Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏121۔ کیا نبی کریم ؐ سے معافی مانگ سکتے ہیں؟ 

‏یہ آیت (4:64) کہتی ہے کہ گناہگار نبی کریم ؐ کے پاس آکر وہ بھی اللہ سے معافی چاہ کر ان کے لئے نبی کریم ؐ بھی معافی چاہیں تو اللہ معاف کر ے ‏گا۔ 

اس کو سند بنا کربعض لوگ عام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے روضہ پر جا کر ہمارے لئے معافی مانگنے کے لئے نبی سے کہہ سکتے ہیں۔ 

یہی یہ آیت کہتی کہ نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے والے گناہ کر نے کے بعد وہ بھی معافی چاہتے ہوئے نبی کریم ؐ بھی ان کے لئے اللہ کے پاس اگر ‏معافی چاہیں تو اللہ معاف کر سکتا ہے۔اس کے سوا ئے وہ وفات پانے کے بعد ان کے روضہ پر پہنچ کر معافی چاہنے کے لئے نہیں کہا گیا ہے۔ 

اس طرح دعویٰ کر نے والے ہر گناہ کے بعد مدینہ جانا چاہئے تھا۔ ان کے دعوے کے مطابق اگر دیکھا جا ئے تو صرف دولتمندوں ہی کو معافی ملے ‏گی۔ مدینہ جانے کی حیثیت نہ رکھنے والے غریبوں کو نہیں ملے گی۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں انہوں نے ان لوگوں کے لئے اگر معافی چاہیں تواللہ اس کو معاف کر نے کا امکان تھا۔ اس کے سوا اس آیت کو دوسرا کوئی ‏معانی نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے اصحاب نبی کریم ؐ کے وفات کے بعد ہر گناہ کے وقت نبی کریم ؐ کے روضہ پر جا کر اپنے لئے اللہ کے پاس معافی چاہنے کے لئے درخواست ‏نہیں کی۔ 

درگاہ پرستوں کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، ‏‏100، 104،122، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! 

‏120‏‎-‎‏ حاکموں کی اطاعت ۔

‏اس آیت (4:59) میں کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حاکموں کی بھی اطاعت کرو۔ 

صرف قرآن مجید اور نبی کریم ؐ کی رہنمائی ہی کواسلام کی بنیادی دلیل ماننا چاہئے ، اس کے لئے بے شمار سند موجود ہیں۔ 

بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان دلیلوں کو جھٹلا کر دینی عالموں کی اقوال کو بھی دلیلوں جیسا مان لینا چاہئے۔ اس کے لئے ان لوگوں نے اسی ‏آیت(4:59) کو اپنا دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسول کی بھی اطاعت کرو، اور اولو الامر کی بھی اطاعت کرو۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اولوالامر ‏انہیں دینی عالموں کی طرف اشارہ ہے۔

یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ اس آیت میں اولوالامر کی اطاعت کرو جوکہا گیا ہے وہ سچ ہے۔ اولو کا مطلب ہے والے۔ امر کا مطلب ہے اختیار۔ اس لحاظ ‏سے اولوالامر کا مطلب ہو گا اختیار والے۔ 

اس لئے اولو الامر کے لفظ کو دینی عالم کا معنی ہر گز نہیں ہوسکتا۔ 

دینی احکام میں صرف اللہ اور اس کے رسول ہی کی اطاعت کرنا ضروری رہنے کے باوجود غیر دینی نظامی معاملے میں اختیار رکھنے والوں کی بھی ‏اطاعت کر نے کی نوبت مسلمانوں کو آئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

ملک کا فرمانروا، مختلف شعبے کے حاکم اور منصف وغیرہ جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل کر نے سے کیا وہ اسلام کے خلاف ہو سکتا ہے؟ یہ شک پیدا ہوسکتا ‏ہے۔ اس شک کو دور کر نے کے لئے ہی اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اختیار رکھنے والوں کی بھی اطاعت کرو۔ 

