وہ قوم بہت بڑی ظلم کو سہنے کے باوجود ، جنگ کرنے کی مناسب سبب رہنے کے باوجود انہوں نے جنگ نہیں کی۔ 

ان کی صدارت کر نے والے نبی نے بھی جنگ نہیں کی۔ بلکہ جب انہوں نے ایک بادشاہ کو مقرر کے نے کے لئے درخواست کر نے لگے تو اس کے ‏بعد ہی اللہ نے ایک بادشاہ مقرر کیا۔ اس کے بعد ہی انہوں نے جنگ کی۔ 

اگر جنگ کر نے کے لئے حکومت اور بادشاہ کی ضرورت نہ ہو تی تو ان کی درخواست کوقبول فرما کراللہ نے ایک بادشاہ کو مقرر نہیں کیا ہوتا۔ 

‏2۔ اللہ کے پیغبر دنیا میں حکومت حاصل کر نے کے لئے بھیجے نہیں گئے۔ بلکہ انہوں نے اپنی قوم کوتوحید کے عقیدے اور اچھے اخلاق کی طرف ‏بلانے کے لئے ہی بھیجے گئے۔یہی اس واقعے کے ذریعے ہمیں ملنے والا دوسرا قانون ہے۔ 

کیونکہ ایک پیغمبر دنیا میں رہتے وقت ایک غیر پیغمبر کو اللہ بادشاہ بنادیتا ہے۔ اس پیغمبر کو بھی اس بادشاہ کے تحت جنگ کرنے کی حالات پیدا کردیتا ‏ہے۔پیغمبر ہی کو بادشاہ نہیں بنایا۔ اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ حکومت کو قبضہ کر نے کے لئے انبیاء بھیجے نہیں جاتے۔ 

جنگ کرنے کے بارے میں جو آیت اتارا گیا اس کو سند بنا کرجہاد کے نام سے تشدد میں اتر نے والوں کے لئے یہ آیت ایک تنبیہ ہے۔ اس واقعے ‏سے ہم جان سکتے ہیں کہ ان کے عمل ٹھیک نہیں ہیں۔ 

ایک چھوٹی سی تحریک قائم کر کے ’’یہ کہہ کر کہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے‘‘ لوگوں کے دل و دماغ کو ماؤف کر کے ہاتھوں میں ہتھیار لے کر ‏تشدد میں مبتلا ہو نے والے جہاد کر نے والے نہیں ہیں۔ وہی لوگ د ہشت پسند ہیں۔ 

یہ آیت بالکل واضح طور پر کہتی ہے کہ ایک پیغمبر کی صدارت میں یہ قوم قائم ہو نے کے باوجود حکومت کو قائم کئے بغیر جنگ نہ کریں۔ ان کا دعویٰ ‏غلط کہنے کے لئے یہی دلیل کافی ہے۔ 

جنگ، دہشت گری اور جہاد کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 53، 54، 55، 89، 197، 198، 199، 203، 359وغیرہ ‏دیکھئے!

‏‏75۔ قرض حسنہ کا مطلب کیا ہے؟

ان آیتوں میں (2:245، 5:12، 57:11، 57:18، 64:17، 73:20) کہا گیا ہے کہ اللہ کو قرض حسنہ دیں۔غیر مسلم مذہبوں میں ‏اس مطلب سے کہا جاتا ہے کہ اپنے معبودوں کو کچھ دینا ہو تو عباد ت گاہوں میں جو ہنڈی رکھا گیا ہے اس میں ڈال دینایا پجاریوں کے ہاتھوں میں کچھ ‏دیدینا ۔

لیکن اسلام میں اس مطلب سے استعمال کیا جاتاہے کہ اللہ کو دینا گویا غریبوں کو دینا ہے۔ معاشی تعلقات سے اللہ سے سلسلہ جوڑ کر جو بھی حکم دیا جاتا ‏ہے ان سب کا مطلب ہو تا ہے کہ حاجت مند لوگوں کو مدد کر نا ۔

