Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏105۔ کتاب کے ساتھ صحیفے بھی دئے گئے اللہ کے رسول

‏یہ آیتیں 3:184، 16:44، 35:25 کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول تین چیزوں کو لائے ہیں۔ 

‏* انہیں اللہ کے رسول ثابت کر نے کے لئے مناسب اور واضح دلیلیں۔ (یعنی معجزات)

‏* صحیفے

‏* روشن کتاب

ان تینوں کو اللہ کے رسول لے آئے۔ 

غور کر نے کی بات ہے ، ایسا کیوں کہا گیا تھاکہ اللہ کے رسولوں نے صرف کتاب ہی نہیں بلکہ صحیفے بھی لے آئے؟

اس کے سوا اس کا کوئی اور معنی نہیں ہوسکتا کہ صرف کتاب ہی نہیں،بلکہ وہ کتاب کی وضاحت کے صحیفے بھی لے آئے۔صرف قرآن ہی نہیں، اس ‏کی وضاحت بھی اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ہے، اس کی دلیلوں میں سے یہ آیت بھی ایک ہے۔ 

قرآنی احکام کی پیروی کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کر نا چاہئے، اس کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، ‏‏39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 125، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، 258، 286، ‏‏318، 350، 352، 358، 430 وغیرہ دیکھئے!  

‏104۔ اللہ کا دیا ہوا غیبی علم‏

ان آیتوں (3:179، 72:26-27) میں کہا جاتا ہے کہ غیبی باتیں اللہ نے اپنے پیغمبروں کو سکھلائے گا۔ ان آیتوں کو ٹھیک طور سے نہ سمجھنے ‏والے ان آیتوں کوکہ پیغمبر تمام غیبی باتیں جانتے ہیں ، دلیل کے طور پر پیش کر کے حجت کر رہے ہیں۔ 

اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ غیبی علم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ فرشتوں کو، نبیوں کے ساتھ ا نسانوں کو یا جنوں کو غیبی علم نہیں ہے۔ 

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ 6:59، 10:20، 27:65۔ 31:34، 34:3، 2:30-32، 16:77، 34:14، 5:109، 2:36، 7:20، ‏‏7:22، 7:27، 20:115، 20:120,121، 11:31، 11:42، 11:46,47، 9:114، 11:69,70، 15:53، ‏‏15:54، 37:104، 51:26، 5:116، 5:117، 11:77، 11:81، 15:62، 27:20، 27:22، 12:11-15، ‏‏12:66، 38:22-24، 7:150، 20:67، 20:86، 28:15، 3:44، 4:164، 6:50، 6:58، 7:187، 7:188، ‏‏11:49، 12:102، 33:63، 42:17، 79:42,43صرف اللہ ہی کو غیبی علم ہے اور انبیااور فرشتوں میں کسی کو غیبی علم نہیں ہے۔ 

صرف ان دو آیتوں (3:179، 72:42,43) میں کہا گیا ہے کہ غیبی علم اللہ اپنے پیغمبروں کو سکھلائے گا۔ 

یہ دونوں آیتیں کیا کہتی ہیں؟ 

آیت نمبر 3:179 میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو غیبی علم سکھلائے گا، یہ عام نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں منافق لوگ مسلمانوں ہی کی سی شکل بدل کر مسلمانوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ 

ان جیسے منافقوں کے بارے میں نبی کریم ؐ کو ظاہر کر دینے کے متعلق ہی یہ آیت3:179 کہتی ہے۔ اس آیت کی ابتدا میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں ‏اور منافقوں کو ایک ساتھ ملے جلے رہنے کو اللہ چھوڑے گا نہیں۔ اس کے بعد ہی رسولوں کو غیبی باتیں سکھلانے کے بارے میں اللہ کہتا ہے۔ 

اسی طرح آیت نمبر 72:26-27 میں یہ نہیں کہا گیا کہ سب غیبی باتوں کو رسولوں کو سکھلائے گا۔ بلکہ ایمان لانے والی آخرت، جنت اور دوزخ ‏جیسے غیبی باتوں کے بارے میں رسولوں کو اطلاع کرنے ہی کو یہ آیتیں کہتی ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے انہیں آیتوں میں کافی دلیلیں موجود ہیں۔ 

