Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‎481‎۔ جمعہ کے وقت کیادوسروں کے ذریعے بیوپار کر سکتے ہیں؟

‏اس آیت 62:9 میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کا ہونے کے ساتھ بیوپار روک دینا چاہئے۔ اس کو ٹھیک سے سمجھنا چاہئے۔

بعض لوگ جمعہ کے وقت بیوپار کو روکے بغیر غیر مسلموں کے ذریعے یا جس پر جمعہ فرض نہیں ہے یعنی عورتیں یا لڑکے کے ذریعے بیوپار کو جاری ‏رکھتے ہوئے صرف یہ لوگ نماز کو آجاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی اللہ ہم سے چاہتا ہے، یہ بالکل غلط ہے۔

یہ آیتیں 62:9,10 کہتی ہیں کہ اے ایمان والو!جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارے جائیں تو اللہ کو یاد کر نے کے لئے چل پڑو۔ اور خریدو فروخت ‏چھوڑدو۔ 

اس آیت میں دو احکام دئے گئے ہیں، نماز کے لئے چل پڑیں اور خریدو فروخت چھوڑ دیں۔ 

اگر اللہ صرف یہ کہا ہو تا کہ نماز کے لئے چل پڑیں تو دوسروں کے ذریعے ہماری بیوپار کو چلا سکتے تھے۔ 

صرف ہم نماز کے لئے جائیں اور بیوپار کو دوسروں کے ذریعے چلائیں تو ایک حکم کی نافرمانی ہوگی۔ 

مزید یہ کہ اسی آیت میں اللہ کہتا ہے کہ نماز ختم ہو نے کے ساتھ زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اس سے بھی ہم جان سکتے ہیں کہ نماز ‏ختم ہو نے کے بعد ہی مال کمانے کی طرف جانا ہے۔ نماز ختم ہو نے سے پہلے اگر ہماری تجارت جاری رہی تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم کمانے ہی میں ‏مبتلا ہیں۔ 

میں نے تو تجارت نہیں کی؟ میرے ادارے میں دوسرے لوگ ہی نے توتجارت میں مبتلا تھے؟ اس طرح کا حجت شیطان کا وسوسہ ہے۔ اس میں ‏اللہ کا خوف قطعاً نہیں ہے۔ ضمیر اور دنیوی کارروائی کے لئے یہ بالکل خلاف ہے۔ 

ہمارے ادارے میں دوسرے کرنے کی تجارت کے ذریعے جو نفع ملتا ہے اور آمدنی آتی ہے، کیا تم حکومت سے کہہ سکتے ہو کہ اس کے لئے ٹیکس ‏میں کیوں بھروں گا؟ ایسا کہنے سے کیا تمہیں حکومت چھوڑ دے گی؟یا تم کہہ سکتے ہو کہ وہ آمدنی ہماری نہیں ہے؟ 

ہماری غیر حاضری میں ہمارے کارندے ہماری اجازت سے ملاوٹ یا دھوکہ بازی کر یں تو کیا ایسا کہنا کہ اس کو میں نے نہیں کیا ، کیا کسی کاضمیر قبول ‏کر ے گا؟ ہم جو کام کر تے ہیں اور ہماری اجازت سے اور ہمارے حکم سے دوسرے جو کام کر تے ہیں ، اس کی بھی ہم ہی جواب دہ ہیں۔ 

ہمارے خاص ادارے میں دوسروں کو رکھ کر جو بیوپار چلا یا جا تا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہے۔ اس لئے جمعہ کے اذان کے بعد جمعہ نماز ختم ہو نے تک کوئی ‏بیوپار نہیں کر نا چاہئے۔ 

 ‏480۔ لعنت کرنے کیا قنوت پڑھنا منع ہے؟

‏یہ آیت 3:128نازل ہو نے کے لئے حدیث میں دو وجہ بتائی گئی ہیں۔ 

جنگ احد میں نبی کریم ؐ زخمی ہوئے۔ نبی کریم ؐ نے تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے کہا کہ نبی کے چہرے پر خون کا رنگ لگانے والے کیسے فتح پا سکتے ‏ہیں؟اسی وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (دیکھئے : مسلم:3667)

یہ آیت نازل کئے جانے کی وجہ مسلم نے اس طرح اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ لیکن بخاری کہتے ہیں: 

نبی کریم ؐ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت کے وقت اپنے سر کو اٹھا کر ، اللٰھم ربنا لک الحمد کہنے کے بعد دعا کی کہ یا اللہ! فلاں اور فلاں کو تیری رحمت ‏سے دورکردے!تو فوراًعظمت و جلال والے اللہ نے اس آیت (3:128) کو اتارا کہ اے محمد! تم کو اس میں کوئی اختیار نہیں۔ وہ انہیں معاف ‏کرے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ 

‏(دیکھئے بخاری: 7346)

یہ آیت نازل ہو نے کے بارے میں دو مختلف رائے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ دونوں ہی موقعوں پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ یہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر یہ آیت دونوں ہی موقعوں پر اتری ہو ‏تی تو قرآن مجید میں بھی یہ آیت دو جگہوں پر ہو نا چاہئے۔ کیونکہ کئی بار اترنے والی ایک ہی جملے والی آیتیں قرآن مجید میں کئی جگہوں پر حصہ پائی ‏ہیں۔لیکن یہ آیت ایک ہی جگہ پر درج ہوئی ہے۔ 

