Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏433۔ غیر مذہبوں کی عبادت گاہیں

‏مختلف مذہب والے بسنے کی اس دنیا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایک اہم نصیحت کو یہ آیت 22:40 کہتی ہے۔ 

ہر مذہب والوں کے لئے عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔انہیں وہ ولوگ بہت عزت کرتے ہیں۔ لیکن ایک مذہب والیکی عبادت گاہ کو دوسری مذہب ‏والے پسند نہیں کرتے۔ یہ فطری بات ہے۔ 

دو مذہب والوں کے درمیان جب فساد برپا ہو تا ہے تو ان کے عبادت گاہوں پرہی پہلے ہلا بولا جا تا ہے۔ عقلمندی سے سوچنے کے بجائے جذباتوں کو ‏اہمیت دینے کی وجہ ہی سے یہ حالت پیدا ہوتی ہے۔ 

ہر مذہب والے اپنی عبادت گاہوں کو اپنی جائدادسے زیادہ عزت دینے کی وجہ سے جب ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ بھی الٹے ان کی ‏عبادت گاہوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ 

اس لئے غیر مذہبوں کی عبادت گاہ پر حملہ کر نا حقیقت میں ہم ہماری ہی عبادت گاہ پر حملہ کر نے کے مترادف ہے۔ 

تم میں بعض لوگوں کے ذریعے بعض لوگوں کو اگر روکا نہیں جاتا تومسجد وں کے ساتھ سارے مذاہب کے عبادت گاہیں بھی مسمار کر دیاجا تا۔ اس ‏دانشمندانہ نیک راہ کویہ آیت ہمیں سکھا تی ہے۔ 

یہ آیت ہمیں مناسب وجہ کے ساتھ وضاحت کر تی ہے کہ مندریں اور گرجا گھریں مسلمانوں کی نگاہ میں عبادت گاہیں نہ ہونے پر بھی اس پر حملہ کر ‏نے کا حق نہیں پہنچتا ہے۔ 

 ‏432۔ ابراھیم نبی جھوٹ کیوں کہا؟ 

‏اس آیت 21:63 میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم نبی نے اپنے شہر کے عبادت گاہ میں موجود چھوٹے بتوں کوتوڑدیا اور بڑے بت کو چھوڑ رکھا۔ابراھیم ‏نبی سے جب ان کی قوم نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ بڑابت ہی نے توڑا۔ اور کہا کہ تم کو شک ہو تو ٹوٹے ہوئے ان بتوں ہی سے پوچھو کہ ‏تمہیں کس نے توڑا۔ 

ان کا کہنا کہ بڑابت ہی توڑا ، وہ سچ نہیں تھا۔ پھر بھی انہوں نے یہ سمجھانے کے لئے ایسی تدبیر کی کہ بتوں کو کوئی طاقت نہیں ہے۔ سچائی کی تبلیغ کے ‏لئے ایسے طریقے استعمال کر نے کو دین میں منع نہیں کیا گیا ہے۔

ابراھیم نبی کا اس طرح کہنا جھوٹ میں جمع نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کا کہنا کہ بڑے بت نے توڑا ، وہ ان لوگوں سے بچنے کے لئے نہیں تھا۔ 

ابراھیم نبی نے جب کہا کہ بڑے بت ہی نے توڑاتو ان بتوں کو معبود ماننے والوں نے ابراھیم نبی کے کہنے کونہ مانا ۔ 

بولنے والے کو بھی معلوم ہے کہ ہم دوسرے معنی میں بول رہے ہیں۔سننے والے بھی جانتے ہیں کہ یہ دوسرے معنی میں کہی جانے والی جھوٹ ‏ہے۔ اس لئے اس کو جھوٹ کی شکل میں ترکیب پائی ہوئی سچ ہی کہا جائے گا۔ 

اس کے متعلق زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 162، 236، 336 وغیرہ دیکھئے!

