Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏441۔ بے جان سے تخلیق شدہ جاندار

‏ان آیتوں 2:28، 3:27، 6:95 میں کہا گیا ہے کہ بے جان سے ہی جاندار کو پیدا کیا گیا ہے۔ 

سائنسدان جو کہتے ہیں کہ تمام جاندار جن سے پیدا ہوئی ہیں، وہ تمام بے جان ہی ہیں۔ 

اس زمانے میں جبکہ قرآن نازل ہواتھا اورسائنسی جانکاری نہ ہو ئی تھی کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ جاندار ،بے جان سے پیدا کیا گیا ہے؟ ہر گز سوچا نہیں ‏ہوگا۔ 

تمام بے جان چیزیں مختلف قسم کی بے جان چیزوں کی مجموعے سے پیدا ہوئی ہیں۔ بے جان چیزیعنی ایک پتھر یا ایک قطرہ مٹی کو الگ الگ چیزکر سکتے ‏ہیں۔ اس طرح الگ کئے ہوئے چیزوں کو جدا جدا عناصر میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اس کائنات میں موجود تمام بے جان چیزیں اس طرح عناصر ہی سے ‏بنے ہوئے ہیں۔ 

بے جان چیزوں میں مندرجہ بالا عناصر کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔

اسی طرح انسان کے ساتھ تمام جانداروں میں ان عناصر کے سوا دوسرا کچھ نہ ہوگا۔ 

اس بیسوی صدی کی انکشاف کہ بے جان عناصر ہی سے جاندار چیزیں پیدا ہوتی ہیں، قرآن مجید نے چھٹویں صدی ہی میں کہہ کر ثابت کر دیا کہ یہ اللہ ‏ہی کاکلام ہے۔ 

اس آیت 2:28 میں کہا گیا ہے کہ تم جو بے جان تھے،اللہ نے تمہیں جان دی۔

ہر ایک آدمی تخلیق ہو نے سے پہلے وہ کہیں بھی نہیں رہا۔ کوئی چیز سا بھی نہیں رہا۔ اسی حالت کو یہاں بے جان کی حالت کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ‏ہے کہ تم کچھ بھی نہ تھے، تم کو جان دیا گیا۔ 

اس کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 347دیکھیں!  

‏440۔ دوسرے سیاروں میں جاندار

‏قرآن کا یہ قول کہ زمین کے سوا دوسرے سیاروں میں انسان جی نہیں سکتا،اس کو حاشیہ نمبر 175 میں تشریح کیا گیا ہے۔

لیکن محققوں کا خیال ہے کہ زمین کے سوا دوسرے سیاروں میں غیر انسانی جاندار ہو سکتے ہیں۔اس کو پوری طرح سے ثابت نہ کر نے کے باوجود ‏بعض سیاروں میں پانی کی موجودگی کی دلیل ملنے کی وجہ سے اس طرح قیاس کیاجا تا ہے۔ 

قرآن مجید اس ممکن کو انکار نہیں کرتا۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ دوسرے سیاروں میں جاندار ہو سکتے ہیں۔ 

یہ آیت 42:29کہتی ہے کہ آسمان اور زمین میں جانداروں کو پھیلا رکھا ہے۔ زمین کے سوا دوسرے سیاروں میں یاچھوٹے سیاروں میں ‏جاندارموجود ہیں ، یہ ثابت نہ ہو نے کے باوجود ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ فرشتے آسمانی دنیا میں رہنے کی وجہ سے یہ آیت اسی کی طرف اشارہ کر تی ‏ہے۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے سیاروں میں اگر جاندار دریافت کیا گیا تو اسے بھی ملا کر ہی اس آیت میں کہی گئی ہے۔  

‏439۔ گونگے پن کی وجہ کیا ہے؟

‏کان میں کوئی خرابی ہو توبہرا پن پیدا ہو تا ہے اور آنکھوں میں کوئی خرابی ہو تو اس سے اندھا پن ہو تا ہے، اس کو سب جانتے ہیں۔

اسی طرح اگر گونگا پن پیدا ہو تو کیا اس کی وجہ منہ میں پیدا ہو نے والی کوئی خرابی ہے؟ اس کا سائنسی نتیجہ ہے کہ نہیں۔

کان میں خرابی ہو نے سے دوسرے لوگ جو بات کر تے ہیں وہ دل میں جذب نہیں ہوتے۔ اسی لئے جو پیدائشی بہرے ہوتے ہیں وہ لوگ بات ‏نہیں کر سکتے۔ آج کے طبی دنیا کی یہ انکشاف ہے۔ 

اس آیت2:18 میں اللہ نے منافقوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ لوگ بہرے ہیں، اندھے ہیں اورگونگے ہیں۔ 