اس لئے اوپر والی وجہ میں کوئی ایک وجہ ہی ٹھیک ہوسکتا ہے۔

اصحاب رسول کو قتل کر نے والوں کے خلاف نبی کریم ؐ نے قنوط پڑھتے وقت یہ آیت اتری ہوگی۔ 

یا جنگ احد میں نبی کریم ؐ نے اپنے کو زخمی کر نے والوں پر جو لعنت بھیجی تھی اس وقت اترا ہوگا۔ 

جب جانچا گیا کہ کونسے موقع پر یہ آیت اتری ہے تو ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے جب قنوط پڑھی تھی اس کو سرزنش کر تے ہوئے ‏نہیں اتری ہوگی۔ 

قرآن مجید کے حافظ70صحابیوں کو قتل کر نے والے اس جماعت کے خلاف ہی نبی کریم ؐ نے اللہ سے دعا کی تھی۔ اس کو سرزنش کر نے کی حد تک ‏اس میں کوئی سرکشی نہیں ہے۔ ظلم ڈھانے والے ایک جماعت کے خلاف دعا کرنا اللہ سے تسلیم کی گئی ایک عمل ہی ہے۔ اس کے لئے قرآن ہی ‏میں دلیلیں موجود ہیں۔

آیت نمبر 71:26 کہتی ہے کہ نوح نبی نے کہا کہ یا اللہ! زمین میں (تجھ کو) انکار کر نے والوں میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑ۔

اس آیت میں نوح نبی نے اللہ سے دعا کر تے ہیں کہ منکروں کو مٹادے۔ اس کو تسلیم کر تے ہوئے اللہ نے بھی سیلاب کے ذریعے ان لوگوں کو مٹا ‏دیا۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ظالموں کے خلاف بد دعا کر نا نبیوں کے کارروائی کے خلاف نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ ظلم ڈھائے گئے انسان کی بد دعا سے ڈرا کرو۔ اللہ اور اس کے درمیان کوئی بھی پردہ نہیں ہے۔ 

‏(بخاری: 1496)

اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ مظلوم لوگ ظلم ڈھانے والوں کے خلاف بد دعا کر نے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ کمزوروں کو جو ایک ہی ‏دلجمعی ہے وہ صرف اللہ سے فریاد کرنا ہی ہے۔ 

قرآن کے حافظ بہت کم رہنے کے اس زمانے میں قرآن کے حافظ ستر سے زیادہ صحابیوں کو منافقوں نے قتل کر ڈالا، یہ واقعہ نبی کریم ؐ کو بہت ہی ‏متاثر کر دیا تھا۔اس موقع پر ہی ان منافقوں کے خلاف نبی کریم ؐ نے بد دعا کی تھی۔ یہ اللہ کی طرف سے مانا ہوا عمل ہی ہے۔ اس لئے ایسا کہنا کہ اس کو ‏سرزنش کر تے ہوئے اللہ نے آیت اتاری، قابل قبول نہیں ہے۔ 

اللہ فرماتا ہے کہ اختیار میں تمہارا کچھ حصہ نہیں۔ اللہ کے اختیار میں داخلہ ہو نے کا کوئی بھی علامت اس میں نہیں ہے۔ اللہ سے دعا کر نا اس کے ‏اختیار میں دخل دینا ہر گز نہیں ہوگا۔ اور بھی کہنا ہو تو اس طرح دعا کر نا اللہ کے اختیار کو ار اس کی قدرت کواور بھی استوار کرنا ہی ہے۔ اس لئے نبی ‏کریمؐ نے مشرکوں کے خلاف جب قنوط پڑھا تو اس وقت یہ آیت اترنے کا موقع ہی نہیں ہے۔ 

بلکہ جنگ احد کے موقع پر یہ آیت اترنے کے لئے مناسب وجوہات ہیں۔ جنگ احد میں نبی کریم ؐ نے زخمی ہو گئے۔ نبی کریمؐ نے کہا کہ نبی کے ‏چہرے کو زخمی کر نے والی یہ سماج کیسے کامیاب ہوگی؟اس وقت نبی کریمؐ نے اللہ سے دعا نہیں کی۔ ہم ایک نبی ہیں اور لوگوں کو نیک راہ کی طرف بلا ‏رہے ہیں، اس وجہ سے ہم زخمی کئے جا رہے ہیں، اس لئے وہ لوگ کامیاب نہیں ہو ں گے۔ یہ الفاظ ایسے تھے کہ وہ خود فیصلہ کر رہے ہیں۔ 

اللہ کے رسول اگر ایسا کہیں تویہ رائے پیدا ہوسکتا ہے کہ کسی کو کامیاب بنانے اور ناکام بنانے کا اختیار شاید ان کے پاس ہے۔ اسی لئے اس تکلیف کو ‏برداشت نہ کر تے ہو ئے نبی کریمؐ کے اس کہنے کو کہ مجھے خون کا رنگ لگانے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں، اللہ نے سرزنش کرتا ہے ۔ 

تم پر حملہ کر نے والوں کو بھی اگر میں چاہوں تو کامیابی دے سکتا ہوں ، یا انہیں معاف بھی کر سکتا ہوں۔ یہ میرے مخصوص اختیار کا معاملہ ہے۔ ‏اس میں دخل دینے کا حق تمہیں نہیں پہنچتا۔اللہ کا فرمان اسی انداز کا تھا۔ 

مزید یہ کہ اس آیت سے پہلی آیتیں بھی جنگ احد کے بارے میں رہنے سے اس رائے کووہ مستحکم کر تا ہے۔ 