ان آیتوں میں اللہ کہتا ہے کہ جو خبریں انہیں دی گئی ہیں کیا اس کو رسولوں نے لوگوں کو پہنچایا ہے؟ اس پر نگہبانی کے لئے نگہباں فرشتوں کو مسلسل ‏بھیجا جارہا ہے۔ 

اس آیت کا مطلب ہے کہ ایمان رکھنے والی غیبی باتیں رسولوں کوسکھلا کر اس کو وہ لوگوں تک پہنچائیں گے۔ 

نبی کریم ؐ کو اللہ نے جو غیبی باتیں سکھلایا، وہ تمام باتیں ان سے لوگوں تک پہنچا دیا گیا۔ اللہ اس طرح کہنے کی وجہ ہی سے کہ لوگوں تک پہنچانے کے ‏لئے ہی اس کوسکھلایا، انہیں سکھلائے ہوئے غیبی باتوں میں سے ایک بھی وہ لوگ پہنچائے بغیر نہیں رہے۔

اس لئے آخرت، جنت، دوزخ اور قبر کی زندگی ،جیسے مسلمان ایمان لانے والی غیبی خبروں کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے اپنے رسولوں کو اللہ نے جو ‏سکھلایا اس کے سوااللہ جو جانتا ہے ان سب خبریں رسولوں کو نہیں سکھلائے گا۔ 

نبی کریم ؐ کو اللہ نے جو سکھلایا ان غیبی باتوں کو کچھ بھی بڑھائے یا گھٹائے بغیر اسی طرح ہم تک پہنچاکر چلے جانے کی وجہ سے انہیں جو معلوم ہے وہ ‏سب غیبی خبریں ہماری بھی معلومات میں ہو گئیں۔  

یہ باتیں ان آیتوں کے اندر شامل ہونے کے باوجود ایک ایسی معانی کو لا کر ٹھونستے ہیں جو اس میں نہیں ہے ۔ ان کی اس دعوے کو ان آیتوں میں ‏کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

اس کے سوا دوسری کوئی غیبی باتیں کسی کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی نہیں جاتی۔ 

درگاہ پرستوں کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، ‏‏100، 121،122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

‏103۔ ایک سے ایک ملے ہوئے منافق‏

یہ آیت (3:179) کہتی ہے کہ منافق لوگ بہت جلدظاہر کئے جائیں گے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر منافق لوگ دھوکہ دے رہے تھے۔ اس لئے سچے مسلمان کون ہیں، جھوٹے کون ہیں ، اس کو نہ ‏جانتے ہوئے دونوں فریق ملے ہوئے تھے۔ 

تناتنی کے اس عالم میں میدان جنگ کو جانے کے لئے حکم دے کرسچے مسلمانوں کو نشانی دکھانے کی وجہ سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ مناسب سبب ‏کے بغیر جو جنگ میں شرکت کئے بنا پیچھے رہ جانے والے سچے مسلمان نہیں ہیں۔ اسی کو یہ آیت (3:179) ظاہر کرتی ہے۔ 

حاشیہ نمبر 104 بھی دیکھئے۔  

‏102۔ چھوٹے غم سے رہائی کے لئے بڑا غم

‏یہ آیت 3:153بہت خوبصورت انداز سے کہتی ہے کہ دل برداشتہ ہونے والوں کو کس طرح تسلی دیں۔

جنگ احد میں مسلموں کو ناکامی کے ساتھ جانی نقصان اور زخم بھی بہت زیادہ پیش آیا۔ اس سے مسلمان پژمردہ ہو کر تھکے ہوئے حالت میں اس سے ‏بڑے غم کا سامنا کرنا پڑا یعنی یہ خبرکہ نبی کریم ؐ مارے گئے۔ 

انہیں پیش آنے والا غم اس وجہ سے غائب ہوگیا۔ انہیں اس وقت یہی ایک فکر تھی کہ نبی کریمؐ مارے گئے۔ 

اس فکر کو دور کر نے والی ایک اور خبر یعنی نبی کریمؐ زندہ ہیں، سنتے ہی صحابیوں کے درمیان پھر سے جوش امنڈ آیا۔پھر انہوں نے فتح پائی۔ 

آج دریافت کیاچکا ہے کہ نفسیاتی طور پر اس طرح کی کارروائی ہی سے غموں کو بھلایا جاسکتاہے۔

