Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

25۔ محمد نبی کے بارے میں پیش گوئی

ان آیتوں میں7:157، 48:29، 61:6کہی گئی ہے کہ تورات اور انجیل کی کتابوں میں محمد نبی کے بارے میں پیشنگوئی کی گئی ہے۔

یہودیوں نے اپنے رسولوں کے ذریعے جان رکھا تھا کہ نبی کریم ؐ مکہ سے بھگائے جا نے کے بعد وہ مدینہ آئیں گے، اس لئے اپنے مادر وطن مصراور فلسطین کو چھوڑکر انہوں نے مدینہ آکر بس گئے تھے۔

اس طرح مقیم ہو نے کا وجہ یہ تھا کہ نبی کریم ؐ جب مدینہ آئے تو ان پر ایمان لانے والے ہم ہی مقدم رہیں۔لیکن ان نئے آباد ہونے والوں کے جانشین نبی کریم ؐ جب مدینہ آئے تو انہیں اللہ کے رسول جاننے کے باوجود ماننے سے انکار کردیا۔ اپنا عہدہ اور رسوخ چھن جانے کا انہیں ڈرتھا۔وہی ان آیتوں میں کہا گیا ہے۔

کیا تورات اب بھی ہے، اس کے بارے میں معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 491دیکھئے۔

تورات میں جو پیشنگوئی تھی اس کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 457دیکھئے۔

24۔ قاتل کو جاننے کے لئے بیل ذبح کرنا

آیت نمبر2:67 سے لے کر 2:73 تک ایک بیل ذبح کرنے کواللہ نے اسرائیلوں کو جو حکم دیا تھا اس کی تفصیل ہے۔

موسیٰ نبی کے زمانے میں ایک شخص مارا جاتا ہے۔ اس کو کس نے مارامعلوم نہیں ہوا۔ موسیٰ نبی کی قوم ان سے قاتل کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے کہتی ہے۔ اللہ نے کہا کہ ایک بیل ذبح کر کے اس کو مقتول پر مارو تو مر نے والا زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشان دہی کریگا۔

کوئی ایک بیل کو ذبح کر دیتے تو کافی رہا ہوگا۔ بے جا سوالیں اٹھا کر وہ لوگ اپنے خود پر تکلیفیں پیدا کرلیں۔ اس واقعہ ہی کی وجہ سے اس سورت کا نام وہ بیل رکھا گیا۔

23۔ کیوں بندر بنادیا گیا؟ 

یہ آیتیں 2:65، 5:60، 7:166 کہتی ہیں کہ ہفتہ کے دن مچھلی نہ پکڑنے کی حکم عدولی کر نے والے بندر بنادئے گئے۔ 

سوال اٹھ سکتا ہے کہ کیا مچھلی پکڑنا بندر بنادئے جانے کی حد تک بڑا جرم ہے؟ اس کی تفصیل حاشیہ نمبر 146میں دیکھیں۔

بعض لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ آج کے بندر میں اور ان میں کیا کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ جس کی شکل کو اللہ نے تبدیل کردی ان کے لئے نسل پیدا نہیں کرتا۔

مسلم : 5176، 5177

اس لئے کہ بندر وں میں تبدیل ہونے والے وہ لوگ نسل میں اضافہ کئے بغیر ہلاک ہو گئے، آج ہم دیکھنے والے بندروں میں اور ان میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

22۔ کیا کوہ طور بلند کیا گیا؟

ان آیتوں میں2:63، 2:93، 4:154 کہا گیا ہے کہ اللہ نے کوہ طور کو بلند کیا اور اسرائیلوں سے معاہدہ کیا۔ اس کو براہ راست سمجھنے کے بجائے بعض لوگ مختلف قسم کی تفصیل بتا رہے ہیں۔ لیکن کوہ طور کو اللہ نے بلند کیا، اسی معانی سے ہمیں سمجھنا چاہئے۔

آیت نمبر 7:171 کہتی ہے کہ کوہ طور کو ہم نے اکھاڑا، وہ اوپر بادل کی طرح کھڑا رہا،وہ ڈرے کہ کہیں وہ ان پر آ نہ پڑجائے ، اس لئے اس کو دوسرے طریقے سے تشریح کر نا غلط ہے۔ پہاڑ کو بلند کرنا یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔

21۔ کیا اس دنیا میں اللہ کو دیکھ سکتے ہیں؟ 

ان آیتوں میں 2:55، 4:153، 6:103، 7:143، 25:21 بالکل قطعی طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول ہی نہیں بلکہ کوئی بھی انسان اللہ کو دیکھا نہیں اور دیکھ بھی نہیں سکتا۔آخرت میں ہی اللہ کو دیکھنے کی سعادت صرف نیک لوگوں کو ملے گی۔ 

