Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏129۔ عورتوں کے بارے میں دینی فیصلہ

‏اس آیت (4:127) میں اور اس کے بعد آنے والی آیتوں میں بھی عورتوں کے بارے میں چند احکام اللہ فرماتا ہے۔اس طرح کہنے سے قبل ‏عورتوں کے متعلق پہلے جو احکام فرمایا تھا اسے یاد دلاتا ہے۔ 

یہاں جو اللہ یاد دلاتا ہے وہ آیت نمبر 4:2 سے 4:9 تک ہے۔   

‏128۔ قرآن کے علاوہ ایک اور وحی

‏کتاب کی بنیاد پر فیصلہ کر نے کو کہنے والی یہ آیت (4:105) ایک اور اہم خبر بھی دیتی ہے۔ 

اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ نے تمہیں جو بتلایا اس بنیاد پر لوگوں کے درمیان تم فیصلہ کر نے کے لئے حق کو اپنے اندر سمائے ہوئے اس کتاب ‏کو ہم نے تم پر نازل کی ہے۔

اللہ نے تمہیں جو بتلایا اس بنیاد پر تم فیصلہ کر نا چاہئے، یہ جملہ کیا کہتا ہے؟اللہ نے قرآن عطا کر کے اپنی رہنمائی کو ختم نہیں کرلیا۔ قرآن مجید کو بنیاد بنا ‏کر کس طرح فیصلہ کر نا چاہئے ، اس کی تشریح بھی نبی کریم ؐ کو اللہ بتلائے گا۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ اسی کے مطابق نبی کریم ؐ فیصلہ کر نا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ کو اللہ بتلائے گا کہ جس کی وضاحت ضروری ہے اس ہر ایک آیت کی تشریح یہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جو اللہ نے دکھایا اس مطابق ‏انہیں فیصلہ کر نا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ کی وضاحت اگر ضروری نہ ہو تاتو اللہ نے اس طرح نہیں کہا ہوگا۔ 

نبی کریم ؐکو اللہ نے جو بتلایا تھا اس کو بنیاد بنا کر نبی کریم ؐ نے جو فیصلہ کیا تھا ، اس کے بارے میں غور کر نے والے حدیثوں کا انکار نہیں کریں گے۔ 

قرآن مجید کے ساتھ سنت رسول کی بھی ضرورت ہے، اس کے لئے یہ ایک اور سند ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏127۔ امن کی حالت میں نماز کا طریقہ

‏میدان جنگ کی نماز کے متعلق کہنے کے بعداس آیت (4:103)میں اللہ فرماتا ہے کہ امن کی حالت کو پاؤ تو نماز قائم کرو۔ 

لیکن خوف کی حالت میں کس طرح نماز پڑھی جائے ، اسی کو قرآن میں کہا گیا ہے۔ امن کی حالت میں کس طرح نماز پڑھی جائے ، وہ نہیں کہا گیا۔ 

امن کی حالت میں کس طرح نماز پڑھنا ہے اس کو نبی کریم ؐ نے اپنی ساری زندگی میں عمل کر کے دکھایا۔ اسی کو اللہ نے یہاں اشارہ کیا ہے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید کے چند احکام کو سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت بہت ضروری ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏126۔ میدان جنگ کی نماز

‏یہ آیت (4:102) کہتی ہے کہ میدان جنگ میں کس طرح نماز پڑھی جائے۔ 

میدان جنگ میں اور اس خوف کی حالت میں کہ کہیں دشمن حملہ نہ کردے، امام دو رکعت کی نماز پڑھائے گا۔ لیکن لوگ دو جماعت میں بٹ جانا ‏چاہئے ۔ ایک جماعت میدان میں کھڑے ہوں اور دوسری جماعت امام کے ساتھ مل کر نماز پڑھیں۔ایک رکعت ختم ہو نے کے ساتھ وہ لوگ ‏میدان میں چلے جائیں ۔ جو جماعت نماز نہیں پڑھی وہ آکر نماز میں شامل ہوجا نا چاہئے۔ وہ لوگ آنے تک امام صاحب نماز کو طویل کر تے جائیں۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں میدان جنگ کی ساری نمازیں ایک رکعت کی ہیں۔ 