اللہ اور اس کے رسول کی جب اطاعت کی جا تی ہے تو اس میں اطاعت کے قابل اور ناقابل اطاعت دو الگ حالات نہیں ہوتے۔ سب کچھ قبول کر ‏تے ہوئے ہمیں پوری طرح سے اطاعت کر نی ہی چاہئے۔ لیکن جب حاکموں کی اطاعت کی جاتی ہے تو ان کے احکام قرآن اور سنت رسول کے ‏خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ یاقرآن اور سنت رسول کے موافق بھی ہو سکتا ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسول کی سنت سے جو موافق ہو صرف اسی میں حاکموں کی اطاعت کر نی چاہئے۔ اسی لئے اس آیت کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ’’(کسی ‏معاملے میں ) اگر اختلاف رائے پیدا ہو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کے پاس لے جانا چاہئے۔‘‘

اس لئے یہ آیت عالم دین کی اطاعت کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے۔ خلاف دین کے معاملے میں حاکموں کو اطاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ‏ہے۔ 

عام طور سے ان پر لوگ جو بے حد عقیدہ رکھے ہوئے ہیں اسی کو بنیاد رکھ کر صاحب اختیار لوگ عام لوگوں کو دھوکہ دیتے اور گمراہ کرتے ہوئے ‏آرہے ہیں۔ ایسے دھوکہ بازوں سے لوگوں کو بچانے کے لئے اور انہیں جگانے کے لئے یہ آیت بہت ہی مددگار ثابت ہے۔ 

ایک انسان کتنا بھی بڑا حاکم ہو ، عالم ہو، بزرگ ہو، صاحب اختیار ہو ، وہ جو کہتے ہیں اگر قرآن اور نبی کریم ؐ کی رہنمائی کے موافق ہو تو ہی ان کا کہا مانا جا ‏سکتا ہے۔ اس پیمانے کو ہمیشہ یاد رکھنے والوں کو دین کے نام سے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا۔   

‏‏119۔ کھال ہی میں درد کے احساس کی رگیں ہیں

‏اس آیت (4:56) میں کہا گیا ہے کہ جہنمیوں کی کھال جب بھی جل جاتی ہے تو ہم دوسری کھال بدلتے رہیں گے تاکہ وہ لوگ عذاب چکھتے ‏رہیں۔ 

درد کے احساس کی رگیں انسان کی کھال ہی میں ہیں۔ اب تحقیق کیا گیا ہے کہ کھال جب جل جاتی ہے تو دماغ اس کو محسوس نہیں کرتا۔ 

ایک چھوٹا سا زخم پیدا ہوتا ہے تو انسان تڑپ جا تا ہے۔ لیکن بدن کا زیادہ تر کھال جلا ہوا انسان تڑپے بغیر پڑا رہتا ہے۔ اصل میں وہ سادہ زخم والے ‏سے زیادہ تڑپنا چاہئے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی درد کے بغیر سویا ہوا ہے۔ 

سائنسدانوں نے اس کا سبب دریافت کیا ہے کہ زخم کے درد کو محسوس کرنے کی کھال جب جل جاتی ہے تو اس کو کوئی درد محسوس نہیں ہوتا۔ 

چودہ سو سال کے پہلے نبی کریم ؐ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟

قرآن مجید ’’ان کی کھال جب جل جاتی ہے تو اس کو ہم بدل ڈالیں گے‘‘ کہنے کے بجائے ’’انہیں درد کا احساس دلانے کے لئے ہی بدل ڈالیں گے‘‘ ‏کہا گیا ہے۔ چودہ سو سال کے پہلے ہی اس طرح کہنا انسان کو پیدا کر نے والے خالق ہی کہہ سکتا ہے۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے، اس کے لئے یہ بھی ایک مضبوط دلیل ہے۔   

‎118‎۔ مسلمانوں کی فتح کے متعلق پیشنگوئی

‏نبی کریم ؐ مکہ میں بہت ہی مشکل حالات میں اور کمزور ی کے عالم میں تھے اس وقت یہ آیت 73:20 نازل ہوئی۔ 

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ آدھی رات یا ایک تہائی رات نماز پڑھو تو کافی ہے۔ 

اس طرح کہتے وقت یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ جان رکھا ہے تم میں مریض اور اللہ کی راہ میں جہادکر نے والے بھی پیدا ہوں گے۔

ہر کوئی کہہ سکتا ہے کہ مریض پیدا ہوں گے۔لیکن مسلم بن کر رہنا ہی دشوار رہنے کے اس زمانے میں یہ آیت کہتی ہے کہ اس امت میں اللہ کی راہ ‏میں جہاد کر نے والے پیدا ہوں گے۔

