Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏425۔ زمین کے درجے

‏اس آیت 65:12 میں اللہ فرماتا ہے کہ سات آسمان اور زمین میں ان جیسوں کو پیدا کیا۔

اسے ایسا نہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم جینے کی اس زمین کی طرح کائنات میں اوربھی چھ زمین ہیں۔

ہم اس کو اس طرح سمجھنا چاہئے کہ ہم جینے کی یہ زمین ایک کے اوپر کئی درجوں والا بنایاگیا ہے۔ اس طرح سمجھنے کے لئے یہی آیت راہ دکھاتی ہے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ سات آسمان ہیں۔ ایک کے اوپر ایک سات درجے ہیں۔ یہ کہنے کے بعد اگر کہا گیا کہ ان جیسے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ ‏بھی درجوں ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 

انسان زمین میں جینے کے باوجود وہ جس حد تک آسمان کی متعلق جانتا ہے اس حد تک زمین کو نہیں جانتا۔ 

آسمان کو جاننے کے لئے مصنوعی سیاروں کو بھیج کرانسان مختلف تحقیقات کر تا ہے۔ لیکن جس میں وہ جیتا ہے اس زمین کے اندر تحقیق کر نے کے ‏لئے اس کے پاس ایسے سہولتیں نہیں ہیں۔ 

انسان اسی خیال میں رہا کہ ساری زمین ٹھوس چیزوں سے بناہوا ہے۔ ابھی اس کو جانکاری ہو ئی ہے کہ اس میں درجے بھی ہیں۔ 

سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین کے درجوں میں اننرکور، اوٹر کورمینٹل اور کرسٹ وغیر ہ چار درجے بہت ہی اہم ہیں۔اور بھی کئی درجے ہیں ، اس کو ‏سائنسدان ماننے کے باوجود اس کو جداگانہ نہیں جانا۔ 

اس لئے قرآن کا کہا ثابت ہو تا ہے کہ آسمان کی طرح زمین میں بھی درجے موجود ہیں۔  

‏424۔ عدت کے وقت گھر سے باہرنہ کریں

‏بیوی کو جو پسند نہ کرے انہیں طلاق دینے کے لئے مردوں کو تین مواقع دئے گئے ہیں۔

ایک بار بیوی کوطلاق دینے کے ساتھ بالکل شادی کا بندھن ٹوٹ نہیں جاتا۔یہ آیت 65:4کہتی ہے کہ پہلی بار طلاق دینے کے بعد عورت کو ‏تین حیض کے مدت کے اندر وہ بیوی سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اگر بیوی حاملہ ہو تو اس کو تولد ہو نے تک اس سے مل سکتا ہے۔ 

اس عرصہ کے اندر بیوی سے اگر شوہر ملا نہیں تو ان کے درمیان شادی کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔ پھر بھی دونوں مل کرزندگی بسر کر نا چاہیں توو ہ پھر ‏سے شادی کرلے سکتے ہیں۔ اسکے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ 

پہلی طلاق کے بعد دونوں اگر شامل ہوجائیں اور اس کے بعد ان کے درمیان پھر سے مل کر نہ جینے کی حالت پیدا ہوجائے تو دین کے ہر طریقے کو ‏اختیار کر تے ہوئے آخرمیں پھر سے طلاق دے سکتے ہیں۔ 

پہلے کہنے کے مطابق مقررہ مدت کے اندر اگر شامل ہوجا نا چاہیں تو مل لے سکتے ہیں۔ وہ مقررہ مدت ختم ہو جا کے بعد پھر سے شادی کر لے سکتے ‏ہیں۔ 

اس طرح تیسری بار مل کر زندگی بسر کر تے وقت ان کے درمیان اچھی موافقت نہ ہو پائے تو تیسری بار بھی طلاق دے سکتے ہیں۔ یہی آخری موقع ‏ہوگا۔ 

تیسری بار طلاق دے دیا گیا تو بیوی کے ساتھ مل کر زندگی بسر کر نے کا دروازہ بالکل بند ہوجاتا ہے۔ 

تاہم طلاق شدہ عورت دوسرے کسی سے نکاح کر نے کے بعد اگر وہ بھی طلاق دیدے تو اس وقت پہلا شوہر پھر سے اس کی رضامندی کے ساتھ ‏اس سے شادی کر لے سکتا ہے۔ 

طلاق دینے کے ساتھ تین ماہ کے عرصے تک بیوی جودوسری شادی کے لئے انتظار کرتی ہے وہی مدت عدت کہلاتی ہے۔ 