لیکن اس بات کوکہ امام دو رکعت نماز پڑھیں عام نہ سمجھیں۔ 

کیونکہ اس آیت کی ابتداء میں کہا گیا ہے کہ ’’تم ان کے ساتھ رہ کر‘‘ اور ’’اگر تم ان کے لئے نماز پڑھاؤ تو‘‘ ۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ نبی ‏کریم ؐ ہی کے لئے خاص قابلیت ہے۔ 

نبی کریم ؐ کی زندگی میں صرف ایک جماعت کو نماز پڑھا کر دوسری ایک جماعت کو نماز پڑھے بغیر چھوڑدیں تو وہ لوگ آزردہ ہوں گے۔ 

نبی کریم ؐ کی پیروی کر تے ہوئے نماز ادا کر نے کی سعادت سب لوگوں کو ملنی چاہئے، اسی لئے اللہ نے یہ حکم فرمایا۔

نبی کریم ؐ کے سوا دوسرے لوگ امامت کریں تونماز پڑھاتے وقت وہ ایک رکعت نماز ختم کرلیں۔ دوسری جماعت اپنے ہی میں سے ایک امام کو ‏مقرر کر کے ایک رکعت نماز پڑھیں۔ 

اس آیت کو غور سے دیکھنے والا ہر کوئی اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ یہ نبی کریم ؐ کے لئے مخصوص قانون ہے۔   

‏125۔ سفر میں نماز کم کرنا

‏اس آیت( 4:101)میں کہا گیا ہے کہ سفر کے موقع پر نماز میں کمی کرلیں۔

اس کے لئے ایک شرط بھی رکھا گیا ہے۔وہ شرط یہ ہے کہ دشمنوں کے ذریعے سے اگر کوئی آفت آنے کا اندیشہ ہو تو تم نماز میں کمی اختیار کر سکتے ‏ہو۔ 

آج اس غیر اندیشہ کی حالت میں بھی سفروں میں ہم نماز میں کمی کرلیتے ہیں۔ نبی کریمؐ بھی غیر اندیشہ کی حالت میں سفروں میں نماز کم کرلیا کرتے ‏تھے۔ 

بعض لوگوں کو محسوس ہو گا کہ یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ اندیشہ کی حالت ہی میں نماز میں کمی کر سکتے ہو۔اس لئے غیر ‏اندیشہ کی حالت میں بھی نماز میں کمی کرسکتے ہو کہنا قرآن کے خلاف معلوم ہو تا ہے۔ 

حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں۔ نماز میں کمی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ 

‏* ایک یہ کہ خوفزدہ ماحول میں اور میدان جنگ میں

‏* دوسرا یہ کہ بے خوف کی حالت میں سفر میں کم کرنا

یہ دونوں حالت میں کمی الگ الگ قسم کے ہیں۔

خوفزدہ ماحول میں اور میدان جنگ میں نماز کم کرنے کا مطلب ہے ہر نماز کوایک ایک رکعت سے ختم کرلینا ہے۔ 

وہ چار رکعت کی نماز ہو ، تین رکعت کی ہو یا دو رکعت کی ، اس کے بدلے میں ایک رکعت نماز ہی کافی ہے۔ 

اس کو اگلی آیت (4:102) سے معلوم کر سکتے ہیں۔

اس لئے ایک رکعت میں کم کرلیناصرف خوفزدہ ماحول ہی میں ہے۔ بے خوف کے ماحول میں ایک رکعت پڑھنا اس آیت کے خلاف ہوگا۔ 

لیکن نبی کریم ؐ نے معمول سفرمیں ایک رکعت نہیں پڑھا۔ بلکہ صرف چار رکعت نماز ہی کو دو رکعت میں کم کر دیا۔ دوسری کسی نماز کو کم نہیں کیا۔ 

ایسا کم کرنا اس آیت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ کمی ایک اور قسم کی کمی ہے جو اس آیت میں نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ کو اس قرآن کے سوا ایک اور وحی بھی آئی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معمول سفر میں بھی نماز کو کم کردیا۔ 

عام سفر میں کم کرنا الگ ہے اور خوفزدہ ماحول میں کم کرنا الگ ہے۔ اگر اس کو سمجھ لیں تو کوئی الجھن نہیں آسکتی۔ 

چند حدیثیں کہتی ہیں میدان جنگ کی نماز دو رکعت ہیں اورچند حدیثیں ایک ہی رکعت کہتی ہیں۔ ایک رکعت کی اطلاع ہی قرآن سے میل رکھتی ‏ہے۔دو رکعت کی اطلاع ان آیتوں کے خلاف رہنے کی وجہ سے انہیں دلیل نہ ماننا چاہئے۔ 

جنگ میدان کی نماز کے بارے میں تفصیل سے اگرجاننا ہو تو حاشیہ نمبر 126دیکھئے!