اللہ کی راہ میں جہاد کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکومت بنا کر فوج جمع کرکے جنگ کر نا ہے۔ 

ان حالات میں کوئی بھی پیشنگوئی نہیں کر سکتا کہ اس طرح جنگ کر نے والے پیدا ہوں گے ۔ لیکن اللہ کے فرمان کے مطابق تھوڑے ہی عرصے ‏میں ایک عظیم اسلامی حکومت نافذ ہوئی اور اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والے پیدا ہوئے۔ 

اس طرح پیشنگوئی کیا جانایہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے کے لئے کئی دلیلوں میں سے ایک ہے۔   

‏117۔ اگر پانی نہ ملا تو تیمم‏

آیت نمبر 5:6 کہتی ہے کہ نماز کے پہلے ہاتھ، پاؤں اور صورت دھو کر پاکیز ہ کر لینا ضروری ہے۔ 

اگر مجامعت کیا ہو تو اس وقت ہاتھ، پاؤں اور چہرہ دھونا ہی کافی نہیں۔ بلکہ غسل کر نا بھی ضروری ہے۔ 

اس طرح پاکیزہ ہونے کے لئے اگر پانی نہ ملے تو کیا کرنا چاہئے؟ اس کے لئے جو کفارہ ہے، اس کو یہ آیت 5:6 کہتی ہے۔

دونوں ہتھیلیوں سے مٹی کو چھو کر چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مل کرنماز پڑھ لے سکتے ہیں۔ اس طرح مل لینا دونوں صفائی کے لئے کفارہ ہوگا۔ 

یہاں بعض لوگوں کو ایک اہم سوال پیدا ہو سکتا ہے۔۱ہم سوال پیدا ہوسکتا ہے یعنی پانی سے پاکیزگی ہو سکتی ہے، لیکن مٹی ، پہلے ہی سے جو پاکیزگی ‏موجود ہے، اس کو بھی وہ نکال دے گی۔ اس لحاظ سے اس طرح کہا جانا تھا کہ اگر پانی نہ ملے تو صفائی کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، یا نماز کو چھوڑ سکتے ‏ہیں۔ ایسا شک پیدا ہو سکتا ہے۔ 

اللہ جو کہتا ہے اس میں کچھ مصلحت ہوگا۔ آئندہ اس کو اللہ ہمیں ظاہر کرے گا۔ پاکیزہ مٹی کو ملنے کی وجہ سے جو فائدے حاصل ہوتے ہیں وہ مستقبل ‏میں انکشاف ہو سکتا ہے۔ 

پھر بھی اس سے ایک فائدہ ہوتا ہے،اس کو ہم اب کہہ سکتے ہیں۔ لگاتار جب ہم ایک کام کرتے ہیں ، اگروہ ایک دن ہم سے چھوٹ جائے تو پھر لگاتار ‏اس کو چھوڑ دینے کی عادت بن جا نا ہماری فطرت ہے۔ 

اس لئے اگرکہا جائے کہ پانی نہ ملے تو نماز نہ پڑھو تو انسان نماز پڑھنا ہی چھوڑ دے گا۔ 

اگر کہا جائے کہ پانی نہ ملے تو بغیر پاکی کے نماز پڑھ سکتے ہیں تو ہر نماز کے پہلے پاک ہو نے کا احساس ہی وہ بھول جائے گا۔

انسان کو پیدا کر نے والا اللہ انسان کی دلی کیفیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس لئے بہت بڑی نفسیاتی بنیاد پر اس متبدل طریقے کو اللہ نے قائم کیا ‏ہے۔ 

مٹی پاک کرتی ہے یا نہیں، لیکن ہمیشہ یہ ذہن میں رہے گا کہ نماز کے پہلے پاکیزگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس وقت ہی انسان پانی کی تلاش کر ے ‏گا۔ اگر پانی نہ ملے تو اس متبدل طریقے کو اپنائے گا۔ 

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان بغیر کوئی منصوبہ کے نماز کے پہلے فطری طور پر پاکیزگی اختیار کر تے ہیں۔ 

‏’’اگر وہ نہ کر سکے تو یہ تو کرو‘‘ کہنے سے وہ دستور عمل میں رہے گا۔ وہ متبدل طریقہ بھی بالکل آسانی سے دستیاب ہونا چاہئے۔