اس طرح طلاق دینے کے بعد بیوی اپنے شوہر ہی کے گھر میں رہے گی۔اسے شوہربھی باہر نہ نکالے۔ اور عورت بھی باہرنہ نکلے۔

شادی کا بندھن پوری طرح سے منقطع نہ ہو نے کی وجہ سے بیوی کو اپنے شوہر کے گھر میں رہنے کا حق ہے۔ اسی لئے تمہارے گھروں سے انہیں باہر ‏نہ نکالو کہنے کے بجائے اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہاری بیویوں کو ان کے گھروں سے باہر نہ نکالو۔ شادی کا بندھن پوری طریقے سے ختم نہ ہونے کی وجہ ‏سے اس کو بھی اس گھر میں حق ہے ۔ اسی لئے اللہ نے ان کے گھر وں سے کہا ہے۔ 

گھر سے باہر نہ نکالنا کہنے میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے نان و نفقہ کوشوہرہی ذمہ دار ہے۔ 

طلاق دینے کے بعد بھی عدت ختم ہو نے تک وہ کیوں شوہر کے گھر ہی میں رہے؟ اس کی وجہ بھی اللہ نے اس آیت میں فرمایا ہے۔ اس کے بعد اللہ ‏کوئی اچھا معاملہ پیدا کردے گاہی اس کی وجہ ہے۔ 

طلاق دینے کے ساتھ بیوی اپنے میکے چلی جائے تو وہ جدائی مضبوط ہو جا نے کا اندیشہ ہے۔ شوہر کے گھر ہی میں اگر وہ ہو تو دونوں کے درمیان پھر سے ‏رشتہ پیدا ہو کر پہلی طلاق ختم ہو جانے کی امید زیادہ ہے۔ 

دونوں کے درمیان موافقت پیدا ہو نے کا موقع اس میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے اللہ نے مردوں کو یہ حکم فرمایا کہ عورت کو باہر نہ نکالو اور عورتوں ‏سے کہا کہ تم باہر نہ نکلو۔ 

بیوی زناکاری کر نے کی وجہ ہی سے اگر طلاق ہوا ہو تو طلاق ہو نے کے ساتھ اس کو باہر نکال دیا جائے، یہ بات بھی اس میں کہا گیا ہے۔ 

عدت کا عرصہ ختم ہو نے کے ساتھ بیوی سے اگر شامل ہو گئے تو کچھ مسئلہ نہیں ہے۔اس کے بعد کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اگر نہیں ملے تو اچھی ‏طریقے سے الگ ہوجائے ۔دائمی طور پر جدا ہوجا نے کی وجہ سے اسکے بعد وہ اپنے شوہر کی گھر میں رہ نہیں سکتی۔ 

اس آیت کواور اس کے بعدمسلسل آنے والے پانچ آیتوں کو بھی بعض لوگ غلط سمجھ کر ایسا قانون لکھ رکھا ہے کہ طلاق شدہ عورتوں کو تین ماہ تک ‏خرچ دینے کے علاوہ دوسرا کچھ دینے کی ضروت نہیں۔

یہ اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک بیوی کی حیثیت ہی میں ہے۔کئی سالوں تک زندگی چلانے کے بعد طلاق دینے سے عورت کوجو تکلیف پہنچتی ‏ہے اس کی تلافی تو وہ ہو نہیں سکتی، اس پر غور کرنا وہ بھول گئے۔

عدت کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 69، 360، 404 وغیرہ دیکھئے!

طلاق کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 66، 69، 70، 74، 386، 402 وغیرہ دیکھئے!  

 ‏423۔ کیا لوہا اتارا گیا؟

‏اس آیت 57:25میں کہا گیا ہے کہ لوہے کو ہم نے اتارا۔

لوہے کو ہم اس زمین ہی سے پاتے ہیں۔ اس لئے اللہ کا یہ فرمان ہمیں عجیب لگتا ہے۔ 

سائنسدانوں نے مناسب وجہ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اس زمیں کا لوہا زمین سے پیدا نہیں ہوا۔ 

ہر عناصر پیدا ہو نے کو اس کے لائق گرمی ہو نا چاہئے۔ گرمی کی اندازے کے مطابق ہی کاربن، سوڈیم، مگنیشیم، نیان، الومنیم، سلی کان، سیسہ، ‏فاسفرس، پوٹاشیم، کالشیم وغیرہ عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ 