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 127، 128، 132، 154، 164، 184، 244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏124۔ افواہ نہ پھیلائیں

‏یہ آیت (4:83) کہتی ہے کہ سنی سنائی خبریں پھیلا کر انتشار نہ پیدا کریں اوراس کو قابل لوگوں کے توجہ کی طرف لے جائیں۔ 

بھلائی کرنے کے نام سے دہشت پھیلانے کو بعض لوگ کھیل تماشہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت انتباہ کر تی ہے کہ اضطرابی خبر کو جیسے میڈیا پھیلاتی ہے اس ‏طرح مسلمان نہیں کر نا چاہئے۔ 

ایک حصے میں اگر کوئی تناؤ کی کیفیت پیدا ہو نے کی خبر پہنچتی ہے تو اس کو قابل لوگوں کو یا تحقیق کر نے والوں کے پاس کہہ دینا چاہئے ۔اس کے ‏بجائے اس کو لوگوں کے درمیان نہ پھیلائیں۔ 

‏’’وہاں دس آدمی مارے گئے اور یہاں سو گھریں جلا دئے گئے ‘‘ ان جیسی افواہوں کو پھیلانے سے جو ہنگامہ کل ہونے والاہے وہ آج ہی شروع ہو ‏جائے گا۔ قوم بھی خوف کی وجہ سے بے چین ہوجائے گی۔

اس طرح بہت بڑی غیر محفوظ کا عالم پیدا ہوجا نے وجہ سے اس کو چھپا کر یا کمی کر کے پھیلانا بھی غلط ہے۔ دیکھا جائے تو اس جیسی خبریں اگر پہنچی تو ‏رہنمائی کر نیوالے صدروں کو اس طرف توجہ دلانا چاہئے، ہم خود اسکو پھیلانا نہیں چاہئے، یہی یہ آیت کہتی ہے۔   

‏123۔ قرآن مجید جس میں کوئی اختلاف نہیں

‏ان آیتوں میں (4:82 اور 41:42) کہا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اختلاف اورغلطی نہیں ہے۔ 

آدمی جتنا بھی بڑا عقلمند ہو وہ جو کہتا ہے اس کو بھول کرپھر وہ بے ربط باتیں کہہ دے گا۔ یا بات کو غلط سمجھ کرپہلے ایک بات کہہ کر پھر اس کوٹھیک ‏سمجھتے ہوئے دوسری ایک بات کہے گا۔ 

وہ جس مسئلہ سے اور فکروں سے دو چار ہو تا ہے اس سے دلی تنگی محسوس کر تے ہوئے جو کل کہا تھا اس کو وہ آج بدل کر کہہ دیگا۔ 

لیکن اللہ کو کوئی بھول ، لاعلمی یا دلی تنگی نہیں ہے، اس لئے اللہ کی باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ 

اور یہ بھی کہ قرآن مجید یکمشت ایک ہی وقت میں نہیں اترا۔ تےئیس سالوں میں تھوڑا تھوڑا سا نازل ہوا۔ 

اگر اس کو نبی کریم ؐنے خود ہی کہا ہو تا تو 23سالوں میں کئی چیزوں میں اختلافی باتیں جگہ پائی ہوگی۔ لیکن اس قرآن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ‏اسی سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔

اور زیادہ معلومات کے لئے مقدمہ میں یہ اللہ کا کلام ہے کے عنوان کے تحت دیکھ لیں۔ 

‏  

 ‏122۔ کیا خواب کی تعبیر جان سکتے ہیں؟ 

‏ان آیتوں میں (8:43، 12:4، 12:5، 12:36، 12:37، 12:43، 12:44، 12:100، 37:102، 37:105، ‏‏48:27) مختلف خوابوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔

عام طور پر خوابوں کے بارے میں اکثر مسلمان ٹھیک معلومات نہیں رکھتے۔ خوابوں کی تعبیر کے نام سے ذہن میں جو آتا ہے اس کو بک دینے کی وجہ ‏سے اس پر بھروسہ کر کے کئی لوگ گمراہی میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ خوابوں کے بارے میں ٹھیک واقفیت حاصل کریں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایاہے کہ’’ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ملنے والی اچھی خبر ہے۔ دوسرا خواب شیطان کی طرف ‏سے غم پیدا کر نے والا خواب ہے۔ اور تیسرا خواب آدمی اپنے دل سے دیکھنے والا خواب ہے۔ ‘‘

راوی: ابو ہریرہؓ ۔ مسلم :4555 

نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’رسالت اور نبوت ختم ہوگئی ہیں۔ اس لئے میرے بعد کوئی نبی نہیں اور کوئی رسول نہیں۔ ‘‘ یہ خبر لوگوں کو تشویش پہنچانے ‏والی تھی۔ تو نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’تاہم خوشخبری دینے والی ہوگی۔‘‘ اصحاب رسول نے پوچھا کہ خوشخبری دینے والی سے مراد کیا ہے تو انہوں نے ‏کہا کہ مسلمانوں کا خواب۔

راوی: انس بن مالکؓ ۔ احمد : 13322

عبادات و بندگی اور اسلام کے قوانین پوری طرح سے ہمیں نبی کریم ؐ کے ذریعے دے دیا گیا ہے۔ اس لئے خواب کے ذریعے دین کے متعلق کوئی ‏رہنمائی کسی کو نہیں ہے۔ 

مستقبل میں ملنے والی دولت ، اولاد، منصب اور رتبہ وغیرہ بعض وقت خوابوں کے ذریعے اللہ جو پہلے ہی آگاہ کردیتا ہے، یہ پہلی قسم کا خواب ہے۔ 

تشویش پیدا کر کے عبادات میں موجود دلچسپی کم کر نے کے لئے شیطانوں کے ذریعے جو خواب دکھایا جا تا ہے وہ دوسری قسم کا خواب ہے۔ 

ہمارے دلوں کی گہرائی میں نقش شدہ خیالات بھی خواب بن کر ظاہر ہو تے ہیں۔ اس میں خوش ہو نے یا غمزدہ ہو نے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا ‏کوئی مطلب بھی نہیں ہوتا۔ یہ تیسری کی قسم کا خواب ہے۔ 

فرض کرو کہ کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے کوئی خواب میں دیکھتا ہے کہ’’ اس رات میں اتنی نماز پڑھو۔‘‘ یقیناً یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا خواب نہیں ‏ہے۔ کیونکہ نبی کریم ؐکے ذریعے اللہ نے ہمیں بتا دیا کہ کن کن دنوں میں کتنی نماز پڑھی جائے ۔اس میں نبی کریم ؐ نے کوئی کمی نہیں رکھی۔ 

اگر یہ اللہ کی طرف سے آیا ہواخواب ہے تو تمام مسلمانوں کے خوابوں میں بھی اس طرح کہنا چاہئے تھا۔ عبادات کے معاملے میں سب برابر ہیں۔ ‏دین کا کوئی اچھا کام ایک ہی شخص کو دکھا کر دوسروں کو بتائے بغیررہنا یہ اللہ کے عدل کے خلاف ہے۔ 

اگر کوئی خواب دیکھتا ہے کہ ’’اس جگہ میں ایک بزرگ مدفن ہیں، ان کے لئے اس جگہ پر ایک درگاہ تعمیر کرو‘‘ تو یہ خواب بھی شیطان کی طرف ‏سے آیا ہوا خواب ہے۔

کیونکہ مرنے والوں کے مدفن کی جگہ پر تعمیر کرنا، اور وہاں عبادت گاہ بنانا،اور قبروں کو آراستہ کرنا وغیرہ کو نبی کریم ؐ نے منع کر دیا۔ جو تعمیر کیا گیا تھا ‏ان سب کو مسمار کر نے کے لئے نبی کریم ؐ کے ذریعے اللہ نے ہمیں پہلے ہی آگاہ کر دیا۔ 

اس آگاہی کے خلاف ایک اور بات کو اللہ ہر گز نہیں کہے گا، اس لئے یقیناًیہ شیطان کا کام ہی ہوسکتا ہے۔