مٹی نہ ملنے کا موقع بہت کم ہے۔ 

اس کو اور کوئی بہتر سبب بھی ہوسکتا ہے۔

مٹی کو استعمال کرو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مٹی کو سارے جسم میں مل لو۔ بلکہ دونوں ہتھیلیوں سے مٹی کو چھو کر منہ سے پھونک ما رکر خالی ہاتھوں ‏سے چہرے پر اور کلائی تک دونوں کو ہاتھوں پر مل لینا چاہئے۔ کہنیوں تک مل نے کی ضرورت نہیں۔ اور پھر چہرے پر مل نے کے لئے ایک باراور ‏ہاتھوں پر مل نے کے لئے ایک بارمٹی کو چھونے کی ضرورت نہیں۔ ایک بار چھو کر چہرے پراور دونوں ہاتھوں کی کلائی تک مل لے سکتے ہیں۔ 

اگر غسل فرض ہوجائے تو سارے بدن پر مٹی لے کر مل نا نہیں چاہئے۔ اس حالت میں بھی مندرجہ بالا طریقہ ہی کافی ہے۔ یہی نبی کا طریقہ بھی ‏ہے۔ (دیکھئے بخاری: 326، 327، 329، 330، 335)

اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ مٹی کو چھونا ایک نشانی بنایا گیا ہوا ہے۔   

‏116۔ بتدریج مٹائے گئے نشہ کی عادت 

‏آیت نمبر 16:67 میں کہا گیا ہے کہ ہر وقت نشہ کی حالت میں رہنے والے اس زمانے کے لوگوں کو شراب پینا پہلے روکا نہیں گیا تھا۔

پھر بتدریج اس کی ممانعت اترتی رہی۔ 

آیت نمبر4:43 کہتی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھنے کا حکم ابتداء میں اتاری گئی تھی۔ 

نماز کے وقت نشہ میں نہ رہنا چاہئے ، اس کا مطلب ہے کم از کم ایک گھنٹے کے پہلے ہی پینا روک دینا چاہئے۔ پانچ قت کی نماز کے پہلے اسطرح روک ‏دینے سے پینے کی عادت زیادہ تر کم ہوی۔

اس کے بعد آیت نمبر 2:219 میں فرمایا گیا کہ بغیر پئے رہنا ہی بہتر ہے۔ 

پھر آیت نمبر 5:90,91 کہتی ہے کہ شراب ہینا مکمل طور پر روک دیا گیا۔   

‏115۔ زناکاری کے لئے سزا

‏یہ آیت (24:2) کہتی ہے کہ مرد ہویا عورت زناکاری میں مبتلا ہوں تو انہیں سو کوڑوں کی سزا دینی چاہئے۔لیکن نبی کریم ؐ نے زناکاری کی سزا کو ‏دو طریقے سے بانٹ دیا۔

شادی شدہ لوگ اگر زناکاری کر یں تو انہیں سزائے موت اور بغیر شادی شدہ لوگ اگر زناکاری کریں تو انہیں سو کوڑوں کی سزا انہوں نے مقرر ‏کیا۔ 

‏(دیکھئے بخاری: 2649، 2696، 2725، 6633، 6828، 6836، 6843، 6860، 7195، 7260، 2315، 5270، ‏‏5272، 6812، 6815، 6820، 6824، 6826، 6829)

بعض لوگ بحث کر تے ہیں کہ قرآن مجید میں زناکاری کی سزا سو کوڑے ہی کہا گیا ہے ، اس لحاظ سے زناکاری کو سزائے موت نہیں ہے۔اور وہ یہ بھی ‏کہتے ہیں کہ زناکاری کی سزا دو طریقے جوحدیث میں بانٹا گیا ہے وہ قرآن کے خلاف ہے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ ’’اللہ نے واضح طور پر کہہ دیا کہ زنا کرنے والے مرد ہوں یا عورت انہیں سو کوڑے ہی سزا ہے۔ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ‏کہہ کر اللہ نے الگ نہیں کیا۔ اس لئے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ، سب کے لئے زناکاری کے لئے سو کوڑے ہی ان کی سزا ہے، سزائے موت ‏نہیں۔ 

زناکاری کے لئے دو قسم کی سزا نہیں ہو سکتی،اس دعوے کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے وہ لوگ ایک اور دلیل پیش کر تے ہیں۔ 

