Sidebar

28
Fri, Aug

‏437۔ لڑکا یا لڑکی کا فیصلہ کیا کر تا ہے؟

‏قرآن کئی آیتوں میں کہا ہے کہ ایک بچہ پیدا ہو نے کے لئے مرد کا جین اور عورت کا رحم کا بیضہ ضروری ہے ۔ اس آیت 75:39 میں لڑکا لڑکی کے ‏فیصلہ کے بارے میں کہتا ہے۔ یہاں پر ان دونوں سے کہنے کے بجائے واحد کے صیغے میں اس میں سے کہا گیا ہے۔ 

پیدا ہونے والا بچہ لڑکا یا لڑکی ، اس کو فیصلہ کر نے میں عورت کا کوئی حصہ نہیں ہے، مرد کے پاس ہی اس کی صفت ہے۔ آج کا سائنس جو کہتا ہے ‏اس کو چودہ سال پہلے ہی قرآن نے کہہ دیا،اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کا ہی کلام ہے۔ 

ایک بچہ پیدا ہو نے کے لئے مرد کا جین اور عورت کے رحم کا بیضہ ضروری ہے ، اس کو سب جانتے ہیں۔ 

عورت کے رحم کے بیضے میں 23کروموسوم ہوتے ہیں۔ رحم کے بیضے میں جانیوالی جین میں بھی23کرومو سوم ہو تے ہیں۔

مرد اور عورت کے پاس 22+22=44موجودکروموسوم نسل، صفت اور رنگ وغیرہ کافیصلہ کر تا ہے۔ 

آخر میں جو تےئیسویں کروموسوم ہے وہی جنس کو یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے، اس کو فیصلہ کر تاہے۔ 

یہ کروموسوم ایکس اور وائی دو قسم کے ہو تے ہیں۔ عورت کا کروموسوم سارا کا سارا یکس ہی ہوتا ہے۔ 

مرد کا کروموسوم بعض وقت ایکس ہو گا اور بعض وقت وائی ہو گا۔ 

اگر مرد کا کروموسوم وائی ہو اور وہ عورت کے ایکس کے ساتھ مل جائے تووہ لڑکا ہوگا۔ اگر مرد کا ایکس ہو گا تو وہ عورت کے ایکس کے ساتھ مل کر ‏لڑکی ہوگی۔ یعنی ایکس اور ایکس ملا تو لڑکی اور ایکس کے ساتھ وائی ملا تولڑکا ہو گا۔ 

صرف مرد کے پاس ہی وائی کر وموسو م رہنے کی وجہ سے مرد کے پاس جو تےئیسویں کروموسوم ایکس ہو گا تو وہ لڑکی ہو گی۔ مرد کے پاس جو ‏تےئیسویں کروموسوم ہے وہ وائی ہوگا تو وہ لڑکا ہو گا۔ 

عورت کے پاس جوکروموسوم ہیں وہ تمام ایکس رہنے کی وجہ سے پیدا ہو نے والا بچہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ، یہ فیصلہ کر نے میں عورت کا کوئی حصہ نہیں ‏ہے۔ 

آج انکشاف ہو نے والی اس حقیقت کو’’ اس سے‘‘ کے لفظ کو قرآن مجید نے جواستعمال کی ہے، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ اللہ ہی کلام ہے۔   

 ‏436۔ پانی کے اندر تولد

‏ان آیتوں 19:23,24 میں یہ کہا گیا ہے کہ پانی کے اندر ہونے والی تولد میں دردزہ نہیں ہوگا۔ آج کی سائنسی دنیا اسے اب انکشاف کی ہے۔ 

روس میں پانی کے اندر تولد ہو نے کا طریقہ مروج کیا گیا ہے۔ تجربہ میں تحقیق کیاگیا ہے کہ پانی کے اندر تولد ہونا ماں کے لئے دردزہ میں آسانی ہو ‏تی ہے۔

رحم کی تھیلی میں بچہ پانی کے اندرہی تیر رہا ہوتا ہے۔ اس لئے پانی کے اندر تولد ہو تے وقت بچہ اپنی جانی پہچانی حالت ہی سے باہر آتا ہے ۔ اس لئے ‏بچے کے لئے وہ فطری چیز ہے۔ ٹھنڈے پانی میں وہ پیدا ہو نے سے بچوں کی بیماری سے مدافعت کی طاقت بڑھ جا تی ہے۔ 

