Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‎97‎۔ تورات میں یہودیوں کی چال

‏یہود نے اپنی کتاب میں جو چال چلی تھی اس کو اللہ نے ان آیتوں (3:93، 5:15) میں سناتا ہے۔ 

تورات یہودیوں کی کتاب ہے۔ وہ ھیبرو زبان میں تھی۔ اس زمانے کے یہود بھی اس کو مکمل طور سے جانے نہیں تھے۔صرف یہود کے پنڈت ہی ‏اس کو جان رکھے تھے۔ اپنے کو فائدہ پہنچانے والی باتوں ہی کو وہ لوگوں کو سناتے تھے اور باقی باتوں کو وہ چھپا دیتے تھے۔ 

ایسی حالت میں وہ جو کہتے ہیں کہ ہماری کتاب میں ہے ، ان میں سے کئی باتیں ان کی کتاب میں نہیں ہوگی، جب وہ کہتے ہیں کہ ہماری کتاب میں نہیں ‏ہے تو ان میں سے کئی باتیں ان کی کتاب میں ہوگی، اسی لئے اللہ نے نبی کریم ؐ کو للکارنے کو کہا۔

نبی کریم ؐ جوعربی زبان ہی میں لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے تھے انہیں ھبر زبان میں موجود تورات کی آیتوں کو دکھا کر ، اس میں فلاں فلاں غلطی ہے ‏کہہ کر خود ہی للکار نہیں سکتے۔ اللہ جو سب کچھ جاننے والا ہے، جو کچھ انہیں سکھایا تھا اسی بنا پر وہ بول سکتے تھے۔ اس لئے یہ للکارنا اس کی دلیل ہے کہ ‏یہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قدیم عہد نامہ ہی تورات ہے۔ وہ غلط ہے۔ اسے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 491دیکھئے!

‏96۔ کیا سب اللہ کے مطیع ہیں؟ 

‏ان آیتوں(3:83، 13:15، 41:11) میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں سب خوشی سے اور ناخوشی سے اسی کے تابع ہیں۔ 

یہاں ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ جب انسانوں اور جنوں میں اکثر اللہ کے نافرمان ہیں توایسا کیوں کہا گیا ہے کہ سب اس کے تابع ہیں؟ 

اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ تابع ہونا اس جگہ میں کس معانی میں استعمال کیا گیا ہے تو وہ شبہ دور ہوجائے گا۔ 

ہر چیزکو اللہ نے ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ مخصوص کام کوپورا کرے۔اس کامطلب ہے کہ وہ اس کام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

انسان کا ہر عضووہی کا م کر رہا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ 

انسان کی غذا کے طورپر چند جانداروں کو اللہ نے پیدا کیاہے۔ وہ جاندار جان کھونے کے لئے راضی نہ ہونے کے باوجود اللہ جس مقصد کے لئے پیدا ‏کیا ہے اس کو پورا کر نے کے لئے وہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ 

چوبیس گھنٹے بھی لگاتار حرکت میں رہنے والے عضو انسانوں کے اندر موجود ہیں۔ اس کے لئے جو کام مخصوص کیا گیاتھا وہ تکلیف دہ رہنے کے باوجود ‏اس کام کو وہ کر تے آرہے ہیں۔ 

اسی فرمانبرداری کو یہ آیت کہتی ہے۔عبادت و بندگی کو یہ آیت نہیں کہتی۔ 

کیونکہ یہ آیتیں 5:32، 5:49، 7:179، 22:18، 57:16 کہتی ہیں کہ اللہ کی عبادت نہ کر نے والے کروڈوں انسان اور جنات موجود ‏ہیں۔

اس لئے ان آیتوں کو یہ معنی کر نہیں سکتے کہ سب کچھ اللہ کی بندگی کرتے ہیں

‏95۔ نبیوں سے لیا گیا عہد

اس (3:81) آیت میں نبیوں سے لئے گئے عہد کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اور آیت نمبر 33:7 میں بھی کہا گیا ہے۔ 