آیت نمبر 4:25میں کہا گیا ہے کہ شادی شدہ کنیزیں زنا کاری کریں تو شادی شدہ آزاد عورتوں پر جو سزا دی جاتی ہے اس میں آدھا ان عورتوں کو ‏بھی دی جائے گی۔ 

اگر ان کی سزا سو کوڑے ہوں تو اس میں سے آدھا پچاس کوڑے ہوں گے۔ اگر ان کی سزا سزائے موت ہو تو وہ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس میں ‏آدھا کیا ہوسکتا ہے؟ 

قرآن کے خلاف جو حدیثیں ہیں وہ قابل قبول نہیں ہو سکتا، یہ تو ٹھیک بات ہے۔ لیکن زناکاری کے لئے سزائے موت جو ہے وہ قرآن کے خلاف ‏نہیں ہے۔ اس لئے ہم اس دعوے کو ماننے والے نہیں ہیں۔ 

نبی کریم ؐنے زناکاری کے لئے دو قسم کی سزائیں جو سنائی ہیں اور اس کو مروج کی ہیں کیاوہ قرآن کے خلاف ہے؟ کیا ان کے سوالات معنی خیز ہیں؟ ‏غور کرو تو ان کا دعویٰ قطعی غلط ہے۔ 

آیت نمبر 4:25 کے ایک حصہ میں کہا گیا ہے کہ ’’شادی شدہ آزاد عورتوں پر جو سزا تعین کیا گیا ہے اس میں سے آدھا ہی ان عورتوں پر بھی مقرر ‏ہوگا‘‘ یہی ان کے دعوے کی دلیل ہے۔ 

قرآن میں اگر ایساکہاگیا ہوتا تو ان کے دعوے کو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مترجم اس کو غلط انداز سے ترجمہ کر نے کی بنیاد پر ہی یہ دعویٰ اٹھایا گیا ہے۔ 

آیت نمبر 4:25 میں’’شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا میں آدھا ہی ان عورتوں کو ہے‘‘اس طرح ترجمہ کئے جانے کے مقام میں المحصنٰت کا لفظ ‏استعمال کیا گیا ہے۔ 

یہ لفظ کئی معنوں والا ہے۔ استعمال ہو نے والے جگہ کے مطابق اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ ایک جگہ جو معانی لیا جا تا ہے ، اسی کوسب جگہوں میں ‏استعمال نہیں کر سکتے۔ 

اس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یا کافی غورو فکر نہ ہونے کی وجہ سے اس آیت میں استعمال شدہ المحصنٰت کے لفظ کو شادی شدہ عورت کے معانی سے ترجمہ ‏کیا گیا ہے۔ اسی ترجمہ کی بنا پر مندرجہ بالا بحث اٹھایا جاتا ہے۔ 

قرآن مجید میں استعمال شدہ المحصنٰت کے لفظ پر اگر غور کریں توہم جان سکتے ہیں کہ اس جگہ ہم کس طرح معانی لینے سے ٹھیک رہے گا۔ 

آیت نمبر 4:25 میں المحصنٰت کا لفظ جس طرح جگہ پایا ہے اسی طرح اس سے پہلے کی آیت نمبر 4:24 میں بھی جگہ پایا ہے۔ 

آیت نمبر 4:24 والمحصنٰت سے شروع کیا گیا ہے۔جس سے شادی کر نا منع ہے ، اس فہرست کو پہلے کی آیت میں کہنے کے بعد اللہ نے اسی سلسلہ ‏میں فرماتا ہے کہ محصنٰت بھی نکاح کے لئے منع کئے گئے ہیں۔ 

اس جگہ میں شوہر والی یا دوسرے کی بیوی کے معانی لے سکتے ہیں۔ اس کو ایسے ہی سمجھنا چاہئے۔ اس جگہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جودوسرے کی بیوی ‏ہے اس سے نکاح نہ کر نا چاہئے۔ 

اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے آیت نمبر 5:5 دیکھئے۔ اس آیت میں بھی وہی المحصنٰت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

اجازت دی ہوئی چیزوں کے بارے میں کہتے وقت اس سلسلہ میں یہ آیت کہتی ہے کہ محصنٰت بھی نکاح کے لئے اجازت دئے گئے ہیں۔ 

آیت نمبر 4:24 میں محصنٰت سے شادی کر نا جائز نہیں کہہ کر آیت نمبر 5:5 میں اللہ کہتا ہے کہ محصنٰت سے شادی کر سکتے ہو۔ 

