Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏113۔ بدلی ہوئی زناکاری کی سزا

‏آیت نمبر 4:15 کہتی ہے کہ زناکاری میں مبتلا عورتیں مرنے تک انہیں گھر کے اندر ہی بند رکھو، یہاں تک ہی یہ قانون چلے گا کہ اللہ ان کے لئے ‏کوئی راہ دکھائے۔ 

پھر آیت نمبر 24:2 میں اللہ نے دوسری راہ دکھائی۔ 

بدکاری کر نے والے عورتوں ہی کو نہیں بلکہ مر د وں کو بھی سزا دینی چاہئے۔ عصمت کی پارسائی دونوں صنف کے لئے عام ہے۔ اس لئے زنا کر نے ‏والے مرد ہوں یا عورت دونوں ہی کے لئے برابری کی سزا دینے کے لئے آیت نمبر 24:2 میں کہا گیا ہے۔ یہ آیت نازل ہونے کے ساتھ یہ ‏قانون بدل دیا گیا۔  

‏112۔ زناکاری کے الزام کو چار گواہ

‏ان آیتوں میں (4:15، 24:4، 24:13) کہا گیا ہے کہ عورتوں کی عصمت کے خلاف چار گواہ ہونا چاہئے ،اسی وقت اس کو سزا دے سکتے ‏ہیں۔ 

عورتوں کی عصمت اور ان کے اخلاق کے خلاف آنے والی افواہ ،اور عور ت اور مرد کے تعلقات کے بارے میں آنے والی خبروں کو لوگ بڑی پسند ‏سے سن کر ان پر بھروسہ بھی کرتے ہیں۔ 

‏’’ہو بھی سکتا ہے‘‘ کہہ کر اس کی تائید بھی کر تے ہیں۔اس کے ذریعے ایک عورت کا مستقبل ہی برباد ہو جا تا ہے ، اس کے بارے میں کوئی فکر ‏نہیں کرتا۔ ان کی بیٹی یا بہن کے بارے میں اس طرح اگر کوئی کہے تو کیا اس سے وہ محظوظ ہوں گے؟

خبروں کی میڈیا بھی عورتوں کے خلاق کے بارے میں کچھ سوچے سمجھے سنسنی خیز خبریں پھیلا دیتے ہیں۔ 

لیکن صرف اسلام ہی عورتوں کی عصمت اور اخلاق کے بارے میں بہتان لگانے کو بالکل سخت جرم قرار دیتا ہے۔ اسلام اس پر زور بھی دیتا ہے کہ ‏ایک عورت پر عصمت دری کا الزام لگائے تو کم از کم چار گواہ ہونا چاہئے۔ 

چار گواہوں کے بنا عورتوں کی عصمت کے خلاف اگر کوئی الزام لگائے ، اور ان کا کہنا سچا بھی ہو تو، یہ آیت (24:4) کہتی کہ الزام لگا نے والوں کو ‏‏80 کوڑوں کی سزا دی جائے۔ 

ایک عورت کی بری چلن کو اگر تین مرد بھی دیکھیں اور وہ اس کو پھیلا دیں تو وہ بھی بہتان ہی سمجھا جائے گا۔ انہیں اسی کوڑے مارنا ہی چاہئے۔ چار ‏گواہ اگر براہ راست دیکھ لیں تو اسی وقت وہ قابل قبول ہو گا۔ 

عورتوں کے بارے میں افواہ پھیلانے والوں کے خلاف دنیا بھرمیں کسی بھی ملک میں اس طرح کا سخت قانون نہیں ہوسکتا۔ اس سے ہم اچھی طرح ‏جان سکتے ہیں کہ عورتوں کی شرم و حیا اور عزت کی حفاظت کے لئے اسلام کس قدر فکر کرتا ہے۔   

‏111۔ مزاحمت نہ ہونے والا تقسیم 

‏اسلام کی قانون وراثت میں کسی کو چھ میں ایک حصہ، کسی کو تین میں ایک حصہ، کسی کو چار میں ایک حصہ، کسی کو دو میں ایک حصہ، کسی کو آٹھ میں ‏ایک حصہ، کسی کو تین میں دو حصہ ، اس بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔ 

اکثر موقعوں پر اس طرح تقسیم کر دینا ممکن ہو نے کے باوجود چند موقعوں پر اس طرح تقسیم کرنا ناممکن ہو جا تا ہے۔ 

جائداد سے حصے کی مقدار اگر زیادہ ہوتو اس وقت ہر ایک کو ملنے والے حصے میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ حصوں سے جائداد کی مقدار اگر زیادہ ہو تو اس ‏وقت ملنے والے حصہ سے ہر ایک کو زیادہ ملنے کی نوبت آسکتی ہے۔ 

اس کو چند مثالوں سے ہم سمجھ سکتے ہیں۔

ایک روٹی ہے۔

اس کو یوسف نامی ایک شخص کو چار میں سے ایک حصہ

عمر نامی ایک شخص کو آٹھ میں سے ایک حصہ

خالد نامی ایک شخص کو آٹھ میں سے تین حصہ

عباس نامی ایک شخص کو دو میں سے ایک حصہ 

اس طرح دینے کو ہم کہتے ہیں۔جیسا ہم کہتے ہیں اس طرح کیا سب کو دے سکتے ہیں؟ 

آٹھ میں سے ایک اور آٹھ میں سے دو اگر تقسیم کر نا ہو تو روٹی کو آٹھ ٹکڑے کر نا پڑے گا۔ 

اس میں چار میں سے ایک، روٹی کے ڈو ٹکڑے ہیں۔

اس میںآٹھ میں سے ایک ، روٹی کا ایک ٹکڑا ہے۔

اس میں آٹھ میں سے تین ، روٹی کے تین ٹکڑے ہیں۔ 

اس میں دو میں سے ایک، روٹی کے چار ٹکڑے ہیں۔ 

سب ملا کر جمع کر و تو کل دس ٹکرے ہو تے ہیں۔ یہاں جو ہے وہ صرف آٹھ ٹکڑے ہی ہیں۔ 

مندرجہ بالا چار اشخاص کو بھی اوپر درج شدہ حساب کے مطابق تقسیم نہ کر نے کی نوبت پیدا ہو تی ہے۔ 

ان سب کو ملے ہوئے ٹکڑوں کی تعداد ایسے ہی قبول کر تے ہوئے روٹی کو آٹھ ٹکڑے کر نے کے بجائے اگر دس ٹکڑے کیا جائے تو سب کو یکساں ‏انداز میں اثر ہوگا۔ یعنی روٹی کوآٹھ ٹکڑے کر نے کے بجائے دس ٹکڑے بناکر یوسف کو دو، عمر کو ایک، خالد کو تین اور عباس کو چار کے حساب سے ‏تقسیم کر یں تو بغیر کچھ بچے چاروں کوروٹی بانٹ کر دے سکتے ہیں۔ 

لیکن یوسف کو آٹھ حصے رکھ کر اس میں دو ملنے کے بجائے دس حصے رکھ کر اس میں دو ملتے ہیں۔ اس سے اس کو بیس فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر ‏ایک کو بیس فیصد کے حساب سے کم ملتا ہے۔