اس کوتحقیق کر نے سے کئی سالوں پہلے ہی قرآن (3:153) اس طریقے کو اپناتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’تمہاری ناکامی کے لئے اوراس لئے کہ تم ‏تکلیف سے دوچار ہو نے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں ، اس سے بڑھ کر ایک غم کو اس نے تم پر انعام کردیا۔‘‘

یہ ثابت کر تا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے۔

فکر میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو اور دل کی بیماری میں مبتلا ہو نے والوں کو صحتیاب بنانے کے لئے اس سے زیادہ بڑے صدمے کو قیاس کر کے ان پر ‏مسلط کر دینا چاہئے۔ اس طرح بڑے صدمے کو مسلط کر نے کے ساتھ پہلے جو چھوٹاصدمہ تھا سب غائب ہوجائیگا۔ صرف بڑا صدمہ ہی پورے دل ‏کو گھیر لے گا۔ اس قیاسی صدمے کو اتنا سمجھادیا جائے کہ وہ صرف قیاس تھا تو سب صدموں سے وہ چھوٹ جائیں گے۔ 

نفسیاتی ماہر استعمال کرنے کے اس طریقے کو وجہ کے ساتھ یہ آیت تشریح کرتی ہے۔ 

نیند جو دیا گیا ہے اس کواور زیادہ فائدہ مند بنایاگیا ہے، یہ بات اس کے بعد کی آیت میں قرآن کہتا ہے۔ 

ایک بڑے صدمے کو پہنچا کر ، نیند بھی دے کر، پھر اس جھوٹے بڑے صدمے کو نکال دیں تو سب قسم کے صدمے دور ہوجائیں گے۔ 

بیسویں صدی میں بہت بڑی تحقیقات کے بعددریافت کئے گئے اس طریقے کوچودہ سو سال کے پہلے بسنے والے نبی کریم ؐ نے کہا ہے تو بے شک یہ ‏اللہ ہی کی طر ف سے کہی گئی خبر ہوگی۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے ، اس کے لئے یہ بھی ایک سند ہے۔   

‏101۔ پہلے کئی گزرگئے کا مطلب کیا ہے؟

‏نبی کریم ؐ دنیا کے مسلموں کے لئے ایک ہی سرداراور رہنما ہیں۔لیکن یہ آیت 3:144 زور دیتی ہے کہ آپ صرف اللہ کے رسول ہیں، معبود ‏نہیں۔ 

یہ آیت یہ بھی کہتی ہے کہ اگر نبی کریم ؐ وفات پاگئے تو مسلمان الٹے پاؤں پھرجانا نہیں بلکہ للہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اللہ کے انعامات کا ‏انتظار کر تے ہوئے اس دین مین رہنا چاہئے، اس کے سوا محمد ؐ کے لئے اس دین میں نہ رہیں۔ 

ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ یہ آیت اسی رائے کو سنانے کے لئے نازل کی گئی ہے۔ 

تاہم یہ ارادہ رکھنے والے کہ عیسیٰ نبی وفات پاگئے ، وہ لوگ اس آیت کو اپنے مقصد کے لئے دلیل ثابت کر تے ہیں۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کے پہلے کئی رسول گزرچکے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کے پہلے بھیجے ہوئے رسول وفات پاگئے۔وہ لوگ ‏دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میںیہ بات بھی موجود ہے کہ عیسیٰ نبی بھی وفات پاگئے۔ 

وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے آنے والے رسولوں کی موت کو مثالی طور پر بتا کراللہ نے اس آیت میں نبی کریم ؐ بھی وفات پانے والے ہیں، کہنے کی ‏وجہ سے یہ مطلب اور زیادہ مستحکم ہوجا تا ہے۔ 

نبی کریمؐ نے جب وفات پائی تو اکثر اصحاب رسول نے ان کی وفات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس وقت ابوبکرؓ ہی نے اس آیت کو بتاکر صحابیوں کو راہ ‏راست پر لایا۔ 

یہ واقعہ بخاری(1242، 3670، 4454) اور کئی حدیث کی کتابوں میں جگہ پائی ہے۔ ان حدیثوں کو بھی وہ لوگ اپنے دعوے کو ثابت کر ‏نے کے لئے استعمال کر تے ہیں۔ 