ابراھیم نبی نے جو بتوں کو توڑا ،کیا وہ صحیح تھا؟اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 433 اور473دیکھئے!‏

‏431۔ مجبوری کا مطلب کیا ہے؟

‏یہ آیتیں 2:173، 5:3، 6:119، 6:145، 16:115کہتی ہیں کہ جو ممانعت کی گئی اس کو کوئی مجبوراً کردے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔

سب جانتے ہیں کہ دوسروں کے ذریعے زبردستی کیا جانا اور جان جانیکی حالت کو پہنچ جانا ہی مجبوری کی حالت کہا جا تا ہے۔ لیکن نبی کریم ؐ نے واضح کی ‏ہے کہ ہر روز کھانے کا کو ئی راستہ نہ پانا بھی مجبوری ہی کہلاتا ہے۔ 

چند صحابہ نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہم جہاں بستے ہیں اس حصہ میں ہمیں قحط ہوتا ہے۔ اپنے آپ مرا ہوا چیزکس حالت میں ‏ہمیں حلال ہوگا؟ اس کے لئے اللہ کے رسول نے کہا کہ صبح میں پینے کا دودھ اور شام میں پینے کا دودھ اگر نہ ملے تو اس کو کھا سکتے ہو۔ 

احمد: 20893، 20896۔ اور دارمی: 1912

یہ حدیث کہتی ہے کہ ایک دن میں دو وقت کھانا، دودھ جیسے مائع چیزیں اور سبزی غذا وغیرہ نہیں ملا تو جو منع کیا گیا ہے اس چیز کو کھا سکتے ہیں۔

میں نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ اپنے آپ مرا ہوا چیز ہمارے لئے کب حلال ہوگا؟ نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ تمہارا غذا کیا ہے؟ میں نے کہا کہ صبح اور شام ‏تھوڑا سا دودھ۔ اس وقت نبی کریم ؐ نے اس حالت میں خود بخود مرے ہوئے چیزوں کو ہمارے لئے حلال کردیا۔ 

ابو داؤد: 3321

مرنے کی حالت میں ہونا ہی مجبوری نہیں ہے۔ دو وقت کا کھانانہیں ملا تو وہ بھی مجبوری ہی ہے۔ اس حال میں رہنے والے دین میں جومنع کیا گیا ہے ‏انہیں کھا سکتے ہیں۔ 

اس طرح کہنے والا اللہ کہ مجبوری کی حالت میں رہنے والے منع کئے چیزوں کو کھا سکتے ہیں ، اس کے لئے دو شرط بھی رکھا ہے۔ اسے بھی ہم دھیان ‏میں رکھنا چاہئے۔ 

وہ نہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے والا ہو۔ یہی دو شرطیں ہیں۔ 

منع کی ہوئی غذاؤں کو کھانے کی خواہش میں اس مجبوری کی حالت کواختیار نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا سوچنا کہ قحط زدہ مقام پر جانے سے منع کی ہوئی ‏چیزوں کو کھا سکتے ہیں، یہی خواہشمندی کہلاتی ہے۔

مجبوری کی حالت کو پہنچنے والے اسی میں قائم رہنے کی کوشش نہ کریں۔ اس مجبوری کی حالت سے چھٹکارا پانے کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈنا چاہئے۔ ‏اس کے لئے جدوجہد کر نا چاہئے۔ ایسی کسی کوشش کے بغیر اگر کوئی سستی کرتے ہوئے منع کی ہوئی غذاؤں کوکھاتے ہوئے رہنا ہی حد سے گزرنا ‏ہے۔ 

مجبوری کی حالت کو پہنچنے والے ان دونوں شرائط کی بنیاد پر منع کی ہوئی چیزوں کو کھا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح خون ہمارے لئے ‏منع کیا گیا ہے۔حادثے میں پھنس کر خطرناک حالت میں رہنے والوں کو اور آپریشن کے لئے خون کی ضرورتمندوں کو دوسروں کا خون چڑھایا جا تا ‏ہے۔ 

یہ آیت سند ہے کہ جب بھوک مٹانے کے لئے منع کی ہوئی چیزوں کو کھا سکتے ہیں توجان بچانے کے لئے دوسروں کا خون چڑھاسکتے ہیں۔جان ‏بچانے سے زیادہ بڑی شرط کچھ نہیں ہو سکتا۔  

‏430۔ جہاں بھی ہو ں کعبہ کی طرف

‏یہ آیت 2:144 کہتی ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہوں توکعبہ کی طرف منہ کیا کرو۔ 