اس طرح ہر ایک کا حصہ یکساں کم ہوجا تا ہے۔ اس سے ایک متاثر ہو کر دوسرا متاثر نہ ہونے کی نوبت نہیں آئے گی۔ 

اسلام کی قانونِ وراثت میں بھی چند اوقات اس طرح تقسیم نہ کر نے کا موقع بھی آجاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ تنقید کر نے کا موقع مل جائے گا ‏کہ اللہ نے کیوں اس طرح کا قانوں بنایا جو ناممکن ہے؟ یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ اللہ جیسے کہا تھا اس طریقے سے بانٹ کر دکھاؤ۔ 

اس قانون کو بنانے والے اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، اس لئے اللہ نے اس آیت میں موزوں الفاظ کو شامل کر کے کہتا ہے کہ اس طرح کی تنقید یں ‏پیدا نہ ہوں ۔اور اس آیت میںیہ شرط بھی شامل کر دیا کہ یہ تقسیمات ایسی ہونی چاہئے کہ اس سے کوئی متاثر نہ ہوں۔ 

کسی کو تنقید کا موقع دئے بغیر اسی نے پہلے یہ کہہ دیا کہ چند اوقات میں ہوسکتا ہے کہ اس طرح تقسیم نہ کرپائیں گے اور اس طرح کے مواقع پر کوئی ‏متاثر ہوئے بغیر تقسیم کر لینا چاہئے ۔

ایک عورت مرتے وقت

شوہر

دو لڑکیاں

والدہ

والد 

وغیرہ کو چھوڑ کر جب جاتی ہے تو

شوہر کوچار میں سے ایک حصہ

دو لڑکیوں کوتین میں سے دو حصہ

والدہ کو چھ میں سے ایک حصہ

والد کو چھ میں سے ایک حصہ 

اس طرح تقسیم کرنا قرآن کا قانون ہے۔ 

تین میں سے ایک حصہ اور چار میں سے ایک حصہ اگر دینا ہو تو دونوں کے درمیان بارہ حصوں میں کل جائداد کو تقسیم کیا جائے تو ہی ممکن ہے۔ 

بارہ حصہ بنا کر اس میں چار میں سے ایک حصہ (شوہر کو) 3

بارہ حصوں میں تین میں سے ایک حصہ (دو لڑکیوں کو) 8

بارہ حصوں میں چھ میں ایک حصہ (والد کو) 2 

بارہ حصوں میں چھ میں ایک حصہ (والدہ کو) 2

اس طرح تقسیم کرو تو کل حصہ پندرہ ہو تے ہیں۔

بارہ حصے بنا کر مند رجہ بالا طریقے سے تقسیم کر و تو کل 15 حصوں کی ضرورت رہنے سے تین حصوں کی کمی پڑتی ہے۔ اس لئے کل جائداد کو 12 ‏کے بجائے 15 حصے بنالیا جائے تو کسی کمی کے بغیر سب کو دے سکتے ہیں۔ 

بارہ حصوں میں اس رقم کو دیا جائے تو ہی ان ان کے لئے حصے مل سکتے ہیں۔ لیکن اب تو اس 15 حصوں ہی سے اوپر درج شدہ حصے دینے کی نوبت ‏پیدا ہوئی ہے۔ 

اس طرح دینے سے اللہ نے جو حصہ ذکر کیا ہے وہ کسی کو نہیں ملے گا۔ 12میں 3 دوگے تو ہی وہ پاؤ حصہ ہو سکتا ہے۔15 میں3 دو گے تو وہ پاؤ حصہ ‏نہیں ہوسکتا۔ 

اسی طرح ہر ایک کا حصہ کم ہو جائے گا۔ ایک ہی شخص اگر ضد کیا کہ مجھے 12 میں 3 ہی چاہئے تو دوسرے متاثر ہوجائیں گے۔ 

اس صورت حال میں صرف چند لوگوں ہی کو، مثال کے طور پرصرف شوہر کو 12 حصوں میں 3 دے کر دوسروں کو کم کریں تو وہ دوسروں کو ‏نقصان ہوگا۔ 

‏15 حصوں میں سے اگر تقسیم کر یں تو ان چاروں کو ان ان کے حساب کے مطابق تھوڑا سا کمی ہوگا۔ ایک شخص کو کم دے کر دوسروں کو زیادہ دینے ‏کی نوبت نہیں آئے گی۔ 

اس طرح ان کے حصوں کے مطابق کچھ کم کر کے تقسیم کر نے ہی کے لئے ’’متاثرہوئے بغیر‘‘ کا لفظ اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

اس لئے نقصان کو جب سب لوگ برابری سے تقسیم کر لیتے ہیں تو اس سے کسی ایک کو اثر نہیں ہوگا ۔ اس جیسے صورت حال کے لئے ہی اللہ فرماتا ‏ہے کہ ’’کسی کو متاثر کئے بغیر۔‘‘

اس انداز کی باریکی سے ضروری لفظوں کا استعمال کیا جانا یہ ثابت کر تی ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔   

‏110۔ بدلا ہوا کلالہ قانون 

‏غیر نسل کلالہ کہلاتا ہے۔ ایسے لوگ بھائی اور بہنوں کو چھوڑ کر چلے گئے تو جائداد کو کس طرح تقسیم کرنا ہے، اس کو یہ آیت 4:12 بتلاتی ہے۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ مر نے والااگر لاولد ہو اور اس کو ایک بھائی اور ایک بہن ہو توان میں سے ہر ایک کو چھ میں سے ایک حصہ ہوگا۔ اس سے زیادہ ‏ہوں تو تین میں سے ایک حصہ کی وہ سب لوگ حصہ دار ہوں گے۔ 

لیکن اسی سورت کی 176 ویں آیت میں بھائی بہنوں کو تقسیم کیا جانے والا حصہ الگ طریقے سے کہا گیا ہے۔ 

کوئی لاولد شخص مرتے وقت اگر اس کو کوئی بہن ہو تو اس کی جائداد میں سے آدھا حصہ اس کا ہوگا۔ اگر دو بہن ہوں تو انہیں جائداد میں سے تین میں ‏سے دو حصہ ہوگا۔بھائی اور بہن بھی ہوں تو دو بہنوں کا حصہ ایک مرد کے حساب سے ہوگا۔ تم لوگ راہ بھٹکے بغیر رہنے کے لئے اللہ واضح کر تا ‏ہے۔اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اس طرح یہ آیت 4:176 کہتی ہے۔ 

ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو آیت نمبر 4:12 کہتی ہے کہ بہن کو چھ میں سے ایک حصہ ہے۔ 

آیت نمبر 4:176 کہتی ہے کہ اگر ایک بہن ہو تو ساری جائداد میں سے آدھا حصہ ہے۔ 

دونوں آیتوں کے درمیان اختلاف رہنے سے کئی لوگ کئی طریقے سے تشریح کی ہے۔ بعض لوگ کلالہ کے لفظ کو اس آیت میں ایک رائے اور ‏دوسری آیت میں ایک رائے پیش کیا ہے، وہ غلط ہے۔ 

آیت نمبر 176 میں اللہ ہی نے وضاحت کر دی کہ کلالہ کا مطلب ہے ،بغیر کسی نسل کے بھائی بہن کو چھوڑ کر جانے والا۔اس لئے غیروں کی ‏وضاحت کو ہمیں قبول کر نا نہیں چاہئے۔ 