وہ عہد کیا ہے، اس میں دو رائے پائے جاتے ہیں۔ 

اکثر علماء کہتے ہیں کہ وہ عہد یہی ہے کہ’’نبی کریمؐ آخری نبی بن کر آئیں گے، جب وہ آئیں گے تو سب لوگ ان پر ایمان لائیں اور انہیں مدد کریں۔‘‘

اس آیت میں ایسی کوئی رائے پائی نہیں جاتی کہ اللہ نے نبیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ نبی کریم ؐآخری نبی بن کر آئیں گے تو ان پر ایمان لائیں۔ اکثر علماء جو ‏کہتے ہیں اس کو، اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ان لوگوں کی خاص رائے ہے۔ 

یہ آیت کیا کہتی ہے اس کو، اس آیت میں استعمال شدہ جملوں سے ہی ہم معلوم کر سکتے ہیں۔ 

نبیوں سے عہد لینے کی بات کو یہ آیت عام طور سے کہتی ہے۔ اس میں نبی کریم ؐ ہی نہیں بلکہ سب نبی شامل ہیں۔ 

اس معاہدے میں نبی کریم ؐ بھی شامل ہونے کی وجہ سے ان کی آمد کے بارے میںیہ آیت کوئی پیشنگوئی نہیں ہو سکتی۔ 

اللہ نے یہ نہیں کہا کہ تمہارے سوا دوسرے نبیوں سے عہد لیا۔ اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ دوسرے نبیوں کو بھی ملاکر ‏لئے گئے معاہدہ ہی کو یہ کہتی ہے۔ 

اسی آیت سے ہم واضح طور پر جان سکتے ہیں کہ کیا معاہدہ لیا گیا تھا۔

وہ معاہدہ یہی ہے کہ تمہیں کتاب اور حکمت دینے کے بعد اور ایک رسول تمہارے پاس آئے تو تم ان پر ایمان لانا اور مدد کر نا چاہئے۔

اگر یہ کہا ہوتا کہ تمہارے بعد ایک رسول آئے توہم سمجھ سکتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں آنے والے ایک رسول کے بارے میں یہ پیشنگوئی ہے۔ 

تمہارے بعد کہنے کے بجائے اس آیت میں کہا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ایک نبی کی زندگی ہی میں ان کے پاس ایک اور رسول ‏آنے کے بارے ہی میں یہ جملہ کہتا ہے۔

اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ ’’تمہیں ہم نے نبی مقرر کردیا۔ یہ تمہاری لیاقت یا محنت سے ملی نہیں بلکہ ہم ہی نے تمہیں عطا کی ہے۔ہم نے ‏تمہیں نبی بنادیا، اس لئے ایسا نہ سمجھ لینا کہ تمہاری قابلیت میں کچھ خامی واقع نہیں ہوگی۔تمہارے ہی زمانے میں اگر ہم تمہارے پاس ایک اور نبی ‏بھیجیں توتم فوراً ان پر ایمان لا نا چاہئے اور انہیں مددپہنچانا چاہئے۔ اسی شرط کی بنا پر تمہیں یہ حیثیت عطا کی جاتی ہے۔‘‘

اس آیت کی ترکیب ہی اس بات کو ثابت کرتی ہے۔ 

اگراس کو نبی کریمؐ کے بارے میں پیشنگوئی سمجھو تو ایسا ہو جائے گا کہ نبیوں نے عہد کو پورا نہیں کیا۔ 

معاہدے کا شرط ہی یہ ہے کہ ’’ان پر ایمان لانا اور انہیں مدد پہچانا۔‘‘نبی کریم ؐ جب دنیا میں آئے تو اس وقت دنیا میں کوئی نبی نہیں تھے۔اورنبی ‏کریم ؐکو مدد بھی نہیں کئے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ علماء کا قول قطعی غلط ہے۔ 

نبی کی حیثیت انسان کی محنت یا لیاقت کے لئے نہیں دی جاتی۔ وہ فضل الٰہی سے عطا کی جاتی ہے۔ دوسروں کو اگر میں عطا کروں تو اس کو بھی پابند رہنا ‏ہے، اسی شرط کی بنا پر اس کو میں عطا کر تا ہوں، یہی معاہدہ ہے۔ 