آیت نمبر4:24 میں محصنٰت کے لئے جو معنی دئے تھے اسی معنی کو آیت نمبر 5:5 کودے نہیں سکتے۔ اگر ایسا کروگے تو غیر کی بیوی سے شادی ‏کرنا جائز ہو جا ئے گا۔ 

آیت نمبر 5:5 میں’’غیر شوہر والی عورتیں محصنٰت‘‘ کہلاتی ہیں۔ 

آیت نمبر 4:24 میں ’’شوہروں کے ساتھ جینے والی عورتیں محصنٰت‘‘ کہلاتی ہیں۔ 

وہاں کامعنی یہاں دینااور یہاں کا معنی وہاں دیناجہالت ہے۔ 

اجازت دی گئی ہے اور منع کی گئی ہے ، ان دو مختلف جملوں کی ترکیب کو رکھ کر اس کے مطابق معنی دیا جاتا ہے۔ دونوں ہی اس جملے کے لحاظ سے ‏ٹھیک معنی رہنے کے باوجود اس جگہ کے مطابق ہی معنی لینا ہے۔ 

المحصنٰت کے لفظ کو ان معانی کے علاوہ اور بھی معانی ہیں۔ چند جگہوں میں وہ دونوں معانی بھی ناموزوں ہو جائے گا۔ 

قرآن مجید کی 24:4 ، 24:23 آیتوں میں محصنٰت عورتوں پر جو کوئی تہمت لگائے ...کہا گیا ہے۔

یہا ں پر ’’جو کوئی شادی شدہ عورتوں پرتہمت لگائے‘‘ کا معنی نہیں لے سکتے۔ اگر اس طرح معنی کیا گیا تو سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا غیر شادی ‏شدہ عورتوں پر تہمت لگا سکتے ہیں؟ 

‏’’جو کوئی غیر شادی شدہ عورتوں پر تہمت لگائے‘‘اس طرح بھی معنی نہیں کرسکتے۔ اگر اس طرح معنی کیا گیا تو سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا شادی ‏شدہ عورتوں پر تہمت لگا سکتے ہیں؟ 

یہاں پر اس کا معنی ہے عصمت و اخلاق کی حفاظت کر نے والے۔اس لفظ کو یہ معنی بھی ہے۔ پاک باز عورتوں پر تہمت لگا نے والے ان ‏دونوںآیتوں میں انتباہ کئے جاتے ہیں۔ 

آیت نمبر 4:25 میں کہا گیا ہے کہ ’’محصنٰت عورتوں کوجو سزا دی جاتی ہے اس میں سے نصف سزا کنیزوں کو ہے‘‘۔یہاں محصنٰت کے لفظ کو شوہر ‏والی عورتوں کو دی جانے والی سزامیں نصف سمجھیں یا غیر شوہر والی عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف سمجھیں؟ 

دونوں طریقے سے معنی سمجھنے کی طرح جملے کی ترکیب بنی رہنے کے باوجود اس جگہ میں غیر شوہر والی عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف کا معنی ‏ہی لینا چاہئے۔ اس کے لئے جائز وجہ بھی ہے۔ 

المحصنٰت کا لفظ اس سے پہلے کی آیت میں شوہر والی عورتوں کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اس کو ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ 

صرف پہلے کی آیت ہی میں نہیں بلکہ اسی آیت کی ابتداء میں بھی المحصنٰت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی اس( 4:25) آیت کی دو نوں جگہوں میں ‏المحصنٰت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 

‏’’تم میں سے جس کو محصنٰت سے شادی کر نے کی استطاعت نہیں ہے‘‘

‏’’محصنٰت عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف‘‘

یہی وہ دو مقام ہیں۔ 

پہلے جو جگہ پائی ہے اس المحصنٰت کویہ معنی نہیں دے سکتے کہ ’’شوہر والی عورتوں سے شادی کرنے کی جس کو استطاعت نہیں ہے ‘‘۔ کیونکہ شوہر ‏والی عورتوں سے شادی کر نا بالکل منع ہے۔ اس لئے اس کو یہی معنی دینا چاہئے کہ ’’غیر شوہر والی عورتوں سے شادی کر نے کی جس کو استطاعت نہ ‏ہو!‘‘

