Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏65۔ بیوی کے خلاف قسم کھانا‏

بیوی پر غصہ ہو نے کی وجہ سے اللہ کے نام کو استعمال کر کے اس زمانے کے عربوں کے پاس یہ کہنے کی عادت تھی کہ ’’اللہ کی قسم، اب سے میں تجھے ‏نہیں چھوؤں گا۔ ‘‘یہ آیت (2:226) اس عادت کو سرزنش کر تے ہوئے اس کے لئے کفارہ بھی کہتی ہے۔ 

اس طرح قسم کھانے والے اس کے لئے بیوی سے الگ ہونے کی ضرورت نہیں۔ چار مہینے کی مہلت کے اندر قسم توڑ کر بیوی سے مل سکتے ہیں۔ 

اگر کوئی قسم کھائے کہ رہتے دم تک بیوی سے نہیں ملوں گا، اس کے لئے بھی وہی چار مہینے کی میعاد ہے۔ 

اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ چار مہینے تک بیوی سے نہ مل کر چار مہینے کے بعد ہی ملنا چاہئے۔اس کا مطلب ہے کہ چار مہینے ختم ہو نے سے پہلے ہی ‏مل جانا چاہئے۔ 

قسم کھانے کے دوسرے ہی دن بھی اس کو توڑ سکتے ہیں۔ اگر چار مہینے کے بعد بھی بیوی سے موافقت نہیں ہوئی تو دوسری آیت کہتی ہے کہ طلاق ‏دے دینا چاہئے۔ 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غصہ میں قسم کھا کر بیوی سے نہ ملنے کو اللہ بہت ہی سخت معاملہ سمجھتا ہے۔

بعض لوگ مال جمع کر نے کے لئے چند سال بیوی سے بچھڑکر غیر بستیوں کو یا غیر ممالک کو چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ چار مہینے سے زیادہ بھی بیوی سے ‏بچھڑکررہیں توان پر وہ لاگو نہیں ہوگا۔ جسمانی انداز سے وہ مل کر نہ رہنے کے باوجود دلی آہنگی کے ساتھ وہ بچھڑے ہوئے ہیں۔ بیوی کی معاشی ‏ضروریات کو شوہر پورا کررہا ہے۔ اس لئے کوئی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ وہ دونوں چار مہینوں کے اندر کیوں نہیں ملے۔ 

بیوی کے ساتھ بستی میں رہتے وقت جسمانی انداز کی وجہ سے چار مہینوں سے زیادہ وہ دونوں نہیں ملے ہوں گے۔ ماحول اور مجبوری ہی اس کی وجہ ‏ہوگی۔اس کی وجہ بیوی پر نفرت نہیں ہوگی۔ ان پر بھی یہ آیت لاگو نہیں ہوگی۔ 

بعض لوگ بیوی سے نفرت کرتے ہوئے زندگی بھی بسر نہ کریں گے اور طلاق بھی نہ دیں گے،اس طرح وہ ان پر ظلم ڈھائیں گے۔ انہیں نان و نفقہ ‏بھی نہیں دیں گے۔چار مہینے کے بعد بھی بیوی سے نفرت کر تے ہوئے بچھڑ کر رہیں تو چار مہینے کے اندر بیوی کے ساتھ رشتے کو تازہ کر نے کیلئے ‏جماعت اس شوہر کو نصیحت کرے۔

اگر شوہر اس کو نہ مانتے ہوئے انکار کیا ، اور اسی حالت کو جاری رکھنے کے لئے اڑا رہا تو اس کی وجہ سے طلاق دینے کا فیصلہ سنانا جماعت والوں کا فرض ‏ہے۔ 

اللہ پر قسم کھالیا ہوں ،میں کیسے بیوی سے مل سکتا ہوں ؟ اس طرح سوال کر نے کا موقع رہنے کے باوجود اس کو بھی اللہ نے ڈھیل دے کر دونوں کو ‏ملنے کیلئے کہتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قسم جیسی رکاوٹ کچھ بھی نہ رکھنے والا ضد کر نا وہ اس سے بھی زیادہ ظلم ہے۔ 