اللہ اور اس کے رسول نے جومنع کیا تھااس کو جائز قراردینا،

یا اللہ اور اس کے رسول نے جوجائز قرار کیا تھا اس کو منع کرنا،

عبادات کی قسم کے اطلاعات وغیرہ کو

جو بھی خوابوں میں دیکھے سمجھ لینا کہ وہ شیطان کا کام ہے۔

اگر خوابوں کے ذریعے احکام آ نہیں سکتے تویہ شک پیدا ہوسکتا ہے کہ قرآن کی یہ آیتیں (37:102، 37:105 )کہتی ہیں کہ ابراھیم نبی کو ‏اپنے بیٹے کی قربانی کر نے کے بارے میں جو حکم ملا تھا وہ خواب ہی کے ذریعے تو ملا تھا۔ 

نبیوں کا خواب وحی نامی اللہ کا کلام ہے۔ رسولوں کے خوابوں میں شیطان مداخلت نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انہیں جواحکام خوابوں میں آتی ہیں وہ اللہ ‏ہی کے احکام ہیں۔ 

خوشخبری دینے والاخواب گر کوئی دیکھے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہمیں جو بھلائی ہونے والی ہے اس کو اللہ نے پہلی سے آگاہ کر دیا ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’اچھے خواب اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی اپنی پسند کا کوئی خواب دیکھے تو اپنی پسند کے شخص کے سوا کسی کو نہ ‏بتائے۔‘‘

راوی: ابو قتادہؓ ۔ بخاری: 7044

اگر کوئی برے خواب دیکھے تو اس کے لئے فکر مند ہو نے والے بھی ہیں۔ اس کے ذریعے واقع ہونے والے ضررسے بچنے کے لئے کسی حل کی ‏تلاش میں سرگردان پھر کر اپنے سکون کو کھونے والے بھی ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا: اچھے خواب اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ اگر کوئی اپنی پسند کا کوئی خواب دیکھے تو اپنی پسند کے شخص کے سوا کسی کو نہ بتائے۔ اگر ‏کوئی ایک ناپسندخواب دیکھے تو اس کے ذریعے واقع ہو نے والے ضررسے اور شیطان کے ضرر سے وہ اللہ کے پاس پناہ مانگے۔ اور بائیں طرف تین ‏بار تھوک دے۔اور اس کے بارے میں کسی سے نہ کہے۔ اگر ایسا کروگے تو انہیں ان کے خواب کے ذریعے کچھ بھی خرابی نہیں ہوسکتی۔ 

راوی: ابو قتادہؓ ۔ بخاری: 7044

کسی خواب کو دیکھنے سے ہمیں غم یاخوف پیدا ہو تو سمجھو کہ وہ بھی برے خواب ہیں۔ 

اس کے سوا بے معنی خوابوں کو بھی ہم دیکھتے ہیں۔ وہ بھی برے خواب ہی ہیں۔ اس کے متعلق بھی نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے۔

نبی کریم ؐ کے پاس ایک بدو آکر کہا: ’’میں نے ایک خواب دیکھاکہ میرا سر کاٹاجا تا ہے اور اسے میں بھگاتے ہوئے جا رہا ہوں۔‘‘نبی کریم ؐ نے جواب ‏دیا کہ ’’شیطان تم سے خواب میں کھیل رہاہے، اس کے بارے میں (کسی سے) مت کہو۔‘‘

راوی: جابرؓ ۔ مسلم: 4563 ، 4565

نبی کریم ؐ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : ’’کسی شخص کے خواب میں شیطان اگر کھیلے تواس کو کسی سے مت کہو۔

راوی: جابرؓ ۔ مسلم: 4564 

کسی بھی معاملے کے متعلق ہم بات کریں تو لوگ اس کے لئے دلیل مانگیں گے۔ لیکن جب کوئی کہتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا تو اس کے لئے کوئی ‏دلیل نہیں مانگتا۔  

اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ جو دیکھا نہیں اس کو دیکھا کہہ کر بغیر کسی جھجک کے جھوٹ بول سکتے ہیں۔ اس کو نبی کریم ؐ نے بہت ہی سخت ‏گناہ کہتے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے: ’’اپنے باپ کو چھوڑکر کسی اور کو باپ کہنا، ایسی بات کہنا جو خواب میں نہیں دیکھا، ایسی باتوں کو کہنا جو میں نے نہیں کہا، یہ ‏باتیں تمام جھوٹی باتوں سے بہت بڑی ہے۔ 