وہ لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ اگر عیسیٰ نبی وفات نہ پائے ہوتے تو ابوبکرؓ کی دعوے کواصحاب رسول نہ مانے ہوتے۔وہ لوگ یہ سوال اٹھائے ہوں گے ‏جیساکہ عیسیٰ نبی نے وفات نہیں پائی اسی طرح نبی کریمؐ نے بھی وفات نہیں پائی۔

اگر سطحی طور پر دیکھا جائے توحقیقت میں اس طرح حجت کر نے کے مناسبت سے یہ آیت ترکیب پائی ہے۔لیکن جس طریقے سے قرآن کوسمجھنا ‏ہے ، اس طریقے سے اگر استعمال کیا جائے تو ہمیں معلوم ہو جا ئے گا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ ایک معاملے کے مطلق صرف ایک ہی آیت ‏کو دیکھ کر فیصلہ کرنا قرآن مجید کو سمجھنے کا طریقہ نہیں ہے۔ 

ہمیں ڈھونڈ نکالنا چاہئے کہ کیا اس کے بارے میں دوسری آیتوں میں اور زیادہ وضاحت ہے، کچھ استثناء ہے؟اس کے متعلق جو کہا گیا ہے ان سب کو ‏جمع کر کے ایک فیصلے کو آنا ہی قرآن مجید کو سمجھنے کا ٹھیک طریقہ ہوگا۔ 

ایک آیت میں عام کہا ہوگا، اور دوسری آیتوں میں اس کے لئے استثناء ہوگا۔ یہی قرآن کی ایک مخصوص انداز ہے۔ 

مثال کے طور پر انسان ایک منی کے قطرے سے پیدا کیا گیا ہے کہنے سے اس میں ہر انسان داخل ہے۔ لیکن دوسری آیتوں میں پہلا انسان مٹی سے ‏پیدا کیا گیا ہے کہنے کی وجہ سے ہمیں معلوم ہوجا تا ہے کہ اس سے آدم ؑ کو استثناء ہے۔ 

اسی طرح دوسری آیت میں کہا گیا ہے کہ آدم کی زوجہ آدم سے پیدا کی گئی ہے، اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ انہیں بھی اس میں استثناء ہے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ عیسیٰ نبی بغیر باپ کے پیدا ہوئے، اس لئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس میں استثناء ہے۔ 

اسی طرح ’’محمد کے پہلے کئی رسول گزر چکے‘‘ کے اس جملے میں عیسیٰ نبی بھی شامل ہونے کے باوجود ہمیں غور کر نا چاہئے کہ دوسری آیتوں میں ‏عیسیٰ نبی کو استثناء دی گئی ہے۔ 

آیت نمبر 43:61 میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی روزِقیامت کی نشانی ہیں۔ 

دنیا مٹنے کے دن کی اگر عیسیٰ نبی نشانی ہیں تو انہوں نے ابھی تک وفات نہیں پائی ہے، اس کے سوا اس کو دوسرا کیا معانی ہوسکتا ہے! اس آیت کی ‏تشریح کے لئے حاشیہ نمبر 342 دیکھئے!

آیت نمبر 4:159 کہتی ہے کہ عیسیٰ نبی وفات پانے سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ 

عیسیٰ نبی اگر وفات پائے ہوتے تو ایسا کہا نہیں جا سکتا کہ ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ اس آیت کی تفصیل حاشیہ نمبر 134میں کی گئی ‏ہے۔

یہ دونوں آیتیں کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی ابھی وفات پائے نہیں . 

اس لئے ان دونوں آیتیں، ’’ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ‘‘ کے ساتھ ’’عیسیٰ نبی کے علاوہ دوسرے رسول ان سے پہلے وفات پاچکے‘‘کو ملا کر ‏ہی فیصلہ کر نا چاہئے۔ 

اس طرح فیصلہ کر تے وقت ہم کسی آیت کو انکار نہیں کرتے۔ سب آیتیں مل کر جو رائے دیتی ہیں ہم اسی رائے کو لیتے ہیں۔ 

جیسا کہ یہ آیت کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کے پہلے کئی رسول گزچکے ، اسی طرح عیسیٰ نبی کے بارے میں بھی آیت نمبر 5:75 میں یہ جملہ استعمال کیا گیا ‏ہے۔ وہ آیت یہی ہے: 