‏1۔ اگر وہ تمہارے پاس آئے

‏2۔ ان پر تم ایمان لانا چاہئے

‏3۔ انہیں تم مدد کر نا چاہئے

اسی کو یہ جملے واضح کرتی ہیں۔

آیت نمبر 36:14 کہتی ہے کہ ایک نبی کو بھیجنے کے بعد ان کی حمایت کے لئے اور بعض کو اللہ نے بھیجا ہے ،اس طرح بھیجے گئے رسولوں کو پہلے بھیجے ‏ہوئے رسولوں نے قبول فرمالیا۔ 

اس آیت میں جو نہیں کہا گیا اس رائے کواکثر علماء نے قیاس کے ذریعے کہہ دینے کی وجہ سے بعض گمراہوں نے اس آیت کو اپنی گمراہی کے لئے ‏دلیل پیش کرتے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد اپنے آپ کونبی بتانے والے سارے کذاب اس آیت کو ان کے بارے میں پیشنگوئی کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دئے بغیر ‏نہیں رہے۔ 

اپنے آپ کو نبی کہہ کر جھوٹا دعویٰ کر نے والوں نے کہا ہے کہ’’ نبی کریم ؐ اور دیگر تمام نبیوں کے پاس اس کے بعد آنے والے نبی کے بارے میں ‏اللہ نے جوپیشنگوئی کی ہے وہ نبی میں ہی ہوں۔‘‘

ایسا کہنے کے بجائے کہ ’’تمہارے بعد ایک نبی اگر آئے‘‘اس آیت میں ’’جاء کم ، یعنی تمہارے پاس ایک نبی آئے ‘‘ کہا گیا ہے۔ اس کو وہ کذاب ‏لوگ الٹ پھیرکر تے ہیں۔ 

جب اس آیت کی براہ راست معنی یہ ہے کہ ایک نبی کی زندگی میں اس کے پاس ایک اور نبی بھیجا گیا تو اس پر ایما ن لا نا چاہئے، تو وہ کیسے پیشنگوئی ‏ہوسکتی ہے؟ 

یہی سچ ہے کہ نبی کریم ؐ کی آمد کے بارے میں بھی یہ آیت پیشنگوئی نہیں کی، اور کسی کے بارے میں بھی پیشنگوئی نہیں کی۔

‏94۔ مباہلہ نامی حلف نامہ کے لئے للکارنا

‏آیت نمبر 3:61 میں اسلام کے خلاف عقیدے والوں کو حلف نامہ کے لئے بلانے کو نبی کریم ؐ کو حکم دیا گیا ہے۔ 

جب ایک شخص ایک عقیدے کی تبلیغ کر تا ہے تو اس عقیدے میں اس کو مکمل بھروسہ ہونا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ایک ہی معبود ہے۔ اور یقینی طور پر کہا کہ اللہ کاکوئی بیٹا نہیں ہے اور عیسیٰ نبی اللہ کے بیٹے نہیں۔

عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں، یہ دعویٰ کر نے والوں کے عقیدے میں جتنا بھروسہ تھا کہیں اس سے زیادہ بھروسہ ، اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والے نبی ‏کریم ؐکو اپنے عقیدے میں تھا۔

اسی لئے انہیں للکارنے کے لئے یہ آیت حکم دیتی ہے کہ میں میری بیوی بچوں کے ساتھ آتا ہوں، تم تمہاری بیوی بچوں کے ساتھ آؤ، دونوں میں جو ‏غلط عقیدہ رکھتے ہوں ،ان پر اللہ کی لعنت کو دونوں مل کر دعا کریں گے۔ 

اس بنا پر نبی کریم ؐ نے پکارا۔ اس للکار کو اس زمانے کے عیسائیوں میں سے کوئی بھی نہیں مانا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ نبی کریم ؐ کو اپنے عقیدے ‏پرکتنا مضبوط یقین تھا۔ 

مباہلہ نامی حلف نامہ کے بارے میں اورزیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 449 دیکھئے!