بخاری کی کہی ہوئی وجہ قابل قبول نہیں ہے۔مسلم کی وجہ ہی قابل قبول ہے۔ 

 ‏479۔ نمازکو قضا نہ کریں

‏اس 4:103 آیت میں کہا گیا ہے کہ نماز مقررہ وقت کا فرض ہے۔ 

پانچ وقت کی نمازیں بھی مقررہ وقتوں میں اداکر لیا کریں۔ اسے تاخیرنہ کریں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فرض نمازیں مقررہ وقت میں ادا کر نے ‏کے بجائے نماز کا وقت گزرنے کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں۔اس کو قضا نماز کہا جا تا ہے۔ یہ آیت اس کو غلط ثابت کر تی ہے۔

وقت مقررہ فرض ہو تو اس کو اسی وقت میں ادا کر نا چاہئے۔

رمضان ہی میں روزہ رکھنا فرض ہے، اس کے باوجود مریض اور مسافر وں کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ دوسرے دنوں میں رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ‏نماز میں مقررہ وقت میں ادا نہیں کر نے والوں کوایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے کہ وہ دوسری وقتوں میں پڑھ سکتے ہیں۔

اسلام نے ایسا نہیں کہاکہ اگر تم سے کھڑا نہیں ہوسکتا تو جس وقت ممکن ہو اس وقت کھڑے ہو کر پڑھو۔اسلام رہنمائی کر تا ہے کہ مقررہ وقت ‏میں جس طرح بھی ہو سکے اس طریقے سے نماز ادا کردینی چاہئے۔ 

اگر پانی نہ ملا تو ایسا نہیں کہا گیا کہ جب پانی ملے تونماز پڑھ لیا کریں،بلکہ اسلام حکم دیتا ہے کہ تیمم کر کے مقررہ وقت میں ادا کر لیا کرو۔ مقررہ وقت ‏میں ہی نماز ادا کرنا ہے ، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ حیض کے وقت چھوٹے ہوئے روزوں کو بعد میں رکھ لیا کریں، لیکن چھوٹے ہوئے نماز بعد میں نہ پڑھیں۔ 

رمضان ختم ہوجا نے کے بعد دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کے لئے اجازت دی گئی ہے۔ لیکن نماز کا وقت گزرجائے تو اس کو دوسرے وقت ‏میں پڑھ نہیں سکتے۔ اسی لئے حیض کے وقت میں چھوٹے ہوئے نمازوں کو نہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس فرق کی ‏وجہ وقت کی اہمیت ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے پانچ وقت کی نمازوں کا ابتدائی وقت اور آخری وقت وغیرہ کو واضح طور پر کہہ دیا ہے۔ اس لئے اس وقت کے اندر نمازوں کو ادا کر لینا ‏چاہئے۔ 

اگر کوئی بھول کر نماز پڑھے بغیر سوگیا تو وہ یاد آنے کے ساتھ نماز پڑھ لیا کریں۔ اگر سوگیا تو وہ بیدار ہو نے کے ساتھ نماز ادا کر لیں۔ یہی اس کے ‏لئے کفارہ ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی نماز پڑھنا بھول گیا تو جب یاد آگیا تو فوراًاس کو پڑھ لیا کریں۔اس کے سوا کوئی دوسرا کفارہ نہیں ہے۔ دیکھئے بخاری: ‏‏597

نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جو کوئی نماز بھول جائے اس کو یاد آنے کے ساتھ اس کو ادا کر لینا ہی اس کے لئے کفارہ ہے۔

دیکھئے مسلم: 1216

بھول اور نیند ان دونوں کے سوا دوسری کسی وجہ سے نماز کو چھوڑنا دین میں اجازت نہیں ہے۔ 

مزید یہ کہ سفر میں رہنے والے ظہر اور عصر وغیرہ، مغرب اور عشاء وغیرہ ملاکر جمعو کی بنیاد پر نماز ادا کر یں تو وقت گزرجانے کے باوجود وہ گناہ نہیں ‏ہوگا، اس میں رعایت دی گئی ہے۔ 

سفر کے سوا شہر ہی میں رہنے والے ظہراور عصر نمازوں کو اور مغرب اور عشاء نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنے کے لئے بالکل غنیمت سے ‏اجازت دی گئی ہے۔ دیکھئے بخاری: 543

اس کے سوا دوسری وجوہات کے لئے وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنا نہیں چاہئے۔ اگرچھوٹ گیا تو اس کو قضا کر نا بھی نہیں ہے۔ اللہ رب العزت ‏کے پاس مغفرت چاہتے ہوئے اصلاح پانا ہی ایک ہی راستہ ہے۔ 

ان کے بعد جانشین آئے۔ انہوں نے نماز کو برباد کیا۔ اور دلی خواہشات کی پیروی کر نے لگے۔وہ جہنم کو پائیں گے۔مگرجس نے توبہ کی اور نیک ‏عمل کئے ان کے سوا۔ وہ لوگ جنت میں داخل ہو ں گے۔ ذرہ بھر بھی وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔

قرآن مجید 19:59,60

اس زمانے کے بعد آنے والے بعض لو گوں کے بارے میں اللہ اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔ اور فرمایاہے کہ وہ نماز نہیں پڑھیں گے۔ اگر انہیں ‏مغفرت ملنا ہو تو وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے اللہ سے توبہ کر نا چاہئے۔اس طرح حکم دینے والا اللہ جو نمازیں چھوٹ گئیں اس کو پھر سے ‏پڑھنے کے لئے حکم نہیں فرمایا۔ 