اللہ کے لئے اگرہزار روپئے خرچ کر نے کا نذر مانیں تو اس کو وہ غریبوں ہی کو دینا چاہئے۔ قرض حسنہ یہی ہے۔ 

اس طرز کلام کے ذریعے اللہ دو باتیں کہتا ہے۔ ’’پہلی بات یہ ہے کہ اگر تم غریبوں کی مدد کروگے تو اس کا اجر میں تم کو دوں گا، کئی گنا زیادہ دوں ‏گا۔اور ا سکو میں میرے لئے دیا ہوا قرض سمجھوں گا۔

غریبوں کو مدد کرنے کے بعد ان سے احسان کی توقع رکھیں گے اور اس مدد کو بول کر دکھائیں گے، اورمدد حاصل کیا ہوا اس انسان کو حقیر سمجھیں ‏گے۔ جو خیرات کیا جا تا ہے اگر اس کو اللہ کو دیا ہوا قرض سمجھیں گے تو اس انسان سے کسی قسم کا معاوضہ یا احسان کی توقع نہیں رہے گی۔یہی اس ‏آیت کی دوسری بات ہے۔

 ‏74۔کیا طلاق کے بعد نان و نفقہ ہے؟

ان آیتوں میں (2:236، 2:241، 33:49، 65:6,7)کہا گیا ہے کہ طلاق دئے گئے عورتوں کو اچھی طریقے سے نان و نفقہ کی سہولتیں ادا ‏کرناچاہئے۔ 

ہمیں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس آیت کو اکثر علماء نے غلط تشریح کی ہے۔ 

طلاق شدہ عورتیں تین مہینے تک دوسری شادی کئے بغیر انتظار کر نا چاہئے، یہی عدت کہلاتا ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ ان تین مہینوں کے لئے جو خرچ ‏دیا جاتا ہے ، اسی کے بارے میںیہ آیت کہتی ہے۔

اس طرح تشریح دینے کے لئے وہ لو گ آیت نمبر 65:6 کو دلیل بتلاتے ہیں۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ طلاق دیتے وقت اگر وہ عورت حاملہ ‏ہوتو اس کو تولد ہو نے تک خرچ کر یں۔ اس لئے ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ عدت کے عرصے تک ہی نان و نفقہ دینا چاہئے۔

ان لوگوں کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ شوہر کے نطفے کو وہ تھامے ہوئے رہنے سے اس کو جو مزید خرچ کر نا ہے اسی کے بارے وہ آیت نمبر ‏‏65:6کہتی ہے۔ 

اس آیت میں جو الفاظ استعمال کیا گیا ہے اگر وہ اس پر غور فرماتے تو اس طرح وہ تشریح نہیں کئے ہوتے۔

عدت کے زمانے ہی کی رقم اس آیت میں اللہ نے اگر کہا ہے تو اس کو وہ عدت کا زمانہ کہا ہو گا۔ اللہ نے اس طرح کہنے کے بجائے اس نے کہا ہے کہ ‏اچھے طریقے سے دو اور انصاف سے دو ۔ 

ایک عورت کے ساتھ زندگی بسر کرکے ، اس کی جوانی سے لطف اندوز ہو کرصرف تین مہینے کا خرچ دینا اچھا اور انصاف کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔ 

اپنے خاندان کی ایک عورت سے اگر ایسا معاملہ ہو تا تو جو انصاف دکھائی دیتا ہے، وہی انصاف ہے۔ 

قرآن کی اس (2:236)آیت میں کہا گیا ہے کہ دولتمند اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب اپنی حیثیت کے مطابق حفاظتی رقم ادا کرنا چاہئے۔ 

طلاق دینے والا اگر بڑادولتمندہے تو اس کی حیثیت کے مطابق کروڑوں روپئے حاصل کر کے دلاناجماعت والوں کا کام ہے۔ اگر چند ہزار ہی وہ ‏دے سکتا ہے تو اس کو لے کر دینابھی ان کا کام ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کو یہ عین فرض ہے۔ 