‏ ‏64۔ انجام دئے جانے والی قسمیں‏

ان آتیوں میں 2:224، 2:225، 3:77، 5:89،16:91، 16:94، 58:16، 63:2 قسم کھانے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

دین میں اجازت شدہ کام پر عمل پیرا ہو نے کے لئے اللہ پر اگر قسم کھائیں تو اس کو ضرور انجام دینا چاہئے۔ اگر ویسا نہ کر سکے تو آیت نمبر 5:89کے ‏مطابق کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ ورنہ وہ قابل سزا جرم ہوگا۔

بعض لوگ اللہ کے نام پر قسم کھانے کا ارادہ نہ ہوتے ہوئے بھی غلطی سے ’’ اللہ پر قسم سے‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ آیت نمبر 2:225 کہتی ہے کہ اس ‏طرح بغیر ارادے کے اللہ پر قسم کھانے سے اس کو اللہ سزا نہیں دے گا۔ 

یہ آیتیں 2:224، 3:77، 16:91، 16:92، 16:94، 58:16، 63:2 وغیرہ کہتی ہیں کہ دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے یاخود کو ‏بچا نے کی ڈھال بناکر ’’اللہ پر قسم سے‘‘ کہنا جرم ہوگا۔ 

لئے ہوئے قرض کوواپس نہ کر تے ہوئے دھوکادینے کے لئے اور خود پر آنے والی کسی آفت سے بچنے کے لئے اللہ کا نام لینے والے ان آیتوں کو دیکھ ‏کر سدھر جانا چاہئے۔ 

اللہ کا نام استعمال کر کے اس کو گواہ بنا کر بات کر تے وقت جھوٹ بولنا اور اللہ کے نام سے کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کرنا بہت سخت گناہ ہے۔ 

قسم کھانے کے متعلق زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 379 دیکھیں۔ 

‏‏63۔ بیویاں کھیتیاں ہیں‏

نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے والے یہود سمجھتے تھے کہ چند طریقوں سے مجامعت نہیں کرنی چاہئے۔ انہیں یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر اس طرح کیا گیا تو ‏بچہ ترچھی آنکھ والا پیداہوگا۔ 

یہود لوگ کہا کر تے تھے کہ کوئی اپنی بیوی کے پچھلے حصہ سے شرم گاہ میں اگر مجامعت کر ے گا تو بچہ ترچھی آنکھوں والا ہوگا۔ اسی لئے یہ ‏آیت(2:223) ’’تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھیتیاں(جیسے) ہیں۔پس تم جس طرح چاہو تمہاری کھتیوں میں جاؤ‘‘ نازل کی گئی۔ مسلم : ‏‏2826

اس باطل عقیدے کے خلاف ہی یہ آیت اتاری گئی۔ تم اپنی بیویوں کے ساتھ جس طریقے سے چاہو مجامعت کرسکتے ہو، یہ آیت اس کے لئے سند ‏ہے۔ 

چند مخصوص دنوں ہی میں ازدواجی زندگی چلانا ہے ، اس قسم کے باطل عقیدے کے بھی یہ آیت خلاف ہے۔’’تم جیسے چاہو‘‘ کے جملہ سے بھی ‏ہم اس کو معلوم کر سکتے ہیں۔ 

اس کے سوا آج کے نئے زمانے میں وجود میں آنے والے خاص مسئلہ کو بھی یہ آیت حل کرتی ہے۔ 

بچہ جنم نہ دئے جانیکی حالت میں مصنوعی طور پر حاملہ کرنے کے لئے کئی طریقے آج ڈھونڈ نکالا گیا ہے۔ ان میں جائز کونسا ہے اور ناجائز کونسا ہے ، ‏اس کی بھی حل اس آیت میں موجود ہے۔ 