ان تینوں خرابیوں کی وجہ کیا ہے؟اس کو آیت نمبر 2:7 میں کہا گیا ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیا گیا ہے، اور ان کی آنکھوں میں پردہ پڑا ہواہے۔ 

نگاہ میں پردہ پڑے رہنے کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ 

کانوں میں مہر لگ جا نے کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں وہ بہرے ہیں۔ 

یہ دونوں باتیں ہر زمانے میں ہر کوئی جان رکھا ہے۔

وہ لوگ گونگے رہنے کی وجہ سے ان کے منہ پر مہر لگ گئی ہے، یہ کہنے کے بجائے قرآن مجید کہتا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے۔

دل پر مہر لگنے کی وجہ ہی سے بہرا پن پیدا ہوتا ہے، اس حقیقت کو نبی کریم ؐ کہنے کے کئی سالوں بعد ہی دریافت کیا گیا ہے۔ 

لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے نبی کریم ؐ اپنے زمانے میں اپنی قوم میں مروج علم کے ذریعے ایسا کہہ نہیں سکتے تھے۔ اس لئے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ بات ‏اللہ ہی کی طرف سے نازل ہو نے والا قول ہو سکتا ہے۔ 

 ‏438۔ زم زم کا چشمہ

‏یہ آیت 3:97کہتی ہے کہ مکہ میں واضح دلیلیں موجود ہیں۔واضح دلیل کا مطلب ہے کہ وہ کسی کو کسی قسم کا شک پیدانہ کرے، لوگ اس سے ‏محظوظ رہے اور جس طرح بھی اسے آزمایا جائے وہ اس کی نشانی ہی قائم رہے۔ 

اور بھی کئی نشانیاں جو کسی نے نہ دیکھی ہوں مکہ میں موجود ہو سکتی ہیں ۔اس کے بعد وہ دریافت کیا جائے گا۔ انسان نے جو دریافت کی اس میں پہلی ‏نشانی زم زم کا چشمہ ہے۔ 

ابراھیم نبی نے اپنی بیوی ہاجرہ اور بیٹے اسماعیل کے ساتھ ایک لق و دق میدان میں گئے اوراللہ کے حکم سے انہیں آباد کیا۔ جب بچے اسماعیل نے پانی ‏کے لئے ترسنے لگے تو جبرئیل نے ظاہر ہو کر اس جگہ میں ضرب دے کر ایک چشمے کو جاری کیا۔ وہی زم زم کا کنواں کہلاتا ہے۔ وہی جگہ اس کے ‏بعد ایک شہر بناجو مکہ کہلاتا ہے۔

وہ کنواں آج بھی بہت بڑا معجزہ بن کر یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام واقعی ایک سچا دین ہے۔ 

یہ کنواں اٹھارہ قدم چوڑا اور چودہ قدم لمبا ہے۔ 

اس کنویں کے پانی کی گہرائی ہمیشہ لگ بھگ پانچ قدم کی ہوتی ہے۔ 

اس کنویں سے ہر لمحہ پانی کھینچا جارہا ہے۔ سال کے تمام دنوں میں لوگ وہاں جمع ہو تے ہی رہتے ہیں۔ حج کے زمانوں میں اور رمضان کے ماہ میں ہر ‏روز وہاں تیس لاکھ لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ تمام لوگوں کو اسی کنویں سے پانی تقسیم کیا جا تا ہے۔ 

ہر آدمی تیس لٹرسے کم پانی اپنی بستیوں کو لے جائے بغیر نہیں رہتا۔ 

مکہ ہی میں نہیں بلکہ مدینے کی مقدس مسجد میں بھی لاکھوں لوگوں کو پینے کیلئے زمز م کا پانی ہی کسی کمی کے بغیر تقسیم کیا جا تا ہے۔ 

صحرا میں موجودیہ کنواں گہرائی میں بہت کم ہے۔اس کے قریب میں کوئی تالاب نہیں، آبپاشی نہیں، کوئی حوض نہیں، اس کے باوجود اس کنویں ‏سے ہر روز تیس لاکھ لوگوں کو کسی کمی کے بغیر ضرورت کے مطابق تقسیم کئے جا نے پر بھی وہاں پانی خشک نہیں ہوا۔ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ 

کوئی بھی سر چشمہ ہو چند سالوں میںیا سالوں کے بعد بھی خشک ہو جا تا ہے۔ لیکن یہ چشمہ کئی سالوں کے بعد بھی خشک ہوئے بغیر رہنا دوسرا معجزہ ‏ہے۔ 