مریم کے بیٹے مسیح (عیسیٰ) ایک رسول کے سوا کچھ نہیں۔ ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے۔ ان کی ماں راست باز تھیں۔ وہ دونوں کھانا کھانے ‏والے تھے۔غور کروکہ ہم کس طرح دلیلیں واضح کر تے ہیں۔ اور اس پر بھی غور کرو کہ پھر وہ کس طرح رخ موڑ دئے جاتے ہیں۔ (5:75)

نبی کریم ؐ کے بارے میں جس طرح کہا گیا کہ ان کے پہلے کئی رسول گزر چکے، اسی طرح اس 5:75 آیت میں بھی کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی کے پہلے کئی ‏رسول گزر چکے ۔اس آیت پر اگر غور کرو تو صاف طور پر دکھتا ہے کہ عیسیٰ نبی وفات نہیں پائے۔ 

فرض کرو کہ عیسیٰ نبی دوسرے انسانوں کی طرح وفات پاگئے۔ اگر اس کے بارے میں کہنا ہو تو یہی کہنا چاہئے کہ وہ وفات پاگئے۔ ایسا کہہ نہیں سکتے ‏کہ ان سے پہلے کئی وفات پا چکے۔ لیکن قرآن اس طرح کہنے کے بجائے ایسا کہتا ہے کہ ان سے پہلے والے وفات پا چکے۔ 

اس طرح کہنے سے کہ ان سے پہلے کئی وفات پاچکے، سب لوگ ایسا ہی سمجھیں گے کہ اس میں یہی معانی مضمر ہے ،وہ ابھی تک زندہ ہیں۔ 

جب یہ آیت نازل ہوئی کہ محمد کے پہلے رسول گزر چکے ، تو ہم سمجھ جائیں گے کہ محمد ؐ زندہ تھے۔ 

اسی طر ح جب یہ آیت نازل ہوئی کہ عیسیٰ کے پہلے رسول گزرچکے تو ہم کو یہی سمجھنا چاہئے کہ عیسیٰ نبی زندہ تھے۔ 

ایک ہی طرح سے قرار پائے ہوئے دونوں جگہوں میں ناموافق معانی دینا قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ 

اور عیسیٰ نبی کے بارے میں مندرجہ بالا آیت کس مقصد سے نازل کیا گیا ہے؟ وہ اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی کو معبود ماننے والوں کا انکار کر ‏یں۔انہیں یہ کہہ کر کہ وہ اور ان کی ماں کھانا کھانے والے تھے ، اللہ انکارکرتا ہے کہ انہیں الٰہی صفت نہیں تھی۔

وہ دونوں کھانا کھانے والے تھے ، یہ بھی ایک دلیل ہے کہ عیسیٰ نبی کوکوئی الٰہی صفت نہیں ہے ، اس کے باوجود عیسیٰ نبی اگر مرگئے ہو تے تو وہی اس ‏سے زیادہ زور دار دلیل ثابت ہوتا۔ وہ کھانا کھاتے تھے کہہ کر الٰہی صفت کو انکار کر نے سے زیادہ وہ مرگئے کہنا ہی زوردار انکار ہو تا۔ 

اس طرح کہنا کہ ’’عیسیٰ ایک رسول ہو نے کے با وجود مرگئے‘‘ ، تووہی ٹھیک جواب ہوتا۔ 

اس رائے کو کہ مرے ہوئے انسان کو کیسے معبود سمجھ سکتے ہیں، یہی آیت مضبوطی سے کہتی ہے۔ 

اگر عیسیٰ نبی وفات پاگئے ہو تے تواس کو کہنے کامقام یہی ہے۔ عیسیٰ نبی کو معبود ماننے والوں کو منع کرنے والی اس جگہ پر اللہ نے جو جملہ استعما ل کیا ‏ہے، اس پر ذرا غور کریں۔ 

اللہ کہتا ہے کہ عیسیٰ ایک رسول ہی ہے، ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے۔ 

اللہ حکمت والا ہے، باریک بین ہے۔ نامناسب لفظوں کو استعمال کر نے سے پاک ہے۔ عیسیٰ نبی اگر وفات پاگئے ہو تے تواس کے مخالف معانی ‏دینے والے انداز سے اللہ نے اس طرح کہا نہیں ہوگا۔ 

جب وہی مرگئے ہوں تو اسے کہے بغیرکیا کوئی عقلمند ایسا کہہ سکتا ہے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ مرگئے ۔ 