لیکن سائنسدان کہتے ہیں کہ لوہے کی عنصر پید اکر نے کے لئے جس گر می کی ضرورت ہے وہ اس زمین میں کسی زمانے میں نہیں رہا۔اس زمین میں ‏ملنے والی چیزیں اسی زمین میں تخلیق پانے کے اسباب نہ ہوتو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ چیز دوسری ہی دنیا سے آنا چاہئے۔

تیس کروڑڈگری کے حدتک گرمی کے چند ستارے آکاش گنگا میں رہتی ہیں۔ ان ستاروں سے شہاب ثاقب جب گرتی ہیں یا دمدار ستارے زمین کی ‏طرف گرتی ہیں توفضا میں اس کو روک کر جلا دیا جا تا ہے۔ اس کے ذرے زمین پر اترنے لگتے ہیں۔ کروڑوں سالوں سے اس طرح اترنے والے ‏لوہے کے ذرات ہی کو ہم زمین سے لے کر استعمال کر تے ہیں۔ 

اس کے متعلق ناسہ سائنسدان اس طرح کہتے ہیں:

کسی بھی زمانے میں لوہے کو پیدا کر نے کی طاقت اس زمین کو نہیں تھی۔ سورج کو اور سورج کی خاندان کی کسی سیارے کو بھی نہیں تھی۔ لوہے کی ‏ایک ذرے کو پیدا کر نے کے لئے سورج کے خاندان کے جملہ طاقت کی طرح چار گنا زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے زمین میں دکھائی ‏دینے والا لوہا آسمان ہی سے آیا ہوگا، یہی ناسہ کے سائنسدان کہتے ہیں۔ 

لوہا اس زمین میں پیدا نہیں ہوا، اوپر ہی سے اترا ہے۔ اسے بہترین انداز سے بیان کر نے کے ذریعے یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔ 

 ‏422۔ چاند شق ہوگیا

‏اس آیت 54:1میں کہا گیا ہے کہ چاند شق ہوگیا۔ 

نبی کریم ؐ جب اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہا تو لوگوں نے اس کے لئے دلیل مانگا۔ 

جب نبی کریم ؐ نے آسمان میں موجود چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا۔ اور لوگوں سے کہا کہ سب لوگ دیکھ لیں۔ (بخاری: 3636، 4864، ‏‏4865)

یہ آیت اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر تی ہے۔ چاند جو زمین کا چھوٹا سا سیارہ ہے ، اس کے بارے میں جانکاری رکھنے والے خیال کر سکتے ہیں کہ چاند کا دو ‏ٹکڑا ہو نا اور پھر مل جانا ناممکن ہے۔ 

لیکن قرآن مجید میں اللہ اپنی مخصوص قدرت سے جوبھی معجزہ دکھا تا ہے تو اس کے لئے دلائل چھوڑ رکھتا ہے۔ 

نوح نبی کے زمانے میں جب سیلاب واقع ہوا تو اللہ نے فرمایا کہ نوح کے سفر کی کشتی کو ہم نے نشانی چھوڑ رکھا ہے۔ وہ جہاز اب انکشاف کیا گیا ہے۔ ‏‏(حاشیہ نمبر 222 دیکھئے!)

اسی طرح چاند کے شق ہونے کو کہنے کے بعد یقین دلاتاہے وہ ایک معجزہ ہے اور اس آیت میں کہتا ہے کہ سب کچھ درج کیا گیا ہے۔

چاند کے شق ہونے کا واقعہ کوئی چالاکی یا شعبدہ بازی نہیں ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کی اس کو درج کیا گیا ہے۔ 

چاند میں پہلی بار قدم رکھنے والاآمسٹرانگ جب وہاں اترا تواس نے جس خلائی جہاز سے سفر کیا تھا وہ کئی زاویوں سے بے شمار تصویریں لے کر زمین ‏کو بھیجا تھا۔ 

اس میں ایک زاوئے سے لئے گئے تصویروں میں سے ایک تصویرمیں ایک لکیر ایسی تھی کہ سیب کو دو ٹکڑے کر کے پھر سے جوڑ دیا گیاہے۔ 

اس کی وجہ کو سائنسدان معلوم نہیں کرسکے۔اس کو انہوں نے عریبین شق کا نام دیدئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند شق ہو نے کا عقیدہ مسلمانوں ‏کے پاس موجود تھا۔ 