راوی: واصلہؓ ۔ بخاری: 3509

کیا نبی کریم ؐ کوہم خواب میں دیکھ سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں بھی ہمیں علم رہنا ضروری ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے ہی دیکھا۔کیونکہ شیطان میری شکل میں آنہیں سکتا۔‘‘

راوی: ابو ہریرہؓ ۔ بخاری: 610، 6197

اس حدیث کو بنیاد رکھ کرہی بعض لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نبی کریم ؐ کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

اس حدیث کو لوگ غلط سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس حدیث کو کس طرح سمجھا جائے ، اس کو ایک اور حدیث مددگار ہے۔ 

وہ حدیث یہ ہے :’’مجھے اگر کوئی خواب میں دیکھے تو وہ جاگنے کے ساتھ مجھے دیکھے گا۔ کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔ ‘‘ 

راوی: ابو ہریرہؓ ۔ بخاری: 6993

یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ نبی کریم ؐ کو خواب میں کون دیکھ سکتا ہے۔

نبی کریم ؐ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے خواب میں دیکھنے والے جاگنے کے ساتھ سامنے بھی دیکھیں گے۔‘‘نبی کریم ؐ جب دنیا میں زندہ تھے اسی وقت یہ ممکن ‏تھا۔ 

یہ حدیث کہتی ہے کہ وہ جب دنیا میں زندہ تھے اس وقت کوئی خواب میں انہیں دیکھتا ہے تو جاگنے کے ساتھ انہیں سامنے دیکھنے کی بھی موقع پا ئے ‏گا۔ 

اگر آج کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم ؐ کو خواب میں دیکھا تو وہ جاگنے کے ساتھ انہیں سامنے بھی دیکھنا چاہئے۔ جسم و جان کے ساتھ اگر انہیں نہیں دیکھ پایا ‏تو یہ یقینی بات ہے کہ وہ خواب میں بھی انہیں نہیں دیکھا۔ 

اس لئے نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد کوئی بھی انسان اور کوئی بھی بزرگ نبی کریم ؐ کوخواب میں نہیں دیکھ سکتا، اس میں دوسری رائے کی کوئی گنجائش ‏نہیں، اسی بات کو یہ حدیث کہتی ہے۔ 

نبی کریم ؐ کوپہلے ہی سامنے دیکھا ہوا شخص ہی انہیں خواب میں بھی دیکھ سکتا ہے۔ یا خواب میں دیکھاہوا شخص بعد میں سامنے دیکھ سکتا ہے ، اسی بات کو ‏دونوں حدیثیں کہتی ہیں۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد کوئی کہے کہ نبی کریم ؐ کو اس بزرگ نے خواب میں دیکھا یا اس عارف نے خواب میں دیکھا تو ‏وہ بناوٹی قصہ ہی ہوگا۔ 

نبی کریم ؐ نے کہہ دیا تھا کہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔ اس کو دلیل بنا کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگرخواب میں دیکھے کہ ہم سے کوئی کہتا ہے ‏میں ہی محمد نبی ہوں تو وہ محمد نبی ہی ہونگے۔

اگر وہ کہے ہوتے کہ میرا نام لے کر شیطان خواب میں نہیں آسکتا تو اسی وقت ان کی اس رائے کو لے سکتے ہیں۔ بلکہ یہاں کہا گیا ہے کہ شیطان ‏میری شکل میں نہیں آسکتا ، اس لئے ان کی وہ رائے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ 

شیطان اپنی ہی ذاتی شکل میں آکر کہہ سکتا ہے کہ میں ہی محمد نبی ہوں۔ ہم یہی سمجھنا چاہئے کہ ان کا نام استعمال کر کے جھوٹ بولا ہے۔

کوئی ہمارے خواب میں آتا ہے تو ہم یہ نہیں سمجھیں کہ وہی ہمارے خواب میںآیا تھا۔ اگر وہ ہم سے کوئی بات کرے تو ہم یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ‏وہی ہم سے بات کرتا ہے۔ ہم یہی سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے ہم کو اس طرح کا منظر دکھا رہا ہے۔ 

مثال کے طور پر فرض کرو کہ زندہ رہنے والے ایک شخص کوہم خواب میں دیکھتے ہیں۔ سمجھو کہ خواب میں دیکھنے کے بعد ان سے ہم روبرو بھی ملتے ‏ہیں۔ کیااس وقت وہ شخص یہ کہے گا کہ میں کل رات تمہارے خواب میں آیا تھانا؟یقیناً نہیں کہے گا۔ 