بھائی بہنوں کو چھوڑ کر جانے والے لاولدہی کے بارے میں یہ دونوں آیتین کہتی ہیں، اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔ 

اگر ایسا ہو تو دونوں آیتوں میں دو الگ مقدار کیوں کہا گیا ہے؟اس کو بخاری کی ایک حدیث واضح کر تی ہے۔ 

براء بن عاصفؓ نے فرمایا ہے کہ قرآن میں آخر میں جو نازل ہوئی ہے وہ 4:176آیت ہی ہے۔ (بخاری: 4605)

اس لئے آیت نمبر 4:176کے آخر میں جو قانون کہا گیا ہے وہ آیت نمبر 4:12 کے قانون کو بدل ڈالا، یہی صحیح ہے۔  

‏109۔ وراثت میں مرد عورت کا فرق

‏یہ آیتیں (4:11، 4:176) کہتی ہیں کہ قانون وراثت میں مردوں کو جو ملتا ہے اس میں سے آدھا حصہ عورتوں کو بھی ہے۔ 

بعض لوگ تنقید کر تے ہیں کہ جائدادی حقوق میں مرد اور عورت کے درمیان فرق جتانا انصاف نہیں ہے۔ وہ لوگ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ مناسب ‏وجوہات کی بنا پر ہی اسلام جائدادی حقوق میں اختلاف کیا ہے۔ 

‏1۔ اسلامی سماج اور خانگی معاملے میں عورت سے زیادہ مردوں پر ہی زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔ دوسری سماجوں کا بھی یہی حال ہے۔ 

‏2۔ والدین کو ان کی آخری عمر میں مرد لوگ ہی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ عورتیں تو اپنے ساس سسر ہی کو دیکھ بھال کر نا پڑتا ہے۔ والدین جب نہ ‏کمانے کی حالت کو پہنچتے ہیں تو انہیں مرد ہی خیال کر تے ہیں۔ اس لئے انہیں دوگنا دینا عدل ہی ہے۔ 

‏3۔ ایک عورت جب سسرال میں نہ جینے کی حالت پیدا ہو تی ہے تو اس وقت وہ اپنے بھائی کے سہارے ہی میں جینا پڑتا ہے۔ ’’جتنا مجھے ملا ہے اتنا ہی ‏حصہ جائداد کا تجھے بھی تو ملاہے، اس لئے میں تجھے کیوں سہارا دوں‘‘ اس طرح سوچے بغیر بڑی محبت سے اپنی بہن کو سہارا دینے کے لئے یہ فرق ‏بہت ضروری ہے۔ 

‏4۔ جتنی جائدا د مردوں کو ملی ہے اسی انداز سے اگر عورتوں کو بھی دی جائے تو اس کو سسرال والے چالاکی سے یا ڈرا دھمکا کر یا دھوکے سے چھین ‏لے سکتے ہیں۔ سب کچھ کھو نے کے بعد اگر وہ اپنے میکہ کو آئے تو اس کو عزت نہیں ملے گی۔ 

‏5۔ جتنا حصہ مردوں کو ملتا ہے اس میں سے آدھا حصہ عورت کو ملے بھی توزیادہ پانے والے بھائی کے ذریعے دوسرے طریقے سے اس کو واپس مل ‏جائے گا۔ 

‏6۔ ہر ایک یہی چاہے گا کہ اپنی جائداد اپنے ہی خاندان کے اندر گھومتی رہے۔ اگر عورتوں کو برابر کا حصہ مل جائے تو وہ دوسرے خاندان میں جمع ‏ہوجاے گا۔ 

‏7۔ والد کی جائدادکو بڑھانے میں عورتوں سے زیادہ مردہی بہت محنت کر تے ہیں۔ والد کی چھوڑی ہوئی جائداد میں ان کی کمائی سے زیادہ ان کے ‏لڑکوں کی محنت سے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ عورتیں اس جائداد کے بڑھانے میں کچھ حصہ نہیں لیتے۔ یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہئے۔ 

‏8۔ اس کے علاوہ والد بیٹیوں کے لئے گہنے اور زیورات بناکر ڈالتے ہیں۔ یہ صرف زینت ہی نہیں بلکہ بڑی ایک دولت بھی ہے۔ اس جیسی کوئی چیز ‏بیٹوں کے لئے نہیں دی جاتی۔ اس کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے۔ 

‏9۔ اگر مردوں اور عورتوں کو یکساں دولت تقسیم کیا جاتا تو بیٹے یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ والدین کو ان کے آخری عمر میں صرف ہم ہی کیوں ‏دیکھ بھال کریں؟سسرال میں جینے والی بیٹیوں سے والدین کو دیکھ بھال کرنا نہیں ہوسکتا۔ 

اس وجہ سے خانۂ معمر ہی بڑھتا جائے گا۔ والدین بے سہارا چھوڑ دئے جائیں گے۔ ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی اسلام نے تقسیم کے ‏معاملے میں فرق کیا ہے۔ 

‏108۔ مہر

‏ان آیتوں میں (2:236، 2:237، 4:4، 4:24,25، 4:127، 5:5، 33:50، 60:10) کہا گیا ہے کہ شادی کر تے وقت مرد ‏اپنی بیوی کو مہر ادا کرنا چاہئے۔ 

ایک عورت اپنی ازدواجی زندگی کے ذریعے اس پر بیتنے والی نقصانات کا خیال کر تے ہوئے جتنا چاہے مہر پوچھ سکتی ہے، یہ اس کا حق ہے۔اس کو وہ ‏اپنی ہی ملکیت میں رکھنے کی بھی اس کو حق ہے۔

ازدواجی زندگی میں بہت زیادہ نقصان اٹھانے والی عورت ہی ہیں۔ اپنا حسن اور جوانی کھونے کے بعد ہی وہ طلاق حاصل کر تی ہیں۔ اس حالت کو ‏خیال کرتے ہوئے مہر کی رقم کو فیصلہ کر نے کا حق اسلام نے عورتوں کو دی ہے۔ 

مہر کی رقم کو جتنا چاہے عورتیں مانگ سکتی ہیں۔کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ایک حد مقرر کریں کہ اتنا ہی مانگنا ہے ۔

اسلام نے عورتوں کو جو حق دے رکھی ہے اس کو انہوں نے استعمال نہ کر نے کی وجہ سے ان کی حالت دگر گوں ہوگئی ہے۔ انہوں نے مہر نہ پوچھنے ‏کی وجہ سے مردوں کا جہیزمانگنے کا ظلم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ 

دینے کی حیثیت رکھنے والے مرد مانگنے کی حد تک بے شرم بن گئے ہیں۔ جہیز نہ لو ، کہنے سے زیادہ تم عورتوں کو دو ، یہی سخت حکم ہے۔ اس کو سمجھنے ‏والا کوئی سچا مسلمان کبھی جہیز مانگنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ 

مرد ،عورتوں کو دینا ہی دانشمندی اور راست بازی ہے۔ کیونکہ ازدواجی زندگی میں عورتیں ہی زیادہ قربانی دیتے ہیں۔ بہت زیادہ تکلیفیں بھی وہی ‏اٹھاتی ہیں۔ اس لئے عورتوں کو مرد دینا ہی انصاف ہے۔ 