‏’’تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں‘‘اس جملے کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ مرد کی نطفے کو لے کر مصنوعی طریقے سے بیوی میں چلا سکتے ‏ہیں اور غیر مرد وں کے نطفے نہیں چلا سکتے۔

ازدواجی زندگی کے بارے میں اور کئی مسئلے اس چھوٹی سی آیت میں تشکیل پائی ہوئی ہے۔

‏‏62۔ خرچ کر نے کا طریقہ‏

اس آیت (2:215) میں کیا خرچ کریں؟ کا جواب دیا گیا ہے۔

جو سوال کیا گیا تھا اس کے جواب میں ’’جو خرچ کیا جاتا ہے وہ مال نیک راستے سے جمع کیا ہوا مال ہونا چاہئے ‘‘کہنے کے بعد کس کے لئے خرچ کریں، ‏اس کی بھی یہ آیت تشریح کر تی ہے۔ 

یہ آیت زور دیتی ہے کہ دوسرے کاموں کے لئے خرچ کرنے سے زیادہ والدین کو، رشتہ داروں کو، یتیموں کو، غریبوں کو، اور مسافروں کوخرچ کر ‏نا بہتر ہے۔ 

کئی نیک کاموں کے لئے خرچ کر نے والے والدین کو چوراہے میں چھوڑ دیتے ہیں، رشتہ داروں کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ یہاں یہی تعلیم دی جا تی ‏ہے کہ یہی لوگ پہلے توجہ کے قابل ہیں۔

‏‏61۔ اللہ آئے گا کہنے کا مطلب کیا ہے؟ ‏

اللہ کی صفات اور کارروائی بتانے والی آیتوں کو براہ راست معانی میں ہی سمجھنا چاہئے۔ اللہ کاہاتھ کہا گیا تو اللہ کی قدرت سمجھنا نہیں چاہئے۔ اللہ کا چہرہ ‏کا مطلب اللہ کا چہرہ ہی ہے۔ 

اس آیت (89:22) کو ’’فرشتے صف آرائی کر تے ہوئے تمہارا رب آئے گا۔۔۔۔‘‘کو ترجمہ کر تے وقت اس طرح براہ راست مطلب ہی لینا ‏چاہئے کہ فیصلے کے دن انسانوں سے دریافت کرنے رب آئے گا۔

تاہم براہ راست مطلب نکالنے سے انتشار رائے پیدا ہو یا اسلام کی بنیادکو خلاف ہو تواس وقت اس کے مطلب کو براہ راست سمجھنانہیں چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا : اللہ کہتاہے کہ نیک بندوں کا میں ہاتھ بن جاؤں گا، اس کوبراہ راست معانی میں سمجھنا نہیں چاہئے۔اس کو ایسا سمجھنا چاہئے کہ اللہ ‏کہتا ہے کہ نیک بندوں کو میں مدد کروں گا۔

یہ آیتیں 2:210، 6:158، 13:41، 16:26، 24:39، 59:2ایسی ہیں کہ اس کو براہ راست معنی نہیں دے سکتے۔ 

مثال کے طور پر ان آیتوں میں 2:210، 13:41، 16:26 بتایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو مٹانے کے لئے اللہ آئے گا۔ ان آیتوں کو یہ معنی نہ ‏دیں کہ اللہ روبرو آئے گا ، بلکہ ایسا سمجھو کہ اللہ کا حکم آئے گا۔ 

کیونکہ اللہ اگر چاہے کہ ایک گروہ یاپوری ایک قوم کو مٹانا ہے تو اس کے لئے وہ اتر کر نہیں آئے گا۔اس طرح آنا ضروری بھی نہیں۔ آیت نمبر ‏‏36:28,29کہتی ہیں کہ اس کی ایک ہی فرمان کے ذریعے وہ کام بنا دیتا ہے۔ 