اس لئے نیند ، بھول اور سفر جیسے وجوہات کے بغیر دوسری وجوہات کے لئے نمازوں کو مقررہ وقت پر نہ پڑھنے والے اللہ سے توبہ مانگنے کے بعد آئندہ ‏دنوں میں نماز نہ چھوڑنے کے لئے کوشش کر نا چاہئے۔ 

 ‏478۔ ماں کا دودھ پلاناضروری فرض ہے

‏اس آیت2:233 میں ماں کا دودھ پلانے کے بارے میں زور دیا گیا ہے ۔

ماں کا دودھ پلانے سے بچے کو اور ماں کو بے شمار فائدے ہیں، اس لئے بچے کو دو سال تک دودھ پلانے کے لئے اللہ نے حکم نافذ کیا ہے۔ 

اس کو سائنسدانوں نے بھی تحقیق کر کے ثابت کیا ہے۔ 

لندن کے امپیرئل کالج کے ڈاکٹر تیریسا نورٹ نے اس کے بارے میں تحقیق کرکے کہا ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کو سرطان کی بیماری آنے کا ‏موقع ہی نہیں ہے اور خون کا دوران اور سانس کی تکلیف سے مرنے کا موقع بھی بہت کم ہے۔ 

اپنے بچوں کو مائیں دودھ پلانے کے لئے صرف اسلام ہی میں شرعی حکم نافذ کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں دوسری کسی مذہب میں ایسا ایک قانون ‏دکھائی نہیں دیتا۔

لیکن آج کے زمانے میں بوتل کا دودھ پی کر ہی بچے پرورش پانے کا ایک ناشائستہ ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے سے اس کی ‏خوبصورتی میں کمی آجائے گی ، اسی ڈر کی وجہ سے وہ دودھ پلاتی نہیں ہیں۔ 

لیکن ماں کے دودھ کی بجائے بوتل کا دودھ دینے سے بچوں کو بیماری روکنے کی قوت کم ہو جا تی ہے۔ اس سے ماؤں کو سرطان کی بیماری پیدا ہو سکتی ‏ہے ۔ ماں کا دودھ پلانے والی مائیں سرطان سے اور دل کے دورے سے حفا ظت پاتی ہیں، اس کو قریبی تحقیقات سے انکشاف کیا گیا ہے۔

انگلینڈ کے محققین نے بارہ سالوں میںیورپ کے نو ملکوں کے 3,80,000(تین لاکھ اسی ہزار) عورتوں کو تحقیق کر نے سے انکشاف ہوا ہے ‏کہ ماں کا دودھ پلانے سے سرطان کی بیماری کو روک سکتے ہیں۔ کم سے کم چھ مہینے تک تو ماں کا دودھ پلا نے کے ذریعے عورتیں سرطان سے مرنے ‏سے دس فیصد کم ہو جا تی ہے۔ اسی طرح انہیں دل کے دورہ سے واقع ہو نے والی موت بھی سترہ فیصد کم ہو جا تا ہے۔ 

اس طرح اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے۔ 

 ‏477۔ دلی کشیدگی کی بہترین دوا

‏اس 13:28آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی یاد ہی دلوں کو اطمینان بخشتی ہیں۔

امریکہ کی تحقیقات سے معلوم پڑا ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو پژمردگی کے موقعے بہت کم ہوتے ہیں۔ 

واشنگٹن کے میکلین شفا خانہ کے ڈاکٹراور نفسیاتی محکمہ کے ماہر ڈیول روسمیرن نے اس تحقیق کے سلسلے میں 159لوگوں کے پاس مختلف قسم کے ‏آزمائشیں کی گئیں۔ 

اللہ پر ایمان اوربیماری شفا ہو نے کی توقع اور معمولی علاج کا طریقہ ، اس کے بارے میں متاثر ہو نے والوں کے پاس تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں ‏انکشاف کیا گیا ہے اللہ پر ایمان زیادہ رکھنے والوں کو دل کی کشیدگی کی بیماری بہت ہی کم دکھائی گئی۔ 

اللہ کے بارے میں فکر یا تقویٰ ذرہ بھر بھی نہ پائے جانے والے لوگوں کو دل کی پژمردگی اور بیماری کا اثر کسی طرح سے کم نہیں ہوا۔ 

روس میرن کا کہنا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ذریعے دلی صحت کا علاج حاصل کر نے والوں کویہ امید ہو تی ہے کہ اپنی تکلیف سے وہ چھوٹ ‏جائیں گے۔ یہی اس تحقیق کابہت اہم نکتہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تحقیق اس کے بعد آنے والی طبی دنیا کو بہت ہی فائدہ مندثابت ہو گا۔ 

آج کے زمانے میں دل کی پژمردگی ہی انسان کے لئے مہلک بیماری سمجھی جاتی ہے۔ شماریات کہتی ہیں کہ دنیا میں پچھتر فیصد لوگ اسی دل کی کشیدگی ‏ہی میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں ہو نے والی نوے فیصدسے زیادہ خود کشیاں اسی دل کی کشیدگی کی وجہ ہی سے واقع ہو تی ہیں۔اس کو ایک شماریات کہتی ‏ہے۔ 