یہ آیت 2:149 کہتی ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیا کرو۔

یہ آیت 2:150 کہتی ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیا کرو۔ تم جہاں کہیں بھی رہو اسی رخ پر اپنے چہروں کو ‏پھیر لیا کرو۔ 

اسے ایسانہ سمجھیں کہ سفر کر تے وقت کعبہ کی طرف ہی سفر کریں۔ شمال اور جنوب کی طرف کوئی سفر اختیار نہ کریں۔ اور ہم جہاں کہیں بھی رہیں ‏صرف کعبہ ہی کی طرف دیکھیں ۔ 

اگرہم سطحی طور پران آیتوں کو دیکھیں تواسی مطلب کو ظاہر کرتی ہیں ، اس کے باوجود حدیثوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیتیں نماز کے ‏لئے نازل ہوئی ہیں۔ 

یہ ثابت کر تی ہیں کہ قرآن مجید کو سیدھے طریقے سے سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 352، 358وغیرہ دیکھئے!   

 ‏429۔ گہرے سمندر میں بھی موجیں ہیں

‏اس آیت 24:40 میں سمندر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی گہرائی میں تاریکی اور موجیں موجود ہیں۔ یہ بات ایک عظیم سانئسی انکشاف کی ‏طرف اشارہ کر تی ہے۔ 

تاریکی کے بارے میں حاشیہ نمبر 303 میں وضاحت کی گئی ہے۔ 

سمندر کی تہہ میں موجیں موجود ہیں، اس میں بھی ایک سائنسی نکتہ موجود ہے۔ یہ آیت نازل ہو نے والے زمانے سے لیکر اس صدی تک سمندر کی ‏تہہ میں موجوں کی موجودگی کو انسان جانتا نہیں تھا۔ 

سنامی کے ذریعے جاپان جیسے ممالک میں تاڑ کے درخت کی اونچائی تک اٹھتے ہوئے موجوں کو دیکھا گیا۔ زمین کے سطح پر آنے والی موجیں بہت ‏دورتک جا نے کے سوا وہ تاڑ کے درخت کی اونچائی تک جا نہیں سکتی ، اس لئے اس کے متعلق مزید تحقیق کیا گیا۔ 

اوپر سے دیکھا گیا تو سمندر کی تہہ میں اٹھنے والی موجیں دکھائی نہیں دیتیں۔ فی گھنٹہ 500میل رفتار سے سفر کر نے والی طاقتور موجیں جب ‏سمندری حصہ کے قریب آنے کے ساتھ ٹکرا کر دہشت انگیز طریقے سے ان حصوں کو برباد کردیتی ہیں۔ 

سنامی کی موجیں لگ بھگ پچاس قدم اونچائی تک اوپر اٹھ کر سمندری علاقے کے لگ بھگ ایک میل دوری تک پانی اچھالنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ‏ہمارے ملک کی ساحل پر حملہ کر نے والی سنامی موجیں لگ بھگ پچیس قدم اونچائی تک اٹھتے ہوئے لوگوں نے دیکھا ہے۔ 

ساحل کے قریب سمندر میں اگرزلزلہ پیدا ہوگاتو سنامی لہریں لگ بھگ دس منٹ میں ساحل پر حملہ کرنے کا خطرہ ہے۔ 

سمندر کی تہہ میں بھی بہت بڑی موجیں موجود ہیں۔ وہ موجیں زمین سے ہوائی جہاز نکلنے کی طرح تیزی سے نکلنے کی وجہ ہی سے یہ انکشاف کیاگیا ہے ‏کہ وہ تاڑ کے درخت کی اونچائی تک اوپر کی طرف جانا ممکن ہے۔ 

سمندر کے اندر بھی بڑی موجیں موجود ہیں، اس حقیقت کو چودہ سوسال کے پہلے ہی کہنے کے ذریعے یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔ 

‏428۔ مجرموں کا گھر کونسا ہے؟

‏اس آیت 7:145میں کہا گیا ہے کہ مجرموں کے گھر کو ہم تمہیں دکھائیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجرموں کا گھرجہنم ہے، اسی کو : میں دکھاؤں گا : ہی اس کا مطلب ہے۔ یہ قابل قبول نہیں۔ 