‏’’اللہ بادلوں کی جھرمٹ میں آئے گا‘‘ کا مطلب ہے کہ اللہ کا عذاب بادلوں کی جھرمٹ سے آئے گا۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ بہٹ بڑی آفت کو ‏پہنچانے والی موسلادھار بارش کے ساتھ بادلوں کی جھر مٹ کوبھیج کر اللہ فنا کر دے گا۔ 

اسی طرح آیت نمبر 13:41 میں کہا گیا ہے کہ زمین کو اس کے اطراف سے کم کر نے کے لئے ہم زمین میں آئیں گے۔ اس کو ہم اسطرح سمجھنا ‏چاہئے کہ ہمارے حکم سے زمین کو ہم گھٹائیں گے۔

آیت نمبر 16:26 میں زلزلے کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ ان کی عمارت کی بنیادکے راستے سے ہم آگئے، پس عمارات گرنے لگے۔ آیت نمبر ‏‏59:2 میں جو کہا گیا، وہ بھی اسی طرح ہے کہ جہاں وہ خیال بھی نہ کرسکتے تھے وہاں وہ پہنچا۔ 

ایسا نہ سمجھ لینا کہ وہ عمارت کے نیچے آکر ہلاتا ہے۔ ایسا سمجھنا کہ اس نے حکم بھیجا کہ عمارات گرجائیں۔

اسی طرح آیت نمبر 24:39 میں جو کہا گیا ہے کہ سراب کی تلاش میں جانے والا وہاں اللہ کو پائے گا، اس کو بھی براہ راست معنی سے سمجھنا نہیں ‏چاہئے۔ 

اس کے سوا آیتوں میں اللہ کے بارے میں جو کہا گیا ہے ان تمام تذکروں کو براہ راست معنی ہی میں سمجھ لینا چاہئے۔ 

اللہ کی صفات کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 488 دیکھیں۔

‏60۔ دو دن میں نکلنے کا مطلب‏

اس آیت (2:203) میں اللہ کہتا ہے کہ مقررہ دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ 

اللہ کو ہمیشہ یاد کر نا چاہئے۔لیکن اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مقررہ دنوں میں یاد کرکے دوسرے دنوں میں یاد کئے بغیر رہ سکتے ہیں۔

عام طور سے اللہ کو یاد کر نے کے بارے میں یہاں نہیں کہا گیا ہے۔بلکہ ایک مقررہ عبادت کو مقررہ دنوں میں کر نا چاہئے ، اسی کے متعلق کہا گیا ‏ہے۔ 

مخصوص دنوں میں جو کیا جائے وہ عبادت کونسی ہے، اس کے بارے میں قرآن مجید کچھ کہا نہیں۔ بلکہ اس کے متعلق نبی کریم ؐ نے وضاحت کی ‏ہے۔ ‏

نبی کریم ؐ جب عرفات میں تھے تو میں ان کے پاس گیا۔نجد سے آنے والی ایک جماعت نے نبی کریم ؐ سے حج کے بارے میں پوچھنے کے لئے ایک ‏شخص کے کہا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ’’ حج عرفہ ہی ہے۔ جس نے مزدلفہ کو فجر نماز سے پہلے پہنچ گیا وہ حج کو پالیا۔ منا کے دن تین ہیں۔ جو دودنوں ‏میں جلدی سے نکل گیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ جو دیر سے نکلے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ ‘‘ یہ کہنے کے بعد اس کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے ایک ‏شخص کو بھیجا۔

نسائی: 2994

اس حدیث کے بنا پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ آیت ’’منا میں پتھر پھینکنے‘‘کی عبادت کے بارے میں ہی کہتی ہے۔ 

پتھر پھینکنے کی عبادت مسلسل تین دن تک کر نا چاہئے۔ یہ حدیث کہتی ہے کہ اس طرح کرنا اگر نہیں ہوا اور کچھ ضروری کام کی وجہ سے صرف دو ‏دن پتھر پھینک کر چلے گئے تو وہ گناہ نہیں۔