نبی کریم ؐ نے بھی اللہ سے کلام کی ہے ، اس کو دیکھا نہیں۔ 

جب نبی کریم ؐ سے پوچھا گیا کہ کیا تم اللہ کو دیکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو نور والا ہے، میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ (مسلم : 291)

(اصل کتاب میں نور والا کہا گیا ہے۔ بعض مترجم کہتے ہیں کہ اس کے اطراف نور پھیلا ہوا ہے۔ وہ ان کاقیا س ہے۔) عائشہؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ؐ نے اللہ کو نہیں دیکھا۔

(بخاری:3234، 4855، 7380)

آیت نمبر 7:143 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی نے بھی اللہ کو سامنے دیکھ نہیں پائے۔ 

قرآنی آیتیں 2:55، 4:153کہتی ہیں کہ موسیٰ ؑ کی قوم جب اللہ کو روبرو دکھانے کے لئے موسیٰ نبی سے مطالبہ کیا تو انہیں اللہ نے بجلی کے ذریعے وار کیا۔

قرآنی آیت نمبر 6:103 کہتی ہے کہ اس کو نگاہیں پا نہیں سکتیں، لیکن وہ نگاہوں کو پالیتا ہے۔

ان آیتوں کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی اللہ کو دیکھ نہیں سکتا۔

پوری عقل سے اگرہم غور کریں تو اللہ کو کسی حا ل میں کوئی انسان دیکھ نہ پانے کا عقیدہ انسانی نسل کے لئے بھلائی کا باعث ہے۔ 

اس بھروسے میں کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھ سکتے ہیں، انسانی نسل کو بھلائی کے بجائے ضرر ہی پہنچے گا۔ 

کئی صوفیاں یہ کہہ کر کہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے، لوگوں کو دھوکہ دیتے آرہے ہیں۔ اگر لوگوں کو یہ یقین آجا ئے کہ کوئی اللہ کو دیکھ نہیں سکتاتو تصوف کے نام سے رواج پانے والی کئی مکاریوں کو بہت حد تک مٹا سکتے ہیں۔ 

آخرت میں اللہ کو دیکھ سکتے ہیں ، اس کوتفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 482 اور 488 دیکھئے!

20۔ کیا خودکشی کے لئے حکم ہے؟

آیت نمبر 2:54 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو۔ 

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بچھڑے کی مورت کو معبود بنا نے کے جرم میں سزا کے طور پر موسیٰ نبی نے اپنی قوم کوخودکشی کرلینے کے لئے حکم دیا تھا۔ 

اپنی قوم کوتوحیدکے خلاف عمل پیرا ہو تے ہوئے دیکھ کر موسیٰ نبی غصہ سے بھر گئے۔ آیت نمبر 7:150 کہتی ہے کہ وہ غصہ اتنا سخت تھا کہ اپنے ہاتھوں میں جو تختیاں تھیں اس کو بھی نیچے گرادئے اور اپنے بھائی اور ہم عصر رسول ہارون کو کھینچ کر مارنے کی حد تک چلے گئے۔ 

اس طرح شدید غصہ کی حالت میں’’مر کے چلے جاؤ‘‘ کہنا انسان کی فطرت ہے ۔ یہ خیال کر تے ہوئے کوئی نہیں کہتا تم کو مرجانا چاہئے۔ غصہ کو ظاہر کر نے کے لئے ہی ایسا کہا جاتا ہے۔ 

موسیٰ نبی کے قول کو بھی ہم اسی طرح سمجھنا چاہئے۔ کیونکہ خود کشی کر نے کے لئے کوئی رسول کہہ سکتے نہیں۔ 

اسی سلسلہ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خودکشی کی تھی۔ 

لیکن یہ غلط ہے۔ 

آیت نمبر 2:54میں جو کہا گیا ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو، صرف اس پر غور کر نے کے بجائے اس کے بعد آنے والی دونوں آیتوں پر اگر غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ و ہ لوگ خود کشی نہیں کی۔ 

آیت نمبر 2:55میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کو سامنے دکھا نے کے لئے کہا تو انہیں بجلی نے آپکڑا۔ 

آیت نمبر 2:56 میں کہا گیا ہے کہ مر نے کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا۔

ان تینوں آیتوں پر غور کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو سامنے دیکھنے کے لئے انہوں نے مطالبہ کیا تو اللہ نے انہیں ایک سخت آواز سے وار کیا توتب وہ مرگئے۔ اس کے بعد ہی کہا گیا کہ ہم نے انہیں زندہ کیا۔ 