 ‏93۔ کیا عیسیٰ نبی زندہ ہی اٹھالئے گئے؟ 

‏اس آیت (3:55) میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی کوقبض کر کے اللہ نے ا ٹھالیا۔ 

ہم نے یہاں’’ قبض کر کے‘‘جوترجمہ کیا ہے ، عربی متن میں ’’متوفیک‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی معنی ہے کہ قبض کر نا اور وفات دینا۔ 

اس طرح دو طریقوں سے معنی دینا لغات میں اجازت رہنے کے باوجود اس آیت میں قبض کرنے کی معنی ہی ٹھیک ہے۔ 

آیت نمبر 5:116-118 میں قبض کرنے کی لفظ استعمال ہوئی ہے۔اس آیت کو ہم نے حاشیہ نمبر 151 میں تشریح کی ہے۔ اس لئے اس آیت ‏کی تفصیل جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 151دیکھئے!

‏(کیا عیسیٰ نبی وفات پاگئے یا اوپر اٹھا لئے جانے کے بعد آخر زمانے میں پھر واپس آکر وفات پائیں گے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 101، ‏‏133، 134، 151، 278، 342، 456 وغیرہ دیکھئے!)

 ‏92۔ کیا مسیح عربی لفظ ہے؟ 

‏ان آیتوں میں 3:45، 4:157، 4:171,172، 5:17، 5:72، 5:75، 9:30,31 عیسیٰ نبی کو مسیح کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ 

جیسے عیسیٰ ان کا اصلی نام ہے اسی طرح مسیح بھی ان کا اصلی نام ہے۔ یہ ان کی صفت کو کہنے والی نام نہیں ہے۔ عربی زبان میں مسیح کا مطلب سہلائے ‏ہوئے رہنے کے باوجود اس مطلب سے یہ لفظ ان جگہوں پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ 

قرآن کی آیت 3:45 میں عیسیٰ نبی کے بارے میں کہتے وقت اللہ نے ان کا نام مسیح،عیسیٰ کہاہے۔ یعنی اللہ کہتا ہے کہ مسیح اور عیسیٰ انہیں کا نام ہے ‏۔ اسلئے ضرور وہ رعربی زبان کالفظ نہیں ہوسکتا۔

اس کی معانی بھی کرنا نہیں چاہئے۔ عیسیٰ کو جیسے کسی معانی کے بغیر ان کا نام سا استعمال کر تے ہیں اسی طرح مسیح کو بھی استعمال کر نا چاہئے۔ 

یہو دو نصاریٰ کی کتابوں میں بھی مسیح کے لفظ کو قریبی لفظ مسحیہ ہی عیسیٰ نبی کے واسطے ذکر کیا گیا ہے۔ 

اسی طرح نبی کریمؐ دجال کے بارے میں ذکر کرتے وقت مسیح دجال کہا ہے۔ اس کو بھی یہاں دجال کا نام سا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ 

عربی زبان میں مسیح کا لفظ رہنے کے باوجود عیسیٰ اور دجال کے معاملے میں اس لفظ کو نام سا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ مسیح کے عربی لفظ کے معانی میں ‏استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ 

‏91۔ غیر مسلموں سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہئے؟ ‏

قرآن کی ان آیتوں میں (2:221، 60:10)کہا گیا ہے کہ مشرک عورتیں ایمان لانے تک ان سے شادی نہ کرو۔ 

بعض لوگوں کو اس میں مذہبی تعصب دکھائی دے گا۔ تھوڑی غور سے اگر سوچا جائے تو ہم جان سکتے ہیں کہ نوع انسانی کے فائدے کے لئے ہی یہ ‏حکم نافذ کیا گیا ہے۔ 

کسی بھی غیر اسلامی مذہب کو دوسری مذہب سے موازنہ اگر کریں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور کم اختلافات پائے جاتے ‏ہیں۔

لیکن دین اسلام کو کسی بھی مذہب سے موازنہ کرو تو اختلافات زیادہ اور اتفاقات بہت کم ہوں گے۔ 