روس میں تولید کی شفا خانوں میں تولد کے لئے مخصوص تیراکی کے تالاب پانی سے بھرا تیار موجود ہے۔ 

‏435۔ سہولت نہ رکھنے والے کیاشادی کر سکتے ہیں؟

‏ان دو آیتوں 24:32,33 میں پہلی آیت کہتی ہے کہ غریبی کی وجہ دکھا کر شادی کو نظر انداز نہ کرو۔ 

دوسری آیت کہتی ہے کہ غریبی ختم ہو نے تک بالکل پابندی سے رہیں۔ اس سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ دونوں آیتوں میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔ 

لیکن یہ دونوں رہنمائی مختلف حالات میں رہنے والوں کے لئے ہے۔ اس لئے اس میں کسی قسم کی اختلاف نہیں ہے۔ 

ہمارے پاس غلام بن کر رہنے والوں کو ہم ہماری ذمہ داری میں نکاح کر دیں تو اس کے بعد اللہ انہیں دولتمند بنادے گا، یہی پہلی آیت میں کہا گیا ‏ہے۔ 

غلامی میں رہنے والوں کو ان کے مالک اپنی خرچے سے اگر نکاح کر دیں تو اس کے بعد انہیں زندگی بسر کر نے کے لئے سہولتیں اللہ انتظام کر ے گا، ‏یہی اس کا مطلب ہے۔ 

غلام نہ رہتے ہوئے اپنی ہی خرچ میں مہر وغیرہ ادا کر کے نکاح کرنے کی حالت میں رہنے والوں کو اگراس کے لئے سہولتیں نہ ہوں تو وہ سہولتیں ‏آنے تک بالکل پابندی کے ساتھ رہنا چاہئے، یہی دوسری آیت کا مطلب ہے۔ 

نکاح کر نے کے بعد خود کفالت حاصل کر نے والے بنا دئے جائیں گے، یہ انہیں کے لئے ہے۔ 

دونوں مختلف خبریں سناتی ہیں، اس لئے دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔   

‏434۔ علیین ، سجین کیا ہے

‏ان آیتوں میں (83:8، 83:19) علیین اور سجین نامی دفتروں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

انسان مرنے کے ساتھ اس کی روح کو آسمانی دنیا کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ 

نیک لوگوں کی روح آسمانی دنیا کی طرف لے جاکر وہاں کی علیین کے دفتر میں درج کیا جا تا ہے۔ پھر اس کو دنیاکی طرف لا یا جا تا ہے۔ یہ ایک لمحے میں ‏ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی قبر میں رکھ کر دریافت کیا جا تا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے تشریح کی ہے کہ برے آدمی کی روح کوجب آسمانی دینا پر لے جایاجاتا تو اس کو اللہ نے یہ کہہ کر واپس کر دے گا کہ اس کو زمین کی گہرائی ‏میں لے جاکر سجین کے دفتر میں درج کرو۔

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 177دیکھئے!  

‏433۔ غیر مذہبوں کی عبادت گاہیں

‏مختلف مذہب والے بسنے کی اس دنیا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایک اہم نصیحت کو یہ آیت 22:40 کہتی ہے۔ 

ہر مذہب والوں کے لئے عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔انہیں وہ ولوگ بہت عزت کرتے ہیں۔ لیکن ایک مذہب والیکی عبادت گاہ کو دوسری مذہب ‏والے پسند نہیں کرتے۔ یہ فطری بات ہے۔ 

دو مذہب والوں کے درمیان جب فساد برپا ہو تا ہے تو ان کے عبادت گاہوں پرہی پہلے ہلا بولا جا تا ہے۔ عقلمندی سے سوچنے کے بجائے جذباتوں کو ‏اہمیت دینے کی وجہ ہی سے یہ حالت پیدا ہوتی ہے۔ 

ہر مذہب والے اپنی عبادت گاہوں کو اپنی جائدادسے زیادہ عزت دینے کی وجہ سے جب ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ بھی الٹے ان کی ‏عبادت گاہوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ 