اس سے یہ معلوم ہو تا ہے چونکہ وہ لوگ خود کشی کر کے مرے نہیں، بلکہ اللہ کو سامنے دکھانے کے لئے انہوں نے مطالبہ کیا تھاتووہ مارے گئے۔

19۔ سامری نے کس طرح معجزہ دکھایا؟ 

موسیٰ نبی کے زمانے میں موجود سامری کے پاس جو معجزہ گھٹا اس کے بارے میں یہ آیتیں 2:51، 2:54، 2:92، 2:93، 4:153، 7:148، 7:149، 7:152، 20:85-98 کہتی ہیں۔

اللہ سے کتاب حاصل کر نے کے لئے کوہ طور پر موسیٰ بلائے گئے۔ جب موسیٰ کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو ان کی قوم کا سامری نامی ایک شخص نے ان لوگوں کی زیورات حاصل کرکے پگھلاکر ایک بچھڑے کی شکل کی مورتی بنایا۔

موسیٰ نبی کی قدموں کی مٹی لے کر اس مورتی میں ڈالنے کے ساتھ اس مورتی سے ایک آواز نکلی۔آیت نمبر 20:96کہتی ہے کہ فوراً اس نے یہ کہہ کر کہ یہی معبود ہے، موسیٰ راہ بھٹک گئے، سامری نے ان لوگوں کو یقین دلایا اور اس مورتی کی پرستش شروع کروادی۔

انہیں اس بات پر یقین کر نے کے لئے معقول دلیل دکھائی دیا کہ اس مورتی سے جوآواز نکلی ، وہی معبود ہے ۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ بات نہیں کرسکتی اور انہیں کسی بات کا جواب نہیں دے سکتی۔ قرآن کی اس آیتوں میں 20:89، 20:97تم دیکھ سکتے ہو کہ موسیٰ نبی نے اس مورت کو آگ میں جلا کر راکھ کر دیا اور اس راکھ کو سمندر پھینک کر ثابت کر دیا کہ وہ معبود نہیں ہے۔ 

ایسا نہیں سمجھ لینا کہ سامری اس طرح کر نے کی طاقت رکھتا تھا۔ 

ہم یہ بات کب کہہ سکتے ہیں کہ ایک شخص ایک کام کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ 

وہ جب بھی چاہیں اس کام کو کر دکھانا ہے۔ یا اس کام کو کئی بار کر دکھا نا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دیاسلائی توڑنے کی طاقت ہر کسی کو ہے۔

ایک شخص جب بھی چاہے دیاسلائی توڑ کر دکھا سکتا ہے۔ ہزاروں میں ایک یا لاکھوں میں ایک ہوسکتا ہے وہ اللہ کی مصلحت سے چوک جائے۔ 

فرض کرو کہ ایک شخص سبل کو موڑتا ہے اور وہ دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ہم فوراً یہ فیصلہ نہیں کر یں گے کہ یہ سبل توڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور چند سبلوں کو دے کر کہیں گے کہ اس کو توڑ کر دکھاؤ۔ اگر وہ سب سبلوں کو توڑ کر دکھا دیا یا بہت سے سبلوں کو توڑ دیا تو اس وقت ہی ہم مانیں گے کہ وہ بہت طاقتور ہے۔

اگر وہ دوسرے سبلوں کو توڑنے سے قاصر رہا یا وہ توڑنے سے انکار کیا تو ہم سمجھیں گے کہ وہ جو ایک بار سبل توڑا وہ اس کی طاقت سے نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے وہ سبل کچھ اندر سے ٹوٹا ہوا ہوگا یا اللہ نے اس سبل کو ٹوٹ جانے کی اجازت دی ہوگی، جب ہی وہ ٹوٹا ہوگا۔

حقیقتاً اس کو سبل توڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ 

اگر ایسا کیا جائے تو ایسا ہوگا کے فن کے ذریعے کیا سامری نے منصوبہ بنا کر ویسا کیا تھا؟کیا وہ جب چاہے بچھڑے کی مورت بناکر اس میں سے آواز نکلوانے کی صلاحیت رکھتا تھا؟ یا اتفاقاً صرف ایک ہی بار ایسا ہوا تھا؟ 

دیکھو، اس کے بارے میں اللہ کس طرح واضح کر تا ہے۔

موسیٰ نے پوچھا ، اے سامری! تمہارا معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ انہوں نے جو نہیں دیکھا تھا اس کو میں نے دیکھا۔ اس رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی ، اس کو اس میں ڈال دیا۔ میرے دل نے مجھے ایساہی ترغیب دلایا۔ موسیٰ نے کہا کہ تم چلے جاؤ۔ تیری زندگی میں تیرا یہی حال رہے گاکہ تم کہو گے مجھے مت چھونا۔تیرے لئے نہ ٹلنے والا ایک وعدے کا وقت ہے۔ جسے تو نے پرستش کی اس معبود کو دیکھ۔اس کو آگ میں جلا کر پھر اسے سمندر میں بکھیر دیں گے۔ (قرآن مجید 20:95,96,97) 