چونکہ اس سے پہلے کی آیت میں محصنٰت کو شوہر والی عورت کے معنی میں استعمال کر نے کے باوجود اس آیت کی ابتداء میں غیر شوہر والی عورتوں ہی ‏کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ 

لحاظہ اس آیت میں دوسری بار استعمال کیا ہوا المحصنٰت کے لفظ کو اسی آیت میں اس سے پہلے استعمال کیا ہوا المحصنٰت کا معنی ہی دینا چاہئے۔ 

پہلے کی آیت میں المحصنٰت کا لفظ کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اس کو جاننے سے زیادہ اس آیت میں کس معنی سے استعمال ہوا ہے، یہ جاننا ہی صحیح ‏ہوگا۔ 

اس لحاظ سے محصنٰت عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف کے جگہ میں’’ شادی شدہ عورتوں کو دی جانے والی سزامیں نصف‘‘ کا معنی دینے سے ‏زیادہ ’’غیر شادی شدہ عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف‘‘ کا معنی دینا ہی صحیح ہوگا۔ 

اس طرح صحیح معنی دینے سے ان کا دعویٰ جڑ سے اکھڑ جا تا ہے۔ کیونکہ غیر شادی شدہ عورتیں بدکاری کریں تو ان کی سزا سو کوڑے ہی ہیں۔ اس میں ‏سے آدھا پچاس کوڑے ہوں گے۔ 

شوہر والی عورتیں اور غیر شوہر والی عورتیں جیسے مختلف دو معانی دینے والے اس لفظ کو دوسرا معنی ہی اس آیت کے لئے موزوں ہے، اس کے لئے ‏ایک اور اہم وجہ بھی ہے۔ 

زناکاری کے لئے سزا میں نصف کہنے کے بجائے اللہ کہتا ہے کہ محصنٰت عورتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف ہے۔ 

محصنٰتوں کے لئے ایک سزا اور غیر محصنٰتوں کے لئے ایک سزا ، اس طرح دو قسم کی سزا ہوتو ہی ایساکہا جا سکتا ہے۔ 

دو قسم کی سزا اگر نہ ہو اور سب کے لئے ایک ہی سزا ہو تو یہ کہنے کے بجائے کہ محصنٰتوں کو دی جانے والی سزا میں نصف ہو گا، یہی کہا ہوگا کہ زناکاری ‏کی سزا میں نصف ہے۔

اس سے ہم بغیر کسی کے شک کے جان سکتے ہیں کہ زناکاری کے لئے دو قسم کی سزائیں ہیں۔ 

اس حالت میں محصنٰتوں کی سزا میں نصف کہا گیا توہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جو نصف ہو سکتا ہے اسی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ہم یہ نہ سمجھنا چاہئے ‏کہ جو نصف نہیں ہو سکتا اس کے بارے میں کہا گیاہے۔ 

اس لئے یہاں جو محصنٰت کہا گیا ہے غیر شادی شدہ عورتوں کی سزا میں نصف کا معنی ہی سمجھنا چاہئے ۔ اس سے یہی مطلب ظاہر ہو تا ہے کہ شادی شدہ ‏عورتوں کو دوسری سزا موجود ہے۔ 

اسی کو نبی کریم ؐ نے سزائے موت فرمایا ہے۔ اس لئے نبی کریم ؐ نے جو دو قسم کی سزائیں سنائی ہیں ، وہ اس آیت (4:25) کی تشریح ہے ، اس کے سوا ‏ہم یہی سمجھنا چاہئے کہ اس میں کوئی اکتلاف نہیں ہے۔ 

 ‏114۔ نکاح کے ناقابل لوگوں سے اگر نکاح کی ہو تو

اس(4:23) آیت میں کہا گیا ہے کہ دو بہنوں سے شادی نہیں کر ناچاہئے، جو ختم ہوگیا اس کے سوا۔

اس آیت کو بعض لوگ غلطی سے سمجھ کریہ خیال کر تے ہیں کہ پہلے ہی بیوی کی بہن سے اگر شادی کی ہو تو ان سے زندگی کی متواتر کو برقرار رکھ سکتے ‏ہیں۔ 

‏’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘کا استثناء صرف دو بہنوں کو ایک ہی وقت میں نکاح کرنے کے متعلق ہی نہیں۔بلکہ پہلے یہ سمجھ جانا چاہئے کہ اس آیت ‏میں جو 13 باتیں کہی گئیں ہیں ان سب کے لئے عام ہے۔ 