وہ جو ہمارے خواب میں آیا تھاتو اس کو ہمارے سوا وہ نہیں جانتا۔ ہم جب ان سے کہیں کہ میں نے تمہیں خواب میں دیکھا تو اسی وقت اس کو وہ جان ‏سکتا ہے۔ 

خواب میں ہم دیکھے ہوں گے کہ ایک شخص نے ہم سے کئی باتیں کی تھی۔ اگر ہم اس کے پاس جا کرکل تم نے میرے خواب میں جو نصیحت کی تھی ‏اس کو پھر سے ایک بار کہو تو وہ نہیں کہہ سکتا۔ اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہارے خواب میں کیا نصیحت کی تھی، میں کیسے جان سکتا ‏ہوں؟ 

اس لئے اگر ہم کسی کوخواب میں دیکھیں تویہ نہ سمجھیں کہ وہی آگیا۔ وہ جو بھی ہم سے بات کیا، یہ نہ سمجھیں کہ وہ اسی کی باتیں ہیں۔ان کو ہمارے ‏خواب سے کوئی تعلق نہیں۔ 

اس کو اس طرح سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں دکھا کر ان کی قول کی طرح بعض باتوں کو اللہ نے ہمیں سنایاہوگا یا شیطان نے ان کی شکل میںآکر ہمیں ‏برے خواب دکھایا ہوگا۔

زندہ رہنے والے ایک شخص کو ایک ہی وقت میں ہزاروں لوگ بھی خواب میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ہزاروں جگھوں کو جا کر ‏جلوہ گر ہوا۔ 

ایک شخص کو ویڈیوں میں درج کر کے دوسروں کو دکھانے کی طرح ہی خوا ب کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ 

خواب کی تعبیر کے نام سے کئی لوگ کئی کتابیں لکھی ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن سیرین خوابوں کی تعبیر جاننے والے تھے، یہ بھی جھوٹی کہانی ‏ہے۔

قرآن کریم یا حدیث میں ایسی کوئی سند نہیں ہے کہ فلاں خواب کو فلاں تعبیر ہے۔ 

ہاتھی کو دیکھو تو یہ ہوگا اور بلی کو دیکھو تو وہ ہوگا ، کہنے والے جعلسازوں پر بھروسہ کر کے ہمیں سکون کھونا نہیں چاہئے۔ 

خوابوں کے ذریعے اگر اللہ ہمیں کوئی خوشخبری سنانا چاہتا ہے تو وہ اس کوہماری سمجھ کے مطابق وضاحت کے ساتھ ہی کہے گا۔

اللہ کہتا ہے کہ ’’سب کچھ جاننے والے(اللہ) کی طرح اور کوئی تمہیں سمجھا نہیں سکتا۔ (قرآن مجید۔ 35:14)

اس لئے اگر اللہ ہمیں ایک خوشخبری سنانا چاہا تو ہماری سمجھ میں نہ آنے کی طرح نہیں کہے گا اور ان جعلسازیوں کی وضاحت کو سننے کے لئے نہیں ‏چھوڑے گا۔

چنانچہ ہم جو خواب دیکھتے ہیں اس کی تعبیر کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ وہ کس خوشخبری کے بارے میں دکھائی ‏دیتا ہے، وہی اس کی تعبیر ہے۔

قرآن کریم کی بارہویں سورت میں یوسف نبی کا خواب، دو مجرموں کا خواب اور بادشاہ کا خواب ، ایسے کئی خوابوں کی تعبیر کہی گئی ہے۔ اس کو بنیاد بنا ‏کر ہم بھی خوابوں کی تعبیر کہنے کے لئے شروع نہ ہوجائیں۔ 

کیونکہ آیت نمبر 12:37 میں یوسف نبی کہتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیرکا علم اللہ نے انہیں سکھایا ہے۔ اس لئے اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ اللہ کی ‏طرف سے انہیں عطا کیا ہوا ایک اہم لیاقت ہے۔ 

درگاہ پرست لوگوں نے خواب ہی کو اپنی پہلی دلیل پیش کرتے ہیں۔ وہ لوگ اگر خواب کے بارے میں ٹھیک طریقے سے سمجھ جا تے تو خواب کو ‏دلیل بناکر وہ گمراہ نہیں ہوتے۔ 

درگاہ پرست عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 140، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! 

More Articles …