محشر میں اللہ ہی سب کو جہنم دکھائے گا۔جنتی بھی اس سے پار ہو کر جانا ہے۔ 

اس لئے اس طرح معنی لینا کچھ بے معنی لگتا ہے۔

موسیٰ نبی اور ان کی قوم نے فرعون سے ڈر کر گھر بار چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اللہ کے فضل سے وہ حفاظت کئے گئے اور دشمن تمام سمندر میں ڈبودئے ‏گئے۔ 

شہر چھوڑ کر سمندر کو پار کر کے پھر سے مصر جائیں گے، اسی مطلب سے یہ آیت استعمال کی گئی ہے۔ دشمن بسے ہوئے شہر کواور ان کے گھروں کو ‏تمہیں دکھائیں گے، اور وہاں تمہیں پہنچائیں گے، اس طرح مطلب لینا ہی مناسب معلوم ہو تا ہے۔ 

ان آیتوں7:137، 17:103,104، 26:57-59، 44:23,28 میں جوکہا گیا ہے کہ وہ لوگ پھر سے مصر میں رہائش اختیار کر لی ، ‏اس رائے کو مضبوط کرتی ہے۔   

 ‏427۔ ذبح کرنا اللہ ہی کے لئے ہے

‏اس آیت 108:2 میں اللہ حکم فرماتا ہے کہ اللہ ہی کے لئے نماز پڑھیں اور اسی کے لئے ذبح کریں۔ 

تمام جانتے ہیں کہ نماز ایک عبادت ہے، اس لئے اللہ کے سوا دوسرے کسی کی نماز نہیں پڑھتے۔ 

لیکن ذبح کر نا ایک عبادت ہے، اس کو بعض مسلمان نہ جاننے کی وجہ سے غیر اللہ کے لئے بھی ذبح کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے بھی یہ آیت ‏انکار کرتی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ جو غیر اللہ کے لئے ذبح کر تا ہے اس پراللہ لعنت بھیجتا ہے۔ 

‏(مسلم: 4001، 4002، 4003)

بوانہ کے ایک مقام پر میں نے نیت کر لی کہ میں اللہ کے لئے ذبح کروں گا۔میں نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ کیا میں اسے کر سکتا ہوں۔نبی کریم ؐ نے مجھ ‏سے پوچھا کہ کیا اس جگہ میں ایسے معبود موجود ہیں جو دوسروں کے ذریعے عبادت کئے جاتے ہیں؟ میں نے کہا ایسا کچھ نہیں۔نبی نے پوچھا کہ کیا ‏وہاں دوسرے لوگ میلہ وغیرہ مناتے ہیں؟ میں نے کہانہیں۔تب نبی کریم ؐ نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو تمہاری منت کو تم پورا کر سکتے ہو۔

‏(ابو داؤد : 2882)

اللہ کے لئے ذبح کر نے کو اگر نیت بھی کر لو تو دوسروں کی عبادت چلنے کے مقام پر اسے کر نا نہیں۔ اس میں شک کا مشابہ تک نہیں ہو نا چاہئے۔ ایسے ‏میں قبروں پر بیل بکرے اور مرغی وغیرہ کو ذبح کر نے والے ذرا سوچنا چاہئے کہ آخر ان کا حال کیا ہوگا؟ 

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 471 وغیرہ دیکھئے! 

 ‏426۔ جھوٹ کا منبع

‏اس آیت 96:15 میں کہا گیا ہے کہ گناہ کر کے جھوٹ بولنے والی پیشانی۔

یہ معمول کے خلاف استعمال ہو نے والی ایک لفظ ہے۔ جھوٹ بولنے اور پیشانی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ 

انسانی دماغ کے سامنے کے حصہ میں بڑا دماغ موجود ہے۔انکشاف کیا گیا ہے کہ حساس ہو جانا، جھوٹ بولنا، غصہ کر نا وغیرہ احساسات کے تعلق کے ‏تمام واقعے اسی آگے کی بڑے دماغ کے ذریعے ہی معلوم کیا جاتا ہے۔ 

یہی حصہ ایک انسان جھوٹ بولنے اور سچ بولنے کا سبب بنتا ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے ہی کہہ دیا۔ اسی لئے اللہ کہتا ہے گناہ کہہ کے جھوٹ کہنے والی پیشانی۔قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے کہنے ‏کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

More Articles …