مسلمانوں کے عقیدے کو ثابت کر نے کی طرح وہ شق موجود رہا، یہی اس کا معنی ہے۔ 

اس انکشاف سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کے مطابق چاندشق ہو نے کی دلیل اسی چاند میں درج کر دیا گیا۔

یہ خبر امریکی حکومت کے ذریعے دنیا کی کئی زبانوں میں طبع ہو نے والی امریکن رپورٹ نامی ماہنامہ میں تصویروں کے ساتھ نیل آمسٹرانگ چاند ‏میں اترتے وقت شائع ہوئی تھی۔ 

چاند کے شق ہو نے کے بارے میں اور اس کی نشانی چاند میں درج ہو نے کے بارے میں قرآن فرمایا ہے، اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔

بعض لوگ اس سے انکار کر تے ہیں کہ اب ناسہ کے سائندانوں نے کہہ دیا کہ چاندمیں کوئی شق نہیں ہے ۔ اب جبکہ چاند میں کوئی شق دکھائی نہیں ‏دیتا، اس سے یہ خبرکہ اپولو نامی خلائی جہاز کے ذریعے آمسٹرانگ اترتے وقت جو تصویریں کھینچا جانا، اس میں وہ شق دکھائی دینا، اور اس شق کو ‏عریبین شق کا نام رکھا جانا،اور امریکی حکومت کے ذریعے شائع شدہ امریکن رپورٹر نامی ماہنامہ میں طبع ہونا ، یہ سب جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔ ناسہ نے ‏یہ انکار نہیں کیا کہ امریکن رپورٹر نامی ماہنامہ میں وہ خبر شائع ہوئی تھی۔ 

‏421۔پھیلنے والی کائنات

‏اس آیت 51:47 میں کہا گیا ہے کہ ہم نے آسمان پیداکر کے اس کو پھیلائیں گے۔ 

سائنسدانوں نے اب انکشاف کیا ہے کہ ہماری یہ کائنات مسلسل کشادہ ہو تے جارہی ہے۔ 

مثال کے طور پر سورج گردش کر تے ہوئے فی گھنٹہ ایک لاکھ کلو میٹر رفتار سے چل رہی ہے۔ ایک دن میں دو کروڑ کلو میٹر دوری کو پار کر تے ‏ہوئے دوڑ رہی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہ کائنات کشادہ ہو تے جا رہی ہے۔

وہ تخلیق پانے کے زمانے سے آج تک ہر روز دو کروڑ کلو میٹر دوری تک دوڑنے کی وجہ سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کائنات ہر لمحہ کشادہ ہو تے جا رہی ‏ہے۔ آئندہ بھی یہ اسی طرح کشادہ ہو تے جائے گی۔ اس حقیقت کو ظاہر کر کے قرآن اپنے آپ کویہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔  

‏420۔ قرآن مجید کس طرح محفوظ کیا گیا؟

‏یہ آیت 15:9کہتی ہے کہ اللہ نے فرمایا قرآن کو ہم ہی نے نازل کی ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔قرآن مجید کی محافظت کے بارے میں ‏حاشیہ نمبر 143 میں ہم نے وضاحت کر چکے ہیں۔ 

اس بات کو ٹھیک سے نہ سمجھتے ہوئے مغربی ممالک اور عیسائی مشنری قرآن کی لفظوں میں موجودچند تبدیلیوں کو دکھا کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ‏قرآن محفوظ نہیں ہے۔ 

اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن کو ہم ہی حفاظت کریں گے، اس لئے اس میں کوئی بھی حرف گیری نہیں ہو ناچاہئے۔ اگر حرف گیری ہو تو اس کا مطلب ‏ہو گا قرآن کی حفاظت نہیں ہوئی۔ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کی تحقیق کی گئی تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں کئی الفاظ غلط لکھا گیا ہے۔اس کے لئے ‏یہی دلیل ہے کہ قرآن مجیدکی حفاظت نہیں ہوئی ہے۔ 

قرآن کے حرفوں میں جہاں حرف علت نہیں ہو نا چاہئے وہاں کھینچا گیا ہے۔ ایک حرف کے عوض اس کے قریبی تلفظ کے دوسراایک حرف جگہ پایا ‏ہے۔ان جیسے لفظوں کو دکھا کر وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں غلطی ہے اور وہ حفاظت نہیں کیا گیا ہے۔ 