کوئی بھی تالاب ہو اس میں کائی جم جانا، جراثیم پیدا ہو جا نا فطری بات ہے۔ اسی لئے کلورن جیسے دوائیاں اس پانی میں چھڑکائی جاتی ہیں۔ لیکن زمزم ‏کے پانی میں اس کی ابتدائی دور سے آج تک کسی بھی دوا کے ذریعے حفاظت نہیں کیاگیا۔ وہ اپنے آپ کو حفاظت کر لینا تیسرا معجزہ ہے۔ 

عام طور سے دوا سے حفاظت نہ کیا ہوا پانی پینے کے لائق نہ ہوگا۔لیکن اس پانی کو 1971کی سال میں یورپ کے تجربہ گاہ میں جب جانچ کیا گیا تویہ ‏ثابت ہوا کہ وہ پانی پینے کے لئے بالکل موزوں ہے۔ 

اور اس تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام طور سے دوسرے پانی سے زمزم کا پانی بالکل مختلف ہے۔کالشیم اور میگنیشیم نامی نمک دوسرے پانی ‏سے زیادہ زمزم کے پانی میں موجودہے۔وہ نمک دل میں ترو تازگی پیدا کر تی ہے۔ اس کو زمزم کے پانی پینے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ 

مزید یہ کہ اس پانی میں فلو ریڈ موجود ہے۔ وہ جراثیم کو مٹادینے کی طاقت رکھتی ہے۔

وہاں کرامات ہوتے ہیں، یہاں کرامات ہوتے ہیں، اس طرح لوگوں کے درمیان مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح اس کو بھی نہ سمجھ ‏لیں۔ 

دوسری کرامات کسی بھی تفتیش کے حوالے نہیں کیاگیا۔ اندھے عقیدے کے بنیاد پر وہ چل رہا ہے۔ لیکن ہر روز تیس لاکھ لوگوں کو یہ پانی پینے کے ‏لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ صحرا میں ایسا ایک معجزہ کئی صدیوں سے مسلسل چلا آرہا ہے۔ ہر طرح کی آزمائش سے گزر کر ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لئے یہ ‏حقیقی معجزہ ہے۔ اس طرح کا ایک معجزہ دنیا بھر میں صرف یہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

‏437۔ لڑکا یا لڑکی کا فیصلہ کیا کر تا ہے؟

‏قرآن کئی آیتوں میں کہا ہے کہ ایک بچہ پیدا ہو نے کے لئے مرد کا جین اور عورت کا رحم کا بیضہ ضروری ہے ۔ اس آیت 75:39 میں لڑکا لڑکی کے ‏فیصلہ کے بارے میں کہتا ہے۔ یہاں پر ان دونوں سے کہنے کے بجائے واحد کے صیغے میں اس میں سے کہا گیا ہے۔ 

پیدا ہونے والا بچہ لڑکا یا لڑکی ، اس کو فیصلہ کر نے میں عورت کا کوئی حصہ نہیں ہے، مرد کے پاس ہی اس کی صفت ہے۔ آج کا سائنس جو کہتا ہے ‏اس کو چودہ سال پہلے ہی قرآن نے کہہ دیا،اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کا ہی کلام ہے۔ 

ایک بچہ پیدا ہو نے کے لئے مرد کا جین اور عورت کے رحم کا بیضہ ضروری ہے ، اس کو سب جانتے ہیں۔ 

عورت کے رحم کے بیضے میں 23کروموسوم ہوتے ہیں۔ رحم کے بیضے میں جانیوالی جین میں بھی23کرومو سوم ہو تے ہیں۔

مرد اور عورت کے پاس 22+22=44موجودکروموسوم نسل، صفت اور رنگ وغیرہ کافیصلہ کر تا ہے۔ 

آخر میں جو تےئیسویں کروموسوم ہے وہی جنس کو یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے، اس کو فیصلہ کر تاہے۔ 

یہ کروموسوم ایکس اور وائی دو قسم کے ہو تے ہیں۔ عورت کا کروموسوم سارا کا سارا یکس ہی ہوتا ہے۔ 

مرد کا کروموسوم بعض وقت ایکس ہو گا اور بعض وقت وائی ہو گا۔ 

اگر مرد کا کروموسوم وائی ہو اور وہ عورت کے ایکس کے ساتھ مل جائے تووہ لڑکا ہوگا۔ اگر مرد کا ایکس ہو گا تو وہ عورت کے ایکس کے ساتھ مل کر ‏لڑکی ہوگی۔ یعنی ایکس اور ایکس ملا تو لڑکی اور ایکس کے ساتھ وائی ملا تولڑکا ہو گا۔ 