اللہ پر جس طرح یقین رکھنا ہے ، اسی طرح اگر کوئی یقین رکھے تو اس کوذرہ بھر بھی دل کی کشیدگی پیدا ہی ہو نہیں سکتی، یہ محکم ہے۔اس لحاظ سے یہ ‏تحقیق اسلام کی سچائی کو ثابت کر نے والی ہے۔ 

 ‏476۔ انسان پر کس حد تک بھروسہ کر سکتے ہیں؟ 

‏اس آیت2:282 میں اللہ فرماتا ہے کہ کسی کو قرض دو تو اسے لکھ لیا کرو۔ 

لوگوں میں اکثریت دوسروں پر بے حد بھروسہ کر نے کی وجہ سے دھوکہ کھا تے ہیں۔ لیکن اسلام نے کسی پر سو فی صدبھروسہ کر نے کے لئے نہیں ‏کہا۔ 

ظاہری اعمال کو دیکھ کر یا جاننے والے سے پوچھ کر ایک شخص کے بارے میں دل کے حد تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ لیکن لین دین کے معاملے میں ‏اگر بھروسہ نہ ہوتو جس طرح چلنا چاہئے اس انداز سے سب لوگوں کے پاس بالکل احتیاط سے پیش آنا چاہئے۔ 

یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ 

یعنی دل ہی میں بھروسہ رکھیں۔ کاروائی میں ہر کسی سے ایسا پیش آنا چاہئے کہ جیسا کہ ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ 

قرض دو تو لکھ لیا کرو۔ قرآن بھی اسی بنیاد پر حکم دیتا ہے۔

کسی تحریری انداز میں یا کسی ضمانت کے بغیر چند اشخاص قرض مانگیں گے کہ کیا مجھ پر بھروسہ نہیں۔ اگر اس طرح کوئی پوچھیں تو ان کے دلوں کو ‏ٹھیس پہنچائے بغیرکس طرح جواب دیا جائے، اس کو بھی یہ آیت ہمیں سکھلا تا ہے۔ 

تم پر بھروسہ نہ رہنے کی وجہ سے میں تم سے تحریر نہیں مانگتا۔ بلکہ اللہ نے اس کو فرض کیاہے، اسی لئے میں تحریر مانگ رہا ہوں، اس طرح دل کو ‏ٹھیس پہنچائے بغیر لکھ کر لے لیں۔ 

اگر لکھ کر دینے کا موقع نہ ہو تو ضمانت کے طور پر کوئی چیز حاصل کر لیں، یہ بھی اسی بنیاد پر کہا گیا ہے۔ 

نبی کریمؐ نے ضمانت کے بارے میں کئی رہنمائی عطا کی ہے۔ایک شخص پر بھرپور بھروسہ ہو تو ضمانت کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ 

ایک یہودی کے پاس قرض لیتے وقت نبی کریم ؐ نے اپنی زرہ بکتر کو ضمانت رکھا تھا۔ نبی کریم ؐ نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کیا تم کو مجھ پر بھروسہ نہیں؟

نبی کریمؐ نے تعلیم دے چکے ہیں کہ اگر کوئی ایک چیز کو اپنا کہہ کر دعویٰ کر تا ہے تو اس کے لئے سند پیش کر نا چاہئے۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ‏کسی پر بھروسہ کر کے دھوکہ نہ کھانے کے لئے گواہوں کو تیار کرلینا چاہئے۔

اسلام رہنمائی کر تا ہے کہ مختلف معاملوں کے لئے معاہدہ کر لیا کریں۔منہ کے بول پر بھروسہ کر تے ہوئے دھوکہ نہ کھاجائیں ، اسی لئے تحریری ‏معاہدہ کر لیا کریں۔

اسلام کہتا ہے کہ اسی طرح کئی معاملوں کے لئے گواہوں کا انتظام کر لیا کرو۔اگر اسلام کی پائیداری یہ ہو تا کہ بھر پور بھروسہ رکھا جائے تو گواہوں ‏کی ضرورت ہی نہیں۔ 

اسلام جو کہتا ہے کہ پوری طرح سے دریافت کرلیں، وہ اسی وجہ سے ہے۔ 

اسلام کی اس نصیحت کو اگر دنیا کے لوگ ٹھیک طریقے سے اپنائیں تو دغا بازوں کو کام نہیں ہوگا اور دھوکاکھانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ 

اس کو نمازی سمجھ کر میں نے وہ دے دیا، یہ داڑھی رکھا ہے، اس بھروسہ پر میں نے دے دیا، یہ توحید والا ہے ، اس بھروسہ پرمیں نے دھوکہ ‏کھاگیا، اس کو میں نے رشتہ دار سمجھ کر بھروسہ کیا تھا ، اس نے مجھے دھوکہ دے دیا، اس طرح کہنے والی بیوقوفوں کی جماعت بڑھتے جا نے کی وجہ یہی ‏ہے کہ اسلام کی اس تعلیم کوانہوں نے جھٹلا دیا۔ کسی پر بھروسہ کر کے دھوکہ کھانا نہیں، اسمیں ہوشیاری سے رہنا ضروری ہے۔ 

‏475۔ روزہ رکھنا بہتر ہے

‏ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کے فرائض میں روزہ رکھنا بھی ایک فرض ہے۔ اس آیت 2:184 میں کہا گیا ہے کہ اگر تم جانو تو روزہ رکھنا تمہارے ‏لئے بہتر ہے۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ روزہ رکھنادین میں فرض ہی نہیں بلکہ تم جان سکتے ہو کہ روزہ رکھنا بہتر بھی ہے۔ آج کی طبی دنیا بھی اسے تسلیم کر تی ‏ہے۔ 