شادی ہو نے کے بعد مرد اپنے ہی گھر میں، اپنے ماں اور باپ کے ساتھ ، عزیز و اقارب کے ساتھ رہتا ہے۔ لیکن اس سے عمر میں چھوٹی سی عورت ‏اپنے ماں، باپ ، عزیزواقارب سب کچھ چھوڑکر اپنے خاوند کے گھر کو آجا تی ہے۔ اس قربانی کے لئے عورتوں ہی کو مرد لوگ عطا کر نا چاہئے۔ 

شادی کے بعد عورت کے لئے شوہر کچھ بھی خدمت نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ اس کی زندگی کے خرچ کے لئے ذمہ لیتا ہے۔ لیکن عورتیں تو اپنے ‏شوہر کے لئے کھانا بنانا، کپڑے دھونا، گھر کو پاک و صاف رکھنا،صرف شوہر کے لئے ہی نہیں بلکہ شوہر کے رشتہ داروں کے لئے بھی خدمت بجا لانا، ‏ایسے بہت سا بوجھ وہ اپنے سر میں لیتی ہے۔اس کے علاوہ بعض عورتوں کو اپنی ساس کی ظلموں کو بھی سہہ لینا پڑتا ہے۔ان ساری وجوہات کی بنا پر مرد ‏لوگ ہی عورتوں کو عطا کر نا چاہئے۔ 

ازدواجی زندگی میں مبتلا ہو کر ایک عورت جب حاملہ ہو تی ہے تو مردوں کو کوئی تکلیف یا بوجھ سنبھالنا نہیں پڑتا۔ عورت ہی تکلیف اٹھاتی ہے۔ کچھ نہ ‏کھانے کی حالت کو وہ پہنچ جاتی ہے ۔ فطری طور پر چلنے یا سونے کی تکلیف کو بھی وہ سہہ لیتی ہے۔ اس کے ساتھ موت کے دروازے تک پہنچ کر بچہ ‏جن کر واپس آتی ہے۔ اس ایک وجہ کے لئے اس کو ایک کروڑبھی دیں تو کافی نہیں ہوگا۔ 

بچہ پیدا ہونے کے بعد بچہ کے لئے باپ کچھ نہیں کرتا۔ دودھ پلانا، پرورش کرنا، آنکھ جھپکے بنا اس کی حفاظت کر نا ایسے کئی بوجھ اس پر لادا گیا ہے۔ ‏اس وجہ سے بھی مرد ، عورتوں کو مہر دینا عدل کے مطابق ہے۔ 

ایک کے بعد ایک بچے پیدا ہو تے گئے تو عورت اپنی تمام بہاروں کو کھو دینے کی حالت کو پہنچ جا تی ہے۔ 

انسانی ہمدردی رکھنے والا کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتاکہ عورتوں کو مرد ہی عطا کرنا چاہئے ۔ 

جہیز مانگنے کی بری عادت کی وجہ سے کئی برے انجام سماج میں پھیلا ہوا ہے۔ جہیز مانگنے والے اور اس کی حمایت کر نے والے ان سب برے ‏انجاموں میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ 

جہیز کی وجہ سے پندرھویں عمر ہی سے زندگی کے لئے ترسنے والی عورتیں تیس سال تک بھی ازدواجی زندگی سے محروم ہیں۔ 

اس کی وجہ سے بعض عورتیں گھر چھوڑکر ہی بھاگ جاتے ہیں، اور دھوکہ دئے جاتے ہیں۔ان میں سے بعض عورتیں طوائف گھروں میں بھی ‏ڈھکیل دئے جاتے ہیں۔ ان گناہوں میں جہیز لینے والوں کو بھی ضرور ایک حصہ ہے۔ 

اس کی وجہ سے بعض عورتیں اسلام ہی کو دھتکا ر کر دوسری مذہب والوں کے ساتھ بھاگ جانے کی نوبت بھی آجا تی ہے۔ 

ازدواجی زندگی نہ ملنے کی امید میں اپنی جان کو خود ہی مٹانے والی عورتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ لڑکیوں کو جنم دینے والے بھی ایکساتھ خودکشی کر ‏لیتے ہیں۔ جہیز مانگنے والے اس گناہ میں بھی برابر کے شامل ہیں۔ 

یہ سوچ کر کہ ازدواجی زندگی نہ ملے گی ، اگر کوئی بھاگ جائے تو اس کے گھر میں رہنے والی باقی عورتوں کو بھی زندگی نہ ملنے کی نوبت آجائے گی۔ اس ‏میں بھی جہیز مانگنے والوں کا حصہ ہے۔ 

جہیز کی عادت اور اس سے پیدا ہو نے والی برائی کو پہلے ہی سے محسوس کرنے والے لڑکی پیدا ہوتے ہی اپنے بچوں کو مار دیتے ہیں۔ دوسرے چند ‏لوگ اسکین کے ذریعے حمل میں لڑکی کو دیکھ کر اس کو حمل ہی میں دفن کر دیتے ہیں۔ اس گناہ عظیم میں بھی جہیز لینے والے حصہ دار ہو تے ہیں۔ 

عزت و آبرو سے جینے والے شخص کو لڑکی پیدا کر نے کی وجہ سے بستی بستی گھوم کر بھیک مانگنے رکھ دیتے ہیں۔ یہ گناہ بھی انہیں نہیں چھوڑے گی۔ 

جوانی میں اٹھنے والی جذبات کو ایک راستہ نہ ملنے کی وجہ سے کئی عورتیں نفسانی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اس ظلم میں بھی وہ لوگ حصہ دار ہو ‏جاتے ہیں۔ 

اس طرح بہت سی برائیوں کا جامع شکل اختیار کر نے والے یعنی جہیز لینے والے اتنی ساری گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے اپنا نام درج کر لیتے ‏ہیں۔اگر کسی کو رائی برابر بھی یہ ڈر ہو تا کہ آخری فیصلہ سنانے والے اللہ کے سامنے ہم کھڑا کئے جائیں گے تو کوئی بھی جہیز لینے آگے نہیں بڑھے ‏گا۔

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 309دیکھئے!

 ‏107۔ کنیزوں کے ساتھ خانگی زندگی چلانے

اسلام نے کیوں اجازت دی؟

ان آیتوں میں (4:3، 4:24,25، 4:36، 16:71، 23:6، 24:31، 33:50، 33:52، 33:55، 70:30) ’’تمہارے ‏دائیں ہاتھ کی ملکیت والی عورتیں‘‘ کاجملہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کنیزوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔ 

ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ کنیزوں سے نکاح کئے بغیر ان کے مالک ان کے ساتھ خانگی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ 

آج کے دور میں کنیز یا غلام نہ ہونے کے سبب اس کو سمجھنے کے لئے اس کے متعلق تاریخ جان لینا ضروری ہے۔

دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتے وقت فتح پانے والے، ہارجانے والوں کو قیدکرلیا کر تے تھے۔ ان قیدیوں میں مردبھی ہوتے تھے اور قلیل تعداد ‏میں عورتیں بھی ہو تی تھیں۔ 