جب موسیٰ نبی نے پوچھا کہ کیا ہوا تو سامری نے ایسا نہیں کہا کہ مجھے اس طرح کی صلاحیت پہلے ہی سے ہے۔ بلکہ اس نے کہا کہ مورت بنا کر اس میں رسول کے قدموں کی مٹی ڈالنے کے لئے میرے دل نے مجھے ترغیب دلائی ، بس اتنا ہی۔ 

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی صلاحیت اس میں نہیں تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں ایک خیال ڈال دیا کہ اس طرح کر ، اسی کو اس نے کیا۔

یہ ثابت کر نے کے لئے کہ سامری کو جادوئی طاقت نہیں ہے، موسیٰ نبی نے اس کی بنائی ہوئی بچھڑے کی مورت کو آگ میں جلا کرراکھ کر کے سمندر میں پھینک دیا۔ سامری نے صرف اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

زبردست ایمان والے موسیٰ نبی کے خلاف سامری کھڑا نہیں ہوسکا۔ اس نے جو بنائی تھی مورت اس کو بچا نہیں سکا۔اور وہ مورت بھی اس کو بچا نہ پایا۔ 

اس طرح کئی لوگوں کی زندگی میں اتفاقاًکرامتیں سرزد ہو جاتی ہیں۔ لیکن وہ اس کے حقدار نہیں ہوتے۔ 

جب ایک شخص کوما (بے ہوشی) میں مبتلا ہو جا تا ہے تو ہر ڈاکٹر یقینی طور پر کہہ دیتا ہے کہ وہ نہیں اٹھے گا۔ اگر وہ شخص اچانک اٹھ جائے اور ہم سے بات کر نے لگے تو وہ بھی نہیں کہہ سکتا اور ہم بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس کی کرامت ہے ۔ ہم یہی کہیں گے کہ اس پر مہربانی کر نے کے لئے وہ اللہ کی طرف سے ایک کرامت ہے۔

ایک شخص خود ہی خیال کر کے خودہی منصوبہ بندی سے کام کرے تو جب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس نے کیا۔ 

ایک شخص جب پچاسویں بالائی منزل سے نیچے گر کر بھی زندہ رہتا ہے تو ہم اسے کس طرح سمجھیں گے؟ وہ جب چاہے پچاسویں منزل سے نیچے گرے گا ، اس کو کچھ بھی نہیں ہوگا، اس طرح وہ بھی نہیں کہے گا ، کوئی بھی نہیں کہے گا۔ ہم یہی سمجھیں گے کہ ناگہانی طور پر اللہ نے اس کو حیرت انگیز طور پر بچالیا۔ 

اگر اس کو ہم سمجھ لیں تو ہم جان لے سکتے ہیں کہ سامری نے کوئی معجزہ نہیں دکھائی اور اس کو اس طرح کی کوئی صلاحیت بھی نہیں تھی۔ 

کرامتوں کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 269 دیکھئے! 

18۔ کئی عرصے تک بغیر کتاب کے موسیٰ نبی

قرآن کی آیتیں 2:51 اور 7:142 کہتی ہیں کہ تحریری شکل میں کتاب کو تیس دن میں ہیش کر نے کے لئے کوہ طور آنے کو اللہ نے موسیٰ نبی کو حکم دیا۔ پھر مزید دس دن بڑھا کر چالیس دن پورے کئے۔ چالیسویں دن تختیوں پر لکھی ہوئی کتاب موسیٰ نبی کو دیا گیا۔

موسیٰ نبی کو کتاب دینے سے پہلے ہی وہ نبی بنادئے گئے تھے۔ اپنی قوم کو تبلیغ کر تے رہے تھے۔ فرعون کے خلاف جدو جہد کر رہے تھے۔ اس کے بعد ہی ان کو کتاب دیا گیا۔ اس سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ بغیر کتاب کے دوسری قسم کے وحی کے ذریعے انہوں نے تبلیغ کیا کر تے تھے۔ 

نبیوں کو کتاب نازل کر نے کے بعد کتاب کے سوا دوسری خبریں بھی دوسرے طریقے سے نازل کیا گیا، اور صرف کتاب ہی کووحی سمجھنا غلط ہے، یہ اس کے لئے سند ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہمنائی کی بھی پیروی کر نے کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 36، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 دیکھئے! 

More Articles …