مثال کے طور پر اپنی خاص بہن سے اگر شادی کی ہوتو اس میں یہ بھی ایک ہے۔جو کہا گیا ہے کہ ’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘ یہ اس کے لئے بھی ‏موزوں ہے۔ 

فرض کرو کہ اسلام قبول کر نے سے پہلے کوئی شخص اپنی خاص بہن سے شادی کر لی ۔اگر سوال اٹھے کہ وہ اسلام قبول کر نے کے بعدکیا اس رشتے کو ‏قائم رکھ سکتا ہے تو سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ نہیں رکھ سکتے۔ ’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘کہنے کی وجہ سے کوئی یہ دعویٰ نہیں کر تا کہ پہلے کی اس ‏شادی کو قائم رکھ سکتے۔ 

غلط شادی کر نے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے اس کو معاف تو کیا جا سکتا ہے ، لیکن اس گناہ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ 

اسی طرح بڑی بہن اور چھوٹی بہن دونوں سے شادی کئے ہوئے مرد اگراسلام قبول کرلیں تو ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ ہی زندگی جاری ‏رکھنا چاہئے۔ جو پہلے ہو چکا وہ گناہ معاف کر دیا جائے گا۔ 

‏’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘کا مطلب ہے کہ نفرت انگیز عمل جوپہلے ہوچکا اس کے لئے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسی عمل کو دوہرانے کی وہ اجازت ‏نہیں ہے۔ 

اسی طرح اس سے پہلے کی آیت 4:22 کہتی ہے کہ باپ کے بیوی سے بھی شادی نہ کریں۔ ’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘کااستثناء اس آیت میں بھی ‏کہا گیا ہے۔ 

اسلام کے قبول کر نے سے پہلے یا اسلامی قانون کو جاننے سے پہلے اگر کوئی اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی ہو تواس سے یہ نہ سمجھنا کہ اس رشتہ کو ‏جاری رکھ سکتے ہیں۔ بلکہ یہی سمجھنا کہ اب تک جو گناہ سرزد ہوا اللہ اس پر گرفت نہیں فرمائے گا۔ 

آج کے اس دور میں کئی ہندؤں نے اپنی بڑی بہن کی لڑکی سے شادی ہو نے کی صورت میں اسلام قبول فرمالیا ہے۔ وہ لوگ اسلام قبول کر نے کے ‏بعدقرآن کی منع کی ہوئی اس نا اہل شادی کی بندھن سے چھوٹ جانا چاہئے۔ ’’جو ختم ہو گیا اس کے سوا‘‘کو غلط انداز سے سمجھ کر غیرمناسب شادی ‏کوجاری نہ رکھیں۔ 

کیونکہ اس آیت (4:23) میں کہا گیا ہے کہ بہن کی لڑکی بھی شادی کر نے کے لئے ممانعت کی گئی ہے۔

ایک اور اہم چیزپر بھی ہم دھیان رکھنا چاہئے۔ غیر مناسب طریقے سے نکاح کر نے والے اس رشتہ سے الگ ہٹ جانے پر ہی وہ اسلام میں شامل ہو ‏سکتے ہیں، ایسا کوئی شرط نہیں۔ 

اگر اسلام کو قبول نہ کریں تو ہمیشگی کی جہنم نصیب ہوگی۔ اسلام کو قبول کر نے سے اس سے وہ نجات پا سکتے ہیں۔ 

نا مناسب شادی کے رشتے کو جاری رکھنے کی وجہ سے اگر اللہ نے اس کو معاف کر دیا تو وہ سزا سے بچ جائے گا۔ اگر اس کو معاف نہ کیا گیاتو اس گناہ کا ‏جو سزا ہے ، اسے وہ پائے گا۔ ہمیشگی کی جہنم نہیں ہوگی۔ 

روایتی مسلمان بن کر غلط طریقے کو اپنائے ہوئے مسلمانوں کی طرح ہی یہ سمجھا جائے گا۔ 

اس لئے صرف اس قانون کو ہم ان جیسوں کو کہنا چاہئے۔ ایسا نہیں کہنا چاہئے کہ رشتوں کو اگر توڑدو گے ہی تو اسلام میں داخل ہو سکوگے۔

More Articles …