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جب بھوک لگتی ہے توکھاناہی صحتمندی ہے۔ بھوکے رہنا جسم کو کمزور کردیتی ہے۔ 

عام طور سے یہ ٹھیک رہنے کے باوجود روزے کے لئے یہ مناسب نہیں، اس طرح سائنسدانوں نے آج کہہ رہے ہیں۔ اس کو ذرا تفصیل سے ‏جانیں۔ 

ہم غذا کھانے کے بعد اس غذا میں سے ضروری طاقت کو جسم حاصل کر لیتا ہے۔ دوسرے وقت کی غذا کھا نے تک طاقت کی ضرورت رہنے سے ‏غذا سے حاصل ہو نے والی تیار شدہ گلوکوز کو ہمارا جسم جگر اور پٹھے میں جمع کرلیتا ہے۔ دوسرے وقت کی غذا کھا نے تک جگر اور پٹھے میں جمع کی گئی ‏گلوکوز کوطاقت کے لئے استعمال کر لیتی ہے۔ ایک وقت کا کھانا کھا نے سے آٹھ گھنٹے تک وہ طاقت کافی ہو تا ہے۔ 

جمع کی ہوئی قوت بخش طاقت آٹھ گھنٹے میں ختم ہو نے کے بعد بھی ہم بھوکے ہی رہیں تو جسم میں موجود چربی توانائی کی قوت کے لئے جلا دیا جاتا ہے۔ ‏یہ جسمانی صحت کے لئے بہت بہتر ہے۔ 

وہ چربی تمام ختم ہو نے کے بعد بھی دن سارا بھو کے ہی رہیں تو جسم کا سارا پروٹین توانائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ 

حالت بہت ہی خطرناک ہے۔ پروٹین استعمال کئے جانے سے جسم دبلا پتلا ہو کر آدمی ناتواں ہو جا تا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا روزہ ایسا نہیں ہوتا۔ 

جو دوسری بار کہا گیا ہے اسی حال میں روزہ ترکیب پائی ہے۔ یعنی آٹھ گھنٹے سے بڑھ کر اور ایک دن سے کم ہی مسلمانو ں کا روز ہ ترکیب پائی ہے۔ 

گلوکوزختم ہو کر توانائی کے لئے چربی استعمال کرنے کی وجہ سے جسمانی وزن کم ہو جا تا ہے۔ اس سے خون میں خراب چربی کی مقدار بھی کم ہوجا تی ‏ہے۔ پٹھیں حفاظت کی جاتی ہیں۔ اس وزن کی کمی خون کی دوران اور خون میں شکر کی بیماری وغیرہ کو ایک حد میں رکھنے کے لئے مدد کر تی ہے۔ ‏جسم کی چربی جب ختم ہو جا تی ہے تو اس کے ساتھ مل کر زہریلی چیزیں بھی جلائی جانے کی وجہ سے امریکی آکسفورڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ‏ہے کہ زہرکو مٹانے کا کام بھی چل رہا ہے۔ 

روزہ شروع ہو نے کے چند ہی دنوں میں خون میں زیادہ مقدار میں ‏endorphin‏ نامی کیمیائی چیزیں بڑھ جانے کی وجہ سے انسان بہت ہی شوق ‏اور اچھی دلی کیفیت سے رہنے کو مدد کر تا ہے۔ اس سے دماغی عملی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ 

امریکہ میں سائنسدانوں نے ایک تحقیق کی اور اس میں معلوم کیا گیا ہے کہ مسلمان جوروزہ رکھتے ہیں اس سے ملنے والی دل کی توجہ (‏brain ‎derived neurotrophic factor‏) دماغ سے آنے والی رگ کی ایک کیمیائی چیز کو بڑھاتی ہے۔ اس وجہ سے دماغ اور بھی زیادہ ‏دماغی خلیوں کو پیداکر کے اس کے ذریعے دماغ کی عملی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

A study carried out by scientists in the USA found that the mental focus ‎achieved during Ramadan increases the level of brain derived neurotrophic ‎factor, which causes the body to produce more than cells, thus improving ‎brain function‏. 

اسی طرح مسلمانوں کے روزے کے وقت جسم میں موجود گردے کے غدود رسنے والی کارٹسول (‏cortisol‏) نامی ہارمون کم ہوجا نے کی وجہ ‏سے دل کے دباؤ میں کمی ہوجاتی ہے۔ 

Likewise, a distinct reduction in the amount of the hormone cortisol, ‎produced by the adrenal gland means that stress levels are greatly reduced ‎both during and after Ramadan‏. 

اقوام متحدہ عرب کے نفسیاتی طب کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزہ رکھنے والے ایک مثبتانہ نتیجہ کو اپنی چربی کی مقدار سے حاصل ہو نے کو ‏محظوظ کرتے ہیں۔ یعنی خون میں جو چربی ہے اس کی مقدار کم ہوجا تی ہے۔ 

A team of cardiologists in th UAE found that people observing Ramadan ‎enjoy a positive effect on their lipid profile, which means there is a reduction ‎of cholesterol in the blood‏.