ان سے پہلے کئی رسول گزرگئے کہہ کراوراس وجہ کو بتا کر کہ جب وہ زندہ تھے کھانا کھانے والے تھے ، اللہ نے ان کی صفت الٰہی کا انکار کردیا۔ اگر وہ ‏مرگئے ہو تے تو ان کی اس موت کو مسبب بنا کر اللہ نے ان کی اس صفت الٰہی کا انکار کیا ہوگا۔ 

وہ لوگ جس آیت کو دلیل بنائے تھے کہ عیسیٰ نبی کا وفات ہو گیا، وہی آیت ثابت کرتی ہے کہ عیسیٰ نبی وفات نہیں پائے۔ 

نبی کریمؐ نے جب وفات پائی تو اصحاب رسول نے جس طرح عمل کیا اس کو دلیل بتانا ٹھیک نہیں ہے۔ 

عیسیٰ نبی آخری زمانے میں آئیں گے ، اس معانی کے کئی احادیث اصحاب رسول ہی نے کہا ہے۔ ہم نے پہلے جو ذکر کیا تھا آیت نمبر 43:61 اور ‏‏4:159 ان دونوں آیتوں کو بھی اصحاب رسول اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ عیسیٰ نبی کی موت واقع نہیں ہوئی ‏ہے۔ 

ان لوگوں کا خیال تھا کہ نبی کریم ؐ کو بھی اس طرح کا استثناء ہوگا، اسی لئے ان لوگوں نے یہ بحث کی کہ نبی کریم ؐ نے وفات نہیں پائی۔ ابوبکرؓ کے ‏دعوے کے ذریعے جب یہ معلوم پڑا کہ نبی کریمؐ کو کوئی استثناء نہیں ہے تو وہ اپنی حالت کوبدل ڈالا۔ 

جو استثناء سب لوگوں کوعام طور سے معلوم ہے، اس کوکوئی دلیل بناکر پیش نہیں کر ے گا۔ 

اس لئے اس آیت (3:144)میں عیسیٰ نبی کی موت کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے۔ اسی طرح ترکیب پانے والی آیت نمبر 5:75بھی اس ‏استثناء کو کہتی ہے کہ عیسیٰ نبی وفات نہیں پائے ، یہی ٹھیک ہے۔ 

کیا عیسیٰ نبی وفات پاگئے یا اوپر اٹھاکر آخری زمانے میں اتر کر آنے کے بعد وفات پائیں گے؟ اس بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 93، ‏‏133، 134، 151، 278، 342، 456 دیکھیں۔   

‏100۔ اختیارات میں نبی کریم ؐ کو بھی حصہ نہیں

اسلام میں توحید کے عقیدے کو بلند آواز سے کہنے والی آیتوں میں آیت نمبر 3:128 بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ 

جنگ احد کے موقع پر یہ آیت نازل کی گئی۔ اس جنگ میں نبی کریم ؐ کے دانت ٹوٹ گئے اور جبڑا بھی زخمی ہوگیا۔ آپ کے چہرے سے خون بھی بہنے ‏لگا۔ 

نبی کریم ؐ نے درد نہ سنبھالتے ہوئے کہا کہ ’’اپنے نبی کے چہرے میں خون کا رنگ لگانے والے کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟‘‘ اس وقت ہی یہ آیت ( ‏‏3:128 )نازل کی گئی کہ’’اختیار میں تمہارا کوئی حصہ نہیں!‘‘ (مسلم: 3667)

ناقابل برداشت تکلیف جب ہو تی ہے تو انسان اس جیسے جملے سنا دیا کر تے ہیں۔ اور لعنت بھی بھیج دیا کر تے ہیں کہ تم آگے بڑھوگے ہی ‏نہیں۔آیت نمبر 4:148 کہتی ہے کہ مظلوم کی زبان سے اس طرح کی بات اگر نکل جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔

لیکن اللہ کے رسول اس طرح کہیں تو اس کا مطلب یہ ہو جائے گا کہ ایک شخص کو کامیاب دلانے اور ناکام بنانے کا اختیار ان کے پاس ہے۔ اسی لئے ‏جب آپ نے تکلیف نہ سنبھالتے ہوئے جو کہاکہ مجھے خون کا رنگ دینے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ تو اس پر اللہ نے تاکید فرمائی۔