اس لئے غیر مذہبوں کی عبادت گاہ پر حملہ کر نا حقیقت میں ہم ہماری ہی عبادت گاہ پر حملہ کر نے کے مترادف ہے۔ 

تم میں بعض لوگوں کے ذریعے بعض لوگوں کو اگر روکا نہیں جاتا تومسجد وں کے ساتھ سارے مذاہب کے عبادت گاہیں بھی مسمار کر دیاجا تا۔ اس ‏دانشمندانہ نیک راہ کویہ آیت ہمیں سکھا تی ہے۔ 

یہ آیت ہمیں مناسب وجہ کے ساتھ وضاحت کر تی ہے کہ مندریں اور گرجا گھریں مسلمانوں کی نگاہ میں عبادت گاہیں نہ ہونے پر بھی اس پر حملہ کر ‏نے کا حق نہیں پہنچتا ہے۔ 

 ‏432۔ ابراھیم نبی جھوٹ کیوں کہا؟ 

‏اس آیت 21:63 میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم نبی نے اپنے شہر کے عبادت گاہ میں موجود چھوٹے بتوں کوتوڑدیا اور بڑے بت کو چھوڑ رکھا۔ابراھیم ‏نبی سے جب ان کی قوم نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ بڑابت ہی نے توڑا۔ اور کہا کہ تم کو شک ہو تو ٹوٹے ہوئے ان بتوں ہی سے پوچھو کہ ‏تمہیں کس نے توڑا۔ 

ان کا کہنا کہ بڑابت ہی توڑا ، وہ سچ نہیں تھا۔ پھر بھی انہوں نے یہ سمجھانے کے لئے ایسی تدبیر کی کہ بتوں کو کوئی طاقت نہیں ہے۔ سچائی کی تبلیغ کے ‏لئے ایسے طریقے استعمال کر نے کو دین میں منع نہیں کیا گیا ہے۔

ابراھیم نبی کا اس طرح کہنا جھوٹ میں جمع نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کا کہنا کہ بڑے بت نے توڑا ، وہ ان لوگوں سے بچنے کے لئے نہیں تھا۔ 

ابراھیم نبی نے جب کہا کہ بڑے بت ہی نے توڑاتو ان بتوں کو معبود ماننے والوں نے ابراھیم نبی کے کہنے کونہ مانا ۔ 

بولنے والے کو بھی معلوم ہے کہ ہم دوسرے معنی میں بول رہے ہیں۔سننے والے بھی جانتے ہیں کہ یہ دوسرے معنی میں کہی جانے والی جھوٹ ‏ہے۔ اس لئے اس کو جھوٹ کی شکل میں ترکیب پائی ہوئی سچ ہی کہا جائے گا۔ 

اس کے متعلق زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 162، 236، 336 وغیرہ دیکھئے!

ابراھیم نبی نے جو بتوں کو توڑا ،کیا وہ صحیح تھا؟اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 433 اور473دیکھئے!‏

‏431۔ مجبوری کا مطلب کیا ہے؟

‏یہ آیتیں 2:173، 5:3، 6:119، 6:145، 16:115کہتی ہیں کہ جو ممانعت کی گئی اس کو کوئی مجبوراً کردے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔

سب جانتے ہیں کہ دوسروں کے ذریعے زبردستی کیا جانا اور جان جانیکی حالت کو پہنچ جانا ہی مجبوری کی حالت کہا جا تا ہے۔ لیکن نبی کریم ؐ نے واضح کی ‏ہے کہ ہر روز کھانے کا کو ئی راستہ نہ پانا بھی مجبوری ہی کہلاتا ہے۔ 

چند صحابہ نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہم جہاں بستے ہیں اس حصہ میں ہمیں قحط ہوتا ہے۔ اپنے آپ مرا ہوا چیزکس حالت میں ‏ہمیں حلال ہوگا؟ اس کے لئے اللہ کے رسول نے کہا کہ صبح میں پینے کا دودھ اور شام میں پینے کا دودھ اگر نہ ملے تو اس کو کھا سکتے ہو۔ 