صرف خراب چربی ہی کم نہیں ہو تی بلکہ روحانی فکر سے اچھی چربی بڑھتی بھی ہے۔ اس سے دل کا خون کا دوران درست ہو تا ہے۔ دل کی بیماری ، ‏دل کا دورہ اور فالج وغیرہ پیدا ہو نا کم ہو جا تا ہے۔ رمضان کے بعد بھی صحتمندانہ کھانے کی عادت ڈال لیں تو کم چربی کی مقدار کو آسانی سے درست ‏کر سکتے ہیں۔

نیشنل انسٹٹیوٹ آف ایجنگ کے ادارے کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ہفتہ میں ایک یا دو دن کھانا کھائے بغیر رہنے سے بہت دن تک زندہ رہ ‏سکتے ہیں، اور دماغ میں پیدا ہو نے والی بڑھاپے کی الذیمر نامی نسیان کی بیماری ، پارکنسن کی بیماری اور دماغی گھٹاؤ وغیرہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ‏ہیں۔ 

کلوریوں کو کم کرلینے کے ذریعے دماغ میں موجود کیمیکل میسنجرس نامی کیمیائی خبریں ترغیب دلائی جا تی ہیں۔ 

The Daily Telegraph‏ نامی اخبار اس طرح کہتی ہے:

غذا ؤں کو کم کر کے کلوریوں کو سختی سے محدود رکھنا زندگی کے ایام کو بڑھاتی ہیں، اس تحقیق کو چوہے جیسے جانداروں کو رکھ کر آزمائے جانے کا عمل ‏کئی صدیوں کے پہلے ہی انکشاف کیا گیاتھا۔ پھر بھی یہ نتیجہ انسان کے اندر بھی موجود رہنے کی توقع تھی، اس کو صرف قیاسی طور پرمانا گیا تھا۔اس ‏اصول کو انسان کے معاملے میں عملی طور سے اور تحقیقی انداز سے بھی تصدیق نہیں کیا گیاتھا۔ مگر اب اس کو محققین نے عملی طریقے سے بھی ثابت ‏کر دئے ہیں۔ 

نیورو سائنس کی تحقیقاتی ادارے کے صدرپروفیسر مارک ماٹسن اس طرح کہتے ہیں:

‏’’کلوریوں کو کم کر نے کے ذریعے تمہارے دماغ کوتم مدد کر سکتے ہو۔ دماغ کی کئی بیماریوں کو روک سکتے ہو۔ لیکن مسلسل بھوکے رہنے سے یہ ‏بھلائی تمہارے دماغ کونہیں مل سکتی۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کا روزہ یعنی پوری طرح سے کھانا چھوڑدینا ، پھر جو ہمیں چاہئے اس کو ہماری ضرورت ‏پوری ہو نے تک کھانا، اس اصول کے ذریعے ہی وہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ ‘‘

یہ تحقیق صرف مسلمانوں کے روزے کو مناسب ہے۔ 

دوسرے مذہبوں کے روزے میں یہ کیفیت نہیں ہے۔ دوسروں کے روزے بہت لمبے وقفے کا نہیں ہوتا۔ وہ لوگ ٹھوس غذاؤں سے پرہیز ‏کرتے ہیں اور سیال چیزوں کو کھاجاتے ہیں۔اس کے ذریعے معمول کلوریاں مل جا تی ہیں۔

بعض روزوں میں کہا گیا ہے کہ جو پکایا جاتا ہے اس سے پرہیز کریں اورپھل وغیرہ کھا سکتے ہیں۔ اس سے بھی وہ فائدے حاصل نہیں کر سکتے۔ اور ‏بعض روزوں میں کہا جاتا ہے کہ گوشت خوری نہ کریں ، وہی کافی ہے۔ اس سے اس تحقیق کا فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔ 

مسلمانوں کے روزوں میں گوشت خوری ہو یا سبزیاں، ٹھوس چیزیں ہوں یا سیال، کسی بھی چیز کو کھانا نہیں چاہئے۔ یہاں تک کہ پانی بھی نہ پینا ‏چاہئے۔ مزید یہ کہ وہ لمبے وقفے کا روزہ بھی ہے۔ اس لئے اس تحقیق کے فائدے کو وہ پوری طرح سے حاصل کر سکتے ہیں۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ روزے کو دین کے لئے فرض کیا گیا ہے، اور اس کو بہتر کہاگیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اس کوتم جان سکتے ہو۔ اس سے ثابت ہو ‏تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

‏474۔شہد کی مکھیوں کا راستہ جاننے کی صلاحیت

‏اس16:68 آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھیوں کو الہام کیا کہ تیرے رب کی راہوں میںآسانی سے جاؤ۔

آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ راستوں کو جاننے میں شہد کی مکھیاں خصوصیت رکھتے ہیں۔

اس کے بارے میں برٹش کے رائل ہالووے یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق اختیار کی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے کہا: 

شہد کی مکھیاں شہد کی تلاش میں بہت دور تک جاتی ہیں۔ وہ بہت زیادہ مختصر راستہ اختیار کر تی ہیں۔ اس کے لئے کمپیوٹر کی مدد سے مصنوعی پھول کے ‏ذریعے شہد کی مکھیوں کی راہ سفر کو جانچا گیا۔ اس میں شہد کی مکھیاں بالکل مختصر وقت میں الگ الگ پھولوں کی طرف جا نے کے لئے بہت زیادہ مختصر ‏راستے استعمال کر تے ہوئے دیکھا۔

فروخت کر نے والا جانے کے لئے کمپیوٹرنے جو راستے بنا یا تھا اس سے زیادہ وہ راستے تھے۔ اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ کمپیوٹر کی عقل ‏سے زیادہ ایک چھوٹی سی شہد کی مکھی کی عقل بڑھی ہوئی ہے۔ 