عورت کے گھر والوں سے مرد کے گھر والے جو جہیز لئے تھے اسی کو جماعت والے طلاق کے بعد لے کر دیتے ہیں۔ طلاق دئے بغیر اگر وہ مل کر بھی ‏جیتے رہیں تو جہیز کو واپس کر ناضروری ہے۔ 

اسی لئے جہیز کو واپس دلانے میں اور طلاق میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ طلاق دینے سے عورتوں کوجو تکلیف ہو تی ہے اسکو ذہن میں رکھتے ہوئے ‏مناسب نان و نفقہ دلانا جماعت کا فرض ہے ۔

مسلم قوم اس حکم الٰہی پر عمل نہ کر نے کی وجہ ہی سے مختلف قسم کے تنقیدوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ اسلام کے خلاف بولنے کے لئے اسی کو استعمال کیا ‏جا تا ہے۔ ماہانہ دی جانے والی جعلی نان و نفقہ کو مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش کی جا تی ہے۔ 

اس لئے اس آیت کی ہر ایک لفظ پر غور کر کے اللہ سے ڈرتے ہوئے عورتوں کو انصاف دلانا جماعت کا کام ہے۔ 

ہمارے دیش میں طلاق شدہ عورتوں کو ہر ماہ امدادی رقم ادا کرنے کیلئے قانون ہے۔ اس قانون کو مسلمان پربھی مروجہ کر نے کی استدعا ہر جگہ کیا ‏جارہاہے۔

مسلمانوں کے لئے جو قانون شریعت ہے اس کو برطرف کر کے سب کے لئے ایک ہی قانون لاگو کر نے کے لئے اشتہار بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ‏ہے۔ 

طلاق کے بعد عورت کو ماہانہ نان و نفقہ دینا اسلام کو منظور نہیں۔ وہ اس لئے نہیں کہ عورتوں کو ناانصافی دلایا جائے بلکہ انہیں بھلائی دلانے اور اس ‏سے بھی بہتر انتظام کر نے ہی کے لئے وہ نامنظور کر تا ہے۔

ہر ماہ نان و نفقہ حاصل کر نے کیلئے اس میں سے آدھا حصہ مقدمہ کیلئے خرچ کیا جا تا ہے۔ وہ بوجھ بھی عورت ہی اٹھاتی ہے۔ 

جھوٹا حساب دکھا کر نان و نفقہ دینے سے اکثر مرد بچ جاتے ہیں۔ یا ایک ادنیٰ سا رقم دے کر دھوکہ دیدیتے ہیں۔ 

جس دیش میں طلاق شدہ عورتوں کونان و نفقہ دینے کا قانون ہے اسی میں اس شرط پر نان و نفقہ دی جاتی ہے کہ وہ عورت دوسری شادی نہ ‏کرے۔دوسری شادی کر لے تواس دیش کا قانون کہتا ہے کہ پہلے کا شوہر نان و نفقہ دینے کی ضرورت نہیں۔ 

اس لئے ماہانہ نان و نفقہ مل جایا کر ے تو وہ عورت دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ دوسری شادی اگر کر ے گی تو نان و نفقہ حاصل نہیں کر سکتی۔ ‏نان و نفقہ سے معاشی مسئلہ اگر ایک حد تک حل بھی ہو جائے تو اس کے محسوسات کے لئے اس میں کوئی راستہ نہیں۔ بعض لوگ اس سے برے ‏راستے پر بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ 

اسی وجہ سے مسلمان جعلی نان و نفقہ کے خلاف ہیں۔ 

طلاق دیا جائے تو اس وقت شوہر کی حیثیت کے مطابق ایک ہی وقت میں مناسب تلافی حاصل کر کے دینا ہی حقیقی نان و نفقہ ہے۔ 

طلاق کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 70، 386، 402، 424 وغیرہ دیکھئے! ‏

More Articles …