اس طرح بہت زیادہ عقیدے کی اختلافات والا اسلام اور۔ غیر مسلم اگر نکاح کے ذریعے شریک ہوں تو اس شرکت میں دلی آسودگی نہیں ہوگی، ‏اور اس کا نبھانا بھی مشکل ہوگا۔ 

اللہ کے انکار کا عقیدہ رکھنے والے اپنے گھر کی لڑکی کو اللہ پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ نکاح نہیں کریں گے۔دانشمند لوگ اس کو مثبت عقیدے کا ‏نام دیں گے ، لیکن اس کو بغض و نفرت نہیں کہیں گے۔ 

اسلام کہتا ہے کہ دنیا میں ایک ہی اللہ ہے، اس کو بیوی بچے گھر دار اور دیگر کمزوریاں کچھ بھی نہیں ۔ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اگر اس عقیدے کے ‏خلاف چلوگے تو آخرت میں سخت سزا ہوگی۔اس عقیدے میں رہنے والے اس کے خلاف چلنے والوں سے نکاح کریں توان کے درمیان اتفاق ‏رائے اور رضامندی نہیں ہوسکتی۔ 

شادی کا مفہوم ہے کہ جتنا ہو سکے ہر طرح کے خوشی سے گزرنے والی ایک زندگی ہے۔ زوجین میں عقیدے کے متعلق اگر گوئی بڑی اختلاف ہو تو ‏ان کی ازدواجی زندگی جہنم بن جائے گی۔

بہت سے معبودوں کی عقیدہ رکھنے والے کے ساتھا اک ہی معبود کا دعوا کرنے والے اوردوسرے معبودوں کا انکار کرنے والے کے ساتھ آخر تک ‏نبھا نہیں ہو سکتی۔

اسی طرح ایک ہی معبود کے عقیدت مند مسلمان ، معبود ہی نہیں کہنے والے خاندان سے شادی کے تعلقات نہیں رکھ سکتا۔ اگر ایسا رکھ بھی لے تو ‏وہ بہترزندگی نہیں ہوسکتی۔ 

زیادہ پابندی چاہنے والے اور پابندی کی ضرورت نہیں کہنے والوں کے درمیان جو لطیف فرق ہے اسکو ہم جان لینا چاہئے۔ 

پابندی کی ضرورت نہیں کہنے والے کسی سے بھی نباہ سکتے ہیں۔ پابندی سے رہنے والے اس کے لئے راضی نہیں ہوں گے۔ 

ایک شخص ہر قسم کی غذا کھانے والا ہے۔ فرض کرو کہ وہ کسی قسم کی پابندی نہیں رکھتا۔ وہ ساگ پات کی غذا بھی کھا سکتا ہے اورماس مچھلی بھی کھا ‏سکتا ہے۔ 

لیکن ماس مچھلی نہ کھانے کی پابندی میں رہنے والے ساگ پات کے ہوٹل ہی میں کھا سکتے ہیں۔ 

اسی طرح کئی معبودوں کا عقیدہ رکھنے والا جس رب پر مسلمان ایمان رکھتا ہے اس کو قبول کر نے سے اس کو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اس عقیدے پر ‏کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہوسکتا ، وہ مسلمان دوسرے معبودکو قبول نہیں کر سکتا۔ 

اسکے علاوہ بچوں کو کس طرح پالا جائے ، جائداد کو کس طرح تقسیم کیا جائے ، ان معاملوں میں وہ زوجین متفرق ہوجائیں گے۔ 

کئی معبودوں کو ماننے والا ،اس کو غلطی مان کر ،ایک ہی رب ہو سکتا ہے کہہ کر، اگر اسلام قبول کرلیا تو وہ کسی بھی ذات میں پیدا ہواہو ، کسی بھی ‏خاندان سے منسلک ہو تو اس وقت انہیں مسلمان نکاح کر سکتا ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اسلام میں ذات پات کی بنیاد پر کوئی ناگواری نہیں۔ 

مسلمان غیر مسلموں سے شادی نہ کرنا اسی عقیدے کی تعلق سے ہے۔ پیدائشی وجہ سے جو اونچ نیچ ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے۔