اس طرح قید کئے جانے والوں کو بند رکھنے کے لئے اس وقت قید خانے نہیں تھے۔ انہیں کھانا کھلا کر دیکھ بھال کرنا غیر ضروری بوجھ معلوم ہو تا ‏تھا۔ اس لئے قید یوں کو جنگ میں شامل ہونے والوں کو تقسیم کر دیا کر تے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس خدمت لے کر انہیں کھانا کھلانا کچھ تکلیف ‏محسوس نہ ہوگا۔ 

کام کاج کے لئے کسی کی ضرورت محسوس نہ کرنے والے اپنے ملک میں دئے گئے غلاموں کو حیثیت رکھنے والوں کو بیچ دیا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے ‏اس وقت غلام کا بازار بھی سر گرم عمل تھا۔ 

بعض لوگوں کو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ کئی سماجی مظالم کو ایک ہی حکم کے ذریعے مٹا دینے والا اسلام کیاغلاموں کومٹا نہیں سکتا تھا؟ اسلام نے اس کو ‏کیوں قبول کر لیا؟ 

اس کے لئے کئی چیزوں پر غور کر نا ضروری ہے۔ میدان جنگ میں گرفت ہو نے کے ذریعے اگر غلام ظاہربھی ہوں تو جنگی سپاہیوں نے انہیں ‏فوراًبیچ کرپیسہ بنا لیتے تھے۔ قیمت ادا کر کے خریدنے والے ہی کے پاس اکثر غلام رہتے تھے۔ 

اگر حکم دیا جاتا کہ اب سے کوئی غلام نہ رہے تو ان غلاموں کو خریدنے والے بہت زیادہ نقصان سے دو چار ہوں گے۔ اگران سب کو تلافی دیا جاتا تو ‏حکومت چلا نہیں سکتے۔ تلافی کے بغیر اگر حکم دیا جاتا تو قانونی طورپراجازت کے ساتھ جو تجارت کر رہے تھے اس میں لوگوں کو نقصان پہچانا ‏ناانصافی ہوگی۔ 

اسی طرح تمام غلاموں کے لئے تلافی دے کر آزاد کر نے کو اگر نبی کریم ؐ حکم بھی دیتے تو وہ ضرررساں ہی ثابت ہوگا۔ 

کیونکہ باربار جنگ ہونے والے اس ماحول میں اگر جانبداری سے نبی کریم ؐ نے ویسا کہا ہو تا تو مسلم غلام غیر ممالک میں غلام بن کر رہنے کی نوبت آجا ‏ئے گی۔ دشمن لوگ فوراً آزاد ہونے کی نوبت بھی آجائے گی۔ 

آس پاس کے ممالک میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ نبی کریم ؐ کے خلاف اگر جنگ کریں تو ہمیں کوئی بڑا نقصان پیدا نہیں ہوگا، انہیں کو نقصان ہو ‏گا۔اسی لئے حکم نافذ کر کے غلامی کو مٹایا نہیں۔

تمام عالمی ممالک ایک متفق فیصلے کی طرف آنے تک صرف نبی کریم ؐ کا فیصلہ فائدہ نہیں دے سکتا۔ 

اسی وقت نبی کریمؐ نے غلامی کو مٹانے کے لئے کئی انتظامات کئے تھے۔ 

‏* نبی کریم ؐ ترغیب دلائی کہ ایک شخص اللہ پر قسم کھا کر اس کو توڑ دے یاروزہ رکھ کرتوڑدے تو ان جیسے گناہوں کا کفارہ یہ ہے کہ حیثیت رکھنے ‏والے غلاموں کو آزاد کر دینا چاہئے۔

‏* معاہدے کی بنا پر غلاموں کو آزاد ہو نے کو بھی انہوں نے انتظام کیا۔ اور یہ بھی ترغیب دلائی کہ مالک، غلاموں سے یہ معاہدہ لے کر آزاد کر ‏دے کہ تم محنت کر کے تھوڑا تھوڑا سا میرے قرض کو ادا کر دینا چاہئے۔ 

‏* اور اس طرح بھی انہوں نے یہ حکم نافذ کر کے ترغیب دلائی کہ کوئی اپنے غلام کو آزاد کریں تو وہ غلام آئندہ جو کمائے گا ، اس کا حقدار اس کا مالک ‏ہی ہوگا۔ 

‏* اس طرح بھی انہوں نے ترغیب دلائی کہ عام طور سے انسان جو نیک عمل کر تا ہے ، اس میں سے غلاموں کو آزاد کرنا بہترین عمل ہے۔ 

آپ نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ تعداد میں غلاموں کی کمی کی ہے۔ یہ عام طور سے غلاموں کے بارے میں ہے۔ اب کنیزوں کے بارے میں ‏جان لیں۔ 

کنیز سا فروخت کئے جانے والے اپنے آقا کے گھر میں ہی ٹہریں گے۔ اس کا شوہر غیر ملک میں ہوگا، نہیں بھی ہوگا۔ ایسی حالت میں اس عورت کو ‏غیر مرد بری نظروں سے جو دیکھتے ہیں اس کو روک تھام کر نا چاہئے۔ اس کو بھی جسمانی انداز کی ضروریات بھی ادا کر نی چاہئے۔ 

اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے غلاموں کو خریدنے والا مالک (اگر کئی مالک ہوں تو ان میں سے صرف ایک) خانگی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اس طرح ‏بسر کرتے وقت اگر اس نے ایک بچے کو جنم دیدی تو اسلام نے یہ قانون نافذکی کہ وہ اور اس کا بچہ غلامی کی گرفت سے آزاد ہو جائیں گے۔ 

اس کو اگر اس وقت اجازت نہ دیا گیا تو اس کے لئے سفارش کر نے والا کوئی نہ رہنے والے اس ملک میں اس کے آقا پر جب وہ پوری طرح سے دامن ‏گیر ہو تو وہ اس سے مجامعت کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ 

کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہ تو کنیز ہے، ہم بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔جب دوسروں کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اسکے شوہر کے برابر اسکا آقا ‏موجود ہے تو اسکو ایک حفاظت مل جاتی ہے۔ 

اس طرح کہا جا نے کی وجہ سے کہ اس کے ساتھ ایک آقا ہی خانہ داری کر سکتا ہے اور اس کو پیدا ہونے والا بچہ خاص آقا ہی کا بچہ کہلائے گا، اس لئے ‏وہ زناکاری نہیں ہوسکتا۔ 

اس زمانے میں کہ کنیزوں کا معاملہ تھا، اس کواجازت دینے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ آج دنیا بھر میں غلامی کا دستور مٹائے جانے کے بعد ‏اب اس کو مروج نہیں کرسکتے۔

نوکرانیوں کو غلام نہ سمجھیں۔ نوکرانی خریدی ہوئی عورت نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس آقا کو چھوڑ کر دوسرے آقاکو بدل سکتی ہے۔ لیکن کنیزیں ‏آقا کو بدل نہیں سکتیں۔

‏106۔ کیا کثیر ازواج انصاف ہے؟

یہ آیت (4:3)مردوں کو چار بیویوں سے نکاح کر نے کی اجازت دیتی ہے۔ 

یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ یہ عورتوں کے حق میں ناانصافی ہے۔اس کے بارے میں ٹھیک سے اگر تفتیش کیا جائے توہم اسلام جو اجازت دی ہے ‏اس عدل کو محسوس کر سکتے ہیں ۔