ایسی غلط ا نداز کی اشاعت کو یہ آیت29:49واضح طور سے جواب دی ہے۔ 

قرآن کو اللہ نے لکھ کر دیا ہوتا یا کتابی شکل میں دیا ہو تا تو اس میں حرفوں کی غلطی نہ آنا چاہئے، ایسا کہنا ٹھیک ہے۔ 

یا صوتی شکل میں نازل ہوا ہوتا، اسے نبی کریم ؐنے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر دیا ہو تا ، اگر اس میں غلطی ہو تی تواس وقت حرف گیری کر سکتے تھے۔ 

لیکن قر آن مجید تحریری انداز میں نہیں اترا۔ صوتی شکل میں یعنی آواز کے انداز میں ہی قرآن مجید نازل ہوا۔ 

ہر آیت کو جبرئیل نامی فرشتے آکر سنائیں گے، اسے سن کر نبی کریم ؐ اپنے دل میں حفظ کر لیتے تھے۔ اسی طرح اپنے صحابیوں سے کہتے تھے کہ اس کو ‏حفظ کر لیں۔ 

اس کے بعد اسے محفوظ کر نے کے لئے اپنے صحابیوں میں سے لکھنا جاننے والوں کوبلا کر جو آپ پر نازل ہوئی تھی اسے لکھنے کو کہتے تھے۔ 

اسے تحریری انداز میں لانے کا کام انسانوں کا ہے۔ اگر اس میں کچھ غلطی سرزد ہو تو وہ قرآن کی غلطی نہیں ہو سکتی۔

اسی لئے یہ آیت کہتی ہے کہ علم والوں کے سینوں میں قرآن محفوظ رکھا گیا ہے۔ 

مثال کے طور پر اس آیت 37:68میں درج کیا گیا ہے کہ لَا اِلَی الجَحِےْمِ۔ اس جگہ میں لَاِلَلْ جَحِےْمِ ہی لکھنا چاہئے تھا۔ 

اس جگہ میں حرف ممدودہ لکھنے کے باوجود دنیا کے سارے مسلمان اس کو الف کے بغیر ہی لَاِلَلْ جَحِےْمِ ہی پڑھتے آرہے ہیں۔ اس طرح لوگ جہاں ‏کہیں بھی غلطی سے لکھ دیتے تھے اس کو مسلمانوں نے صحیح طور پر ہی پڑھتے آرہے ہیں۔ سلسلہ در سلسلہ مسلمانوں نے اپنے دلوں میں قرآن مجید کو ‏حفظ کر کے محفوظ رکھنے کی وجہ سے غلط حرفوں سے بھی فتح پا تے ہوئے قرآن مجید حفاطت کیا جارہا ہے۔

قرآن مجید کی آواز اور تلفظ تک بھی بحفاظت موجود رہنا بھی اس کے لئے دلیل ہے۔ 

اس کے متعلق مقدمے میں قرآن مجید مرتب کرنے کی تاریخ کے حصہ میں تحریری غلطی کے عنوان پر واضح کیا گیا ہے۔   

 ‏419۔ بارش کا راز

‏اس 24:43آیت میں اس سائنسی حقیقت کوتشریح کی گئی ہے کہ آسمان میں بارش کے پانی کو کس طرح اکٹھا کر کے برسایا جاتا ہے۔ 

زمین کے پانی کو سورج بھاپ بنا کر اوپر کی طرف لے جا تا ہے اور اس کو فضا میں بادل سا روکے رکھا ہے، اسکو ہم جانتے ہیں۔

اس بادل کی وسعت کے بارے میں اکثر لوگ آج تک بھی جانتے نہیں۔ 

اوپر کی طرف جانے والی بھاپ ایک سے ایک بھینچ کر اکٹھا ہو نے کے بعد برف کا مجموعہ بن جا تا ہے۔

یہ برف کاتودہ ایک کے اوپرایک جمع ہو کر ایک ہزار قدم سے تیس ہزارقدم تک بلند ہو تے ہیں۔ تیس ہزار قدم نو کلو میٹر سے زیادہ ہو تا ہے۔ یہ دنیا ‏کا بہت بڑاپہاڑ ہمالیہ کی اونچائی سے زیادہ ہے۔ 

اتنے بڑے پہاڑ کے حد تک وہ برف کا تودہ بالکل سیدھا جما ہو کر برقی کشش کے پیدا ہو نے کے ساتھ برف پگھل کر پانی برساتا ہے۔ 

یہی بارش کا راز ہے۔ بارش کیسے پیدا ہو تا ہے ، اس کے بارے میں آج کے سائنسدانوں کے قول ہی کو ہم یہاں درج کئے ہیں۔ 