یہ سائنسدانوں کا کہنا ہے۔ 

راستوں کو جاننے کی صلاحیت شہد کی مکھیوں کو ہے۔ اس حقیقت کو پہلے ہی قرآن مجید کہہ دینے کی وجہ سے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ‏ہے۔ 

آسانی سے راستے کو معلوم کرنا صرف مختصر راستہ ہی نہیں بلکہ ٹھیک راستہ معلوم کر نے سے ہی وہ آسان راستہ ہو گا۔

ایک پھول میں یا پھل میں اپنے لئے غذا ہے یا نہیں اس کی بو سونگھ کر جان لینا ہی راستہ آسان کہلائے گا۔ ہر پھول کے پاس 

جاکر دھوکا کھا نے سے راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ‏

آج کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی سونگھنے کی طاقت بہت ہی دقیق انداز کی ہے۔ 

یورپ کے ملک قروشیہ اور سربیا کے درمیان جب جنگ چھڑی تو بے شمار بارودی سرنگ کو ملک سربیا نے قروشیہ کے اندر دفن کر رکھا تھا۔ جنگ ‏ختم ہونے کے بعد بھی بارودی سرنگ جہاں جہاں دفن کیا گیا تھا ان جگہوں پر پاؤں رکھنے سے لوگ دھماکے سے اڑ جایا کرتے تھے۔ اس لئے اس ‏بارودی سرنگ کو تلاش کرنے کے لئے کیا شہد کی مکھیوں کی سونگھنے کی طاقت کو استعمال کیاجاسکتا ہے ؟ جاکرب یونیورسٹی کے زراعتی محکمہ کے ‏پروفیسر نکولہ کوسک نے اس تحقیق میں اترے۔

اس نے پہلے یہ دریافت کی کہ شہد کی مکھیاں ان کی غذا کتنی بھی دوری میں ہواس کو سونگھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ 

بارود میں جو ٹی ین ٹی کی بو ہے اس کو میٹھے چیز کے ساتھ ملا کر شہد کی مکھیوں کے چھت کے قریب رکھا گیا۔ اس طرح میٹھے چیز کو تلاش کرتے ہوئے ‏آنے والی شہد کی مکھیوں کوٹی ین ٹی کی بو عادت پڑ گئی۔ اس طرح عادت سے معمور ہو نے والی شہد کی مکھیاں جہاں بھی ٹی ین ٹی کی خوشبو ہواس کو اپنی ‏غذا سمجھ نے کی حد تک مشق دیا گیا۔

اس طرح شہد کی مکھیوں کو عادت ڈالنے کے بعد ٹی ین ٹی ملا ہوا میٹھاچیز اور ٹی ین ٹی کے بغیر میٹھا چیز اس کے چھت کے قریب رکھا گیا ۔ شہد کی ‏مکھیوں نے ٹی ین ٹی کے ساتھ ملے ہوئے میٹھے چیز کو پہچان کر اس پر ہی بیٹھنے لگے۔ 

اس کے بعد ایک جگہ پر رکھے گئے میٹھے چیز کے درمیان میں ٹی ین ٹی ملایا گیااور اس کے اطراف ٹی ین ٹی ملایا نہیں گیا۔جب شہد کی مکھیوں نے ٹی ین ‏ٹی ملے ہوئے درمیانی حصہ میں ہی بیٹھنے لگے۔ 

جبلی طور پر بارود کی بو کی طرف شہد کی مکھیاں جاتی نہیں۔ اگر اس کو مشق دیا جائے کہ وہی اس کی غذا ہے تو وہ اس کی تلاش میں جانے لگ جائے گی۔ 

اس طرح سکھلائے گئے شہد کی مکھیوں کے قریب مٹی کے اندر بارود کو دفن کر کے رکھیں تووہ اس جگہ پر بیٹھ کر بھنبھنا نے لگتی ہیں۔ اس کے ‏ذریعے اس جگہ پر سرنگی بارود کو تفتیش کیا جا سکتاہے، یہی اس تحقیق کا انجام ہے۔ 

اس کے بارے میں پروفیسرنکولہ کوسک کہتے ہیں: ہم کو یقین ہے کہ اس تفتیش سے بارود ی سرنگ تلاش کرنے میں فائدہ مندثابت ہو گا۔ اگر یہ ‏سائنسی طریقے سے کامیاب ہو گا توجہاں بارودی سرنگ کا شک ہے ان حصوں میں شہد کی مکھیوں کی کارروائی کو زیر سرخ شعاعوں کے ذریعے ‏نگرانی کر کے ان بارودی سرنگ کو نکال باہر کر سکتے ہیں۔ 

کتا اورچوہے کے ذریعے بھی بارودی سرنگ کو انکشاف کر سکتے ہیں، اس کے باوجود ان کے جسمانی وزن کی وجہ سے وہ پھٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ ‏لیکن شہد کی مکھی کے لحاظ سے وہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ شہد کی مکھیوں کے ذریعے بارودی بم معلوم کر نے کی تحقیق امریکہ میں کیا گیا تھا۔ 

آج مختلف تفتیش کے ذریعے اسے معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن چودہ سو سال کے پہلے ہی اس کو جاننے والاکہ شہد کی مکھیوں کے پاس وہ صلاحیت ہے، وہ ‏صرف اللہ ہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کلام ہے۔

More Articles …