اس آیت میں جو اجازت دی گئی ہے وہ ہر مردوں کو چار بیویوں سے نکاح کرنے کی خواہش دلانے کے لئے نہیں اتارا گیا۔ اور حکم کے اعتبار سے بھی ‏نہیں اتارا گیا۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے وہ یہی ہے:

اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو تمہاری چاہت کے عورتوں میں سے دو دو، تین تین یا چار چار سے نکاح کر ‏لو۔ 

یتیم عورتوں کی حفاظت کے ذمہ دار اس عورت کی جائداد کو غبن کر نے کے ارادے سے ان یتیم عورتوں سے زبردستی نکاح کر لیا کر تے تھے۔ 

اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ یتیم عورتوں کے معاملے میں نا انصافی کر دوگے تو چار یا تین یا دو سے نکاح کر لو، پر یتیموں کو ناانصافی نہ کرو۔اسی کویہ آیت ‏کہتی ہے۔ یہ اجازت ان کے لئے ہے جو یہ اندیشہ رکھتے ہوں کہ ہم راہ بھٹک جائیں گے یا ناانصافی کر دیں گے۔ جو اس طرح نہ ہوں یہ ان سب کے ‏لئے نہیں ہے۔ 

اس کو پہلے سمجھ جا نا چاہئے۔

اس اجاز ت کی وجہ کیا ہے ، اس کو بھی جان لیں۔

کثیرالازواج عورتوں کے حق میں ناانصافی ہے کہنے والے اسی وجہ کواہمیت دیتے ہیں کہ اس سے پہلی بیوی کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ پہلی بیوی کو تکلیف ہو گی۔

ایک بیوی کے رہتے ہوئے ایک شخص دوسری ایک عورت سے شادی کر نے کی وجہ ہی سے پہلی بیوی کو تکلیف نہیں ہوتی،بلکہ وہ شخص اگر کسی ‏لڑکی سے بغیر نکاح کے تعلقات رکھتا ہو یاوہ دوسری عورتوں سے زناکاری کر تاہو تو اس وقت بھی پہلی بیوی کو تکلیف ہوتی ہے۔ 

دوسری ایک عورت سے نکاح کرنے سے جو تکلیف پیدا ہوتی ہے کہیں اس سے زیادہ وہ تکلیف دہ ثابت ہوگی۔ کئی عورتوں سے تعلقات رکھتے ‏ہوئے ان کے ذریعے بیماریاں حاصل کر کے پہلی بیوی کو تحفہ دینے سے اس کو اور زیادہ تکلیف پہنچے گی۔

دوسری شادی کی مخالفت کرنے والے داشتہ رکھنے اور زناکاری کر نے سے تو قانونی طور پر روک تھام کر نا چاہئے تھا؟ کثیر ازواج کا انکار کر نے والے ‏ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ کسی بھی ملک میں زناکاری یا داشتہ رکھنے کے لئے ممانعت نہیں ہے۔ اس کو گناہ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ 

بیوی کے ہوتے ہوئے ایک شخص داشتہ رکھا ہوا ہے ۔ اس کو جان کر وہ عورت شوہر کے خلاف تھانہ میں اگر فریاد کرے تو کوئی مقدمہ درج نہیں ‏کیا جاتا۔ یہ کہہ کرکہ کیا اس نے دوسری شادی کرلی، اس شکایت کو رد کردیا جا تا ہے۔ اگر اسی سبب سے اس عورت نے عدالت میں مقدمہ دائرکیا ‏تو عدالت بھی اس مقدمہ کو رد کردیتی ہے۔ 

ہمارے ملک کا قانون ایسا ہی ہے۔ 

کثیر الازواج سے مخالفت کرنے کی یہی وجہ ہے کہ اس سے عورتوں کا حق متاثر ہوتا ہے تو داشتہ رکھنا اور زناکاری کرنا گناہ کہہ کر قانون بنانا چاہئے۔ 

داشتہ رکھنے والے اور زناکاری کر نے والے مردوں کو روکنے نہیں ہوسکا۔ یہ جان کر بھی کہ وہ دوسری ایک عورت کا مرد ہے، اس کو اپنے چنگل ‏میں پھنسانے والی عورتوں کو بھی روکنے نہیں ہوسکا۔ اسی لئے اسلام کہتا ہے کہ قانونی طور پر بیوی کی حیثیت د ے کر اس کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ 

بغیر نکاح کئے عورتیں حاملہ ہوجانا اور انہیں بے سہارا چھوڑ جاناہندو قوم میں بہت زیادہ ہوجا نے کی وجہ سے وہاں کے ہندو لوگ جدو جہدکر رہے ‏ہیں کہ انہیں بھی کثیرالازواج کی اجازت دی جائے۔ (روز نامہ، ملیشیہ ننبنNanban)) : 05-01-2002‎‏)

کثیرالازواج کو اسلام اجازت دینے کے لئے کئی مناسب وجوہات ہیں۔ 

‏1۔ شادی کی عمر کو پہنچنے والی عورتیں، شادی کی عمر کو پہنچنے والے مردوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ کیونکہ عورتیں مردوں سے کم از کم دس سال پہلے ‏ہی شادی کے لئے تیار ہو جا تے ہیں۔ 

‏2۔ مردوں سے زیادہ عورتیں ہی تعداد میں بڑھے ہوئے ہیں۔ 

‏3۔ مر نے کے حساب سے بھی مردوں سے عورتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ 

‏4۔ میدان جنگ میں جوان بیویوں کے شوہر بہت زیادہ تعداد میں مارے جا رہے تھے۔ 

‏5۔ زیادہ تعداد میں عورتوں کو ازدواجی زندگی نہ ملنے کی وجہ سے زناکاری بڑھتے جارہی ہے۔ 

‏6۔ عورتوں کو نکاح کر نے کے لئے ایک بڑی رقم جہیز میں مانگے جانے کی ایک افسوسناک حالت بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ 

‏7۔ جہیز دینے کی طاقت نہ رکھنے والے اپنی بیٹیوں کو زندہ ہی ماردینا یا رحم ہی میں دفن کر نا ہر روز کاواقعہ بن چکا ہے۔ 

‏8۔ ازدواجی زندگی کو جھٹلا نے والے کنوارے مردوں کی کمی کو اور زیادہ بڑھا رہے ہیں۔ 

‏9۔یہ جانتے ہوئے کہ والدین جہیز دے کر نکاح نہیں کر سکتے، ایسی جوان لڑکیاں خود ہی زندگی بنالینے کے خیال سے دھوکہ کھاکر عصمت کھو بیٹھتی ‏ہیں۔ 

‏10۔ یہ سوچ کر کہ ہمیں شادی نہیں ہوسکتی، خودکشی کر نے والی عورتیں کی تعداد بھی بڑھتے جا رہی ہے۔ 

اس طرح کی مناسب وجوہات کی بنا پراور مردوں کو زناکاری میں گرنے سے روکنے کے لئے اسلام کثیرالازواج کی اجازت دیتی ہے۔ 

اس وجہ سے کئی عورتوں سے تعلقات رکھنے والوں کی تعداد ضرور کم ہوگی، یہی حقیقت ہے۔ 

کیونکہ نکاح کر تے وقت ذمہ داریوں کو سنبھالنا ہو تا ہے بہت ہی کم تعداد ہی میں لوگ کثیر ازواج کی طرف مائل ہوں گے۔ زناکاری کے لئے یا ‏داشتہ رکھنے کے لئے ویسی کوئی ذمہ داری سنبھالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے مردوں کو تباہی ہی نصیب ہوسکتی ہے۔ 