صرف مرد کے پاس ہی وائی کر وموسو م رہنے کی وجہ سے مرد کے پاس جو تےئیسویں کروموسوم ایکس ہو گا تو وہ لڑکی ہو گی۔ مرد کے پاس جو ‏تےئیسویں کروموسوم ہے وہ وائی ہوگا تو وہ لڑکا ہو گا۔ 

عورت کے پاس جوکروموسوم ہیں وہ تمام ایکس رہنے کی وجہ سے پیدا ہو نے والا بچہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ، یہ فیصلہ کر نے میں عورت کا کوئی حصہ نہیں ‏ہے۔ 

آج انکشاف ہو نے والی اس حقیقت کو’’ اس سے‘‘ کے لفظ کو قرآن مجید نے جواستعمال کی ہے، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ اللہ ہی کلام ہے۔   

 ‏436۔ پانی کے اندر تولد

‏ان آیتوں 19:23,24 میں یہ کہا گیا ہے کہ پانی کے اندر ہونے والی تولد میں دردزہ نہیں ہوگا۔ آج کی سائنسی دنیا اسے اب انکشاف کی ہے۔ 

روس میں پانی کے اندر تولد ہو نے کا طریقہ مروج کیا گیا ہے۔ تجربہ میں تحقیق کیاگیا ہے کہ پانی کے اندر تولد ہونا ماں کے لئے دردزہ میں آسانی ہو ‏تی ہے۔

رحم کی تھیلی میں بچہ پانی کے اندرہی تیر رہا ہوتا ہے۔ اس لئے پانی کے اندر تولد ہو تے وقت بچہ اپنی جانی پہچانی حالت ہی سے باہر آتا ہے ۔ اس لئے ‏بچے کے لئے وہ فطری چیز ہے۔ ٹھنڈے پانی میں وہ پیدا ہو نے سے بچوں کی بیماری سے مدافعت کی طاقت بڑھ جا تی ہے۔ 

روس میں تولید کی شفا خانوں میں تولد کے لئے مخصوص تیراکی کے تالاب پانی سے بھرا تیار موجود ہے۔ 

‏435۔ سہولت نہ رکھنے والے کیاشادی کر سکتے ہیں؟

‏ان دو آیتوں 24:32,33 میں پہلی آیت کہتی ہے کہ غریبی کی وجہ دکھا کر شادی کو نظر انداز نہ کرو۔ 

دوسری آیت کہتی ہے کہ غریبی ختم ہو نے تک بالکل پابندی سے رہیں۔ اس سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ دونوں آیتوں میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔ 

لیکن یہ دونوں رہنمائی مختلف حالات میں رہنے والوں کے لئے ہے۔ اس لئے اس میں کسی قسم کی اختلاف نہیں ہے۔ 

ہمارے پاس غلام بن کر رہنے والوں کو ہم ہماری ذمہ داری میں نکاح کر دیں تو اس کے بعد اللہ انہیں دولتمند بنادے گا، یہی پہلی آیت میں کہا گیا ‏ہے۔ 

غلامی میں رہنے والوں کو ان کے مالک اپنی خرچے سے اگر نکاح کر دیں تو اس کے بعد انہیں زندگی بسر کر نے کے لئے سہولتیں اللہ انتظام کر ے گا، ‏یہی اس کا مطلب ہے۔ 

غلام نہ رہتے ہوئے اپنی ہی خرچ میں مہر وغیرہ ادا کر کے نکاح کرنے کی حالت میں رہنے والوں کو اگراس کے لئے سہولتیں نہ ہوں تو وہ سہولتیں ‏آنے تک بالکل پابندی کے ساتھ رہنا چاہئے، یہی دوسری آیت کا مطلب ہے۔ 

نکاح کر نے کے بعد خود کفالت حاصل کر نے والے بنا دئے جائیں گے، یہ انہیں کے لئے ہے۔ 

دونوں مختلف خبریں سناتی ہیں، اس لئے دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔   

‏434۔ علیین ، سجین کیا ہے

‏ان آیتوں میں (83:8، 83:19) علیین اور سجین نامی دفتروں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

انسان مرنے کے ساتھ اس کی روح کو آسمانی دنیا کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ 

نیک لوگوں کی روح آسمانی دنیا کی طرف لے جاکر وہاں کی علیین کے دفتر میں درج کیا جا تا ہے۔ پھر اس کو دنیاکی طرف لا یا جا تا ہے۔ یہ ایک لمحے میں ‏ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی قبر میں رکھ کر دریافت کیا جا تا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے تشریح کی ہے کہ برے آدمی کی روح کوجب آسمانی دینا پر لے جایاجاتا تو اس کو اللہ نے یہ کہہ کر واپس کر دے گا کہ اس کو زمین کی گہرائی ‏میں لے جاکر سجین کے دفتر میں درج کرو۔

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 177دیکھئے!  

More Articles …