احمد: 20893، 20896۔ اور دارمی: 1912

یہ حدیث کہتی ہے کہ ایک دن میں دو وقت کھانا، دودھ جیسے مائع چیزیں اور سبزی غذا وغیرہ نہیں ملا تو جو منع کیا گیا ہے اس چیز کو کھا سکتے ہیں۔

میں نے نبی کریم ؐ سے پوچھا کہ اپنے آپ مرا ہوا چیز ہمارے لئے کب حلال ہوگا؟ نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ تمہارا غذا کیا ہے؟ میں نے کہا کہ صبح اور شام ‏تھوڑا سا دودھ۔ اس وقت نبی کریم ؐ نے اس حالت میں خود بخود مرے ہوئے چیزوں کو ہمارے لئے حلال کردیا۔ 

ابو داؤد: 3321

مرنے کی حالت میں ہونا ہی مجبوری نہیں ہے۔ دو وقت کا کھانانہیں ملا تو وہ بھی مجبوری ہی ہے۔ اس حال میں رہنے والے دین میں جومنع کیا گیا ہے ‏انہیں کھا سکتے ہیں۔ 

اس طرح کہنے والا اللہ کہ مجبوری کی حالت میں رہنے والے منع کئے چیزوں کو کھا سکتے ہیں ، اس کے لئے دو شرط بھی رکھا ہے۔ اسے بھی ہم دھیان ‏میں رکھنا چاہئے۔ 

وہ نہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے والا ہو۔ یہی دو شرطیں ہیں۔ 

منع کی ہوئی غذاؤں کو کھانے کی خواہش میں اس مجبوری کی حالت کواختیار نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا سوچنا کہ قحط زدہ مقام پر جانے سے منع کی ہوئی ‏چیزوں کو کھا سکتے ہیں، یہی خواہشمندی کہلاتی ہے۔

مجبوری کی حالت کو پہنچنے والے اسی میں قائم رہنے کی کوشش نہ کریں۔ اس مجبوری کی حالت سے چھٹکارا پانے کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈنا چاہئے۔ ‏اس کے لئے جدوجہد کر نا چاہئے۔ ایسی کسی کوشش کے بغیر اگر کوئی سستی کرتے ہوئے منع کی ہوئی غذاؤں کوکھاتے ہوئے رہنا ہی حد سے گزرنا ‏ہے۔ 

مجبوری کی حالت کو پہنچنے والے ان دونوں شرائط کی بنیاد پر منع کی ہوئی چیزوں کو کھا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح خون ہمارے لئے ‏منع کیا گیا ہے۔حادثے میں پھنس کر خطرناک حالت میں رہنے والوں کو اور آپریشن کے لئے خون کی ضرورتمندوں کو دوسروں کا خون چڑھایا جا تا ‏ہے۔ 

یہ آیت سند ہے کہ جب بھوک مٹانے کے لئے منع کی ہوئی چیزوں کو کھا سکتے ہیں توجان بچانے کے لئے دوسروں کا خون چڑھاسکتے ہیں۔جان ‏بچانے سے زیادہ بڑی شرط کچھ نہیں ہو سکتا۔  

‏430۔ جہاں بھی ہو ں کعبہ کی طرف

‏یہ آیت 2:144 کہتی ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہوں توکعبہ کی طرف منہ کیا کرو۔ 

یہ آیت 2:149 کہتی ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیا کرو۔

یہ آیت 2:150 کہتی ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیا کرو۔ تم جہاں کہیں بھی رہو اسی رخ پر اپنے چہروں کو ‏پھیر لیا کرو۔ 

اسے ایسانہ سمجھیں کہ سفر کر تے وقت کعبہ کی طرف ہی سفر کریں۔ شمال اور جنوب کی طرف کوئی سفر اختیار نہ کریں۔ اور ہم جہاں کہیں بھی رہیں ‏صرف کعبہ ہی کی طرف دیکھیں ۔ 

اگرہم سطحی طور پران آیتوں کو دیکھیں تواسی مطلب کو ظاہر کرتی ہیں ، اس کے باوجود حدیثوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ آیتیں نماز کے ‏لئے نازل ہوئی ہیں۔ 

یہ ثابت کر تی ہیں کہ قرآن مجید کو سیدھے طریقے سے سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 286، 318، 350، 352، 358وغیرہ دیکھئے!   

More Articles …