یہ آیت اس انداز سے کہی گئی ہے کہ اگر میں چاہوں تو تم پر حملہ کر نے والوں کوبھی کامیابی دے سکتا ہوںیا انہیں معاف بھی کر سکتا ہوں ۔ میرے ‏اختیارات میں دخل دینے والے تم کون ہو؟ 

نبی کریم ؐ ایسا نہیں سمجھیں گے کہ اللہ کا اختیار انہیں ہے، پھر بھی نبی کریم ؐ کا ایسا الفاظ بھی اللہ کو غصہ دلاتا ہے۔ ایسی حالت میں جنہیں ہم بزرگ اور ‏معزز سمجھتے ہیں انہیں کیسے اختیارات ہو سکتا ہے؟ 

اس آیت پر اگر غور کریں تو زندہ رہنے والوں اور مرے ہوئے لوگوں اور دیگر چیزوں کو پرستش کر نے والے اور ان سے دعا مانگنے والے سمجھ جائیں ‏گے کہ وہ کیسے غلط عقیدے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 

اس میں ایک اور اہم بات بھی ہے۔ نبی کریم ؐ اگر اللہ کے رسول نہ ہوتے اور وہ خود قرآن مجید قیاس کیا ہو تا تو اللہ کی طرف سے سرزنش کر نے والی ‏اور خود کی قدر کم کر نے والی آیت کو قیاس نہیں کئے ہوں گے۔

اتنی تکلیفوں کی حالت میں جنگ کے میدان میں جب دشمنوں کے ہاتھ بلند تھے ، اس وقت کوئی بھی اس طرح قیاس نہیں کر سکتا۔اس لئے یہ اس ‏کی دلیل ہے کہ یہ اللہ ہی کلام ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ 

درگاہ پرستوں کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، ‏‏104، 121، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

 ‏99۔ اسرائیلوں پرمسلط کی گئی محتاجی

‏یہ آیتیں 2:61، 3:112، 5:14، 5:64، 7:167 یہودیوں کو عطا ہونے والی حیثیتیں یا ذلت کے بارے میں کہتی ہیں۔ 

آیت نمبر 3:112 کہتی ہے کہ ان پر محتاجی مسلط کی گئی۔

بعض لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ آج یہود کی خوشحالی دیکھ کرمعلوم ہو تا ہے کہ حالات وہ نہیں ہیں جویہ آیتیں کہتی ہیں۔اس کے لئے اسی آیت میں ‏جواب موجود ہے۔ 

وہ جواب یہ ہے کہ دوسروں سے معاہدے کر کے اپنے کومحفوظ کر تے وقت یہ حالات انہیں پیدا نہیں ہوگی۔ 

ہٹلر کے ذریعے مارے جانے تک یہود یوں کو ذلت ہی رہی۔ مسلمانوں سے، بعد میں عیسائیوں سے اور پھر نازیوں سے بہت زیادہ ذلتوں کا سامنا کرنا ‏پڑا۔ 

ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ’’عیسیٰ غلط طریقے سے پیدا ہوئے۔ ‘‘عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا ماننے والے برطانیہ سے معاہدہ کر نے کے ذریعے اور اس کے بعد ‏امریکہ کی تعاون کے ذریعے ہی انہیں غیر محتاجی کا حال پیدا ہوا۔ 

اس لحاظ سے وہ اعلان ہر گز غلط ثابت نہ ہوا۔ 

ان آیتوں 5:14، 5:64 میں کہا گیا ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی ڈال دیا گیا ہے۔ اس میں بھی بعض لوگ شبہ ‏کر سکتے ہیں۔ 

آج یہود و نصاریٰ کے درمیان اتفاق اور اچھے تعلقات چل رہا ہے۔ قرآن تو اس کے برخلاف کہہ رہا ہے۔ 

ان آیتوں میں دنیا تباہ ہو نے تک ان کے درمیان دشمنی قائم رہے گی ،کہنے کے باوجود میں آیت نمبر 3:112 میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ لوگ ‏جودوسروں سے معاہدہ کر یں گے ، اس سے وہ ذلت سے بچ جائیں گے۔ اس لئے ان کے درمیان جو دشمنی نہیں پائی جاتی وہ قرآن کی اطلاع کے ‏خلاف نہ سمجھیں۔ 