اس جیسے نامعقول تعلقات کے ذریعے جنسی بیماریوں کو خودبھی حاصل کر کے اپنی بیوی کو بھی عطا کر نے کی مصیبت بڑھتے جائے گی۔ 

ان سب سے بڑھ کر کثیر ازواج کے لئے اسلام کوئی حکم نافذ نہیں کیا۔ ضرورت مندوں کے لئے صرف اجازت دیا ہے۔

اس حالت میں رہنے والی عورتیں کثیر تعداد میں ہیں کہ ہمارے لئے دوسری بیوی بن کر رہنا بھی منظور ہے ، ۔ کثیر ازواج کی ضرورت کو یہ حالت ‏ہمیں احساس دلاتا ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جیسے مردوں کو اجازت ہے اسی طرح عورتوں کو بھی کثیر ازواج کی اجازت دینی چاہئے۔ یہ ناقابل قبول دعویٰ ہے۔ 

ہم جو وجوہات ذکر کئے ہیں اس میں سے کوئی ایک بات بھی ان کے لئے موزوں نہیں۔ عورتوں کو اگرکثیر ازواج کی اجازت دی جائے تو جو اوپر کہا ‏گیا ہے ، وہ برائیاں اور بھی بڑھ جا ئیں گی۔ اس لئے عورتوں کو کئی شوہروں کا اجازت دینے کے لئے کوئی مناسب وجہ نہیں ہے۔ 

بلکہ عورت کو بھی وہ اجازت چاہنے والوں کی خواہش کے مطابق اگر اجازت دیں توہمیں جاننا چاہئے کہ اس سے کئی آفتیں اور خرابیاں ہی پیدا ہوں ‏گی۔ 

ایک مرد کوسوعورتوں کے ساتھ اگر ایک سال تنہائی میں چھوڑا گیا تو وہ سو عورتیں بھی سو بچوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایک عورت کواگر سو مردوں ‏کے ساتھ تنہا چھوڑا جائے تو کیا وہ سوبچے پیدا کر سکتی ہے؟ 

ایک مرد کو کئی عورتوں کے ذریعے دس بچے پیدا ہوں توہم معلوم کرسکتے ہیں کہ ان دس بچوں کی ماں کون ہے اورباپ کون ہے؟ کئی مردوں سے ‏تعلقات رکھی ہوئی ایک عورت جنم دینے والے ایک ہی بچے کو ماں کون ہے کہہ سکتے ہیں ، اس کے سوا اس کا باپ کون ہے، کہہ نہیں سکتے۔ 

اس صورت حال سے زیادہ اس بچے کوکوئی دوسری ذلت نہیں ہوسکتی۔ اس طرح اپنے باپ کو نہ جاننے والی نسل دل برداشتہ ہو کر نفسیاتی بیماری ‏میں مبتلا ہو جا تی ہے۔ 

ایک مرد جب چار عورتوں کے ذریعے چار بچوں کو جنم دیتا ہے تو ان چاروں بچوں کو پرورش کر نے کی ذمہ داری اس پرتھوپا جاسکتا ہے۔ ان بچوں کو ‏پالنے کا خرچ اس سے لینے کے لئے زبردستی کر سکتے ہیں۔ لیکن جب ایک عورت چار مردوں کے ساتھ مل کر ایک بچے کو جنم دیتی ہو توکیا اس کو وہ ‏ضمانت دے سکتے ہیں؟ 

ہر ایک اگر اس سے انکار کر دے کہ وہ میرا بچہ نہیں ہے تو کس دلیل کی بنا پر اس پرہم ذمہ داری تھوپ سکتے ہیں؟ اس کی پرورش کے لئے خرچ ‏دینے کو ہم اسے کس طرح جبر کر سکتے ہیں؟ بڑھنے والے اس بچے کے مستقبل پر کیا اندھیرا نہیں چھا جائے گا؟ 

اسی طرح اگر ان چاروں نے دعویٰ کر دیا کہ وہ بچہ میرا ہے تو کیا اس بچے کو کاٹ کرہر ایک کو تقسیم کر سکتے ہیں؟ 

ایک شخص کو کئی بیویوں کے ذریعے کئی سو بچے بھی ہوں تو وہ مر جا نے کے بعداس کو کئی سو بچوں کا باپ جاننے کی وجہ سے وراثت کی بنا پر وہ اس کی ‏جائداد سے حصہ مانگ سکتے ہیں۔ 

کئی مردوں سے نکاح کی ہوئی عورت کے شوہروں میں کوئی بھی شوہرمرجائے تواس کے بچے باپ کے جائداد میں حق مانگنے کا راستہ نہیں ہوگا ۔

اور عورتیں کئی مردوں سے تعلقات رکھنے ہی سے ایڈس پیدا ہو تی ہے۔ شرمگاہ کی رطوبت سے نکلنے والا زہریلا جراثیم کئی مردوں کی خلیہ سے ‏شامل ہو تے ہی وہ مہلک جراثیم پیدا ہوتی ہے۔ محکمہ ادویات کہتی ہے کہ وہ جراثیم عورتوں ہی کو پہلے لگتی ہے۔ اسی لئے ایڈس والی ایک عورت سے ‏کوئی مرد اگر مجامعت کر ے تواس کو بھی وہ بیماری لگ جاتی ہے۔ 

لیکن یہاں کے معالج اور حکومت اعلان کر تے ہیں کہ ایک مردکے لئے ایک عورت ہے۔یہ اعلان بالکل غلط ہے۔ایسا اعلان کر نا چاہئے کہ ایک ‏عورت کے لئے ایک مرد ہے۔عرب ممالک میں ایک کے بجائے چار عورتیں رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی ایڈس نہیں آئی۔ اس لئے ایک مرد ‏اگر چار عورتیں رکھتاہے تو ایڈس نہیں آتی۔ لیکن ایک عورت کو چار خاوندہوں تو ایڈس آجائیگی۔

کئی مردوں کے ساتھ بغیر کوئی پابندی کے تعلقات رکھنے والی عورتوں کے ذریعے ہی ایڈس آتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ مجامعت کر نے والے تمام ‏مردوں کو وہ پھیل جاتی ہے۔ 

اس وجہ سے بھی عورتوں کوکثیر ازواج کی اجازت نہیں دے سکتے۔ 

ایک عورت کو اگر کئی شوہر ہوں تو ایک ہی وقت میں اگر سب شوہر اس کو مجامعت کے لئے بلائیں تو کیسی شامت ہوگی؟وہ معاملہ قتل تک بھی پہنچ ‏سکتا ہے۔ 

اس لئے عورتوں کو کثیر ازواج کی اجازت دینے میں کوئی عدل نہیں ہے۔ لیکن مردوں کو اجازت دینے میں عدل ہے۔

عورتوں کی بھلائی کی تعلق سے غور و فکر کرنے کے لئے قومی زنانہ کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن بھی یہی سفارش کرتی ہے کہ چوری سے تعلقات ‏رکھنے والی عورتوں کوبیوی کی حیثیت اور حق دیا جانا چاہئے۔ روزنامہ دناملر (26-10-2009) میں یہ خبر چھپی ہو ئی ہے:

ہندوستان کی قومی زنانہ کمیشن نے مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے کہ داشتہ کوبھی نان و نفقہ دینا چاہئے۔

قانون کے مطابق نکاح کر کے ازدواجی زندگی بسر کر نے والی عورت کو ہی نہیں بلکہ مسئلہ اٹھتے وقت داشتہ کے طورپر رہنے والی دوسری اور تیسری ‏بیویوں کو اور ان کے ذریعے پیدا ہونے والے اولاد کو بھی نان و نفقہ دینا چاہئے، قومی زنانہ کمیشن نے ایسی ایک دھماکے دار سفارش کی ہے۔ 

بیوی کے سوا گھر کا سرداردوسری عورت یا عورتوں سے چوری سے تعلقات رکھا ہو تو اس کے ذریعے پیدا ہو نے والے بچوں کو اگرکوئی مسئلہ پیش ‏آئے تو اس کے لئے قانون کے مطابق کوئی راستہ کہا نہیں گیا ہے۔ قانون کے مطابق جو بیوی بنی ہوئی ہے اس کے سوا چوری کے تعلقات سے آنے ‏والی عورت یا عورتوں کو قانون کے مطابق مجرم گردانا جاتا ہے۔ 

انہیں کوئی نان و نفقہ کا حق نہیں ہے۔ ہندوستانی جرمانہ دستور قانون 125 (5)کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے کہ دوسری اور تیسری غیر قانونی بیویوں ‏کو کوئی حق نہیں ہے۔ اس سلسلے میں قومی زنانہ کمیشن عنقریب ہی پوری طرح غور و فکر کرنے لگی۔آخرکار سفارش کر نے لگی کہ قانون کے بغیر ‏ایک کے ساتھ زندگی بسر کر نے والی عورت اس کے ذریعے پیدا ہو نے والے بچے کو ، انہیں زندگی بسر کر نے کے لئے حفاظت دینا قانوناًفرض ہو تا ‏ہے۔ کسی مسئلے سے اگر انہیں مشکل پیش آئی تو تعلق رکھنے والا مرد ضرور انہیں نان و نفقہ دینا چاہئے۔ 

قانونی بیوی ہی نہیں بلکہ تعلق رکھنے والی دوسری عورتوں کے معاملے میں بھی قانونی دستورالعمل لانا چاہئے، بے یارو مدگار چھوڑے بغیر انہیں جینے ‏کے لئے راستہ بنا کر دینا چاہئے، یہ سفارش کی گئی ہے۔ 

‏( روزنامہ دناملر (26-10-2009) سند ہے)

اسلام جو کہتا ہے اسی کو دوسری الفاظوں میں عورتوں کی بھلائی کے لئے قائم کی گئی کمیشن سفارش کرتی ہے۔ کثیر ازواج کے بارے میں تمام ‏دعوے اس سفارش کے ذریعے ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔

اسلام کی عطا کی ہوئی اس اجازت کو بعض مسلمان جو بے قاعدگی سے استعمال کر تے ہیں اس کو بھی ہم یہاں ذکر کرنا چاہئے۔

دوسری شادی کر نے والے پہلی بیوی کو بولے بنا رازداری سے شادی کر لیتے ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پہلی بیوی کو اسے معلوم کرانے کی ضرورت ‏نہیں ہے۔

حقیقت میں پہلی بیوی کی حق اس میں شامل رہنے کی وجہ سے اس کو معلوم کرانا بہت ضروری ہے۔ 

ایک بیوی کے ساتھ جب ایک شخص جیتا ہے تو اس کے ہر دن کو وہ اس کے لئے وقف کر تا ہے۔اسی کے لئے وہ اپنی دولت بھی لٹا تا ہے۔ اس حالت ‏میں اگروہ دوسری ایک لڑکی سے شادی کرتا ہے تو پہلی بیوی کو جتنا دن وقف کر تا تھا اس میں سے آدھے دن کم ہوجائیں گے۔ دولت میں بھی آدھی ‏چھوٹ جائے گی۔ 

دوسری شادی کے ذریعے جب پہلی بیوی متاثر ہوتی ہے تو اس کو اطلاع کر نے کی ضرورت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ 

وہ اس طرح بھی سوچ سکتی ہے کہ سارا دن تم مجھ ہی کو دوگے، یہ سمجھ کر ہی میں نے تم سے شادی کی تھی، اس میں سے آدھا دن اگر مجھ کو نہیں ملے ‏گا تو اس طرح کی زندگی مجھے نہیں چاہئے۔ 

دوسری شادی کے بارے میں جب اس کو اطلاع دیتے وقت ہی مندرجہ بالا حقوق اس کوحاصل ہو سکتی ہے۔ 

اگر پہلی بیوی کو چھپا کر دوسری شادی کر تے ہیں تودوسری بیوی بھی متاثر ہو جا تی ہے۔ کیونکہ پہلی بیوی کو چھپا کر شادی کر نے والے اس کو معلوم نہ ‏ہو نے کے لئے دونوں بیویوں کے درمیان یکساں رہنے کا موقع نہ پاتے ہوئے جب جب کوئی جھوٹی سبب بتا کر دوسری بیوی کے پاس چلے جاتے ‏ہیں۔ 

اس لئے دوسری بیوی کو جو حق پہنچنا ہے اس کو وہ نہ پہنچاسکنے کی حالت پیدا ہوجا تی ہے۔

پہلی بیوی کو چھپا کر دوسری شادی کر نے کی حالت میں اگر وہ مرجائے تو اس وقت بھی اس کی بیویاں متاثر ہوتی ہیں۔ 

پہلی بیوی یہ سوچ رہی ہو گی کہ شوہر کی جائداد اس کو اور اس کے بچوں ہی کے لئے ہے۔وہ مر نے کے ساتھ دوسری بیوی اور اس کے بچے جائداد میں ‏حصہ مانگتے ہوئے اگر آجائیں تو اس وجہ سے بھی پہلی بیوی اور اس کے بچے دھوکہ دئے جاتے ہیں۔

دوسری شادی کے بارے میں پہلی بیوی کے پاس کہتے وقت اگر وہ مان گئی تو کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر وہ کہے کہ دوسری شادی کروگے تو میں تمہارے ‏ساتھ زندگی نہیں بسر کروں گی ، تو اس کے لئے اس کو حق ہے۔ 

اگر کوئی عورت زور دے کہ اس کا خاوند اس کے سوا دوسرے کسی سے شادی نہ کرے، اسلام جو مردوں کو حق دی ہے، اس کو وہ انکار کر نے والی ‏نہیں مانی نہیں جائے گی۔ 

علیؓ کو اپنی بیٹی سے نکاح کر نے کے لئے حشام بن مقیرہ نے اجازت چاہی ۔ نبی کریم ؐکہا کہ ’’میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، اجازت نہیں دوں گا، ‏اجازت نہیں دوں گا۔ اگر علی چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرلے۔‘‘

‏(بخاری: 5230)

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اپنا خاوند دوسری عورت سے نکاح کر نا چاہے تو اسے انکار کر نے کا حق عورت کو ہے۔   

More Articles …