دو دن میں چلے جانے کے بارے میں قرآن سے ہم سمجھ نہ پائیں بھی تونبی کریم ؐ نے اس کو سمجھا دینے کی وجہ سے وہی کافی ہے۔ قرآن کی طرح نبی ‏کریم ؐ کی وہ تشریح بھی دینی سند ہے۔ 

قرآن مجید کے احکام کی پیروی کر تے ہوئے نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا ضروری ہے، اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ ‏نمبر 18، 36، 39، 50،55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430 وغیرہ دیکھیں۔

‏59۔ چھوت چھات کو دور کر نے والا اسلام‏

حج کے دوران نویں دن تمام لوگ عرفات کے میدان میں ٹہریں گے۔ لیکن اپنے کواعلیٰ نسل محسوس کر نے والے قریش دوسرے لوگوں کے ‏ساتھ مل کر رہنے کے بجائے مزدلفہ نامی مقام پر ٹہرا کر تے تھے۔ مزدلفہ کا مقام مقدس عبادت گاہ کی حدود کے اندر اور عرفات نامی عبادت گاہ کی ‏حدود کے باہر قائم ہے۔

صرف اعلیٰ نسل والے مقدس حدود میں ٹہر تے تھے اور دوسروں کو وہاں ٹہرنے سے روکتے تھے۔ عرفات کو وہ لوگ بستی سے باہرکنارہ کش کئے ‏ہوئے لوگوں کے لئے سمجھتے تھے۔ 

دوسروں کو حقیر سمجھنے کی اس چھوت چھات کواسلام نے خاتمہ کر دیا۔ اس آیت نمبر 2:199 کے ذریعے حکم نافذ کیا گیا کہ اعلیٰ نسل و الے نبی ‏کریم ؐ اور اعلیٰ نسل والے مسلمان تمام دوسرے لوگوں کے ساتھ عرفات ہی میں ٹہرنا چاہئے۔

کنارہ کش کئے ہوئے لوگوں کے اس جگہ پر دنیا بھر کے سارے لوگوں کو جمع کر کے ذات پات، نسل ، زبان، قوم وغیرہ کی وجہ سے جو اونچ نیچ دکھائی ‏جاتی تھی ان تمام چیزوں کو اسلام نے اٹھا کر پھینک دیا۔ 

اس کے متعلق بخاری کی حدیث (4520)اور مسلم وغیرہ کتابوں میں موجود ہے۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کی کتاب ہے، اس کے لئے یہ آیتیں کئی سندوں میں ایک سند ہے۔ 

پیدائشی طور پر سب برابر ہیں۔ چال چلن کی وجہ ہی سے ایک دوسرے سے بڑھ سکتا ہے، اس بات کو اور اسلام کی مساوات اور بھائی بندی کو اور ‏زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 11، 32، 49، 141، 168، 182، 227، 290، 368، 508 دیکھیں۔

‏58۔ حج کے وقت تجارت

‏اس زمانے کے لوگوں میںیہ عقیدہ پایا جا تا تھا کہ حج کے لئے جانے والے تجارت میں مصروف نہ ہوویں۔ یہ آیت انہیں احساس دلانے کے لئے ہی ‏نازل ہوا کہ حج کے وقت تجارت کرنا غلط نہیں ہے۔ 

دیکھئے بخاری: 1770، 2050، 2098

حج کو جا نے والے اپنی بستی سے تجارتی مال لے جا کر مکہ میں بیچنا اوروہاں سے مال لے آکر یہاں بیچنا غلط نہیں ہے۔ وہ تقویٰ کے بھی مخالف نہیں ‏ہے۔ اسی وقت وہ حج کی کاروائی میں کوئی دخل اندازی نہ کرے۔

More Articles …