‏98۔ کیا اتفاق نامی رسی ہے؟ ‏

اس آیت (3:103) کہا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو سب مل کر مظبوطی سے پکڑو۔ 

اس آیت کو’’اتفاق نامی رسی کو مظبوطی سے پکڑلو‘‘ کے معانی دے کر طویل عرصے سے اردو زبان میں اس آیت کو غلط معانی دے کر استعمال کیا ‏جارہاہے۔ 

اس بنا پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ سماج میں کسی طرح کی بھی برائی چھا جائے تواس کو دکھلانے سے اگراتحاد پراثر پڑے گا تو اتحاد ہی کو اہمیت دینا چاہئے۔

ان کے اس دعوے کو اس آیت میں ذرہ بھر جگہ نہیں ہے۔ 

ایک بستی میں سب لوگ فلم دیکھتے ہیں، اور جہیز لیتے ہیں توان سب سے سب مل کراتفاق سے وہ گناہ کر تے آئیں؟ ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا ‏کہ اس طرح اللہ کہہ سکتا ہے؟

یہ آیت صرف یہی کہتی ہے کہ اللہ کی رسی کو سب مل کر پکڑو۔اللہ کی رسی کا مطلب ہے کہ قرآن مجید اور سنت رسول ۔ سب لوگ مل کر قرآن اور ‏سنت رسول کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

قرآن میں اور حدیثوں میں جو کچھ ہے اس کو بولنے سے اتفاق بگڑ جاتا ہے ، اس لئے اس کو نہ کہو ، اس طرح ان لوگوں نے بالکل برعکس تشریح کی ہے ‏۔

اللہ کی رسی کو جب ہم پکڑتے ہیں ، اگر کوئی اس کو پکڑنے کے لئے آگے نہ بڑھیں تو بھی ہم گرفت کو نہ چھوڑیں۔ انہیں بھی پکڑنے کے لئے بلانا ہی ‏ہمارا فرض ہوگا۔ 

اتحاد کادعویٰ انسانی نسل کو مٹانے والا زہریلا کیڑا ہے۔ نافرمان اور فرمانبرداروں کو ایک ساتھ کھڑا کر نے کا یہ دعویٰ ہی تمام برائی کا جڑ ہے۔ 

اگر کہا گیا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اس سے اتفاق نہیں بگڑے گا۔ اگر کہو کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کر وتو اس وقت اتفاق بگڑ سکتا ہے۔ لیکن ‏اسلام اتفاق کے برخلاف اس منفی بنیاد پر ہی اپنا عقیدہ قائم رکھا ہے۔ 

بت پرست کے پاس کہو کہ بتوں کی پوجا نہ کرو ، درگاہ پرست کے پاس کہو کہ درگاہ کی عبادت نہ کرو، انسان کی عبادت کرنے والوں سے کہو کہ انسان ‏کی بندگی نہ کرو تو فوراً اتفاق بگڑجائے گا۔ پھر بھی اسلام کہتا ہے کہ اسی طرح کہو۔

قرآن کہتا ہے کہ برائی روکنا چاہئے۔ یقینی طور پر یہ اتحاد کو بگاڑ دے گا۔ 

قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ برائی کی مدد نہ کرو۔ یہ بھی اتحاد میں خرابی پیدا کر دے گا۔ 

قرآن کہتا ہے کہ رشتہ داری سے زیادہ عقیدے کو اہمیت دو۔ یہ بھی اتحاد کے خلاف ہے۔ 

سب لوگ مل کر پینے سے، سب لوگ مل کر اتفاق سے جہیز لینے سے، سب لوگ مل کر بے ایمانی کر نے سے زیادہ، برے لوگوں سے نیک لوگوں ‏کوجدا کر کے اچھے لوگ اور برے لوگ یقیناً برابر نہیں ہوسکتے، اس کو اعلان کر نے کیلئے ہی اللہ نے اسلام عطا کیا ہے۔

جو برائی کے خلاف مقابلہ نہیں کرسکتے اور ہر بات کے لئے جھک جانے والے ہی اتحاد نامی اس باطل فلسفہ کو ایجاد کیا ۔

اتحاد کادعویٰ جو اسلام کے خلاف ہے، اس زہریلے کیڑے کو مٹانے سے ہی سماج ٹھیک ہو سکتا ہے۔ 

More Articles …