اسلام ایک عقیدے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لئے اس عقیدے کو ماننے والے کے ساتھ شادی کر سکتے ہیں۔ جو نہیں ماننے والے ہیں ان سے شادی ‏نہیں کر سکتے، اس بات کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ 

‏‏90۔ عیسیٰ نبی اللہ کا کلام کہنے کا کیا مطلب ہے؟ ‏

ان آیتوں 3:39، 3:45، 4:171 میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی کلمۃ اللہ ہیں۔ 

اور آیت نمبر 4:171، 15:29، 21:91، 66:12وغیرہ میں کہا گیا ہے عیسیٰ نبی اللہ کی روح ہیں۔ 

ان جیسے لفظوں کے استعمال کو غلط انداز سے سمجھ کربعض عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ نبی اللہ کے بیٹے ہیں۔ اور اعلان کر تے ہیں کہ قرآن بھی اس کو مانتا ‏ہے۔

یہ آیتیں 2:116، 4:171، 10:68، 17:111، 18:4، 18:4، 19:35، 19:88-93، 21:26، 23:91، 25:2، ‏‏37:149-153، 39:4، 43:81کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی یا کوئی اور اللہ کے بیٹے نہیں ہو سکتے ۔

پھر کیوں عیسیٰ نبی کو اللہ کی روح کہا گیا ہے؟

عام طور پر ایک انسان پیدا ہو نے کے لئے عورت کا مادہ تخم اور مردکا نطفہ چاہئے۔ لیکن عیسیٰ نبی مرد کے نطفہ کے بغیر اللہ کے حکم سے پیدا ‏ہوئے۔اس لئے انہیں قرآن کلمۃ اللہ کہا ہے۔

آسمان ، زمین اور دیگر بے حساب تخلیقات صرف کن کے حکم کے ذریعے وجود میں آئیں۔ اس سے وہ سب اللہ کے بیٹے نہیں ہوسکتے۔ 

عیسیٰ نبی کواللہ کی روح کہنے کی وجہ سے انہیں اللہ کا بیٹا نہیں کہہ سکتے۔ 

میرا ہاتھ کہتے ہیں، میرا قلم کہتے ہیں۔دونوں میں میرا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن دونوں مقام میں الگ الگ معانی میں استعمال کیاہوا ہے۔ 

مجھ میں ایک حصہ کے معانی میں میرا ہاتھ استعمال ہوا ہے۔ 

میرا قلم بولتے وقت مجھ میں ایک حصہ کے معانی میں بولا نہیں جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ میرا ایک عضوہے، اس طرح قلم میرا ‏ایک عضو نہیں ہے۔

میرا قلم کہنے کا مطلب ہے کہ قلم میری ملکیت ہے۔ 

اسی طرح میری روح کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ عیسیٰ نبی میری روح کا مطلب ہے کہ میری ذاتی روح ہے۔ عقل مند لوگ یہی سمجھیں گے کہ میں ‏میرے حکم سے ایجاد کی ہوئی روح ہے۔ 

اس لئے اللہ کی روح کا مطلب ہو گا کہ اس کی ذاتی روح ہے۔ اس کے ایک حصہ کی روح مطلب نہیں ہے۔ 

آیت نمبر 15:29، 38:72 میں قرآن نے آدم ؑ کو اللہ کی روح کہا ہے۔ اس سے کوئی عیسائی نہیں کہتا کہ آدم ؑ اللہ کا بیٹا ہے۔ 

آدم ؑ کے بارے میں اللہ کی روح جب کہاجاتا ہے تو ہم اس کو جس طرح سمجھتے ہیں اسی طرح عیسیٰ نبی کے بارے میں اللہ کی روح کہے جانے کوبھی ‏سمجھ لینا چاہئے۔ 

اس کابھی خیال رہے کہ آیت نمبر 3:59 میں قرآن مجید واضح طور پر اعلان کر تا ہے کہ آدم کو پیدا کرنا اور عیسیٰ کو پیدا کرنا دونوں ایک جیسا ہے۔

ذومعنی الفاظ کو کس طرح سمجھنا چاہئے ، اس کو تفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 86 دیکھئے!

More Articles …