اس میں جو خبریں ہیں ، یعنی بادل کا کھنچا جانا، درجہ بدرجہ جمانا، پہاڑ کی اونچائی تک برف کے تودے کو بالکل سیدھا کھڑا کئے جانا، بجلی کے ذریعے برقی ‏کشش کی اشتعال پیدا کرنا وغیرہ ساری باتوں کو ایک کے بعد ایک یہ 24:43آیت جو تشریح کی ہے ، اس کو دیکھ کر ہمیں حیرت پیدا ہو تی ہے۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے، اس کے لئے اس سے زیادہ دلیل کی ضرورت نہیں۔ 

‏418۔ کیا عورتیں مسجد کو آسکتی ہیں؟

‏مسجدوں کے بارے میں کہنے والی ان 9:108، 24:37 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اس میں مرد رہتے ہیں۔ 

اس کو غلطی سے سمجھتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ پا نچ وقت کی نمازاور جمعہ نماز کے لئے عورتیں مسجدکو نہ آئیں۔یہ غلط ہے۔

قرآن مجید میں تمام احکام اور قانون مردوں ہی کی طرف اشارہ کر تی ہیں اور مذکرا لفاظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔پھر بھی اس کے بارے میں نبی کریم ؐ ‏کے زمانے ہی میں سوال اٹھایا گیا اور جواب ملا کہ جتنا بھی مردوں کا حق ہے وہ عورتوں کے لئے بھی ہوگا۔ 

اسلام کہتا ہے کہ جنسی بنیاد پر قائم قوانین کے سوا باقی تمام مرد اور عورتوں کے لئے عام ہے۔ (اس کے بارے میں پوری تفصیل حاشیہ نمبر 8 میں ‏دیکھئے!)

مزید یہ کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں عورتیں مسجد آ کرہر روز نماز میں شامل ہوا کر تی تھیں۔ نبی کریم ؐ نے جو اجازت دے چکے اسے کوئی منع نہیں ‏کرسکتا۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ عورتوں کو مسجد میں آنے سے کوئی نہ روکیں۔(دیکھئے ،بخاری : 873، 900، 5238)

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ عورتیں رات کے وقت مسجد جا نے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دیدیں۔ (بخاری: 865، 899)

نبی کریم ؐ کی بیوی عائشہؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ عورتیں بھی فجر کی نماز میں شامل ہوکر گھر واپس جایا کرتے تھے۔ (بخاری: 372، 578، ‏‏867، 872)

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں بہت لمبی نماز پڑھنے کے ارادے سے کھڑاہوتاہوں۔لیکن کسی بچے کی رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں اس نماز کو مختصر کر لیتا ‏ہوں۔اس وجہ سے کہ (نماز میں شامل ہونے والی)اس بچے کی ماں کا دل بے قرار نہ ہوجائے۔ (بخاری: 707، 708، 709، 710، 862، ‏‏868)

نبی کریم ؐ نے ایک رات بہت دیری سے نماز پڑھی۔ جب عمرؓ نے نبی کریمؐ سے فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو رہے ہیں۔ (بخاری: 569، 862، ‏‏864، 866)

نبی کریم ؐ جب نماز سے سلام پھیرنے کے ساتھ عورتیں فوراً اٹھ کر چلی جائیں گے اور مردیں تھوڑی دیر کے بعد اٹھیں گے۔ (بخاری: 837، ‏‏866)

عورتیں مسجد میں آکر نماز پڑھ سکتی ہیں اور جماعت میں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔اس کے لئے اور بھی کئی دلیلیں موجود ہیں۔ 

مسلمانوں کی مسجدوں میں پہلا درجہ مکہ کی مقدس مسجد کوحاصل ہے۔ وہاں جس طرح مرد فرائض حج ادا کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی ادا کرتی ‏ہیں اور نماز بھی پڑھتی ہیں۔ 

اس لئے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیت عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع نہیں کر رہی ہے۔ 

اگر ایسا ہو تو یہ کیوں کہا گیا کہ اس مسجد میں پاکیزہ مرد ہیں؟یہ بعض لوگوں کا شک ہے۔

رہائش کے لئے مکان نہ ہونے والے مرد اس مسجد میں ٹہرے ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے ایسا کہا گیا تھا۔اس میں یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف مرد ‏ہی مسجدکو آنا چاہئے۔  

More Articles …